نومبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کیا اسلام قبول کرنا جرم ہے؟

مفتی منیب الرحمٰن | نومبر ۲۰۲۱ | فقہ و اجتہاد

صوبہ سندھ اسمبلی نے۱۶فروری ۲۰۲۱ء کو ’جبری تبدیلیِ مذہب ‘ کے عنوان سے ایک بل پاس کیا تھا۔اس کے بعد علماء کے ایک وفد کے ہمراہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ جنابِ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی تو انھوں نے اسے روک دیا اور وہ گورنر کے دستخط سے ایکٹ نہیں بنا۔ مگر پھر اچانک اسے پاکستان کے سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے، مزید غور کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ۱  ۔   اس مجوّزہ مسوّدۂ قانون(Bill) کا عنوان’’امتناعِ جبری تبدیلیِ مذہب ‘‘رکھا گیا، لیکن اپنے وسیع تر مفہوم اور نتائج کے اعتبار سے اسے درحقیقت ’قبولِ اسلام روکنے کابل‘ کہنا چاہیے۔ مجوزہ بل کے مطابق قبولِ اسلام اوراس کی دعوت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ’مجرمانہ جسارت‘ قرار دیا گیاہے ۔ہم اس قانون کی تطبیق(Application) ،نتائج اور مابعد اثرات پر گفتگو کرنے سے پہلے زیرغور قانون کی اہم دفعات کا مفہومی ترجمہ پیش کر رہے ہیں:

  •  اہم دفعات: سیکشن ۲،ذیلی شق سی ،ای:’’بچے کا معنی ہے:کوئی بھی فرد جو اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے‘‘، سیکشن ۲-ای:’’ بالغ کا معنی ہے: کوئی بھی فرد جس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہو‘‘، ’’جبر کا مطلب ہے: طاقت کا استعمال ،جسمانی تشدد یا کسی پر جذباتی یا نفسیاتی طور پردبائو ڈالنا‘‘۔

سیکشن ۳،ذیلی شقیں:۴،۵،۶:کوئی بھی غیر مسلم جو بچہ نہیں ہے، یعنی جس کی عمر ۱۸سال سے زیادہ ہے، عاقل اور بالغ ہے اور وہ مذہب تبدیل کرنے کے قابل اور اس پر آمادہ ہے، وہ اپنے قریبی ایڈیشنل سیشن جج کو مذہب کی تبدیلی کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کی درخواست وصول ہونے کے سات دن کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ مقررہ تاریخ پر متعلقہ شخص ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہوگا۔ ایڈیشنل سیشن جج اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذہب کی یہ تبدیلی کسی دبائو کے تحت نہیں ہورہی ہے اور نہ کسی دھوکا دہی یا غلط بیانی کی وجہ سے ہے۔ کوئی غیر مسلم جو مذہب اپنانا چاہتا ہے، ایڈیشنل سیشن جج اس کے مذہبی اسکالر سے اس غیر مسلم کی ملاقات کا انتظام کرے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور دوبارہ دفتر واپس آنے کے لیے غیر مسلم شخص کو ۹۰دن کا وقت دے گا۔ اگر وہ ۹۰روز کے بعد بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے فیصلے پر قائم رہتا ہے، اگر سیشن جج مطمئن ہوتا ہے کہ اس نے تقابلِ ادیان کا مطالعہ کرلیا ہے اور اس پر کسی طرح کا جبر نہیں ہے اور وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہا ہے،تو وہ تبدیلیِ مذہب کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا ۔

نوٹ: اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’’۹۰ دن گزرنے کے بعد بھی ایڈیشنل سیشن جج کا مطمئن ہونا ضروری ہے‘‘،پس اگر وہ کسی وجہ سے مطمئن نہیں ہوتا تو پھر وہ اسلام قبول نہیں کرسکتا یا اس کو اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔

  • سیکشن (۴): مذہب کی جبری تبدیلی :شق(۱) : اگر کوئی شخص، کسی فرد کو مذہب تبدیل کرانے کا ذمے دار ہے اور سیشن جج کی نظر میں اس کا عمل جبری تبدیلی ہے، تو اس شخص پر مذہب جبری تبدیل کرانے کا جرم عائد ہوگا اور اس کو کم سے کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے اور کم از کم ایک لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ نوٹ:قانون میں اس امر کی نہ کوئی وضاحت ہے اور نہ کوئی معیار کہ جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جاسکے کہ جبر ہوا ہے یا نہیں، بس اسے ایڈیشنل سیشن جج کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

نکاح اور تبدیلیِ مذہب: شق(۲): اگر کوئی شخص ایسے شخص کا نکاح پڑھائے، جس کاجبر کے ذریعے مذہب تبدیل کرایا گیا ہو، چاہے وہ اس کا نکاح پڑھانے والا یا نکاح کا سہولت کار ہوتو اس کی سزا بھی کم سے کم تین سال ہوگی‘‘۔ یعنی وہ شخص بھی اسی جرم کا مرتکب ہوگا جس نے اس نکاح کے لیے کسی قسم کی اعانت کی ہے،مثلاً :جہیز کا انتظام کیا یا شادی ہال کا انتظام وغیرہ۔

نوٹ: نکاح پڑھانا ایک دینی کام ہے۔ اس کے لیے دولہا اور دلہن کی رضامندی ، مہر کا تعیّن اور گواہان کی موجودگی ضروری ہے۔ نکاح خواں کے پاس نہ تو قاضی اور عدالت کے اختیارات ہوتے ہیں اور نہ تحقیق وتفتیش کے لیے کوئی عملہ ہوتا ہے، لیکن ہرموقعے پر اُسے سب سے کمزور فرد سمجھ کر دھرلینا بھی کوئی معقول حرکت نہیں ہے۔

  • مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مند کی مدد بھی جرم: شق(۳) : اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کرے، جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کسی بھی طرح کی معاونت فراہم کرے، تو وہ بھی مجرم تصور کیا جائے گا اور اسے بھی کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا دی جاسکتی ہے اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی ہوگی۔

نوٹ: قرآنِ کریم کی رُو سے دعوتِ دین مسلمان کا فریضہ ہے۔ قبولِ اسلام کی ترغیب دینا ایک قابلِ تحسین امر ہے ، لیکن ہمارے ہاں اسے بھی قانونی جرم قرار دیا جارہا ہے، جب کہ قرآنِ کریم میں صدقات کا ایک مصرف ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے، جنھیں اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو۔

  • اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کا قبولِ اسلام منظور نہیں: سیکشن ۵، شق(۲): اگر کوئی بچہ جس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اور وہ اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کا اعلان کرتا ہے، تو اس کے ایسے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اور یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے مذہب تبدیل نہیں کیا اور اس کو مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کیا جائے گا‘‘۔ نوٹ: اسلام کی رُو سے توحید ورسالت کی گواہی دینے ،اپنے سابقہ عقائد سے توبہ کرنے اور کلمۂ اسلام پڑھنے سے ایک شخص مسلمان ہوجاتا ہے، لیکن ہماری ریاست چاہ رہی ہے کہ اُسے تسلیم نہ کیا جائے۔
  • تبدیلیِ مذہب مقدمہ ، ۹۰ دن میں فیصلہ: سیکشن ۷ کی شق۵: اگر جبری تبدیلیِ مذہب کا کوئی کیس سیشن کورٹ میں جاتا ہے تو کورٹ اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ ۹۰دن کے اندر اس کیس کا فیصلہ صادر کردے اور اس کیس کا دومرتبہ سے زائد کا التوا نہیں ہوسکتا۔ نوٹ:واضح رہے کہ ہمارے ہاں انتہائی سنگین جرائم حتیٰ کہ دہشت گردی کے مقدمات بھی برسوں چلتے رہتے ہیں، لیکن مذہب کی تبدیلی کے قانون کے لیے ۹۰دن کا متعین وقت دیا جارہا ہے۔
  • تبدیلی مذہب کی تفتیش کا ذمہ دار سپرنٹنڈنٹ پولیس: سیکشن نمبر ۷ ، شق۹: جبری تبدیلیِ مذہب کے کیس کی تفتیش کم از کم ایس پی لیول کا آفیسر انجام دے گا۔ نوٹ: توہین رسالتؐ کی ایف آئی آر درج کرنے کی بابت یہ قرار دیا گیا ہے کہ کم از کم ایس پی لیول کا افسرمطمئن ہوگاتواس کی ایف آئی آر درج ہوسکے گی۔ یہ شرط اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ توہین رسالت کی ایف آئی آر درج کرنے کی نوبت ہی نہ آئے، کیونکہ ایک عام آدمی کی رسائی ایس ایچ او تک آسان نہیں ہے، کہاں یہ کہ ایس ایس پی تک رسائی کو لازم قرار دیا جائے۔
  • ۱۸ سال سے کم اور ذہنی معذور کا قبولِ اسلام منظور نہیں: سیکشن ۱۷:  وہ بچے جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے یا ایسے بالغ اشخاص جو ذہنی معذور ہیں، اگر وہ تبدیلیِ مذہب کے مرتکب ہوتے ہیں یا ان کا کیس سیشن کورٹ میں چل رہا ہے ،تو ان کے نام اور پتے کسی بھی اخبار، الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا پر شائع نہیں کیے جاسکیں گے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ مجرم تصور کیا جائے گا۔ نوٹ: حالانکہ لوگ فخر کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں، لیکن مجوّزہ بل کی رُو سے اسے بھی جرم قرار دیا جارہا ہے۔
  • تبدیلیِ مذہب کے جرم میں ملوث فرد، سنگین درجے کا ملزم: سیکشن ۱۸:’’اگر کوئی ایسے جرم کاارتکاب کرتاہے تو یہ جرم ناقابلِ ضمانت ،ناقابلِ راضی نامہ اورقابلِ دست اندازیِ پولیس ہوگا اورقانون کے مطابق سزا کا مستوجب ہوگا‘‘۔
  • بلوغت کا نرالا قانون : آج کی دُنیا کا شاید پہلا قانون ہے کہ جس میں اٹھارہ سال عمر والے کو بچہ (Child) قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ شرعاً تو وہ بالغ ہے، کیونکہ فقہی اعتبار سے’’لڑکے کی بلوغت کی علامت احتلام ہونا ، حاملہ کردینااور انزال ہونا اور لڑکی کی بلوغت کی علامت احتلام، حیض اورحاملہ ہونا ہے اور لڑکے کے لیے کم از کم ممکنہ عمرِ بلوغ بارہ سال اور لڑکی کے لیے نو سال ہے، یہی قولِ مختار ہے ، (ردّالمحتار، ج۹،ص۱۸۵)‘‘۔ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:’’لڑکے اور لڑکی میں علامتِ بلوغت پائی جائیں تو انھیں بالغ سمجھاجائے گااور اگر علامات نہ پائی جائیں تو پندرہ سال کی عمر پوری ہونے پر انھیں بالغ تصور کیا جائے گا،ویسے علامات ظاہر ہونے پر لڑکی کی کم از کم ممکنہ عمر بلوغ نو سال اور لڑکے کی بارہ سال ہے، (بہارِ شریعت ،ج ۱۵،  ص: ۲۰۳-۲۰۴ ، خلاصہ)۔

امریکا، برطانیہ، فرانس وغیرہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اٹھارہ سال سے کم عمر میں اسلام قبول کرنے پر پابندی نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر امریکا میں کوئی دس بارہ سال کاسفید فام لڑکا یا لڑکی وائٹ ہائوس کے سامنے کھڑے ہوکر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرے تو امریکا کا قانون اس میں رکاوٹ نہیں بنے گا، تو ہمارے ہاں اس پابندی کا جواز کیا ہے؟ نیز اگر کوئی دس یا پندرہ سال کا لڑکا یا لڑکی اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی اس کو اسلام قبول کرنے سے روکتا ہے تو یہ اس کے کفر پر راضی ہونا ہے۔جبری تبدیلیِ مذہب کے امتناع کامجوّزہ بل تو اٹھارہ سال پورے ہونے پر بھی اُسے اسلام قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا،حتیٰ کہ ’’وہ درخواست دے کر ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہو، اُسے تفہیمِ مذاہب کے لیے تین مہینے کی تربیت دی جائے‘‘۔سوال یہ ہے کہ نیچے سے اُوپر تک ہمارے عمائدینِ مملکت وحکومت میں کتنے ہیں جنھوں نے تقابلِ مذاہب کا کورس کررکھا ہے۔

دین میں جبر نہیں: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے ،بے شک ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔پس، جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے ،تو اُس نے ایسی مضبوط رسی کو پکڑ لیا ،جسے ٹوٹنا نہیں اور اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے،    اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے ، وہ انھیں (کفر کے) اندھیروں سے (ایمان کے) نور کی طرف نکالتا ہے اور جنھوں نے کفر کیا ، اُن کے حمایتی شیطان ہیں ،وہ انھیںنور سے ظلمتوں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں، جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، (البقرہ۲: ۲۵۶-۲۵۷)‘‘۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا حکم واضح ہے کہ کسی پر اسلام قبول کرنے کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایمان قلبی تصدیق کا نام ہے۔ اگر جبری طور پر کوئی تسلیم بھی کرلے ،جب کہ اس کے دل میں ایمان نہیں ہے ،توآخرت میں اس تسلیم کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا،وہاں فیصلہ ظاہر پر نہیں بلکہ قلبی تصدیق پر ہوگا۔ برصغیرپر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی ،مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ غیرمسلموں کوزبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ تقریباً ایک ہزار برس تک مسلم حکمرانی کے باوجود آج بھی پورے جنوبی ایشیا میں غیر مسلم آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔

اسلام تسلیمِ محض نہیں،بلکہ تسلیم بالرّضاکا نام ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اَعراب نے کہا: ہم ایمان لائے ، کہہ دیجیے:تم ایمان نہیں لائے ،ہاں !یہ کہو! ہم نے اطاعت کی اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمھارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا ،بے شک اللہ بہت بخشنے والا ،بے حد رحم فرمانے والا ہے، درحقیقت مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے ،پھر کبھی شک میں مبتلا نہ ہوئے اور انھوں نے اپنے مالوں اوراپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، وہی (ایمان کے دعوے میں)سچے ہیں، (الحجرات۴۹:۱۴-۱۵)‘‘۔

’ایمان‘ قلبی تصدیق کا نام ہے۔اس لیے دنیا کے ممالک میں تبدیلیِ مذہب کا ایساکوئی قانون نہیں ہے ،ایسے بے معنی تجربات صرف پاکستان میں ہوتے رہتے ہیں۔

l ایمان لانا ، سرٹیفکیٹ کا محتاج نہیں:ایمان لانا بندے اور رب کا معاملہ ہے، اور ایمان لانے کے لیے کسی حکومتی سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ہمارے پاس اپنی آزادانہ مرضی سے کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے لیے آتا ہے ،تو ہم اُسے شریعت کے مطابق توبہ کراکے اسلام میں داخل کرتے ہیں ،اس میں قانون کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کو ہمارے یا ریاست کے کسی عدالتی سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ، بندوں کے ظاہر وباطن کو خوب جاننے والا ہے۔

ہمیں بحیثیتِ قوم کچھ دوسروں نے ایسے دبائو میں رکھا ہوا ہے کہ گویاہمارا ہر قول وفعل غلط ہے ،ہمارا ہر بیان مشتَبہ ہے،الغرض ہم ہردبائو کو قبول کرتے ہوئے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کرلیتے ہیں ۔ بزعمِ خود ہمارے آزاد وخود مختار میڈیاکے لیے ایسے واقعات من پسند پروپیگنڈا کا ذریعہ بنادیے جاتے ہیں۔ ساری داستان خواہشات اورمفروضوں پر مبنی ہوتی ہے، کسی تحقیق کے بغیر قبولِ اسلام اور جبر کو لازم وملزوم سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام قبول کرنابہت بڑا جرم ہے، پچاس چینل فریاد کُناں ہوتے ہیں اور دہائی دے رہے ہوتے ہیں۔

قبولِ اسلام کے لیے ترغیب کی فضیلت: ایک مسلمان کے لیے کسی کے اسلام قبول کرنے میں مُمِدّومعاون ہونا بہت بڑی سعادت ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے دن فرمایا :میں کل جھنڈا اُس شخص کو دوں گاجو اللہ اور اُس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اُس کا رسولؐ اُس سے محبت فرماتے ہیں، اللہ اُس کے ہاتھوں پر خیبر کو فتح فرمائے گا۔ لوگوں نے (اس انتظارمیں)رات گزاری کہ جھنڈا کسے دیا جائے گا۔ صبح ہوئی تو ہرایک اس کی آس لگائے بیٹھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: علی کہاں ہیں؟ آپؐ کو بتایا گیا کہ انھیں آنکھوں کا عارضہ ہے۔آپؐ نے اُن کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایااور اُن کے حق میںدعا کی۔ (اس کی برکت سے)وہ ایسے صحت یاب ہوئے کہ گویا انھیں کوئی بیماری لاحق ہی نہیں تھی۔ آپؐ نے انھیں جھنڈا دیا۔ حضرت علیؓ نے پوچھا: میں اُن سے قتال کرتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہماری مثل(مسلمان) ہوجائیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم باوقار انداز میں چلتے رہو یہاں تک کہ تم اُن کے صحن میں اتر جائو ،پھر انھیں اسلام کی دعوت دو اور بتائو کہ ان پر کیا احکام واجب ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تمھارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے ،تو یہ آپ کے لیے سرخ اونٹوں کی (گراں بہا دولت) سے بہتر ہے، (بخاری: ۳۰۰۹)‘‘۔

جعلی خبر سازی اور مفروضے: اسلام نے مفروضوں پر رائے قائم کرنے اور تحقیق کے بغیر خبر پر ردِّعمل ظاہرکرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو(ردِّعمل ظاہر کرنے سے پہلے) خوب تحقیق کرلو ، مبادا تم انجانے میں کسی قوم کو تکلیف پہنچادو ، پھر تم اپنے کیے پرپچھتاتے رہو، (الحجرات۴۹:۶)‘‘۔

ہمارے ذرائع ابلاغ اس آیتِ مبارکہ میں بیان کردہ اللہ کی صریح ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ کسی تحقیق اور اس کے نتائج آنے سے پہلے فیصلہ صادرکردیتے ہیں کہ جبراً اسلام قبول کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت و انتظامیہ مفتیوں کے فتووں پر تو آئے دن پابندی کی بات کرتی رہتی ہے، مگر ذرائع ابلاغ کو یہ فری لائسنس کس نے دیا ہے کہ تحقیق کے بغیر جب چاہیں اور جو چاہیں فتویٰ تھوپ دیں، یہ اختیارآپ نے کس آئین اور قانون سے حاصل کیا ہے؟

 ہم کئی بار ہندو اور مسیحی رہنمائوں سے کہہ چکے ہیں کہ ’’اگر کسی معاملے میں ثبوت وشواہد سے قبولِ اسلام کے کسی واقعے میں جبر ثابت ہوجائے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘‘۔ اسی طرح ہر فورم پر کہا ہے کہ ’اقلیت‘ کی اصطلاح کا استعمال ترک کیا جائے، ہمارا آئین وقانون سب کو تحفظ دیتا ہے۔ آپ اپنے آپ کو ’غیر مسلم پاکستانی‘ کہیں ، کیونکہ ’اقلیت‘ کی اصطلاح سے محرومی کا تاثر پیدا ہوتا ہے ، جب کہ غیر مسلم پاکستانی کی اصطلاح اپنے ملک و وطن پر استحقاق کا تاثر پیدا کرتی ہے۔

’جبری تبدیلیِ مذہب ‘کے بل پرسینیٹر انوار الحق کاکڑ صاحب کی سربراہی میں جو پارلیمانی کمیٹی قائم ہوئی ، انھوں نے ہندوئوں کے عائد کردہ الزامات کا سروے کرایا تو دستیاب اعداد وشمارسے پتاچلا کہ ۹۹ فی صد الزامات غلط تھے، خواتین نے اقرار کیا کہ انھوں نے برضا ورغبت اسلام قبول کیا ہے اور خوشی سے شادی کی ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے قرائن و شواہد کے ساتھ کہا ہے :یہ بِل یورپین یونین کے مطالبے پر پیش کیا گیا ہے۔

قبولِ اسلام کی ترغیب اور اسوۂ رسولؐ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے اسلام قبول کرنے کے لیے نہایت شدت سے خواہش مند رہتے تھے۔ اس کی بابت آپؐ نےفرمایا: ’’میری اور لوگوں کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ،جب اس کا اردگرد روشن ہوگیا تو پروانے اور کیڑے مکوڑے جو آگ میں گرا کرتے ہیں، اس میں گرنے لگے اور وہ انھیں اُس میں سے نکالنے لگا،مگر وہ پروانے اور کیڑے مکوڑے اس پر غالب آگئے اور آگ میں داخل ہوگئے، پس میں بھی تمھیں کمر سے پکڑ کرآگ سے نکال رہا ہوں اور وہ اس آگ میں گرے جارہے ہیں، (بخاری:۶۴۸۳)‘‘۔ یہی مضمون قرآنِ کریم میں ہے:’’اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اُس نے تم پر فرمائی، جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اُس نے تمھارے دلوں کو جوڑ دیا اورتم اس کے فضل (یعنی اسلام ) کی بدولت بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تھے (اور جہنم میںگرا ہی چاہتے تھے کہ)، اُس نے تمھیں اس سے نجات دے دی، (اٰل عمرٰن۳:۱۰۳)‘‘۔

حضرت عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں:جب اللہ نے میرے دل میں اسلام کی طرف رغبت پیدا فرمائی ،تو میںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: (یارسولؐ اللہ!) اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ اسلام کروں۔ وہ کہتے ہیں: جب رسولؐ اللہ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایاتو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپؐ نے فرمایا:عمرو! تمھیں کیا ہواکہ ہاتھ کھینچ لیا؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اسلام قبول کرنے کے لیے میری شرط ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بولو! تمھاری شرط کیاہے؟ میں نے عرض کی: میری بخشش ہوجائے۔ آپؐ نے فرمایا: تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام پہلے کی تمام غلطیوں کو مٹادیتا ہے، (مسلم:۱۲۱)‘‘۔

  • قبولِ اسلام اور بلوغت کی شرط؟ اسلام قبول کرنے کے لیے شریعت میں بلوغت شرط نہیں ہے۔ ذیل میں ان صحابۂ کرامؓ کی مثالیں پیش ہیں، جنھوں نے بلوغت سے پہلے اسلام قبول کیا:(۱)حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں:ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  عیادت کے لیے تشریف لائے، اس کے سرہانے کی جانب بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا: اسلام لے آئو۔ اس نے وہاں پر موجود اپنے باپ کی طرف دیکھا،اس کے باپ نے اس سے کہا: ابوالقاسمؐ کی بات مان لو، پس وہ اسلام لے آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہوئے وہاں سے نکلے: ’’اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسے جہنّم سے نجات عطا فرمادی، (بخاری:۱۳۵۶)‘‘۔

علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں: l’’حضرت علیؓ نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا،(اسد الغابہ، ج۳،ص۵۸۹)، l’’حضرت عمیر بن ابی وقاص قدیم الاسلام مہاجرین میں سے ہیں ،جو بدر میں شہید ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمر ہونے کی وجہ سے انھیں ابتدا میں شرکت کی اجازت نہیں دی تھی، پھر جب آپؐ بدر کے لیے روانہ ہونے لگے تو وہ رو پڑے۔ آپؐ نے انھیں اجازت دے دی۔ ان کی تلوار لمبی تھی، وہ اپنی تلوار کو لٹکائے ہوئے تھے ، شہادت کے وقت ان کی عمر سولہ سال تھی، انھیں عمرو بن عبدِ وُدّ نے شہید کیا، (اسد الغابہ، ج۴،ص ۲۸۷)، l’’معاذ بن حارث بن رفاعہ انصاری صحابی ہیں۔ آپ کی والدہ عفراء بنت عبید بن ثعلبہ ہیں۔ آپ اور رافع بن مالک خزرجی انصاری ہیں،ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔ آپ اور آپ کے دونوں بھائی عوف اور معوَّذ، بدر میں شریک ہوئے، اور دونوں بھائی شہید ہوئے‘‘۔ lمعوذبن عفراء اورمعاذ بن عمرو، پندرہ سال سے کم عمر میں غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور ابوجہل کو قتل کیا،(اسد الغابہ، ج۶، ص۱۹۷)‘‘۔ lجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو زید بن ثابت کی عمر گیارہ سال تھی اور حربِ بُعاث میں وہ سولہ سال کے تھے اور اسی موقع پر ان کے والد شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کم عمری کی وجہ سے بدر میں شرکت کی اجازت نہیں دی اور لوٹادیا اور یہ احد میں شریک ہوئے، (اسد الغابہ، ج۲،ص۳۴۶)‘‘۔

  • حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: میں غزوۂ خندق کے دن تیرہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،میرے والد میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور عرض کر رہے تھے: یارسولؐ اللہ! اس کاجسم مضبوط ہے۔ آپؐ نے مجھے لوٹادیا۔ وہ بیان کرتے ہیں:میں غزوۂ بنی مصطلق میں شریک ہوا، واقدی کہتے ہیں: ان کی عمر اُس وقت پندرہ سال تھی  (اسد الغابہ ، ج۶، ص۱۳۸)‘‘۔l محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انس بن مالک بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ان کی لڑکپن کی عمر تھی اور وہ حضوؐر کے خدمت گار تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو اس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ ایک قول کے مطابق نو سال اور ایک قول کے مطابق آٹھ سال تھی (اسد الغابہ ،ج۱، ص۲۹۴)۔ l’’حضرت علیؓ بن ابی طالب بیان کرتے ہیں:کچھ غلام یومِ حدیبیہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاہدۂ حدیبیہ سے پہلے حاضر ہوئے۔ ان کے مالکوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا: محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)، واللہ ! یہ آپ کے دین میں رغبت کی وجہ سے نہیں نکلے، یہ غلامی سے بھاگنے کے لیے نکلے ہیں۔ بعض صحابہ نے عرض کی: یارسولؐ اللہ! انھوں نے سچ کہا ہے، انھیں لوٹادیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوئے اور فرمایا: اے قریش! میں سمجھتا ہوں  کہ تم لوگ اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک کہ اﷲتم پر کسی ایسے کو نہ بھیج دے جو اس (بدگمانی پر) تمھاری گردنیں مار دے،پس آپ نے ان کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا :یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ لوگ ہیں، (ابوداؤد: ۲۷۰۰)‘‘، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی بدگمانی کے باوجود اُن کے ظاہرِ حال کے مطابق فیصلہ فرماتے ہوئے اسلام کو قبول کیا اور ان کی آزادی کا فیصلہ کردیا۔
  • حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے والد حضرت عمرؓ بن خطاب کے ہمراہ بالغ ہونے سے پہلے اسلام لائے اور اپنے والد سے پہلے ہجرت کی۔ آپ غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہوئے، کم عمری کی وجہ سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے نابالغ لڑکوں کے ہمراہ واپس بھیج دیا تھا، (اسد الغابہ، ج۳،ص۳۳۶)، lحضرت ولیدؓ بن عقبہ اُس وقت اسلام لائے جب وہ قریب البلوغ تھے، (اسد الغابہ، ج۵، ص۴۲۰)۔

 نوٹ: یہاں شرعی بلوغت مراد ہے، ہمارے دور کی اٹھارہ برس سے زائد عمر کی قانونی بلوغت مراد نہیں ہے۔ lحضرت معاذ بن جبلؓ نے اٹھارہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا، (اسدالغابہ،ج۵،ص۱۸۷)۔ lحضرت زبیرؓ بن العوام کے اسلام قبول کرنے کی عمر کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: آٹھ سال، بارہ سال، پندرہ سال اور سترہ سال، ایک قول کے مطابق وہ اسلام قبول کرنے والے پانچویں فرد تھے، (اسد الغابہ، ج۲، ص۳۰۷)‘‘۔