اکتوبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

موجودہ زمانے میں دعوت کے امکانات

ثروت جمال اصمعی | اکتوبر۲۰۲۰ | دعوت و تحریک

مسلمانوں کی تمام تر زبوں حالی کے باوجود ایک طرف ترقی یافتہ اقوام میں اسلام کی مقبولیت، دین فطرت کے اپنے اوصاف کی بنیاد پر مسلسل بڑھ رہی ہے اور دوسری جانب اللہ کے اس پیغام کو تمام دنیا کے انسانوں تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیے جانے والے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہستی ہیں،جن کے بارے میں قدیم مذاہب کے ماننے والوں کو خود ان کی مذہبی کتابوں میں کھلی خوش خبریاں دی جاچکی ہیں۔ اس بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ان کے لیے ہرگز اجنبی نہیں بشرطے کہ وہ اپنی مذہبی کتابوں کی ان گواہیوںسے پوری طرح واقف ہوں۔ ان حالات میں یہ سوال اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ یہ حالات دنیا کے مسلمانوں کو کیا مواقع مہیا کررہے ہیں اور ان میں ایک مسلمان کی حیثیت سے ان پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

آج دنیا میں انسانی تاریخ کے تمام گذشتہ ادوار کی نسبت ہدایت الٰہی کی قبولیت کے لیے فضا سب سے زیادہ سازگار ہے۔ ماضی میں انبیا علیہم السلام کی دعوت کی قبولیت میں جو اسباب بنیادی طور پر رکاوٹ بنتے تھے، جدید ترقی یافتہ دنیا میں ان میں سے کوئی باقی نہیںرہا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کے ابتدائی دور میں انکار خدا کا جو رجحان ابھرا تھا،جدید سائنسی تحقیقات نے اسے غلط ثابت کرکے اللہ کے وجود اور اس کی ہدایت کو تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ 

 توہم پرستی اور مظاہر فطرت کی پرستش کا خاتمہ

  انبیائے کرام کی دعوت کی قبولیت میںرکاوٹ بننے والا ایک بہت بڑا سبب توہم پرستی اور دیوی دیوتاؤں کو کائناتی اختیارات کا مالک سمجھنا تھا۔ توہمات کا یہ دور اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ آج کا انسان سائنٹفک عہد کا انسان ہے۔اب نہ وہ زمانہ نوحؑ کی طرح یغوث، یعوق اور نسر جیسے خودساختہ خداؤں کے فریب میں مبتلا ہے ، نہ لات و منات اور ہبل و عزیٰ کو خدائی اقتدار کا حامل سمجھنے کی حماقت کا شکار۔جادو ٹونے پر اعتقاد کی باتیں بھی پرانی ہوئیں اور شجر و حجر، آگ پانی، سورج چاند اور دوسرے مظاہر کائنات کی پرستش کا دور بھی لد چکا۔ آج کا انسان پیکرِ محسوس کا اتنا خوگر بھی نہیں رہا کہ موسٰی کے نظر نہ آنے والے خدا پر ، سامری کے دکھائی دینے والے بچھڑے کو ترجیح دینے لگے۔ انسان پر انسان کی براہ راست خدائی بھی اب ماضی کی بات ہے۔آج کا انسان نمرود اور فرعون ہی کی نہیں، اسٹالن اور ماؤزے تنگ کی خدائی کو بھی مسترد کرچکا ہے۔

آبا و اجداد کی اندھی تقلید اور روایت پرستی سے نجات

انبیا ؑ کے راستے میں دوسری بڑی رکاوٹ باپ داد ا کی اندھی تقلید کی روش بنتی تھی۔ دعوتِ حق کے جواب میں ان میں سے سبھی کو اپنی قوم کے لوگوں سے یہ جواب سننے کو ملتا تھا کہ  حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَـا عَلَیْہِ اٰبَـآ ئَ نَـا ط (المائدہ ۵: ۱۰۴)،یعنی ’’ہمارے لیے تو وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘‘۔ رسولوں کے تمام دلائل رَدّ کرنے کے لیے ان کے نزدیک بس   یہ حجت کافی ہوا کرتی تھی کہ ہم نے تو اپنے بزرگوںکو جو کچھ کرتے دیکھا ہے وہی ہم کررہے ہیں۔

قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ انبیا ؑکے راستے کی اصل رکاوٹ آباواجداد کی اندھی تقلید کا یہی روگ تھا، لیکن آج کی جدید ترقی یافتہ دنیا اس لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔روایت سے بغاوت کا ایک زبردست اور طاقت وَر رجحان عہد حاضر کا ایک نمایاں وصف ہے۔ یہ بظاہر ایک منفی جذبہ نظر آتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبولِ حق کی راہ کی ایک بڑی رکاوٹ دُور ہوگئی ہے۔اس طرح اشاعت ِاسلام کے لیے یہ رجحان ایک ایسی نعمت بن گیا ہے، جس کا ماضی کے ادوار میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

عقائد کی تبدیلی پر معاشرتی جبر میں نمایاں کمی

گذشتہ زمانوں میں رسولوں کی دعوت کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ معاشرتی جبر تھا۔ ماضی کے ان اَدوار میں کسی شخص کے لیے آبائی عقائد ترک کرکے انبیا ؑ کے پیش کردہ دین کو اپنالینے کا مطلب اپنے گردوپیش کو اپنے خون کا پیاسا بنالینا تھا۔اس ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے تپتی ریت یا دہکتے انگاروں کا بستر ہوتا تھا۔ لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں عقیدے کی تبدیلی ایسی کسی انتہائی صورت حال سے سابقے کا سبب نہیں بنتی۔امریکا، کنیڈا، یورپ، آسٹریلیا اور یورپ کے ممالک سمیت جاپان اور کوریا جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی قبولِ اسلام کے واقعات روز کا معمول ہیں، لیکن اس کی بنا پر عام طور سے کسی کو تشدد کا نشانہ نہیں بننا پڑتا۔آج کی دنیا میں انسانی اور جمہوری حقوق کی شکل میں جو آزادیاں لوگوں کو حاصل ہیں، ان کے باعث دعوت الی اللہ کے فروغ کے لیے ایسی حوصلہ افزا صورت حال پیدا ہوگئی ہے، جس کی کوئی مثال انسانی تاریخ کے گذشتہ اَدوار میں ڈھونڈی نہیں جاسکتی۔

 انکارِ خدا پر مبنی نظامِ زندگی کی عبرت ناک ناکامی

عہد حاضر اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میںانسان نے اپنی پوری تاریخ میں پہلی بار خدا اور خدائی ہدایت کی ضرورت سے کلی انکار کرتے ہوئے ، خالص الحاد و دہریت کی بنیاد پر زندگی کی پوری عمارت تعمیر کرنے کا تجربہ کمیونزم کی شکل میں کیا۔ لیکن اس تجربے کی ناکامی پوری دنیا پر اس شان سے ثابت ہوئی کہ کمیونزم صرف ۷۰ برس کی عمر پاکر دنیا سے رخصت ہوگیا، اور جس سرزمین پر اس کی پرورش و پرداخت ہوئی، آج وہی اس کا مدفن ہے۔ اس کی چتا کو آگ لگانے کے سارے لوازمات بھی اپنوں ہی کے ہاتھوں پورے ہوئے، لیکن ان میں سے کسی کی آنکھ بھی اس کی موت پر اَشک بار نہیں ہوئی۔ خدا اور خدائی ہدایت سے انکار پر مبنی اس نظام کی کھلی ناکامی سے بھی یقینا دعوت الی اللہ کی قبولیت کے لیے ماحول کی سازگاری میں قابلِ لحاظ اضافہ ہوا ہے۔

