اکتوبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

’قولِ حکیم‘

ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم | اکتوبر۲۰۲۰ | تزکیہ و تربیت

الْحَکِیْمِ ___ آخری کتابِ الٰہی کے متعدد ناموں میں سے ایک ہے جوسورئہ یونس کی پہلی آیت: الۗرٰ۝۰ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ۝۱  ، سورئہ لقمان کی دوسری آیت: الۗمّۗ۝۱ۚ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ۝۲ۙ ، اور سورئہ یٰسٓ کی دوسری آیت: يٰسۗ۝۱ۚ  وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ۝۲ۙ میں وارد ہوا ہے۔

الْحَکِیْم  کے تین معنی بیان کیے گئے ہیں: الْمُحْکَمْ ، پختہ ، بلاشبہہ۔ الْمُبِیْن کھلا ہوا۔ المُوَضّحَ ، واضح۔یہ تینوں معنی قرآن حکیم پر اس طرح صادق آتے ہیں کہ یہ کتاب لاریب اپنی آیات، تعلیمات، احکامات، مواعظ و نصائح ، امثال و عبِر، ہرحوالے اور پہلو سے حکمت و دانش سے لبریز ، ہر بات کو کسی اُلجھن ، جھجک اور مصلحت کے بغیرکھول کر، پوری وضاحت اور تفصیل سے بیان کرنے والی ہے۔ الۗرٰ ۝۰ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ  (ھود۱۱:۱) ’’ال ر، فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہیں‘‘۔

الْحَکِیْمِ ___اس کتاب کو نازل کرنے والے اللہ ذوالجلال والاکرام کا صفاتی نام بھی ہے۔ اس لیے اسے ’قولِ حکیم‘ قراردینا زیادہ اَنسب ہے۔ سورئہ ہود میں ارشاد ہوا: مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۝۱ۙ  (ھود۱۱:۱) ’’یہ قرآن صاحب حکمت و آگہی کی جانب سے ہے‘‘۔ سورئہ فصلت میں ارشاد ہوا: تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۝۴۲  (حٰمٓ السجدہ ۴۱:۴۲) ’’حمدوثنا کے سزاوار اور صاحب ِ حکمت کی طرف سے نازل کردہ ہے‘‘۔ سورۃ الجاثیہ اور سورۃ الاحقاف میں بیان ہوا: تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝۲ (الاحقاف۴۶:۲)، ’’اس کتاب کا نزول اللہ غالب و صاحب ِ حکمت کی طرف سے ہے‘‘۔

مفصل و محکم آیات، واضح تعلیمات، روشن حقائق، الہامی علوم و معارف اورقطعی ارشادات و احکامات پر مشتمل صاحب ِحکمت و تدبیر، صاحب ِ تحمید و تمجید ، صاحبِ قوت و اختیار، صاحب ِ غلبہ واقتدار، صاحب ِ علم و آگہی ، مالکِ عرش و اَرض، خالق و مدبر و منتظم و متصرفِ کائنات، ربِّ جِنّ و انس، ربِّ عالمین، ربِّ مشرقین و مغربین کی جانب سے نازل کی جانے والی کتاب بلاشبہہ اور یقینی طور پر سرچشمۂ حکمت و دانش ’کتابِ حکیم‘ ہے۔ جو نہ شاعرانہ تخیل ہے، نہ لفظوں کی جادوگری، نہ کاہنوں کی لفاظی، نہ نثرنگاروں کا لفظی کمال، نہ دانش وروںکے تجاربِ حیات، نہ جادوٹونے کی کتاب، نہ وظیفوں، چلّوں،دُعا و مناجات کا مجموعہ، نہ تاریخ کےعبرو مواعظ کا خزینہ اور نہ محض کچھ لفظوں، پاروں، سورتوں سےبھرے اوراقِ مقدّسہ کا بے کیف و سُرور ، بے معنٰی و مطلب اور بے نتیجہ و ثمر، بے سندوحوالہ محض ایک کتاب، دیگربےشمارکتابوں کی طرح۔ یہ تو سب کتابوں کی سردار، سب سے جدا، سب سے منفرد، سب کی حکمتوں کا ماخذ، منبع و مصدر و مرجع ہے۔ اسی لیے یہ الْکِتٰبْ   قرار دی گئی، بلکہ اُمُّ الْکِتٰبْ  کے نام سے بھی موسوم ہوئی۔

