ستمبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اہلِ خانہ کی تربیت اور تقاضے

پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی | ستمبر ۲۰۲۱ | تزکیہ و تربیت

يٰٓاَ يُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (التحریم۶۶:۶) اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائو جس کے ایندھن انسان اورپتّھر ہوں گے۔

اس آیت میں مومنین کو ایک انتہائی ا ہم ہدایت ( جس پر انسان کی حقیقی کامیابی کا دارو مدار ہے) دی گئی ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو نارِ جہنم سے بچانے کی فکر و کوشش کرنا۔ بلاشبہہ جہنم سے بچ جانا اور جنت نصیب ہونا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے ،جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے:

 فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ  (اٰل عمرٰن۳: ۱۸۵) جو جہنم سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہی (حقیقی معنوں میں) کامیاب ہوا۔

ظاہر ہے کہ جنت نصیب ہونا منحصر ہے روز مرہ زندگی میں اللہ رب العزت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلصانہ اطاعت پر ۔ اہلِ ایمان کے لیے آیت کا پیغام بہت ہی واضح ہے کہ وہ حکمِ الٰہی و سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اپنے حالات سدھاریں ، زندگی کے ہر شعبے میں دین کے تقاضوں کو پورا کریں، اور اسی طور پر اپنے گھر والوں کی اصلاح کے لیے پور ی کوشش کریں۔ اس آیت کے نزول پر حضرت عمر ابن خطابؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! اپنے آپ کو کیسے جہنم سے بچائیں، یہ تو سمجھ میں آگیا ( کہ احکامِ الٰہی پر عمل کریں اور گناہوں سے دُور رہیں )، مگر ہم اپنے اہل و عیال کو کس طرح جہنم سے بچائیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ وہ اس طر ح کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جن کاموں سے منع فرمایا ہے ، اہل وعیال کو ان کاموں سے منع کرو ،اور اللہ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان کے کرنے کا انھیں حکم دو تو یہ عمل ان کو جہنم کی آگ سے بچائے گا (روح المعانی، ج۲۸،ص ۱۵۶)

 صاحبِ تفہیم القرآن نے اس آیت کی تشریح میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ اپنی ذات کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے،بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ جس خاندان کا وہ سربراہ ہے اس کو بھی ممکن حد تک ایسی تعلیم و تربیت دے کہ وہ احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرنے والا بن جائے، تاکہ اللہ رب العزت اس سے راضی ہو جائے اور وہ جہنم سے بچ جائے (تفہیم القرآن، ج۶،ص ۲۹-۳۰، حاشیہ ۱۶ ) ۔

  • نیکی و خیرخواہی کی تاکید: قرآن کریم میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ’خیراُمۃ‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ شرف و اعزاز مَر تبت ہے ایک بہت بڑی ذمہ داری ( یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر)سے (اٰل عمٰرن۳: ۱۱۰) ۔  سورئہ توبہ کی آیت۷۱ میں مومن مردوں اور عورتوں کے امتیازی اوصاف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے باہم رفیق ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی کے پابند ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت میں سر گرم رہتے ہیں ۔ اس آیت سے یہ نکتہ اخذ ہوتا ہے کہ رفاقت و دوستی ا ور بھائی چارگی کے تقاضے میں سے یہ ہے کہ ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دی جائے اور بُرے کام سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ مزید برآں حدیث میں دین کو سراپا ’نصیحۃ‘ ( خیر خواہی) سے تعبیر کیا گیا ہے : الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ (صحیح مسلم، کتاب الایمان) ۔ اس سے بڑھ کر کسی کی خیرخواہی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے نیکی کی راہ پر چلانے اور برے کاموں سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے۔ سورۃ العصر ایک مختصر لیکن جامع ترین سورہ ہے ۔ اس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کس کو حقیقی کامیابی نصیب ہوگی اور کون خسرانِ عظیم سے دوچار ہوگا؟ اس کے مطابق وہ لوگ خسران سے محفوظ رہیں گے جو ایمان و عملِ صالح کے ساتھ ’تواصی بالحق‘ اور’تواصی بالصبر‘ سے شغف رکھتے ہیں۔