 خالق و مخلوق میں حائل پیرانِ کلیسا کا غیر مو ٔ ثر ہوجانا

انیسویں صدی میں سائنس انکار خدا کی علَم بردار تھی۔ اس لیے یورپ میں سائنسی تحقیق و ترقی کے عمل کو ابتداً کلیسا کی جانب سے اپنائی گئی انتہائی سفاکانہ جارحیت کے باعث سائنس داں روح فرسا مظالم کا نشانہ بنے۔ اس کے ردعمل میں سائنس مذہب سے باغی ہوکر الحاد کی علَم بردار بن گئی۔لیکن اس ظاہری شر سے جو بہت بڑا خیر برآمد ہوا وہ یہ کہ خالق و مخلوق کے بیچ سے پیرانِ کلیسا کے حائل کردہ پردے اُٹھ گئے۔مذہب کے نام پر اس طبقے نے اپنے مفادات کے لیے جو جو ڈھکوسلے ایجاد کیے اور بندے اور خدا کے درمیان جو جھوٹے واسطے گھڑ لیے تھے، لوگوں کا اُن پر سے اعتقاد و اعتبار ختم ہوگیا اور بندے کے لیے اپنے رب سے بلاواسطہ تعلق کی راہ کھل گئی۔  قوانینِ فطرت کے براہ راست مطالعے اور مشاہدے نے سائنس ہی کے ذریعے انسان کو خدا تک پہنچا دیا۔ چنانچہ وہی سائنس جو کبھی نام نہاد مذہبی طبقوں کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں دہریت کی وکیل بنی ہوئی تھی،آج تخلیق کائنات کے جواز کے لیے ایک خدا کے وجود کی پوری طرح قائل ہے۔

جدید سائنس خالق کائنات کے وجود کی معترف

جدید سائنس کے مسلّمہ قائد آئن سٹائن، خدا کو ایک سائنسی صداقت تسلیم کرتے ہیں۔ جدید سائنسی نظریات کے موضوع پر معروف کتاب ماڈرن سائنٹفک تھاٹ  میں سر جیمس جینز لکھتے ہیں:’’ جدید معلومات ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنے پچھلے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کرلیے تھے،یعنی یہ کہ ہم اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں آپڑے ہیں جس کا خود زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب ہم نے دریافت کرلیا ہے کہ کائنات ایک ایسی خالق یا مدبر طاقت کا ثبوت فراہم کررہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے‘‘۔

 انسانیت اعترافِ حق کی منزل پر

اس طرح آج پوری انسانیت اعتراف ِحق کی ٹھیک اُس منزل پر آپہنچی ہے، جس پر پوری انسانی تاریخ میں انبیا ؑ اس کو لانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن جس کی جانب وہ اپنے جاہلانہ عقائد، اوہام و خرافات، روایت پرستی، سیاسی و مذہبی طبقوں کے جبر ، اور آبا و اَجداد کی اندھی تقلید کے روگ کے سبب عالمی سطح پر اجتماعی حیثیت میں کبھی پیش قدمی نہ کرسکی۔مگر علمِ اشیا کی ترقی اور جدید تہذیب میں فکر کی آزادی نے آج انسان کو اِن تمام بیماریوں اور مجبوریوں سے نجات دلادی ہے، اور اب کائنات کے فطری حقائق کو مان لینا ، اس کے لیے انسانی تاریخ کے پچھلے تمام ادوار کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

 قرآنی طرزِ استدلال جدید سائنٹفک ذہن کے عین مطابق 

آج کا انسان، خصوصاً ترقی یافتہ دنیا کے لوگ سائنٹفک سوچ سے وابستگی کا دم بھرتے ہیں۔ اس صورت میں انھیں معروضی انداز میںحقائق و دلائل پیش کرکے قائل کیا جاسکتا ہے، اور اسلام کا اصل میدان ہی دلیل و برہان ہے۔خالق کی پہچان کے لیے مظاہر کائنات سے استدلا ل قرآنی طریقِ تفہیم ہے۔ مگر یہ بھی امرواقعہ ہے کہ بتوں اور انسانوں کی خدائی کو مسترد کرنے والے اسی انسان نے اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو اپنا الٰہ بنا رکھا ہے،اورقرآن کی رو سے یہ گمراہی کی انتہا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد یا تو کامل تباہی ہونی چاہیے یا خدا کی جانب انسان کی واپسی کا آغاز۔

