افتخار گیلانی


یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ برطانوی شہر لیسٹر میں جب ستمبر میں اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ’ہندو- مسلم فساد‘ برپا ہوا۔ اس سے قبل ہندوانتہا پسندوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ  (RSS) کے کئی لیڈروں نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ فساد ٹھیک اسی طرح کیا گیا، جس طرح عام طور پر بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کروانے کے لیے بہانہ سازی کی جاتی ہے ، یعنی یہ کہ مسلم علاقوں سے زبردستی جلوس نکال کر، اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز نعرے بلند کرکے مسلمانوں کو رد عمل پر مجبور کیا جاتاہے۔ بھارت میں ہونے والے تقریباً تمام فسادات کی یہ کہانی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ کبھی رام نومی، تو کبھی گنیش، تو بھی کسی اور جلوس کو زبردستی مسلم علاقوں سے گزارنا ، یا کسی مسجد کے پاس عین نماز کے وقت اس جلوس کو روک کر بلند آواز میں میوزک بجانا وغیرہ ۔ پھر ایسے جلوس یا فساد سے قبل اسی شہر یا علاقے میں آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی تنظیم کا اجتماع ہوتا تھا اور واردات کے وقت پولیس دانستہ طور پر غائب ہوجاتی تھی، تاکہ فسادیوں کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے ۔ پولیس کی آمد کا وقت بھی اس بات پر منحصر ہوتا ہے، کہ فساد میں کس کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے ، اور پھر موقع پر پہنچ کر پولیس اُجڑے پجڑے مسلمانوں ہی کو غضب کا نشانہ بناتی ہے ۔ ایک سینئر پولیس آفیسروبھوتی نارائین رائے نے فسادات میں بھارتی پولیس کے اس رویے پر ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔

بھارت میں ’جیتند نارائین کمیشن‘ سے لے کر ’سری کرشنا کمیشن‘ تک، یعنی فسادات کی تحقیق کےلیے جتنے بھی کمیشن یا کمیٹیاں آج تک بنی ہیں ،ان سب نے آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی نہ کسی تنظیم کو قتل و غارت یا لوٹ مار کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے ۔ مگر دوسرے یورپی ممالک ویزا حاصل کرنے والے مسلمانوں سے لمبی چوڑی ضمانتیں اور بیان حلفی لیتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی انتہاپسند تنظیم یا کسی بنیاد پرست سوچ کی حامل تنظیم سے تو نہیں ہے؟ مگر دوسری طرف انھوں نے ہندو انتہاپسند تنظیموں کو اس زمرے سے خارج کیا ہوا ہے ۔ ایل کے ایڈوانی اور بی جے پی کے حامی تجزیہ کار بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹ یا برطانیہ کی ٹوری پارٹی سے تشبیہہ دیتے ہیں ۔ مگر یہ بات کہتے وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ بی جے پی کی کمان اس کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہے ، بلکہ اس کی طاقت کا اصل سرچشمہ اور نکیل ہندو قوم پرستوں کی سرپرست ایک فاشسٹ اور نسل پرست تنظیم آر ایس ایس کے پاس ہے۔ جو فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی خفیہ تنظیم ہے، جس کے مالی وانتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات منظر عام پر موجود ہیں ۔ چند برس قبل تو برطانیہ کی ہندو ممبر پارلیمنٹ پریتی پٹیل نے آرایس ایس کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری دتارے ہوشبولے کی برطانیہ آمد کے موقعے پر برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی، کہ ان کا استقبال کیا جائے ۔ آر ایس ایس کی بیرو ن ملک شاخ ’ہندو سیوا سنگھ‘(HSS) نے ہوشبولے کو لندن میں ایک پروگرام RSS: A Vision in Action کی صدارت کےلیے مدعو کیا تھا ۔

 حیرت کا مقام ہے کہ مغرب نے جس فاشسٹ نظریے کو ۱۹۴۵ء میں شکست دے کر ایک جمہوری، لبرل اور تکثیری معاشرے کو تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی تھی، انھوں نے آخر کس طرح بھارت میں پروان چڑھتے وحشت ناک فاشز م سے نہ صرف آنکھیں بندکرلی ہیں ، بلکہ ا پنے ملکوں میں بھی اس نظریے کی اشاعت و تقویت کی اجاز ت دے کر اس سے وابستہ لیڈروں کو گلے بھی لگا رہے ہیں۔

برطانیہ میں رُونما ہونے والے ان فسادات سے عندیہ ملتا ہے کہ ’ہندو توا نظریے‘ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں میں جگہ بنا کر دُنیا کے مؤثر ممالک کی سرحدیں عبور کر لی ہیں ۔ برطانیہ میں بھارتی نژاد آبادی کل آبادی کا ۲ء۵ فی صد اور پاکستانی نژاد۵ء۱ فی صد ہے۔ امریکا میں ۲ء۷ملین بھارتی نژاد آبادی ہے ۔ میکسیکن کے بعد شاید تارکین وطن کی یہ سب سے بڑی آبادی ہے اور یہ خاصے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر براجماں ہیں ۔ آر ایس ایس کی دیگر شاخیں یعنی ’ویشوا ہندو پریشد‘ (VHP) بھی ان ملکوں میں خاصی سرگرم ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت میں شامل تھی، جس کی وجہ سے اس پر بھارت میں کچھ سال تک پابندی بھی لگی تھی ۔ اس دوران جب پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں نے اس کے دفاتر کی دہلی اور دیگر شہروں میں تلاشی لی، تو معلوم ہوا کہ بابری مسجد کی مسماری کےلیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ یورپ اور خلیجی ممالک ہی سے آئی تھی۔

دراصل ونایک دمودر ساوارکر [م:۱۹۶۶ء] جو ’ہندو توا نظریہ‘ کے خالق ہیں ، انھوں نے ہندوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ نئی زمینیں تلاش کرکے ان کو نو آبادیوں میں تبدیل کریں ۔ ان کو رہ رہ کر یہ خیال ستاتا تھا کہ مسلمان او ر عیسائی دنیا کے ایک وسیع رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہندو صرف جنوبی ایشیا میں بھارت اور نیپال تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اپنی کتابEssentials of Hindutva میں وہ آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت کے فلسفے سے ایک قدم آگے جاکر عالمی ہندو نظام یا عالمی ہندو سلطنت کی وکالت کرتے ہیں ۔ ایک صدی بعد اس وقت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس نظریے کو عملاً نافذ کروانے کا کام کررہی ہیں۔

اگرچہ یہ تنظیمیں یورپ میں ۱۹۶۰ء ہی سے کام کرتی آرہی ہیں، مگر ان کا دائرہ ۲۰۱۴ء میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑا وسیع اور فعال ہو گیا ۔ آر ایس ایس، ایچ ایس ایس اور دیگر تنظیمیں اب ۴۸ممالک میں سرگرم ہیں۔ امریکا میں ’ہندوسیوا سنگھ‘ نے ۳۲ریاستوں میں ۲۲۲شاخیں قائم کی ہیں اور اپنے آپ کو ہندو فرقہ کے نمائندہ کے بطور پیش کیا ہوا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی وہ سرگرم ہیں ۔ ابھی حال ہی میں آر ایس ایس کے تھینک ٹینک ’انڈیا فاؤنڈیشن‘ کے ذمہ داروں نے ترکیہ کا دورہ کرکے وہاں حکومتی شخصیات اور تھینک ٹینک کے ذمہ داروں سے بات چیت کی، جو اپنی جگہ نہایت چونکا دینے والا واقعہ ہے اور اس کا نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔

آر ایس ایس افریقی ملک کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط پوزیشن اختیار کرچکی ہے ۔ کینیا میں اس کی شاخوں کا دائرۂ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگنڈا، موریشس اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے، اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔

حیران کن بات یہ کہ ان کی پانچ شاخیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں ۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہاں کی شاخیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں اور اکثر یوگا کے نام پر اجتماع منعقد کرتے ہیں ۔ فن لینڈ میں ایک الیکٹرونک شاخ ہے، جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں ۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاخ موجود نہیں ہے ۔

امریکی تنظیم کی ایک رپورٹ Hindu Nationalist Influence in The US  میں بتایا گیا کہ ۲۰۰۱ءسے ۲۰۱۹ء تک آر ایس ایس سے وابستہ سات تنظیموں نے امریکا میں۱۵۸ء۹ ملین ڈالر اکٹھے کیے، جس میں اکثر رقم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر خرچ کی گئی۔ پھر ۱۳ ملین ڈالر ایک تنظیم Civilization Foundation کو دیئے گئے، تاکہ امریکی یونی ورسٹیوں میں تحقیقی کاموں پر اثر انداز ہوں ۔ ٹیکس گوشواروں کے مطابق ایک تنظیم ’اوبیرائی فاونڈیشن‘ نے امریکی ریاستوں میں نصابی کتابوں اور اساتذہ کی تربیت پر ۶ لاکھ ڈالر خرچ کیے، ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کیلے فورنیا کے اسکولوں پر خرچ کیے گئے ۔ اسی تنظیم نے سان ڈیاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی کو تحقیق کے لیے ایک بڑی بھاری رقم دی۔ جس میں سکھ مت، جین مت، بدھ مت اور ہندو مت کی چار دھرم روایات میں کام کرنے والے اسکالرزکے بارے میں معلومات کا ڈیٹا بیس بنانے کا ایک پروجیکٹ بھی شامل تھا ۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کئی تنظیموں کو بھارتی حکومت نے ہرماہ ۱۵ہزار سے ۵۸ہزار ڈالر مختلف امریکی ادارو ں میں لابی کرنے کےلیے دیئے ۔ امریکا میں سرگرم آرایس ایس سے وابستہ ۲۴تنظیموں نے اپنے گوشواروں میں ۹۷ء۷ ملین ڈالر اثاثے ظاہر کیے ہیں ، جس میں ’ویشوا ہندو پریشد‘ کی امریکی شاخ کے پاس ۵ء۳ملین ڈالر تھے ۔ نومبر ۲۰۲۰ءکو سنگھ نے دیوالی منانے کےلیے ایک ورچوئل جشن منعقد کیا، جس میں سان فرانسسکو کے آٹھ میئرز اور دیگر منتخب افراد نے شرکت کی۔۲۰۰۱ء اور ۲۰۲۲ء کے دوران سنگھ سے منسلک پانچ اداروں: ’ایکل ودیالیہ فاوَنڈیشن آف یو ایس اے‘، ’انڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ‘، ’پرم شکتی پیٹھ‘، ’سیوا انٹرنیشنل‘، ’امریکا کی وشوا ہندو پریشد‘ کے ذریعے امریکا سے ۵۵ملین ڈالر بھارت منتقل کیے گئے ۔ یہ سبھی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں اور سماجی خلیج وسیع کرنے کی ذمہ دار ہیں ۔

بھارتی تارکین وطن کا دوغلا پن اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن ممالک میں یہ رہتے ہیں وہاں پر تو وہ لبر ل اور جمہوری نظام کے نقیب اور اقلیتوں کے محافظ کے طورپر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، مگر بھارت میں ان کا رویہ اس کے برعکس رہتا ہے ۔ مغرب یا خلیجی ممالک میں وہ غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی کے خواہاں ہیں ،مگر بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق و دیگر ۲۵۰غیرسرکاری تنظیموں پر بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے پر پابندی لگانے کی حمایت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے کے اثاثے بھارت میں منجمد کردیئے  گئے ہیں۔ کسی اور ملک میں اس طرح کا اقدام تو عالمی پابندیوں کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ بھارتی تارکین وطن اور سفارت کار دنیا بھر میں مہاتما گاندھی کو اخلاقیات کے ایک اعلیٰ نمایندے کے طور پر پیش کرتے ہیں ، مگر اپنے ملک میں اسی گاندھی کے قاتل ناتھو را م گوڑسے اور اس قتل کے منصوبہ سازوں ، جن میں ویر ساواکر اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں ، ان کی پذیرائی کرتے ہیں ۔

کانگریس پارٹی کی بیرون ملک شاخ کے ایک لیڈر کمل دھالیوال کے مطابق جو طالب علم آج کل بھارت سے یورپ یا امریکا کی درسگاہوں میں آتے ہیں ، لگتا ہے کہ جیسے ان کا ’غسلِ ذہنی‘ (برین واشنگ) کی گئی ہو ۔ صحافی روہنی سنگھ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ نظریاتی طور پر ان کی پرورش ہندو قوم پرستی کے سخت خول میں ہوئی ہے اور وہ اس نظریے کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں ، جس میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا عنصر بڑا نمایا ں ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہرفرد بھارت سے چلنے والے کسی نہ کسی ’وٹس ایپ گروپ‘ کا ممبر ہوتا ہے، جہاں اقلیتوں کے خلاف روزانہ شرمناک ہرزہ سرائی کی جاتی ہے ۔

معروف قانون دان اے جی نورانی نے اپنی ضخیم تجزیاتی اور تحقیقی کتابThe RSS: A Menace to India میں لکھا ہے کہ اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت، جمہوریت مخالف اور فاشزم کی اشاعت و ترویج پر ٹکی ہے ۔ سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اور مصالحت سے کام لینا پڑتا ہے، اس لیے اس میدان میں براہِ راست کُودنے کے بجائے اس نے فرنٹ آرگنائزیشن کے طور پر پہلے۱۹۵۱ء میں جن سنگھ اور پھر ۱۹۸۰ء میں بی جے پی تشکیل دی ۔ بی جے پی پر اس کی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ایما پر اس کے تین نہایت طاقت ور صدور ماولی چندر ا شرما، بلراج مدھوک اور ایل کے ایڈوانی کو برطرف کیا گیاتھا ۔ ایڈوانی کا قصور صرف یہ تھا کہ ۲۰۰۵ء میں کراچی میں اس نے بانی ٔپاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دے کر ان کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا تھا ۔

۲۰۱۹ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو آر ایس ایس اور اس کے عزائم سے خبردار کیا تھا ۔ اس تقریر کے وسیع اثرات کو زائل کرنے کے لیے آرایس ایس کے سربراہ کو پہلی بار دہلی میں غیر ملکی صحافیوں کے کلب میں آکر میٹنگ کرکے وضاحتیں دینی پڑیں ۔ ورنہ آر ایس ایس کا سربراہ کبھی میڈیا کے سامنے پیش نہیں ہوتا۔ مگر شاید پاکستانی حکمرانوں کی تقدیر میں گفتار کے غازی کا ہوناہی لکھا ہے یا وہ صرف ایونٹ مینجمنٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اس لیے ہمیشہ کی طرح تقریر کے بعد واہ واہ لوٹ کر خوش ہو جاتے ہیں ۔ اپنی تقریر کا فالو اَپ کرنے کی ان کو توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا وقت نہیں آیا ہے کہ مغرب کو بتایا جائے کہ جس فاشزم کو انھوں نے شکست دی تھی، وہ کس طرح ان کے زیرسایہ، خود اُن کی جھولی میں کس طرح دوبارہ پنپ رہا ہے، اورجو بہت جلد امن عالم کےلیے ایک شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے؟

؍اکتوبر ۲۰۲۲ء کی رات جب آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، دہلی سے تہاڑ جیل میں پانچ برسوں سے قید حریت لیڈر اور بزرگ کشمیری رہنما مرحوم سید علی گیلانی کے داماد ، الطاف احمد شاہ کے انتقال کی خبر آئی، تو شاید ہی کسی کو اس الم ناک خبر پر حیرت ہوئی ہو۔ قیدیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے صرف پچھلے ایک سال میں یہ کسی سیاسی قیدی کی موت کا چھٹا واقعہ ہے۔ جن میں کشمیر سے جماعت اسلامی کے رکن غلام محمد بٹ، تحریک حریت کے صدر محمد اشرف صحرائی کے علاوہ مہاراشٹرا میں ماؤ نواز کمیونسٹوں کی حمایت کے الزام میں قید ۸۳سالہ پادری سٹن سوامی، ۳۳ سا ل کے پانڈو ناروتے اور ۳۸برس کے کنچن نانووارے شامل ہیں۔ افسوس کہ عدالتیں ، پولیس اور تفتیشی ایجنسیوںکے اس استدلال کو تسلیم کرتی ہیںکہ جیلوں میں علاج کی سہولیات موجود ہیں، اس لیے اس بنیاد پر ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ مگر جیل میں کس قدر علاج معالجے کی سہولیات دستیاب ہیں اور وہاں ڈاکٹروں کا رویہ کیسا ہوتا ہے، اس کا میں خود گواہ ہوں۔

تہاڑ ، جسے ایک ماڈل جیل کے بطور پیش کیا جاتا ہے، اس کی جیل نمبر تین میں واقعی ایک خوش کن ہسپتال ہے، جس کو ججوں اور معائنے پر آئے افسروں اور بعض اوقات غیر ملکی ٹیموں کو دکھا کر متاثر کیا جاتا ہے ۔ ۲۰۰۲ء میں جب نو روز تک دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے انٹروگیشن بھگتنے کے بعد مجھے تہاڑ جیل منتقل کیا گیا ، تو داخلے کے وقت ہی جیل کے ڈاکٹروں کے رویے کا اندازہ ہوگیا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں باقاعدہ پٹائی ہونے کے بعد، کاغذی کارروائی پورا کرنے کے لیے مجھے جیل آفس سے متصل ڈاکٹر کے سامنے پیش کیا گیا، تو وہ ڈاکٹر بجائے میری حالت دیکھنے کے،  اُلٹا مجھ پر لگائے گئے الزامات دریافت کرنے لگا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ میں آفیشل سکرٹس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہوں، تو اس نے پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر مجھے بُرابھلا کہنا شروع کردیا۔

ڈاکٹر اور اس کے اسسٹنٹ پر لازم ہے کہ نئے قیدیوں کو سیل یا وارڈوں میں بھیجنے سے قبل ان کی طبی جانچ اور اگر وہ زخمی ہوں، تو اس کیفیت کا اندراج کرنا ہوتا ہے۔ میری ناک اور کان سے خون رس رہا تھا۔ جیل کے ڈاکٹر نے ان زخموں کو پولیس اور انٹروگیشن کے کھاتے میں ڈال کر مجھے دستخط کرنے کے لیے کہا۔ میں نے جواب میں کہا کہ ’’یہ خاطرمدارات چند لمحے قبل جیل آفس میں ہی ہوئی ہے، اس کا پولیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

جیل نمبر تین کے اس ہسپتال میں ، جہاں الطاف شاہ کو کئی ماہ تک کینسر کا علاج کرنے کے بجائے بس درد روکنے کی ادویات دے کر واپس سیل میں بھیج دیا جاتا تھا۔ یہاں کی او پی ڈی کا بھی مَیں نے باربار مشاہدہ کیا تھا۔ اسٹتھ سکوپ لگاکر دیکھنا تو دُور کی بات ہے، ڈاکٹر قیدیوں کو دُور سے انھیں ہاتھ لگائے بغیر علاج تجویز کرتے ہیں۔ بجائے مریض سے ا س کی تکلیف کے بارے میں پوچھنے کے، وہ اس کے کیس کے بارے میں تفتیش کرکے، سزا ئیں بھی تجویز کرتے رہتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی پوری اخلاقیات کا جیل کے ان ڈاکٹروں نے جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ علاج کے نام پر تمام مریضوں کو ایک ہی دوا دیتے تھے، چاہے پیٹ کا درد ہو یا نزلہ، زکام۔ ایک بار ہمارے وارڈ میں ایک قیدی کو شدید نزلہ ، زکام لاحق ہو گیا تھا اور دوسرے قیدی کو پیچش ہوگئی تھی۔ دونوں جب ہسپتال سے واپس جیل وارڈ میں آئے تو معلوم ہوا کہ ان کو ایک ہی طرح کی دوا دی گئی ہے۔

تہاڑ میں ایک رات میرے پیٹ میں سخت درد اٹھا کہ برداشت سے باہر ہوگیا اور کئی بار قے ہوگئی۔ جیل میں، رات کی ڈیوٹی پر مامور جیل حکام، بیرکوں اور وارڈوں کو بند کر کے جیل آفس میں جاکر آرام کرتے ہیں۔ میرے ساتھی قیدیوں نے شور مچاکر جیل آفس تک آواز پہنچانے کی کوشش کی۔ آدھے گھنٹے کے بعد ایک وارڈن آگیا اور بیرک کی سلاخوں کے باہر سے ڈانٹ کر پوچھا: ’’کیوں شور مچارہے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا:’’قیدی کی طبیعت خراب ہے‘‘۔ اس نے نام پوچھا۔ گیلانی کا نام سنتے ہی اس نے کہا کہ ’’مرنے دو‘‘ اور واپس چلا گیا۔ قیدیوں کو اس پر سخت صدمہ ہوا۔ تھوڑی دیرکے بعد بیرک میں موجود پچاس سے زائد قیدیوں نے دوبارہ چیخ پکار بلند کی۔ دراصل کچھ عرصہ قبل اسی وارڈ میں ایک قیدی کی رات کے وقت موت واقع ہوگئی تھی اور صبح سویرے پورے وارڈ کے قیدیوں کو سخت بُرا بھلا کہا گیا تھا کہ: ’’آپ نے جیل حکام کو کیوں آگاہ نہیں کیا؟‘‘۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت دی تھی، کہ ’’ایسی صورت حال میں گلاپھاڑ کر چیخ پکا ر بلند کیا کریں، تاکہ آواز جیل کنٹرول روم تک پہنچے‘‘۔ ایک گھنٹے کے بعد دوسرا وارڈن، ڈاکٹر سمیت آگیا اور بیرک کھول کر مجھے ہسپتال میں داخل کروایا۔ اگلے روز پہلے والے وارڈن نے ہسپتال میں آکر معذرت کرتے ہوئے کہا: ’’میں سمجھ رہا تھا کہ یہ پارلیمنٹ حملہ کیس والا گیلانی (مرحوم عبدالرحمان گیلانی، جو اُن دنوں اسی جیل میں تھے، اور بعد میں بری ہوگئے) ہے۔ اس لیے اس نے دھیان نہیں دیا‘‘۔

پرانے سرینگر شہر کے خانقاہ معلی محلہ میں الطاف شاہ کے والد محمد یوسف شاہ، شیخ محمد عبداللہ کے دست راست اور ایک معروف تاجر تھے۔ سری نگر کے مرکز لال چوک میں’ فنتوش ہوزری‘ کے نام سے ان کی دکان تھی، جس کی نسبت سے بعدازاں الطاف احمد کو الطاف فنتوش کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جب شیخ عبداللہ ’’محا ذِ رائے شماری‘‘ کی قیادت کررہے تھے، تو وہ ان کے ساتھ جیل بھی گئے۔ مذکورہ دکان میں پہلے ’ محاذِ رائے شماری‘اور پھر ’نیشنل کانفرنس‘کے لیڈروں غلام محمد بھدروائی، بشیراحمد کچلو، شیخ نذیر وغیرہ اپنی دوپہر یہیں پر گزارتے۔ الطاف شاہ ایک پختہ کار نیشنل کانفرنس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر زمانہ طالب علمی ہی میں وہ شیخ عبداللہ کے سحر سے اس وقت آزاد ہوگئے، جب نیشنل کانفرنس کے خلاف شہر سرینگر میں ہلکی سی کانا پھوسی بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوا کرتی تھی۔ شیخ عبداللہ کے علاوہ شہر کے چند علاقوں میں میرواعظ خاندان کا طوطی بولتا تھا اور یہ دونوں مل کر کسی تیسری قوت کو شہر میں پیر جمانے نہیں دیتے تھے۔ چونکہ دونوں ایک دوسرے سے برسرِپیکار رہتے تھے ، ان کی ساری اساس غنڈا سیاست پر ہی ٹکی ہوئی تھی اور عدم برداشت ان کے کارکنوں میںکوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