مولانا عبد الباری ندوی اس سورہ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’ انسان کو بحیثیت مجموعی خسران سے بچانے کے لیے صرف کچھ افراد کا اپنی اپنی جگہ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ   کا حق ادا کر کے مومنِ صالح بن جانا کافی نہیں ، بلکہ ایمان و عمل صالح کی اس حقّانی زندگی کو پوری نوع انسانی میں پھیلانے اور پیدا کرنے کے لیے آپس میںایک دوسرے کو اس کی فہمایش و تاکید کرتے رہنا بھی لازم ہے ‘‘( قرآن کا دو آیاتی نظامِ صلاح و اصلاح، ۲۰۰۹ء، ص ۱۰۶)۔

  • اہلِ خانہ کی اصلاح :زیر مطالعہ آیت میں اپنے ’ اہل‘ کو نارِ جہنم سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے، یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ ’اہل‘ کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لفظ ’اہل‘ سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس آیت کے علاوہ دیگر متعدد آیات میں یہ لفظ آیا ہے اور مختلف معانی (بیٹا، اولاد، بیوی، افراد ِ خانہ ،گھر والے، اہلِ خاندان) میں استعمال ہوا ہے۔ ان سب آیتوں پر غور وفکر کا ما حصل یہ ہے کہ اس کا عمومی اطلاق ان تمام افرا د پر ہوتا ہے جو ایک ساتھ کسی گھر میں رہتے ہیں ۔ اُردو میں اس کی جامع و عام فہم تعبیر ’ گھر والے/ گھر والوں ‘ سے کی جا تی ہے۔ اہم بات یہ کہ بیش تر اردو مترجمینِ قرآن نے ’اہل‘ کا ترجمہ گھر والوں یا اہل و عیال کیا ہے۔ اور بعض مفسرین کی رائے میں’اہل‘ کے دائرہ میں غلام، مستقل ملازمین و خادمین کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے (معارف القرآن، ج۸، ص ۵۰۲) ۔ بہر حال ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ ہو یا’تواصی بالحق‘، اس ذمہ داری کی انجام دہی سب سے پہلے اپنے گھر والوں کی نسبت سے مطلوب ہے۔

اسی ضمن میں یہ بات بھی لائقِ توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں اپنے کو او ر اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچانے کے لیے ’ امر‘ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے،یعنی تاکید کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس نے اس کام کو فرض کا درجہ دے دیا ہے۔ مقصود یہ کہ ا پنی اور گھر والوں کی اصلاح کے لیے کوشش محض مطلوب نہیں ، بلکہ ضروری ہے۔ آیت میں جہنم کی آگ کے بھڑکنے کے ذرائع ذکر کر کے اس کام ( نارِ جہنم سے بچانے) کی ضرورت و اہمیت کو اور بڑھا دیا گیا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس سے بڑھ کر ضروری و اہم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو حقیقی کامیابی سے ہم کنار کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ اس آیت کی تشریح میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے بجا تحریر فرما یا ہے : ’’ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے اسے اٹھائے نہ رکھے۔ جب بھی دیکھے کہ ان کے اندر اللہ کی شریعت سے بے پروائی راہ پارہی ہے،فوراً اس کے سدِّ باب کی فکر کرے‘‘(تدبر قرآن، ج۸، ص۴۶۹)۔

جب یہ آیت وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ (الشعراء :۲۶:۲۱۴) نازل ہوئی ( یعنی آپؐ کو اپنے قبیلہ و خاندان کے لوگوں کو علانیہ انذار کا حکم ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلۂ قریش کی تمام شا خو ں کے لوگوں کو جمع کیا اور ایک ایک شاخ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو، میں ( روزِجزا) تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا۔آخر میں حضرت فاطمہؓ سے ان الفاظ میں مخاطب ہوئے : وَ یَا فَاطِمَۃُ  بِنْت مُحَمَّد! سَلِیْـنِیْ مَا شِئْتِ  مِنْ مَالِیْ ،لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللہِ  شَیْئًا (صحیح   بخاری،کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء باب وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) ’’اے محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ! تم بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو، میرے پاس جو کچھ مال ہے اس میں جو چاہو لے سکتی ہو،لیکن( یاد رکھو کہ) میں قیامت کے دن اللہ کے مقابلے میں تمھارے کچھ کام نہ آسکوں گا‘‘۔ حقیقت یہ کہ گھر والوں کی تذکیر اور انھیں نارِ جہنم سے بچانے کی راہ میں کوشش کی نسبت سے اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہم سب کے لیے بڑی عبرت و نصیحت ہے اور ان مختصر جملوں میں انذار کے پہلو سے جو جامعیت ہے وہ اپنی جگہ مسلَّم ہے۔