قیامت سے پہلے خداپرستی کاعالم گیر عہد مقدر ہے

قرآن و حدیث کی واضح تصریحات کے مطابق بعثت محمدیؐ اور قیامت کے درمیان خدا پرستی کا ایک عالم گیر عہد مشیت الٰہی نے مقدر کررکھا ہے، جس میں دنیا کے اندر اللہ کے سوا  کسی کی عبادت نہیں کی جائے گی۔دین حق تمام ادیان پر غالب آجائے گا اور تمام انسانیت نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو متفقہ طور پر اپنا قائد اور رہبر تسلیم کرلے گی۔

انسانی دنیا جس رخ پر آگے بڑھ رہی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ایسی انسانی نسل کی تیاری کا عمل جاری ہے جو انفس و آفاق کی نشانیوں سے اپنے رب کو پہچان سکے، اور اس طرح اللہ کا وہ وعدہ پورا ہو جو اس نے صدیوں پہلے ان الفاظ میں کیا تھا :

عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا ربّ ہرچیز کا شاہد ہے؟ آگاہ رہو، یہ لوگ اپنےربّ کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔ سُن رکھو، وہ ہرچیز پر محیط ہے(حٰمٓ  السجدہ ۴۱:۵۳)۔

 بندگی نفس کے ہولناک نتائج  ، اللہ کے انتباہی اقدامات

فی الحقیقت دنیا کی موجودہ صورت حال زبان حال سے گواہی دے رہی ہے کہ آج کا انسان بندگیِ رب کی دعوت کو سننے اور سمجھنے کے لیے تاریخ کے پچھلے تمام ادوار سے زیادہ آمادہ ہے۔بندگی نفس کا جو روگ اسے لگا ہوا ہے،اللہ تعالیٰ کے انتباہی اقدامات نے اسے اس کے ہولناک نتائج سے پُرزور انداز میں خبردار کرنا شروع کردیا ہے۔

خاندانی نظام کا انتشار، مروجہ اقدار سے نئی نسل کی بے زاری، زندگی کے بے کیف ہونے کا بڑھتا ہوا احساس، ذہنی و نفسیاتی اور اعصابی امراض کی کثرت، فطرت سے انحراف کی سزا میں اس کی پیٹھ پر برسنے والا کوڑا، اور وبائی بیماریاں، غیرمنصفانہ اقتصادی نظام کے سبب معاشی عدم مساوات اور دوسرے متعدد عوامل، اسے اس کی بے راہ روی اور تعیش پسندی کے تباہ کن نتائج کا بھرپور انداز میں احساس دلارہے ہیں۔اس کے اندر اس صورت حال سے نجات پانے کی خواہش بھی بڑی شدت سے ابھر رہی ہے۔اس کی روح پیاسی ہے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہ پیاس کیسے بجھے گی؟ اس لیے وہ ایک عالم اضطراب میں ہے۔البتہ جہاں جہاں حکمت کے ساتھ اس کے تمام مسائل حل کرنے والا، اس کے ربّ کا پیغام اس تک پہنچ رہا ہے، وہاں قبول اسلام کی رفتار حیرت انگیز ہے۔

 دنیا کے موجودہ حالات اور خیر امت کی ذمہ داری

دنیا کے یہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ آج کی دنیا اسلام کی طلب گار ہے اور آج کا انسان پچھلی پوری انسانی تاریخ کے مقابلے میں اپنے ربّ کو پہچاننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔ قرآن کی رو سے مسلمانوں کو خیر امت جس بنا پر قرار دیا گیا ہے، وہ ان کے سپرد کیا جانے والا یہ کام ہے کہ ’’تم لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے اٹھائے گئے ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو‘‘ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰)۔ اس ذمہ داری کی مزید وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ ’’ اس طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر حق کے گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘۔ (البقرہ۲:۱۴۳)۔قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کسی خاص قوم کی طرف نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔

 اقوام عالم میں مسلمانوں کی اصل حیثیت داعی اللہ کی ہے

اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی حیثیت اقوامِ عالم میں وہی ہے جو ایک نبی کی ان لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، جن میں اسے مبعوث کیا جاتا ہے۔قرآن بتاتا ہے کہ نبی کا مقام داعی الی اللہ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے مخاطبین کو ہر نبی علیہ السلام نے جن الفاظ میں دعوت دی وہ یہ تھے کہ: يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ   اِلٰہٍ غَيْرُہٗ ۝۰ۭ (الاعراف ۷:۵۹)، یعنی’’ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو کیونکہ اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے‘‘۔

 مسلمان دوسری اقوام کے حریف نہیں خیرخواہ

ہر نبی اپنے مخاطبین کا بہترین خیرخواہ تھا۔انھیں دنیا اور آخرت کی بربادی سے بچالینے کی شدید فکر اسے لاحق رہتی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کا بیان قرآن میں یوں ملتا ہے: ’’اے نبیؐ! تم شاید اس غم میں اپنی جان کھودوگے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے‘‘ (الشعراء۲۶:۳)۔ اپنے منصب کے لحاظ سے مسلمانوں پر اقوامِ عالم کے ساتھ خیرخواہی کا یہی رشتہ استوار کرنا لازم ہے۔

 اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانا مسلمانوں پر فرض ہـے

ہم مسلمان جس نبی کی امت ہیں، اسے قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی بناکر بھیجا گیا ہے اور وہ نبی حجۃ الوداع کے موقعے پر اپنا پیغام دوسرے انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اپنی امت کے سپرد کرگیا ہے۔ اس پیغام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک بلاکم وکاست پہنچادیا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ حشر کے دن اللہ کے سامنے اس بات کی گواہی دیں گے کہ انھوں نے اللہ کے دین کو ہم تک پوری طرح پہنچادیا تھا اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس پر مکمل عمل درآمد کرکے ہمارے سامنے کامل عملی نمونہ پیش کردیا تھا۔ اس کے بعد خیر امت اور اُمتِ وسط کے قرآنی مناصب پر فائز انسانی گروہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں دنیا کی تمام اقوام پر اس حق کا گواہ بنایا جائے گا، جو نبی کریمؐ نے ہم تک پہنچایا ہے۔ ہماری جانب سے کوتاہی کی صورت میں دنیا کی دوسری قومیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گی کہ جن لوگوں کو یہ امانت ہم تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، انھوں نے اپنا فرض ادا ہی نہیں کیا، اس لیے ہماری گمراہی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ اس لیے یہ ایک نہایت سنجیدہ اور سنگین بات ہے، جس سے بہرحال ہر مسلمان کو سابقہ پیش آنا ہے۔

دائمی خسارے سے بچنے کے لیے چار لازمی امور

سورۂ عصر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات کسی ابہام کے بغیر بتادی ہے کہ دائمی خسارے اور تباہی سے بچنے کے لیے محض ایمان لانا اور ذاتی طور پر عمل کرلینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ توَاصَوْا بِالْحَقِّ اور تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ بھی لازمی ہے، یعنی جس حق پر ایمان لایا گیا ہے، دوسروں کو اس کی دعوت دینا اور اس کام میں پیش آنے والی مشکلات کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے۔

گلوبلائزیشن اور تواصو بالحق کے وسیع مواقع

’گلوبلائزیشن‘(عالم گیریت) کا عمل بظاہر سرمایہ دارانہ نظام کی ضروریات کی تکمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ کثیرالقومی ادارے دنیا بھر میں اپنی کاروباری سرگرمیاں زیادہ سے زیادہ تیزرفتاری سے جاری رکھ سکیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے اطلاعات کی فراہمی کے برق رفتار نظام نے در حقیقت جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر امت مسلمہ کے لیے انسانوں اور کائنات کے خالق کا آفاقی پیغام تمام انسانوں تک پہنچانے کے ایسے مواقع کھول دیے ہیں، جن کا چند عشرے پہلے تک تصور بھی مشکل تھا۔ اس کے ذریعے ایک انسان دنیا کے کروڑوں انسانوں تک تقریباً کسی خرچ کے بغیراپنی بات پہنچانے کے قابل ہوگیا ہے۔