۱۹۷۸ء میں جموں و کشمیر، اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کی ذمہ داری محمداشرف صحرائی کو سونپ دی۔ الطاف شاہ کو ۲۱سال کی عمر میں اس کا پہلا جنرل سیکرٹری بنادیا گیا۔ ۱۹۷۹ء میں جب اس تنظیم کا پہلا اجلاس گول باغ (حال ہائی کورٹ کمپلیکس) میں منعقد ہوا، تو اس میں تقریباًدس ہزار طلبہ نے شرکت کی۔ ۱۹۸۰ء میں اس تنظیم نے شیخ تجمل اسلام کی قیادت میں ایک اسلامی کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا، جس پر حکومت نے پابندی لگاکر اس کے منتظمین کو حراست میں لے لیا۔یہ الطاف احمد شاہ کی غالباً پہلی گرفتاری تھی۔ و ہ اس وقت کشمیر یونی ورسٹی کے شعبۂ تعلیم میں ایم اے کے طالب علم تھے۔ ان کو پہلے ادھم پور اور پھر ریاستی جیل میں رکھا گیا۔۱۹۸۱ءتک جمعیت بیشتر تعلیمی اداروں میں اپنی شاخیں قائم کر چکی تھی۔ اسی دوران جماعت میں یہ خدشہ سر اٹھانے لگا کہ آگے چل کر یہ کہیں ایک متوازی تنظیم نہ بن جائے۔ ایک سال بعد جماعت اسلامی نے اسلامی جمعیت طلبہ کی انفرادی خودمختار حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کردیا۔ جب جمعیت نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کیا، تو جماعت نے اس طلبہ تنظیم میں موجود اپنی افرادی قوت کو واپس بلایا اور ان کو شعبۂ طلبہ کی ذمہ داری دی، ان افراد میں الطاف احمد بھی شامل تھے۔

میں نے پہلی بار ان کو غالباً اکتوبر ۱۹۸۳ءمیں دیکھا، جب اسکول کے امتحانات ختم ہوچکے تھےاور سوپور سے اپنے ننھیال سرینگر کے قدیمی علاقے مہاراج گنج آیا ہوا تھا۔ سرینگر سے شائع ہونے والے روزنامہ آفتا ب میں الطاف صاحب کے مضامین پڑھتا تھا۔ ان دنوں اسمبلی انتخابات کی مہم زوروں پر تھی ۔ شیخ عبداللہ کی وفات کے ایک سال بعد ’نیشنل کانفرنس‘ یہ انتخابات فاروق عبداللہ کی قیادت میں اور میرواعظ کی پارٹی ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے اشتراک کے ساتھ لڑ رہی تھی۔ جماعت اسلامی نے زینہ کدل کی نشست سے الطاف احمد کو کھڑا کیاہوا تھا، جو شیروں کی کچھار میں پنجہ آزمائی کے مترادف تھا۔ ان دنوں مجھے وہاں گھر کے باہر کچھ شور سنائی دیا۔ ایک نوجوان دروازہ کھٹکھٹا کر لوگوں سے جماعت اسلامی کے نشان ترازو پرووٹ ڈالنے کی استدعا کر رہا تھا۔ ان سے علیک سلیک تو نہیں ہوئی، مگر میں نے دیکھا کہ گلی میں لوگ اس نوجوان کو گالیاں بک رہے تھے کہ وہ کیسے  شیخ عبداللہ کی پارٹی کی مخالفت کی جرأت کر رہا ہے۔مقامی مسجد کے پاس چند لوگ باتیں کر رہے تھے کہ یوسف شاہ صاحب جیسے شریف آدمی نے کیسی ناخلف اولاد کو جنم دیا ہے اور وہ کیسے اس کو برداشت کر رہے ہیں؟ اس الیکشن میںالطاف صاحب کو بس ۴۶۱ ووٹ ملے تھے۔

جیساکہ پہلے بتایا گیا ہے کہ ’فنتوش ہوزری‘کی دکان نیشنل کانفرنس وغیرہ کا گڑھ ہوا کرتی تھی، لیکن جب الطاف احمد نے کاروبار میں اپنے والد صاحب کا ہاتھ بٹانا شروع کیا تو یہ دکان جماعت اسلامی، پیپلزلیگ اور آزادی پسند کشمیری تنظیموں کے لیڈروں کا بھی ٹھکانا بن گئی۔ کمال یہ کہ یہ دکان دونوں متحارب خیالات کے لیڈروں کے مل بیٹھنے کا میٹنگ پوائنٹ بن گئی۔ الطاف احمد کی جان توڑ کوششوں سے سری نگرشہر شیخ عبداللہ اور ان کی نیشنل کانفرنس کے جادو سے آزاد ہوگیا۔

۱۹۸۶ءمیں جب ان کی شادی، محترم سیّد علی گیلانی کی تیسری بیٹی زاہدہ سے طے ہوئی، تو وہ کئی بار جیل کی صعوبتیں برداشت کرچکے تھے اور جماعت اسلامی کے سرگرم ارکان میں شامل تھے۔ اس رشتہ کی وجہ سے اگلے سال ۱۹۸۷ءکے ریاستی الیکشن میں ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا،کیونکہ ’مسلم یونائیٹڈ فرنٹ‘ (MUF) کا اتحاد جو ’نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد‘ کے خلاف بنا تھا،اس نے علی گیلانی صاحب کو پارلیمانی بورڈ اور انتخابی مہم کا سربراہ بناکرا میدواروں کو منتخب کرنے کا کام سپرد کر دیاتھا۔ اس وقت حکومتی اتحاد کے خلاف ایک زبردست لہر چل رہی تھی۔ فاروق عبداللہ کے کانگریس کے ساتھ اتحاد نے شہر میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی تھی۔ بھارت میں اس امرواقعہ پر اتفاق رائے ہے کہ ان انتخابات میں بے تحاشا دھاندلیوں اور نتائج میں ہیر پھیر کی وجہ سے ہی ۱۹۸۹ءمیں عسکری تحریک کا جنم ہوا۔ الطاف احمد شاہ، شہر سرینگر میں انتخابی اسٹریجی کی کمان کر رہے تھے۔ حزب المجاہدین کے سربراہ محمد یوسف شاہ (صلاح الدین) لال چوک حلقے سے انتخابی میدان میں تھے، اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے سربراہ محمد یاسین ملک ان کے انتخابی ایجنٹ تھے۔

الطاف شاہ سے میری پہلی ملاقات کشمیر ہاؤس دہلی میں ۱۹۹۰ءمیں ہوئی، جب میں پڑھائی کے لیے دہلی میں مقیم تھا۔ ہمارے ایک رشتہ دار کشمیر یونی ورسٹی میں پروفیسر وجیہہ احمد علوی امریکا جا رہے تھے۔ انھوں نے مجھے شام کو کشمیر ہاؤس آنے کے لیے کہا، جہاں و ہ ٹھیرے تھے۔ انھی کے کمرے میں الطاف شاہ بھی ٹھیرے تھے، جو دہلی میں سفارتی اور میڈیا اداروں کو کشمیر کی خراب صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ کشمیر ہاؤس سے باہر کہیں رہایش چاہتے تھے۔ ڈنر کے بعد وہ میرے کمرے میں ہی مقیم ہوئے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے علیحدہ رہایش کا انتظام کرلیا۔ چند ماہ بعد جب وہ عیدکے لیے سرینگر جا رہے تھے، تو ایئر پورٹ پر ان کو گرفتار کرکے جموں کے ’جائنٹ انٹروگیشن سینٹر‘ (JIC) پہنچادیا گیا۔

انھی دنوں وہاںسیّد علی گیلانی کو بھی پہنچایا گیا تھا۔ ان کے سامنے الطاف شاہ کو پورے آٹھ ماہ تک ایک تاریک قبر نما ’سیل‘ میں رکھا گیا ۔ رُوداد قفس میں سید علی گیلانی لکھتے ہیں: ’’یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ نوجوان اس قبر میں کیسے زندہ رہا؟ کسی جاندار شے کو ایک طویل عرصے تک سورج کی روشنی سے محروم رکھا جائے، تو اس کی جان دھیرے دھیرے نکلتی ہے ۔ جسم پھول جاتاہے اور اعضاء پر کائی جم جاتی ہے۔ پھر خودبخود اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔الطاف احمد شاہ صرف اس لیے اس مقتل سے زندہ لوٹ آیا کہ اللہ نے ابھی اس کی زندگی باقی رکھی تھی، ورنہ پروگرام تو یہی نظر آرہا تھا کہ گھٹ گھٹ کر، سڑ سڑ کر ، ایڑیا ں رگڑتے رگڑتے، وہ جان جانِ آفریں کے سپرد کردے‘‘۔

آٹھ ماہ تک اس اندھیری قبر میں رہنے کے بعد ان کو جموں سینٹرل جیل منتقل کیا گیا۔ جب ان کے والد اور بچے ملنے آئے، تو وہ الطاف شاہ کو پہچان ہی نہیں پا رہے تھے۔ ان کا بدن پھول چکا تھا اور آنکھیں بے نور ہو چکی تھیں۔ اس لیے ان کی فیملی نے جموں ہی میں قیام کیا ، تاکہ ادویات اور خوراک کی فراہمی سے ان کی بحالی صحت کی کوشش کریں۔ غالباً چار سال اس جیل میں قید رہنے کے بعد ان کو اس زمانے میں رہائی ملی،جب حریت کانفرنس کی تشکیل ہورہی تھی۔

الطاف احمد شاہ اور حسام الدین ایڈووکیٹ دو ایسے اشخاص ہیں، جو سید علی گیلانی کے ساتھ حکمت کار اور منصوبہ ساز کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہ دونوں کوئی شعلہ بیان مقرر تو نہیں تھے، مگر پلاننگ اوراسٹرے ٹیجی ترتیب دینا ان کا کمال تھا۔ الطاف شاہ اپنے آپ کو خاصے لو پروفائل میں رکھتے تھے۔ پورا اسیٹج وغیرہ ترتیب دے کر وہ خود پیچھے یا سامعین میں ہی بیٹھ جاتے تھے۔ ۲۰۰۳ء کے بعد جب کچھ کشمیری لیڈروںکو سیاسی ماحول حاصل ہو گیا تھا، تو ان کے مشورے پر سیّدعلی گیلانی نے اس کا بھر پور استعمال کرکے عوامی رابطہ مہم شروع کی۔ الطاف شاہ اس گھر گھر مہم کے آرگنائزر تھے۔ جس کے نتیجے میں پونچھ، راجوری اور جموں شہر سے لے کر گریز، اوڑی اورکرنا کے دُور دراز علاقوں تک علی گیلانی نے گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور مجالس میں تقاریر کیں۔

جب بارہمولہ میں ان کے میزبان کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ، تو اس کے بعد سیّدعلی گیلانی رات کو کسی مسجد میں رکتے تھے۔ اس سے عوامی رابطہ کی اور راہیں نکلتی تھیں، کیونکہ ان کے ساتھ مسجد میں پورا محلہ یا کم و بیش قصبہ کے لوگوں کا ازدحام بیٹھتا تھا۔ ۲۰۰۸ء میں کشمیر کی سیاسی تحریک کو جو جہت ملی، تو یہ عوامی رابطہ مہم، اس کی ایک بڑی بنیاد تھی۔ پھر ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۴ءکی اسٹریٹ ایجی ٹیشن، جس کو کشمیر کا ’انتفادہ‘ کہا جاتا ہے، وہ اسی مہم کی پیداوار تھی۔ اس مہم کی کامیابی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ اس بامعنی اُبھار سے بوکھلا کر ۱۵ستمبر ۲۰۰۴ءکو حسام الدین ایڈووکیٹ جیسے دانش ور اور محسن کو سرینگر میں ان کے گھر پر نامعلوم بندوق بردارو ں نے ہلاک کردیا۔ اس کے دو ماہ بعد ۷نومبر ۲۰۰۴ء کو الطاف احمد شاہ جب افطار کرنے کے بعدنماز مغرب ادا کرنے مسجد کی طرف جارہے تھے، انھیں فائر کرکے شدید زخمی کردیا گیا۔ان کے ایک پڑوسی ڈاکٹر نے بروقت طبی امداد دے کر خون روکنے کا کام کیا اور پھر سرینگر اور دہلی میں ڈاکٹروں کی اَن تھک محنت اور متعدد آپریشن کروانے کے ایک سال بعد وہ شفا یاب ہوگئے۔ ان دونوں پر قاتلانہ حملوں کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ لوگ سیّدعلی گیلانی صاحب کے قریب آنے اور کھل کر سرگرمیاں کرنے سے باز رہیں۔  علی گیلانی صاحب نے ۲۰۰۷ء میں اپنی تنظیم ’تحریکِ حریت کشمیر‘ بنائی تو اس کی تشکیل میں الطاف احمد شاہ نے مرکزی کردار نبھایا اور اسی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔

جب نوے کے عشرے میں بدبختی کے نتیجے میں ’العمر‘، ’حزب‘ اور ’جے کے ایل ایف‘ کے درمیان تنازعات نے سر اُٹھایا تو یہ الطاف احمد ہی تھے، جنھوں نے اپنے رابطوں سے معاملات کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دراصل ان کے قدرشناس ہرگروپ میں موجود تھے کہ جنھیں بُرے وقتوں میں الطاف صاحب نے مدد اور پناہ مہیا کی تھی۔ دُنیا میں کوئی فرد ایسا نہیں کہ جس سے شکایت پیدا نہ ہو۔ غلام قادروانی، سیّدعلی گیلانی صاحب کو بہت عزیز تھے۔ پہلے اُن کو اور پھر  بعض دیگر احباب کو شکایت ہوئی کہ الطاف شاہ عام لوگوں اور گیلانی صاحب کے درمیان رکاوٹ پیدا کرتےہیں۔ وانی صاحب جب مایوس ہوکر کنارہ کش ہوئےتو کچھ مدت بعد نامعلوم دہشت گردوں نے ۴نومبر ۱۹۹۸ء کو انھیں بانڈی پورہ میں ہلاک کر دیا۔

لگتا ہے کہ ۱۹۹۰ءمیں جے آئی سی اور پھر ۲۰۰۴ء میں نامعلوم بندوق بردار جس مہم میں ناکام ہوئے، ’نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی‘ ( این آئی اے) کے ذمہ داروں، تہاڑ جیل کے افسروں اور جیل ڈاکٹروں نے اس امر کو یقینی بنادیا کہ الطاف احمد شاہ اس دنیا سے کوچ کرجائیں۔ یکم اکتوبر ۲۰۲۱ء کو این آئی اے کی درخواست کے جواب میں رام منوہر لوہیا ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ میں درج ہے: ’’مریض ایک سے زیادہ اعضاء کی خرابی کے ساتھ شدید بیمار ہے، اس کو زندہ رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر اور سپورٹ کی ضرورت ہے۔ مریض کو آنکولوجی سپورٹ اور پی ای ٹی اسکین کی ضرورت ہے جو ہمارے ہسپتال میں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے مریض کو اوپر بیان کردہ مرکز میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ ان کی بیٹی روا شاہ آخری وقت تک ان کے علاج کی اپیل کرتی رہی۔

بی بی سی، لندن سے بات کرتے ہوئے روا شاہ نے بتایا تھا کہ’’ ڈاکٹروں نے بتایا کہ  اُن کا دل اور گردے بیکار ہو گئے ہیں،اور اب صرف دماغ کام کر رہا ہے۔ ابو نے کچھ کہنے کے لیے کاغذ اور قلم کا اشارہ کیا، لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی‘‘ ۔ جیل کے ڈاکٹر مہینوں تک ان کو  پین کلر دے کر واپس سیل میں بھیج دیتے تھے ۔ جب ان کی طبیعت بگڑ گئی، تو پہلے ’دین دیال اپادھیائے ہسپتال‘ میں اور پھر دہلی کے ’رام منوہر لوہیا ہسپتال‘ میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ ’’کینسر ان کے جسم میں آخری اسٹیج پر پہنچ چکا ہے اور اُن کے اہم اعضا ناکارہ ہو چکے ہیں‘‘۔ روا شاہ اپیلیں کرتی رہیں کہ ’’میرے والد کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا جائے، جہاں سرطان کے علاج کے لیے باقاعدہ شعبہ ہے‘‘۔ دہلی ہائی کورٹ کے آرڈر پر جب ان کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیاتو اس وقت تک وہ کوما میں چلے گئے تھے۔

واضح رہے تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنمائوں یاسین ملک، شبیر احمدشاہ ، آفتاب شاہ عرف شاہد الاسلام اور انجینیر رشید سمیت متعدد کشمیری لیڈروں کو کئی عارضوں کا سامنا ہے۔ یاسین ملک کی اہلیہ اور ہمشیرہ ، شبیر احمد شاہ اور آفتاب شاہ کی بیٹیاں بھی آئے روز حکام سے اپیل کرتی رہتی ہیں کہ اْن کے علاج کی خاطر انھیں انسانی بنیادوں پر گھروں میں ہی نظر بند رکھا جائے یا کم از کم ان کا تسلی بخش علاج کرایا جائے۔ الطاف احمد شاہ کی کسمپرسی میں موت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان قیدی لیڈروں کی زندگیوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے اور وہ موت کی لکیر پر چل رہے ہیں۔

  جو میدان الطاف شاہ نے چنا تھا، اس میں یہ نتیجہ معلوم ہی تھا کہ موت و حیات ہمیشہ باہم دست و گریباں رہے گی۔ اس میدان میں زندگی بہت مہنگی اور موت ارزاں ہوتی ہے۔موت، زندگی سے ایک لمحے کے فاصلے پہ تعاقب میں پھرتی ہے ۔ اس میدان میں جمے رہنے کے لیے ایمان، عزم اور ثابت قدمی چاہیے۔ دوبار انھوں نے موت کو چکمہ دیا تھا۔ شاید وہ تیسری بار بھی اس کو شکست دیتے، اگر ان کا خاطر خواہ علاج کرایا جاتا یا تہاڑ جیل کے ڈاکٹر اپنے پیشے کے اصولوں سے انحراف نہیں کرتے___انا للہ وانا الیہ راجعون۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم معروف عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘(A1) نے حال ہی میں جاری اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے:’’جموں و کشمیر میں پچھلے دو برسوں یعنی اپریل ۲۰۲۰ءسے مارچ ۲۰۲۲ءتک پولیس مقابلوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد سے ا ب تک شہریوں کی ہلاکتوں میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق: ’’مقامی قوانین کی منسوخی کے نتیجے میں سات اداروں بشمول انسانی حقوق کمیشن کو تحلیل کر دیا گیا، جس سے خطے کے لوگوں کے لیے انصاف کا حصول مشکل تر ہو گیا ہے‘‘۔ اس تنظیم کے مطابق: ’’خطے کے ہائی کورٹ میں اس وقت ایک ہزار۳سو۴۶ حبس بے جا مقدمات التواء میں ہیں۔ مجموعی طور پر حبس بے جا کی درخواستو ں میں پچھلے تین برسوں میں ۳۲ فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ عدالت نے جن ۵۸۵ درخواستوں کی سماعت شروع کی ہے، ان میں اب تک صرف ۱۴ درخواستیں ہی نمٹائی گئی ہیں‘‘۔

 رپورٹ نے ۶۰ ایسے واقعات کی تفصیلات درج کی ہیں، جن میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو یا تو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا یا پھر حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد نیوز میڈیا اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگا کر قومی تحقیقاتی ایجنسی اور محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے مسلسل چھاپوں اور تحقیقات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہراساں کیے جانے اور ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے بہت سے صحافی یا تو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا پیشہ ہی چھوڑ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صحافیوں، وکلا، سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنان، اور تاجروں سمیت ۴۵۰ سے زائد افراد کو بغیر کسی عدالتی حکم کے ’نو فلائی لسٹ‘ میں رکھا گیا‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا ہے: ’’۵؍ اگست ۲۰۱۹ء سے ۵؍ اگست۲۰۲۲ء کے درمیان صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ماہرین تعلیم سمیت کم از کم چھ افراد کو بغیر کسی وجہ کے بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا گیا‘‘۔ انسانی حقوق کے ایک محافظ نے جسے بیرون ملک پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا:’’ سفری پابندیاں جبر کے انداز کا ایک اور پہلو ہیں۔یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کو حکام نے ملک کے اندر اور باہر آزاد، تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا ہے‘‘۔

پچھلے تین برسوں میں بھارتی حکومت نے۱۶۴ مقامی قوانین منسوخ کیے اور ۲۴۳ مرکزی قوانین کی اس خطے تک توسیع کی، مگر بد نامِ زمانہ مقامی قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ‘ جو فوجی اہل کاروں یا نیم فوجی تنظیم کے اہل کاروں کو کسی بھی شخص کو مکمل استثنیٰ کے ساتھ گولی مارنے یا قتل کرنے کا اختیار دیتا ہے،مضبوطی سے نافذ ہے۔ ’نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو‘ (NCRB) کے اعداد و شمارکے مطابق جموں و کشمیر میں انسداد دہشت گردی قانون (UAPA) کے استعمال میں ۱۲ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت حکام کسی بھی فرد کو بغیر چارچ شیٹ دیئے، ۱۸۰ دن تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

            ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شکایت کی ہے کہ ’’بھارت میں اس کے لیے برسرِزمین کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے دفاتر پر یلغار کرکے اس تنظیم کے خلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ ۲۰۰۲ء، فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ ۱۹۹۹ء اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ۲۰۱۰ء اور دیگر قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ستمبر۲۰۲۰ء میں، بھارتی حکام کی جانب سے تنظیم کے خلاف مسلسل مہم جوئی کے بعد، ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اپنا دفتر بند کرنے پر مجبور کیا گیا،اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کے تمام بنک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے۔ اس رپورٹ میں ایمنسٹی نے بتایا:’’برسرِزمین کام کرنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے مختلف افراد سے انٹرویو کا سہارا لینا پڑا۔ انٹرویو دینے والوں نے تنظیم کو بتایا کہ ان کے نام ظاہر ہونے کی صورت میں ان کو اور ان کے رشتہ داروں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کئی صحافیوں نے ایمنسٹی کے اہل کاروں سے بات کرنے سے ہی انکار کردیا‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۲۲؍ اگست ۲۰۲۲ء کو بھارتی حکومت کو اس صورت حال کے حوالے سے خط لکھا ، مگر رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

رپورٹ میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء سے جموں و کشمیر میں کم از کم ۲۷ صحافیوں کو بھارتی حکام نے گرفتار اور نظر بند کیا ہے۔پریس کونسل آف انڈیا (PCI) نے اپنی ’فیکٹس فائنڈنگ رپورٹ‘ میں بتایا ہے کہ ۲۰۱۶ء سے اب تک اس خطے میں کم از کم ۴۹صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ کو غیر قانونی سرگرمیوں کی (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومتی یا آر ایس ایس میڈیا نے گیارہ صحافیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے انھیں حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر ’ریاست مخالف بیانیہ‘ بتایا اور ا ن پر الزام لگایا کہ ان کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔

            جولائی ۲۰۲۰ء میں، سیکورٹی اہل کاروں نے کشمیر کے ضلع شوپیاں میں تین افراد کو ’دہشت گرد‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ہلاک کیا۔ تین افراد نے گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ انکوائری کے نتیجے میں طے پایا کہ مسلح افواج کے ارکان نے اختیارات سے تجاوز کیا تھا، مگر ان فوجیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مقدمہ چلاناکسی کے بس میں نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مبینہ مجرموں، خاص طور پر حراستی تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے ملزمان کو قانونی چارہ جوئی اور جواب دہی سے بچانے کے لیے سکیورٹی اہل کاروں کے ٍمقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء تک، جموں و کشمیر کا اپنا ریاستی انسانی حقوق کمیشن تھا جس کو ختم کر دیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بات کرتے ہوئے، ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ جسٹس بلال نازکی نے کہا: ’’جس وقت اس ادارے کو تحلیل کیا گیا، اس وقت اس میں ۸ہزار سے زیادہ زیر التوا مقدمات تھے‘‘۔دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی تین برسوں سے سماعت نہیں کی۔ ایک وکیل نے تنظیم کو بتایا کہ ’’عدالتیں مناسب وجوہ بتائے بغیر مقدمات کی سماعت میں تاخیر کرتی ہیں۔اس خطے میں،  جموں و کشمیر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ موجود تھا جس کی جگہ نیشنل رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، نے لے لی۔ مگر مرکزی حق اطلاعات ایکٹ کو برسوں کے دوران مسلسل کمزور کیا گیا ہے ‘‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ انتظامی حراست اور دیگر جابرانہ قوانین کے تحت من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے خلاف باقاعدہ عدالت میں فوری اور منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت کو فیصلہ سازی کے عمل میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمایندگی اور شرکت بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہییں۔ غیر قانونی نگرانی کے اقدامات، من مانی حراست، اور آزادیٔ اظہار پر پابندیاں لگانے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اقدامات کو چھپانے کی حکومت کی کوششیںجموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے‘‘۔

بھارت میں مذہبی تفریق کی بنیاد پر فسادات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ۱۹۴۷ءمیں آزادی کے بعد سے پچھلے ۷۴برسوں کے دوران بھارت کے طول و عرض میں ۶۰ ہزار سے زیادہ فسادات ہوئے ہیں۔ انڈین نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۰ءکے عرصے میں ۴ہزار ایک سو ۷۵ فسادات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ بھارت کے طول و عرض میں ہر روز دوفسادات ہوئے ہیں۔ ان فسادات کے نہ ختم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ فسادات میں ملوث افراد کو شاید ہی کبھی سزا ملتی ہے۔ جہاں تک ہمارے علم میں ہے، ۱۹۸۴ءکے سکھ مخالف فسادات اور ۲۰۰۲ءکے گجرات کے مسلم کش فسادات، صرف دوایسی مثالیں ہیں، جن کی پیروی کی گئی اور قصورواروں کو عدالتوں نے سزائیں بھی سنائیں۔

سکھوں کے خلاف بلوہ کرنے والے کانگریسی رہنماؤں اور فسادیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام گوردوارپرببندھک کمیٹی نے کیا، تو گجرات کے فسادات میں ملوث بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈروں اور کارکنوں کو جیلوں تک پہنچانے کا کریڈٹ سماجی کارکن تیستا سیٹلوارڑ، ان کے شوہر جاوید آنند اور چند باضمیر پولیس افسران کے سر جاتا ہے۔ جنھوں نے ہزاروں مشکلات کے باوجود برسوں تک عدالتوں میں گجرات فسادات کی پیروی کی،گواہوں اور مقدمے کی دستاویزات اور ثبوتوں کی حفاظت کروائی، کئی کیسوں کو گجرات سے باہر مہاراشٹرہ منتقل کروایااور قصور واراں کو سزائیں دلوائیں۔ شاید یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ ۲۰۰۲ءکے بعد گجرات میں کوئی بڑی فرقہ وارانہ واردات برپا نہیں ہوئی۔ ورنہ ایک سابق سینیر پولیس افسر وبھوتی نارائین رائے کے بقول جنھوں نے ۱۹۸۹ء میں اترپردیش کے میرٹھ شہر میں ہاشم پورہ اور ملیانہ قتل عام کی ابتدائی تحقیقات کی تھیں، ’’فسادات سے نپٹنے کے نام پر پولیس اکثر مسلمان نوجوانوں کو ہی حراست میں لیتی ہے، پھر فسادیوں کے ساتھ تصفیہ کرواکے رہا کراتی ہے‘‘۔

تین عشروں پر پھیلے صحافتی کیریر کے دوران فسادات کو کور کرتے ہوئے میں نے بھی یہی دیکھا ہے کہ ایک توپولیس کا کردار جانب دارانہ رہتا ہے اور پھر فسادات تھمنے کے بعد وہ دونوں اطراف کے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کو جیل بھیج دیتی ہے، تاآنکہ وہ جیل میں ہی سمجھوتہ کرکے ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ واپس لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔چند سال قبل آسام میں انتخابات کے دوران جب میں نے وہاں چند سیاسی رہنماؤں کو یاد دلایا کہ ’’۱۹۸۳ء میں اس صوبہ میں نیلی کے مقام پر دس ہزار بنگالی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا، اس کی تفتیش کہاں تک پہنچی ہے؟ ‘‘ تو وہ میرا منہ تکتے رہے او ر کہا کہ ’’ہم اب آگے بڑھ گئے ہیں اور ان فسادات کو ہم نے یادداشت سے کھرچ دیا ہے۔ کیا ایسا دنیا میں کہیں ممکن ہے؟‘‘

گجرات فسادات کیس میں نہ صرف اب تیستا سیتلواڑ اور ان کی تنظیم ’سب رنگ ٹرسٹ‘ کو حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی سے پنجہ آزمائی کی سزا دی جارہی ہے،بلکہ جن قصور واروںکو انھوں نے عدالتوں کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا تھا ، اب ان کی سزائیں معاف کی جارہی ہیں یا ان کو ضمانتوں پر رہا کیا جا رہا ہے۔ سیتلواڑ کی تنظیم پر پہلے غیر ملکی عطیہ لینے پر پابندی عائدکی گئی اور اس کے بعد ان کے خلاف تفتیش کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا گیا کہ ابھی جون میں ان کی ممبئی میں واقع رہایش گاہ پر گجرات پولیس نے یلغار کرکے ان کو حراست میں لے لیا۔ سیتلواڑ کے علاوہ سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آر بی سری کمار اورایک اور پولیس آفیسر سنجیو بھٹ پر بھی مقدمہ دائرکر کے جیل پہنچا دیا گیاہے۔

گجرات ہی میں ایک کیس بلقیس بانو کا تھا، جنھیں ۳مارچ ۲۰۰۲ء کو فسادات کے دوران اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ اس وقت ۱۹ سال کی تھیں اور حاملہ تھیں۔ احمد آباد کے قریب فسادیوں نے اس کی تین سالہ بیٹی سمیت اس کے خاندان کے چودہ افراد کو قتل کر دیا تھا۔ ایک آدمی نے بیٹی کو اس کی ماں کے بازو سے چھین کر اس کا سر پتھر پر دے مارا تھا۔عدالت کے فیصلہ کو ،جس میں یہ واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ آخر ایک انسان اس قدر درندہ صفت کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ سبھی قصور وار اور مجرمان بلقیس بانو کے پڑوسی تھے۔ پچھلے ہفتے اس کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے گیارہ افراد کو گودھرا جیل سے رہا کر دیا گیا، کیوں کہ گجرات حکومت نے معافی کی پالیسی کے تحت ان کی درخواست منظور کر لی ہے۔صوبہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) راج کمار نے صحافیوں کو بتایا ’’چونکہ مجرموں نے ۱۴سال جیل میں گزارے ہیں اور ساتھ ہی دیگر عوامل جیسے عمر، جرم کی نوعیت، جیل میں سلوک کی بنیاد پر یہ درخواست منظور کی گئی ہے۔ تاہم، راج کمار یہ بتانا بھول گئے کہ خواتین کو ہراساں کرنے اور زنا بالجبر جیسے جرائم میں معافی نہیں ہے۔ پھر ان مجرموں کی رہائی کے وقت ان کا جس طرح استقبال کیا گیا، اس سے ایک پیغام تو واضح ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی جرم کو برداشت کیا جائے گا اور اس کو انجام دینے والا ہیرو ہے۔ دراصل مجرموں میں سے ایک، رادھے شیام شاہ نے ۱۴ سال قید کی سزا کاٹنے کے بعد معافی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور کورٹ نے اس کو قیدیوں سے متعلق صوبہ کی کمیٹی سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس کمیٹی کے ایک رکن اور گودھرا کے موجودہ بی جے پی ممبر اسمبلی سی کے راؤلجی کا کہنا ہے کہ ’’یہ مجرمین ’برہمن‘ ہیں اور ’اچھے اخلاق‘ کے مالک ہیں‘ ‘۔

یہ صرف بلقیس بانو کا کیس نہیں ہے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد سے نئی دہلی میں مودی کی حکومت آنے کے بعد سے تو کئی قصورواروں کو رہا کیا گیا ہے۔ آنند ضلع کے اوڈ گاؤں کے ۴۰سالہ ادریس نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا کہ:’’میری دادی، والدہ اور ایک قریبی دوست کو میرے سامنے ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔ قاتلوں کی اس بھیڑ میں میرے سکول کے دوست اور پڑوسی بھی شامل تھے۔ میرے خاندان کے افراد کے قتل کے معاملے میں ۸۰ ملزمان نامزد تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی جیل میں نہیں ہے۔ سب کو عدالت سے ضمانت مل چکی ہے‘‘۔

                احمد آباد سے متصل نرودا پاٹیہ میں ہوئے قتل عا م میں نچلی عدالت نے بی جے پی کی وزیر مایا کوڈنانی کو فسادات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے اسے ۲۸ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں ’بجرنگ دل‘ کے بابو بجرنگی کو بھی قصوروار ٹھیرایا گیا تھا ۔جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کوڈنانی نے بطور مقامی ممبر اسمبلی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ جب انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ نریندرا مودی کی حکومت میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی وزیر تھیں۔ اس معاملے میں موجودہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شا نے مایا کوڈنانی کے حق میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نے کوڈنانی کو ریاستی اسمبلی میں دیکھا تھا‘‘۔اس کیس کے ۳۲ قصورواروں میں سے۱۸کو ہائی کورٹ نے بری کر دیا، جن میں کوڈنانی بھی شامل ہیں، جب کہ ۱۳؍ افراد کو قصوروار پایا گیا۔ سزا پانے والوں میں بابو بجرنگی بھی شامل ہیں، تاہم ان کی عمر قید کی سزا کو کم کر کے ۲۱ سال کر دیا گیا۔

                شمالی گجرات کے پٹن ضلع کے سردار پورہ گاوٗں میں ۳۳مسلمانوں نے ایک گھر میں پناہ لی تھی۔ فسادیوں نے اس کا گھیراؤ کرکے اس میں بجلی کے ایک ننگے تار سے کرنٹ دوڑا دیا جس سے ۲۹؍افراد کی جائے حادثہ پر ہی موت واقع ہو گئی تھی۔ہجوم نے گاؤں کی تمام سڑکیں بند کر دیں تاکہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو اپنی جان بچانے کا موقع نہ ملے۔سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی) کی تشکیل کر دی گئی اور ۲۲ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔اس سے قبل بھی کئی افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق اس قتل عام میں دو سرکردہ افراد سرپنچ کچرا بھائی پٹیل اور سابق سرپنچ کنو بھائی پٹیل ملوث تھے اور ان دونوں کا مبینہ طور پر بی جے پی سے تعلق تھا۔ان فسادات کے ایک اہم گواہ ادریس وورا ، جس نے اپنی دادی، اپنی ماں اور اپنے ایک قریبی دوست کو کھو دیا تھا، صرف اس لیے بچ گئے کہ انھوں نے خود کو ۱۰گھنٹے سے زیادہ بیت الخلا میں بند رکھا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں یہ حقیقت ہضم نہیں کر سکتا کہ سب کچھ تباہ کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ۲۰سال بھٹکنے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا‘‘۔

                اسی طرح مہسانہ کے وِس نگر کے دیپدا دروازہ علاقے میں گیارہ مسلمانوں کے قتل کے الزام میں پولیس نے ۷۹؍ افراد کو گرفتار کیا تھا اور پھر ان سبھی کو ضمانت دے دی گئی ۔ ا ن میں اب ۶۱لوگوں کو بری کر دیا گیا ہے، جن میں وس نگر کے سابق بی جے پی ممبر اسمبلی پرہلاد پٹیل اور میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے صدر داہیا بھائی پٹیل بھی شامل ہیں۔ان فسادات کے دوران تین برطانوی شہریوں کو بھی اور ان کے ڈرائیور کو ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ سے آنے والے عمران داؤد اپنے تین رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ہجوم نے گاڑی کو روک کر ایک ہی جگہ دو افراد کو نذر آتش کر دیا۔ دو افراد جان بچا کر بھاگے، لیکن ہجوم نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں مار ڈالا۔ پولیس کی مدد سے عمران داؤد خود کو بچانے میں کامیاب رہے۔ اس معاملے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا، لیکن ان سبھی کو نچلی عدالت سے رہا کر دیا گیا۔

۲۸ فروری ۲۰۰۲ءکو چمن پورہ کی گلبرگ سوسائٹی میں رہنے والے ۶۹؍ افراد کو ہجوم نے قتل کر دیا۔ کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ سوسائٹی میں ۱۹بنگلے اور ۱۰؍ اپارٹمنٹس تھے۔ مقامی پولیس نے میگھانی نگر پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرنے کے بعد ۴۶ لوگوں کو گرفتار کیا۔ ایس آئی ٹی کی جانچ شروع ہونے کے بعد اس معاملے میں ۲۸دیگر کو گرفتار کیا گیا اور کل ۱۲ چارج شیٹ داخل کی گئیں۔ کل ملزمان میں سے ۲۴کو سزا سنائی گئی،جب کہ ۳۹ کو بری کر دیا گیا۔اس قتل عام میں اپنے رشتہ داروں کو کھونے والی ۶۴سالہ سائرہ بانو کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، شناخت ہونے کے بعد بھی انھیں ضمانت دے دی گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اس کے مطابق ملزموں کی گرفتاری تیستا سیتلواڑ اور آر بی سری کمار جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں کی مدد سے ہی ممکن ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے سے چند منٹ قبل تک احسان جعفری، پولیس ، وزارت داخلہ کے افسران ، حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر مسلسل فون کرتے ہوئے مدد کی درخواست کررہے تھے۔

                بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات تو پہلے بھی ہوتے تھے اور ان میں فسادیوں کا چھوٹنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فرق تو یہ ہے کہ عدالتوں سے مجرم ثابت ہونے اور سزائیں پانے کے بعد بھی انصاف کے عمل کا منہ چڑا کر اس کو بے دست و پا کردیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے ۲۰کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ یا تو وہ دوسرے درجے کے شہری بننا منظور کریں یا کہیں اور چلے جائیں۔ چونکہ کانگریسی دور میں سیکولرازم کا ملمع چڑھا ہوتا تھا، اس لیے فسادات کے بعد کوئی مرکزی وزیر یا حکمران پارٹی کا بڑا لیڈر دورہ پر آتا تھا۔ پہلے تو وہ ہندو علاقوں میں جاکر ان کی پیٹھ تھپتھپاتا تھا اور پھر مسلم علاقے میں آکر اشک شوئی کرکے ریلیف بانٹتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر   ایک لیکچر دے کر چلا جاتا تھا۔ اب رسمی طور پر بھی کوئی لیڈر مسلم علاقے کا رخ نہیں کرتا ہے۔ بھارت کی مرکزی کابینہ میں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کے مستعفی ہونے کے بعد اب کوئی ایک مسلمان وزیر نہیں ہے۔ بی جے پی کی حکومت والے ۱۶صوبوں میں کوئی مسلم وزیر نہیں ہے۔ صرف اتر پردیش جہاں کل آبادی کا ۲۶ء۲۹ فی صد مسلمان ہیں ایک مسلم وزیر ہے۔ بھارت میں صوبائی اسمبلیوں میں کل ۴۱۲۱ نشستیں ہیں۔ ان میں صرف ۲۳۶ مسلمانوں اراکین ہیں۔کل ۲۸صوبوں میں ۵۳۰کے قریب وزرا ہیں۔ جن میں صرف ۲۴مسلمان ہیں۔ ان میں سے بھی پانچ وزیر حال ہی میں بہار میں اس لیے شامل کیے گئے، کیونکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اتحادی بی جے پی سے ناتا توڑ کر سیکولر راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ مل کر اَزسر نو حکومت تشکیل دی۔ یہ تو طے ہے کہ مسلمانوں کو اس حد تک کنارے لگایا جاچکا ہے کہ ان کی نمایندگی کی کوئی ضروت ہی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ بھارت کی سیاست نے ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے۔ مگر سوال ہے کہ کیا ۲۰کروڑ سے زائد افراد کو پس پشت ڈال کر اور ان کو ہیجان میں مبتلا رکھ کر اور کسمپرسی کا احساس دلا کر اس نظام کو قائم و دائم رکھا جا سکتا ہے؟ بھارتی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

جنگ اور فساد کا سب سے زیادہ خمیازہ خواتین اور بچوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگست ۲۰۱۹ء سے لے کر اب تین برس کے عرصے میں جموں و کشمیر کے بچوں میں دماغی اور نفسیاتی عارضے جیسے مسائل میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ ’فورم فار ہیومن رائٹس آن جموں و کشمیر ، جس کے سربراہان دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اجیت پرکاش شا اور سابق سیکرٹری داخلہ گوپال کرشنا پلیے ہیں، انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ ، خطے میں نابالغوں کو بد نام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر ریاست کے باہر دُور دراز جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے، اور حراست کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس فورم کے اراکین جن میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کئی سابق جج صاحبان کے علاوہ سابق سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ، بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ کپل کاک، جنرل ایچ ایس پناگ، میجر جنرل اشوک مہتہ، تاریخ دان رام چندر گوہا اور کئی دیگر باوقارافراد شامل ہیں، کشمیر میں نابالغ افراد ، خاص طور پر بچوں کی ابتر ہوتی صورت حال پر چیخ اُٹھے ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’خطے میں بچوں کے لیے قائم کی گئی عدالت، جس کو ’جیوئنایل [Juvenile] جسٹس بورڈ،[ JJB: بچوں کو انصاف فراہم کرنے والا بورڈ] کا نام دیا گیا ہے، یا تو معطل ہے یا سیکورٹی اداروں کے سامنے بے بس ہے‘‘۔ ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب ’’جے جے بی کی ایک ممبر صفیہ رحیم نے ایک زیر حراست بچے کی ضمانت کی عرضی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ، پولیس کو نوٹس جاری کیے، تو پولیس نے ایسے کسی بھی بچے کی موجودگی سے انکار کردیا۔ مگر پھر خاصے لیت و لعل کے بعد ۳۰ دن گزار کر اس کو جے جے بی کے سامنے پیش کیا۔ رہا کرنے کے بجائے ضمانت کی عرضی کے بعد اس پر باضابط ایف آئی آر درج کی گئی۔ ا ن مؤثر افراد کا کہنا ہے کہ: ’’خطے میں صرف ’جیوئنایل جسٹس ایکٹ‘ [۲۰۱۵ء]کی دھجیاں ہی نہیں اڑائی جارہی ہیں، بلکہ پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعات، جن کے مطابق کسی نابالغ کو زیر حراست نہیں رکھا جاسکتا، ان کو بھی نظرانداز کیا جاتا ہے‘‘۔ رپورٹ میں شوپیان کے ۱۴سالہ آفتاب (نام تبدیل کیا گیا ہے) کا ذکر کیا گیا ہے، جس کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے پہلے پولیس اسٹیشن میں کئی روز رکھا گیا اور پھر سیکڑوں کلومیٹر دُور اتر پردیش کے وارانسی شہر کی جیل میں بھیج دیا گیا۔ دوسرے مقدمے میں ایک اور نابالغ سلمان کو حراست میں لیا گیا، اگرچہ عدالت، یعنی جے جے بی نے اس کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات صادر کیے، مگر رہا ہوتے ہی اس کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

مؤثر افراد کے اس فورم کے مطابق کئی مقدمات میں پولیس نے ان نابالغ افراد کی عمریں غلط درج کی تھیں، اور ان کی عمریں ثابت کرنے کی ذمہ داری والدین اور ان بچوں پر ڈالی ہوئی تھی۔ عموماً اگر عدالت Ossification،یعنی ہڈیوں کی تشکیل سے عمر کا تعین کرنے کا حکم صادر کرتی ہے، تو اس میں میـڈیکل سائنس کی رو سے دو سال کی کمی و بیشی کا مارجن ہوتا ہے۔ دیگر خطوں میں پولیس یا عدالتیں عمر میں کمی کو تسلیم کرتی ہیں، مگر کشمیر میں پولیس عمر میں اضافے کو تسلیم کرکے ان بچوں کو بالغ مان کر ان کی حراست میں توسیع کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیر حراست نابالغ افراد کی اصل تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے اور جس طرح بچوں کے ساتھ پولیس اور نظم و نسق کے دیگر ادارے پیش آتے ہیں، اس سے ان بچوں کی ایک بڑی تعداد شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ دسویں جماعت کے عفان کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اس کو دفعہ ۳۷۰کو منسوخ کرنے کے خلاف ایک پُرامن جلوس میں شرکت کرنے پر حراست میں لیا گیا۔ گو کہ ۱۵دن کے بعد اس کے والدین اس کو رہائی دلانے میں کامیاب تو ہوئے، مگر اس دوران وہ ایک نفسیاتی مریض بن چکا ہے اور اکثر بدن میں درد کی شکایت کرتا رہتا ہے‘‘۔ اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’’کس طرح ۱۸ماہ سے کم عمر کے دودھ پیتے بچے بھی پیلٹ گن کے چھروں کا شکار ہوگئے؟ آخر اس عمر کے بچے کیسے جلوس یا کسی احتجاج کا حصہ تھے کہ جس کی وجہ سے ان کو یہ سبق سکھانا پڑا؟‘‘ فورم کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ’’کم از کم گیارہ ایسے بچوں کے بارے میں ان کو معلومات ملی ہیں، جو پیلٹ گن کی وجہ سے عمر بھر کے لیے اپاہج ہوگئے ہیں۔ اگر صرف حراست میں لینا یا پیلٹ گن سے نشانہ بنانا کافی نہیں تھا، تو نئی صورت حا ل میں اب بچوں کو گاؤں یا کسی آبادی میں تلاشی کی مہم کے دوران آگے رکھ کر آپریشن کیا جاتا ہے، جس سے ان پر جسمانی اور نفسیاتی طور پر دُور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں‘‘۔

