افتخار گیلانی


حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر بڑی دُوررس تبدیلیاں رُونما ہورہی ہیں، جن سے خطّے میں حالات مزید ابتر اور سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ۱۹جون ۲۰۱۸ءکو ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یکایک جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں متحرک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے حمایت واپس لے کر مخلوط حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اسی کے ساتھ ریاستی گورنر این این ووہرا نے حکومت کی زمامِ کار سنبھال لی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب گورنر    این این ووہرا نے حکومت سنبھالی ہے، جب کہ آج تک آٹھ مرتبہ کشمیر میں گورنر راج نافذکیاگیا ہے۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ بی جے پی نے معروف صحافی شجاعت بخاری کے قتل کا بہانہ بناکر الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی کی حکومت امن و قانون کے نفاذ میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسی دوران بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گشت کرنے لگیں کہ اگلی حکومت سازی کے لیے بی جے پی ایک اور حلیف پارٹی پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کے سر پر تاج رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔پھر بی جے پی کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریںآنے لگیں کہ اتحادیوں، آزاد امیدواروں اور دیگر پارٹیوں خصوصاً   پی ڈی پی کے ناراض اراکین کی مدد سے وہ خود ہی اقتدار پر براجمان ہوناچاہتی ہے۔ تقریباً دوعشروں سے زائد عرصے تک دہلی کی حکومتوں اور سیاسی اُمور و واقعات کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلی ہی نظر میں مجھے یہ گماں ہوا کہ مصدقہ خبر کے بجاے عوامی اور سیاسی پارٹیوں کا ردعمل جاننے کے لیے یہ متضاد خبریں ذمہ دار حلقے ’پلانٹ‘ کر رہے ہیں، تاکہ اگر کوئی شدید رد عمل آئے تو اس کی تردید کردی جائے۔ چند روز بعد پھر ایسی ہی خبر گشت کرنے لگی، تو اس کا ذریعہ معلوم کرنے کے بعد پتا چلا کہ واقعی ایسی خبروں کے تار براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے دفتر سے منسلک ہیں۔ منصوبہ یہ سامنے آیا کہ مرکزی وزیر اور ادھم پور کے رکن پارلیمنٹ جیتندر سنگھ رانا کو اگلے ماہ سری نگر میں بطور وزیر اعلیٰ حلف دلایا جائے گا۔ چوں کہ کشمیر میں وفاداریوں کی تبدیلی (defection)کا قانون، بھارت کے مرکزی قانون کے برعکس پیچیدہ اور سخت (stringent)ہے، اس لیے دیگر پارٹیوں اور خصوصاً پی ڈی پی کے ناراض اراکین کی حمایت اس طرح حاصل کروانا کہ وہ نااہل بھی نہ ہوں، جیسے اُلجھائو پر قانونی ماہرین سے مشاورت ہورہی ہے۔پی ڈی پی کے ناراض اراکین اور سجاد غنی لون کا تعلق چوں کہ شمالی کشمیر سے ہے، اس لیے بی جے پی کو حمایت دینے والے اس گروہ کو ’شمالی اتحاد‘ کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔

کشمیر کی بدقسمتی رہی ہے کہ تاریخ کا پہیہ آگے بڑھنے کے بجاے اُلٹا چکر لگا کر پھر وہیں پہنچتا ہے، جہاں سے گردش شروع ہوئی تھی۔ ۲۰۱۰ء کے عوامی غیظ و غضب کو دیکھ کر مبصرین کا خیال تھا کہ کشمیر کو واپس ۱۹۹۰ء کی پوزیشن میں دھکیلا گیا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد عوامی مزاحمت کی شدت دیکھ کر اندازہ تھا کہ گھڑی کی سوئیاں ۱۹۴۷ء پر پہنچ گئی ہیں۔ اگر اب بی جے پی واقعی ایک ہندو ڈوگرے کے سر پر وزارت اعلیٰ کا تاج سجاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا ’ڈوگرہ راج کی واپسی‘ ۔ یوں انتظامی سطح پر تاریخ کا پہیہ گھوم کر ۱۹۳۱ء تک واپس پہنچ جائے گا،  جب کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کی وحشیانہ حکومت کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا تھا۔

فی الحال گورنر ووہرا، فوج اور خفیہ ایجنسیاں اس نقشے میں رنگ بھرنے سے کترا رہی ہیں۔ خیال ہے کہ ایک ہندو وزیراعلیٰ کشمیری عوام کی نفسیات کو بُری طرح پامال اور مجروح کرے گا اور بھارتی حکومت کی کئی عشروں پر پھیلی کاوشوں پر پانی پھرجائے گا ۔اصل بات یہ ہے کہ  جو ں جوں اگلے عام انتخابات قریب آرہے ہیں ، بی جے پی کے لیے اپنے ان انتہا پسند کارکنوں کو مطمئن کرنا مشکل ہو رہا ہے، جو مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ اپنے انتہاپسند طبقوں کو بہلانے کے لیے کشمیری مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے ایک ہندو ڈوگرہ وزیر اعلیٰ کو مقر ر کرنا ہی ایک آسان سا حل دکھائی دیا ہے کہ جس کے ذریعے پورے بھارت میں ہندو ووٹروں کو ایک بار پھر پارٹی کے حق میں لام بند کیا جاسکتا ہے۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق بھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ بھارت نواز کشمیری سیاسی پارٹیاں بھی نئی دہلی کی حقیقی وفادار نہیں ہیں، بلکہ ان کی ہمدردیاںبھی آزادی پسندو ں کے ساتھ ہیں اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بننے میں  یہ بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ بھارت کا موجودہ حکومتی ڈھانچا فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور اس قبیل کے دیگر لیڈروں کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکتا ہے، جس طرح و ہ حریت لیڈروں کو نشانہ بناتے آرہے ہیں۔ مسرور نے اترپردیش سے آر ایس ایس کے ایک لیڈر کا بیان نقل کیا ہےکہ: ’’بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰جس میں کشمیر کے خصوصی درجے کا ذکر ہے، اسے ہٹانے کی خواہش رکھنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ نریندر مودی اور اجیت دوول اس سے بھی آگے کی سوچ رہے ہیں‘‘۔ حکومتی ذرائع کا حوالہ دے کر اس ہندو قوم پرست لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکومت جموں، کشمیر اور  لداخ کو تقسیم کرکے مرکز کے زیرانتظام خطے بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ تینوں خطوں میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہوگی بلکہ تینوں انڈمان نکوبار، لکشدیپ اور پانڈی چری وغیرہ کی طرح   براہِ راست نئی دہلی کی حکمرانی میں ہوں گے، اور تینوں خطوں میں ایک لیفٹیننٹ گورنر ہوگا، جو براہِ راست دہلی کے سامنے ہی جواب دہ ہوگا۔ آج ریاست کی’ اسمبلی اور مرکزی دھارے‘ کی نام نہاد  سیاست اس قدر بے وقعت ہوکر رہ گئی ہے کہ نئی دہلی کا حکمراں طبقہ اسے بوجھ سمجھتا ہے۔

دسمبر ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے بعد جب کشمیر میں معلق اسمبلی وجود میں آئی اور پی ڈی پی کے لیے کانگریس یا بی جے پی میں سے کسی ایک کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں آنا ا لازمی ہوگیا تو فروری ۲۰۱۵ء میں پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید سے جموں میں ان کی رہایش گاہ پر ایک انٹرویو کے دوران میں نے پوچھا تھا: ’کہیں بی جے پی کو اقتدار میں شریک کروا کے وہ کشمیریوں کے مصائب کی تاریک رات کو مزید گہرا اور خوف ناک بنانے کے مرتکب تو نہیں ہوںگے؟‘ انھوں نے کہا: ’’کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے حوالے سے بھارت کی دونوں قومی جماعتوں کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے۔ نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی [یعنی دہلی نواز پارٹیوں]کا فرض ہے کہ وہ مسئلۂ کشمیرکے حل کی کوئی سبیل پیدا ہونے تک بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو بچاکر رکھیں‘‘۔

تاہم، مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر اس دفعہ کو تار تار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بیک ڈور سے غیر ریاستی ہندو مہاجرین کو رہایشی پرمٹ دینا، علیحدہ پنڈت کالونیاں بسانا ، آخری ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کے یوم ولادت پر تعطیل کے لیے اسمبلی سے قرارداد پاس کروانے کی کوششیں وغیرہ، کشمیریوں کو ان کی سیاسی بے وزنی کا احساس دلانے کی آخری حد تھی۔ مگر پھر بھی ڈو مور کے مطالبوں کو تسلیم کرتے کرتے بھی وہ اپنی کرسی بچا نہیں پائیں۔ اسی طرح مذکورہ مہاراجا کے مظالم کے خلاف شہدا کے مزاروں پر ہر سال ۱۳جولائی کو میلہ لگانا اور ان کے قاتل ہری سنگھ کے جنم دن کو متبرک قرار دینا ایک سنگین مذاق تھا۔کیا بھارت کبھی جلیانوالہ باغ کے قاتل جنرل ڈائر کے جنم دن کی یاد منانے کے لیے چھٹی کا اعلان کرسکتا ہے؟ کشمیر صدیوں سے سازشوںاور بیرونی طاقتوں کی کش مکش کی آماج گاہ بنا رہا ہے۔

اس خطے کی بدقسمتی یہ رہی کہ آمد اسلام کے ۲۵۰سال بعد ہی سے یہ خطہ آزادی سے محروم ہوکر مغلوں، افغانوں، سکھوں اور ڈوگروں کے تابع رہا، جنھوں نے مقامی مسلم شناخت کو زیر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔پچھلے ۵۰۰برسوں کے دوران شاید ہی کبھی یہاں عوام نے حکمرانوں کو اپنا حقیقی نمایندہ تسلیم کیا ہو، کیونکہ چند ایک کو چھوڑ کر اکثر یا تو بیرونی طاقتوں کے گورنر تھے یا   ان کی طرف سے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمران۔ اپنی تخت نشینی کے فوراً بعد مغل بادشاہ اکبر نے کشمیر پر اپنی نظریں جمائی ہوئی تھیں، اور اس خطے کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کئی بار فوج کشی کی۔ تقریباً ایک عشرے کی بے نتیجہ جنگ و جدل کے بعد مغل حکومت کے جنرل راجا بھگوان سنگھ نے ۱۵۸۰ء میں گلگت کے درد قبیلے سے تعلق رکھنے والے کشمیر کے سلطان یوسف شاہ چک کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے سلسلۂ جنبانی شروع کیا۔ پانچ سال کی محنت کے بعد دونوں فریق اس معاہدے پر رضامند ہوگئے، جس کی رُو سے کشمیر میں لین دین مغل کرنسی میں کیے جانے پر اتفاق ہوا اور جمعے کے خطبے میں مغل فرماںروا کا نام پڑھا جانے لگا۔ باقی تمام امور میں مقامی حکمرانوں کو خود مختاری عطا کی گئی۔ ایک سال بعد اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوسف شاہ چک کو مغل دارالحکومت آگرہ سے متصل فتح پور سیکری آنے کی دعوت دی گئی، مگر لاہور ہی میں اس کو گرفتار کرکے پابہ زنجیر اکبر کے دربار میں پیش کیا گیا۔ یوسف شاہ نے جو اپنی شاعرہ ملکہ حبہ خاتون کے حوالے سے بھی مشہور ہے، باقی زندگی بہار کے شہر پٹنہ سے متصل ایک قصبے میں جلاوطنی اور عملاً قید میں گزاری، جہا ں آج بھی اس کی شکستہ قبر کشمیر پر قبضے اور طاقت کے بل بوتے پر سمجھوتوں سے انحراف کی داستان بیان کرتی ہے۔

یہ بات اب سری نگر میں زبان زد عام تھی کہ یہ وہ پی ڈی پی نہیں تھی جس نے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان دہلی کی روایتی کٹھ پتلی حکومت کے بجاے ایک پُراعتماد اور کشمیری عوام کے مفادات اور ترجیحات کے ترجمان کے طور پر نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس لیے محبوبہ مفتی کی برطرفی پر کشمیر میں شایدہی کسی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ ٹپکا ہو۔ بھارتی فوج کے ذریعے شروع کیے گئے ’آپریشن آل آؤٹ‘ کی وجہ سے عوام خود کو اپنے ہی گھروں میں قید پاتے ہیں۔جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ پلوامہ میں جب فوج، نیم فوجی اہلکاروں اور پولیس کے دستوں نے کریک ڈاؤن کیا تو مقامی نوجوانوں نے زیادتیوں یا گرفتاریوں کے خوف سے پوری رات درختوں پر گزاری۔ والدین یا تو اپنے پیاروں کی ہلاکتوں پر ماتم کناں ہیں یا پھر روپوش ہوئے نونہالوں کی لاشوں کے منتظر!

یوں دکھائی دیتا ہے کہ جنوبی کشمیر کے چاراضلاع کو ایک ’چھوٹا جنگی علاقہ‘ (mini war zone)بنا دیا گیا ہے جہاں وحشیانہ ملٹری آپریشن اور جبر کی داستانوں پر مشتمل کارکردگی ہی سے بھارت کی قومی سیاست کو خوراک مل رہی ہے۔ ’ڈوگرہ راج کی واپسی‘ کے نتیجے میں کشمیر میں شناخت اور انفرادیت برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے۔ اب یہ فیصلہ مخلص سیاسی لیڈروں کو کرنا ہے کہ وہ کس طرح اس بد نصیب قوم کو غیریقینی حالات اور مایوسی کے اندھیروں سے نجات دلا سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں مسئلہ کشمیر کے حل سے زیادہ  کشمیر کی شناخت اور تشخص کے بچائو کے لیے قابل عمل اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نظر آرہا ہے کہ کشمیر کے دونوں اطراف سیاسی جماعتیں نہ صرف اپنی اصل قومی و عوامی ذمہ داریوں سے پہلوتہی برت رہی ہیں، بلکہ ایک نوعیت کی مرعوبیت کی شکار ہوتی جارہی ہیں۔ قوم کے وسیع تر مفاد میں سوچنے کے بجاے اقتدار کی ہوس نے نیشنل کانفرنس کو نہ صرف بزدل بنا دیا ہے، بلکہ اس کی بھاری قیمت سادہ لوح کشمیریوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ کچھ یہی حال اب پی ڈی پی کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے دونوں کا محور اقتدار کی    نیلم پری ہے۔ اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا تو کجا، فی الحال جس تیز رفتار ی سے مودی حکومت کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے لیے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے، اس کا توڑ کرنے اور غوروفکر کے لیے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف باضمیر افراد، نیز حُریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔

جولائی ۲۰۱۶ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جب کشمیر میں حالات کسی بھی صورت میں قابو میں نہیں آرہے تھے،نیز بھارتی میڈیا آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہا تھا، تب غالباً  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایما اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی استدعا پر میڈیا کے چنیدہ ایڈیٹروں کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے لیے بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ۱۷ طاقت ور مدیر اور چوٹی کے صحافی وزارت اطلاعات کے صدر دفتر میں پہنچے تو وہ بھارتی کابینہ کے نہایت مؤثر وزرا کی ایک ٹیم کے رُوبرو تھے۔ مودی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں وزرا کسی مسئلے پر میڈیا کو حکومتی موقف اور اس کے مضمرات پر بریفنگ دے رہے تھے۔

موجودہ بھارتی نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو کے پاس اُن دنوں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلم دان تھا۔ انھوں نے نظامت سنبھالتے ہی فرمایا: ’’یہ ایک پس منظر بتانے والی بریفنگ ہے، اس لیے ہم سوالات کے علاوہ کھلی بحث اور پریس سے مشوروں کے بھی طالب ہیں‘‘۔ ایک سینئر وزیر نے گفتگو کے آغاز میں گزارش کی کہ:’ کشمیر میں اس شورش کی رپورٹنگ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیا جائے، اور کشمیری عوام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنانے سے گریز کیا جائے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اس بات سے پریشان ہیں کہ میڈیا جس طرح کشمیر کی صورتِ حال کو رپورٹ کر رہا ہے‘ اس سے کئی پیچیدگیا ں پیدا ہو رہی ہیں۔ کشمیری عوام اپنے آپ کو مزید الگ تھلگ محسوس کررہے ہیں۔ ان کے اور بھارتی عوام کے درمیان خلیج وسیع اور گہری ہو تی جارہی ہے‘‘۔

اس گفتگو سے جو میڈیا کو مفاہمت اور احتیاط پسندی کی تلقین پر مبنی تھی، اس پر فوراً ہی دوسرے ایک اہم تر وزیر نے پانی انڈیل دیا۔ یہ وزیر صاحب حکومتی حلقوں میں کشمیر پر حرفِ آخر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر میں برپا پچھلی عوامی شورشوں کا موجودہ عوامی اُبھار کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا: ’’۱۹۸۹ء کا عوامی احتجاج اور عسکریت کا آغاز ۱۹۸۷ء کے انتخابات میں بے حساب دھاند لیوں اور جمہوری عمل کی ناکامی سے منسلک تھا۔ ۲۰۰۸ء کی عوامی شورش اصل میں جموں کے ہندو اکثریتی علاقے اور وادی کشمیر کے درمیان چلی آرہی مخاصمت کا شاخسانہ تھی۔ ۲۰۱۰ء میں مقامی حکومت کی نااہلی اور سلسلہ وار ہلاکتوں کی وجہ سے عوام سڑکوں پر تھے۔   موجودہ شورش کا تعلق جمہوری عمل کی ناکامی یا آزادی کی تحریک سے نہیں ہے، بلکہ اس کے تار عالمی دہشت گردی سے جڑے ہیں‘‘۔پھر انھوں نے کہا کہ: ــ’’القاعدہ ،آئی ایس آئی ایس اور طالبان  جیسی تنظیمیں اپنے نظریات کے ساتھ حاوی ہو رہی ہیں، اس لیے ان کو کچلنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے‘‘۔ غرض یہ کہ ان سینئر وزیر صاحب نے مبالغہ آمیزی سے کام لے کر کشمیر کی تحریک کو عالمی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑ کر خطے پر اس کے مضمرات کا ایسا نقشہ کھینچا کہ کانفرنس روم میں سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔ اس تحریک کو خود ساختہ عالمی اسلامی جہادی تنظیموں سے منسلک کرنے کا ثبوت ان کے پاس یہ تھا کہ: ’’کشمیر میں قومیت کے بجاے اسلامی تشخص نئی نسل میں سرایت کرتا جارہا ہے ، نیز مسجد و منبر اور جمعہ کی نماز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘‘۔

 سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے محترم وزیر صاحب کو یاد دلایا کہ: ’’درگاہ و منبر، کشمیر میں ہر دور میں سیاسی تحریکوں کے مراکز رہے ہیں، کیوں کہ اس خطے میں جمہوری اور پُر امن طریقوں سے آواز بلند کرنے اور اپنی بات بیان کرنے کے بقیہ سبھی دروازے اور کھڑکیا ں بند تھیں۔ خود شیخ محمد عبداللہ جیسے سیکولر لیڈر کو بھی عوام تک پہنچنے کے لیے درگاہ حضرت بل کا سہارا لینا پڑا۔  کسی سیاسی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی میں، یہ مسجدیں اور خانقاہیں ہی اظہار کا ذریعہ رہی ہیں‘‘، مگر وزیر صاحب نے یہ گزارش سنی اَن سنی کرتے ہوئے اپنی ہوش ربا تحقیق پر مبنی بریفنگ جاری رکھی۔ ان کا واحد مقصد یہی تھا کہ ہر محاذ پر ناکامی کے بعد بھارتی حکومت کشمیر میں ’وہابیت‘ کا ہوّا کھڑا کرکے عالمی برادری کے سامنے موجودہ تحریک کو عالمی دہشت گردی کا حصہ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیاکہ:’’اگر’ وہابیت‘ اتنی ہی خطرناک ہے تو اکتوبر ۲۰۰۳ء میں آخر کس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سرینگر آنے کی ترغیب دی، آخر وہ کیسے گورنر اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے چہیتے ایس کے سنہا کے راج بھون میں مہمان بنے تھے؟ عرصۂ دراز سے تحریک آزادی کے خلاف نظریاتی مورچہ بندی کے لیے بھارتی ایجنسیاں دارالعلوم دیوبند اور دیگر اداروں سے وابستہ علماکی کشمیر میں مہمان نوازی کرتی آئی ہیں۔ ان میں اب ایک نیا نام آسٹریلیا میں مقیم ایک خود ساختہ شیعہ عالم کا ہے، جنھوں نے حال ہی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے ایک نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کی حمایت کی۔دہلی میں تو ایک اُردو اخبار کے مدیر نے بھی اس کا بیڑا اٹھارکھا ہے۔ چوں کہ تصور یہ ہے کہ جماعت اسلامی، کشمیر میں جاری تحریک کوکیڈر اور لیڈر شپ فراہم کرتی ہے، لہٰذا اس کا توڑ کرنے کے لیے اس کے مخالف علما کو استعمال کیا جائے‘‘۔

مزید عرض گزار ہوا: ’’ تھوڑی سی تحقیق ہی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ۱۹۹۰ء کے اوائل میں نیشنل کانفرنس کے لیڈروںکی نقل مکانی اور دیگر لیڈروں کی اجتماعی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی واحد ریاست گیر سیاسی جماعت میدان میں موجود تھی، جس نے خاصی چھان پھٹک کے بعد   عسکری تحریک کو کنٹرول کرنے کے لیے پیش رفت کی تھی، جس کا خمیازہ بعد میں ان کو ۶۰۰سے زیادہ ارکانِ جماعت کے قتل کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ کشمیرکی سبھی دینی و سیاسی جماعتوں نے اس تحریک میں بھر پور شرکت کی، جن میں جمعیت اہلحدیث، بریلوی مکتب کی کاروان اسلام، امت اسلامی، شیعہ تنظیمیں، مقامی فکرکی نمایندگی کرنے والی انجمن تبلیغ الاسلام، سیکولر تنظیموں، جیسے لبریشن فرنٹ اور پیپلزکانفرنس سمیت سب نے بھر پور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس، نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کو ووٹ دینے کے لیے قطاروں میں کھڑ ے نظر آتے ہیں، وہ بھی ایجی ٹیشن میں پیش پیش رہتے ہیں‘‘۔میں نے سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے وزیر موصوف کو یاد دلایا کہ: ’’شوپیاں میں پولیس نے سنگ باری کے الزام میں جن نوجوانوں کو گرفتارکیا ہے ،وہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے دورران بی جے پی کے مقامی امیدوارکے لیے مہم چلا رہے تھے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ حریت کوئی باضابطہ تنظیم یاکیڈر پر مبنی نیٹ ورک نہیں بلکہ اس کے لیڈرکشمیریوں کے   جذبۂ آزادی کے نگران اور ترجمان ہیں۔یہ جذبۂ آزادی پارٹی وفاداریوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہے‘‘۔ کسی سیاسی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے مزید عرض کیا کہ: ’’ہندو اکثریتی علاقہ کی جموں یونی ورسٹی میں ہندو قوم پرست آر ایس ایس کے سربراہ آکر سیاسی تقریر کرتے ہیں، جب کہ ۳۰۰کلومیٹر دُور کشمیر یونی ورسٹی میں کسی بھی سیاسی مکالمے پر پابندی عائد ہے۔ ایک دہائی قبل کشمیر یونی ورسٹی نے انسانی حقوق کا ڈپلوما کورس شروع کیا تھا، چند سال بعد ہی اس کی بساط لپیٹ دی گئی، کیوں کہ طالب علم سیاسی اور جمہوری حقوق کے متعلق سوال پوچھنے لگے تھے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے فیلڈ میں کیریئر یا روزگار کی کمی ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ: ’’محترم منسٹرصاحب! متبادل جمہوری ذرائع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مساجد کو سیاسی طور پر استعمال کرنا تو ایک مجبوری بن گئی ہے اور یہ کشمیر کی پچھلے پانچ سو برسوں کی تاریخ ہے‘‘۔