قرآنِ حکیم ___ ہرعہد کے انسانوں کے تصورات، اندازوں اوررویوں کے یکسرعلی الرغم حکمت و دانش کا مُرقّع، نصیحت کا مؤثر و بلیغ شاہکار، علوم و معارف کا بحرِ ذخّار، حقائق و مظاہرِ قدرت کا راہنما، قلب و نظر، روح و فکر،عقیدہ و عمل کا مرکز و محور ہے۔ دنیا وآخرت کی صلاح و فلاح اور نجات کاضامن ہے۔ نظامِ حیات کے ہرپہلو کا مُرشد و مُقتدا، ہرجسمانی وروحانی ضرورت، ہرفکری وعملی اُلجھن کی سُلجھن، ہرعہد اور ابناےانسانی کی ہمہ جہت ضرورتوں کا کفیل ہے۔

قرآنِ حکیم ___ اس امر کا واضح اعلان اور اس حقیقت کا روشن اظہارہے کہ بندگانِ خدا کےپاس موجود علم و آگہی، شعور و حکمت،دانش و مہارت سب کچھ ہیچ اور نامکمل اور محض ایک انتہائی قلیل حصہ ہے اُس حکمت و دانش کے مقابل ، جو صاحب ِحکمت خداے لم یزل نے کتاب ِ حکمت، قرآنِ حکیم کی صورت میں انسانیت کو عطا کی۔ اُن کے پاس آسمان کی بلندیوں، زمین کی پنہائیوں، سورج و چاندکی تسخیر، ہواؤں، فضاؤں اورسمندر کی لہروں پر تسلّط اور ذرّوں کو ہولناک قوتوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کےدعوے اور مظاہر، قسم قسم کے بے شمار علوم و فنون سب محدود، نامکمل اوربے کار ہیں۔ اگروہ کتابِ علم و حکمت کے اس اَزلی و اَبدی سرچشمۂ ماضی سے مربوط اور اس کے زیراثر نہ ہوں، اورانسان کو اپنی ذات، مقام و مرتبت، فرائض و حدودِ کار کے شعورسے آگاہ و خبردارنہ کریں اوراس کا تابع بناکر طاقتوں کے واحد مرکز اپنے خالق و مالک اورپالنہار، محسن و مُنعم سے مربوط اور اس کے سامنے سربسجود ہونےپر مجبورنہ کردیں، اوراُسی کے بندوں کو معبودِ حقیقی و اصلی، معبودِواحد کی بندگی کی چوکھٹ پرلاکھڑا کرکے بے بندگی کی ذلّت، شرمندگی اوراَبدی ہلاکت، بربادی، تباہی اورخُسرانِ عظیم سے محفوظ نہ کردیں۔

اس ’کتابِ حکیم ‘ اور’قولِ حکیم‘ کے مہبط، معلّم اور مُبلّغ، مُفسِّر مُبین اور شارح صاحب ِ حکمت اللہ عزوجل کا وہ فرستادہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے، جس سے بڑا حکیم و دانا، نہ کبھی پیدا ہوا ، نہ ہوسکے گا۔ جس کی حکمت و دانش کے سارے حوالے اورناتے وحی الٰہی کے سلسلوں پرمبنی اور منبع علم و حکمت سے مسلسل مربوط تھے، جس نےفرائض منصبی کے پہلے تعارفی اورکلیدی نکتے کے طورپر اقرأ کے   حکمِ الٰہی کے ذریعے علم کو اختیار کیا اور اس علم و حکمت کے فروغ کولائحہ عمل بنایا۔ وہ معلّم کتاب و حکمت کہلایا۔