  • گھر کے نگران کی جواب دہی: مذکورہ بالا آیت کے مطابق گھر والوں کو جہنم سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ بیش تر مفسرین اس کا مخاطب گھر کے سرپرست و نگراں کو قرار دیتے ہیں ، یعنی گھر کے لوگوں کی اصلاح یا ان کے احوال کی درستی کی ذمہ داری اصلاً گھر کے نگراں و سرپرست یا بڑے بوڑھوں کی ہے کہ وہ گھر کے لوگوں کو سمجھائیں۔انھیں دین کی باتیں بتائیں، اچھے کاموں کی طرف توجہ دلائیں اور بُرے کاموں پر انھیں متنبہ کرتے رہیں۔ اس ضمن میں وہ حدیث بھی نقل کی جاتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں باز پرس ہوگی جو اس کی کفالت/ نگرانی میں رہتے تھے ( صحیح    بخاری)۔

اس سے انکار نہیں کہ گھر کے لوگوں کی اصلاح یا ان کے حالات درست کرنے یا انھیں راہِ راست پر لانے کی اصل ذمہ داری سرپرست یا نگراں کی ہی ہوتی ہے ،لیکن آیت میں اپنے اہل و عیال کو نارِ جہنم سے بچانے کا حکم عمومی انداز میں دیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے،جوان ،بوڑھے ، مرد و عورت کی تفریق کے بغیر گھر کے تمام لوگوں سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موقع و محل کی رعایت کے ساتھ حسبِ استطاعت ایک دوسرے کو اچھی باتیں بتا ئیں، نیک کاموں کی طرف متوجہ کریں اور برے کاموں پر متنبہ کرتے رہیں، یعنی یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • اہلِ علم اور داعیانِ دین کا فریضہ:یہ ذمہ داری گھر کے ان لوگوں پر خاص طور سے عائد ہوتی ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے علمِ دین سے نوازا ہے، یعنی جو قرآن و حدیث سے براہ راست دین کی باتیں اخذ کرنے و جاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا جو عام دینی کتب پڑھ کر دینی تعلیمات ، شریعت کے احکام ا ور خیر کی باتوں سے واقف ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو سمجھانے کی استعداد رکھتے ہیں۔ واقعہ یہ کہ مسلم گھرانے کا ہر فرد، پڑھ کر یا سن کر دین کی ضروری باتوں اور عام اخلاقی تعلیمات کا کچھ نہ کچھ علم رکھتا ہے۔ اس لیے گھر کے لوگوں کو خیر کی طرف متوجہ کرنا یا ا حکامِ الٰہی کی خلاف ورزی پر انھیں متنبہ کرنا ( حکمت کے تقاضوں اور موقع ومحل کی رعایت کے ساتھ ) کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن و حدیث کا پیغام یہ ہے کہ گھر، خاندان و معاشرہ کے لوگ اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق ایک دوسرے کو اچھی باتوں اور نیک کاموں کی یاددہانی کراتے رہیں ۔
  • اہلِ خانہ کی تربیت میں والدین کا کردار: دوسرے یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کسی کے ’اہل‘ میں اس کی اولاد لازمی طور پر شامل ہوتی ہے اور یہ بات محتاجِ وضاحت نہیں کہ اولاد کی اصلاح، ان میں اخلاقِ حسنہ کی آبیاری، اچھی عادتوں کی پرورش میں سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس میں کسی شبہہ کی گنجایش نہیں کہ اولاد کی نسبت سے اصلاحِ احوال کی بنیادی ذمہ داری والدین کی ہی ہوتی ہے۔ ا ولاد کے آرام و سکون کے لیے والدین تمام ممکن سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور ہر قسم ( وقت ،مالی وسائل، جسمانی قوت و ذہنی صلاحیت ) کی قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اسی طرح دینی و اخلاقی لحاظ سے ان کی زندگی کو سنوارنا بھی ان کا بڑا اہم و خوش گوار فریضہ ہے۔ اس ضمن میں اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ بہت بر محل معلوم ہوتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کے لیے والد کا بہترین تحفہ یہ ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے،بالخصوص انھیں حسنِ ادب کی تعلیم دے۔ حضرت ابن سعدؓ سے مروی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ِ مبارک ملا حظہ فرمائیں: مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ اَدَبٍ (جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ) ’’کسی والد کا ( اپنی) اولاد کے لیے حسنِ ادب سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں ہے‘‘۔