رپورٹ کے مطابق ۵؍اگست۲۰۱۹ءکو دفعہ۳۷۰ اور ۳۵-اے کے خاتمے سے قبل ہی خطے میں بچوں کے سلسلے میں تسلی بخش صورت حال نہیں تھی۔ وانی گام کے سولہ سالہ حازم کا ذکر کرتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’وہ اپنے والدین کے ساتھ کھیت میں کام کر رہا تھا کہ عسکریت پسندوں اور نیم فوجی دستوں کے درمیان پاس ہی جھڑپ شروع ہوگئی۔ جب سبھی اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ جگہ چلے گئے، تو والدین کو معلوم ہوا کہ حازم ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اگلے روز کھیت میں اس کی لاش ملی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’بچوں میں عسکریت اختیار کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کے لیے شہری زندگی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ ۱۵سالہ کاشف ،جس کو ۸؍اپریل ۲۰۲۱ء کے ایک معرکہ میں ہلاک کیا گیا، اس نے ۲۰مارچ ۲۰۲۱ء کو عسکریت اختیار کی تھی۔ اسی طرح ۱۴سالہ گلزار کو جب ہلاک کیا گیا، وہ صرف چار روز قبل اپنا گھر چھوڑ کر مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہو گیا تھا۔ گو کہ حکومتی حلقوں نے ان مؤثر افراد کو بتایا:’’عسکریت کو پاکستان سے شہہ ملتی ہے، مگر اپنی جگہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر اینکروں کے ذریعے چلائی جارہی شر انگیز مہم سے ان بچوں کے اذہان متاثر ہوتے ہیں اور وہ غصے اور بے بسی کا شکار ہوکر عسکریت اختیار کرتے ہیں‘‘۔

ڈاکٹروں نے یہ رپورٹ مرتب کرنے والے دانش وروں کو بتایا کہ ’’خطے میں۹۴ فی صد افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہیں‘‘۔کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ ’’جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی سے بچوں میں ذہنی تناؤ، غصہ، چڑچڑاپن، ڈراؤنے خواب اور صدمے کی کیفیت جیسی شکایات عام ہوگئی ہیں‘‘۔ اسی طرح انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ہیلتھ اور نیورو سائنسز کے حوالے سے بتایا گیا: ’’خطے میں نشہ آور ادویات کے استعمال میں ۱۵۰۰گنا کا اضافہ ہوا ہے‘‘۔ تعلیم کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشمیر میں ڈراپ آوٹ ریٹ ۱۷ فی صد تک ریکارڈ کیا گیا ہے اور کئی اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد طالب علموں سے زیادہ ہے‘‘۔ رپورٹ کے آخر میں جے جے بی کو مزید اختیارات دینے اور ہائی کورٹ کے ذریعے وقتاً فوقتاً تفتیشی ٹیموں کو حراستی مراکز میں بھیج کر وہاں بچوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ ۲۰۱۰ء کی بات ہے کہ جب کشمیر میں حالات انتہائی خراب تھے ، تو کیلاش سیتیارتھی ، جن کو بعد میں ملالہ یوسف زئی کے ساتھ ’حقوق اطفال‘ پر نوبیل انعام سے نوازا گیا،کے ایک لیکچر میں ، میںنے شرکت کی۔ لیکچر کے اختتام پر جب میں نے ان کی توجہ کشمیر میں بچوں پر ہونے والے ظلم کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ، تو وہ کنی کترا گئے اور اس کو سیاسی مسئلہ قرار دے کر اپنا دامن چھڑا لیا۔ انھی دنوں اخبارات میں تصاویر چھپی تھیں کہ کس طرح پولیس کے سپاہی تیسری سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر امتحانی مراکز میں پرچے حل کرانے  کے لیے لارہے تھے۔ ذرائع ابلاغ میں ہاہاکار مچنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بجائے ان بچوں کی رہائی کے، پولیس نے ان فوٹو گرافروں کی خوب خبر لی جنھوں نے یہ تصویریں لی تھیں۔

یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ حقوقِ اطفال کے لیے سرگرم کارکن جہاں پوری دنیا میں بچوں کو حقوق دلانے میں سرگرم ہیں، وہیں کشمیر میں ان مظالم کی پردہ پوشی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک عشرہ قبل ہالینڈ کے ایک نوبیل انعام یافتہ عالم گیر نیٹ ورک نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’دنیا میں اس وقت جتنے بھی شورش زدہ اور جنگ زدہ علاقے ہیں، ان میں کشمیر میںبچوں کے خلاف تشدد اور عورتوں کی بے حرمتی کے واقعات کی صورت حال نہایت تشویش ناک ہے ۔ ہالینڈ کے ادارے  (تاسیس: ۲۲دسمبر ۱۹۷۱ء - Medecins Sans Frontieres - MSF) نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھاکہ ’’وادی میں دماغی حالت اور نفسیاتی عارضے جیسے مسائل میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہےاور اس کا شکار خصوصاً بچے ہورہے ہیں‘‘۔ بلاشبہہ انصاف او ر توجہ کے منتظر ہیں، کشمیر کے بچے اور بچیاں! شایدکوئی ان معزز اور مؤثر افراد کی رپورٹ اور ان کی سفارشات پر کان دھرے۔

یوں تو ہر روز بھارت کے طول و عرض پر پھیلے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، مستقبل اور ایمان سے کھیلنے کے متعدد واقعات برقی اور طباعتی ذرائع ابلاغ پر شائع ہوتے ہیں، لیکن گذشتہ دنوں اس جارحیت نے ایک دوسرے طریقے سے پیش قدمی کی۔

بھارتی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو ترجمانوں کی جانب سے ٹی وی کے ایک لائیو شو میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے خلاف عالمِ عرب کے رد عمل نے عرب دنیا میں بھارتی سفارت کاری کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے ۔ دس دن تک بھارت میں مسلمان، نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے، مگر ان کو عرب دنیا کے رد عمل کے بعد ہی پارٹی سے معطل کیا گیا ۔

پاکستان،ترکیہ،ملایشیا، ایران بشمول ’اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے احتجاجات کو بھارتی حکومتیں عموماً نظر انداز یا مسترد کرتی تھیں ، مگر عالم عرب کے موجودہ رد عمل کی وجہ سے آج کل آئے دن مشرق وسطیٰ میں موجود بھارت کے سفارت کار ان ملکوں کے متعلقہ افسران اُمورخارجہ، میڈیا کے نمایندوں ، سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افرادکے دروازوں پر دستک دے کر یہ پیغام دینے کی کوششیں کررہے ہیں کہ: ’’بی جے پی کے ترجمانوں کا رد عمل اضطراری تھا اور حکومت کا ان کے اس عمل کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے اوران کو پارٹی سے الگ کر دیا گیا ہے‘‘۔ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے بارے میں عالمی فورمز پر سخت موقف اختیار کرنے کی وجہ سے ۲۰۱۹ء سے سزا کے بطور بھارتی وزارت خارجہ نے جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ فارن آفس ڈائیلاگ کو معطل کرکے رکھ دیا تھا۔ مگر اس قضیے کے بعد آناً فاناً وزارت خارجہ میں سیکرٹری ویسٹ سنجے ورما نے انقرہ کا دورہ کرکے اس ڈائیلاگ کا احیا کر دیا ۔ ان کو خدشہ تھا کہ کہیں ترکی بھی عربوں کی طرح سرکاری طور پر احتجاج نہ درج کروادے ۔

یہ امرواقعہ سیکڑوں برسوں کی تاریخ میں ثبت ہے کہ جب بھی مسلمانوں یا ان کے حکمرانوں نے عصبیتوں اور ذاتی فوائد سے بالاتر ہوکر ایک جسد واحد کی حیثیت سے عمل یا ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے، تو اس کے خاصے دیرپا اور مثبت نتائج نکلے ہیں ۔ عالم عرب کے اس رد عمل نے بھارت میں ہندو قوم پرستوں کی نیندیں حرام کر کے رکھ دیں ہیں ۔ اس سے قبل چاہے بابری مسجد کی مسماری کا مسئلہ ہو یا فرقہ وارانہ فسادات___ ان کے فوراً بعد ہی کسی جید عالم دین یا دینی تنظیم کے رہنما کو حکومت کی طرف سے مسلم ممالک کا دورہ کرواکے وہاں کے حکمرانوں تک پیغام پہنچایا جاتا تھا کہ یہ بس چند شرپسندوں کی کارستانی تھی اور یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور حکومت اس سے احسن و خوبی کے ساتھ نپٹ رہی ہے‘‘ ۔ انھیں یہ بھی باور کرایا جاتا تھا کہ’’ آپ کی مداخلت سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوسکتی ہے‘‘۔ مگر اب کی بار چونکہ اس وقت معاملہ پیغمبر ؐ اسلام کا تھا، اور شاید اب جید عالم دین یا دینی تنظیم کے لیڈر وں کو اس حد تک کنارے لگایا جا چکا ہے کہ وہ اب مسلم ملکوں میں بھارتی حکومت کی غیر سرکاری سفارت کاری کرنے سے گریزاں ہیں ، اس لیے بھی وزیراعظم نریندر مودی کے سفارت کار عالم عرب میں برپا ہونے والے رد عمل کی روک تھام نہیں کر پا رہے ہیں ۔

اس دوران میں ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ (RSS) کے ایک مرکزی لیڈر او ر نظریہ ساز رام مادھو نے مسلمانوں کو تین نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ بھارت میں سکون کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں ۔ یہ شرطیں کچھ اس طرح کی ہیں: ’’مسلمان غیر مسلموں کو کافر نہ کہیں ، مسلمان خود کو امت اسلام یا مسلم امت کا حصہ سمجھنا ترک کردیں، اور مسلمان جہاد کے نظریئے سے خودکو الگ کریں ‘‘۔

پہلی اور تیسری شرط کےلیے مشاہیر اورعلما کو رام مادھو کو جواب دینا چاہیے۔ دوسری شرط یعنی مسلمانوں کے امت کے تصورسے ہمیشہ ہی نہ صرٖ ف ہندو قوم پرست بلکہ لبرل عناصر بھی نالاں رہے ہیں اور ایک عرصے سے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر کوششیں ہو رہی ہیں کہ مسلمان اس تصور سےوابستگی کو رد کردیں۔

اگر ماضی پہ نظر دوڑائوں تو یاد آتا ہے کہ ایک بار کشمیر کے بارے میں نئی دہلی میں محکمہ دفاع کے ایک تھنک ٹینک نے سیمی نار کا انعقاد کیا تھا۔ اس موقع پر ایک حاضر سروس بریگیڈیر نے امت کے اس تصور ہی کو کشمیر کے ایشو کی جڑ قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ اس کی بیخ کنی کرنی ضروری ہے۔ بھارتی فوج کے ان اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے مکہ میں فریضہ حج ادا کرنے سے بھی اس تصور کو تقویت ملتی ہے ۔ اس لیے بھارت ہی میں مکہ یا کعبہ کا کوئی ماڈل تیار کرکے، یا مسلمانوں کو ہرسال سعودی عرب جانے کے بجائے درگاہ اجمیرشریف جانے کی ترغیب دلائی جائے‘‘۔

اسی طرح ایک بار کشمیر پر ٹریک ٹو ڈائیلاگ میں بظاہر نہایت ہی لبرل کشمیری پنڈت دانش ور نے بھی مسلمانوں میں امت کے تصور کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بس یہی ایک چیز بین المذاہب مکالمہ میں رکاوٹ بنتی ہے ‘‘۔ ان دنوں فرانس میں سکھوں کی پگڑی پہننے کا معاملہ درپیش تھا،اور بھارتی حکومت نے اس کو حکومت فرانس کے ساتھ اٹھایا تھا اور چین کے کیلاش پہاڑوں میں ہندوؤں کی مانسرور یاترا کی تیاریا ں بھی ہو رہی تھیں ۔ میں نے ان سے پوچھا: ’’محترم پنڈت صاحب، آخر ان دونوں معاملات پر بھارتی حکومت کیوں اتنی زیادہ فعال ہے؟  اس تصور کو تو پھر ہندوازم سے بھی خارج کرنا ضروری ہے ‘‘۔

۱۸فروری ۲۰۰۷ء کو ’سمجھوتہ ٹرین دھماکوں‘ کے بعد جب ہندو دہشت گردی کی بازگشت سنائی دینے لگی، تو میں نے جنوبی دہلی میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم ویشیوا ہندو پریشد (VHP) کے ہیڈ کوارٹر میں ہندو قوم پرستوں کے شعلہ بیان لیڈر ڈاکٹر پروین بائی توگڑیا کا انٹرویو کیا ۔ وہ اس وقت تنظیم کے انٹرنیشنل جنرل سیکرٹری تھے ۔ میں نے چھوٹتے ہی پہلا سوال کیا:’’آپ توایک ڈاکٹرہیں اور وہ بھی کینسر اسپیشلسٹ ۔ آپ انسانوں کے جسم سے کینسر دور تو کرتے ہیں ، مگر سوسائٹی میں کیوں کینسر پھیلاتے ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا: ’’ہم بھارتی سوسائٹی میں مدرسہ اور مارکسزم کو کینسر سمجھتے ہیں اور ان دونوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پُرعزم ہیں، چاہے اس کے لیے سرجری کی ضرورت ہی کیوں نہ پڑے؟‘‘ کئی اور سوالوں کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ ’’بھارت میں تو تقریباً ۲۰کروڑ مسلمان بستے ہیں، اور ان سبھی کو تو آپ ختم نہیں کرسکتے ۔ کیا کوئی شکل نہیں ، کہ ہندو اور مسلمان شانہ بشانہ پُرامن زندگی گزارسکیں؟‘‘ اپنے مخصوص انداز میں میز پر مکہ مارتے ہوئے انھوں نے کہا:’’ہاں ہاں کیوں نہیں ،ہم مانتے ہیں کہ مسلمانوں نے بھارت کے کلچر اور تہذیب کو پروان چڑھانے میں تعاون کیا ہے، مگر ہمیں شکایت مسلمانوں کے رویے سے ہے ۔ وہ اپنے مذہب کے معاملے میں احساس برتری کا شکار ہیں ۔ وہ ہندوؤں کو نیچ اور غلیظ سمجھتے ہیں اور ہمارے دیوی دیوتاؤں کی عزت نہیں کرتے ۔ ہمیں مسلمانوں سے کوئی اور شکایت نہیں ہے ، اگر وہ ہندو جذبات کا خیال رکھیں‘‘۔

میں نے تو گڑیا سے پوچھا:’’ہندو جذبات سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘ توان کا کہنا تھا: ’’ہندو کم و بیش ۳۲  کروڑدیو ی دیوتاؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کوئی ناک کا مسئلہ نہیں کہ ہم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بھی اسی طرح عزت افزائی کریں، مگر مسلمان اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں ، اور نہ اپنے یہاں کسی ہندو دیوی دیوتا کی تصویر یا مورتی رکھتے ہیں ‘‘ اپنے دفتر کی دیوار پر سکھ گورو نانک اور گورو گوبند سنگھ کی لٹکتی تصویر اور کونے میں مہاتما بدھ اور مہاویر کی مورتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، توگڑیا نے کہا:’’دیگر مذاہب، یعنی سکھوں ، بدھوں اور جینیوں نے ہندوؤ ں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھا ہے، جو مسلمانوں کو بھی سیکھنا پڑے گا ۔ اور تو اور مسلمان محمود غزنوی، اورنگ زیب، محمد علی جناح، اور دہلی کے امام احمد بخاری کو اپنا رہنما مانتے ہیں ، یہ سبھی ہندو رسوم و رواج کے قاتل تھے ۔ شاید ہی کوئی مسلمان داراشکوہ، عبدالرحیم خان خاناں، امیرخسرو یا اسی قبیل کے دانش وروں کو قابل تقلید سمجھتا ہے ۔ یہ سبھی شخصیتیں ہمارے لیے قابل احترام ہیں ، مگر بخاری اور علی جناح نہیں ہوسکتے‘‘۔

اسی طرح ایک روز بھارتی پارلیمان کے سینٹرل ہال میں ، میں نے صوبہ اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ سے، جو ان دنوں ممبر پارلیمنٹ تھے پوچھا: ’’ آپ آئے دن مسلمانوں کے خلاف بیانات داغتے رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کی آبادی کروڑوں میں ہے ۔ ان کو تو ختم کیا جاسکتا ہے نہ پاکستان کی طرف دھکیلا جاسکتا ہے ۔ کیا کوئی طریقہ نہیں ہے، کہ اس ملک میں ہندو اور مسلمان شانہ بشانہ پُرامن زندگی گزارسکیں؟‘‘ ; تو انھو ں نے کہا: ’’ہندو حکمرانوں کے کبھی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رہے ہیں ۔ مگر اب و ہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کا مذہب ، تہذیب و تمدن مسلمانوں اور عیسائیوں کی زد میں ہیں اور ان مذاہب کے پیشوا اور مبلغ ہندوؤ ں کو آسان چارہ سمجھتے ہیں ۔ ہمارے دیوی دیوتاؤں کی عزّت نہیں کرتے اور ہندو جذبات کا خیال نہیں رکھتے‘‘۔ لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے جارہی تھی، مسلسل کورم کی گھنٹی بجائی جا رہی تھی ۔ یوگی جی اب ایوان میں جانے کےلیے کھڑے ہوگئے، مگر جاتے جاتے پروین توگڑیا کا جملہ دہرایا:’’مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دیگر اقلیتوں سکھوں ، جین فرقہ اور پارسیوں کی طرح ہندو دھرم کی برتری تسلیم کرتے ہوئے اس ملک میں چین سے رہیں‘‘۔

اسی طرح غالباً گجرات فسادات کے بعد ۲۰۰۲ء میں ایک مسلم وفد آر ایس ایس کے اُس وقت کے سربراہ کے سدرشن جی سے ملنے ان کے صدر دفتر ناگپور چلا گیا، جس میں اعلیٰ پایہ مسلم دانشور شامل تھے ۔ ملاقات کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو کم کرنے کے لیے آرایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم کی لیڈر شپ کو قائل کرنا تھا اور اُن کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کے نظریئے کو بیان کرنا تھا ۔ جب اس وفد نے سدرشن جی سے پوچھا:’’کیا مسلمانوں اور ہندوؤں میں مفاہمت نہیں ہوسکتی ہے؟ کیا رسہ کشی کے ماحول کو ختم کرکے دوستانہ ماحول میں نہیں رہا جاسکتا جے؟‘‘ اس کے جواب میں کے سدرشن نے مسلم وفد کو بتایا: ضرور آر ایس ایس مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرسکتی ہے، لیکن اس کے لیے یہ شرط ہے کہ آپ لوگ اسلام ہی کو برحق اور سچا دین کہنا چھوڑ دیجیے اور کہیے کہ اسلام بھی برحق اور سچا دین ہے تو ہماری آپ کے ساتھ مفاہمت ہوسکتی ہے‘‘۔

اسلام ہی حق ہے کے بجائے اسلام بھی حق ہے، کا مطالبہ کرنا بظاہر ایک معمولی بات ہے اور یہ مطالبہ اب فرقہ پرست ہی نہیں ، بلکہ لبرل مسلمانوں کی طرف سے بھی کیا جارہا ہے ۔ آرایس ایس، علماو دانش وروں پر مبنی اُس وفد کواُس وقت قائل نہیں کرسکی کیونکہ وفد کے تمام لوگ دینی علوم سے مکمل طور پر واقفیت رکھتے تھے اور اُس مطالبے کو ماننے سے ایمان کا کیا حشر ہوجائے گا، اس بات کی بھی وہ بخوبی واقفیت رکھتے تھے ۔

اپنی سوانح حیات یادوں کی بارات میں معروف شاعر جوش ملیح آبادی بھارت کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کے ساتھ اپنی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ انھوں نے انگریزی میں مجھ سے کہا، آپ نے سنا ہوگا کہ میں مسلمان کا دشمن ہوں۔ آپ جس قدر خوفناک برہنہ گفتار آدمی ہیں، اسی قدر میں بھی ہوں، اس لیے آپ سے صاف صاف کہتا ہوں کہ میں آپ کے ان تمام مسلمانوں کی بڑی عزت کرتا ہوں ، جن کے خاندان باہرسے آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں ، لیکن میں ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا ، جن کا تعلق ہندوقوم کے شودروں اور نیچی ذاتوں سے تھا، اور مسلمانوں کی حکومت کے اثر میں آکر انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ لوگ دراصل نہایت متعصب، شریر، اور فسادی ہیں ، اور اقلیت میں ہونے کے باوجود، ہندو اکثریت کو دبا کر رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔

سردار پٹیل کا یہ جملہ ہندو قوم پرستوں کی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ ان کو امت کے تصور سے زیادہ اسلام کے آفاقی اور سماجی انصاف کے نظام سے خطرہ لاحق ہے ، جو حج کے وقت یا امت کے تصور سے ظاہر ہوجاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پچھلے ایک ہزار برس اس خطے پر حکومت کرنے کے باوجود مسلمان جنوبی ایشیا میں اس سماجی انصاف کے نظام کو لاگو نہیں کرپائے، بلکہ خود ہی طبقوں اور ذاتوں میں بٹ گئے، ورنہ شاید اس خطے کی تاریخ اور تقدیر مختلف ہوتی !