کتابِ حکمت، قرآنِ حکیم نے اس کا تعارف اور فرائض رسالت کو یوں بیان کیا: یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ  وَالْحِکْمَۃَ  ج (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)۔ وہ لوگوں کو حکمت اور کتاب کی تعلیم دیتا ، اوراُن کی زندگیوں سے بے حکیمانہ، جاہلانہ، مفسدانہ نظریات، افکارو اعمال کو اُکھاڑ پھینکتا ہے۔ اس ظلمت و جہالت کے نتیجے میں غیرحکیمانہ رویوں، طریقوں، پابندیوں اور بوجھوں کو اُتارکر روشنیوں سے ہمکنار کرتا ہے: يَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (اعراف ۷:۱۵۷) اور يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ۝۰ۭ (البقرہ۲: ۲۵۷)۔

وہ ہستی(صلی اللہ علیہ وسلم) جس کے بطورِ رسول تقرر کے اعلان و تصدیق کے لیے سرچشمہ و حکمت ___ کتابِ حکمت کی قسم کھائی گئی: يٰسۗ۝۱ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ۝۲ۙ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝۳ۙ (یٰسٓ ۳۶: ۱-۳) ’’یٰس،قسم ہے قرآنِ حکیم کی کہ تم یقینا رسولوں ؑ میں سے ہو‘‘۔ یہ محض ائمہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفعت ِ شان،عُلُوِّ عظمت، شکوہ حُسن و جمال، پاکیزگی و کردار، اعلیٰ نسبی اوربے شمار ذاتی و صفاتی خصائص کے بجاے سلسلۂ حکمت سے جوڑا اور اسے منصبی فرض قرار دیا۔

اس داعی و مُبلّغ حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کواس کتابِ حکمت کی تشریح و توضیح کا ذمہ دار بناکر،  عَلٰی  صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ،بالکل درست، سیدھی اور بَرحق راہِ ہدایت و نظامِ حیات کا راہبر و راہنما قرار دے کر انسانیت کے لیے تاقیامت اسوئہ کامل ، اسوئہ حسنہ اور واجب الاتباع بناکر شریعت و رسالت کا حرفِ آخر ٹھیرایا گیا۔ اس کی اطاعت و محبت کو دُنیا و آخرت کی کامیابیوں کاواحد ذریعہ بتایا گیا۔

اس کتابِ حکمت، مجمع حکمت، صراطِ حکمت اور صاحب ِحکمت رسولؐ کی نسبت اجرا و اِصدار، الْعَزِیْزِ الرَّحِیْم ، غالب و مہربان ربّ کی طرف کی گئی، تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ ۝  (یٰٓس ۳۶:۵)۔

اس رسولِ حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب، اس کی توضیح و تبیین طے کر دیا گیا کہ یہ نازل کرنے والے حکیم ربّ کی حکمت و علم کا تقاضا تھا: وَيُبَيِّنُ اللہُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝۱۸ (النور۲۴:۱۸) ’’اللہ تمھیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے‘‘۔

اس کتابِ حکیم میں موجود اور رسولؐ کو عطا کردہ حکمت ِ الٰہی کے سرچشموں اور وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہونے والی حکمت و دانش کی تبلیغ کے مراحل کار طے کر دیے گئے۔ یَتْلُوْا  عَلَیْھِمْ اٰیٰــتِہٖ۔ زبانِ جبرائیل ؑ کے ذریعے صدرِ رسولؐ تک پہنچائے جانے والے قرآن کی کسی کمی بیشی، تغیروتبدل، ترمیم و اضافے کے بغیر انسانوں تک منتقلی بذریعہ تلاوتِ آیات۔پھر اُن کے نفوس کی پاکیزگی، فکری و عملی طہارت کے اقدامات، تزکیہ و تربیت کے ذریعے، وَیُزَکِّیْھِمْ۔ ذہنوں اور دلوں کی آمادگی کے بعد يُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ (ال عمرٰن ۳:۱۶۴)، کتاب حکمت کےعلوم و معارف اور حکمتوں کا بیان اورحکیمانہ رویوں، کردار،اخلاق،اوصاف،اعمال سے آگہی کا مربوط و مسلسل کارِنبوت۔  بندگانِ خداے حکیم و خبیر پر پروردگار کی نعمتوں اور احسانات کی تکمیل کا بڑا مظہر۔ اُن کی تعلیم، سرچشمۂ حکمت کے اصولوں، ضابطوں کے مطابق۔ گویا فرائض رسالت کا ہرحوالہ، ہرراستہ، ہربنیاد حکمت ودانش کے ساتھ مربوط ومستحکم کردیا گیا۔ واضح اعلان ہوا: وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ۝۶  (النمل ۲۷:۶) ’’اور(اےنبیؐ) بلاشبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پارہے ہو‘‘۔