وزیر صاحب نے جواب میں بتایا کہ: ’’حریت کانفرنس کے رہنما اپنی شناخت اور عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں‘‘۔ دوسری طرف ان کو یہ غصّہ بھی تھا کہ: ’’حُریت کانفرنس نے کُل جماعتی وفد کے ارکان سے ملنے سے انکار کرکے پوری بھارتی پارلیمنٹ کو بے وقار کردیا ہے، جس کا انھیں حساب دینا پڑے گا‘‘۔ میں نے سوال کیا کہ: ’’اگر یہ رہنما واقعتاً بے وقعت ہوچکے ہیں تو ان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘ وزیر موصوف کے بقول: ’’کشمیر کا روایتی اسلام خطرے میں ہے، وہاں ’وہابیت‘ وغیرہ نے جڑیں گاڑ لی ہیں جس کا تدارک ضروری ہے کیوں کہ موجودہ تحریک کی قیادت یہی نظریہ کر رہا ہے‘‘۔

کئی گھنٹوں پر پھیلی یہ بریفنگ جب ختم ہوئی تو دوبارہ بتایا گیا کہ: ’’یہ ایک بیک گراونڈ بریفنگ تھی اور یہ کسی بھی طورپر میڈیا میں رپورٹ نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ مگر اگلے دن صبح اُٹھے تو دیکھا کہ بھارت کے دوکثیر الاشاعت اخباروں ٹائمز آف انڈیا اور ہندستان ٹائمز میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے اس نشست کی معلومات شہ سرخی کے طور پر شائع ہوگئی تھیں اور پھر کئی ماہ تک ٹی وی چینلوں کے لیے کشمیر پر یہ رپورٹ بحث کی خوراک بنی رہی۔ معلوم ہوا کہ ان اخباروں کے مدیران کو رات دیرسے ہدایت دی گئی تھی کہ: ’’ان وزیر صاحب کی بریفنگ کی رپورٹنگ چھپنی چاہیے‘‘۔ جس سے ایک طرف تو اس بریفنگ کا بنیادی مقصد فوت ہوگیا، مگر دوسرا مقصد یہ سمجھ میں آیا ،چوںکہ پاکستان دنیا بھر میں سفارتی مشن بھیج رہا ہے، تو اس کے بیانیے کو اس رپورٹ کے ذریعے سے سبوتاژ کیا جائے۔ اور یہ دیکھنے میں آیا کہ جہاں بھی پاکستانی مشن گئے وہاں ان کو کشمیر اور مبینہ طور پر اس کے عالمی دہشت گردی سے منسلک ہونے کی مناسبت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس نشست میں میری بے جا مداخلت اور سوال اُٹھانے کی گستاخی سے وزیر موصوف اتنے ناراض ہوئے کہ مجھے صحافت سے ہی چلتا کرنے کی انھوں نے کوشش کی۔

خیر، ا ب دو سال بعد جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے نئی دہلی حکومت کو بھیجی گئی رپورٹوں اور ایک برطانوی تھنک ٹینک کی تحقیقی رپورٹ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ: ’’تحریک کشمیر کا عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اور نہ یہ جدوجہد سلفی، وہابی یا کسی ایسے نظریے سے وابستہ ہے‘‘۔ پچھلے سال ایک ملاقات میں جموں و کشمیر کے ایک سینئر پولیس افسر ، جو اس وقت جنوبی کشمیر میں تعینات تھے اور بھارتی فوج کے ایک کمانڈر نے بھی کچھ اسی طرح کا تجزیہ پیش کیا تھا۔  وہ بھارتی میڈیا کی اس روش سے خاصے نالا ں تھے، جس میں وہ بار بار کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کے عنصر کو زبردستی اُچھال کر حالات کو شام، عراق و افغانستان سے ملانے کی کوشش کرتے تھے۔    یہ جان بوجھ کر مزید ظلم و ستم کے لیے راہ ہموار کرنے اور عالمی برادری کو خوف زدہ کرنے کا حربہ  قرار دیتے تھے۔ انھی پولیس افسر صاحب کے بقول: ’’ایک انگریزی میڈیا چینل کے ایک رپورٹر نے درزی سے آئی ایس آئی ایس کا جھنڈا سلوا کر سرینگر کے پرانے شہر کے ایک کمرے میں چند نقاب پوش نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھمایا ، اور اس کی عکس بندی کی تھی۔اس ویڈیو کی بنیادپر اس چینل نے کئی روز تک پروگرام چلائے۔پولیس نے اس درزی کی نشان دہی پر جب مذکورہ رپورٹر کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی، تو نئی دہلی سے پیام آیا کہ معاملے کو دبا دیا جائے۔

اُوپر جن تحقیقی رپورٹوں کا ذکر ہوا ہے، ان کے مطابق برہان وانی کی شہادت کے بعد جن ۲۶۵نوجوانوں نے اس عرصے میں عسکریت سے وابستگی اختیار کی، ان میں محض ۲ فی صد کسی نہ کسی صورت میں مدرسوں یا کسی نظریے سے وابستہ تھے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عام طور پر کھاتے پیتے مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی اور سیاسی طور پر خاصے باشعور تھے۔ ۶۴فی صد کا کسی بھی شدت پسند نظریے سے تو دُور کاواسطہ نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر خاصے لبر ل خیالات کے قائل تھے۔ ان میں سے ۴۷فی صدعسکریت پسندوں کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا، جہاں ان کی رہایش گاہ کے ۱۰ کلومیٹر کے دائرے میں یا تو کوئی تصادم (انکاونٹر) ہوا تھا یا سکیورٹی فورسز نے سول آبادی پر شدید زیادتیاں کی تھیں۔

امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں: گریگوری واٹرز اور رابرٹ پوسٹنگز کی اس زیربحث تحقیق The Spiders of the Caliphate (مئی ۲۰۱۸ء)کے مطابق: ’’عالمی دہشت گر د تنظیموں کے مطالعے سے پتا چلتاہے کسی فرد کی اس طرح کی تنظیم میں وابستگی سے قبل نفسیاتی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ دنیا اور اہل خانہ سے الگ تھلگ رہنا پسند کرتا ہے، مگر اس طرح کا کوئی نفسیاتی رجحان کشمیر میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ عسکریت میں شامل ہونے کے بعد بھی یہ نوجوان اپنے دوستوں  اور اہل خانہ سے معمول کے روابط میں متحرک نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ان میں سوسائٹی سے ایسی بے زاری دیکھنے کو نہیں ملی، جو القاعدہ وغیرہ کے ارکان میں عام رجحان ہے‘‘۔

مذکورہ بالا رپورٹ اور جموں و کشمیر پولیس کی تحقیق کا ماحاصل یہی ہے کہ نئی دہلی کو اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ کشمیر سیاسی مسئلے کے ساتھ ساتھ غصب شدہ انسانی حقوق کی بازیابی کا معاملہ بھی ہے۔ امن اور قانون کے نام پر اور تحریک کو عالمی دہشت گردی سے منسلک کرکے وقتی فائدہ تواٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اس سے مسئلہ ختم نہیںہوسکتا۔ یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ تمام تر ہلاکت خیز اسلحے کے انباروں ، سات لاکھ افواج کی تعیناتی، مظالم ومصائب کی گھٹائوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود مسئلۂ کشمیر ایک زندہ وجاوید حقیقت ہے اور اس کے منصفانہ حل سے ہی برعظیم پاک و ہند کی ہمہ گیر تعمیر و ترقی ، امن و سکون اور خوش گوار ہمسائیگی مشروط ہے۔

۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی اور مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد جب مسلمان بے کسی اور کسمپرسی کے دور سے گزر رہے تھے، تو دہلی کے اجمیری گیٹ پر واقع دہلی مدرسہ (حال اینگلو عربک اسکول) کے استاد مولوی مملوک علی نانوتویؒ (۱۷۸۸ء-۷؍اکتوبر۱۸۵۱ء) کے دو شاگردوں نے قوم کو اعتماد لوٹانے کی نیت سے دہلی کو خیر باد کہہ کر دو الگ سمتوں میں دو شہرہ آفاق اداروںکی بنیاد رکھی۔ اگرچہ مسلمانوں کو دوبارہ با اختیار بنانے کے لیے تعلیم کو ذریعہ بنانے پر وہ متفق تھے، مگر اس کے نظام اور طریق کار پر ان میں اختلاف راے تھا۔ مغربی اترپردیش کے قصبہ شاملی میں علما کے قتل عام سے پریشان مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۱۸۳۳ء- ۱۸۸۰ء) نے ۱۸۶۶ء میں سہارن پور کی طرف کوچ کرکے دیوبند کے مقام پر انار کے ایک پیڑ کے نیچے دارالعلوم قائم کیا۔ جو آج اپنی آن بان اور شان کے ساتھ قائم ہے او ر جنوبی ایشیا میں اُم المدارس کا درجہ رکھتا ہے۔

 مولانا محمد قاسم نانوتویؒ مسلمانوں کی دینی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب و اقدار کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نظریاتی حصار تیار کرنے کی لگن میں تھے۔ اس کے دس سال بعد مولانا مملوک علیؒ کے دوسرے شاگرد سرسیّد احمد خانؒ (۱۸۱۸ء-۱۸۹۸ء) نے دہلی کے جنوب میں ۲۵۰کلومیٹر دُور ۱۸۷۷ء میں برطانوی حکومت کی مدد سے اوکسفرڈ اور کیمبرج کی طرز پر ایک کالج کی بنیاد رکھی، جس کی پاداش میں انھیں کفر کے فتوؤں سے بھی نوازا گیا۔ اسی کالج کو بعد ازاں ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ سرسیّداحمد مذہبی شناخت کوبرقرار رکھتے ہوئے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری اورسائنسی مزاج پیدا کرناچاہتے تھے، اور ساتھ ہی ان کو مغرب کے ساتھ مکالمے کے قابل بنانا چاہتے تھے۔ دینِ اسلام کی تعبیر کے حوالے سے سرسیّد کی اپروچ مضحکہ خیز مگر قومی تعمیر حوالے سے قابلِ فہم تھی۔ اسی لیے دینی حوالے سے سرسیّد کہیں دکھائی نہیں دیتے مگر قومی درد کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ اپنی تاسیس سے لے کر آج تک مسلمانوں کو درپیش سیاسی اور سماجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں درس گاہوں، یعنی دارالعلوم اسلامیہ دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا لائحہ عمل متضاد اور متحارب رہا ہے۔

مغربی علوم پر دسترس رکھنے والے علی گڑھ کے اسکالرز نے ۲۰ویں صدی کے اوائل ہی میں شراکت ِ اقتدار کا مطالبہ کیا اور پھر آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد اور تحریک پاکستان کے لیے راہ ہموار کی۔ دوسری طرف دیوبند کے بعض فارغ التحصیل اسکالرز نے پاور اسٹرکچر یا پاور پولیٹکس میں مرکزی کردار ڈھونڈنے کے بجاے انڈین نیشنل کانگریس کے سیکولرازم پر بھروسا کرنے کو  ترجیح دی۔ اگست ۱۹۴۷ء میں انگریز سے آزادی کے بعد دیوبندی علما کی تنظیم جمعیت العلماہند تو ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت تک ایک طرح سے کانگریس کی ذیلی تنظیم کی طرح کام کرتی رہی ہے۔ان کے اکابرین کو اس کے عوض اقتدار میں نہیں، مگر اقتدار کی راہداریوں میں کچھ وزن پایا، جیسے راجیہ سبھا میں کچھ مدت کے لیے نمایندگی وغیرہ۔ ان عہدوں کا کتنا فائدہ عام مسلمان کو ہوا ،  اس کا پول ۲۰۰۶ء میں ’جسٹس راجندر سچر کمیٹی‘ نے کھول دیا۔

مغرب کے مشہور علمی اداروں کی طرز پر ایک ہزار ایکڑ پر محیط علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں فی الوقت ۳۰ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ ۱۱ہزار کے قریب اکیڈمک اور نان اکیڈیمک اسٹاف ۳۵۰ مختلف کورسز پڑھانے میں معاونت کرتے ہیں۔ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن کے مغرب میں سول لائنز کے بعد پورا علاقہ ہی یونی ورسٹی کے نام سے موسوم ہے، جہاں سابق پروفیسرز کی کالونیوں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں کے متمول مسلمان بھی بس گئے ہیں۔ یہ شاید بھارت میں واحد جگہ ہے، جہاں مسلمانوں کی عظمت رفتہ اور ان کا عظیم الشان ماضی ایک فلم کی طرح چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ یہاں کا اسکالر اپنی مسلم شناخت کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی خاصی دسترس رکھتا ہے۔ بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیار کے حوالے سے اس کی رینکنگ ساتویں نمبر پر ہے۔ اس کا میڈیکل کالج نویں مقام پر ہے۔بس اسی وجہ سے یہ ادارہ برہمن نسل پرستوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ کبھی اس ادارے کی مسلم شناخت کو ختم کرنے کی سازش کی جاتی ہے اور کبھی کسی معمولی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ’یونی ورسٹی بھارتی سلامتی کے لیے خطرہ ہے‘۔

مجھے یہ بات اچھی یاد ہے کہ مسلم یونی ورسٹی رابط عامہ کے سابق افسر راحت ابرار کے کمرے میں صبح سویرے ہند ی اخبارات اور چینل کے نمایندے آدھمکتے تھے۔ چائے نوش کرتے ہوئے وہ کہتے تھے کہ :’’ہمارے آفس سے دبائو ہے کہ یونی ورسٹی سے کوئی تڑپتی پھڑکتی  خبر لانی ہے، جس کو نمک مرچ لگا کر مشتہر کرنا ہے‘‘۔ حالیہ قضیہ بھی کچھ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ۱۹۳۸ء سے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے دفتر میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آویزاں تصویر اچانک قابل اعتراض ہوگئی۔ فرقہ پرست تنظیموں نے مقامی ممبر پارلیمنٹ کی شہ پر تشدد اور ہنگامے کیے ، حتیٰ کہ یونی ورسٹی میں گھس کر بے دردی سے مسلم طلبہ کو نشانہ بنایا اور ڈیوٹی پر موجود پولیس تماشا دیکھتی رہ گئی۔

چند سال قبل میں شملہ کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز کے ایک پروگرام میںمدعو تھا۔ وائسراے ہائوس میں بنائے گئے اس ادارے کے ایک ہال میں بھی قائد اعظم کی ایسی ہی ایک تصویرآویزاں ہے۔ پارلیمنٹ اور دہلی کے تین مورتی ہائوس میں بھی جنگ آزادی کے رہنمائوں کے ساتھ قائد اعظم کی تصویر آویزاں ہے۔ علی گڑھ کو نشانہ بنانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ نریندر مودی کی دوسری اننگ کے لیے فضا تیار کی جائے۔ بی جے پی کو جب بھی اپنی شکست  نظر آتی ہے تو وہ ماحول کو مسلم دشمنی پر مبنی فرقہ وارانہ رنگ دینے اور ہندوئوں کی ہمددری حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

بعض معروف مسلمان شخصیات اس یلغار سے بوکھلا کر یونی ورسٹی کے ذمہ داران کو مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ حالات کی بہتری اور ادارے کے مفاد کی خاطر اس تصویر کو ہٹادیں۔ صحافی  شمس تبریز قاسمی سوال کرتے ہیں کہ: ’’کیا تصویر ہٹادینے سے تنازع ختم ہوجائے گا؟ کیا نسل پرست برہمنوں کی جانب سے مستقبل میں کسی اور معاملے کو لے کرادارے پر حملہ نہیں کیا جائے گا؟ اسی لیے یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ بی جے پی کو تکلیف محمدعلی جناح کی تصویر سے ہے یا اے ایم یو کے وجودسے؟ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ سے یا مسلمانوں کی تعلیمی ومعاشی ترقی سے؟‘‘ یہ امرِواقعہ ہے کہ ان کا اگلا اعتراض یونی ورسٹی کے نام میں شامل لفظ ’مسلم ‘پر ہوگا۔ ویسے بھی بی جے پی کو اعتراض ہے کہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں کسی تعلیمی ادارے کا نام کسی ایک مذہب کے نام پر نہیں ہوسکتا،جس کے اخراجات حکومت اداکرتی ہو۔ آیندہ جلد یا بدیر ان کا اعتراض کیمپس میں موجود مساجد پر ہوگا۔

۲۰۱۵ء میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اپنا زعفرانی نظریاتی رنگ دکھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ: ’’علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے‘‘۔ بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کا تناسب ویسے بھی سب سے نیچے ہے۔ اسکولوں میں داخل ہونے والے ۱۰۰بچوں میں سے صرف گیارہ اعلیٰ تعلیم تک پہنچ پاتے ہیں،جب کہ ہندوئوں میں یہ تعداد ۲۰ فی صد ہے۔ اس صورت حال میں اگر اس کااقلیتی کردار چھن جاتا ہے تو مسلمانوں کی تعداد اور بھی کم ہوجائے گی۔ اس وقت علی گڑھ اور دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ۵۰ فی صد نشستیں مسلمان طلبہ کے لیے مختص ہوتی ہیں۔مزید دل چسپ پہلو یہ دیکھیے کہ بھارتی اٹارنی جنرل نے  سپریم کورٹ میں کہا: ’’ایک سیکولر ریاست میں مرکزی حکومت کیسے ایک اقلیتی ادارہ قائم کرسکتی ہے؟‘‘

گویا جو ’سیکولرازم‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کے نزدیک ناپسندیدہ شے ہے، اقلیتوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کے لیے اسی ’قابل نفرت‘ اصطلاح کا سہارا بھی لیا جا رہا ہے۔ چند برس قبل اس وقت کے وائس چانسلر صبغت اللہ فاروقی نے مجھے بتایا تھا کہ: گذشتہ کانگریس حکومت نے بھی اس ادارے کو کافی نقصان پہنچایا ۔ ان کے مطابق ۵۳۵ کروڑ روپے کی سالانہ گرانٹ میں سے ۹۵فی صد تنخواہوں وغیرہ پرصرف ہو جاتی ہے اور ایک قلیل رقم ریسرچ اور دوسرے کاموں کے لیے بچتی ہے۔ اور تو اور گذشتہ حکومت نے کیرالا، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار میں علی گڑھ یونی ورسٹی کے کیمپس بنانے کا اعلان کیا، جن کے اخراجات اسی گرانٹ سے پورے کرنے ہیں۔

 بہرحال، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی تاریخی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔۱۹۶۰ء کے عشرے میںاس وقت کے وزیر تعلیم ایم سی چھاگلہ نے پارلیمنٹ میں ایک قانون لاکر اس کا اقلیتی کردار ختم کروایا، جس کو ۱۹۶۷ء میں سپریم کورٹ کی تائید حاصل ہوئی۔ بڑی جدوجہد کے بعد ۱۹۸۱ء میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے اقلیتی کردار کو بحال کیا۔ پھر اسی پارلیمانی ایکٹ میں ایک نقص تلاش کرکے ۲۰؍اکتوبر ۲۰۰۵ء کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ لیکن یونی ورسٹی اور تب من موہن سنگھ حکومت نے اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا اور ابھی تک یہ مقدمہ زیرسماعت ہے۔ اس تنازعے میں بھارتی مسلمانوں کے لیے خیر کا ایک پہلو بھی چھپا ہے۔ پچھلے ۷۰برسوں سے بھارت میں مسلم طبقے کو ایک طرح سے تقسیم کا ذمہ دار ٹھیرا کر دائمی ’احساسِ جرم‘ میں مبتلا کیے رکھا گیا ہے۔ اس معاملے میں سیکولر کانگریس اور ہندو نسل پرست آر ایس ایس کا موقف یکسا ں ہے۔ جہاں تقسیم   اور اس کے محرکات پر کہیں بحث چھڑ گئی ، دونوں تنظیمیں اکٹھا ہوکر اس کو دبانے میں لگ جاتی ہیں۔ بی جے پی کے معتدل مزاج لیڈر جسونت سنگھ نے جب: Jinnah: India, Partition, Independenceکتا ب لکھ کر تقسیم کے محرکات سے پردہ اٹھایا تو آر ایس ایس اور کانگریس دونوں نے یک جاہوکر ان کو سیاست سے ہی کنارہ کشی پر مجبور کر دیا۔ پھر بی جے پی کے سابق صدر لال کشن ایڈوانی کا حال بھی ایسا ہی کیا۔

وقت آگیا ہے کہ مسلمان اور مسلم قائدین، تاریخ کے دریچے کھول کر تقسیمِ ہند اور انگریز سے آزادی کے دوران ہندو کردار پر کھل کر بحث کریں اور ان سبھی ہندو لیڈروں کو بے نقاب کریں، جنھوں نے مسلمانوں کو بے وقعت کرنے کی قسم کھارکھی تھی اور جن کی ہٹ دھرمی نے تقسیم کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتے تھے ، جو انھوں نے بدھ مت، جین مت اور سکھوں وغیرہ کے ساتھ کیا ہے۔ اسی برہمنی ذہنیت نے ہر اس انقلابی، مذہبی یا روحانی تحریک کو نگلا ہے، جس نے بھی زعفرانی جارحیت کو چیلنج کرنے کی ہمت کی ہو۔ ان کی نیت صرف یہ تھی کہ مسلمانوں کے اندر سے وہ جوہر کھینچ لیا جائے، جو انھیں زندہ اور بے باک رکھتا ہے۔بس یہی ایک چیز ہے، جس سے ہندو نسل پرست عفریت (Monster) پیچ و تاب کھا رہا ہے اور شکار پھانسنے کے نئے نئے منصوبے بناتا رہا ہے۔مسلمانوں کو معتوب بنانے کے لیے انھیں بھارت میں دائمی احساس جرم میں مبتلا رکھا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرسکیں۔ سیکولر کانگریس کو خدشہ ہے کہ اگر یہ بحث چھڑ گئی تو نہ صرف اس کے کھوکھلے سیکولرزم کا جامہ اُتر جائے گا، بلکہ اس کے لیڈروں کا پول بھی کھل جائے گا۔

 چند روز قبل بھارتی صوبہ گجرات کے ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر سنجیو بھٹ نے برقی پیغام میں سوال کرتے ہوئے، زیادتی کا شکار پاکستان کی معصوم بچی زینب اور مقبوضہ کشمیر کی آصفہ پر ہونے والی اس درندگی کے واقعے پر ردعمل کا موازنہ کیا اور کہا تھا:’’کیا بھارت ناکام ریاست کی طرف لڑھک رہاہے کہ پاکستان نے تو یک آواز ہو کر زینب کو انصاف دلا کر ہی دم لیا، حتیٰ کہ فاسٹ ٹریک کورٹ نے ملزم کو موت کی سزا بھی سنائی‘‘۔

اس کے مقابلے میں انصاف تو دور کی بات،ہندو انتہا پسندوں بشمول سیاسی جماعتوں    بی جے پی اور کانگرس کے لیڈروں نے جموں میں بھارت کے قومی پرچم لے کر، ملزموں کے حق میں جلوس نکالے۔ حد تو یہ تھی کہ مقامی وکیلوں کی تنظیموں نے نہ صرف ملزموں کی حمایت کر کے جموں بند کروایا بلکہ کھٹوعہ کی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے چارج شیٹ ہی دائر نہیں ہونے دی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ آٹھ سالہ آصفہ مسلمان خانہ بدوش گوجر بکر وال قبیلے کی بیٹی تھی اور ملزم ہندو ڈوگرہ راجپوت تھے، جنھوں نے ۱۰۰ سال تک کشمیر پر حکومت کی ہے اور اسی جاگیر دارانہ ذہنیت سے نہیں نکل رہے۔ سنجیو بھٹ نے آخر میں لکھا: ’بھارت ناکارہ یا ناکام ریاست بننے تو نہیں جا رہا ہے ؟‘

