نومبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

سیّد مودودی اور ان کے پیش رو علّامہ اقبال

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی | نومبر ۲۰۲۱ | سوانح و افکار

۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو علّامہ محمد اقبالؒ کے انتقال کے وقت مولانا مودودیؒ کی عمر تقریباً ۳۵سال تھی۔ یہ عین ان کی جوانی کا زمانہ تھا اور وہ اپنے افکار ونظریات کو بڑی حد تک مرتب کرچکے تھے، جن کی بنیاد پر انھوں نے آگے چل کر ایک فکری و نظریاتی تحریک کا آغاز کیا۔ ہمارا خیال ہےکہ مولانا کی مذکورہ تحریک کے پس منظر میں اقبالؒ کے افکار بڑے بھرپور طریقے سے کارفرما رہے ہیں اور اسی طرح دونوں شخصیات کے درمیان فکرونظر کی گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

شخصی حوالے سے دیکھا جائے تو علّامہ اقبالؒ سے مولانا مودودیؒ کی پہلی ملاقات جنوری ۱۹۳۰ء میں ہوئی، جب علّامہ، مدراس [چنائے] میں تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ کے سلسلے کے تین انگریزی لیکچر (خطبات) دینے کے بعد، بنگلور اورمیسور سے ہوتے ہوئے حیدرآباد دکن پہنچے اور وہاں بھی تین خطبے دیے۔ سیّدصاحب اس وقت حیدرآباد ہی میں تھے۔ انھوں نے خطبات سنے تھے۔ ممکن ہے آخر میں کچھ سوال جواب بھی ہوئے ہوں، اورنوجوان سیّد نے کوئی استفسار بھی کیا ہو۔ یہ بعید از قیاس نہیں کیوں کہ سیّد مودودی اپنی عمر کے (۲۶ سال کے) نوجوانوں کی نسبت مشرقی و مغربی علوم کا بہت زیادہ مطالعہ کیے ہوئے تھے۔مولانا مودودیؒ نے خود لکھا ہے: ’’میری ان سے پہلی ملاقات وہاں [حیدرآباد دکن میں] ہوئی، دوسری ملاقات فروری مارچ ۱۹۳۷ء میں (خطوطِ مودودی، دوم، ص ۶۹) اور تیسری ملاقات [ستمبر یا] اکتوبر ۱۹۳۷ء (ایضاً، دوم،ص ۱۲۰) میں [لاہور میں] ہوئی۔

۱۹۳۷ء میں ہونے والی ان ملاقاتوں کا پس منظر یہ تھا کہ ایک دردمند مسلمان چودھری نیاز علی خاں (م: ۲۴ فروری ۱۹۷۶ء) نے اپنی جایداد واقع سرنا،جمال پور، پٹھان کوٹ، ضلع گورداس پور کا ایک حصہ خدمت ِ دین کے لیے وقف کرکے وہاں ایک درس گاہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اور اس سلسلے میں متعدد زعما اورعلما سے راہ نمائی چاہی، جن میں مولانا اشرف علی تھانویؒ، علّامہ اقبالؒ ، سیّد سلیمان ندویؒ، عبدالماجد دریابادیؒ اور سیّدمودودیؒ شامل تھے۔{ FR 654 }

مولانا مودودی نے علمی کام کا ایک تفصیلی نقشہ بناکر چودھری نیاز علی صاحب کو پیش کیا۔ چودھری صاحب نے اس علمی منصوبے سے علّامہ اقبال کو آگاہ کیا۔ انھوں نے اسے پسند کیا اور فرمایا کہ ’’اس وقت کرنے کے یہی کام ہیں‘‘ (سیّارہ، لاہور، اقبال نمبر، مدیر: نعیم صدیقی، ۱۹۶۳ء)۔