حکمت و دانش کا یہ حوالہ ، یہ نسخۂ کیمیا، یہ راہنما ،یہ مصدرو منبع اور مرجع___ قرآنِ حکیم کے سوا اورکچھ نہیں، جو معلم کتاب و حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکیمانہ انقلاب کا بنیادی ہتھیار، ترجیح اوّل اورحتمی ہدف تھا۔ جس نے اِقْرَاْ کے ذریعے اس سرچشمۂ حکمت، ربّ کائنات سے متعارف و مربوط کیا، جس نے قلم کے ذریعے علم و حکمت کو فروغ دیا___  اِقْرَاْ  بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۝  (العلق ۹۶:۱) اور عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝   (العلق ۹۶:۴)___  اور انسانیت کو سلسلۂ علم و حکمت کے بنیادی آلات و اوزار___  قلم و قرطاس___  کے ساتھ جوڑدیا۔

سورۃ النساء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و تدبر اور اس کے مصادر پر مُہرتصدیق ثبت کر دی گئی۔ وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۝۰ۭ (النساء: ۴:۱۱۳) ’’اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمھیں معلوم نہ تھا‘‘۔ آپؐ کو کتاب و حکمت بھی عطا کی گئی، حکمت کے سب زاویے اور پہلوبھی آشکار کیے گئے اور کائنات کی وہ ساری حقیقتیں عیاں اورمعلومات فراہم کردی گئیں، جو فرائضِ رسالت کی ادایگی کے لیے ضروری اور ربِ علیم و حکیم کےعلم و حکمت کاپرتو اور تقاضا تھا۔

بندگانِ خدا کی حیات و ممات اور دُنیا و آخرت کے لیے تین فیصلہ کن اور مؤثر و غالب کردار___  اللہ، رسولؐ اورکتاب___  طے ہوئے اور ’حکمت‘ اِن کا مشترک حوالہ اوراَصل قرارپایا۔ اور یہی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ قرآن کا ۲۳سالہ الٰہی طریقہ اور اس کی تعلیم، تبلیغ اور تنفیذ کا لائحہ عمل ٹھیرایا گیا۔ معلم کتاب و حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا: اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل ۱۶:۱۲۵)،’’اے نبیؐ! اپنے ربّ کےراستے کی طرف دعوت دو حکمت اورعمدہ نصیحت کےساتھ‘‘۔ حکمت، نصیحت، دعوت اورفکری وعملی تغیر و تبدل کا تدریجی وارتقائی عملی نمونہ بھی اِسی حکمت کا ۲۳سالہ مظاہرہ بن کر داعیانِ حق کے لیےراہنما اُصول بن گیا۔

’حکمت‘ انسانیت پربہت بڑی نعمت ِ خداوندی ہے۔یہ حکمت کسے اور کتنی دینی ہے؟ اور اس سے کیا نتائج اخذ کرنے ہیں؟ یہ حکیمِ کبیر، علیم و خبیر، عزیز و رحیم کی اپنی صواب دید ہے، مگر یہ حقیقت ظاہر و کائنات پرغالب ہے: وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۶۹)، جسے ’حکمت‘ جب ، جتنی اور جس مقصد کے لیے عطا کی گئی ، دراصل اُسے دُنیا جہان کی سب سے بہتر، قیمتی، مفید، مؤثر،فیصلہ کن نتائج، بھلائیوں، کامرانیوں اورعظمتوں کی کنجی عطا کردی گئی۔