یہ بچی ۱۰ جنوری ۲۰۱۸ءکی دوپہر گھر سے گھوڑوں کو چرانے کے لیے نکلی تھی اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹ پائی۔ گھر والوں نے جب ہیرانگر پولیس سے لڑکی کے غائب ہونے کی شکایت درج کروائی تو پولیس نے لڑکی کو تلاش کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں لی۔ پھر ایک ہفتے بعد ۱۷جنوری کو جنگل میںاس معصوم کی لاش ملی۔ میڈیکل رپورٹ میں پتا چلا کہ لڑکی کے ساتھ کئی بار، کئی دنوں تک گینگ ریپ کیا گیا اور آخر پتھروں سے مار مارکر قتل کر دیا گیا۔ خاصی لیت ولعل کے بعد جموں وکشمیر کی محبوبہ مفتی حکومت نے ۲۳ جنوری کو یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کو سونپ دیا، جس نے اس گھنائونے جرم اور قتل میں سات افراد کو گرفتار کیا جن میں ایک اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او) دیپک کھجوریا، پولیس آفسر سر یندر کمار ، رسانا گائوں کا پرویش کمار، اسسٹنٹ انسپکٹر آنند دتا، ہیڈ کانسٹبل تلک راج ، سابق ریونیو افسر سانجی رام، اس کا بیٹا وشال اور چچا زاد بھائی شامل ہیں۔

’ہندو ایکتا منچ‘ کے پلیٹ فارم سے صوبائی حکومت میں شامل بی جے پی کے دو وزیروں لال سنگھ اور چندر پراکاش گنگا، نیز وزیر اعظم نریندرا مودی کی وزارتی ٹیم میںشامل جیتندر سنگھ   نے ان تین ماہ کے دوران اس ایشو کو لے کر جموں وکشمیر پولیس کی تفتیش پر ’عدم اعتماد‘ ظاہر کر کے ’کشمیر بنام جموں ‘ کا ہوّا کھڑا کیا اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک وزیر نے تو ڈوگرہ فرقہ کی حمایت کا حوالہ دے کر ملزموں کی پشت پناہی کر کے اس کو ’’کشمیری مسلمانوں کی طرف سے رچی سازش قرار دیا‘‘، کیوںکہ کرائم برانچ کی جس سات رکنی ٹیم نے اس کیس کی تفتیش کی اس میں دو کشمیری مسلمان تھے۔ ان سیاسی رہنمائوں کے علاوہ جموں بار ایسوسی ایشن نے بھی ایسا واویلا مچایا۔ لگتا تھا کی کشمیر کے ان گنت کیسوں کی طرح یہ بھی فائلوں میں گم ہو جائے گا۔

لیکن بھلا ہو ان کشمیر ی صحافیوں کا ، خاص طورپر نذیر مسعودی ، ظفر اقبال اور مفتی اصلاح کا جو متواتر رپورٹنگ کرتے رہے اور پھر مزمل جلیل، انورادھا بھسین ، ندھی رازدان اور دیپکا راجوات ایڈووکیٹ کا، کہ جن کی اَن تھک محنت کی وجہ سے نہ صرف بھارت کی سول سوسائٹی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر مجبور ہو گئی، بلکہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر بھی دبائو رکھا۔ جس کے نتیجے میں دو وزرا کو مستعفی ہونا پڑا اور انھوں نے نام لے کر کشمیری صحافیوں اور کشمیری میڈیا کو غنڈا بھی قرار دیا۔ ان کی یہ دشنام طرازی ان صحافیوں کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اس سے قبل جب جنوری میں سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ طالب حسین نے آصفہ کو انصاف دلانے کے لیے آواز اٹھائی تھی تو اس کو پہلے گرفتار کرلیا گیا۔

جموں کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی پی ) اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے درمیان وسیع اختلافات ہونے کے باعث تضادات اپنی انتہا پر تھے، لیکن اس دوران دہلی اور   ہندو انتہا پسندوں کہ شہ پر اس خطے میں مسلم اکثریتی آبادی کو نیچا دکھانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں، چاہے بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ (کشمیرکی خصوصی پوزیشن ) ختم کرنے کا مطالبہ ہو یا کشمیر کے قلب میں مخصوص ہندو بستیاں بسانے کا معاملہ ۔ پھر بی جے پی اور اس کے لیڈر اپنے بیانات اور عملی اقدامات کے ذریعے مسلم آبادی کے سینوں میں خنجر گھونپنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

پچھلے کئی برسوں سے جموں خطے میں جنگلاتی اراضی سے قبضہ چھڑانے کی آڑ میں مسلمانوں کو جبراً اپنے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ مسلمان گوجروں اور بکر والوں کی بستیوں کو ٹھنڈی ، سنجواں ، چھنی، گول گجرال، سدھر ا، ریکا، گروڑا، اور اس کے گرد ونواح سے ہٹایا گیا ہے۔ یہ زمینیں مہاراجا ہری سنگھ کے حکم نامے کے تحت ۱۹۳۰ء میں ان لوگوں کو دی گئی تھیں۔ دراصل جموں کا پورا نیا شہر، جنگلاتی اراضی پر ہی قائم ہے۔ یہاں پر صرف مسلم اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنانے کا مطلب ، مسلمانوں کو اس خطے سے بے دخل کرنا ہے، جہاں پر وہ پچھلے ۶۰ برسوں سے بس رہے ہیں۔

پورے جموں کی آبادی دیکھیے: مسلمان ۲۹ فی صد ، دلت ۲۰فی صد ، اور برہمن ۲۳ فی صد ہیں، جب کہ کشمیر پر دوبارہ حکمرانی کے خواب دیکھنے والی ڈوگرہ، راجپوت قوم آبادی کا محض ۱۲ فی صد ہیں۔ ویشیہ یا بنیا قوم ۵ فی صد ہے اور سکھ ۷ فی صد کے آس پاس ہیں اور جموں کے دو حصوں میں آبادی کی تقسیم اس طرح ہے:

ادھم پور ، ڈوڈہ، پارلیمانی حلقہجموں،

پونچھ، پارلیمانی حلقہ

مسلمان

۲۸

۳۱

برہمن

۲۱

۲۵

راجپوت

۱۲

۱۲

شیڈول کاسٹ[دلت]

۲۲

۱۸

سکھ

۶

-

ویشیہ

۶

۵

دیگر

۵

۹

 معصوم آصفہ کو قتل کرنے اور اس پر درندگی کا مظاہرہ کرنے اور پردہ ڈالنے کا گھنائونا فعل دراصل اس سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے کہ مقامی مسلمانوں میں خوف ودہشت پیدا کر کے ان کو ہجرت پر مجبور کرایا جائے۔ ۲۰۰۶ء میں بھارتی پارلیمنٹ نے جنگلوں میں رہنے والے قبائل کے حقوق کے تحفظ کے لیے فارسٹ رائٹس ایکٹ (Forest Rights Act 2006) پاس کیا تھا، مگر بی جے پی اور کانگریس جموں کے لیڈر مل کر اس کو ریاست میں نافذ نہیں کرنے دینا چاہتے ہیں۔       یہاں پر وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کا حوالہ دیتے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ کے قانون کا اطلاق کشمیر پر نہیں ہوتا ہے، مگر جب پارلیمنٹ فوجی اور سیکورٹی قوانین پاس کرتی ہے تو یہی رہنما بغیر کسی بحث ومباحثے کے، اسے ریاست میں لاگو کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں ان غریب اور بے کس مسلمانوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف مغربی پاکستان کے ہندو مہاجرین کی آباد کاری اور وادی میں پنڈتوں کی علیحدہ کالونیوں کے قیام کے لیے خاصی سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔

جموں خطے کے موجودہ حالات وکوائف پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کاخدشہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں نومبر ۱۹۴۷ء کا بد ترین خونیں واقعہ پھر سے دہرایا جا سکتا ہے ، جیسا کہ کابینہ سے مستعفی رکن چودھری لال سنگھ نے پچھلے سال ایک مسلم وفد کو ۱۹۴۷ء یاد دلایا تھا۔ اس خطے کے دو مسلم اکثریتی علاقے وادی چناب ، جس میں ڈوڈہ، رام بن، کشتواڑ کے اضلاع شامل ہیں اور پیر پنچال جو پونچھ اور راجوری اضلاع پر مشتمل ہیں، ہندو فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے ایک منصوبہ بند طریقے سے راجوڑی، کشتواڑ، بھدر واہ کے دیہاتی علاقوں میں فرقہ جاتی منافرت کا ما حول پیدا کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے طاقت ور لیڈر اندریش کمار تو تقریباً اس خطے میں ہمہ وقت ڈیرہ ڈالے رہتے ہیں، جو ’سمجھوتہ ایکسپریس کیس‘ کے سلسلے میں پوچھ گچھ سے گزر چکے ہیں۔ ڈوڈہ میں پچھلے سال ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم آرایس ایس کے کارکنوں نے اپنی روایتی خاکی نیکر، سفید قمیص اور سیاہ ٹوپی، جسے ’گنویش ‘ کہا جاتا ہے، میں ملبوس ہوکر مارچ کیا۔ اس موقعے پر اسلحہ اور تلواروں کو کھلے عام لہرانے کے ساتھ ساتھ مذہبی جذبات کو انگیخت کرنے والی نعرہ بازی بھی کی گئی ۔

عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے نام پر دو عشرے قبل جموں سے، وادی چناب اور پیرپنچال میں ہندو دیہاتوں کو ویلج ڈیفینس کمیٹی کا نام دے کر مسلح کیا گیا تھا۔ اب عسکریت پسند تو نہیں رہے، مگر یہ مسلح افراد اب بھی آئے دن دیہاتوں میں گھس کر مسلم خاندانوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ یہ فورس نہ سرکار کے تابع ہے اور نہ کسی کو جواب دہ، اور ان میں صرف ہندو اقلیتی افراد کو بھرتی کیا گیاہے۔ اس فورس کے ذریعے ، اغوا، تاوان ، زیادتیوں کی وارداتیں عام ہیں، اور ظاہر ہے کہ خمیازہ صرف مسلم آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منصوبہ بند سازش کے تحت مسلم آبادی کو شہری علاقوں کی طرف دھکیلنے کی کارروائی ہو رہی ہے، تا کہ آیندہ کسی وقت ۱۹۴۷ء کے سانحے کو دہرا کر اس خوف زدہ آبادی کو وادی کشمیر کی طرف ہجرت پر مجبور اور جموں کو مسلم آبادی سے خالی کرایا جائے۔

شیخ محمد عبداللہ نے اپنی سوانح حیات آتش چنار  میں لکھا ہے: ’’جموں میں مسلمانوں کا صفایا کرنے کے بعد مہاراجا ہری سنگھ اور مہارانی تارا دیوی کی نظریں وادی چناب پر لگی ہوئی تھیں، مگر کرنل عدالت خان اور اس کی ملیشیا نے بہادری اور دانشمندی سے وہاں آگ کے شعلے بجھا دیے۔ جب کشمیری مسلمان اس دورِ پُرآشوب میں پنڈتوں کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا رہے تھے، تو مہاراجا جموں میں آگ بھڑکا رہا تھا۔ سرینگر سے بھاگ کر جب وہ سفر کی تکان اُتارنے کے لیے شاہراہ کے کنارے رام بن کے قریب ایک ریسٹ ہائوس میں پہنچا ، تو بدقسمتی سے چائے پیش کرنے والا بیرا مسلمان تھا اور اس کے سر پر رومی ٹوپی تھی جسے دیکھ کر اس نے چائے پینے سے ہی انکار کردیا۔ شیخ عبداللہ کو جب انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا جا چکا تھا تو اس نے مہاراجا کے اعزہ واقارب اور سری نگر میں موجود چند سکھ خاندانوں کو جموں پہنچانے کے لیے جنوبی کشمیر کے بائیس تانگہ بانوں کو آمادہ کیا، مگر واپسی پر نگروٹہ کے مقام پر ہندو انتہا پسند ٹولی نے ان کے تانگے چھین کر انھیں بے دردی سے قتل کر ڈالا‘‘۔

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکومت جو گاندھی کی تعلیمات کو استعمال کر کے بھارت کو دنیا بھر میں ایک ’اعتدال پسند‘ اور ’امن پسند ملک ‘ کے طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے کو  اسی گاندھی کا ایک قول یاد رکھنا چاہیے: ’’ہندستان اگر رقبے میں چھوٹا ہو لیکن اس کی روح پاکیزہ ہو تو یہ انصاف اور عدم تشدد کا گہوارا بن سکتا ہے۔یہاں کے بہادر لوگ ظلم وستم سے بھری دنیا کی اخلاقی قیادت کر سکتے ہیں۔ لیکن صرف فوجی طاقت کے استعمال سے توسیع شدہ ہندستان مغرب کی عسکری ریاستوں کا تیسرے درجے کا چربہ ہو گا جو اخلاق اور آتما سے محروم رہے گا۔ اگر ہندستان کشمیر کے عوام کو راضی نہیں رکھ سکا تو ساری دنیا میں اس کی تصویر مسخ ہو کر رہ جائے گی‘‘۔

بقول شیخ محمد عبداللہ ،گاندھی نے کہا تھا: ’’کشمیر کی مثال ایسی ہے جیسی خشک گھاس کے انبار میں ایک دہکتے ہوئے انگارے کی۔ ذرا بھی ناموافق ہوا چلی تو سارا برصغیر اس کی آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا‘‘۔ مگر گاندھی کے نام لیوا تو اس کی تعلیمات کب کی بھول چکے ہیں، اور اس کا استعمال تو اب صرف سفارتی ڈگڈگی بجا کر دنیا کے سامنے بچے جمورے کا کھیل رچانے کے لیے کیا جاتا ہے ، اور بس !

پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، مگر پانی کے مسائل پر گذشتہ دنوں ’سندھ طاس مشترکہ کمیشن‘ کا نئی دہلی میں اجلاس ہوا۔ اس اجلاس سے چند روز قبل بھارت کے وزیر ٹرانسپورٹ نیتن گڈکری نے ہریانہ کے کسانوں کو پانی کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا: ’’اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں جلد از جلد زیادہ سے زیادہ ڈیم بنا کر راوی، بیاس اور ستلج دریائوں کے پانی کو بھارت میں ہی زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا ‘‘۔

دو سال قبل بھارت نے اوڑی کے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاکستان کی طرف جانے والے دریائی پانی کی تقسیم کے معاملے پر خاصا جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی  نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ’’پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘۔ ۱۹۶۰ء میں طے شدہ ’سندھ طاس آبی معاہدہ‘ ماضی میں کئی جنگوں اور انتہائی کشیدگی کے باوجود سانس لے رہا ہے، اس کی ازسرِنو تشریح کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔ اس معاہدے کی رُو سے بھارتی پنجاب سے بہہ کر پاکستان جانے والے دریائوں: بیاس، راوی اور ستلج پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا، اور کشمیر سے بہنے والے دریا، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کی ضروریات کے لیے وقف کردیے گئے تھے۔ ایسے منصوبے جن سے ان دریائوں کی روانی میں خلل نہ پڑے، اس کی اجازت معاہدے میں شامل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے لیے پانی ایک اہم ایشو کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

۱۹۵۰ء سے قبل پانی کے حصول کے حوالے سے پاکستان خاصی بہتر حالت میں تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق فی کس ۵۲۶۰ کیوبک میٹر پانی پاکستان میں دستیاب تھا، جو ۲۰۱۳ء میں گھٹ کر فی کس ۹۶۴کیوبک میٹر تک رہ گیا۔ یعنی صرف ۶۶برسوں کے اندر اندر ہی پانی کی دولت سے مالامال یہ ملک شدید آبی قلت کے زمرے میں آگیا۔ اس کی وجوہ آبادی میں اضافہ، غیر حکیمانہ منصوبہ بندی، پانی کے وسائل کا بے دریغ استعمال، قلیل سرمایہ کاری، موجودہ ذخیروں تربیلا، منگلا اور چشمہ کی بروقت صفائی میں کوتاہی اور اندازے سے بڑھ کر سلٹنگ، کے علاوہ ریاست جموں و کشمیر میں پانی کے مرکزی مآخذ پر ماحولیاتی تبدیلی بھی شامل ہے۔ وادیِ کشمیر کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس سال برف کی صرف ایک ہلکی سی تہہ جمی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ موسمِ سرما میں معمول کی سطح سے نہایت ہی کم برف باری کا ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، جسے کشمیر کے نشیبی علاقوں بشمول پاکستان کے کسانوں کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے۔ کشمیر کے ندی نالوں میں اس سال پانی کی سطح بہت ہی کم ہوچکی ہے۔ بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے محکمہ آب پاشی نے حال ہی میں ایک باضابطہ ایڈوائزری جاری کر کے شمالی کشمیر کے کسانوں کو خبردار کیا ہے کہ ’’اس سال دھان کی کاشت کے لیے محکمہ پانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا‘‘۔اس لیے کسان ’’دھان کی جگہ کوئی اور متبادل فصل اُگائیں‘‘۔ یقینی بات ہے کہ سندھ طاس کمیشن کی میٹنگ میں یہ ایڈوائزری پاکستان کوبھی دی گئی ہوگی۔ محکمہ آب پاشی کے چیف انجینیر شاہ نواز احمد کے بقول: ’’دریاے جہلم میں پانی کی سطح ریکارڈ لیول تک گرچکی ہے۔ سری نگر کے پاس سنگم کے مقام پر جہاں دریا کی سطح اس وقت چھے فٹ ہونی چاہیے تھی، محض ۱ء۴ فٹ ہے۔ ضلع کپواڑہ کے ندی نالوں میں ۱۰ فی صد پانی کی کمی واقع ہوچکی ہے‘‘۔

وادیِ کشمیر میںآنے والے مہینوں میں خشک سالی کا پاکستان کے کسانوں پر اثرانداز ہونا لازمی ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں کے مراکز، یعنی جموں و کشمیر میں موجود پانی کے ذخائر پچھلے ۶۰برسوں میں خطرناک حد تک سکڑ چکے ہیں۔ سری نگر کے نواح میں بڑی نمبل، میرگنڈ، شالہ بوگ، ہوکرسر اور شمالی کشمیر میں حئی گام کے پانی کے ذخائر تو خشک ہوچکے ہیں۔    ان کے بیش تر حصوں پر تجاوزات قائم ہیں۔ سوپور میں تحصیل کے پاس مسلم پیربوگ، جو شہر کے اندر پانی کی ایک جھیل تھی، اس پر اب ایک پُررونق شاپنگ مال کھڑا ہے۔ کشمیر میں کوئی ایسا ندی نالہ نہیں ہے، جس میں پچھلے ۷۰برسوں میں پانی کی مقدار کم نہ ہوئی ہو۔ چندسال قبل ایکشن ایڈ کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ: ’’اکثر جگہ پانی کی سطح ایک تہائی رہ گئی ہے اور چند میں تو نصف ریکارڈ کی گئی۔ ان ندی، نالوں کا پانی ہی جہلم، سندھ اور چناب کو بہائو فراہم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں سلسلہ کوہِ ہمالیہ میں گلیشیروں کے پگھلنے کی رفتار بھی دُنیا کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔ سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی اور جنگی فضا کے باعث ان پر سرکاری رازداری کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے، جس سے ان پر تحقیق محدود ہوجاتی ہے۔ چین کے علاقے تبت، نیپال، بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اور اتراکھنڈ، نیز جموں و کشمیر وغیرہ، جو ہمالیائی خطے میں آتے ہیں، جہاں ایک اندازے کے مطابق ۱۵ہزار گلیشیرزہیں،جو دُنیا کے عظیم دریائی سلسلوں، میکانگ، برہم پترا، گنگا اور سندھ کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے ۳۱۳۶ گلیشیر کشمیر کے کوہساروں کی پناہ میں ہیں۔ بھارت میں دریاے گنگا اور اس کے گلیشیرز کو بچانے کے لیے بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں خاصی پُرعزم ہیں ۔

دوسری طرف دیکھا گیا ہے کہ: ’سندھ طاس‘ گلیشیرز کی حفاظت کو نظرانداز کیا جاتا ہے، بلکہ مذہبی یاترائوں کے نام پر ایک طرح سے ان کی پامالی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی حکومت نے نہ صرف گنگا کو بچانے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک علیحدہ وزارت بھی قائم کی، بلکہ اس کام کے لیے ایک کھرب ۲۰ ارب روپے مختص کیے۔ ۲۰۰۸ء میں اتراکھنڈمیں بی جے پی حکومت نے دریاے گنگا کے منبع پر ہندوئوں کے مقدس استھان گومکھ گلیشیر کو بچانے کے لیے وہاں جانے پر سخت پابندیاں عائد کردیں، جس کی رُو سے اب ہر روز صرف ۲۵۰یاتری اور سیاح گومکھ کا درشن کرپاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہرسال روزانہ تقریباً ۲۰ہزار یاتری کشمیر میں سندھ طاس ندیوں کے منبع کولاہی اور تھجواسن گلیشیر کو روندتے ہیں۔

۵۰سال قبل چناب کے طاس کا تقریباً ۸ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ برف سے ڈھکا رہتا تھا، وہ آج گھٹ کر صرف ۴ہزار مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ پیرپنجال پہاڑی سلسلے میں تو شاید ہی کوئی گلیشیر باقی بچا ہے۔ اسی طرح اب بی جے پی حکومت ایک اور روایت قائم کرکے پیرپنچال کے پہاڑوں میں واقع ’کوثر ناگ‘ کی یاترا کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ پھر ایک گروہ تو آزاد کشمیر میں واقع شاردا کو بھی اس یاترا سرکٹ میں شامل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ پہاڑوں میں واقع صاف شفاف اور آلودگی سے پاک ’کوثر ناگ‘ پانی کا چشمہ جنوبی کشمیر میں اہربل کی مشہور آبشار، دریاے ویشو اور ٹونگری کو پانی فراہم کرتا ہے۔ بعض عاقبت نااندیش کشمیری پنڈتوں کو آلہ کار بنا کر ہندو فرقہ پرست قوموں، نیز حکومت نے ’امرناتھ یاترا‘ کی طرح ’کوثر ناگ‘ یاترا چلانے کا اعلان کر ڈالا ہے۔ ۲۰۰۵ء میں مشہور ماہر ماحولیات پروفیسر ایم این کول کی قیادت میں چوٹی کے ماہرین ماحولیات نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ: ’’اگر امرناتھ کے مقدس گپھا تک سونہ مرگ کے پاس بل تل کے راستے ہزاروں یاتریوں کی آمدورفت کا سلسلہ اس طرح جاری رہا تو ماحولیات اور گلیشیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا‘‘۔ لیکن اس مشورے پر کان دھرنے کے بجاے دہلی حکومت آج زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو بال تل کے راستے ہی سے امرناتھ بھیج رہی ہے۔ نتیش سین گپتا کمیٹی نے ۱۹۹۶ء میں اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا تھا کہ امرناتھ کو ایک ماہ اور زائرین کی تعداد ایک لاکھ تک محدود کی جائے‘‘۔ لیکن حکومت نے پہلے تو یاترا کی مدت ایک ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کر دی اور اس کے بعد یاتریوں کی تعداد کو محدود کرنے سے انکار کردیا۔ آیندہ برسوں میں اندازہ ہے کہ یہ تعداد ۱۰لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ یاترا ، اب ایک مذہبی سبھا کے بجاے ’ہندوتوا‘ غلبے کا پرچم اُٹھائے کشمیر میں وارد ہوتی ہے۔ کولہائی گلیشیر ۱۱ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ گذشتہ تین عشروں میں یہ ڈھائی مربع کلومیٹر تک سکڑ گیا ہے اور چند عشروں کے بعد پوری طرح پگھل چکا ہوگا۔ ’امرناتھ گپھا‘ اسی گلیشیر کی کوکھ میں واقع ہے۔