علامہ اقبال کے بقول: ’’جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ جس میں، بندو ں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے‘‘، یعنی عددی طاقت کے بل پر حکومتیں وجود میں آتی ہیں اور اکثریتی آبادی کو حق خود اختیاری کا احساس دلا کر ملک کو استحکام فراہم کرتی ہیں۔خود اس جمہوری ڈرامے کو بے اثر کرنے کے لیے دنیا کے ملکوں میں مخصوص گروپ، پارٹیوں کی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال کر سیاست پر اجارہ داری قائم رکھنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت نے حال ہی میں مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی چالاکی اور دھوکا دہی (Gerrymandering)کا سہارا لیتے ہوئے جس طرح پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی حد بندیوں کا اعلان کیا ہے ، اس کی واحد مثال دنیا میں جنوبی افریقہ کے سابق نسل پرستانہ نظام میں ملتی ہے، جہاں جمہوری اداروں کے ہوتے ہوئے بھی اکثریتی سیاہ فام آبادی کو بے وزن اور بے اختیار بنا دیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر میں طاقت کے سبھی اداروں ، عدلیہ، افسر شاہی اور پولیس میں اکثریتی آبادی کی نمایندگی پہلے سے ہی برائے نام ہے، وہاں ایک موہوم سی اُمید سیاسی میدان یا اسمبلی میں نمایندگی پر ٹکی ہوتی تھی، جس پر اب نئی دہلی حکومت کے حلقہ بندی حملے سے ایک کاری ضرب پڑ چکی ہے۔ اس اقدام کے بعد شاید نئی دہلی کے حکمرانوں کو جموں و کشمیر میں میر صادقوں یا میرجعفروں کو پالنے کی بھی اب ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ ’چالاکی اور دھوکے‘ کے اس نظام کے ذریعے اب وہ خود ہی اقتدار اور عوام کی تقدیر کے مالک ہوں گے۔ 

 ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو جموں و کشمیر کے سیاسی و انتظامی وجود کو تحلیل کرنے کے بعد بھارتی حکومت نے جسٹس رنجنا ڈیسائی کی قیادت میں حد بندی کمیشن تشکیل دیا اور اسے سیٹوں کی نئی حد بندی کا کام تفویض کیا۔

دنیا بھر میںانتخابی حد بندی کے لیے آبادی اور جغرافیائی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کرنشستوں کا تعین کیا جاتا ہے، مگر چونکہ کشمیر کی مثال ہی انوکھی ہے، اس لیے آبادی اور جغرافیائی حقیقتوں کے  ان دونوں معیارات کو پس پشت ڈال کر فرقہ وارانہ بنیاوں پر اور ہندو اکثریتی جموں خطے کو بااختیار بناکر، ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے عمل کو مستحکم کیا گیا ہے۔ کمیشن میں ہندو نسل پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نمایندے جیتندر سنگھ نے پہلے تو آبادی کے بجائے جغرافیہ کو معیار بنانے کی ضد کی تھی، کیونکہ آبادی کے لحاظ سے اگرچہ وادیٔ کشمیر کو برتری حاصل ہے، تاہم جغرافیے کے لحاظ سے جموں خطے کا رقبہ زیادہ ہے۔ مگر بعد میں ان کو خیال آیا کہ جغرافیہ کا معیار ان کے اپنے مفادات پر پورا نہیں اترتا ہے ، کیونکہ جموں خطے میں جغرافیہ کے لحاظ سے اس کے دومسلم اکثریتی ذیلی علاقوں پیر پنچال اور چناب ویلی کا رقبہ ہندو اکثریتی توی خطے سے زیادہ ہے۔ ان خطوں میں مسلم آبادی کا تناسب بالترتیب۷۴ء۵۲  فی صد اور ۵۹ء۹۷ فی صد ہے۔

’حد بندی کمیشن‘ نے اپنی رپورٹ میں جموں کے لیے ۶ سیٹیں بڑھانے اور کشمیر کے لیے محض ایک نشست بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ اب نئی اسمبلی میں وادیٔ کشمیر کی ۴۷ اور جموں کی ۴۳سیٹیںہوں گی۔ان نشستوں میں ۱۶ محفوظ نشستیں ہوں گی۔ نچلی ذات کے ہندوؤں، یعنی دلتوں یا شیڈیولڈ کاسٹ کے لیے ۷؍ اور قبائلیوں، یعنی گوجر، بکروال طبقے کے لیے ۹سیٹیں مخصوص ہوں گی۔ اس سے قبل کشمیر کے پاس ۴۶ اور جموں کے پاس ۳۷سیٹیں تھیں۔ وادیٔ کشمیر کی سیٹیں اس لیے زیادہ تھیں کیونکہ ۲۰۱۱ءکی سرکاری مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۶۸ء۸لاکھ تھی، جب کہ جموں خطے کی آبادی ۵۳ء۷ لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی، یعنی کشمیر کی آبادی جموں سے ۱۳لاکھ زیادہ تھی۔  جس کی وجہ سے اسمبلی میں اس کے پاس جموں کے مقابلے ۹ سیٹیں زیادہ تھیں، جب کہ اصولاً یہ فرق ۱۲سیٹوں کا ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ کشمیر میں اوسطاً ایک لاکھ ۵۰ ہزار نفوس پر ایک اسمبلی حلقہ ترتیب دیا گیا تھا،جب کہ جمو ں کے اسمبلی حلقوں کی اوسطاً آبادی ایک لاکھ ۴۵ ہزار رکھی گئی تھی۔

پچھلی اسمبلی میں بھی مسلم آبادی کی نمایندگی جو آبادی کے اعتبار سے ۶۸ء۳۱ فی صد ہونی چاہیے تھی، ۶۶ء۶۶ فی صد تھی،جب کہ ہندو نمایندگی ، جو ۲۸ء۴۳ فی صد ہونی چاہیے تھی، ۳۱فی صد تھی۔ اب وادیٔ کشمیر میں ۱ء۴۶ لاکھ کی آبادی پر ایک ممبر اسمبلی اور جموں میں ۱ء۲۵ لاکھ کی آبادی پر ایک ممبر اسمبلی ہوگا۔ فرق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کے مسلم اکثریتی ذیلی پیرپنچال خطہ میں ۱ء۴۰  لاکھ کی آبادی پر ایک ممبر اسمبلی، جب کہ ہندو اکثریتی جموں۔ توی خطے میں ۱ء۲۵  لاکھ آبادی پر ایک ممبر اسمبلی ہوگا۔ یعنی وادی کشمیر کا ایک ووٹ جموں کے ۰ء۸ ووٹ کے برابر ہوگا۔

جمہوریت کی اس نئی شکل میں بندو ں کو گننے کے بجائے تولنے کا کام کیا گیا ہے اور ان کے مذہب اور نسل کو مدنظر رکھ کر ان کے ووٹ کو وزن دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیر پنچال کی  ۸  میں سے ۵ سیٹوں کو گوجر آبادی کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ اس خطے میں چونکہ پہاڑی آبادی کثیرتعداد میں آباد ہے، اس لیے یہ قدم مستقل طور پر ان دونوں مسلم برادریوں کے درمیان تنازع کا باعث ہوگا۔ قانونی طور پر گوجر وں کو شیڈولڈ قبائل کا درجہ دیا گیا ہے، مگر انھی علاقوں میں انھی جیسے غربت اور پسماندگی کے شکار پہاڑی طبقے کو اس سے آزاد رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ’حدبندی کمیشن‘ نے سفارش کی ہے کہ ۱۹۹۰ء میں کشمیر سے ہجرت کر چکے کشمیری پنڈتوں، یعنی ہندوؤں کے لیے دو نشستیں محفوظ کی جائیںگی۔جس میں ایک کے لیے لازماً پنڈت خاتون ہونی چاہیے۔ ان دو نشستوں کے لیے انتخابات کے بعد نئی حکومت ممبر نامزد کرے گی۔ اسی طرح دہلی ، ہریانہ، پنجاب اور جموں میں بسنے کے لیے ۱۹۴۷ءمیں تقسیم ہند کے وقت جو مہاجرین، پاکستان کے زیر انتظام خطوں یا آزاد کشمیر سے آئے تھے، ان کے لیے بھی سیٹیں مخصوص کرنے اور امیدوار نامزد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مگر ان کے لیے تعداد کا تعین حکومت پر چھوڑا گیا ہے ۔ ان دونوں زمروں میں آنے والے اُمیدوار اگرچہ نامزد ہوں گے، مگر ان کو قانون سازی اور حکومت سازی کے لیے ووٹنگ کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ گو کہ حکومتیں، قانون ساز ایوانوں میں امیدوار نامزد کرتی ہیں، مگر وہ ووٹنگ کے حق سے محروم ہوتے ہیں۔عام طور پر حکومت سازی کے لیے ووٹنگ کا حق براہِ راست انتخاب کے ذریعے منتخب امیدواروں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ۱۹۴۷ءکے مہاجرین کے لیے ۴ سے ۵ نشستیں مخصوص ہوسکتی ہیں۔ چونکہ پنڈتوں اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں ۹۰سے اوپر ہیں، اس لیے ان کے لیے جولائی میں پارلیمان کے مون سون اجلاس میں قانون سازی کی جائے گی۔ اس طرح ۹۶ یا ۹۷رکنی ایوان میں جموں یا ہندو حلقوں کی نشستیں ۴۹یا ۵۱تک ہوں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاجرین کی یہ نشستیں پاکستانی زیرانتظام یا آزاد کشمیر کی اسمبلی کی طرح ہوں گی، جہاں ۱۲نشستیں مہاجروں کے لیے مخصوص ہیں، جو اس علاقے سے باہر پاکستان میں آبادہیں۔

اسمبلی حلقوں کو ترتیب دیتے ہوئے حدبندی کمیشن نے جموں اور کشمیر کے خطو ں کی الگ الگ کلچرل اور مذ ہبی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر سفارشات کی ہیں۔ مگر جب پارلیمانی سیٹوں کا معاملہ آگیا، تو کمیشن نے یکایک یہ فیصلہ کیا کہ پورے جموں و کشمیر کو ایک اکائی مانا جائے گا۔ یہ حیرت انگیز فیصلہ کرتے ہوئے جنوبی کشمیر، یعنی اننت ناگ یا اسلام آباد کی سیٹ کو جموں کے پونچھ -راجوری علاقے سے جوڑا گیا ہے۔ مسلم اکثریتی گوجر ۔پہاڑی طبقات کی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ جموں-توی سیٹ سے منسلک ہوتا تھا اور بی جے پی کا امیدوار اس علاقے سے ہارتا تھا۔ اس فیصلے سے حکومت نے ایک تیر سے کئی شکار کیے ہیں۔

دراصل پرانے زمانے سے ہی وادیٔ کشمیر بھی تین خطوں پر مشتمل ایک علاقہ ہے۔ ایک طرح سے یہ تین صوبے ہوتے تھے۔ ان میں:

’مراز‘ یعنی جنوبی کشمیر (اننت ناگ، پلوامہ ، شوپیان)

 ’یمراز‘ یعنی وسطی کشمیر، جس میں سرینگر، بڈگام وغیرہ کا علاقہ شامل ہے اور

 ’کمراز‘ یعنی شمالی کشمیر (بارہمولہ، سوپور، کپواڑہ) کے علاقے شامل ہیں___

یہ اپنی ایک جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے سیاسی لحاظ سے بھی اکثر مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں ’مراز‘ یعنی جنوبی کشمیر واحد خطہ ہے، جو صد فی صد کشمیر نسل کی نمایندگی کرتا ہے۔ اسی لیے چاہے ۱۹۷۹ءمیںپاکستانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر ردعمل ہو،یا ۱۹۸۷ء کا ’مسلم یونائیٹڈ فرنٹ‘ (MUF) کا الیکشن ہو، یا ۲۰۰۲ء سے ۲۰۱۴ءکے انتخابات ہوں،یا برہان وانی کی ہلاکت کا معاملہ ہو، یہ خطہ بس ایک آواز میں متحداور متحرک ہوکر ایک طرف ہوجاتا ہے۔ دیگر د و خطے ’یمراز‘ یا ’کمراز‘ مختلف النسل کے افراد گوجر، بکروال، پہاڑی اور کشمیری نسل کے مشترکہ علاقے ہیں۔

لگتا ہے جنوبی کشمیر کو پونچھ- راجوری سے ملانے کا واحد مقصد اس کی کشمیری شناخت کو کمزور کرنا ہے۔یہ دونوں خطے صرف مغل روڈ کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور یہ رابطہ چھ ماہ تک بھاری برف باری کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ اگر کبھی انتخابات اکتوبر اور مئی کے درمیان منعقد ہوتے ہیں، تو اس سیٹ پر قسمت آزمائی کرنے والے امیدواروں کو اننت ناگ سے پونچھ جانے کے لیے رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ، ادھم پوراور پھر جموں کے اضلاع سے ہوتے ہوئے تقریباً ۶۰۰کلومیٹر سے زائد پہاڑی اور دشوار گذار راستہ طے کرنے کے بعد اس پارلیمانی نشست کے دوسرے حصے میں انتخابی مہم چلانے کے لیے جا نا پڑے گا۔

اس کے علاوہ ’حدبندی کمیشن‘ نے۱۳نشستوں کے نام تبدیل کیے ہیں اور ۲۱کی سرحدیں اَز سر نو تشکیل دی ہیں۔ ان میںمرحوم سید علی گیلانی کے آبائی علاقے زینہ گیر کو سوپور سے علیحدہ کرکے رفیع آباد میں ضم کردیا ہے اور سنگرامہ حلقے کے تارزو علاقے کو سوپور میں ملادیا ہے۔ یہ ساری کارگزاری، مسلم آبادی کی عددی اور سیاسی قوت کی کمر توڑنے کے لیے کی گئی ہے۔

دنیا بھر میں شورش اورعدم استحکام کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی آبادی کو بااختیار بناتے ہوئے ان کا غصّہ ٹھنڈا کیا جاتا ہے، مگر کشمیر شاید واحد خطہ ہے، جہاں اکثریتی آباد ی کو دیوار کے ساتھ لگا کر امن و اما ن کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیریو ں کی عزت نیلام کرکے ان کو اب اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے اور بیگانہ بنانے کا ایک گھنائونا کھیل جاری ہے۔

کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا عمل تو جاری ہے اور اب ’حدبندی کمیشن‘ نے اس عمل کو مزید آگے بڑھا دیا ہے۔جموں کشمیر کی جدید صحافت اور انگریزی اخبار کشمیر ٹائمز کے بانی آنجہانی وید بھسین ۱۹۴۷ءکے واقعات، اور جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کے چشم دید گواہ تھے، جوقتل عام کو روکنے کے لیے بلراج پوری اور اوم صراف کے ہمراہ والی کشمیر مہاراجا ہری سنگھ کے محل پہنچے۔ وہ بتاتے تھے:’’ ہمیں جلد ہی وزیر اعظم مہرچند مہاجن کے رُوبرو لے جایا گیا۔ وہ اُلٹا ہمیں سمجھانے لگا کہ ہندو ہونے کے ناطے، ہمیں اسمبلی اور دیگر اداروں میں مسلمانوں کے برابر نشستوںکا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ اب جمہوری دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور عددی قوت کے بل پر ہی اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا جاسکتا ہے‘‘۔ اوم صراف نے جرأت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پوچھا:’’یہ آخر کس طرح ممکن ہے، جموں و کشمیر تو ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے؟‘‘ اس پر مہاجن نے محل کی دیوار سے متصل کھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’بالکل اس طرح‘‘۔ جب ہم نے بغور دیکھا تو چند مسلم گوجروں کی بے گور و کفن لاشیں نظر آئیں، جو شاید صبح سویرے محل میں دودھ دینے آئے تھے‘‘۔ـ بقول وید جی، ’’ہری چند مہاجن ریاست کی آبادی کا فرقہ وارانہ پروفائل تبدیل کرنے پر مصر تھا‘‘۔

 ۲۰۲۲ء میں یہ خواب ’حد بندی کمیشن‘ کی رپورٹ نے تقریباً پورا کرکے کشمیری مسلمانوں کو ۱۹۴۷ءسے پہلے والی پوزیشن میں دھکیل کر سیاسی یتیمی اور بے وزنی کی علامت بناکر رکھ دیاہے۔ جب خونیں سرحد کے پار سیاسی اور سفارتی مدد دینے کا دعویٰ کرنے والا وکیل بھی اپنے ہی گرداب میں پھنسا ہو، تو اس صورت حال پر نوحہ خوانی کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے!

 

؍اپریل ۲۰۲۲ءکو وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد، باقی مدت کے لیے شہباز شریف نئے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پاکستان کے نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے درمیان مبارک باد کے برقی پیغامات کے بعد باضابط خطوط کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں دونوں لیڈروں نے پُرامن اور باہمی اشتراک پر مبنی تعلقا ت پر زور دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’’ایسا پُرامن اور بااعتماد اشتراک نتیجہ خیز بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان علاقائی امن و سلامتی کے لیے پُر عزم ہے‘‘۔ اس سے قبل نریندرا مودی نے اپنے خط میں اُمید ظاہر کی کہ ’’پاکستان کے نئے حکمران بھارت کے مرکزی ایشو، یعنی دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑنے میں مدد کریں گے‘‘۔ خطوط کے ان تبادلوں کو نئی دہلی کے حکومتی حلقے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ چندر شیکھر ، اندر کمار گجرال اور اٹل بہاری واجپائی سمیت بھارت کے سبھی وزرائے اعظم کے دلوں میں نواز شریف کے لیے ہمیشہ ایک نرم گوشہ رہا ہے، جس کا میں نے بارہا مشاہدہ کیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھارت کا دورہ کرنے والا ایک پاکستانی وفد گجرال صاحب سے ملا، تو انھوں نے نواز شریف کو برطرف اور قید کرنے پر ان کو خوب سنائیں اور ناراضی کا اظہار کیا۔

واجپائی نے بھی ایک بار بتایا تھا کہ ’’۱۹۹۸ءمیں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سبکدوش وزیر اعظم گجرال نے مجھ کو بتایا تھا کہ ’’پاکستان میں شریف حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوسکتے ہیں‘‘۔ ۲۸مئی ۱۹۹۸ء کو پاکستان کے جوابی طور پر جوہری دھماکوں کے بعد گجرال کے اسی یقین نے واجپائی کو لاہور بس سے سفر کرنے کی ترغیب دی۔سنڈے آبزرور کے چیف ایڈیٹر محمدسعید ملک، گجرال اور نواز شریف کی نیویارک میں ۱۹۹۷ء میں ملاقات کے وقت بھارتی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔انھوں نے اس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ــ’’ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر جہاز میں ہم صحافیوں نے گجرال صاحب سے اس ملاقات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ’’ایک مطالبہ جو نواز شریف صاحب نے نہایت ہی زورو شور سے رکھا، وہ یہ تھا کہ بھارتی حکومت دوبئی کے راستے ان کی شوگر مل کے لیے رعایتی نرخوں پر مشینری فراہم کروائے اور ان مشینوں پر میڈان انڈیا کا لیبل نہ لگا ہو‘‘۔اس جواب کا سننا تھا کہ کسی بھی صحافی نے بھارتی وزیر اعظم سے کشمیر یا دیگر امور پر کوئی مزید سوال پوچھنے کی زحمت نہیںکی، جب کہ اس سے قبل کئی صحافی ان امور سے متعلق سوالات پوچھنے کی تیاریاں کر رہے تھے‘‘۔

 خود نریندرا مودی نے بھی کئی بار نوا ز شریف کی تعریفیں کرتے ہوئے بتایا کہ ’’۲۰۱۴ء میں نئی دہلی میں میری بطور وزیراعظم ہند کی حلف برداری کی تقریب میںشرکت کرکے نوازشریف نے اعتماد سازی میں پہل قدمی کی‘‘۔ بلکہ بعد میں ۲۰۱۵ء میں روسی شہر اوفا میں ملاقات کے بعد جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا، تو اس میں پہلی باربھارت اور پاکستان کی کسی دستاویز سے ’کشمیر‘ غائب تھا۔ نواز شریف نے اپنے وفد کو بتایا تھا کہ ’’نریندرا مودی کو سکون دینا ضروری ہے، تاکہ پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد ان کو پاکستان کے ایشوز پر عملی اقدامات اٹھانے کی ترغیب دی جائے‘‘ ۔ اوفا کے علاوہ اسی سال دونوں لیڈروں نے پیرس میں اور پھر لاہور میں بھی ملاقاتیں کیں۔

اس کے برعکس، بھارتی ادارے، پاکستان پیپلز پارٹی سے خائف رہتے ہیں، اگرچہ  بے نظیر بھٹو، آصف زرداری اور ان کے اہل خانہ نے کانگریس حکومت کے دور میں سونیا گاندھی اور ان کی فیملی کے ساتھ سماجی تعلقات بڑھانے کی بہت کوششیں بھی کی تھیں۔ ’بھٹو،زرداری خاندان‘ اپنے آپ کو ایک طرح سے بھارت کی’ نہرو،گاندھی فیملی‘ کے ہم پلہ سمجھتا رہا ہے۔ مگر بھارت میں کوئی بھی سیاسی رہنما، اپنے دفترخارجہ اور دفاعی اداروں کو پس پشت ڈال کر کوئی بھی تعلق قائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے، اور وہ بھی اس وقت جب معاملہ پاکستان سے متعلق ہو۔

دراصل بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے وزارت عظمیٰ کی دوسری مدت کے دوران بے نظیربھٹو کو بھارت کے حوالے سے کبھی معاف نہیں کیا ہے۔ وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی کا پاکستان کے دورے پر آئے بھارتی خارجہ سیکرٹری جے این ڈکشت کو ملاقات کے لیے وقت نہ دینا اور پھر ۱۹۹۵ء میں نئی دہلی کے سارک چوٹی مذاکرات میں پاکستانی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی عدم شمولیت ایسے گہرے زخم ہیں، جن کے لیے بھارتی قومی ادارے، پاکستان پیپلز پارٹی کو معاف نہیں کرپا رہے ہیں۔ بے نظیر نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے صدر فاروق لغار ی کو نئی دہلی بھیجا اور انھوں نے پاکستانی سفارت خانے میں حریت لیڈروں کو مدعو کرکے ان سے ملاقات کی، اس طرح بھارت پاکستان مذاکرات سے قبل کشمیر کے لیڈروں سے صلاح و مشورہ کرنے کی داغ بیل ڈالنے کا جرأت آمیز قدم اُٹھایا۔

 ۲۰۰۷ء میں ’انڈیا ٹوڈے سمٹ‘ کے موقعے پر جب بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم ڈاکٹر  من موہن سنگھ سے ملاقات کی، تو ذرائع کے مطابق انھوں نے شکوہ کیا کہ ’’آمریت کے خلاف پیپلزپارٹی کی جدوجہد اور بحالی جمہوریت کی کوششوں کو بھارت میں سراہا نہیں جاتا ہے، جب کہ بھارت خود دنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے‘‘۔ بعد میں اس وقت کے قومی سلامتی مشیر ایم کے نارائنن سے میں نے سوال کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’پیپلز پارٹی، حزبِ اختلاف میں ہو؟ تو بھارت سے خوب پینگیں بڑھاتی ہے، مگر اقتدارمیں آکر بھارت مخالف ایجنڈے کو ہوا دیتی ہے اور پھر چونکہ اس کا فوج کے ساتھ تنائو رہتا ہے، اسی لیے پیش رفت بھی نہیں کرپاتی ہے‘‘۔

خیر، پاکستان میں اب پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی اقتدار میں برابر کی شریک ہے۔ مسلم لیگ کا بھارت میں اور پیپلز پارٹی کا مغربی دنیا میں اچھا اثر و رسوخ ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں اگر اس خیر سگالی کو کشمیری عوام کی مشکلات آسان کرنے کے لیے استعمال کریں، تو بہت اچھا ہوگا۔ ابھی حال ہی میں بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، فضائیہ کے نائب سربراہ کپل کاک، سابق بیوروکریٹ وجاہت حبیب اللہ ، سماجی کارکن شاشوبھا بھاروے اور معروف صحافی بھارت بھوشن پر مشتمل ’فکر مند شہریوں‘ (Concerned Citizens Group)نے کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’’خطے میں خوف و ہراس کی ایسا فضا قائم ہے، جس میں لوگ آپس میں سرگوشی تک کرنے سے بھی گھبراتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’کشمیر اس وقت جارج آرویل کے ناول ۱۹۸۴ءاورآرتھر کوسٹلر کے ناول Darkness At Noonکی عملی تصویر پیش کرتا ہے‘‘۔ دونوں کتابیں حکمرانوں کی طرف سے شہریوں پر عائد حد سے زائد نگرانی اور ظلم و ستم کا احاطہ کرتی ہیں۔ ایک دانشور نے سرینگر میںاس گروپ کو بتایا کہ ’’کشمیر کی نئی نسل کے سامنے بھارتی جمہوریت کے گن گنوانا تو اب ناممکن ہوگیا ہے‘‘۔ ایک بزنس لیڈر نے وفد کو بتایا کہ حالات روز بروز مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار سے باہر بھی ہوجاتی ہے، مگر جو نفرت اب معاشرے میں پھیلا دی گئی ہے، اس کا تدارک کرنے میں کافی وقت لگے گا‘‘۔