آج کل تقریباً ہر گھر میں اولاد یا زیرِ نگرانی بچوں کی نسبت سے یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان کی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی ہے، اس کے حصول میں محنت و مشقت و سنجیدگی کے لیے انھیں باربار نصیحت کی جاتی ہے، ان کی خوب سرزنش ہو تی ہے، ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں،اس لیے کیریئر بنانے اور دنیوی زندگی کی تعمیر و ترقی کے لیے تعلیم کا حصول، اس میں انہماک اور اچھی کارکردگی ضروری ہے، لیکن لمحۂ فکریہ ہے کہ والدین و سرپرستوں کی یہ نصیحت و یاددہانی، سختی وسرزنش،دینی معاملات میں کوتاہی و فرض عبادات کی ادائیگی میں غفلت، اخلاقی تعلیمات کی خلاف ورزی اور بُری حرکتوں کے عا دی ہونے کی صورت میں کم ہی نظر آتی ہے، بلکہ بعض اوقات والدین یا سرپرست انھیں ایسی سہولیات مہیا کرتے ہیں، جو بے کار و لایعنی باتوں میں غیرمعمولی دل چسپی، وقت کے ضیاع اور بُری عادتوں کے جڑ پکڑنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

  • تربیت کا اوّلین مرکزگھر:کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ماضی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا اوّلین مرکز گھر ہوتا تھا۔ ما ں کے گہوارے کو بچہ کی پہلی درس گاہ کہا جاتا تھا ( اب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ مسلَّم ہے)۔ ماں باپ کے علاوہ گھر کے دوسرے لوگ انھیں اچھی باتیں سکھانے، ان میں اخلاقی خوبیوں کی نشو ونما اور انھیں ادب و تہذیب سکھانے میں نہ صرف دل چسپی لیتے تھے،بلکہ اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اب گھر کا یہ نظامِ تعلیم و تربیت بہت کمزور ہوتا جارہا ہے۔ بچوں کے سلسلے میں نصیحت،تنبیہ، تاکید و یاددہانی کی ترجیحات بد ل چکی ہیں۔ انھیں دینی و اخلاقی باتیں سکھانے یا ان کی تربیت دینے پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں گھر اور خاندان کے بکھرے و بگڑے ہوئے ماحول میں بچوں کے تعلیم و تربیت کے قدیم نظام کے احیا و استحکام کی ضرورت کی شدت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندانی و سماجی زندگی سے متعلق مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں گھروخاندان کی موجودہ صورتِ حال کی اصلاح فوری توجہ کی طالب ہے۔
  • اہلِ خانہ کے لیـے دعوتی اجتماع:عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے گھرانوں کے ایک دو (یا اس سے زیادہ ) فرد دعوتِ دین کے کام میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات عام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ گھر کے بعض لوگ کسی دینی جماعت سے وابستہ ہوکر دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیتے ہیں، تذکیری مجالس منعقد کرتے ہیں اور دعوتی اجتماعات میں خطیبانہ یا تقریر ی صلاحیت کے بھی جوہر دکھاتے ہیں۔ یہ تمام دینی سرگرمیاں مستحسن و مفید ہیں، لیکن یہ کم ہی مشاہدے میں آتا ہے کہ یہ لوگ اپنے گھر کے لوگوں کے لیے بھی دینی مجلس منعقدکرتے ہوں اور انھیں ہفتہ ،دو ہفتہ میں اکٹھا کرکے اجتماعی طور پر قرآن و حدیث کی باتیں سناتے ہوں اور انھیںغلط کام سے دُور رہنے پر متنبہ کرتے ہوں۔ اس کام کی افادیت محتاجِ بیان نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وعظ ونصیحت اور تذکیری و دعوتی سرگرمیوںکے مستحق گھر کے لوگ نہیں ہوتے ؟ یقینا ہوتے ہیں اور سب سے پہلے ہوتے ہیں۔

گھر کے لوگوں کی اصلاح کی خاطر ہر گھر میں وقتاًفوقتاً دینی یا تذکیری مجلس کے انعقاد کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے اور موجودہ حالات میں یہ وقت کا ایک اہم تقاضا بن چکا ہے۔ کرونا لاک ڈائون کے دوران محلّہ کی مساجد میں یا دوسرے کسی مقام پر اجتماعی طور پر دعوتی و تذکیری پروگرام موقوف ہونے کی وجہ سے اس ناچیز کو گھر میں درسِ قرآن کے توسط سے گھر والوں کے سامنے ہفتہ وار کچھ کہنے کا موقع ملا تو ان مجالس کے تجربات نے گھر میں دینی یا تذکیر ی مجالس کے انعقاد کی اہمیت و افادیت کو دل ودماغ میں نقش کردیا۔ یہ احساس غالب ہوگیا کہ اس سلسلے میں اب تک بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔

گھر میں تذکیری مجلسیں منعقد کرنے کا ایک بڑا فائدہ اس صورت میں سامنے آیا کہ روزمرہ زندگی سے متعلق قرآن و حدیث کی عام ہدایات و تعلیمات کی طرٖف متوجہ کرنے کے علاوہ بعض اوقات گھر کے کسی فرد کو دین کی کسی خاص بات یا روز مرّہ زندگی کے کسی خاص پہلو کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے یا گھر کے لوگوں یا کسی فرد میں خلافِ شریعت معاملات نظر آنے پر انھیں متنبہ کر نا ضروری ہوجا تاہے تو قرآن و حدیث کے حوالے سے جب تذکیری مجلس میں سب کے سامنے یہ باتیں واضح کی جاتی ہیں تو گھر کے تمام لوگوں کو ان سے واقفیت ہوجاتی ہے اور متعلقہ امر یا معاملہ سے متعلق قانونِ شریعت سے عمومی آگاہی ہوجاتی ہے۔ دوسرے اس طرح کی مجالس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی غلطی یا کوتاہی پراجتماعی طور پر متنبہ کر دینے کی وجہ سے گھر کے کسی فرد کو انفرادی طور پر نکیر کرنے یا خطاکار /غلطی کرنے والے سے براہ راست کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ خود سمجھ جاتا ہے کہ اس تنبیہ کا اصل مخاطب کون ہے، اس طرح وہ شرم ساری سے بچ جاتا ہے اور متنبہ کرنے والا انفرادی نکیر کے کسی منفی ردِِّ عمل سے محفوظ رہتا ہے۔

 حضرت عائشہ ؓ سے مروی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی کوئی غلط بات یا برائی کی خبر ہوتی اور آ پؐ اس کی اصلاح کرنا چاہتے تو یہ نہ فرماتے کہ فلاں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا ،ایسا کہتا ہے، بلکہ یہ فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا،ایسا کہتے ہیں (سنن ابو داؤد، کتاب الادب، بَابٌ فِیْ  حُسْنِ العِشْرَۃِ)، یعنی آپؐ مجلس میں خطا کار کا نام لیے بغیریا اسے براہِ راست مخاطب کیے بغیر غلطی پر متنبہ کر تے اور اصلاح فرماتے۔

  • نماز کی تاکید __ اولین تقاضا:رہا یہ مسئلہ کہ گھر کے لوگوں کو کن باتوں کی خصوصی تاکید کی جائے اور کن اعمال کی انھیں بار بار یاد دہانی کرائی جائے، یا گھر پر تذکیری مجالس میں  دینی و اخلاقی تعلیمات کے کن پہلوؤں پر زیادہ زور دیا جائے؟ یقینی طور پر فرض عبادات کی ادائیگی کی تاکید سب سے مقدم ہے، بالخصوص گھر کے تمام افراد کو نماز کا پابند بنا نے کی کوشش کی جائے اور اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی و غفلت دُور کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ فرض عبادات میں نماز اوّل نمبر پر ہے۔ یہ افضل العبادت ہے اور اللہ رب العزت کو یاد کرنے اور اس سے تعلق مضبوط کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اہم بات یہ کہ گھر والوں کو اس فریضہ کی ادائیگی کی تاکید کی بابت بعض قرآنی آیات سے رہنما اشارات بھی ملتے ہیں۔

حضرت اسماعیلؑ کے امتیازی اوصاف میں یہ بیان کیا گیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز کے اہتمام ا ور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے۔ ارشاد الٰہی ہے: وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ   ۝۰۠ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِيًّا۝۵۵ (مریم۱۹: ۵۵) ’’وہ اپنے گھر والوں کو نماز و زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کی نگاہ میں پسندیدہ تھے‘‘۔حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی نصیحت کے فوراً بعد اقامتِ صلوٰۃ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہتمام کی تاکید کی تھی۔ ارشادِ ربّانی ہے: يٰبُنَيَّ اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْكَرِ (لقمان ۳۱:۱۷) ’’اے میرے بیٹے! نماز کا اہتمام کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خصوصی حکم فرمایا: وَاْمُرْ اَہْلَكَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْہَا۝۰ۭ (طٰہٰ۲۰:۱۳۲) ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود اس پر جمے رہیے‘‘۔

آیت کا آخری حصہ اس لحاظ سے بڑا اہم و سبق آموز ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ گھر والوں کو نماز کی تاکید کرتے رہنے کے ساتھ خود بھی اس پر کار بند رہیں۔ اس سے یہ قیمتی نکتہ اخذ ہوتا ہے کہ لوگوں کی اصلاح کی راہ میں سرگرم رہنے والوں اور انھیں نیک کاموں کی دعوت دینے والوں کو پہلے اپنے آپ کو ان کا خوگر بنا نا نہایت ضروری ہے،ورنہ دعوت و تذکیر بے اثر ہوکر رہ جائے گی۔سچ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حکمِ الٰہی کی تعمیل میں سرگرم رہنے والا کون ہوسکتا ہے۔

یہاں نماز کے اہتمام کے باب میں اسوۂ مبارکہ سے متعلق صرف ایک حدیث کا حوالہ کافی معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں لگے رہتے تھے، جیسے ہی نماز کا وقت آجاتا (یا ایک دوسری روایت کے مطابق اذان ہوجاتی) تو آپؐ بلاکسی تاخیر کے اس کی تیاری میں مصروف ہوجاتے تھے (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب کَیْفَ یَکُوْنُ الرَّجُلُ فِیْ اَھْلِہٖ، صحیح بخاری، کتاب النفقات، باب خدمۃ الرجل فی اھلہ)۔

  • دین کی روز مرہ تعلیمات سے آگہی: اسلام،جیسا کہ معروف ہے، مکمل نظامِ حیات سے عبارت ہے، اور قرآن اہلِ ایمان کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ پورے کے پورے سلامتی کے راستہ (یعنی اسلام ) میں داخل ہوجائو (البقرہ ۲:۲۰۸) ۔ اس لیے عبادات کے علاوہ خانگی، معاشرتی و معاشی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق بھی قرآنی ہدایات و حدیث کی تعلیمات کی یاددہانی ایک دوسرے کو مسلسل کراتے رہنا چاہیے۔ روز مرہ زندگی سے متعلق خاص طور سے سلام و کلام، ملاقات ، میزبانی و مہمانی کے اصول و آداب، کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے کے اسلامی طور و طریق سکھانا، والدین، اولاد، بھائی، بہن، اقربا، پڑوسی، خادم و مزدور کے حقوق سے واقف کرانا، فضول خرچی، غیر ضروری رسوم و روایات اور بے مقصد کاموں میں وقت کے ضیاع سے پرہیز پر زور دینا اور لین دین کے معاملات میں دیانت داری و شفافیت کی تعلیم دینا، اور ان سب امور سے متعلق قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے رہنا زیادہ اہم معلوم ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر پہلو سے کتاب و سنت کی تعلیمات کے بار بار تذکرے یا ان پر عمل کی یاددہانی کے بغیر انسانی زندگی کی اصلاح کا جامع تصور شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
  • معروف و منکر کا فریضہ: اسی ضمن میں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تذکیر ونصیحت کے تعلق سے اگر اسِ وقت کے معاشرہ میں کچھ حرکت نظر آتی ہے تو وہ زیادہ تر امر بالمعروف( اچھی باتیں بتانے و نیک کاموں کی ترغیب) میں محدود رہتی ہے، برائیوں یا گناہ کے کاموں پر متنبہ کرنے اور ان سے باز رکھنے کی کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔ عام لوگوں سے قطعِ نظر خواص و دینی جماعتوں میں نہی عن المنکر کے پہلو سے جو غفلت یا بے توجہی پائی جاتی ہے اس پر مولانا حکیم محمد اخترؒ کا تاثر بہت برمحل ہے: ’’منکرات پر روک ٹوک کی عادت اہلِ علم میں بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے منکرات پھیلتے جارہے ہیں۔ جس طرح اچھائیوں کا پھیلانا فرضِ کفایہ ہے اسی طرح برائیوں کو مٹانا بھی فرض کفایہ ہے۔ آج اس سلسلے میں غفلت ہورہی ہے‘‘۔

 سچ بات یہ کہ ’ نہی عن المنکر‘ کے بغیر ’امربالمعروف‘ کا حق ادا ہی نہیں ہوسکتا، جیسا کہ قرآن کریم میں دونوں کام ( امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کے ساتھ ساتھ ذکر کے اہتمام سے واضح ہوتا ہے، اور اہلِ ایمان کے امتیازی اوصاف میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے رو کنے کا تذکرہ بار بار ملتا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اُس صورتِ حال میں جہاں ہر طرف برائیوں کا زور ہو اور لوگ گناہ کے کاموں کے عادی ہوگئے ہوں، وہاں نہی عن المنکر کی ضرورت و ا ہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں زندگی کے ہرپہلو سے متعلق گھر کے لوگوں کے لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر یا تذکیر و فہمایش کی ضرورت بڑھتی ہی جارہی ہے۔

  • اجتماع اہلِ خانہ کا انعقاد کیسے؟ :رہا یہ مسئلہ کہ گھر میں تذکیری مجالس کیسے منعقد کی جائیں ؟ حقیقت یہ کہ ان کا انعقاد کچھ بھی مشکل نہیں۔ شکرِ الٰہی کہ ملک کی مروجہ زبا نوں میں قرآن و حدیث کے تراجم اور ان سے متعلق تفسیری و تشریحی کتب بہ کثرت دستیاب ہیں۔ اسی طرح قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مختلف زبانوں میں کتب و رسائل کی بھی کمی نہیں ہے۔ تعلیم کے اس پروان چڑھتے ماحول میں شاید ہی کوئی گھر یا خاندان پڑھے لکھے افراد سے خالی ہو۔ قرآن و حدیث سے براہ راست استفادہ کرکے تذکیر کرنے میں اگر کچھ دشوار ی ہوتو متعلقہ کتابوں کی مدد سے یہ کام بآسانی کیاجاسکتا ہے ۔ جہاں تک ان مجالس کے لیے وقت فارغ کرنے کا سوال ہے،کیا یہ واقعہ نہیں کہ اس ماحول میں جہاں بہت سے غیر ضروری یا بے مقصد کاموں کے لیے وقت کا بے دریغ استعمال ہو تا رہتا ہے، وہاں ہفتہ وار تذکیری پروگرام سے فیض یابی کے لیے یا آخرت کی تیاری کی خاطر آدھا،پون گھنٹہ وقت فارغ کرنا مشکل نہیں،بلکہ معمولی سی بات ہے۔ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کے لیے وقت فارغ کرنا بلاشبہہ موجب خیر و برکت، وسیلۂ اجر عظیم اور باعثِ افادیت کثیرہ ہے۔ نیک کام و نیکی کمانے کی طلب ہو اور عزم و ارادہ ہو تو بتوفیقِ الٰہی مشکل سے مشکل کام آسان ہوجاتا ہے ۔ دوسرے یہ بھی پیش نظر رہے کہ روز مرہ زندگی سے متعلق اچھی باتیں بتانے اور نیک کاموں کی رغبت پیداکرنے کے لیے لیکچر و تقریریا وعظ ضروری نہیں۔ کون شخص ہے جو اس طرح کی کچھ باتوں سے واقف نہیں، اُٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے، بات چیت کرتے یہ کام بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
  • اصلاح کا آغاز: آخر میں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ہر معاملے و ہر مسئلے میں قرآن ہمارے لیے بہترین رہنما ہے۔ گھر والوں یا دوسروں کی اصلاح کے کام کے لیے کیا ترتیب بنائی جائے یا اس کے لیے سب سے پہلے ضروری کام کیا ہے ؟ اس باب میں مذکورہ بالا  آیت سے ہی یہ رہنما ضابطہ اخذ ہوتا ہے اور وہ اس طور پر کہ آیت میں اَنْفُسَكُمْ  کو اَہْلِيْكُمْ  پر مقدم کیا گیا ہے،یعنی اصلاح کے کام کی قرآنی ترتیب یہ ہے کہ پہلے اپنی تعلیم و تربیت اور اصلاح کی فکر کی جائے، پھر اولاد ،گھر والوں یا دوسروں کی اصلاح کے لیے کوشش کی جائے۔ جیسا کہ اس آیت کی روشنی میں بعض بزرگ علمائے دین نے اصلاحی کوششوں میں اس ترتیب کو ملحوظ رکھنے پر خاص زور دیا ہے اور انھوں نے یہ تاثر بھی ظاہر کیا ہے: ’’ دیکھا بھی جاتا ہے کہ جس کو خود اپنی اصلاح کی فکر ہے اس کو اپنی اولاد و متعلقین کی تعلیم و تربیت کی بھی فکر ہے اور وہ اس کے لیے آسان بھی ہے‘‘ (شاہ وصی اللہؒ ، ’علم ترقی کا اہم ذریعہ ہے‘، دعوۃ الحق،اگست ۲۰۱۵ء،ص۴)۔  گویا جو شخص اپنے حالات کو سدھارنے میں سنجیدہ و سرگرم رہتا ہے اس کے لیے دوسروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوجاتی ہے اور یہ حقیقت تو اپنی جگہ مسلَّم ہے کہ اپنے کو سدھارنے کے بعد دوسروں کی اصلاح کے لیے کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خاطر خواہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 یہ آیت اسی نکتہ پر غور وفکر کی دعوت دے رہی ہے:اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ (البقرہ۲:۴۴) ’’کیا تم دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟۔ امام غزالیؒ نے دوسروں کی اصلاح کے لیے کوشش کی راہ میں قرآنی ترتیب کو اختیار کرنے پر اس انداز میں زور دیا ہے :’’دوسروں کی اصلاح اپنی اصلاح پر مرتب ہوتی ہے، لہٰذا چاہیے کہ انسان اصلاح کے عمل کا آغاز اپنی ذات سے کرے ،پھر اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرے، جو خود درست نہیں ہے وہ دوسرے کو کیسے درست کرے گا؟‘‘ (احیاء علوم الدین)۔

مختصر یہ کہ قرآن و حدیث کا واضح پیغام یہ ہے کہ گھر اور خاندان کے لوگ ایک دوسرے کو اچھی باتیں بتاتے رہیں ، نیک کاموں کی یاد دہانی کراتے رہیں اور بُرے کاموں سے باز رکھنے کی کوشش کریں ۔ بلاشبہہ موجود ہ بگڑی ہوئی صورتِ حال میں قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کے حالات سدھارنے،انھیں نیک کاموں کی طرف راغب کرنے اور انھیں برائیوں سے دُور رہنے کی تاکید کرنے کی ضرورت و اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گھر کے ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ خود اپنی اصلاح کے ساتھ حسبِ صلاحیت و استعداد حکمت کے ساتھ د وسروں کی اصلاح کے لیے کوشش کرے اور گھر کے لوگ ایک دوسرے کو اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، ملتے جُلتے اچھی باتیں بتاتے رہیں اور نیک کاموں کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔ گھر میں اگر کوئی علمِ قرآن و حدیث سے بہرہ ور ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ گھر کے لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے با خبر کرے،یا پھر دینی کتابوں کی مدد سے ان کی تذکیر کرے اور دینی احکام کے تعلق سے انھیںسمجھا ئے بجھا ئے۔

خلاصہ یہ کہ گھر میں ایک دوسرے کو انفرادی طور پر سمجھانے بجھانے ، تذکیر و فہمایش، تنبیہ و آگاہی کے ساتھ خاص گھر والوں کے لیے وقتاً فوقتاً اجتماعی پروگرام کا انعقاد بہت ضروری ہوگیا ہے۔ کم از کم ہفتہ میں ایک بار خاص طور سے گھر کے لوگوں کے لیے تذکیری پروگرام کا نظم جاری کیا جائے اور قرآن و حدیث کے حوالے سے انھیں سمجھانے بجھانے کا سلسلہ قائم رکھا جائے ۔ بس اصل مسئلہ ہے اس کام کی اہمیت و افادیت کو دل میں جاگزیں کرنے اور دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کا۔ اس کے لیے ذہن سازی اور مسلسل جد و جہد درکا ر ہے ۔ بلا شبہہ قرآن کی ہربات بر حق ہے۔ا للہ کا کوئی حکم حکمت و نافعیت سے خالی نہیں، وہ بہر صورت موجبِ خیر و برکت ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی نہایت واضح ہدایت ہے کہ لوگوں کو اچھی یا نفع بخش باتیں (جس طریقے سے بھی ممکن ہو) بتاتے رہو، اس سے اہلِ ایمان کو ہر حال میں فائدہ پہنچتا ہے : وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۵۵(الذاریٰت ۵۱:۵۵) ’’اور (ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی) یاددہانی کراتے رہو، بے شک یاد دہانی کرنا اہل ایمان کو نفع پہنچاتا ہے‘‘ ۔