ایک اور حیرت ناک پہلو یہ بھی ہے کہ پچھلے ۳۰برسوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان وولر بیراج یا ٹولبل آبی پراجیکٹ کے حوالے سے بات چیت کے کئی دور ہوئے، مگر شاید ہی کبھی اس جھیل کی صحت اور تحفظ پر غوروخوض ہوا ہے۔ سوپور اور بانڈی پورہ کے درمیان واقع کئی برس قبل تک یہ ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل تھی۔ پاکستان اور میدانی علاقوں کے کسانوں کے لیے یہ ایک طرح کا واٹر بنک ہے۔ جنوبی کشمیر کے چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سری نگر اور اس کے اطراف کو سیراب کرکے دریاے جہلم پوری طرح وولر میں جذب ہوجاتا ہے، اور سوپور کے نواح میں  ایک بار پھر سے تازہ دم ہوکر بارہ مولا سے ہوتے ہوئے، اوڑی کے پاس لائن آف کنٹرول پار کرتا ہے۔ بھارتی ویٹ لینڈ ڈائریکٹری میں اس جھیل کی پیمایش ۱۸۹ مربع کلومیٹر درج ہے، ’سروے آف انڈیا‘ کے نقشے میں اس کا رقبہ ۵۸ء۷ مربع کلومیٹر دکھایا گیا ہے اور کشمیر کے مالی ریکارڈ میں  اس کی پیمایش ۱۳۰مربع کلومیٹر ہے۔ جس میں ۶۰مربع کلومیٹر پر اب نرسریاں یا زرعی زمین ہے۔  ایک سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کے بقول: ’’اس کا رقبہ اب صرف ۲۴مربع کلومیٹر تک  محیط ہے‘‘۔ سیٹلائٹ تصاویر دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ یہ جھیل بڑی حد تک سکڑ گئی ہے۔ پانی اور ماحولیاتی بربادی کی اس تصویر سے بھی زیادہ خوف ناک اور تشویش کن صورت پیدا ہوسکتی ہے، مگر اور بھی زیادہ حیرت ناک صورت حال یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ابھی تک قدرتی وسائل کی حفاظت کی سمت میں بات چیت کو بھی قابلِ اعتنا نہیں سمجھا ہے۔ چارسال قبل کشمیر میں آئے سیلاب نے جگانے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، اور اس کے بعد گہری نیند کا سماں ہے۔

کہاوت ہے کہ پہاڑ کی جوانی اور ندیوں کی روانی وہاں کے مکینوں کے کام نہیں آتی، بلکہ اس کا فائدہ میدانوں میں رہنے والے کسانوں اور کارخانوں کو ملتا ہے، اور انھی کی بدولت شہر اور بستیاں روشن ہوتی ہیں۔ اس لیے پہاڑوں میں رہنے والے وسائل کے محافظوں کو ترقی میں حصہ دلانا لازمی ہے۔ دونوں ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ ’سندھ طاس معاہدے‘ سے آگے بڑھ کر ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی حفاظت کی خاطر باہم مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل وضع کریں۔ کشمیر کے بعد اس ماحولیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پاکستانی زراعت اور پن بجلی کے منصوبوں پر پڑنے والا ہے۔ اس خطے میں ماحولیاتی تباہی کئی نسلوں کو متاثر کرے گی اور کسی دوسرے خطرے کے مقابلے میں انسانی جانوں کا کہیں زیادہ ضیاع ہوگا۔ اس لیے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہےکہ  اتنے اہم معاملے پر بھارت اور پاکستان کے سفارتی حلقوں میں خاطرخواہ دل چسپی کیوں نہیں لی جارہی؟ دونوں ممالک کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ’سندھ طاس آبی معاہدے‘ سے آگے بڑھ کر کوئی پاے دار نظامِ کار وضع کریں، تاکہ کنٹرول لائن کے دونوںطرف رہنے والوںکو سیلاب اور خشک سالی جیسی آفات سے بچایا جاسکے، جب کہ اس وقت ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی حفاظت جیسے اُمور بین الاقوامی سفارتی گفت و شنید کا لازمی جز بن چکے ہیں۔

جس وقت بھارت کے دورے پر آئے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد کی تاریخی ’مکہ مسجد‘ میں نماز جمعہ ادا کررہے تھے، اسی روز بہار کے سرحدی شہر ساپول کے باسی اور مسجد نبویؐ کے امام شیخ حامد بن اکرم بخاری بھی مسلمانوں کے ایک جمِ غفیر سے خطاب کر رہے تھے۔ دونوں حضرات کے خطبات کا متن تقریباً ایک جیسا تھا۔ جہاں ایرانی صدر نے: ’’کلمۂ توحید کے پرچم تلے عالمِ اسلام سے متحد ہونے کی اپیل کی‘‘ تو دوسری طرف امامِ حرم نے اسلامی دنیا کے انتشار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اس کا واحد حل اتحاد بین المسلمین ہے‘‘۔ دونوں نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کی مذمت کی اور بجاطور پر اسلام کو امن کا پیغامبر بتایا۔

ایرانی صدر اور ان کے وفد نے حیدر آباد میں ایک سُنی امام کی اقتدا میں نماز ادا کرکے مسلم دُنیا کو نہایت ہی مثبت پیغام دیا۔ اب اگر ان دونوں رہنمائوں کا بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اتحاد کا ایک جیسا پیغام تھا، تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ دونوں ممالک خود اس کی عملی تصویر پیش کرکے عالمِ اسلام کو ابتلاو آزمایش سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کرتے۔ آج عالمِ اسلام کے بیش تر زخم ایران اور سعود ی عرب کی چپقلش کی دین ہیں۔ دو عشرے پیش تر تک مختلف معاملات، مثلاً افغانستان، فلسطین اور کشمیر کے تئیں مذکورہ دونوں ممالک کا موقف یکساں ہوتاتھا۔ کشمیر کے سلسلے میں ویسے تو سعودی حکومت پس پردہ ہی رول ادا کرتی تھی، مگر ایران کا پاکستان کی ہی طرز پر خاصا فعال کردار ہوتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ۱۹۸۲ء میں سری نگر کی جامع مسجد میں ایران کے موجودہ سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ ان کا خطبہ سننے کے لیے عوام کا ازدحام اُمنڈ آیا تھا۔ پھر ۱۹۹۱ء میں جب بھارت کے وزیر خارجہ اندر کمار گجرال تہران کے لیے اڑان بھرنے کی تیاری کر رہے تھے، کہ ایران نے ان کی میزبانی کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ وجہ تھی کہ سری نگر میں سیکورٹی دستوں نے اس دن کشمیر کے کئی افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم، خطے کے بدلتے حالات، بین الاقوامی رسہ کشی ، افغانستان کے منظرنامے ، پابندیوں اور پھر اپنی معیشت نے شاید ایران کو مجبور کیا کہ بھارت کے ساتھ اپنے رشتوں کا ازسر نو جائزہ لے۔

مارچ ۱۹۹۴ء میں کشمیر کے حوالے سے ایران نے اچانک پوزیشن تبدیل کی۔ ہوا یہ کہ جموں وکشمیر میں حقوقِ انسانی کی ابتر صورتِ حال کے حوالے سے ’اسلامی تعاون تنظیم‘ نے اقوامِ متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن میں ایک قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کی زبردست سرزنش اور اس کے خلاف اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔ منظوری کی صورت میں یہ قرارداد براہِ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کردی جاتی، جہاں بھارت کے خلاف اقتصادی پابندیاںعائد کرنے کے قواعد تقریباً تیار تھے۔  اسی دوران کوہِ البرزکے دامن میں واقع تہران ایئر پورٹ پر شدید سردی میں بھارتی فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے نے برف سے ڈھکے رن وے پر لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ اس وقت کے وزیرخارجہ دنیش سنگھ اور تین دیگر مسافروںکو انتہائی خفیہ مشن پر لے کر آیا تھا۔ دنیش سنگھ ان دنوں دہلی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے اور بڑی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔ وہ اسٹریچر پر ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نام بھارتی وزیراعظم پی وی نرسیما رائو کا اہم مکتوب لے کر آئے تھے، اور ذاتی طور پر ان کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ سوء اتفاق کہ وزیرخارجہ ' دنیش سنگھ کا یہ آخری سفارتی دورہ ثابت ہوا کیوںکہ اس کے بعد وہ دنیا سے کوچ کرگئے۔

اس وقت بین الاقوامی برادری میں بھارت کی پوزیشن مستحکم نہیں تھی اور اقتصادی صورتِ حال انتہائی خستہ تھی، حتیٰ کہ سرکاری خزانہ بھرنے کے لیے حکومت نے اپنا سارا سونا بیرونی ملکوں میںگروی رکھ دیا تھا۔ ادھر سوویت یونین کے منتشر ہو جانے سے اس کا یہ دیرینہ دوست بھی اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔ وزیر اعظم نرسیما رائو نے بڑی ہوشیاری اور دُوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کو آمادہ کرلیا کہ وہ او آئی سی میں مذکورہ قرارداد کی منظوری کے وقت غیر حاضر رہے۔ نرسیما رائو کا خیال تھا کہ ایران کے غیر حاضر رہنے کی صورت میں یہ قرارداد خود بخود ناکام ہوجائے گی، کیوںکہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ دوسرے کئی بین الاقوامی اداروںکی طرح ووٹنگ کے بجاے اتفاق راے سے فیصلے کرتی ہے۔ جس وقت بھارتی فضائیہ کا خصوصی طیارہ ایرانی ہوائی اڈے پر اُتر رہا تھا، ایرانی حکام کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ اچانک تہران میںکیوں نازل ہورہے ہیں؟ ایرانی حکام اتنے حیرت زدہ تھے کہ وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی پروٹوکول کو بالاے طاق رکھتے ہوئے خود ہوائی اڈے پر پہنچے اور جب راجا دنیش سنگھ کو صبح سویرے سردی سے ٹھٹھرتے وہیل چیئر اور ڈاکٹروں کے ہمراہ ہوائی جہاز سے برآمد ہوتے دیکھا تو ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ: ’’آخر اس وقت اور اتنے ہنگامی طریقے سے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کی کیا ضرورت آن پڑی؟‘‘ دنیش سنگھ نے صدر ہاشمی رفسنجانی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ناطق نوری سے ملاقات کی اور اسی دن شام کو دہلی کے اسپتال میں اپنے بیڈ پر دوبارہ دراز دکھائی دیے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس مہم کو خفیہ رکھنے کے لیے ان کی واپسی تک ان کے بیڈ پر انھی کی قدوقامت کے شخص کو لٹایا گیا تھا۔ بہرحال دنیش سنگھ کا مشن کامیاب رہا۔ اس پورے معاملے میں ایران کوکیا ملا؟ یہ ابھی تک ایک راز ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو اس واقعے کی بھنک پڑ جاتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا۔ ادھر ایرانی دبے لفظوں میںکہتے ہیں کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں ان سے ایک وعدہ کیا تھا، جس پر انھوں نے یقین کرلیا ۔ بھارت نے ایران سے درخواست کی تھی کہ:’’اگر وہ مغربی ممالک کی مداخلت روکنے میں اس کی مدد کرتا ہے تو وہ پاکستان اور کشمیری رہنمائوں کے ساتھ بات چیت شروع کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کا خواہاں ہے‘‘۔ یہ سچ ہے کہ نرسیما راؤ نے اس کے بعد کچھ تگ و دو کی۔

ایک سال بعد برکینا فاسو میں ناوابستہ ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران نرسیما رائو نے اعلان کیا کہ: ’’کشمیر کے سلسلے میں بھارت آسمان کی وسعتوں جتنی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے‘‘۔ دنیش سنگھ کی واپسی کے بعد ۷۲گھنٹے بھارت کے لیے کافی تذبذب بھرے تھے، تاہم ایران نے اپنا وعدہ ایفا کرتے ہوئے کشمیر سے متعلق او آئی سی کی قرارداد کو بڑی حکمت عملی سے عملاً ’ویٹو‘کردیا۔

چوںکہ سبھی نگاہیں اس وقت جنیوا پر ٹکی ہوئی تھیں، اس لیے کسی کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ یہ جان سکتا کہ تہران میںکیا لاوا پک رہا تھا۔ مجھے یاد ہے، نئی دہلی میں اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر ریاض کھوکھر خاصے تنائو بھرے ماحول میں کشمیری لیڈروں سید علی گیلانی اور عبدالغنی لون کو بتا رہے تھے کہ: ’’ایران اس انتہائی اہم قرارداد کی حمایت سے ہاتھ کھینچ رہا ہے؛ حالاںکہ صرف ایک ہفتہ قبل نئی دہلی میں ایرانی سفیر نے دونوں کشمیر ی رہنمائوںکی اپنی رہایش گاہ پہ پُرتکلف دعوت کی تھی اور انھیں باورکرایا تھا کہ مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی وفد کی قیادت اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے کی تھی اور ان کے ساتھ مرکزی وزیر سلمان خورشید اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ موجود تھے۔ اس وفد کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ۷۲گھنٹے قبل وزیر خارجہ دنیش سنگھ ایک ایسا ’کارنامہ‘ انجام دے چکے ہیں، جس کے دُور رس اثرات مرتب ہونے والے تھے۔ بعدکے حالات و واقعات نے اسے درست ثابت کیا۔ واجپائی اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ اب تک اس کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتے پھرتے ہیں اور نرسیما رائو نے بھی مرتے دم تک ان سے یہ سہرا واپس لینے کی کوشش نہیں کی۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد سے پاکستان نے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں زیربحث لانے کی ہمت نہیںکی۔بعد میں ایران اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ افغانستان کے سلسلے میں دونوں نے متضاد موقف اختیار کیا۔ ایران نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان کے’شمالی اتحاد‘ کو تقویت پہنچائی، جو پاکستانی مفادات کے بالکل خلاف تھا۔ پاکستان کو اس رویے سے زبردست صدمہ پہنچا، جسے اس نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔

 شاید تاریخ پھر پلٹ رہی ہے۔ حالات و واقعات نے مسلم دنیا کی کمان ایران اور ترکی کی دہلیز تک پہنچا دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت میں جہاں دونوں لیڈروں نے عالمی اور علاقائی امور پر بتادلہ خیال کیا، ذرائع کے مطابق ایرانی صدر نے باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ’’قضیۂ کشمیر کو سلجھانے سے خطے کے مسائل کا بڑی حد تک ازالہ ہوسکتا ہے‘‘۔ خاص طور پر ایرانی وفد کے اصرار پر مشترکہ بیان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے نظریات سے نمٹنے سے متعلق پیراگراف میں یہ اضافہ کیا گیا ، کہ: ’’اس (دہشت گردی اور انتہا پسندی) کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے اس کی وجوہ اور ان عوامل کو بھی ختم کرنا ضروری ہے، جو اس کی تقویت اور وجہ کا باعث بنتے ہیں‘‘۔ ایرانی صدر نے پریس بیان میں: ’’علاقائی تنازعات کو سفارتی اور سیاسی کاوشوں سے حل کرنے پر زور دیا‘‘۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان کا اشارہ بھارت- پاکستان مذاکرات کی بحالی اور کشمیر کی طرف تھا۔

بھارت کے لیے اس وقت ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔چند ہفتے قبل بھارتی بجٹ میں اس پر ۱۵۰کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گو کہ پچھلے سال بھی اتنی ہی رقم مختص کی گئی تھی، مگر معاہدے اور ٹھیکوں کی تقسیم وغیرہ جیسے معاملات کو طے کرنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف ۱۰لاکھ روپے ہی خرچ کیے جاسکے۔ نریندرا مودی نے چاہِ بہار سے زاہدان تک ۶ء۱ارب ڈالر لاگت کی ریلوے لائن بچھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ چاہِ بہار، بھارت کی طرف سے اپنے آپ کو ایک بین الاقوامی قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کا بھی ہدف ہے۔ دوسرے قدم کے طور پر بھارت اس بندر گاہ کو ۷۲۰۰کلومیٹر طویل ’انٹرنیشنل نارتھ، ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ کے ساتھ جوڑ کر آرمینیا، آذربائیجان، روس اور یورپ تک رسائی حاصل کرکے اس کو چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے مقابلے میں کھڑا کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

بھارت دنیا کی تیزرفتار ترقی پذیر معیشت ہی سہی، مگر اس کے سامنے دنیا سے ربط سازی (connectivity) ہمیشہ ہی سردردی کا ایشو رہا ہے۔اس نے پڑوسی ممالک نیپال سے لے کر سری لنکا ، مالدیپ اور پاکستان تک کو ایک خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے، مگر بھوٹان جیسے چھوٹے سے ملک کی پارلیمنٹ نے حا ل ہی میںمودی کے پراجیکٹ بھوٹان، بنگلادیش، بھارت اور نیپال (بی بی آئی این) کوریڈور کو منظور کرنے سے منع کردیاہے۔

اس پس منظر میں ایران کے لیے یہ موقع ہے، کہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروے کار لا کر نئی دہلی کو اپنے ۱۹۹۴ء کے وعدوں کی یاد دہانی کرائے۔ اگر یہ وعدہ ایفا ہوتا ہے تو اس خطے میں امن اور خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جس میں بھارت، پاکستان، افغانستان اور ایران اسٹیک ہولڈرز ہوں گے۔

مئی ۱۹۹۸ء میں پہلے بھارت کے اور پھر جوابی طور پر پاکستان کے جوہری دھماکوں کے بعد بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، اسی سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے نیویارک پہنچے۔ واجپائی کو اپنی ہمت اور طاقت سے زیادہ کام کرنا گوارا نہیں تھا۔ عام طور پر ظہرانے کے بعد سہ پہر چار بجے تک کوئی مصروفیت نہیں رکھتے تھے اور رات آٹھ بجے کے بعد آرام کرنے چلے جاتے تھے۔ اس لیے ان کے غیر ملکی دوروں میں وفد کے ساتھ آئے افسران اور میڈیا کو کھل کر شہر دیکھنے اور شاپنگ کا موقع مل جاتا تھا۔

 نیویارک کے اس دورے کے دوران واجپائی کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ بھی طے تھی۔ نیتن یاہو بھی پہلی بار۱۹۹۶ء  میں اقتدار میں آئے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ایک دل چسپ امر ہے کہ تل ابیب اور نئی دہلی میں سخت گیر دائیں بازوکے عناصر ایک ہی وقت اقتدار میں آئے۔ بہرحال، جس وقت واجپائی کی ملاقات نیتن یاہو سے طے تھی، بھارتی مشن نے میڈیا کے لیے شہر کے دورے کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا، مگر ہندی اخبار کے ایک ایڈیٹر   اپنے ذاتی پروگرام کے تحت ساتھیوں کے ہمراہ نہیں جارہے تھے۔ جب واجپائی ہوٹل میں داخل ہوئے تو پرانی شناسائی کے سبب انھوں نے ایڈیٹرصاحب سے گرم جوشی دکھائی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ملاقات کے کمرے میں لے گئے اور گفتگو میں مگن ہوگئے۔ بھارتی دفترخارجہ کے افسران ابھی   ان ایڈیٹر صاحب کو بھگانے کی ترکیب سوچ ہی رہے تھے، کہ نیتن یاہو اپنے وفد کے ہمراہ اس جگہ آگئے۔ واجپائی سے ہاتھ ملاکر اسرائیلی وزیر اعظم نے چھوٹتے ہی ان کو جوہری دھماکوں پر مبارک باد دی اور معانقہ کرتے ہوئے کہا: Mr. Prime  Minister, we are now both nuclear power. Let us crush Pakistan like this. (مسٹر پرائم منسٹر ، ہم دونوں جوہری طاقت ہیں، اس طرح ہم پاکستان کو جکڑ کر کرش کریں)۔

اسرائیل آج تک ایک علانیہ ایٹمی طاقت نہیں ہے۔ ایک صحافی کے سامنے اس طرح کے اعتراف نےبھارتی وزارت خارجہ کے افسران کو خاصا پریشان کر دیا۔ واجپائی نے ایڈیٹرصاحب کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا رکھا تھا۔ تب ایک جہاندیدہ افسر نے ان کو بتایا کہ: ’آپ کی ایک ضروری کال آئی ہے‘۔ اور اس بہانے ایڈیٹر کو باہر لے جاکر دروازہ بند کرادیا۔ بعد میں وزارت خارجہ اور اسرائیلی افسران نے اصرار کے ساتھ تاکید کی کہ یہ گفتگو کہیں بھی اور کسی بھی صورت میڈیا میں نہ آنے پائے۔

اب یہی نیتن یاہو۱۳۰ رکنی وفد کے ہمراہ جنوری ۲۰۱۸ء میں بھارت کا چھے روزہ دورہ مکمل کرکے واپس گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ۲۵سال قبل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے، مگر حقیقت کی دُنیا میں ان کے رشتوں کی تاریخ اس سے بھی بہت پرانی ہے۔ امریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے دسمبر ۱۹۷۱ءکی جنگ میں، اسرائیل نے جنگی ہتھیار فراہم کرکے، ’پاکستان کے خلاف جنگ‘ کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تب مشرقی پاکستان میں پیش قدمی کی کما ن بھارت کی ایسٹرن کمانڈ کے ایک بھارتی یہودی میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی۔ نجی محفلوں میں جنرل جیکب نے کئی بار حسرت سے یہ تذکرہ کیا کہ: ’’جب پاکستانی فوج ہتھیار ڈال رہی تھی تو تقریب اور تصویر کھنچوانے کے لیے کلکتہ سے ایک سکھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو بذریعہ طیارہ ڈھاکہ لایا گیا، حالاںکہ جگجیت سنگھ آپریشن کا حصہ نہیں تھا۔ یہ وزیراعظم اندرا گاندھی کا فیصلہ تھا کہ ایک مسلمان اور پاکستانی جنرل کا ایک یہودی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈالنا شرقِ اوسط خاص کر عرب اور مسلم ممالک میں اضطراب پیدا کر سکتا تھا، جس کا بھارت متحمل نہیں ہوسکتا تھا‘‘۔

بہرحال، وزیر اعظم نریندرا مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد وہ ’بھارت اسرائیل تعلقات‘ جو صرف دفاع اور خفیہ معلومات کے تبادلے تک محدود تھے، ان کو سیاسی جہت ملی ہے۔ اسرائیلیوں کو شکایت تھی کہ بھارتی سیاستدان پردے کے پیچھے ہاتھ تو ملاتے ہیں، مگر اسرائیل کی بین الاقوامی فورم میں مدد کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسرائیلی افسروں کے مطابق اس دورے کا مقصد دفاعی خریدوفروخت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجاے دنیا کو یہ بھی پیغام دینا تھا، کہ ہم دنیا میں الگ تھلگ نہیں ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ اور ایک معروف تھنک ٹینک کی طرف سے منعقد ہ ایک جیوپولیٹکل کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ: ’’کسی بھی ملک کی بقا اور اس کو طاقت ور بنانے کے لیے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں: فوجی قوت، اس کو برقرار رکھنے کے لیے اقتصادی ترقی، اور ایسا سیاسی نظام جو آپ کے لیے دنیا میں اتحادی بنانے میں معاون ثابت ہو‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا بھارتی دورہ اور مذکورہ اعتراف یہ بتاتا ہے کہ وہ کس حد تک بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے اور اس کو دُور کرنے کے لیے اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ اس لیے اس دورے کے دوران اسرائیل نے زراعت، ٹکنالوجی، واٹرمینجمنٹ وغیرہ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے آگرہ، احمد آباد اور ممبئی کے دورے کے دوران، ان کے انٹیلی جنس اداروں: موساد اور شن بٹ (Shin Bit) کے سربراہان نئی دہلی میں ہی موجود رہے اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موساد کے سربراہ یوسی کوہان اور اجیت دوول کے درمیان ملاقاتوں کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا کہ: ۵۰۰ملین ڈالر کے اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل سودے پر دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ بھارت نے یہ سودہ منسوخ کردیا تھا، کیوںکہ اسرائیلی دفاعی کمپنی ٹکنالوجی ٹرانسفر کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔

شن بٹ کے سربراہ نادار ارگامان نے دہلی میں سابق سفارت کاروں، فوجی ماہرین اور ایڈیٹروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ: ’’دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا نظامِ کار (میکانزم) اب خاصا منظم اور وسیع ہے۔ خاص طور پر زیر سمندر ۱۸ہزار کلومیٹر لمبی مواصلاتی کیبل کے ذریعے ہونے والی ترسیل کی نگرانی کے لیے دونوں ممالک تعاون کر رہے ہیں‘‘۔ یاد رہے یہ کیبل سنگاپور، ملایشیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، پاکستان،  متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، سوڈان، مصر، اٹلی، تیونس اور الجزائر کے لیے ہر طرح کے مواصلات کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’انفارمیشن یا خفیہ معلومات کی ترسیل سے زیادہ اس کا تجزیہ کرنا اور اس کا بروقت اور اصل استعمال کنندہ تک پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہے‘‘۔