اگرچہ بھارتی سیکورٹی فورسز تقریباً ہر روز کشمیر میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر ان کی تعداد حکومت کے اپنے بیان کے مطابق ۲۰۰ سے کم ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عسکریت کو مقامی طور پر نئے ساتھی مل رہے ہیں۔ ایک اور لیڈر نے اس وفد کو بتایا کہ ’’وزیر داخلہ نے سیاسی لیڈروں ، بشمول حریت کانفرنس کو خاموش تو کرادیا ہے، مگر وہ بندوق کو خاموش کرانے میں فی الحال ناکام رہے ہیں‘‘۔ ایک جہاندیدہ سیاستدا ن نے اس وفد کو بتایا کہ ’’ہم کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اب یہ کیفیت کس طرح اپنے آپ کو ظاہر کرے گی، بتانامشکل ہے‘‘۔

کشمیری پنڈتوں پر بنائی گئی زمینی حقائق کے بالکل برعکس فلم ’کشمیر فائلز‘ کے بارے میں وادیٔ کشمیر میں رہنے والے پنڈتوں کا کہنا تھا کہ ’’اس فلم سے ان کو فائدہ کے بجائے اُلٹا نقصا ن ہورہا ہے۔ اس فلم کے آنے کے بعد وہ اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں‘‘۔ بھارت نواز سیاستدانوں نے وفد کو بتایا کہ وہ کشمیر میں غیر محفوظ تو تھے ہی، اب اس فلم کی وجہ سے بھارت میں بھی غیر محفوظ ہوکر نہ ادھر کے رہے ہیں، نہ ادھر کے۔ کیونکہ اس فلم میں ۱۹۹۰ءمیںکشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی اور ہلاکتوں کے لیے ان کو بھی ذمہ دار ٹھیرایا گیا ہے اور ان کے خلاف ہندو طبقے میں نفرت پھیلائی گئی ہے‘‘۔ اس فلم سے کشمیر ی پنڈتوں کو واپس اپنے گھروں کو لانے کے حکومتی منصوبے پر پانی پھرتا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت میں کانگریسی حکومت [مئی ۲۰۰۴ء- مئی ۲۰۱۴ء] کی کوششوں سے تقریباً دس ہزار کشمیری پنڈت واپس وادیٔ کشمیر میں بسنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اس فلم نے مقامی کشمیری مسلمانوں کو ایک دشمن کے طور پر پیش کیا ہے۔ ۱۹۹۰ءکے جو زخم مندمل ہوچکے تھے، اس نے ان کو دوبارہ ہرا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نئی دہلی کے ارباب حل و عقد، اقتدار کے لیے ہرحد پار کر سکتے ہیں ، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں۔

۲۰۱۶ء میں اس گروپ کی تشکیل کے بعد ،گروپ کا یہ کشمیر کا دسواں دورہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار ہم واضح طور پر ماحول میں تناؤ اور گھٹن محسوس کر رہے تھے۔ سیاسی لیڈروں نے وفد کو بتایا کہ ’حد بندی کمیشن‘ کی حالیہ رپورٹ سے مذہبی بنیادوں پر دُوریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس ’کمیشن‘ نے حدبندی کے لیے آبادی کو معیار بنایا ہے اور نہ جغرافیہ کو۔اس کا واحد مقصد یہی لگتا ہے کہ کسی طرح ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچے۔ اسی لیے ہندو اکثریتی علاقوں کی سیٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے تو وادیٔ کشمیر کی سیٹیں بڑھ رہی تھیں اور جغرافیہ کے معیار سے جموں کے مسلم اکثریتی پہاڑی علاقوں کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ لوک سبھا حلقہ میں آدھا علاقہ وادیٔ کشمیر اور آدھا جموں کے پونچھ ۔راجوری علاقہ کو شامل کیا گیا ہے۔ اگر انتخابات اکتوبر اور اپریل کے درمیان ہوں گے، جب اننت ناگ اور پونچھ کو ملانے والا مغل روڑ بند ہوتا ہے، تو امیدوار کو ایک خطے سے دوسرے خطے میں انتخابی مہم کے لیے جانے کے لیے اننت ناگ سے بانہال، ڈوڈہ، ادھمپور اور پھر جموں کے اضلاع سے ہوتے ہوئے ہی راجوری۔ پونچھ پہنچنا ممکن ہوگا۔ یہ کیسی حد بندی ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق: ’’اترپردیش کے حالیہ انتخابات میں جیت کے بعد بی جے پی کے حوصلے خاصے بلند ہیں۔ اسی لیے وہ اب کشمیر میں انتخابات کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ لگتا ہے کہ ۲۰۲۲ء کے آواخر میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات سے قبل کشمیر میں پہلی بار ایک ہندو وزیر اعلیٰ مقرر کرکے اس ’کامیابی‘ کو پورے بھارت میں ’کارنامے‘ کے طور پر بتایا جائے۔ مسلمانوں میں گوجر اور پہاڑی کمیونٹی کو کشمیر ی بولنے والی آبادی سے متنفر کرنے اور ان کو بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے لام بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ان سے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ گوجر آبادی کوپس ماندہ قبائل کا درجہ دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے اسمبلی میں نشستیں مخصوص ہوگئی ہیں۔ اسی طرح پہاڑی آبادی جو گوجر آبادی کے ساتھ ہی رہتی ہے، مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کو بھی یہ درجہ دیا جائے‘‘۔

وفد نے میڈیا کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’صحافی ان سے ملنے سے کتراتے رہے۔ وہ خوف زدہ تھے،کہ کہیں ان کو بعد میں تختۂ مشق نہ بنایا جائے‘‘۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’[انڈین]آرمی کے ایک جنرل نے ایک سینیر صحافی کو بتایا: ’’ اس سے قبل کہ میں آپ کے سوال کا جواب دوں یا آپ سے بات کروں، آپ یہ بتائو کہ اپنے آپ کو بھارتی تصور کرتے ہو یا نہیں؟‘‘ ایک دوسر ے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’ایک اعلیٰ افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’کشمیر کا مسئلہ دراصل پانچ ایم M یعنی: ماسز، مسجد، مولوی، ملی ٹنٹ اور میڈیا کا معاملہ ہے۔ ہم نے مسجد، مولوی اور ماسز (عوام) کو تو کنٹرول کیا ہے۔ اب ملی ٹنٹ اور میڈیا کی باری ہے۔ ان کو کنٹرول کرنے سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا‘‘۔ میڈیا سے متعلق عوام میں اگر کوئی موہوم سی بھی امید ہے، اس کو ختم کرنا ہے۔ اس وفد کے مطابق کشمیر، میڈیا کو زیر کرنے کی ایک لیبارٹری بن چکا ہے اور وہ دن دور نہیں، جب دیگر بھارتی علاقو ں میںبھی اس کا اطلاق کیا جائے گا‘‘۔

رپورٹ کے مطابق: ’’بھارتی حکومتیں، کشمیر میں وفاداریوں کو جیتنے کے بجائے ان کو مراعات و د ھونس دباؤ کے ذریعے خریدنے پر اصرار کرتی رہی ہیں اور موجودہ حکومت بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔ پہلے بھارتی حکومتیں، کشمیر کو باقی ملک [بھارت]کے ساتھ انضمام کے لیے کوشاں ہوتی تھیں، مگر موجودہ حکومت اس کو ہضم کرنے اور اس کے وجود اور شناخت ہی کو مٹانے کے درپے ہے‘‘۔

اس لیے اگر شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی یہ حکومت اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے کشمیر میں عوام کے لیے سانس لینے کی کوئی سبیل مہیا کرتی ہے، تو اس کا یہ قدم تاریخ میں رقم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی مغربی دنیا میں اپنی پارٹی ساکھ کا فائدہ اٹھا کر اگر کسی طرح مودی حکومت کو کشمیری عوام کے وجود اور شناخت کو بچانے پر قائل کرواسکے، تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کے جانشین کہلوانے کے حقدار ہوں گے۔ ورنہ ان دونوں پارٹیوں کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔

یہ ۱۹۴۷ءکا پُر آشوب دور تھا۔ ریاست جموں و کشمیر کے جموں خطے میں خود ڈوگرہ حکومت کے ایما پر مسلم کُش فسادات کی آگ انسانیت کو شرمسار کر رہی تھی۔ اکھنور کے علاقے میں ہندوسکھ فسادیوں کے ایک گروپ نے ایک مسلم خاندان کے مرد وں کو ہلاک کرکے، خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انھیں مردوں کا گوشت پکانے اور پھر زبردستی کھانے پر مجبور کروایا۔ چند سال قبل جب کشمیر کے ایک سابق اعلیٰ سول افسر خالد بشیر کی تحقیق پر مبنی رپورٹ کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے کالم نگار سوامی انکلیشور ائیر اور معروف صحافی سعید نقوی نے جیسے ہی جموں کے ان خونریز فسادات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا، تو تحقیقی اداروں میں تہلکہ مچ گیا۔ جدید تاریخ کی اس بدترین نسل کشی پر تعصب اور بے حسی کی ایسی موٹی تہہ جم چکی ہے، کہ کوئی یقین ہی نہیں کر رہا ہے۔

اس نسل کشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، کہ جمو ں میں ۶۹فی صد مسلم آبادی تھی، جس کو چند مہینوں میں ہی اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ روزنامہ دی ٹائمز، لندن کی ۱۰؍اگست ۱۹۴۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق: ’’ان فسادات میں چند ماہ کے اندر ۲ لاکھ۳۷ہزار افراد ہلاک ہوئے‘‘۔ جموں کی ایک سیاسی شخصیت رشی کمار کوشل نے مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود مسلمانوں پر گولیاں چلارہے تھے۔ اودھم پور کے رام نگر میں تحصیل دار اودھے سنگھ اور مہاراجا کے اے ڈی سی کے فرزند بریگیڈیئر فقیر سنگھ اس قتل عام کی خود نگرانی کررہے تھے۔

دوسری طرف انھی دنوں اس درندگی کے بالکل برعکس، وادیِ کشمیر میں کس طرح عام کشمیر ی مسلمان پنڈتوں، یعنی ہندوؤں کو بچانے کے لیے ایک ڈھال بنے ہوئے تھے۔ معروف صحافی و سیاسی کارکن پنڈت پران ناتھ جلالی اس کا ایک چشم دید واقعہ سناتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ شیخ محمد عبداللہ نے بطور چیف ایڈمنسٹریٹر جب زمامِ کار سنبھالی تو جلالی کو کشمیری پنڈتوں کی آباد کاری کا کام سونپا گیا۔ ان کو اطلاع ملی کہ ہندواڑ ہ تحصیل کے کسی گاؤں میں کشمیری پنڈتوں کے کئی خاندان ہفتوں سے غائب ہیں۔ سرینگر سے روانہ ہوکر سوپور تھانے سے سپاہیوں کی کمک لے کر وہ اس گاؤں میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اطلاع صحیح تھی۔ گاؤں کے سرکردہ افراد کو بلا کر تفتیش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی سخت پٹائی کی ، حتیٰ کہ ان کی خواتین و بچوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ سبھی گائوں والے عذا ب تو سہتے رہے اور بس یہی کہتے رہے کہ ان کو کچھ نہیں معلوم کہ یہ پنڈت خاندان کہاں چلے گئے ہیں۔

خیر جلالی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’ایک پنڈت کے خالی مکان میں انھوں نے اور سپاہیوں نے ڈیرا ڈال لیا۔ ایک رات، ایک سپاہی نے ان کو بتایا کہ رات گئے گاؤں میں لوگوں کی کچھ غیرمعمولی نقل و حرکت محسوس ہوتی ہے۔ اگلی رات پران ناتھ جلالی اور سپاہیوں نے ہوشیاری کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ میل بھر چلنے کے بعد معلوم ہوا کہ ’’نالے کے دوسری طرف ایک محفوظ اور تنگ گھاٹی میں کشمیری پنڈت خاندان چھپے ہوئے تھے اور گائوں والے ہر رات ٹوکریوں میں ان کو کھانا پہنچا رہے تھے‘‘۔ جلالی صاحب کہتے تھے کہ ’’ندامت سے میرے پائوں زمین میں گڑ گئے۔ گذشتہ کئی روز سے ہم نے ان گائوں والوں پر جس طرح ٹارچر کیا تھا، اس پہ پشیمان تھے۔ دراصل گائوں والے سمجھتے تھے کہ پولیس کے بھیس میں وہ لوگ پنڈتوں کو مارنے اور لوٹنے کی غرض سے آئے ہیں۔ اِن اَن پڑھ دیہاتیوں نے ٹارچر اور گالیا ں کھانا برداشت تو کیا، مگرکیا بچے کیا خواتین، کسی نے پنڈتوں کے ٹھکانے کا راز افشا نہ کیا‘‘۔

اب حال ہی میں جس طرح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے کٹر حامی وویک اگنہوتری کی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی ہندی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ ۱۱مارچ کو نمایش کے لیے پیش کی گئی ہے۔ فلم میں ۱۹۹۰ء میں وادیِ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایسی کہانی کہ جو نہ صرف یکطرفہ ہے، بلکہ اس سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر پورے بھارت میں  ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہیجان برپا کر دیا گیا ہے کہ ایک ویڈیو میں ایک شخص فلم ختم ہونے کے بعد چیختے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ہندو بھائیوں سے میری اپیل ہے کہ ان (مسلمانوں) سے ہوشیار رہیں، یہ کسی بھی وقت ہم پر حملہ کرسکتے ہیں‘‘۔ اس فلم کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایئے کہ ’را‘ کے سابق چیف اے ایس دولت نے اعتراف کیا ہے: ’’یہ ایک پروپیگنڈا فلم ہے، جس میں پیش کی گئی تفصیلات کا حقائق کی دُنیا سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔(اخبار مسلم مرر، ۲۲مارچ ۲۰۲۲ء)

دہلی میں ایک سینیر صحافی فراز احمد پریس کلب میں اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’کشمیر کا مسئلہ دراصل کشمیری پنڈتوں کا داخلی جھگڑا ہے، جس نے جنوبی ایشیا کے امن و امان کو نشانہ بنایا ہوا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’علامہ اقبال، جنھوں نے پاکستان کا تصور دیا، بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہرلال نہرو ، جنھوں نے مسئلہ کشمیر کو پیچیدہ بنایا، اور پھر شیخ محمد عبداللہ ، جنھوں نے اس کو مزید اُلجھانے میں معاونت کی، تینوں کشمیری پنڈتوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے‘‘۔ کشمیری پنڈت کی اصطلاح دراصل زوال پذیر مغل بادشاہ محمد شاہ نے اپنے ایک درباری جے رام بھان کے مشورے پر ایک فرمان کے ذریعے شروع کروائی تھی۔ کشمیری پنڈتوں کا مغل دربار میں اچھا خاصا اثر و رسوخ تھا، اس لیے وہ اپنے آپ کو دیگر برہمنوں سے اعلیٰ اور برتر نسل تصور کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے رسم و رواج دیگر برہمنوں سے جدا ہیں‘‘۔ وہ دیوالی و ہولی نہیں مناتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر میں ایک متوازی گنگا کا ایک سنگم تیرتھ بھی اختراع کیا ہوا ہے اور کھیربھوانی اور شاریکا دیوی ان کے دیوی دیوتا ہیں۔

ویسے کشمیر میں ہندو اور مسلمان میں تفریق کرنا مشکل تھا۔ الگ الگ بستیوں کے بجائے دیہات و قصبات میں دونوں ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے۔ میر سید علی ہمدانی کی خانقاہ ، شیخ نورالدین ولی اور سرینگر شہر کے قلب میں کوہ ماراں پر شیخ حمزمخدوم کی درگاہوں پر کشمیری پنڈتوں کا بھی جم غفیر نظر آتا تھا۔ کشمیر کی معروف شاعرہ لل دید ، تو دونوں مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ ہندو تھی یا مسلمان۔ تاہم، اس کا پورا کلام ہی اللہ کی وحدانیت پر مشتمل ہے۔

کشمیر میں اسلام کی آمد ۱۴ویں صدی میں اس وقت ہوئی،جب بدھ مت اور برہمنوں کے درمیان زبردست معرکہ آرائی جاری تھی۔ اس دوران جب بلبل شاہ اور بعد میںمیر سید علی ہمدانی نے اسلام کی تبلیغ کی، تو عوام کی ایک بڑی اکثریت نے اس پر لبیک کہا۔ یہ شاید واحد خطہ ہوگا، جہاں ہندوؤں کی اعلیٰ ذاتوں نے بھی جوق در جوق دائرہ اسلام میں پناہ لی۔ لیکن برہمنوں کا ایک طبقہ بدستور اپنے دھرم پر ڈٹا رہا۔ اسی صدی میں جب شہمیری خاندان کے سلطان سکندر کےدورِحکومت میں ایک کشمیری برہمن سہہ بٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام سیف الدین رکھا، تو اس نے کشمیری برہمنوں کے اقتدار کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے اکثر پنڈتوں نے ہجرت کی۔ مگر سلطان سکندر کے فرزند زین العابدین جنھیں بڈشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے تخت نشینی کے فوراً بعد ہی اس پالیسی کو ختم کرواکے، ان کشمیری پنڈتوں کو واپس لینے کے لیے وفود بھیجے اور ان کو دربار میں مراعات اور عہدے بخشے۔

شیخ عبداللہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے اقلیتی احساس اور عصبیت کو اُبھارنے میں مغل بادشاہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، کہ وہ مسلمان امرا سے خائف رہتے تھے۔معروف مؤرخ جادو ناتھ سرکار لکھتے ہیں، کہ مغل دور میں بہت کم کشمیر ی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر نظر آتے ہیں۔ امور سلطنت میں مغل حکمران ، کشمیری پنڈتوں پر زیادہ اعتبار کرتے تھے۔ ملکہ نو ر جہاں کے ذاتی محافظ دستے کا سربراہ میرو پنڈت بھی ایک کشمیری برہمن تھا۔ پنڈتوں کی بالادستی اورنگ زیب کے دور میں بھی جاری رہی۔ افغانوں کا دو ر حکومت تو کشمیر میں ظلم و ستم کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے دربار میں بھی کشمیری پنڈت ہی حاوی تھے۔ بلند خان سدوزئی نے کیلاش در پنڈت کو وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔ افغان دور میں تو قبائلی علاقوں میں کشمیر ی پنڈت نند رام نکوکے نام پرسکّے ڈھالے گئے تھے، جو غالباً ۱۸۱۰ءتک جاری رہے۔ مؤرخ جیالال کلم کا کہنا ہے کہ افغان دور میں کشمیری پنڈت حکومت پر چھائے رہے۔

 افغانوں کے زوال کے بعد پنڈت بیربل در نے سکھوں کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی۔ پھر جب سکھ سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا ، تو ڈوگرہ حکمران مہاراجا گلاب سنگھ نے بیربل کاک کے بیٹے راج کاک در کو کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا۔جس نے شال بافی صنعت پر ٹیکس لگا کر ، مسلمان کشمیری کاریگروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ انگریز سرویر جنرل والٹر لارنس، اُن دنوں کشمیر میں تعینات تھے، انھوں نے لکھا تھا کہ:’’کشمیر کی ساری سیاسی قوت کشمیری پنڈتوں کے ہاتھوں میں ہے، جب کہ مسلمان کاشت کار یا مزدور ہے اور اس کو برہمنوں کے آرام و آسائش کے لیے بیگار پر مجبور کیا جاتا ہے‘‘۔ اسی دور میں کشمیری پنڈتوں کو انگریزی جاننے والے ہندو افسران سے مسابقت کا سامنا کرنا پڑا، تو انھوں نے نعرہ بلند کیا کہ صرف ریاستی باشندوں کے نوکری کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ چونکہ مسلمان ان دنوں اَن پڑھ تھے، اس لیے ان کے ساتھ کسی مسابقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مگر بعد میں جب مسلمانوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا، تو ان ہی پنڈتوں نے اسی اسٹیٹ سبجکٹ قانون کے خلاف زمین و آسمان ایک کر دیئے۔

شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جب ۱۹۳۱ء میں کشمیر میں تحریک آزادی کا آغاز ہوا، تو راجا ہری سنگھ نے کشمیری پنڈتوں کو ڈھال بناکر انھیں پروپیگنڈا کرنے کی شہہ دی کہ ’’یہ تحریک ہندو مہاراجا کے خلاف بغاوت ہے اور کشمیری پنڈت خطرے میں ہیں‘‘ کا شور برپا کر ڈالا۔ گلانسی کمیشن کی سفارشات اور اس تحریک کی بدولت جب چند نوکریاں مسلمانوں کو ملنے لگیں، تو کشمیر میں پنڈت لیڈروں نے اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی۔ مگر ان کی ہی برادری کے چند افراد پریم ناتھ بزاز، کشپ بندھو اور جیالال کلم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ۔

 تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں کو تعلیمی اور سیاسی میدانوں میں اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ہاتھ آیا، تو یہ اقلیتی طبقہ (پنڈت) احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگا۔ اسی نفسیات کے تحت آج بھی بعض انتہا پسند پنڈتوںکو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ نئی دہلی کی پشت پناہی سے کشمیری مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر اپنے غلاموں اور ماتحتوں کے طور پر گزر بسر کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

شیخ عبداللہ کے مطابق: ان میں اکثر پنڈتوں کو حکمرانوں کی خدمت اور اپنے ہم وطنوں کی جاسوسی کرنے میں ہی سکون ملتا رہا ہے۔ مہاتما جی گاندھی کہتے تھے، کہ ’’کشمیر کی مثال ایسی ہے جیسی خشک گھاس کے انبار میں ایک دہکتا ہوا انگارہ ڈال دیا گیا ہو۔ذرا بھی ناموافق ہوا چلی تو سارے کا سار ا برصغیر اس کی آگ کے شعلوں میں لپٹ جائے گا‘‘۔ اور گاندھی کے نام لیوا تو اس کی تنبیہہ کب کی بھول چکے ہیں، اور اس کے نام کی صرف سفارتی ڈگڈگی بجا کر دنیا کے سامنے کھیل رچایا جاتا ہے۔کشمیری پنڈت لیڈران سے اپیل ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کا مثبت استعمال کرکے، نسلی نفرت کی آگ بجھانے اور مسئلۂ کشمیر پاٹنے کا کا م کریں، بلکہ سیاسی لیڈروں کو مسئلے کے سیاسی حل کی طرف بھی گامزن کروائیں، تاکہ خطے میں ایک حقیقی اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوسکے۔

یہ ۲۰۱۸ء کی بات ہے، جب بھارت کے جنوبی صوبہ کرناٹک، میں اسمبلی انتخابات کی مہم جاری تھی، تو یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مقتدر لیڈر، اننت کمار (مرکزی وزیر) پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی حکمت عملی پر گفتگو کر رہے تھے۔ جب اننت کمار سے پوچھا گیا کہ ’’بی جے پی کیا ایجنڈا لے کر میدان میں اتر رہی ہے؟‘‘ تو انھوں نے صاف اعتراف کیا کہ ’’پولرائزشن ہی ہمارا ہتھیار ہے۔ تعمیر و ترقی کے نام پر کہاں عوام ہمیں ووٹ دیتے ہیں‘‘۔ اُن دنوں شیر میسور ٹیپو سلطان، ہندو نسل پرستوں کی زد میں تھے۔ تب کانگریس کے ایک لیڈر کے۔ رحمان خان ٹیپو سلطان یونی ورسٹی بنانا چاہتے تھے اور کانگریسی وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے ٹیپو سلطان کی برسی منانے کا اعلان کیاہوا تھا۔ اننت کما ر کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایشوہماری انتخابی مہم کے لیے غذا ہے اور اس کا بھرپور استعمال کیا جائے گا‘‘۔ پولرائزیشن کے اس ہتھیار نے اسمبلی میں بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد ۴۰ سے بڑھا کر ۱۰۴کردی۔