جس خدا نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے اطلاعات رسانی کے انتہائی ناکافی وسائل کے دور میں اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورے عالم انسانی کے لیے مبعوث کیا تھا، ظاہر ہے اس مقصد کے لیے وسائل و ذرائع کی فراہمی بھی اس کے منصوبے کا حصہ تھی۔ نبی اکرمؐ کی بعثت کے لیے آپؐ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نے ڈھائی ہزار سال بعد محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کی صورت میں عملی شکل اختیار کی، تو ان کے آفاقی پیغام کو پوری انسانیت تک پہنچانے کے لیے برق رفتار ذرائع کی فراہمی اور اس پیغام کو سمجھنے کے لیے سائنٹفک ذہن کی حامل انسانی نسل کی تیاری میں ڈیڑھ ہزار سال کا وقت لگ جانا بھی کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ اللہ کے نظام کا ایک دن قرآن کی رو سے ہماری دنیا کے کم از کم ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔

 سارے انسانی نظام ناکام، اب اللہ کے نظام کی باری ہے

اس عرصے میں انسان نے مختلف نظاموں اور نظریہ ہائے حیات کے جو تجربے کیے ، وہ سب انسان کو امن اور چین عطاکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماضی قریب میں کمیونزم کی ناکامی کا مشاہدہ پوری دنیا کرچکی ہے اور اب سرمایہ دارانہ نظام آکسیجن ٹینٹ میں آخری ہچکیاں لے رہا ہے، جب کہ اسلام ، مسلمانوں کی تمام تر پسماندگی کے باوجود اپنی قوت اور اپنی خوبیوں کی بنیاد پر دلوں کو فتح کررہا ہے۔ بالخصوص عورتوں کے حقوق کے جس حوالے سے دنیا کی غالب تہذیب نے اسلام کو سب سے زیادہ مطعون کرنے کی مہم برسوں سے چلارکھی ہے، اسلام کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب عورتوں کے حقوق کا وہی معاملہ بن رہاہے۔ مغرب کی عورت مغربی تہذیب میں ملنے والے حقوق کو فریب اور اسلام کے عطاکردہ حقوق کو حقیقت قرار دے رہی ہے۔ اسلام جو روزِ ازل سے انسان کے لیے اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ نے اپنی حتمی شکل میں انسانوں تک پہنچایا ، وہ آج بھی شاداب و توانا ہے۔ اسلام کی حقانیت کا ایک واضح مظہر ہے۔ مادّیت پرستی کی بنیاد پر بنائے ہوئے انسانی نظاموں کی ناکامی گذشتہ چند عشروں میں بالکل عیاں ہوگئی ہے۔ یہ کیفیت قرآن کے اس بیان کے عین مطابق ہے : ’’اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے۔اورایسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں، جنھیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیزانسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے۔اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے‘‘۔(الرعد ۱۳:۱۷)

مسلمانوں کی جانب سے اجتماعی حیثیت میں شاہد حق، امت وسط اور خیر امت کے قرآنی مناصب کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کوئی منظم کوشش نہ کیے جانے کے باوجود اسلام پوری دنیا خصوصاً ترقی یافتہ قوموں میں جس حیرت انگیز رفتار سے پھیل رہا ہے،اس کے پیش نظر یہ بات یقینی ہے کہ اگر مسلمان شہادت حق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں حقیقی معنوں میں پوری کرنے لگیں، تو اس رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس بارے میں سوچنا اور عمل کی راہیں تلاش کرنا، ہر مسلمان کی انفرادی ذمہ داری بھی ہے اور بحیثیت امت دنیا بھر کے مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری بھی۔