پاکستان کے بارے میں اسرائیلی افسر سیدھا اور صاف جواب دینے سے کترارہے تھے، مگر ان کا کہنا تھا: ’’بھارت کو سلامتی امور سے نمٹنے کے لیے وہ مدد دینے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ تاہم،   بار باریہ بھی کہا : ’’ہمارا ہدف (فوکس) وہ تنظیمیں اور ممالک ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کو پس پردہ ترتیب دینے والے دو افراد گجراتی نژاد امریکی یہودی نسیم ریوبن اور امریکا کی سب سے طاقتور لابی تنظیم امریکن جیوش کونسل کے نائب سربراہ جیسن ایف اساکسون کا کہنا تھا کہ: ’’یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ممالک کے دشمن الگ الگ ہیں۔ جہاں بھارت کی دشمنی پاکستان سے ہے، وہیں اسرائیل اپنی بقا کے لیے ایرا ن کو خطرہ سمجھتا ہے‘‘۔ نسیم ریوبن کا کہنا تھا کہ: ’’شاید اس معاملے میں دونوں ممالک کے مفادات جدا جدا ہیں، اس لیے دیگر اُمور پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ایک پاےدار رشتہ قائم ہو۔ چوں کہ موجودہ وقت میں ترقی پسندانہ سوچ اور جمہوریت کو ریڈیکل اسلام سے خطرہ ہے، اس لیے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اشتراک کی گنجایش ہے‘‘۔

یہ بات طے ہے کہ اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی قربت کو مودی نے بھارتی داخلی سیاست میں ہندو انتہا پسند طبقے کو رام کرنے کے لیے بخوبی استعمال کیا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم آرایس ایس کے لیے اسرائیل ہمیشہ سے ایک اہم ملک رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی نے۲۰۰۳ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کی مہمان نوازی کی تھی، اور مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں، جنھوں نے تل ابیب کا دورہ کیا، پھر اسرائیلی وزیراعظم کوبھی اپنے یہاں بلالیا۔ ہندو انتہا پسند طبقے کا خیال ہے کہ: ’’اسرائیل دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور انھیں ختم کرکے ہی دم لے گا‘‘۔

 اس خیال کے برعکس یہودی مذہبی پیشوا ربی ڈیوڈ روزن کی راے یہ ہے: ’’۱۹۷۳ء کی جنگ سوئز اور بعد میں لبنان جنگ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جدید ہتھیاروں اور امریکی حمایت کے باوجود اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے راقم کو انٹرویو میں بتایا کہ: ’’عام یہودی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسرائیل ۲۰۰۶ءکی لبنان جنگ ہار گیا تھا۔ عدم تحفظ کا احساس اور سیکورٹی اور انٹیلی جنس پر بے پناہ اخراجات کی وجہ سے اسرائیل میں ضروریاتِ زندگی خاصی مہنگی ہیں۔ اس لیے اپنی بقا اور دیرپا سلامتی، دو ریاستی فارمولے پر عمل میں ہی مضمر ہے۔ ورنہ اگلے ۵۰برسوں میں یہودی ریاست کا نام و نشان مٹ سکتا ہے یا یہودی اپنی ریاست میں اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آخر کیسے؟‘‘ تو انھوں نے کہا: ’’۱۹۶۷ء میں مقبوضہ فلسطین، یعنی اسرائیل میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۱۴فی صد تھا، جو بڑھ کر ۲۲ فی صد سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔      یہ مسلمان ’عرب اسرائیلی‘ کہلاتے ہیں اور اسرائیلی علاقوں میں انتخابات وغیرہ میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان میں افزایش نسل بھی یہودیوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے اسرائیلی حکومت کو اپنی موجودہ روش ترک کرکے فلسطینیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن قائم کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے چاہیے ، ورنہ اس ٹائم بم کی وجہ سے یہودی ریاست کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور اگلے دوعشروں میں وہ اقلیت میں ہوں گے‘‘۔

چند سال قبل راقم کو بھارتی صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین ) جاننے کا موقع ملا ۔ وفد میں بھارت کے میڈیا اداروں ٹائمز آف انڈیا ، دی ٹیلی گراف ، ٹربیون، اے این آئی  وغیرہ سے وابستہ ایسے مدیران شامل تھے جنھیں سفارتی اور بین الاقوامی امور پر دسترس حاصل ہے۔ دس دن کے اس سفر میں تل ابیب ، حیفہ، سدرت اور لبنان کی سرحد سے متصل ناحارجہ، فلسطینی علاقوں رملہ، بیت اللحم ، بحیرۂ مُردار، دشت جودی کے علاوہ یروشلم کے دورے کا بھی موقع ملا۔

میں تو مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے بے تاب تھا، مگر یروشلم میں ہمیں آخری تین دن گزارنے تھے۔ دورے کے اگلے دن ہمیں تل ابیب سے غزہ سرحد سے متصل اسرائیلی قصبہ سدرت جانا تھا، جو ایک ثقافتی مرکز کی شہرت رکھتا ہے اور اکثر غزہ کی طرف سے داغے گئے راکٹوں کی زد میں آتا ہے۔ خیر تل ابیب سے ہمیں چارہیلی کاپٹروں میں سوار کیا گیا ۔ میں پائلٹ کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پائلٹ خاصا ہنس مکھ اور باتونی قسم کا شخص تھا۔ وہ راستے میں گائیڈ کا کام بھی کررہا تھا۔

ایک خاص بات دیکھنے میں آئی کہ یہودی بستیوں میں تقریباً سبھی مکان صاف شفاف چمک دار اور ہرے بھرے باغات اور درختوں سے گھرے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی چھتوں کو لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ دوسری طرف عرب بستیوں میں مکانات اگرچہ بڑے مگر بے کیف اور ان کے آس پاس زمین بھی نظر آ رہی تھی۔ اس لال رنگ کا راز جاننے کی میں نے بعد میں   بڑی کوشش کی، مگر کہیں سے تشفی بخش جواب نہیں ملا۔ وجہ شاید یہی ہو گی کہ ہوائی حملوں کے وقت یہودی اور عرب علاقوں کا تعین کیا جا سکے۔

آدھے گھنٹے کے بعد پائلٹ نے اعلان کیا کہ: ’’اب ہم یروشلم شہر کے اوپر سے گزر رہے ہیں‘‘ اور ساتھ اس نے روایتی گائیڈوں کی طرح تاریخ کے اوراق سامعین کو دیکھ کر پلٹنے شروع کیے۔ جب میں نے اس کو ایک دو بار ٹوکا تب اس کو معلوم ہوا کہ اس کے پاس ایک مسلمان صحافی براجمان ہے۔ ہیلی کاپٹر سے مسجد اقصیٰ، اس کا صحن اور گنبد صخریٰ یا  قبۃ الصخرہ (Dome of Rock)کا سنہری گنبد واضح نظر آ رہا تھا۔ میں اس نظارے میں محو ہو گیا۔ پائلٹ نے میری کیفیت دیکھ کر صحن کے اوپر کئی چکر کاٹے ۔ خیر سفر کے اختتام سے چار روز قبل ہم حیفہ سے تل ابیب اور فلسطین اتھارٹی کے دارالحکومت رملہ سے ہوتے ہوئے بذریعہ بس یروشلم آن پہنچے۔

خوش قسمتی سے یہ جمعے کا دن تھا۔ میں نے میزبانوں کو پہلے ہی تاکید کی تھی کہ میں کسی اور پروگرام میں شرکت نہیں کروںگااور جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کروں گا۔ پروگرام کے مطابق وفد کے باقی اراکین تو ہولو کاسٹ میوزیم دیکھنے چلے گئے اور مجھے ایک فلسطینی گائیڈ کے حوالے کیا گیا، جس نے پرانے فصیل بند شہر کے باب دمشق تک میری رہنمائی کی۔ مسجد فصیل سے ابھی بھی تقریباً آدھا کلو میٹر دُور تھی۔ پیچ در پیچ گلیوں اور سوق، یعنی چھت والے روایتی عربی بازار سے گزرتے ہوئے آخرکار مسجد کا گیٹ نظر آیا۔ مسجد اقصیٰ کا حرم ایک وسیع احاطے پر مشتمل ہے۔ شمال میں چاندی کے گنبد والی مسجد ہے۔ جمعہ کو احاطے میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ دیگر دنوں میں غیر مسلم سیاح احاطے میں تو داخل ہو سکتے ہیں، مگر مسجد اور قبۃ الصخرہ کے اندر ان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ احاطے کی مغربی دیوار یہودیوں کے لیے مخصوص ہے، اس کو ’دیوار گریہ‘ کہتے ہیں۔

اگرچہ یروشلم شہر اسرائیلوں کے قبضے میں ہے، مگر حرم کا انتظام وانصرام اردن کے اوقاف اور وہاں کی ہاشمی باد شاہت کے پاس ہے۔ جون ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جب اسرائیلی فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں ، تو قبۃ الصخرہ پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا، مگر بیس منٹ بعد ہی اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے اس پرچم کو اتارنے اور اس کا انتظام دوبارہ اردن کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ ہماری گائیڈ بتا رہی تھی کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے غصے سے خائف تھے۔ گنبد پر اسرائیلی پرچم جوابی کارروائی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

خیر، مجھے بتایا گیا تھا کہ مسجد میںداخلے کے لیے مجھے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کروانا پڑے گا۔ گیٹ کے باہر اسرائیلی سیکورٹی کا ہتھیار بند دستہ موجود تھا، بالکل سرینگر کی جامع مسجد کا سین لگ رہا تھا۔ ایک اہلکار نے مجھے کوئی سورۃ سنانے کے لیے کہا۔ اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد اہلکار نے قرآن شریف اٹھا کر اس سے آیات پڑھنے کے لیے کہا۔ تسلی وتشفی کرنے کے بعد  مجھے گیٹ کی طرف جانے کی اجازت مل گئی، مگر ابھی فلسطینی سیکورٹی کا سامنا کرنا باقی تھا۔ گیٹ کے اندر فلسطینی اہلکاروں نے پاسپورٹ مانگا۔ میں نے دیکھا وہاں بھی قرآن شریف رکھا ہوا تھا اور شناخت کا مرحلہ کچھ زیادہ ہی سخت تھا۔ ملایشیا کے ایک زائر کا ایک طرح سے انٹروگیشن ہو رہا تھا۔ اب شاید میری باری تھی ۔ میں نے پوری عربی صرف کر کے فلسطینی اہلکار کو بتایا کہ میں انڈین پاسپورٹ پر کشمیر سے تعلق رکھتا ہوں۔ پاسپورٹ میں میری جاے پیدایش دیکھ کر پلک جھپکتے ہی اس کا موڈ بدل گیا۔ کرسی سے کھڑا ہو کر گلے لگا کر اس نے اپنے افسر کو آواز دی اور عربی میں شاید میرے کشمیری ہونے کا اعلان کیا۔ مقبوضہ علاقوں کا مکین ہونے کا کنکشن بھی کیا عجیب ہوتا ہے !  بعد میں بھی فلسطینی علاقوں میں گھومنے کے دوران اس کا قدم قدم پر احساس ہوا۔ افسر نے بھی مصافحہ اور معانقہ کرنے کے بعد حکم دیا کہ نماز ادا کرنے کے بعد اس کے کیبن میں حاضر ہو جائوں۔

میں جب صف میں جگہ بنا رہا تھا تو امام صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ اس کا ایک ایک لفظ دل ودماغ کو جیسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھاکہ میں ملت اسلامیہ کی مظلومیت کی نشانی مسجد اقصیٰ کے اندر اللہ کے رو برو کھڑا ہوں۔ نماز اور دعا کے بعد نعرۂ تکبیر کی صدائیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ صحن میں کئی مقرر زور وشور سے تقریریں کر رہے تھے ۔ بعد میں جمع ہو کر اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے اور دعا مانگنے کا احساس لفظوں میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔

میں ایک کونے میں مسجد کی تاریخ کو کرید رہا تھا۔ بچپن میں سلاتے ہوئے دادی کی سنائی ہوئی پیغمبروں اور غازیوں کی کہانیاں دماغ میں گونج رہی تھیں کہ فلسطینی سیکورٹی افسر مجھے تلاش کرتے ہوئے آپہنچا۔ مجھے رقت آمیز دیکھ کر وہ بھی آب دیدہ ہو گیا۔ آخر میرا ہاتھ پکڑ کر مجمعے کے بیچ سے گزار کر وہ مجھے امام وخطیب اورمفتی اعظم محمد احمد حسین کے پاس لے گیا۔ وہ جنوبی ایشیا خاص طور پر کشمیر کے بارے میں استفسار کرتے رہے اور خاصی دعائیں دے کر رخصت کیا۔ بعد میں سیکورٹی افسر نے ایک انگریزی جاننے والے فلسطینی کے حوالے کیا، جو مجھے قبۃ الصخرہ کے اندر لے گیا۔

یہ دراصل ایک بڑی چٹان ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہیں سے معراج کے سفر پر تشریف لے گئے، اور یہیں انھوں نے دیگر پیغمبروں کی امامت کرکے نماز پڑھائی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر پیغمبروں علیہم السلام نے بھی یہاں قیام کیا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ چٹان کو کاٹ کر نیچے ایک خلا میں جانے کا راستہ بنایا گیا ہے جہاں پر زائرین دورکعت نفل نماز پڑھتے ہیں۔ میرا گائیڈ بتا رہا تھا آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج پر جاتے ہوئے یہ چٹان بھی اوپر اٹھ گئی تا آنکہ اس کو ٹھیرنے کا حکم ہوا۔ تب سے یہ چٹان اسی پوزیشن میں ہے اور اس کے نیچے ایک خلا پیدا ہو گیا ۔ گائیڈ واقعات کو دہراتے ہوئے واللہ ھو اعلم بالصواب بھی ساتھ ساتھ کہتا جا رہا تھا۔

حضرت عمر فاروقؓ جب اس شہر میں داخل ہوئے تو اس مقام پر بس چند کھنڈ ر باقی تھے۔ ہیکل سلیمانی کب کا تباہ ہو چکا تھا۔ اس چٹان کے شمال میں جہاں اب چاندی کے گنبد والی مسجد ہے، ایک چبوترا بچا تھا، جو ابھی بھی مسجد کے تہہ خانے میں موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہی قبلۂ اوّل ہے۔ مسجد کے تہہ خانہ کے اندر جا کر پتا چلتا ہے کہ اس کی عمارت پتھر کے بنے لا تعداد دیو ہیکل ستونوں پر ٹکی ہے۔ یہیں محراب مریمؑ ہے،جہاں حضرت جبریل ؑ ان کے رُوبرو حاضر ہوئے۔ اس تہہ خانے میں ۱۰۹۹ء سے ۱۱۸۷ء تک کے مسیحی دور کی یادیں بھی تازہ ہیں، جب صلیبیوں نے ۸۸ برسوں تک اس کو ایک اصطبل بنایا تھا۔ ستونوں میں گھوڑوں کو باندھنے کے لیے گاڑی گئی میخوں کے نشانات ابھی بھی واضح ہیں۔

یروشلم جو مکمل طور پر اسرائیل کے قبضے میں ہے کے آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لیے حکام نے کئی قوانین ترتیب دیے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان عورت شہر سے باہر شادی کرتی ہے تو اس کی پروشلم کی شہریت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ان لوگوں کا قانون ہے جو جنسی برابری اور آزادی کے علَم بردار ہیں۔ خود اسرائیل کی حدود میں مسلمانوں کا تناسب ۲۲ فی صد ہے۔ یروشلم میں ان کا تناسب ۳۶ فی صد ہے۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جو اب اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔ میرے قیام کے دوران ایک اسرائیلی عرب خاندان اپنے عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے شہر سے باہر گیا ہوا تھا ۔ واپس آئے تو پرانے شہر میں واقع گھر کے دروازے کھلے ملے اور اندر ایک یہودی خاندان قیام پذیر تھا۔ ان کا پورا سازوسامان گلی میں پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کی غیر موجودگی میں حکومت نے ان کا یہ آبائی گھر یہودی خاندان کو الاٹ کر دیا ہے۔ کئی روز سے یہ خاندان خواتین اور بچوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا۔

یروشلم آنے سے قبل مائونٹ کارمل اور بحیرہ روم کے بیچ خوب صورت شہر حیفہ میں یہودی مذہب کے اعلیٰ پیشوا، یعنی چیف ربی ہوتے ہیں جو تاحیات کے بجاے دس سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ شاید اس یہودی عالم کے پاس وفد کے کوائف پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ چونکہ میں واحد مسلمان صحافی تھا اس لیے اس نے علیک سلیک کے بعد کہا کہ چند لوگ دنیا سے یہودیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر ایسا نا ممکن ہے۔ کیوںکہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد مسلمان روزانہ نماز میں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں اور یہ ان کے ایمان کا جز ہے۔ انھی کی دعائوں کے طفیل آل ابراہیم (یعنی یہودی ) قائم ودائم ہیں۔ چونکہ اس استعاراتی گفتگو کا محور میں ہی تھا، اس لیے میں نے جواباً کہا : ’’یہ حقیقت ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ دونوں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہیں اور اگر مسلمان آل اسماعیل ہیں تو یہودی آل اسحاق ہیں، مگر یہودی صحیفوں کے اصول وراثت کی رو سے بڑے بھائی کو ہی وسائل کا حق دار تسلیم کیا جاتا ہے اور خاندان کی سربراہی بھی اسی کو منتقل ہو جاتی ہے۔ اس اصول سے تو فلسطین اور اسرائیل پر مسلمانوں کا حق تسلیم شدہ ہے‘‘۔ یہودی عالم نے مسکراتے ہوئے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔

چند روز بعد جب ہم ٹورسٹ بس میں اسرائیلی گائیڈ کے ہمراہ یروشلم سے براستہ دشت جودی، بحیرئہ مُردار (Dead Sea )کی طرف رواں تھے تو چند مواقع پر میں نے اس بھارت نژاد اسرائیلی خاتون گائیڈ کو تاریخی حوالے توڑنے مروڑنے پر ٹوکا تو اس نے مائیک میرے حوالے کرکے بقیہ سفر میں مجھے رہنمائی کرنے کے لیے کہا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شاید وہ میرے ٹوکنے سے ناراض ہو گئی ہے، مگر جب اس نے کہا کہ وہ خود تاریخ کا دوسرا رخ سننے کے لیے بے تاب ہے تو میں نے مائیک لے کر دشت جودی سے گزرتے ہوئے آس پاس کھنڈرات کے وسیع وعریض علاقوں ، حضرت لوط ؑ ، حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعات بیان کرنا شروع کر دیے۔

مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ الفاظ کا یہ سمندر کہاں سے اُمڈ آیا ہے۔ منزل پر پہنچ کر  جب میں نے مائیک واپس گائیڈ کے حوالے کیا تو کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اس سر زمین میں پہلی بار وارد ہوا ہوں۔ دی ٹیلی گراف کے سفارتی ایڈیٹر کے پی نیئر نے جب مجھ سے اس بارے میں استفسار کیا تو مجھ سے صرف یہی جواب بن پڑا کہ :’’ارض فلسطین دنیا بھر کے مسلمانوں کی رگوں میں خون کی طرح موجود ہے‘‘۔

بھارت کی جیلیں یا تعذیب خانے؟

حال ہی میں دہلی کی تہاڑ جیل [قیام: ۱۹۵۷ء]میں ۱۸کشمیری قیدیوں کی اذیت رسانی کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے قائم ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ۱۱۱صفحات پر مشتمل رپورٹ میں نہ صرف اس ٹارچر کی تصدیق کی، بلکہ یہ جملہ بھی کہا کہ: ’جیل حکام اور سیکورٹی پر مامور اسپیشل فورس نے بغیر کسی معقول وجہ کے ان قیدیوں کو تختۂ مشق بنایا‘۔ انٹیروگیشن یا تفتیش کے دوران پولیس اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں دُنیا بھر میں ملزم سے اقبال جرم کروانے کے لیے ٹارچر کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتی آرہی ہیں۔ تاہم، بعد از تفتیش جب ملزم عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے جیل حکام کی تحویل میں ہوتا ہے تو وہاں ٹارچر کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ گو کہ بھارت میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح جیلیں ابھی تک بلندوبانگ دعوئوں کے باوجود ’اخلاقی تربیتی مراکز‘ کے بجاے تعذیب خانے ہی ہیں، مگر جوں ہی جیل میں کسی کشمیری یا پاکستانی قیدی کا داخلہ ہوتا ہے، تو جیل حکام، چاہے وہ سیکورٹی پر مامور اہل کار ہو یا ڈاکٹر یا سوشل ورک آفیسر میں ان قیدیوں پر ظالمانہ، شرم ناک اور حددرجہ گھٹیا طریقوں سے تشدد کرنے کی خواہش ایک دم جاگ اُٹھتی ہے۔ ’بھارت ماتا‘ کے یہ سپوت ان بدنصیب قیدیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

بھارت میں دہلی کی تہاڑ جیل کو ایک ماڈل جیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اکثر حکام اس کو جیل کے نام سے موسوم کرنے پر بھڑک اُٹھتے ہیں اور اس کو ’تہاڑ آشرم‘ یا ’اصلاح خانہ‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اگر تعذیب کی خبریں اس آشرم سے آرہی ہوں تو ملک کی دیگر جیلوں کا کیا حال ہوگا؟

 ۲۰۱۱ء میں ڈنمارک کی ہائی کورٹ نے ۱۹۹۵ء میں بنگال کے ضلع پورنیا میں جہاز سے ہتھیار گرانے کے واقعے میں ملزم کم پیٹرڈیوی کو بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ کورٹ نے کم ڈیوی کی اس دلیل کو تسلیم کیا کہ بھارت میں جیلوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ڈیوی بھارت میں ایک انتہائی مطلوب ملزم ہے۔ بھارت کا اصرار تھا کہ ڈنمارک کی حکومت عدالتی کارروائی میں مداخلت کرکے اس کو بھارت کے حوالے کر دے، مگر اس مطالبے کو وہاں کی حکومت نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ اسی طرح ۹۰؍ارب روپے کے مبینہ فراڈ میں ملوث لندن میں پناہ لینے والے بھارت کے ایک معروف صنعت کار وجے مالیہ نے بھی برطانوی کورٹ میں بھارت کے ایما پر دائر کی گئی حوالگی کی درخواست کے خلاف بھارتی جیلوں کی خراب حالت او ر انسانی حقوق کی زبوں حالی کی دہائی دی ہے۔

دہلی کی تہاڑ جیل کی اس ’مہمان نوازی‘ کا مجھے بھی براہِ راست تجربہ ہے۔ ۱۰ سال قبل جب جون کے جھلسا دینے والے دن مجھے عدالت نے دہلی پولیس کی مسلح بٹالین کے سپردکر کے عدالتی حراست میں بھیج دیا، تو میرے کیس کی تفتیش پر مامور دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ایک افسر نے ازراہِ مروت کھانے کا ایک پیکٹ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ: ’جیل میں داخلے کی خانہ پُری میں بہت وقت لگتا ہے اور کبھی کبھی تو نیا قیدی جیل میں رات کے کھانے سے محروم رہ جاتاہے۔ کھانے کا پیکٹ ہاتھ میں تھماکر مجھے پنجرے جیسی بس میں پھینک دیا گیا۔ قبل اس کے میں اپنے حواس پر قابو پاتا، بس میں موجود قیدی مجھ پر جھپٹ پڑے اور یہ سمجھنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ وہ مجھ پر نہیں، بلکہ بندروں کی طرح کھانے پر جھپٹے تھے۔ میں نے خود کو بچانے کے لیے کھانے کا پیکٹ فرش پر پھینک دیا۔  پیکٹ پھٹ گیا۔ اس میں دال اور سبزی فرش پر بکھر گئے۔ میرے یہ ہم سفر گردوغبار سے اَٹے فرش سے اُٹھا اُٹھا کر ایک ایک دانہ چٹ کر گئے۔’’واہ کیا بات ہے۔ ایک سال بعد تڑکے والا کھانا نصیب ہوا ہے‘‘  ایک قیدی نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ یہ منظر واقعی قابلِ رحم اور مضحکہ خیز بھی تھا۔

اگلےآٹھ ماہ میں نے دیکھا کہ عدالت سے جیل یا واپسی کے دوران اس بس میں چاہے کتنی مارپیٹ ہو یا پھر چاہے قتل کی واردات کیوں نہ ہوجائے، پولیس والے اندر آنے کی زحمت نہیں کرتے۔ حالات اگر زیادہ ہی بے قابو ہوں تو اعصاب شل کرنے کے لیے باہر سے گیس چھوڑ کر قیدیوں کو    بے ہوش کر دیا جاتا ہے۔

تہاڑ دراصل نو جیلوں کا مجموعہ ہے۔ مجھے جیل نمبر تین کے درواز ے پر اُتار کر پولیس نے دیگر نئے آنے والے قیدیوں کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کر دیا۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک ڈیسک کے چاروں طرف کھڑے جیل ملازمین میں بڑبڑاہٹ سنائی دی۔ مجھے سیدھے جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے متصل ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ۱۰، ۱۲ ؍افراد موجود تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میرا نام پوچھا گیا۔ ابھی میں نام بتا بھی نہیں پایا تھا، کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے میرے منہ پر زور کا تھپڑ رسید کیا۔ یہ باقی افراد کے لیے اشارہ تھا۔ پھر کیا، وہ سبھی ایک ساتھ مجھ پر پل پڑے۔ خود اس اعلیٰ افسر نے میرے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر میرا سر  میز پر دے مارا۔ میرے منہ، ناک اور کان سے خون رسنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی وقفہ کیے بغیر مسلسل گالیاں دی جارہی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ قیدیوں کو ڈنڈوںسےپیٹ رہے تھے۔

 ’’تم جیسے لوگوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہے، ان سالے غداروں کو سیدھے پھانسی دینی چاہیے‘‘۔ یہ نعرہ ایک زیرسماعت قیدی ونود پنچم کا تھا۔ بعد میں جیل کے اندر اس نے مجھے ’حب الوطنی‘ کا سبق سکھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ یہ ’درس‘ میری بے ہوشی تک جاری رہا۔    ہوش میں آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ حکم ہوا کہ جاکر اپنا چہرہ دھو ڈالو۔ باتھ روم میں جاتے ہوئے بھی گالیاں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔ ابھی میں راستے ہی میں تھا کہ کرخت آواز میں حکم ملا کہ’’ٹائلٹ صاف کرو‘‘۔ یہ ٹائلٹ کسی بس اڈے کے سرکاری پاخانے کی طرح متعفن اور غلیظ تھا۔ میں اِدھر اُدھر کسی کپڑے کو تلاش کرنے کے لیے نظریں دوڑانے لگا، تو حکم ہوا کہ ’’اپنی شرٹ اُتار کر اسی سے صاف کرو‘‘۔ حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور ٹائلٹ صاف کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔

اسی دوران نئے قیدیوں کا جیل میں داخل ہونے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ جیل کے افسر اور ایک ڈاکٹر کے علاوہ کچھ منظورِ نظر قیدی اس کام میں معاونت کر رہے تھے۔ معائنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کا جذبہ ’حُب الوطنی‘ بھی جوش میں آیا۔ اس نے اپنے پیشے کا لحاظ کیے بغیر گالیوں کی بارش کرتے ہوئے پیٹنا شروع کر دیا۔ اب اس نے مجھ سے لکھ کر دینے کو کہا کہ: ’یہ زخم پولیس حراست کے دوران آئے ہیں، جیل میں نہیں آئے‘۔ میں نے پہلی بار جرأت کا مظاہرہ کرکے رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

کارروائی مکمل کرتے ہی جیل افسر نے کہا:’’قمیص کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’باتھ روم میں پھینک آیا ہوں‘‘۔ حکم دیا گیا، ’’جائواور جیسی بھی ہے پہن کر آئو‘‘۔ قمیص اتنی گندی تھی کہ مجھے قے آنے لگی۔ پھر بھی اگلے تین روز تک جون کی جھلستی گرمی میں مجھے وہی غلاظت بھری قمیص پہننا پڑی۔ اس دوران قمیص اُتارنے کی اور نہ غسل خانے جانے ہی کی اجازت ملی۔

یہ بھارت کی ماڈرن تہاڑ جیل کے ساتھ میری ابتدائی ملاقات تھی۔ اگلے آٹھ ماہ تذلیل و تضحیک کے اَن گنت واقعات کا مَیں چشم دید گواہ بنا اور ان میں اکثر واقعات خود میرے ساتھ پیش آئے۔ ابتدائی چند ماہ چھوڑ کر عمومی طور پر بھارتی میڈیا، سیاسی پارٹیوں اور خود اس وقت کی حکومت کے اندر بھی چند خیرخواہوں نے میرے لیے آواز بلند کی اور میری رہائی کے لیے ایک طرح سے مہم چلائی۔ اس لیے اگر اس طرح کے واقعات میرے ساتھ پیش آسکتے ہیں، اندازہ کیجیے کہ ایک بے یارومددگارکشمیری یا پاکستانی قیدی کے ساتھ کس طرح کا سلوک جیل میں کیا جاتا ہوگا!

حالاں کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے اپنے بہت سے فیصلوں میں قیدیوں کے حقوق پر زور دیا ہے، لیکن جیلوں کی حالت اُس کے بالکل برعکس ہے جو قانون کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ قیدیوں پر نظررکھنے کے لیے ان کے بیچ مخبروں کی موجودگی، تہاڑ جیل کے پس منظر میں  ’شعلے‘ فلم کی جیل میں واحد مماثلت نہیں ہے۔ ’شعلے‘ کا جیلر یہاں حقیقی شکل میں نظر آتاہے۔   جیل کے عملے کا رویہ بھی فلم کے جیلر سے مختلف نہیں ہے، جس کا مشہور مکالمہ تھا: ’’ہم انگریزوں کے زمانے کے جیلر ہیں۔ ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو قیدیوں کو سدھارنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تم کبھی نہیں سدھرو گے‘‘۔ گنجایش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی، اُوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی بدعنوانیاں، غیرتربیت یافتہ جیل اسٹاف اور جیل اسٹاف اور جیل انتظامیہ کا  فرسودہ اندازِفکروعمل، استعماری دور کے جیل مینوئل آج بھی نافذالعمل ہیں۔ انھی فرسودہ قوانین کا نتیجہ ہے کہ جیل کے حکام قیدیوں کو ان کے حقوق دینے سے انکار کرتے ہیں۔

ایک دن مجھے جیل کی لائبریری کے نیم خواندہ نگران (جو خود ایک سزا یافتہ سکھ قیدی تھا) نے طلب کرکے کتابوں کی ایک فہرست تیار کرنے کے لیے کہا اور بتایا کہ حکومت نے جیل کی لائبریری کے لیے کتابیں خریدنے کے مقصد سے بجٹ فراہم کیا ہے۔ میں نے قانون، لیڈروں کی جیل ڈائریوں، اوپن یونی ورسٹی سے کورس کرنے والےقیدیوں کی ضرورت کو مدنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ جیل مینوئل اور جیل ضابطوں سے متعلق کتابوں کو بھی شامل کر کےلسٹ تیار کرکے اس کے حوالے کی۔ نگران نے اس لسٹ کواسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کو پیش کر کےاپنی دانش وَری کی دھاک جمانے کی کوشش کی۔ شاید یہ دھاک جم بھی جاتی، مگر فہرست میں جیل مینوئل اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق کتابیں دیکھ کر جیل حکام کا پارہ چڑھ گیا۔ نگران نے فوراً میرا نام لیا۔ مجھے جیل کنٹرول روم میں طلب کیا گیا۔ میں نے وہاں دیکھا کہ سردارجی کو اُلٹا لٹکایا گیا ہے اور ان پر لاٹھیوں کی بارش ہورہی ہے۔ ان کی دانش وَری کا ڈبہ تو پہلے ہی گول ہوگیا تھا۔ وہ زار وقطار رحم کی بھیک مانگ کر پورا ملبہ میرے اُوپر ڈال رہے تھے۔ ساتھ ہی میرا انیٹروگیشن شروع ہوگیا۔

میں نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہہ دیا کہ: ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ جیل کے قوانین سے متعلق کتابیں ممنوع ہیں اور معافی کا خواستگار ہوں‘‘۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے مسکرا کر کہا: ’’میں جانتا تھا کہ یہ فہرست سردار جی تیار نہیں کرسکتے تھے‘‘۔

میرے دورِ زندان تک باقی کتابیں بھی کبھی لائبریری میں نہیں پہنچیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ کتابوں کے لیے مختص اس بجٹ کا کیا ہوا۔ کہتے ہیں: علم آزادی کی چابی ہے۔ لیکن قیدیوں کا جیل کے قوانین کا علم حاصل کرنا جیل انتظامیہ اپنے لیے اچھا شگون نہیںسمجھتی، کیونکہ غلامی اور جہالت لازم و ملزوم ہے۔

حال ہی میں ایک مقتدر انگریزی روزنامے میں حکومت ِپاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ جناب ریاض محمد خان نے اپنے ایک مضمون میں یہ دلیل دینے کی کوشش کی ہے کہ ’’تنازعہ جموں و کشمیر دراصل مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر کا مسئلہ ہے‘‘ اور ان کے بقول: ’’دیگر دو خطے جموں و لداخ غیرمسلم اکثریتی علاقے ہیں، اس لیے لاتعلق ہیں‘‘۔تنازعۂ کشمیر کو جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھنے کے بجاے انسانی زاویے سے دیکھنے کے لیے ان کا موقف یقینا ستایش کے قابل ہے، مگر متنازعہ ریاست کی آبادیاتی ساخت اور اس کے مختلف خطوں کی مذہبی شناخت پر ان کی کم علمی اور ناقص معلومات پر افسوس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔

جموں و کشمیر کی آبادیاتی (Demographic) ساخت کے بارے میں عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کے تین خطوں: ’’کشمیر وادی، لداخ اور جموں میں سے صرف ایک خطے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘‘۔ تاہم، بھارتی وزارتِ داخلہ کے رجسٹرار آف سنسس کی طرف سے ۲۰۱۱ء میں کرائی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار اس غلط فہمی کو دُور کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تمام خطّے لسانی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، مگر جموں کا خطہ جو انتظامی لحاظ سے ایک ڈویژن ہے، دراصل تین خطوں، یعنی جموں (توی ریجن)، پیر پنچال اور وادیِ چناب میں منقسم ہے۔

اوّل الذکر خطّہ، یعنی جموں توی ریجن میں مختلف ہندو ذاتوں کی اکثریت ہے، جب کہ دیگر دونوں خطّوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔

جموں توی کے پانچ اضلاع ادھم پور، سانبھا، ریاسی، جموں اور کٹھوعہ کی آبادی ۳۳ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس خطّے کےبھی ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمانوں کا تناسب تقریباً برابر ہے:

جموں اور کشمیر کی مردم شماری 2011ء

کُل آبادی: ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302

مسلمان

85,67,485

68.31%

ہندو

35,66,674

28.43%

سکھ

2,34,848

1.87%

بودھ

1,12,584

0.89%

وادی کشمیر (اضلاع)

اضلاع

کُل آبادی

ہندو

فی صد

مسلمان

فی صد

کپواڑہ

8,70354

37218

4.26

8,23286

94.59

بڈگام

7,53745

10110

1.34

7,36054

97.65

بارہ مولا

10,08039

30621

3.03

9,59185

95.15

بانڈی پورہ

3,92232

8439

2.15

3,82006

97.39

سری نگر

12,36829

42540

3.43

11,77342

95.19

گاندربل

2,97446

5592

1.88

2,90581

97.69

پلواما

5,60440

13840

2.46

5,35159

95.48

شوپّیاں

2,66215

3116

1.17

2,62263

98.51

اننت ناگ

1,07869

1318

1.2

10,57005

97.98

کلگام

4,24483

4247

1.05

4,18076

98.49

میزان

68,88475

1,68813

2.45

66,40957

96.40

جموں (اضلاع)

اضلاع

کُل آبادی

ہندو

فی صد

مسلمان

فی صد

کٹھوعہ

6,16435

5,40063

87.61

64234

10.42

اودھم پور

5,54985

4,89044

88.11

59771

10.76

ریاسی

3,14667

1,53896

48.90

1,56275

49.66

جموں

15,29958

12,89240

84.26

1,07489

7.02

سامبا

3,18898

275311

86.33

22950

7.19

میزان

33,34943

27,47554

82.38

4,10719

12.31

پیر پنجال (اضلاع)

اضلاع

کُل آبادی

ہندو

فی صد

مسلمان

فی صد

پونچھ

4,76836

32604

6.83

4,31279

90.44

راجوری

6,42415

2,21880

34.53

4,02879

62.71

میزان

11,19251

2,54484

22.73

8,34158

74.52

وادی چناب (اضلاع)

اضلاع

کُل آبادی

ہندو

فی صد

مسلمان

فی صد

ڈوڈا

4,09936

1,87621

45.76

2,20614

53.81

رمبن

2,83713

81026

28.55

2,00516

70.67

کشتواڑ

2,30696

93931

40.71

1,33225

57.74

میزان

9,24345

3,62578

39.22

5,54355

59.97

لداخ  (لیہہ اور کرگل اضلاع)

اضلاع

کُل آبادی

ہندو

فی صد

مسلمان

فی صد

بودھ مت

 فی صد

لیہہ

1,33487

22882

17.14

19057

14.27

88635

66.39

کرگل

1,40802

10341

7.34

1,08239

76.87

20126

14.29

میزان

2,74289

33223

12.11

1,27296

46.40

1,08761

39.65

(Census of India 2011, Registerar of Census, Govt of India, Ministry of Home  Affairs, New Delhi, 2015)

پیرپنچال اور وادیِ چناب کے خطے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ پیرپنچال کا خطہ، راجوری اورپونچھ کے دو اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فی صد ہے۔

اسی طرح ایک اور خطّہ ہے وادیِ چناب، جو دریاے چناب کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ اس خطّے کو بھی انتظامی اعتبار سے جموں ڈویژن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے تین اضلاع ہیں: کشتواڑ، رام بن اور ڈوڈہ۔ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں۔ اس خطے میں مسلم آبادی کا تناسب ۶۰ فی صد ہے۔

لداخ خطّے کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ یہ بودھ اکثریتی علاقہ ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس خطے میں دو اضلاع لیہ اور کرگل ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے بودھ ۳۹ء۶۵ فی صد اور مسلمان ۴۶ فی صد ہیں۔ اس طرح مردم شماری کے یہ اعداد و شمار لداخ کے بودھ اکثریتی علاقہ ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

لداخ کے صرف ضلع لیہہ میں بودھ آبادی کا تناسب ۶۶ فی صد ہے، جب کہ مسلمان ۱۴فی صد ہیں۔ اس ضلع کی آبادی لیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یعنی خطے کی مجموعی آبادی میں ۲لاکھ ۷۴ہزار ۲سو ۸۹ میں سے مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ۲۸ہزار ہے، جب کہ بودھوں کی ایک لاکھ ۸ہزار ہے۔

وادیِ کشمیر کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ یہاں مسلم آبادی کا تناسب ۹۶ فی صد ہے۔

ریاست کی جملہ آبادی ایک کروڑ ۲۵لاکھ ۴۱ ہزار سے کچھ زیادہ ہے، جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۸۶لاکھ ہے، جب کہ ہندوئوں کی ۳۵لاکھ سے زیادہ اور سکھوں کی تقریباً ڈھائی لاکھ اور بودھ مت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ۔

 ہندستان ٹائمز کی لیڈر شپ سمٹ میں شرکت کرنے کے لیے جب پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوصاحبہ [م: ۲۰۰۷ء] نئی دہلی آئی تھیں اور موریہ شیریٹن ہوٹل میں مَیں ان کا انٹرویو لے رہا تھا توانھوں نے [آسٹریلیا کے سابق چیف جسٹس اور اقوام متحدہ کے نمایندے] سراون ڈکسن [م: ۷جولائی ۱۹۷۲ء] کے ’کشمیر پلان‘ کے حوالے سے تفصیلات پر مجھ سے تبادلۂ خیال کیا۔

میں نے کہا: ’’اگر پورے جموں و کشمیر میں کسی ایک ایشو پر اتفاق راے ہے تو یہی ہے کہ ریاست کی وحدت برقرار رہنی چاہیے۔ تقسیم کی صورت میں جموں اور کرگل کی ایک بہت بڑی مسلم آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑے گی‘‘۔

بے نظیر صاحبہ کا کہنا تھا :’’مجھے تو بریفنگ کچھ اور ہی دی گئی ہے‘‘۔ یہ کہہ کر انھوں نے اگلا سوال یہ کیا کہ: ’’پھر ان علاقوں میں کبھی کوئی تحریک برپا کیوں نہیں ہوتی؟‘‘

میں نے جواب دیا کہ ’’ایک تو یہ بہت ہی دُور دراز علاقے ہیں اور وادیِ چناب کے علاوہ دیگر علاقے لائن آف کنٹرول سے قریب ہونے کی بنا پر ہمہ پہلو فوجی حصار بھی ان علاقوں میں سب سے زیادہ ہے‘‘۔

سابق خارجہ سیکرٹری محترم ریاض محمد خان صاحب کا ایک اور استدلال یہ بھی ہے کہ: ’’پاکستان کے آبی وسائل، یعنی دریاے چناب اور دریاے سندھ ریاست کے غیرمسلم اکثریتی علاقوں سے ہوکر گزرتے ہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دریا اپنا بیش تر سفر بالترتیب وادیِ چناب اور ضلع کرگل میں طے کرتے ہیں اور یہ دونوں مسلم اکثریتی علاقے ہیں۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کا استدلال ان چند ہندو جماعتوں کو تقویت فراہم کرتا ہے، جو جموں کو الگ ریاست اور لداخ کو براہِ راست دہلی کے تحت انتظامی علاقہ بنانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ دراصل یہ مطالبہ سیاسی مایوسی کی پیداوار ہے۔ اگر جموں کو مذہبی اعتبار سے الگ کیا جاتا ہے ، تو اس کے تینوں خطوں کو بھی الگ الگ کرنا پڑے گا، کیوں کہ مذہبی پیمانے پر خطے کی تقسیم کے معنی پیرپنچال اور وادیِ چناب کو مسلم اکثریت ہونے کی بنا پر الگ کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں جموں توی ایک چھوٹے سے علاقے میں سمٹ جائے گا۔

ایک منصوبے کے تحت ان علاقوں کو جان بوجھ کر وادیِ کشمیر سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا، تاکہ مسلم اکثریتی آبادی کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر کے مسلمانوںکو اس خطے سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا جائے۔ وادیِ چناب اور پیرپنچال میں ایک عشرے سے زائد سیکورٹی ایجنسیوں کی شہ پر ویلج ڈیفنس کمیٹیوں (وی ڈی سی) نے مسلم اکثریتی طبقے کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ عسکریت سے نبٹنے کے نام پر ان علاقوں میں سویلین افراد پر مشتمل فورس بنائی گئی تھی،جو نہ سرکار کے تابع ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دہ اور ان میں صرف ہندو اقلیتی افراد کو بھرتی کیا گیا تھا۔ ان خطوں میں اس فورس کے ذریعے اغوا، تاوان، زیادتیوں کی وارداتیں عام ہیں۔ ظاہر ہے کہ خمیازہ مسلم آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

 ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید [م: ۲۰۱۶ء] نے پیرپنچال کو دوبارہ وادیِ کشمیر سے جوڑنے کے لیے مغل روڈ کے احیا کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ یہ شاہراہ اب مکمل ہوچکی ہے، جو پونچھ کی بفلیاز تحصیل کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے سے ملاتی ہے۔ اکثر مغل حکمران لاہور سے اسی سڑک کے ذریعے وادیِ کشمیر میں وارد ہوتے تھے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر [م: ۱۶۲۷ء] کا انتقال ہی بفلیاز کے پاس کشمیر واپسی پر راستے میں ہوا تھا۔ بغاوت کے ڈر سے انتقال کی خبر کو راز میں رکھنے کی غرض سے ملکہ نورجہاں [م: ۱۶۴۵ء] نے آلایش و اعضا نکال کر اسی علاقے میں دفن کر دیے تھے اور بقیہ نعش اسی تزک و احتشام کے ساتھ لاہور کی طرف عازم تھی، گویا کہ بادشاہ خود قافلے کی قیادت کر رہے ہوں۔ ۱۹۷۵ء میں  شیخ محمدعبداللہ [م: ۱۹۸۲ء] نے اقتدار میں آتے ہی اس سڑک کو کھولنے کی بھرپور سعی کی، مگر کچھ رقوم کی عدم دستیابی اور کچھ بھارت کے وزارتِ دفاع کے اعتراضات نے اس کو التوا میں ڈال دیا۔ یہی حال کچھ کرگل اور وادیِ کشمیر کے گاندربل اضلاع کا ہے۔ زوجیلا پاس کے نیچے سے یہاں بھی ایک سرنگ کئی عشروں سے تعمیر اور تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔

ان علاقوں میں مسلم آبادی کو احساسِ محرومی کا مزید شکار کرنے کے لیے اب تاریخ بھی مسخ کی جارہی ہے، تاکہ یہ باور کرایا جائے کہ ’’جموں کے نجات دہندہ، ڈوگرہ حکمران ہی تھے‘‘۔ اکھنور میں جیاپوتا کے مقام پر تو کئی برسوں سے راجا گلاب سنگھ [م: ۱۸۵۷ء]کا جنم دن منایا جاتا ہے۔ ان کا ایک مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے۔ شعوری طور پر کوشش کی جارہی ہے کہ راجا گلاب سنگھ اور ان کے جانشینوں کو ’تاریخ کے ہیرو‘ بنا کر پیش کیا جائے۔ یہ بھی کوشش رہی ہے کہ راجا گلاب سنگھ اور    راجا ہری سنگھ [م: ۱۹۶۱ء]کے یومِ پیدایش پر سرکاری چھٹی منظور کرائی جائے۔ اس سلسلے میں جموں شہر میں حال ہی میں ہتھیاروں سے لیس ہندو انتہا پسندوں نے سڑکوں پر مارچ کیا۔ جاگیردارانہ لوٹ کھسوٹ کرنے والے مہاراجوں، جبروتشدد کرنے والے مطلق العنان راجواڑوں اور عوامی مفادات بیچ کر اقتدار حاصل کرنے والے حاکموں کو تاریخ ساز ہیرو قرار دینا تاریخ کے ساتھ سب سے بڑا اور گھنائونا ظلم ہے۔

ان ظالموں نے اس ریاست میں راج کن وسائل اور ذرائع سے حاصل کیا، وہ تاریخ میں درج ہے۔ راجا گلاب سنگھ نے پہلے جموں کے عوام، پھر لاہور کے سکھ دربار سے بے وفائی کر کے جبروتشدد کے ذریعے جموں و کشمیر کی ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ پھر ان کے لواحقین اور جانشین بدترین انداز سے جاگیردارانہ لوٹ کھسوٹ کرتے رہے۔ ایسے ڈاکو راج کو بھلا جموں کا ہیرو کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟

جب مہاراجا رنجیت سنگھ [م: ۱۸۳۹ء] نے پیش قدمی کرکے جموں کو فتح کرنے کی کوشش کی تو جموں میں اس کی زبردست مزاحمت ہوئی۔ جموں میں لاہور دربار کے خلاف زبردست گوریلا لڑائی لڑی گئی، جس کی قیادت میاں ڈیڈو اور دیگر ڈوگرہ جنگ جُو کر رہے تھے۔ راجا گلاب سنگھ کے والد اور خود گلاب سنگھ نے ڈوگرہ سرفروشوں کو پیٹھ دکھا کر، مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج میں ملازمت اختیار کرکے ڈوگرہ مدافعتی جنگ سے دامن بچایا اور مہاراجا رنجیت سنگھ کا ایجنٹ بن کر میاں ڈیڈو اور دوسرے کئی ڈوگرہ جنگجوئوں کو قتل کیا۔ ڈوگرہ مدافعت کو کچلنے، مہاراجا رنجیت سنگھ کی سلطنت کو جموں میں وسعت دینے اور ڈوگرہ سرفروشوں کو قتل کرنے کے عوض راجا گلاب سنگھ کو جموں کی باج گزار ریاست عطا ہوئی۔ لاہور دربار کو خوش کرنے کے لیے میاں ڈیڈو کے علاوہ جسروٹہ، بلادر، بسوہلی، بھمبر، ٹکری، کرمچی، کشتواڑ، بھدرواہ، سراج، کوٹلی ، راجوری، پونچھ، میرپور اور دوسرے علاقوں کے راجگان کے سر قلم کرکے ان کے پسماندگان کو ملک بدر کیا گیا۔ کھالوں میں بھوسہ بھر کر درختوں کے ساتھ لٹکایا گیا اور وحشت اور سفاکیت کا دور جاری کیا گیا۔

لیکن راجا رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت کا زوال شروع ہوا اور انگریزوں نے پنجاب پر چڑھائی کی تو جموں کا یہ راجا، لاہور کے دربار سے غداری کر کے انگریزوں سے مل گیا۔ اس خدمت ِ خاص کے عوض ۷۵ لاکھ روپے نانک شاہی کی رقم جو انگریزوں نے ان پر تاوانِ جنگ ڈالا تھا، اس کی ادایگی کر کے ’بیع نامہ امرتسر‘ کے ذریعے کشمیر کا یہ صوبہ راجا گلاب سنگھ نے حاصل کیا۔ ۱۸۴۶ء سے ۱۹۴۷ء تک جموں کے ان نام نہاد ’ہیروز‘ کے اس خانوادے نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔ظلم کی اس سیاہ رات میں اصل خونیں بارش یہاں کے مسلمانوں پر برسی۔

دسمبر۲۰۱۴ء کے انتخابات کے بعد جب جموں و کشمیر میں ایک معلّق اسمبلی وجود میں آئی اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں آئی، تب دونوں کے درمیان طے ہوا تھاکہ: ’’ہندو قوم پرست بی جے پی بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت کشمیر کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو موضوع بحث نہیں بنا ئے گی‘‘۔ بظاہر  یہ وعدہ ایفاتو ہوا، مگر چور دروازے سے بی جے پی کی سرپرست تنظیم ’راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ‘   (آر ایس ایس) سے وابستہ ایک تھنک ٹینک نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی۔ جس میں دفعہ ۳۷۰ کے بدلے دفعہ ۳۵-اے کو نشانہ بنایا گیا، اور عدالت نے یہ پٹیشن [استدعا] سماعت کے لیے منظور بھی کرلی۔ اب حال ہی میں ایک اسپیشل بنچ قائم کر کے اس کی سماعت اگلے چند ہفتوں میں شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

دفعہ ۳۵-اے کے تحت جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے نوکری حاصل کرنے، ووٹ دینے اور غیرمنقولہ جایداد خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ اگر یہ دفعہ ختم کر دی گئی تو اس کے نتائج دفعہ۳۷۰ کے خاتمے سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ اگرچہ اسی طرح کی شقیں دیگر علاقوں یعنی: ناگالینڈ، میزورام، سکم، اروناچل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش اور گوا کو خاص اور منفردحیثیت عطا کرتی ہیں۔ وہاں بھی دیگربھارتی شہریوں کو غیرمنقولہ جایدادیں خریدنے پر پابندی عائد ہے یا اس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر مسلم دشمنی اور متعصب ذہنیت کے حامل افراد کو بھارتی آئین کی یہ شقیں نظر نہیں آتیں۔ اس پر ظلم یہ کہ بھارت کی مرکزی حکومت جو آئین کی محافظ اور نگران ہے، اس نے سپریم کورٹ میں آئین کی اس شق کا دفاع کرنے کے بجاے ’غیر جانب دار‘ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر عدلیہ اس شق کو منسوخ کرتی ہے، تو بھارتی حکومت دنیا کو یہ باور کروائے گی کہ: ’’یہ تو آزاد عدلیہ کا معاملہ ہے اور حکومت کا اس کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے‘‘۔ تاہم، سبھی رمزشناس یہ جانتے ہیں کہ دوسال تک اس پٹیشن کو التوا میں  رکھ کر بھارتی حکومت، جسٹس دیپک مشرا کے چیف جسٹس بننے کا انتظار کر رہی تھی۔ خدشہ تھا کہ   اگر اس پٹیشن کی سماعت اس سے قبل ہوتی تو حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس، جسٹس ایم کے کیہر اور ان کے پیش رو جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اس کومسترد کرسکتے تھے۔چند برس قبل دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک مذاکرے کے دوران موجودہ وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ: ’’کشمیر کا واحد مسئلہ اس کا مسلم اکثریتی کردار ہے اور بھارتی آئین میں اس کی خصوصی پوزیشن نے اس کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے‘‘۔ان کے مطابق: ’’کشمیر کی ترقی میں بھی یہ شق سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ بھارت کے دیگر علاقوں کے لوگ وہاں بس نہیں سکتے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی‘‘۔

یاد رہے کہ عشروں تک کشمیر میں خدمات انجام دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS) اور انڈین پولیس سروس (IPS) سے وابستہ غیر ریاستی افراد بھی ریٹائرمنٹ کے بعد، کشمیر سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بیوروکریٹک سروس اور فوج ہی دو ایسے ادارے ہیں، جن کے بارے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ بھارت کو متحدہ رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی صوبہ کیرالا کے کسی نوجوان کو سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب پنجاب کا کیڈر دیا جاتا ہے، تو باقی زندگی وہ عملاً پنجابی ہی کہلائے گا۔ اکثر اعلیٰ بیوروکریسی میں تعینات یہ نوجوان اپنے پیدایشی صوبے کو پس پشت ڈال کر، شادیاں اور رشتہ داریاں کیڈر والے صوبے میں ہی کرتے ہیں اور پھر ۳۰سال سے زائد عرصہ سروس میں رہنے کے بعد اسی صوبے میں ریٹائرڈ زندگی گزارتے ہیں۔

اگرچہ جیٹلی ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ’لبرل چہرے‘ کی سی شہرت رکھتے ہیں، مگر انھوں نے سوال اُٹھایا کہ: ’’آخر مسلمان جہاں بھی تھوڑی اکثریت میں ہوتے ہیں ، وہ اپنی شناخت کیوں الگ رکھنا چاہتے ہیں؟ حالاں کہ ان کی اوّلین شناخت بھارتیہ ہونا اور اس کے کلچر کو  ترجیح دینا ہونا چاہیے‘‘۔ ایک رپورٹر کی حیثیت سے مَیں اس مذاکرے میں سامع تھا، مگر میں نے جیٹلی صاحب کو یاد دلایا: ’’جناب، بھارتی آئین کی جن شقوں سے پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے، وہ ایک ہندو ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کی دین ہیں، جن کو بحال رکھنے کی گارنٹی دے کر ۱۹۴۷ء میں  شیخ محمدعبداللہ کو شیشے میں اُتارا گیا۔ وادیِ کشمیر میں پنڈت لیڈر شنکر لال کول اور جموں میں ڈوگرہ سبھا کی ایما پر ۱۹۲۷ء میں مہاراجا نے یہ قانون نافذ کیا تھا، جس کی رُو سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیرریاستی شخص، ریاستی حکومت میں نہ ملازمت کا حق دار ہوگا اور نہ غیرمنقولہ جایداد رکھنے کا مجاز ہوگا‘‘۔

تاریخ کے اَوراق پلٹتے ہی مَیں نے انھیں یہ بھی یاد دلانے کی کوشش کی کہ: ’’جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یا دیگر آزادی پسند تنظیموں کے منظرعام پر آنے سے بہت پہلے مئی ۱۹۴۷ء میں    آر ایس ایس کی ایما پر ہندو مہاسبھا کی ورکنگ کمیٹی نے، جموں میں بلائے گئے ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں پاس کی گئی قرارداد کے مطابق ایک ’ہندو اسٹیٹ‘ کو سیکولر بھارت کے ساتھ اپنی شناخت ضم نہیں کرنی چاہیے۔ وہ مہاراجا کو ہندو مفادات کا نگران تصور کرتے تھے۔ اُس وقت یہ پینترے بازیاں شاید اس وجہ سے ہورہی تھیں کہ ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں ہندو آبادی کے حقوق محفوظ کیے جائیں۔ تاریخ کے موڑ نے جب کشمیر کو بھارت کی جھولی میں گرا دیا تو شناخت اور حقوق کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں کی طرف پلٹ گیا‘‘۔

جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت نہ صرف فرقہ پرستوں بلکہ خود کو سیکولر کہلوانے والی سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے۔ فروری ۲۰۱۵ء کو جموں میں اپنی رہایش گاہ پر پی ڈی پی کے سرپرست اور سابق وزیراعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید سے ایک انٹرویو کے دوران میں نے بنیادی سوال پوچھا کہ: ’’کہیں بی جے پی کو اقتدار میں شریک کرواکے آپ کشمیریوں کے مصائب کی رات کو مزید تاریک کروانے کے مرتکب تو نہیں ہوں گے؟‘‘ جواب میں انھوں نے کہا کہ: ’’کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے حوالے سے بھارت کی دونوں قومی جماعتوں کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے‘‘۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعہ سنایا: ’’مارچ ۱۹۸۶ء میں جب مَیں ریاستی کانگریس کا سربراہ تھا اور مَیں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ غلام محمد شاہ کی حکومت سے حمایت واپس لی تھی، تو وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کی خواہش تھی کہ اگلے دو سال تک سری نگر میں کانگریس کو حکومت کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت سازی پر بات چیت کے لیے مجھے دہلی بلایا گیا۔ وزیراعظم ہائوس میں کیے گئے اجلاس میں کانگریس کے قومی کارگزار صدر ارجن سنگھ بھی شامل تھے۔ راجیوگاندھی نے ارجن سنگھ کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کانگریسی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد کیا ترجیحات ہونی چاہییں؟ ارجن سنگھ نے جواب دیا کہ پورا بھارت، جموں و کشمیر کے انڈین یونین میں مکمل انضمام کا خواہش مند ہے اور یہ عمل ۱۹۷۵ء کے بعد شیخ عبداللہ کے برسرِاقتدار آنے کے بعد رُک گیا تھا۔ اس عمل کو دوبارہ شروع کروانے اور منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور یہ ہماری حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا‘‘۔

اسی دوران راجیو گاندھی نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا کہ ’’گورنر ہائوس اور مفتی سعید سے رابطہ رکھ کر ان کی بطور کانگریسی وزیراعلیٰ، حلف برداری کی تقریب کا اس طرح تعین کریں کہ مَیں بھی جموں جاکر تقریب میں شامل ہوسکوں‘‘۔ مفتی سعید صاحب نے مزید کہا: ’’میں اس بات چیت سے انتہائی دل برداشتہ ہوگیا، اور واپس جموں پہنچ کر ایسی صورتِ حال پیدا کر دی کہ کانگریس کی حکومت سازی کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ پھر ایک سال بعد ’راجیو- فاروق ایکارڈ‘ کے نتیجے میں فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی‘‘۔

مفتی سعید نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ: ’’۱۹۵۳ء سے ۱۹۷۵ء تک کشمیر کی انفرادیت اور شناخت کو بُری طرح مسخ کیا گیا ہے اور ایک طرح سے کشمیریوں کی عزت و آبرو کو تارتار کر کے برہنہ کیا گیا ہے۔ بھارت کے آئین کی دفعہ ۳۷۰ کی موجودہ شکل تو اب صرف زیرجامہ بچا ہوا ہے۔ مین اسٹریم، یعنی بھارت نواز کشمیری پارٹیاں چاہے نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی، ان کا فرض ہے کہ اس زیرجامہ کو بچاکر رکھیں، جب تک کہ مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کی کوئی سبیل پیدا ہو‘‘۔

تاہم، یہ بات اب سری نگر میں زبان زد عام و خاص ہے کہ یہ وہ پی ڈی پی نہیں، جس نے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان دہلی کی روایتی کٹھ پُتلی حکومت کے بجاے ایک پُراعتماد اور کشمیری عوام کے مفادات اور ترجیحات کے ترجمان کے طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس سے قبل اقتدار کی شدید ہوس نے کشمیر کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی نیشنل کانفرنس کو بزدل بناکر رکھ دیا تھا۔ یہی حال اب کچھ پی ڈی پی کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے اس جماعت کا یہ محور بنا ہوا ہے کہ اقتدار کی نیلم پری پر دسترس کو کس طرح برقرار رکھا جائے؟

دفعہ ۳۵-اے دراصل بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کی ہی ایک توسیع اور توضیح ہے۔ معروف قانون دان اے جی نُورانی کے بقول: ’’آرٹیکل ۳۷۰ ، اگرچہ ایک عبوری انتظام تھا اور بھارتی حکومت کی ۶۰ کے عشرے تک یہ پالیسی تھی کہ جموں و کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ استصواب راے سے کیا جائے گا۔ ۱۹۴۸ءمیں جموں و کشمیر پر بھارتی حکومت کے ایک وائٹ پیپر میں سردار پٹیل کا  یہ بیان موجود ہے: ’’الحاق کو تسلیم کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسے بالکل عارضی مانتی ہے، جب تک کہ اس بارے میں ریاست کے لوگوں سے ان کی راے نہیں معلوم کی جائے گی‘‘۔ نُورانی کے بقول: ’’جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی، جن کا نام آرٹیکل ۳۷۰ کی مخالفت کرتے وقت بی جے پی اُچھالتی ہے، انھوں نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔ بی جے پی اس وقت کے وزیرداخلہ سردار پٹیل کا نام بھی اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتی ہے کہ انھوں نے اس مسئلے پر پنڈت جواہر لعل نہرو کی مخالفت کی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹیل نے بھی آئین کی اس دفعہ کی مکمل تائید کی تھی‘‘۔

اے جی نُورانی کا کہنا ہے کہ: ’’کشمیر واحد ریاست تھی جس نے الحاق کے لیے اپنی شرائط پر حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ وہ بھارت میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نے الحاق کیا تھا، اس لیے آرٹیکل ۳۷۰ دونوں کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے، جس کی کسی شق میں کوئی بھی فریق یک طرفہ ترمیم نہیں کرسکتا‘‘۔ نورانی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ: ’’این گوپال سوامی نے ۱۶؍اکتوبر ۱۹۴۹ء کو اس سلسلے میں پہلی خلاف ورزی اس وقت کی، جب انھوں نے یک طرفہ طور پر مسودے میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کی لابی میں حتمی شکل دی تھی۔ جیسے ہی شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ کو  اس تبدیلی کا علم ہوا وہ دونوں ایوان کی طرف دوڑے، لیکن تب تک یہ ترمیمی بل پاس ہوچکا تھا۔ اس طرح یہ ایک افسوس ناک اعتماد شکنی کا معاملہ تھا۔ اگر اصل مسودہ پاس کیا جاتا تو ۱۹۵۳ء میں  شیخ عبداللہ کو اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہ تھا۔ ۱۹۵۱ء میں کشمیر اسمبلی کے لیے جو انتخابات منعقد کیے گئے، ان سے بھارت کے جمہوری دعوئوں کی کشمیر میں قلعی تو اسی وقت کھل گئی تھی۔ انتخابی دھاندلیوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے گئے۔ تمام اُمیدوار ’بلامقابلہ‘ منتخب قرار پائے۔ یہ وہی اسمبلی تھی، جس نے ریاست کا دستور وضع کیا اور الحاق کے دستاویز کی توثیق کی تھی‘‘۔

خود اس اسمبلی کے جواز پر سوال کھڑا کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ۵ فی صد سے بھی کم لوگوں نے اس کی تشکیل میں اپنے حق راے دہی کا استعمال کیا تھا۔ یہ اسمبلی ریاست کا مستقبل اور اس کی حیثیت طے کرنے کے سلسلے میں دستورساز اسمبلی کا درجہ رکھتی تھی۔ کشمیر کی اس آئین ساز اسمبلی کی حقیقت اور حیثیت کی قلعی خود اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ بی این ملک نے یہ کہہ کر کھول دی:  ’’ان اُمیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا، جو حزبِ مخالف کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے‘‘۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ الحاق کی دستاویز کی توثیق اور کشمیر کے آئین کی منظوری کو کوئی عوامی تائید حاصل نہیں تھی۔ بہرحال پچھلے ۶۹برسوں میں بھارتی حکومتوں نے آرٹیکل ۳۷۰ کو اس بُری طرح سے مسخ کر دیا ہے کہ اس کااصلی چہرہ اب نظر ہی نہیں آتا۔ کئی مواقع پر خود کشمیری لیڈروں نے اپنی عزتِ نفس کا خیال نہ کرتے ہوئے ان آئینی خلاف ورزیوں کے لیے راہ ہموار کی۔ اگر ایک طرح سے یہ کہا جائے کہ آئین کی اس شق نے کشمیریوں کو سیاسی گرداب سے بچنے کے لیے جو کپڑے فراہم کیے تھے، وہ سب اُتر چکے ہیں اور اب صرف دفعہ۳۵-اے کی صورت میں ایک نیکر بچی رہ گئی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ فرقہ پرست عناصر اب اسی نیکر کو اُتارنے، کشمیریوں کی عزت نیلام کرنے اور ان کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے لیے ایک گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، جس کے لیے عدالتی نظام کا سہارا لیا جارہا ہے۔

عدالت میں یہ معاملہ لے جاکر آر ایس ایس نے جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کی تبدیلی کے حوالے سے اپنے مکروہ عزائم واضح کردیے ہیں۔ کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کا کہنا ہے: ’’سپریم کورٹ کی طرف سے اس پٹیشن کو شنوائی کے لیے منظور کرنا ہی باعث ِ حیرت ہے‘‘۔ اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا دُور کی بات ہے، فی الحال جس تیزرفتاری سے مودی سرکار اور اس کی ہم نوا ریاستی حکومت، کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے حوالے سے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے، اس کا توڑ کرنے میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی کے باضمیر افراد اور حُریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہ مملکت ہیں، جنھوں نے اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعلقات کی داغ بیل ۱۹۷۱ءکی بھارت-پاکستان جنگ کے دوران ہی پڑی تھی، البتہ حساس اداروں کے درمیان اشتراک ۱۹۵۳ء سے ہی جاری تھا، جب ممبئی میں اسرائیل کو قونصل خانہ کھولنے کی اجازت مل گئی تھی، مگر ان تعلقات میں سیاسی عنصر کی عدم موجودگی اسرائیل کو بُری طرح محسوس ہو رہی تھی۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سیکورٹی کے انچارج رامیشور ناتھ کائو (جو بعد میں خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ انالیسز وِنگ یعنی ’را‘ کے پہلے سربراہ بنے) نے ۵۰کے عشرے میں ہی افریقی ملک گھانا میں قیام کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے تھے۔باضابطہ سفارتی تعلقات کی پراو کیے بغیر ، ۱۹۷۱ءکی جنگ میں اسرائیل نے فوجی ماہرین کے ساتھ اسلحے کی ایک بڑی کھیپ بھارت روانہ کی۔ چوںکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھارتی فوجی آپریشن کی قیادت ایک یہودی افسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی، تب اسرائیلی وزیر اعظم گولڈ امیئر نے ایران جانے والے اسرائیلی اسلحے کے ایک بڑے ذخیرہ کوبھارت کی طرف موڑ دیا۔

حال ہی میں عام کی گئی دستاویزات کے مطابق، اگست ۱۹۷۱ء میں ’را‘ کے سربراہ کاؤ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مشیر پی این ہکسر کو لکھے ایک تفصیلی خط میں بتایا کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کو فوج اور مکتی باہنی کے گوریلا دستوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘‘۔یاد رہے جنرل جیکب کا پچھلے سال ہی انتقال ہوا ۔ اکثر نجی ملاقاتوں میں جنرل جیکب بتایا کرتے تھے کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کے بغیر مشرقی پاکستان میں آپریشن کی کامیابی ممکن نہ تھی‘‘۔ وہ اندرا گاندھی سے سخت ناراض تھے، کہ: ’’ایک تو اس نے مجھے فوجی سربراہ بننے نہیں دیا، اور دوسرا یہ کہ پاکستانی جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب کے لیے ایک سکھ افسر جنرل جگجیت سنگھ ارورا کو ڈھاکہ بھیجا، جب کہ ملٹری آپریشنز کی کمان میرے سپرد تھی‘‘۔ جنرل جیکب کے مطابق اندراگاندھی کو اسرائیل سے معاونت لینے میں کوئی لیت و لعل نہیں تھا، مگر اس ضمن میں وہ ایک یہودی افسر کی تشہیر نہیں چاہتی تھیں۔ انھیں اندیشہ تھا کہ پاکستان اس چیز کو عرب ممالک میں بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا تھا۔

۷۰ءکے عشرے کے اواخر تک دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا اشتراک اور محور پاکستان کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنا تھا۔ بھارت کے لیے تو پاکستانی ایٹمی پروگرام خطرہ تھا ہی، مگر اسرائیل اس کو ’اسلامی بم‘ سے تشبیہ دیتا تھا۔ فرانس کے اشتراک سے پاکستان میں ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کی خبر تو سبھی کو تھی،مگر چھن چھن کر یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ: ’’پاکستانی سائنس دان یورونیم کی افزودگی پر بھی کام کر رہے ہیں، مگر کہاں او ر اس کا پلانٹ کدھر ہے؟ یہ پتا نہیں چل رہا تھا‘‘۔ منصوبہ یہ تھاکہ پلانٹ کا پتا چلتے ہی ’موساد‘ بھارتی سرزمین سے فضائی کارروائی کرکے اس کو تباہ کردے گا، جیساکہ بعد میں ۱۹۸۱ء میں اس نے اسی طرح کا آپریشن کرکے عراقی ایٹمی ریکٹر کو تباہ کردیا تھا۔

’را‘ کے ذمے اس پاکستانی پلانٹ کا پتا لگانا تھا۔ جب کئی آپریشنز ناکام ہوگئے، تو بتایا جاتا ہے کہ بھارتی خفیہ اہل کاروں نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے حجاموں کی دکانوں سے بکھرے بالوں کے نمونے اکٹھے کرنے شروع کر دیے۔ ان کو ٹیسٹ ٹیوبوں میں محفوظ اور لیبل لگا کر بھارت بھیجا جاتا تھا، جہاں انتہائی باریک بینی سے ان میں جوہری مادہ یا تابکاری کی موجودگی کی جانچ ہوتی تھی۔ سالہا سال پر پھیلے اس آپریشن میں ایک دن ایک سیمپل میں یورینیم-۲۳۵  کی تابکاری کے ذرات پائے گئے۔ حالاں کہ یہ سیمپل اسلام آباد کے نواح میں کہوٹہ کے پاس ایک حجام کی دکان سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً ثابت ہوگیا کہ پاکستان ۹۰ فی صد افزودگی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے، جو بم بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ نیوکلیر پاور پلانٹ کے لیے ۴/۵فی صد افزودگی ہی کافی ہوتی ہے، مگر یہ خبر ہونے تک بھارت میں اندرا گاندھی حکومت سے بے دخل ہوگئی تھی۔

۱۹۷۷ء میں نئے بھارتی وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کے پاس جب ’را‘ کے افسران یہ منصوبہ لے کر پہنچے، تو انھوں نے نہ صرف اس کی منظوری دینے سے انکار کیا، بلکہ پاکستانی صدرجنرل محمدضیاء الحق کو فون کرکے بتایا کہ ’’بھارت کہوٹہ پلانٹ کی سرگرمیوں سے واقف ہے‘‘۔’را‘ نے ڈیسائی کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کیا کہ اس کے مطابق مرارجی ڈیسائی نے پاکستانی صدر کو یہ بتاکر ’را‘ کے ایجنٹوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔ اس کے بعد برسوں تک ’را‘ اس طرح کا نیٹ ورک پاکستان میں دوبارہ قائم نہیں کرسکا۔ پھر پاکستان نے کہوٹہ کو فضائی حملوں سے بھی محفوظ بنالیا۔

پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں جب بھارت اور امریکا کے درمیان ’سویلین جوہری معاہدے‘ کے خدو خال طے ہورہے تھے، تو واشنگٹن میں طاقت ور یہودی لابی کو اس کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے استنبول میں ملاقات کی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں قصوری صاحب نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ: ’’یہ میٹنگ کسی جیمز بانڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں تھی۔ ترکی میں اس وقت کے وزیر اعظم (اور موجودہ صدر) رجب طیب اردوان نے یہ میٹنگ طے کی تھی‘‘۔ قصوری صاحب کے مطابق: ’’میرا جہاز پاکستان سے لیبیا کے لیے روانہ ہوا، بعد میں مالٹاسے ہوتا ہوا استنبول میں اُترا۔ جہاز کو ایئرپورٹ کی بلڈنگ سے دُور لینڈنگ کی اجازت مل گئی، جہاں پر طیب اردوان کے ایک معتمد نے میرا استقبال کیا۔  اسی دوران پورے استنبول شہر کی بتیاں گل کر دی گئیں۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ پاور سپلائی میں خرابی آگئی ہے۔ گھپ اندھیرے میں پاکستانی اور اسرائیلی وزراے خارجہ کی میٹنگ ہوئی۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ خبر میڈیا تک پہنچ گئی، تو پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر قیامت آجائے گی۔ قصوری صاحب کے بقول: ’’یہ میٹنگ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ اسرائیل نے فوجی اور دیگر ٹکنالوجی دینے کی پیش کش کی،مگر مَیں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتے، جب تک وہ مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے اُردن کے شاہ عبداللہ کے فارمولے کو تسلیم نہیں کرتا‘‘۔

اسرائیلوں کا کہنا ہے: ’’جب عرب ممالک اس کے ساتھ رشتے بنا سکتے ہیں، تو باقی ممالک کو آخر کیوں اعتراض ہے؟ تل ابیب سے ۱۵کلومیٹر دور سوریک کا سمند ر سے صاف پانی کشید کرنے کا پلانٹ ہی اردن کو پانی مہیا کرتا ہے۔ مصر صحراے سینا میں سیکورٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل سے اشتراک کر رہا ہے۔گوکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، مگر کچھ عرصے سے خبریں گشت کر رہی ہیں کہ پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان سلسلہ جنبانی جاری ہے۔ اور یہ خبر عام ہے کہ سعودی حکومت بطور خادمِ حرمین، قبلہ اوّل کی خدمت کا ذمہ لینا چاہتی ہے (یاد رہے اس وقت مسجد اقصیٰ کی خدمت اُردن کے محکمہ اوقاف کے تحت ہے)۔

اب سوال یہ ہے، کہ آخر مودی کے اسرائیل دورے سے اس خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ وہ بھارت کے ایسے پہلے سیاسی لیڈرہیں، جو اس دورے کے دوران فلسطینی لیڈروں سے نہیں ملے۔ ماضی میں چاہے بھارتی وزیرداخلہ لال کشن ایڈوانی ہو یا بھارتی صدر پرناب مکرجی، سبھی اسرائیلی دورے کے دوران فلسطینی علاقوں میں بھی جاتے تھے۔ بھارت اور چین نے تقریباً ایک ہی سال، یعنی۱۹۹۲ء میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔ دونوں ممالک کو اسرائیل سے دفاعی ٹکنالوجی درکار تھی، جو انھیں امریکا براہِ راست فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ اگر موجودہ عالمی صورت حال کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بھی اس وقت بھارت کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں اسرائیل کا قد خاصا چھوٹا ہے۔ فلسطینیوں پر اس کے مظالم کی آوازیں یو رپی شہروں میں اب واضح طور پر سنائی دے رہی ہیں۔ ایسے وقت، عالمی اداروں میں اسرائیل کو سیاسی اور سفارتی دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ پھر اسلحے کی خریداری میں بھارت، اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور یوں اس کی اقتصادیات کا ایک بڑا سہارا ہے۔

اسرائیل میں طرزِ زندگی خاصا مہنگا ہے۔ یورپی ممالک اسرائیل سے اس لیے بھی خار کھائے ہوئے ہیں، کہ وہ ’القاعدہ‘ اور ’داعش‘ (ISIS) کو لگام دینے میں اتنی مستعدی نہیں دکھا رہا ، جتنا کہ ’حماس‘ یا ’حزب اللہ‘ کے خلاف اس کی ایجنسیاں برسر پیکار ہیں۔ جب یہی سوال میں نے دہلی میں اسرائیلی سفیر ڈینیل کارمون سے کیا تو موصوف کا برجستہ جواب تھا: ’’ان کی مستعدی ان تنظیموں کے خلاف ہے، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ دو سال قبل یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا علاج ایک اسرائیلی ہسپتال میں چل رہا تھا۔میں نے اس حوالے سے جب اسرائیلی سفیر سے استفسار کیا ، تو ان کا گو ل مول جواب تھا کہ: ’’ہمارا ملک ڈاکٹری اصولوں کے مطابق کسی بھی زخمی یا بیمار شخص کے علاج کا پابند ہے، جو سرحد عبور کرکے اسرائیل کی پناہ میں آیا ہو‘‘۔ تاہم، اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوسکتا کہ: ’’کیا     یہ ڈاکٹری اصول حزب اللہ یا حماس کے زخمیوں پر بھی لاگو ہوگا؟‘‘

بھارت اور اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ایک اور بحث کشمیر پر اس کے اثرات کی مناسبت سے زبانِ زد خاص و عام ہے۔ بھارت میں سخت گیر عناصر کشمیر میں اسرائیلی طرز اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں حالات انتہائی خراب تھے۔ اسی دوران بھارت کے سینر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا موقع ملا۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر ڈیوڈ رائزنر بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں اہم عہدے دار رہ چکے تھے، لبنان کی جنگ میں ایک بریگیڈ کی کمان بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ ’انتفاضہ‘ [’حماس‘ کی عوامی تحریکِ آزادی] کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان رہ چکے تھے، اس لیے بھارتی صحافی ان سے یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آخر وہ غیرمسلح فلسطینی مظاہرین سے کیسے نمٹتے ہیں؟ ڈیوڈ رائزنر نے کہا:’’ ۱۹۸۷ء کے ’انتفاضہ‘ کے دوران ہماری فوج اور پولیس نے پوائنٹ ۴ کے پیلٹ گن استعمال کیے تھے، مگر اس کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد  ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان ہتھیاروں کی کھیپ اسلحہ خانے میں زنگ کھا رہی تھی ۔ جس کمپنی نے یہ ہتھیار بنائے، اس نے حکومت کو پیش کش کی تھی کہ وہ پوائنٹ ۹ کے پیلٹ سپلائی کرے گی، جو نسبتاً کم خطرناک ہوں گے، مگر اس وقت تک اسرائیلی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا‘‘۔ رائزنر نے تسلیم کیا کہ مسلح جنگجوؤں کے برعکس مظاہرین سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب عالمی میڈیا اس کی رپورٹنگ بھی کر رہا ہو‘‘۔

 حیرت کی بات ہے کہ ہمارے دورے کے چند ماہ بعد ہی یہ ہتھیا ر،جو اسرائیل کے اسلحہ خانوں میں زنگ آلود ہو رہے تھے،کشمیر میں استعمال کرنے کے لیے بھارت کی وزارت داخلہ نے درآمد کر لیے۔ اور لائسنس ایگریمنٹ کے تحت خود بھارت کے دفاعی ادارے اب یہ تیار کرتے ہیں۔ ڈیوڈ رائزنرنے بتایا تھا کہ : ’’ہم نے ربر سے لپٹی ہوئی اسٹیل کی گولیوں اور بے ہوش کرنے والی گیس کا بھی تجربہ کیا تھا، مگر نشانہ بننے والے بچوں پر ان کے مہلک اثرات کے سبب ان پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ بھارت میں پیلٹ گنوں کے بعد اب یہ دونوں ہتھیارکشمیر میں استعمال ہورہے ہیں‘‘۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات ’بھارتی فوج کے افسروں کے کارنامے‘ سنانے شروع کیے۔ اس نے کہا: ’’بھارتی افسر اس بات پر سخت بے زاری کا اظہار کرتے ہیں کہ:’’ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیر مسلح کی تفریق کیوں کی جائے؟ حال ہی میں اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے ایک بھارتی جنرل نے مجھ کو بتایا کہ کشمیر میں ہم پوری آبادی کوگھیرکرگھروں میں گھس کر تلاشی لیتے ہیں، کیوںکہ    ان کے لیے کشمیر کا ہردروازہ دہشت گردکی پناہ گاہ ہے‘‘۔ ڈیوڈ رائزنر نے سلسلۂ کلام جوڑتےہوئے کہا: ’’ہم نے بھارتی جنرل کو جواب دیا کہ اسرائیل پوری دنیا میں بدنام سہی، مگر اس طرح کے آپریشن اور وہ بھی بغیر کسی انٹیلی جنس کے، ہماری جوابی کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں‘‘۔ یاد رہے رائزنر، اسرائیلی وزیراعظم یہود برک کے اس وفد کے بھی رکن تھے، جس نے کیمپ ڈیوڈ میں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ جولائی ۲۰۰۰ء میں گفت و شنید کی تھی۔

مارچ۲۰۱۶ءمیں ایک اسرائیلی سپاہی ایلور ارزانیہ نے زمین پر گرے ایک فلسطینی زخمی شخص کے سرکو نشانہ بناکر ہلاک کردیا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ شخص ان پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا تھا اور اس کی شناخت ایک دہشت گرد کے طور پر کی گئی تھی، مگر ارزانیہ پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلا اور اس کو ۱۸ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر پورے اسرائیل میں دائیں بازو کی جماعتوں نے ہاہا کار مچادی، کہ ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کے الزام میں فوجی کو کس طرح سزا ہوسکتی ہے۔ اس ہا ہا کار میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی شریک تھے، مگر اسرائیلی فوج نے عوامی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ صرف یہ باورکرانا ہے کہ کشمیرکس حد تک عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر ناقص ابلاغِ عامہ (under reporting) کا شکار رہا ہے اور فوجی مظالم کی تشہیرکس قدر کم ہوئی ہے۔ ڈیوڈ رائزنرنے جنرل کا نام تو نہیں بتایا مگر کہا کہ: ’’ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا تھا کہ : عسکری اور غیرعسکری میں تفریق نہ کرکے آپ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں‘‘۔

بھارت میں شہریانِ کشمیر پہ ڈھائے جانے والے مظالم پر، مظلوموں کی اَشک شوئی اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے چاروناچار کمیشن بنتے ہیں۔ مگر کمیشنوں کا کھیل دیکھنے کے لیے تاریخ کا یہ ورق ملاحظہ فرمایئے۔ ادارہ

یوں تو پچھلے کئی عشروں سے کشمیر کی ہرگلی میں آگ اور خون کی داستانیں رقم ہورہی ہیں، مگر ۶جنوری ۱۹۹۳ء کا دن ریاست کے تجارتی مرکز سوپور کے لیے قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا۔ بھارت کی نیم فوجی تنظیم بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کی ۹۴ویں بٹالین جو قصبے میں تعینات تھی، اس نے شہر کے مرکز میں آگ و خون کی ہولی کھیل کر ۶۰معصوم افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا،  کئی افراد کو زندہ جلایا، جب کہ ۳۰۰ سے زائد رہایشی اور تجارتی عمارات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔

کشمیر کے لیے سوپور کی وہی اہمیت رہی ہے، جو بھارت کے لیے ممبئی یا پاکستان کے لیے کراچی کی ہے۔ یہ نہ صرف شمالی کشمیر کے لیے راہداری ہے، بلکہ ریاست کے اکثر متمول گھرانوں اور معروف کاروباری شخصیات کا تعلق بھی اسی قصبہ سے رہا ہے۔ جب آس پاس کی زمینیں زرخیز ہوں اور باشندوں کی گھٹی میں تجارتی فراست اور محنت شامل ہو، تو اس علاقے کا فی کس آمدنی کی شرح میں اوّل آنا لازمی تھا۔ اسی لیے سوپور کو ’چھوٹا لندن‘ کی عرفیت اور اعلیٰ سیبوں کے مرکز کے نام سے بھی یاد کیا جاتا رہا ہے۔

۱۹۸۹ء کے اواخر میں جب بھارتی حکومت نے جگ موہن کو گورنر بنا کر بھیجا تاکہ عسکری تحریک، جو ابھی ابتدا میں ہی تھی کو لگام دی جاسکے۔ جگ موہن کی تجویز تھی کہ سب سے پہلے آزادی پسند حلقوں اور تحریک ِ کشمیر کو ملنے والی مالی اعانت کی روک تھام ہونی چاہیے۔ جگ موہن جو بعد میں مرکز میں وزیر بھی رہے، انھوں نے اس سلسلے میں خاص طور پر سوپور کی نشان دہی کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر سوپور میں تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جائے یا ان کی کڑی نگرانی کی جائے تو یہ قصبہ تحریک کی مالی معاونت کے قابل نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں جگ موہن نے بھارتی وزارتِ داخلہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ دہلی میں آزادپور فروٹ منڈی کے آڑھتیوں کو قائل کیا جائے کہ وہ اس علاقے سے سیبوں کی خرید بند یا کم کردیں۔

چندماہ گزرے تو میرواعظ مولوی محمد فاروق کی ہلاکت اور ان کے جنازے پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد حکومت نے جگ موہن کو معزول کرکے ان کی جگہ انٹیلی جنس کے ایک گھاگ افسر گریش چندر سکسینہ کو بطور گورنر بھیجا۔ مگر حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ نئے گورنر نے کم و بیش اپنے پیش رو کی پالیسی کو برقرار رکھا۔ دہلی میں پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ اگر سیاسی آگہی کے  اس مرکز کو صدیوں پہلے چانکیہ کی تجویز کی ہوئی پالیسی: سام (گفتگو)، دھام (لالچ)، ڈھنڈ (سزا) اور بھید (بلیک میل) سے قابو کرلیا جائے ، تو بقیہ ریاست سے بھی تحریک کا آسانی سے صفایا ہوسکتا ہے۔ ۶جنوری ۱۹۹۳ء کا قتل عام اسی کی ایک کڑی تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اس ہولناک دن یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں۔ آسمان اَبرآلود تھا، گویا کسی غیریقینی صورتِ حال کی عکاسی کر رہا تھا۔ صبح ساڑھے دس بجے مرکزی چوک کی ایک گلی میں تعینات بی ایس ایف کے اہلکار پر جنگجوئوں نے حملہ کرکے اسے ہلاک کر دیا اور اس کی رائفل بھی چھین لی۔ بس پھر کیا تھا، قصبے میں تعینات بی ایس ایف کے اہلکاروں کی بندوقوں نے ہرگلی، ہرنکڑ، ہر چوراہے اور ہرسڑک پر آگ برسانی شروع کی۔ دکان دار اپنی دکانوں میں پھنس کر رہ گئے۔ پورے قصبے میں اتھل پتھل مچ گئی اور لوگ چیخ پکار کرکے اپنی جان بچانے کی کوشش کرنے لگے۔

اس وقت بانڈی پورہ جانے والی ایک مسافر بس وہاں سے گزر رہی تھی۔ یہ بس مسافروں کے لیے تابوت بن گئی۔ جموں و کشمیر سول سوسائٹی کے ذریعے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق ،   اس واقعے سے کئی روز قبل  نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن عبدالاحد کنجوال کے گھر جاکر چند فوجیوں نے ان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس علاقے سے ہجرت کرجائیں، جس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ قتلِ عام کی پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلی گئی تھی اور یہ فقط ایک سپاہی کی ہلاکت سے پیدا شدہ وقتی اشتعال نہیں تھا۔

پورے قصبے میں آگ لگانے کی یہ ہولناک کارروائی پورے چار گھنٹے جاری رہی۔  بانڈی پورہ سے آنے والی موٹرکار میں ایک فیملی سفر کر رہی تھی، ایک اہلکار نے ان کے شیرخوار بچے کو ہوا میں لہرا کر آگ کے حوالے کر دیا، بقیہ افراد کو بھی گولیوں سے نشانہ بنا کر تڑپتے ہوئے آگ میں دھکیل دیا۔ اس خونیں رقص کے بعد معلوم ہوا کہ کئی سو دکانیں ، عمارتیں اور مال سے بھرے ہوئے سیکڑوں گودام اور زنانہ کالج مکمل طور پر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

آگ اور خون کی اس ہولی کے اگلے روز بی ایس ایف کے اس وقت کے سربراہ پرکاش سنگھ قصبہ میں وارد ہوئے اور معززین شہر کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ قتل گاہ کا معائنہ کرتے ہوئے اس نے پنجابی میں اہلکاروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ: ’’کس پنجابی شیر نے بازو آزمانے میں پوری کسر نکال دی ہے؟‘‘۔ ایک اوباش لڑکے نے فخراً بتایا کہ میں نے کئی افراد کو ہلاک کیا ہے۔ پرکاش سنگھ نے سب کے سامنے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ قرونِ وسطیٰ کی وہ تاریخ شاید دہرائی جارہی تھی،  جب منگول حکمران چنگیز خان جنگ کے میدان کا معائنہ کرتے ہوئے لاشوں کے انبار اور کھوپڑیوں کے مینار دیکھ کر جرنیلوں کو شاباشی دیتا تھا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پرکاش سنگھ آج بھارت میں پولیس میں اصلاحات اور فورسز میں انسانی حقوق کے تئیں بیداری لانے کے بڑے نقیب ہیں۔

کئی روز بعد دلّی سے مرکزی وزرا مکھن لال فوطیدار، غلام نبی آزاد، مرحوم غلام رسول کی معیت میں وارد ہوئے اور ہرممکن امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن سوپور کے باشندوں نے حکومتی امداد قبول نہیں کی، بلکہ عوامی سطح پر جو ریلیف جمع کیا گیا تھا، وہی متاثرین میں تقسیم ہوا۔ انشورنس کمپنیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ جس کے بعد ا س وقت کے مرکزی وزیرخزانہ اور سابق وزیراعظم   من موہن سنگھ کی مداخلت کے بعد انشورنس کمپنیوں نے معاوضہ واگزار کرنے کا یقین دلایا، تاہم یہ وعدہ بھی کبھی ایفا نہ ہوسکا۔ مقامی تجارتی انجمن نے عدالت سے رجوع کرکے انشورنس کمپنیوں سے معاوضہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی مگر اس میدان میں چند ہی دکان دار خوش نصیب نکلے۔

عوامی دبائو کے تحت حکومت نے ۹۴بٹالین بی ایس ایف کے کمانڈنٹ کو پانچ دیگر اہلکاروں سمیت معطل کیا۔ ۹جنوری کو واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات بھی صادر کیے گئے اور ۳۰جنوری کو جسٹس امرسنگھ چودھری کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا گیا۔ اس تحقیقاتی عمل کو کبھی آگے بڑھایا نہ جاسکا، بلکہ دو سال گزرجانے کے بعد کمیشن کو تحلیل کر دیا گیا۔ محکمہ قانون، جسٹس چودھری کو مسلسل لکھتا آیا کہ وہ ریاست بالخصوص سری نگر کا گرمیوں میں دورہ کریں تاکہ گواہ جن میں سینیرافسران شامل ہیں، ان کے بیانات قلم بند کیے جاسکیں۔ مگر کمیشن سری نگر آنے سے گریزاں رہا، تاہم جموں آنے پر آمادگی ظاہر کی اور گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے لیے ۱۵سے۱۷دسمبر ۱۹۹۳ء کا وقت دیا۔ کمیشن کی میعاد جو پہلےہی ختم ہوچکی تھی، ۳۰جنوری ۱۹۹۴ء تک بڑھادی گئی۔ کمیشن کی میعاد بڑھتے ہی جسٹس چودھری نے مجوزہ دورہ پھر منسوخ کر دیا اور اطلاع دی کہ سماعت کی اگلی تاریخ سے ریاستی حکومت کو مطلع کیا جائے گا۔ اس کے بعد کمیشن نے مطلع کیا کہ وہ اپنی کارروائی ۲۱ سے ۲۵مارچ تک جموں میں چلائے گا اور خواہش ظاہر کی کہ گواہوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے علاوہ کمیشن کے عملے کی سیکورٹی کا معقول بندوبست کیاجائے گا، لیکن یہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا اور اطلاع دی گئی کہ اب وہ سماعت مارچ ۱۹۹۴ء کے دوسرے ہفتے میں کرے گا۔ وہ اس کے بعد بھی وعدے سے مکر گیا اور یوں اپریل ۱۹۹۴ء میں کمیشن کی میعاد پھر ختم ہوگئی۔

ریاستی چیف سیکرٹری بی کے گوسوامی نے فائل میں اپنے تاثرات کچھ یوں لکھے: ’’ہمیں یہ ڈراما ختم کرنا چاہیے، گذشتہ ۱۵ماہ سے کوئی سماعت نہیں ہوئی ا ور ۱۸؍اپریل ۱۹۹۵ء کو مرکز کے داخلہ سیکرٹری کے پدمنا بھیا کو لکھا: ’’کمیشن کی جانب سے جموں میں سماعت کا انعقاد عوامی مفاد میں پہلے ہی نہیں تھا لیکن اس کے بعد کمیشن کا رویہ سراسر حوصلہ شکن رہا اور تین ماہ میں انکوائری مکمل نہ کرنے سے لوگوں میں حکومت کے اعتبار کو شدید صدمہ پہنچا ہے‘‘۔ گوسوامی نے پدمنا بھیا کے نام مزید لکھا کہ کمیشن کے قیام کا چوں کہ مقصد ہی فوت ہوچکا ہے اس لیے اب اسے تحلیل کر دینا چاہیے‘‘۔ اس مکتوب کے بعد مذکورہ کمیشن کا باب بند کر دیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ بعد میں ایک سب انسپکٹر اور دواسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو معطل کیا گیا جب کہ ۹۴بٹالین کو سوپور سے تبدیل کرکے پلوامہ تعینات کیا گیا، جہاں انھوں نے پہنچتے ہی لوگوں کو سوپور سانحے جیسے انجام کی دھمکیاں دیں، جس کے کچھ عرصے بعد انھیں راجستھان منتقل کر دیا گیا۔ اس سانحے سے متعلق دو کیس پولیس اسٹیشن سوپور میں درج کیے گئے تھے اور وہاں سے ۲۳جنوری کو انھیں تحقیقات کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسی کو سونپا گیا۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق: دورانِ تحقیقات عینی گواہوں اور مقامی لوگوں کے بیانات لینے کی ازخود کوشش کی، تاہم کسی زخمی یا کسی گواہ نے بی ایس ایف اہلکاروں کی شناخت نہیں کی اور نہ مطلوبہ معلومات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں اس سانحے میں ملوث لوگوں کی نشان دہی ناممکن بن گئی اور یہ پتا نہ چل سکا کہ کس نے  عام لوگوں کی جان لی اور آتش زدگی کے لیے کون ذمہ دار ہے‘‘۔ مزید لکھا: ۹۴بٹالین بی ایس ایف کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی تحقیقات کے سلسلے میں بھی حملہ آوروں کی شناخت نہ ہوسکی کہ جس سے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس سانحہ کے دوران کس نے پہلے فائرنگ کی تھی‘‘۔

یوں کیس لٹکتا ہی رہا اور انصاف کا خون ہوتا رہا۔ حکومت کے اس رویے کی وجہ سے سوپور کے مکین ۲۴برس بعد انصاف کی تمام اُمیدیں کھو بیٹھے ہیں۔ تقریباً چوتھائی صدی بیت گئی ہے،   مگر دل پر لگے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ جب تک بھارت اور پاکستان وجۂ نزاع معاملات کا حل تلاش نہیں کرتے، اور خطے میں پاے دار امن و خوش حالی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرتے، تب تک سوپور جیسے قتل عام ہوتے رہیں گے اور ایسے زخم ہرے ہوتے رہیں گے۔

یہ حقیقت بہرحال تسلیم کرنا پڑے گی کہ ان تمام اَلمیوں کا ماخذ کشمیر کا حل طلب مسئلہ ہے۔ لہٰذا، بہتری اسی میں ہے کہ حقائق سے انکار کے بجاے اس مسئلے کے حل کی سبیل کی جائے۔ کوئی ایسا حل جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، تاکہ برعظیم میں امن و خوش حالی کے دن لوٹ سکیں۔ سوپور کے شہیدوں کے لیے بھی یہ ایک طرح سے خراجِ عقیدت ہوگا۔ اس حیات پرور اور زندہ دلوں کی بستی کی رونقیں بھی لوٹ آئیں گی۔