۲۰۰۴ء میں جب کانگریس کے زیر قیادت اتحاد نے انتخابات میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کو شکست دی، اس وقت بی جے پی کے سربرا ہ اور ملک کے موجودہ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’یہ انتخاب ان کی پارٹی نے تعمیری ایشوز یعنی ’شائینگ انڈیا‘ کے نعرے پر لڑا تھا ۔ مگر اس شکست نے ان میں احساس پیدا کر دیا ہے کہ عوام کو جذباتی ایشوز پر ہی لبھایا جاسکتا ہے‘‘۔ تب سے بی جے پی نے اقتدار کی کرسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کے لیے تین آزمودہ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے ، اور وہ ہیں:’’ گائے، مسلمان اور پاکستان‘‘۔

۲۰۱۴ء سے ابھی تک ’گائے کی حفاظت‘ کے نام پر ہجومی تشدد کے ۸۰ واقعات میں ۵۰؍افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ لیکن اب گائے کا ایشو کچھ ٹھنڈا پڑچکا ہے۔ ’پاکستان‘ کے ایشو کو آیندہ کے لیے اُٹھا رکھا گیا ہے، جس طرح پلوامہ کے المیے کے بعد ۲۰۱۹ء میں اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، آج اس وقت ہندو شدت پسند اور ان کی سیاسی تنظیم بی جے پی ، مسلمان کارڈ کا بھرپور استعمال کر رہی ہے۔خود وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے انتخابی حلقہ ورانسی میں تاریخی شخصیات اورنگ زیب عالم گیر اور صوفی بزرگ سید سالار مسعود غازی کو مطعون کرکے الیکشن کو ہندو بنام مسلمان بناکر مخالفین کو شکست دی۔

  لکھنؤ شہر کے ایک معروف صحافی حسام صدیقی کے مطابق: ’’ہندو شدت پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) مسلمانوں کے خلاف اکثر طرح طرح کے تجربے کرتی رہتی ہے، تاکہ عام ہندوؤں کو بھڑکا کر بی جے پی کی حمایت میں پولرائز کیا جاسکے‘‘۔ اس وقت حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا آغاز کرناٹک کے اڈپی قصبے سے ہوا، جہاں گورنمنٹ پری یونی ورسٹی کالج فار گرلز میں نصف درجن مسلم لڑکیوں کودسمبر میں کلاس میں جانے سے روکا گیا، کیونکہ انھوں نے حجاب پہن رکھا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے صوبہ کی بی جے پی حکومت نے ۵فروری کو حکم نامہ جاری کرکے تمام اسکول اور کالجوں میں حجاب پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

سوال یہ ہے کہ حجاب سے کس طرح نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو رہی تھی؟جو لوگ حجاب کی مخالفت کر رہے ہیں، اب ان سے کوئی پوچھے کہ ہندو خواتین جو گھونگھٹ میں رہتی ہیں، تو ان کے گھونگھٹ بھی اتار کر پھینک دو۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ تو دُور کی کوڑی لاتے ہوئے سب سے آگے نکل گئے۔ انھوں نے کہا:’’حجاب کے ذریعے کچھ لوگ ملک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ نفرت کی خلیج کو گہرا کرنے کے لیے بی جے پی کی زیر قیادت دیگر صوبائی حکومتیں بھی حجاب پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ہندو شدت پسند تنظیمیں بڑی تعداد میں حجاب کے خلاف بطورِ احتجاج طلبہ کو بھگوا مفلر تقسیم کر رہی ہیں۔ اسے چھوٹے چھوٹے بچوں تک میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہندو نسل پرست ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ’ لوّ جہاد‘ سے شروع کی جانے والی لہر،  شہریت قانون، تبدیلیِ مذہب پر پابندی کا قانون، گائے کے نام پر ہجومی تشدد اور ایسے اَن گنت اقدامات کے تسلسل میں اب حجاب کے سوال پر جھگڑا کھڑا کیا گیاہے۔ اس طرح سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے اور اگر رہنا ہے تو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے رہنا ہوگا۔۲۰۱۷ء میں خاتون رپورٹر شوئیٹا ڈیسائی نے اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی مہنت آدتیہ ناتھ کے حلقہ انتخاب گورکھپور اور خوشی نگر کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’’اس علاقے میں مسلم لڑکیوں کے اغوا اور غائب کردیے جانے کی سیکڑوں وارداتیں پولیس اسٹیشنوں کی فائلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے اکثر لڑکیوں کا ’شدھی کرن ‘کرکے ان کی شادیاں ہندو نوجوانوں کے ساتھ کرادی جاتی ہیں۔بنگالی پٹی بنجاریہ گائوں کی ۱۷سالہ عاصمہ نے بتایا، کہ اغوا کرنے کے بعد اس پر ایک ہندو لڑکے کے ساتھ شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مگر وہ کسی طرح ان کی گرفت سے بھاگ نکلی‘‘۔ خاتون رپورٹر نے  بتایا کہ ’’ صر ف اس ایک گاؤں میں نو ایسے خاندان ہیں، جن کی لڑکیوں کو اغوا کرنےکے بعد ان کی زبردستی کی شادیاں کردی گئی ہیں‘‘۔

چوپیہ رام پور گاؤں میں زبیدہ اب امیشا ٹھاکر کے نام سے ایک ہندو خاندان میں زندگی گزار رہی ہے۔ اس کا شوہر اروند گاؤں کے مکھیا ٹھاکر کا بیٹا ہے۔ ماتھے پر بندی سجائے اور ہندووانہ لباس میں ملبوس امیشا نے رپورٹر کو بتایا، کہ ’’جب وہ ۱۳سال کی تھی، تو ٹھاکروں نے اس کو گھر سے اٹھا کر اغوا کیا‘‘۔ مشرقی اتر پردیش کا یہ علاقہ کافی پسماندہ اور بدحالی کا شکار ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۶ء میں حبیب انصاری نے اپنی بیٹی نوری کے اغوا میں ملوث چار ہندو لڑکوں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی درخواست عدالت میں دائر کی۔ دو سا ل قبل نوری کو گوری سری رام گاؤں سے اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ نوری نے مجسٹریٹ کے سامنے ہندو واھنی سے وابستہ چارافراد کی شناخت بھی کی، جن میں ایک نابالغ لڑکا بھی تھا۔ بتایا جاتا ہے، کہ ادتیہ ناتھ کے کارکنوں نے انصاری پر مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے بعد ہی اس کو گاؤں میں دوبارہ رہنے اور کھیتی باڑی کرنے کی اجازت ملی‘‘۔

پانچ سا ل پہلے کی بات ہے کہ جب میں اتر پردیش کے انتخابات کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ کالج کے ایک پروفیسر، جو سماج وادی پارٹی کے سربراہ کے قریبی رشتہ دار تھے، انھوں نے بتایا کہ ’’میں مودی کے بدترین مخالفین میں سے ہوں، مگر ایک کام اس نے بہت اچھا کیا اور وہ یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کی عقل ٹھکانے لگائی ہے اور انھیں ٹھیک کنٹرول میں رکھا ہے‘‘۔ بھارت میں بے بنیاد طور پر یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ ’’مسلمانوں نے یا تو ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے یا ان کے ادا کیے گئے ٹیکسوں پر ہی وہ زندہ ہیں‘‘۔یہ مذہبی منافرت کا دوسرا مرحلہ ہے، جو فسطائیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کا پراپیگنڈا یورپ میں دوسری عالمی جنگ سے قبل یہودیوں کے خلاف عام تھا۔

بھارت میں مذہبی منافرت اُبھارنے کا یہ کام نہایت منظم انداز میں ہو ا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ چھے ہزار سے زائد سکول سرکاری امداد پر چلتے ہیں۔ ان میں زیرتعلیم بچوں کے معصوم ذہنوں کو مذہبی نفرت سے مسموم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شیشو مندر ہیں‘ جہاں نوجوان نسل کی برین واشنگ کی گئی۔ یہاں سے فارغ ہونے والے تعلیم یافتہ افراد ہی آگے چل کر مختلف میدانوں میں مختلف حوالوں سے مذہبی تعصب پھیلاتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک صاف طور پر بھارتی میڈیا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ 

۲۰۱۴ء کے دوران کشمیر میں انتخابات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے دیکھا، کہ جموں کے مسلم اکثریتی علاقے ’چناب ویلی‘ میں دشوار گزار اور انتہائی دور دراز علاقوں میں آر ایس ایس کے پُرجوش کارکنوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کارپوریٹ اور دیگر سیکٹروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ اراکین راجستھان، مدھیہ پردیش، کرناٹک حتیٰ کہ کیرالا سے عیش وآرام کی زندگی چھوڑ کر ایک سال کی چھٹی لے کر دیہات میں رات دن ’ہندوتوا‘ کا پاٹھ پڑھارہے تھے۔

شہید بابری مسجد کی جگہ پر عالی شان رام مندر کی تعمیر کے بعد مسلمانوں کو مزید کنارے لگانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے آر ایس ایس کا نشانہ اب۱۹۹۱ء کا عبادت گاہوں کا قانون ہے، جس کی رُو سے بابری مسجد کو چھوڑ کر بقیہ تمام عبادت گاہوں کی۱۹۴۷ء والی حیثیت کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس قانون کو کالعدم کرانے کے مطالبے میں تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لیے بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے عید گاہ کے قضیے کو ہوا دی جار ہی ہے۔ بنارس کی گیان واپی مسجد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالم گیر نے سترھویں صدی میں تعمیر کرایا تھا، لیکن تاریخی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض مخطوطوں کے مطابق مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے عہد حکومت میں بھی یہ مسجد موجود تھی ۔ یہ جامع مسجد شہر کے قلب میں دریائے گنگا کے کنارے للتا گھاٹ کے قریب واقع ہے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ اور مسجد کے بارے میں اب بتایا جاتا ہے کہ یہ بھگوان کرشن کے جنم استھان کا حصہ ہے ۔ یہ دونوں ہی قدیم مساجد ہیں، جہاں مسلمان برسہا برس سے نمازیں پڑھتے آئے ہیں۔

بنارس کی اس مسجد کے بارے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ آسام پر فوج کشی سے واپسی کے بعد جب اورنگ زیب کی فوجوں نے اس شہر میں پڑاو ڈالا، تو اس کے راجپوت کمانڈروں کی بیویاں مندر میں پوجا کرنے کے لیے گئیں۔ رات تک جب گجرات کے کچھ علاقہ کے مہارانا گیان سنگھ کی رانی اور اس کی دو داسیاں واپس نہیں لوٹیں ، تو اگلی صبح مندر کے تہہ خانے کی تلاشی کے دوران گیان سنگھ نے دیوار سے لگے بھگوان گنیش کے بت کو جھنجھوڑ ڈالا، تو اس کے نیچے تہہ خانے کو جاتی سیڑھیاں  نظر آئیں۔ نیچے جا کر پتاچلا کہ کچھ کی مہارانی ادھ موئی پڑی تھی اور اس کے کپڑے تار تار تھے۔ اورنگ زیب نے یہ مقدمہ کچھ کے راجا کے حوالے کر دیا، جس نے مندر کے برہمن پجاریوں کو احاطہ کے اندر ہی موجود کنوئیں میں پھینکوا کر، اوپر سے کنواں بند کرا دیا اور اس کے اوپر مندر کو اَزسر نو تعمیر کرادیا۔ مغل بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے اس مندر کی دیوار سے متصل ایک مسجد بھی تعمیر کرائی۔مگر کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس نے مسجد کی مرمت کروائی، کیونکہ یہ پہلے سے ہی موجود تھی۔ یہ بھارت میں واحد مسجد ہے جو اپنے سنسکرت نام یعنی گیان واپی( علم کا کنواں) کے نام سے موسوم ہے۔ 

بھارت کے مشہور دانش وَر سعید نقوی نے اپنی کتاب Being the Other  میں لکھا تھا کہ ’’میں اب اپنے آپ کو ’غیر‘ محسوس کرتا ہوں‘‘۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کا کیا حال ہوگا۔اتر پردیش میں صوبائی انتخابی مہم دیکھنے والے صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ ’’مسلمانوں میں اپنی تعلیم و ترقی کے بجائے اپنے تحفظ کا احساس زیادہ گھر کر گیا ہے‘‘۔

سعید نقوی کے مطابق: ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت کا مسلمان اپنے خول میں سمٹتا جا رہا ہے۔ غیر فرقہ پرست ہندو بھی بھونچکا رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں ممکن ہوتا ہے وہ ’’سیکولر ‘‘ کی اصطلاح سے اجتناب کرتے ہیں ، کیونکہ بھارت میں اس لفظ سے وابستہ حُرمت کو بہت زیادہ پامال کیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گئی ہے، جس پر ہندو قوم پرستی کا عالی شان مندر تعمیر اور ترشول بلند کیا جارہا ہے۔یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں کہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا جاتا رہا ہے اور اکثریتی قوم کو ان بے گناہوں سے ذرا بھی ہمدردی نہیں ہے۔ گویا فرض کرلیا گیا ہے کہ خواہ ان کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو تب بھی وہ مجرم ہیں۔ پس ماندہ مسلم بستیوں میں رہنے والوں کے اندر سلگتی ہوئی شکایتوں سے ذہنوں کے اندر خلیج تقویت پاتی ہے۔ نقوی صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ’’مجھ پر ایک اور حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جہاں کوئی مسلمان اعلیٰ عہدہ تک پہنچتا ہے، وہ اپنی کمیونٹی کے افراد کی مدد کرنے سے منہ موڑتا ہے، مبادا اس پر ’فرقہ پرست‘ ہونے کا لیبل نہ لگا دیا جائے۔حال یہ ہے کہ پچھلے چاربرسوں میں دہلی میں اورنگ زیب روڑ کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔ گورکھپور کا اردو بازار، ہندی بازار ہوگیاہے، ہمایوں نگراب ہنومان نگر ہوگیا، اتر پردیش اور بہار کی سرحد پر تاریخی مغل سرائے شہر دین دیال اپدھائے نگر ہوگیا اور مغل بادشاہ اکبر کا بسایا ہوا الٰہ آباد اب پریاگ راج ہوگیا ہے، فیض آباد ایودھیا ہو گیا ہے۔ ہریانہ کا مصطفےٰ آباد اب سرسوتی نگر ہوگیا ہے‘‘۔

 احمد آباد کو اب کرناوتی نگر اور فیروز آباد کو چندرا نگر بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ مٹائی نہیں جاسکتی، مگر یہاں تو تاریخ مسخ ہورہی ہے۔ یہ مٹتے ہوئے نام ، مسخ ہوتی تاریخ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں سے خود اعتمادی چھین کر احساس کمتری میں دھکیل دے گی۔ کیونکہ یہ صرف نام نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے شان دار ماضی کی جھلک تھی ، جو ثابت کرتی تھی کہ مسلمان اس ملک میں کرائے دار نہیں بلکہ حصہ دار اور اس کی تاریخ کا حصہ تھے۔ لیکن شاید غیرمحسوس طریقے سے ۱۵ویں صدی کے اواخر کے اسپین کے واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔

مسلمانوںکی سیاسی حالت حددرجہ ناگفتہ بہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پتا ہے کہ مسلمان ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا۔ اس لیے اسے ان کی کوئی پروا نہیں۔ اس کے لیڈروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم ووٹ تقسیم اور ہندو ووٹ یکجا ہو۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم مودی اوران کی پارٹی کے لیڈر اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ کیا ۲۰کروڑ مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا رکھ کر وہ بھارت کو ایک آسودہ حال ملک بنا سکیںگے؟

صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے، جب بھی کسی دوسرے شہر یا ملک میں پہلی بار جانا ہو، تو اس علاقے کا پریس کلب ہی پہلی منزل ہوتا ہے۔ خبر وہاں سے ملے یا نہ ملے، مگر رابطہ، رہبری یا کم از کم خبر نگاری کے لیے رسی کا سرا ہاتھ میں آ ہی جاتا ہے۔اس جگہ کوئی نہ کوئی مقامی صحافی رضاکارانہ طور پر آپ کو بریف کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ باقی یہ آپ کی اپنی پیشہ ورانہ تربیت پر منحصر ہوتا ہے کہ کس طرح اس خبر یا ایشو کو پرکھتے ہیں اور پیش کرتے ہیں۔

۲۰۱۸ء سے قبل جب کشمیر کے مرکزی شہر سرینگر میں پریس کلب موجود نہیں تھا۔ اس لیے دورے پر آئے صحافیوں کے لیے لال چوک سے متصل بی بی سی اور دی ٹیلی گراف جیسے معروف میڈیا اداروں سے وابستہ سینیر صحافی یوسف جمیل کا یہ دفتر پہلا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ۹۰ کے عشرے میں چونکہ وادیِ کشمیر کے حالات مخدوش تھے، وہ اس دومنزلہ کوارٹر کی دوسری منزل میں قیام پذیر تھے، جب کہ پہلی منزل میں ان کا دفتر، ڈرائنگ روم اور کچن تھا۔ مغربی ممالک اور دہلی سے آئے صحافیوں کا ایک جم غفیر وہاں موجود ہوتا تھا۔ شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود ، حلم، بُردباری اور آداب میزبانی نبھانا، جمیل صاحب کا ہی خاصہ تھا۔ میں نے چونکہ صحافت کی تعلیم اور ملازمت دہلی سے شروع کی تھی، اس لیے رپورٹنگ یا چھٹیاں منانے کے لیے سال میں ایک دو بار سرینگر وارد ہوتا تو جمیل صاحب سے ملاقات لازماً ہوتی۔ وہ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور رہنمائی کرتے۔اسی طرح دوسرا ٹھکانہ جہاں باہر سے آئے صحافی دروازہ کھٹکھٹا تے تھے، وہ انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز کا سرینگر کا بیورو ہوتا تھا۔ اس کا دفتر بھی اسی لین میں تھا۔

اخبار ان دنوں صرف جموں سے شائع ہوتا تھا، مگر سرینگر میں اس کا بیورو ظفر معراج کی سربراہی میں خبروں کا سرچشمہ تھا۔ کشمیر میں دہلی سے شائع ہونے والے انڈین ایکسپریس اور جموں سے شائع ہونے واے کشمیر ٹائمز کی دھوم تھی۔ ارون شوری کی ادارت میں انڈین ایکسپریس نے تفتیشی صحافت میں خاصا نام کمایا تھا اور آئے دن اس وقت کی کانگریسی حکومت اور وزیر اعظم راجیو گاندھی کے خلاف ان کے پاس کوئی نہ کوئی اسٹوری ہوتی تھی۔ ظفر معراج بھی ایک طرح سے جموں و کشمیر کے ارون شوری تھے۔ ان کی تفتیشی صحافت کاری نے تو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کا ناک میں دم کررکھا تھا۔

بات ہو رہی تھی سرینگر پریس کلب کی۔کشمیر میں حالیہ واقعات اور اس سے قبل بھی یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ وہاں کام کرنے والے صحافیوں کو تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ مگر ۲۰۱۸ء کے بعد کشمیر پریس کلب کی صورت میں خطے کے صحافیوں کو ایک آواز ملی تھی۔ یہ واحد صدا تھی، جو صحافیوں کی زندگی کا ثبوت پیش کر رہی تھی۔اگرچہ پوری دنیا میں ہی اس وقت صحافت بحران کا شکار ہے، مگر کشمیر میں یہ کن حالا ت کا شکار ہے، اس کا ہلکا سا اندازہ سرینگر سے شائع ہونے والے مختلف اخباروں کے اداریوں اور ادارتی صفحات کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ ایک آزمودہ فارمولہ جس میں پہلے اداروں کی شبیہ داغ دار کی جاتی ہے اور پھر ان کو متنازعہ بتایا جاتا ہے، اس کا استعمال کرکے نہایت بے دردی کے ساتھ پریس کلب کو دھوکے اور فریب کے ذریعے بند کر ادیا گیا۔ یہ ادارہ نہ صرف صحافیوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا تھا، بلکہ باہر سے دورہ پر آئے صحافیوں کے لیے بھی پہلا ٹھکانہ ہوتا تھا۔ فری لانس یا جو پیشہ ور صحافی، جن کے ادراوں کے سرینگر میں دفاتر نہیں ہیں، ان کے لیے کلب اور اس کے ذریعے پیش کی جانے والی سہولیات کسی نعمت سے کم نہیں تھیں۔

 سرینگر میں پریس کلب کا قیام ۲۰۱۸ء میں ایک طویل جدوجہد کے بعد عمل میں آیا تھا۔ حکومت نے پریس انکلیو اور لال چوک سے ذرا فاصلے پر ایک سرکاری ادارے کی خالی کی ہوئی بلڈنگ میں پریس کلب بنانے کی پیش کش کی تھی۔ جس کے بعد باضابطہ انتخابات کے بعد انتظامیہ تشکیل دی گئی، جو ایک عرصہ قبل اپنی انتظامی مدت مکمل کر چکی تھی۔ مگر چونکہ ۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کے قوانین تبدیل کر دیئے گئے، اس لیے کلب کو نئے قوانین کے تحت دوبارہ رجسٹریشن کرنے کے لیے کہا گیا۔

 جولائی ۲۰۲۱ءکو کلب نے رجسٹریشن کی درخواست دی، اور چھے ماہ بعد دسمبر میں اس کی منظوری آگئی، جس کے بعد فروری میں نئی انتظامیہ کی تشکیل کے لیے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا۔اس کے فوراً بعد بتایا گیا کہ ’’کلب کی انتظامیہ کے خلاف انٹیلی جنس کی منفی رپورٹوں کی وجہ سے رجسٹریشن منسوخ کی جارہی ہے۔ مگر صحافیوں کے ایک گروپ نے ریاستی پولیس کی قیادت میں، جب کورونا وائرس کی وجہ سے پابندیاں نافذ تھیں، بلڈنگ پر قبضہ کرکے ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کا اعلان کردیا۔ حالانکہ اس قبضے سے قبل پریس کلب کے اگلے انتخابات کا اعلان ہوچکا تھا۔ اس گروپ کے ایک ممبر نے ۲۰۱۸ء میں اس کلب کےقیام کے وقت دہلی میں ’پریس کلب آف انڈیا‘ کے ذمہ داروں کو باور کرانے کی کوشش کی، کہ ’’کشمیر کے پریس کلب کو انتخابات کے بغیر ہی تسلیم کرلیا جائے کیونکہ انتخابات کی صورت میں ’علیحدگی پسند گروپ‘ کلب پر قبضہ کرسکتا ہے۔ کشمیر میں تو ویسے صحافیوں کی کئی تنظیمیں ہیں، مگر یہ واحد جگہ تھی، جو سبھی کی مشترکہ وراثت تھی اور سبھی اکٹھے بیٹھتے تھے۔ اس قضیہ کے اگلے ہی دن، جب پریس کلب آف انڈیا سے لے کر دیگر صحافتی انجمنوں نے انتخابات سے قبل اس طرح کے قبضے پراعتراض کیا، تو حکومت نے کلب کو ہی تحلیل کرکے بلڈنگ کو اپنی تحویل میںلے لیا۔ بہانہ یہ بنایا کہ ’’صحافیوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے اور اس سے قانون و نظم کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے‘‘۔