اللہ ربّ العزت نےاپنی حکمت و مشیت کے تحت اوّلاً اپنے انبیاؑ و رُسلؑ کو ’حکمت‘ عطا کی۔ یہ اپنےاپنے عہد کے خیرالخلائق، پاکیزہ، خدا کے مقرب ترین اورتااَبد انسانیت کے لیےمقتدا و راہنما ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر نیک اورپارسا لوگوں کو بھی حکمت کی دستارِ فضیلت سے نوازتا رہا ہے اور اُن کے اقوالِ حکمت اورطریق حکمت کو کتابِ حکمت ’قرآنِ حکیم‘ میں ذکرکرکے اُنھیں اَمر کردیا۔ حضرت لقمانؑ جو اغلباً پیغمبرنہیں تھے مگر حکمت الٰہی کےوصول کنندہ ہوئے۔ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَۃَ (لقمٰن ۳۱:۱۲)’’ہم نے لقمان ؑ کو حکمت سے نوازا‘‘۔ یقینا یہ اللہ ہی ہے، جو حکمت بھی دیتا ہے اور اُس راہِ حیات کے انتخاب اور افکار و اعمال کا شعوربھی عطا کرتاہے اور پاکیزہ و قائدانہ کردار کی مسند تک پہنچاتا اور حکمت سے بہرہ مند ہونے والوں کو انسانیت کا راہنماقرار دیتا ہے، جو حکیمانہ فکروعمل کا لازمی نتیجہ ہے۔ جس علم و حکمت سے یہ نتائج حاصل نہ ہوں، وہ نہ علم ہے، نہ حکمت۔

اگر بنظر غائر دیکھا جائے، تو ’حکمت‘ تو ہرذی نفس کو کسی نہ کسی صورت اور مقدار میں ضرور ملتی ہے۔ بالخصوص انسان اس حکمت و تدبر سے کام لے کر اپنی معاش کا خوب اہتمام کرتا ہے، مگرحکمت ِ رسالت و نبوت سے اِعراض کرکے اپنی معاد (آخرت) کا سامان نہیں کرپاتا۔ اس طرح غیرانسانی مخلوق کو بھی اتنی حکمت و صلاحیت ضرور دی جاتی ہے، جس سے وہ کم از کم اپنی خوراک حاصل اور اسے استعمال اور اپنے مالک کی تابع داری کرسکیں، مگر اللہ نے اِن غیرانسانی مخلوقات کو عطا کردہ حکمت کے نتیجے میں اُنھیں نہ کوئی اختیاردیا ہے، نہ اپنی بندگی کا شعوری پابند ہی بنایا ہے۔ اُن کو حاصل حکمت محض محدود و معدود مقاصد کے لیے ہی ہے۔ البتہ انسان کو حکمت ِ الٰہی ، حکمت نبوی اور حکمت ِ قرآنی کے ذریعے بہت سے تقاضوں کا مکلف ٹھیرایا ہے۔ ان کےدو بڑے مقاصدو تقاضے بتائے گئے ہیں۔

سورہ لقمان میں پہلا تقاضا بیان ہوا: وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَۃَ اَنِ اشْكُرْ لِلہِ۝۰ۭ  (لقمٰن۳۱:۱۲)’’ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کاشکرگزارہو‘‘۔ اللہ کی شکرگزاری کا لازمی اورمستقل رویہ و معمول، بے حدوحساب، بے شمارنعمتوں جن کا ذکرو شمار انسانی حد سے یقینا باہر___  وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا۝۰ۭ (ابراہیم ۱۴:۳۴)۔ انسان کی تخلیق، تجسیم، تصویر، تشکیل ، عقل، شعور، آگہی، تعلیم، ربوبیت کے جملہ تقاضوں کی تکمیل، خیروشر کی تمیز، غلط اور صحیح کی صلاحیت ِ تفریق، قوتِ فکر، طاقت ِ اظہار، مرضی اپنانے کی آزادی، زندگی گزارنے کے لیے ہرعمر، ماحول،مزاج کے موافق بے شمار نعمتیں، وسائل، مواقع اور عیش و عشرت کے سارے سامان، ہدایت و ضلالت کے سب راستوں کا شعور اور ردّ وقبول کا اختیار۔ اور ان سب نعمتوں میں سب سے بڑی، جامع، کامل، اَتم و اَہم نعمت، زندگی گزارنے کا درست طریقہ، عزّت و عظمت کا راستہ، صلاح و فلاح کاضامن ضابطہ، دین اسلام، دین ہدایت، دین حکمت، دین فطرت،دین یُسر۔ ہرپہلو سےواضح،روشن اورمکمل۔ ایک کتاب ِ حکمت کی محفوظ، جامع، مفصل اور واضح آیات و تعلیمات کے ساتھ ایک رسولِ حکمت کے اُسوہ وسیرت کےذریعے حق و باطل کو واضح کرتے ہوئے اِنذار و تبشیر، تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ، تدریج کے حکیمانہ اُسلوب، نصیحت و موعظت کو طریق کار بناکر، کسی جبرواِکراہ کے بغیردعوتِ اِلَی الحق، دعوتِ اِلَی اللہ، دعوت الی الخیر، دعوتِ اِلَی المغفرۃ ،دعوت اِلَی النجاۃ، دعوت اِلَی الفوز والفلاح، دعوتِ اِلَی الخیر والابقٰی اور دعوتِ اِلَی السلم کافۃ ، دعوتِ اِلَی الجنۃ اوردعوت اِلَی العتق من النار کے منبع و مصدر و معطیٔ حکمت، دین حکمت، کتابِ حکمت ، رسولِؐ حکمت کی طرف رہنمائی کی نعمت عظمیٰ و کبریٰ پر شکرگزاری، تسلیم و رضا، اطاعت و وفاکے ذریعے حکمت کے اس بلیغ، اعلیٰ اور انتہائی مطلوب و مقصود درجے حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ تک پہنچنا ہے، جو اتمامِ حجت کا مظہر اور اس کے لیے کافی اور حتمی حد ہے۔

اس حکمت کا دوسرا تقاضا کائنات اور مظاہر قدرت اور حکیم و علیم و خبیر کے افعال و احکامِ حکمت پرغوروتدبرہے۔ کتاب ِ حکمت ___ قرآنِ حکیم ___ اَوَلَمْ  یَرَوْا ،اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا ، اَوَلَمْ  یَتَدَّبَّـرُوْا، اَوَلَمْ  یَتَفَکَّرُوْا  ، اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا   ، ترغیبات و تنبیہات و احکامات کے ذریعے اس حکمت آمیز دین اور اس کے احکام کی طرف متوجہ کررہی ہے، مگر اُسے جواس پرایمان لائے صدقِ دل سے، اس کے ہرحرف، لفظ ،حکم کوتسلیم کرے اور روشنی و ہدایت طلبی کے لیے اس میں غوطہ زن ہو۔اپنے دل کےقفل توڑ کر، جہالت کی عصبیتوں کے حصار سے نکل کر اور ظلمتوں کے اندھیروں اور خودساختہ رسوم و قیود کی بیڑیاں توڑ کر ظلمات سے نُور کے اُجالوں کی جانب سفرکا آغاز کرے اوراس پر مُدام چلتا رہے۔ اپنےدائمی نفع و ضرر کا شعور حاصل کرے۔قدرت کے مظاہرکا مشاہدہ کرکے، اس کی نشانیوں کا مطالعہ کرکے اپنی فطرتِ سلیمہ سے آشنائی حاصل کرے۔ اپنے مقصدِ حیات کااِدراک کرے، اپنے ربّ، محسن و منعم حقیقی کو پہچانے۔ مظاہر قدرت و فطرت میں حکیم اعلیٰ و بالا کی حکمت کی نشانیاں تلاش کرے۔ فِعْلُ  الْحَکِیْمِ  لَا یَخْلُوْ  عَنِ  الْحِکْمَۃِ کہ اُس دانا و بینا کا کوئی کام حکمت ودانش سے خالی نہیں۔ بے مقصدیت اورافراط و تفریط کاشکار ہے، نہ عدم توازن سے دوچار۔بندگانِ خدا پرلازم ہے کہ حکمت الٰہی کےاس مشاہدہ و مطالعہ کے نتیجے میں کائنات کے تمام شاہ کاروں کو حکمت الٰہی کی تصویروں اور دلیلوں اور اُس کی کارفرمائی کی شہادتوں کےطورپر قبول کرے، اور زندگی کے غلط راستوں،ضابطوں اورطریقوں کےانتخاب میں گمراہی سے محفوظ ہوجائے۔

اللہ و رسولؐ اور الکتاب کی حکمت کا لازمی نتیجہ ’صراطِ مستقیم‘ ہے، جو بندگی کےمکمل اورلازمی اظہارکے طورپرقبول کیا جانا شکرگزاری کا واحدذریعہ ہے۔ یہ صراطِ مستقیم بندگانِ خدا کو اپنے فرائض، دوسروں کے حقوق، دُنیا میں ذمہ داریوں کے تعین، ان کی ادایگی کے طریق، روحانی و اُخروی سعادت اور برتری کے سلسلوں کے تتبع کے ذریعے کامیابی و کامرانی اورفوزِ مُبین و عظیم کی منزلِ مراد تک پہنچاتا ہے۔ جس کے بارے میں منبع حکمت نے فرمایا: اَنَّ  ھٰذَا  صِرَاطِیْ مُسْتَقِیـْمًا  ،فَاتَّبِعُوْہُ اور جس کی طلب کی بنیادی دُعا بندگانِ خدا کو سکھائی گئی: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۔ یہی راستہ اللہ کے محبوب بندوں کا راستہ ہے، جنھیں وہ بےپناہ نعمتوں اور سعادتوں، عزّتوں، عظمتوں سے نوازتا ہے۔ حکمت ِ قرآنی سےباغی علم و شعور اور حکمت و دانش کی خودفریبی،بلاشبہہ جہالت وذلّت کا راستہ ہے۔ جو حکمت کے یکسرمخالف بلکہ اس سے متصادم ہے اوراللہ کے غضب کاشکار ہونےوالوں کا طرزِعمل۔

رُشد و ہدایت اورسلامتی فکروعمل کے اِن تینوں منابع و مراکز نے اس ’حکمت‘ کو اختیار اورخودپرلازم ٹھہرانے والوں کو حکمت و دانائی کےہرسرچشمے کا وارث و حق دار اوراہل قراردےکر اسے لازماً اختیارکرنے اورمَہدسے لحد تک اکتسابِ علم و حکمت کرتے رہنے کا حکم دیا۔ الْحِکْمَۃُ  ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ  ،’’مومن کی گم شدہ میراث یہی حکمت ہے‘‘۔ اس پر لازم ہے کہ ان تینوں اساسی مصادرو منابع سے وابستہ رہتے ہوئے،ان ہی کے زیراثر ہر سرچشمہ تک رسائی حاصل کرے۔ یہ ہر مردوزن پربالخصوص اسلام کے حلقہ بگوش ہونے والوں پرفرض و واجب ہے۔ جہاں سے بھی، جس صورت میں حکمت و دانائی کا کچھ بھی حصہ ملے، وہ اُسے اپنی گم شدہ میراث سمجھتے ہوئے، اُچک لے، حاصل کرلے اور اپنی جبینِ فضیلت پر حکمت کا ہرروشن چراغ اور دانش کے تاج سجا کر اپنےماتھے کا جھومر بنالے، مگراس یقین،اعتماد اورحقیقت کے اعتراف کےساتھ کہ حکمت کے یہی تینوں سرچشمے ہیں۔ واجب القبول اورصلاح و فلاح کے ساتھ دُنیاو آخرت کی ہرعظمت کے ضامن___ ’ذاتِ حکیم‘ ، ’رسولِ حکیم‘ اور’ قولِ حکیم‘۔