دراصل علّامہ اقبالؒ اس زمانے میں مولانا مودودیؒ کے نام اور ان کی فکر سے واقف ہوچکے تھے۔ ماہ نامہ ترجمان القرآن ، حیدرآباد دکن اوائل ہی سے علّامہ کے ہاں جاتا تھا۔سیّد مودودی کے دورِ ادارت میں بھی رسالہ ان کے نام جاری رہا۔ سیّد نذیرنیازی کے مطابق ، علّامہ مرحوم ترجمان القرآن بڑے غور سے پڑھا کرتے تھے۔دراصل علّامہ، معروف مؤرخ اکبر شاہ خان نجیب آبادی سے ہندستان میں مسئلہ جہاد کی تاریخ لکھوانا چاہتے تھے۔ (انواراقبال، مرتب: بشیراحمد ڈار، اقبال اکادمی، پاکستان، کراچی ۱۹۶۷ء، ص ۳۱۸)۔اب جو اُنھیں، الجہادفی الاسلام  پڑھنے یا پڑھوا کر سننے کا موقع ملا تو وہ سیّد مودودی سے بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے چودھری نیاز علی خاں سے کہا: [میں نے ترجمان القرآن] کے دو مضامین پڑھے ہیں۔ دین کے ساتھ ساتھ وہ [یعنی مولانا مودودی] مسائل حاضرہ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب الجہادفی الاسلام مجھے بہت پسند آگئی ہے‘‘ (ہفت روزہ ایشیا، لاہور، مدیر: چودھری غلام جیلانی، ۷؍اپریل ۱۹۶۹ء)۔ ’’اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ جنگ و جہاد کے متعلق اسلام کے جو نظریات ہیں، انھیں کسی تاویل یا تعبیر کے بغیر بڑے کرّوفر سے پیش کیا ہے‘‘ ( ہفت روزہ چٹان، لاہور، مدیر:آغا شورش کاشمیری، ۲۵؍اپریل ۱۹۵۴ء، بحوالہ اقبال اور مودودی،مرتبہ: ڈاکٹر سفیراختر، ص ۱۹)۔ چنانچہ انھوں نے چودھری نیاز علی خاں سے کہا: ’’آپ کیوں نہ انھیں دارالاسلام آنے کی دعوت دیں۔ میرا خیال ہے، وہ دعوت قبول کرلیں گے‘‘ ( ہفت روزہ ایشیا، ۱۷؍اپریل ۱۹۶۹ء)۔

مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’یہ مجھے بعد میں نذیر نیازی صاحب سے معلوم ہوا کہ علّامہ مرحوم ترجمان القرآن بڑے غور سے پڑھا کرتے تھے اور انھوں نے الجہاد فی الاسلام پڑھ کر سنی تھی (اقبال اور مودودی، ص۶۳)۔ یوں بقول چودھری نیاز علی خاں: ’’حضرتِ علّامہ کی    نظرِ جوہرشناس بھی سیّدصاحب پر جاپڑی‘‘۔ (صحیفہ ، اقبال نمبر،مدیر: ڈاکٹر وحید قریشی، مجلس ترقی ادب، لاہور، اکتوبر ۱۹۷۳ء)

خود علّامہ اقبال نے ادارے کی سربراہی کے لیے مولانا مودودی ؒ کا نام تجویز کیا۔ مولانا فرماتے ہیں:’’۱۹۳۷ء کے آغاز میں ان کا عنایت نامہ ملا کہ مَیں حیدرآباد کو چھوڑ کر پنجاب چلا آئوں‘‘ (سیارہ،اقبال نمبر، فروری ۱۹۷۸ء)۔ پھر چودھری نیاز علی خاں نے بھی مسلسل اصرار کیا اور  مولانا کو دعوت دی کہ وہ دکن سے ہجرت کرکے لاہور آجائیں۔ چنانچہ فروری مارچ ۱۹۳۷ء میں  مولانا مودودیؒ لاہورآئے اور جیساکہ اُوپر ذکر آچکا ہے کہ علّامہ اقبالؒ سے ملے اور دوتین نشستوں میں تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی مولانا مودودیؒ ،علّامہ اقبالؒ اور ان کی شاعری سے بخوبی واقف تھےاور فکری سطح پر بہت قربت محسوس کرتے تھے۔ اب اس قربت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مولانا مودودیؒ کہتے ہیں: ’’ان ملاقاتوں میں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میری اور  ان کی بہت پرانی واقفیت ہے اور ہم ایک دوسرے کےدل سے بہت قریب ہیں۔ یہاں میرے اور اُن کے درمیان یہ بات طے ہوگئی کہ میں پنجاب منتقل ہوجائوں اور پٹھان کوٹ کے قریب اس وقف کی عمارات میں، جس کا نام ہم نے بالاتفاق ’دارالاسلام‘ تجویز کیا تھا، ایک ادارہ قائم کروں، جہاں دینی تحقیقات اور تربیت کا کام کیا جائے‘‘(ایضاً)۔ بہرحال، ان ملاقاتوں کے بعد مولانا مودودی دکن کو چھوڑ کر پنجاب آنے کے لیے بالکل یکسو ہوگئے اور انھوں نے دکن سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔

لاہور سے واپس دکن پہنچے تو انھوں نے چودھری نیازعلی خاں کو جو خط لکھا، اس میں بتایا کہ میں نےیہاں پہنچتے ہی ہجرت کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ علّامہ اقبالؒ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ یہاںآجائیں تو میں بھی ہرسال کچھ ہفتوں کے لیے یہاں آیا کروں گا۔ کچھ مشترکہ علمی منصوبے طے ہوئے تھے۔ اس کام کو وہ بلاتاخیر آگے بڑھانا چاہتےتھے۔ اس سلسلے میں مولانا مودودیؒ کا ایک خط ڈاکٹر سیّدظفرالحسنؒ (جوعلی گڑھ یونی ورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے پروفیسرتھے) کے نام لائقِ توجہ ہے، اس میں مولانانے یہ بتایا تھا کہ میرےاور علّامہ اقبالؒ کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں۔ یہ خط اقبالؒ کی وفات کے بعد جون ۱۹۳۸ء میں لکھا گیا۔اس وقت تک ایک ادارہ ’دارالاسلام‘ کے نام سے قائم ہوچکا تھا، اور کچھ افرادِ کار اس سے منسلک تھے۔ ڈاکٹر سیّد ظفرالحسن نے بھی اس کی شوریٰ کی رکنیت قبول کرلی تھی۔ ان کے نام خط میں مولانا نے لکھا:

  • ’’آپ نے ہماری معنوی قوت میں بہت کچھ اضافہ کردیا ہے‘‘ اور پھر بتایا کہ ’’اکتوبر ۱۹۳۷ء میں خاص طور پر انھی مسائل پر بحث کرنے کے لیے مَیں علّامہ اقبالؒ سے لاہور میں ملاتھا… ان سے مفصل گفتگو ہوئی تھی۔ خوب غوروخوض کے بعد جس نتیجے پر پہنچے، وہ مختصراً مَیں یہاں عرض کرتا ہوں:
  • ’’حالات کی رفتار نے خود بخود مسلمانوں کو گھیر گھیر کر ایک اجتماعی ہیئت کی طرف لانا شروع کردیا ہے۔ہندستان کے مختلف حصوں میں ان کو جو پیہم ضربات لگ رہی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہرطرف سے بھاگ بھاگ کر مسلم لیگ کی طرف آرہےہیں۔ اگرچہ ابھی تک ان میں ایک تنظیمی ہیئت پیدا نہیں ہوئی ہے، جو فکر اور وحدتِ عمل کا نتیجہ ہوتی ہے بلکہ درحقیقت ان کے سامنے اپنا نصب العین بھی واضح نہیں ہے۔مختلف خیالات، مختلف مقاصد اور مفادات اور خصائل رکھنے والے لوگ اس طرح جمع ہوگئے ہیں جیسے جنگل میں آگ لگنے پر مختلف گلے ہرطرف سے بھاگ کر ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں، تاہم یہ تنظیمی ہیئت پیدا کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اس وقت کوئی الگ جھنڈا بلند کرنا، بجاے مفید ہونے کے، اس تالیفی عمل میں مانع ہوجائے گا جو کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
  • ’’ مسلم لیگ کے مرکز پر جو طاقتیں جمع ہورہی ہیں، ان کے بنیادی نقائص کو دُور کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ان کے تصورات میں جو ابہام اس وقت پایا جاتا ہے، اس کو دُور کیا جائے تاکہ واضح طور پر اس موجودہ پوزیشن کوسمجھ لیں اور اپنی ایک قومی غایت متعین کرلیں۔ یہ چیز جتنی زیادہ واضح ہوتی جائے گی، اتنی ہی تیزرفتاری کے ساتھ عامۃ المسلمین کا ترقی پسند اور اقدام پسند عنصر مسلم لیگ کی صفوں میں آگے بڑھتا جائے گا، اورخودغرض،نمایشی اور آرام طلب عناصر پیچھے رہ جائیں گے۔ اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے وہ تمام بے چین عناصر جو محض مسلم لیگ کی بے عملی سے بے زارہوکر مختلف راستوں پر بھٹک گئے ہیں، رفتہ رفتہ پلٹنے شروع ہوجائیں گے، اور تھوڑی مدت بھی نہ گزرے گی کہ یہ جماعت جمہور مسلمین کی ایک مرکزی جماعت بن جائے گی۔
  • ’’سردست ہم مسلم لیگ سے، اس سے بڑھ کر کوئی توقع نہیں کرسکتے کہ وہ موجودہ غیراسلامی نظامِ سیاست میں مسلمانوں کی قومی پوزیشن کو بیش از بیش محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی۔ ہمارے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ rear guard میں رہیں اور ایک طرف تو اپنے خیالات کی اشاعت سے مسلم لیگ کو بتدریج اپنے نصب العین کے قریب تر لانے کی کوشش کرتے رہیں اور دوسری طرف مردانِ کار کی ایسی طاقت ور جماعت تیار کرنے میں لگےرہیں جو دارالاسلام کی فکری بنیاد بھی مستحکم کرے اور اس مفکورے کو جامۂ عمل پہنانے کے لیے بھی مستعد ہو۔ جب تک یہ انقلابی جماعت میدان میں آنے کے لیے تیار ہوگی، اس وقت تک ان شاء اللہ میدان ہموار ہوچکا ہوگا کیونکہ انقلابی تصورات کی تبلیغ سے ہم پہلے ہی مسلمانوں کے کارکن اور کارفرما عناصر کو اپنے سے قریب تر لاچکے ہوں گے‘‘۔(مجلہ المعارف، مدیر: سراج منیر، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، اپریل ۱۹۸۵ء/ خطوطِ   مودودی، دوم، ص ۱۹۸-۲۰۴)

اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودیؒ کے درمیان بہت سے علمی مسائل اورفقہ اسلامی کی تشکیل کے منصوبے کے ساتھ دیگر موضوعات بھی زیربحث آئے ہوں گے اور اس وقت ہندستانی سیاست کا جو نقشہ مرتب ہورہا تھا، اس پربھی تبادلۂ خیال ہوا ہوگا۔

مولانا دکن سے ہجرت کرکے ۱۸مارچ ۱۹۳۸ء کو جمال پور (پٹھان کوٹ) پہنچے۔ایک نئی جگہ اور نئے مکان میں، اپنا سازوسامان اور متفرق معاملات ترتیب دے رہے تھے کہ نذیرنیازی نے ۱۸؍اپریل ۱۹۳۸ء کو لاہور سے انھیں ایک خط لکھا: ’’ڈاکٹرصاحب قبلہ کی حالت نہایت اندیش ناک ہے۔ ایک لمحے کا بھی بھروسا نہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ آپ جس قدر ہوسکے جلدی تشریف لے آئیں‘‘ (خطوطِ مودودی، دوم،ص ۱۹۰)۔ ڈاک سے خط۱۹ یا ۲۰؍اپریل کو پہنچا ہوگا۔  مولانا نے لاہور کا عزم کیا ہی تھا کہ اگلے روز خبرملی کہ ’علّامہ ۲۱؍اپریل کو فوت ہوگئے‘۔

مولانا مودودیؒ نے اقبال کی وفات پر اپنے دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس کام کے لیے میں بالکل اکیلا رہ گیا ہوں جو ہم نے مل کر کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ اب معلوم نہیں وہ کس طرح سے ہوگا؟ نذیر نیازی کے نام ایک خط (مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۳۸ء ) میں لکھتے ہیں:

  • علّامہ اقبال کے انتقال کی خبر پہنچی، دفعتاً دل بیٹھ گیا۔سب سے زیادہ رنج مجھے اس بناپر ہوا کہ کتنا قیمتی موقع میں نے کھو دیا… میں اس کو اپنی انتہائی بدنصیبی سمجھتا ہوں کہ اس شخص کی آخری زیارت سے محروم رہ گیا، جس کا مثل شاید اب ہماری آنکھیں نہ دیکھ سکیں گی‘‘۔(وثائق مودودی،ص ۹۶/خطوطِ مودودی، دوم، ص ۱۸۹)

اسی خط میں لکھتے ہیں کہ:

  • ’’کچھ خبر نہیں، اللہ کو کیا منظورہے۔ بظاہر تو ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلمان قوم کو اس کی ناقدری اور نااہلی کی سزا دی جارہی ہے کہ اس کے بہترین آدمی عین اس وقت پر اُٹھا لیے جاتے ہیں، جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔اب سارے ہندستان پر نگاہ ڈالتا ہوں تو کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کی طرف ہدایت حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا جاسکے۔ ہرطرف تاریکی چھائی ہوئی ہے، ایک شمع جو ٹمٹما رہی تھی، وہ بھی اُٹھا لی گئی۔
  • ’’مجھے جو چیز پنجاب کھینچ کر لائی تھی، وہ دراصل اقبالؒ ہی کی ذات تھی۔ میں اس خیال سے یہاں آیا تھا کہ ان سے قریب رہ کر ہدایت حاصل کروں گا اور ان کی رہنمائی میں جو کچھ مجھ سے ہوسکے گا، اسلام اورمسلمانوں کے لیے کروں گا۔ اب میں ایسامحسوس کررہاہوں کہ اس طوفانی سمندر میں، میں بالکل تنہا رہ گیا ہوں، دل شکستگی اپنی آخری انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ صرف اس خیال سے اپنے دل کوڈھارس دےرہا ہوں کہ اقبالؒ مرگئے تو کیا ہوا، خدا تو موجود ہے، سب مرجانے والے ہیں، زندہ رہنے والا وہی حی و قیوم ہے، اوراگر وہ تجھ سے کوئی کام لینا چاہے گا تو تیری مدد کے لیے اورکچھ سامان کرے گا‘‘۔ (خطوطِ مودودی، دوم، ص ۱۸۹- ۱۹۱)

 علّامہ اقبال کی وفات کے بعد مولانا مودودیؒ نے جس تحریکِ اسلامی کا احیا کیا، وہ رفتہ رفتہ پھیلتی گئی۔ اس کی توسیع و ترقی، کامیابی اورفروغ میں کلامِ اقبالؒ کی فکری راہ نمائی کا بھی بڑادخل ہے۔

حیاتِ اقبال کے آخری دنوں کی معروف رباعی ہے:

سُرودِ رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید؟

سرآمد روزگارِ ایں فقیرے
دگر داناے راز آید کہ ناید؟

(اب گذشتہ سُرود واپس آئے یا نہ آئے؟ حجاز کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلے نہ چلے؟ اس فقیر [اقبال] کی زندگی تو ختم ہوئی، اب کوئی اور راز آشنا آئے یا نہ آئے؟)

بعض اصحاب کا خیال ہے اور بجا ہے کہ ’دگر داناے راز‘ کا مصداق سیّدابوالاعلیٰ مودودی ہیں۔ چنانچہ رزمی امروہوی ’مردِ امروز‘ کے عنوان سے اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں:

روحِ اقبال از برائش مے تپید
آں دگر داناے راز آمد پدید

چشم حق بیں اندریں عصرِ جدید
ہم سرِ سیّد ابوالاعلیٰ ندید

(اقبال کی روح اس کے لیے تڑپتی تھی، ایک دوسرا داناے راز وجود میں آئے۔ حق بیں آنکھ [لوگوں] نے دورِحاضر میں سیّدابوالاعلیٰ مودودی جیسے مقام و مرتبے والا کوئی اور شخص نہیں دیکھا)