کشمیر میں صحافیوں کے لیے عملی صحافت کا راستہ کبھی آسان نہیں تھا۔اس خطے میں ۱۹۹۰ءسے لے کر اب تک ۱۹صحافی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ اس کی کڑی کے طور پر ۲۰۱۸ء میں رائزنگ کشمیر گروپ کے چیف ایڈیٹر اور مقتدر صحافی شجاعت بخاری کو موت کی نیند سُلایاگیا۔آصف سلطان تو ۲۰۱۸ءسے ہی جیل میں ہیں۔ اب حال ہی میں نوجوان صحافی سجاد گل کو بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف کو بدنامِ زمانہ ’یوایل پی اے‘ (Unlawful Activities Prevention Act) کے تحت گرفتار کرکے چھے ماہ تک دہلی کی تہاڑ جیل میں پابند سلاسل رکھا گیاتھا۔ وہ اب ضمانت پر باہر ہیں۔

پچھلے تین برسوں میں کم از کم ۱۲صحافیوں کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ جبراً لاپتا کردیے جانے کا سب سے پہلا واقعہ جو۱۹۸۹ء میں پیش آیا وہ ایک صحافی کا ہی تھا۔ محمدصادق شولوری اردو کے پندرہ روزہ تکبیر میں سینئر کاتب تھے۔ ایک دن وہ دفتر گئے اور پھرکبھی لوٹ کر گھر نہیں آئے۔ ۱۹۹۰ء میں اس وقت کے جموں و کشمیر کے گورنر جگ موہن نے ایک نوجوان صحافی سریندر سنگھ اوبرائے کو گرفتارکرنے اور تین اخبارات بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے پرنٹنگ پریس سیل کردیے گئے اور ان کے خلاف بدنام زمانہ ’ٹاڈا‘(TADA) قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ۲۰۱۰ء کی ایجی ٹیشن کے دوران بھارت کی وزارت داخلہ نے نوٹیفیکیشن جاری کرکے رائزنگ کشمیر اور دو دیگر کثیرالاشاعت روزناموں گریٹرکشمیر اورکشمیر ٹائمز کے سرکاری اشتہارات بند کرنے کا حکم صادرکیا۔

اگر دنیامیں کسی بھی صحافت کے طالب علم کو یہ مطالعہ کرنا ہو کہ کس طرح اور کس حد تک اسٹیٹ کسی میڈیا ادارے کو ہراساں اور اس کی مالی حیثیت پر ضرب لگاسکتی ہے تو اس کو سری نگر اور جموں سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز کے کیس کو مطالعے میں ضرور لانا چاہیے۔ کشمیر ٹائمز کے سلسلے میں تمام سرکاری اور پبلک سیکٹر اداروں کو بھی ایک سرکلر جاری کیا گیا کہ ’’چونکہ اخبار ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے، اس لیے اسے اشتہارات دینا بند کر دیا جائے‘‘۔ حتیٰ کہ پرائیویٹ سیکٹر اور کاروباریوں کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ بھی کشمیر ٹائمز سے دُور رہیں۔سابق وزیرداخلہ اور کانگریسی رہنما پی چدمبرم ، جو آج کل اپنے کالموں کے ذریعے مودی حکومت کو آزادیِ اظہار پر قد غن لگانے پر خوب تنقید کرتے ہیں، نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر میڈیا کو ہراساں کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ کشمیر ٹائمز کے معاملے میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ اس لیے بھی کچھ زیادہ ہی خار کھائے ہوئے تھی کہ اس کے مالک جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وسیع القلب ہندو وید بھسین تھے ۔ ان کے بے باکانہ قلم کو ملک دشمنی ، بنیاد پرستی و انتہا پسندی کے کھاتہ میں ڈالنا ممکن نہیں تھا۔ کشمیر ٹائمز کی رپورٹنگ اور ایڈیٹوریل کسی بھی صورت نئی دہلی کو ہضم نہیں ہوتے تھے۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ ۲۰۱۵ء میںاس ادارہ کو سری نگر کا انتہائی جدید پریس زمین سمیت بیچنا پڑے اور سرکولیشن خاصی کم کرنی پڑی‘ ۔

ایک اور کشمیری فوٹو جرنلسٹ محمد مقبول کھوکھر (جو مقبول ساحل کے نام سے مشہور تھے) ساڑھے تین سال تک مقدمہ چلائے بغیر جموں کی بدنام زمانہ کوٹ بلاول جیل میں قید رہے۔ مقبول کھوکھرکو ۲۰۰۴ء میں ان دنوںگرفتارکیا گیا، جب جنوبی ایشیائی صحافیوںکی تنظیم ’سیفما‘ کی قیادت میں پاکستانی صحافیوںکا وفد بھی ریاست کا دورہ کر رہا تھا۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے دومرتبہ کہا کہ مقبول کھوکھر کے خلاف الزامات واپس لے لیے جائیں‘‘۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ ۱۹۹۱ء میں الصفا کے ایڈیٹر محمد شعبان وکیل کے قتل کی طرح دوسرے صحافیوں کے قتل اور ان پر حملوں کے درجنوں واقعات پر اب تک دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں ایک اخبار کے کاتب غلام محمد مہاجن کو پرانے سرینگر میں ان کی رہایش گاہ سے نکال کر ان کے چھوٹے بھائی کے ساتھ سرعام گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔

کشمیر میں صحافت پریس کلب کے بغیر ۲۰۱۸ء سے قبل بھی کام کرتی تھی۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے شاید ہی کوئی فرق پڑے گا۔ مگر جس طرح اس کو نشانہ بنایا گیا، وہ دیگر جگہوں پر پریس پر قد غن لگانے کا ایک ماڈل ہو سکتا ہے۔ دہلی میں ’پریس کلب آف انڈیا ‘کی طرح بھارت کے دیگر شہروں میں بھی کلبوں کی بلڈنگیں ، حکومت نے ہی عاریتاً دی ہوئی ہیں۔سرینگر کی طرح اب وہ کسی بھی وقت ان کو واپس لے کر پریس کلب کے ادارے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا سامان کرسکتی ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تقریباً تین عشروں تک بطور صحافی کام کرتا رہا۔ اس دوران میں  جب کبھی حساس اداروں سے وابستہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسران سے آف دی ریکارڈ گفتگو کا موقع ملتا ، تو وہ بتاتے کہ ’’پاکستان کو الجھا ئے رکھنے کےلیے وہاں مذہب، مسلک اور لسانی قومیت کے مسائل کو اٹھا کر آگ جلائے رکھنا ضروری ہے اور آسان بھی‘‘ ۔ بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے انفارمیشن ٹکنالوجی سیل سے وابستہ ایک سابق اہلکار نے ایک بار مجھ سے کہا تھا: ’’بھرتی کے دوران ہمیں مسلمانوں میں اشتعال دلانے کی باضابطہ تربیت دی جاتی ہے ۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان جذباتی ہوتے ہیں اور جلد ہی اشتعال میں آجاتے ہیں اور اس کا فائدہ اٹھا کر ان کو اُلجھائے رکھنا بہت ہی آسان ہے‘‘۔

 ۱۹۶۰ء کے عشرے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے مقابلے کے لیے بھارتی خفیہ اور حساس اداروں کے افسران کی ایک میٹنگ طلب کی گئی۔ اس میٹنگ میں شریک ایک اعلیٰ افسر مولائی کرشنا دھر بھی شریک تھے۔ انھوں نے بعدازاں ایک کثیرالاشاعت کتاب Mission to Pakistan  (ناشر: مانس پبلی کیشنز، نئی دہلی،۲۰۰۲ء، صفحات:۷۰۲) لکھی، جس میں بتایا: ’’اس میٹنگ میں طے پایا تھا کہ پاکستان کے مرکزی شہر کراچی میں مسلکی منافرت کو شہ دے کر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو جوابی طور پر سبق سکھایا جائے‘‘۔ اسی کتاب میں انھوں نے مزید لکھا: ’’انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے حکم پر شدت پسند نظریات رکھنے والے ہندو نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی اور ان کو دین اسلام کے باریک سے باریک نکات سے واقف کرایا گیا، تاکہ وہ ایک جیّدعالم کی طرح بحث ومباحثہ کر سکیں ۔ ان کی ابتدائی تربیت دہلی سے متصل ایک فارم ہاؤس میں ایک افسر شیام پروہت المعروف ’مولوی رضوان‘ نے کی ۔ حساس ادارہ جوائن کرنے سے پہلے پروہت ایک شدت پسند ہندو تنظیم کاسرگرم رکن تھا اور دین اسلام کے متعلق اس کی معلومات قابلِ رشک تھیں ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد پروہت نے اپنے ایک شاگردگوتم رے المعروف ’مہم خان‘ کو مزید تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند بھیجا ۔ جہاں اس نے مناظرے کے فن میں خاصی مہارت حاصل کی۔ فراغت کے بعد ٹریننگ کے ایک اگلے حصے کے طور پر مہم خان صاحب نے بریلی جاکر علمائے بریلی کو مناظرے کی دعوت دی ۔ مگر مناظرے سے ایک رات قبل گوتم رے صاحب (یعنی ’مہم خان‘) دادِعیش دینے ایک طوائف کے کوٹھے پر جاپہنچے۔ طوائف اس بات پر حیران ہوئی کہ مولوی کی صورت والا یہ شخص غیر مختون کیوں ہے؟ اس نے جب مسٹر رے یا ’مہم خان صاحب‘ کو لانے والے دلال سے یہ ماجرا پوچھا تو وہ بھی حیران و پریشان ہوگیا اور سیدھا ’خان صاحب‘ کے تعاقب میں ان کی قیام گاہ تک پہنچ گیا۔ وہاں اسے معلوم ہوا کہ یہ ’جید مولوی صاحب‘ تو علمائے دیوبندکے اس وفد میں شامل ہیں، جو علمائے بریلی کے ساتھ مناظرہ کرنے آیا ہے تو مزید حیرت میں گم ہوگیا۔  یہ بات اس نے علمائے بریلی کو جاکر بتائی۔ اس طرح یہ بات پھیل گئی کہ دیوبندی، ختنہ نہیں کراتے۔ صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے خان صاحب یا گوتم رے پہلی ہی بس میں سوار ہوکر دہلی فرار ہوگئے‘‘۔

ان کے بعد دیگر سیدھے سادے مولویوں کا کیا حشر ہوا؟ مسٹر دھر، نے اس سے پردہ نہیں اٹھایا  بلکہ ان کا کہنا ہے: ’’اس واقعے کے بعد چیف صاحب نے پہلا حکم یہ دیا:’’آیندہ ایسے آپریشنز کے لیے بھرتی کیے گئے اہلکاروں کو سب سے پہلے ’حسب حال‘ بنایا جائے‘‘۔ دھر بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے نائب سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، انھوں نے یہ کتاب ایک ناول کی شکل میں لکھی ہے، مگر وہ دیباچے میں واضح طور پر لکھتے ہیں: ’’یہ حقیقی آپریشن کی روداد ہے، جس میں مَیں نے صرف افراداور جگہوں کے نام بدل دیے ہیں‘‘ ۔ ایم کے دھر کا چند برس قبل انتقال ہوگیا، مگر ان کی کتاب شائع ہورہی ہے۔

قصّہ مختصر یہ کہ صرف بھارتی خفیہ ادارے کا کوئی ایسا سربستہ راز نہیں ہے، جس پر سے دھر صاحب نے پردہ اٹھایا ہو ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مصروف مغربی ممالک کی متعدد ایجنسیاں نظریۂ اسلام کے خلاف علانیہ جنگ ا ور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی تگ ودو میں نہ صرف خود مصروف ہیں ، بلکہ مسلمانوں کے اندر سے بھی چند عناصر کو اُکسا کر اسلام کی شبیہ کو خراب کرکے اور غیر مسلموں اور مسلمانوں کے اندر لبرل عناصر کو اس سے متنفر کرکے، اسلامو فوبیا کے ایجنڈے میں گہرا رنگ بھر نے کا کا م کررہی ہیں ۔

اسی طرح دہلی کی ایک عدالت میں بھارت کے مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سینٹر ل بیورو آف انوسٹی گیشن(CBI) کی ایک رپورٹ موجود ہے، جس کو بنیاد بناکر ;عدالت نے دو مسلم نوجوانوں ارشاد علی اور نواب معارف قمر کو گیارہ سال بعد رہا کردیاتھا ۔ یہ دونوں افرادبھارت کے خفیہ ادارے اینٹلی جنس بیورو (IB) اور دہلی کی اسپیشل پولیس کے مخبر تھے، جو بعد میں انھی کے عتاب کا شکار ہوکر جیل میں چلے گئے ۔ ان کے ہوش ربا انکشافات ’سی بی آئی‘ اور کورٹ کے ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ بہار کا مکین ارشاد علی اپنے ساتھی معارف قمر کے ساتھ کشمیر میں مخبری کا کام کرتا تھا اور چند افسران اس کو لائن آف کنٹرول پار کرکے ’لشکر طیبہ‘ میں شامل ہونے کےلیے دبائو ڈال رہے تھے ۔ جب خوف کے مارے ارشاد نے انکار کیا، تو ملاقات کےلیے موصوف کودہلی بلاکردو ماہ تک قید میں رکھا گیا۔ بعد میں ایک کشمیری گروپ سے وابستہ دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا۔

ارشاد علی کے بیان کے مطابق: کسی مسلم علاقے میں زاہدانہ وضع قطع کا کوئی نہ کوئی مولوی ٹائپ شخص روانہ کیا جاتا ہے، جو اسلامی علوم میں دسترس رکھتا ہے اور یہ حضرت یا تو کسی مسجد کے آس پاس مکان کرایہ پر لیتے ہیں یا مسجد میں ہی ڈیرہ جماتے ہیں ۔ اس کے متقی پن اور پرہیزگاری سے متاثر ہوکر محلّے یا گاوں کے افراد اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں ۔ یہ حضرت، رقت آمیز بیانات میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں سناکر جذباتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو منتخب کرکے جہاد کی ترغیب دیتے ہیں ۔ لوہا جب خوب گرم ہوجاتا ہے، تو ایک دن یہ حضرت معتقدین کے اس گروپ پر ظاہر کرتے ہیں ، کہ وہ دراصل کسی تنظیم کے کمانڈر ہیں ۔ جذبات میں مغلوب نوجوان اب کسی بھی حد تک جانے کےلیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ ان کو ہتھیار چلانے کی معمولی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ یہ مولوی صاحب اس دوران مسلسل افسران کے رابطے میں ہوتے ہیں ۔ ٹارگٹ متعین بھی کر دیا جاتا ہے ۔ آخر میں یہ نوجوان پکے پھلوں کی طرح ان سیکورٹی ایجنسیوں کے بنے جال میں گر جاتے ہیں اور اگر ان کا ’انکاونٹر‘ [جعلی مقابلے میں قتل] نہ ہوجائے ، تو زندگی کا بیش تر حصہ مختلف جیلوں میں گزار تے ہیں ۔ میڈیا میں خبر آتی ہے، کہ ’’دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا ۔ مگر اس کا سرغنہ یا ایک دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ ان پکڑے گئے افراد کو بتایا جاتا ہے، کہ آپ پر رحم کھاکر جیل بھیجا جارہا ہے، ورنہ ’انکاونٹر‘ میں مارا جانا لازمی تھا ۔ وہ بھی پولیس اور اداروں کے احسان مند رہتے ہیں ، کہ مارنے کے بجائے ان کو جیل بھیج دیا گیا، جہا ں اگلے سات تا دس سال گزارنے کے بعد وہ رہا ہوجاتے ہیں ۔

وادیٔ کشمیر کے تجارتی اور سیاسی لحاظ سے اہم قصبے سوپور میں اسکول اور کالج کے دور میں ، میں میر سید علی ہمدانیؒ [۱۳۱۴ء-۱۳۸۴ء]کی خانقاہ میں نماز جمعہ ادا کرتا تھا ۔ سیّد علی ہمدانیؒ کا تحریر کردہ وظیفہ اورادِ فتحیہ   وحدانیت پر مشتمل کلام ہے۔ نماز سے قبل شمالی کشمیر کے مفتی اعظم مولوی غلام حسن، مسلم امت میں خلفشار اور تفرقوں کا ذکر کرتے ہوئے، اتحاد بین المسلمین کے لیے رقت آمیزدعا کرواتے تھے ، مگر اسی دوران فوراً ہی ان کا ٹریک تبدیل ہو جاتا تھا ۔ وحدت کا درس دینے کے چند منٹ بعد وہ جماعت اسلامی، مولانا مودودی، ایرانی انقلاب وغیرہ کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیتے تھے۔ ان کا اصل نشانہ تو جماعت اسلامی ہی ہوتی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ ’’جماعت کے لوگ اورادِ فتحیہ  پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں‘‘۔ یہ بات سن کر حاضرین کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے، اور وہ نفرت کی چنگاری سلگانے میں کامیاب ہوجاتے۔ حالانکہ جماعت اسلامی سے وابستہ قاری سیف الدین صاحب ہی نے اورادِ فتحیہ   کا اُردو اور کشمیری میں ترجمہ کر رکھا تھا، جو وہاں خاص و عام میں مقبول تھا۔ اور جماعت نے کبھی کسی کو اس کے پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا۔

 جب ۲۰۰۲ء میں مجھے تہاڑ جیل، دہلی میں ایام اسیر ی گزارنے سے قبل دہلی پولیس کی اسپشل سیل کے انٹروگیشن روم میں رکھا گیا ، تو ایک دن خفیہ ادارے کا ایک بزرگ اہلکار راقم سے ملنے آیا ۔ یہ اہلکار ریٹائرمنٹ کے قریب تھا، سوپور کا حال و احوال پوچھنے لگا ۔ میں اس کے سوالات کو انٹروگیشن ہی کا حصہ سمجھ رہا تھا ۔ مگر اس نے جلد ہی وضاحت کر دی کہ ’’میں کافی مدت تک سوپور میں ڈیوٹی دے چکا ہوں، اور وہاں کے گلی کوچوں اور مقتدر افراد سے واقفیت کی یاد تازہ کرنے کےلیے ملنے آیا ہوں‘‘۔ باتوں باتوں میں اس نے مفتی غلام حسن صاحب کا بھی ذکر چھیڑا، کہ کس طرح ۱۹۷۵ء میں شیخ محمد عبداللہ [م:۱۹۸۲ء]کو دام حکومت میں پھنسا کر،رہے سہے جذبۂ آزادی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کےلیے جماعت اسلامی اور دیگر ایسی تنظیموں کا نظریاتی توڑ کرنے کےلیے مقامی پیروں اور مولویوں کو ایک منصوبے کے تحت آلۂ کار بنایاگیا تھا۔ سادگی میں اعتقادی اور بداعتقادی کا ہوّا کھڑا کرکے اپنی جگہ مخلص افراد نے بھی اَنجانے میں اس ہدف کو تقویت فراہم کردی تھی۔

پختہ کار مذہبی ہندو ہونے کے باوجود یہ اہلکار، اسلام کے عقائد اورمسالک کے درمیان اختلافات کی باریکیوں پر بھرپور عبور رکھتا تھا ۔ سبھی فرقوں کے عقائد اس کو اَزبر تھے ۔ شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز کے فرمودات کے علاوہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے ساتھ ان کے فکری اختلافات، جن سے راقم بھی ناواقف تھا،وہ سیرحاصل لیکچر دے سکتا تھا۔ اب مسئلہ دیکھنے کا یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمین کا درد سینے میں سمیٹے مفتی صاحب، اسی اتحاد کو پار ہ پارہ کرنے کےلیے کیوں مجبور ہو جاتے تھے؟ خفیہ ادارے کے اس بزرگ اہلکار نے مجھے ماضی کی ا ن کڑیوں کو جوڑنے اور سوچنے پر مجبور کیا، کہ کس طرح اچانک مذکورہ مولوی صاحب وعظ و نصیحت کرتے کرتے ٹریک سے اتر جاتے تھے؟

یہ الگ بات ہے کہ جب کشمیر میں عسکری دور کا آغاز ہوا، تو بارہمولہ میں بھارتی فوج کی ۱۹ویں ڈویژن کے کمانڈر جوگندر جسونت سنگھ، (جو بعد میں بھارتی آرمی کے ۲۱ویں چیف [۲۰۰۵ء- ۲۰۰۷ء]بھی بنے)۔ انھوں نے کشمیر میں سب سے پہلے مساجد کے اماموں کوہی تختۂ مشق بنایا ۔ سوپور کی خانقاہ کے انھی مشہور ۷۰سالہ واعظ کو بھی طلب کیا، اور ان کے جھریوں زدہ ہاتھوں پر گرم استری پھیر دی گئی تھی ۔ کانگریس کے ریاستی یونٹ کے صدر غلام رسول کار کی کوششوں سے جب ان کو رہائی ملی، اور میں ان کی خیریت دریافت کرنے گیا، تو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں کی جلد جھلس چکی تھی، چربی اور گوشت کی تہیں صاف دکھائی دے رہی تھیں ۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قوم کے لیڈر،ان نزاکتوں کا ادراک کرتے ہوئے، گلی محلے کی مساجد پر نظر رکھیں کہ وہاں مقامی امام یا مولوی صاحب کس طرح کی وعظ خوانی کررہے ہیں؟ ; کیا اس سے معصوم ذہنوں کو قربانی کا بکرا تو نہیں بنایا جارہا ہے؟ ; ناموس رسالت کی اہمیت اور عوام کو اس کی افادیت اور معنویت بتانا اور اس پر زور دینا بجاطور پر اپنی جگہ لازم ہے،  مگر اس کو بنیاد بناکر عوام کوقانون ہاتھ میں لینے کےلیے اُکسانے والوں کو بھی سمجھنا،پرکھنا اور انجام تک پہنچانا چاہیے ۔

 یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مختلف جداگانہ قومیّتوں کے نہایت گہرے تضادات اور تصادم تک پہنچے تفرقات کے باوجود، بھارت نے انڈین نیشنل ازم کو قابلِ لحاظ حد تک تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ۲۰۱۴ء کے بعد ہندو قوم پرستوں کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے اس میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں پاکستان ایک ہی مذہب اور صرف چارپانچ لسانی قومیّتوں کے باوجود شناخت کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار کیوں بن رہا ہے؟ معصوم ذہنوں کو روز تنگ نظر قومیتی احساساتِ محروی اور نفرت بھرے مذہبی وعظوں کے انجکشن دینا بھی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس لیے تنگ نظرقوم پرستوں کا معاملہ حکومت پر چھوڑ کر، کم از کم مذہبی حوالے سے نسبت رکھنے والے فسادی عناصر کو دینی قیادت ہی رضاکارانہ طور پر درست کرے، ان کی تطہیر کرے اور ان پر نظررکھے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ میں سری لنکا کے باشندے کے ہجومی قتل اور پھر لاش کو جلانے کا واقعہ چیخ چیخ کر یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس میں فی الحقیقت کوئی دینی تنظیم ملوث نہیں تھی، مگر جن افراد نے یہ قدم اٹھایا، وہ ضرور کسی کے زیر اثر ہیں، اس لیے صرف اس یا اس نوعیت کے واقعے کی محض مذمت کر نا کافی نہیں ہے، اس طرح کے واقعات کے تدارک کےلیے عملی اقدامات اٹھانا بھی انتہائی ضروری ہے ۔