نومبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

’سیّد قطب سے لوگ ناواقف ہیں‘

ڈاکٹر عادل صلاحی | نومبر ۲۰۲۱ | مکالمہ

  • سوال: سیّد قطبؒ عہدحاضر کے ایک بہت بااثر مفکر ہیں۔ قطب شہیدؒ کی شخصیت پر گفتگو کے لیے آپ سے بہتر کوئی شخصیت نہیں، جن کی شہید سے نہ صرف ملاقاتیں رہیں بلکہ ان کی تحریروں کے وسیلے سے گہرا تعلق بھی رکھتے ہیں، بالخصوص فی ظلال القرآن کا انگریزی ترجمہ  آپ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ شہید کی تحریک اور ان کی شخصیت کو لوگ مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو ان سے محبت کرتے ہیں اور کچھ وہ جو ناپسند کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حقیقی سیّدقطب کون تھے؟
    • جواب: آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے، آپ کی ایک بات پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ کچھ وہ ہیں جو انھیں ناپسند کرتے ہیں۔ اس پر مجھے یہ کہنا ہے کہ جس شخص نے بھی واقعی سیّدقطب کی فی ظلال القرآن  یا قرآنیات پر ان کی دیگر تحریریں توجہ سے ملاحظہ کی ہوں، وہ سیّد قطب کو ان کی تحریروں کے ذریعے سے جان سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’’ان کی آخری تصنیف معالم فی الطریق  انتہا پسندی کی بنیاد بنی ہے‘‘۔ ہم ان کی دیگر تحریریں بھی پڑھیں، تو پتا چلتا ہے کہ سید کا قلم بے حد پُراثر اور کمال درجے کا توانا تھا۔انھیں درست اور برمحل الفاظ برتنے کا بہترین سلیقہ آتا تھا۔ اگر آپ اسلام پر لکھی ان کی شروع زمانے کی کتابیں پڑھیں، تو آپ کی ملاقات حقیقی سیّد قطب سے ہوگی۔ سید کا علمی سفر حیات بڑا طویل تھا، اگرچہ انھیں عمرفانی کے صرف ساٹھ سال ہی ملے۔ وہ ادبیات سے قرآن اور اسلام کی طرف آئے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ایک ادبی شخصیت تھے، ادیب تھے، شاعر تھے، ناول نگار تھے اور مضمون نگار (essayist)تھے۔
  • میں نے کہیں پڑھا ہے کہ ان کے تحریر کردہ مضامین کی تعداد ۳۸۰ سے کچھ زائدہے؟
    • نہیں، یہ تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ صرف فی ظلال القرآن  کا انگلش ترجمہ سات ہزار صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ اصل عربی متن جو بڑے سائز پر ہے، اس کے صفحات کی تعداد چار ہزار ہے۔ وہ بہترین شاعر تھے، انھوں نے چند ناول بھی تحریر کیے، دیگر چیزیں بھی لکھیں۔ ان کی تحریروں میں ان کے قلم کی توانائی بھرپور انداز سےنمایاں ہے۔

سیّدقطب ہر ہفتے تین مضامین لکھا کرتے تھے، جو تین مختلف جرائد میں شائع ہوتے تھے۔ یہ مصر میں بادشاہت کے زمانے کی بات ہے، فوجی انقلاب سے پہلادور۔ کم و بیش ہر مضمون کی اشاعت کے بعد انھیں انٹیلی جنس والے طلب کرکے مضمون کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تھے۔ اس زمانے میں بہرحال قانون کی کچھ پاسداری کی جاتی تھی۔ پوچھ گچھ کے بعد انھیں گھر جانے کی اجازت دے دی جاتی تھی، کیونکہ تفتیشی افسران اس مخمصے میں رہتے کہ مضمون میں کوئی قانونی سقم نہ ہونے کی وجہ سے بھلا وہ کس جرم کی پاداش میں انھیں گرفتار کریں۔لہٰذا [چونکہ وہ محکمہ تعلیم سےوابستہ تھے، اس لیے]حکومت نے ان سے جان چھڑانے کے لیے انھیں بغرض تعلیم [یونی ورسٹی آف ناردرن کولوروڈو : ۵۰-۱۹۴۸ء] امریکا بھیج دیا، اس امید پر کہ وہ وہاں جاکر مصری سیاست وغیرہ کو بھول جائیں گے۔ دراصل ان کے مضامین ایک عام آدمی کے خیالات و احساسات کی بازگشت ہوتے تھے ۔ اس دردمندی اور حساسیت کی وجہ سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ سوشلسٹ یا کمیونسٹ ہیں، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک حساس ادبی شخصیت کے مالک تھے، جو اپنے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتے تھے، اس کے ترجمان تھے اور اس کا اظہار وہ اپنے توانا قلم سے کرتے تھے۔ یہ ہیں شروع کے زمانے کے سیّد قطب، اسلامی فکر کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے کے سیّد قطب!

  • سیّد قطب پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ’’ جب وہ امریکا گئے اور امریکی معاشرے کو قریب سے دیکھنے کے بعد انھیں اس سے گھن آنے لگی تو ان کے خیالات میں انقلابی تبدیلی پیدا ہوئی اور وہ radicalised ہوگئے۔ پھر اس کے بعد ہی ان کی تحریروں میں انتہاپسندی اور جنگجوئی آگئی اور ان کی توجہ سیاسی نظریۂ اسلامی (Islamist ideology) کی طرف ہوگئی، اور وہ Islamism اور Islamists(اسلامیین) کے سرپرست قرار پائے۔ دہشت گردی کے فلسفی قراردیے گئے۔ اسامہ بن لادن ان سے متاثر ہوئے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟
    • ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سوائے امریکی جھوٹ کے اور کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ’دہشت گردی‘ کی کوئی متعین اور متفق علیہ تعریف کیوں نہیں ہے؟ یہ امریکا ہی ہے، جو دہشت گردی کی ایک متعین اور قابلِ قبول وہ تعریف کہ، جو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے نزدیک تسلیم شدہ ہو، اس کا مخالف ہے۔ امریکا دہشت گردی کی متعین تعریف چاہتا ہی نہیں ہے۔
  • اگر وہ کوئی متعین تعریف قبول کرلیتا ہے، تو اسے اپنے آپ ہی کو بُرا نام دینا پڑے گا۔
    • ظاہر ہے، اگر وہ متعین کردہ تعریف قبول کرلے تو اسے اس کا پابند ہونا پڑے گا اور پھر جو کچھ وہ کررہا ہے، نہیں کرسکے گا۔ امرواقعہ یہ ہے کہ سیّد قطب نے ایک جملہ بھی ایسا نہیں لکھا ہے، جسے دہشت گردی پھیلانے اور دہشت گردی کے دفاع سے تعبیر کیا جاسکے، اس نوعیت کا کوئی ایک جملہ بھی نہیں ہے۔ اپنے اس دعوے کے حوالے سے میں چیلنج کرتا ہوں۔ میں نے فی ظلال القرآن  کا انگلش میں ترجمہ کیا ہے۔ ایک مترجم اصل متن کو جتنی باریک بینی سے پڑھتا ہے، کوئی دوسرا قاری اتنی گہری نظر سے نہیں پڑھتا، کیونکہ عام قاری کے برعکس مترجم کو، مصنف کے خیالات کی من وعن ترجمانی کرنا ہوتی ہے۔ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ محض میری رائے نہیں ہے۔ میری سیّدقطب سے رُو در رُو دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہر ملاقات ڈھائی گھنٹے کی تھی۔ اس میں، مَیں نے ان کے فلسفے اور اسلام اور اسلامی تحریکات کے مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات جاننا چاہے۔ اس ملاقات میں انھوں نے مجھ سے جو باتیں بیان کیں، انھیں جان کر ایک شخص کو تعجب ہوگا کہ آخر کس بنیاد پرانھیں جنگجوئیت کا حامل اور دہشت گردی کا حامی قرار دیا جارہا ہے؟

سیّد نے بہت زور دے کر مسلمانوں میں عمومی تعلیم اور اسلامی تعلیم کی ضرورت پر زور دیا۔ایسی تعلیم کہ جس کی بنیاد اسلام کے مکمل فہم پر رکھی گئی ہو۔انھوں نے کہا کہ ’’تعلیم کے اس تصور کے لیے ہمارے پاس ایک پروگرام ہے، جسے ہم نےاپنی سطح پر، جیل کی کال کوٹھڑیوں میں اور جیل سے باہر کی دُنیا میں نافذ کیا ہے۔ یہ دوسالہ پروگرام اسلا م کے جامع مطالعہ پر مبنی ہے۔ انھوں نے معالم فی الطریق  میں بہت واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’محض ایک آمر کو بدل دینے سے کیا ہوگا؟ ایک جائے گا دوسرا آجائے گا اور بالکل یہی ہورہا ہے‘‘۔ پھر لکھا کہ ’’بازنطینی یا ایرانی آمریت کو اسلام کے نظام عدل و نظامِ مشاورت سے بدلا گیا۔ صحابہؓ کا یہی مشن تھا۔ حضرت ربعی بن عامرؓ سے رستم نے سوال کیا کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟ انھوں نے اسے انسانیت کی آزادی کا پیغام دیا، نہ کہ زمین کی آزادی کا اور کہا کہ ہم انسانوں کو جھوٹے خداؤں کی عبادت سے نکال کر ان کے گلے میں صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کا قلادہ ڈالنے آئے ہیں۔ انھیں ادیان کے مظالم سے نکال کر اسلام کے نظام عدل کے سائے میں لانا چاہتے ہیں۔ اس دنیا کی تنگنائیوں سے نکال کر آخرت کی وسعتوں کی جانب لے جانا چاہتے ہیں‘‘۔ یہ سیّد قطب کا فرمان ہے ۔

شاہراہ اسلام پر ان کی زندگی کا سفر، امریکا جانے سے پہلے ہی سے شروع ہوچکا تھا۔ انھوں نے قرآن کریم پر ادبی نقطۂ نظر سے لکھا اور ایک نظریہ پیش کیا، جس کی طرف اس سے پہلے عام طور پر توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ان کی کتاب التصویر الفنی فی القرآن میں یہ تصور پوری قوت سے موجودہے۔ اسے انھوں نے امریکا جانے سے قبل۱۹۴۰ء میں لکھا تھا۔ میرے مطالعے کی حد تک، قرآن اور قرآنی اسلوب پر اس سے بہتر کوئی کتاب شاید ہی لکھی گئی ہوگی۔ ماضی میں لوگوں نے قرآن کے اعجاز (inimitability) پر لکھا ہے۔ خود عبدالقادر جرجانی [۱۰۰۹ء-۱۰۷۸ء]کی کتاب دلائل الاعجاز ہے۔ اس میں قرآن کے اعجاز کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ ایک اور مصنف ہیں مصطفیٰ صادق الرافعی [م: ۱۹۳۷ء]۔ یہ بیسویں صدی کے آغاز میں اسلامی نظریہ کے نقیب تھے۔ وہ تیس سال کی عمر میں سماعت کی طاقت کھو بیٹھے تھے۔ انھوں نے قرآن کا اعجاز، اس کی موسیقیت کے کمال میں تلاش کیا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ایک سننے کی صلاحیت سے محروم مصنف، قرآن کے لفظوں کی موسیقیت کی بابت لکھ رہا ہے کہ وہ اس کے اعجاز کا ایک پہلو ہے۔

تاہم، سیّد قطب نے مختلف بات کہی ہے: ’’قرآن اپنے حروف والفاظ سے تصویر کشی اور منظر کشی کرتا ہے۔ جب ہم اسے پڑھتے ہیں تو ہمارے سامنے پورا منظر ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہر منظر کا رنگ اور حرکت بھی ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ شاعری نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں عظیم تر چیز ہے۔ یہ عظیم ترین ادبی شاہ کار ہے۔ جب آپ قرآن پڑھتےہیں تو وہ آپ کو اس سے کہیں زیادہ دیتا ہے، جو آپ کے سامنے ہے‘‘ ۔ یہ بات التصویر الفنی فی القرآن کے بارے میں ہے۔ پھر چند سال کے بعد انھوں نے وہ کتاب لکھی جس میں ان اصولوں کو برتا، وہ کتاب ہے مشاہدالقیامۃ فی القرآن۔ میں نے التصویر الفنی کے انگلش میں ترجمے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کا ترجمہ ممکن نہیں، حالاں کہ میں انگریزی کے وسیع ذخیرئہ الفاظ کے ساتھ ایک منجھا ہوا مترجم ہوں،لیکن سچی بات یہ ہے کہ میرے لیے اس کتاب کا ترجمہ کرنا ممکن نہیں۔

  • پھر تو ایسی کتاب سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ہر شخص کو عربی پڑھنی چاہیے؟
    • اس موضوع پر عربی میں ایک اور کتاب ہے النبا العظیم ، جس کے مصنف ہیں ڈاکٹر محمدعبد اللہ دراز [۱۸۹۴ء-۱۹۵۸ء]۔ اس کا میں نے انگلش ترجمہ کیا ہے ، The Qur’an and its Eternal Challenge۔ یہ ایک بہت عمدہ کتاب ہے، مختصر لیکن زبردست۔
  • آپ نے کس جذبے کے تحت ضخیم جلدوں پر مشتمل فی ظلال القرآن کے انگلش ترجمے کا بیڑا اٹھایا اور اسے مکمل کردیا۔ کسی کتاب سے لگاؤ اور اس کے متن سے دلچسپی کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں۔ تاہم، ترجمہ کرنا ایک بالکل مختلف فن ہے جس کے اثرات لازمی پڑتے ہیں؟
    • میں بتا چکا ہوں کہ سیّد قطب سے میری دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ یہ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، جب میں بغرض تعلیم برطانیہ آنے والا تھا۔ یہ دونوں ملاقاتیں میرے لیے ایک خاص قسم کا ناقابلِ فراموش تجربہ تھیں۔ میں شامی ہوں، تاہم میری تعلیم مصر میں اورمصر کی یونی ورسٹی میں ہوئی ہے ۔ ۱۹۶۲ء میں اپنی تعلیم مکمل کرکے میں شام واپس چلا گیا۔ پھر پوسٹ گریجویشن کے لیے میں نے برطانیہ آنے کا ارادہ کیا۔ میرا مضمون انگلش ادبیات اور ترجمہ نگاری تھا۔ مصر میں بھی میں نے اسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میرا سفر بحری جہاز سے ہوا۔ مجھے پہلے مصر جانا تھا جہاں میری مادر علمی تھی اور دوست احباب سے ملاقات بھی کرنی تھی۔ سیّد قطب تک پہنچانے کے لیے مجھے ایک زبانی پیغام بھی دیا گیا تھا۔ مصر پہنچ کر میں نے ان سے ملاقات کرنی چاہی تو پتا چلا کہ ملاقات تو ہوجائے گی، لیکن ان دنوں سیّد قطب قاہرہ میں نہیں بلکہ ساحلی شہر راس البر میں ہیں، جہاں بس کے ذریعے دوگھنٹوں میں پہنچا جاسکتا ہے۔ بس دس بجے اور پھر بارہ بجے جاتی تھی۔ اگر میں دس والی سے جاؤں تو ملاقات بہ آسانی ہوجائے گی۔ میں بس کے اڈے پر گیا تو معلوم ہوا کہ دس بجے والی بس منسوخ ہوگئی ہے اور اب بارہ والی ملے گی۔چونکہ وہ پہلی بس سے میری آمد کے منتظر تھے اور میں پہنچ نہیں سکا تھا، اس لیے وہ جائے ملاقات سے چلے گئے۔ خیر میں ان کے گھر پہنچا، دستک دی، ایک بار، دوسری بار اور پھر تیسری بار۔ تیسری دستک پر گھر کے پچھواڑے سے ایک ادھیڑ عمر کی خاتون برآمد ہوئی،چالیس پچاس سال کی ایک گھریلو ملازمہ، اس نے پوچھا کیا بات ہے؟

اُن دنوں میں مصری معاشرتی آداب و رسوم سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا تھا، اور مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ملازمین لوگوں کا کس طرح سے نام لیتے ہیں۔عام طور سے ’پاشا‘ یا ’بیہ‘ ناموں کے ساتھ استعمال ہوتا تھا، جس میں ادب واحترام تھا۔ میں نے کہا: ’’مجھے استاد سیّد سے ملنا ہے‘‘۔اس نے کہا: ’’معاف کیجیے، وہ یہاں نہیں ہیں، وہ ساحل کی طرف گئے ہیں، وہاں آپ کی ملاقات ان سے ضرور ہوجائے گی کیونکہ وہ اپنی بہنوں کے ساتھ ہیں، جو پوری طرح ملبوس ہیں۔ وہاں آپ کو ’برادر سید‘ ضرور مل جائیں گے‘‘۔ ملازمہ بجائے اس کے کہ ’سید پاشا‘ یا ’سید بیہ‘ یا ’سرسید‘ کہتی، اس نے ’برادر سید‘ کہا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جس چیز کی تلقین سیّد قطب کرتے رہے، اس پر وہ خود بھی عمل پیرا رہے۔

خیر، میں ساحل پر پہنچا، تو وہاں اور لوگ بھی تھے، اور اسلامی لباس میں ملبوس چندخواتین بھی تھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ساحلوں پر لوگ بالعموم پیراکی کے لباس میں ہوتے ہیں۔ ان دنوں مصر میں حجاب کا رواج نہیں تھا۔ یونی ورسٹی کے چار سالہ دور طالب علمی میں، میں نے کہیں حجاب نہیں دیکھا، اس مدت میں میں نے صرف چھے خواتین کو باحجاب دیکھا۔خیر، میں سیّد قطب کی طرف بڑھا۔ وہ لپک کر میری طرف آئے اور تاخیر کی وجہ معلوم کی۔ پھر ہم گھر واپس آئے اور ہماری ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔واپسی پر انھوں نے کہا: ’’اگر تمھارا واپسی کا سفر ذرا ملتوی ہوجائےتو پھر آنا‘‘۔ لہٰذا، میں نے ایک اور ملاقات کی غرض سے اپنا واپسی کا سفر ملتوی کردیا۔واقعہ یہ ہے کہ ان دوملاقاتوں کا مجھ پر بہت اثر پڑا۔ اس سے پہلے میں نے ان کی صرف چند کتابیں ہی پڑھ رکھی تھیں۔

۲۹؍اگست ۱۹۶۶ء کو انھیں پھانسی دے دی گئی، اور اس طرح انھیں جام شہادت نوش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ ان پر اپنی بے پناہ رحمتوں کی بارش فرمائے۔ اس دن صبح کے وقت میں بیروت میں تھا۔ میں نے [مصری ڈکٹیٹر] صدر ناصر کے حامی ایک اخبار میں سیّدقطب کی شائع شدہ تصویر دیکھی، جو پھانسی کی سزا سنانے کے بعد عدالت سے انھیں واپس قیدخانے لے جاتے ہوئے لی گئی تھی۔ سبحان اللہ! کیا مسکراتا ہوا چہرہ تھا، خوشی سے دمکتا ہوا! اخبار میں لکھا تھا کہ کسی نے شہید سے سوال کیا کہ ’عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟‘ انھوں نے جواب دیا: ’شہادت‘۔ اللہ اکبر۔    اسی دن میں بیروت سے دمشق کے لیے روانہ ہوا۔ سفر ٹیکسی سے ہوا، جس میں اور بھی مسافر تھے۔ ٹیکسی کے ریڈیو سے ریڈیو اسرائیل کی نشریات جاری تھیں۔ ریڈیو اسرائیل، سیّد قطب کی پھانسی دیے جانے کی خبر دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ’’سیّد قطب وہ مصنف ہیں، جن کی کتابوں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے‘‘۔ واقعہ یہ ہے کہ اسے سن کر مجھے بہت تکلیف ہوئی، بہت ہی تکلیف۔ گویا اسرائیل ہم سے یہ کہہ رہا تھا کہ ’’تم عرب اپنے سوچنے والے مفکرین کو جو تمھیں ذہنی غذا بہم پہنچا رہے ہیں، موت کے گھاٹ اتار رہے ہو ۔ تو اے عربو! سیّد قطب جیسی شخصیات کو موت کے گھاٹ اتار کر تم ہماری بڑی خدمت کررہے ہو‘‘۔ یہ تھے میرے احساسات!

وہ جمعرات کا دن تھا۔ اس سے اگلی جمعرات کو میں عصر کی نماز پڑھ کر آیا تو کچھ دیر کے لیے میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ سیّد قطب مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ ’’عادل! پاکستانیوں کو فی ظلال القرآن  کی ضرورت ہے‘‘۔ سبحان اللہ! پاکستانیوں سے ان کی مراد برطانیہ میں مقیم پاک وہند کے مسلمان تھے۔ کیونکہ اس زمانے میں بالعموم مسلمان برصغیر پاک و ہند ہی سے آئے تھے، دوسری جگہوں سے بعد میں آنا شروع ہوئے۔پاکستانی مسلمان سے ان کی مراد انگلش بولنے والے مسلمان تھے۔خیر، ان کے قول کی تعبیر میرے نزدیک یہ تھی کہ برصغیر سے آئے ہوئے اور مقیم مسلمانوں کو فی ظلال القرآن کے انگلش ترجمہ کی ضرورت ہے۔ نیند کا یہ دورانیہ صرف بیس منٹ کا رہا ہوگا۔ خواب ہی میں مَیں نے کہا ’’ان شاء اللہ میں یہ کام کروں کا‘‘۔ الحمد للہ، میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔

  • فی ظلال القرآن کے اس انگریزی ترجمہ کا کام کتنے عرصے میں مکمل ہوا؟
    • یہ بہت مشکل سوال ہے۔ کیونکہ ایسا نہیں تھا کہ میں باقاعدہ پروگرام کے تحت ترجمہ کرنے بیٹھا اور وقت مقررہ میں پورا کرلیا۔ فی الواقع یہ ایک بڑا طویل علمی سفر تھا۔
  • آپ کو جو پیغام سیّد قطب تک پہنچانے کو دیا گیا تھا، بتاسکتے ہیں وہ کیا تھا؟ کیا آج کے دور میں اس کوئی معنویت ہے؟
    • نہیں۔
  • آپ نے بتایا کہ ’’سیّد قطب سے ملاقات میں اسلام اور اسلامی تحریکات کے مستقبل پر بات ہوئی تھی، اور اس میں تعلیم وتربیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی‘‘۔ اس ضمن میں ان کا وژن کیا تھا؟
    • سیّد قطب کا کہنا تھا کہ ’’ہم کسی ہاری ہوئی جنگ کےپس ماندگان (remnants) نہیں ہیں، بلکہ ہم احیائے اسلام کی ایک نئی پُرعزم تحریک کے محافظ (vanguard) ہیں‘‘۔ انھیں اس ذمہ داری کا پورا احساس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں اس احیائی تحریک کو سمجھنا چاہیے، جسے جمال الدین افغانی [م:۹مارچ ۱۸۹۷ء]نے شروع کیا تھا۔ ان کی دعوت تھی کہ ’’دُنیابھر کے مسلمان متحد ہوں‘‘۔ بہرحال یہ ایک عوامی دعوت تھی، مگر جس کی پشت پر کوئی عملی پروگرام نہیں تھا۔ ان کے شاگرد اور دوست مفتی محمد عبدہٗ [م: ۱۱جولائی ۱۹۰۵ء] کو اس کا ادراک تھا۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے کے اشرافیہ، اسلام اور احیائے اسلام کی تحریک سے وابستہ ہوں۔ انھوں نے اس پہلو پر کام کیا اور ان کے اردگرد معاشرے میں اونچی حیثیت کے حامل افراد نے ان کے اس وژن کو قبول کیا، جن میں سعدزغلول [م: ۱۹۲۷ء]بھی شامل ہیں۔ لیکن اس مشق میں ایک خامی بھی تھی اور وہ یہ کہ اشرافیہ بذات خود تو اسلام کا احیا کرنہیں سکتی تھی، جب تک اسلام کے حوالے سے وفادار عوامی بنیاد نہ ہو ۔ اس حقیقت کی دریافت کا سہرا امام حسن البنا [شہادت: ۱۲فروری ۱۹۴۹ء]کے سر ہے‘‘۔ وہ حسن البنا کو احیائے اسلام کی تیسری نسل قرار دیتے تھے: ’’حسن البنا عوامی تائید کی تشکیل کے سرخیل تھے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایک عنصر درمیان سے غائب ہے۔ اور وہ ہے تعلیم و تربیت کا عنصر۔ اس عوامی بنیاد کو محض جذبات کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھایا جاسکتا ہے۔ جذبات کی بنیاد، اسلام کے درست فہم پر ہونی چاہیے اور اس فہم پر کہ احیائے اسلام کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے اور یہ کہ تربیت سے ہمارا کیا مقصد ہے؟ اور اس پروگرام کے ذریعے سے ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
  • آپ کے خیال میں کیا اسی چیز نے حکومت کو خوف زدہ کردیا؟
    • بالکل یہی ہوا۔مصر کے فوجی ٹربیونل، جس نے موت کی سزا سنائی تھی، اس نے دیگر چالیس افراد کے خلاف بھی مقدمہ کی سماعت کی تھی۔ ٹربیونل نے فرداً فرداً ان سےپوچھا:’’ کیا تم نے معالم فی الطریق [جادہ و منزل، اُردو ترجمہ از خلیل احمد حامدی] پڑھی ہے؟‘‘ جس نے بھی ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا، اسےکتاب پڑھنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی، یعنی محض کتاب پڑھنے کے جرم میں سزا۔
  • یہ گویا آج کی war on terror پالیسی سے ملتی جلتی مثال ہے، جو مشرق وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں رائج ہے، مثلاً مشرقی ترکستان میں ایغور مسلمان بدترین کریک ڈاؤن کا شکار ہیں۔ الحمدللہ، برطانیہ میں اگرچہ یہ کم ہے، تاہم یہاں بھی تشدد اور انتہاپسندی کے نام پر ایک پالیسی پہ  عمل ہورہا ہے۔ ان کے نزدیک خطرناک مفکرین کی کتابوں کی چھان بین جاری ہے۔ آپ کے خیال میں اُس وقت کے اور آج کے حالات میں کوئی مشابہت ہے؟
    • سوپر پاورز یا استعماری طاقتیں، آپ انھیں جو بھی نام دیں، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تمام وسائل وذرائع استعمال کریں گی۔ اور جب بھی انھیں محسوس ہوگا کہ ان کے حلیف اب ان کے لیے خطرہ بن گئے ہیں تو وہ ان سے فی الفور منہ موڑ لیں گی۔ڈان کویل، امریکی صدر  [۹۳-۱۹۸۹ء] جارج بش سینئر کا نائب صدر تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’بیسویں صدی میں مغربی تہذیب کے تین دشمن تھے: نازی ازم بہ شکل نیشنلزم، کمیونزم اور فنڈامنٹل ازم۔ پہلے دو کا مقابلہ کیا جاچکا ہے۔ کمیونسٹ روس کے انہدام [۲۶دسمبر ۱۹۹۱ء] کے بعد، اب ہمیں فنڈامنٹل ازم سے نمٹنا ہے‘‘۔ جس سے اس کی مراد یقیناً اسلامی تحریک ِ احیا اور تحریک ِ حُریت سے تھی۔وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے خود ہم مسلمانوں کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ہمیں اپنی حکمت عملی اور سیاسی فکر خود تشکیل دینا ہوگی۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو ہماری قوت ختم ہوجائے گی۔ آج ہم بدقسمتی سے  ’عرب بہار‘کی حقیقت اور حال میں اُلجھے ہوئے ہیں، اور اس بات پر کہ یہاں کیا ہورہا ہے وہاں کیا ہورہا ہے؟ ہم صحیح انداز سے نہیں سوچ رہے ہیں۔ صحیح انداز صرف اسلامی راستہ ہے۔افسوس کہ اُمت صحیح اسلامی راستے پر نہیں چل رہی۔ کون اس سوال پر سوچ رہا ہے اور کون واقعی صحیح اسلامی راستے پر گامزن ہے؟ بہت کم لوگ اس پہلو پر سوچتے ہیں۔ افسوس کہ ہم صرف خودکلامی کے قیدی ہیں۔

مزید سنیے کہ پھانسی سے ایک دن پہلے کیا ہوا تھا؟ یہ بات خود مجھے سیّد قطب کی ہمشیرہ حمیدہ نے بتائی، یہ بات میں نے کہیں ادھر ادھر سے نہیں سنی ہے۔ ان کی یہ ہمشیرہ سب سے چھوٹی تھیں، ان سے ۳۱سال چھوٹی ۔انھوں نے بتایا کہ ’’ایک بار جب میں ان سے ملنے گئی، تو جیل کے حکام سمجھے کہ میں ان کی بیٹی ہوں۔ ایک ساتھ صرف دو افراد کو ملاقات کی اجازت ہوتی تھی۔ لیکن انھوں نے مجھے بھی ملاقات کی اجازت دے دی‘‘۔ہر تین ہفتوں پر ایک ملاقات کی اجازت ہوتی تھی۔

 جب انھوں نے سیّد قطب کو ۱۹۶۵ء میں گرفتار کیا تو حمیدہ کو بھی گرفتار کرلیا اور انھیں بھی اس مقدمے میں ماخوذ کرکے ۱۵ سال کی سزا سنادی گئی۔ انھیں فوجی جیل میں رکھا گیا، جہاں خواتین کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی کیونکہ وہ صرف (مرد) سپاہیوں کے لیے تھی۔ یہ بات حمیدہ قطب نے مجھے خود بتائی اور اپنی کتاب میں اسے تحریر بھی کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مجھے بھائی کے سیل سے نکال کر جیلر کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ’’میں تمھیں ایک ایسی چیز دکھانا چاہتا ہوں، جو میں دکھانے کا مجاز نہیں ہوں اور ایسا کرنے پر میں خود پریشانی کا شکار ہوسکتا ہوں۔ تاہم، میں تمھیں دکھاؤں گا، کیونکہ میں تمھاری عزّت کرتا ہوں‘‘۔اس نے صدر ناصر کے دستخط دکھائے جو اس نے سیّد قطب کے موت کے پروانے پر کررکھے تھے۔ اس نے کہا کہ ’’اس دستخط کے بعد ہم اس حکم نامے پر عمل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ ان کو موت کے منہ میں جانے سے صرف تم انھیں بچاسکتی ہو ورنہ کل انھیں پھانسی دے دی جائے گی‘‘۔

حمیدہ قطب نے کہا: ’’کیا میں ان کی جان بچاسکتی ہوں؟‘‘ جیلر نے کہا: ’’ہاں، تمھارے سوا اور کوئی نہیں بچاسکتا ہے۔ اگر تم ایسا کرسکو تو آج رات تم بجائے جیل کے اپنے گھر پر گزاروگی اور دوہفتوں کے بعد وہ بھی رہا ہوجائیں گے‘‘۔

’’وہ کیسے؟‘‘ حمیدہ قطب نے پوچھا۔

اس نے کہا: ’’وہ دو سطریں لکھ کر دے دیں کہ ہماری تحریک کا تعلق ناپسندیدہ گروپ سے تھا، مجھے اپنے کیے پر افسوس ہے اور یہ کہ سعودی شاہ فیصل [م: ۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء] نے ہماری تنظیم کو مالی امداد دی تھی‘‘۔

حمیدہ قطب نے کہا: ’’وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اخوان کا تعلق کسی ناپسندیدہ ملکی یا غیرملکی گروپ سے نہیں ہے‘‘۔

جیلر نے کہا: تم ٹھیک کہتی ہو، لیکن سیّد کو بچانے کے لیے اس تحریر کی ضرورت ہے۔ انھیں آمادہ کرنے کی کوشش تو کرو۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں تم آج رات گھر پر ہوگی اور دو ہفتوں میں وہ بھی گھر پر ہوں گے۔ ملک کو تمھاری ضرورت ہے۔ تم لوگ اگر کمیونسٹوں کو نہیں روک سکے تو وہ ملک پر قبضہ کرلیں گے۔

حمیدہ قطب نے مجھے بتایا: میں نے سوچا کہ اگر میں کہہ دوں کہ اچھا میں کوشش کروں گی تو مجھے ایک ملاقات کا موقع مل جائے گا اور میں ان کی شہادت سے پہلے انھیں دیکھ لوں گی۔ چنانچہ انھوں نے کہا: اچھا، میں کوشش کروں گی۔ اس پر اس نے ایک آفیسر کی معیت میں مجھے سیّد قطب کے سیل میں بھیج دیا۔ آفیسر نے راستے میں مجھ سے کہا:تمھارے پاس صرف ۳۰ منٹ ہیں۔ ان کے پاس پہنچ کر حمیدہ قطب نے سیّد قطب سے کہا: ’’بھائی، یہ لوگ آپ سے یہ دو جملے چاہتے ہیں کہ آپ انھیں لکھ کر دے دیں‘‘۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی انھوں نے اپنا رخ آفیسر کی طرف کیا اور بولے:’’ تم جانتے ہو یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اور چوں کہ یہ سچ نہیں ہے، اس لیے دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے ایسا کہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اور اگر یہ بات سچی ہوتی تو میں لکھ دیتا، اور دُنیا کی کوئی طاقت مجھے یہ کہنے اور لکھنے سے نہ روک پاتی۔ لیکن چونکہ یہ بات ہے ہی سراسر جھوٹ، اس لیے مَیں کسی صورت جھوٹ نہیں بولوں گا‘‘۔ آفیسر نے کہا: ’’اچھا تو پھرآپ کی یہی رائے ہے، بات ختم‘‘۔ سیّد قطب نے کہا: ’’ہاں، یہی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تمغۂ شہادت سے نوازنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور اگر میری زندگی باقی ہے تو تم مجھے موت کے منہ میں نہیں بھیج سکتے‘‘۔ یہ سن کر آفیسر غصے سے تلملا گیا اور ا س نے ان کی بہن حمیدہ سے کہا: ’’تمھارے پاس اب صرف پندرہ منٹ ہیں۔ اپنے بھائی کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ لو‘‘۔ یہ ساری معلومات مجھے اس عظیم خاتون کی دی ہوئی ہیں۔ سبحان اللہ!

وہ عیسائی [قبطی] جیلر اپنے بل بوتے پر کچھ بھی نہیں کررہا تھا، وہ تو صدر کے احکام کی تعمیل کررہا تھا۔ صدر اس کے توسط سے ان سے یہ تحریر لکھوانا چاہتا تھا۔ اور بالفرض اگر وہ لکھ کر دے بھی دیتے تو کیا وہ اپنا کہا پورا کرتا، ہرگز نہیں۔آپ شاید یہ بات جانتے ہیں کہ اس سے پہلے وہ ناصر کے دوست تھے۔

  • ہاں، میں نے بھی یہ بات سنی ہے۔
    • ہاں، انقلاب سے پہلے دونوں دوست تھے۔ وہ مصر میں برطانوی کٹھ پتلی بادشاہ فاروق کے خلاف فوجی نقل و حرکت پر باتیں کیا کرتے تھے۔ لیکن فوجی انقلاب کے بعد جو کچھ ہوا، اس سے سیّدقطب بہت مایوس ہوگئے تھے، بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی دیکھ کر ۔ ان کی وابستگی اسلام کے ساتھ تھی۔
  • مجھے معلوم ہوا ہے کہ انھیں وزارت کی پیش کش کی گئی تھی جو یقیناً ان کو ملتی اور وہ دوبارہ جیل جانے سے بھی بچ جاتے۔ جاننا چاہتے ہیں کیسے؟
    • یہ بات میں نے خود اس شخص سے سنی جو ان کی مدد کے لیے کوشاں تھا۔ وہ شخص مصرمیں لیبیائی سفارت خانے کا ایک سینئر سفارت کار تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ جب الاخوان المسلمون سے وابستہ لوگ بڑے پیمانے پر گرفتار کیے جارہے تھے تو میں نے سیّدقطب سے کہا کہ ’’آپ اپنے خاندان کے سبھی افراد کے ساتھ میرے ساتھ سفارتی کار میں لیبیا چلیے، راستے میں کوئی نہیں روکے گا‘‘۔  اس پر سیّد نے اس سے کہا کہ ’’میں تم کو وہی جواب دوں گا، جو میں نے گذشتہ ہفتہ عراقی فوجی افسروں کے ایک گروپ کو دیا تھا، جو عراقی صدر [فروری ۱۹۶۳ء- اپریل ۱۹۶۶ء] عبدالسلام عارف [م: ۱۳؍اپریل ۱۹۶۶ء]کا پیغام میرے پاس لے کر آئے تھے‘‘۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک سال قبل صدر عارف کی مداخلت پر جناب سید کو جیل سے رہائی ملی تھی۔ پیغام یہ تھا کہ ’’جناب صدر نے آپ کو سلام کہا ہے اور کہا ہے کہ اخوان کے خلاف سازش کی جارہی ہے اور خاص نشانہ آپ (یعنی سیّد قطب) ہیں۔ ہمیں آپ سے محبت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ جہاز سے عراق تشریف لے چلیں‘‘۔ لیبیا کے سفارت کار سے انھوں نے کہا کہ ’’جو جواب میں نے انھیں[یعنی عراقی سفارت کار کو] دیا تھا، وہی آپ کے لیے بھی ہے۔ مصر میں تین ہزار نوجوان مجھ سے بہت مخلص ہیں اور وہ مجھے اپنا استاد اور رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ میں انھیں چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ انھیں چھوڑ جانا گویا میدان جنگ سے بھاگ جانا ہے اور میں ایسا کرنہیں سکتا۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا‘‘۔
  • سبحان اللہ، کیا ہی اخلاص ووفا کے پیکر تھے شہید۔
    • یقیناً۔ وہ جانتے تھے کہ اصل نشانہ وہی ہیں۔ لیکن اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے ہرگز آمادہ نہیں تھے۔ ان کے یہ مخلصین کون تھے؟ وہ لوگ جو اسلام سمجھنا چاہتے تھے، اسلام کا احیاء چاہتے تھے،اور معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانے کا عزم رکھتے تھے اور اس کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ یہ کوئی دہشت گردی نہیں تھی، یہ کوئی بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی بات نہیں تھی۔ انھوں نے خود مجھ سے کہا تھا:’’ جبری طاقت استعمال کرنے کا کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ہے‘‘۔
  • آپ نے گفتگو میں چند اصطلاحات کا ذکر کیا ہے، Core, Vanguard, Elite۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مارکس ازم، لینن ازم سے متاثر ہوکر یہ اصطلاحیں سیّد قطب نے استعمال کی ہیں؟
    • نہیں، یہ بات بالکل اُلٹی ہے، بلکہ مارکس ازم کے حامی تو خود اسلامی اصطلاحوں سے متاثر ہیں۔ اسلام تو دنیا میں مارکس ازم سے بہت پہلے آیا ہے، ۱۴۰۰ سال پہلے۔ مارکس ازم کی عمر ہی کیا ہے، زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سو سال۔
  • واقعی،یہ بات درست ہے۔میں جب تاریخی شخصیات اور مفکرین کے بارے میں سوچتا ہوں اور انھیں آج کے حالات کے تناظر میں پرکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور ان کی تحریروں اور فلسفے کی قدروقیمت کا اندازہ لگاتا ہوں، ان کے سیاق اور اس سیاسی عہد کو دیکھتا ہوں جس میں وہ رہ رہے تھے تو ذہن میں سوال آتا ہے کہ آج اگر سیّد قطب ہمارے درمیان ہوتے تو وہ کس طرح سے سوچتے؟ اور یہ کہ برطانیہ جیسے ممالک میں بطور اقلیت رہنے والے مسلمانوں کو وہ کیا مشورہ دیتے؟
    • بنیادی خیالات تو وہی رہتے۔ ہاں، نفاذ کی تفصیلات اور طریق کار مختلف ہوتا۔ایک غیرمسلم معاشرے میں بحیثیت اقلیت رہنا، مسلم معاشرے میں رہنے سے مختلف ہے۔ خواہی نخواہی آپ آج مغرب کی وضع کردہ ’اسلامسٹ‘ کی اصطلاح استعمال کریں تو ہم تو مسلم ممالک میں بھی اقلیت ہی ہیں۔ لہٰذا، ہمیں vanguard  کی اصطلاح کے استعمال میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے۔
  • اصطلاحوں کے استعمال کے باب میں کوئی کھینچاتانی نہیں ہوتی۔
    • بالکل، خود صحابہ کرامؓ vanguard ،یعنی ہراوّل دستہ تھے۔ ہمیں اس کا ادراک کرنا ہے کہ وہ بہرحال اس وژن پر ہی زور دیتے تھے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو دیا تھا۔ مثال کے طور پر، غزوۂ خندق کے واقعے کو لیجیے۔ مشرکین کو شہر مدینہ میں داخلے سے روکنے کے لیے خندق کھودی جارہی تھی۔ ایک جگہ سخت چٹان آگئی، جو توڑے نہیں ٹوٹ رہی تھی۔ صحابہ کرامؓ کو اندیشہ اور خوف تھا کہ دشمن ان کو تباہ کرنے آرہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر ماری۔ پہلی ضرب پر فرمایا کہ ’’میں فارس کے محلات دیکھ رہا ہوں‘‘۔ دوسری ضرب پر فرمایا کہ ’’میں بازنطینیوں کے محلات دیکھ رہا ہوں‘‘۔ تیسری ضرب پر فرمایا کہ ’’میں یمن میں صنعاء کے محلات دیکھ رہا ہوں‘‘۔ وہیں پر مدینہ کے منافقین کہتے تھے کہ ’’یہ باتیں تو محلات کی کررہے ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم خوف کی وجہ سے رفع حاجت کے لیے بستی سے باہر نہیں جاسکتے‘‘۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو وژن دیا کہ تم پوری دنیا میں اسلام کی روشنی پھیلائوگے۔

ہمیں اسی نکتے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس انسانیت کو تاریکی سے نکالنے کے ذرائع موجود ہیں، مادہ پرستی کے اندھیروں سے نکالنے کے ذرائع۔ ہرجگہ ظلم کا راج ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ دنیا میں اسلحہ مافیا اور ڈرگ مافیا (ادویات کے اجارہ دار) دنیا پر حکمراں ہیں۔ ہمارے ممالک نے اس مغربی تہذیب کے مظا لم کا مزہ چکھا ہے، جو بظاہر آزادی، محبت اور مساوات کےنعرے لگاتی ہے۔ انھوں نے ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا ہے؟ کروڑوں کی تعداد میں انھوں نے ریڈانڈینز [ Red Indians: امریکا کے قدیم باشندے] اور ابورجینلز [Aboriginals: آسٹریلیا کے قدیم باشندے] کا خاتمہ کردیا، انھیں بالکل ختم کرکے رکھ دیا، محض بقائے اصلح (Survival of the fittest) کے غرور میں۔ درحقیقت اصلح ہم ہیں، اسلام کے نور کی بدولت کیونکہ اسلام انسانیت کو آزاد کرانے کی تحریک ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے مصر کے گورنر جناب عمرو بن العاصؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ: ’’تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا، جب کہ ان کی مائوں نے انھیں آزاد پیدا کیا ہے؟‘‘

  • مسلم اکثریتی آبادی کے ممالک کی جو صورت حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ کیا آپ کے خیال میں کوئی مثبت سمت سفر دکھائی دے رہی ہے؟
    • یقیناً، اس وقت جن مظالم کا دور دورہ ہے وہ ختم ہوں گے، جلدہی ختم ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔ مگر کب؟ یہ صرف اللہ کو معلوم ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ حکومتیں (regimes) دیوالیہ ہیں، [فکری، انتظامی، اخلاقی، سیاسی اور شعوری اعتبار سے] مکمل طور پر دیوالیہ۔ ان کا سقوط جلد ہی ہوگا۔ کیسے؟ اس کا فیصلہ اللہ کرے گا۔ حالیہ دنوں میں دُنیا کووڈ۱۹ کا شکار ہے۔ یہ دراصل انسانیت کو جگانے کی الٰہی پکار ہے۔ اس وقت دنیا میں بےپناہ ظلم و ناانصافی ہے، بہت زیادہ اور ہر جگہ۔کہیں کہیں روشنی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔تاہم، ظلم کے گھنگھور اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ تبدیلی آئے گی اور جلد ہی آئے گی۔ میں بھی دیکھوں گا اور آپ بھی دیکھیں گے۔ میرا وجدان (intuition) کہتا ہے کہ آپ اور آپ کی نسل ضرور تعمیری تبدیلی دیکھے گی۔
  • ان شاء اللہ، اللہ آپ کو طویل عمر عطا فرمائے۔کیا آپ مسلم ممالک میں متعین طور پر کچھ ایسا دیکھ رہے ہیں جیساکہ بعض لوگ ملایشیا، ترکی اور پاکستان کے بارے میں خیال رکھتےہیں کہ یہ تینوں ماضی کے علی الرغم مل کر ایک اتحاد کی تشکیل کریں گے۔ آپ کی توقعات کیا ہیں؟
    • میں یقیناً پُراُمید ہوں۔ یہ کیسے اور کہاں ہوگا؟ نہیں معلوم، تاہم پُراُمید ہوں۔ اہم تر بات یہ ہے کہ ہمیں آزادی کا احساس ہو۔ میں اسے ترکی میں دیکھ رہا ہوں، الحمد للہ۔ ہمیں اسے تقویت پہچانی چاہیے اور اسے زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے ملایشیا بھی اسی سمت میں ہو۔ تاہم، مجھے اس کا زیادہ علم نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ یہ دونوں ممالک مل کر کام کریں۔ اگر پاکستان بھی اس میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے شامل ہوجانا چاہیے۔ یقینا یہ عظیم اتحاد ہوگا۔
  • ان شاء اللہ ایسا ہوگا۔ ایک شخص جو سیّد قطب سے بالکل ناواقف ہےآپ اسے ان کی کون کون سی کتابوں کے مطالعے کا مشورہ دیں گے، جو ان کے فکروفلسفہ سے روشناس کرادے؟
    • دو کتابوں کے مطالعہ کا، جن کا انگلش میں بھی ترجمہ ہوگیا ہے۔ ایک ھذا الدین، دوسری المستقبل لھذا  الدین۔ یہ بہترین تعارفی کتب ہیں۔ میں شروع میں معالم فی الطریق پڑھنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ اور اگر وہ فی ظلال القرآن کا مطالعہ کرسکتا ہو تو سب سے عمدہ۔ اس میں ایسے روشن مقامات ہیں، جن سے سیّدقطب کے منفرد اور عالی شان افکار پر روشنی پڑتی ہے۔ مشورہ دوں گا کہ وہ سورۂ فاطر کی دوسری آیت، سورۂ انعام کی۵۷ ویں آیت کی تشریح جو انھوں نے گیارہ صفحات میں کی ہے ، اور سورۂ نجم کی تشریح پڑھے۔