(ماہ نامہ چراغ راہ  ، کراچی، اکتوبر و نومبر ۱۹۵۳ء،ص۴۵)

 جماعت اسلامی کے علاوہ بیسویں صدی میں جو اسلامی تحریکیں دوسرے ممالک میںبرپا ہوئی ہیں اور پھر عالمِ اسلام میں بیداری کی جو لہریںپیدا ہوئیں (تاحال آخری: عرب بہار)، ان میں مولانا مودودیؒ اورعلّامہ اقبالؒ دونوں کا بڑا اثر ہے۔ عربوں میں حسن البنا اور سیّد قطب۔  انقلابِ ایران میں آیت اللہ خمینی اور علّامہ اقبالؒ کی شاعری اورسیّد مودودیؒ کی نثر کے اثرات کا خود ایرانی دانش ور اور علما اعتراف کرتے ہیں۔ اسی طرح وسطی ایشیا کے مسلم ملکوں میں مجاہدین افغانستان اور اسلامی بیداری میں اقبال کے فارسی کلام (تیز ترک گامزن ، منزلِ ما دور نیست) اور سیّد مودودی کے تراجم کے اثرات بھی برگ و بار لائے۔

 اسلامی بیداری کی یہ صورتِ حال دونوں اکابر کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ اِس وقت ’گیا دورِ گراں خوابی‘ کے بعد ’اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے،اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے‘ کی سی کیفیت ہے۔ مجموعی طور پر علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودیؒ، دونوں عالمِ اسلام کی بیداری اور تجدید و احیاے دین کے بارے میں بہت پُراُمید تھے۔ علّامہ اقبالؒ ، چودھری محمدحسین کے نام ۲؍اکتوبر ۱۹۲۲ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’اسلام، خلفا کے زمانے کی طرف آرہا ہے۔ خدا نےچاہا تو خلافت ِ اسلامیہ اپنے اصل رنگ میں عنقریب نظرآئے گی‘‘ (چودھری محمد حسین اور علّامہ اقبال، تحقیقی مقالہ ایم اے اُردو، ثاقف نفیس، ۱۹۸۴ء، ص ۶۵)۔ اسی طرح نورحسین کو ۱۷مارچ ۱۹۳۷ء کے خط میں لکھتے ہیں : ’’گذشتہ دس پندرہ سال میں کئی لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے حضورِرسالت مآبؐ کو جلالی رنگ میں یا سپاہیانہ لباس میں خواب میں دیکھا ہے۔ میرے خیال میں یہ علامت احیاےاسلام کی ہے‘‘۔(انواراقبالاز بشیراحمد ڈار، ص ۲۱۶)

اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیداری کی لہراور احیاے اسلام کی تحریکوں کا برپا ہونا علّامہ اقبالؒ کی بصیرت میں موجود تھا اوروہ اس معاملے میں بڑے پُرامید تھے۔ سیّدمودودی نے بھی ایک موقعے پر کہا تھا: ’’جس طرح یہ بات یقینی ہے کہ کل صبح سورج مشرق سے طلوع ہوگا، بالکل اسی طرح مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام غالب آئے گا‘‘۔ بہرحال، ’’اقبال کی فکری تحریک سے مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے احیاے اسلام کےکام کو آگے بڑھایا‘‘ (ڈاکٹرممتاز احمد، فنون لاہور، مدیر: احمد ندیم قاسمی، بحوالہ: اوراقِ گم گشتہ از پروفیسر رحیم بخش شاہین، ص ۸۷)۔

جب بھی ہم مولانا مودودیؒ کی فکرپر گفتگو یا بحث کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ فکرمودودیؒ دراصل فکر ِ اقبالؒ ہی کا تسلسل اور اس کی توسیع ہے، اور جیساکہ اُوپر ذکر آچکا ہے، مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں کی پیش رفت میں اقبال اور سیّد مودودی دونوں کے اثرات کارفرما ہیں۔علّامہ اقبالؒ نے بجاطور پر کہا تھا :

وقت ِفرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے