پروفیسر خورشید احمد


۱۱مئی بھی ہماری زندگیوں میں ایک یادگار دن بن گیا!

اچھی زندگی پر رشک تو زمانے کا چلن ہے لیکن کامیاب زندگی وہ ہے جس کا اختتام اس موت پر ہو جس پر ہر صاحب ِ دل بے ساختہ رشک کرے__!!

میرے عزیز بھائی مطیع الرحمن نظامی کی شہادت ایک ایسی ہی یادگار موت بن گئی ہے جس نے ان کو بہترین انسانوں کے اس قافلے کا شریکِ سفر بنا دیا ہے جس میں ہمیشہ زندہ رہنے والے ہی سرگرم اور سرفراز رہیں گے۔

جس وقت ان کا جسد ِ خاکی بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے قصبے پبنہ میں، جو ان کا مولد ہے، سپردِ خاک کیا جارہا تھا اور اس بستی میں کرفیو کی کیفیت کے باوجود ہزاروں افراد شریکِ جنازہ تھے اور ان کے لیے مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعائیں کر رہے تھے، تو ان دعائوں کی بازگشت بیت اللہ اور مسجد نبویؐ سے لے کر استنبول، نیویارک، سری نگر، دہلی، اسلام آباد، لاہور، لندن، ٹوکیو اور  مشرق و مغرب کے بیسیوں مقامات پر سنی جاسکتی تھی۔ جہاں ایسے ہزاروں افراد کی آنکھیں اَشک بار لیکن زبانیں مصروفِ دعا تھیں جن کی اکثریت نے زندگی میں کبھی ان کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی    ؎

ہے رشک ایک خلق کو جوہرؔ کی موت پر

یہ اس کی دین ہے، جسے پروردگار دے

مطیع الرحمن نظامی نے اللہ کی بندگی ، اس کے دین کی وفاداری، اور اسلام کی دعوت اور تحریک ِ اسلامی کی سربلندی کا جو عہد اپنے رب سے نوجوانی کے آغاز میں کیا تھا، اسے آخری لمحے تک صبرواستقامت کے ساتھ نبھایا، اللہ کی نافرمانی اور طاغوت سے سمجھوتے کے ہر دام سے اپنا دامن بچاتے ہوئے صرف اپنے خالق کی رضا کے حصول اور اس کے فیصلے پر اعتماد اور شکر کا راستہ اختیار کیا اور آخری چال ’رحم کی اپیل‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اس طرح    اللہ سے اپنے عہد کو سچا کر دکھایا:

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ز وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo(احزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

برادرم مطیع الرحمن نظامی نے اللہ پر بھروسا اور صرف اس کی خوشنودی کی طلب اور اپنے اہلِ خانہ کے جذبے اور عزم کے ساتھ تمام تحریکی رفقا اور ساتھیوں کے لیے اور تمام ہی اہلِ وطن کے لیے صبرواستقامت اور راہِ حق سے وفاداری کی وصیت کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے کی طرف جس اعتماد اور شوق کے ساتھ پیش قدمی کی، اس کا تصور ایمان افروز ہی نہیں بے ساختہ دل سے یہ پکار نکالنے کا وسیلہ بھی بنتا ہے کہ نئی زندگی میں فرشتوں نے بھی اسی شوق اور انبساط سے ان کا استقبال کیا ہوگا:

یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o (الفجر۸۹: ۲۷-۳۰) اے نفس مطمئنہ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔

میرے لیے مطیع الرحمن چھوٹے بھائی کے مانند تھے۔ پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ۱۹۶۵ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن بنے۔ البتہ خرم بھائی ان کا ذکر اس سے پہلے کرچکے تھے۔ جن افراد کا خرم بھائی سے خصوصی تعلق تھا، ان میں مطیع الرحمن نمایاں تھے۔  اسلامی جمعیت طلبہ میں شرکت سے بھی پہلے انھی کے ایما پر انھوں نے جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ پروفیسر غلام اعظم اور مطیع الرحمن نظامی دونوں ہی کا خرم بھائی سے بہت گہرا تعلق تھا اور مجھے بھی دونوں سے خصوصی تعلق رہا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، دونوں نے اپنے اپنے انداز میں جو مثال قائم کی ہے، وہ مدتوں تحریک ِ اسلامی اور اُمت مسلمہ کے لیے روشن چراغ کی مانند رہے گی۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب سے میرے تعلقات تقریباً ۶۰برس اور مطیع الرحمن نظامی سے ۵۰برس پر پھیلے ہوئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دونوں کو اچھا انسان ، تحریک ِ اسلامی کا مخلص اور صاحب ِ بصیرت، خادم و قائد، وفادارپاکستانی اور دل و جان سے بنگلہ دیش کی خدمت اور ترقی اور اسلامی تشکیل و تعمیر کے لیے جان اور مال کی بازی لگادینے والا پایا۔

پروفیسر غلام اعظم ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک جماعت اسلامی مشرقی پاکستان اور پھر ۱۹۷۸ء سے ۲۰۰۰ء تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر رہے اور مطیع الرحمن بھائی ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۶ء تک امارت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ میں اس تاریخی حقیقت کو پوری دیانت اور پوری قوت سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح وہ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے وفادار تھے اور ان کی پوری کوشش تھی کہ جس بنیاد پر پاکستان قائم ہوا اور جو اس کی اصل پہچان ہے، اس کی حفاظت کے لیے وہ سردھڑ کی بازی لگاد یں، اسی طرح جب بنگلہ دیش قائم ہوگیا تو پھر دل کی گہرائیوں سے انھوں نے اسی جذبے کے ساتھ اس کی آزادی، ترقی اور اسلامی تشکیل کے لیے اپنا سب کچھ لگادیا۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب ۱۹۷۲ء کی اس مرکزی شوریٰ میں شریک تھے جس میں مولانا مودودیؒ نے امارت سے فارغ ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور پھر جماعت میں یہ طریقِ انتخاب رائج ہوا کہ شوریٰ امارت کے لیے تین نام تجویز کرتی ہے اور ارکان ان تینوں میں سے کسی ایک کو، یا جسے   وہ مناسب سمجھیں اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ میں کوئی راز فاش نہیں کر رہا ہوں لیکن اسی وقت جو تین نام آئے تھے، ان میں سرفہرست پروفیسر غلام اعظم ہی کا نام تھا اور اغلب تھا کہ وہ امیرجماعت منتخب ہوں لیکن پروفیسر صاحب نے جن الفاظ میں معذرت کی وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ  میرا مرنا اور جینا پاکستان کے لیے تھا لیکن اب زمینی حقائق کی روشنی میں میرا اصل میدانِ کار بنگلہ دیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے چند ماہ بعد ہی مشرق وسطیٰ اور پھر انگلستان منتقل ہوگئے اور بنگلہ دیش کے تحریکی معاملات سے اپنے کو وابستہ کرلیا۔ بالآخر ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش آگئے۔ اپنی شہریت کے لیے قانونی اور سیاسی جنگ مردانہ وار لڑی اور بالآخر ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ان کی شہریت بحال کی گئی۔

جسٹس انوار چودھری نے اپنے فیصلے میں پروفیسر صاحب کے بنگلہ دیش سے وفاداری کے تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

درخواست گزار کا ایک طرزِ عمل بالکل واضح دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ بنگلہ دیش کی شہریت کے بغیر تقریباً ایک بے ریاست فردتھے، اور ایک بحرانی لمحے سے گزر رہے تھے، نہ وہ پاکستان گئے اور نہ پاکستان کا انتخاب کیا، جب کہ وہ ایسا کرسکتے تھے جیساکہ دیگر نااہل (disqualified)افراد نے کیا۔ یہ طرزِعمل اور ان کا یہ ارادہ کہ ایک بنگلہ دیشی  کی حیثیت سے انھیں شناخت کیا جائے، اصل ڈومیسائل سے محض رہایشی ہونے کے مقابلے میں زیادہ متعلق ہے۔ (بحوالہ جسٹس انوارالحق چودھری، قطعی فیصلہ دیتے ہوئے ۱۰۳، ۱۰۴ اور ۱۲۲ رٹ پٹیشن نمبر ۱۲۱۶)

جنگی جرائم کے الزام کی حقیقت

اس امر کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے وفاداری، اس کے تحفظ کی جدوجہد اور آخری لمحے تک جدوجہد ایک چیز ہے، اور زمینی حقائق کے نتیجے میں سیاسی نقشے کی تبدیلی کے بعد نئی مملکت سے تعلق اور وفاداری ایک دوسری شے۔ اول الذکر کو دوسرے پہلو سے دشمنی یا مخالفت کی دلیل بنانا، بدنیتی اور خلط مبحث ہی نہیں، تاریخی حقائق کا بھی مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کانگریس، خدائی خدمت گار، احرار اور جمعیت علماے ہند نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان کے قیام کے بعد جب انھوں نے پاکستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تو وہ قومی زندگی کا حصہ بن گئے اور کانگریس کے ارکان نے پارلیمنٹ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کی پوری قیادت نے پاکستان کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی مگر تقسیم کے بعد ہندستان کا حصہ بننے والے علاقوں کی مسلم لیگ کی قیادت بھارت کی وفادار شہری بنی اور پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اپنا کردار ادا کرنے لگی۔ یہی معاملہ ان ۱۵۰ سے زیادہ ممالک کی سیاسی قوتوں کے بارے میں رہا جنھوں نے تحریکاتِ آزادی میں حصہ لیا تھا یا اس کا مقابلہ کیا تھا لیکن آزادی کے بعد آزادی سے پہلے کی سیاسی صف بندیوں کو قصۂ ماضی بناکر نئے دروبست میں نیا کردار ادا کیا۔

مجھے خوشی ہے کہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کے فیصلے پر بحث کرتے ہوئے اس نکتے کو واضح کردیا ہے اور بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے کے دور کے    سیاسی موقف اور جنگ کے دوران یا اس کے بعد انسانی جان، مال اور عزت کے باب میں جرائم کو     دوالگ الگ ایشوز تسلیم کیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے میں جہاں پروفیسر صاحب کے بارے میں یہ بات صاف الفاظ میں کہی گئی ہے کہ ۱۹۷۱ء تک پاکستان سے وفادار ہونے، ۱۹۷۱ء کے بعد بنگلہ دیش سے باہر رہنے، ۱۹۷۳ء میں ان کو شہریت سے محروم کردینے اور ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش واپس آکر شہریت سے محرومی کے علی الرغم بنگلہ دیش میں رہنے سے ان کے حقِ شہریت اور بنگلہ دیش کی آزاد مملکت سے وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ رہا معاملہ جنگی جرائم یا کسی دوسرے پہلو سے کسی ایسے جرم کا جسے وارکرائم یا Collaborators Act میں جرم قرار دیا گیا ہو تو ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک بھی پروفیسر صاحب کو کسی ایسے جرم میں ماخوذ نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت واضح ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے ۲۰۱۰ء سے جو محاذ کھولا ہے، وہ طبع زاد ہے اور ۱۹۹۲ء سے ۲۰۰۸ء تک پروفیسر صاحب یا جماعت اسلامی کی قیادت پر قتل و غارت اور اخلاقی جرائم کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ جو کچھ گذشتہ چھے سات سال سے کیا جارہا ہے، وہ حکومت کی صریح دروغ بیانی ہے۔ جنگی جرائم کے نام نہاد ٹریبونل نے جو کچھ کیا ہے، وہ انصاف کا قتل ہے۔ غضب ہے کہ ان بے داغ سیاسی قائدین پر ایک سے ایک کریہہ اتہام لگایا جارہا ہے اور ظلم کی انتہا ہے کہ ان ناکردہ گناہوں پر ان کو پھانسی اور عمرقید کی سزائیں دی جارہی ہیں۔

سپریم کورٹ کے ۱۹۹۲ء کے فیصلے میں پروفیسر غلام اعظم صاحب کے بارے میں جسٹس بدرالعالم چودھری نے اپنے فیصلے کے پیراگراف ۷۴ میں لکھا ہے:

ان افراد کے مقدمے اور سزا کے لیے، جنھوں نے جنگ ِ آزادی کے دوران افواجِ پاکستان سے خفیہ تعاون کیا اور یہ کرتے ہوئے دیگر مجرمانہ افعال کے لیے ایک خصوصی قانون بنا: Bangladesh Collaboration (special tribunal) Order 1972 (PO No.89 1972) بنایا گیا۔ اس قانون کے تحت کچھ لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا اور سزا دی گئی۔ لیکن بعد میں سزایافتہ اور ان افراد کو جو مقدمات کے لیے مطلوب تھے، معافی دے دی گئی، سواے ان لوگوں کے جو سنگین جرائم، مثلاً قتل، عصمت دری، آتش زنی وغیرہ میں سزا یافتہ تھے یا مطلوب تھے۔ بالآخر یہ قانون منسوخ کر دیا گیا۔ لیکن نہ تو ۱۹۷۲ء کا PO No.8 اور نہ PO No.149 میں کوئی ایسی دفعہ ہے جو کسی کی  بنگلہ دیش کے شہری ہونے کی اہلیت ختم کردے۔

بھارتی فوج کے ساتھ جنگ ِ آزادی کے دوران تعاون کرنے اور قتل، عصمت دری یا آتش فشانی کرنے یا اس میں مدد دینے یا آزادی کے بعد بنگلہ دیش دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینا، اس قسم کے کسی جرم کا ارتکاب درخواست گزار کے خلاف کسی بااختیار عدالت میں ابھی تک رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی آگے بڑھ کر درخواست گزار کے خلاف کریمنل لا کے تحت پولیس میں ایف آئی آر درج کرواکر یا کسی مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کر کے کارروائی کا آغاز نہیں کیا ہے۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے جسٹس انوارالحق چودھری نے اپنے فیصلے کے پیراگراف ۱۲۶ میں پروفیسر صاحب کے بارے میں ان تمام الزامات کوغیرمتعلق اور غیرمؤثر قرار دیا جو اٹارنی جنرل نے اخباری تراشوں کی مدد سے پیش کیے اور جن پر ۱۹۹۲ء کے عدالت ِ عالیہ کے اس فیصلے کے علی الرغم جنگی جرائم کی نام نہاد عدالت نے فیصلے صادر فرمائے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

مزید یہ کہ درخواست گزار نے بعد کی مطبوعات میں درج کیے گئے واقعات کی سچائی کو چیلنج کیا ہے۔ سواے چند خبروں اور ایک تصویر کے جن سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ درخواست گزار جنرل ٹکا خان یا جنرل یحییٰ سے ملا ہے، کوئی چیز بھی نہیں ہے جو درخواست گزار کو ان مظالم میں ملوث کرے جن کا پاکستانی فوج اور ان کے حلیفوں البدر اور الشمس کے رضاکاروں پر الزام لگایا جاتا ہے۔ کوئی بھی چیز درخواست گزار کو براہِ راست ملزم ثابت نہیں کرتی سواے اس بات کے کہ درخواست گزار آزادی کی اس جنگ کے دوران فوجی جنتا کے ساتھ ملتاجلتا تھا۔

بنگلہ دیش کی عدالت ِ عالیہ کے ۱۹۹۲ء کے فیصلے سے تین باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں جن کا تعلق اصولی طور پر ان تمام افراد اور اُمور سے بھی ہے جن پر ۲۰۱۰ء کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے انصاف کاخون کرتے ہوئے فیصلے صادر فرمائے ہیں۔

۱- بنگلہ دیش جنگ ِ آزادی کے دوران جن لوگوں نے اس کی مخالفت کی، وہ کسی جنگی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ یہ ایک نظریاتی اور سیاسی پوزیشن تھی۔ اس کے برعکس اگر کوئی فرد کسی غیرقانونی حرکت کا مرتکب ہوا ہے تو اس پر متعلقہ قانون کے تحت گرفت ہونی چاہیے اور قانون اور  مجاز عدالت میں ہونی چاہیے۔ دونوں کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔

۲- محض جنگ ِ آزادی میں عدم شرکت یا اس کی مخالفت کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی شہریت سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جس نے اس سے وفاداری کا عہد کیا ہے، اس کے اس عہد کو چیلنج کیا جاسکتا ہے یا مشتبہ بنایا جاسکتا ہے۔ البتہ آزادی کے بعد اگر کسی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ قانون کے مطابق مجاز عدالت سے ثابت ہوجاتا ہے تو اس پر گرفت ہوسکتی ہے۔

۳- جہاں تک پروفیسر غلام اعظم صاحب کا تعلق ہے، ۱۹۹۲ء تک ان پر کوئی الزام بھی کسی مجاز عدالت میں نہیں لگایا گیا اور ۷۳-۱۹۷۲ء میں جن افراد پر الزامات لگائے گئے تھے، ان میں پروفیسر صاحب کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ محض اخباری اطلاعات اور سنی سنائی باتوں (heresy) کی بنیاد پر ایسے سنگین الزامات لگانے کی کسی ایسے معاشرے میں کوئی گنجایش نہیں جو قانون کی حکمرانی کا دعوے دار ہو۔

انصاف کا خون اور عالمی ردعمل

گو یہ تینوں باتیں پروفیسر صاحب کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے میں آئی ہیں لیکن یہ ان تک محدود نہیں اور برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے تمام افراد جنھیں اس وقت ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان کے بارے میں بھی اتنا ہی لاگو (applicable) ہے، لیکن  اب عدالت اور پوری انتظامی مشینری جس بے دردی اور بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، اس نے پورے نظامِ حکومت کو غیرمعتبر بنادیا ہے۔ اس کھلے کھلے ظلم میں سب ہی شریک نظرآرہے ہیں اور اب اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جانے لگا ہے بلکہ وہ بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں جو حسینہ واجد کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چند آرا حقائق کو واضح کرنے کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔

دی اکانومسٹ اپنی ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ’بنگلہ دیش __ یک جماعتی آمریت کی پھسلن پر‘(Bangladesh is sliding into one party dictatorship) کے عنوان سے لکھتا ہے کہ بنگلہ دیش کا اصل مسئلہ عدم برداشت اور مخالفت کی آواز کو قوت سے دبانا ہے جسے وہ بنگلہ دیش کا ’پیدایشی مرض‘ قرار دیتا ہے۔ اور وہ مرض کیا ہے؟ ___ ’’ایک سیاسی کلچر جو اختلاف کو برداشت نہیں کرسکتا اور جو اقتدار کو اسے کچلنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے‘‘۔

نظامی صاحب کی پھانسی پر تبصرہ کرتے ہوئے دی اکانومسٹ لکھتا ہے:

بہت سے بنگلہ دیشیوں کو اس پر غصہ تھا کہ اتنے طویل عرصے تک ۱۹۷۱ء میں کیے گئے جرائم کا کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھیرایا گیا۔ اس لیے جب عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کی حکومت نے ۲۰۱۰ء میں ٹریبونل قائم کیا تو اس اقدام کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ عمل انصاف کے ساتھ ایک مذاق ثابت ہوا۔ یہ دراصل عوامی لیگ کی مخالفت کو کمزور کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈکر پکڑنے کی ایک کارروائی تھی۔ نظامی صاحب اپنی پارٹی جماعت اسلامی کی چوتھی سینیرشخصیت ہیں جن کو سزاے موت دی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی حکومت میں اس کی اتحادی تھی، اس کی پاداش میں شیخ حسینہ کے مظالم کا نشانہ بن رہی ہے۔ نظامی صاحب نے اس کے وزیرصنعت کی حیثیت سے کام کیا۔ جماعت اسلامی رُوبہ زوال ہے لیکن بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں اب بھی ایک طاقت ہے…

حسینہ واجد صاحبہ کی موجودہ حکومت کے بارے میں اکانومسٹ کا فتویٰ بہت واضح ہے اور مغرب کے بیش تر اخبارات اور تجزیہ نگار اس سے مکمل اتفاق کا اظہار کر رہے ہیں:

اپوزیشن کنارے لگا دی گئی ہے اور عوامی لیگ پریس کو دبائو میں لے آئی ہے اور   زبان بندی کردی ہے اور سرکاری ملازموں کو بہت زیادہ تنخواہیں بڑھا کر خرید لیا ہے۔ عدالتیں، سول سروس، فوج اور پولیس، سب پوری طرح سیاست زدہ ہیں۔

اسی طرح نیویارک ٹائمز حالیہ جنگی ٹریبونل کے تازہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے صاف الفاظ میں لکھتا ہے:

یہ ٹریبونل جماعت اسلامی کے قائدین کو ہدف بنانے کے لیے حکومت کا ایک سیاسی حربہ بن گیا ہے۔ (ڈیلی ٹائمز، ۱۲مئی ۲۰۱۶ئ)

بھارت کا روزنامہ دی ہندو اس سے پہلے برادرم علی احسن محمد مجاہد اور محترم صلاح الدین  قادر چودھری کو پھانسی دیے جانے کے اس ٹریبونل کے فیصلے کے بارے میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کرچکا ہے۔ سزاے موت کے باب میں دی ہندو کا کہنا یہ تھا کہ:

اس نے مقدمے کی کارروائی کو بجاے انصاف کے حصول کے، جو کسی ریاست کے قانونی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے، انتقام کا رنگ دے دیا ہے۔ (Crime and Penalty in Bangladesh، دی ہندو، ۲۵نومبر ۲۰۱۵ئ)

بھارتی صحافی اور سابق سفارت کار کلدیپ نائر جو جماعت اسلامی کا سخت ناقد اور مذہبی قوتوں کا مخالف ہے اور ان کو غیرمؤثر دیکھنا چاہتا ہے وہ بھی اپنے syndicated مضمون میں جو پاکستان ٹوڈے (۱۹ جنوری ۲۰۱۵ئ) میں شائع ہوا ہے اور جس کا عنوان ’بنگلہ دیش کا المیہ ‘ ہے، میں لکھتا ہے:

یہ بات کہ شیخ حسینہ آمرانہ مزاج رکھتی ہے کوئی نئی بات نہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت ایک فردِ واحد کی حکومت ہے۔ حتیٰ کہ عدلیہ بھی ایسے فیصلے دینے سے ہچکچاتی ہے جو اسے ناراض کریں۔ رہی نوکرشاہی ،تو وہ محض ربڑاسٹامپ ہے۔

انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ شمارے (۲۰مئی ۲۰۱۶ئ) میں امریکا کے ایک سابق سفیر اور واشنگٹن کے مشہور تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سنٹر کے اسکالر ولیم میلام کا مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان Bangladesh's Real Terror ہے۔ اس میں وہ اعتراف کرتا ہے:

عوامی لیگ کا سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے خلاف عدلیہ اور پولیس کو استعمال کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔

جنگی جرائم کا ٹریبونل یا سیاسی انتقام

یہ وہ کرب ناک صورتِ حال ہے جس نے پوری عدلیہ اور انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور سیاسی آمریت کے سایے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن انتقام اور ظلم کا سب سے مؤثر ذریعہ جنگی جرائم کا نام نہاد بین الاقوامی ٹریبونل بن گیا ہے جو اب تک ۱۳؍افراد کو سزاے موت دے چکا ہے جن میں سے پانچ کو سولی پر چڑھایا بھی جاچکا ہے۔ برادرم مطیع الرحمن نظامی اس کا تازہ ترین شکار ہیں۔ ان کے سلسلے میں انصاف کا کس طرح خون کیا گیا ہے، اس کی داستان انگلستان کے مشہور قانون دان بیرسٹر ٹوبی کاڈمین نے اپنے حالیہ مضامین میں پیش کی ہے۔ ہم اس تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی تحریر کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جو مشہور آن لائن مجلہ The Huffington Post میں ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے:

آج بین الاقوامی انصاف کے لیے ایک افسوس ناک دن ہے۔ ۱۱مئی ۲۰۱۶ء کو ایک بجے شب مطیع الرحمن نظامی کو ڈھاکہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔یہ پھانسی دیے جانے والے پانچویں شخص ہیں جنھیں انتہائی ناقص بین الاقوامی کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی بی) کے حکم پر پھانسی دی گئی۔ یہ ٹریبونل بین الاقوامی جرائم کی جواب دہی اور فراہمیِ انصاف کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس کی کارروائی کے جواز کو بے ضابطگیوں، مقدمات کو سیاسی طور پر حسب موافق و منشا بنانا اور قانونی ناانصافی نے مجروح کردیا۔ سپریم کورٹ اور  آئی سی ٹی بی کے فیصلوں کا ایک سادہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ان دوسرے افراد کی طرح جن کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا نظامی کے مقدمے کی کارروائی بھی بین الاقوامی انصاف کے معیارات کے مطابق نہیں ہوئی۔ متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین نے ایک عام بیان میں جو پھانسی کی سزا سے دو دن پہلے جاری کیا گیا تھا یہی موقف اپنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: جو لوگ آئی سی ٹی بی میں پیش ہونے والے تھے، ان کو دستوری اور منصفانہ ٹرائل میں جو تحفظات حاصل تھے انھیں حکومت نے واضح طور پر ختم کرکے اس کی اثرپذیری اور قانونی استحقاق کو شروع ہی سے ختم کردیا۔ اور مزید جو کچھ بعد میں  ہونا تھا، اس کے لیے زمین ہموار کر دی۔ اس بیان پر آزاد اور نام وَر وکلا، جج اور ماہرین کے ایک گروہ کے دستخط ہیں۔

استغاثے کے مطابق نظامی ’البدر‘ کے جو پاکستان آرمی کی نیم فوجی فورس تھی، چیف تھے  لیکن بکثرت ریسورسز تک رسائی کے باوجود سرکاری وکیل کوئی ایسی شہادت پیش کرنے سے قاصر تھا جو اس تنازعے سے متعلق ہو اورجس سے یہ ظاہر ہو کہ نظامی اس منصب کے حامل تھے۔ اس کے بجاے انھوں نے اشاروں (innuendo) اور نتیجہ نکالنے  (inferences) کو ترجیح دی۔

فیصلے کی زبان اور بیان فنی کے بجاے لفظی اور یک رُخی ہے لیکن قانونی نقطۂ نظر سے جو بات اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ یہ جرائم سے متعلقہ عناصر کے مکمل تجزیے سے محروم ہے۔ گو کہ اپیل کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسل کشی کی سزا کو برقرار رکھا لیکن کورٹ نے نہ تو مطلوبہ تقاضوں (subjective)، یعنی نسل کشی کی تعریف کے مطابق متعلقہ گروہ کا تعین کیا ، نہ جرم کا ذہنی عنصر کو جو اس قسم کے جرم کا ایک لازمی خاصہ (فیچر) ہوتا ہے، فیصلے میں بیان کیا گیا۔

بہرحال مقدمے کی ناانصافی متعلقہ شہادتوں اور قانونی تجزیہ نہ ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اساسی بنیادی حقوق کو بھی متاثر کرتی ہے۔ نظامی کے خلاف مقدمہ اسلحے کی خوف ناک عدم مساوات سے متاثر (infect) تھا۔ استغاثے کو تفتیش کے لیے ۲۲ماہ دستیاب تھے، جب کہ دفاع کے لیے مقدمے کی تیاری کے لیے محض تین ہفتے دیے گئے۔ استغاثہ نے ۲۶ گواہ بلائے، جب کہ مستغیث کو چار سے زیادہ گواہ بلانے سے روکا گیا۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن یہ حقیقت ہے کہ گواہوں نے یہ قبول کیا کہ انھوں نے رشوتیں قبول کرنے کے بعد ایک خاص بیان دینے کی مشق کی اور جھوٹی گواہی دی ہے۔

اس حقیقت کے خلاف بڑی آراستہ و پیراستہ بیان بازی کے باوجود اس سے مفر نہیں ہے کہ آئی سی ٹی بی سیاسی طور پر ایک ساختہ پرداختہ ٹریبونل ہے۔ اسکائپ گیٹ اسکینڈل جس میں آئی سی ٹی بی کے ججوں اور ایک تیسرے فریق کے درمیان گھنٹوں گفتگو کا تجزیہ کیا گیا تھا، اس نے نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ آئی سی ٹی بی کے جج بیرونی احکامات کی پیروی کرتے ہیں بلکہ مقدمے کا سامنا کر نے والوں کا جرم پہلے ہی سے طے ہے۔

متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی انجمنوں کی جانب سے آئی سی ٹی بی اور بنگلہ دیش پر پہلے ہی تنقید کی جارہی ہے کہ مقدمے کا سامنا کرنے والوں کو دستوری حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور ایک جانب دار موقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ٹریبونل کے قانونی اختیارات تنازعے کے ایک فریق کے کیے گئے جرائم تک محدود ہیں۔

اس مرتبہ نظامی کی پھانسی کو روکنے کے لیے عوام کا احتجاج پہلے کے مقابلے میں بہت مضبوط اور بہت زیادہ تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ، ٹام لنٹس ہیومن رائٹس کمیشن، دی بار ہیومن رائٹس کمیشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز اور سابق سفیر امریکا براے وارکرائمز نے بیانات دیے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کمیشن براے انسانی حقوق نے نظامی کی سزا کو روکنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ ٹریبونل نے جن مقدمات کو سناہے، وہ بدقسمتی سے منصفانہ مقدمے اور مقررہ قانونی کارروائی کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت بنگلہ دیش نے ان تمام مطالبات اور تنقید کو بالکل نظرانداز کر دیا جس سے آدمی کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے لیے زیادہ مضبوط اقدام کرنے کا وقت ہے۔

انصاف کی ضرورت کو مسخ کردیا گیا ہے اور وہ ایک انتقام کی تلاش میں تبدیل ہوگیا۔ بغیر مقررہ قانونی کارروائی، بغیر حقوق کے اور یہ قانونی کارروائی محض ایک دکھاوے کا مقدمہ ہے اور موت کا فیصلہ آمرانہ قتل قرار پاتا ہے۔

برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسری تحریکی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ جنگی جرائم پر گرفت کے نام پرجو ظلم کیا جا رہا ہے، اس کے قانونی، عدالتی پہلوئوں اور عالمی اداروں کے اس ڈھونگ پر ردعمل کے اس مختصر جائزے کے ساتھ یہ امر بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے اسلامی تحریکات، انسانی حقوق کے نام وَر اداروں اور کچھ اہم سیاسی اور علمی شخصیات نے ان پر بھرپور احتجاج کیا ہے اور ترکی کے صدر اور وزیراعظم نے سب سے مؤثر انداز میں اس ظلم کو برملا ظلم کہا ہے اور بنگلہ دیش سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے، وہیں بیش تر مسلم ممالک کی قیادتیں خاموش تماشائی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی نمایشی ردعمل سے ہٹ کر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور مغرب کی وہ تمام قیادتیں اور تجزیہ نگار جو جانوروں اور درختوں کے تلف کیے جانے پر تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں اور سیاسی اور معاشی پابندیوں (sanctions) کے تیرونشتر حرکت میں آجاتے ہیں، وہ بالکل منقار زیر ہیں بلکہ چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اسلامی تحریکات اور شخصیات پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑے جائیں تو ان کے ضمیر میں کوئی کسک نہیں ہوتی۔ یہی وہ منافقت اور دوغلاپن ہے جو مغرب کی سیاسی اور فکری قیادت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور اگر عام انسان اس گندم نما جوفروشی پر اپنے اضطراب اور غصے کا اظہار کرتے ہیں تو معصوم چہرہ بناکر فرمایا جاتا ہے Why do they hate us? (وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟)

برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے مظلوم رہنمائوں اور ساتھیوں کی پاک دامنی کا ثبوت یہ ہے کہ عدالت متعصب ہے، قانون بددیانتی پر مبنی ہے، انصاف کے ہرتقاضے کا خون کیا جارہا ہے، ملزموں کو دفاع کے حق اور کم سے کم مواقع سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، گواہوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، حتیٰ کہ اغوا کیا جارہا ہے اور عدل کی فراہمی کے عمل میں کھلے کھلے مداخلت کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ وزرا، سرکاری مشیر، بیرونی افراد ججوں کو ہدایات دے رہے ہیں اور آخری حد یہ ہے کہ جب کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت میں کھلے الفاظ میں یہ تک کہہ دیا کہ ملزموں کے خلاف نہ کوئی قابلِ اعتماد گواہی اور شہادت ہے اور نہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرسکا ہے تو بھارت کا ہائی کمشنر فیصلے کے اعلان سے ایک دن پہلے کھلے بندوں چیف جسٹس سے ملتا ہے اور وہی چیف جسٹس صاحب اس شخص کو جس پر اس کے اپنے بقول استغاثہ جرم ثابت نہیں کرسکا، نہ صرف موت کی سزا دے دیتے ہیں بلکہ یہ بھی فرما دیتے ہیں: ’’جنگی جرائم کا ثابت ہونا ضروری نہیں، بلکہ جنگ ِ آزادی کی مخالفت بھی ایک کافی ’جرم‘ ہے ‘‘ اور اس طرح معصوم انسانوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جارہا ہے۔

ایک طرف حکمرانوں، عدالتوں اور قانون کے محافظوں کا یہ کردار ہے اور دوسری طرف  ان افراد کی پوری زندگیوں کو دیکھا جائے جن کو اس ظلم و سفاکیت اور انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایک بالکل دوسری ہی تصویر سامنے آتی ہے۔

آیئے کچھ جھلکیاں تصویر کے دوسرے اور اصل رُخ کی بھی دیکھ لیں۔ وہ حضرات جن کو  ظلم اور عدالتی قتل کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان کا اصل کردار کیا ہے اور معاشرے میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں، یہ سب ایک کھلی کتاب کے مانند ہے۔

مطیع الرحمن نظامی ضلع پبنہ کے گائوں منحت پور میں ۳۱مارچ ۱۹۴۳ء کو ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی اور پھر ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شعیب پور کے مدرسے کی طرف رجوع کیا جس سے فارغ ہوکر ڈھاکہ کے مدرسۂ عالیہ سے ۱۹۶۳ء میں کامل کی سند حاصل کی۔ دینی علوم کے ساتھ آپ نے جدید تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ڈھاکہ سے ۱۹۶۴ء میں انٹر اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے ۱۹۶۶ء میں بی اے کی سند لی۔

مدرسیہ عالیہ ہی کے دور میں تحریک اسلامی سے رشتہ جوڑا اور خرم بھائی کی تحریک پر جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۱۹۶۳ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے اور ۱۹۶۵ء میں مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک مشرقی پاکستان جمعیت کے ناظم رہے اور ۱۹۶۹ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے اور اس طرح مشرقی پاکستان سے پہلے ناظم اعلیٰ منتخب ہونے کی سعادت پائی۔ یہ ذمہ داری ۱۹۷۱ء تک ادا کی اور اس طرح متحدہ پاکستان کی جمعیت کے آخری  ناظم اعلیٰ ہونے کا تاج بھی ہمیشہ کے لیے ان کے سر کی زینت بن گیا۔

۲۰ویں صدی میں اسلامی تحریکات کے قائدین کو طرح طرح کی آزمایشوں سے سابقہ رہا ہے اور شہادت اور عدالتی قتل ان کا حصہ رہے ہیں لیکن جہاں تک میرا حافظہ ساتھ دیتا ہے، برادرم مطیع الرحمن نظامی کسی ملک کے پہلے امیرجماعت ہیں جنھیں امیرجماعت ہوتے ہوئے عدالتی ڈرامے کے نتیجے میں شہادت کی سعادت نصیب ہوئی ہے   ع

یہ رُتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا

نظامی صاحب پر الزامات کی حقیقت

میں اپنے۵۰ سال سے زیادہ پھیلے ہوئے ربط و تعلق کی بنیاد پر پورے وثوق سے یہ گواہی دینے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ان کا جو اَخلاق، جو مزاج، جو جذبات و احساسات میں نے دیکھے اور ان کی ذاتی زندگی، تحریکی معاملات، ملکی اور سیاسی اُمور کو انجام دینے کے طریقے کا جتنا مجھے تجربہ ہے، اس کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ جن جرائم کو ان کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے ان کے بارے میں قرآن کے الفاظ میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ o (النور ۲۴:۱۶)

ان الزامات کے بارے میں نظامی بھائی نے ٹریبونل کو جو بیان دیا ہے اس کے یہ اقتباسات میرے احساس کو تقویت پہنچاتے ہیں:

’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں انھیں تاریخ کا بدترین جھوٹ کہوں گا۔ یہ مقدمات مخالفین کے سیاسی قدکاٹھ کو کم تر بناکر پیش کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ میں عرصۂ دراز سے کارزارِ سیاست میں ہوں۔ صرف سیاسی بنیادوں پر کسی کو عدالتوں کے حوالے کر دینا کوئی کمال نہیں ہے۔ میری جو سرگرمیاں بھی رہی ہیں، سیاسی کارکن کے طور پر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہیں۔

’’جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میں کبھی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا۔ کوئی بھی حکومت آخری حکومت نہیں قرار دی جاسکتی، نہ دنیاکی کسی عدالت کو آخری عدالت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس عدالت کے بعد ایک اور عدالت ہے اور تمام افراد کو اس عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’’۱۹۷۱ء میں، مَیں ایک سیاسی کارکن تھا اور میرا کسی غیرقانونی سرگرمی سے تعلق نہ تھا۔  میرا مطالبہ یہ تھا کہ مقامی طور پر جو نمایندے منتخب ہوئے ہیں، ان کو اقتدار منتقل کیا جائے۔  جماعت اسلامی بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی کہ اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کیا جائے۔ اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ) بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی۔ اگر اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کر دیا جاتا تو موجودہ کریہہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔

’’تاریخ گواہ ہے کہ کس نے اقتدار کی منتقلی کے لیے زور دیا اور کس نے رکاوٹ پیدا کی؟ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ثبوت دے سکے کہ اقتدار کی منتقلی میں جماعت اسلامی نے رکاوٹ پیدا کی۔ بھٹو کی تقریر کی مخالفت سب سے پہلے میں نے کی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنھوں نے اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان کے بل بوتے پر اقتدار سے لطف اندوز ہورہے تھے یا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس سوال پر تحقیق ہونی چاہیے۔ نہ ہمارا کوئی ایسا رابطہ تھا،  نہ ایسی کوئی بنیاد تھی جس کی بنیاد پر ’نسل کشی‘ کا ارتکاب ہوتا۔

’’اتفاقیہ طور پر میں اُس وقت متحدہ پاکستان کی ’اسلامی چھاترو شنگھو‘ [اسلامی جمعیت طلبہ] کا ناظم اعلیٰ تھا اور میں ستمبر کے آخری ہفتے تک اس ذمہ داری پر رہا۔ ۲۹ ستمبر تا یکم اکتوبر کو ایک کانفرنس [۲۰واں سالانہ اجتماع] ملتان میں ہوئی اور مجھے اس ذمہ داری سے فارغ کر دیا گیا۔

’’بعدازاں ایک دینی ریسرچ سنٹر کے ممبر کے طور پر میں نے کام شروع کر دیا۔ مجھ پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، اُن میں الزام نمبر۱۶ یہ ہے کہ میں اُس وقت عہدے دار تھا اور چھاتروشنگھو کا مرکزی صدر تھا،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں اکتوبر کے بعد اُس کا عام کارکن بھی نہیں تھا، بلکہ اُس وقت میں جماعت کا رُکن بھی نہیں تھا۔ اس حوالے سے یہ سوال اُٹھانا بے بنیاد ہے کہ جماعت اسلامی کے صدر کے طور پر میری کیا سرگرمیاں تھیں۔

’’میرے بارے میں کہا گیا کہ میں ’البدر‘ کا سربراہ تھا۔ اس سلسلے میں جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں، اُن میں کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میں البدر اور رضاکاروں کا کمانڈر تھا۔      بطور ثبوت جو کتاب پیش کی گئی ہے، اُس میں تحریر ہے کہ ’انصار باہنی کو رضاکار باہنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ انصارباہنی کا سازوسامان، البدر باہنی کے حوالے کر دیا گیا۔ انصارباہنی کے ذمہ دار، رضاکار کے اعلیٰ عہدے دار بن گئے۔ انصار باہنی کے نمایاں لوگ، البدر کے اہم ترین اور نمایاں ترین عہدے دار بن گئے۔ تب میرے لیے کون سا موقع تھا کہ میں رضاکاروں کا کمانڈر یا سربراہ بن جاتا۔ آپ کی جانب سے پیش کی جانے والی کتاب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ میرے رضاکاروں کے سربراہ بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

’’میرے خلاف کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انھیں کریمنل پروسیجر ۱۸۹۸ء کے تحت پیش کیا گیا ہے، لیکن میرا ضمیر صاف ہے اور میں اپنے رب کے حضور سرخ رو ہوں کہ ایک سیاسی کارکن کے سوا میرا کوئی کردار نہ تھا۔ میرا کسی بھی غیراخلاقی، جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم میں کوئی کردار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کسی بھی شرم ناک حرکت اور سرگرمی سے بچائے رکھا۔

’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ، میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی جرم میری موجودگی میں کبھی نہیں ہوا، نہ میری رضامندی سے ہوا اور نہ میں ایسے کسی جرم سے واقف ہوں۔ میں جن جن جگہوں پر گیا ہوں، اُن کے نام اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں، لیکن میں اپنے والدین سے ملنے کے لیے ایک روز بھی نہیں گیا۔ جن علاقوں میں جرائم کا ارتکاب ہوا، نہ میں وہاں گیا، نہ میں نے جرائم کا ارتکاب کیا تو میں کس طرح ان جرائم کا ذمہ دار ٹھیرایا جاسکتا ہوں؟ میں اسے تاریخ کا بدترین جھوٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔

’’مجھ پر الزامات کے دوران جن علاقوں کے ناموں کا تذکرہ ہے، ان میں سے کئی نام میرے لیے نئے ہیں، مثلاً ’کورموجا‘۔ مجھ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ میں نے کورموجا کے لوگوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں کیں، کیونکہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں مَیں اُمیدوار ہی نہیں تھا، تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔

’’اسمبلی کا اُمیدوار پہلی بار ۱۹۸۶ء میں بنا۔ ۱۹۸۸ء میں میرے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل بننے کی خبر شائع ہوئی تو میری اہلیہ کو گمنام شخص کی طرف سے فون کال موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ اگر میں نے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے طور پر کام کرنا شروع کیا تو میری اہلیہ بیوہ ہوجائے گی۔ میری اہلیہ سے کہا گیا کہ اگر بیوہ ہونے سے بچنا چاہتی ہو تو اپنے شوہر کو جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دو۔

’’جب میں وزیر بنا، میں نے واضح کیا کہ میں نے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے ملک کو نقصان پہنچا ہو۔ جب میں وزیرزراعت تھا تو ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی بنیادی اور مؤثراقدامات کیے گئے۔

’’کوئی عدالت آخری عدالت نہیں ہے اور کوئی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ ایک اور عدالت آئے گی جس میں ہم سب کو پیش ہونا ہوگا‘‘۔

رحم کی درخواست سے انکار

۵مئی ۲۰۱۶ء کو اپیل کے فیصلے سے پہلے ان کی ملاقات قاسم پور جیل میں اپنے اہل خانہ سے ہوئی۔ اپنی اہلیہ عزیزہ شمس النہار صاحبہ اور بچوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

میری شہادت مجھے نظر آرہی ہے اور یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو عطا فرماتا ہے۔ میری شہادت پر کسی کو رونے دھونے کی ضرورت نہیں۔ میں سب کو صبر کی تلقین کرتا ہوں [پھر قرآنِ حکیم کی یہ آیت پڑھی: وَ اصْبِرُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَo انفال ۸:۴۶]۔ میرا دل بالکل مطمئن ہے، میں اپنے تمام چاہنے والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پُرامن جدوجہدجاری رکھیں اور اللہ سے دُعا کرتا ہوں کہ میرے وطن عزیز بنگلہ دیش میں اللہ تعالیٰ اسلامی نظام کے لیے فضا ہموار فرمائے۔

۱۰ مئی ۲۰۱۶ء کی شب آٹھ بجے سے پہلے ان کو ڈھاکہ سنٹر ل جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کا ریویو پٹیشن پر فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے شب اہلِ خانہ سے آخری ملاقات ہوئی۔ خاندان کے ۲۶؍افراد نے مطیع الرحمن بھائی کے ساتھ ایک گھنٹے سے   کچھ زیادہ وقت گزارا۔دن کے دوران دو وزرا نے رابطہ کیا اور اطمینان دلایا کہ اگر رحم کی اپیل کردیں تو سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن نظامی بھائی نے صاف انکار کر دیا کہ یہ خسارے کا سودا ہے۔ شہادت تو مومن کے لیے مقصود و مطلوب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے اتنے قریب آنے کے بعد اس سے محروم رہنے کا کون سوچ سکتا ہے؟ ان کا جواب  بڑا نپاتلا تھا:

 میرے لیے میرے رب کا رحم کافی ہے۔ اس کے علاوہ میں کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا۔

آٹھ بج کر ۵۸ منٹ پر دو منٹ کے لیے ڈیلی اسٹار کے نمایندے کو آخری بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کال کوٹھڑی میں لایا گیا۔ مطیع الرحمن نظامی نے ایک جملے میں پوری داستانِ حیات بیان کردی:

میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ عمر کے اس حصے میں شہادت نصیب ہو، اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہوگی۔

اہلِ خانہ سے ملاقات ساڑھے نو بجے شب ختم ہوئی جس کی تفصیل نظامی بھائی کے صاحب زادے شاہد نظامی نے کچھ یوں بیان کی ہے:

خاندان کے ہم ۲۶؍افراد ان سے ملنے کے لیے جیل کے بلاک راجن ایگندھا میں داخل ہوئے۔ والد صاحب اس بلاک کے آخری کمرہ نمبر ۸ میں تھے اور سبزرنگ کی جاے نماز پر قبلہ رُو دُعا میں مشغول تھے۔ ان کے پوتے نے دادا کو متوجہ کیا جس پر انھوں نے خود دروازہ کھولا اور یوں آخری ملاقات شروع ہوئی۔ موسم بے حد گرم تھا ۔ وہ اور ہم سب ہی پسینے میں شرابور تھے لیکن ان کا چہرہ پُرسکون اور روشن تھا۔

اس ملاقات میں نظامی صاحب نے اہلیہ اور بچوں کو رحم کی درخواست کے بارے میں بھی بتایا اور واضح کیا کہ ’’میں نے زبانی ہی نہیں، لکھ کر بھی دے دیا ہے کہ مَیں اللہ کے سوا کسی سے رحم کی درخواست نہیں کرتا۔ زندگی اور موت کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور میں کسی انسان سے رحم کی درخواست کر کے اپنے ایمان کو تباہ نہیں کرنا چاہتا۔

۱۰مئی ۲۰۱۶ء سہ پہر کے وقت جیل کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو لکھ کر دے دیا ہے کہ: I would not seek any mercy or clemency

اس ملاقات میں عجیب سماں تھا، جذبات موجزن تھے۔ میرے والد نے ہم سب کو صبر کی تلقین کی اور بار بار کی۔ والد صاحب پُرسکون تھے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک نفس مطمئنہ اپنے رب سے ملنے کا منتظر ہے۔

پھر کچھ دیر کے لیے ہم سب کمرے سے باہر چلے گئے اور صرف والدہ، والد صاحب کے ساتھ رہ گئیں۔ میری والدہ نے بتایا کہ ہم نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور شہادت کے اعلیٰ مرتبے کو اتنا قریب دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا۔

میری والدہ نے اپنے شریکِ حیات کو مخاطب کر کے فرمایا:

ہم اللہ کے سامنے بھی گواہی دیں گے کہ آپ ایک نیک اور دیانت دار شخص تھے اور آپ نے کبھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔

اس کے جواب میں میرے والد نے والدہ کو یہ نصیحت کی کہ اب آپ کو صرف ماں ہی نہیں بچوں کے لیے باپ کا کردار بھی ادا کرنا ہے۔ آپ مجھے میرے بیٹوں اور بیٹیو ں کی شخصیت میں پائیں گی۔

ہم سب ایک بار پھر کمرے میں داخل ہوگئے۔ اس موقعے پر والد صاحب نے سب کو مخاطب کر کے جو کہا اس کا خلاصہ یہ ہے:

تم سب آیندہ بہت ہم آہنگی کے ساتھ رہو۔ اللہ اور رسول کے راستے کی پیروی کرو اور اپنی والدہ کا خیال رکھو۔ تم مجھے اپنی ماں میں پائو گے۔ یہ بھی یقینی بنائو کہ تمھاری والدہ مجھے تم میں پائیں۔ تم لوگوں کو میرے بارے میں بتائو جیساکہ تم نے مجھے دیکھا ہے، مبالغہ مت کرو۔ اب میری عمر ۷۵برس ہوگئی ہے۔ میرے بیش تر رفقاے کار اور ساتھیوں کو اتنی طویل زندگی نہیں ملی۔ تمھیں اپنا باپ بہت طویل مدت کے لیے زندہ ملا۔ زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اگر اللہ کی مرضی ہے کہ میں آج رات مرجائوں تو اگر میں اپنے گھر پر ہوتا جب بھی مجھے موت آجاتی۔ ہمیشہ اللہ کے بارے میں پُرامید رہو اور اللہ کے شکرگزار بھی رہو۔

اس کے بعد ہم نے اپنے بچوں اور بچیوں کو پیار اور دُعا کے لیے ان کے سامنے پیش کیا، خصوصیت سے چھوٹے بچوں کو۔ ان کا ارشاد تھا:’’میں ان کے لیے دُعائیں کررہا ہوں تاکہ وہ مجھ سے بھی بڑے ہوجائیں، رسولؐ اللہ کے صحابہ کی طرح‘‘۔

والد صاحب نے خصوصیت سے ہمیں پیغام دیا کہ تحریک اسلامی کے تمام قائدین اور کارکنوں تک ان کا سلام اور دُعاپہنچا دیں اور یہ درخواست بھی کی کہ سب سے درخواست کریں کہ ان کے لیے، خصوصیت سے ان کی شہادت کے قبول کیے جانے کی دُعا کریں۔

میری والدہ نے وفور جذبات سے کہا:

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں عزت دی ہے اور ان شاء اللہ آنے والی زندگی میں بھی آپ کو عزت دے گا۔

میرے والد نے جواب میں کہا:

میں دیہات سے آنے والا ایک عام سا آدمی تھا۔ یہ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کے علما میرے بارے میں اپنی پریشانی اور فکر کا اظہار کر رہے ہیں اور میرے لیے دُعائیں کر رہے ہیں۔

شیخ حسینہ او آئی سی کانفرنس میں اس لیے نہیں گئی کہ اسے یہ اندیشہ تھا کہ وہاں میری رہائی کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ یہ تمام چیزیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ رحم اور رحمتیں ہیں۔

ہم نے والد صاحب سے استدعا کی کہ اللہ کے دربار میں ہمارے لیے بھی دُعا کریں کہ جنت میں ہم سب کو ملوائے۔

والد صاحب نے فرمایا: نیک عمل کرو کہ جنت تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ ان شاء اللہ پھر اللہ تعالیٰ بھی کرم فرمائیں گے اور ہمیں جنت میں رفاقت نصیب ہوگی۔ پھر انھوں نے بڑی رقت کے ساتھ یہ دُعا کی جو ہمارے دلوں پر نقش ہوگئی۔

انھوں نے پھر اپنے دونوں ہاتھ ہمارے ساتھ دُعا کے لیے اُٹھائے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور رسولؐ اللہ پر درود و سلام بھیجا۔پھر ۲۰منٹ تک رسولؐ اللہ کی سکھائی ہوئی دُعائیں کرتے رہے جیساکہ وہ اپنی پوری زندگی میں کیا کرتے تھے۔

پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی: اے اللہ! میں ایک عام گناہ گار شخص ہوں۔ ازراہِ کرم میرے ان تمام اچھے کاموں کو قبول کرلیجیے جن کی آپ نے مجھے اپنے دین کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے ایمان اور اسلام کے راستے پر موت تک استقامت عطا فرما اور مجھے شہادت عطا فرما۔ اے اللہ! مجھے اور میری آیندہ نسلوں کو اقامت صلوٰۃ کی توفیق عطا فرمائے اور میری اور تمام اہلِ ایمان کی فیصلے کے دن مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہمیں مضبوط ایمان کی برکت عطا فرما اور صرف اپنے پر ہی سچا توکل عطا فرما۔ ہماری زبانوں کواپنے ذکر سے ہمیشہ تر فرما۔ ہم ایسے زندہ قلب کے لیے آپ سے التجا کرتے ہیں جو ہمیشہ آپ سے ڈرے، علم نافع، حلال روزی اور اسلام کے صحیح فہم کی توفیق دے۔ ہم آپ سے اس کی التجا کر رہے ہیں ۔ اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے پچھتانے کی توفیق دے۔ موت کے وقت ہمیں آرام دے اور موت کے بعد ہمیں اپنی مغفرت عطا کر اور دوزخ کی آگ سے بچا۔

یااللہ! ہم کو حلال پر قانع رہنے کی توفیق عطا فرما اور حرام سے بچنے کی توفیق دے۔ ہمیں پوری زندگی اپنا مطیع بنا اور ہمیں اپنی معمولی سی نافرمانی سے بھی دُور رکھ اور ہمیں اپنی ذات کے علاوہ کسی کا محتاج نہ کر۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنے نور (قرآن) سے ہدایت دے۔ تو ہمارے گناہوں کو پورا کا پورا جانتا ہے اس لیے ہم تیرے سامنے نادم ہوتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ یاحنّان!  یامنان!

انھوں نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ! اس ملک کو اپنے دین کے لیے قبول کرلے اور اس ملک کو پُرامن بنا دے اور قتل و غارت، غنڈا گردی، اغوا اور سامراجیت سے محفوظ کردے۔ انھوں نے ملک کی ترقی کے لیے بھی دعا کی۔ اس جذباتی دُعا کے دوران میں میری بیٹی نے جیل کے اہل کاروں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجہو

یہ منظر، یہ جذبات، یہ دُعائیں، یہ تمنائیں عزیزی مطیع الرحمن نظامی کی کُل کائنات اور سرمایۂ حیات ہیں۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے کبھی اپنے دشمنوں کو بھی تکلیف نہیں دی یہ الزام کہ اس نے درجنوں افراد کے قتل اور دسیوں محصنات سے جنسی زیادتی کا حکم دیا، ایک ایسا جھوٹ ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ اور یہ سب ایک چھوٹے سے قصبے میں جس کے باسی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود اس کے جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں    جمع ہوگئے۔ پہلے دوانتخابات میں اسے کُل ڈالے جانے والے ووٹوں کا ۵۴ فی صد سے زیادہ حاصل ہوا اور ۲۰۰۸ء میں جب تاریخی دھاندلی، جعلی ووٹ اور سرکاری مداخلت کے سب ریکارڈ ٹوٹ گئے، اس انتخاب میں بھی ووٹوں کا ۴۵ فی صد اسے حاصل ہوا۔

کیا کسی قاتل اور زانی سے بھی اس کے اہل محلہ اور اہلِ شہر ایسا پیار کرتے ہیں؟ بنگلہ دیش سے آنے والی خبریں چشم کشا ہیں۔ نظامی صاحب کی شہادت کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جب کہ شہید کے اہلِ خانہ کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ تحریک کے کارکنوں اور حامیوں پر    عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے لیکن شہید کے گھر اور قبر پر ایسے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ وہ شہید کے احسان مند ہیں۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنھیں انھوں نے ہرقسم کی مدد دے کر اپنے پائوں پر کھڑا کیا اور ان میں بیش تر افراد وہ بھی ہیں جن کا جماعت سے باقاعدہ کوئی تعلق نہ تھا۔   ان میں سے متعدد نے جنازے کے بعد ان کے احسانات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کتنی دُور سے چل کر آئے ہیں تاکہ ان کے جنازے میں شرکت کرسکیں۔ روایت ہے کہ جنازے کے بعد ایک کلین شیو شخص نے جس کا جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا، بہ آوازِ بلند اعلان کیا:

میں گواہی دیتا ہوں کہ مطیع الرحمن نیک، بلند کردار شخصیت کے حامل ہیں جو کسی کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کو پھانسی دینے والے دنیا اور آخرت میں ذلیل و رُسوا ہوں گے۔(روزنامہ اُمت، ۱۳مئی ۲۰۱۶ئ)

مطیع الرحمن نظامی کے دوسرے صاحب زادے ندیم طلحہ نے اخباری نمایندے سے بات کرتے ہوئے کہا:

ہمیں اپنے والد کی شہادت اور قربانی پر فخر ہے۔ حکمرانوں نے بنگلہ دیش اور اُمت مسلمہ کے سب سے بڑے خیرخواہ اور محب وطن کو پھانسی دی ہے۔ میرے والد نے تاریخ رقم کردی ہے۔ سزاے موت کے خلاف رحم کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ انھوں نے بہت پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا کہ ریکارڈ کی درستی اور حکمرانوں کی بدنیتی کو ظاہر کرنے کے لیے عدالتوں سے تو رجوع کیا جائے گا تاکہ حقائق کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جائے،  مگر کسی حکمران سے رحم کی اپیل نہیں کی جائے گی۔ شہید مطیع الرحمن نظامی کل بھی عوام کے مقبول رہنما تھے اور آج بھی مقبول رہنما ہیں۔

ان کی بیٹی فاطمہ محسنہ نے کہا:

میرے والد اکثر کہتے تھے کہ ہمارے تمام آنسو صرف اللہ کے لیے ہیں۔ میرے والد نے اپنی پوری زندگی ہم وطنوں کی فلاح و بہبود اور اسلام کی ترویج و اشاعت میں  صرف کی۔ جن لوگوں کا ان سے قریبی تعلق رہا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ پروفیسر مطیع الرحمن نے اپنی زندگی، دولت، جان و مال سمیت سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا تھا۔ ان کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک بہترین انسان تھے اور آج وہ دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر ہم اسلام کی آفاقی تحریک سے منسلک نہ ہوتے اور اسلام کی آبیاری کے لیے کام نہ کر رہے ہوتے تو ان کی موت کے بعد یہ دنیا اندھیر ہوجاتی۔ مگر اسلام کے رشتے کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے ہمیں اللہ کی جانب سے روشنی ملتی ہے۔ آج ہم انسانوں سے کوئی گلہ نہیں کرتے۔ صرف اپنے رب سے رحم اور بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔

اس کی عزت پر حسینہ واجد کے حواری کیا دھول پھینک سکتے ہیں؟ الحمدللہ اپنے اور غیر جس کے بارے میں جو گواہی دے رہے ہیں وہ دلوں پر نقش ہی نہیں فضا کو بھی معطر کیے ہوئے ہے۔  جوشخص آٹھ سال وزیر اور وہ بھی زراعت اور صنعت کا وزیر رہا ہو، لیکن اس کے دامن پر کوئی داغ   نہ ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے ۱۹۷۱ء میں یہ اور یہ کیا یا کروایا، اللہ کے عذاب کو  دعوت دینے کا باعث تو ہوسکتا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ قانونی سقم جو بھی ہوں، اور وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اس پورے مقدمے کو اسقاطِ عدل (miscariage of justice) کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے، لیکن مسئلے کو جانچنے کا ایک پیمانہ اخلاق اور معاشرے میں شہرت بھی ہے۔ اہلِ خانہ، پڑوسیوں، محلہ داروں، اہلِ شہر، دُور و نزدیک کے آشنائوں کی گواہی بھی ہے۔ بلاشبہہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے اور اس کے فرشتے ہرہرلمحے کا حساب محفوظ کیے ہوئے ہیں لیکن زبانِ خلق بھی نقارئہ خدا کی حیثیت رکھتی ہے کہ ’بھلا کہے جسے دنیا اسے بھلا سمجھو!‘

اس سلسلے میں قرآنِ پاک میں استدلال کا ایک عجیب و غریب پہلو بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ سورئہ یونس میں قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل کے طور پر قریش کو چیلنج کرکے کہا جاتا ہے کہ کیا تم اس شخص سے واقف نہیں ہو جس کے اُوپر یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرا کلام نہیں اللہ کا کلام ہے۔ کیا اس شخص نے پوری زندگی تمھارے درمیان نہیں گزاری؟ کیا تم نے اس کو صادق اور امین کے لقب سے نہیں نوازا؟ جس کی زندگی ایسی ہو، وہ ایسے عظیم معاملے کے باب میں کوئی غلط دعویٰ کرسکتا ہے؟

فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(یونس ۱۰:۱۶) آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمھارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

 

(کتابچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، لاہور۔قیمت:-/۱۵ روپے، سیکڑہ:۱۰۰۰ روپے)

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ظالموں کی گرفت اور پکڑ کے لیے اس کا اپنا نظام ہے۔   ڈھیل دینے کی مصلحتیں بھی اسی کی تدبیر کا حصہ ہیں، خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بھی اس کا اپنا طریقہ ہے اور اربابِ اقتدار کو اچانک گرفت میں لینا بھی اسی کا حصہ ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ انسانی زندگی خیروشر کی کش مکش سے عبارت ہے۔ کبھی کسی کے دن بڑے اور کبھی کسی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں___ لیکن جلد یا بدیر وہ وقت بھی آتا ہے جب اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت برپا ہوجاتی ہے، بڑی بڑی مضبوط کرسیاں ہلنے لگتی ہیں، ظلم و استحصال کے منبع کی حیثیت سے جو قلعے بڑے اہتمام سے تعمیر کیے گئے ہوتے ہیں اور جن کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بڑے بڑوں کو زعم ہوتا ہے، ان میں شگاف پڑنے لگتے ہیں اور شکست و ریخت اور بگاڑ اور بنائو کے نئے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔

یہ اللہ کی سنت ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے: وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo (انفال ۸:۳۰) ’’وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا  تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔ زمانے کے نشیب و فراز کا یہ الٰہی قانون ہے اور بالآخر اس کے ذریعے دُور رس تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں، بڑے بڑے تخت اُلٹ جاتے ہیں، برج گر جاتے ہیں، جو بالا ہوتے ہیں وہ زیر ہوجاتے ہیں اور جو کمزور ہوتے ہیں وہ طاقت وروں پر غالب آجاتے ہیں: وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔

آج پاکستان میں ملکی سطح پر نگاہ ڈالیں یا عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو ہرطرف تبدیلی کی لہریں موج زن نظر آرہی ہیں۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے اور زمانہ نئے نظام کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا قانون ہے کہ بہتر تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب افراد اور اقوام ایسے تاریخی لمحات کے موقعے پر خاموش تماشائی نہیں بنتے، بلکہ حق و انصاف کے حصول اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے صحیح خطوط پر مؤثر اور قرار واقعی جدوجہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اور بدی کو نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔

اس وقت پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا ممکنہ تبدیلی کے ایک ایسے ہی تاریخی لمحے کے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا ہم تاریخ کی پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہیں؟

پاناما لیکس اور عالمی تغیر و تبدل

۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کو ایک ایسی خبر نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا، جس کے بارے میں کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو قدرت کا ناگہانی تازیانہ بن کر نازل ہوئی۔    جرمنی کے ایک اخبار نے  ’پاناما لیکس‘ (Panama Leaks) کے نام سے عالمی سطح پر کالے دھن کے کاروبار، اس کی وسعت اور ستم کاریوں کے بارے میں ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کا راز فاش کیا۔ اس خبر نے دنیا کے گوشے گوشے میں، مالیاتی اور سیاسی میدانوں میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔۲لاکھ۲۴ہزار نمایشی کمپنیاں ہیں اور کم از کم ۳۲ ٹریلین ڈالر (۳۲کھرب ڈالر) کا سرمایہ ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے جو دنیا کی کُل سالانہ دولت کا ایک تہائی ہے۔جو نمایشی کمپنیاں ہر طرح کے ٹیکس اور ریاستی نگرانی کے نظام سے بالا ہوکر اپنا کھیل کھیل رہی ہیں، انھیں پاناما میں قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر ۱۴۶ عالمی لیڈر اس کالے کھیل میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور مزید سیکڑوں چہروں سے پردہ اُٹھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

’آف شورکمپنی‘ کا لفظ جو ایک محدود حلقے ہی میں پہچانا اور بولا جاتا تھا، اب زبانِ زدعام و خاص ہے۔ ٹیکس سے بچائو کی پناہ گاہیں (Tax Havens) جو سرمایہ داروں، بڑی بڑی کارپوریشنوں  اور بنکوں کی کمین گاہیں بن گئی تھیں، اب وہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں، تاجروں، صنعت کاروں ، حتیٰ کہ ججوں اور خیراتی اداروں کو بھی کالے دھن کے تاجروں اور پجاریوں کی صف میں دیکھا جاسکتاہے۔ اس انکشافی آندھی سے ابھی تو ڈیڑھ سو کے قریب عالمی شخصیات کے چہروں سے پردہ اُٹھا ہے۔ یہ صرف پہلی قسط ہے، جسے سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے پہاڑ کا محض چھوٹا سا حصہ کہا جا رہا ہے۔ بس بارش کے چند پہلے قطرے۔ موسلادھار بارش کی پیش گوئیاں تو ۹مئی سے بعد کے زمانے سے منسوب کی جا رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

آئس لینڈ کے وزیراعظم، یوکرین کے صدر، اسپین کے وزیر صنعت و حرفت، FIFA (’فیفا‘ فٹ بال کی بین الاقوامی اتھارٹی) کے سربراہ اور نصف درجن اربابِ اقتدار مستعفی ہوچکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اپنے سارے حسابات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے باوجود، ان کا قدکاٹھ کم ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ وہ مالیات کی نگرانی کے نظام اور خصوصیت سے کارپوریشنوں اور آف شور کمپنیوں کے کردار میں بنیادی تبدیلیوں کے باب میں فوری اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

ان کے علاوہ ڈیوڈکیمرون کے وزیرخزانہ، پارلیمنٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن اور متعدد اہم شخصیات نے اپنی آمدنی، ٹیکس ادایگی کی تفصیلات اور ذاتی مالی صورتِ حال، تحریری شکل میں، رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس طرح انھوں نے بجاطور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھ رہے۔ یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جمہوریت کی جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہوں، ان میں سب سے اہم چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے۔ سرآئیورجنگز کی کتا ب Cabinet Government (کیمبرج یونی ورسٹی پریس،۱۹۵۹ئ) علمِ سیاسیات میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: جمہوریت میں اصل چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہے۔اگر اس پر حرف آجائے تو پھر حکمرانی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارے دستور میں بھی ایک دفعہ سیاسی قیادت کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے دستور کا یہ حصہ یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں!

یورپ کے پانچ ممالک اور دنیا کے ۳۰ سے زیادہ ممالک کے نظامِ احتساب و اصلاح میں تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور کالے دھن کو قابو میں کرنے کی بات اب سرفہرست آگئی ہے۔ ایک طرف احتساب کا عمل ہے، جو حرکت میں آرہا ہے، تو دوسری طرف کالے دھن کا پورا تصور، ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز ( Tax Haven) کا وجود، اس سلسلے کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوئوں پر سوچ بچار اور مالی معاملات میں شفافیت (transparency) کی ضرورت کو وقت کے اہم ترین مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ ہزاروں افراد اور اداروں سے جواب طلبی ہورہی ہے۔ دنیا کے پورے مالی دروبست اور ٹیکس کے نظام پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک شر سے بہت سے خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، حتیٰ کہ امریکا جس کی نصف درجن ریاستیں ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز کا درجہ رکھتی ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے ان ۳۰ممالک میں، جو  ٹیکس چوری کی پناہ گاہ ہیں اور تیسرے نمبر پر ہے (یعنی پاناما سے بھی اُوپر ہے) اس کے صدر بارک اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ:

اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ عالمی سطح پر ٹیکس کی ادایگی سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اسے اس لیے قانونی نہیں بنانا چاہیے کہ محض ٹیکسوں کی ادایگی سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی (transactions) میں مصروف ہوا جائے، جب کہ اس پر زور     دیا جانا چاہیے کہ اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہرشخص ٹیکس کے سلسلے میں اپنا مناسب حصہ ادا کرے۔ (دی گارڈین، ۵؍اپریل ۲۰۱۶ئ)

امریکی اٹارنی براے مین ہیٹن، مسٹر پریٹ بھرارے نے امریکا کی ان تمام کمپنیوں،  جن کا نام موجودہ فہرست میں آیا ہے اور جن کی تعداد ۲۰۰ ہے ، ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان ۲۰۰کمپنیوں کے بارے میں باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ’’امریکا کی کوئی کمپنی اس فہرست میں شامل نہیں‘‘، یہ درست بات نہیں ہے)۔ (دیکھیے: دی انڈی پنڈنٹ، لندن،۲۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ)

کالادہن : کرپشن کی مکروہ شکل

بلاشبہہ پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات، حتیٰ کہ ایک سابق اور ایک موجودہ جج تک آف شور کمپنیوں کے اس انکشاف کی زد میں ہیں اور یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے کو اس کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک طرف کالے دھن کا کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ریاست کی اور عالمی احتسابی نظام کی بھرپور گرفت ہوسکے، تو دوسری طرف ظلم اور استحصال کے اس نظام کا ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر قلع قمع کیا جاسکے، جس کی وجہ سے کرپشن، معاشی دہشت گردی اور لوٹ مار کی لعنت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفادپرستی، نفع اندوزی، دولت کی شرم ناک عدم مساوات (obscene inequalities) اور انسانوں کے بڑے طبقے کی محرومیاں زندگی کی تلخ حقیقت بن گئی ہیں۔

’کالادھن‘ کرپشن کی ایک ملعون شکل ہے اور اس سے مراد خصوصاً وہ دولت ہے، جو جائز طریقے سے حاصل نہ کی گئی ہو۔ رشوت، کمیشن اور ایسی ہی دوسری قبیح حرکتوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کے ساتھ وہ دولت بھی، جو چاہے جائز طریقے سے کمائی گئی ہو لیکن اگر اس کو ریاست کے ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر رکھا گیا ہو، تو وہ ’کالے دھن‘ میں شمار ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر ایک ہی کمپنی اپنی ذیلی کمپنیوں کی مدد سے اشیاے تجارت کی قیمتوں میں کمی اور اضافے کے ذریعے اخراجات کو مصنوعی طور پر بڑھانے اور دکھائے جانے والے منافعے کو     کم کرنے کے لیے ہاتھ کی صفائی کا مظاہرہ کرے، تو یہ بھی کالے دھن ہی کی ایک صورت ہے۔

اگر یہ کھیل قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کر کے انجام دیا جائے، تو اسے ’فرارِمحاصل‘    یا فرارِ ٹیکس (Tax Evasion) کہتے ہیں اور اگر اس حوالے سے قانون کے کسی سقم سے راستہ نکالا جائے تو اسے ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax Avoidance)کہتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیز آمدنی اور اس کے اصل ذرائع کو مخفی (secret) رکھا جاتا ہے، اور حسابات اور مالی معاملات کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ اصل نفع راز بھی رہے اور ٹیکس کی مشینری کی گرفت میں بھی نہ آئے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ کھلے کھلے دھوکے کا ایک ’خوش نما‘ نام ہے اور ہاتھ کی صفائی کی جادوگری ہے۔ قانون کو ہوشیاری سے توڑا جائے یا قانون کو   بھونڈے طریقے سے توڑا جائے، اخلاقی طور پر دونوں قبیح فعل ہیں اور اپنی روح کے اعتبار سے جرائم ہیں۔ اس لیے قانون کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس کی پاس داری لفظی اور معنوی اعتبار سے (in letter and spirit) کی جانی چاہیے۔

دین اسلام پر مبنی قوانین کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اَخلاق اور ایک حتمی اور بالاتر اتھارٹی کے حکم پر مبنی ہونے کی وجہ سے ایمان کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت محض قانون کی خانہ پُری کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ حق و انصاف کے قیام اور اللہ کی اطاعت، اور اس کی رضا کے حصول کے جذبے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قانون اپنی تمام برکات اور اپنے تمام ثمرات سے فرد اور معاشرے کو فیض یاب کرسکتا ہے۔ اللہ اور خلق، دونوں کے سامنے بیک وقت جواب دہی اور اس جذبے کے ساتھ قانون، اس کے الفاظ اور روح کے ساتھ پاس داری میں معاشرے کی مضبوطی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اپنی وسعت اور ہمہ گیریت سے الٰہی اصول، اور قانون فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جو اسلامی قانون اور شریعت کو انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا حقیقی ضامن بناتی ہیں۔ جب ’مذہبی خاندان‘ ہونے کے دعوے دار ’فرار‘ (evasion) اور ’اجتناب‘ (avoidance) کی بات کرتے ہوں تو اس پر تعجب نہ ہو تو اور کیا ہو۔

یہ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، جب جیل میں مَیں حضرت مولانا معین الدین خٹک مرحوم [مارچ ۱۹۲۰ئ-۲۷جولائی ۱۹۸۲ئ] سے اصولِ فقہ پڑھ رہا تھا، تو باب الحیل کی تدریس کے دوران زکوٰۃ کے بارے میں ایک بات انھوں نے ایسی کہی، جو ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہوگئی۔ زکوٰۃ اس مال پر واجب ہوتی ہے، جو ایک سال تک ایک فرد کی ملکیت میں رہا ہو۔ مولانا خٹک مرحوم نے فرمایا کہ: ایسے لوگ بھی ہیں جو ۱۰ماہ کے بعد اپنی دولت، اپنی بیوی یا کسی رشتے دار کو ہبہ کردیتے ہیں اور اگلے ۱۰ماہ کے بعد وہ رشتہ دار اوّلین مالک کو ہبہ کر دیتا ہے اور اس طرح دونوں زکوٰۃ سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ہے وہ اجتناب کی حیلہ بازی (avoidance) جس کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت وہی ہے جس کی طرف مولانا معین الدین خٹک نے متوجہ فرمایا، یعنی:

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرہ ۲:۹-۱۰) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکابازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے ،جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔

ٹیکس بچانے کی کمین گاہوں اور آف شور کمپنیوں کا پورا نظام: ریاست، قانون کے نظام، معاشرے، انسانیت بلکہ خو د اپنے آپ کو دھوکا دینے کی ایک منظم ( بظاہر قانون کی چھتری کے تحت) کوشش سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، جو دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی چال بازی کے سوا کچھ نہیں۔ گذشتہ ۱۰۰ سال کے تجربے کے بعد اب اس کے نظامِ ظلم و استحصال ہونے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ عوامی ردعمل کے نتیجے میں اسے ختم کیا جائے گا یا پھر کم از کم اس پہلے مرحلے میں اس کی حشرسامانی کو بڑی حد تک محدود کیا جائے گا۔

۲۰ویں صدی کے آغاز میں انکم ٹیکس اور کاروباری ٹیکس کا آغاز ہوا، اور اس کے بعد ہی سے بنکاری نظام میں رازداری کے نام پر ٹیکس چوری کی کمین گاہوں کا قیام، نمایشی اور ذیلی کمپنیوں کا وجود، اور ان کے ذریعے نفعے کو لاگت کا لبادہ اُوڑھا کر کالے دھن کے کاروبار کو آسمان پر پہنچا دیا گیا۔ ابتدا میں پٹرول اور گیس کی کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ اور بحری جہازرانی کے شعبے، اس میدان میں بہت آگے تھے، پھر پوری ہی کاروباری دنیا نے اس نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔ اب یہ اندازہ ہے کہ دنیا کی تجارت کا تقریباً ۴۰ فی صد اس کالے دھندے کے سہارے انجام پذیر ہو رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: Panama and The Criminalization of the Global Finance System از Sharmini Peries and Michael Hudson ، کاؤنٹرپنچ، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ)۔     اس طرح ۳۲ ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم صرف ان ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر ممالک کا تعلق ہے، ان کی دولت کا بھی بڑا حصہ انھی پناہ گاہوں کی زینت ہے۔

ورلڈبنک کے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۳ء تک ۸ئ۷ ٹریلین ڈالر  غریب ممالک سے ان مالیاتی کمین گاہوں میں منتقل ہوئے ہیں، جو تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور اٹلی کی مجموعی قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس وقت ان مراکز میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر منتقل ہورہے ہیں اور اس میں سالانہ اضافے کا اندازہ ۵ئ۶ ہے، جو عالمی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے سے دو گنا ہے۔ اس طرح منتقل ہونے والے سرمایے کی وجہ سے صرف ٹیکس کی مد میں جو نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے، وہ سالانہ ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر صرف یہ رقم ترقی پذیر ممالک کے پاس ہو اور کُل سرمایہ انھی میں دوبارہ گردش میں آجائے ہو تو ۱۰سال میں ان تمام ممالک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور صحت و صفائی اور مناسب سماجی زندگی میں بھی نمایاں ترقی ہوسکتی ہے۔ ایک طرف ان ممالک کی دولت امیر ملکوں کی طرف منتقل ہورہی ہے اور دوسری طرف غریب ممالک، امیرممالک کے قرضے کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں اور مالیاتی اور معاشی غلامی کے نئے شکنجوں میں گرفتار ہورہے ہیں۔بدقسمتی سے غلامی کے اس نئے دور کو مسلط کرنے میں ان کے اپنے سیاسی قائدین اور کاروباری طبقوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

عالمی ردعمل

’پاناما لیکس‘ کے نتیجے میں جتنے ممالک کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اور کمیت اور کیفیت ہر دو کے سلسلے میں جو وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے اس کے ایک طرف یورپ اور امریکا کی قیادتیں ہیں، جن کے ساتھ مشرقی ممالک کی قیادت کو بھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، تو دوسری طرف عوامی سطح پر اس نے عام لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ استعجاب اور غصے کے بعد اب جو ردعمل ظہور پذیر ہوا ہے، وہ غلامی اور استحصال کے اس نظام کے خلاف بغاوت اور اس سے نجات کی جدوجہد کا ہے۔ اگر اس پہلوسے جان دار ردعمل رُونما ہوسکے تو اس شر سے بہت خیر کے رُونما ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت کیا احساسات کروٹ لے رہے ہیں، اس کا تھوڑا سا اندازہ مندرجہ ذیل آرا سے کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت کے عوامی ردعمل اور ہوا کے رُخ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز A Global Web of Corruption کے زیرعنوان ادارتی مقالے (۷؍اپریل ۲۰۱۶ئ) میں بیان کرتا ہے:

سامنے آنے والی ان دستاویزات پر جنھیں ’پاناما دستاویزات‘ کا نام دیا گیا ہے، پہلا ردعمل حیرت زدگی کا ہے، اس دستاویزی ذخیرے کے پھیلائو اور حجم پر اور اس گم نام ذریعے کی غیرمعمولی ہنرمندی پر، جس نے ایک کروڑ ۱۵لاکھ دستاویزات یعنی ۶ئ۲ ٹیرابائٹس کے غیرمعمولی انکشافات پریس کے سامنے لائے، کس طرح آف شور بنک اکائونٹ اور ٹیکس پناہ گاہیں دنیا کے امیر اور طاقت ور افراد اپنی دولت چھپانے یا ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس کے بعد دوسرا ردعمل نفرت اور کراہت کا ہے۔ پوری دنیا میں ۱۴ہزار سے زیادہ گاہک اور ۲لاکھ ۱۴ہزار ۵سو سے زیادہ آف شور عناصر نے پاناما کی Mossack Fonseca کمپنی،کو جس کی خفیہ دستاویزات ظاہر ہوئی تھیں، شریکِ جرم کیا۔ یہ معصومیت سے اصرار کرتی ہے کہ اس نے کسی قانون یا اخلاقیات کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

لیکن یہ تمام سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں: کس طرح یہ سب سیاست دان ، آمر، مجرم، ارب پتی اور مشہور شخصیات بہت زیادہ دولت جمع کرتے ہیں اور پھر کس طرح ان شیل کمپنیوں کے پیچیدہ جال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، تاکہ اپنی دولت کو چھپائیں؟

 پھر سب سے بڑا اور مرکزی سوال یہ بھی ہے کہ کیا انکشافات کے بعد کوئی چیز تبدیل بھی ہوگی؟ بہت سی رسمی تردیدیں بھی کی گئی ہیں اور سرکاری تحقیقات کے وعدے بھی کیے گئے ہیں، لیکن قانون اور عوام کے سامنے شرمندگی کو اس عالمی اعلیٰ طبقے پر کس حد تک برتری حاصل ہوگی؟ وہ عوام جو حکومتی سطح پر مالیات میں کرپشن کے باربار انکشافات سے پہلے ہی گھبرائے ہوئے ہیں، وہ حقیقت جاننے کا مطالبہ کریں گے۔

ان دستاویزات میں ایک ایسی عالمی صنعت کو تاریخی طور پر ترتیب وار جمع کیا گیا ہے، جس نے ایک بین الاقوامی اشرافیہ کو کرپٹ اور غیرقانونی ذرائع سے مالامال کیا ہے، تاکہ اپنی دولت اور اس کاروبار کو ٹیکسوں، مقدمات اور عوامی غیظ و غضب سے چھپائیں۔ یہ دستاویزات اس مشکوک دولت کا انکشاف کرتی ہیں جسے سرکاری ملازمین نے چھپایا ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ پاناما دستاویزات ایک ایسی صنعت کا انکشاف کرتی ہیں جو   بین الاقوامی مالیات کی دراڑوں اور خفیہ راستوں میں پھلتی پھولتی ہے۔ اس نظام کا ایک نتیجہ ٹیکس آمدنی کا وہ حصہ ہے جو وصول نہ ہوسکا۔ اس سے زیادہ خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ یہ جمہوری حکومت اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے کیوںکہ بدعنوان سیاست دانوں کے پاس، ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں وہ چوری کیے ہوئے اثاثوں کو عوام کی نظروں سے بچاکر خفیہ جگہ پر رکھتے ہیں۔

لندن کے اخبار دی آبزرور (The Observer، ۱۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ) نے ادارتی نوٹ میں برطانیہ اور اس کے وزیراعظم کے حوالے سے بات کہی ہے، لیکن اس کا پیغام بھی عالم گیر ہے:

’پاناما دستاویزات‘ کے جو حصے سامنے آئے ہیں اور ان میں جو انکشافات کیے گئے ہیں، وہ پوری دنیا کے رہنمائوں، حکومتوں اور تجارتوں کے لیے سنجیدہ مضمرات رکھتے ہیں۔ اب، جیساکہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ مغربی حکومتیں ہیں، جو ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کو برداشت کرتی اور سہولت دیتی ہیں ،جو موقع پرستانہ اور عموماً غیرقانونی، استحصالی، ایک نجی ملکیت میں کام کرنے والا ہو اور جس کا انتظام و انصرام بڑی حد تک خفیہ ہو، جو خودمختارکنٹرول کے بغیر، نیز ایک منظور شدہ قواعد کی کتاب اور مؤثر قواعد و ضوابط کے بغیر کام کرتا ہو۔اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسی بااختیار تنظیم ہے، جس کی نگرانی اقوامِ متحدہ کرتی ہو۔

پروفیسر مِل گورٹوو جو پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونی ورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں، اپنے ایک مضمون مطبوعہ کاؤنٹر پنچ (Counterpunch، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ) میں لکھتے ہیں:

کثیر قومی کارپوریشنوں کے کاروباری انتظام کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک منافعے کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور ریاست کی خودمختاری کو غیرمستحکم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کم ٹیکس والے ممالک کو منتقل ہوجائیں۔ بہت زیادہ دولت مند افراد کے ٹیکس سے فرار کے نتیجے میں غریبوں پر ٹیکس زیادہ ہو جاتا ہے۔

ایک یورپی مفکر، جس نے یورپ اور امریکا میں تدریس اور تحقیق کے طویل عرصے تک فرائض انجام دیے ہیں، اس نے اس پورے مسئلے پر الجزیرہ ٹیلی وژن (۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ) پر اپنی ایک تقریر Panama Papers: Why should we care?  کے دوران بڑی پتے کی بات کہی ہے:

ایک ایسی دنیا میں جس میں عدم مساوات انتہا کو چھوتی ہو اور سماجی مسائل بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہوں، جیساکہ ہماری دنیا ہے، ٹیکس پناہ گاہوں کے وجود سے ٹیکس سے بچنے کے معاشی، سماجی اور سیاسی طریقے بے پناہ ہیں۔ ایسے میں وہ معاشرے جو ٹیکسوں کے بغیر ضروری معیار پر کام کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے، ناگزیر سماجی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہیں گے۔

لیکن جب مزدور اور اوسط درجے کے تاجر پوری شرح پر ٹیکس ادا کر رہے ہوں، جب کہ عالمی معیشت کی ساتھ ساتھ بڑھوتری اور آف شور پناہ گاہوں کے پھیلنے کی وجہ سے عالمی کارپوریشنوں اور غیرمعمولی دولت مند برسہا بر س سے کم سے کم ٹیکس ادا کر رہے ہوں___ تو پھر عالمی سرمایہ داری، ٹیکسوں کی ناانصافی اور جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کو خوش آمدید کہیے!

آخری بات یہ ہے کہ ’پانامادستاویزات‘ نے جس چیز کا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ صرف عالمی ٹیکس کا نظام نہیں بلکہ بذاتِ خود عالمی طرزِحکمرانی ٹوٹ گیا ہے۔ اب آخری چیلنج یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کو بذاتِ خود تبدیل کیا جائے۔(الجزیرہ، ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ)

اخلاقی اور نظریاتی پھلو

’پاناما دستاویزات‘ پر جو ردعمل پاکستان میں سامنے آیا ہے اور جن اُمور پر بحث ہورہی ہے، ان پر بھی ہم کلام کریں گے، لیکن جو دو پہلو بدقسمتی سے اس بحث و مباحثے میں تقریباً مفقود ہیں، وہ اخلاقی، نظریاتی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی تباہ کاریوں کا حوالہ ہے، اور جس میں فتنے کی اصل جڑیں ہیں۔

دولت کا ایک وہ تصور ہے جو حرام اور حلال اور انصاف اور ظلم اور دولت کی پیدایش، وسائل کی ترقی اور انسانی معاشرے کی خوش حالی اور تہذیب و ثقافت کی آبیاری سے متعلق ہے۔    یہ زیربحث ہی نہیں آرہا۔ بلاشبہہ افراد کی کرپشن اہم ہے اور اس کے نتائج ملک و معاشرے کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس پر مؤثر گرفت بھی ہونی چاہیے کہ یہ انصاف کا تقاضا ہے اور ترقی اور خوش حالی کے لیے ضروری شرط ہے۔ لیکن کالے دھن کے اس کاروبار میں اَخلاق ، قانون، معاشرے، سرمایے اور دولت کے رشتے کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے، وہ بحث کو یک رُخا بنادیتا ہے۔  اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کو درپیش مسئلے کو، اس کے تاریخی اور عالمی معاشی نظام کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں۔

ہماری نگاہ میں اس کے تین پہلوئوں کو (جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں) سمجھنا، ان کے اسباب کا تعین اور حالات کی اصلاح کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر تبدیلی کا نقشۂ کار مرتب کرنا اصل ضرورت ہے۔

کالے دھن کی لعنت، دولت کے بارے میں غلط تصور، صرف مادی ترقی اور ذاتی اور خاندانی ثروت کی تگ و دو، حرام و حلال اور جائز و ناجائز سے بے پروا ہوکر دولت کی افزایش کا لالچ اور طمع، حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں سے اغماض اور صرف ذاتی غرض اور طمع کا اسیر بن جانا سارے بگاڑ کی بنیاد ہے اور کالا دھن اسی ذہن اور اسی روش کی پیداوار ہے۔

جو دین اسلام یہ حکم دیتا ہو کہ: ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو، دولت پیدا کرو، مگر اس لیے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرو، دعوت اور جہاد کی ضرورتوں کو پورا کرو، معاشرے اور ریاست کی خدمت کرو، ضرورت مندوں اور مجبوروں کو اُوپر اُٹھانے کے لیے وسائل کو بلاتامّل استعمال کرو۔ پھر جو دین یہ بھی دل و دماغ میں محکم کرتا ہو کہ: جواب دہی صرف ظاہری طور پر قانون اور معاشرے کے سامنے نہیں، سب سے بڑھ کر اللہ کے سامنے ہے اور ہم میں سے ہر فرد کو پائی پائی کا حساب دینا ہوگا کہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کیسے خرچ کیا تھا؟ تو پھر پوری معاشی زندگی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

اگر ہمارے دعوے ’مذہبی پس منظر کے حامل خاندان‘ کے سے ہیں اور ہمارا ذہن اور رویہ خالص مادہ پرستانہ اور سرمایہ دارانہ فکرو اَخلاق ہی پر استوار ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ دین پرستی اور مادہ پرستی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ مسئلے کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے اس اخلاقی اور نظریاتی پہلو کو بالکل شروع ہی میں واضح کردیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کالے دھن، ٹیکس چوری، کرپشن سے حاصل کردہ دولت، ٹیکس چوری کی پناہ گاہوںمیں چھپنے کا کھیل___ اسے مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے اس پس منظر میں قارئین کے سامنے رکھیں، جس میں یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس میں اپنے اور غیرسب برابر کے شریک ہیں۔ جن ۱۲ سربراہانِ مملکت کا نام لے کر ان کے یا ان کی اولاد کے یا قریبی عزیزوں کے ملوث ہونے کا ذکر ان دستاویزات میں آیا ہے ، ان میں سے چھے، یعنی ۵۰ فی صد مسلمان ہیں، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔

کرپشن کے خلاف مغربی قیادتیں اظہارِبیان کا لمباچوڑا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ لیکن ان کا قانون، ان کی پالیسیاں، ان کے بنائے ہوئے انتظامات ہی وہ فضا اور میدان فراہم کر رہے ہیں، جس میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جو یورپ کا مالیاتی دارالحکومت ہے اور ہانگ کانگ جو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ ہے، اس کے بعد امریکا اس وقت ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں نمایاں ترین  مقام رکھتا ہے۔ خصوصیت سے اس کی چھے ریاستیں جو ’فرارِ ٹیکس‘ کی پناہ گاہوں کا درجہ رکھتی ہیں،  اس سارے کھیل کی آماج گاہ ہیں۔ برطانیہ کے جزائر تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو ایک طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔

گذشتہ ۱۰۰ سال سے یورپ کے بیش تر ممالک میں ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارت دونوں کے سلسلے میں رشوت دے کر کاروبار حاصل کرنا، ایک جائز اور قانونی فعل تھا، اور اسے باقاعدہ حسابات میں ضروری اخراجات کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی صرف گذشتہ ۱۵،۲۰ سال میں آئی ہے کہ اس کھلی کھلی مالی بدعنوانی کے لیے قانونی جواز کو ختم کیا گیا ہے۔ اگرچہ عملاً یہ کھیل  اب بھی جاری ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق چند   یورپی ممالک میں اب بھی کاروبار کے فروغ کے لیے اور خصوصیت سے اسلحے کی فروخت اور میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں، اپنے ملک سے باہر رشوت اور کمیشن کی جادوگری کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔

آج کے دور میں کالے دھن کی ریل پیل کو سمجھنے کے لیے یہ پس منظر جاننا ضروری ہے اور اس کا جو تزویری تعلق نظام سرمایہ داری، اس کی بنیادی اقدار اور نظامِ کار سے ہے، اس کو سمجھنا ، ازحد ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر ملک میں آپ سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیں گے تو ان تمام بُرائیوں اور تباہ کاریوں سے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں موضوعِ زیربحث کے تین پہلو ہیں، یعنی:

۱- کالا دھن، ان کی کمیت، کیفیت، تباہ کاریاں۔ ان کا ادراک اور لعنت سے نجات کی کوشش۔

۲- وہ نظام ظلم اور استحصال جو اس لعنت کو پیدا کرتا، پروان چڑھاتا اور معتبر بناتا ہے، بلکہ مذہبی پس منظر کے دعوے دار بھی کھلے بندوں اس سے فیض پانے کا اعلان کرتے ہیں۔’فرارِٹیکس‘ (Tax evasion) خلافِ قانون ہوسکتا ہے، لیکن ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax avoidence) تو ہمارا حق ہے اور اس کے لیے جہاں بھی جانا پڑے، ہمارا پیدایشی حق ہے۔

۳- تیسرا پہلو حالات کی اصلاح کا ہے اور پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں: یعنی احتساب اور غلط کام پر اصولِ انصاف اور قانون کے مطابق مضبوط اور مؤثر گرفت اور نظام، اور اس سے بھی  بڑھ کر اس ذہن وفکر اور طرزِزندگی کی اصلاح، تاکہ ظلم اور استحصال کے نظام سے بچاجاسکے۔

مجھے افسوس ہے کہ اپنی صحت کی خرابی کے باعث اس اہم موضوع سے متعلق قرارواقعی معلومات پیش نہیں کرسکا اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آیندہ اپنی گزارشات پیش کروں گا۔ اس وقت صرف چند ضروری نکات کی نشان دہی کرتا ہوں، اور ملک کی قیادت اور خصوصیت سے اسلامی قوتوں کو ان پر غور کرنے اور ان کی روشنی میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی طے کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

مسئلے کا حل اور مجوزہ اقدامات

۱-پہلی بات یہ ہے کہ ’پاناما دستاویزات‘ میں جو نام آئے ہیں اور جو مزید آئیں گے، ان سب کے بارے میں ایک واضح پالیسی اور طے شدہ قاعدے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔  اس کے لیے اس وقت ملک میں اور دنیا میں جو قانونی پوزیشن ہے، اس کی روشنی میں یہ کارروائی ہونی چاہیے۔ شاید اس کے لیے مناسب ترین انتظام یہ ہوکہ ملک میں حکومت، تمام اپوزیشن جماعتوں، عدلیہ اور سول سوسائٹی اور اچھی شہرت رکھنے والے سابق سول بیوروکریسی اور اعلیٰ فوجی افسران کے مشورے سے قومی احتساب کا ایک آزاد، بااختیار اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جائے اور اسے تفتیش اور قانونی گرفت (Prosecution) کے پورے اختیارات دیے جائیں، ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور تربیت کا نظام بنایا جائے۔ نیزاس کے اندر بھی احتساب و توازن (check & balance) کا اہتمام کیا جائے اور متعین وقت کے اندر اسے زیرغور معاملات کو طے کرنے کا پابند کیا جائے۔

اس کی رپورٹ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہو، اور اس پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں کھل کر بحث کی جائے، تاکہ یہ ادارہ فی الحقیقت مؤثرانداز میں کام کرے اور محض ’باہمی مالیاتی سودے بازی‘ ( Plea bargaining) کا اکھاڑہ نہ بن جائے۔ یہاں پر مثال کے طور پر یہ امر مدنظر رہے کہ بھارت نے ۲۰۱۳ء میں بیرونی ممالک میں بھارت کے کالے دھن پر گرفت کاقانون بنایا اور احتساب کا نظام قائم کیا ۔ اب تک اس کی دورپورٹیں آچکی ہیں اور گذشتہ دوسال میں، ٹیکس سے بچ جانے والے سرمایے سے ٹیکس کی مد میں ۶؍ارب ڈالر سے زیادہ واجبات وصول کیے جاچکے ہیں۔اگر بھارت میں یہ ہوسکتا ہے تو ہمارے ہاں اس کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے؟

۲- موجودہ خصوصی صورت حال کے پیش نظر جوڈیشل کمیشن بھی ایک مناسب حل ہے۔ ضرورت ہے کہ بحث کو صرف ٹی وی اور گلیوں میں کرنے کے بجاے بامعنی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو طے کیا جائے۔ جوڈیشل کمیشن کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے تحت اسی کے فیصلے سے تفتیشی ٹیم مقرر ہونی چاہیے جو ایسے معتبر اور تجربہ کار افراد پر مشتمل ہو، جو متعلقہ اُمور کے بارے میں انصاف کے ساتھ تفتیش کرسکیں یا کراسکیں اور عدالتی کمیشن کی صحیح معاونت کرسکیں۔

اس کمیشن کو اپنا کام ایک متعین مدت میں ختم کر دینا چاہیے اور پھر اس کے کام اور تفتیشی ٹیم کی سفارشات کی روشنی میں اُوپر جس احتساب کمیشن کا مشورہ دیا گیا ہے، وہ کام کو جاری رکھے۔

مجوزہ کمیشن کام کا آغاز موجودہ حکومت کے ان تمام افراد کے بارے میں تحقیق و تفتیش سے کرے، جن کا نام ’پاناما دستاویزات‘ میں آیا ہے اور یہ ۱۹۸۶ء سے اب تک کے عرصے کو اپنے   دائرۂ بحث میں لائے۔ لیکن اس کے بعد اس کمیشن کو دو مزید سیاسی قوتوں سے متعلق افراد کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے___ یعنی سابق صدر جناب آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے وہ لوگ اور اس کے اتحادی، جو ۱۹۸۸ء کے بعد سے حکومت میں رہے ہیں۔ اس طرح تیسرا سیاسی گروہ صدرپرویز مشرف ان کی حلیف مسلم لیگ کی شریکِ اقتدار پارٹیاں یا شخصیات ہیں، جو جنرل موصوف کے ساتھ ۲۰۰۲ء سے شریک رہی ہیں۔اس طرح گذشتہ ۳۰برس میں جن تین بڑے گروپوں کے ہاتھوں میں حکومت کی زمام کار تھی، ان کا احتساب اسی ترتیب سے اس جوڈیشل کمیشن کو کرنا چاہیے۔ باقی افراد، اداروں، تجارتی اور دوسرے اداروں کا احتساب اسی ماڈل کی روشنی میں مستقل ادارۂ احتساب کرے۔

واضح رہے کہ جناب محمد نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے بارے میں سوالات ۱۹۹۲ء سے اُٹھ رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے دور سے لے کر اب تک ان کے اثاثہ جات میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے آئے۔ آمدنی کے ذرائع، اس پر ٹیکس کی ادایگی، سرمایے کی ملک سے باہر منتقلی، بیرونِ پاکستان جایدادوں اور کاروبار کا حصول، ہرچیز سامنے آنی چاہیے۔ ماشاء اللہ، اب ان کے بچے بڑے ہیں، اور اپنے معاملات کے ذمے دار ہیں، لیکن انھوں نے اپنے کاروبار کا آغاز تو محمد نواز شریف صاحب ہی کے عطا کردہ وسائل سے کیا تھا۔ اس سے متعلق اُمور سامنے آنے چاہییں۔

اسی طرح جناب آصف علی زرداری اور ان کی اہلیہ مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے مالی معاملات، شادی کے وقت ان کے مالی وسائل اور اس کے بعد سے اب تک اس خانوادے نے خود یا اپنے نمایندوں (proxies )کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا، اس کی تفصیل اور دلیل و جواز (justifications) قوم کے سامنے آنے ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی دستاویزات ملک کے اداروں یا عالمی اداروں اور میڈیا کے پاس ہیں، ان سب کی روشنی میں حالات اور معاملات کی پوری تصویر قوم کے سامنے پیش کی جانی ازبس ضروری ہے۔

ہم نے مارچ ۲۰۱۶ء کے اشارات اور دوسرے متعدد اہلِ قلم نے اپنے مضامین اور کالموں میں ان اسکینڈلوں کا ذکر کیا ہے، جو گارڈین، بی بی سی، برطانوی اور سوئس عدالتوں کے فیصلوں میں ضبط ِ تحریرآچکے ہیں۔ جن کا خلاصہ ریمنڈڈبلیو بیکر نے اپنی کتابCapitalism's Achilles Heel (مطبوعہ ۲۰۰۵ئ) میں پیش کیا ہے، اور جس میں زرداری صاحب کے خاندان کے علاوہ، بلاواسطہ یا بالواسطہ آف شورکمپنیوں اور درجنوں بنک اکائونٹس کی تفصیل دی گئی ہے (ملاحظہ ہو: ص۷۷ تا ۸۲)۔ اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بڑی اہم رپورٹ ۲۰۰۴ء میں، لندن سے شائع ہوئی تھی، جس کے صفحہ۱۰۲ سے ۱۰۴ تک، گرافکس کی شکل میں تفصیلات پیش کی گئی ہیں،انھیں بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہی معاملہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے شرکاے اقتدار گروہ کا ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۹ء میں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اثاثوں کا اعلان کیا تھا۔ آج جو کچھ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں اب خاصی معلومات مغربی میڈیا اور خود پاکستانی میڈیا میں برابر آرہی ہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد، کراچی، دبئی، لندن اور نیویارک میں ان کے پاس اربوں روپے کی جایدادیں ہیں۔ کروڑوں ڈالر، درجنوں بنک اکائونٹس میں موجود ہیں۔ ان کو بھی اپنے تمام اثاثوں اور ان کے حصول کی تفصیلات کا حساب دینا ہوگا۔ اور یہی معاملہ اس دور میں ان لوگوں کے    ساتھ ہونا چاہیے، جو ان کے شریکِ اقتدار رہے ہیں۔ اندرونِ خانہ کیا کیا کچھ ہوتا رہا ہے، اس کی کچھ جھلکیاں، جنرل مشرف کے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل شاہدعزیز کی کتاب یہ خاموشی کہاں تک؟ میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم کی قیادت کے بارے میں جو معلومات سامنے آرہی ہیں، وہ بھی اسی دور کا قصہ ہیں۔

اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم ان تین بڑے بڑے ٹولوں (شریف خاندان، زرداری خاندان، مشرف اور ان کے رفقاے کار) کے مالی معاملات کا پورا پورا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنی پاک دامنی ثابت کردیں تو سر آنکھوں پر۔ لیکن اس کے برعکس، جس جس کا دامن داغ دار ہے، اس کا احتساب شفاف انداز میں ہونا چاہیے، تاکہ کالے دھن کے اس کاروبار پر کہیں تو ضرب لگے اور کسی مقام پر تو اس کو روکا جاسکے، تاکہ اس تاریک باب کو کہیں ختم کیا جاسکے اور شفاف قومی زندگی کے نئے باب کا آغاز ہوسکے۔۱؎

جوڈیشل کمیشن کی شرائط ِ تحقیقات (ToRs) میڈیا میں اور سڑکوں پر طے نہیں ہوسکتے، بلکہ حکومت اور اپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھیں اور طے کرلیں۔ ماضی میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور یہی ہے وہ طریقہ جس سے سیاسی مسائل طے ہوتے ہیں۔

۴- ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ ۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کے بعد سے حکومت ِ پاکستان کے نمایندوں اور اپوزیشن کے ترجمانوں کے درمیان جس زبان میں، جس انداز میں، اور جن پلیٹ فارموں پر لفظی جنگ جاری ہے، اسے ختم کرنا ازحد ضروری ہے۔ اصولی بات کہنے کا موقع ہمیشہ رہتا ہے، لیکن جتنے شخصی انداز میں اور جس زبان اور لہجے میں بات ہورہی ہے، اسے کسی مہذب معاشرے، چہ جائیکہ ایک مسلمان معاشرے میں مناسب، جائز اور معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ سب اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ شرائطِ تحقیقات طے کر کے معاملہ عدالتی کمیشن کے سپرد کردیں اور عدالتی کمیشن بھی اپنے لیے خود ضابطۂ کار طے کرلے، تاکہ ایک طرف اصل مسائل اور معاملات سے انصاف کیا جاسکے اور دوسری طرف کمرئہ عدالت سیاسی محاذآرائی کا ذریعہ نہ بن جائے، بلکہ گرمیِ گفتار کو قابوکرکے ساری توجہ حقیقی تفتیش، تحقیق اور حقائق کے تعین پر مرکوز ہونی چاہیے۔

۵- ہم پورے ادب اور دل سوزی سے میڈیا سے بھی درخواست کریں گے کہ اپنے رویے پر غور کرے۔ حقائق کی تلاش اور مختلف نقطہ ہاے نظر کی عکاسی ان کی ذمہ داری ہے، مگر خود فریق بن جانا اور جلتی پر تیل ڈالنا، ہرچیز کو تماشا بنانا کبھی بھی صحت مند صحافت کی روایت نہیں رہی اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ ہم سنسرشپ کے حامی نہیں، لیکن خوداختیاری سنسرشپ، احساسِ ذمہ داری کی ایک بہتر مثال ہے۔یہی وہ راستہ ہے جس سے زیادہ معتبر اور باوقار انداز سے بحث و گفتگو کو صحیح دائرے میں رکھا جاسکتا ہے اور اصل مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے، جس سے ملک کو کالے دھن اور اقتدار اور اختیار کے غلط استعمال کی لعنتوں سے پاک کیا جاسکتا ہے۔

۶- ملک اس وقت بہت ہی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل، قومی سلامتی کو چیلنج، افغانستان اور بھارت کا رویہ، امریکا کے بدلتے ہوئے تیور، شرق اوسط کا خلفشار، یہ وہ شعلہ فشاں پہلو ہیں جو ہمارے لیے آزمایش کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ علاقائی اور عالمی تناظر میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ان حالات میں ملک کے تمام اداروں اور مؤثر قوتوں کے درمیان تعاون اور مشاورت سے معاملات کو طے کرنے اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ سول، ملٹری تعلقات کا مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے، جسے نظرانداز کیا جاسکے اور نہ  اسے قالین کے نیچے دبا کر رکھا جاسکتا ہے۔

کچھ عناصر تصادم کی فضا بنانے پرتلے نظر آتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو ختم کرنا (diffuse) ازبس ضروری ہے۔ ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے کو بڑھانے میں حکومت وقت کی   خراب حکمرانی ہی واحد سبب نہیں ہے، بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بہت سے عناصر اس آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وہ وقت ہے جب حکومت اور پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور میڈیا بھی ان حدود کا پورا پورا لحاظ رکھے، جو ایسے نازک معاملات کو سلجھانے اور بروے کار لانے کے لیے ضروری ہیں۔

دستور کے تحت کابینہ کی ’دفاع و سلامتی کی کمیٹی‘ وہ اہم فورم ہے، جسے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اس کی نشست کا فی الحال باقاعدگی سے ہر مہینے اہتمام کیا جائے، جسے بعد میں حالات کی مناسبت سے معمول بنا لیا جائے۔ اسی طرح کابینہ کا اجلاس ہر ماہ لازماً ہونا چاہیے۔ وفاقی کابینہ اور ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ (CCI) وہ ادارے ہیں، جن کو باقاعدگی سے اپنے اداراتی فرائض انجام دینے چاہییں۔ پارلیمانی حکومت نام ہی کیبنٹ گورنمنٹ کا ہے، ورنہ یہ ایک قسم کا صدارتی نظام بن جاتا ہے۔یہ ہمارے دستور اور ہمارے زمینی حقائق دونوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور بدقسمتی سے ہم اس طرف لڑھکتے چلے جارہے ہیں۔اس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔

۷- حکومت اور اپوزیشن دونوں اسمبلی اور سینیٹ کو قرارِ واقعی اہمیت دیں اور ریاست کے تمام اداروں کو ان کی دستور کی طے کردہ حدود کار اور آج کے زمینی حقائق دونوں کی روشنی میں خوش اسلوبی کے ساتھ اصل توازن کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔

دستور ایک معاہدۂ عمرانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دستور کے فریم ورک میں سارے سیاسی مسائل اور اختلافات کو حل کیا جاناچاہیے۔ دستور کے دائرے سے نکل کر جو بھی حل ہوگا، وہ حل نہیں، بلکہ نئے مسائل اور مشکلات کا پیش خیمہ بن جائے گا، اور خدانخواستہ ملک ایسے خلفشار کا بھی نشانہ بن سکتا ہے جو اس کے لیے تباہی کا باعث ہو۔ توقع ہے کہ اس اشارے کو سبھی سیاسی عناصر اور قوتیں محسوس کریں گی، اور دستور سے کھیل کھیلنے کا کسی کو موقع نہیں دیں گی۔

۸- لوکل گورنمنٹ کو جلد از جلد قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انھیں اختیارات اور وسائل دونوں دیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی ساری توجہ کا مرکز وفاق اور اپنے اپنے صوبے کے مسائل پر ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں قانون سازی، پالیسی سازی، حکومت کی کارکردگی پر نگرانی، عوامی مسائل پر توجہ اور حکومت اور عوام کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ترقیاتی کاموں ہی میں ان کو گھسیٹنا اور پھر ترقیاتی فنڈ ان کے توسط سے خرچ کرنا بڑے خسارے کا سودا ہے،جو بدقسمتی سے وزیراعظم محمد خاں جونیجو صاحب (۸۸-۱۹۸۵ئ) کے دور سے شروع ہوا اور کرپشن کے فروغ اور اچھی حکمرانی کے پٹڑی سے اُترنے کا سبب بنا ہے۔ اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے۔ جو کام لوکل گورنمنٹ کا ہے، وہ لوکل گورنمنٹ کرے اور جو کام صوبے اور مرکز کے اداروں کا ہے، وہ انھیں انجام دیں۔ ترقیاتی کام کے سلسلے میں مرکزی پلاننگ کمیشن اور ہرہرصوبے میں مؤثر پلاننگ کمیشن ضروری ہیں۔ اسی طرح پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی شکنجے سے نکالنا بھی ازبس ضروری ہے۔ فوج اور رینجرز سے معاملہ کاری ( equation) پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ عدالت کی اپنی اصلاح ، تقویت، تربیت اور احتساب، یہ سب ضروری ہیں۔

۹- یہاں ہم دو مسئلوں کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں: ایک معاشرے کا اخلاقی بگاڑ، جس کے نتیجے میں باہمی حقوق کے احترام کا فقدان ہے۔ رواداری اور خوش خلقی سے معاشرہ محروم ہوتا جارہا ہے۔ جرائم اور جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور بحیثیت مجموعی معاشرے میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو خطرے کی علامت ہے۔ الحمدللہ، آج بھی ہمارے معاشرے میں جو خیر ہے، وہ اللہ کی نعمت ہے اور اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ لیکن یہ فکرمندی بھی ضروری ہے کہ معاشرے کی اقدار کمزور ہورہی ہیں اور اخلاقی بگاڑ میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی سب کو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرفرد، خاندان، معاشرہ، دینی اور سیاسی قوتیں، سول سوسائٹی، حکومت اور اس کے تمام ادارے ___ اس باب میں ہر ایک کو متحرک ہونا پڑے گا۔ کرپشن پر گرفت کے لیے احتساب کا مؤثر نظام ضروری ہے، مگر کرپشن کو ختم کرنے کے لیے فرد اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر و اصلاح اور ان اسباب کا    چُن چُن کر قلع قمع کرنا ضروری ہے، جو اسے جنم دے رہے ہیں اور پروان چڑھا رہے ہیں۔ آنکھیں بند کرنے سے معاملات حل نہیں ہوسکتے، مسائل کو کھلی آنکھوں دیکھ سمجھ کر ہی قابو میں لایا جاسکتا ہے۔

۱۰-آخر میں عرض یہ ہے کہ ہمیں ملک کو نظریاتی اور فکری انتشار سے بچانا ہے۔ ہماری آبادی کا ۹۰ فی صد اپنے دین اور نظریے، اپنے ملّی اور قومی تشخص، اپنی اخلاقی اور تہذیبی اساس اور اپنی نئی نسلوں کی منزل کے بارے میں کسی شک کا شکار نہیں ہے۔ فقط، ایک طبقہ ہے جو کبھی لبرل ازم کا ، کبھی سیکولرزم کا راگ الاپتا ہے۔ کبھی دہشت گردی کو جہاد کا شاخسانہ قرار دے کر، کبھی اپنی تاریخ پر خطِ تنسیخ پھیرنے، اور کبھی قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں میں ذہنی پراگندگی اور خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں انگریزی صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کا رویہ خاصا پریشان کن بلکہ وطن دشمنانہہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سب عناصر سے بھی مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان حضرات کو جہاں اپنے نظریات پر قائم رہنے کا حق ہے، وہیں انھیں بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی شناخت اور مسلم معاشرے کی بنیادی اقدار کوئی بحث طلب شے نہیں ہیں۔اپنے اور غیروں کے کیے ہوئے تمام جائزے (سروے) شاہد ہیں کہ ۹۰ فی صد آبادی شریعت کی بالادستی اور اسلامی اقدار و احکام کی  پاس داری کی خواہاں ہے۔ یہ جذبہ شہری اور دیہی آبادی میں، مردوں اور عورتوں میں، عمررسیدہ افراد اور نوعمر آبادی میں ایک ہی طرز (pattern) پر ہے۔ یہ زمینی حقائق ہیں، جن کا احترام ہی قوم اور معاشرے میں ہم آہنگی اور تعمیری قوتوں کی تقویت کا باعث ہوسکتا ہے۔

جس قوم میں تعداد میں کم ،مگر وسائل میں مضبوط بااثر ، صاحب ِ ثروت طبقوں اور عوام الناس کے درمیان نظریاتی اور تہذیبی کش مکش برپا رہے، وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اختلاف راے کا احترام مہذب معاشرے کی شناخت ہے۔ تاہم، یہ بھی مہذب معاشرے ہی کی ایک ضرورت ہے کہ بااثر افراد، اکثریت کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں اور تبدیلی کا راستہ افہام و تفہیم اور تعلیم و تعلّم اور اختلاف اور احترام کے ذریعے استوار کریں۔ اگر ایک مخصوص اقلیت محض اپنے وسائل اور بالاتر پوزیشن کے زعم میں اپنے خیالات اور ترجیحات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو یہ تصادم اور تباہی کا راستہ ہوگا۔

ہم ان افراد کو بھی جو مذہبی تشددکا راستہ اختیار کرتے ہیں، یہی مشورہ دیں گے جو لبرل، تشدد پسندوں کو دے رہے ہیں کہ مستقبل کی روشن راہ صرف اعتدال اور توازن میں ہے۔ اپنے مسلک پر قائم رہیے، لیکن دوسرے کے مسلک کی تحقیر نہ کیجیے۔ رواداری اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہے، جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔زندگی اور عزت سے زندہ رہنے کا یہی راستہ ہے، جس پر ہمیں ہمت اور استقلال سے سرگرمِ کار رہنا چاہیے۔

دنیا ان کو پروفیسر ڈاکٹرظفر اسحاق انصاری کے نام سے جانتی ہے، مگر میرے لیے وہ صرف راجا بھائی تھے اور رہیں گے۔ مئی ۱۹۴۹ء میں بھائی ضمیر اور خرم بھائی کی معیت میں پہلی ملاقات ہوئی اور آخری اگست ۲۰۱۵ء میں، جب اپنی صحت اور ذاتی حالات کے باعث مَیں یہاں لسٹر آنے پر مجبور ہوا۔ ایک ہی ہفتہ قبل ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی اور پھر ۲۴؍اپریل کی صبح انیس میاں کے ٹیلی فون سے یہ اندوہناک خبر ملی کہ راجا بھائی اللہ کو پیارے ہوگئے___ انا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔  اللہ سے ان کا رشتہ پیارے رب کا رشتہ تھا اور اپنی ۶۷سالہ رفاقت کی بنیاد پر گواہی دیتا ہوں کہ  ان کو ہمیشہ رب کا بندہ اور اس کی رضا کا طالب پایا۔ اب کئی سال کی بیماری اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ بیماری اور ہرتکلیف پر اللہ کا شکر ادا کرنے والا میرا پیارا بھائی اپنے رب کے حضور چلا گیا۔ گویا  ع

عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت ِ خاص کے آغوش میں جگہ دے۔ ۷۰سے زیادہ برسوں پر پھیلی ان کی یہ علمی اور دینی خدمات، خصوصیت سے قرآن کی خدمت کو شرفِ قبولیت سے نوازے، ان کو جنت کے منفرد مقام پر ہمیشہ کے لیے راحت کی زندگی سے سرفراز فرمائے اور جب تک زمین پر انسان بستے ہیں، آسمان ان کی لحد پر مسلسل شبنم افشانی کرتا رہے___ آمین!

میرے لیے یہ دو ماہ بڑی آزمایش کے مہینے رہے ہیں۔ فروری میں میرے ہم زلف سیّدجلال الدین احمد کا اچانک انتقال ہوا۔ ابھی ان کے غم سے آنکھیں اَشک بار تھیں کہ    عزیزی ممتازاحمد جنھیں سب ڈاکٹر ممتاز کہتے تھے لیکن میرے لیے وہ انیس اور مسلم کی طرح  چھوٹے بھائی یا بڑے بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے، کا غم سہنا پڑا۔ معاً بعد یہاں گلاسگو میں ینگ مسلم کے پہلے گروپ کے روحِ رواں اور عزیزی فاروق مراد کا ہم ساز اور ہم زاد عمران کھنڈ ۵۰برس کی عمر میں اللہ کو پیارا ہوا ،اور اب ۲۴؍اپریل کو راجابھائی سے دنیوی جدائی کا زخم سہنا پڑا۔ افسوس کہ    ان میں سے کسی کی نہ آخری زیارت کرسکا اور نہ جنازے میں شرکت___ ہاں، ان کے لیے دعائوں کی سوغات ہے جو ان کی زندگی میں بھی بھیجتا رہا، اور اب اور بھی رقت کے ساتھ اپنے مالک کے حضور بھیج رہا ہوں۔ اللہ کا حکم ہرچیز پر غالب ہے اور اپنے پیاروں کی موت زندگی کی ناپاے داری اور موت کے محکم ہونے کی مؤثر ترین یاد دہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین حق پر قائم رکھے، اپنے سوا کسی کا محتاج نہ بنائے، اور ایمان پر خاتمہ کرے، آمین، ثم آمین۔ طالب علمی کے زمانے میں انگریزی ادب اور شاعری کا بھی کچھ رشتہ تھا۔ نہ معلوم کیوں شیکسپیئر کے یہ اشعار ذہن کے اُفق پر اُبھر آئے، جو ان چند ہفتوں کے حادثات کے عکاس ہیں:

When sorrows come,

They come not single spies

They come in battallions

One woe treads, the others heal,

So soon they follow

ہر آزمایش اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور اسی سے ہر غم اور آزمایش پر صبر و استقامت کی التجا ہے۔

برادرم ظفراسحاق الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی اسناد پر ان کی پیدایش دسمبر۱۹۳۲ء کی ہے، لیکن ہمارے بچپن میں انگریزی دور کی ’برکات‘ میں ایک یہ بھی تھی کہ اسکول میں داخلے کے وقت عمرکم لکھوائی جاتی تھی، تاکہ آئی سی ایس کے داخلہ امتحان کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی جو قید ہے، اس میں کچھ وسعت آجائے۔ میری پیدایش بھی اسکول کے ریکارڈ میں ۱۹۳۴ء ہے جو حقیقت میں ۱۹۳۲ء تھی اور راجا بھائی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ وہ مجھ سے دو سال بڑے تھے، عمر میں بھی اور تعلیم کے میدان میں بھی۔ میں نے جس سال انٹرکامرس کیا ،انھوں نے اسی سال بی اے کیا تھا۔

مئی ۱۹۴۹ء میں ہماری شناسائی کا آغاز ہوا۔ میرے بڑے بھائی احمدضمیر مرحوم اور خرم بھائی مرحوم ڈی جے کالج میں کلاس فیلو تھے اور راجا بھائی ان کے اوّلین احباب میں سے تھے اور اسلامیہ کالج میں پڑھ رہے تھے۔ اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا کُل انسانی سرمایہ سات آٹھ افراد تھے۔ خرم اور راجا ان کا محور تھے۔ مَیں فروری ۱۹۴۸ء میں دلّی سے پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ایک سال لاہور میں زیرتعلیم رہا اور پھر مئی ۱۹۴۹ء میں کراچی منتقل ہوا۔ یہی وہ لمحہ ہے، جب مجھے جمعیت سے شناسائی حاصل ہوئی اور اس کا ذریعہ بھائی ضمیر کے ساتھ خرم اور راجا بنے۔

خرم اور راجا سے پہلی ہی ملاقات میں ایک ایسا تعلق قائم ہوگیا، جو زمانے کے تمام نشیب و فراز کے باوجود ہر آلایش سے پاک اور گہرائی اور گیرائی ہراعتبار سے روز افزوں رہا۔ راے کا اختلاف کن انسانوں کے درمیان نہیں ہوتا، لیکن یہ ایک کرشمۂ قدرت ہے کہ ہم تینوں کے درمیان زندگی کے مقاصد کے اشتراک کے ساتھ ہمارے درمیان: باہمی اعتماد اور محبت، خیرخواہی اور عملی تعاون کا رشتہ قائم رہا اور سب سے بڑھ کر موجودگی اور عدم موجودگی دونوں میں ہمیں ہم رنگ اور ہم زبان ہونے کی نعمت و سعادت حاصل رہی ہے۔ میرے لیے ایمان کی سعادت اور خاندان کی نعمت کے ساتھ، یہ دوستی زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ رہی ہے اور اس پر رب کا جتنا بھی شکرادا کروں  کم ہے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ ان دونوں سے ملنے اور ان کے ساتھ شیروشکر ہوجانے نے زندگی کا رُخ متعین کر دیا، اور نہ صرف یہ کہ ’ایک ہی بار ہوئی وجہ گرفتاریِ دل‘، بلکہ الحمدللہ      زندگی بھر ان کی نگاہوں کے التفات کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اللہ سے دُعا ہے کہ ہمارا یہ رشتہ اس دنیا تک محدود نہ رہے اور آنے والی اور ابدی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ صرف اپنے رحم اور فضلِ خاص سے ہمیں یہاں سے بہتر زندگی ساتھ گزارنے کی سعادت سے نوازیں، آمین!

راجا بھائی کا ذکر چچا مرحوم کے ذکر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما  مولانا ظفراحمد انصاری ان کے والد تھے۔ وہ علم و فضل، اخلاق و مروت، محبت و شفقت، سیاسی بصیرت اور حُسنِ عمل کا مرقع تھے۔ فلسفہ میں ایم اے امتیازی شان سے کرنے کے بعد ساری زندگی برعظیم کی سیاست کے میدان میں مسلم اُمت کے خاموش معمار کی حیثیت سے بسر کردی اور اس شان سے بسرکی کہ کبھی کسی عہدے یا ذاتی فائدے کا تصور بھی نہیں کیا۔ مقصد صرف اللہ کی رضا،اُمت کی خدمت، پاکستان کی تعمیروترقی، نئی نسلوں کی دینی، اخلاقی اور سیاسی تربیت و رہنمائی تھا اور جو عہد اپنے رب سے کیا، اسے آخری سانس تک سچ کردکھایا۔

راجا بھائی سے جمعیت کے دور میں جو تعلق قائم ہوا، وہ ان کی ذات تک محدود نہیں تھا۔  ان کے تمام بھائیوں اور سب سے بڑھ کر ان کے والد محترم کے ساتھ بھی بالکل باپ کا سا رشتہ  قائم ہوگیا تھا اور ان کی شفقت اور رہنمائی بھی الحمدللہ ان کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہی۔ یہ بھی برعظیم کے پڑھے لکھے مسلمان گھرانوں کی روایت تھی کہ خاندان کے تمام بزرگوں سے    ان کے رُتبے اور مقام کی مناسبت سے تعلق استوار ہوتا تھا۔ راجا بھائی اپنے تایا کو ابّا کہتے تھے اور اپنے والد کو چچا۔ اور ہم نے بھی بچپن ہی سے ان کو چچا کہا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہم ہی نہیں، سبھی ان کو چچا ہی کہتے اور ان کی پدرانہ شفقت ہم سب پر اس طرح تھی کہ یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ رشتے میں کون سگا ہے اور کون اعزازی؟

راجا بھائی اور خرم بھائی دونوں تحریک میں میرے پیش رو ہی نہیں، مجھے یہ راستہ دکھانے والے بھی تھے۔ خرم بھائی کو قرآن سے عشق تھا اور راجا بھائی سیاست اور اجتماعی علوم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اُردو اور انگریزی دونوں پر راجا کو عبور تھا۔ کم لوگوں کو علم ہے کہ جب وہ بی اے کے طالب علم تھے، اس وقت بھی کراچی کے ایک روزنامے کی عملاً ادارت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ میں نے جمعیت کی رکنیت جنوری ۱۹۵۰ء میں اختیار کی۔ خرم اور راجا پہلے سے رکن تھے بلکہ راجا  (اور ایک رکن) نجمی صاحب وہ دو حضرات تھے، جن کو دسمبر ۱۹۴۷ء جمعیت کے تاسیسی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل تھی۔ میں نے ستمبر ۱۹۵۰ء کے سالانہ اجتماع (لاہور) میں پہلی بار شرکت کی۔ ۴نومبر۱۹۵۱ء کو خرم بھائی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے اور اسی سال جمعیت کے دستور کی تدوینِ نو ہوئی۔ اولیں دستور ’قواعد و ضوابط‘ کے عنوان سے محترم نعیم صدیقی کا لکھا ہوا تھا اور جمعیت کا پہلا باقاعدہ دستور جو ابھی تک دستورِعمل ہے، ۱۹۵۲ء میں مرتب ہوا اور اس کی تدوین جس کمیٹی نے کی اس میں خرم بھائی کے علاوہ راجا اور مَیں تھے۔ اس دستور کی بنیادی تسوید (drafting) کا کام زیادہ تر ظفراسحاق نے کیا، اگرچہ نوک پلک درست کرنے میں ہم سب نے حصہ لیا تھا۔

مَیں نے اپنی مرتب کردہ پہلی کتاب Maududi on Islamic Law and Constitution کے ’پیش لفظ‘ میں راجا بھائی کے بارے میں لکھا تھا کہ: یہ کتاب ہماری قلمی رفاقت کا ثمرہ ہے اور میری خواہش تھی کہ ان کا نام میرے ساتھ شریکِ مدیر کی حیثیت سے دیا جائے، جس کو انھوں نے سختی سے ویٹو کر دیا۔ عملاً ہماری اس رفاقت کا آغاز Students's Voiceکی اشاعت سے ہوا، جو ۱۹۵۱ء میں ہم نے مل کر نکالا اور جمعیت ہی نہیں پاکستان میں طالب علم دنیا میں طلبہ کا پہلا پرچہ تھا۔ ایک سال تک اسے سائیکلواسٹایل کرکے ہرماہ لایا جاتا تھا۔ ہم خود اسے لکھتے تھے، قاضی عبدالقادر ٹائپ کرتے تھے اور اسٹنسل کاٹتے تھے۔ محمدمیاں سائیکلواسٹایل کرتے تھے اور پھر سب کارکن مل کر فروخت کرتے اور پھیلاتے تھے۔ ایک سال میں اس کے ایک ہزار خریدار بن گئے تھے، جس سے متاثر ہوکر ہم نے ۱۹۵۲ء میں اسے ۱۵ روزہ مطبوعہ پرچے کی حیثیت سے شائع کیا۔ پہلاشمارہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوا اور پھر صرف چھے مہینے میں ۷ہزار تک پہنچ گیا۔ راجا اور مَیں اس کے ایڈیٹر تھے۔ اس طرح ہماری ادبی رفاقت کا آغاز اسٹوڈنٹس وائس سے ہوا، اور اس کے بعد New Era ، Voice of Islam اور دوسری شکلوں میں زندگی بھر یہ سفر جاری و ساری رہا، الحمدلِلّٰہِ علٰی ذٰلک۔

اس امر کاکھلے دل سے اعتراف کرتا ہوںکہ مجھے اُردو میں لکھنے کی ترغیب دینے میں سب سے اہم کردار راجابھائی ہی کا تھا۔ میں اس زمانے میں انگریزی کے سحر میں کچھ زیادہ ہی مبتلا تھا اور اُردو میں لکھنے کی ہمت نہیں کرتا تھا، گو اُردو تقریر میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔

کالج لائف کی ابتدا ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ ۱۹۴۹ء میں نصف صفحے کا ایک مضمون لاہور کے ایک رسالے میں شائع ہوا، جب میں انٹر آرٹس کر رہا تھا۔ ۵۱-۱۹۵۰ء گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کراچی (جہاں مَیں زیرتعلیم تھا) کے سالانہ انگریزی میگزین کا مَیں ایڈیٹر تھا۔ رسالہ دو حصوں میں تھا۔ انگریزی حصے کا مَیں ایڈیٹر تھا اور اُردو حصے کا میرا ایک کلاس فیلو۔ اس کا اصرار تھا کہ مَیں اُردو میں بھی مضمون لکھوں اور میری ہمت نہیں ہورہی تھی۔ راجا بھائی نے مجھے  مجبور کیا کہ لکھوں ۔ تب میں نے جمعیت کے نئے نئے اثرات کے تحت نظامِ تعلیم کی اصلاح کے موضوع پر چند صفحے لکھے، جن کی نوک پلک راجا بھائی نے درست کرکے قابلِ اشاعت بنایا اور   اس طرح اُردو میں میرے لکھنے کا آغاز ہوا، جسے پھر اصل مہمیز چراغِ راہ کی ادارت کے ذریعے ملی،  جو محترم چودھری غلام محمدصاحب مرحوم کے اصرار بلکہ حکم پر سنبھالی۔ مسلم، ممتاز اور نثار صاحبان چراغِ راہ میں میرے دست و بازو تھے۔

راجا اور مَیں ۱۹۵۵ء تک اسٹوڈنٹس وائس مل کر نکالتے رہے۔راجا بھائی نے ایم اے معاشیات میں کیا تھا، اور پھر اس مضمون کی تدریس اختیار کر کے بحیثیت استاد کیریئر کا آغاز کیا۔ اسلامک اسٹڈیز میں وہ ۱۹۵۸ء کے بعد آئے، جب کینیڈا کی میک گل یونی ورسٹی کے وظیفے پر  وہ ایم اے کے لیے وہاں گئے۔ وہاں انھوں نے مشہور مستشرق پروفیسر ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ کی نگرانی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پھر معاشیات سے ان کارشتہ عملاً کٹ گیا، اور اسلامک اسٹڈیز ، خصوصیت سے اسلامی قانون ان کا میدان بن گیا۔

 اسلامی قانون میں تخصص کے باوجود علومِ اسلامی کے ہر شعبے میں انھوں نے دادِ تحقیق دی ہے اور مشرق و مغرب کی نام وَر یونی ورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ جن میں امریکا کی پرنسٹن یونی ورسٹی، شکاگو یونی ورسٹی، کینیڈا کی میک گل یونی ورسٹی، آسٹریلیا کی میلبورن یونی ورسٹی، سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز  یونی ورسٹی، جدہ اور یونی ورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز دہران شامل ہیں۔ ۱۹۸۶ء میں اسلام آباد منتقل ہوگئے اور پھر انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد میں پروفیسر، نائب صدر اور اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ تدریس کے ساتھ تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کا وظیفہ زندگی تھا۔   راجا بھائی کوئی خشک کتابی شخصیت نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی پُربہار اور شگفتہ شخصیت عطا کی تھی۔ وہ اپنے اہلِ خانہ اور احباب کے درمیان گھنٹوں صرف کرتے تھے اور ہمیشہ رونق محفل رہتے تھے۔

راجا بھائی نے اپنی ۷۰سالہ علمی زندگی میں تصنیف و تالیف اور تعلیم و تعلّم کے ایسے چراغ روشن کیے ہیں، جو مدتوں ضوفشانی کرتے رہیں گے۔ میری نگاہ میں ان کا سب سے اہم علمی کارنامہ مولانا مودودیؒ کی تالیف تفہیم القرآن اور ترجمۂ قرآن کا انگریزی ترجمہ ہے، جس کے ’پیش لفظ‘ کے چند جملوں میں قارئین کو شریک کرنا چاہتا ہوں:

ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری، میرے بھائی، زندگی بھر کے ساتھی اور ہم دم دیرینہ نے بڑی مہارت، مشاقی اور قدرتِ کلام سے اسے انگریزی میں منتقل کیا ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں قطعاً جھجک نہیں ہے کہ ڈاکٹر انصاری نے اظہار و بیان کے اس معیار کو برقرار رکھاہے، جس کا اُردو میں اہتمام و انصرام سیّدابوالاعلیٰ مودودی کیا کرتے تھے۔  یہ ایک سدابہار یادگاری کارنامہ ہے۔

مولانا مودودیؒ نے ترجمۂ قرآن کی زبان کو ’اُردوے مبین‘ کہا تھا اور ظفراسحاق نے اسے ’انگریزی مبین‘ میں ڈھال دیا، وما توفیقی الا باللّٰہ۔

راجا بھائی اسلامی جمعیت طلبہ کے رکنِ رکین تھے۔ مرکزی شوریٰ کے رکن رہے، البتہ نظامت وغیرہ کی ذمہ داریوں سے بچتے رہے۔ لیکن کراچی جمعیت کے مزاج اور پھر اس کی روشنی میں پورے پاکستان کی جمعیت کے مزاج اور کردار کی تشکیل میں ان کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ الحمدللہ جمعیت کے بے شمار پہلو ہیں، لیکن اس کا اصل تاریخی کارنامہ ،تعلیمی دنیا میں دین کے اس وسیع اور ہمہ گیر تصور کا فروغ ہے، جو تحریکِ اسلامی نے اس دور میں دیا ہے اور جس کے نتیجے میں اسلام انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی زندگی کے صورت گر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پھر جمعیت کا تربیتی نظام اور ایک مخصوص کلچر ہے جس کا طرئہ امتیاز فکری اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ ایک ہمدردانہ، مشفقانہ اور برادرانہ فضا کا قیام ہے، جسے رحماء بینھم کے قرآنی مطالبے کے حصول کی ایک کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہی برادرانہ کلچر اسلامی تحریک میں بھی ایک امتیازی مقام رکھتا ہے اور خدانخواستہ جس کی کمی تحریک کی مضبوطی کو ضعف پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

 رفقاکے درمیان ذاتی تعلق، بھائی چارہ، ایک خاندان اور ایک برادری بن جانے کی روح وہ چیز ہے، جس نے جمعیت کو ایک منفرد اسلامی تحریک بنادیا ہے۔ الحمدللہ بہت سے نشیب و فراز کے باوجود یہ روح اور یہ فضا قائم و دائم ہے۔ اس فضا اور برادرانہ تعلق کو جمعیت کی پہچان بنانے میں خرم بھائی اور راجا بھائی کا بڑا دخل ہے اور مجھے بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ ان دونوں کی رفاقت میں اس عمل میں ایک ادنیٰ شریک کار کی حیثیت سے مددگار رہا ہوں۔ نیز اس امر کے اعتراف میں بھی کوئی باک نہیں کہ اس پہلو کو اُجاگر کرنے میں ہم نے اخوان کے رہنما ڈاکٹر سعید رمضان سے بہت کچھ سیکھا اور اس طرح چراغ سے چراغ جلتا گیا۔

راجا بھائی کے علمی مقام اور خدمات پر بھی لکھنے کی ضرورت ہے اور ان کی کتابوں اور مضامین کا صرف انٹرنیٹ پر موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت، طباعت اور تشہیر پر توجہ صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اس تحریر میں راجا بھائی کی زندگی کے جن پہلوئوں کے بارے میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں اور ان میں سب سے اہم ان کا اسلام سے کمٹمنٹ، اسے صرف ایک نظریے اور عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے نصب العین کے طور پر اختیار کرنا اور اس پر جم جانا ہے۔ جمعیت کے دستور کی تدوین کے وقت، زندگی کے مقصد کے اظہارواعلان کے لیے جس آیت قرآنی کا انتخاب کیا گیا، وہ خرم بھائی اور راجا بھائی ہی کی تجویز کردہ تھی اور اپنی کم علمی کے باوجود میری زبان سے بھی بے ساختہ نکلا  ع

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

آیت مبارکہ ہے:

 اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o لَا شَرِیْکَ لَہٗ (انعام ۶:۱۶۱-۱۶۲)

کم از کم میں نے اس زمانے میں یہ تازہ تازہ رُوداد جماعت اسلامی میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی علیہ رحمۃ کے خطبۂ جمعہ میں پڑھی تھی، جو دل و دماغ کو مسحور کیے ہوئے تھی۔

راجا بھائی کی پوری زندگی کھلی کتاب کے مانند ہے۔ ہزاروں افراد نے ان سے استفادہ کیا ہے اور سیکڑوں نے ان کو قریب سے دیکھا اور ان کے ساتھ گہرا تعلق رکھا ہے۔ ان کی اولیں اور آخری وفاداری اپنے اللہ سے اور اللہ کے دین سے تھی۔ جو کچھ انھوں نے کیا، لکھا اور کہا، وہ اپنے مالک کی رضا کے حصول کے لیے اور اس دین کی خدمت کے جذبے سے اور بڑے شوق اور ولولے سے کیا، جسے انھوں نے زندگی کا مقصد اور حاصل بنایا تھا۔ میرا دل گواہی دیتا ہے اور ان شاء اللہ ، اللہ کے فرشتے بھی گواہی دیں گے کہ وہ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے، جنھوں نے رب سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنے میں اپنی حد تک ہرکوشش کی اور جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر راضی ہوگئے: ذَاقَ طَعَمَ الْاِیْمَانُ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالِاسْلَامِ دِیْنًا۔

اور جن کے بارے میں اللہ گواہی دیتا ہے:

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo (احزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا ہے اور کوئی وقت آنے کا منتظر۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

راجا بھائی نے جماعت اسلامی سے باقاعدہ رکنیت کا تعلق قائم نہیں کیا اور اس کی ایک نہیں کئی وجوہ ہیں، جن میں ان کا مزاج، علمی مصروفیات، ۱۹۵۸ء میں ملک سے باہر چلے جانا اور ایک طویل مدت تک باہر ہی رہنا اور پھر تعلیمی کیریئر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالینا شامل ہیں۔ خود یونی ورسٹی کیریئر اور علمی کام، اور خصوصیت سے تخصص کے آداب اور تقاضے شامل ہیں۔ سیاسی امور پر کہیں کہیں اختلاف راے بھی رہا ہے اور ہم بارہا اس پر بات کرتے رہے ہیں، لیکن جہاں تک جماعت کے مقصد، طریق کار اور مجموعی خدمات کا تعلق ہے، جماعت سے ان کی محبت اور تعلق کسی رکن سے کم نہیں تھی۔

ایک بار میں نے راجا بھائی سے کہا کہ ’’دل چاہتا ہے کہ خرم کی طرح تم بھی جماعت کے اندر ہوتے‘‘ تو اپنے مخصوص انداز میں تبسم اور آنکھوں کی چمک کے ساتھ جواب میں کہا: ’’جماعت میرے اندر ہے، میرے جماعت کے اندر ہونے سے کیا فرق پڑے گا، میں تو اپنے کو اس کا اہل نہیں سمجھتا‘‘۔ اس پر مَیں نے ان کو مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کا واقعہ سنایا۔ وہ جماعت سے نکل گئے تھے، مگر الحمدللہ میرا ان سے تعلق ہمیشہ ویسا ہی رہا اور وہ بھی ہم پر اسی طرح شفقت فرماتے رہے۔ ایک بار بڑے پیارے انداز میں مولانا اصلاحی صاحب نے فرمایا:’’میں جماعت سے نکل گیا ہوں، لیکن وہ جماعت جو میرے اندر ہے، وہ کبھی نہیں نکلتی۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی جماعت کوئی اچھا کام کرتی ہے یا اسے کوئی کامیابی ہوتی ہے تو مَیں خوشی محسوس کرتا ہوں۔ اور جب بھی جماعت کوئی غلطی کرتی ہے یا اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو مجھے اس پر دُکھ ہوتا ہے‘‘۔

میرے خیال میں جماعت سے تعلق کے سلسلے میں یہ ایک بڑا سچا پیمانہ ہے اور راجا بھائی رکن نہ ہوتے ہوئے بھی اس پر ہمیشہ پورے اُترے۔ جمعیت کے دور کے بھائی چارے اور برادرانہ کلچر کی جو بات مَیں نے کی ہے، وہ کلچر راجا بھائی کی پوری زندگی میں دیکھا جاسکتاتھا۔ ان کی زندگی کا میرے لیے بہت ہی پیارا پہلو ان کی ذاتی رفاقت، محبت، خیرخواہی، اپنائیت، بے ساختگی ہے۔ یہ ان کی شخصیت کا بڑا ہی دل آویز پہلو تھا، جو ان کی نیت کی پاکی اور حُسنِ سلوک کا مظہر تھا۔ ان کی زندگی میں دو رنگی نہیں تھی۔ مفاد پر مبنی تعلق کا کوئی سایہ ان کی زندگی پر نہیں پڑا تھا۔ ان کا گھر ہی نہیں، ان کا دل بھی ہر ایک کے لیے کھلا تھا اور یہ تعلق بے لوث تھا جس نے ان سے رشتے کو ایک مقدس رشتہ بنا دیا تھا۔ پھر وہ دوسرے کی بات بڑے سکون سے سنتے تھے اور اختلاف بھی اس طرح کرتے تھے کہ دل نہ ٹوٹنے پائے۔ خوش کلامی ہی نہیں، خلوص اور خیرخواہی وہ عناصر تھے، جو ان سے اختلاف کو ایک رحمت بنادیتے تھے اور خودپسندی، غرور اور من آنم کہ من دانم کا ان کی زندگی میں کوئی مقام نہیں تھا۔

پھر یہ بھی واضح رہے کہ راجا بھائی بڑے مجلسی انسان تھے۔ وہ بولتے آہستہ آہستہ تھے، کبھی تو یہ احساس ہوتا تھا کہ الفاظ کے باب میں بخل سے کام لے رہے، یا سوچ سوچ کر ، ٹھیرٹھیر کر بول رہے ہیں، حالانکہ خیالات کو حُسن و خوبی سے ادا کرنے میں کوئی ان کی ٹکر کا نہیں تھا، بس یوں سمجھ لیں کہ ان کا اسٹائل تھا۔ ان کے الفاظ میں جو شیرینی، ان کے انداز میں جو اپنائیت، ان کے لہجے میں جو خلوص اور ان کے احساسات میں جو خیرخواہی اور دردمندی بلکہ قدرافزائی ہوتی تھی، وہ دل و جان کو مسحور کردیتی تھی ،گویا     ؎

ساز دل چھیڑ کے بھی، توڑ کے بھی دیکھ لیا

اس میں نغمہ ہی نہیں کوئی محبت کے سوا

راجا بھائی کا رویہ بڑوں کے ساتھ، ہم عمروں کے ساتھ، اپنے سے کم عمر کے ساتھیوں کے ساتھ، بچوں کے ساتھ بڑا خوش گوار اور اپنائیت سے بھرپور ہوتا تھا۔ نیز ان کے مزاج میں خوش گوار مزاح کا ایک رنگ بھی تھا، جسے ان کی مسکراہٹ جو کبھی کبھی ہنسی کی شکل اختیار کرلیتی تھی کچھ اور بھی دل آویز بنادیتی تھی   ؎

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندا طبع لوگ

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

راجا بھائی کئی سال سے شدید بیمار تھے، لیکن مجال ہے کہ کبھی حرفِ شکایت ان کی زبان پر آیا ہو۔ صبر اور شکر کا وہ پیکر تھے۔ الحمدللہ، ان کے بیٹے یاسر اور ان کی بہو سمیرا نے ان کی خدمت کا حق ادا کر دیا، خصوصیت سے سمیرابیٹی نے جس لگن اور محنت سے اپنے سُسر کی خدمت کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ، یاسر، سمیرا اور تمام اہلِ خانہ کو بہترین اجر سے نوازے اور ان کی اس خدمت کو شرفِ قبولیت بخش کر ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بہترین اجر کا سامان فرمائے۔ سمیرا بیٹی نے بتایا کہ انتقال سے چند دن قبل ہسپتال میں بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے، حالانکہ ہسپتال جانے سے ایک دن پہلے ہی مجھ سے بات ہوئی تھی۔ ہفتہ کو ہسپتال سے گھر واپس آئے، طبیعت خوش گوار محسوس کر رہے تھے۔ سمیرابیٹی سے فرمایش کرکے تھوڑی سی مٹھاس کھائی اور پھر ہمیشہ کی نیند سوگئے۔ الحمدللہ، خرم بھائی اور راجا بھائی سے تعلقات ان کی ذات تک محدود نہیں رہے۔ ہماری اولادیں بھی ایک دوسرے سے قریب ہیں اور ہر ایک کی اولاد نے ہم تینوں کو خاندان کے بڑے کا درجہ دیا ہے۔ خرم بھائی اور راجا بھائی دونوں کے بچے مجھے خورشید چچا ہی کہتے ہیں اور میرے بیٹے اور بیٹیاں اُن کو باپ کا سا احترام دیتے رہے ہیں۔ یہ اللہ کا بڑا فضل ہے جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

ان ۷۰برسوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو خرم ہوں یا راجا، ان کو اپنے سے جدا اور دُور محسوس نہیں کرتا، اور یہی احساس ہے جو دونوں کے بچھڑ جانے کے باوجود ان کو مجھ سے جدا نہیں ہونے دیتا:

من تو شدم ، تو من شدی

من تن شدم ، تو جاں شدی

تاکس نگوید بعد ازیں

من دیگرم ، تو دیگری

کراچی محض ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کے فکری، سیاسی اور معاشی قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے جو بات پورے ایشیا کے تناظر میں ملت افغان کے بارے کہی تھی، وہی بات کراچی پر بھی بدرجۂ اولیٰ صادق آتی ہے، یعنی اس کے فساد سے پورا پاکستان فساد اور ابتلا میں   مبتلا ہوگا، اور اس کی کشادگی اور سکون پورے پاکستان کی کشادگی اور سکون پر منتج ہوگی۔۱؎

قیامِ پاکستان کے وقت کراچی اپنے سارے شہری جمال، معاشی مرکزیت اور جغرافیائی اہمیت کے باوصف چار ساڑھے چار لاکھ افراد کا شہر تھا، لیکن اس شہر قائد نے برعظیم پاک و ہند سے نقل آبادی اور مملکت ِ خداداد کے دارالحکومت اور تصورِ پاکستان کی علامت اور مرکزِ ثقل ہونے کے ناتے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔پہلے پانچ سال میں آبادی میں ۱۰ گنا اضافہ ہوا اور آج یہ شہر تقریباً اڑھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہے۔ قومی آمدنی میں تقریباً ایک چوتھائی اور قومی محصولات میں تقریباً نصف اسی شہر سے حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان کے تمام علاقوں اور پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والے اس شہر کے باسی ہیں۔ اس کے بازو ہر علاقے کے لوگوں کے لیے کھلے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے آئینۂ پاکستان اور  ’مِنی پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آبادی کے اس محیرالعقول اضافے اور  اس کی شہری زندگی کی ساخت اور ترکیب میں تبدیلی، نیز اس کے جغرافیائی پھیلائو اور متنوع معاشی سرگرمیوں سے وابستگی اور مختلف حکومتوں کے متضاد اور امتیازی رویوں ہی نے اُن ہمالیائی مسائل کو جنم دیا ہے، جن کی وجہ سے یہ ایک دہکتے الائو کا منظر پیش کر رہا ہے۔

لسانی فسادات کا پس منظر

قیامِ پاکستان کے اوّلیں ۱۰، ۱۵ برس تو نسبتاً پُرسکون تھے، لیکن ۱۹۷۰ء کے عشرے سے آج تک یہ شہر اگر ایک طرف خودکار اور مستقبل بین منصوبہ بندی سے محروم ،غیرمتوازن بڑھوتری یا ترقی کا شاہکار رہا ہے، تو دوسری طرف گوناگوں تضادات کا مجموعہ، متصادم قوتوں کا گہوارہ اور شہر کے مختلف علاقوں، آبادیوں، طبقات اور لسانی اور معاشی گروہوں کے درمیان کش مکش کا میدان بن گیا ہے۔

نام نہاد جمہوری اَدوار ہوں یا فوجی مہم   ُجو عناصر کی حکمرانی کے زمانے، بحیثیت مجموعی یہ شہر مشکلات، مسائل اور شکایات ہی کی آماج گاہ بنا رہا ہے۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ریاست کے تمام ہی ادارے اپنی اصل بنیادپر کام کرنے کے لائق نہ رہے۔ کرپشن، بدانتظامی، مفادپرستی، سیاسی جانب داری، لاقانونیت، بھتّا خوری، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوئے اڑھائی تین عشرے ہورہے ہیں۔ ریاست غیرمؤثر اور غیرریاستی ادارے اور گروہ اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

یہ سلسلہ جولائی ۱۹۷۲ء میں کراچی میں اُردو سندھی لسانی فسادات سے شروع ہوا ،اور گذشتہ ۱۸برس (۱۰برس جنرل مشرف + ایم کیو ایم اور آٹھ برس پیپلزپارٹی+ایم کیو ایم دور) اس کی بدترین مثال پیش کرتے ہیں۔ جب سے آپریشن ’ضربِ عضب‘ کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور کراچی کے حالات کو  قابو میں لانے کے لیے رینجرز کے ہاتھوں حالات کچھ بہترہوئے ہیں، لیکن بنیادی مسائل اور حالات جوں کے توں اور شدید تشویش کا باعث ہیں۔ صوبائی حکومت کی بُری حکمرانی، نااہلی اور کرپشن اور بدعنوانی کی بدترین مثال ہے۔ مرکزی حکومت ظاہری فوں فاں کے باوجود ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ رینجرز اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان درپردہ ہی نہیں، کھلی کھلی کش مکش روز افزوں ہے اور غیر ریاستی عناصر کا تباہ کن کھیل جاری ہے۔

اس پس منظر میں تبدیلی کی جو لہریں اُبھر رہی ہیں اور جس طرح اُبھر رہی ہیں، وہ نئے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہیں اور لوگوں کی زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ آرہے ہیں    ؎

یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین

پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقعے پر ٹھنڈے دل سے صورتِ حال کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے، تاکہ حقیقت پسندی سے ایک بُرائی کے بعد دوسری بُرائی، اور ایک تباہی سے دوسری تباہی کے جال میں پھنسنے کے کرب ناک اور خوف ناک چکّر سے نکلنے اور حالات کے حقیقی سدھار کے راستوں کو تلاش کرنے اور ان پر عمل کی راہیں استوار کرنے کی فکر اور کوشش کی جاسکے۔

سیاسی اختلاف اور جبر و تشدد

ایم کیو ایم نے گذشتہ ۴۰ برس میں کراچی اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں، سیاسی اور تنظیمی سطح پر ایک مقام بناکر ملک کی سیاست میں ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت  ایم کیو ایم کے اس کردار پر ملک میں پہلی بار کھل کر بات ہورہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک پورے ملک کی سیاسی فضا اور خصوصیت سے میڈیا پر جبر اور خوف کا وہ عالم طاری تھا کہ ’متحدہ‘ کے کردار کے بارے میں کسی کے لیے بھی تنقید، اختلاف اور احتساب کی بات کہنا تو دُور کا معاملہ ہے، اشارہ تک کرنا ممکن نہ تھا۔

بلاشبہہ جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف اور چند سیاست دانوں، دانش وروں اور صحافیوں نے جان پر کھیل کر اس عفریتی صورتِ حال پر گرفت کی اور اس کی بڑی قیمت ادا کی۔ ان کے علاوہ بھی کچھ نے دبے الفاظ میں اشارے کیے، مگر کراچی کی مجموعی سیاست میں ایم کیو ایم کی حیثیت ایک ’مقدس گائے‘ ہی کی رہی۔ سیاسی میدان اور میڈیا میں اختلاف راے اور ان کے بارے میں حقیقت کے برملا اظہار کا کوئی امکان نہ تھا۔ جس نے زبان کھولی، اس کی زبان کاٹ دی گئی۔ جس نے اختلاف کیا، اس کا مقدر بندوق کی گولی بنی۔ ۲۰ہزار سے زیادہ افراد نے جان کی بازی ہاری اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔ اس گروہ کی منہ زوری یہاں تک پہنچی کہ جن ۲۰۰ سے زیادہ پولیس افسروں اور  اہل کاروں بہ شمول چند فوجی افسروں کے، جو ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران کراچی آپریشن سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ تھے، ایک ایک کر کے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح سچائی بیان کرنے والے ایک درجن صحافیوں کو خون میں نہلا دیا گیا اوران کے قتل کے گواہوں تک کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔

خصوصیت سے ’آپریشن ضربِ عضب‘ کے آغاز اور اس کے نتیجے میں دوسری دہشت گرد قوتوں کے ساتھ ’متحدہ‘ کے کچھ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے سے، میڈیا پر ’متحدہ‘ کی حکمرانی کا بت اب ٹوٹ رہا ہے ۔ متحدہ کی سیاہ کاریوں کا جبری پردہ آہستہ آہستہ سرک رہا ہے اور اصل حقائق   قوم کے سامنے نسبتاً زیادہ آزادی سے آنا شروع ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تصویر کا وہ رُخ  اب نمایاں ہو رہا ہے، جسے عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا تھا۔ قانون، حکومت، عدالت اور  ملک کے مقتدر طبقات سبھی اپنے اپنے مفادات کے چکّر میں یا کچھ دوسری مجبوریوں کے باعث اس جبری خاموشی، یا اس مجرمانہ پردہ پوشی کے نتیجے میں مجرموں کے طرف دار، سہولت کار اور پناہ دہندگان کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی بے گناہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس پس منظر میں ’متحدہ‘ سے وابستہ افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد نے پہلی بار کھلی تنقید کی راہ اختیار کی ہے۔ وہ باتیں جو ماضی میں صرف جماعت اسلامی اور چند اہلِ علم، دانش ور اور صحافی کہنے کی جرأت کر رہے تھے، یہ سب کھل کر بیان کرنے کے لیے خود ’متحدہ‘ ہی کے افراد کی ایک  قابلِ ذکر تعداد سامنے آئی ہے اور گھر کے بھیدی کی حیثیت سے حقائق بیان کررہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ضمیر کی بیداری کے نام پر یہ حضرات اب گویا تو ہوئے ہیں اور کچھ اس اعتراف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ: ’’ہم لوگ ان کارناموں کو جانتے تو تھے، مگر کہنے کی جرأت نہ رکھتے تھے‘‘۔

یہی وہ مقام ہے جہاں گروہ بندی اور مفاد پرستی کے بجاے اصل حقائق کو جاننے اور صحیح راہِ عمل اختیار کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم تو ’متحدہ‘ کے بارے میں کبھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے اور ہرمیدان میں اس کا مقدور بھر مقابلہ کر رہے تھے اور اپنی جانوں کے ساتھ اس کی بھاری قیمت ادا کرتے آرہے ہیں۔البتہ تبدیل ہوتے ہوئے اس منظرنامے میں، اس امر کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ محض ’مٹی پائو‘ کی سیاست کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے، اور اصل حقائق کی روشنی میں بگاڑ کے اسباب کو سمجھا اور حقیقی اصلاح کا راستہ اختیار کیا جائے۔

’متحدہ‘ کے طرزِ فکر اور طرزِعمل سے سخت اختلاف اور ان کے غیض و غضب کا اوّلیں اور مسلسل نشانہ ہونے کے باوجود، ہم نے کل بھی یہ بات کہی تھی اور آج بھی کہتے ہیں کہ: سیاسی اختلاف___ اور سیاست میں تشدد، جبر اور فساد کے ہتھیاروں کا استعمال دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ریاست اور حکومت جب بھی قدم اُٹھائیں، اور جو بھی قدم اُٹھائیں، اسے قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ اوچھے ہتھکنڈوں اور انتقام سے اپنا دامن بچانا چاہیے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں جب پہلے مسلم لیگ (ن) اور پھر پیپلزپارٹی کے اَدوار میں، کراچی میں فوج اور رینجرز کے ذریعے ایم کیو ایم کی فسطائیت کے خلاف آپریشن ہوا، تو ہم نے اس وقت بھی اپنی اصولی اور حقیقی پوزیشن واضح کی تھی اور آج پھر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں۔

 ہماری نگاہ میں ’متحدہ‘ کا ایک تو سیاسی چہرہ اور اس کے کچھ سیاسی کام ہیں۔ ان کی دوسری شناخت ایک فاشسٹ گروہ کی بھی ہے، اور یہ گروہ تشدد، ظلم، جبر اور قوت کے مبنی بر فساد استعمال کی خونیں روایت کا علَم بردار ہے۔ جس کو مفادات کی سیاست کرنے والوں نے: خواہ ان کا تعلق جمہوری قوتوں سے ہو یا عسکری عناصر سے، نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس میں شریک ہوئے اور ان کے سرپرست اور پشتی بان بنے۔ ہم دستور اور قانون کے مطابق ان کی سیاسی سرگرمیوں کا حق اسی طرح تسلیم کرتے ہیں، جس طرح اپنے اور دوسرے سیاسی عناصر کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، مگر  ان کے دوسرے رُخ کو ہم ہر اعتبار سے مذموم، ملک کے لیے تباہ کن اور جمہوریت کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھتے ہیں۔ بگاڑ اور فساد کے جس عذاب سے آج سابقہ ہے، اور اس کے رُونما ہونے میں، ان کے اور چند دوسرے عناصر کی اس فسطائی اور تشدد پر مبنی سیاست کا نتیجہ تصور کرتے ہیں۔

۱۹۹۲ء کے آپریشن کے موقعے پر راقم الحروف نے سینیٹ میں اس وقت کے آپریشن پر مفصل تقریر میں جو کچھ کہا تھا، وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ تقریر اسی زمانے میں روزنامہ جنگ میں بطورِ مضمون بھی شائع ہوئی تھی۔ ریکارڈ کی خاطر اس کا ایک حصہ یہاں دیا جارہا ہے کہ کل بھی ہماری مخالفت اصولوں پر مبنی تھی اور آج بھی مبنی برحق ہے۔

ہم ذاتی مفادات یا گروہی عصبیت کے طرف دار نہیں ہیں۔ ہم نے کل بھی ’متحدہ‘ کے لیے انصاف اور اصل حقائق کی روشنی میں معاملہ کرنے کی بات کی تھی اور آج بھی اسی موقف کا اعادہ کرتے ہیں، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ جن حقیقی جرائم کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان پر پردہ ڈالنا اور ان کو نظرانداز کرنا نہ کل صحیح تھا اور نہ آج درست ہے۔ ان پر قانون کے مطابق گرفت ہونی چاہیے تھی اور اگر ماضی میں نہیں ہوئی تو آج ہونی چاہیے۔ لیکن جس جرم کے وہ مرتکب نہیں ہوئے ہیں، تو محض اس لیے کہ آج مقتدر عناصر ان سے ناراض ہیں، ان کو ماوراے حق و صداقت سزا دینا، بہرحال حق اور انصاف کا خون کرنا ہوگا۔ ہم اس سے بڑھ کر یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں جن جرائم کے بھی وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان کی سزا جس طرح ان کو ملنی چاہیے، بالکل اسی طرح ان تمام عناصر کا بھی احتساب اور قانون کے مطابق گرفت اور حق و انصاف کی روشنی میں انھیں بھی سزا ملنی چاہیے، جو جرم میں شریک یا اس پر پردہ ڈالنے اور ظالم کو پناہ دینے کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ فرد ہو یا ادارہ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، جمہوری ہو    یا عسکری، یا کوئی اور: انھیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ ۱۹۹۲ء میں ہم نے کیا کہا تھا:

تشویش کا تیسرا پہلو وہ چند ابتدائی کارروائیاں ہیں، جن میں بحریہ کی مڈبھیڑ، پنڈبہاول کا واقعہ اور دورانِ تفتیش لوگوں کی اموات شامل ہیں۔ ان چیزوں نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ یہ بڑی قابلِ اطمینان بات ہے کہ پنڈبہاول کے واقعے کے بعد فوج نے ایک صحیح، واضح اقدام اور درست موقف اختیار کیا اور اس طرح اپنی آبرو کو بحال کیا۔

چوتھا تشویش کا پہلو ایم کیو ایم اور حکومت کے تعلقات ہیں۔ ایک طرف یہ بات ثابت ہے کہ ایم کیو ایم ایک پُرتشدد جماعت تھی۔ اس کے اذیت خانے برابر کام کر رہے تھے اور یہ کوئی خفیہ راز نہیں تھا۔ حکومت کے علم میں ان تمام باتوں کو وقتاً فوقتاً لایا گیا اور کراچی کے بے شمار شہری ان عقوبت خانوں کا شکار ہوئے۔ بہت سے بچ جانے والوں کی آہوں اور کراہوں کو کسی نے سنا تک نہیں۔ لیکن آج بھی مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت، دونوں سطحوں پر ایم کیو ایم برابر کی شریک ہے۔ اس پس منظر میں یہ ایک تشویش ناک پہلو ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس وقت درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ بلاشبہہ امن و امان کا ہے۔ اس مسئلے کو اگر حل نہ کیا گیا تو ملکی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ بات یقینا عاقبت نااندیشی ہوگی، اگر ہم یہ خیال کریں کہ یہ صرف امن و امان ہی کا مسئلہ ہے۔ درحقیقت یہاں اقتصادی اُمور میں خصوصیت سے زمینوں اور صنعت کا مسئلہ، انفراسٹرکچر کی تعمیر، بالخصوص نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسائل ہیں کہ جن کی بناپر یہ نوجوان تخریب کاری کی طرف گئے ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں کا زمین داری اور وڈیرہ شاہی کا نظام اس شکل میں مسلط ہے کہ جس کے باعث عوام وہاں ابھی تک احساسِ شرکت سے محروم ہیں۔ اگر عوام کسی پارٹی کو مینڈیٹ دیتے ہیں تو پھر ان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی حکومت بنائیں ۔ چنانچہ امن و امان کے ساتھ ساتھ مسئلے کا سیاسی صرف دیانت دارانہ عمل سے نکل سکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی پارٹیوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، خود ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

جہاں ایم کیو ایم کا امن و امان کے مسئلے کو پیدا کرنے میں مرکزی کردار ہے، وہیں   ایم کیو ایم کا ہر ممبر اس کا مجرم نہیں۔ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہمیں مجرم اور بے گناہ میں فرق کرنا ہوگا۔ جو لوگ تشدد کے ذمہ دار ہیں، ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔ انصاف ہر ایک کے ساتھ کیا جانا چاہیے ،خواہ اس کا تعلق  ایم کیو ایم کے ساتھ ہو، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، جماعت اسلامی یا کسی اور پارٹی سے۔ مراد یہ ہے کہ تشدد کی سیاست، لسانی سیاست اور پھر جائز اور صحیح سیاست کے درمیان فرق ضروری ہے۔ اگر ہم نے مجرم اور بے گناہ کے درمیان فرق نہ کیا اور فوج نے مکمل غیر جانب داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ چنانچہ انصاف، سیاسی سرپرستی اور جانب داری سے ماورا ہوکر کیا جائے۔ تشدد کی سیاست سے جس کسی کا بھی تعلق ہے اور جس نے بھی کسی ڈاکو کو پناہ دی ہے اور جو بھی ان کے سرپرست اور ذمہ دار ہیں،  ان تمام عناصر کا محاسبہ کیا جائے، چاہے ان کا تعلق ایم کیو ایم حقیقی سے ہو یا غیرحقیقی سے، یا کسی بھی طبقے سے۔ اگر حکومت نے اس معاملے میں کسی ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو یہ انصاف نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں یہ آپریشن ناکام ہوگا۔

ایم کیو ایم سے اصولی اختلاف

متحدہ قومی موومنٹ سے ہمارا اصولی اختلاف ان کے بنیادی فلسفۂ سیاست، یعنی مہاجریت اور اُردو زبان کی بنیاد پر قومیت کے سوال سے ہے۔ مہاجر ایک واقعاتی تصور بھی ہوسکتا ہے اور ایک نظریاتی اور اختلافی تصور بھی۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق ہے، ہر وہ شخص جو کسی بھی وجہ سے ایک ملک سے نقلِ مکانی کرکے کسی دوسرے ملک میں جاکر آباد ہوجائے، وہ مہاجر ہے۔ لیکن محض یہ نقلِ مکانی اور اپنے اصل وطن سے نسبت کسی شخص یا گروہ کو ایک قوم نہیں بناتی۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد ایک نظریاتی اور اخلاقی جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد میں برعظیم کے مسلمانوں کی اکثریت شریک تھی۔ وہ بھی جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ بنے، اور وہ بھی جن کا تعلق  اُن علاقوں سے تھا جنھیں ہندستان کا حصہ بننا تھا۔ پھر نقلِ آبادی تقسیمِ ہند کے منصوبے کا ایک حصہ نہیں تھی۔ وہ ان حالات کا نتیجہ ضرور تھی جن میں ملک تقسیم ہوا اور فسادات کی آگ نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر مجموعی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی کوئی ایک زبان نہیں تھی۔اس میں اُردو بولنے والے بھی تھے، پنجابی، پشتو، بلوچی، پوربی، تامل، بہاری، گجراتی، میمن، کچھی، سرائیکی، دری اور دسیوں زبانیں بولنے والے ہم وطن شامل تھے۔

مغربی پاکستان میں ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کی روشنی میں آبادی ۳کروڑ ۳۷لاکھ تھی، جس میں سے مہاجرین کی تعداد ۶۳لاکھ تھی، گویا آبادی کا تقریباً ۲۰ فی صد۔ اس میں اُردو بولنے والوں کی آبادی ایک چوتھائی سے بھی کم تھی۔ تین چوتھائی مہاجر تھے، مگر وہ سب اُردو بولنے والے نہیں تھے اور یہ ایک چوتھائی اُردو بولنے والے بھی سبھی کراچی یا صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں آباد نہیں ہوئے۔ ہرچند کہ ان کی ایک بڑی تعداد یہاں ضرور آباد ہوئی، اور ان کے ساتھ دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہجرت کرکے اپنے اپنے حالات اور امکانات کے مطابق آباد ہوئے۔ یہ ہیں اصل زمینی حقائق! اس پس منظر میں کسی ایک گروہ کا لسانی بنیادوں پر اپنا استحقاق دوسروں پر مسلط کرنا تصادم ہی کا باعث ہوسکتا ہے۔ انصاف سب کے ساتھ ہونا چاہیے، لیکن کسی کے لیے بھی ترجیحی مقام (priviliged position) فساد ہی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور بن کر رہی ہے۔

اسی طرح مشرقی پاکستان میں ۷لاکھ کے قریب مہاجر آئے تھے، جن کی بڑی تعداد اُردو، بنگلہ اور آسامی بولنے والوں کی تھی۔ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ ہر زبان کا اپنا قابلِ احترام مقام ہے اور انسانوں کی پہچان میں زبان کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن ایک فرد کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت محض زبان کے استعمال و اختیار سے متعین نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآن نے زندگی کا جو تصور دیا ہے وہ بڑا واضح ہے:

ٰٓیاََیُّھَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ o (الحجرات ۴۹:۱۳) لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

اسلام نے مسلمانوں کو عقیدہ اور دین کی بنیاد پر ایک قوم بنایا اور اللہ کی اطاعت کو ان کا نصب العین اور اجتماعی زندگی کی بنیاد قرار دیا:

اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً  وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِo(انبیاء ۲۱:۹۲) یہ تمھاری اُمت حقیقت میں ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔

وَاِِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ o(المومنون ۲۳:۵۲) اور یہ تمھاری اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔

مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بنیاد اور اللہ کو رب تسلیم کرکے عقیدے اور الہامی ہدایت کے مطابق زندگی کی تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ رب کی عبادت اور اس کے تقویٰ کو اللہ سے تعلق اور بندوں کے درمیان نظامِ کار کی اصل قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے باب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا کہ: اگر تم اپنا وطن اس لیے چھوڑ رہے ہوکہ وہاں دین کی پیروی اور اللہ کی اطاعت اور اس کا تقویٰ اختیار کرنا ممکن نہیں، اور ہجرت اس جگہ کے لیے کر رہے ہو، جہاں اللہ کی عبادت اور بندگی ممکن ہو اور اسلامی زندگی قائم کرسکو، تویہ ہجرت اللہ کے لیے ہے۔ اور اگر نقل مکانی کسی دنیوی مقصد کے لیے ہے، خواہ اس کا تعلق معاش سے ہو یا معاشرت (نکاح کی خواہش) سے، تو یہ ہجرت ان مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ اللہ کی رضا کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ حبشہ اور مدینہ کی ہجرت نظریاتی اور اخلاقی ہجرت تھی اور اس کے نتیجے میں مہاجروں اور انصار میں ایک نیا رشتۂ مواخات قائم ہوا، اور دونوں مدینہ کی اسلامی ریاست کے شہری اور اسلام اور دولت ِاسلامیہ کے دفاع اور حکومت کے لیے کمربستہ ہوگئے۔

قیامِ پاکستان کے بعد جو بھی پاکستان کا شہری ہے، وہ پاکستان اور ملت اسلامیہ پاکستان کا حصہ ہے۔ ہر وہ زبان جس کے بولنے والے اس اُمت کا حصہ ہیں، ان کی ہر زبان معتبر ہے، لیکن ان کی قومیت، شہریت اور اجتماعیت کی بنیاد زبان نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ان کا نظریہ، پروگرام اور طریق کار ان کی شناخت کے صورت گرہیں اور اسی بنیاد پر اجتماعیت کی تشکیل و تعمیر میں سب اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ہم بڑے دُکھ سے یہ بات کہتے ہیں کہ اُردو کا جھنڈا اُٹھانے والی ’متحدہ‘ نے اُردو زبان کی کوئی خدمت نہیں کی۔ وہ اُردو جو پاکستان کے ۸۰ فی صد سے زیادہ افراد کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور پاکستانی قوم کی وحدت و یگانگت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اسے آبادی کے صرف ۸فی صد سے منسوب زبان بناکر قومی دھارے میں اس کے مقام کو عملاً بُری طرح سے مجروح کر دیا گیا ہے۔

’متحدہ‘ ایک طرف ہجرت کے اسلامی تصور کا سہارا لیتی ہے اور دوسری طرف اپنے کو ایک سیکولر اور لامذہبی تحریک قرار دیتی ہے۔ اب کچھ عرصے سے اس کے کچھ ترجمان اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہنے کے بعد اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ کر کے اس اقرار کہ ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘کی نفی کردیتے ہیں اور اس تضاد کو محسوس بھی نہیں کرتے!

تنظیمی ڈہانچا اور شخصیت پرستی

’متحدہ‘ سے ہمارا دوسرا بنیادی اختلاف اس شخصی پرستش گیری ( personal cult) کے باب میں ہے، جس پر اس کا پورا سیاسی فلسفہ اور تنظیمی نظام قائم ہے۔ درحقیقت ’متحدہ‘ میں اس کے ’قائد‘ کی مرکزیت ہی تحریک کا سیاسی فلسفہ ہے۔ اس کا ’قائد‘ ہی حتمی سچائی اور ہر معاملے میں  حرفِ آخر ہے۔ ’قائد‘ سے وفاداری ’متحدہ‘ کی اساس ہے۔ ’متحدہ‘ کا لٹریچر اور عملی ڈھانچا، تربیتی نظام اور نعرے___ ان سبھی کا ایک ہی محور ہے، یعنی ’’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘۔ قائد پر اندھا ایمان (blind faith in the leader) ہی ہمارا اصل الاصول ہے۔ جس کا اظہار اس نعرے کی صورت میں ہرمحفل اور در و یوار پر کیا جا رہا ہے کہ:’جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے‘۔

’قائد ِ تحریک‘ ہی ہرمعاملے میں سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ فکری اور پالیسی اُمور سے لے کر معمولی معاملات تک، ہر مسئلے میں صرف وہی حرفِ آخر ہے۔ صدر یا امیر کے بجاے اسے ’قائد‘ اور ’پیر‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے اور وہ جسے چاہے کان پکڑ کر نکال دے اور جسے چاہے پارٹی عہدہ یا اسمبلی کی رکنیت دے ڈالے۔ حال ہی میں ’متحدہ‘ کو چھوڑنے والوں نے اپنی اس کیفیت کو یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ الطاف صاحب کو تحریک میں نعوذباللہ ’خدا‘ کا سا درجہ دیا ہوا ہے۔ ایک محقق نے ’متحدہ‘ کے فکر اور مزاج کا خلاصہ یوں پیش کیا:

پارٹی [’متحدہ‘]عجیب و غریب طرزِفکروعمل کا ایسا ملغوبہ پیش کرتی ہے، جس میں قومیت پرستی، زبان پرستی، عصبیت زدگی اور سوشلسٹ رجحانات باہم مربوط ہیں۔ اس پارٹی کو ایک غیرمنتخب لیڈر ’روحانی‘ اصطلاحوں میں اپنی سربراہی میں چلاتا ہے، جس کے لیے صدر سے زیادہ ’پیر‘ کا لفظ برتا جاتا ہے، اور جس کی زبردست گرفت میں پارٹی کام کرتی ہے۔(Criterion، The MQM and Identity Politics in Pakistan Qurterly ، نومبر ۲۰۱۲ئ)

شخصیت پرستی اور ’قائد‘ کے انا ولاغیری مقام کا واضح اعلان اس ’حلف نامے‘ میں ہوتا ہے ،جو متحدہ کے ارکان روزنامہ ڈان کراچی کے مطابق ان الفاظ میں اُٹھاتے ہیں:

مَیں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے لیے زندگی بھر وفادار رہوں گا۔ میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف کوئی بھی سازش ہوئی، یا میرے علم میں ایسا کوئی بھی اقدام آیا کہ جس سے ان دونوں کو کوئی نقصان پہنچنے کا امکان ہوا، تو مَیں فی الفور الطاف حسین کو اس کی اطلاع دوں گا۔ حتیٰ کہ ان سازشیوں میں اگر میرا بھائی، بہن، ماں، باپ، کوئی رشتے دار یا دوست تک بھی ہوا، [تو اسے نظرانداز نہیں کروں گا] ۔ مَیں قسم کھاتا ہوں کہ میں الطاف حسین کے فیصلوں کو ہرصورت میں حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کروں گا۔ اگر مَیں اس [الطاف حسین]    کے کسی فیصلے سے سرتابی کروں تو مجھے غدار تصور کیا جائے۔(Herald Exclusive، Big brother is watching، عابد حسین، ڈان، ۳ستمبر ۲۰۱۴ئ)

’متحدہ‘ معروف معنی میں کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فرد کے گرد اور اس کے اشارئہ چشم  و ابرو پر ناچنے والے ’مرکزِپرستش‘ گروہ (cult)کی حیثیت رکھتی ہے، جسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کامیابی سے یہ کھیل ۴۰برس سے کھیلا جارہا ہے۔

سیاست میں تشدد

’متحدہ‘ سے ہمارا تیسرا بنیادی اختلاف سیاست میں تشدد کے بے مہابا استعمال پر ہے۔     یہ پارٹی کے اندر بھی ہے اور ملک کی سطح پر سیاسی مخالفین، معاشرے، میڈیا اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی میدانوں میں روا رکھا گیا ہے۔ تنظیم ہر مقام پر دو سطحوں پر متحرک ہے: ایک باہر کی سطح کہ جس پر جمہوری لبادہ ہے اور دوسری اصلی تنظیم جو خالص فاشسٹ اصولوں پر ہے۔ ’قائدِ تحریک‘ کی آہنی گرفت پورے نظام پر ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی جو بھی تنظیمیں ہیں، خصوصیت سے تنظیمی کمیٹی، سیکٹر کی تنظیم اور مختلف سطح پر اس کے انچارج اور پھر انفرادی سطح پر عامل کارندے (operatives)، یہ سبھی مسلح ہیں۔ قوت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ الطاف صاحب یا ان کے خاص نمایندوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کی تربیت ہرسطح پر اور ہرقسم کی تخریبی کارروائیوں کے لیے ہوتی ہے۔ انھیں اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے، ان کو بلیک میل کرنے، ان سے بھتّا وصول کرنے، ان کی زبان بندی کرنے، اور ہر اس کام کے لیے جو الطاف صاحب یا ان کے مامور کرانا چاہیں، ان کے لیے روا ہے۔ قوت کا استعمال، اس کے لیے عسکری تربیت، جماعتی ڈسپلن، مکمل رازداری، ذاتی وفاداری، ہرقسم کی قتل و غارت گری اور تخریب کاری کی تربیت اور یہ کام کرنے والوں کو حفاظت۔

ہزاروں افراد پر مشتمل یہ فورس ’متحدہ‘ نے ان ۴۰برسوں میںتیار کی ہے اور یہ اس کے  ہمہ وقتی کارکنوں کی حیثیت سے ہروقت سرگرمِ عمل ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازم کے طور پر تنخواہیں وصول کرتی ہے، لیکن کارکن وہ صرف ’متحدہ‘ کے ہیں اور سیکٹر انچارجوں کے ذریعے خدمات انجام دیتے ہیں۔اگر یہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کو تحفظ دلانے اور رہا کرانے کا کام ’متحدہ‘ کی قیادت کرتی ہے۔ جیلوں میں ان کو وی آئی پی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ جیل کے اندر ہی ان کے لیے پارٹیاں ہوتی ہیں، حتیٰ کہ متحدہ کے اسمبلیوں کے ارکان اور سندھ کے گورنر تک ایسی محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں جن کی تصاویر اور وڈیوز موجود ہیں،  جن میں کچھ صولت مرزا کے مقدمے،مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی)کی صورت میں قوم کے سامنے آچکی ہیں اور جن کی ’متحدہ‘کے ترجمانوں نے نہایت بھونڈے انداز میں توجیہات پیش کی تھیں، وہ آج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ گویا ایک ’برابر کی‘ (parallel) حکومت ہے، ’ریاست در ریاست‘ ہے (state within state) ۔ جس کے ذریعے ’متحدہ‘ اور اس کی قیادت بندوق کی نالی کی قوت سے اپنا پورا نظام چلارہی ہے اور کوئی انھیں روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور تشویش انگیز امر یہ ہے کہ اس گروہ کو قائم کرنے اور لسانی بنیاد پر کراچی میں تقسیم اور تصادم کے ذریعے اپنا اقتدار مستحکم کرنے کا آغاز خود صدرجنرل محمدضیاء الحق اور ان کے قابلِ اعتماد افسروں کے ہاتھوں ہوا۔ پاکستان سینیٹ کی سندھ کے حالات پر ایک کمیٹی، جس نے سینیٹر احمد میاں سومرو مرحوم کی صدارت میں کام کیا تھا، اور جس کا مَیں خود ممبر تھا۔ کمیٹی کے سامنے پولیس کے دو اعلیٰ افسروں نے اپنے بیان میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور پھر ان کے بعد فوجی قیادت کے دور کے اس کردار کا اعتراف کیا تھا، لیکن رپورٹ میں ان کے ناموں کی صراحت سے اس بیان کو ریکارڈ پر لانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ جس کا مطلب اپنے اور اپنی اولاد کے تحفظ کو قرار دینا تھا۔ لیکن ۲۰۱۱ء کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سوموٹو ، کیس نمبر۱۶، اور ۲۰۱۱ء ہی کے دستوری پٹیشن نمبر۶۱، جس کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں کی، اس پس منظر کو ان الفاظ کے ساتھ پیراگراف ۶۵ میں درج کیا ہے:

کراچی کی تاریخ، جو اُوپر بیان کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۸۵ء سے لے کر اب تک، وقت گزرنے کے ساتھ جرائم کی سطح بلند اور امن و امان کی صورتِ حال بڑی تیزی کے ساتھ بد سے بدتر ہوئی ہے۔ سیّداقبال حیدر [سابق وفاقی وزیرقانون، عدل و پارلیمانی اُمور] نے واضح کیا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے دانستہ طور پر یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور غیرسیاسی قوتوں کا تر نوالا بنانے کے لیے ان تشدد پسند گروہوں کی پرورش کی۔ انھی گروہوں کو اسلحے سے لیس کیا کہ جن گروہوں کی بنیاد لسانی منافرت پر استوار تھی۔ ان میں ’مہاجر قومی موومنٹ‘ (اب ’متحدہ قومی موومنٹ)، پنجابی پختون اتحاد(PPI) اور جیے سندھ (JS)شامل ہیں۔ اور پھر اپریل ۱۹۸۵ء میں ایک طالبہ  بشریٰ زیدی کی سڑک کے حادثے میں ہلاکت کے بعد بے شمار خونیں فسادات کا لاوا پھوٹ پڑا، جس میں مذکورہ بالا تینوں لسانی گروہوں یا پارٹیوں نے دل کھول کر حصہ لیا۔ انجامِ کار، کراچی اور حیدرآباد میں لاتعداد بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ سرکاری اور نجی املاک کا بے پناہ نقصان ہوا، ہزاروں شہری بُری طرح زخمی یا معذور بنا دیے گئے۔ کرفیو کا نفاذ اور ہڑتالوں کی لعنت اور روزمرہ زندگی کے کاموں کا تعطل ہی کراچی کی پہچان بن کر رہ گئے۔ مزید یہ کہ ۱۹۸۰ء کے بعد مختلف اوقات میں سندھ ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل چھے عدالتی کمیشن بنائے گئے۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک بھی عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی، اور نہ ان میں سے کسی کمیشن کی سفارشات پر کوئی عمل ہی کیا گیا ہے۔ جس کا سبب غالباً یہ ہے کہ ان خوں خوار واقعات کے ذمہ دار مجرموں کو تحفظ دیا جائے۔ اس کھیل کے پیش نظر، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک آزاد اور اعلیٰ اختیاراتی عدالتی کمیشن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افضل ظُلہ کی سربراہی میں تشکیل دیا، جس میںچاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بطورِ ممبر شامل تھے۔ ان کے ذمے یہ کام تھا کہ ۱۷مئی ۱۹۹۰ء کو پکاقلعہ حیدرآباد میں وقوع پذیر خوف ناک خونیں واقعے کی تفتیش کریں، مگر افسوس کی بات ہے کہ [اگست ۱۹۹۰ء میں] بے نظیر بھٹو کی مرکزی حکومت کو غیرآئینی طور پر تحلیل کردیا گیا۔ اور پھر اس دوران میں ایسی عبوری حکومت قائم کی گئی، جس نے مرکزی اور صوبائی وزارتوں میں ایم کیو ایم کو بھاری نمایندگی دے ڈالی اور انھوں نے مذکورہ بالا عدالتی کمیشن کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

لندن کے معروف جریدے دی اکانومسٹ (۲۱؍اگست ۲۰۱۱ئ) نے کراچی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس کے چند اقتباسات ذیل میں دیے جارہے ہیں:

پاکستان کے گنجان ترین شہر کراچی میں لسانی بنیادوں پر جنگ اس عروج کے نکتے کو چھورہی ہے کہ انسانی جان بچانے کے لیے ایمبولینس سروس تک کے ڈرائیور لسانی پہچان کے ساتھ زخمیوں کو اُٹھانے یا نہ اُٹھانے کی عصبیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جو ایمبولینس ڈرائیور زخمیوں کو اُٹھا کر ہسپتالوں کی طرف سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے چلتے ہیں، وہ بھی مخالف نسلی گروہ کی فائرنگ کا لقمہ بن رہے ہیں۔

اس خوں ریزی کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک نئی صورت یہ ہے کہ لوگوں کو محض گولی نہیں ماری جاتی بلکہ انھیں اغوا کرکے بہیمانہ ٹارچر کیا جاتا ہے، اور پھر ان کی گولیوں سے ہلاک شدہ مسخ لاشوں کو بوریوں میں بند کرکے تنگ گلیوں اور گٹروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔عباسی شہید ہسپتال میں، جو کہ ایک سرکاری ہسپتال ہے، ڈاکٹر صرف مہاجروں کا علاج کرتے ہیں، جن کی اس ضلع میں غالب اکثریت ہے اور [مہاجر] کراچی کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے۔

اگر یہ جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان صرف ایک جنگ تھی تو اس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ لیکن حیرت اس پر ہے کہ ہر جرائم پیشہ گروہ کو کسی نہ کسی مقبول سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس لڑائی کا آغاز ۲۰۰۷ء میں ہوا تھا، اور انتخابات کے بعد [جنرل مشرف کی] فوجی حکمرانی کے دور کا اختتام ہوا تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو نسلی گروہوں کی سیاسی حمایت سے مربوط ہے، اور جو اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ جو ۱۹۸۰ء کے عشرے میں قائم کی گئی تھی، اور جو مہاجروں کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے، ایک زمانے میں کراچی پر اس کی آہنی گرفت تھی۔ اِن دنوں    صدر آصف زرداری کی پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل ہے۔ اس اجارہ داری کو عوامی نیشنل پارٹی جو پشتون آبادی کی ترجمان ہے ، چیلنج کر رہی ہے۔ ان کے جرائم پیشہ گروہ کو ہمسایہ صوبہ بلوچستان کے عصبیت پسند بلوچوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

دو عشروں سے زیادہ ایم کیو ایم شہربھر سے تاجروں اور گھروں سے جبری وصولی جسے ’بھتّا‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جمع کرتی آئی ہے۔ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد نے جو سیاسی حمایت حاصل کی ہے،    اب اس کو استعمال کرتے ہوئے پیشہ ور گروہ کیش میں اپنا حصہ بھی چاہتے ہیں۔     عین تنازعے کے بیچ میں تاجروں کو اب تین مخالف گروہوں کو ادایگی کرنا پڑے گی۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، وہ اس قابل دکھائی نہیں دیتی ہیں کہ تشدد کو ختم کرسکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض جرائم پیشہ نہیں ہیں کہ جنھوں نے عملاً اپنے آپ کو پارٹی کے جھنڈے میں لپیٹ رکھا ہے بلکہ پارٹیوں کے سیاسی عمل کا جزو لازم ہے۔ اگر تشدد جاری رہتا ہے تو عام لوگ کسی سیاسی جماعت کا تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہوں گے اور انھیں مزید ادایگی کرنا ہوگی۔ غالباً یہ ہے یہاں سیاست دانوں کا ہدف۔ آپ اسے جرم کوسیاسی رنگ دینا یا سیاست کو جرم کا رنگ دینا کہہ سکتے ہیں۔

یہ ایسی دل خراش داستان ہے کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں، مگر حیف ہے ان سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور بااثر اور حُب ِ وطن کے دعوے دار حکمرانوں پر، کہ یہ سب کچھ ان کے سامنے ہورہا تھا اور ہو رہا ہے اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آپریشن ’ضربِ عضب‘ کے بعد جو حقائق کھل کر سامنے آرہے ہیں اور جن جن ناموں اور       سیاہ ’کارناموں‘ کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے، وہ ایک چارج شیٹ ہے پورے نظام پر اور اس نظام کے تمام رکھوالوں پر۔ مقتولین کی روحیں اور مظلوموں کی آہیں پکار رہی ہیں کہ انصاف کب ہوگا اور ظالموں کو کون اور کب کیفرکردار تک پہنچائے گا؟

’متحدہ‘ کی مرکزی قیادت کے جو لوگ اب رو رو کر اپنے ہی اقتدار کے دور کے واقعات بیان کر رہے ہیں اور سارا الزام الطاف حسین صاحب پر ڈال کر اپنی پاک دامنی کا واسطہ یا مغالطہ دے رہے ہیں، احتساب ان کا بھی ہونا چاہیے، لیکن ان کی گواہی گھر کے بھیدی اور شاھدٌ من اھلہ کی ہے ،جو بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس سلسلے میں کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال اور ان کے  چھے ساتھیوں، جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کرنے اور اس کی روشنی میں مزید حقائق کو معلوم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔اسے محض سیاسی واہمہ یا وقتی اُبال بناکر ہوا میں تحلیل نہیں ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں مشترکہ تفتیشی ٹیم (JIT) کی رپورٹوں کے بھی جائزے کی ضرورت ہے۔ بلدیہ ٹائون کے بارے میں اب کوئی شبہہ نہیں رہا کہ اس فیکٹری کو آگ ’متحدہ‘ کی قیادت کے حکم پر، اس کے کارکنوں نے لگائی اور مسئلے کی جڑ میں بھتّا اینٹھنے کا مطالبہ تھا۔ غضب خدا کا کہ ۲۵۸ سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا اور قاتل اور ان کے سرپرست نہ صرف دندناتے پھرتے رہے بلکہ آج بھی پھر رہے ہیں۔ ان میں حماد صدیقی کا نام بھی آتا ہے، جو اَب مصطفیٰ کمال صاحب کے سفیدپوش بریگیڈ میں شامل ہو رہے ہیں اور اشارے ہیں کہ JIT کے کسی نئے بیانیے (version) میں ان کا نام ’پاک صاف‘ کرنے کا امکان ہے۔ دیدہ دلیری کا عالم یہ رہا ہے کہ اس سب کے بعد بھی فیکٹری کے مالکان سے متاثرین کی مدد کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے مگر روپے متاثرین کو دینا تو کجا، ان کروڑوں روپوں کا سایہ تک اصل متاثرین پر نہیں پڑا۔

ایک اور ہوش ربا رپورٹ دسمبر ۲۰۰۹ء یومِ عاشور کے موقعے پر شیعہ نوحہ خانوں کے جلوس کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کے بارے میں ہے، جس میں ۴۵ معصوم افراد کا سفاکانہ قتل ہوا۔اس جلوس پر حملے کا سرا بھی ’متحدہ‘ کے دامن تک پہنچتا ہے، اور اس سلسلے میں بھی حماد صدیقی کا نام آرہا ہے۔ تخریب کاری کے اس سفّاکانہ واقعے میں قرآنِ پاک کے صفحات تک کو استعمال کیا گیا، اور     اس حملے کا مقصد شیعہ سُنّی فسادات کی آگ بھڑکانا تھا۔ ایم کیو ایم جسے اپنے سیکولر ہونے پر بڑا ناز ہے اور جو اپنے آپ کو فرقہ واریت سے بالا ظاہر کرتے ہوئے نہیں تھکتی، اس کی قیادت کا اس خونیں ڈرامے میں کردار دل و دماغ کو مائوف کرنے والا واقعہ ہے۔

’متحدہ‘ سے منحرف ہونے والوں نے اب تک جو بیانات دیے ہیں، وہ ایک گھنائونی چارج شیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ اور چند دوسرے افراد  جن حقائق کو جان پر کھیل کر بیان کیا کرتے تھے، ان کی تائید اور توثیق آج یہ حلفیہ بیانات کرتے ہیں، اور متحدہ کا یہی وہ کردار ہے، جوہمارے اختلاف کا مرکزی نکتہ ہے۔

اس سلسلے میں اب اتنا لوازمہ اور اتنے اعترافی بیانات سامنے آرہے ہیں کہ ان کا احاطہ  ایک مضمون تو کجا، پوری کتاب تک میں بھی ممکن نہیں۔ لیکن ڈان(۱۸مارچ ۲۰۱۶ئ) نے اپنے ادارتی کالم Confronting MQM's Past میں مختصراً جو بات کہی ہے، وہ بھی قابلِ توجہ ہے:

مصطفیٰ کمال کے مسئلے میں، بہت سے افراد ، جن کا اس کی بے نام پارٹی سے تعلق ہے، ماضی بھی بے داغ نہیں ہے۔ وہ کراچی تنظیمی کمیٹی سے وابستہ تھے جو کہ متحدہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بازو تھا۔ یہ ہمیں بنیادی مسئلے، یعنی متحدہ کی تشدد سے وابستگی اور اس کا اسے تسلیم کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت جس مسئلے پر بات نہیں کررہی، وہ یہ حقیقت ہے کہ جب تک حکومت نے اقدام نہیں کیا، پارٹی نے اپنے غیرواضح عسکری ونگ سے کراچی کو آہنی گرفت سے کنٹرول کیا۔ شہر کے رہایشی ابھی تک اس بات کو نہیں بھولے ہیں۔ جب ایم کیو ایم کے ایک اشارے پر تقریباً تمام شہر کو  کئی کئی دن کے لیے ’سوگ‘ یا احتجاج کے لیے بند کر دیا جاتا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ [’متحدہ‘] پارٹی نے سندھ کی شہری سیاست کے ساتھ ساتھ عصبیت کی سیاست میں بندوق کے کلچر کو متعارف کروایا اور پارٹی جبری وصولی پر پھلی پھولی ہے،  جیسے الزامات کو مسترد کرنا بہت مشکل ہے، جب کہ ایم کیو ایم اختلاف راے کو کم ہی برداشت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کی دو عدالتیں متحدہ قومی موومنٹ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہیں اور اسی بنیادپر اس سے متعلق افراد کو پناہ گزیں قرار دینے سے انکار کرچکی ہیں۔ اسی طرح بی بی سی  کے نامہ نگار اور دی گارڈین کے کالم نگار اوون بینیٹ جونز کے بقول امریکا میں متحدہ کو TIER-3 کی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاچکا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی اپنے ۲۰۱۱ء کے سوموٹو کیس میں اپنے فیصلے کے پیراگراف ۱۳۱، ص۱۵۱ پر جہاں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں دہشت گرد اور مجرم کارفرما     نظر آتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت پر باقاعدہ مقدمہ چلانے اور دستور کے تحت اس پر بندش کی بات کو متحدہ کے بارے میں مطالبے کے باوجود حکومت کی طرف لوٹا دیا تھا کہ وہ اس پر دستور اور قانون کی روشنی میں غور کرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اجمل پہاڑی اور اس کے بھارت میں تربیت پانے اور کراچی اور سندھ میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کا بھرپور انداز میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھیے: پیراگراف ۱۲۵، ص ۱۴۲-۱۴۳)

سپریم کورٹ کا فیصلہ، اخباری اطلاعات، عالمی میڈیا کی شہادت، متاثرہ افراد اور جماعتوں کا واویلا، ہزاروں افراد کا قتل، ساڑھے تین ہزار مقدمات سے سیاسی این آر او کے ذریعے گلوخلاصیاں، پولیس کی ناقص تفتیش اور مقدمات کی عدم پیروی، مجرموں کی سیاسی پشت پناہی،    ان سب کی موجودگی میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں، ریاست کے حساس اداروں بشمول انٹیلی جنس فورسز، افواجِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر اُس وقت کے صدور جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری اور آج کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی، آنکھ مچولی، غفلت اور بے عملی کو عملاً سرپرستی نہ کہا جائے تو کس نام سے پکارا جائے؟    ؎

پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

’متحدہ‘ اور اس کے لیڈر کے بنیادی فلسفے ، سیاسی عزائم اور طرزِ سیاست اور ۴۰برسوں پر پھیلے ہوئے ان کے کردار اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والی تباہ کاریوں کے بارے میں ہم نے مختصراً اپنی گزارشات پیش کردی ہیں۔ ان کی روشنی میں اس امر سے انکار ناممکن ہے کہ اس تحریک نے گذشتہ ۴۰برسوں میں ملک کے دستوراور قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں اور جو طرزِسیاست اختیار کیا ہے، اس کے نتیجے میں فساد فی الارض کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور جو کچھ فساد ہوا ہے، اس کی اوّلیں ذمہ داری اگر ایم کیو ایم، اس کی قیادت اور بندوق بردار کارکنوں پر ہے، تو وہیں اس پورے عرصے میں جو جو بھی اور جس حد تک بھی، ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والا تھا، وہ ان کے حالات کا ذمہ دار تھا، ان جرائم میں شریک اور اس مجرمانہ شراکت کے لیے قوم کے سامنے جواب دہ ہے۔

بہارتی حکومت اور ’را‘ سے تعلقات

مستقبل کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے اس مسئلے کا ایک اور پہلو ایسا ہے، جس کا واضح الفاظ میں ادراک، اور قومی سلامتی کے لیے اس کے خطرات کی نشان دہی ضروری ہے۔ اور یہ پہلو ہے ایم کیو ایم کی قیادت خصوصیت سے الطاف حسین صاحب اور ان کے معتمدترین ساتھیوں کا بھارت کے بارے میں رویہ، پاکستان کے نظریے اور قومی مفادات کے بارے میں سردمہری اور ا س سے بھی بڑھ کر بھارت کی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ان کا تعلق اور اس سے مالی اعانت کے حصول کا ہولناک اسکینڈل۔

یہ ہے وہ پہلو، جس کے پس منظر میں اگر اس جماعت اور اس کی قیادت کے ’کارناموں‘ کا جائزہ لیا جائے، تو صاف نظر آتا ہے کہ اگر یہ سب باتیں صحیح ہیں (اور بظاہر وہ صحیح نظر آتی ہیں) تو وہ قومی سلامتی کے لیے بڑا سنگین خطرہ ہے ۔ دبے لفظوں میں سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے آپریشنل حصے میں صاف اشارہ دیا ہے: یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دستور اور سیاسی جماعتوں کے قانون کی روشنی میں اس باب میں اقدام کا جائزہ لے۔

بھارت نے پاکستان کے قیام کو کھلے دل سے ایک دن کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا اور قیامِ پاکستان سے آج تک اسے کمزور کرنے، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور خاکم بدہن صفحۂ ہستی سے مٹانے کی مذموم کوشش میں نہ صرف وقتاً فوقتاً اس کا اعلان کرتا رہا ہے، بلکہ عملاً اس میں مصروف بھی رہا ہے۔ جس کا آغاز کانگریس کے اس باقاعدہ ریزولیوشن میں کیا گیا تھا جس میں ۳جون ۱۹۴۷ء کے تقسیم ہند کے منصوبے کو انڈین نیشنل کانگریس نے اس توقع  کے ساتھ قبول کیا تھا کہ: پاکستان ایک دن دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔

۱۹۷۱ء میں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستان کو توڑنے کی پوری جنگ لڑی اور پاکستان کو دولخت کرنے کا مذموم ’کارنامہ‘ اپنے نام کیا۔ لیکن حال ہی میں موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی ڈھاکہ کی تقریر میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کیا کہ: ہم نے، ہماری فوج نے اور ہماری تربیت کردہ مکتی باہنی نے یہ کام انجام دیا تھا۔ واضح رہے کہ ’را‘ (RAW) کا قیام ہی ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد، اس جنگ کو دوسرے ذریعے سے جاری رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہی وہ ’را‘ ہے، جس نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے اندر مسلح مداخلت کرنے کے ساتھ، پاکستان پر کھلی بھارتی جارحیت مسلط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہی ’را‘ بلوچستان میں ایک مدت سے سرگرمِ عمل ہے۔ اسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے کھلی وارننگ دی تھی کہ کشمیر کی بات نہ کرو، ورنہ کشمیر کے ’ک‘ کی طرح ہمارے پاس ایک ’ک‘ (کراچی) ہے، اور حال ہی میں ایک دوسرے موقعے پر اس نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ: ’ایک اور ممبئی جیسا واقعہ ہوا تو بلوچستان سے پاکستان کو ہاتھ دھونے پڑیں گے‘۔

یہ ہے وہ ’را‘ ، جس کا ایم کیو ایم کی قیادت سے خصوصی ربط و تعلق ہے۔ جو ’متحدہ‘ کی مسلسل مالی امداد کرتی رہی ہے، جس نے اس کے عسکری اور دہشت گرد کارندوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔        یہ سارے حقائق اب دو اور دو چار کی طرح سامنے آرہے ہیں، بلکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی فراہم کردہ سرکاری دستاویزات کی روشنی میں اس کا اعتراف الطاف حسین صاحب اور کم از کم ’متحدہ‘ کے دوچوٹی کے قائدین ، (جو الطاف حسین صاحب کے معتمد ساتھی ہیں) نے بھی کیا ہے۔ بی بی سی  کی ایک دستاویزی رپورٹ میں دو سال پہلے یہ سب حقائق سامنے آگئے تھے۔ متعدد JIT  (مشترکہ تفتیشی رپورٹوں) میں جستہ جستہ ان چیزوں کا ذکر ہے، جن میں سے کچھ تو اجمل پہاڑی کے ریفرنس سے پاکستان سپریم کورٹ کے ۲۰۱۱ء کے فیصلے کا حصہ بھی ہیں۔ [بقیہ دیکہیے: ص ۹۷]

[اشارات: ص ۲۶ سے آگے]  اس سلسلے میں ہر روز مزید حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ انسان سمجھنے سے قاصر کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟ اور جو افراد اور ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہیں، وہ کیا کررہے ہیں؟ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ذرائع سے جو دستاویزات سامنے آئی ہیں، نیز لندن کے پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ نے میڈیا پر اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے گواہی دی ہے، اور پھر خود مصطفیٰ کمال نے دوبئی کی اس میٹنگ کی گواہی دی ہے، جس میں ’متحدہ‘ کی قیادت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے اس وقت کے وزیرداخلہ اور صدر آصف زرداری صاحب کے معتمدخاص عبدالرحمان ملک صاحب اور صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد صاحب شریک تھے۔

بات صرف مالی معاونت کی نہیں، اسلحے کی خریداری اور فراہمی، عسکری تربیت اور ہرطرح کی لاجسٹک سپورٹ کی ہے۔ اس کے بعد بھی قانون کے حرکت میں نہ آنے کے لیے کیا مجبوری ہے؟ انسان اس بات کے جواز کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ستم بالاے ستم یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ایف آئی اے اسلام آباد اخباروں میں اشتہار دینے کی مضحکہ خیز حرکتیںکر رہی ہے اور مشہور زمانہ آئی ایس آئی کی چلت پھرت بھی کہیں نظر نہیں آرہی۔ ہماری قیادتیں جس تضاد کا شکار ہیں، وہ کم سے کم الفاظ میں قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

اکتوبر ۱۹۹۹ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں متعدد بار کہا کہ ’’الطاف حسین غدار ہے‘‘۔ لیکن پھر اسی الطاف حسین کو مکمل تحفظ دیا۔ ان کی پارٹی’متحدہ‘ کو شریکِ اقتدار کیا، اربوں روپے سے نوازا، اس کی ہر غیرقانونی حرکت کو تحفظ دیا۔ ’بھارت یاترا‘ کی سرپرستی کی۔ ’را‘ سے تعلقات سے چشم پوشی فرمائی۔ ۱۲مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی ائرپورٹ، شاہراہِ فیصل اور شہر کے مختلف حصوں میں جو خون کی ہولی ’متحدہ‘ نے کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے کو روکنے کے لیے کھیلی، اسے کون بھول سکتا ہے؟ لیکن اسی رات پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویزمشرف نے ’متحدہ‘ کے اس خونیں کھیل کو ، فضا میں مُکّے لہراتے ہوئے اپنی قوت کا مظہر قرار دیا تھا۔ اس سب کے باوجود الطاف حسین صاحب قانون کی گرفت سے بالا ہیں اور جنرل پرویز مشرف بھی۔ آزاد مقتدر قوتیں نہ لندن سے کسی کو قانون کے کٹہرے میں لاسکی ہیں اور نہ پاکستان میں واپس آنے والے فوجی آمر کو قانون اور عدالت کی بالادستی کی خاطر ملک میں رہنے کو یقینی بناسکی ہیں۔اس کے برعکس منظر یہ ہے کہ کچھ ’پرندے‘ اب اُڑ اُڑ کر واپس پاکستان میں آرہے ہیں، جو دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر اپنا دامن بچانے کا ڈراما رچا تے دکھائی دے رہے ہیں اور بے وقت کی راگنی صدارتی نظام میں ملک کی فلاح کی باتیں کر رہے ہیں___ یاللعجب!

’متحدہ‘ کی قیادت، خصوصیت سے الطاف حسین صاحب، کا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ انھوں نے بھارت کی عظمت کے گیت گائے ہیں، اس کے مفادات کی تائید کی ہے، اس کی خفیہ ایجنسیوں سے رقم لی ہے، اسلحہ حاصل کیا ہے، پاکستانی نوجوانوں کو بھارتی کیمپوں سے تربیت دلاکر پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان میں سے ہرجرم بے حد سنگین ہے، جو    آہنی گرفت، شفاف احتساب اور قرارواقعی سزا کا متقاضی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے تصور اور بنیاد تک کی نفی کی ہے، اس کے قیام کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے، دوقومی نظریے کی موت کا اعلان کیا ہے، اور بھارت میں پناہ لینے تک کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔  ہم دل کڑا کرکے اور قوم کو موصوف کے اصل عزائم کے بارے میں متنبہ کرنے کے لیے بھارت کی سرزمین پر ان کی ہرزہ سرائیوں میں سے چند نمونے یہاں دینے کی جسارت کررہے ہیں:

ہندستان ٹائمز دہلی کی منعقدکردہ تقریب میں ۶نومبر ۲۰۰۴ء کو الطاف حسین نے کہا تھا:

 یہ حقیقت ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد بھارت میں feudal system [جاگیردارانہ نظام] کا خاتمہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے آزادی کے بعد بھارت میں ایک دن کے لیے بھی مارشل لا نہیں لگا اور جمہوریت strengthen [مضبوط] ہونے لگی۔ اگر ترقی کی رفتار یہی رہی تو بھارت آیندہ ۱۵ یا ۲۰ برسوں میں دنیا کی مضبوط ترین economy [معیشت] والا ملک بن جائے گا۔ کسی بھی ملک کی growth [ترقی و نمو]اور دنیا کے دیگر چھوٹے بڑے ملکوں سے بہتر پارٹنرشپ کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی معیشت مثبت سمت میں سفر کررہی ہو۔ معزز خواتین و حضرات، میں اپنا ہر لفظ اور ہر جملہ انتہائی سوچ بچار اور کئی بار غور کرنے کے بعد آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

بھارت کی عظمت کے گیت گانے کے بعد پاکستان کی باری آئی تو مسٹر الطاف نے ارشاد فرمایا:

معزز خواتین و حضرات، آج پاکستان کے سیاسی scenario [منظرنامے]کی صورتِ حال بے حد depressing [مایوس کن]ہے کہ جب ملک کی لیڈرشپ کھلے عام یہ بات مانتی ہے کہ اگر فوج نے ملکی معاملات نہ چلائے تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ میرے نزدیک یہ admission [اعتراف] نظریۂ پاکستان Idea of Pakistan یعنی sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک اور پچھلے ۵۰برسوں میں کمزور سے کمزور تر ہونے والی two nation theory (یعنی دو قومی نظریے ) کے لیے ایک serious blow [سخت صدمہ]ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کو tribal [قبائلی] اور linguistic differences [لسانی اختلافات] کی بناپر قتل کر رہے ہیں اور sectarianism [فرقہ وارانہ منافرت]میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس situation [صورتِ حال]سے سارا فائدہ mosque and madarasas [مسجد اور مدرسے] کو اپنے گھنائونے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے اُٹھا رہے ہیں۔ شاید پاکستان بننے کے ساتھ ہی نظریۂ پاکستان دم توڑ گیا تھا جب sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کی majority [اکثریت] نے تقسیم کے نتیجے میں بھارت میں رہنا ہی پسند کیا اور یہ سچائی ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی شکل میں پھراُبھر کر سامنے آئی۔

بھارتی اخبارات میں اس موقعے پر الطاف حسین صاحب کو ’مستقبل کے قائداعظم‘ کے  طور پر پیش کیا گیا۔ بلاک سائوتھ (جہاں بھارتی وزیراعظم کا دفتر واقع ہے) کے ذرائع کے مطابق ہندستان ٹائمز نے پروگرام سے پہلے ۴نومبر کو الطاف حسین صاحب کی ملاقات سیکورٹی ایڈوائزر  جے این ڈکشٹ(J.N. Dixit) سے ہوئی۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے ساؤتھ ایشیا ٹربیون کے مطابق بھارتی حکومت، الطاف حسین سے کشمیر کے مسئلے میں معاونت لے رہی ہے:

سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت ِ ہند اس [الطاف] کی مدد چاہتی ہے، تاکہ کچھ اُمور میں وہ جنرل مشرف کو بھارتی شرائط کے مطابق مسئلۂ کشمیر کو حل کرنے میں مدد دے۔

اپنے ہندستان ٹائمز والے خطاب میں الطاف حسین صاحب نے کشمیر کی موجودہ سرحد کو تقسیم کشمیر کی بنیاد، مزاحمتی تحریک کو ایک ناکام اور نامراد تحریک اور استصواب راے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مُردہ اور بے اثر بھی قرار دے ڈالا تھا، اور کہا تھا [موصوف کی یہ تقریر روزنامہ  نواے وقت میں بھی ۴جنوری ۲۰۱۱ء کو ’نمستے ست سری اکال‘ کے زیرعنوان شائع ہوچکی ہے]:

کیا لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد قرار دے کر یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ یا کوئی دوسرا حل جو اَب تک زیربحث نہ آسکا ہو؟ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی ذکر آتا ہے۔ میں پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ان قراردادوں کو نافذ کیا جاسکا؟ اور اگر یہ قراردادیں نافذالعمل ہوسکتی تھیں، تو ماضی میں ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟ میری نظر میں معاہدئہ تاشقند، شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور اب تک useless [بے فائدہ] رہے ہیں۔ مصلحت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے settlement [تصفیے]کے لیے کسی نئی اور disputed opinion [متنازع راے] کے بجاے جو حل پہلے سے بحث میں آچکے ہیں، اُنھی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ میری راے یہ ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور alternate opinion [متبادل راے]سامنے نہ آجائے،    اس وقت تک پچھلی تین دہائیوں سے موجودہ ground reality [زمینی حقائق]یعنی   لائن آف کنٹرول کو بنیاد بناکر مذاکرات کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور اس میں بُرائی ہی کیا ہے۔

اس موقعے پر جنرل پرویز مشرف کو استصواب راے (referendum) کو مسئلۂ کشمیر کے ایک حل کے طور پر رد کرنے کے جرأت مندانہ موقف پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں نے بھی ہمیشہ اس option [اختیار]کو ناقابلِ عمل ہی قرار دیا ہے۔ گذشتہ ۵۷برسوں میں پاکستانی رہنمائوں نے ایک صوبے کو دیگر صوبوں پر سبقت دینے کے لیے کشمیر کا نام استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا، بلکہ قوم کو جہالت، بھوک، غربت اور طبی سہولتوں سے محروم رکھ کر عوام کی نظروں میں ناکام بھی ہوئے۔

بھارتی اخبارات نے الطاف حسین کی اس بھارت یاترا کا بیان اور پیغام بہت ہی مختصر الفاظ میں یوں رقم کیا :

برعظیم میں اپنے پہلے دورے اور اپنی تقریر کے دوران [الطاف حسین نے]خام [Raw] جذبات سے یہ چیز ظاہر کی ہے کہ اپنے گھر واپسی کے وقت ایک فرد کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی اور لیڈر الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کہا:

برعظیم کی تقسیم عظیم ترین غلطی تھی۔ یہ زمین کی تقسیم نہیں تھی، یہ خون کی تقسیم تھی۔ آپ کے وزیرخارجہ کا نام دلچسپ ہے۔ ان کا نام ’نٹور‘ میرے نزدیک Not War کے ہم معنی ہے۔

الطاف حسین کی خواہش ہے کہ:

بھارت اس ہر [پاکستانی] مہاجر کے لیے اپنے دروازے کھول دے، جو مسلمان پاکستان چلا گیا تھا۔ میں یہاں کے سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں، جو بھارت چھوڑ کر [پاکستان] چلے گئے تھے۔(Pakistani Biggest Blunder،الطاف حسین، ۶نومبر ۲۰۰۴ئ)

الطاف حسین کی اس تقریر پر پاکستانی ہائی کمیشن میں پاکستانیوں کا کیا ردعمل تھا اور اس کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے احکام کیا تھے، اس کے لیے دی نیوز میں ۵؍اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی چشم کشا رپورٹ سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

پاکستان کے خلاف الطاف حسین کی نئی دہلی کے تاج ہوٹل میں متنازع تقریر کے بعد، اُس وقت دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو زور دے کر کہا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے لیڈر [الطاف حسین] کو عشائیے پر مدعو کریں، اگرچہ اُس وقت پاکستانی سفارت خانہ نئی دہلی کے افسران اور اہل کار اس تقریر سے سخت دل برداشتہ اور دُکھی تھے۔ تب پاکستانی ہائی کمشنر عزیز احمد خاں کو اسلام آباد سے شدید دبائو کے ساتھ مجبور کیا گیا کہ الطاف حسین کو عشایئے میں مدعو کیا جائے۔ جس کا محرک یہ تھا کہ الطاف حسین، جنرل مشرف حکومت کا حلیف ہے۔ بہرحال، سفیرپاکستان نے مجبوراً اس (الطاف حسین) کو ایک ’نجی عشایئے‘ کی دعوت دی، جس نے برملا کہا تھا کہ: ’’تقسیم ہند، تاریخ کی عظیم ترین غلطی ہے۔ یہ زمین کی نہیں، خون کی تقسیم ہے‘‘۔ بجاے اس کے کہ مشرف حکومت اس یاوہ گوئی پر کوئی اقدام کرتی، دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو الطاف حسین کی سرشاری میں شریک ہونے پر مجبور کیا گیا۔ سابق اعلیٰ سول افسر اور اُس وقت دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے وابستہ رائے ریاض حسین سے جب رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے بتایا کہ: ’’میں الطاف حسین کی تقریر کا چشم دید گواہ ہوں، جو تقریر نومبر ۲۰۰۴ء کو تاج ہوٹل، نئی دہلی میں ہوئی تھی، میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا، جب میں نے دشمن کی سرزمین پر الطاف حسین کی وہ تقریر سنی‘‘۔ انھوں نے یاد دلایا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ: ’’جب میں نئی دہلی ائرپورٹ پر اُترا تو اپنے دائیں دیکھا، بائیں دیکھا، اُوپر دیکھا، نیچے دیکھا اور گھر کی طرح محسوس کیا‘‘۔ رائے ریاض حسین نے کہا کہ:’’ پھر الطاف حسین نے تقسیم ہند کو تاریخ کی ہمالہ جیسی بڑی غلطی قرار دیا‘‘۔

چند غیر سنجیدہ جملوں کے بعد [الطاف حسین] اُردو میں یہ بتاتے ہوئے چلّائے کہ: ’’ہمیں پاکستان میں مہاجر ہونے کی بنا پر موردِ الزام ٹھیرایا جاتا ہے اور بدسلوکی سے پیش آیا جاتا ہے۔ اب، جب کہ مہاجر ہونے کی بنا پر ہم سے بدسلوکی کی جاتی ہے، ہم آپ (بھارت) سے پناہ چاہیں گے‘‘۔ ریاض حسین نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پھر ایم کیو ایم کے چیف نے سامعین سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے پوچھا:’’دلی والو بولو! ہمیں پناہ دو گے؟‘‘ مگر اس سوال پر ہال میں مکمل خاموشی چھائی رہی، جہاں معروف دانش ور، سفارت کار اور سینیرصحافی موجود تھے۔ رائے ریاض حسین نے بتایا کہ: الطاف حسین نے سامعین کے سامنے اس سوال کو تین مرتبہ دُہرایا۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا: ’’غالباً میں نے ایک مشکل سوال پوچھ لیا ہے‘‘۔

سابق پریس منسٹر پاکستانی ہائی کمیشن، نئی دہلی نے اس موقعے پر کہا کہ: ’’پاکستانی سفارت کار اس قطعیت پر گُنگ اور سراسیمہ ہوکر رہ گئے۔ بطورِ پریس منسٹر یہ رپورٹ حکومت کو میرے ذریعے ارسال کی گئی تھی اورپاکستانی پریس کو جاری کی گئی تھی، اور جو یہاں چھپی بھی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ: ہم اس پر بُری طرح پریشان تھے اور یہ بات ہمارے لیے قطعی حیران کن تھی۔ سفیر پاکستان نے مجبوراً ایم کیو ایم کے وفد کو اسی ہوٹل میں عشایئے میں مدعو کیا، جہاں وہ قیام پذیر تھے۔ ہائی کمشنر عزیز احمد خاں نے ہمیں وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا: ’’یار! اُوپر سے حکم ہے‘‘۔ رائے ریاض نے کہا:’’جنرل پرویز مشرف پریشان تھے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے ایم کیو ایم کے وفد کی میزبانی کیوں نہیں کی؟‘‘ ریاض حسین نے یہ بھی بتایا کہ: ’’نئی دہلی میں الطاف کی آمد کے موقعے پر، ائرپورٹ سے ہوٹل تک سڑک الطاف حسین کی تصاویر اور خیرمقدمی بینروں سے سجی ہوئی تھی جو کہ  ایک خلافِ معمول عمل تھا‘‘۔

کیا بلی اب بھی تھیلے سے باہر نہیں آئی؟ ’متحدہ‘ کے کچھ ترجمان اب بھی وہی گھسی پٹی بات دُہراتے ہیں کہ: ’’الطاف بھائی کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے‘‘۔ خواہ ۴۰سالہ تاریخ کا   ایک ایک صفحہ پکار رہا ہو ،کہ بھارت کو ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو قیامِ پاکستان کی شکل میں نظریاتی اور سیاسی میدان میں جو تاریخی شکست ہوئی تھی، وہ اس کا بدلہ چکانے میں آج بھی سرگرم ہے۔ البتہ افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ اس کے کچھ دست و بازو وہ لوگ بھی بن رہے ہیں، جنھیں پاکستان کا اصل خالق ہونے کا دعویٰ ہے اور جو اس دعوے کی بنیاد پر اپنے لیے ایک امتیازی حیثیت کے طالب ہیں۔

’متحدہ‘ کے ہاتھ کہاں کہاں تک رنگے ہوئے ہیں اور کس کس کا خون اس کے اور اس کی قیادت کے ہاتھوں پر ہے؟ نیز ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے میں اپنوں اور پرایوں، سیاسی قوتوں    اور فوجی قیادتوں اور پاکستانی دوستوں اور پاکستان کے دشمنوں میں سے کس کس کا کتنا حصہ ہے؟ جب تک یہ ایک معما رہے گا، حالات کی اصلاح مشکل ہے۔ جرم کے تعین کے بعد مجرموں کا   تعین اور ان کو قرارواقعی سزا ہی وہ راستہ ہے، جس سے افراد اور قوم کو انصاف مل سکتا ہے اور آیندہ کے لیے ان جرائم کے مقابلے کے لیے آہنی دیواریں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔

اس پس منظر میں عام معافی کی بات بھی بڑی معنی خیز ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ایک طرف اچھے اور بُرے دہشت گردوں میں کوئی تمیز کرنے کے روادار نہیں، اور مکمل بربادی (elimination) سے کم بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جب بھی امریکا کہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے سوا کوئی اور راستہ نہیں اور امریکی اور افغان قیادت سے ہم زبان ہوکر نوازشریف صاحب اور سرتاج عزیز صاحب تک کہتے ہیں: طالبان سے بیک وقت لڑائی اور مذاکرات ممکن نہیں، تو یہ سیخ پا ہوتے ہیں اور ’اچھے طالبان‘ اور ’بُرے طالبان‘ کی تفریق کو تباہی کا راستہ قرار دیتے ہیں، لیکن بلوچستان کے دہشت گردوں اور ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا ذکر آتے ہی ان کا رویہ بالکل بدل جاتا ہے اور جنرل ایمنسٹی یا ’عام معافی‘ کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔

مطلوبہ حکمت عملی

ہماری نگاہ میں عدل و انصاف اور حقیقت پسندی دونوں کا ایک ہی تقاضا ہے اور وہ یہ ہے:

                                ۱-دہشت گردی اور سیاست میں قوت کے استعمال کی ہرشکل کو غلط تسلیم کیا جائے اور یہ راستہ ہر ایک کے لیے بند ہو۔

                                ۲- ریاست کو قوت کے جائز استعمال کا حق ہے، لیکن اس کے لیے بھی دستور اور قانون کی پابندی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔

                                ۳- جو اپنی غلطی اور گناہ کا صدقِ دل سے اعتراف کرے اور مستقل طور پر اور عملی سطح پر قوت کے استعمال کے راستے کو ترک کرے، معروف جمہوری طریقے سے قانون کے دائرے میں سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے، اسے سینے سے لگایا جائے اور کھلے دل سے موقع دیا جائے،  مگر آنکھیں کھلی رکھی جائیں۔ دوست اور دشمن، مخلص اور مکار، توبہ کرکے پلٹنے والے اور لباس بدل کر دھوکا دینے والوں میں تمیز کی جائے۔ ناانصافی کسی کے ساتھ نہ ہو اور غلطی کا دیانت سے اعتراف کرکے راہِ راست پر آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاہم ، ان چور دروازوں کو بندکیا جائے کہ جن سے داخل ہوکر شاطر ایک نیا کھیل کھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے احتساب، نگرانی، جرم کی سزا اور مظلوموں کی اعانت کا یہ کام پوری حکمت اور فراست کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ یہ کام بالکل ایک نئی حکمت عملی کا متقاضی ہے، جو ہمہ جہت ہو اور اس کے مختلف پہلوئوں میں توازن کے قیام ہی پر اس کی کامیابی کا انحصار ہے۔

                                ۴- مطلوبہ حکمت عملی کے ایک اہم حصے میں ان اسباب کا تعین ہونا چاہیے، جن کی وجہ سے حالات بگڑے اور پھر اس بگاڑ نے جن تحریکات کو جنم دیا ان کے مثبت اور منفی پہلو کیا رہے، تاکہ  اس تجزیے کی روشنی میں آیندہ کے لیے ایسے حالات سے بچا جاسکے۔ خوداحتسابی اور اجتماعی احتساب ہی وہ راستہ ہے، جس سے ماضی کی غلطیوں کے اثرات سے اور ان غلطیوں کے دوبارہ ارتکاب سے بچا جاسکتا ہے۔ ہم یہ دعوت جہاں ’متحدہ‘ کی قیادت اور کارکنوں کو دے رہے ہیں، وہیں ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی اور دینی قوتیں اپنے اپنے انداز میں حالات کا بے لاگ جائزہ لے کر اصلاح کی راہوں کو استوار کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی ذمہ داری دوسروں سے بھی کچھ سوا ہے۔ حکومت کے اداروں کے لیے بھی اس نوعیت کا جائزہ ازبس ضروری ہے۔

                                ۵- سیاست میں تشدد اور گولی کے استعمال ، شہر میں امن و امان کی بربادی، قانون کی بالادستی کے خاتمے، شہر کے دوسرے بنیادی مسائل سے پہلوتہی، عوام کی حقیقی مشکلات، اداروں کے غیرمؤثر ہوجانے یا مخصوص مفادات کے آلہ کار بن جانے کے باعث جو بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس پر بھی فوری اور بھرپور توجہ دی جائے۔ نیز صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے مسئلے کو بھی بروقت حل کیا جائے۔

                                ۶- ہم یہ بات بھی بہت صاف لفظوں میں اور اپنی پوری قوت اظہار کے ساتھ کہنا چاہتا ہیں کہ حالات کو بگاڑنے، بگاڑ کے بڑھ جانے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے کے بجاے اس سے سمجھوتا کرنے اور ’مشترک مفادات‘ کے حصول کے چکّر میں بگاڑ کی قوتوں کو شریکِ اقتدار کرنے کے باب میں جو رویہ مختلف حکومتوں، ریاستی اداروں، حتیٰ کہ ملکی سلامتی کے ذمہ دار حساس ترین اداروں کے ذمہ داران نے اختیار کیا ہے، وہ بہت پریشان کن اور عبرت کا نمونہ ہے۔ گذشتہ ۴۰برسوں کے سیاسی حالات اور سیاسی قوتوں اور گروہوں کو بنانے، بگاڑنے، لڑانے اور محدود مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جو کوششیں ہوئیں، وہ ہولناک داستان پیش کرتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان سب معاملات کا دیانت اور حکمت کے ساتھ، مگر بڑے کھرے اور شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے۔ قومی سلامتی پر جو وار ہوتے رہے ہیں، اگر ذمہ دار ادارے اور افراد ان سے واقف نہیں تھے تو ان کی غفلت مجرمانہ اور ان کی صلاحیت کار ناقابلِ اعتبار ہے۔ اور اگر واقفیت کے باوجود وہ محض مصلحت، چھوٹے اور پست مقاصد، ذاتی، گروہی، طبقاتی، جماعتی یا دوسرے مفادات کی وجہ سے ان سے اغماض برت رہے تھے، تو وہ بہت بڑے قومی جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔ جس کی ان سے پوری پوری جواب دہی کی روایت اب قائم ہونی چاہیے، اور اگر وہ ان میں کسی بھی درجے میں شریک تھے اور ان کی سزا جرم کے دوسرے مرتکبین سے مختلف نہیں ہونی چاہیے۔    جس شیطانی چکّر (vicious circle) میں قوم اور ملک گرفتارہے، اسے اب ٹوٹنا چاہیے۔ جس گرداب میں ملک جکڑا ہوا ہے اس شیطانی جال کو توڑے بغیر اس سے نکلنا محال ہے۔ بات سخت ہے مگر اب اس کے کہنے اور اس پر عمل کی راہیں استوار کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔

                                ۷-  احتساب، گرفت، سزا اور اصلاحِ کار کے لیے ان سخت اقدامات کے ساتھ ایک ’نرم پالیسی‘ بھی اس مجموعی حل کا حصہ ہونی چاہیے۔

جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے کہ محض غلطی کا اعتراف ماضی کے جرائم سے دامن پاک کرانے اور ان کے بارے میں جواب دہی سے معاف کردینے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اگر ’سچائی اور معذرت‘ کا راستہ بھی اختیار کیا جائے تو اس میں صرف انھی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے جن کا تعلق پالیسی کے اُمور سے ہو۔ لیکن جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، جن میں قتل، لُوٹ مار، ناجائز دولت کا حصول شامل ہیں، ان کے بارے میں جواب دہی اور حق کو حق دار تک پہنچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اس سلسلے میں احتساب ، اصلاح، سزا اور عفو و درگزر ہر ایک کا کردار رہے گا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے سنہری اصول عدل و احسان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ حق دار کو حق ملنا چاہیے، لیکن خیرکثیر کی خاطر نرمی کا راستہ بھی باہم رضامندی سے اختیار کیا جاسکتا ہے۔ خوش دلی کے ساتھ رعایت، کسی جبر کے بغیر معافی اور رخصت، اور دلوں کو موہ لینے کے لیے حق سے بھی زیادہ نرمی اور انعام وہ راستہ ہے ،جس سے تشدد اور ظلم کی سیاست کا خاتمہ، معاشرے سے ناانصافی کا استیصال، ماضی کی غلطیوں کی اصلاح، ناجائز دولت کی واپسی اور پوری شفافیت کے ساتھ قانون اور اخلاق کی حدود میں نئی سیاسی زندگی کے فروغ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اسی لیے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ بُرائی کو بُرائی سے نہیں بلکہ بھلائی، نیکی، خیر اور   حُسن سلوک سے دُور کرو، تاکہ دنیا کا نقشہ بدلے اور خیرغالب ہو، لیکن یہ کام آسان نہیں اور اس کے لیے بڑے مضبوط عزم، قربانی اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بڑے واضح الفاظ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس اُمت کے لیے تعلیم کیا ہے:

اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(حم السجدہ ۴۱:۳۴-۳۶)

پاکستان کے حالات جس رُخ پر جارہے ہیں، ان سے شب و روز تشویش اور اضطراب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ مجھے اللہ پر مکمل بھروسا اور یقین صادق ہے کہ پاکستان اور اُمتِ مسلمہ اس تاریک رات سے جلد نکلیں گے۔ قرآن اور اُممِ سابقہ کی تاریخ اور خود     اپنے زمانے کے نشیب و فراز پر جتنا غور کرتا ہوں، اُمید کی شمع اتنی ہی روشن نظر آتی ہے۔ لیکن قرآن و سنت اور تاریخ کے اوراق ہمیں یہ تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے اور یہاں نتائج کا انحصار مشیت ِالٰہی کے فریم ورک میں کوشش اور تدبیر پر ہے۔

گذشتہ دو تین مہینے ایسے گزرے ہیں کہ ہر روز ایک نیا مسئلہ اُبھرکر سامنے آیا ہے اور اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے کے لیے دل بے چین ہوا ہے، مگر پھر صحت کی خرابی مانع ہوئی اور سینہ خواہشات کا مدفن بن کر رہ گیا۔ اس مہینے کئی ایشوز دل و دماغ پر چھائے رہے۔ ’متحدہ‘ اور اس سے متعلقہ اُمور پر شذرہ پیش نظر تھا، جو ’اشارات‘  بن گئے۔ پنجاب میں خواتین پر تشدد سے متعلق قانون کی نوعیت اور اس پر بحث میں بہت سی اہم باتیں اظہار کے لیے پریشان کرتی ہیں۔    تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اور اس پر عمل داری کا مسئلہ بھی ذہن پر چھایا رہا۔ ملک کی نظریاتی اساس، قراردادِ مقاصد اور قراردادِ لاہور کے بارے میں جو لایعنی بحثیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ہورہی ہیں، جس طرح ہرمتفق علیہ چیز کو ایک طبقہ متنازع اور مشتبہ بنانے کی کوشش کررہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کی     ایک خطرناک فصل اُگائی جارہی ہے۔ حقائق کو بے دردی بلکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے مسخ  کیا جارہا ہے ۔ یہ گندا کھیل، جھوٹے پروپیگنڈے کے گرو گوبلز کی حکمت عملی کے مطابق بڑے پیمانے پر کھیلا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلائو کہ آخرکار وہی جھوٹ، سچ بن جائے۔ افسوس کہ ایک مخصوص طبقہ یہ کھیل بڑے تسلسل سے کھیل رہا ہے۔

سیاسی قیادت کا رنگ ڈھنگ بھی عجیب ہے۔ نوازشریف صاحب جن کا گھرانا دینی پہچان رکھتا تھا۔ راقم کو اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے زمانے میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم اور پروفیسر عبدالغفور احمد مرحوم کے ہمراہ ایک رات اُن کے گھر پر قیام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ تہجد کے وقت ان کے والدصاحب کس طرح مصروفِ عبادت ہوئے۔ نمازِ فجر کے لیے پورے گھر کے افراد کو بنفسِ نفیس بیدارکیا اور میاں نواز شریف کے ساتھ ماڈل ٹائون کی کوٹھی کے باہر لان میںادا کی۔ان نوازشریف صاحب کی زبان سے معلوم نہیں کس کے رقم کردہ، لبرلزم کے الفاظ سن کر دُکھ اور تعجب دونوں کا شکار ہوجاتا ہوں۔

ہندستان اور پاکستان کے کلچر کی ہم آہنگی کی بات ان کی زبان سے سن کر یقین نہیں آتا کہ وہ کون سے کلچر کی بات کر رہے ہیں؟ آج پاکستان کی نئی نسل کو ان حالات کا تجربہ نہیں جو قیامِ پاکستان پر منتج ہوئے۔ میرا تعلق اس نسل سے ہے، جس نے دہلی کی گلیوں میں زندگی گزاری ہے اور عام پبلک اسکولوں میں تعلیم پائی ہے، جہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور سکھ طلبہ اور اساتذہ شانہ بشانہ زندگی گزارتے تھے۔ ہمیں خوب تجربہ ہے کہ کہاں پر کتنا اشتراک تھا اور کہاں کتنا شدید اختلاف۔ کتابیں ہم ساتھ پڑھتے تھے اور کھیل بھی ساتھ کھیلتے تھے مگر کھانا، پینا، لباس، رہن سہن، زبان اور محاورہ، جائز اور ناجائز کی حدود اور مظاہر کا فرق زندگی کی حقیقت تھا۔ آج کے پاکستان میں پیدا ہونے والے اور پڑھنے والے اس ماحول سے واقف ہی نہیں کہ جس میں ’مسلم پانی‘ اور ’ہندو پانی‘ ہر اسکول اور ریلوے اسٹیشن پر ایک منہ بولتی حقیقت تھے۔

سیاسی دنیا کے نومولود بلاول زرداری صاحب نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر بھارت میں مسلمان صدر ہوسکتا ہے تو پاکستان میں ہندو کیوں صدر نہیں ہوسکتا؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ نے وہ دستور پڑھا ہے، جسے آپ کے نانا جان نے اتفاق راے سے منظور کرایا تھا اور جس پر آپ کی والدہ صاحبہ اور والد صاحب نے حلف لیا تھا۔ اس دستور میں لکھا ہوا ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ پاکستان ایک سیکولر نیشن اسٹیٹ نہیں، بلکہ ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے اپنے اصول اور حدود ہیں، اور جس نے بھی ان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے، منہ کی کھائی ہے۔

جنرل ایوب خاں نے ۱۹۶۲ء کے دستور میں پاکستان کے نام کے ساتھ لگا’اسلامی‘ کا لفظ نکالا اور قراردادِ مقاصد میں بھی ترمیم کرڈالی تھی، لیکن انھی کے نظام کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی نے ایوب صاحب اور ان کے وزیرقانون ریٹائرڈ جسٹس محمد منیر کی ساری تگ و دو کے باوجود، اسلام کو بحیثیت ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کتابِ قانون پر رقم کیا۔ اس کے  حق میں خود ذوالفقار علی بھٹو نے زوردار تقریر کی۔ اس بحث کے دوران میں سب سے بُرا حال جسٹس منیر کا تھا، جنھوں نے پہلے مخالفت کی اور پھر کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں، اسمبلی یہ اضافہ کرلے۔مگر ان کی بددیانتی کا حال یہ رہا کہ خود یہ سب بھگتنے کے باوجود اس واقعے کے ایک سال بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں وہی رٹ لگائی کہ ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کی اصطلاح جنرل ضیاء الحق کی اختراع تھی۔ علمی بددیانتی اور حقائق کو مسخ کرنا اس طبقے کا شیوہ ہے۔

یہی معاملہ ۱۹۷۳ء کے دستور کے وقت ہوا۔ پیپلزپارٹی کے مجوزہ مسودۂ دستور کی دفعہ اے-۳ یہ تھی کہ ’’پاکستان کا نظام سوشلسٹ معیشت پر مبنی ہوگا‘‘، لیکن پھر اسے واپس لیا گیا۔ ملک کا متفقہ دستوربنا، جس میں اسلام کی ضروری دفعات موجود ہیں۔ ۱۸ویں ترمیم کے موقعے پر سیکولرلابی کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود یہ اصول طے ہوا کہ جن چیزوں پر قوم کا اتفاق ہوچکا ہے انھیں دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، بلکہ ان کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اسلامی شریعت کا ایک محکم حصہ ہے اور مغرب کے واویلا سے متاثر ہوکر اس میں کوئی ترمیم اُمت مسلمہ کے لیے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

محمد نوازشریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کو اگر کچھ غلط فہمی یا خوش فہمی لاحق ہوگئی ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ قوم اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود قانون میں کوئی ایسی تبدیلی گوارا نہیں کرے گی، جو شریعت سے متصادم ہو، خواہ اس کا تعلق ناموسِ رسالتؐ سے ہو یا مسلمانوں کے خاندانی نظام اور اس کی بنیادی اقدار سے۔ جو چیز خاندانی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرے اور اسے درہم برہم کرنے والی ہو تو اسے کسی قیمت پر اور کسی بھی شکل میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔  صحیح راستہ یہ ہے کہ قانون سازی باہم مشاورت، دلیل سے بحث و گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے کی جائے، جو دستور کا بھی تقاضا ہے اور عقلِ عام کا مطالبہ بھی، اور یہ قانون سازی پاکستانی معاشرے کے اسلامی شریعت کے احکام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی اقدار اور روایات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ قانون سازی کے اس عمل میں علما ، وکلا اور سماجی کارکنوں کے ساتھ خود مسلمان خواتین کے مشورے کو بھی شریک  کیا جائے، اور صرف ملک کی ایک فی صد سے کم خواتین کی ابلاغی یلغار کے مقابلے میں، ان ۹۹فی صد سے زیادہ مسلمان خواتین کے احساسات، جذبات اور ترجیحات کا احترام کیا جائے، جو ترقی، تحفظ اور انصاف چاہتی ہیں، مگر اسلام کے نظام کے دائرے کے اندر۔

ایک اور ہنگامہ ہولی پر قومی چھٹی اور ہولی کے تہوار میں مسلمانوں کی شرکت کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے۔ ہولی ہی نہیں، اقلیتوں کو ان کے ہر معروف تہوار کے موقعے پر چھٹی ہماری تاریخ کا حصہ ہے، لیکن ایک فی صدی کے تہوار کو قومی چھٹی بنانا عقل اور قومی مفاد کسی کا بھی تقاضا نہیں اور پھر دوسروں کے تہواروں میں شرکت اور دھوم دھڑکا کرکے بلاول زرداری صاحب کس روایت کو قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کے نانا، والدہ صاحبہ، والد صاحب سب ہی سیاسی اور اجتماعی زندگی میں بڑا متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔جو بلاول کو سوجھی ہے وہ کسی کو   اس سے پہلے نہیں سوجھی تھی۔ یہ بڑی سطحی حرکتیں ہیں جن سے سنجیدہ قیادت کو احتراز کرنا چاہیے۔ اس قسم کی شعبدے بازی سے پیپلزپارٹی اپنا کھویا ہوا وقار واپس نہیں لاسکتی۔ اس کے لیے اچھی حکمرانی، وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے والی پالیسیاں، دانش مندانہ حکمت عملی اور ٹھوس پروگرام، کرپشن سے پاک اور مفادات کی سیاست کی جگہ اصولی اور ملکی مفاد کی سیاست کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ کی قیادت ہو یا پیپلزپارٹی کی، ہماری نصیحت بھی ہے اور انتباہ بھی کہ ملک، اس کے دستور اور مسلم معاشرے کی روایات اور اقدار کے احترام اور ملک و ملّت کے اعلیٰ مفادات کے لیے بے لاگ اور اَن تھک محنت ہی سے ملک کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر جو راستہ اختیار کیا جائے گا و ہ ناکام ہوگا اور ایسے تجربات کرنے والوں کو ان شاء اللہ منہ کی کھانا پڑے گی۔

۲۳مارچ ہر سال تحریک ِ پاکستان اور مقاصد ِ پاکستان کے شعور کو تازہ کرنے اور اپنی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ اس سال یہ تاریخی دن ایسے حالات میں آرہا ہے، جب ملک ِ عزیز اپنی زندگی، بقا اور ترقی کی جدوجہد میں ایک بڑے ہی نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے دوچار ہے۔

جمہوریت کا سفر باربار منقطع ہونے کے بعد، ۲۰۰۸ء سے پھر شروع ہوا۔ لیکن یہ آٹھ سال آزمایش اور ابتلا کی ایک دل خراش داستان سناتے ہیں۔ فوجی آمریت کی جو رات اکتوبر ۱۹۹۹ء میں شروع ہوئی تھی، وہ ۲۰۰۷ء کی اعلیٰ عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ صدافسوس کہ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں نے پانچ سال اور پھر موجودہ برسرِاقتدار مسلم لیگ (ن) اور اس کے حلیفوں کی حکمرانی کے ڈھائی پونے تین سال، حالات کو صحیح سمت میں بدلنے اور ملک کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے میں ناکامی سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے پانچ سال (۲۰۰۸ئ-۲۰۱۳ئ): نظریاتی اور فکری انتشار، بیرونی دبائو اور محتاجی، معاشی بگاڑ اور سیاسی خلفشار، اداراتی کش مکش اور عوامی مسائل سے پہلوتہی، توانائی، تعلیم اور صحت کے اُمور سے مجرمانہ غفلت، مفاد پرستی اور سب سے بڑھ کر بدعنوانی اور کرپشن کا عنوان بنے رہے۔ اس عبرت آموز دورِ حکمرانی کے بعد توقع تھی کہ ۲۰۱۳ء میں برسرِاقتدار آنے والی مسلم لیگ (ن) کی تیسری حکومت بہتر حکمرانی اور پاکستان کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے نئی اور مؤثر پالیسیاں نافذ کرے گی جن کا اس پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا، مگر ان ڈھائی پونے تین برسوں میں، اس حکومت نے جس ہوش ربا خراب حکمرانی (Mega-Misgovernance) کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے حالات کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا ہے۔ عوام مایوس، مضطرب اور خوف زدہ ہیں۔

۲۰۰۱ء سے’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے، افغانستان اور پاکستان پر جو جنگ مسلط کی تھی، اس کی آگ میں دونوں ملک آج تک جل رہے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ جو جنگ، ہماری جنگ نہ تھی، وہ اب ہماری جنگ بن گئی ہے۔ قوم اور   افواجِ پاکستان کی بیش بہا قربانیوں، عوام کے جان، مال، عزت اور امن و امان کی نہ کم ہونے والی تباہ کاریوں اور بڑے پیمانے پر آبادیوں کی نقل مکانی کے باوجود یہ جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ اس جنگ میں کئی نئے کردار اور حکومتیں حصہ ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی معیشت جمود کا شکار ہے۔ ۱۱۵؍ارب ڈالر کے خطیر نقصانات اُٹھانے کے ساتھ قرض، غربت اور محرومی ہمارا مقدر بنے ہوئے ہیں۔ بجلی اور توانائی کا بحران جاری ہے۔ ایک طرف بے روزگاری، مہنگائی اور فقروفاقہ کا سیلاب ہے، تو دوسری جانب اشرافیہ کے خزانوں میں دولت کی ریل پیل ہے۔ ملک میں بااختیار افراد، اعلیٰ طبقات اور بیش تر علاقوں میں دولت اور وسائل کی ہولناک عدم مساوات، عفریت کا رُوپ دھار چکے ہیں۔ خودانحصاری کا فقدان اور بیرونی دنیا پر انحصار میں اضافہ ہماری قومی پہچان بن گئی ہے۔ اس سب پر امریکا اور مغربی ممالک: اپنے حلیف پاکستان کو دنیا کے ’خطرناک ترین‘ اور ’ناقابلِ اعتبار‘ ممالک میں شامل کرتے ہیں اور do more کے مطالبات کی بوچھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علاقائی اور عالمی پس منظر بھی کوئی اچھی خبر نہیں لارہا۔ عالمی معیشت میں ۲۰۰۸ء سے کساد بازاری کے جو منفی رجحانات شروع ہوئے تھے، ساری کوششوں کے باوجود جاری ہیں۔ بیش تر عالمی ادارے نئے خطرات کا بگل بجا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ممالک کی جو اعلیٰ سطحی کانفرنس، سویزرلینڈکے شہر ڈیوو میں ۴۵برس سے ہو رہی ہے، اس کے حالیہ اجلاس (جنوری ۲۰۱۶ئ) میں مشہور ارب پتی بدنامِ زمانہ یہودی ساہوکار جارج سوروس نے کہا ہے کہ: ’’۲۰۱۶ء ایک نئے نشیب کے سفر کا سال ہوسکتا ہے‘‘۔

ادھر پورا شرق اوسط جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ جو ایک طرف عالمی طاقتوں کی باہمی زورآزمائی کی آماج گاہ بن گیا ہے اور دوسری طرف فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کا منظر بھی پیش کر رہا ہے۔ اور اس جنگ کی تپش پاکستان تک پہنچ چکی ہے۔

ان حالات میں ملک کی قیادت کو جس بالغ نظری، جس دیانت و امانت ، جس فہم و فراست اور جس قومی یک جہتی کے ساتھ ملک و ملّت کی خدمت کی مثال قائم کرنی چاہیے تھی، افسوس کہ اس کا دُور دُور نشان نہیں ملتا۔ مفادپرستی، شخصی حکمرانی، سیاسی جانب داری اور پنجہ آزمائی مالیاتی لُوٹ مار اور اداراتی کمزوری اور کش مکش کا دور دورہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں اور عوام الناس کے درمیان ایک خلیج ہے، گویا کہ وہ دو مختلف دنیائوں میں بس رہے ہیں اور ان میں یہ دُوری روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

۲۳مارچ ۱۹۴۰ء ایک تاریخی لمحہ تھا، جب اُمت مسلمہ پاک و ہند نے ایک روشن اسلامی مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔ پھر ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستانی قوم نے بڑی قربانیاں دے کر قائداعظمؒ کی قیادت میں جدوجہد کا ایک طویل اور کرب ناک سفر طے کیا تھا۔ اس طرح اپنے خواب کی تعبیر کی پہلی کرن بچشم سر دیکھی تھی اور نئی زندگی کا نیا سفر شروع کیا تھا۔ لیکن سات عشروں پر محیط یہ سفر بہت سے روشن سنگ ہاے میل کے باوجود ایک کرب ناک سفر رہا ہے ۔ قوم زبانِ حال سے اور دُکھ بھرے انداز میں سوچنے پر مجبور ہے کہ   ع

وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وہ سحر تو نہیں

مایوسی کفر ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ ہر قوم پر اور خود ہم پر باربار بُرا وقت آیا ہے، لیکن ہر نشیب کے بعد فراز اور ہر رات کے بعد صبحِ نو طلوع ہوتی ہے۔ یہی اللہ کی سنت ہے اور وہ لوگوں کے درمیان زمانے کو اپنی حکمت کے مطابق گردش دیتا رہتا ہے۔پھر اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی لمبی۔ لیکن بالآخر سپیدۂ صبح رُونما ہوتا ہے اور :

یوں اہلِ توکل کی بسر ہوتی ہے

ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے

آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

البتہ یہ بھی اللہ کی سنت ہے کہ تبدیلی خود بخود نہیں آتی، اس کے لیے کوشش اور جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔ صحیح منزل کا تعین، حالات کا دیانت دارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ترقی اور بگاڑ کے اسباب کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ حکمت عملی اور اہداف کا ادراک اور اس کے مطابق عمل کا نقشۂ کار مرتب کیا جاتا ہے۔ پھر ایمان اور احتساب کے ساتھ جدوجہد بھی کرنی ہوتی ہے۔ مثبت تبدیلی اور منزل کی طرف پیش قدمی کا یہی راستہ ہے۔ اس جدوجہد کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

انتشار اور بدحالی کا بنیادی سبب

اس ابتدائی گزارش کے بعد ہم پوری قوم کو دعوت دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایمان داری سے حالات کا تجزیہ کرکے متعین کرے کہ ہمارے موجودہ فکری انتشار، سیاسی خلفشار، معاشی بگاڑ،  تہذیبی تنزل، طبقاتی تصادم، صوبہ جاتی کش مکش، اداراتی ٹکرائو ، اشرافیہ سے نفرت اور عوام کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

جہاں تک ہم نے اس پر غور کیا ہے، اس کے تین پہلوہیں، جو ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں، یعنی:

  •   اللہ سے بے وفائی l نفس پرستی اور دنیا طلبیl اللہ کی مخلوق سے دُوری اور ان کے حقوق کے باب میں کوتاہی، غداری، بگاڑ ۔

اس پوری کیفیت کو ایک لفظ میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو اسے ’کرپشن‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ کرپشن دراصل فساد فی الارض کی ایک شکل ہے۔ جو نام ہے حق، عدل اور انصاف کے برعکس صلاحیت، حیثیت، منصب اور وسیلے کے ناجائز استعمال کا، نیز ذاتی، گروہی یا باطل مقاصد کے لیے قوت کے جاہلانہ استعمال کا۔

عرفِ عام میں تو کرپشن کوبالعموم رشوت، مالی بے ضابطگی اور خردبرد کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ لفظ حق، انصاف ، وفاداری، دیانت و امانت اور حُسنِ اخلاق کی ضد ہے۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں اس رویے اور اس شخصیت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو زندگی کے بارے میں غیراخلاقی رویہ اختیار کرے۔ جو حق وانصاف کا باغی ہو اور اپنی ذات اور خواہشات کو خدا بنانے والا ہو۔ جو اپنے خالق اور اخلاقی اقدار سے کٹا ہوا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ   یہ لفظ ایک منتشر شخصیت کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جس کا کوئی واضح اُجلارنگ رُوپ نہ ہو۔ جو اخلاق،اقدار اور پیمانۂ حق و باطل سے کچھ بھی تعلق نہ رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع مفہوم میں کرپشن کی ایک شکل فکری اور اعتقادی بھی ہے۔ انفرادی سطح پر فرد کے اخلاق اور شخصیت و کردار  کے انتشار سے اس کا تعلق بنتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں حق و انصاف کی پامالی اور ظلم ، دوسروں کی حق تلفی اور اکل بالباطل سے یہ عبارت ہے۔ رشوت، چوری، خردبرد، مالی لُوٹ مار تو اس کی صرف مختلف شکلوں میں سے چند ایک ہیں، اور بس انھی تک اسے محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کی وسعت کو ذہن میں لانا چاہیے۔ تخلیقِ آدم ؑکے وقت فرشتوں نے انسان کے وجود سے جس خوف کا اظہار فساد فی الارض کے الفاظ میں کیا تھا، غالباً کرپشن ہی وہ رویہ ہے کہ جس سے یہ بگاڑ، یعنی حق تلفی، باطل پرستی، ظلم و عدوان کا ارتکاب اور حدود کی پامالی واقع ہوتے ہیں۔

کرپشن کے باب میں لٹریچر کے جائزے سے اس کی کم از کم تین صورتیں سامنے آتی ہیں:

۱- عمومی بدعنوانیاں(Petty Corruptions): انفرادی سطح پر دوسروں سے بلااستحقاق مالی، مادی یا دوسری سہولتیں (favours ) حاصل کرنا اور اپنی بالاتر پوزیشن کا ناجائز استعمال۔

۲- وسیع بدعنوانیاں (Grand Corruptions): اہلِ اختیار کا اپنی حیثیت، مرتبے کا ایسا غلط استعمال، جو انفرادی اور اجتماعی ہرسطح پر معاملات کو متاثر کرے۔ اس کا محل: حکومت، سرکاری ادارے، کارپوریشن اور ملک کا مالیاتی، قانونی اور سیاسی نظام ہے، جسے صاحب ِ اختیار لوگ، قوم کے وسائل کو مفاد عام اور حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں۔ آج دنیا میں اس کرپشن کے تدارک کے لیے اختیار کیے جانے والے قوانین، ضابطوں اور سزائوںوغیرہ کا زیادہ تعلق اسی نوعیت سے ہے۔

۳- اداراتی اور اجتماعی بدعنوانی (Systematic & Collective Corruption): متعلقہ تجزیاتی لٹریچر میں اسے endemic(مخصوص)کرپشن کی اصطلاح میں بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق فرد کی ذاتی خواہشات و اختیارات کے غلط استعمال، خردبرد اور لُوٹ مار کے مقابلے میں نظام کی خرابی سے ہے، جس کی وجہ سے ایک گلاسڑا نظام، کرپشن کے لیے سازگار بن جائے۔ جس میں اس فساد کے لیے رخنے اور چوردروازے کھلے چھوڑ دیے گئے ہوں۔ جس سے خود نظام، کرپشن کو پروان چڑھانے کا ذریعہ اور وسیلہ بن جائے۔

صحیح تر الفاظ میں کرپشن کا ایک بازار تو افراد اور تنظیموں کے ہاتھوں سجتا ہے۔ دوسرا نتیجہ ہوتا ہے، اداروں، نظامِ کار کی کمزوریوں، قواعد و ضوابط کے داخلی جھول، اختیارات کے بے جا ارتکاز، ذاتی اور اداراتی مفادات میں عدم تفریق اور شفافیت کے فقدان کا۔

کرپشن اپنی ان تینوں صورتوں میں بدعنوانی، بداخلاقی اور ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ فرد اور معاشرے دونوں کے خلاف جرم ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں میں سزاوارِ گرفت ہے۔ یہ حقوق العباد پر ڈاکازنی اور فرد کے خلاف جرم ہے کہ جس کا حق آپ نے لوٹا ہے، اسے واپس لینے کا حق ہے۔ قانون اور معاشرے کو یہ حق، حق دار کی طرف منتقلی کا انتظام کرنا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف یہ فعل انسانی روح اور تہذیب و شرافت کے خلاف بھی جرم ہے۔ اس لیے پوری سوسائٹی اور ریاست کا کام ہے کہ کرپشن کے دروازوں کو بند کرے اور کرپشن کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے۔ ان سے مالِ ناحق وصول کرے۔معاشرے اور ریاست کے حقوق پر دست اندازی کرنے کے ذمہ داروں کو ان کے جرم کی سزا بھی دے۔

کرپشن : دینی نقطۂ نظر

سب سے بڑھ کر یہ اللہ کی میزان میں گناہ ہے۔ اللہ دنیا اور آخرت میں اس پر اپنی مشیت کے مطابق گرفت کرے گا۔ عوام کے حقوق پر ڈاکا زنی محض توبہ سے معاف نہیں ہوسکتی۔ جب تک حق تلفی کا شکار ہونے والوں کو ان کا حق نہ مل جائے یا وہ خود معاف نہ کردیں، اس وقت تک بدعنوانی کا مرتکب شخص گناہ گار اور مجرم رہے گا۔ پھر اس نوعیت کی حق تلفی اور ظلم کے عمل میں جو جتنا بھی شریک اور معاون ہوگا، اسی درجے میں وہ ذمے دار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رشوت کے باب میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ: رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں مجرم ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے۔

ناپ تول میں بددیانتی، امانت میں خیانت، سود، سٹہ، جوا، چوری، ڈاکا، مال و دولت میں خردبرد، غرض کسی بھی باطل ذریعے سے دولت، منافع یا کسی اور نوعیت کی طرف داری (favour) حاصل کرنے کے نتیجے میں معاشرے میں ظلم اور فساد فروغ پاتا ہے۔ نفرتیں اور محرومیاں جنم لیتی ہیں۔ دولت کی عدم مساوات کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ ملک کی معاشی سرگرمیوں اور ترقی میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور وسائل کے مناسب اور مفید ترین استعمال کا عمل مجروح ہوتا ہے، جو درحقیقت معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی کی ضمانت ہے۔

قرآن مجید نے اس صورتِ حال کو جامعیت کے ساتھ بیان کر دیاہے:

  • اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو۔(النساء ۴:۲۹)

امانت اور دیانت ہر معاملے میں مسلمان مرد اور عورت کی امتیازی شان اور پہچان ہے:

  •  اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت  نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو اور جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامان آزمایش ہیں اور اللہ کے پاس اجردینے کے لیے بہت کچھ ہے۔(انفال ۸:۲۷-۲۸)

حضرت شعیب علیہ السلام کی زبان میں ناپ تول میں کمی اور تجارت میں بدمعاشی کو زمین میں فساد جیسا جرم قرار دیا اور اللہ کے عذاب کا لازمی سزاوار:

  •  اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا، جس کا عذاب سب کو گھیرلے گا۔ اے برادرانِ قوم! ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔(ھود ۱۱:۸۴-۸۵)

اسی طرح قدرتِ حق نے جہاں معاشی تگ و دو اور رزقِ حلال کی تلاش کو فرض کیا، وہیں فضول خرچی سے منع فرمایا اور قناعت اور اعتدال کا حکم بھی دیا، تاکہ زندگی میں توازن رہے اور انسان ہوس اور نفس کا بندہ بن کر نہ رہ جائے۔ پھر اس سب کو ایک کُلی نظام کا حصہ بنا دیا، جو انسانوں کے تمام معاملات میں عدل و انصاف کا قیام،امانتوں اور ذمہ داریوں کو ان کے اہل افراد کے سپرد کرنا، اور زندگی کے تمام معاملات کو خیر، حق اور دیانت کے تابع کرنا اور شر، باطل اور خیانت کاری سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرنا ہے:

  •  ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔(الحدید ۵۷:۵۲)
  • مسلمانو، اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔(النسائ۴:۵۸)

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ نے خلافت کا حلف لیتے ہی اپنے اپنے انداز میں اس امر کا اعلان کیا اور پورے دورِ خلافت میں اس پر عمل کیا کہ طاقت ور اور کمزور کے فرق کو معاشرے میں ختم کر دیں گے۔ جس کا بھی جو حق ہے، خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو، اس کو پہنچا کر دم لیں گے۔ان کی نگاہ میں کوئی ایسا طاقت ور نہیں ہوگا، جو دوسروں کے حق پر ناجائز قابض ہوجائے اور خلیفۃ المسلمین اس غاصب سے حق لے کر کمزور کو نہ لوٹا دیں۔ یہ ہے دادرسی اور خوداختیاری (Empowerment ) کا وہ ہدف اور ذمہ داری، جو اسلام نے مسلمانوں کے حکمرانوں کو سونپی ہے۔ یہی وہ اعلیٰ نظام ہے، جس کے ذریعے زندگی میں ہرسطح پر کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، اور تمام انسانوں کے درمیان انصاف، ایک دوسرے کے حقوق کی مکمل پاس داری، امانت اور دیانت کے معاشی اور سرکاری اُمورکی ادایگی اور معاشرے کے تمام افراد کے لیے جان، مال، عزت، حقوق کا تحفظ اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا اہتمام ہوسکتا ہے۔

بانیانِ پاکستان کا طرزِعمل

بلاشبہہ قیامِ پاکستان کا مقصد ایک ایسے ہی معاشرے اور سیاسی و اجتماعی نظام کا قیام تھا اور علامہ محمد اقبال اور قائداعظم نے صاف لفظوں میں اس کا باربار اظہار کیا تھا۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان نے قومی خزانے کو ایک امانت سمجھا اور عملاً ایسی مثال قائم کی جو روشنی کا مینار تھی۔ آخری برطانوی وائس راے مائونٹ بیٹن جو قائداعظم سے سخت ناخوش تھا اور پنڈت جواہر لال نہرو کا دوست اور ہم مشرب تھا، اس نے بھی ہندستانی مسلم قیادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے برملا کہا کہ: 'Muslims will perhaps never get such an honest leader` (مسلمان غالباً کبھی ایسا دیانت دار لیڈر نہ پاسکیں گے)، جب کہ ان کے مدِمقابل گاندھی جی نے لوئی فشر کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا:Jinnah is incorruptible and brave` '(جناح ایک دیانت دار اور بہادر انسان ہیں)۔ اور علامہ محمد اقبال نے کہا:'He is incorruptible and unpurchasable`  (وہ ایک کھرے اور ناقابلِ خرید ہیں)۔

قائداعظم نے ریاست کے وسائل کو اپنی ذات کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا اور جب ان کے رفقا نے اصرار کیا کہ علاج کے لیے وہ انگلستان یا امریکا تشریف لے جائیں، یا کم از کم وہاں سے ڈاکٹر بلانے کی اجازت دے دیں، تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

نواب زادہ لیاقت علی خان، مشرقی پنجاب کے بڑے زمین دار اور ایک نہایت متمول فرد تھے۔ دہلی میں ان کی شان دار کوٹھی دیکھنے کے لائق تھی۔ یہی کوٹھی، کُل ہند مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے اپنی یہ کوٹھی پاکستان کے سفارت خانے کے طور پر وقف کردی تھی اور اس کا کوئی متبادل پاکستان میں نہیں لیا تھا۔

پاکستان کے معروف سفارت کار جناب جمشید مارکر، لیاقت علی خان سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔وہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ: میں نے زندگی میں صرف ایک بار ان کو بہت زیادہ غصے میں دیکھا اور یہ وہ دن تھا، جب ایک سیکرٹری نے ان کے سامنے ایک فائل پیش کی کہ:  ’’مشرقی پنجاب میں ان کی جو جاگیر رہ گئی ہے، اس کے عوض کراچی اور سندھ میں زمینیں الاٹ کرالیں‘‘۔ لیاقت علی خان نے فائل ان صاحب کے منہ پر پھینک کر کہا:’’آئو میرے ساتھ کراچی کی ان آبادیوں کو دیکھو، جہاں پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کرنے والے کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں‘‘___ جب پاکستان کے اِنھی پہلے وزیراعظم کو تقریباً چارسال بعد قتل کر دیا گیا، تو ان کے بنک اکائونٹ میں کُل ۴۷ہزار روپے تھے اور کوئی جایداد پاکستان میں نہیں تھی۔

موجودہ حکمرانوں کی روش

یہ تھا بانیانِ پاکستان کا طرزِعمل___ اور آج ہمارے حکمران طبقوں کا کیا حال ہے؟ ملک اور ملک سے باہر دولت کی فراوانی کے باوجود دولت کی مزید ہوس کا کیا عالم ہے؟ اس آئینے میں ملک کے عوام کی حالت زار کی اصل وجہ دیکھی جاسکتی ہے۔

قائداعظم مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی نفس پرستی اور دیانت و امانت کے دیوالیہ پن کے بارے میں سخت فکرمند تھے۔۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو ہمارے حکمران اور لبرل عناصر    اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے نہیں تھکتے، مگر اُن کو تقریر کا وہ حصہ بالکل نظر نہیں آتا، جس میں شہریت کے مسئلے پر کلام کرنے سے پہلے قائداعظم نے جس خطرے پر متنبہ کیا تھا، وہ کرپشن اور اقرباپروری ہی تھا۔ بعد کے حکمرانوں نے، خصوصیت سے جنرل ایوب خان اور ان کے بعد آنے والے سبھی حکمرانوں نے اپنے اپنے انداز میں کرپشن کے باب میں کھلی چھوٹ اور معافیت (immunity) حاصل کی اور پھر رنگے ہاتھوں اس کے فروغ کا راستہ اختیار کیا۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک میں کالے دھن (black money) پر مبنی معیشت، اصل قومی معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ملک سے لُوٹے ہوئے وسائل جو ملک سے باہر ہیں، وہ ملک کی دولت سے کہیں زیادہ ہیں۔ قومی معیشت ایک گلی سڑی لاش بن کر رہ گئی ہے، جس کا تعفن دُور دُور تک پھیلا ہوا ہے۔ ۱۰ فی صد اشرافیہ ۹۰فی صد سے زیادہ دولت پر قابض ہے اور یہ دولت انھی کے درمیان گردش کر رہی ہے، جب کہ ۹۰فی صد عوام محرومی اور بے چارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عام شہری تعلیم، صحت، روزگار، مکان، سواری ، ہر سہولت سے محروم ہے۔

کرپشن اپنی مختلف شکلوں میں موجود اور فراواں ہے۔ فکری اور نظریاتی کرپشن، اخلاقی اور معاشی کرپشن، مالی اور معاشی کرپشن، سیاسی اور قانونی کرپشن، اداراتی کرپشن، حتیٰ کہ ان ظالموں نے حج، اوقاف، تعلیم، صحت، عمررسیدہ انسانوں کے فنڈ اور غریبوں اور محتاجوں کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ تک میں بھی کرپشن کرنے میں شرم محسوس نہیں کی۔ پھر، کرپشن روکنے کے لیے جو ادارے بنائے گئے ہیں، الا ماشاء اللہ، وہ کرپشن ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ کرپشن کو تحفظ دینے اور فروغ دینے کا ذریعہ بن گئے ہیں یا سمجھے جارہے ہیں۔

اس کی بدترین مثال نیب آرڈی ننس ۱۹۹۹ء کی دفعہ ۲۵ ہے، جس کے تحت نیب (NAB: نیشنل اکائونٹی بلیٹی بیورو)  کے چیئرمین کو استحقاقی قوت (Discretionary power ) حاصل ہے کہ وہ ’بہانہ ساز سودے سازی‘ یا ’پلی بارگین‘ (Plea Bargain) کے نام پر کرپشن کے سارے ثبوتوں کے باوجود، اپنی مرضی سے کالے دَھن کا ایک حصہ وصول کرکے، باقی تمام لُوٹی ہوئی دولت، کرپشن کا ارتکاب کرنے والے فرد___ سیاست دان، تاجر ، صنعت کار، سول اور فوجی افسروں، بیوروکریٹس کو  مزے لینے کے لیے ہبہ کردے اور اس طرح وہ گنگا نہاکر پاک صاف ہوجائیں۔ عملاً ۱۰ سے ۲۰ فی صد رقم لے کر یہ قابلِ نفرت کام نیب ۱۸برسوں سے کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے 'Consitutional Corruption` (دستوری کرپشن) قرار دیا ہے اور جرم سے بڑے جرم، یعنی جرم کی سرپرستی اور اس کی توقیر قرار دیا ہے۔

 اس ادارے نے ۱۸برس میں غالباً ۱۸؍افراد کو بھی قرار واقعی سزا نہیں دی ہے، مگر اس کے باوجود اس ادارے پر ان ۱۸برسوں میں اربوں روپے قومی خزانے کے صرف ہوگئے ہیں۔ اقبال نے سیاسی غلامی کے باب میںکہا تھا کہ     ؎

تھا جو ’ناخوب‘ بتدریج وہی ’خوب‘ ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

ہمارا المیہ ہے کہ آزادی کے بعد یہ سانحہ ہم پر کچھ اور بھی سوا ہوکر گزر رہا ہے، جس کی وجہ ہوس کی غلامی، دنیا کی پرستش اور احتساب اور جواب دہی کے فقدان کا نظام ہے۔ جس ملک کو   اللہ تعالیٰ نے بہترین انسانی اور مادی وسائل سے فیض یاب کیا تھا، وہ فقروفاقہ، بے روزگاری اور جہالت، بیماری اور بے سروسامانی کا شکار ہے۔

قائداعظم کا انتباہ

ہم بڑے دُکھ سے یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ طبقہ جسے ’اشرافیہ‘ کہا جاتا ہے، جو جمہوریت، لبرل ازم اور ترقی پسندی کا دعوے دار ہے، جس کے ہاتھوں میں آج تک زمامِ اقتدار رہی ہے، اس نے قوم کو دونوں ہاتھوں سے، جھولی بھربھر کے لوٹا ہے۔ اگرچہ اچھے لوگ ان میں بھی ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی اس حکمران طبقے نے اپنے مفادات ہی کی پوجا کی ہے اور اللہ اور اللہ کے بندوں کے حقوق سے مجرمانہ رُوگردانی کی ہے۔ قائداعظم محمدعلی جناح اس طبقے کے بارے میں اپنی بصیرت کی بنیاد پر شاکی تھے۔ اپنے دوست ایم ایچ اصفہانی کو ذاتی خط (۶مئی ۱۹۴۵ئ) میں لکھتے ہیں:

کرپشن ایک لعنت ہے ہندستان میں، مگر خاص طور پر نام نہاد پڑھے لکھے مسلمانوں اور دانش وروں میں۔ بلاشک و شبہہ یہ وہ طبقہ ہے جو مفادپرستی، اخلاقی اور فکری سطح پر بدعنوانی کا مرتکب ہے۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں ہے کہ یہ بیماری عام ہے،مگر بالخصوص مسلمانوں میں فراواں ہے۔

قائداعظم کے یہی احساسات تھے، جنھیں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو خطابِ آزادی کے دوران، اسمبلی کی بالادستی کے بارے میں اپنے خیالات کے اظہار کے بعد سب سے پہلے بیان کیا:

چور بازاری دوسری لعنت ہے۔ مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ عدالتیں ان کے لیے قید کی سزائیں تجویز کرتی ہیں یا بعض اوقات ان پر صرف جرمانے ہی کیے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ موجودہ تکلیف دہ حالات میں، جب ہمیں مسلسل خوراک کی قلت یا دیگر ضروری اشیاے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چوربازاری کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے، کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیاے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کردیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی، احتیاج اور موت تک کا باعث بن جاتے ہیں۔

ایک اور بات جو فوری طور پر میرے سامنے آتی ہے، وہ ہے اقرباپروری اور احباب نوازی۔ یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی، اور بہت سی اچھی بُری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اس بُرائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہوگا۔ میں یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربانوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ایسے کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ، یابلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقۂ کار رائج ہے، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔

قائداعظم نے جس طبقے اور اس کے جس مرض کی نشان دہی کی ہے، وہ مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے اور اس کے علاج کو تلاش کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم صاف لفظوں میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی خاص طبقے یا کسی خاص فرد کو ہدفِ ملامت بنانا نہیں ہے۔ حالانکہ خود قائداعظم کا تعلق بھی برعظیم کے پڑھے لکھے مسلمان طبقے سے تھا۔ اس لیے قائد کی بات کو اور ہماری تنقید کو کسی عصبیت کا شاخسانہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کے مخلص قائدین کو چھوڑ کر، جس طبقے نے اقتدارکو اپنی گرفت میں لے لیا، ان میں: سیاست دان، بیوروکریٹ، صحافی، دانش ور، مقتدر فوجی جرنیل، سبھی شامل تھے اور ہیں۔ اس طبقے میں بھی جو جتنا لبرل اور سیکولر تھا، وہ اتنا ہی اس ملک کو مغربیت، مادہ پرستی، مفادات کی خدائی اور نفسانفسی کی سیاست ،معیشت اور تہذیب کو تباہ کرنے پر تلاہوا تھا  اور تلا بیٹھا ہے۔

اسی پڑھے لکھے طبقے میں اسلام کے شیدائی، مشرقیت کے دل دادہ اور شرافت کے پُتلے بھی ایک تعداد میں موجود تھے اور وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ انھی کی خدمات اور مبارک کوششوں کے نتیجے میں ایک بڑا خیر ہمارے معاشرے میں موجود ہے، جو حق و باطل کی کش مکش میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ۱۹۵۴ء کے بعد سے بحیثیت مجموعی اختیار و اقتدار جس طبقے کے ہاتھوں میں رہا، وہ تحریک ِ پاکستان اور اس کے مقاصد کے باب میں وفادار نہیں پایا گیا، الاماشاء اللہ۔ یہ بات صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں۔جن حضرات نے پاکستان کے بارے میں معروف مستشرقین پروفیسر ولفریڈ کنٹول اسمتھ اور ڈاکٹر کیتھ کلارڈ کی کتب کا مطالعہ کیا ہے، وہ گواہی دیں گے کہ دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو پٹڑی سے اُتارنے اور پھر مفادپرست معاشرے، معیشت اور تہذیب کی راہ پر ڈالنے میں اصل کردار مغرب زدہ سیکولر قیادت ہی نے انجام دیا ہے۔

کرپشن کے دائرے

کرپشن کے دائرے میں اس طبقے نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، ہم اس کے اثراتِ بد کو بھگت رہے ہیں:

  •  فکری اور نظریاتی کرپشن: بظاہر نام اسلام کا استعمال کیا گیا۔ دستور اور قانون میں اس کا ذکر کیا گیا، تاکہ عوام کو دھوکا دیا اور اسلام پسند قوتوں کا منہ بند کیا جاسکے، لیکن عملاً تمام ہی پالیسیاں ذاتی مفادات، علاقائی تعصبات، صوبائی لُوٹ مار اور مغربی ممالک کے اشارۂ چشم پر بنائی گئیں۔ وسائل اپنی گرفت میں رکھے گئے اور عوام ایک ایک نوالے اور بوندبوند کے لیے ترستے رہے۔   اس مقتدر گروہ نے اسلام ، مسلم تہذیب و ثقافت ، اقدارو اصول ، تاریخی روایات، قومی زبان اور علاقائی زبانوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ نظریاتی، فکری اور تہذیبی میدان میں کرپشن کی بدترین مثال ہے۔
  •   ذاتی کرپشن: کرپشن بنیادی طور پر اخلاقی مسئلہ ہے۔ خود عمرانی علوم کے لٹریچر میں بھی بات فرد کی اندرونی کیفیت اور اس کے عملی اظہار کی جہتوں پر کی جاتی ہے اور الفاظ بھی integrity (کردار کی پختگی)، honesty (دیانت داری)اور loyalty (وفاداری) کے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سب اخلاقی اقدار ہیں، جن کی بنیاد ہماری نگاہ میں دین ہے اور سیکولر نظام میں انھیں ’افادیت پسندی‘ کہا جاتا ہے۔ مختصر اً یہ کہ مسئلے کی بنیاد ذاتی اخلاقیات ہی میں ہے اور کرپشن کی جڑ انسان کے نفس میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ: فَاَلْہَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا o قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o (الشمس ۹۱: ۸-۱۰)’’پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری، اس پر الہام کر دی، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا‘‘، یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

انسانوں کے معاملات میں جو بدعنوانی اور لُوٹ مار رُونما ہوتی ہے، اس کی جڑیں انسان کے ایمان، خیالات، تصورِ حیات میں پیوست ہیں۔ اصلاح کی جو بھی حکمت عملی بنائی جائے گی، اس میں تصورات کی اصلاح،اقدار پر ایمان اور ان کے ساتھ وفاداری اور فکر و عمل میں مطابقت ضروری پہلو ہیں۔

منظم اور بڑے پیمانے کی کرپشن کا تعلق کرپشن کی وسعت اور اس کی گہرائی سے ہے۔

  •  اداراتی کرپشن: اس کا تصور اداروں کے داخلی ڈھانچے اور نظامِ کار میں پائی جانے والی کمزوریوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ کرپشن کی راہیں کھولنے اور اس کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔  اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں معاشرے کی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر ریاست    کے پورے نظام تک ملوث نظر آتے ہیں۔ خاندان، تعلیم، ابلاغ، قانون، تفریح، نظامِ انتخاب،  جملہ شعبہ ہاے زندگی، غرض سبھی ادارے کرپشن کی کمین گاہیں بن سکتی ہیں۔ کرپشن کے خلاف جو بھی حکمت عملی بنائی جائے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک رُخی نہ ہو، بلکہ ہرہرجہت اور حالات کی روشنی میں ایسے راستے اختیار کیے جائیں، جو وسائل کے ٹھیک ٹھیک استعمال کو یقینی بناسکیں۔

کرپشن کے مختلف مراحل

کرپشن کی ان تمام وسعتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے، تو صاف نظر آتا ہے کہ آزادی کے جلو میں ہجرت اور انتقالِ آبادی کی وجہ سے املاک اور کاروبار پر قبضے کے باب میں جو طرزِعمل اختیار کیا گیا اور بدعنوانی کے جس کلچر کو فروغ دیا گیا، اس نے کرپشن کے لیے پہلا میدان کھولا۔ متروکہ جایدادیں اس کاپہلا امتحان بنیں، جنھوں نے اس قوم کو آزمایش میں ڈالا ۔ بلاشبہہ ہزاروں لاکھوں افراد نے ایمان داری کے ساتھ اپنے نقصانات کے ازالے کی کوشش کی، لیکن ایک بڑی اور بااثر تعداد جو پہلے سے یہیں آباد تھی،اس نے ناجائز قبضہ اور غلط کلیم کا راستہ اختیار کیا۔ یوں اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، اپنے لیے مال اور املاک لوٹنے کا کالا کاروبار کیا۔ بیوروکریسی نے بھی ہاتھ رنگے اور اس طرح کرپشن کا ایک بڑا میدان کھل گیا، جو آج تک کھلا ہوا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور روٹ پرمٹ اور بیرونی تجارتی کوٹے دوسرا بڑا میدان بنے۔ سرکاری اراضی پر قبضے اور سیاسی بندربانٹ کے کرتب بھلا کب چھپے رہ سکتے تھے۔ سرکاری خریداریاں پہلے بھی کرپشن کا ایک بڑا میدان تھیں اور ان میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا گیا۔ پھر بیرونی امداد کے   جلو میں کرپشن کا ایک طوفان اُمڈنا شروع ہوا۔ اکتوبر ۱۹۵۸ء سے فوجی آمریت کے قدم رنجا فرمانے کے ساتھ حکومت کے فیصلہ سازی کے انداز میں تبدیلی آنے لگی اور اختیاراتی (arbitrery) اور استحقاقی (discretionary) اختیارات برابر بڑھنے لگے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان، خود مغربی پاکستان کے صوبوں کے درمیان اور فوج اور سول محکموں میں وسائل کی تقسیم کے میدان بھی کرپشن، ناانصافی اور الطاف و عنایات کی آماج گاہ بن گئے۔

ذوالفقار علی بھٹوصاحب کے دورِ حکومت (۱۹۷۲ئ-۱۹۷۷ئ) میں قومی ملکیت میں لینے کی پالیسی نے معیشت پر سیاست کے غلبے اور فیصلوں میں سیاسی مداخلت اور سرپرستی کے بڑے بڑے گیٹ چوپٹ کھول دیے۔ پھر فوجی اور سول حکومتوں کی میوزیکل چیئر کے کھیل (۱۹۷۷ئ-۲۰۱۶ئ) نت نئی شکلوں میں رائج ہیں۔ جب ۸۰کے عشرے میں یہ فلسفہ گھڑا گیا کہ ’ریاست کا کام بزنس نہیں ہے‘، اس وقت سے پہلے جو کچھ قومی ملکیت کے نام پر کیا گیا، وہی کچھ  نج کاری کے جھنڈے تلے ہونے لگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ریاست کا کام بزنس نہیں تو تاجروں، ساہوکاروں، بنکاروں اور اندھی طاقت کے رکھوالوں کو بھی یہ مقام حاصل نہیں کہ وہ ریاست کو کاروبار کا اڈا بنا کر چلائیں۔

ریاست کا معیشت میں ایک مثبت کردار ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ معیشت کا مجموعی نظام منڈی ہی کے ذریعے چلنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ حکومت کا عوام اور ملک کے     اسٹرے ٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے پیداواری اور ریگولیٹری (ضابطہ کاری) کردار بھی ضروری ہیں۔ یہ سب کام ضابطے اور قاعدے کے مطابق، اور شفاف انداز میں ہونے چاہییں۔ نجی شعبے کے لیے بھی ایسا قانونی اور ریگولیٹری نظام ہونا چاہیے، جو ایک طرف نجی سرمایے اور کاروبار کو تحفظ دے اور کام کے مواقع فراہم کرے۔ دوسری طرف صارفین، مزدوروں اور بحیثیت مجموعی معیشت کے مفادات اور ضروریات کے مناسب شفاف، مؤثر اور عادلانہ طریق کار کا انتظام و انصرام بھی کرے۔ اسی طرح ملک میں تقسیمِ دولت کے نظام کو منصفانہ بنیاد پر منظم کرے، تاکہ ترقی کے  ثمرات تمام شہروں اور تمام علاقوں میں پہنچ سکیں۔

کرپشن کی جن چار موٹی موٹی اقسام کی ہم نے نشان دہی کی ہے، بدقسمتی سے وہ تمام ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر نہ صرف بھرپور وجود رکھتی ہیں، بلکہ افسوس اور تشویش کا مقام ہے کہ ان میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ کرپشن کو روکنے کی بظاہر جو بھی کوششیں ہوئی ہیں، قانون سازی ہوئی ہے، ادارے بنائے گئے ہیں، وہ بحیثیت مجموعی ناکام رہے ہیں۔

کرپشن کی گہناؤنی صورتِ حال

اس وقت عالم یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبے پر نظر ڈالیں، کرپشن کی گرم بازاری کا سماں نظر آتا ہے۔ سیاست دان تنقید کا اولین ہدف ہیںاور اس باب میں ان کا دامن اتنا داغ دار پیش کیا جارہا ہے کہ سیاست گالی بنتی جارہی ہے۔ تاہم، ہر جماعت میں ایک تعداد اچھے اور صاف دامن افراد کی بھی ہے، لیکن یہ کہنا صریح زیادتی اور خلافِ واقعہ ہے کہ دوسرے طبقات اور گروہ اس بلا سے محفوظ ہیں۔ بیوروکریسی کا کردار کچھ کم گھنائونا اور تباہ کن نہیں ہے۔ پولیس، عدلیہ خصوصیت سے نچلی سطح پر  عدلیہ (جج اور وکیل)، پھر تعلیم، صحت، صحافت اور فوج کے کارپرداز___ بدقسمتی سے اس حمام میں بڑی تعداد لباس سے فارغ ہے۔

مسئلہ کتنا گمبھیر اور تباہ کن ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والے چند ہوش ربا حقائق پیش نظر رہنے چاہییں، تاکہ حل کے لیے مناسب حکمت عملی کے لیے کچھ گزارشات پیش کی جاسکیں۔

۲۰۱۲ء میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اندازہ لگایا کہ کرپشن، ٹیکس چوری اور  بُری حکومت کے ضمن میں پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۳ء تک ۵ئ۹ٹریلین روپے (۹۴؍ارب امریکی ڈالر)ضائع کرچکی تھی۔ ساڑھے نو ٹریلین (۹۵ کھرب روپے) پاکستانی معیشت کے پس منظر میں کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر انھی پانچ برسوں (یعنی ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۳ئ) کے پانچوں بجٹ جمع کرلیے جائیں اور ان میں انتظامی اور ترقیاتی دونوں حصوں کو شامل کرلیا جائے تو وہ ۵ئ۹ ٹرلین کے برابر ہوں گے۔ یہ رقم ان بیرونی قرضوں سے کئی گنا زیادہ ہے، جن کا بوجھ ہماری معیشت پر اس زمانے میں چڑھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر صرف کرپشن پر ۴۰ فی صد قابو پالیا جائے تو بیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر  اس پر ۸۰فی صد قابوپالیا جائے تو ملک کے ترقیاتی بجٹ کو بہ آسانی دگنا کیا جاسکتا ہے ،جس کے نتیجے میں ۷ سے ۸فی صد سالانہ ترقی کا ہدف حاصل کیا جاسکے گا___ یہ ہے ہمارا المیہ!

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پچھلے ۱۸سال کے ’بدعنوانی کے اشاریے‘  مرتب کیے ہیں۔ تاہم ، پوزیشن میں جزوی تبدیلی کے ساتھ پاکستان کرپشن کی بدترین کیفیت میں مبتلا ۵۰ملکوں ہی میں رہا ہے۔ جن تقریباً۱۸۰ ممالک کے بارے میں سروے مرتب کیا گیا ہے، ان میں ۱۳۰ ممالک ہم سے بہتر ہیں۔ واضح رہے کہ ۱۰۰ میں سے ۵۰ سے کم نمبر لانے والے ممالک کا شمار زیادہ کرپٹ ملک میں ہوتا ہے اور ہم ۵۰ کے اس ہندسے سے بھی ۲۰نمبر نیچے ہیں۔ علاقے کے ممالک میں ہمارے ۳۰ اسکور کے مقابلے میں بھوٹان کا اسکور ۶۵، بھارت کا ۳۸ ، سری لنکا کا ۳۷ ہے۔ مصر(۳۶) اور انڈونیشیا (۳۶) بھی ہم سے آگے ہیں۔اسی طرح ملایشیا، کویت، ترکی اور جبوتی ہم سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

۱۹۹۰ء کے عشرے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی حکومتیں بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات پر برطرف کی گئی تھیں۔ آصف علی زرداری صاحب نے معمولی حیثیت سے معاشی سفر کا آغاز کیا اور آج وہ ارب پتی ہیں۔ ان کی آمدنی کے معلوم ذرائع سے ہرگز پتا نہیں چلتا کہ اتنی دولت کے مالک کیسے بنے۔ ’سرے محل‘ کے باب میں آنکھ مچولی کا کھیل سب کے سامنے ہے۔ اربوں روپے کی مالیت کا یہ محل ان کی ملکیت تھا۔ اس کے سامانِ زیبایش کے ۳۰ کنٹینر پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے انگلستان بھیجے گئے۔ اسمبلی کے فلور پر بے نظیر بھٹوصاحبہ نے انکار کیا کہ ’سرے محل‘ سے میرا اور میرے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر جنرل پرویز مشرف صاحب کے دورِحکومت میں زرداری صاحب نے برطانوی انتظامیہ کو باقاعدہ تحریری حلف نامہ پیش کیا کہ یہ محل ان کا ہے۔ ایسا ہی کھیل سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں رقم اور ہیرے کے مشہور ہار کا رہا۔

مشہور صحافی اور محقق ریمنڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب Capitalism's Achiless Heel کئی برس سے شائع ہورہی ہے۔ اس کے ص۷۶ سے ۸۵ تک زرداری صاحب، بے نظیر صاحبہ اور شریف برادران کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیل شائع کی گئی ہے۔ دونوں خاندانوں کے بیرونی اثاثے ایک ایک بلین ڈالر سے زیادہ بتائے گئے ہیں اور مصنف کے بقول یہ کمائی ۹۰کے عشرے کی فتوحات کا ثمرہ ہے۔ مصنف نے دونوں خاندانوں کو چیلنج کیا ہے کہ اگر معلومات غلط ہیں تو مجھ پر برطانیہ کی عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ کریں، جو اَب تک کسی نے دائر نہیں کیا۔ بظاہر ان اعداد و شمار کے صحیح ہونے کا اشارہ ملتا ہے، جو اس میں دیے گئے ہیں اور جو پاکستان کی سیاسی قیادت اور ملک کے لیے شرم ناک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ اثاثے اب دوگنا اور تین گنا سے زیادہ ہوچکے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی (ANP)کی قیادت کے بارے میں اس کے اپنے گھر کے بھیدی اور بیگم نسیم ولی صاحبہ کے بھائی کے الزامات ریکارڈ پر ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ (MQM)کی قیادت کے بارے میں روز نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ ہزاروں افراد کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ان کے کارکنوں اور قائدین کے بھتے وصول کرنے اور قتل اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ بلدیہ ٹائون کراچی میں فیکٹری کو تقریباً ۳۰۰؍ انسانوں سمیت جلادینے کا معاملہ اب ’مشترکہ تفتیشی ٹیم‘ (JIT) کی رپورٹ کی شکل میں قوم کے سامنے آچکا ہے۔  یہاں بھی بھتہ ہی اس قتل کا محرک نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر ۴۶۲؍ارب روپے کی کرپشن کا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں خاک اُ ڑ رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کھل کر  سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اورنج ٹرین کے بارے میں اخراجات کے اعدادوشمار چکرا دینے والے ہیں۔ یہی معاملہ گیس کی خرید کے معاہدوں اور بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہے۔

ہم یہ چند نمونے اس لیے پیش کر رہے ہیں کہ ان اُمور کی تحقیق ہونی چاہیے۔ بات صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بیوروکریٹس کا ریکارڈ تو اور بھی بدتر صورت پیش کرتا ہے۔ سیاست دانوں اور بیوروکریٹوں کا’ غیرمقدس اتحاد‘ بھی ایک حقیقت ہے۔ کچھ ججوں، جرنیلوں اور ان کے اعزہ و اقارب کی داستانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ بہت ہی پُراسرار اور تہہ در تہہ ہے۔ اس کے لیے زمینوں کی خریدوفروخت بلکہ زمینوں پر زبردستی قبضے جمانے کے لیے دھن، دولت اور دھونس کے اتنے تذکرے ہیں کہ انھیں پیش کرتے ہوئے وقت کم پڑ جائے۔

مرکزی اور صوبائی آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں بھی چشم کشا ہیں۔ سیکڑوں ارب روپے کی   بے قاعدگیاں ہرسال کی رپورٹ میں سامنے آرہی ہیں، مگر پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹیاں خاموشی سے انھیں دبائے بیٹھی ہیں۔ موجودہ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار احمد جس زمانے میں وہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سربراہ تھے، انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن اس اہم پارلیمانی ادارے نے نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد اپنی ذمہ داری ادا کی۔

یہی حال احتساب بیورو (NAB)کا ہے۔ ۱۹۹۹ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے آرڈی ننس کے ذریعے یہ ادارہ قائم کیا تھا۔ لیکن اس کے پہلے دو سربراہوں:  جنرل شعیب امجد اور جنرل شاہد یہ کہہ کر مستعفی ہوگئے کہ: ہمارے کام میں مداخلت کی جارہی ہے اور ہم کو اصل مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالنے دیا جارہا۔ جنرل شاہد نے تو اپنی یادداشتیں بھی سپردِقلم کردی ہیں، جن میں نام لے کر بتادیا ہے کہ کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے ان کو کام سے روکا گیا اور سیاسی مفاہمت کے نام پر کس طرح قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو پارسائی کا سرٹیفکیٹ دے کر شریکِ اقتدار کرلیا گیا۔

اسی طرح وہ حکمران جرنیل، جس نے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگایا تھا،ا س نے   کس طرح ایم کیو ایم کے سربراہ کو ایک نہیں متعدد صحافیوں کے سامنے غدار کہا تھا اور پھر کس طرح انھیں اور ان کی پارٹی کو گلے سے لگالیا۔ اسی طرح ۱۲مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی ایئرپورٹ اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر ایم کیو ایم کے ہاتھوں خونیں واقعے کے بعد، اسی حکمران نے ایم کیو ایم کو اپنی قوت کا نشان قرار دیا۔ بے نظیر اور زرداری کو کرپٹ کہا اور پھر نام نہاد ’ضابطۂ مفاہمت‘ (NRO) کے ذریعے انھیں اور ایم کیو ایم کو، جس پر ۵ہزار سے زیادہ مقدمات تھے اور الطاف حسین صاحب کو،جو دسیوں قتل کے مقدمات میں مطلوب تھے، سب کی خشک شوئی (dry cleaning) کا سیاہ کارنامہ انجام دیا۔

اس امر کا سختی سے اہتمام ہونا چاہیے کہ کسی پر بھی الزام بلاثبوت نہیں لگنا چاہیے۔ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی کو مجرم بھی قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو بھی پبلک لائف میں ہے، اس کی زندگی کھلی کتاب کے مانند ہوتی ہے۔ اگر تسلسل سے اس کے بارے میں الزامات آرہے ہوں، اور وہ اپنا دفاع نہیں کرتا یا نہیں کرسکتا، تو اسے پاک بازی کی سند دینا بھی حق و انصاف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ہم صبح شام حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نمونہ پیش کرتے ہیں۔ آپؐ ایک موقعے پر    اُم المومنینؓ سے ہم کلام تھے کہ ایک صحابی آئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ آپؐ نے صحابی کو بلایا اور وضاحت فرمائی کہ یہ فلاں اُم المومنینؓ ہیں۔ اور اس طرح قیامت تک کے لیے یہ سنت قائم فرمادی کہ جہاں شبہہ پیدا ہونا ممکن ہو، بروقت اس کا ازالہ کردیا جائے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ سے لباس کے سلسلے میں سوال ہونا، اور پھر اس کا جواب اپنے بجاے، اپنے صاحبزادے کی زبان سے دلانا، وہ روشن مثالیں ہیں، جن کی تقلید مسلمان حکمرانوں اور بااثر شخصیات کو کرنی چاہیے۔

کرپشن کی ایک صورت وہ ہے، جو حکومت پالیسی کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کے ارکان، بیوروکریسی، ججوں، جرنیلوں، صحافیوں اور نہ معلوم کس کس کو لائسنس، ترقیاتی کوٹے، زمین کے پلاٹ، ملک اور ملک سے باہر سفر، علاج کی مفت سہولتیں اور کیا کیا عنایات خسروانہ ہیں جن سے سرفراز کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ فی الفور ختم ہونا چاہیے۔

ہم نے ایسی تمام بے جا نوازشات کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ الحمدللہ ، ہم نے اور جماعت اسلامی پاکستان کے ذمہ دار حضرات نے وزارت اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے دور میں اس نوعیت کی سہولیات سے اجتناب کیا۔ بھٹوصاحب نے ارکانِ پارلیمنٹ کو ڈیوٹی فری کار اور اسلام آباد میں پلاٹ کی سوغات کا آغاز کیا تھا۔ الحمدللہ، جماعت اسلامی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ یہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے کہ سابق چیف جسٹس اے آر کارنیلیس کو جب بھٹوصاحب نے ایک پلاٹ کے الاٹ کرنے کا خط لکھا تو ان کا مختصر جواب یہ تھا کہ ’’شکریہ، میں نے تو کسی پلاٹ کے لیے درخواست نہیں دی اور نہ مجھے اس کی کوئی ضرورت ہے‘‘۔

بطور ممبر سینیٹ میں نے اور محترم قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور نے اپنی تنخواہ نہیں لی اور اس رقم کے ذریعے سینیٹ میں لوئراسٹاف کے لیے فنڈ قائم کیا، جو دوسرے اراکین کے تعاون سے سینیٹ کے ملازمین کے لیے ایک بڑا سہارا بن چکا ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ کا یہ ’انڈومنٹ فنڈ‘ قائم ہوچکا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مجھے جو استحقاقی سہولیات میسر تھیں، الحمدللہ ان سے بھی استفادہ نہیں کیا اور نہ ۲۱سال کی ممبری کے دوران ایک بار بھی اپنے یا اپنے اہلِ خانہ کے علاج کے لیے ایک روپے کی دوا یا علاج کی سہولت حاصل کی۔ میں اس بات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن اردگرد کا چلن دیکھ کر صرف تحدیث نعمت کے طور پر اس امر کا اظہار کررہا ہوں۔ حالانکہ اس کا تعلق بظاہر ایک قانونی استحقاق سے ہے۔

ہماری نگاہ میں ارکانِ پارلیمنٹ کی حقیقی ضرورتیں ضرور پوری ہونی چاہییں، لیکن جس فیاضی کے ساتھ سرکاری خزانے سے ان کو مراعات عطا کی جاتی ہیں ،خاص طور پر پلاٹس اور ڈویلپمنٹ فنڈ وغیرہ ( جن کا آغاز وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو کے زمانے میں ہوا)ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ہماری معروضات کا حاصل یہ ہے کہ کرپشن صرف رشوت کا نام نہیں، بلکہ ہر اس معاملے میں، جس میں اجتماعی ذمہ داری کے کسی بھی نظام میں کسی بھی شخص کو کوئی اختیار دیا گیا ہے، خواہ وہ مالی ہے یا کسی انتظامی صورت میں: اس اختیار کا کسی پہلو سے بھی غلط استعمال کرپشن کی تعریف میں آتا ہے۔ مالی کرپشن سب سے بڑی لعنت ہے، لیکن یہ کرپشن کی واحد شکل نہیں۔ امانت، انصاف، حقوق کی پاس داری، ذاتی پسند و ناپسند کی روشنی میں سرکاری اختیارات کا استعمال___ یہ سب کرپشن کی بدترین شکلیں ہیں اور ایسی حکمت عملی اور نقشۂ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کی تمام صورتوں کو بڑی حد تک ختم کیا جائے اور ان چور دروازوں کو بند کیا جائے، جن سے یہ عفریت داخل ہوتا اور تباہی مچاتا ہے۔

کرپشن سے نجات: ناگزیر اقدامات

اس سلسلے میں سب سے پہلی ضرورت حلال اور حرام کا ادراک ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حق و انصاف، امانت و دیانت، قانون اور ضابطے کی پابندی ہے۔ تمام معاملات میں مکمل شفافیت، معلومات اور فیصلوں کو اخفا کے پردے سے نکالنا ہے۔ پورے نظام میں احتساب اور نگرانی کے نظام کو قانون اور ضابطے کا حصہ بنانا ہے۔

ایک طرف ہرہرفرد کی اخلاقی تربیت اور گناہ اور ثواب کے احساس اور آخرت کی جواب دہی کی زندگی کو مؤثر بنانا اور دوسری طرف قانون، ضابطے، فیصلے کے طریقوں اور کارکردگی کے جائزے کا ایسا واضح اور شفاف نظام بروے کار لانا کہ جس سے کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے امکانات کو کم سے کم کردیا جائے۔

  •  اس سلسلے میں سب سے اہم چیز تو اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس اور اجتماعی زندگی میں احتساب کا مؤثر بندوبست ہیں۔ افراد کی اجارہ داری اور خوداختیاری کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ نگرانی کے نظام میں بھی انحصار ایک فرد کے مقابلے میں دو یا تین افراد کی ٹیم پر ہونا چاہیے۔ عام افراد کے لیے بالعموم اور متعلقہ افراد کے لیے بالخصوص معلومات کی فراہمی کا دروازہ کھلنا چاہیے۔

۱۹۹۵ء میں تو دنیا کے صرف ۱۹ممالک میں ’اطلاعات کے حصول کا قانونی حق‘ (Right to Freedom of Information) موجود تھا۔ اب ان ممالک کی تعداد ۱۰۷ ہوگئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ قانون ہے، مگر مرکزی قانون میں دو سال سے ترامیم زیرغور ہیں اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں خیبرپختونخوا کا قانون بہت بہتر ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے  اس پر مکمل عمل میں کوتاہیاں سامنے آرہی ہیں۔ معلومات تک رسائی، کرپشن کو روکنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کی فکر کرنی چاہیے۔

  •  احتساب کے قانون میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سب نے اس کا وعدہ کیا ہے، لیکن اقتدار میں آکر کوئی بھی اس وعدے کو یاد نہیں رکھتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی روایت یہ ہے کہ احتساب کا قانون مخالفین کو تنگ کرنے یا بلیک میل کرکے اپنے مفیدمطلب نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ دوسروں کے لیے احتساب اور اپنے لیے احتساب سے استثنا اور کھلی چھٹی: یہ ہے ہمارا انفرادی اور اجتماعی کردار، جو کرپشن کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ ہے، کرپشن پر قابو پانے کا نہیں۔ اس ذہن اور اس طریقے، دونوں کو بدلنا ضروری ہے۔

حال ہی میں جس طرح وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب، بہاول پور میں غصے سے پھٹ پڑے۔ ان کا یہ انداز نظامِ احتساب کے لیے سمِ قاتل کا درجہ رکھتا ہے، اور شاید دل کے چور کی خبر بھی دے رہا ہے۔ یقینا، احتساب کے نظام اور قانون کو صاف شفاف، مختصر اور قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ اس میں جھول، تضاد اور خامیوں کو دُور ہونا چاہیے، مگر یہ چیز جلسوں میں کہنے کی نہیں، بلکہ سنجیدگی سے، تمام پارلیمانی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر اور کھلے عوامی مباحثے کی صورت میں متعین کرنے کی ہے۔

ہرشخص کے دل میں احتساب کی ایک عدالت اگر قائم ہوجائے تو اس سے بہتر نقطۂ آغاز ممکن نہیں۔ اسلام کا تو اصول ہی یہ ہے کہ: ’’اپنا احتساب کرلو، قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے‘‘۔ اسی طرح اجتماعی نظام میں بھی احتساب ضروری ہے۔ البتہ اس کی کئی سطحیں ہیں اور ہرسطح پر اس کا انتظام ہونا چاہیے۔

قانون صرف ایک سطح کا عمل ہے۔ اس کا ہونا ضروری ہے، لیکن قانون کو انصاف کے اسلامی اور معروف اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کا اطلاق بلاامتیاز سب پر ہونا چاہیے۔ احتساب کے ادارے کا حکومت اور اس کے عام اداروں سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ اس پر نظرثانی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس ادارے کو تھکے ماندے، اور خوار و زبوں ادارے کا رُوپ نہیں دھارنا چاہیے، اس لیے کہ وقت پر انصاف کی فراہمی انصاف کا لازمی حصہ ہے۔ (انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے)۔

ہمارے ملک میں مقدمات اور تحقیقات اتنا وقت لے لیتے ہیں کہ انصاف کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ نیب کے پاس ۱۸، ۱۸ برس سے مقدمات موجود ہیں۔ یہ صریح ظلم ہے۔     اسی طرح احتساب بیورو میں تحقیق و تفتیش اور مقدمہ پیش کرنے کے الگ الگ شعبے ہونے چاہییں، جن میں اعلیٰ صلاحیت، تربیت اور دیانت کی شہرت رکھنے والے افسر متعین کیے جانے چاہییں،  جن کی مناسب تربیت ہو اور جدید معلومات اور ٹکنالوجی سے ان کو باخبر رکھا جائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ احتسابی ادارے پر شفاف نگرانی کا نظام تو ضرور قائم ہو ،لیکن اسے سیاست کے سایے سے پاک ہونا چاہیے، جس طرح فرانس میں دستوری عدالت ہے۔ ان خطوط پر نظرثانی کے کمیشن بنائے جاسکتے ہیں۔ ملک میں الحمدللہ، باضمیر اور باصلاحیت لوگ موجود ہیں، ان سے   پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے، تاہم پارلیمانی کمیٹی اس کام کے لیے موزوں نہیں ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ احتساب کمیشن کی سالانہ رپورٹ صدر کو پیش کیے جانے کے بعد، پارلیمنٹ کی ایک خاص کمیٹی کے سامنے ضرور آنی چاہیے، تاکہ وہ اس کی روشنی میں مستقبل کی قانون سازی اور پالیسی سازی کے حصول کے لیے مشورے دے سکے ۔اگر پارلیمانی کمیٹی، احتساب بیورو کو کچھ چیزوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہو تو وہ اس ذمہ داری کو بھی ادا کرسکے۔

احتساب کے سلسلے میں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف قانون کا کام نہیں، پارلیمنٹ کا اپنا بھی کردار ہے۔ اس کی کمیٹیاں اس عمل کا مؤثر ترین نظام ہیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی ایک مستقل حساس اور نگران ادارہ ہے، لیکن ہمارے یہاں وہ ایک مُردہ یا نیم جان ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر برسوں تک بحث ہی نہیں ہوئی، جب کہ رپورٹیں الماریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

اسی طرح پارلیمنٹ میں وقفۂ سوالات حکومت اور ہرادارے کے احتساب کا ایک مؤثر فورم ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ اور حکومت دونوں اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کئی سال تو ایسے بھی گزرے ہیں کہ جتنے سوالات ارکان نے پوچھے ہیں، پورے سال میں ان میں ۲۰فی صد سے زیادہ کے جواب تک نہیں آئے اور جو جواب آئے وہ نامکمل تھے۔ پھر جس دن جواب پارلیمنٹ میں آتے ہیں، اس دن متعلقہ وزیر موجود نہیں ہوتے۔ یہ طرزِعمل پارلیمنٹ کی توہین اور اس کی کارکردگی پر کلنک کا ٹیکا ہے، جس کی اصلاح ضروری ہے۔ اگر پارلیمنٹ کے لوگ اپنے گھر کو درست کرلیں، تو انھیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی۔

  •  ملک میں احتساب کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم، احتساب کا عمل دوسرے

[…باقی دیکھیے: ص ۱۰۵]

[اشارات : ص ۲۸ سے آگے]

کی ٹانگ کھینچنے کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب اصلاحِ احوال کا ایک مؤثر نظام ہے اور مشاورت اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب  ایک مثبت اور تعمیری عمل بننے کے بجاے، ایک منفی اور نیچا دکھانے کا عمل بن کر رہ گیا ہے۔ یا پھر اتنا غیرمؤثر ہوگیا ہے کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ اگر دیکھا جائے کہ پچھلے ۱۸برس میں    نیب کے سامنے کتنے معاملات آئے ہیں؟ اور کتنے افراد کو قانون پر عمل کے ذریعے قرار واقعی سزا  ملی ہے؟ تو کوئی بہت اچھی تصویر سامنے نہیں آتی۔

احتساب کے نظام میں ایک تباہ کن جھرنا ’بہانہ ساز سودے بازی‘ یا ’پلی بارگیننگ‘ (Plea Barganing ) کا نظام ہے، اسے فی الفور ختم ہونا چاہیے۔ جہاں جرم ثابت ہو، وہاں پوری لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں جمع کرنی چاہیے اور مجرم کو قید، جرمانہ اور مستقبل کے لیے نااہلی کی شکل میں سزا ملنی چاہیے اور اس کی تشہیر ہونی چاہیے۔کرپشن کو جتنا مشکل بنایا جائے گا، اتنا ہی اس پر قابو پایا جاسکے گا، ورنہ کرپشن بھی ایک کھیل بنی رہے گی اور یہ کھیل دن رات ہمارے سامنے ہورہا ہے۔

  •  ایک اور اہم چیز عوام میں کرپشن سے نفرت، کرپٹ افراد کا سوشل بائیکاٹ اور معاشرے میں ان کے لیے منہ دکھانا مشکل بنایا جانا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں محلے میں ایک سرکاری ملازم ایسا تھا، جس کے بارے میں محلے والوں کا احساس تھا کہ وہ رشوت خور ہے۔ ہمارے والدین کی ہدایت تھی کہ اس کے بچوں کے ساتھ آپ کھیل سکتے ہیں، لیکن ان کے گھر کا پانی بھی نہیں پی سکتے۔ جس معاشرے میں یہ احساس ہو، اس میں کرپشن کبھی حاکم نہیں بن سکتی۔ لیکن آج عالم یہ ہے کہ کرپٹ افراد دندناتے پھرتے ہیں، نہ انھیں کوئی شرم ہے اور نہ معاشرے کا ضمیر ان کو نکّو بناتا ہے۔

ہمارے دوست پروفیسر عنایت علی خاں نے کیا خوب کہا ہے     ؎

حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہوا

لوگ ٹھیرے نہیں حادثہ دیکھ کر

ہمیں معاشرے میں امانت اور دیانت، شرافت اور قناعت کی اقدار کو پروان چڑھانا ہے تاکہ کرپشن ایک ناقابلِ قبول شے بن جائے اور عدل و انصاف، حقوق کی پاس داری اور اکل حلال ہمارا شعار ہو۔

کرپشن کسی بھی معاشرے اور ریاست کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اگرجسم بھی بیمار ہو تو یہ جان لیوا سرطان کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ ہر دوسری خرابی اور بگاڑ سے اس کا ایسا رشتہ قائم ہوجاتا ہے، جو بگاڑ کو ہمہ جہت وسعت دے دیتاہے۔ ہم بڑے دُکھ سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس وقت پاکستان میں کرپشن نے اُم الخبائث کی حیثیت اختیار کرلی ہے، اور زندگی کے ہرپہلو میں بگاڑ اور فساد کا ذریعہ بن گئی ہے۔ آہنی گرفت سے اسے قابو کیے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبے میں اصلاح کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وقت کی اہم ترین ضرورت، کرپشن کے خلاف ہمہ گیر جہاد ہے۔ اس جہاد کو برپا کرنے کی ذمہ داری ان تمام افراد اور عناصر پر ہے، جو مظلوم ہیں، جو اس کا نشانہ ہیں، جو انصاف سے محروم ہیں، جن کے حقوق کو شب و روز بے دردی سے پامال کیا جا رہا ہے اور قانون اور نظامِ عدل خاموش تماشائی بنے، ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان نے موجودہ حالات کے پیش نظر کرپشن کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کیا ہے اور ملک کے تمام مظلوم بھائیوں اور بہنوں کو دعوت دی ہے کہ ظلم کے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ کے بھروسے پر اُٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کے حصول اور تمام مجبور انسانوں کو لُوٹ مار کے اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔ ہماری یہ جدوجہد منظم اور ہمہ گیر ہوگی، لیکن ان شاء اللہ قانون اور اخلاق کے ضابطوں کے اندر ہوگی کہ فساد، بگاڑ اور بُرائی کا مقابلہ بھی خیر، فلاح اور حسن سے مطلوب ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) اور نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔

 

(کتابچہ دستیاب ہے، قیمت:۱۳روپے، منشورات، لاہور)

اس وقت ملک و ملّت کے تقریباً ہر طبقے میں، اور ہر میدانِ کار میں چند بنیادی مسائل پر بحث و گفتگو کا سلسلہ گرم ہے۔ نجی محفلوں، سیاسی اجتماعات اور اخبارات و رسائل کے صفحات سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک ہر جگہ یہی مسائل زیربحث ہیں: امن و امان کی زبوں حالی،  معاشی بحران، علاقائی عصبیت کی زہرناکی، فرقہ واریت کے عفریت کی کارفرمائیاں، لوٹ کھسوٹ کی ہوش ربا داستانیں، خارجہ سیاست میں پاکستان کی آزمایش، بھارت کے جارحانہ عزائم کی افزونی، امریکا کی بے وفائیاں اور اندورنی قلابازیاں و ریشہ دوانیاں سرفہرست ہیں۔

اس پس منظر میں تحریکِ اسلامی نے قوم اور اس کی قیادت کو یہ سوچنے کی دعوت دی ہے کہ  ان مسائل کے حقیقی اور دیرپا حل کے لیے جس فکرونظر کے انقلاب اور جس مضبوط اور ہمہ گیر     ملّی اقدام کی ضرورت ہے، وہ نفاذِ شریعت ہے،مگر بدقسمتی سے ہماری سیاسی اور انتظامی قیادتوں نے اس مسئلے کو ہمیشہ ایک متنازع مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ساری توجہ شریعت کی کلید سے زندگی کے مسائل حل کرنے سے ہٹ کر سیاسی اور قانونی موشگافیوں ہی پر نہیں، بلکہ نیتوں کے فتور اور انفرادی اور گروہی اقتدار کی شرم ناک جنگ پر مرکوز ہوگئی ہے۔ یہ مقتدر طبقہ جو خواہ اپنی تعداد اور عوامی بنیاد کے اعتبار سے کتنا ہی قلیل اور غیرثقہ کیوں نہ ہو، مگر سیاسی اثرات، ذرائع ابلاغ میں اپنی قوت اور بیرونی تائید و معاونت کے اعتبار سے بڑا زورآور ہے، کھل کر اسلام، اسلامی ریاست، شریعت کی بالادستی اور اجتماعی زندگی میں دین کے کردار ہی پر حملہ آور ہے۔

ان حالات میں ضرورت ہے کہ اس شوروغوغا میں اس بنیادی مسئلے کو گم ہوجانے سے بچایا جائے۔ ہر جماعتی، گروہی اور ذاتی اختلاف، مفاد اور تعصب سے بالا ہوکر نفاذِ شریعت کی حقیقت کو سمجھا جائے اوراسے حقیقت بنانے کے لیے جس طرزِ فکر، طریق کار اور عملی اقدام کی ضرورت ہے، اس کی نشان دہی کی جائے تاکہ شریعت، جو نام ہے دین اسلام اور اس کے دیے ہوئے طرزِ فکروعمل کا، اور جس کی امتیازی خصوصیت ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ منزلِ مقصود تک لے جانے والا (حنیفیہ) ،نرمی اور آسانی پیدا کرنے والا (سمحہ)، سہولت بخش (سہلہ)، منور، تابناک (بیضائ)، اور اتنا واضح ہے کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے (لیلھا کنھارھا)، عملاً نافذ ہو۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم ان چند بنیادی غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں جو اس بحث میں بڑے بڑے جغادری اور بااثر افراد کی طرف سے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ پھیلائی جارہی ہیں۔

سب سے افسوس ناک اور باغیانہ رویہ ملک کی سیکولر اور غیرمسلم لابی کا ہے۔ یہ لابی کھل کر اسلامی ریاست اور شریعت کی بالادستی کے خلاف محاذآرائی میں پیش پیش ہے اور بڑے تند اور   تلخ انداز میں جارحانہ طور پر حملہ آور ہے۔ اس میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کا نام لینے والے منظم گروہ اور ایک وہ گروہ بھی شامل ہے جو اپنے آپ کو ’دین کی جدید تعبیر‘ کا حق دار قرار دے کر، نئی نئی موشگافیاں پھیلاتا اور لمحہ بہ لمحہ موقف تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے (اس گروہ میں اور منکرینِ سنت میں بس دو چار ہاتھ کا فرق ہے)۔ یہ سبھی ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

وزیراعظم صاحب نے کھل کر مذموم لبرلزم سے نسبت جوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں حقوقِ انسانی کے نام پر ہنگامہ برپا کرنے والا پورا طائفہ ہر طرف اپنی توپیں داغ رہا ہے اور   مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک میں ان کی اپنی شریعت نافذ کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بے سروپا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ مغربی ذرائع ابلاغ اور پالیسی ساز، جمہوریت اور اکثریت سے فیصلوں کے سارے دعوئوں کے اصول کو تسلیم کرنے کا دم بھرنے والے اس معمولی سی اقلیت کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں اور اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

ایک دوسرا طبقہ ذرا مختلف انداز میں کرم فرما ہوا ہے۔ اسے کھل کر سیکولرزم، لبرلزم اور لادینیت کی بات کرنے کی تو ہمت اور جرأت نہیں۔ اس لیے اس نے ایک خیالی خطرے کا ہوّا اُٹھایا ہے، یعنی اس کا نشانہ نام نہاد مذہبی پیشوائیت، تھیوکریسی اور ’مُلّاکا اسلام‘ ہے اور ’اقبال اور قائداعظم کے اسلام‘ کا نام لے کر یہ نفاذِ شریعت کی راہ کھوٹی کرنا چاہتا ہے۔

اندریں حالات ملک کے عوام اور اس کی اسلامی قیادت کو اصل سوال___ یعنی شریعت کی بالادستی کے قیام کی تحریک کو، خواہ وہ کسی بھی سمت سے آئے اور کسی بھی شکل میں ہو، تقویت پہنچانے اور اس مسئلے کو دستوری اور قانونی اعتبار سے ایک بار مکمل طور پر طے کرا لینے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا اور تحریکِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنا اور ان قربانیوں کا حق ادا کرنا ہے جو پاکستان کو دورِحاضر میں اسلام کی حقیقی تجربہ گاہ بنانے کے لیے برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں نے دی تھیں اور جس کے لیے تحریک اسلامی نے ۱۹۴۸ء میں مطالبہ نظامِ اسلام کی آواز بلند کی اور اس دن سے لے کر آج تک شریعت کی بالادستی اور دین حق کی اقامت کے لیے جدوجہد کی ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے مالک و آقا اور رب کو تسلیم کرے یا  نہ کرے اور اپنے لیے اللہ کی بندگی یا اس سے بغاوت کا راستہ اختیار کرے (اور یہی معنی ہیں:      لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی ضمانت کے) تو بلاشبہہ ہم یا کوئی مسلمان ملک انسانوں کو ان کے اس حق سے محروم نہیں کرسکتے۔لیکن دو باتیں صاف ہونے چاہییں:

o  جہاں کفر اور انکار کی راہ اختیار کرنے والوں کو اپنے ذاتی عقیدے اور عمل کی آزادی کا اختیار حاصل ہے، وہاں انھیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو، جو اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کی بالادستی کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے ہیں، اس عمل سے روکیں اور اس کے لیے بیرونی، سیاسی اور تہذیبی قوتوں کی معاونت سے زورآوری کا ہر حربہ استعمال کریں۔ سیکولر لابی جو دوسروں کو ’مذہبی فسطائیت‘ ، ’انتہاپسندی‘ اور    ’عدم برداشت وغیرہ کا طعنہ دیتی ہے، خود بدترین ’سیکولر فسطائیت‘ کی مرتکب ہورہی ہے۔ اس محدود اقلیت کو، اپنے سارے اثرورسوخ اور وسائل ابلاغ پر قدرت کے باوجود، یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے روکے۔ ان حضرات کو اپنی بات پر قائم رہنے اور اس کے اظہار کی آزادی کا حق ہے اور ہم اس کا دفاع کریں گے۔ تاہم، دلیل اور شائستگی کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنی بات کہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر وہ اس دائرے سے باہر نکلتے ہیں تو خود پاکستان میں ان کی تحدید اور گرفت کے لیے قوانین موجود ہیں۔ لہٰذا انھیں اپنی راے اور ترجیحات کو ملّت اسلامیہ پاکستان کی عظیم اکثریت پر مسلط کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ جمہوریت کو اصل خطرہ اس آمرانہ اور جارحانہ ذہنیت سے ہے اور اسے قابو میں رکھنا خود جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

خود مسلم معاشرے میں جو کمزوریاں اور نظریاتی تنوع بہت سے تاریخی اسباب کی بناپر پیدا ہوگیا ہے اس کو برداشت کرنا ضروری ہے۔ افہام و تفہیم، تعلیم و تعلّم اور بحث و مباحثہ اور مکالمے کے ذریعے مختلف علیہ اور مختلف فیہ کا تعین ہوسکتا ہے۔ اتفاق کے وسیع دائرے میں تعاون ہو اور اختلاف کا احترام بھی اصول کے معاملات میں یکسوئی اور استقامت کی طرح ضروری سمجھا جائے۔ مسلم معاشرہ آزادی اور رواداری کی بنیاد پر وجود میں آتا اور ترقی کرتا ہے۔ کثرت میں وحدت اور  حدود اللہ کے دائرے میں تنوع اس کی امتیازی شان ہے۔ اس کی مثال اس باغ کی سی ہے جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوں۔

سارے اختلافات کے باوجود نرمی اور توسع ہمارا شعار رہا ہے اور آج بھی اسی میں بقا اور ترقی کا راز مضمر ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جن چیزوں پر عظیم اکثریت یکسو ہے، جن کو وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہے اور جن پر اپنی اُخروی زندگی کی کامیابی کا یقین رکھتی ہے، ان کے بارے میں محض کسی اختلافی نقطۂ نظر کے دبائو میں عمل نہ کیا جائے۔ جس طرح نظریاتی اقلیت کے حقوق ہیں، اسی طرح نظریاتی اکثریت کے بھی حقوق ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

o یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان ہونے اور قرآن و سنت پر ایمان کا دعویٰ کرنے کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ ایک شخص اسلام قبول کرتا ہے یا نہیں، یہاں تک تو اس کو آزادی حاصل ہے، لیکن اسلام کو قبول کرنا ایک ذمہ داری ہے۔ ہر ذمہ داری کے کچھ بنیادی تقاضے ہوتے ہیں۔  اسلام قبول کرنے کے بعد انسان کی یہ آزادی کچھ میدانوں میں محدود ہوجاتی ہے، اس لیے کہ اسلام نام ہی اس عہد کا ہے کہ انسان اللہ کو اپنا رب، خاتم الانبیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو     اپنا رسول، ہادی، آقا اور رہبر اور اسلام کو اپنا دین اور طریق زندگی تسلیم کرلے اور اس پر راضی اور مطمئن ہوجائے۔ ’جزوی مسلمان‘ یا ’نیم مسلمان‘ کا کوئی تصور دائرۂ اسلام میں نہیں اور عقل بھی اسے گوارا نہیں کرتی۔ قرآن کریم نے صاف صاف فرمایا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً ص وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط (البقرہ ۲:۲۰۸) اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، دائرۂ اسلام میں داخل ہوجائو پورے کے پورے، اور شیطان کے طریقے پر عمل پیرا نہ ہو۔

اسلام کی کچھ تعلیمات اور احکام کو ماننا اور کچھ کا انکار کر دینا، اللہ کی اطاعت اور بندگی کا راستہ نہیں ہے۔ اسلام کے شعوری اقرار کے بعد بندہ اپنی آزادی کو اللہ کی حدود کا پابند کرلیتا ہے اور پھر صرف ان حدود کے دائرے میں اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے۔ یہ تحدید وہ اپنی مرضی سے قبول کرتا ہے، لیکن اس تحدید کے بعد یہ حق اسے نہیں رہتا کہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جسے چاہے رد کردے۔ یہ آزادی نہیں تناقض، دو رنگی اور منافقت ہے جس کی اسلام ہی نہیں کسی بھی نظام میں گنجایش نہیں ہوسکتی اور جس کے نتیجے میں بجز کش مکش اور صلاحیتوں اور وسائل کے ضیاع کے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ قرآنِ کریم کا فیصلہ ہے:

اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ (یوسف ۱۲:۴۰) فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ط (اعراف ۷:۳) لوگو، جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔

وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ o(المائدہ ۵:۴۴) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا o(النساء ۴:۶۵) نہیں (اے محمدؐ) تمھارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔

یہ ہے سچے مسلمانوں کی روش۔ اسی کا تقاضا ہے کہ شریعت کو بالادستی حاصل ہو۔ ماننے والوں کے لیے صحیح راستہ یہی ہے اور نہ ماننے والوں کو حق نہیں کہ ماننے والوں کو اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق اپنی زندگی کی شاہراہ تعمیر کرنے سے روکیں۔

اقبال اور قائداعظم کا اسلام

یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ اسلام ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اللہ کا بھیجا ہوا دین اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا دکھایا ہوا راستہ ہے۔ یہ مکمل نظامِ حیات ہے اور اس میں زندگی کے تمام مسائل اور معاملات کا حل بھی موجود ہے اور انسانی معاشرے میں تغیر و تبدل اور ترقی و ارتقا کی جو حقیقی ضروریات ہیں ان کا بھی پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک میں اطاعت، آزادی، اختلاف اور تنوع ہر ایک کا اپنا مقام ہے لیکن یہ سب کچھ اس کے اپنے اصول اور ضابطوں کے مطابق ہے۔ جہاں اسلام زندگی کے بنیادی معاملات کے بارے میں واضح اور دوٹوک راہ نمائی دیتا ہے وہیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے لیے بھی خود اپنے نظام میں کافی و شافی گنجایش اور مواقع رکھتا ہے۔ البتہ وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتا، جو اس کے نظامِ اقدار کی ضد اور نفی کرنے والی یا ان کو مجروح کرنے والی ہو۔ خُذْ مَا صَفَا وَدَع مَا کَدَر (جو صحیح اور صحت مند ہے اسے قبول کرلو اور جو نامواقف ہے اسے ترک کر دو) کا اصول اس عمل کو ہمیشہ جاری و ساری رکھتا ہے۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (المائدہ۵:۳) کے اعلان کے بعد زمان و مکاں کے تمام تغیرات اور وسعتوں کے باوجود آج تک اسلام ایک ہی رہا ہے۔نہ عربوں کا اسلام کوئی الگ ہے اور نہ پاکستان، ایران، ترکی، یورپ، امریکا اور افریقہ کے مسلمانوں کا۔ اسی طرح پہلی صدی کا اسلام، چوتھی صدی کا اسلام اور بیسویں صدی کا اسلام اپنا کوئی الگ الگ وجود نہیں رکھتے۔ اسلام تو ایک ہی رواں دواں دریا کے ما نند ہے، جس میں پانی کے نئے دھارے ملتے بھی رہتے ہیں اور اس کی نوعیت اور سمت پھر بھی ایک جیسی ہی رہتی ہے خواہ ابوحنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل، مالک، غزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ کا تصورِ اسلام ہو یا اقبال اور قائداعظم کا تصور۔ یہ سب اسی ایک اسلام کے علَم بردار تھے اور قرآن و سنت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے باہر یا اس میں غیراسلام کی آمیزش کے رُونما ہونے والے کسی نظرثانی شدہ اسلام کے نہ قائل تھے اور نہ داعی۔ ان پر اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ ان کے اسلام اور مُلّا کے نام نہاد اسلام کو دست و گریباں کیا جائے۔ اور اقبال اور قائداعظم کا نام لے کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی شریعت سے فرار کی راہیں تلاش کی جائیں۔ علامہ اقبال کی تو پوری زندگی کا مشن اور پیغام ہی یہ تھا کہ:

علمِ حق غیر از شریعت ہیچ نیست

اصلِ سُنت جز محبت ہیچ نیست

ملّت از آئینِ حق گیرد نظام

از نظامِ محکمے خیزد دوام

قدرت اندر علم او پیدا ستے

ہم عصا و ہم یدِبیضا ستے

با تو گویم سِّرِ اسلام است شرع

شرع آغاز است و انجام است شرع

ہست دینِ مصطفیٰؐ دینِ حیات

شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات

تا شعارِ مصطفٰےؐ از دست رفت

قوم را رمزِ بقا از دست رفت

(رموزِ بے خودی)

سچا علم، شریعت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ، اور سنت ِ رسولؐ کی بنیاد محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ملّت کو بھی شریعت ہی سے نظام حاصل ہوتا ہے اور پختہ نظام اسے دوام عطا کرتا ہے۔

شریعت کے علم ہی سے (عمل پر) قدرت حاصل ہوتی ہے: یہ عصا (قوت کا نشان) اور یدِبیضا (نورِ ہدایت) بھی حاصل ہوتا ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کا راز ہے ہی ’شرع‘ کا آغاز اور ’شرع‘ ہی کا انجام۔

حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہی دینِ فطرت ہے، اور شرعِ محمدیؐ آئینِ حیات کی تفسیر ہے۔

جب حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعار (یعنی شریعت) ہاتھ سے نکل گیا تو قوم رمزِبقا سے بھی محروم ہوگئی۔

رہے قائداعظمؒ اور ان کے حقیقی رفقا (نواب زادہ لیاقت علی خاں، نواب اسماعیل خاں، بہادر یار جنگ، سردار عبدالرب نشتر، مولانا شبیر احمد عثمانی وغیرہ) تو تحریکِ پاکستان کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعد کم ز کم ڈیڑھ دو سو ایسے واضح بیانات تو صرف قائداعظمؒ کے موجود ہیں، جن میں اسلام کو اس جدوجہد کی منزل اور قرآن، اسوئہ رسولؐ، اسلامی قوانین اور اسلامی تہذیب و تمدن کی بالادستی کے قیام کو پاکستان کا مشن اور ہدف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کی دو ایک تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر ان کے تصورات کی غلط تصویر پیش کرنے کی مذموم سعی کی جاتی ہے۔ یہ روش ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہے اور تمام حقائق کے سامنے آجانے کے باوجود ایک گروہ وہی رٹ لگائے جا رہا ہے ۔ اس سے خود اس گروہ کی بدنیتی بے نقاب ہوتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان حضرات کا مقصد قائداعظم کے پورے تصور کو پیش کرنا نہیں، بلکہ اپنے مقاصد کے لیے چند جملوں کو استعمال کرنا ہے۔ ایسی صریح بددیانتی پر اُٹھائی جانے والی دیوار ریت کی دیوار ہی ہوسکتی ہے جو کسی تعمیر میں کام نہیں آسکتی۔

کراچی میں ۱۹۴۳ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا:

وہ کون سی چٹان ہے جس پر ملّت کی عمارت قائم ہے اور وہ کون سا لنگر ہے جو سفینۂ ملّی کو تھامے ہوئے ہے؟ مسلم انڈیا کے سفینۂ ملّی کا مستحکم لنگر عظیم المرتبت کتاب قرآنِ مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے ویسے ہماری یہ وحدت بھی بڑھتی جائے گی۔ ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسولؐ، ایک قبلہ اور ایک قوم!

سرحد [خیبر پختونخوا] مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو جو پیغام قائد نے ۱۹۴۵ء میںدیا، وہ یہ تھا:

پاکستان کا مطلب صرف آزادی و حُریت کا حصول نہیں ہے بلکہ اسلامی نظریے کا تحفظ بھی ہے جس کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہ قیمتی تحفے اور بیش بہا خزانے ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔

اسی سال عید کے پیغام میں فرمایا:

بہ جز ان لوگوں کے جو بے خبر ہیں ہرشخص آگاہ ہے کہ قرآنِ مجید مسلمانوں کا ہمہ گیر و بالاتر اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ مذہبی بھی، معاشی و معاشرتی بھی، دیوانی بھی، فوج داری بھی، تجارتی بھی، عدالتی بھی اور تعزیری بھی___ یہ ضابطہ زندگی کی ایک ایک چیز کو باقاعدگی اور ترتیب عطا کرتا ہے۔

سبّی دربار کے موقعے پر ۱۲فروری ۱۹۴۸ء کو قائد نے عہد کیا:

میرا ایمان ہے کہ ہم سب کی نجات ان سنہری قواعد اور زریں احکام کی پیروی میں مضمر ہے جو ہمارے رہن سہن اور معاملاتِ زندگی کو درست رکھنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیے ہیں۔ آیئے! ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورت پر استوار کریں۔ خداے قادر و مطلق نے ہمیں سکھایا ہے کہ مملکت کے  تمام اُمور میں ہمارے فیصلے بحث و تمحیص اور مشاورت کی راہ نمائی میں ہوں۔

ہمیں بتایا جائے کہ قرآن و سنت کی واضح شاہراہ اور اسلام کے ضابطۂ قانون سے ہٹ کر اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا اسلام کون سا ہے؟ یہ ان دونوں بزرگوں پر تہمت اور خلط مبحث کی ایک شرم ناک کوشش ہے۔ شریعت میں کوئی ابہام نہیں اور ہرمسلمان اس شریعت کا علَم بردار اور طالب ہے جو  اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی امانت کی شکل میں دی ہے۔ شریعت جو ہماری آزادی ، دنیوی فلاح اور اُخروی کامیابی کی ضامن ہے، جو تمام انبیا کی سنت رہی ہے اور جسے اپنی آخری اور مکمل شکل میں محمد عربیؐ نے انسانیت تک پہنچایا اور آج جس کی امین اُمت مسلمہ ہے۔ کامیاب اب وہی ہوگا جو اس راستے پر گامزن ہو:

(پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر، نبی اُمّی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اعراف ۷:۱۵۷)

اسلامی قانون کی بنیادیں

شریعت اور اس کے نفاذ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کی نوعیت اور حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے اور جو فرق شریعت یا اسلامی قانون اور مغربی قانون میں ہے، اسے نظر میں رکھا جائے۔ لغت کے اعتبار سے ’شرع‘ اور ’شریعت‘ کے معنی راستے کے ہیں۔ پرانے زمانے میں گھریلو استعمال کے لیے پانی، محلے یا دیہات کے کنویں، تالاب، نہر یا چشمے وغیرہ سے لایا جاتا تھا اور انسانوں اور مویشیوں کے باربار وہاں آنے جانے سے ایک ایسا راستہ بن جاتا تھا، جو سیدھا، مختصر، کشادہ، واضح اور صاف ہوتا تھا۔ اسی راستے کو عربی لغت میں شریعت کہا جاتا تھا۔ گویا وہ سیدھا، کشادہ اور واضح راستہ جو کسی بستی کے لوگوں کو پانی کے ذخیرے اور مصدر و ماخذ تک پہنچا دے۔

اصطلاحی اعتبار سے ’شریعت‘ سے مراد زندگی گزارنے کا وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کے لیے مقرر فرمایا اور جو دین کے احکام اور اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور انسانی زندگی کی ان اصولوں کے مطابق عملی تشکیل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

قرآن و سنت اس شریعت کے اصل اور بنیادی ماخذ ہیں۔ اس کے ایک حصے کا تعلق عقائد، افکار اور احساسات سے ہے اور دوسرے کا انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے۔ فقہ یا اسلامی قانون، شریعت کے اس حصے کا نام ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اسلامی تشکیل سے بحث کرتا ہے۔ فقہاے کرام ’فقہ‘ کی یہی تعریف کرتے ہیں: ’’فقہ وہ علم ہے، جس کے ذریعے شریعت کے عملی احکام کو ان کے تفصیلی دلائل سے حاصل کیا جاتا ہے‘‘۔

شریعت انسان کی عملی زندگی کے کم و بیش ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے احکام جہاں ایک طرف امرونہی، حلال و حرام، مستحب اور مکروہ کی نشان دہی کرتے ہیں، وہیں حدود کی اس صف بندی کے ساتھ ساتھ مباح اور انسانی آزادی کے میدان کو بھی واضح اور نمایاں کردیتے ہیں۔ اور یہی وہ میدان ہے جس میں ہردور میں اصولوں کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے نئی قانون سازی کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی رہے گی۔

شریعت کے صرف ایک حصے کا نفاذ ہر فرد اور ادارہ اپنی ذاتی مرضی اور پیش قدمی (initiative) کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس طرح ایک خودکار نظام (self-executing system) کے ذریعے شریعت مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رچی بسی ہے۔ عبادات و مناکحات میں معاملات کا ایک بڑا حصہ آجاتاہے۔ لیکن شریعت کا ایک حصہ وہ ہے، جسے نافذ کرنے کے لیے معاشرے اور ریاست کی اجتماعی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جس کے لیے آج کے دور میں دستور، قانون، ریاستی مشینری اور ضابطۂ کار اور عدالتی نظام کو شریعت کے مقاصد اور احکام کا خادم اور کارندہ بنانا ضروری ہے۔

اسلامی قانون بیک وقت ایک خالص مذہبی، نظریاتی اور روحانی قانون ہی نہیں بلکہ ملکی اور عدالتی قانون بھی ہے۔ دوسری تہذیبوں اور مذاہب میں مذہبی قانون اور ملکی اور عدالتی قانون میں فرق کیا گیا ہے۔ مذہبی قانون بالعموم فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا گیا ہے اور اس کے نفاذ کو بھی اس کے  فہم و ارادے اور ضمیر پر چھوڑ دیا گیا۔ ریاستی اور عدالتی قانون صرف دنیاوی معاملات سے متعلق رہا اور اس کا انحصار رسم و رواج، بادشاہ کے حکم یا کسی بالاتر مقتدر یا مقننہ کے فیصلے اور عدالت کے فیصلے کی نظیر پر رہا۔ اسلامی قانون میں وحدت، ہم آہنگی اور ہمہ گیری ہے۔ یہ قانون محض عبادات اور   اللہ اور بندے کے تعلق تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کا تعلق انسانوں سے اور فرد کا معاشرے، اجتماع اور ریاست سے تعلق بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہے۔ اسلام کا قانون شخصی، معاشی، دیوانی، تعزیری، بین الاقوامی تمام دائروں پر محیط ہے۔ یہ عبادات سے لے کر خاندانی زندگی، معاشی تگ و دو، عمرانی معاملات، جرم و سزا، جنگ و صلح، غرض ان سب کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔

ایک مذہبی قانون ہونے کی حیثیت سے یہ ہرمسلمان کے ایمان کا معاملہ ہے اور اس پر عمل  اس کے ایمان اور عقیدے کا تقاضا ہے۔ اس لیے قانون محض جبر اور قوتِ قاہرہ کی علامت نہیں، بلکہ ایمان کا تقاضا، دل کی پکار، زندگی کی آرزو اور اجتماعی زندگی کا ادب بن جاتا ہے۔ اس کا نفاذ صرف ڈنڈے اور پولیس کے ذریعے نہیں، بلکہ ضمیر کی آمادگی اور رب کی طاعت گزاری کے جذبے سے عبارت ہے۔ بلاشبہہ پولیس اور عدالت کا بھی ایک مقام ہے، لیکن جو چیز اسلام کے قانون کو منفرد درجہ دیتی ہے، وہ اندر کی آواز اور باہر کے قانون کی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو تقویت دینے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون پر پولیس کے پہرے اور مخبروں کے خوف سے کہیں زیادہ ضمیر کی خلش اور آخرت کی کامیابی کے جذبے سے عمل ہوا ہے۔ رات کی تاریکیوں اور تنہائوں میں بھی اس پر عمل درآمد کا جذبہ ویسا ہی قوی ہوتا ہے جیسا دن کی روشنی اور محتسب کی موجودگی میں۔ اور جرم کے ارتکاب کے بعد توبہ ہی نہیں بلکہ پاکی کے حصول کے لیے ’مجرم‘ خود سزا کا طالب بن جاتا ہے۔

جہاں اسلامی قانون کی یہ روح ہے، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شریعت اپنے نفاذ کو محض ضمیر اور فرد کے ذاتی جذبے پر نہیں چھوڑتی، بلکہ انسانی فطرت اور معاشرے کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ریاست کی شیرازہ بندی کے واضح احکام دیتی ہے، نظامِ امر قائم کرتی ہے، انتظامی مشینری وجود میں لاتی ہے، پولیس اور عدالت کے نظام کو قائم کرتی ہے ،اور اس طرح اندرونی قوت اور جذبے کی تکمیل بیرونی قوت اور نظام کے ذریعے کرتی ہے۔ ریاست اپنے تمام اداروں کے ذریعے ایک طرف تلقین، تعلیم اور بہتر نمونے کا اہتمام کرتی ہے تو دوسری طرف ریاستی قوت اور عدالتی اداروں کے ذریعے قانون توڑنے والوں کی گرفت اور معاشرے کو جرم اور ظلم سے پاک کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔ دین اور ریاست ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن جاتے ہیں۔ سیکولر ریاست اور اس کے تمام ادارے دین کی رہنمائی سے آزاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دین ریاست اور معاشرے کے وسائل سے محروم رہتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے حضرت عثمانؓ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:

اسلام ایک بنیاد ہے جس پر مسلمانوں کی زندگی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور حکومت ایک نگہبان اور محافظ ہے۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد نہ ہو تو وہ کمزور رہتی ہے اور گر جاتی ہے، اور اگر کسی عمارت کا کوئی محافظ اور نگہبان نہ ہو تو وہ ضائع ہوجاتی ہے، اس کو لوٹ لیا جاتا ہے یا اس پر دوسرے قابض ہوجاتے ہیں۔

اس بحث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ:

  •                    شریعت پوری زندگی کے لیے راہِ عمل ہے۔
  •                   قرآن و سنت اور ان کی روشنی میں مستنبط کیے ہوئے احکام ہی مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کرتے ہیں۔
  •                       یہ شریعت زندگی کے تمام اُمور پر حاوی ہے۔
  •                       دنیوی قوانین کی طرح یہ محض ریاست کی قوتِ قاہرہ کے آگے سرتسلیم خم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ قانون، ایمان و ضمیر کی پکار کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کو مرتب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
  •                    اندرونی پہل قدمی یا داعیہ کے ساتھ ساتھ ریاستی، انتظامی اور عدالتی نظام کا خود شریعت کے ماتحت ہونا اور اس کے نفاذ کے عمل میں شرکت اور معاونت کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنا، اس نظام کا حصہ ہے۔
  •                   شریعت کے نفاذ کا عمل ایمان اور ضمیر کی بیداری، تعلیم و تلقین کے نظام، معاشرے کے آداب و روایات اور قانون کی قوت، ان سب کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔    نہ محض اخلاقی تلقین اور نہ محض جبروقوت کا استعمال۔

مندرجہ بالا عوامل کا ساتھ ساتھ مؤثر ہونا شریعت کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔

یہ عمل ہر فرد سے دل کی گہرائیوں سے اور آخرت کی کامیابی کے جذبے سے سرشار ہوکر شرکت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت، ریاست اور اس کے تمام اداروں کے لیے بھی لازم کرتا ہے کہ وہ تعلیم و تلقین اور اچھی مثال کے ساتھ ساتھ نیکی کا حکم اور برائیوں کے روکنے کا کام انجام دیں۔ حق دار کو اس کا حق پہنچانا اور ظالم کو ظلم سے روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز اور روزے کا اہتمام___ بلکہ نماز تو ہے ہی اس لیے کہ بُرائیوں سے روکے (اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ - العنکبوت ۲۹:۴۵)۔ اور روزے کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ متقی بنیں اور قانون کی پاس داری کریں (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ)۔

ریاست کا مطلوبہ کردار

شریعت کے نفاذ کا کام بڑا منفرد اور بابرکت ہے۔ اس میں قانون اور اس کی حقیقی اسپرٹ دونوں کا ساتھ ساتھ اہتمام ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل میں فرد، عوام، نظامِ تعلیم، ذرائع ابلاغ، اجتماعی اداروں اور حکومت سب کی شرکت ضروری ہے۔البتہ دو وجوہ سے حکومت کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور وہ یہ ہیں:

  •                     اولاً، آج کی ریاست ایک ہمہ گیرادارہ بن گئی ہے جو ملک اور معاشرے کے وسائل کے بڑے حصے پر تصرف کے اختیارات رکھتی ہے۔ اس لیے جب تک یہ وسائل شریعت کے تابع اور اس کے نفاذ کے لیے استعمال نہ ہوں تبدیلی نہیں آسکتی۔
  •                              ثانیاً، مسلم معاشرہ صدیوں سے انتشار، اضمحلال اور غلامی کے بعد نئی زندگی کی تعمیر کے لیے سرگرداں ہے۔ صدیوں میں جو ادارے قائم ہوئے تھے اور جو اسلامی نظام کے لیے لنگر کا کام کر رہے تھے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ تعلیم کا ایک لادینی نظام دوصدیوں سے قوم پر مسلط ہے اور اس کے نتیجے میں وہ کیفیت واقع ہوگئی ہے جسے علامہ محمد اقبالؒ نے یوں ادا کیا تھا     ؎

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

غیراسلامی اور مغربی دنیا سے درآمد شدہ ادارے اور انتظامی در و بست مسلم معاشرے پر بزور ٹھونسے جاچکے ہیں۔ ان حالات میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فرد کی کوششوں کے ساتھ معاشرہ، ریاست اور اس کے تمام ادارے ظلم اور باطل سے نجات اور حق اور معروف کے قیام میں مکمل طور پر شریک نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف انفرادی کوششیں بارآور نہیں ہو رہیں۔  نجی طور پر خیر کے فروغ اور بدی کے مٹانے کے لیے جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ بہت غنیمت ہے اور  اس کے اچھے اثرات بچشم سر دیکھے جاسکتے ہیں، مگر مطلوبہ تبدیلی کے لیے وہ کافی نہیں۔ پاکستان کی گذشتہ تاریخ میں اس کش مکش اور اس کے بُرے نتائج کو دیکھا جاسکتا ہے۔ زندگی کو اس تناقض (contradiction) اور تصادم سے پاک کیے بغیر ہم اپنے انسانی اور مادی وسائل کو صحیح صحیح استعمال نہیں کرسکتے اور مطلوبہ نتائج رُونما نہیں ہوسکتے۔

آج مسئلہ صرف انفرادی خطا اور بے راہ روی نہیں اجتماعی فساد اور منظم ظلم ہے۔ اس کی بھی یہ کیفیت ہے کہ گویا زمین و آسمان بگاڑ اور فساد سے بھر گئے ہیں (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ-  الروم ۳۰:۴۱)۔ ان حالات میں اجتماعی قوتوں کو تعلیم و تلقین، مظلوم کی دادرسی، حق دار کو حق پہنچانے اور ظلم اور فساد دُور نہیں ہوجاتے، غربت اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوتا، مجبور اور مظلوم قوی نہیں بن جاتے اور منہ زور اور ظالم قابو میں نہیں کر دیے جاتے___ شریعت کے اہداف حاصل نہ ہوسکیں گے۔اور یہی وہ میدان ہے جس کی اصلاح کے لیے ریاست اور اس کی اجتماعی قوتوں کو اسلام کے لیے مسخر کرنا ضروری ہے، تاکہ قرآن کے الفاظ میں انسانوں کے لیے انصاف اور عدل قائم ہوسکے (لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ - الحدید ۵۷:۲۵)۔

نفاذِ شریعت کی راہ میں اصل رکاوٹ

سوال یہ ہے کہ اس منزل کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں ہوپاتی؟ اصل کمی، کسر اور بگاڑ کہاں ہے؟ شریعت کے نفاذ کی راہ میں اصل رکاوٹیں کیا ہیں اور ان کا سدباب کیسے ممکن ہے؟

جیساکہ ہم نے اُوپر نشان دہی کی شریعت نے اپنے نفاذ کے لیے چار راستے اختیار کیے ہیں، یعنی: ۱- ایمان اور اندرونی محرک، ۲- تعلیم و تلقین اور وعظ و نصیحت کا ایک ہمہ گیر نظامِ دعوت، ۳-معاشرہ اور اس کے ادارے، خاندان سے لے کر وقف اور تکافل اجتماعی (رفاہ عامہ) تک، اور ۴- ریاست، قانون اور نظامِ قضا (عدالتی نظام)۔

شریعت چاہتی ہے، یہ تمام کام انفرادی اور نجی سطح پر بھی انجام دیے جائیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ چونکہ ریاست نظامِ امر کا مرکز ہے، اور اللہ کے رسولؐ نے جو وظائف بحیثیت سربراہ انجام دیے، ان کی امین ہے۔ اس لیے ریاست اور حکومت کی ذمہ داری دوہری ہے، یعنی خود اپنے دائرے میں اپنے فرائض کی انجام دہی اور دوسرے تمام اداروں کی معاونت و سرپرستی، تاکہ فرد اور سول ادارے اپنے اپنے کردار بخوبی انجام دے سکیں۔

اجتماعی دائرے میں نفاذِ شریعت کے لیے جو حکمت عملی مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں اختیار کی ہے اس میں تنوع اور جدت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے حالات او ر مسائل کی روشنی میں انھوں نے کیا کیا راستے اختیار کیے۔ اصل نمونہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے جو داعی اور مربی اور معلّم بھی تھے اور سربراہِ مملکت، قاضی اور حاکم بھی۔ آپؐ کی راہ نمائی میں ایک مرکزی نظام کے ذریعے مندرجہ بالا چاروں دائروں کی رہنمائی کا حق ادا کیا گیا اور تاریخ کا روشن اور کامیاب ترین انقلاب رُونما ہوا۔

 خلافت راشدہ نے اسی نمونے پر عمل کیا اور نظامِ ریاست و قیادت میں شگاف پڑنے کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اُموی دور میں اس نمونے کے احیا کی کامیاب کوشش کی۔ بعد کے اَدوار میں یہ مرکزیت اور ہمہ گیری باقی نہ رہی لیکن ہر ہر میدان کے لیے مؤثر انتظام کی کوشش کی گئی اور وقت کے چیلنجوں کی روشنی میں خصوصیت سے ریاست، قانون اور نظامِ عدالت کو اسلام کے مطابق اور شریعت کی حدود میں رکھنے کے لیے نئے تجربات اور نئے انتظامات کیے گئے۔ اس سلسلے کا سب سے عظیم اور تاریخی کارنامہ اُمت کے معتبر اور معتمد علما کا غیرسرکاری انتظام کے تحت فقہ اور اصولِ فقہ کی تدوین ہے۔ یہ قانون اخلاقی اور اجتماعی عوامی قوت و تائید سے ملک کا قانون بنا اور ایک مؤثر اور آزاد نظام قضا (عدل) کا قیام عمل میں آیا جو شریعت کے نفاذ کا ضامن بن گیا اور خود اربابِ اقتدار بھی اس قانون کے اسی طرح تابع ہوگئے جس طرح باقی انسان۔

اس طرح قانون کا وہ تصور جو دوسری تہذیبوں اور مملکتوں میں ’حکمران کی مرضی‘ کے مترادف تھا، بالکل بدل گیا۔ اسلامی قلمرو میں ’شریعت‘ ہی ملک کا قانون بن گئی اور حکمران کی مرضی بھی اس کے تابع ہوگئی۔ یہ قانون کسی قانون ساز اسمبلی نے نہیں بنایا تھا، مگراس کی تشکیل و ترقی میں: سرکاری سرپرستی یا نظام سے وابستہ کسی ادارے نے نہیں بلکہ مسلمان اُمت اور اس کے آزاد   فکری قائدین، علما، فقہا اور دوسرے اُمور زندگی کے ماہرین نے حصہ لیا۔ علمی، عوامی اور جمہوری طریقے اور عمل سے یہ قانون وجود میں آیا اور مسلسل ترقی کرتا رہا۔ اجتہاد، قیاس، استنباط، استحسان، مصالح مرسلہ، استدراک اور اجماع کے ذریعے تازہ فکر، مشاہدہ اور تجربہ، اپنی اصل بنیاد سے تعلق قائم رکھتے ہوئے ترقی کرتا رہا اور ایک ہزار سال تک پوری اسلامی قلمرو کو سیراب کرتا رہا۔

ایسی مثالیں بھی ہیں کہ کچھ خدا ترس حکمرانوں نے اس قانون کو مرتب اور مدون کر کے  اپنی قلمرو میں نافذ کرنے کی کوششیں کیں۔ اسلامی قانون کا یہ مزاج ہے کہ وہ محض حکمران کی مرضی یا ترجیحات یا مقننہ (قانون ساز ادارے) کی آزاد مرضی کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام، منشا و مرضی اور قرآن وسنت کے اصولوں کی روشنی میں پیش آمدہ معاملات کے بارے میں اصل ماخذ اور ان سے استفادے کے ضوابط کار کے مطابق رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کا نام ’اسلامی قانون‘ ہے۔

یہی وہ قانون ہے جسے دورِ غلامی سے نجات پانے اور آزاد مسلمان ریاست کے قیام کے بعد حاصل کردہ اختیار اور اقتدار کے اس زمانے میں ملّت اسلامیہ پاکستان، نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ برطانوی اقتدار کے نقصانات اور مظالم کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن بیرونی استعمار کا  سب سے پہلا ہدف شریعت اور نظامِ قضا (نظامِ عدل) ہی تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سارے ہی ادارے تباہ کردیے گئے اور آخری حصار، یعنی خاندانی نظام پر بھی مختلف سمتوں سے تابڑ توڑ حملے کیے گئے اور اس عظیم الشان نظام کو تہ و بالا کردیا گیا جو مسلمانوں نے اجتماعی میدان میں قائم کیا تھا۔

حصولِ آزادی کے بعد پہلا مرحلہ یہ تھا کہ ریاست کا قبلہ درست کیا جائے، اس کے مقاصد اور اہداف کو متعین کیا جائے اور نظامِ قانون کے مطابق اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں۔ برطانوی دور میں تقریباً چار ہزار قوانین حکومت نے اپنے فرمان کے ذریعے مسلط کیے تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ دستور کی صحیح بنیادں پر تدوین کے بعد قانون کا جائزہ لیا جاتا۔ ایمان اور آزادی کے تقاضوں کے مطابق پورے قانونی ورثے کا جائزہ لے کر نہ صرف ان تقاضوں سے متصادم قوانین یا قوانین کے حصوں کو ختم کیا جاتا، بلکہ نئی قانون سازی ہو تی، تاکہ مثبت انداز میں ان دونوں ضرورتوں کے مطابق نیا قانونی نظام اور عدالتی ڈھانچا وجود میں آتا اور اس طرح وجود میں آتا کہ کوئی بحرانی کیفیت نہ پیداہوتی۔ مگر اس سمت میں اول تو کوئی کوشش نہ کی گئی، اور اگر کوئی قدم اُٹھایا گیا تو وہ بھی نیم دلی کی تصویر بنا رہا۔

قراردادِ مقاصد اس سمت میں پہلا روشن اور تابناک قدم تھا۔ لیکن اس کے بعد سے آج تک ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی گردان کی جاتی رہی ہے اور اس سے وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں باربار نفاذِ شریعت کے مطالبے اُٹھتے ہیں اور حکمران جان بچانے کے لیے چند نمایشی اقدام تو کرتے ہیں لیکن کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوتی۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا بہت قریب سے تجربہ صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ہوا۔ ہم نے پورے خلوص سے ان کو اسلامی نظام کے نفاذ کا ایک مربوط اور مکمل پروگرام دیا، مگر اسلام کے لیے مخلصانہ جذبات کے اظہار کے باوجود    وہ اس طرف کوئی حقیقی اور دیرپا پیش رفت نہ کرسکے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ نفاذِ شریعت کے مسئلے کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیاجائے۔ پھر مسئلے کی نوعیت کی مناسبت سے عملی اقدامات کا ایک ہمہ جہتی پروگرام مرتب کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے مؤثر اور کارفرما مشینری وضع   کی جائے۔

نفاذِ شریعت: بنیادی اقدامات

نفاذِ شریعت کسی ایک اعلان کا نام نہیں۔ یہ تو ایک مسلسل عمل ( process) ہے جس کی مختلف جہتیں ہیں اور ہرجہت کو دوسری کا معاون و مددگار اور اس کی تقویت کا باعث ہونا چاہیے، تب ہی مربوط اور دیرپا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء صاحب بار بار کہتے تھے کہ آپ مجھے کوئی ایک چیز بتا دیں جس کے اعلان سے شریعت نافذ ہوجائے، اور میں ہمیشہ ان کو یہی سمجھاتا تھا کہ اگر آپ فی الحقیقت نفاذِ شریعت چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک اعلان نہیں، تبدیلی کا ایک مفصل اور مربوط پروگرام بنانا ہوگا___ اس کے اہم اجزا یہ ہیں:

                ۱-            دستور میں قرآن و سنت (شریعت) کی بالادستی کا اظہار اور اسے قانون سازی اور پالیسی سازی کے لیے مستقل ماخذ قرار دینا۔نیز دستور میں ایسی ترامیم جو اس کو شریعت سے متصادم  اجزا سے پاک کردے۔ دستور کو بار بار ادھیڑنا صحیح نہیں۔ اسی لیے دستور سازی اور قانون سازی میں فرق کیا جاتاہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔ خاص طور پر جب ہم نے تحریری دستور کا راستہ اختیار کیا ہے تو اس کے تقاضے بھی پورے کرنے چاہییں۔

                ۲-            دستور میں شریعت کے قانونی احکام کے نفاذ کے لیے ایک واضح اور مؤثر نظامِ کار کا تعین۔

                                ___ دفعہ ۲۲۷ ایک اہم انتظام ہے لیکن اس کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ ایک متعین مدت میں اپنا فرض انجام دے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس کے لیے سات سال کی مدت رکھی گئی تھی کہ اس زمانے میں تمام مروجہ قوانین کو شریعت سے ہم آہنگ کرلیا جائے گا۔ یہ کام آج تک نہیں ہوا ہے۔

                                ___ اسی دفعہ کی رُو سے آیندہ کے لیے بھی شریعت کے احکام کے نفاذ کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور یہ قانون سازی، اسمبلی اور سینیٹ کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ کے مشورے اور معاونت سے کرنا تھی۔ مگر اس باب میں بھی ہمارا قومی ریکارڈ بڑا ہی افسوس ناک ہے۔

                ۳-            دستو ر نے شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں دفعہ ۲۲۷ کے ساتھ ایک دوسرا راستہ ’پالیسی رہنما اصول‘ (باب ۲، دفعہ ۲۹ تا ۴۰) کی شکل میں نکالا۔ جو عدالتوں کے ذریعے نافذالعمل نہیں تھا مگر ہر سال پارلیمنٹ کو کارکردگی کی رپورٹ کی شکل میں اس عمل کو آگے بڑھانا پیش نظر تھا۔ اس سلسلے میں بھی پیش رفت صفر ہی رہی ہے۔

ان تینوں کے عملاً غیرمؤثر ہوجانے کے بعد نفاذِ شریعت کا ایک دوسرا نسبتاً مختصر راستہ عدلیہ کو یہ اختیار دینا تھا کہ خود اپنے ایما یا اختیار (suo moto)، یا کسی کے توجہ دلانے اور استغاثہ کرنے پر کسی قانون کا جائزہ لے کر متعین کرسکے کہ وہ قانون قرآن و سنت کے مطابق ہے یا متصادم،اور تصادم اور عدم تطابق کی صورت میں اسے کس طرح کالعدم کیا جائے۔

یہاں مسئلہ یہ پیش آیا کہ عدالتوں کے جج حضرات بالعموم اس بنیادی علم سے آراستہ نہیں جو اس کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہے۔ صحیح راستہ تو یہ تھا کہ قانون کی تعلیم کے نظام کو، وکلا اور ججوں کی تربیت،انتخاب، ترقی کے اصول و ضوابط کو تبدیل کیا جائے۔ ایک ایسا انتظام کیا جائے کہ ایک معقول مدت میں نیچے سے اُوپر تک جج قانون کے علم کے ساتھ شریعت کا علم بھی رکھتے ہوں اور اخلاق و تقویٰ کے اعتبار سے بھی دینی معاملات میں قوم کے اعتماد کے مستحق ہوسکیں۔ یہ عمل صحیح اور معیاری ہونے کے باوجود وقت طلب تھا۔ اس لیے صدرضیاء الحق کے دور میں پہلے تمام ہائی کورٹوں میں شریعت بنچ کے قیام کی تجویز آئی، جسے عدلیہ نے پسند نہیں کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کا راستہ اختیار کیا گیا، جس پر ۱۹۸۰ء سے عمل ہو رہا ہے اور جس کے لیے دستور میں ایک پورے باب کا اضافہ کیا گیا۔ اس میں چند بڑی بڑی خامیاں رہ گئیں:

                ۱-            اس کا دائرۂ کار محدود تھا۔ قوانین کی اکثریت اس کے دائرۂ کار سے باہر تھی۔

                ۲-            یہ صرف قانون یا اس کے کسی حصے پر کلام کرسکتی تھی۔ انتظامی احکام اس کے دائرے سے باہر تھے۔

                ۳-            اس کے ججوں کا تقرر، تبدیلی، تنزلی وغیرہ کے بارے میں ایسے من مانے ضابطے بنائے گئے جو نہ صرف عدلیہ کی آزادی اور اس عدالت کے مستقل وجود کے منافی تھے، بلکہ خود اسلام کے تصورِ عدل کے ساتھ بھی مذاق تھے۔

                ۴-            اسے داد رسی اور عارضی احکام (interim injunctions)کا اختیار حاصل نہ تھا، یعنی یہ عدالت بالکل بے طاقت تھی۔

                ۵-            اس کو صرف حدود کے معاملات میں اپیلوں کی سماعت کا اختیار حاصل تھا۔ باقی اس کا اصل دائرئہ اختیار صرف قوانین کے بارے میں راے دینے تک محدود تھا۔ غنیمت ہے کہ اتنی گنجایش تھی کہ اگر اس کے دیے ہوئے وقت میں مقننہ قانون سازی نہ کرے یا   سپریم کورٹ میں اپیل نہ ہوجائے تو کم از کم زیرنظر قانون کا خلافِ شریعت حصہ معدوم ہوجائے گا۔ گو اس کی نوبت کم ہی آسکی۔

اس طرح نفاذِ شریعت (قانون کے جدید تصور کی حد تک) کے جو جو راستے ہو سکتے ہیں، عملاً دونوں ہی غیرمؤثر رہے۔ اور اس وقت سب سے اہم فیصلہ یہی کرنا ہے کہ ان میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے، یا دونوں طریقوں کو بہ یک وقت جاری رکھا جائے۔

دیگر اھم عوامل

نفاذِ شریعت کا عمل محض قانونی عمل نہیں ہے، گو قانونی دائرے میں قانونی مشینری کے ذریعے اس کام کو انجام دینا ازبس ضروری بھی ہے اور اس کے لیے مزید مؤثر اقدامات بھی درکار ہیں۔ اس قانونی عمل کے ساتھ جن دوسرے اقدامات کی ضرورت ہے ہم ان کی نشان دہی کرتے ہیں:

  •  پالیسی سازی اور تقاضے: اہم ترین چیز قانون کے ساتھ ساتھ پالیسی، پالیسی سازی کے طریق کار، پالیسیوں پر احتساب اور انتظامی احکامات کو بھی عدالتی مواخذے (judicial review) کے لیے کھولنا ہے۔ شریعت کے نفاذ کے لیے صرف قانون سازی ہی کافی نہیں، بہت بڑا دائرہ پالیسی سازی کا ہے اور اس طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے لیے کوئی مشینری بھی موجود نہیں ہے۔ ہر وزارت آزاد ہے اور شرعی رہنمائی اور احتساب کا کوئی نظام نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل محض ایک غیرمؤثر مشاورتی ادارہ ہے اور اس سے بڑھ کر اس کا کوئی تعلق حکومتی مشینری سے نہیں۔یہ ایک دُور دراز جزیرے کے طور پر کام کرتا ہے، جب کہ ملک کے پلاننگ کمیشن اور تمام مشاورتی اداروں سے اس کا دستوری، انتظامی اور عملی تعلق (interaction) ہونا چاہیے۔ راقم کو اس کا عملی تجربہ اس وقت ہوا جب پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین اور وزیرمنصوبہ بندی کی حیثیت سے نفاذِ اسلام کی طرف پیش قدمی اور منصوبہ سازی کی کوشش کی گئی۔ معلوم ہوا کہ نظریاتی کونسل کا کوئی ربط کسی پالیسی ساز ادارے سے نہیں اور نہ پالیسی ساز اداروں نے یہ زحمت کی کہ اس ادارے سے کوئی استفادہ کریں۔ ہم نے پلاننگ کمیشن اور نظریاتی کونسل کے مشترک اجتماعات کیے اور ان کی مشترک کمیٹیاں تشکیل دیں، تو معلوم ہوا کہ پالیسی سازی میں اسلام سے راہ نمائی لینے کا عمل کس طرح متحرک کیا جاسکتا ہے۔ یہ بڑا قیمتی لیکن مختصر تجربہ تھا۔

’پاکستان قومی اتحاد‘ ۱۹۷۸ء کے وسط سے ۱۹۷۹ء کے اوائل تک، چند ماہ کے لیے    ضیاء حکومت کا حصہ رہا۔ مگر قومی اتحاد کے حکومت سے نکلنے کے بعد (۱۹۷۹ئ) سارا انتظام بتاشے کی طرح بیٹھ گیا۔ اس سے دو سبق حاصل ہوتے ہیں: ایک یہ کہ جب تک تمام پالیسی ساز اداروں اور افراد کو عملاً اس کام میں شریک نہ کیا جائے کوئی پیش رفت مشکل ہے۔ دوسرے، یہ کام محض وقتی طور پر نہیں، مستقل بلکہ اداراتی انتظام کی شکل میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے سب سے اہم چیز سیاسی اثرورسوخ، عزم و ارادہ اور جذبۂ عمل (political will) ہے۔ پاکستان کی گذشتہ تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نفاذِ اسلام کے عمل کو غیرمؤثر اور غیرنتیجہ خیز کرنے والی چیز اسی سیاسی ارادے کی کمی ہے اور یہ صرف ایک فرد کے عزم کا مسئلہ نہیں، یہ پوری سیاسی مشینری اور اجتماعی قیادت کے ارادے اور عزم کا مسئلہ ہے۔ اور جب تک یہ حل نہ ہوگا، گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔

  •  تبدیلیِ قیادت:دوسری اہم ترین ضرورت سیاسی عزم و ارادہ ہے، جس کا اظہار ہرسطح پر ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب انقلاب قیادت واقع ہو۔ اب تک کی تمام ہی قیادتوں کا حال (چند انفرادی استثنائی حوالوں کو چھوڑ کر) بڑا ہی مایوس کن رہا ہے۔ قانون سازی اور پالیسی کی تبدیلی کا آخری انحصار افرادِ کار کی تبدیلی اور انقلابِ قیادت پر ہوگا۔ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے کی قیادت میں اندر سے تبدیلی آئے یا اسے ایسے افراد سے تبدیل کیا جائے جو اس میدان میں صحیح قیادت اور نمونہ فراہم کرسکیں۔ اس قیادت کے لیے تین چیزیں ازبس ضروری ہیں:

اول: اس کا اپنا عزم، وژن، کردار اور نمونہ۔

دوم: اس کا علم، تجربہ، صلاحیت کار، مشاورتی نظام اور اعلیٰ کارکردگی۔

سوم: ایک مؤثر نظامِ شوریٰ اور احتساب تاکہ قیادت صحیح راستے پر قائم اور گامزن رہ سکے۔

اس سلسلے میں اہم ترین مثال سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کی ہے کہ کس طرح ایک ایسے نظام میں جس میں بگاڑ واقع ہوگیا تھا اور قدیم جاہلیت نے اسلام کی انقلابی اصلاحات کو غیرمؤثر یا معدوم کرکے پیچھے کی طرف چلانا شروع کر دیا تھا، انھوں نے ڈھائی سال کے مختصر وقت میں دوبارہ نظامِ حکومت و ریاست کو خلافت راشدہ کی راہ پر ڈالا۔ اور بے نفسی، قربانی، مفاد پرست طبقات پر ضرب اور ریاست کو اس کے اسلامی مقاصد کے لیے دوبارہ منظم کرنے کا کام انجام دیا۔ اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کر کے، اپنے خاندان اور قبیلے کو لگام دی۔ حق پرستی، اصولوں پر عدم لچک، مظلوموں کی دادرسی، میرٹ کا اہتمام اور نتائج سے بے پروا ہوکر باطل سے سمجھوتوں کی روش سے اجتناب کیا۔ یہ تھا قیادت کا وہ نمونہ جو عمرثانی رحمۃ اللہ علیہ نے پیش کیا اور یہی وہ نمونہ ہے جس کی آج ضرورت ہے۔

  •  نظامِ تعلیم و تربیت: دستور، قانون، پالیسی اور قیادت کے بعد تعلیم و تربیت، مطلوبہ مردانِ کار کی تیاری اور ترغیب و ترہیب کے ایسے نظام کا قیام ضروری ہے جس کے نتیجے میں صحیح افراد ہر سطح پر ذمہ داری کے مقام پر آسکیں۔ لوگوں کو اعتماد حاصل ہو اور وہ نظام پر بھروسا کرنے لگیں۔ جہاں ضروری ہے کہ پہلے قدم پر ہی اس کام کا آغاز کر دیا جائے وہاں یہ بھی ضروری ہوگا اسے مستقل مزاجی سے جاری رکھنے کا اہتمام ہو تاکہ فطری انداز میں مناسب نظام الاوقات کے تحت تبدیلی واقع ہوسکے۔
  •  راے عامہ کی ھمواری:اس پورے عمل میں جہاں قانون کی بڑی اہمیت ہے، وہاں افراد اور معاشرے کی ایسی تیاری ضروری ہے کہ لوگ دلی آمادگی اور خوش دلی سے شریعت کے نفاذکے عمل میں شریک ہوں۔ یہ کام نہ محض وعظ سے ہوسکتا ہے اور نہ صرف جبر اور ڈنڈے کی قوت سے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ نفاذِ شریعت کا ہمیں سکھایا ہے اور جس کا نمونہ آپؐ نے پیش فرمایا ہے۔ اس کا نمایاں خاصہ، دل اور ذہن کی تبدیلی اور اخلاق و کردار کے انقلاب کے ساتھ، قانون اور حکومت کی انتظامی اور تادیبی قوتوں کا متوازن اور حسین امتزاج ہے۔     نفاذِ شریعت کے لیے ہر دور میں ان دونوں دھاروں کا آپس میں ملنا اور ایک دوسرے کو تقویت پہنچانا ضروری ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر عمل ہے اور اس میں سب کی شرکت ضروری ہے۔ یہ مقصد پابندیاں لگانے اور ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکرکے لیے آزادی، اختلاف اور رواداری کا ہونا ضروری ہے، ورنہ آمریت اور استبداد کی فضا میں یہ عمل جاری نہیں رہ سکتا۔ اس کے لیے تو حقوق کا احترام، فرائض کی ادایگی کا جذبہ، شوریٰ کی فضا، نیکیوں میں مسابقت کا شوق، ایک دوسرے کے لیے احترام، ایثار، قربانی اور باہم معاونت درکار ہے تاکہ گرتوں کو تھاما جاسکے اور بے راہ روی کا شکار ہو جانے والوں کو سینے سے لگا کر جہنم کی آگ اور دنیا کے خسران سے بچایا جاسکے۔ معاشرے میں یہ فضا اور یہ جذبہ پیدا کرنا بھی نفاذِ شریعت کا لازمی حصہ ہے۔
  •  مقاصدِ شریعت کا تحفظ:یہ پورا کام جس ذہن اور جذبے سے ہونا چاہیے وہ وہی ہے جس کا نمونہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا، یعنی دنیا میں انسانوں کے درمیان انصاف اور حقوق العباد کی ادایگی، اور اصل منزل آخرت کی کامیابی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کا حصول۔شریعت کے احکام و ضوابط کو مقاصد ِ شریعت کو نظرانداز کرکے نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ مقاصد بہت واضح ہیں یعنی: l دین و ایمان کا تحفظ l جسم و جان کی حفاظت lاخلاق، عصمت، خاندان اور نسلِ انسانی کا تحفظ l عقل و شعور کی حفاظت اور l مال کا تحفظ۔ انھی کے قیام سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے۔

یہ بڑی معنی خیز حقیقت ہے کہ اسلام کے تعزیری قانون میں جن حدوں کے تحفظ کو قرآن و سنت نے سزائوں کے تعین کے ساتھ طے کردیا وہ یہی پانچ مقاصد ہیں۔ دنیا کے دوسرے تعزیری قوانین میں سیکڑوں نہیں ہزاروں جرائم اور ا ن کی سزائیں ہیں، لیکن اسلام نے جن جرائم اور ان کی سزائوں کو حدود کا مقام دیا وہ یہی پانچ چیزیں ہیں۔ دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ارتداد کی سزا کی حد، جسم و جان کے تحفظ کے لیے قصاص و دیت کا قانون، اخلاق، خاندان، عزت و عصمت اور    نسل کے تحفظ کے لیے زنا اور قذف کی حدود، عقل کے تحفظ کے لیے تحریمِ خمر اور شراب کی حد اور مال کے تحفظ کے لیے سرقہ اور حرابہ کی حدود___ یہ حدود محض سزائیں نہیں، یہ تو شریعت کے اصل مقاصد اور انسانی معاشرے کی اصل بنیادوں کے تحفظ کا نظام ہیں۔ مقصد سزا دینا نہیں، مقصد ان بنیادوں کا تحفظ، ان کی مضبوطی اور انسانی زندگی کو عدل و انصاف اور عزت و خوش حالی کی برکتوں سے مالا مال کرنا ہے۔

نفاذِ شریعت کے یہ ہیں وہ تمام پہلو ،جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور مل کر ایک نامیاتی کُل (organic whole) بناتے ہیں۔ نفاذِ شریعت کے عمل کو ان سب کا احاطہ کرنا چاہیے، ورنہ وہ نامکمل اور غیرمؤثر رہے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام اہلِ وطن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

’قراردادِ مقاصد‘ ایک تاریخی دستاویز ہی نہیں، ایک ایسا آئینہ بھی ہے، جس میں تحریکِ پاکستان کے اصل مقصد اور منزل کی ایک واضح تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کے ’دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں دیباچے کے طور پر اسے شامل کرنے کے بعد دیباچے کے دوسرے حصے میں کہا گیا کہ جو دستور منظور اور نافذ کیا جا رہا ہے وہ ’’قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کیا جا رہا ہے‘‘۔ اور جو تصور ریاست اور حکمرانی کا نظام اس میں تجویز کیا جا رہا ہے، وہ محض اس وقت کی اسمبلی کے احساسات کا عکاس نہیں بلکہ وہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جو انھوں نے برعظیم کے مسلمانوں سے سماجی عدل کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری حکومت کے قیام کے لیے کیا تھا اور جس کے لیے پورے برعظیم کے مسلمانوں نے عظیم قربانیاں دی تھیں اور دے رہے ہیں۔

 ’قراردادِمقاصد‘ اور اس کی روشنی میں بننے والے دستور کا یہی وہ امتیازی پہلو ہے، جو  اس کے اسلامی، جمہوری اور فلاحی تصور کو اس کی ناقابلِ تغیر شناخت بنادیتاہے، اور انتظامی دروبست کو ایک ثانوی حیثیت دیتا ہے، جس میں حسب ِ ضرورت تبدیلی اور ترمیم ہوسکتی ہے، مگر اس مملکت کی نظریاتی بنیاد اور اس کو مستحکم کرنے والی دستوری دفعات میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، جو اس شناخت کو مجروح کرنے والی ہو۔ پاکستان کا وجود تحریکِ پاکستان کا نتیجہ ہے اور اس تحریک میں پورے برعظیم کے مسلمانوں نے کچھ خاص مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی تھی۔ اس ملک کا قیام ایک معاہدۂ عمرانی کا نتیجہ ہے، جسے کسی مصلحت یا وقتی رو کے نتیجے میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس بنیاد کی حفاظت کریں اور اس شناخت کو روشن تر کرنے کی کوششیں کریں اور اس کو کمزور کرنے یا اس کی شکل بگاڑنے کی ہر کوشش کا پوری قوت سے مقابلہ کریں۔ ہر ادارے کی حقانیت (legitimacy)  کا انحصار اس بصیرت (vision) سے وفاداری پر ہے۔ ہر ادارہ قرآن و سنت کی بالادستی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود کی پاس داری کا ذمہ دار ہے۔ پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ ہی نہیں، پارلیمنٹ کو منتخب کرنے والے عوام بھی ان حدود کے دائرے ہی میں اپنا اختیار استعمال کرنے کے پابند ہیں۔

اللہ کی حاکمیت اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کا اپنا مزاج اور اپنا نظام ہے۔ اس ریاست کو دوسروں کے معیارات کا تابع کرنا اس عہد سے بے وفائی اور صریح ظلم ہوگا، جو اس مملکت کی بنیاد ہے۔ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے، لیکن یہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک شخص محض اس دعوے کی بنیاد پر کہ میں آزاد ہوں، اپنی آزاد مرضی سے اپنے کو کسی دوسرے کی غلامی میں نہیں دے سکتا اور نہ خود اپنی جان لے سکتا ہے۔ خودکشی ہر مہذب نظام میں ایک جرم ہے اور انسانوں کی فروخت رضامندی سے بھی ناقابلِ قبول عمل ہے۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور تمام اختیارات کو امانت تسلیم کرنے کے بعد یہ حق مانگنا کہ: ’’فلاں ادارہ ’سپریم‘ ہے، اور وہ دستور میں ترمیم کے نام پر جو تبدیلی چاہے کرسکتا ہے‘‘ فی الحقیقت امانت اور خلافت کے تصور ہی کی نفی ہے۔ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے بعد وہ تمام حدود محترم ہوجاتی ہیں جو قرآن و سنت نے مقرر فرما دی ہیں۔ اس لیے ہماری آزادی کا دائرہ ان حدود کے اندر ہے، ان کے باہر نہیں۔

دستورِ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کا بطور دیباچہ اور دفعہ ۲-الف کے طور پر شامل کرنا اسے دستور کا وہ ترازو بنادیتا ہے، جس پر مطلوب اور نامطلوب کا تعین کیا جائے گا۔ جس طرح عدلیہ دستور کی تخلیق (creature) ہے، بالکل اسی طرح پارلیمنٹ، انتظامیہ اور فوج بھی اس کی تخلیق ہیں، حتیٰ کہ عوام بھی دستور کے تحت ہی اپنے حکمرانی کے اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ اسلامی نظریہ اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں جمہوریت، عدلِ اجتماعی، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے اہداف وہ ناقابلِ تغیر پہلو ہیں، جن کے بارے میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دستور میں قرآن و سنت کے احکام کے خلاف قانون سازی کی واضح طور پر تحدید کر دی گئی ہے۔ اسی طرح بنیادی حقوق کو مجروح کرنے والی قانون سازی کے اختیار سے مقننہ کو محروم کیا گیا ہے۔ دفعہ۶ میں دستور کو توڑنے، اس کو تہ و بالا (subvert) کرنے، معطل (suspend) کرنے، غیرمؤثر کرنے، یا اسی نوعیت کے عمل میں کسی قسم کی معاونت کو جرم اور غداری قرار دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق ہر فرد اور ادارے پر ہے: بشمول انتظامیہ، فوج، مقننہ اور عدلیہ۔

دستورِ پاکستان میں صرف یہی ایک جرم ایسا ہے، جسے دفعہ۱۲(۲) کی رُو سے اطلاق بہ ماضی کی حُرمت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے، یعنی دستور ۱۹۷۳ء میں بنا ہے مگر اس کا اطلاق ۱۹۵۶ء سے ہوگا، جب پاکستان میں پہلا دستور نافذ ہوا تھا۔ نیز عدالتوں پر بھی ایسے اقدام کے لیے بعد از عمل جواز (validation) پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پھر اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ صدرِمملکت، وزیراعظم ، وزرا اور پارلیمنٹ کے ارکان کے حلف نامے میں دستور کی پابندی اور اس کے مطابق کام کرنے کے عہد کے ساتھ ساتھ، دستور کے تحفظ اور دفاع اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا عہد بھی لیا جاتا ہے۔ کیا یہ تمام اُمور اس امر کا ثبوت نہیں ہیں کہ اسلام جو پاکستان کی بنیاد ہے اور ’قرادادِ مقاصد‘ نظامِ حکمرانی کے جن اصولوں اور حدود کی نشان دہی کرتے ہیں، وہ دستور کی اساس اور اس کے ناقابلِ تغیر حصوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ان کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو روکنے کا کوئی نہ کوئی انتظام ہونا چاہیے۔

منتخب پارلیمنٹ پر غیر منتخب عدلیہ کی بالادستی؟

قانون کے دائرے میں اس کا معروف طریقہ یہی ہے کہ عدلیہ، دستور کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ البتہ حالات کو دیکھ کر عدلیہ دونوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرسکتی ہے، یعنی یہ کہ وہ ایسی ترمیم کو پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کرنے کے لیے بھیج دے، تاکہ پارلیمنٹ خود اصلاح کرے، جیساکہ اٹھارھویں ترمیم کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے کیا۔ بصورتِ دیگر ایسی ترامیم کو دستور کی اصل سے متصادم ہونے کی حد تک غیرمؤثر کرنے کا اختیار عدلیہ کو حاصل ہونا چاہیے۔ یہ اعتراض کہ اس طرح’ منتخب نمایندوں‘ پر ’غیر منتخب عدلیہ‘ کی بالادستی کا نظام قائم ہوجائے گا، خلطِ مبحث سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر دفعہ۸ کے تحت پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو کالعدم قرار دینے سے منتخب نمایندوں کی بے توقیری نہیں ہوتی اور ان پر ’غیرمنتخب‘ کی بالادستی صادق نہیں آتی، اگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی رُو سے قرآن و سنت سے متصادم قانون مہلت کے ختم ہوتے ہی غیرمؤثر ہوجاتا ہے، اور اس کے پارلیمنٹ کے اختیارات پر کوئی ضرب نہیں لگتی، تو دستوری ترمیم کے سلسلے میں عدلیہ کے اقدام کو ’عدالتی جارحیت‘  اور عدالتی استبداد‘ (judicial autocracy) کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟

اگر غیرمنتخب عدلیہ ،پارلیمنٹ کے اکثریت سے منظور کردہ قانون کو خلافِ قانون قرار دے کر مطلق العنان نہیں بنتی تو دستوری ترمیم کے باب میں کیسے اس الزام کی سزاوار ہوسکتی ہے؟ عام حالات میں دستوری ترمیم سیاسی عمل ہی سے ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقننہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو دستور ہی میں طے کردہ گرفت کرنے اور توازن قائم کرنے (check and balance) کے نظام کے تحت اس کے ہاتھ کو کیسے روکا جاسکتا ہے کہ وہ بھی دستور اور قانون ہی کی پیداوار اور تخلیق ہے اور ان کی پابند بھی ہے۔ پھر عدلیہ بھی اسی دستور سے اپنے اختیارات حاصل کر رہی ہے، جس دستور سے پارلیمنٹ، حکومت اور عوام حاصل کرتے ہیں۔

اگر ایک منتخب صدر، وزیراعظم، رکن پارلیمنٹ کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا غیرمنتخب پولیس اس کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرے؟ کیا غیرمنتخب الیکشن کمیشن، منتخب ارکان کی بے ضابطگیوں پر احتساب نہ کرے؟کیا غیرمنتخب آڈیٹر جنرل منتخب حکومت کی بدعنوانی یا بے قاعدگی پر گرفت نہ کرے؟ ریاست کا ہر ادارہ اپنے دائرے میں اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کا ذمہ دار ہے۔  اسی طرح پارلیمنٹ بھی اپنے دائرۂ اختیار سے اگر تجاوز کرتی ہے تو عقل اور عدل کا تقاضا ہے کہ  اس پر گرفت کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ عوام کا احتساب اور انتخابات میں محاسبہ بھی ایک حقیقت ہے، لیکن وہ احتساب کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ مختلف معاملات کے سلسلے میں اپنے اپنے دائرے میں احتساب اور گرفت کی دوسری شکلیں بھی ہیں، جو معروف ہیں۔ ایسی تمام صورتیں دستور کے نظام کا حصہ ہیں، اس لیے محض منتخب اور غیرمنتخب کے حوالے سے پارلیمنٹ کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔

فاضل جج محترم میاں ثاقب نثار صاحب نے اپنے نوٹ میں بطور دلیل یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:

بلاشبہہ ایک اسلامی معاشرے میں مسلم آبادی کے لیے یہ ایک طے شدہ امرِواقعہ ہے کہ پوری کائنات پر خودمختاری اور فرماںروائی اللہ وحدہ کو سزاوار ہے۔ لیکن اس الہامی اصول کے حدود کے اندر ان معاملات میں منتخب نمایندے ہی اقدام کرنے کے مجاز ہیں، کوئی اور نہیں۔ اسی کا اطلاق دستوری ترامیم پر بھی ہوتا ہے۔

ہم بڑے ادب سے عرض کریں گے اور اسلامی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اربابِ اقتدار کے قرآن و سنت سے انحراف کے معاملات پر عوام الناس نے اپنے انداز میں، اور علما، فقہا اور عدلیہ نے اپنے انداز میں احتساب کیا ہے اور ہر دور میں کھلے عام یہ احتساب کرنا ان کی ذمہ داری رہی ہے۔

دورِ خلافت ِ راشدہؓ میں آزاد عدلیہ کا قیام وجود میں آگیا تھا اور خلیفۂ وقت بھی عدلیہ کے سامنے اسی طرح جواب دہ تھا جس طرح کوئی دوسرا فرد۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور   حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی عام افراد کی طرح قاضی کے سامنے پیش ہوئے۔ ہماری ساری فقہ آزاد اور غیرسرکاری انتظامات کے تحت وجود میں آئی ہے۔ افتا اور قضا یہ دو اہم ادارے تھے، جن کے ذریعے پورا قانونی سرمایہ وجود میں آیا ہے۔ مہر کی حد مقرر کرنے کے سلسلے میں خود حضرت عمر فاروقؓ کے فیصلے کو ایک محترمہ صحابیہؓ نے چیلنج کیا اور امیرالمومنین نے اپنے طے کردہ قانون کو واپس لیا اور اعتراف فرمایا کہ: ایک خاتون نے مجھے ایک بڑی غلطی سے بچالیا۔ ہماری تاریخ میں، ججوں کے وضع کردہ قوانین ( judge made law) کا ایک بڑا کردار ہے۔ اسلام نے تو اربابِ اختیار کے باب میں اطاعت کے لیے اصول ہی یہ طے کیا ہے کہ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِق ( کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں، اگر اس کے نتیجے میں اللہ کی نافرمانی واقع ہوتی ہو)۔ اسلامی حکمرانی کا ایک بنیادی اصول قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا o(النساء ۴:۵۹) اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر تم اگر کسی معاملے میں تمھارے اور ان کے درمیان نزاع ہو تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ اور آخرت کے دن پر۔ یہ بہتر ہے اور بلحاظ انجام بھی اچھا ہے۔

غیرمشروط اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہے۔ اصحابِ امر کے اختلاف اور دلیل سے ان سے مجادلہ اور مباحثہ زندگی کی ایک حقیقت ہی نہیں، بلکہ ایک جائز حق بھی ہے۔ لیکن آخری فیصلے کے لیے معیار: اللہ اور اس کے رسولؐ کے ارشادات ہی ہیں، اور فطری طور پر اس کے جائزے اور تحکیم کے لیے کوئی نہ کوئی ادارہ ہونا چاہیے۔ ہماری تاریخ میں علما، فقہا اور قاضی حضرات یہ خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب قانون سازی کے ادارے انتخابی بنیادوں پر وجود میں آگئے ہیں، تو ایسے منظم نظام کی ضرورت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہمارے دور کے اہلِ علم نے اس نازک اور بنیادی ذمہ داری کے تعین کے لیے عدلیہ ہی کو مناسب ادارہ تجویز کیا ہے۔ خود ہمارے دستور میں ’وفاقی شرعی عدالت‘ کا وجود اس کی مثال ہے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اس سلسلے میں جس راے کا اظہار کیا تھا، اس سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تعبیرِ دستور کے مسئلے پر کلام کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا:

رہے عام دستوری مسائل، جن میں شریعت کوئی منفی یا مثبت احکام نہیں دیتی، ان میں مقننہ کو آخری فیصلہ کن اختیارات دے دینا بحالاتِ موجودہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک غیر جانب دار ادارہ ایسا موجود ہونا چاہیے، جو یہ دیکھ سکے کہ مقننہ نے کوئی قانون بنانے میں دستور کے حدود سے تجاوز تو نہیں کیا ہے اور ایسا ادارہ ظاہر ہے کہ عدلیہ ہی ہوسکتا ہے۔ (اسلامی ریاست ، مولانا مودودی،ص ۵۳۹)

تاریخی نظائر کا معاملہ بہت نازک ہے۔ ہر دور کے اپنے حالات، مسائل اور امکانات ہوتے ہیں، اور شریعت نے ان کا لحاظ رکھا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملوکیت (بادشاہت) کے باوجود اسلامی قانون کی برکت سے اربابِ اقتدار پر بڑی گرفت رہی۔ یوں  قانون کی حکمرانی اور بالادستی کی اعلیٰ نظیریں ہر دور میں مل جاتی ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے بارے میں امریکی مصنف پروفیسر جان لویئس اسپوزیٹو اور پروفیسر جان وول اپنی کتاب Islam and Democracy میں لکھتے ہیں:

بعد کی صدیوں میں عثمانی سلطنت کے دور میں اس معاہدے کے مفہوم کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔ سلطنت ایک اسلامی سلطنت تھی اور اس کا سربراہ سلطان اسلامی قانون کے ماتحت تھا اور اس کا یہ اختیار تسلیم کیا جاتا تھا کہ انتظامی فرمان جاری کرے جو قانون کے مثل ہوتے تھے۔ اِس سلطانی نظام کے علما کو بہرحال یہ حق حاصل تھا جو عموماً سیاسی وجوہ کی بنا پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا کہ بادشاہ کے جاری کردہ کسی ضابطے کو اگر اُن کی راے میں وہ اسلامی قانون کے مطابق نہیں ہے ناجائز قرار دیں۔

اس سے بھی آگے بڑھ کر سلطنت میں سرکاری علما کا سربراہ شیخ الاسلام ایسے احکامات جاری کرسکتا تھا جس میں بنیادی اسلامی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سلطان کو معزول کیا گیا ہو۔ گو کہ یہ اختیار خال خال ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اختیار سلطان ابراہیم (۱۶۴۸ئ)، محمد چہارم (۱۶۸۷ئ)، احمد سوم (۱۷۳۰ئ)، سلیم سوم (۱۸۷۷ئ) کی معزولی میں حقیقتاً استعمال کیا گیا۔ اِن رسمی اقدامات میں سلطان کے اختیارات پر تاریخی قدغن اس واقعے کی بنیاد پر عائد کی گئی کہ علما دستور کے نمایندے تھے، یعنی اس میں اسلامی قانون کا مکمل اظہار ہوتا تھا۔ اسلامی ورثے میں یہ اختیارات کے علیحدگی کی امکانی جہتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے، تاریخی نظائر سے مقصود اس امر کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ مختلف اَدوار اور زمانوں میں اپنے اپنے حالات کے مطابق، اصل مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں کی گئی ہیں، اور آج ہمارے اپنے حالات کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ مقننہ (Legislature) کی قانون سازی کو، دستور کی حدود میں رکھنے اور بنیادی دستوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے اداراتی (institutional)انتظام ہو۔ اعلیٰ عدلیہ یہ خدمت انجام دے سکتی ہے اور اس میں اس کی صلاحیت پیدا کرنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ خود عدلیہ پر بھی عوام، میڈیا، علما اور سول سوسائٹی کی نگاہ اسی طرح ہونی چاہیے، جس طرح پارلیمنٹ اور حکومت پر رکھی جانی ضروری ہے۔ تقسیمِ اختیارات کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں ایک جدید ریاست میں شریعت کے مقاصد اور اسلامی جمہوری نظام کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔احتساب سے بالاکسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ تصور کہ قانون سازی اوردستور میں ترمیم کے غیرمحدود اختیارات پارلیمنٹ کو صرف اس لیے دے دیے جائیں کہ وہ منتخب ہے، ایک  محل نظر مفروضہ ہے۔ دستور کے بنیادی ڈھانچے اور مملکت کی نظریاتی، اخلاقی اور جمہوری شناخت کی حفاظت کے لیے عدلیہ کا ایک واضح کردار، مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ البتہ خود عدلیہ کی ساخت ، معیار اور عمل کے باب میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے کہ وہ معیارِ مطلوب پر پوری اُترے اور خوداحتسابی کی روایت کے فروغ کے ساتھ، آزادانہ احتساب کے لیے بھی عدالت کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب اور مبنی بر حکمت انتظام کا اہتمام بھی مفید ہوگا۔

دستور سازی کا مرحلہ، غورطلب پھلو

ہر جج ہی نہیں، ہر صاحب ِ علم کا حق ہے کہ وہ اپنے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اپنی دیانت دارانہ راے قائم کرے اور اس کا بلاتکلف اظہار کرے۔ اختلاف راے اگر غوروفکر کی نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بنے تو ایک بڑی نعمت ہے۔ ہر علمی بحث و مباحثے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کو ایسے بہت سے گوشوں پر سوچنے کی تحریک ہوتی ہے، جو بالعموم نظروں سے اوجھل     رہ جاتے ہیں۔ محترم جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے بالعموم اپنی راے کا اظہار دلائل سے اور سلیقے سے کیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’قراردادِ مقاصد ‘ کی طرح خود ’دستورِ پاکستان‘ کے بارے میں ان کی متعدد آرا نے کچھ ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ وہ چونکا دینے والی ہیں۔ چونکہ ان آرا کا اظہار عدالت ِ عظمیٰ کے ایک بڑے وقیع فیصلے کا حصہ ہے، اس لیے اس پر کلام، تلاشِ حق کی جستجو کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا ہے۔ ہم پورے ادب سے عرض کریں گے کہ پاکستان کے دستور، اس کے پس منظر، اور اس کے بنانے والوں کے بارے میں جو کچھ انھوں نے فرمایا ہے اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ دستور کے بارے میں ایک خاص نوعیت کا بیانیہ زیربحث مسائل کی تفہیم اور تنقیح کے لیے کہاں تک ضروری تھا۔ نیز بھارت کے دستور کے معتبر اور محترم ہونے اور پاکستانی دستور کے اعتبار نامے (credentials) کے داغ دار ہونے کے تذکرے سے کتنی روشنی ان تین امور پر پڑتی ہے، جن کے بارے میں عدالت کو رہنمائی دینا تھی اور فیصلہ کرنا تھا۔

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں  اور ایک بار پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور جن حالات میں منظور ہوا، وہ ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ تاہم وہ ایک انسانی کوشش تھی۔ بہت سے پہلوئوں سے اس میں کئی خلا اور سقم تھے، جن میں سے کچھ کو ترامیم کے ذریعے دُور کردیا گیا ہے مگر کچھ اب بھی باقی ہیں، جن کی اصلاح کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

 ’قراردادِ مقاصد‘ ، اسلامی تعلیمات و احکام کی تنفیذ اور دستور کے مندرجات کے سلسلے میں بھی کچھ مسائل اور اُلجھنیں تاحال موجود ہیں۔ خصوصیت سے وہ اُمور جن کا تعلق دفعہ۴۵ اور دفعہ ۲۴۸ سے ہے۔ تمام ہی اصلاح طلب اُمور پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔ پالیسی کے اصولوں میں سے جو چیزیں حقوق کے دائرے میں آنی چاہییں اور جنھیں قابلِ داد رسی (justiciable) ہونا چاہیے، ان کے لیے کوشش جاری رہنی چاہیے لیکن دستور ایک محترم دستاویز ہے، اس کے بارے میں احترام اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔

بھارت کے دستور کے بارے میں جج صاحب کا ارشاد ہے:

بھارت میں اس کے بانیوں نے دستور تیار کیا تھا۔ اس لیے بھارت کے دستور کی فکر اور ارتقا میں اسے ایک خاص مقام حاصل ہے (پیرا ۱۸۵-اے) ۔ (ص ۵۳۵)

یاد رہے کہ بھارتی دستور بہت پہلے ۱۹۴۹ء میں تشکیل دیا گیا تھا اور دستور کے بنانے والے وہ لوگ تھے جنھوں نے آزادی کی جدوجہد کی تھی۔ دستور کو اپنی اصل شکل میں بھارت کے دستوری قانون میں اسے خصوصی تقدس کا مقام حاصل ہے۔

ہمیں اعتراف ہے کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی بروقت دستور بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی، اور جب ۱۹۵۴ء میں دستور کا مسودہ تیار ہوگیا تو اس طاقت ور اور بے لگام بیوروکریسی نے، جس کا فی الحقیقت پاکستان کی تحریک میں کوئی حصہ نہ تھا، شب خون مارا اور اسمبلی کو برطرف کردیا۔ لیکن دنیا کا ہر تحریری دستور محترم ہے، اور حکمرانی سے متعلقہ اُمور میں آخری مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ محض اس بنا پر کہ اس کے بنانے والے تحریکِ آزادی کے قائدین ہیں، وہ غلطیوں اور کمزوروں سے پاک نہیں ہوجاتا۔ ہم بھارت کے دستور کے مشہور ترین شارح پروفیسر باسو کے حوالے سے عرض کرچکے ہیں کہ دستور کے بنانے والے بلاشبہہ تحریکِ آزادی کے قائدین تھے مگر دستور کا تین چوتھائی حصہ ’۱۹۳۵ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘ سے ماخوذ تھا اور باقی حصوں میں بھی دنیا کے کئی دساتیر کی خوشہ چینی کی گئی تھی۔ پھر اسی بھارتی دستور میں ۱۵؍اگست ۲۰۱۵ء تک ۱۰، ۲۰ نہیں پوری ۱۰۰؍ ترامیم ہوچکی ہیں۔ان میں چار ترامیم ایسی ہیں، جنھیں وہاں کی اعلیٰ عدلیہ خلافِ دستور قرار دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی دنیا کا پہلا تحریری دستور امریکا کا ہے، جو ۱۷۸۹ء میں نافذ ہوا اور  اس میں ۲۲۶سال میں کل ۲۷ ترامیم ہوئی ہیں۔ پاکستان کے دستور میں جو ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا، ۲۰۱۵ء تک ۲۱؍ ترامیم ہوئی ہیں۔

کسی دستور کے معیاری ہونے کی بنیاد دستور کے مندرجات پر ہے، محض اس امر پر نہیں کہ اس کے بنانے والے تحریکِ آزادی کے قائدین تھے۔ گذشتہ ۷۰سال میں ۱۵۰ ملک آزاد ہوئے ہیں اور بیش تر کے دساتیر ان کی تحریکاتِ آزادی کے قائدین ہی کے بنائے ہوئے ہیں، لیکن کتنے دستور ایسے ہیں، جو باربارناکام ہوچکے ہیں اورکتنے ہیں جو بدترین آمریتوں کے قیام کا ذریعہ بنے ہیں۔

پاکستان کی ’قراردادِ مقاصد‘ بھی تو اس دستورسازاسمبلی نے بنائی تھی جو تحریکِ پاکستان کے قائدین پر مشتمل تھی اور جن کا انتخاب انھی بنیادوں پر اور اسی طریق کار سے ہوا تھا، جن پر بھارت کی دستورساز اسمبلی منتخب ہوئی تھی۔ لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ’قراردادِ مقاصد‘ اپنے انقلابی پیغام اور منفرد تصورِ ریاست کے باوجود کیوں معتبر نہ تصور کی جائے؟ اور بھارت کا دستور معتبر اور روشنی کا مینار تصور کیا جائے؟

پاکستان کے دستور کے بارے میں محترم جج صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

۱۹۷۳ء کا دستور بانیانِ پاکستان کے نظریات کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ اس وقت کے سیاسی رہنمائوں کے نظریات کا اظہار کرتا تھا۔ اسے ایک ایسی پارلیمنٹ نے بنایا تھا جس کی اکثریت ایک خاص پارٹی کے ممبران پر مشتمل تھی جو کھلے سوشلسٹ منشور پر منتخب ہوئی تھی۔ یہ نکتہ کچھ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ آزادی و خودمختاری کے لیے اصل حرکت کا آغاز ایک بالکل مختلف بنیاد پر ہوا تھا، یعنی قائداعظم کا پیش کیا ہوا وژن کہ برعظیم کے مسلمان ہربامعنی مفہوم میں ایک قوم ہیں اور اس کا حق رکھتے ہیں کہ ایک قومی ریاست بنائیں اور تخلیق کریں۔ تاریخی طور پر بیان کیا جائے کہ اسلامی نظریہ، پاکستان کی تخلیق کا اصل سبب اسلام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن پارٹیوں نے ۱۹۶۵ء کا دستور بننے سے پہلے انتخابات میں حصہ لیا خاص طور پر مذہبی پلیٹ فارم سے وہ پارلیمنٹ میں مناسب مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔(ص ۱۸، ۸۴، ۳۰۸)

اس کے بعد محترم جج صاحب لکھتے ہیں کہ دستور اسلام اور سوشلزم کا ملغوبہ ہے، ارشاد ہوتا ہے:

جب ہم دستور کا معائنہ کرتے ہیں جیساکہ وہ اصل میں تحریر کیا گیا تھا تو ہم دیکھتے ہیں مذہبی اصول اور ساتھ ہی ساتھ سوشلسٹ نظریات کا عکاس ہے۔ دستور کی دفعہ۲ یہ بیان کرتی ہے کہ اسلام ہی ریاست کا مذہب ہوگا۔ اس کے فوراً بعد دفعہ۳ بتاتی ہے کہ ریاست استحصال کے تمام طریقوں کے خاتمے کو یقینی بنائے گی اور اس بنیادی اصول کی بتدریج تکمیل کو یقینی بنائے گی اور ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے گا۔ اس طرح دفعہ۳دراصل دستور کی سوشلسٹ اصل کا اظہار کرتی ہے۔ ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق لینا اور کام کے مطابق دینا بلاشبہہ مارکسزم اور لینن ازم کا بنیادی اصول ہے (درحقیقت یہ زبانUSSR کے دستور ، جیساکہ وہ اُس وقت تھا، کی دفعہ ۱۲ سے نقل کی گئی ہے جو بلاشبہہ کارل مارکس کی تحریرات پر مبنی تھا)۔ استحصال کے تصور کا ایک فنی مفہوم ہے جیساکہ وہ معاشیات میں کارل مارکس کے نظری کام میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ حوالہ کسی بھی استحصال یا ہر استحصال کے لیے نہیں ہے بلکہ استحصال کی وہ قسم ہے جو سرمایہ دارانہ طبقہ ورکنگ کلاس کے مفادات کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ دل چسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دفعہ۲ اور ۳ کی دفعات میں کس طرح مفاہمت پیدا کی جائے کیونکہ دونوں اصول دستور کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واضح طور پر یہ بنیادی ثنویت ہے۔ مارکسزم مذہب کی تمام شکلوں کو مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ صبر اور تکلیف برداشت کرنے کو بڑی خوبی بتاتا ہے جو ایک پُرتشدد اور انقلابی جدوجہد ہے (کمیونسٹ پارٹی جس کا ہراول دستہ بورژوا کا تختہ اُلٹتا ہے)۔ مارکسزم کے ایک مشہور مقولے کے مطابق: مذہب کو افیون بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال یہ ناپسندیدہ حقیقت برقرار رہتی ہے کہ ہمیں مارکسزم  اور اسلام کے عقائد کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔

ہم نے فاضل جج صاحب کا یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ ان کے ذہن کا وہ مخمصہ جس سے وہ پریشان ہیں، انھی کے الفاظ میں سامنے آجائے اور جس اُلجھن کی وجہ سے وہ دستور کے بنیادی ڈھانچے کے برملا منکر ہیں، اس کی بنیاد کو سمجھا جاسکے اور اس پر گفتگو ہوسکے۔

محترم جج صاحب کے فیصلے کے پیراگراف ۱۸ اور ۱۹ کا تجزیہ کیا جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

                ۱-            پاکستان کا ۱۹۷۳ء کا دستور بنانے والے، پاکستان کے اصل معمار نہیں تھے اور وہ صرف ۱۹۷۰ء کے عشرے کی سیاسی نسل کی نمایندگی کرتے تھے۔

                ۲-            یہ دستور ایک خاص جماعت کے ذہن کی تخلیق ہے جو سوشلزم کی علَم بردار تھی۔

                ۳-            پاکستان کے قیام کی تحریک کا محرک نظریاتی  تھا۔ اسلام قیامِ پاکستان کی اصل بنیاد ہے۔

                ۴-            ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ان جماعتوں کو قابلِ لحاظ کامیابی نہ ہوئی جو اسلام کے پلیٹ فارم سے شریکِ انتخاب ہوئی تھیں۔

                ۵-            دستور،  اسلام اور مارکس ازم، لینن ازم کے دو متحارب تصورات کی زد میں آگیا اور وہ ان دونوں کاملغوبہ ہے، جو باہم متحارب تصورات اور نظریات ہیں۔

                ۶-            ایسے تضادات کی موجودگی میں دستور کا ایک بنیادی ڈھانچا کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے دستور کو یک رنگی سے محروم کر دیا ہے اور اس میں کسی بنیادی اور مربوط ڈھانچے کا تصور ہی ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نکتہ ۲۱ میں جناب خالد انور صاحب ایڈووکیٹ کے الفاظ میں اسے ’بے راحت شادی‘ قرار دیا ہے اور یہ فتویٰ بھی اس فیصلے میں موجود ہے کہ ایسی شادی کا مقدر طلاق ہی ہوسکتا ہے۔

اس حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی دستور سازی کی ذمہ داری ادا نہ کرسکی اور پھر ۱۹۵۶ء میں جو پہلا دستور بنا، اسے فوجی قیادت نے بیوروکریسی کے تعاون سے منسوخ کرڈالا۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف وجوہ سے دساتیر منسوخ یا غیرمؤثر ہوتے رہے ہیں اور ہرناکامی کے بعد ہر زندہ قوم نے اپنے لیے نیا دستور بنایا اور اپنے اصل مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے منزل کی جانب گامزن ہوئی۔ فرانس اور جرمنی اس کی اہم ترین مثالیں ہیں۔

فرانس میں تو اس وقت پانچواں دستور نافذ ہے، لیکن اس عمل کی وجہ سے نیا دستور غیرمعتبر نہیں ہوجاتا اور ضروری نہیں کہ نئی نسل کا بنایا ہوا دستور تاریخی حقائق کے ادراک اور قومی عزائم کی ترجمانی کے باب میں اپنے پیش روئوں سے تہی دست ہو۔ فرانس اور جرمنی میں بھی فسطائی قوتوں نے اصل دساتیر کو تار تار کر دیا تھا، مگر پھر فرانس نے اپنے تصور کے مطابق اٹھارھویں صدی کے انقلابِ فرانس ہی کے نعروں اور مقاصد کے اعادے کے لیے نیا دستور بنایا۔ جرمنی اور اٹلی نے ہٹلر اور مسولینی کے دستوروں سے نجات پاکر، اپنے اپنے حالات کے مطابق جمہوری دساتیر کی تدوین کی۔ روس نے کبھی زارِشاہی دور کے دستور کے تحت زندگی گزاری۔ پھر اشتراکی انقلابِ روس کے جلو میں نیا دستور بنا۔ اسی نظام کے تحت ۱۹۳۶ء میں دوسرا دستور وجود میں آیا۔ پھر ۲۰۰۷ء کا دستور بنا۔ زندگی کے ایسے نشیب و فراز سے بہت سی اقوام کو سابقہ رہتا ہے۔

ہماری تاریخ بھی کچھ ایسے ہی حادثات سے عبارت ہے۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ وہ بنیاد کا پتھر ہے جو ہردور میں دستور اور نظامِ حکمرانی کے لیے رہنما قوت رہا ہے اور تسلسل کا ذریعہ ہے۔ ۱۹۵۶ء کا دستور جس اسمبلی نے بنایا، وہ اس وقت کی پیداوار تھی، مگر دستور کے خدوخال کا تعین اس وقت کی سیاسی قوتوں، خصوصیت سے چودھری محمدعلی کی قیادت میں تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کیا گیا تھا۔ ۱۹۶۲ء کا دستور ایک  فوجی آمر کا مسلط کیا ہوا دستور تھا، مگر اسے بھی نئی اسمبلی کے تحت صدارتی شکل دینے کے باوجود، ۱۹۵۶ء کے نظام کے قریب کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح جو اسمبلی دستور سازی کے اختیار کے ساتھ ۱۹۷۰ء میں منتخب ہوئی تھی ، اس نے دسمبر ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد ۱۹۷۲ء اور ۱۹۷۳ء میں دستور سازی کے عمل کو تیز کیا۔ مسلسل کوشش سے اپریل ۱۹۷۳ء میں نیا دستور منظور کیا، جو ۱۴؍اگست ۱۹۷۳ء سے نافذ ہوا۔ بلاشبہہ یہ ۱۹۷۰ء کے عشرے کی سیاسی قیادت کا بنایا ہوا دستور ہے ،لیکن محض ان کے دماغ کی اختراع نہیں ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۴۹ء کی ’قراردادِ مقاصد‘ اور ۱۹۵۶ء کا دستور تھے۔ اس طرح اس وقت کی قیادت کے خیالات اور عزائم کے ساتھ تاریخی تسلسل کی قوت بھی ایک کارفرما قوت کی حیثیت سے موجود تھی۔

۱۹۷۳ء کا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان، ۱۹۶۲ء کے دستور سے جوہری طور پر مختلف مگر ۱۹۵۶ء کے دستور سے بھی بہتر دستاویز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس میں بہت سے معاملات پر سمجھوتا کیا گیا اور کچھ پہلو سے خامیاں رہیں۔ لیکن ۱۹۷۱ء کے بعد کے حالات پر نظر رکھی جائے تو اسے ایک مثبت اور تاریخی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس وقت کے دستور کی کچھ خامیوں کی نشان دہی  محترم جج صاحب نے کی ہے، جن میں متعدد حوالوں سے درست نشان دہی ہے۔ ان میں سے بیش تر خامیوں کی اصلاح دستوری ترامیم کے ذریعے کردی گئی ہے۔ خصوصیت سے اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے اور اس کا اعتراف و اِدراک محترم جج صاحب کے فیصلے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ارتقا کا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن محض اس وجہ سے کہ یہ دستور تحریکِ پاکستان کی قیادت کا بنایا ہوا نہیں ہے، اس سے دستور بے توقیر نہیں ہوجاتا۔ ہماری نگاہ میں تاریخی تسلسل کی وجہ سے اس دستور کو فطری ارتقائی عمل کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس پہلو سے یہ دستور ایک ایسی دستاویز ہے جس پر قوم بجاطور پر فخر کرسکتی ہے۔

جس اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا ، اس کے تمام ارکان نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا تھا،   غالباً صرف ایک رکن ایسا تھا، جس نے دستخط نہیں کیے۔ گویا اسے پوری اسمبلی کی تائید حاصل تھی۔ پھر پوری قوم نے جس طرح اس کو قبول کیا اور بعد کے اَدوار میں ہرانحراف کے بعد اس دستور کی طرف مراجعت کے لیے جو تاریخی جدوجہد کی ہے، اس نے اس دستور کو بجاطور پر ایک تاریخی قومی دستاویز کا درجہ دے دیا ہے۔

ہم پھر یہ بات عرض کریں گے کہ کسی دستور کے معیاری یا غیر معیاری اور معتبر یا غیرمعتبر ہونے کا انحصار محض اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے بنانے والوں میں کون شریک تھا، جو اپنی جگہ اہم ہے مگر فیصلہ کن نہیں، بلکہ اصل اہمیت دستور کے مندرجات (content)  کی ہے اور اسی کسوٹی پر اسے جانچنا چاہیے۔

اس پس منظر میں ہم دو اُمور کی طرف خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتے ہیں:

پہلا یہ کہ ۱۹۷۳ء سے اب تک کے دستوری اور سیاسی تجربات اس بات پر شاہد ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور ہی ملک اور قوم کو مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کر رہا ہے اور ہر انحراف کے بعد اس کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے۔ اس دستور میں ہر تحریف کے بعد اصل کی طرف مراجعت میں نجات کی راہ موجود ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ اور پاکستان کے اصل اہداف کی روشنی میں دستور میں نئی اصلاحات اور اضافے ہوتے رہیں۔

دوسری بات جس پر غور کرنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست کی نظریاتی تشکیل اور اسلامی نظریے کو دورِ جدید میں ریاست اور حکمرانی کے نظام میں سمونے کے سلسلے میں جو پہلا تاریخی قدم ’قراردادِ مقاصد‘ کی شکل میں ۱۹۴۹ء میں اُٹھایا گیا تھا ، اس نے دستور سازی کے میدان میں وسیع پیمانے پر اثر ڈالا۔ اس کی روشنی میں اللہ کی حاکمیت، قانون سازی میں قرآن و سنت کے کردار، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل نو میں اسلام کے رہنما اصولوں اور اقدار کا کردار، اسلام کے نظامِ انصاف اور عدلِ اجتماعی کو پالیسی کے اصول بنانے کے باب میں نشانِ منزل متعین کرنے کا جو اقدام پاکستان میں اُٹھایا گیا تھا، اس کے اثرات عالمِ اسلام میں بعد میں بننے والے دساتیر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

۱۹۴۹ء میں پاکستان کی ’قراردادِ مقاصد‘ کی منظوری سے پہلے کے دساتیر پر نگاہ ڈالیے، زیادہ سے زیادہ دو چیزیں چند مسلم ممالک کے دساتیر میں ملتی ہیں، یعنی: ’’ریاست کا مذہب اسلام ہوگا اور سربراہِ مملکت مسلمان ہوگا‘‘۔ لیکن جمہوریت،حقوقِ انسانی، اجتماعی عدل، تعلیم و تربیت، معیشت اور معاشرت کے باب میں اسلام کا کردار کیا ہوگا، اس باب میں دساتیر خاموش تھے۔ اسی طرح مملکت کا نام ملک کے دینی اور نظریاتی تشخص کا آئینہ دار ہو، یہ بھی ہمیں نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس سلسلے میں پہل ’قراردادِمقاصد‘ اور پھر ۱۹۵۶ء کے دستور کی تشکیل میں ہوئی۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ممالک نے اپنے نظریاتی تشخص کے اظہار کے لیے ملک کے نام میں اسلام کو شامل کیا۔ ۱۹۷۹ء کے انقلابِ ایران کے بعد ایران کو ’اسلامی جمہوریہ ایران‘ قرار دیا گیا۔ ۱۹۷۱ء میں موریتانیا نے اپنے کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دیا اور دستور کی ’دفعہ ۱‘ میں اس کی تشریح یوں کی کہ: ’’موریتانیہ ایک اسلامی ، ناقابلِ تقسیم، جمہوری اور سوشل جمہوریہ ہے‘‘۔

اسی طرح افغانستان میں اشتراکی روس کے انخلا کے بعد جو دو نظام قائم ہوئے، ان میں سے ایک میں اسلامی امارت (۱۹۹۶ئ) اور دوسرے میں اسلامی جمہوریہ افغانستان (۲۰۰۴ئ) قراردیا۔ اگر ان ممالک کے دساتیر کے دیباچے کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں اللہ کی حاکمیت کے تصور کا صاف الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح ریاست کی پالیسی کے رہنما اصولوں میں بھی اسلام کے اصولوں اور اقدار کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے، گویا:

ہم نے جو طرزِ فغاں کی تھی قفس میں ایجاد

’آج‘ گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھیری ہے

سوشلزم اور اسلام کے ’ملغوبے‘ کا طعنہ؟

 محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب نے دستور کی ایک اور کمزوری کے طور پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ: وہ ایک خاص جماعت کے ذہن کی تخلیق ہے اور یہ کہ وہ جماعت سوشلزم کی علَم بردار تھی جو اسلام کی ضد ہے۔ اس اسلام کی، جو پاکستان کے قیام کا اصل محرک تھا۔ عدالتی فیصلے میں کیے گئے یہ دونوں دعوے محلِ نظر ہیں۔

۱۹۷۳ء کے دستور کی صورت گری کا ہرمرحلہ کھلی کتاب کی طرح موجود ہے اور خود اسمبلی کی کارروائی اور دستوری مسودات، کمیٹیوں کی رپورٹیں، اختلافی نوٹ اور پھر متفق علیہ اعلانات پبلک ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن سے ہرکوئی استفادہ کرسکتا ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ اتنی معلومات کی موجودگی میں فاضل جج نے یہ دعویٰ کیسے کر دیا کہ یہ دستور محض ایک جماعت کے ذہن کا عکاس ہے۔

اس دستور کی تو سب سے بڑی خوبی ہی یہ ہے کہ یہ متفق علیہ دستاویز ہے اور ہمیں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں اور متعدد اقدامات سے کتنی ہی شکایت ہو، لیکن یہ ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے کہ انھوں نے دستور سازی کو پارٹی کی سیاست کا شکار نہیں ہونے دیا اور پوری کوشش کی کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں اس عمل میں شریک ہوں۔ ان کے نقطۂ نظر کی ہمراہی سے معاملات طے کیے جائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے اپنی اعلان شدہ پوزیشن سے بار بار پیچھے ہٹنا گوارا کرلیا اور قومی اتفاق راے پیدا کرنے کے لیے قربانی دی اور دوسروں کو بھی   ہم کار اور ہم راہ رکھنے کے لیے دستور سازی میں دعوت دی۔ ان کا یہی وہ عمل ہے جس نے ۱۹۷۳ء کے دستور کو پیپلزپارٹی کا نہیں پاکستان کی تمام جماعتوں کا اتفاق راے سے طے کیا جانے والا دستور بنایا۔ ان کے بعد یہی روایت قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ خصوصیت سے اٹھارھویں ترمیم میں جس کے ذریعے دستور کے بہت سی کج رویوں ( distortions) کو دُور کردیا گیا اور ۱۹۷۳ء کے وژن سے قریب تر کیا گیا۔ ’قراردادِ مقاصد‘ کے وژن کی روشنی میں آگے قدم بڑھائے گئے اور یہ کام بھی تمام جماعتوں کے مکمل تعاون اور اتفاق راے سے ہوا۔ چند اُمور پر اگر اختلاف رہا بھی تو اسے مشترکات کی بنیاد پر قومی اتفاق راے پیدا کرنے میں حائل نہ ہونے دیا۔

اس سلسلے میں تاریخی حقائق کے نظروں سے اوجھل ہوجانے سے بچنے کے لیے ہم چند اُمور کا اعادہ ضروری سمجھتے ہیں:

۱۹۷۳ء میں دستور سازی کا عمل جب شروع ہوا، تو اس کا آغاز ایک عبوری آئین سے ہوا، جو پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے ذہن کا عکاس تھا اور اس میں پارلیمانی نہیں صدارتی نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اسلامی نظریہ، بنیادی حقوق، اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ بھی بہت کمزور تھا۔ لیکن حزبِ اختلاف کی تمام ہی جماعتوں نے ان تمام کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دستور کو صحیح اسلامی جمہوری اور وفاقی اصولوں کے مطابق مرتب کرانے کی جدوجہد کی، چار اُمور مرکزی نوعیت اختیار کرگئے:

۱- اسلامی نظریہ اور ’قراردادِ مقاصد‘ کا کردار۔

۲- انسانی حقوق کا مسئلہ۔

۳- صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور صوبوں کی خودمختاری کی حدود۔

۴- پارلیمنٹ کا کردار اور انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے اختیارات میں توازن۔

کئی مہینے کے مذاکروں، احتجاجوں، اسمبلی کے بائیکاٹ اور نہ معلوم کس کس عمل کے بعد ۲۰؍اکتوبر ۱۹۷۲ء کو حکومت اور حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں دستور سازی کے لیے کیے گئے ۴۲؍ اصولوں پر اتفاق ہوا۔ وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے دستور کے مسودے پر خطاب کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں اس امر کا اعتراف کیا کہ اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اجتماع میں:

چار دن کی گفتگو اور بحث و مباحثے کے بعد ۴۲ بنیادی اصولوں پر اتفاق راے ہوا، جسے ’’۲۰؍اکتوبر کی دستوری مفاہمت‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان تجاویز کا تعلق کم سے کم ۴۰ فی صد  حزبِ اختلاف سے تھا جنھیں اکثریتی پارٹی نے قبول کیا۔ (کارروائی قومی اسمبلی، ۱۰؍اپریل ۱۹۷۳ئ، ص ۲۴۶۴)

بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ان اصولوں کی روشنی میں دستور کے پورے مسودے پر نظرثانی کی گئی اور اس طرح ۲۸۰ دفعات پر مشتمل دستور کا مسودہ تیار ہوا۔ حزبِ اختلاف کے مزید اصرار پر ۱۰ سے ۱۵ دفعات میں ترامیم تسلیم کیں اور پھر آخری مرحلے پر ایک بار پھر پالیسی کے بنیادی اصولوں کے متعلق ۱۲ دفعات میں حزبِ اختلاف کے اصرار پر تبدیلی کی گئی۔ آخری دو دنوں میں ایک بار پھر دستور کی سات دفعات میں حزبِ اختلاف کی ترامیم کو قبول کیا گیا۔ بالکل آخری مرحلے پر ججوں کے احتساب کے بارے میں پارلیمنٹ کے کردار کے مسئلے پر حکومت کے موقف کو    حزبِ اختلاف نے ماننے سے انکار کیا اور بھٹوصاحب نے کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے نقطۂ نظر کو قبول کرلیا۔

یہ ہیں اصل تاریخی حقائق___ ان کے باوجود اگر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ۱۹۷۳ء کا دستور اسمبلی کا متفق علیہ دستور نہیں تھا اور وہ صرف ایک جماعت کے ذہن کا عکاس ہے تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ    ؎

یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو ، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

اس سلسلے کے دوسرے نکتے پر بھی کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہہ پیپلزپارٹی نے سوشلزم کو اپنی معاشی پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے سے سیاسی فائدہ اُٹھایا۔ عالمی سطح پر اور خود ملک میں ۱۹۶۰ء کے عشرے کے اواخر اور ۱۹۷۰ء کے عشرے کے شروع میں سوشلسٹ فکرنے ایک ہلچل مچائی ہوئی تھی اور جماعت اسلامی پاکستان نے اور دوسری دینی قوتوں نے سوشلزم کی اس یلغار کا سیاسی، علمی اور مکالماتی سطح پر بھرپور مقابلہ کیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کو ’مارکسزم اور لینن ازم‘ سے مربوط فکر اور سیاسی اسٹرے ٹیجی کا علَم بردار کہنا اور پاکستان کے دستور میں سوشلزم کے وجود کا دعویٰ کرنا ایسے دعوے ہیں جو دلیل سے محروم ہیں۔

مارکسزم ایک مربوط فلسفہ ہے جس کا اپنا تصورِ کائنات، تصورِ تاریخ، تصورِ زندگی، تصورِ انسان،  تصورِ قانون، تصورِ معیشت اور ایک مخصوص تجزیہ اور تنظیم نو کا نقشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکس اور لینن اس سوشلزم سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، جو ۱۸ویں صدی سے ۲۰ویں صدی تک یورپ میں مختلف شکلوں میں ظہور پذیر ہوئے۔ مارکس کی تصنیف Das Kapital[سرمایہ] محض معاشیات کے موضوع پر ایک کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ تاریخ اور خصوصیت سے صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دارانہ نظام پر ایک ایسی نقدو جرح (critique) ہے، جو طبقاتی تصادم (class conflict) کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں سوشلزم اور اسلام کو جمع کرنے کی کوشش ضرور کی گئی تھی۔ مگر جہاں تک دستورِ پاکستان کا تعلق ہے، وہ مارکسزم کے فلسفے اور اس کے سیاسی و معاشی نظام سے دُور دُور تک کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ پیپلزپارٹی میں بھی یہ بات صرف سوشلزم کے تذکرے کی حد تک تھی، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی نے جو منشور دیا تھا، اس کے چار ستون تھے جن کی نشان دہی پارٹی کی تمام دستاویزات میں نمایاں طور پر کی گئی تھی اور وہ یہ تھے:

  •  اسلام ہمارا دین ہے ۔
  • جمہوریت ہماری سیاست ہے
  •  سوشلزم ہماری معیشت ہے
  •  طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

۱۹۷۰ء کے منشور کا دوسرا پیراگراف ہی یہ اعلان کرتا ہے کہ:

پارٹی پروگرام کی روح اور تفصیلات اسلام کی تعلیمات کا تقاضا کرتی ہیں اور سرگرمیاں اُس کے مطابق ہوتی ہیں۔ پارٹی اسلام اور قرآن کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ پارٹی کی تجاویز: عقیدے میں درج احکامات کے اصول اور روح سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ اسلام میں مسلمانوں کے اندر جو مساوات بیان کی گئی ہے، وہ صرف ایک ایسے معاشی اور سماجی ڈھانچے میں ممکن ہے، جو اسے حاصل کرنے کے لیے روبۂ عمل لایا گیا ہو۔ ( پیپلزپارٹی کا منشور ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۷ئ، پی پی پی سرکاری مطبوعات، ۲۰۰۹ئ)

اس منشور میں استحصال (exploitation) سے پاک معاشرے کی بات ہوئی ہے، لیکن مارکس اور لینن کے تصور کے مطابق نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں کے طور پر۔ ملاحظہ ہو:

ایک سوشلسٹ پروگرام اختیار کرنے ہی میں مسائل کا حقیقی حل ہے، جیساکہ منشور میں بیان کیا گیا ہے۔ پورے پاکستان کی معیشت کو تبدیل کردیا جائے، استحصال کو روک دیا جائے اور دستیاب وسائل کو اختیار کرکے سرمایہ دارانہ مداخلتوں کے بغیر ملک کو ترقی دی جائے۔ یہ اسلام کی سیاسی اور اجتماعی اخلاقیات کا نتیجہ ہے۔ اس طرح پارٹی دراصل مسلم عقیدے کے اعلیٰ اصولوں کو عملاً برپا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ (ایضاً، ص۹)

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارٹی کے خیالات میں جھول اور تضادات تھے۔ جن کے تحت وہ سوشلزم کو ایک محدود معنی میں لے رہی تھی حالانکہ وہ ایک مکمل نظامِ زندگی کا دعویٰ رکھتا تھا۔ نیز اسلام کے کچھ تصورات کی تشریح کے باب میں بھی اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا تھا اور ہم نے کیا۔ لیکن منشور کے ان واضح اعلانات کے علی الرغم یہ کہنا کہ دستور سازی کے عمل میں شریک بڑی جماعت پیپلزپارٹی مارکسزم اور لینن ازم کی علَم بردار تھی اور اس نے دستور میں روس کے نظام کے تصورات کو ٹھونس دیا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔

اسلام اور سوشلزم کو خلط ملط کرنے اور متضاد اور متصادم تصورات کے امتزاج سے ایک ملغوبہ بنانے کے باب میں اگر تنقید کا ہدف اس وقت کی اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی کا ۱۹۷۰ء کا منشور ہوتا تو اس میں صداقت ہوتی۔ واضح رہے کہ ۱۹۷۷ء میں اسی پارٹی کے منشور کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ اس پارٹی کی قیادت خود سوشلزم کے معروف تصور سے جان چھڑانے اور اسلام کے سہارے سے تعبیرات کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ پھر ۱۹۷۳ء کے دستور کے متن میں ایسے تضادات کے اجتماع کا دعویٰ حقیقت سے کوئی نسبت نہیں رکھتا، اور ایک معتبر عدالتی فیصلے میں ایسے دعویٰ کا آنا اور اس کو چیلنج نہ کیا جانا علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے بڑے خسارے کا معاملہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تعبیر کی اس غلطی کی اصلاح ضروری سمجھتے ہیں۔

محترم جسٹس صاحب کے پورے فیصلے میں جس ایک بات کو دستور کو سوشلسٹ نظریے سے ہم آہنگ کرنے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ: ’’دستور کی دفعہ ۳ میں استحصال اور  تقسیم دولت کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ اس وقت کی سوویت یونین کے دستور کی دفعہ۱۲ سے ماخوذ ہے۔ گویا یہ ایک مماثلت، دستور کو سوشلسٹ رنگ میں رنگنے کے لیے کافی ہے‘‘۔ دستورِ پاکستان کی دفعہ۳ میں ہے:

ریاست استحصال کی تمام قسموں کے خاتمے کو یقینی بنائے گی اور بتدریج اِس بنیادی اصول کی تکمیل کرے گی کہ ہر ایک سے اُس کی صلاحیت کے مطابق لیا جائے اور ہر ایک کو اُس کے کام کے مطابق دیا جائے۔

سوویت روس کے اُس وقت کے دستور کی دفعہ ۱۲ میں درج تھا:

سوویت یونین میں کام ایک فرض ہے اور ہر مناسب جسامت کے مالک شہری کے لیے عزت کی بات ہے۔ اس اصول کے مطابق جو کام نہیں کرتا وہ کھائے بھی نہیں۔ سوویت یونین میں سوشلزم کے اس اصول پر عمل ہوتا ہے کہ ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے اور کام کے مطابق دیا جائے۔

پہلی بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ سوویت یونین کے دستور کی دفعہ۱۲ میں جو بات کہی گئی ہے،  وہ اس سے پہلے کی ۱۱ دفعات سے مربوط ہے۔ جس میں سوشلسٹ اسٹیٹ کا پورا نقشہ بیان کیا گیا ہے اور پرولتاریہ کی آمریت اور اس کے لیے جن اداروں اور ریاست کی جس نوعیت کی تنظیم درکار ہے، اس کے خدوخال پیش کیے گئے ہیں۔ پیداوار کے پورے نظام کو سرکاری ملکیت میں لینا اور کمیونسٹ پارٹی اور The Soviets of Working Peoples Deputies کے ذریعے سیاسی اور معاشی عمل کو نئی بنیادوں پر مرتب کرنے کا نقشہ دیا گیا ہے۔ اس انتظامی اور تنظیمی ڈھانچے اور ملکیت کے نظام کی تبدیلی کے بغیر سوشلسٹ معیشت کا قیام ممکن نہیں۔ پاکستان کے دستور میں ان چیزوں کا دُور دُور کوئی وجود نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر روسی دستور کی دفعہ۱۲ پر تنقیدی نظر ڈالی جائے، تو اس میں جو کچھ  کہا گیا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں بدترین استحصالی دروبست کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے، اس میں اور اس دفعہ میں بیان کردہ ضابطے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

کام اور محنت کا ایک ذمہ داری ہونا ہر نظام کا حصہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ جو کام نہ کرے وہ بھوکا مرے! اس میں سوشلزم نے کون سا تیر مار لیا؟ہرشخص سے اس کی صلاحیت کے مطابق محنت اور اس کی کارکردگی کے مطابق اُجرت___ اس سے کس کو اختلاف ہوگا؟ سرمایہ دار بھی کم از کم نظری طور پر یہی کہتا ہے: ’’ہر کام کرنے والے کو اس کی کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق اُجرت دی جائے‘‘۔ مارکس کے نظریۂ محنت میں اسے چیلنج کیا گیا کہ محنت کا ایک حصہ سرمایہ دار لے اُڑتا ہے اور مزدور محروم رہتا ہے۔ عدل پر مبنی ہر نظام میں محنت کار کو اس کی کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق اُجرت ملنی چاہیے۔ اس اصول کے تعین میں سوشلزم کو کوئی امتیاز حاصل  نہیں۔ مارکس کے افکار کے مطالعے سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سرمایہ داری کے نظامِ استحصال سے نکلنے کے لیے وسائل پیداوار کو قومی ملکیت میں لے کر تقسیمِ دولت کے جو اصول بیان کیے،   اس کے دو مراحل بیان کیے تھے: درمیانی(transitional) دور میں یہ اصول ہوگا: ’’ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور محنت کا اجر کارکردگی کے مطابق ہوگا‘‘۔

لیکن جب اشتراکیت طبقات سے پاک معاشرہ بنائے گی تو پھر اصل سوشلزم کا اصول آئے گا جس میں:’’کام صلاحیت کے مطابق لیا جائے گا، اور اُجرت ضرورت کے مطابق دی جائے گی‘‘۔  یہ ہے اشتراکیت یا مارکسزم کا اعلان کردہ موقف۔

ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک دوسرے پس منظر میں دستورِ پاکستان کی دفعہ ۳ میں ایک بے ضرر سے جملے کے شامل کیے جانے سے پورا قصر کریملین کیسے تعمیر کیا جاسکتا ہے؟ ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں مارکس نے استحصال کا ایک خاص تصور پیش کیا ہے۔ لیکن ہراخلاقی اور مصنفانہ نظام میں استحصال ایک جرم ہے اور اس سے معاشرے کو پاک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے دستور میں استحصال کی کسی خاص شکل کا ذکر نہیں۔

’استحصال‘ (exploitation) کا لفظ انگریزی زبان میں دو مختلف بلکہ ایک حد تک متضاد مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثبت معنی میں یہ لفظ کسی ’چیز کو دریافت کرنا‘ اور ’ترقی دینے‘ کے مفہوم کی ادایگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس طرح کہ exploit resources of country یا explore new venues ۔ اس کے برعکس دوسرے مفہوم میں، استحصال اور دوسروں کے حقوق پر ناجائز قبضہ یا ان کو حقوق سے محروم رکھنے اور ان کے وسائل سے ناجائز فائدہ اُٹھانا شامل ہے، جس میں ذم کا پہلو ہے اور اس استحصال کی درجنوں شکلیں ہوسکتی ہیں۔ کارل مارکس نے اس کی ایک خاص شکل کو، جو اس کی نگاہ میں نظامِ سرمایہ داری کی پہچان ہے اور طبقہ واریت کی بنیاد پر مظلوم اور کمزور طبقات کے حقوق پر بااثر طبقات خصوصیت سے اہلِ سرمایہ کی دست درازیاں ہیں۔ پاکستان کے دستور کی دفعہ۳ میں یہ لفظ اپنے وسیع تر مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور جس پر all forms of exploition (استحصال کی تمام صورتوں ) کے الفاظ شاہد ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کو صرف ایک مخصوص شکل تک محدود کردیا جائے اور طلسماتی عینک سے وہ تصویر بھی دیکھ لی جائے، جس میں مارکس اور لینن کی شبیہہ جھلکتی ہو!

محترم جج صاحب نے ایک مقام پر شکایتاً ایک بڑی معقول تنبیہہ ’’قراردادِمقاصد میں زیادہ معنی نکالنے کی ترغیب‘‘ (ص ۵۳۸)  کے بارے میں کی ہے۔ بلاشبہہ یہ علمی دیانت کا تقاضا ہے اور اس تنبیہہ کا اطلاق نہ صرف ’قراردادِ مقاصد‘ پر ہوتا ہے بلکہ خود دستورِ پاکستان پر بھی۔ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ جو اس میں ہے اسے من و عن پیش کردیں، نہ کچھ چیزوں کو دیکھنے سے انکار کریں اور نہ وہ کچھ ان میں بڑھا ڈالیں جن کا کوئی وجود نہیں۔

استحصال کی ہرقسم کا ذکر ہے اور یہ وہ تصور ہے جو خود اسلام نے پیش کیا ہے۔ قرآن صاف الفاظ میں متنبہ کرتا ہے کہ:

وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo(البقرہ ۲:۱۸۸) اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض سے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔

مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَوْفُوا الْکَیْلَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ  o وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ o وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَھُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ o وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَo (الشعرا ۲۶: ۱۸۱-۱۸۴) پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اس ذات کا خوف کرو جس نے تمھیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے۔

امانت کی پاس داری اور خیانت سے اجتناب ہی دین حق کا راستہ ہیں۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ o وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌo(انفال ۸:۲۷-۲۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو اور جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامان آزمایش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔

اسلام نے ظلم اور استحصال کی ہرشکل سے اجتناب کا حکم دیا ہے اور ہر حق دار کا حق ادا کرنا اہلِ ایمان پر فرض کیا ہے۔ مزدور کو اس کی محنت کا پورا پورا حق اور پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اُجرت ادا کردینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی معاشرے اور حکومت پر ڈالی ہے کہ کمزوروں کے لیے سہارا بنیں، ناداروں کی مدد کریں، قرض دار کو قرض سے نجات دلانے میں معاونت کریں، غریب اور مستحق کی مالی معاونت کریں اور معاشرے میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے بلالحاظ مذہب و نسل و رنگ، جو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہو___ اس حکم کا کوئی تعلق اشتراکیت سے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے اخلاقی ، سماجی ، معاشی اور دینی نظام کا بنیادی اصول ہے، جس کی پاس داری ہر مسلمان فرد اور مسلمان حکومت کے لیے ضروری ہے۔ ’قراردادِ مقاصد‘ کے تقاضوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب ِ فکر کے چوٹی کے ۳۱ علما نے اسلامی مملکت کے جو ۲۲نکات مرتب کیے، ان میں یہ تین دفعات بھی شامل تھیں:

  •  مملکت بلاامتیاز مذہب و نسل وغیرہ، تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات، یعنی لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی، جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں، یا عارضی طور پر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔ (دفعہ ۶)
  •  باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے، جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطاکیے ہیں یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادیِ مذہب و مسلک، آزادیِ عبادت، آزادیِ ذات، آزادیِ اظہار راے، آزادیِ نقل و حرکت، آزادیِ اجتماع، آزادیِ اکتساب پر رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادے کا حق۔ (دفعہ۷)
  • غیرمسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب اور عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی، اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم ورواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہوگا۔ (دفعہ ۱۰)

یہ ہے اسلام کا مطلوبہ نظام جس کے قیام کا تصور ’قراردادِ مقاصد‘ نے دیا ہے۔ اس کی موجودگی میں مسلمان اُمت کو دوسرے نظریات سے خوشہ چینی کی کیا ضرورت ہے۔

ہم پورے ادب سے عرض کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی نے ۱۹۷۰ء میں سوشلزم کے بارے میں جو کچھ بھی کہا ہو، جہاں تک ۱۹۷۳ء کے دستور کا تعلق ہے، اس پر سوشلزم کی پرچھائیں تک نہیں پڑی۔ ہم پیپلزپارٹی سے اپنے تمام اختلافات کے باوجود اسے اس الزام سے بری سمجھتے ہیں اور اپنے اس دعوے کے ثبوت میں دو مزید شہادتیں پیش کرنا چاہتے ہیں، یعنی خود جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر جو انھوں نے دستور کے مسودے کی آخری سماعت اور دستور کی منظوری کے موقعے پر کی اور جس میں دستور کے بنیادی ڈھانچے کو انھوں نے اپنے الفاظ میں پیش کر دیا۔ اس پوری تقریر میں سوشلزم یا اس کے کسی جزوی پہلو کا بھی کہیں دُور دُور ذکر نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

۲۵سال کے بعد بہت سارے اعتراضات اور جھگڑوں کے بعد ہم ایک ایسے نکتے پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ایک بنیادی قانون ہے، ہمارا ایک دستور ہے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمہوریت کی کسی بھی تعریف کے مطابق یہ ایک جمہوری دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ایک وفاقی دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ صوبائی خودمختاری کے بارے میں ایک مفاہمت ہے، اور اس پر خدا کا شکر ہے۔ کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ایک اسلامی دستور ہے۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی ماضی کے دستور سے زیادہ اور مسلمان ملکوں کے علاوہ بادشاہتوں پر مبنی ممالک کے کسی بھی دستور سے زیادہ اسلامی دفعات ہیں۔ اگر آپ بادشاہتوں پر مبنی ممالک سے اس کا موازنہ کریں تو اس میں پاکستان کے کسی بھی سابقہ دستور سے زیادہ اسلامی دفعات ہیں۔ (قومی اسمبلی کی رُوداد، ۱۰؍اپریل ۱۹۷۳ئ، ص ۲۴۶۸)

اسی تقریر میں آگے چل کر کہتے ہیں:

چنانچہ میرے دوستو! یہ دستور جو جمہوری ہے، جو وفاقی ہے، جس میں اسلامی نظام کی اہم خصوصیات شامل ہیں، اور اسلامی معاشرے کو تحفظ دیتا ہے، اور عدلیہ کو آزادی فراہم کرتا ہے، یہ دستور شہریوں کے بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ (ایضاً، ص ۲۴۶۹)

اور اپیل کی کہ اس دستور کو پورے قلبی اطمینان کے ساتھ اور مکمل اتفاق راے سے منظور کیجیے، خصوصیت سے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا:

اب میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ایوان میں واپس آگئے ہیں ایک قدم آگے بڑھانے کے لیے، تاکہ اپنی حاضری کو منطقی انجام تک پہنچائیں اور ہمارے ساتھ پاکستان کے عوام کو ایک ایسا دستور دیں جو ایک متفق علیہ دستور ہو۔(ایضاً، ص ۲۴۶۹)

اور پھر اسمبلی نے مکمل اتفاق راے سے دستور کو منظور کیا اور حزبِ اختلاف کے ایک قائد مولانا مفتی محمود صاحب [سربراہ :جمعیت علماے اسلام] سے دعاے شکرانہ کروا کر اسمبلی کی کارروائی ختم کی۔

۱۹۷۳ء کا دستور ایک متفقہ قومی دستاویز ہے، کسی ایک پارٹی کے خیالات کا عکاس نہیں۔  اس دستور کا بنیادی ڈھانچا جن اصولوں پر مشتمل ہے، وہ پانچ ہیں: l اسلام l جمہوریت l وفاق اور تقسیمِ اختیارات l بنیادی حقوق کا تحفظ l عدلیہ کی آزادی۔

گو بات واضح ہوگئی ہے، لیکن صرف اتمامِ حجت کے لیے ہم ایک شہادت اور پیش کردیتے ہیں اور یہ ہے پیپلزپارٹی کا ۱۹۷۷ء کا منشور، جس میں وہ ۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنے ایک کارنامے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ لیکن دیکھیے کہ دستور کی جن چیزوں کی داد طلب کررہے ہیں ، وہ یہ ہیں:

پیپلزپارٹی نے ایک ایسے دستور کا وعدہ کیا تھا جو اسلامی، جمہوری،پارلیمانی اور وفاقی طرزِحکومت کا آئینہ دار ہو۔ ہم نے یہ عہد پورا کردیا ہے۔

۱۲؍اپریل ۱۹۷۳ء کو پاکستان کا پہلا دستور عوام کے ان نمایندوں نے متفقہ طور پر منظور کیا  جو بالغ راے دہی کی بنیاد پر براہِ راست منتخب ہوئے تھے اور ۱۴؍اگست ۱۹۷۳ء سے نافذالعمل ہوا۔ (پاکستان پیپلزپارٹی، منشور، ۱۹۷۷ئ، ص ۴۶)

اس منشو ر میں جو بھٹو صاحب کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا، سوشلزم کا ذکر تو صرف ایک دو بار سرسری طور پر وہ بھی اس صراحت کے ساتھ کہ وہ اسلام کے مقدس اور ابدی اصولوں کے مطابق ہوگا، لیکن اسلام کے بارے میں شروع ہی میں بڑے مؤثرانداز میں اپنی خدمات کا ذکر کیا:

پیپلزپارٹی نے اپنے منشورکے آغاز ہی میں یہ اعلان کیا کہ: اسلام ہمارا عقیدہ ہے۔   ہم نے آغاز ہی میں عہد کیا کہ ہمارا پروگرام اسلام کی روح اور احکامات کے مطابق ہوگا۔ گذشتہ پانچ سال میں پیپلزپارٹی کی پالیسیاں ہمارے اسی عہد پر مبنی تھیں اوراسلام کی عظمت و شان کے لیے ایسے جذبے سے نافذ کی گئیں، جس کا کوئی مقابلہ کسی سابقہ حکومت سے نہیں ہوسکتا۔

پہلی دفعہ دستور کی دفعات میں اسلامی نظریۂ حیات ایمان داری سے شامل کیا گیا ہے۔ اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ ہم نے دستور میں اپنا یہ عہد رقم کردیا ہے کہ ہم قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کریں گے۔

پیپلزپارٹی کی حکومت نے ٹھوس اقدامات اُٹھائے ہیں:

                o         ۹۰ سالہ قادیانی مسئلہ، دستور میں یہ اعلان کرکے کہ جو شخص محمدؐ کی ختم نبوت کو تسلیم نہیں کرتا مسلمان نہیں ہے، حل کر دیا۔

          o  فروری ۱۹۷۴ء میں لاہور میں مسلم ریاستوں اور حکومتوں کے سربراہوں کی سربراہ کانفرنس منعقد کی۔

            o         اعلان کیا کہ جولائی ۷۷ء سے اتوار کے بجاے ہفتہ وار تعطیل جمعہ کی ہوگی۔

            o          پہلی بار سیرت کانفرنس منعقد کی اور مسجد نبویؐ کے اماموں کے دوروں کا اہتمام کیا۔

            o             حاجیوں پر سابقہ حکومتوں کی لگائی ہوئی پابندیاں ختم کیں، جس سے تقریباً ۳لاکھ پاکستانیوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔

                o          زکوٰۃ کے لیے منصوبہ بند پالیسی بنائی اور اختیار کی۔

             o        غلطیوں کے بغیر قرآنِ پاک کی طباعت کے لیے قوانین نافذ کیے۔

                o            جہیز اور شادی کے تحائف پر اسلام کی روح کے مطابق پابندی کا قانون نافذ کیا، جو عام آدمی کو شادی کے موقعے پر کمرتوڑ اخراجات سے نجات دلاتا ہے۔

                oریڈ کراس کا نام ہلال احمر سوسائٹی کردیا۔

 محترم جج صاحب کے ارشادات کے سلسلے کے پہلے دو نکات پر ہم نے تفصیل سے گفتگو کرلی ہے۔ تیسرے نکتے کے بارے میں ہم اتنا ہی عرض کریں گے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت کا منصفانہ اعتراف ہے اور ہم اس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ البتہ چوتھے نکتے کے بارے میں صرف ریکارڈ درست کرنے کے لیے یہ عرض کریں گے کہ ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم میں بلاشبہہ اسلام اور سوشلزم دونوں کی صداے بازگشت موجود تھی، لیکن یہ بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام متنازع نہیں تھا۔ اختلاف جو بھی تھا، وہ اسلام کے تصور اور تقاضوں کے ادراک کے باب میں تھا۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں بھی اسلام سرفہرست تھا۔ مسلم لیگ کے تین دھڑے میدان میں تھے، مگر ہرایک نے اسلام کو اپنی ترجیح کے طور پر بیان کیا تھا۔

جن جماعتوں کو دینی جماعتیں کہا جاتا ہے، ان کے پلیٹ فارم کا مرکزی نکتہ اسلام اور  اس کا نظامِ حیات ہی تھا۔ اس لیے پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کے موازنے میں ان کے   تصورِ اسلام کے بارے میں اختلافات اور ترجیحات کے نظام میں فرق کی بات تو معقول اور مناسب ہے، لیکن پاکستان میں اسلام کے کردار کو نزاع کا باعث کہنا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ رہا معاملہ اسمبلی میں نشستوں اور عوامی مقبولیت کا، تو اس بارے میں عمومی راے کو ایک دوسرے تصور کے مطابق پیش کرنا مناسب نہیں ہے۔

بلاشبہہ اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل تھی مگر یہ سب سیاسی بساط کے روایتی کھیل کا حصہ ہے کیونکہ اس وقت کے صوبہ سرحد [خیبر پختونخوا] اور بلوچستان میں جمعیت علماے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (NAP) شریکِ اقتدار تھے اور صوبہ سرحد کی حکومت مولانا مفتی محمودصاحب کی وزارتِ اعلیٰ میں نیشنل عوامی پارٹی کی تائید اور شمولیت سے وجود میں آئی تھی۔ دستور سازی کے باب میں نظریاتی پہلو اور سیاسی گروہ بندی میں اگر فرق رکھا جائے تو حالات کو سمجھنے میں سہولت ہوگی۔

اُوپر کی گزارشات کی روشنی میں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دستور کی یہ تعبیرکہ وہ اسلام اور سوشلزم کا ایک مرکب ہے، قطعاً اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اور اگر یہ مفروضہ درست نہیں تو پھر اس غبارے سے بھی ساری ہوا نکل جاتی ہے کہ ان دو متضاد رجحانات کی موجودگی کی وجہ سے دستور میں کسی بنیادی ڈھانچے کی تلاش لاحاصل مشق ہے۔ دستور کا ایک واضح ڈھانچا، اس کی مستحکم واضح بنیاد اور اساسی اصول موجود ہیں اور دستور کی تعبیر میں ان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور رہے گی۔

خلاصۂ بحث

آخر میں ہم بحث کا خلاصہ ان نکات میں پیش کرتے ہیں:

                ۱-            ’قراردادِ مقاصد‘ ایک مستقل بالذات دستوری دستاویز ہے، جو تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور اہداف کی ترجمان اور پاکستان کی منزلِ مقصود کی آئینہ دار ہے۔ یہ قرارداد ہی دستور کی بنیاد اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی اصل صورت گر ہے۔

                ۲-            دستورِ پاکستان اس قرارداد کی روشنی میں مرتب اور مدون کیا گیا ہے۔ ریاست پاکستان جس اصول پر قائم ہے، وہ یہ ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور پاکستانی قوم حدوداللہ کی مکمل پاس داری کے عہدوپیمان کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کو اپنا مقصدِ وجود سمجھتی ہے، اور دستور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔

                ۳-            اس دستور کی بنیاد اور اس کے ناقابلِ تغیر پہلو کم از کم پانچ ہیں، یعنی:lاس کا اسلامی کردار اور شناخت ۔ lجمہوری طرزِ حکومت جس میں قانون کی بالادستی اور عوام کی مرضی کے مطابق ان کی فلاح و بہبود اور ان کے اخلاقی، نظریاتی، تہذیبی، معاشی عزائم اور توقعات کی تکمیل کو اولیں حیثیت حاصل ہے۔lبنیادی حقوق کا تحفظ اور اسلام کے اصولِ حکمرانی اور حقوق و فرائض کے نظام کا مکمل احترام ایک بنیادی قدر ہے، جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ lپاکستان کا نظام وفاقی ہے جس میں مرکز اور وفاق کی اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا مکمل احترام اور وسائل کے طے شدہ اصولوں اور شرائط کی روشنی میں استعمال کا اہتمام ضروری ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری، جو انصاف کی فراہمی کے ساتھ دستور کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی پاس داری کی نگرانی کے نظام کی آخری ذمہ دار ہے۔

                                یہ دستور کا بنیادی ڈھانچا ہے، جس کی پاس داری مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور عوام سب کی ذمہ داری ہے۔

                ۴-            قرآن و سنت کی بالادستی اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیروترقی اصل ہدف اور منزل ہے۔

                ۵-            اخلاقی اقدار کو ہمارے نظام میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے، تاکہ قوم و ملک کی ترقی کا وہ نقشہ حقیقت کا رُوپ دھار سکے، جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، انسانوں کے درمیان حقیقی مساوات قائم ہو، اور اللہ کی زمین فساد سے پاک اور خیر اور فلاح کا گہوارا  بن سکے۔

                ۶-            عوام کی اخلاقی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی ترقی ہمارا مقصود ہے اور اس عمل میں عوام ہی کا کردار سب سے اہم ہے۔ ہرسطح پر عوام کو اختیارات کی منتقلی اور ان اختیارات کے مناسب استعمال کے مواقع کی فراہمی، ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ترجیح اور ریاستی وسائل کے استعمال کا مقصد و محور ہونا چاہیے۔

                ۷-            حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کی حکمرانی، اختیارات کی تقسیم اور توازن، خاندانی نظام کی تقویت اور معاشرے میں امن، برداشت، مشاورت، تعاون باہمی کا فروغ اور اچھی حکمرانی کامیابی کا معیار اور میزان ہوں۔

                ۸-            دستور پر اس کے الفاظ اور روح کے مطابق عمل اور افراد کی اصلاح کے ساتھ اداروں کا استحکام اصل ترجیح ہو۔

                ۹-            آزادی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ایک حقیقی جمہوری، فلاحی اور استحصال سے پاک معاشرے کا قیام اور معاشرے کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقعے کی فراہمی کا اہتمام ہو۔

                ۱۰-         اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے لیے ایسے مواقع کی فراہمی کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی زندگی کی تعمیر اور ترقی میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔

یہ وہ اہداف ہیں جو ’قراردادِ مقاصد‘ اور دستور کے قومی پالیسی کے خطوطِ کار کا تقاضا ہیں اور یہی وہ میزان اور کسوٹی ہے جس پر حکومت، سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کی کامیابی یا ناکامی کو جانچا جانا چاہیے۔

قراردادِ مقاصد کے پس منظر، مفہوم اور مقصود، اس کے متعین کردہ اصولِ حکمرانی اور اس کی تاریخی، سیاسی اور قانونی حیثیت کے چند اہم پہلوئوں کی وضاحت کے بعد ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند گزارشات اس حوالے سے بھی کریں کہ قراردادِ مقاصد ایک ایسا دستوری فرمان (constitutional declaration) ہے، جس کے پیچھے پوری پاکستانی قوم ہے اور جو ۱۹۴۹ء کے بعد سے ہر دستوری دستاویز یا دستور کا حصہ رہی ہے۔ سیکولر طبقوں نے جب بھی ’قراردادِ مقاصد‘ کو ہدف بنانے کی کوئی کوشش کی، ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ اس کے پیچھے جو قومی اجتماع کی قوت ہے، وہ اسے ہر دوسری دستاویز پر فوقیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف دستور کا دیباچہ ہے بلکہ دستور کے قابلِ نفاذ (operational) حصے میں شامل ہے اور اس میں یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اس قرارداد کا عملاً اطلاق ہر معاملے پر ہوگا۔

دستور کی دفعہ ۲-اے کے یہ الفاظ بڑے اہم اور فیصلہ کن ہیں کہ:

اسے یہاں دستور کا لازمی حصہ (substantive part) بنایا جاتا ہے اور اس کے مطابق فوری مؤثر ہوگا۔

یعنی قراردادِ مقاصد میں بیان کردہ اور طے شدہ اصول اور احکام کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے اور وہ اپنی ہیئت اور روح کے مطابق مؤثر ہوں گے۔

یہ تصریح قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور سے اس طرح متعلق کر رہی ہے کہ اب دستور کو ان کی روشنی میں سمجھا اور نافذ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اگر کہیں کوئی اشکال ہو، تو اس کو مناسب دستوری طریقے سے رفع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

سیاسی جماعتوں کا قانون اور قراردادِ مقاصد

قراردادِ مقاصد اور دستور، قانون اور اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات پر قومی اسمبلی میں جولائی ۱۹۶۲ء میں تفصیل سے بحث ہوئی اور پھر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا قانون زیربحث آیا۔ اس میں متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاسی جماعتوں کے لیے اسلامی نظریے کو بحیثیت ’نظریۂ پاکستان‘ شامل کیا اور ضروری قرار دیا کہ ’’ وہ اسلامی نظریے یا پاکستان کی وحدت یا سلامتی کے خلاف نہ ہو‘‘۔ اس بحث میں صدر جنرل محمد ایوب کی کابینہ کے وزیر جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی کے ایوان میں جو بیان دیا تھا، اسے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:

جناب عالی! دستور میں پہلے ہی یہ واضح طور پر لکھا جاچکا ہے کہ اسلام ہماری ریاست کی اساس ہے۔ یہ حقیقی صورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دیباچہ (preamble ) قابلِ نفاذ ہے یا نہیں۔ ایک دیباچہ دستور کی کلید ہوتا ہے۔ یہ دستور کا منشور ہے۔ دستور کے اس مثالی چارٹر (ضابطے) میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک علاقائی ریاست سے ممتاز ایک نظریاتی ریاست ہوگا۔اگر ہمارے نظریۂ حیات کو چیلنج کیا گیا تو ہم اپنے نظریۂ حیات کی برتری ثابت کریں گے۔ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ہم اپنے مذہب کے لیے جان دے دیں گے اور اپنے نظریۂ حیات کے لیے بھی جان دے دیں گے.... اگر سیاسی جماعتوں کا اہم ترین … مقصد کسی ایک ملک کی حکومت کو سنبھالنا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کی روح اور مینڈیٹ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں۔ اگر پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، تو سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ دستور کے بنیادی احکامات (dictates) کے عین مطابق کام کریں۔ (National Assembly of Pakistan Proceedings، ۱۱جولائی ۱۹۶۲ئ، ص ۱۳۵۵-۱۳۵۶)

دیکھیے قراردادِ مقاصد اس وقت صرف دستور کا دیباچہ تھی۔ اس دیباچے کے پورے دستور اور سیاسی نظام کے لیے کیا تقاضے تھے یہ شروع ہی سے واضح تھے۔

سابق چیف جسٹس کارنیلیس کا اعتراف

آیئے، دیکھیں کہ اس سلسلے میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب اے آر کارنیلیس (جو خود رومن کیتھولک تھے مگر پاکستان کے مزاج شناس تھے) کیا کہتے ہیں۔۱۱مارچ ۱۹۶۵ء کو   ایس ایم لا کالج ،کراچی میں دوسری کُل پاکستان لا کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا ارشاد تھا:

عظیم قرارداد مقاصد بھی ہمارے دستور کا حصہ ہے، جو آزادی عطا ہونے کے فوراً بعد کے زمانے میں، دستورسازی کے دوران بہترین ذہنوں کے اتفاق راے کی نمایندگی کرتی ہے۔ قراردادِ مقاصد میں پاکستان کے دنیوی معاملات کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ ان کو جمہوری انداز میں طے (conduct) کیا جائے تاکہ اسلام کے احکام کے مطابق مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔ بنیادی حقوق بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ہیں، جو جمہوری انداز میں معاشرتی عدل، رواداری اور انصاف کے لیے رہنمائی کرسکتے ہیں۔ ایک جج جو دستور کے دیے ہوئے بنیادی حقوق کی تفصیلی وضاحت (expound) کرتا ہے، اس سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ان اعلیٰ ذرائع سے تحریک پائے گا، جو ہمیشہ کے لیے قرآنِ مجید کے الفاظ میں ثبت (inscribe) کردیے گئے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں میں بنیادی حقوق کے اطلاق سے متعلق مقدمات میں مسائل و معاملات کی ایک بڑی تعداد بھی زیربحث آتی رہتی ہے، تاہم عدالت کبھی کبھار ہی اس سوال پر اس لحاظ سے غور (adress)کرتی ہے کہ اس قانون کو     اسلام کے اصولوں کے حوالے سے کس طرح سمجھا جائے۔ میں مستقبل میں وہ دن دیکھتا ہوں جب ایک وکیل اپنے مقدمے کے حقائق بیان کرنے کے بعد، ان بنیادی حقوق کا جوہر بیان کرنے کے بعد جو قابلِ اطلاق ہے، وہ عدالت کے سامنے اپنا نقطۂ نظر  رکھے گا کہ متعلقہ آیاتِ قرآنی پر کس طرح اس کا اطلاق کیا جائے۔

پاکستان میں مذہبی شعور کے تحت بنیادی حقوق کا اطلا ق ہونا چاہیے۔ بنیادی حقوق کی وضاحت اور اطلاق اسلام کی اخلاقی اقدار کے مطابق مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کے ملکوں میں رائج جمہوری انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں صرف پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں دستور کے تقاضوں کے تحت دنیوی معاملات کو مذہبی شعور کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ (Law and Judiciary in Pakistan  اے آر کارنیلیس، تدوین و ادارت: ڈاکٹر ایس ایچ حیدر، لاہور لا،  ٹائم پبلی کیشنز، لاہور، ص ۶۶-۶۷)

جسٹس اے آر کارنیلیس نے پاکستان کے دستور کے موضوع پر ڈھاکے میں کونسل آف نیشنل انٹگریشن کے اجلاس سے ، ۱۵ جون ۱۹۶۷ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

دستور کا دیباچہ [قراردادِ مقاصد] یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ اسلام کے وضاحت سے بیان کردہ جمہوریت، آزادی، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصول مکمل طور پر اختیار کیے جانے چاہییں۔ اگر تسلیم شدہ نظام (حکومت) اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی خواہش کو عمل میں نہ لایا جائے تو یہ دستور سے دھوکا ہوگا۔ اس مقصد کو مختصر طور پر     اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک انسانی معاشرے کی تنظیم جس میں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پورا موقع ملے، وہ جمہوریت جہاں مذہب اسلام کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق  ’انصاف سب کے لیے برابر‘ کا اصول رائج ہو۔

اس خطبے کا اختتام جسٹس کارنیلیس نے ان لفظوں میں کیا:

ہمارا دستور ہر چیز کو ایک واحد متحد (unifing) کرنے والے مرکزی اصول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ایک ایسا متحد کرنے والا اصول، جس کے تحت ہر معاملے میں ہمہ مقتدر طاقت ہے جس کے سامنے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے دار سے لے کر ایک عام شہری اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کے لیے پلٹے گا۔ ۱۲صدیوں میں  اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں روایت اور ثقافت میں جو ارتقا ہوا ہے، اس کے جواز کے لیے دستور اعتماد دیتا ہے۔ اس یقین پر مبنی انسانی نسل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زمین پر امن کا ایک اخلاقی نظام تخلیق کیا جائے۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام، یعنی مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں کو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اسلام کا اخلاقی نظم و ضبط، انصاف اور سچائی کے بنیادی تصورات پر مبنی ہے۔ اس وجہ سے ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کے امکانات بہت روشن ہیں۔ یہ وہ روح ہے جسے میں دستور کے ضمیر کی حیثیت سے سمجھا ہوں۔ (کتاب مذکورہ، ص۱۷۲-۱۷۴)

جسٹس کارنیلیس نے اس سلسلے میں عدالت کے کردار کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ارشاد کیا ہے:

جب کوئی مقننہ، ایسا قانون منظور کرتی ہے جو بنیادی حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی کرتا ہے، وہ قانون دستور کی رُو سے غیرمؤثر (void) ہے، اور عدالتیں رٹ (writ) کی حدود پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔ (ایضاً، ص۹۴)

بات صرف بنیادی حقوق تک محدود نہیں۔ جسٹس کارنیلیس بڑی صراحت اور جرأت کے ساتھ کہتے ہیں کہ:

لیکن عوام یہ بھی خواہش کرسکتے ہیں کہ عدالتیں، ان تمام اُمور میں جو وہ سرانجام دیتی ہیں، قانون کا نفاذ قرآن و سنت کے مطابق کریں جیساکہ دستور میں چاہا گیا ہے۔ ہرشخص کو یہ سوال درپیش ہے کہ آیا وہ اپنے فرائض مناسب طور پر ادا کر رہا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ہر وکیل کے ذہن میں بھی ہونا چاہیے، جب وہ کسی خاص معاملے پر دلائل دینے کے لیے کھڑا ہو کہ کیا میں یہ کام دستور کے تقاضوں کے مطابق کر رہا ہوں، یا بلاشبہہ اس مقصد کے مطابق کہ جس کے لیے ملک قائم کیا گیا تھا؟

اور وہ مقصد کیا ہے؟ ایک خدا ترس اور پاکستان کے وفادار غیرمسلم ماہر قانون کی زبان سے سن لیجیے:

یہ ایک حقیقت ہے کہ فقہا اور فلسفی دونوںفلسفے کے سیاسی یا ہیئت کے معاملات میں اعلیٰ ترین سطح پر ان کے نتائج سے کتنے ہی متنبہ کیوں نہ ہوں، شریعت کے حتمی احکامات و اقدامات جو کچھ وہ کہتے ہیں ، کی طرف بار بار پلٹتے ہیں۔ اس کا واضح ہدف یہ ہے کہ ہرشخص کو اپنی زندگی اس طرح گزارنی چاہیے، جس طرح اللہ نے اس کے لیے مقدس کتابوں میں درج کیا ہے۔ پوری قوم کو بھی اپنے تمام معاملات میں یہ ہدایت ملحوظ رکھنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں اس دنیا کے ساتھ بعد کی دنیا میں بھی تحفظ اور سلامتی فراہم ہوجائے گی۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ایک مسلم ملک میں زندگی شریعت کے مطابق گزاری جانی چاہیے۔ (ایضاً، ص۳-۳۸۲)

دستوری جدوجھد کے مراحل

قراردادِ مقاصد کے کیا تقاضے ہیں اور دستور کس نظامِ زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ ایک مخصوص طبقے نے ذہنوں کو تذبذب، اور شکوک و شبہات سے آلودہ کرنے اور گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کی  ہردور میں کوشش کی ہے لیکن بالآخر قوم کے دل کی آواز غالب آکر رہی ہے۔ اس سفر کے چند مراحل پر نگاہ ڈالنے سے اس کش مکش کے خدوخال اور پھر کش مکش سے نکلنے کا راستہ بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے۔

قراردادِ مقاصد ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور کی گئی اور دستورسازی کی طرف پہلے قدم کے طور پر اس دن جو کمیٹی یعنی Basic Principles Committee (بنیادی اصولوں کی کمیٹی) قائم ہوئی،  اس کمیٹی نے قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کام کرنے کے لیے پہلا کام یہ کیا کہ ’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘ قائم کیا جس کے سربراہ مولانا سیّد سلیمان ندوی تھے، اور یہ بورڈ جید علما پر مشتمل تھا۔ مولانا ظفراحمد انصاری اس کے سیکرٹری تھے۔ ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ کی پہلی رپورٹ ستمبر ۱۹۵۰ء میں پیش ہوئی اور اس میں قراردادِ مقاصد کو ریاست کے رہنما اصول (Directive Principles of State Policy) کے طور پر تجویز کیا گیا۔

اس کے بعد دستور کا جو بھی خاکہ تھا اس میں سرفہرست قراردادِ مقاصد تھی۔ ۱۹۵۶ئ، ۱۹۶۲ء اور پھر ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں قرارداد مقاصد دیباچے کے طور پر شامل تھی۔ ریاست کے رہنما اصولوں میں قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کی صراحت تھی اور یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ: ’’کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہیں کی جاسکے گی اور موجود الوقت تمام قوانین کو بھی ایک معقول مدت میں قرآن و سنت کے مطابق کر دیا جائے گا‘‘۔

جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں پہلی اور آخری کوشش قراردادِ مقاصد کو مجروح اور غیرمؤثر کرنے اور دستور سے اسلامی دفعات کو نکالنے یا غیر مؤثر کرنے کی کی گئی۔ انھوں نے ۱۹۶۳ء میں جو دستور ایک آمر کی حیثیت سے ملک پر مسلط کیا، اس میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے نام سے ’اسلامی‘ نکال دیا گیا اور اسے صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ بنادیا۔ تاہم قراردادِ مقاصد کو دستور کے دیباچے کے طور پر شامل ضرور کیا مگر اس کا سب سے اہم پہلو، یعنی تمام اُمورِ حکمرانی قرآن و سنت کی حدود میں [یعنی: within the limits prescribed by Him. ] انجام دیے جائیں گے‘‘، حذف کردیا گیا۔ اسی طرح یہ دفعہ کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی اور قانون سازی کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک ’کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی‘ ہوگی، کو بھی دستور سے خارج کر دیا گیا۔ صدر موصوف کا خیال تھا کہ وہ ڈنڈے کے زور پر قراردادِ مقاصد اور دستور کی اسلامی دفعات کو غیرمؤثر کردیں گے، لیکن ۱۹۶۲ء کے دستور کے تحت ان کے اپنے طے کردہ نظام کے ذریعے جو اسمبلی وجود میں آئی، اس نے پہلا کام یہی کیا کہ قراردادِ مقاصد اور دستور پر ان چیرہ دستیوں کا نوٹس لیا۔ پہلے ہی سیشن میں ایک قرارداد اس موضوع پر آئی کہ ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کیا جائے اور طویل بحث کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔

پھر حکومت، سیاسی جماعتوں کے بارے میں ایک قانون Political Parties Act کی شکل میں لائی۔ اس قانون کو اس وقت  کے وزیر قانون سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر نے پیش فرمایا۔ اس قانون میں سیاسی جماعتوں کے لیے شرط تھی کہ وہ پاکستان سے وفاداری کا عہد کریں گی، اور کوئی ایسی جماعت وجود میں نہیں آسکے گی، جو پاکستان کی سیکورٹی اور سلامتی کے باب میں معتبر نہ ہو۔ یہ قانون، کمیٹی کے سپرد ہوا، جس نے ترمیم کی کہ وفاداری صرف پاکستان کی سلامتی اور سیکورٹی ہی سے نہیں بلکہ پاکستان کے نظریے (Ideology of Pakistan) سے بھی ہونی چاہیے۔ ایوان میں یہ ترمیم کی گئی کہ آئیڈیالوجی کی وضاحت صاف لفظوں میں کی جائے اور اسے Islmamic Ideology کہا جائے۔ بڑی بحث کے بعد اور وزیرقانون کی بہت سی کہہ مکرنیوں کے بعد ایوان نے طے کیا کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی سے وفاداری لازماً شامل کی جائے گی اور خود وزیرقانون جسٹس (ریٹائرڈ) محمدمنیرصاحب نے کئی راتوں کے غوروفکر کے بعد ایوان میں بیان دیا کہ خیال رہے کہ قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

جسٹس (ر) محمد منیرصاحب نے اور دوسرے وزرا نے پہلے بل کو اصل شکل میں منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ایوان میں کی جانے والی تقاریر اور ارکان کے موڈ کو دیکھتے ہوئے پسپائی اختیار کی اور بالآخر ’اسلامی نظریے‘ سے وفاداری قانون کا حصہ بنی۔ جسٹس (ر) محمد منیرصاحب کی تقاریر سے دو اقتباس صورتِ حال کو سمجھنے میں بڑے معاون ہوں گے۔

۱۱ جولائی ۱۹۶۲ء کو بحث کا رُخ دیکھ کر انھوں نے فرمایا:

جناب عالی! اصل میں لفظ آئیڈیالوجی موجود نہیں ہے۔ جب میں بل کو ڈرافٹ کر رہا تھا میں نے اس سوال پر غوروخوض کیا کہ آیا لفظ آئیڈیالوجی آنا چاہیے یا نہیں؟ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ اس لفظ کو……… نہ کروں۔ کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ان الفاظ، یعنی نظریۂ پاکستان کی تعریف کرنا بہت مشکل ہوجائے گا لیکن سلیکٹ کمیٹی نے اس لفظ کو شامل کردیا ہے اور اب ایک ترمیم لائی گئی ہے کہ الفاظ آئیڈیالوجی آف پاکستان کی تعریف بطور اسلام کی جائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس بارے میں بے تعلق ہوں کہ لفظ آئیڈیالوجی ہونا چاہیے، یا نکال دینا چاہیے، یا اس کی تعریف بطور اسلام کی جانی چاہیے۔ میں یہ بات ایوان پر چھوڑتا ہوں۔

ایوان نے پورے زور و شور سے ’اسلامی نظریہ‘ کو قانون میں شامل کیا اور پھر جسٹس (ر) محمدمنیرصاحب جنھوں نے پنجاب کے فسادات پر کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں اسلام اور اسلامی ریاست کے تصور پر تیر چلائے تھے، ترمیم کے بارے میں ہاں کہنے پر مجبور ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ ۱۵ برس بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں نہ صرف یہ کہ ایک بار پھر اپنی پرانی پوزیشن کا اعادہ کیا بلکہ قائداعظم کے الفاظ تبدیل کرکے انھیں سیکولرزم کا حامی بنا کر پیش کیا۔  ’نظریۂ پاکستان‘ کو جنرل ضیاء کی اختراع قرار دیا اور قراردادِ مقاصد کو قائداعظم کے تصورِ پاکستان کے منافی ارشاد فرمایا۔ لیکن دیکھیے یہاں کیا فرماتے ہیں:

میں نے اس معاملے پر گہرا غوروفکر کیا ہے اور میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ آئیڈیالوجی کے الفاظ کو شامل کرنا کسی بھی طرح اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرے گا اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ اقلیتوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی جماعتیں اس شرط کے ساتھ قائم کرسکیںکہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایسے پروپیگنڈا میں تبدیل نہ کردیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔ یہ سب ………… پر منحصر ہے کہ وہ لفظ اسلامی چاہتے ہیں یا نہیں۔

ایک رکن اسمبلی جناب محبو ب الحق نے سابق جج صاحب کو یاد دلایا کہ منیر رپورٹ کے ص۲۰۱ پر انھوں نے اس سے مختلف بات کی ہے لیکن اسپیکر نے اعتراض کو رد کر دیا اور کہا کہ وہ ذاتی ریفرنسوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن تاریخ نے اس منظر کو محفوظ کرلیا۔ بلاشبہہ عزت و ذلت کے باب میں اللہ تعالیٰ کا اپنا قانون ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ اس کے بعد جلد ہی جسٹس (ر) منیرصاحب نے وزارتِ قانون سے دستبرداری اختیار کرلی۔

قرآن و سنت کی روشنی میں تمام قوانین کی تبدیلی کی قرارداد اور سیاسی جماعتوں کے قانون میں ’اسلامی نظریہ‘ کا اضافہ دراصل قراردادِ مقاصد کی اصل روح کا اعادہ تھے اور یہ دونوںجنرل ایوب خان اور ان کے سیکولر حواریوں کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہ تھے۔ فوجی حکمرانی کے تمام تر کروفر کے باوجود انھیں یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ ان تبدیلیوں کے بعد اگلا مرحلہ خود دستور میں ترمیم کے ذریعے قراردادِ مقاصد سے انحراف کے باب میں جو اقدام کیے گئے تھے ان کی اصلاح کا تھا۔ یہ کام بھی قوم کے دبائو میں اسمبلی نے شروع کر دیا اور بالآخر ۱۹۶۲ء کے دستور میں ترامیم کرنے کے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایوان نے قراردادِ مقاصد کے حدود اللہ کے دائرے میں اختیارات کے استعمال کی شق جسے خارج کردیا تھا، اسے بحال کرایا گیا۔ مملکت کا نام دوبارہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ قرار دیا گیا۔ قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی پر پابندی کی دفعہ کو بھی بحال کیا گیا اور کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کو بھی ایک دستوری ادارے کے طور پر دوبارہ قائم کیا گیا۔   اس طرح قراردادِ مقاصد پر جو حملہ ہوا تھا اسی اسمبلی نے جو فوجی آمر کی منشا کے مطابق وجود میں آئی تھی اس کو غیر مؤثر کردیا اور سیکولر لابی ہاتھ مَلتی رہ گئی۔

اُوپر کی گزارشات سے دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں : ایک یہ کہ قراردادِ مقاصد تحریکِ پاکستان کے مقاصد کی ترجمان اور پاکستانی قوم کے جذبات، احساسات، عزائم اور تصورات کا مظہر ہے۔  یہ قوم اور ریاست کے درمیان اللہ کو گواہ کر کے ایک معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، اور دستور، حکمران اور تمام ریاستی ادارے بشمول مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اس کے تابع ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تبدیلی یا اس سے انحراف قوم کے لیے کسی شکل میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ دستور کے لیے اس کی حیثیت ماں کی سی ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قرارداد دستور کی صورت گر ہے، دستور کے تابع نہیں۔ اس کے دیے ہوئے اصول و احکام ہی دستور کا اصل جوہر ہیں اور ان کی تنسیخ یا ترمیم اس قوم کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلے میں جو بھی کوشش ماضی میں ہوئی وہ ناکام رہی اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ گیلپ، پیو (PEW) اور NDI کے زیراہتمام کیے جانے والے تمام ہی عوامی جائزے اس ایک بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی آبادی کی عظیم اکثریت (۸۰ سے ۹۰ فی صد) اُس نظام کے حق میں ہے جس میں شریعت کی بالادستی ہو۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل اپنے دین کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور شریعت ہی ان کے لیے زندگی کی اصل شاہ راہ ہے۔

قراردادِ مقاصد بہارتی قرارداد کا چربہ ؟

فاضل جج جناب ثاقب نثار صاحب نے اپنے اضافی نوٹ میں جہاں بھارت کی دستوری تاریخ اور وہاں کے دستوری ڈھانچے کے تصور کے ارتقا اور موجود دستوری پوزیشن کا بڑی محنت اور بالغ نظری سے جائزہ لیا ہے وہیں قراردادِ مقاصد اور پاکستان کے دستور کے بارے میں کئی ایسی باتیں کہی ہیں جن پر کلام کی ضرورت ہے۔ اختلاف راے زندگی کی بڑی مقدس روایت ہے اور     ہم اختلافی آرا کے احترام کے قائل ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جو باتیں حقائق کے منافی ہوں یا حالات کی غلط تعبیر کا ذریعہ بن رہی ہوں، ان پر گفتگو اور احتساب کا عمل روک دیا جائے۔ اصلاحِ احوال کے لیے ایسے اُمور پر بحث و تنقید فکری اور تہذیبی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ہم ان چند اہم اُمور کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے اُٹھائے ہیں اور خود ان کو اور   اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں کہ ان اُمور پر حقائق اور دلائل کی روشنی میں اپنی اپنی راے قائم کریں۔

ان کی یہ بات درست ہے کہ قراردادِ مقاصد اور اس میں بیان کردہ اصول و احکام اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں، جیساکہ وہ اگست ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا، بہت سے تضادا ت تھے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ دستور میں کئی ترامیم اس کا حلیہ بگاڑنے اور انسانی حقوق اور عدلیہ کے حقوق پر دست درازی کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنیں۔ پھر ان کی یہ راے بھی درست ہے کہ حالیہ ترامیم جن میں ۱۸ویں ترمیم خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے، تضادات کو کم کرنے اور دستور کو بحیثیت مجموعی بہتر بنانے کا ذریعہ بنی ہیں۔

قراردادِ مقاصد کی تعبیر اور اس کے مقام کے تعین میں گو ہمیں کوئی ابہام نہیں لیکن ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ اس باب میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں اور دلیل کی بنیاد پر ان پر بحث اور مکالمہ ہونا چاہیے لیکن جن اُمور کے بارے میں ہم شدید اضطراب کا شکار ہیں ان میں سرفہرست ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قراردادِ مقاصد پاکستان کی اپنی سوچ اور تخلیق نہیں بلکہ اس کا سلسلۂ نسب بھارت کی جنوری ۱۹۴۸ء کی بھارتی قراردادِ مقاصد سے جاملتا ہے جو پنڈت نہرو نے پیش کی تھی ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی قرارداد اپنے عنوان اور مندرجات کے اعتبار سے بھارتی قرارداد کا چربہ ہے۔

بلاشبہہ وہ قراردادِ مقاصد کے پہلے پیراگراف کو جس میں حاکمیت الٰہیہ کا اقرار ہے، تعریف و توصیف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسے بانیانِ پاکستان کے تصور کا عکاس تسلیم کرتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی حاکمیت کے تصور کو مؤثرانداز میں پیش کرتا ہے، اور اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں عوام کے کلیدی کردار اور اقتدار کے ایک امانت ہونے کا تصور موجود ہے (پیراگراف ۱۲۳ اور ۱۲۴)۔ لیکن اس اعتراف کے معاً بعد وہ یہ سوال اُٹھا دیتے ہیں کہ اس ابتدائیے اور اس کے بعد کی دفعات کی حیثیت مساوی نہیں ہے۔ ان ہی کے الفاظ میں ان کے اشکال اور دعویٰ کو دیکھ لیجیے:

تاہم بقیہ قرارداد کو بھی یہی حیثیت دینا واضح طور پر تاریخی ریکارڈ سے بہت دُور تک بہک جانا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی تصوراتی بنیادیں اور مشتملات جو (۱۲ مارچ ۱۹۴۹ئ) کو منظور ہوا، جب کہ قائداعظم رحلت فرما چکے تھے، نہ پاکستان کے لیے منفرد ہیں اور  نہ بلاشبہہ قرارداد کی رسمیات ملک کے اندر…(ص ۱۲۴)

ان کا دعویٰ ہے کہ پنڈت نہرو نے بھارت کی دستور ساز اسمبلی میں جو قراردادِ مقاصد  پیش کی اور جو ۲۰جنوری ۱۹۴۸ء کو وہاں منظور کی گئی وہ پاکستان کی قرارداد کا منبع ہے اور پاکستانی قرارداد کی ہیئت (structure) حتیٰ کہ اس کے مندرجات (content)بھی بھارت کی قرارداد سے مستعار ہیں اور گویا اس کا ہی چربہ ہیں۔

عنوان کا اشتراک اور ہیئت کس طرح دو قراردوں، دو قوانین کو ایک جیسا یا ایک دوسرے کا چربہ بنا دیتے ہیں، ہمارے لیے اس کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔

پاکستانی اور بہارتی قرارداد کا موازنہ

دستور کا لفظ دنیا کے ۲۰۰ دساتیر میں مشترک ہے۔ سول لا، کریمنل لا، کمرشل لا، نہ معلوم کتنے قوانین ہیں جن کے عنوان، ہیئت اور الفاظ تک سیکڑوں ملکوں کے قوانین میں مشترک ہوتے ہیں لیکن محض اس ظاہری مماثلت سے وہ قانون نہ ایک دوسرے کا چربہ بن جاتے ہیں اور نہ ان کی انفرادیت اس سے متاثر ہوتی ہے بشرطے کہ ان کا اپنا مقصد واضح اور مؤثر ہو۔ دونوں کو ’قراردادِ مقاصد‘ کہنے سے بعد کی قرارداد پہلی قرارداد کا سایہ اور طفیلی کیسے بن گئی؟ ہمارے لیے یہ ایک معما ہے۔ ہاں، مندرجات، اصولوں اور احکام کی بات دوسری ہے اور ان میں مکمل مماثلت شبہات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے آیئے اپنی توجہ مندرجات پر مرکوز کریں اور دونوں کا موازنہ کر کے دیکھیں کہ ان میں مشترکات کیا ہیں اور کون سی چیزیں ان کو ایک دوسرے سے مختلف اور ممتاز کرتی ہیں:

                ۱-            ہندستانی قراردادِ مقاصد میں آٹھ دفعات ہیں اور پاکستانی قرارداد مقاصد میں ۱۲ دفعات ہیں۔

                ۲-            پاکستانی قرارداد کا آغاز تصورِ کائنات، تصورِ حیات اور حکمرانی کے اصول و آداب کے ایک واضح تصور سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، انسان کی خلافت، اقتدار کے امانت ہونے اور اسے عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے مگر اللہ کی دی ہوئی حدود کے دائرے میں استعمال کیے جانے کے محکم اصول کے اثبات سے ہوتا ہے۔ بھارت کی قرارداد میں کسی تصورِ حکمرانی کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ سیدھے سیدھے ہندستان کو ایک آزاد، خودمختار ریاست قرار دیتے ہوئے دستورسازی کے لیے ہدایت دیتی ہے۔ مستقبل کے وژن کا کوئی پرتو یا کسی خاص نظریاتی منزل کا کوئی اشارہ اس دیباچے میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اصل دستور میں شامل نہیں کیا گیا اور ایک دوسرا دیباچہ لکھا گیا جیساکہ ہم بعد میں عرض کریں گے۔

                ۳-            پاکستانی قرارداد میں اسلام کو حکمرانی ہی نہیں زندگی کے پورے نظام کے لیے رہنما اصول اور مسلمانوں کو اسلامی نظامِ حیات کی تعلیم اور ان کے مطابق زندگی کی صورت گری کے اہتمام اور اس کے لیے ریاستی وسائل کے استعمال کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی کوئی بات ہندستان کی قرارداد میں دُور دُور تک نہیں ہے۔

                ۴-            ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستانی قرارداد کی زبان اور انداز اللہ کی حاکمیت کے ساتھ ایک نئے نظام کے قیام کا اعلان کرتا ہے اور یہ نظام عوام کی مرضی اور عزائم کے اظہار کی شکل اختیار کرنے پر قانع نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی کے ایک رُخ کو متعین کرتا ہے اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے حکمیہ انداز میں (command and direction) اختیار کرتا ہے۔ پوری قرارداد میں اندازِ حاکمانہ ہے کہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کو کیا کرنا ہے۔ ہندستان کی قرارداد روایتی انداز میں دستور میں کچھ چیزوں کو سمونے اور حاصل کرنے تک محدود ہے، جب کہ پاکستان کی قرارداد کا ہرجملہ ایک نئے نظام کے قیام کی دعوت کے ساتھ واضح ہدایت اور حکم کا انداز لیے ہوئے ہے اور تبدیلی کا پیغام دے رہا ہے۔

                ۵-            غیرمسلموں اور اقلیتوں کے سلسلے میں پاکستانی قرارداد میں دو دفعات ہیں، جب کہ ہندستانی قرارداد میں صرف ایک دفعہ ہے۔

                ۶-            پاکستانی قرارداد میں عدلیہ کی آزادی اور اس کے تحفظ کا واضح ذکر ہے، جو ہندستانی قرارداد میں موجود ہی نہیں ہے۔

                ۷-            عوام کے سرچشمۂ اختیار، حکمرانی کا ذریعہ اور نمایندگی کے اصول کا جتنا واضح بیان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستان کی قرارداد میں نہیں۔ پاکستانی قرارداد میں ابتدائیہ ہی میں کہا گیا ہے کہ:’’یہ اختیار جو پاکستان کے عوام استعمال کر یں گے ‘‘۔

                                دوسری دفعہ میں اس پوری قرارداد کو عوام کی آواز قرار دیا گیا ہے، یعنی:’’یہ پاکستان کے عوام کی مرضی (will) ہے کہ ایک نظام…… قائم کیا جائے‘‘۔

پھر تیسری دفعہ میں اس اصول کو ایک محکم قدر (value) کی حیثیت سے طے کردیا گیا ہے کہ:’’جہاں ریاست اپنا اقتدار و اختیار عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے استعمال کرے گی‘‘۔

عوام کے کردار کے بارے میں یہ تین واضح احکام ہیں۔ ہندستانی قرارداد کا انداز ہی بالکل مختلف ہے۔ اس میں دوسری اور تیسری دفعہ علاقوں اور بائونڈریز کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں اور عوام کا ذکر صرف چوتھی دفعہ میں آیا ہے اور وہ بھی اس اعلان کی شکل میں کہ ساری قوت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ منتخب نمایندوں کے ذریعے نظامِ حکومت کے چلانے کا جو واضح اعلان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستانی قرارداد میں نہیں ملتا۔

                ۸-            دو دفعات ایسی ہیں کہ جن میں کچھ لفظی مشابہت پائی جاتی ہے، یعنی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کے بارے میں۔ لیکن یہ وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں دنیا کے تمام دساتیر’یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘، ’یوروپین کنونشن آف ہیومن رائٹس‘،   ’بل آف رائٹر‘ سب ہی میں تھوڑے بہت تغیر و تبدل کے ساتھ ایک جیسی اصطلاحات اور الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس نوعیت کی مماثلت کو چوری اور نقالی قرار دینا حق و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندستانی قرارداد میں مختلف انسانی حقوق کا ذکر ہے لیکن انسانی حقوق بحیثیت ایک تصور اور مرکزی اور اوّلین concept کے اس میں موجود نہیں ،  جب کہ پاکستانی قرارداد کے الفاظ زیادہ مؤثر اور واضح ہیں اور الفاظ کی ترتیب اہمیت رکھتی ہے کہ آغاز ہی میں بنیادی حقوق کے جامع تصور کو بیان کیا گیا ہے اور مختلف حقوق کا ذکر بعد میں ہے۔  یہ الفاظ غورطلب ہیں:

جہاں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی بشمول…………

ہندستانی قرارداد میں fundamental rightکی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی اور پاکستانی قرارداد میں including کے لفظ نے بڑی وسعت دے دی ہے۔ جن حقوق کا فرداً فرداً ذکر کیا گیا ہے ان کی ضمانت تو بلاشبہہ دی جارہی ہے مگر حقوق ان کے علاوہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح عدلیہ اور مقننہ دونوں کو حقوقِ انسانی کے ایک وسیع تر تصور کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

کم از کم یہ آٹھ پہلو ایسے ہیں جن کی روشنی میں پاکستانی قرارداد کا ہندوستانی قرارداد سے مختلف ہونا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی قرارداد کی اپنی منفرد شخصیت ہے۔ حاکمیت الٰہیہ،   اللہ کی طے کردہ حدود کے اندر انسانی اقتدار کی کارفرمائی، اقتدار کا امانت ہونا، مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے لائق بنانے کی دستوری ذمہ داری وہ چیزیں ہیں جو پاکستانی قرارداد کو ایک نظریے کی علَم بردار اور تبدیلی کی واضح سمت کو متعین کرنے والی بنا دیتی ہے۔ ہندستانی قرارداد میں ایسی کوئی چیز نہیں۔

دوسری چیز ایک واضح نئے نظام کے قیام کا تصور اور اس کے لیے حکمی انداز (command and direction) کا رنگ غالب ہے جو ہندستانی قرارداد، اس کی زبان اور انداز میں نہیں پایا جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں وہاں کی قراردادِ مقاصد کو دستورسازی کے لیے ایک ابتدائی ہدایت تو ضرور سمجھا گیا لیکن اسے بجاطور پر اس لائق نہیں سمجھا گیا کہ نئے ہندستانی دستور میں وہ دستور کے دیباچے کے طور پر شامل کی جائے ، جب کہ پاکستانی قراردادِ مقاصد کی ایک مستقل اہمیت ہے۔ وہ ایک وقتی ہدایت نہیں، ایک مستقل مشعلِ راہ ہے اور اسے دستور کا نہ صرف دیباچہ بنایا گیا ہے بلکہ اس کو بالآخر دستور کا ایک قابلِ نفاذ حصہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہندستانی قرارداد اس لیے بھی دستور کے مقدمے کے لیے ناموزوں تھی کہ اس میں فیڈریشن کا جو تصور دیا گیا ہے، دستور کے برعکس ہے۔ قرارداد کی دفعہ تین میں ملک کی مختلف ریاستوں اور یونٹس کے بارے میں یہ اصول بیان کیا گیا تھا کہ:

خودمختار یونٹوں کی حیثیت بشمول residency اختیارات پر قابض ہوگی اور برقرار رکھے گی۔(درگا داس باسو، ایس سی، جلد۱،ص ۳۴)

دستور میں اس اصول کو تبدیل کردیا گیا ہے اور فیڈریشنوں میں شامل ہونے والی یونٹس کے residency powers کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ residency power کو  صوبوں کی جگہ مرکز کو دے دیا گیا۔ اس واضح تضاد کی موجودگی میں اس قرارداد کو دستور کا دیباچہ کیسے بنایا جاسکتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: کمنٹری آف دی کونسٹی ٹیوشن آف انڈیا،درگا داس باسو،……… کلکتہ ۱۹۵۵ئ، جلد۱، ص ۳-۴)

بہارتی قراردادِ مقاصد:بہارتی دانش ور کا تبصرہ

پاکستان کی قراردادِ مقاصد کی ’ولدیت‘ ہندستان کی قررداد کی طرف منسوب کرنا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور دونوں قراردادوں کے مختلف مزاج اور کردار سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ ضمناً یہ بھی عرض کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بھارتی قرارداد تو کیا وہاں تو پورے دستور کے بارے میں ہندستان کے اپنے قانونی ماہرین جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ کوئی دوسری ہی داستان سناتے ہیں۔ ہندستانی دستور کا مشہور شارح درگا داس باسو اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ:

جس نے دنیا بھر کے تمام معلوم دساتیر کو اچھی طرح کھنگالنے (drain)کے بعد یہ ڈرافٹ تیار کیا۔

باسو کی نگاہ میں ہندستانی دستور کا بڑا ماخذ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء ہے۔ وہ کہتا ہے:

اس لیے دستور کے ۷۵ فی صد کا آغاز تجربے کی روشنی میں کی گئی تبدیلیوں کے ساتھ اسی ایکٹ سے ہوا ہے۔

باسو مزید لکھتا ہے کہ:

نظریاتی حیثیت، یعنی بنیادی حقوق امریکا کے دستور سے اخذ (inspired) کیے گئے ہیں۔ بعد کے دستور میں اضافوں کی دفعات آئرلینڈ سے متاثر ہیں۔ وفاقی حیثیت سے متعلق اُمور کینیڈا کے دستور سے سادہ انداز میں لیے گئے ہیں۔

پنڈت نہرو والی قراردادِ مقاصد اس لائق ہی نہ تھی کہ اسے دستور کا دیباچہ بنایا جائے، اس میں کوئی وژن موجود نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے دستور میں جو دیباچہ دیا گیا ہے، اس میں پہلی قراردادِ مقاصد سے ہٹ کر ایک وژن اور نظریہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی اوّلین شکل میں فرانس کے Justice, Liberty and Fraternity کے نعروں کو شامل کیا گیا تھا اور ملک کو sovereign democratic قرار دیا گیا تھا لیکن وژن بھی خام تھا۔ اس لیے نظریاتی حیثیت کو مزید اُجاگر کرنے کے لیے Republic کی ضرورت محسوس ہوئی اور دستور میں ۱۶برس بعد ۱۹۷۶ء میں ۴۲ویں ترمیم کے ذریعے socialist, secular کا اضافہ کیا گیا (جج صاحب نے پیراگراف ۱۲۷ میں جو دیباچہ دیا ہے وہ ترمیم سے پہلے کا ہے)، جب کہ پاکستان میں قراردادِ مقاصد نے ۱۹۴۹ء ہی میں ملک کی نظریاتی حیثیت کو بالکل واضح کردیا تھا اور پاکستان کے پہلے دستور (۱۹۵۶ئ) میں قراردادِ مقاصد دستور کے تاج کے طور پر بطور دیباچہ شامل ہوئی اور ملک نے بڑے اعتماد سے اپنے کو Islamic Republic of Pakistan قرار دیا ہے۔

اس نظریاتی اعلان سے ہندستان کو اپنے سیکولر اور سوشلسٹ ہونے کا خیال آیا اور دیباچے میں ترمیم کر کے sovereign democratic سے پہلے socialist secular کا اضافہ کیا اور قسطوں میں اپنی شناخت کا اظہار کیا۔

قراردادِ مقاصد اور نظریاتی تشخص

محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب ہندستان کے دستور کو اس اعتبار سے بھی زیادہ معتبر اور محترم قرار دیتے ہیں کہ اسے ہندستان کی تحریکِ آزادی کے قائدین نے مرتب کیا اور پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور کے بارے میں ان کی تشویش ہے کہ اسے جس قیادت نے مرتب کیا وہ دوسری نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو وہ تقدس حاصل نہیں جو ہندستان کے دستور کو حال ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ قراردادِ مقاصد جسے پاکستان کے بانیان نے مرتب کیا اور قائداعظم کے اقوال اور تحریکِ پاکستان کے دوران جو وعدے انھوں نے مسلم عوام سے کیے تھے  ان کے مطابق مرتب کیا گیا اسے وہ معتبر ماننے میں تردّد محسوس فرماتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد پیش کرتے ہوئے پہلی بات یہی کہی تھی کہ قائداعظم کے تصور کے مطابق پیش کی جارہی ہے۔دوسرے قائدین نے بھی اس کا برملا اظہار کیا خصوصیت سے مولانا شبیراحمد عثمانی نے۔ وہ اس دستور سازاسمبلی میں کہتے ہیں………… سب تحریکِ پاکستان کی روحِ رواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قراردادِ مقاصد نے بعد کے دساتیر کو بھی معتبر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی قراردادِ مقاصد کے بعد دیباچے میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان کے نظریاتی اور تاریخی تشخص کا عکاس ہے اور پاکستان کو تاریخ تحریکِ پاکستان سے مربوط کرتا ہے:

لہٰذا ہم جمہور پاکستان قادرِ مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ، پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی،   اس جمہوریت کے تحفظ کے لیے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم و ستم کے خلاف عوام کی اَن تھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔

اس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کرکے اپنی قومی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں۔

بذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمایندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔

قراردادِ مقاصد اور اس کے بطورِ تتمہ اس اضافے کا موازنہ ہندستان کی ۱۹۴۸ء کی قراردادِ مقاصد اور ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۷ء کے دستوری دیباچوں سے کریں تو زندگی، سیاست اور حکمرانی کے دو مختلف تصورات (paradigms) کا منظر سامنے آتا ہے۔ ہمارا مسئلہ دستور اور قوم دونوں میں نظریہ اور وژن کے فقدان کا نہیں ہے، نظریہ اور وژن تو موجود ہیں، مسئلہ ان کے مطابق سعی و جہد میں شدید کوتاہی کا ہے۔ نیز ایسی قیادت سے محرومی کا ہے جو اس نظریے کے وفادار ہو، دیانت دار ہو اور باصلاحیت بھی۔

دستور ایک انسانی کاوش ہے اور قراردادِ مقاصد بھی آسمانی صحیفہ نہیں۔ لیکن یہ دونوں اپنی موجودہ شکل میں بڑی حد تک اس تصور اور نقشۂ کار پیش کر رہے ہیں جس پر خلوص اور محنت کے ساتھ عمل کر کے ہم اسلامی فلاحی مستقبل کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ اصلاح اور بہتری کی گنجایش بلاشبہہ موجود ہے اور جس طرح ماضی میں کی جانے والی کئی دستوری ترامیم نے دستور کو زیادہ بہتر دستاویز بنایا ہے، اسی طرح آیندہ بھی ترمیم کا دروازہ کھلا ہے لیکن ترمیم کا مقصد دستور کو قراردادِ مقاصد میں دیے ہوئے مقصد اور وژن سے قریب تر کرنا ہو ، اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے اور حلیہ بگاڑنے کا معاملہ نہ ہو۔ قراردادِ مقاصد اور دستور کے اصل محافظ عوام اور تمام ہی دستوری ادارے ہیں۔ذمہ داری کے مناصب پر ہر فرد، صدرِ مملکت  سے لے کر مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان تک، اور ہر سطح کے عدلیہ کے جج صاحبان سے لے کر فوج اور انتظامیہ کے ذمہ داران تک، ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور دستور سے وفاداری کے عہد کوin letter and spirit   (الفاظ اور روح کے مطابق) پورا کرے۔ یہ عہد ہی ہماری منزل اورہماری ذمہ داری کو متعین کردیتا ہے لیکن کیا ہم اس عہد کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟

عقیدے اور نظریے کے بعد ایک قوم کی پہچان اور اس کی شناخت جس چیز سے عبارت ہے، وہ اس کی زبان اور ادب ہے۔ قومی یک جہتی اور سلامتی اور اس کی ترقی و خوش حالی ہر ایک کا انحصار نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنے اور زبان کے ذریعے فکر وعمل کی راہیں استوار کرنے پر ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ دونوں ہماری قوت کا ذریعہ رہے ہیں۔ آج پاکستان جن حالات سے دوچار ہے، ان کے پیدا کرنے میں نظریہ اور زبان دونوں کے بارے میں ہماری غفلت اور بے وفائی کا  بڑا دخل ہے۔ استعمار کے خلاف جنگ میں ہمارے مضبوط اور مؤثر ترین ہتھیار اسلامی نظریہ اور اُردو زبان ہی تھے، لیکن آزادی کے حصول کے بعد استعمار کی فکری اور تہذیبی ذرّیت نے آہستہ آہستہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی، اس ذرّیت نے نظریے کو کمزورکرنے اور ذہنی اور فکری انتشار پیدا کرنے کے ساتھ پوری چابک دستی سے جو حربہ استعمال کیا، وہ ملک و قوم کو استعماری زبان کی گرفت میں محصور رکھنے کا تھا۔

۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مکمل قومی اتفاق راے کے ساتھ یہ طے کیا گیا تھا کہ قومی زبان اُردو ملک کی سرکاری زبان ہوگی اور تمام کاروبارِ مملکت قومی زبان میں انجام دیا جائے گا اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ ۱۵سال کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔ دستور کی دفعہ ۲۵۱ (۱) میں یہ حکم ’shall be‘ کے لفظ کے ساتھ دیا گیا تھا اور ۱۵سال تک انگریزی میں کاروبارِ ریاست چلانے کے معاملے کی محض اجازت اور رخصت ’may be‘ کے لفظ کی شکل میں دی گئی تھی، مگر حکمران قوتوں، خصوصیت سے بیوروکریسی، ایچی سن کالج اور انگلش میڈیم سے نکلنے والی سیاسی قیادت اور انگریزی میڈیا کے گٹھ جوڑ نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کیا اور دستور کے نافذ ہونے کے ۴۲سال بعد بھی قوم انگریزی زبان کی غلامی میں مبتلا ہے۔ سپریم کورٹ سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں کام کرنے والے تین ججوں پر مشتمل بنچ (جسٹس دوست محمد خان، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ)نے ۸ستمبر ۲۰۱۵ء کو ایک تاریخی فیصلے میں قومی زبان کو اس کا اصل کردار دلانے کے لیے جو فیصلہ کیا ہے، وہ بڑا خوش آیند ہے۔ قومی احساسات اورعزائم کا حقیقی ترجمان ہے اور اگر اس پر دیانت اور تندہی سے عمل کیا جائے تو ہماری تاریخ میں ایک روشن اور سنہرے باب کا اضافہ کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس تاریخی فیصلے کے مختلف پہلوئوں کو قوم کے سامنے رکھیں اور اس امر کی بھی نشان دہی کریں کہ اس پر عمل کے لیے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں دستور اور اس میں قومی زبان کے بارے میں طے کردہ پالیسی کو بڑے واضح اور واشگاف انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ دستور نے جو باتیں طے کردی ہیں وہ یہ ہیں:

                الف:         اُردو قومی زبان ہے اور اسے ہی لازمی طور پر تمام حکومتی ، عدالتی، انتظامی اور تعلیمی دائروں میں اور ہرسطح پر استعمال ہونا چاہیے۔

                ب:           یہ ایک اختیاری امر نہیں بلکہ ایک دستوری حکم ہے جس پر ۱۵برس کے اندر اندر عمل ہوجاناچاہیے تھا۔

                ج:            انگریزی زبان میں کاروبارِ ریاست چلانے کی اجازت صرف ۱۵سال کے لیے تھی۔ اس طرح ۱۹۸۸ء کے بعد سے دستور کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے۔

                د:             قومی زبان کے ساتھ علاقائی زبانوں کی حفاظت اور ترقی بھی ایک ضروری امر ہے جس کی طرف خاطرخواہ توجہ کی ضرورت ہے۔

دستور: نظامِ حکومت ، ریاستی انتظامات اور کارروائیوں اور تعلیم کے نظام کے لیے ایک فریم ورک دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ضرورت کی مناسبت سے دوسری زبانوں، خصوصیت سے انگریزی کی تعلیم اور حسب ِ ضرورت استعمال کا دروازہ کھلا ہوا ہے مگر استعماری حکمرانوں کی زبان کو زبردستی قوم پر مسلط رکھنا دستور کے واضح احکام اور ان کے تقاضوں کے منافی ہے۔

فیصلے کا یہ بڑا ہی روشن پہلو ہے کہ جہاںاس نے انگریزی کی حسب ضرورت تعلیم اور استعمال کو تسلیم کیا ہے، وہیں اس استعماری پالیسی پر بھرپور گرفت کی ہے جس کے تحت یہ غیرملکی زبان ہمارے ملک اور قوم پر مسلط رکھی گئی ہے اور اس سے نجات کو آزادی اور استعماری حاکمیت کے شکنجوں کو توڑنے (de-colonization) کے عمل کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ اس بارے میں جو غفلت اور مجرمانہ کوتاہی ملک کے حکمرانوں اور بااختیار طبقات نے کی ہے، اس پر قوم کی توجہ مبذول کروا کے عدالت ِ عالیہ نے ایک اہم فکری اور تہذیبی خدمت انجام دی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ دستور کی دو دفعات، یعنی دفعہ ۲۵۱ اور دفعہ ۲۸ قومی اور علاقائی زبانوں کی حیثیت اور ان کے بارے میں قومی پالیسی کو واضح کرتی ہیں اور ان پر بھرپور انداز میں اور بلاتاخیرعمل ہونا چاہیے۔ لیکن ہماری نگاہ میں فیصلے کا یہ حصہ بڑا اہم ہے کہ عدالت نے اس پالیسی کو واضح کرنے کے ساتھ بڑے صاف الفاظ میں یہ بھی بیان کردیا ہے کہ ملک میں پوری بے حسی کے ساتھ صرف ان دو دفعات ہی کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی، بلکہ کم از کم تین مزید دفعات کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور یہ سب دفعہ ۵ کی زد میں بھی آتی ہیں کہ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے۔

عدالت نے متوجہ کیا ہے کہ انگریزی زبان کو قوم اور اُمورِ سلطنت کی انجام دہی کے پورے عمل پر مسلط رکھنے کا نتیجہ ہے کہ قوم ایک مفاد یافتہ طبقے اور اختیارات سے محروم عوام الناس میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ایک عام شہری کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ ملک کا قانون کیا ہے، عدالتی فیصلے کیا مطالبہ کر رہے ہیں، سرکاری نظام کس طرح چل رہا ہے، لیکن یہ سب ایک ایسی زبان میں ہو رہا ہے جس سے عوام کی عظیم اکثریت واقف ہی نہیں اور اس طرح ان کو عملاً کاروبارِ حکمرانی سے نکال  باہر کردیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دستور کی دفعہ ۱۴ کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ہرشخص کی عزتِ نفس کی ضمانت دیتی ہے۔ دفعہ ۲۵ اور ۲۵-اے کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے جو تمام شہریوں کے درمیان مساوات اور معاملات کی انجام دہی میں یکسانی اوران کے لیے ابتدائی تعلیم لینے میں ان سب کا مطالبہ کرتی ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہا ہے اور اس سلسلے میں عدالت ِ عالیہ کے ایک سابقہ مقدمے (PLD 2009 SC 876) کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ملک میں جو لاقانونیت اور افراتفری ہے اس میں کہاں تک اس امر کا دخل ہے کہ ملک میں ایک مفاد یافتہ بالاتر طبقہ وجود میں آگیا ہے جو اپنے کو قانون سے بالا تصور کرتا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اُوپر سے نیچے تک لاقانونیت کا دوردورہ ہے۔ ہماری نگاہ میں قومی زبان، سرکاری معاملات میں غیرملکی زبان کی سفاکانہ حاکمیت کے نتیجے میں قوم: مفاد یافتہ طبقے اور محروم طبقات میں بٹ گئی ہے۔ قومی زبان کے باب میں دستور کے احکامات کی سرکاری سطح پر خلاف ورزی کی نشان دہی بھی اس فیصلے کے بڑا اہم پہلو ہے، جس پر پوری قوم، میڈیا اور پارلیمنٹ کو توجہ دینی چاہیے۔

عدالت نے حکومت، مرکزی اور صوبائی دونوں کو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور بڑے دُکھ کے ساتھ اس بات کو فیصلے کا حصہ بنایا ہے کہ مقدمے کے دوران بھی حکومتوں کا رویہ غیرذمہ دارانہ اور سہل انگاری کا رہا ہے۔ صرف ۲۰۱۵ء کے سات مہینے میں ۱۴ ایسے مواقع آئے ہیں کہ عدالت کے اصرار کے باوجود حکومت اور اس کے اہل کار کم سے کم معلومات بھی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور عدالت کو کہنا پڑا کہ: ’’یہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ دفعہ ۲۵۱ کے نفاذ کے لیے الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں کیا گیا ہے‘‘۔

یہ حکمرانوں کے کردار کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو ہے اور ہمارے سیاسی نظام کے لیے ایک تازیانے سے کم نہیں۔

فیصلے میں تاریخی حقائق کے ساتھ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ قومی زبان کو سرکاری کاروبار اور تعلیم کے لیے استعمال کرنے میں اصل رکاوٹ حکمرانوں کی غفلت، غیرذمہ داری اور  فرض ناشناسی ہے۔ مشوروں، تجاویز اور منصوبوں کی یا صلاحیت کار کی کمی نہیں ہے۔ حکومت اور پارلیمنٹ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور مجبوراً عدالت کو مداخلت کرکے ایسے احکام جاری کرنے پڑ رہے ہیں جو دستور کے، خصوصیت سے اس کی دفعہ ۲۵۱ اور ۲۸ کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں، دستور اور بنیادی حقوق پر عمل کو مؤثر بنانے کے لیے عدلیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے اپنے کو مجبور پاتی ہے۔

اس تاریخی فیصلے میں عدالت نے نو واضح احکام جاری کیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

                ۱-            آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ کے احکامات یعنی ’’اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور صوبائی و علاقائی زبانوں کے فروغ‘‘ کو بلاغیرضروری تاخیر فوراً نافذ کیا جائے۔

                ۲-            حکومت کی جانب سے اس عدالت کے رُوبرو عہد کرتے ہوئے جولائی ۲۰۱۵ء میں اس حوالے سے عمل درآمد کی جو میعاد مقرر کی گئی ہے، اس کی ہرحال میں پابندی کی جائے۔

                ۳-            قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

                ۴-            تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کرلیا جائے۔

                ۵-            بغیر کسی غیرضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم کرنے والے ادارے (قومی زبان کے استعمال سے متعلق) آرٹیکل ۲۵۱ کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس آرٹیکل کا نفاذ یقینی بنائیں۔

                ۶-            وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

                ۷-            عوامی مفاد سے تعلق رکھنے والے عدالتی فیصلوں کا یا ایسے فیصلوں کا جو آرٹیکل ۱۸۹ کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماً اُردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

                ۸-            عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتی الامکان اُردو میں پیش کریں تاکہ عام شہری بھی اس قابل ہوسکیں کہ وہ مؤثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

                ۹-            اس فیصلے کے اجرا کے بعد، اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہل کار آرٹیکل ۲۵۱ کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

اس فیصلے کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس نے عوام کا ایک نیا حق تسلیم کرلیا ہے، یعنی یہ کہ اگر قومی زبان کے سرکاری اُمور میں استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی شہری کا کوئی حق متاثر ہوا ہے یا وہ دوسروں کے مقابلے میں اس کی وجہ سے خسارے میں رہا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور ہرجانے اور تلافی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس حق کا تسلیم کیا جانا اور تلافی کے لیے دروازہ کھول دینا عدالت عظمیٰ کا بڑا ہی انقلابی اقدام ہے جس کو اب ایک عام شہری بھی استعمال کرسکتا ہے اور اس طرح حکومت پر ایک ایسا دبائو پڑسکتا ہے جو اسے خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکے۔

آخر میں ہم دو باتیں اور عرض کرنا چاہتے ہیں: ایک کا تعلق پارلیمنٹ، سول سوسائٹی، سیاسی اور دینی جماعتوں اور ملک کے نظریے سے وفادار، دانش وروں، اہلِ قلم اور مؤثر افراد سے ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بہت آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے لیکن اس ملک کے دوسرے متعلقہ عناصر (stake holders) کیوں غافل ہیں۔ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کررہی؟ میڈیا اس باب میں کیوں خاموش ہے؟ سیاسی اور دینی جماعتیں کیوں متحرک نہیں؟ قومی زبان کو کاروبارِ مملکت کی حقیقی زبان بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بڑا ظلم تو مقتدر قوتوں (بیوروکریسی، سیاست دان، فوجی حکمران) نے بھی کیا ہے جس نے نام تو اُردو زبان کا لیا مگر اس زبان کو جو پوری قوم کی زبان ہے اور جسے ملک کی آبادی کا ۸۰فی صد سے زیادہ حصہ سمجھتا ہے اور رابطے کے لیے استعمال کرتا ہے اور ۶۰ فی صد سے زیادہ بولنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اسے صرف ۸ فی صد کی زبان بنا کر رکھ دیا اور ایسے تعصبات کو فروغ دیا، جنھوں نے اُردو بحیثیت قومی زبان کے کردار پر منفی اثرات ڈالے۔

کچھ افراد کی مادری زبان ہونے کے باوجود اُردو کسی خاص طبقے کی زبان نہیں بلکہ پاکستان کے تمام لوگوں کی قومی زبان ہے اور اس اعتبار سے اسے اپنا کردار زندگی کے ہرمیدان میں ادا کرنا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اسی سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ حکومت کے معاملات کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی اس کے کردار کی فوری فکر کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ مہم محض خواہشات سے سر نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے سب کو سرتوڑ کوشش کرنی ہوگی۔ماضی میں اس عظیم ملّی اور قومی تحریک کی رہنمائی قائداعظم نے کی، جب کہ اسے عملی تحریک بنانے میں ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی مساعی ہماری قومی تاریخ کا روشن حصہ ہے۔

دوسری بات ہے تو کچھ سخن گسترانہ مگر اس کا اظہار بھی پوری نیک نیتی کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ جہاں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے ہمارے سربلند کر دیے ہیں، جس کے لیے ہم عدالت  عظمیٰ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، وہیں فیصلے ہی میں کیے جانے والے اس اعتراف سے کیسے صرفِ نظر کرلیں کہ اُردو کے اس مقدمے کا آغاز خود عدالت ِ عالیہ میں ۲۰۰۳ء میں ہوا تھا اور پھر ۲۰۱۲ء میں دوسری پٹیشن آئی، مگر اس اعلیٰ ترین عدالت نے بھی اس اہم ترین معاملے پر فیصلہ کرنے میں ۱۲سال لیے۔ خدا بھلا کرے جسٹس جواد خواجہ اور ان کے بنچ کا کہ انھوں نے اپنے چیف جسٹس ہونے کے ۲۳ دنوں میں جہاں کچھ دوسرے تاریخی فیصلے کیے، وہاں اُردو کے اس مقدمے کو بھی کامیابی سے ہم کنار کیا اور قوم اور ملک کے لیے اپنی زبان میں اپنے معاملات طے کرنے کے اس بند دروازے کو کھول دیا، جس پر مفاد پرست طبقے اور اس کے ہم نوا دانش ور تالے لگائے ہوئے تھے اور بڑی دیدہ دلیری سے ان تالوں کی حفاظت کر رہے تھے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ عدالت نے صرف دروازہ کھولا ہے___ اس دروازے سے داخل ہونے اور اسے کھلا رکھنے کی   ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ اگر ہم سب بھی متحرک ہوجائیں تو شاید آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے استاد ذوق دہلوی کی یہ پیش گوئی ایک نئے رنگ میں پوری ہوسکے گی   ع

کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

پاکستان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک خطۂ زمین کا نام نہیں۔ پاکستان ایک نظریہ پہلے ہے اور ایک مملکت بعد میں۔۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے پاکستان نام کا کوئی خطۂ زمین دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا لیکن ایک نظریہ تھا ،جو ایک قوم کو اپنے نظریاتی اور تہذیبی وجود کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک خطۂ زمین پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی ایک تاریخی جدوجہد میں سرگرم کیے ہوئے تھا۔ یہی وہ جدوجہد تھی جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے، قائداعظمؒ کی قیادت میں اُمت مسلمہ پاک و ہند کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کے تصور نے ایک خطۂ زمین کی شکل اختیار کی۔ عالمی سیاسی بساط پر ایک ایسے ملک کا رُوپ دھارا جو صرف ایک قومی ریاست (نیشن اسٹیٹ) نہیں، بلکہ اپنی اصل میں ایک نظریاتی ریاست ہے۔یہ مغرب کی لادینی لبرل جمہوریت اور ایشیا کی اشتراکی ریاست اور بھارت کی سیکولر ریاست کے مقابلے میں ایک ایسے سیاسی تصور کے مظہر کے طور پر وجود میں آئی جس میں دنیوی مسائل کو حل کرتے ہوئے الہامی ہدایت اور اخلاقی قوت کی تسخیر کے ذریعے سب کے لیے عدل و انصاف، اخوت اور بھائی چارے اور حقوق و فرائض کی پاس داری پر مبنی نظام قائم کیا جاسکے۔

پاکستان کے تمام مسائل اور مصائب کی اصل جڑ ہی یہ ہے کہ قائداعظم اور قائدملّت کے بعد ملک کی زمامِ کار پر ایسے لوگوں نے قبضہ کرلیا، جن کا کوئی عملی کردار تحریکِ پاکستان میں نہ تھا۔  ملک غلام محمد، محمد علی بوگرا، جسٹس منیر، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان ایک دوسری ہی فکر کے    علَم بردار، اورایک دوسرے ہی طرزِ زندگی کے گرویدہ تھے۔ انھوں نے نظریاتی نیشن اسٹیٹ کو محض ایک ’نیشن اسٹیٹ‘ (قومی ریاست) میں ڈھالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں نظریاتی، معاشی اور تہذیبی کش مکش رُونما ہوئی۔ اس کش مکش نے قوم کو بانٹ دیا ہے اور وہ اصل منزل کی طرف یکسوئی اور یک جہتی سے گامزن ہونے کے بجاے مفادات کی جنگ کی آماج گاہ بن گئی ہے۔ قائداعظمؒ نے نہایت صاف الفاظ میں حصولِ آزادی کے بعد قوم کو یہی یاد دہانی کرائی تھی کہ:

ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔ (۱۲جنوری ۱۹۴۸ئ، اسلامیہ کالج پشاور)

۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو حکومت پاکستان کے افسروں سے خطاب میں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا:

جس پاکستان کے قیام کے لیے ہم نے گذشتہ ۱۰ برس جدوجہد کی ہے، آج اللہ کے  فضل سے وہ ایک مسلّمہ حقیقت بن چکا ہے، مگر کسی قومی ریاست کو معرضِ وجود میں لانا مقصود بالذات نہیں ہوسکتا بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں، جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح  رہ سکیں، جو ہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے، اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے۔

پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ یہی وژن اور اس کو حقیقت کا رُوپ دینے کی انفرادی اور اجتماعی کوشش ہے، اور پاکستان کی کمزوری اور خلفشار کا سبب اس نصب العین اور منزل سے صرفِ نظر کرکے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہونے میں ہے۔

اس مرکزی اہمیت کے مسئلے پر ہماری اور پوری قوم کی توجہ ایک بار پھر سپریم کورٹ کے  فل کورٹ (۱۷ ججوں) کے فیصلے نے مرکوز کرا دی ہے۔ اگرچہ فیصلے کا اصل موضوع دستور کی ۱۸ویں، ۱۹ویں اور ۲۱ویں ترامیم ہیں اور ان کے بارے میں اکثریتی راے سے وہ تلوار ہٹ گئی ہے جو ان ترامیم پر منڈلا رہی تھی۔ پارلیمنٹ کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع مل گیا ہے کہ ان ترامیم کو  ردّ نہیں کیا گیا۔ عدالت بھی خوش ہے کہ اس نے اپنے اختیارات سے دست برداری اختیار نہیں کی، اور دفاعی ادارے بھی سُکھ کا سانس لے رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلین ملزموں پر مقدمات چلانے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ کوئی اسے عدالتی تدبر (judicious statesmanship) قرار دے رہا ہے، کسی نے اسے ’عدالتی حقیقت پسندی‘ (judicial pragmatism)کا نام دے دیا ہے اور کوئی اس پر ’عدالتی موقع پرستی‘ (judicial opportunism) کی پھبتی کی تہمت دینے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔ بظاہر فیصلہ چند قانونی اور انتظامی اُمور سے متعلق ہے، لیکن ۹۰۲ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں بڑی اہم قانونی اور نظریاتی بحثیں کی گئی ہیں۔ بڑی عرق ریزی سے جج حضرات نے اپنے فیصلے لکھے ہیں۔ آٹھ ججوں کا مرکزی اور اجتماعی فیصلہ ہے اور اِس وقت کے چیف جسٹس سمیت نو ججوں نے الگ اپنے اپنے فیصلے لکھے ہیں اور پاکستان کے نظریاتی تشخص، قراردادمقاصد کے مقام اور کردار، دستور میں کسی ناقابلِ تغیر اساس کے وجود یا عدم وجود، عدالتوں کے کردار اور پارلیمنٹ کے دستور میں ترمیم کے اختیار جیسے اہم موضوعات پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ فیصلہ متفقہ نہیں لیکن اختلافی فیصلے (split judgement) کی وجہ سے بحث بڑی مفید، متنوع اور ہمہ جہتی ہوگئی ہے اور نقطہ ہاے نظر کے اختلاف اور امکانات کے تنوع نے سوچ بچار کے نئے گوشے وَا کرا دیے ہیں۔ یہ بات بھی باعث ِ مسرت ہے کہ بحث کا معیار بالعموم بڑا علمی اور باوقار ہے اور ان مباحث میں غوروفکر اور اختلاف و اتفاق کا بڑا سامان موجود ہے اور منظر یہ نظر آتا ہے کہ  ع

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان مباحث میں کچھ بڑے سخت مقامات بھی آگئے ہیں، جن پر نقدواحتساب، علمی بحث اور کھلے ذہن سے افہام و تفہیم کی کوشش کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قومیں ترقی کرسکتی ہیں۔

بحث طلب بنیادی اُمور

دستور میں ۱۸ویں ترمیم اپریل ۲۰۱۰ء میں ہوئی تھی اور اس کے خلاف درخواستیں اس وقت سے عدالت کے زیرسماعت تھیں۔ دستور کی دفعہ ۱۷۵-اے کے بارے میں، جس کا موضوع اعلیٰ عدلیہ  میں ججوں کا تقرر تھا، عدالت کے ایک جزوی فیصلے کی روشنی میں پارلیمنٹ نے ۱۹ویں ترمیم کی اور اسی طرح ۱۸ویں اور ۱۹ویں دونوں ترامیم عدالت کے زیرغور آگئیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے دستوری چھتری فراہم کرنے کے لیے ’ضربِ عضب‘ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اور تینوں افواج سے متعلق خصوصی قوانین میں اور خود دستور میں ۲۱ویں ترمیم کے ذریعے تبدیلیاں کی گئیں، تاکہ ایسی فوجی عدالتیں قائم ہوسکیں جن میں سول ملزموں پر مقدمہ چلایا جاسکے۔ ان ترامیم کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور تقریباً ۳۹ درخواستیں(petitions) سپریم کورٹ میں داخل کی گئیں، جن کے بارے میں فل کورٹ کا فیصلہ ۵؍اگست ۲۰۱۵ء کو سنایا گیا ہے۔

اگر مرکزی مباحث کا تجزیہ کیا جائے تو بنیادی مسائل تین ہی تھے: یعنی اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کا نظام اور اس میں پارلیمنٹ کا کردار، ایسی فوجی عدالتوں کا قیام کہ جن میں کچھ خاص نوعیت کے الزام میں سویلین شہریوں پر مقدمہ چلایا جائے، اور غیرمسلموں کے لیے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر تقرر کا طریقہ۔ پہلے اور تیسرے مسئلے کا تعلق ۱۸ویں اور ۱۹ویں ترمیم سے ہے اور دوسرے کا تعلق ۲۱ویں ترمیم سے ہے، لیکن بات صرف ان متعین مسائل کی نہیں تھی۔ عدالت کو زیادہ موضوعات پر بڑی گہرائی میں جاکر راے قائم کرنا پڑی اور اصل اہمیت ان بنیادی مسائل ہی نے اختیار کرلی، یعنی:

۱- کیا پاکستان کے دستور کا کوئی بنیادی ڈھانچا یا متعین اور ناقابلِ تغیر حصے ہیں جو دستور کی اساس ہیں اور جن کو تبدیل کرنے کا اختیار خود پارلیمنٹ کو بھی حاصل نہیں؟ بہ الفاظِ دیگر   دستورِ مملکت، بلاشبہہ ملک کے سیاسی اور قانونی نظام کی بنیاد ہے، لیکن زمانے کی تبدیلیوں اور نئے مسائل اور مشکلات کے پیدا ہونے سے اس میں ترمیم و تبدیلی بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ: دستور اگر ایک قوم اور ملک کے اجتماعی نظام کا صورت گر ہے، اور اسے قوم نے ایک بنیادی فیصلے کے طور پر طے کیا ہے، تو اس میں کن چیزوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ کون سی ایسی بنیادیں ہیں، جو قوم کی شناخت کے ان پہلوئوں کی حامل ہیں، جن کی تبدیلی سے اس کا وجود اور اجتماعی تشخص بھی مجروح ہوجاتا ہے؟ یقینا کچھ ایسے ناقابلِ تغیر حصے، اصول یا اقدار ہیں جنھیں پارلیمنٹ ترمیم کے نام پر تبدیل نہیں کرسکتی۔ ترمیم صرف جزوی معاملات کے بارے میں ہوسکتی ہے۔ اصل مقاصد کے حصول کی راہ میں اگر کچھ رکاوٹیں آرہی ہوں تو ان کو رفع کرنے کے لیے ہوسکتی ہے، لیکن قوم کے مقاصد اور نظریاتی اہداف، بنیادی حقوق اور اساسی اداروں، یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان کا توازن، یا ایسی ہی کچھ دوسری چیزیں ہیں، جو وجود کا درجہ رکھتی ہیں وہ ناقابلِ تغیر ہیں۔ نیز ان ناقابلِ تغیر حصوں یا اصولوں کا تعین کو ن کرے گا؟ کیا دستور خود یہ طے کرے گا یا دستور کی روشنی میں عدلیہ کا بھی اس میں کوئی کردار ہے؟

۲- اگر دستور کا کوئی بنیادی ڈھانچا یا ناقابلِ تغیر اصول، اقداراور اہداف ہیں تو پھر ان کی حفاظت کیسے ہو؟ کیا پارلیمنٹ ہی ان کی واحد ذمہ دار ہے، یا دستور کے ان پہلوئوں کی حفاظت کی ذمہ داری میں عدلیہ کا بھی کردار ہے جسے قانون کی اصطلاح میں عدلیہ کے نظرثانی کرنے کا اختیار (judicial review) کہتے ہیں؟

۳- بنیادی حقوق کو دستور میں کیا مقام حاصل ہے؟ دستور نے ہی پارلیمنٹ پر یہ پابندی لگا دی ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی نہیں کرسکتی اور دستور نے اعلیٰ عدلیہ کو یہ اختیار دیا ہے کہ متاثر افراد کی شکایت پر یا ازخود نوٹس لیتے ہوئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نہ صرف نوٹس لے، بلکہ اگر کوئی قانون ان سے متصادم ہو تو اس کو خلافِ دستور قرار دے کر منسوخ کردے۔ لیکن کیا یہ اختیار اس صورت میں بھی حاصل ہے جب پارلیمنٹ عام قانون سازی نہیں، بلکہ کوئی ایسی دستوری ترمیم کرے جو بنیادی حقوق کو پامال کرنے یا مجروح کرنے کا سبب بن سکتی ہو؟

انسانی حقوق کی حفاظت اور عام افراد کے لیے عدل کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب عدلیہ آزاد ہو۔ کیا پارلیمنٹ ایسی قانون سازی یا دستوری ترمیم کرسکتی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کو مجروح کردے اور اس طرح وہ دستور کی حفاظت اور بنیادی حقوق کی ضمانت کا فرض ادا نہ کرسکے۔ نیز اگر ریاست کا کوئی نظریہ ہے، جیسے پاکستان کے دستور میں ’قراردادِ مقاصد‘ اور دستور کی دفعہ۲ اور ۲-اے میں اسلام کو ملک کا مذہب قرار دیا گیا ہے اور قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی پر پابندی ہے، کیا ان حصوں میں بھی ترمیم ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور کیا دفعہ ۲-اے کے نتیجے میں قانون ہی نہیں دستور کے بارے میں بھی عدالت یہ فیصلہ دے سکتی ہے کہ اس کی کچھ شقیں قرآن و سنت سے متصادم ہیں؟ یہ سوال بھی اس سلسلے میں اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ایسی ناقابلِ تغیر چیزوں کا تعین ہوگیا ہے یا خود اس بارے میں غوروفکر کا دروازہ کھلا رہے گا اور اس فہرست میں اضافہ یا کمی ہوسکتی ہے اور اگر ہوسکتی ہے تو یہ فیصلہ کون کرے گا___ یعنی کیا پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے، جو   اس کو متعین کرنے کا کام انجام دے گی، یا اس میں پارلیمنٹ کا بھی کوئی کردار ہے، یا صرف پارلیمنٹ ہی یہ فریضہ انجام دے سکتی ہے؟

اس بحث میں ایک بنیادی اور مشکل سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کیا ترمیم کے معنی معمولی اور جزوی تبدیلیاں ہیں، جو اصل مقاصد کے حصول کے لیے ضرورت کے تحت یا مشکلات کو دُور کرنے کے لیے یا نئے امکانات سے فائدہ اُٹھانے کے لیے کی جاسکتی ہیں؟ یا ترمیم کے معنی دستور کو re-writeکرنا، یا زیادہ خام لفظوں میں اس کی مکمل تنسیخ (abrogation) ،یا ایسی تبدیلیاں کرنا ہے جو اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیں، یعنیsubversion؟ اور اگر ترمیم اور تنسیخ دو الگ الگ چیزیں ہیں تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کیا جو ترامیم کی گئی ہیں ان میں کہاں معاملہ صرف ترمیم کا ہے اور کہاں بات تخریبی (subversive)  حد تک پہنچ گئی ہے اور کہاں بات تنسیخ یا معطل کرنے (suspension) کی صورت اختیار کر گئی ہے؟

۴-  ایک اور اہم مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق ’نظریۂ ضرورت‘ سے ہے۔ جسٹس محمدمنیر کے زمانے سے آج تک یہ آسیب باربار سایۂ فگن رہا ہے۔ ملک غلام محمد کے پہلی دستوریہ کو تحلیل کرنے سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے دستور کو معطل کرنے تک، دستور پر بار بار یہ شب خون مارا گیا ہے، اور ہربار اعلیٰ عدالتوں نے ’نظریۂ ضرورت‘ کا سہارا لے کر ایسے اقدام کو جواز اور اعتبار (validation) فراہم کیا ہے اور پارلیمنٹ نے بھی بعد میں بہ امر مجبوری انھیں تحفظ دیا ہے، لیکن عدالت ِ عظمیٰ ہی نے کم از کم دوبار دوٹوک الفاظ میں ’نظریۂ ضرورت‘ کی نفی کی ہے۔ دستور کو منسوخ کرنے یا محض معطل کرنے کو اختیارات کا بدترین استعمال کہا ہے اور اسے کسی بھی قسم کا قانونی تحفظ فراہم کیے جانے کو بھی وطن دشمنی یا غداری (high treason) قرار دیاہے، اور اس کے مرتکب کو غاصب (usurper) کہا ہے۔

اسماء جیلانی کیس میں چیف جسٹس حمودالرحمن کی صدارت میں عدالت نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا (۱۹۶۹ئ-۱۹۷۱ئ) کو ایسا ہی جرم قرار دیا تھا، اور ایک مقدمے میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں فل کورٹ نے ’نظریۂ ضرورت‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خود پارلیمنٹ نے ۱۸ویں ترمیم کے ذریعے دفعہ۶ میں مزید ترمیم کر کے ’نظریۂ ضرورت‘    سے براء ت کا اعلان کیا تھا، لیکن کیا فی الحقیقت ’نظریۂ ضرورت‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا ہے؟ کیا بظاہر اس کا دروازہ بند کیا گیا ہے، مگر کھڑکی یا روشن دان کھلے ہیں، جن سے اس کے داخل ہوجانے یا دَر آنے کے امکانات موجود ہیں؟

یہ وہ بڑے ہی بنیادی مسائل ہیں جن پر اس موجودہ فیصلے میں معرکہ آرا بحثیں کی گئی ہیں، گو کوئی متفقہ فیصلہ نہیں آسکا۔ تاہم، اکثریتی اور اقلیتی فیصلوں کی شکل میں بحث کے تمام ہی اہم گوشے منقش ہوکر سامنے آگئے ہیں اور اس طرح اختلاف راے کے آئینے میں امکانات کی شکلیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

فیصلے کے اھم نکات

اگر ہم فیصلے کا خلاصہ پیش کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

(الف) اکثریت نے دبے لفظوں میں یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دستور کے کچھ حصے اور کچھ اصول اور اقدار جن پر دستور مبنی ہے وہ ناقابلِ تغیر ہیں۔ بھارت میں جس انداز میں بنیادی ڈھانچے کے نظریے کو دستوری اصولِ قانون (constitutional jurisprudence) کا حصہ بنا دیا گیا ہے  وہ کیفیت تو ہماری عدالت کے فیصلے میں نظر نہیں آتی، مگر اصول کی حد تک الفاظ بدل کر دستور کے بنیادی خدوخال (salient features) کی بات کو اکثریت نے تسلیم کیا ہے۔

(ب) اُوپر جس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس باب میں پارلیمنٹ کے اختیارات بسلسلہ ترمیم دستور کی تحدید ہوجاتی ہے، اور اس حد تک اعلیٰ عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ دستوری ترامیم پر بھی نظرثانی کرسکے، جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اگر وہ کسی ترمیم کو دستور کے بنیادی خدوخال سے متصادم پائے تو اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

(ج) دستور کے بنیادی خدوخال کیا ہیں___ اس بارے میں کچھ نکات کو فیصلے کے مختلف حصوں میں بیان کیا گیا ہے، لیکن کوئی جامع فہرست اور مکمل تصویر نہیں دی گئی۔ بنیادی حقوق کا تحفظ اور عدلیہ کی آزادی اور حقوق اور دستور کی حفاظت کے باب میں اس کے کردار کو واضح طور پر دستور کے بنیادی خدوخال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اسلام کو ملک کا مذہب تسلیم کرنے اور اس کے وجود کی اصل وجہ (raison d'etre) تسلیم کرنے کے باوجود کھل کر اسے دستور کے بنیادی خدوخال میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بلاشبہہ اس کا انکار نہیں کیا گیا ہے اور چند محترم جج صاحبان نے اپنے انفرادی فیصلے میں ’قرارداد مقاصد‘ اور دستور کی اسلامی دفعات کو بنیادی خدوخال کا حصہ قرار دیا ہے، خصوصیت سے جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس دوست محمد خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحبان نے بلاواسطہ یا بالواسطہ انداز میں قراردادِ مقاصد اور دفعہ۲- اے کو ایک مرکزی اہمیت دی ہے۔ آٹھ ججوں کے مشترک فیصلے میں اس کو بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے، حالانکہ عدالت کے دستوری ترمیم پر نظرثانی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار نہ عدالت کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں اور نہ قرارداد مقاصد کوکوئی مستقل اور فیصلہ کن کردار دینے کا عندیہ دیتے ہیں، بلکہ ان کے فیصلے میں ’قراردادِ مقاصد‘ کا قد کاٹھ کم کرنے ( belittle) کے متعدد پہلو پائے جاتے ہیں، جن پر ہم آگے کلام کریں گے۔

چیف جسٹس ناصرالملک صاحب نے بھی چونکہ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مکمل اختیارات کا حامل قرار دیا ہے، اور اس ضمن میں عدلیہ کے کسی کردار کی نفی کی ہے، اس لیے وہ بھی ’قراردادِ مقاصد‘ کی فیصلہ کن حیثیت پر خاموش ہیں۔ اس طرح اکثریت نے بلالحاظ اس کے کہ وہ دستوری ترمیم کے باب میں عدالت کے نظرثانی کے حق کے قائل ہیں یا نہیں، کھل کر دستور کے بنیادی خدوخال میں ’قراردادِمقاصد‘ اور ’اسلامی دفعات‘ کا ذکر نہیں فرمایا۔ جناب جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد نے اسے ایک بھول قرار دیا ہے۔ خدا کرے یہ صرف بھول ہو، لیکن اگر یہ بھول ہے تب بھی کوئی معمولی بھول نہیں ہے، جلد ازجلد اس کی تلافی ہونی چاہیے اور ایسا ہونا ہی خوشی کی بات ہوگی!

(د) فوجی عدالتوں کے باب میں ۱۷ میں سے چھے جج صاحبان نے انھیں دستور کے خلاف قرار دیا ہے لیکن ۱۱ جج صاحبان نے دستور اور اس کی بنیادی حقوق کی دفعات سے انھیں متصادم تصور نہیں کیا۔ البتہ عدالت کے لیے جزوی نظرثانی کی کھڑکی ضرور کھول دی ہے، جو روشنی کی ایک ہلکی سی کرن ہے۔ نیز اس ترمیم کا ایک متعین مدت (دو سال) کے لیے ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے جسے عدالت نے اپنی راے قائم کرتے وقت ملحوظ رکھا ہے۔

(ھ) غیرمسلموں کی اضافی نشستوں کے بارے میں عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ لیکن چونکہ اکثریت نے آٹھویں ترمیم کو دستور سے متصادم قرار نہیں دیا، اس لیے اس سلسلے میں درخواست خود بخود غیرمؤثر ہوگئی ہے۔

ہم قانون کی حکمرانی کے قائل ہیں اور عدالت کا فیصلہ ہی اس وقت کا قانون ہے اور   اس وقت تک رہے گا، جب تک پارلیمنٹ یا عدلیہ اس میں تبدیلی نہ کریں، لیکن دنیا بھر میں یہ بڑی صحت مند روایت ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ان پہلوئوں پر بحث و گفتگو کی جاتی ہے، جن کا تعلق اصولوں سے ہو، یا ان اُمور سے متعلق ہوں جو عوامی اہمیت کے حامل ہیں، جیسے انسانی حقوق، معاشی حقوق، معاشرتی عدل اور معاشرے کے اخلاقی اور تہذیبی مسائل وغیرہ۔ اس فیصلے کے اختلافی فیصلہ ہونے کے معنی یہ بھی ہیں کہ خود اعلیٰ عدالت میں مختلف آرا، بلکہ متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آج کا اکثریتی فیصلہ کل کا اقلیتی فیصلہ بھی بن سکتا ہے اور آج کا اقلیتی فیصلہ کل کا اکثریتی فیصلہ۔ اسی طرح صرف علمی بحثوں میں ہی نہیں، عدالتی بحثوں میں بھی اکثریتی فیصلے کے ساتھ اختلافی فیصلوں کو بھی دلیل کی بنیاد بنایا جاتا ہے اور ایسے فیصلوں کا حوالہ (quote) بھی دیا جاتا ہے۔ یہی وہ صحت مند روایت ہے جس کے ذریعے غوروفکر کا باب کھلا رہتا ہے اور علمی ترقی اور انصاف کی فراہمی دونوں میں مدد ملتی ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم فاضل عدالت کے ججوں کے لیے احترام کے بہترین جذبات کے ساتھ کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں:

نظریۂ ضرورت کے احیا کا خدشہ

پہلی گزارش ’نظریۂ ضرورت‘ کے دوبارہ بڑی خاموشی سے سر اُٹھانے کے بارے میں ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ فیصلے میں ’نظریۂ ضرورت‘ کا کھل کر دفاع نہیں کیا گیا ہے، اور ایک ڈھکے چھپے انداز میں حالات کی سنگینی اور غیرمعمولی کیفیات کی بناپر، وقتی طور پر ایک محدود مدت کے لیے، کچھ نظرثانی کی گنجایش پیدا کرتے ہوئے،سویلین افراد کے لیے فوجی عدالتوں کے وجود کو  تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے لیے کچھ گنجایش اس بنیاد پر نکالی گئی ہے کہ دستور میں عدالتی نظام میں کثرتیت (plurality ) پہلے ہی موجود ہے۔ اگر ’خصوصی عدالتیں‘ اور ’ٹریبونل‘ موجود ہیں، تو اسی چلن کے تحت وقتی طور پر تھوڑی سی گنجایش اور بھی پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن یہاں اس بنیادی بات کو شاید ملحوظ نہیں رکھا گیا کہ دستور نے مرکزی نظامِ عدل سے ہٹ کر جہاں کہیں گنجایش پیدا کی ہے، وہ بھی بنیادی طور پر سول قانون ہی کی فراہمی کی ایک شکل ہے۔ جہاں تک قانون کے مرحلہ وار عمل (due process of law) کا تعلق ہے ،جو اَب دستور میں ایک بنیادی حق کے طور پر موجود ہے، اور جو اسلام کا بھی ایک مسلّمہ اصول ہے، اس باب میں نظامِ عدل میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ دوسرے لفظوں میں قانون کا بنیادی ڈھانچا اور قانونی عمل ایک ہی ہے، گو خصوصی میدانوں کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں کا معاملہ اصولاً مختلف ہے۔ بلاشبہہ اس کے اپنے آداب اور قواعد ہیں ، لیکن شہری قانون (civil law) میں جسے ’قانونی مرحلہ وار عمل‘  کہا جاتا ہے اور جس میں گرفتاری کی وجہ، دفاع کا حق، اپنی مرضی کے وکیل کا انتظام، دورانِ حراست ضروری تحفظات، مقدمے کی کھلی سماعت و کارروائی، شہادتوں پر جرح کا حق، فیصلے کے خلاف اپیل کے امکانات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے برعکس فوجی عدالتی نظام میں یہ چیزیں نہیں ہوسکتیں۔

اصل ضرورت اس کی ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو ٹھیک کریں۔ تفتیش (investigation) اور استغاثے (prosecution) کو صحیح بنیادوں پر منظم کریں۔ ججوں، وکیلوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم کریں۔ عدالتوں کی تعداد میں اضافے اور مقدمے کے لیے فیصلے کی مدت میں کمی، انصاف کی فراہمی کو بہتر بناسکتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کو بہتر بناکر وہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے جو فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے ملزمان کو بھیجنے سے حاصل کیا جانا پیشِ نظر ہے۔ پھر قانون میں یہ بڑا سقم ہے کہ دہشت گردی کو بھی انواع و اقسام میں تقسیم کردیا گیا ہے، گویا مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گردی اور شے ہے، اور نسلی، لسانی، معاشی، سیاسی اور دوسری بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گردی اور شے ۔ یہ صریح امتیاز (discrimination) ہے جو انسانی شرف اور ہمارے دستور دونوں کے خلاف ہے۔

’نظریۂ ضرورت‘ نے اس قوم کو بڑے چرکے لگائے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ نظریہ کسی چوردروازے سے آکر ایک بار پھر ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کی فراہمی کے نظام کو تہ و بالا نہ کردے۔

نظریاتی تشخص اور اسلامی دفعات

دوسرا اور اہم ترین پہلو جس پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں، اس کا تعلق دستور کی اسلامی دفعات اور ملک کے نظریاتی تشخص کی حفاظت اور ترقی سے ہے۔ ہماری نگاہ میں ملک و قوم کے مستقبل کا انحصار اس مسئلے کے بارے میں صحیح موقف اختیار کرنے پر ہے۔ ریاست اور مذہب کے تعلق اور پاکستان کے نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی میں اسلام کے کردار کے بارے میں ملک کے اندر اور باہر ایک مخصوص طرز فکر کو منظم انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک خاص گروہ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت فکری انتشار پھیلانے اور اسلام اور دینی قوتوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ اس پس منظر میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ضرورت اور بھی محکم ہوجاتی ہے کہ اس بارے میں قوم میں مکمل یکسوئی ہو۔دلیل، تاریخی حقائق اور قوم کے حقیقی جذبات و احساسات کی روشنی میں قوم، پارلیمنٹ اور عدالت ایک واضح راستہ اختیار کریں۔ ہمیں توقع ہے کہ ان شاء اللہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس فیصلے پر نظرثانی کرکے وقت کی اس ضرورت کو پورا کرے گی۔ ہم مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کی صحیح تفہیم کے لیے اصل مسئلے اور عدالت کے فیصلے میں اُٹھائے گئے سوالات کے بارے میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں۔ ہم دلیل سے بات سننے اور خود اپنی راے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے ہمیشہ آمادہ ہوں گے۔ ہماری درخواست اور دُعا ہے کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے فاضل جج بھی دلیل سے بات سننے اور اگر دلیل معقول ہو تو اپنی راے پر نظرثانی کرنے کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پاس کریں گے۔

پاکستان کا قیام محض تحریکِ آزادی کا ایک حصہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے حق خود ارادی کی بات، ایک نظریے کی بنیاد پر ایک علاقے کے حوالے سے تھی، یعنی قوم ایک نظریے کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک علاقے کو حاصل کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نظریہ ہی قوم کی بنیاد تھا اور نظریہ ہی ریاست کی بنیاد بنا۔ قراردادِ مقاصد اس نظریاتی اور تاریخی حقیقت کا دستاویزی مرقع اور پاکستانی قوم کے ریاست سے عمرانی معاہدے کا اقرار و اظہار ہے۔ یہ روایتی طور پر دساتیر اور قوانین میں درج ہونے والے عام پیش لفظوں (preambles)سے قطعاً مختلف اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد دستاویز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف دستور ہی نہیں، پاکستانی قوم اور ریاست کی زندگی میں اس کا ایک ایسا مقام ہے، جس کی کوئی نظیر نہیں پائی جاتی اور جسے کوئی درہم برہم نہیں کرسکتا۔

’قراردادِ مقاصد‘ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تین اور دستاویزات کو بغور دیکھا جائے اور ان کے پس منظر میں قراردادِ مقاصد کے اصل پیغام اور مقام کو متعین کیا جائے:

  •  خطبۂ الٰہ آباد: پہلی دستاویز علامہ اقبال کا ۱۹۳۰ء کا خطبہ ہے، جس میں کھل کر تین باتوں کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ تینوں ہی آگے کی جدوجہد، تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے سنگ ہاے میل بنیں۔

اوّلاً: اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ دین و دنیا کی تفریق کی اس میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ایمان باللہ اور ایمان بالرسولؐ صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ وہ بیک وقت بندے اور رب کے درمیان جہاں ایک روحانی اور اخلاقی تعلق کو استوار کرتے ہیں، وہیں انسانوں کے درمیان تعلقات اور سماجی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کے لیے بھی ایک واضح ضابطۂ کار فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عقیدے اور اجتماعی زندگی میں ایک ناقابلِ تنسیخ تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلق اتنا بنیادی ہے کہ ایک کی کمزوری یا رشتے کی نوعیت کی تبدیلی واقع ہو، تو دوسرا رشتہ بھی باقی نہیں رہتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ عقیدے کے طور پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کو اسلام کے احکام کے مطابق ڈھالنے کا اہتمام ہو اور جو چیزیں اس میں مانع ہیں، ان سے نجات حاصل کی جائے۔

دوم: برعظیم پاک و ہند میں مسلمان مغرب کے لبرل جمہوری نظام کا حصہ بن کر اپنا دینی اور اجتماعی تشخص برقرار نہیں رکھ سکتے۔ مسئلہ صرف مسلمانوں کے دنیوی مفادات اور سیاسی حقوق کا ہی نہیں، ان کے دین و معاشرت اور ان کے عقیدے اور ایمان کا بھی ہے۔ جن حالات سے مسلمان دوچار ہیں، ان میں ہندو اکثریت کے ساتھ مشترک قومیت اور مشترک سیاسی اور اجتماعی نظام کی صورت میں نہ ہماری تہذیب و تمدن کی بقا ممکن ہے اور نہ سیاست اور معاشرت کی اور نہ عقیدے اور ایمان کی حفاظت۔اس لیے نئی سیاسی تنظیم بندی اور سیاسی اقتدار کے لیے نئی علاقائی تشکیل ناگزیر ہوگئی ہے۔

سوم: اُوپر کے مقاصد کے حصول کے لیے جو قابلِ عمل راستہ ہے، وہ تقسیمِ ملک ہے، تاکہ  جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں ان کو نئی سیاسی تنظیم کے ذریعے آزاد اور خودمختار ملک کی شکل دے دی جائے ،اور جن علاقوں میں ہندوئوں کی اکثریت ہے وہاں وہ حکمران ہوں۔

  •  قراردادِ لاھور: اس سلسلے کی دوسری دستاویز مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور اور اس کی تشریح میں کی جانے والی قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تقریر ہے، جس میں مسلمانوں کے ایک عقیدے، ایک دین، ایک تصورِ حیات، ایک ضابطۂ اخلاق اور ایک تہذیب و تمدن کے حامل ہونے کی بنیاد پر ایک قوم کا تصور دیا گیا اور اس قوم کے لیے اپنے نظریات کے مطابق زندگی کے نقشے کو تشکیل دینے کے لیے ایک آزاد ملک کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستان کا نام نہ تھا، تاہم نئی ریاستی تشکیل کے بارے میں ایک ابتدائی خاکہ دیا گیا تھا۔
  • قرارداد ۱۹۴۶ئ: تیسری اہم دستاویز اپریل ۱۹۴۶ء کی وہ قرارداد ہے، جس میں ۱۹۴۰ء کی قرارداد کی واضح ترین اور معتبر ترین تشریح و تعبیر کی گئی۔ جس میں دو قومی نظریے کو قرارداد کے دیباچے کے طور پر قرارداد کا حصہ بنایا گیا اور پھر جس کے تقاضے کے طور پر ایک مملکت جس کا نام پاکستان ہوگا، اس کا واضح تصور پیش کیا گیا۔ اس قرارداد پر پورے برعظیم سے منتخب ہونے والے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے اللہ کا نام لے کر اور اس اقرار کے ساتھ کہ: ’’میری نماز اور میرے تمام مراسمِ عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo الانعام ۶:۱۶۲) حلف لیا تھا کہ اس مقصد سے وفادار رہیں گے اور اس کے لیے کسی قربانی سے کوئی دریغ نہیں کریں گے۔

یہ ہیں وہ تین دستاویزات، جن کے خمیر سے قراردادِ مقاصد کی صورت گری کی گئی ہے۔ اس کا سلسلۂ نسب کسی اور طرف جوڑنا تاریخ اور حقائق دونوں سے زیادتی ہوگا۔

قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظمؒ نے کم از کم ۱۳ بار پاکستان کے اسلامی تشخص اور تاریخی کردار کا کھل کر اظہار کیا، اور تقسیم سے قبل ۱۰۰ سے زیادہ بار جو تصور انھوں نے دیا تھا اور جس نے برعظیم کے مسلمانوں کو ایک نیا عزم، نئی زندگی اور نئی جدوجہد پر کمربستہ کیا تھا اس کا اعادہ کیا۔ جوافراد اس مشن اور منزل سے انحراف یا اغماض کی باتیں کر رہے تھے ان کو منہ توڑ جواب دیا۔

قراردادِ مقاصد کی جوھری حیثیت

اس پس منظر میں پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر اس امر پر کھلا اظہارِ خیال ہوا کہ دستور کو کیسا ہونا ہے، اس کو ایک قراردادِ مقاصد کی شکل میں دستور کے بننے سے پہلے مرتب کر دیا جائے، تاکہ پاکستان کی منزل کا تحریکِ پاکستان کے اوّلیں ذمہ داران کے ہاتھوں دستوری زبان میں تعین کردیا جائے۔ اس زمانے کے اخبارات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریکِ پاکستان کے سیکڑوں قائدین اور کارکنوں اور علماے کرام کی بڑی تعداد نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ریاست کے اسلامی کردار کے بارے میں دستوری زبان میں جلد از جلد اظہار و اعلان کیا جائے۔

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا اکرم خان کے مشورے سے جناب لیاقت علی خان اور ان کے رفقا خصوصیت سے جناب عبدالرب نشتر، جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے ایک مسودہ تیار کیا، جس پر پارلیمنٹ سے باہر اہلِ علم سے بھی مشاورت ہوئی۔ میں گواہ ہوں کہ اس کا مسودہ پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم  کے ذریعے مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا اور انھوں نے اس پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔

قراردادِ مقاصد محض ایک دستوری دیباچہ (preamble) نہیں بلکہ ایک مستقل دستوری دستاویز ہے اور ’میگناکارٹا ‘کی طرح اپنا منفرد وجودرکھتی ہے۔ بلاشبہہ اس میں پاکستان کی نظریاتی اساس کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور پاکستان میں کن بنیادوں پر اور کن خطوط پر اجتماعی نظام کا قیام عمل میں آئے گا، اس کے تمام ضروری خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ ساتھ ان بنیادی خدوخال کی روشنی میں دستور بنانے کی ہدایت (direction) دی گئی ہے، جو محض ایک خواہش یا نظری تمنا نہیں، بلکہ واضح طور پر ایک قانونی حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی زبان، اس کی ترتیب، اس کے مندرجات ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے تمام دساتیر میں پائے جانے والے دیباچوں سے اس کا موازنہ کر لیجیے، یہ سب سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستان میں بنائے جانے والے تمام دساتیر میں بطور دیباچہ یہ شامل ہے، وہاں اس کی اپنی ایک مستقل بالذات حیثیت ہے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اور پھر ۱۹۸۵ء میں ترمیم کے ذریعے بطور دفعہ ۲-اے شامل ہوجانے سے، اس کے قانونی کردار میں اگر کوئی ابہام تھابھی، تووہ دُور ہوچکا ہے۔

قراردادِ مقاصد پہلی دستوریہ میں بڑی اچھی فضا میں کھلی بحث کے بعد منظور کی گئی۔ تمام مسلمان ارکانِ پارلیمنٹ نے اس کی تائید کی اور چند نے بڑی جان دار تقاریر کیں، جو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ صرف کانگریس کے ارکانِ اسمبلی نے مخالفت کی، اور اس طرح ایک بار پھر وہی منظر دنیا نے دیکھ لیا، جو تقسیم سے قبل تحریکِ پاکستان کے دوران شب و روز نظر آتا تھا___ مسلمان اپنے ایمان، نظریے اور نظامِ زندگی پر مبنی شناخت کی بنیاد پر ایک فریق اور ہندو اور سیکولر قوتیں دوسرا فریق۔ مسلمانوں میں علما بھی تھے اور لبرل بھی، لیکن سب یک زبان تھے۔ مولانا شبیراحمدعثمانی  ؒ سے لے کر میاں افتخارالدین صاحب تک سب نے اس قرارداد کے حق میں پورے جذبے اور جوش سے بڑے محکم دلائل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا اور کانگریس کے ہندو ارکان نے اپنے تاریخی اور روایتی موقف کے مطابق اختلاف کا اظہار کیا۔ کانگریس کے ارکان نے درجن بھر ترامیم بھی پیش کیں، جو اکثریت سے رد کردی گئیں۔ پھر قرارداد منظور ہوئی، لیکن اس پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی۔ اس لیے اسے دستور ساز اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ پوری قوم نے یک زبان ہوکر اس کی تائید کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، اس کے ذریعے ملک کی منزل اور ترقی کا رُخ متعین کردیا اور اس کی شکل میں اللہ کی حاکمیت کا ابدی اور سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے اظہار کیا۔ واضح رہے کہ حالیہ سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ملک کی قیادت نے اللہ کی حاکمیت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود کے اندر اپنی آزادی اور اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تشکیل کا عہد کیا اور پارلیمنٹ کو حکم دیا کہ ان خطوط پر نیا دستور مرتب کرے۔ یہ محض ایک خواہش کا اظہار نہ تھا، جیساکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی اپنے وضاحتی نوٹ میں لکھا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی امتیازی شان ہی یہ ہے کہ وہ ایک واضح رہنمائی (direction) ہے اور اس حیثیت سے وہ خود بھی ایک حکم (order)کا درجہ رکھتی ہے اور اس میں جو اصول طے کیے گئے ہیں، وہ بھی اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں، جو ایک تاریخی عمرانی معاہدہ ہیں اور جن میں کسی کو بھی تغیر و تبدیلی کی اجازت نہیں۔ وہ اصول کیا ہیں؟ پہلے ان کو ذہنوں میں تازہ کرلیں تاکہ قراردادِ مقاصد کی امتیازی شان اور اس کا دیا ہوا پاکستان کا وژن واضح ہوجائے:

۱- قراردادِ مقاصد کا سب سے اہم حصہ اس کا ابتدائیہ ہے، جو پوری قرارداد کے رُخ اور خطوطِ کار کو متعین کرتا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ پوری قوم، ریاست اور اس کے تمام اداروں کے لیے واضح اور مستقل ہدایات کی بنیاد فراہم کرتا ہے:

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت ِغیرے حاکمِ مطلق ہے اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکت ِ پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے۔

اس تمہید پر جو اساس ہے، غور کیا جائے تو پاکستان کا خصوصی اور امتیازی کردار واضح ہوجاتا ہے:

                ۱-            سیکولر تصورِ زندگی کے مقابلے میں یہ زندگی کا ایک بالکل دوسرا تصور ہے کہ کائنات کا اصل حاکم اللہ تعالیٰ ہے، انسان کی حیثیت اس کے خلیفہ کی ہے۔ جو انسان اس خلافت کی ذمہ داری کو قبول کریں وہ مسلمان ہیں اور اس حاکمِ مطلق کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور زندگی کا نظام چلانے کا عہد کرتے ہیں۔

                ۲-            اس تصور کا تقاضا ہے کہ زندگی اور حکمرانی کا پورا نظام اللہ کی بتائی ہوئی حدود کے اندر اور اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق انجام دیا جائے اور یہ ہدایت زندگی کے تمام پہلوئوں کے بارے میں ہے، کوئی دائرہ اس سے باہر نہیں۔

                ۳-            اجتماعی زندگی میں حکمرانی کا یہ اختیار کسی خاص فرد، خاندان، گروہ یا طبقے کو نہیں دیا گیا بلکہ یہ اختیار ملک کے تمام عوام کو دیا گیا ہے، جن کی مرضی سے اور جن کے منتخب نمایندوں کے ذریعے اسے انجام دیا جائے گا۔

                ۴-            زندگی اور تمام وسائل کی حیثیت ایک امانت کی ہے اور امانت کے تصور میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں کہ جس نے یہ امانت دی ہے اصل فیصلہ کرنے والا وہی ہے اور اس امانت کو اس کی ہدایت کے مطابق ادا ہونا چاہیے، اور دوسرے یہ کہ اس امانت کے ساتھ جواب دہی بھی لازمی ہے اور اس فریم ورک میں یہ جواب دہی دُہری ہے، یعنی ایک اللہ کے سامنے اور دوسرے عوام کے سامنے جن کے ذریعے اس امانت کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

                ۵-            آخری چیز یہ ہے کہ اس طرزِ حکمرانی اور طریقۂ فیصلہ سازی کا اطلاق ریاست اور اس کے تمام اداروں پر یکساں ہے۔ ریاست کے لفظ کا استعمال یہاں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں اختیار عوام کو دیا گیا ہے وہیں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ریاست کے جتنے بھی ادارے ہیں وہ اپنے اپنے دائرے میں اس امانت کے امین اور اس کے سلسلے میں جواب دہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ جس مثالیے ( paradigm) کو اس قرارداد میں پیش کیا گیا ہے وہ کوئی  نئی بات نہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مدینہ کی ریاست کے قیام سے لے کر آج تک اُمت کا یہی نقطۂ نظر رہا ہے۔

چیف جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس مسلمانوں کے اس امتیازی طرزِعمل کو یوں بیان کرتے ہیں:

اسلامی ریاست کی بنیاد خود مذہب کی آمد کے ساتھ ہی رسولؐ اللہ کو اللہ کی طرف سے براہِ راست ہدایت کے ذریعے مکمل جزئیات کے ساتھ ڈال دی گئی تھی۔ جن کو ایسی روشن بصیرت، فہم کی گہرائی اور ذہنی قوت مرحمت کی گئی تھی کہ ۱۰سال کے مختصر عرصے میں قرآنی ہدایت اور رسولؐ اللہ کے عمل کی روشنی میں حکومتی نظم و ضبط، قانون اور خارجہ اُمور چلانے کے اصول، یعنی ایک ایسی سلطنت کے تمام لوازمات جو پورے عرب پر حاوی تھی، بیان کردیے گئے تھے۔(Chief Justice Cornelius of Paksitan: An Analysis with Letters and Speeches، مرتبہ:رالف برے بنٹی، اوکسفرڈ   یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۹ئ، ص ۲۸۹)

خود قائداعظم نے عثمانیہ یونی ورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تصورِ ریاست کو اس طرح واضح کیا تھا:

اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفاکیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے، جس کی تکمیل کا عملی ذریعہ قرآنِ مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآنی اصول و احکام کی حکومت ہے۔ (ملاحظہ ہو: قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ مرتبہ: حمیدرضا صدیقی،  ناشر:کاروان، لاہور، ۱۹۹۳ئ، ص ۸۱)

قراردادِ مقاصد کے محرک جناب لیاقت علی خان نے قرارداد پیش کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، وہ بھی قرارداد کی منظوری کے اُس موقعے کو ملک کی زندگی کااہم واقعہ سمجھتے تھے: ’’اہمیت کے اعتبار سے صرف حصولِ آزادی کا واقعہ اس سے بلند تر ہے‘‘ کہہ کر انھوں نے فرمایا تھا:

پاکستان اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ برعظیم کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات اور روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ دنیا پر عملاً واضح کر دینا چاہتے تھے کہ آج حیاتِ انسانی کو طرح طرح کی جو بیماریاں لگ گئی ہیں، ان سب کے لیے اسلام ہی اکسیراعظم (panacea) کی حیثیت رکھتا ہے۔

انھوں نے میکیاولی کے تصورِ سیاست کے مقابلے میں اسلام کے اصولِ حکمرانی کی بنیاد پر ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور صاف الفاظ میں کہا: ’’ہماری ریاست کی بنیاد یہ ہے کہ تمام اختیار اور اقتدار ذاتِ الٰہی کے تابع ہونا لازمی ہے اور اس طرح مملکت کے وجود کو خیر کا آلۂ کار ہوناچاہیے، نہ کہ شرکا‘‘۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ہم پاکستانیوں میں اتنی جرأتِ ایمانی موجود ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام (انسانی) اقتدار اسلام کے قائم کردہ معیارات کے مطابق استعمال کیا جائے، تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے‘‘۔

ہماری ان گزارشات سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ قراردادِ مقاصد کوئی روایتی قرارداد یا محض ایک دستور کے لیے مقدمہ نہیں تھی، بلکہ ایک نئے تصورِ زندگی کو ریاست کی بنیاد بنانے کا اعلان اور اس اعلان کے مطابق ایک دستور کی تدوین اور نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے واضح اور حتمی حکم نامہ ہے۔

یہاں ضمناً ہم یہ وضاحت بھی کردیں کہ قراردادِ مقاصد کے اصل مسودے میں لفظ ’اسٹیٹ‘ موجود ہے اور اب بھی دستور کی دفعہ ۲-اے میں جس قرارداد کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قرارداد انھی الفاظ کے ساتھ ہے، جو ۱۲مارچ ۱۹۴۸ء کو دستورساز اسمبلی میں منظور کی گئی تھی اور جس میں سے ’’اسٹیٹ‘‘ کے لفظ کو نکلوانے کے لیے کانگریس کے رکن جناب پروفیسر چکرورتی نے ایک ترمیم پیش کی تھی، کہ اسے ’عوام‘ سے بدل دیا جائے جو اس وقت منظور نہیں ہوئی تھی۔ آج بھی یہ اصل ’قراردادِ مقاصد‘ میں موجود ہے۔ دستور کے ضمیمے میں جو قرارداد دی گئی ہے، وہ انھی الفاظ میں ہے جن میں وہ اصلاً منظور کی گئی تھی۔ اس میں ’ریاست‘ کے ساتھ ’عوام‘ کا ذکر بھی ہے۔ البتہ، بعد میں جب دستور میں اس قرارداد کو بطورِ دیباچہ شامل کیا گیا تو ’ریاست‘ کا لفظ نکال دیا گیا۔ ضمناً یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ یہ تبدیلی ۱۹۵۶ء کے دستور میں کی گئی تھی اور فاضل جج جسٹس جواد ایس خواجہ کا یہ خیال درست نہیں کہ یہ تبدیلی ۲۴سال بعد ۱۹۷۳ء میں کی گئی ہے۔ ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء دونوں کے دساتیر  نکال کر دیکھ لیں ان میں ’ریاست‘ کا لفظ نہیں ہے۔ میری ذاتی راے میں ’ریاست‘ کا لفظ رہنا چاہیے تھا، اس لیے کہ عوام کے ذریعے اس اختیار کے استعمال کی بات قرارداد کے دیباچے اور آگے کی ہدایات دونوں میں موجود ہے۔

قراردادِ مقاصد کا اصل جوہر اور اساس یہی تصورِ کائنات، تصورِ زندگی اور سیاسی نظام کا تصور ہے اور یہ جدید عالمی سیاسی تناظر میں ایک حقیقی مرکز ثقل  کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ایک تبدیلی سے ہر چیز بدل جاتی ہے کہ اب ہماری آزادی ان حدود کی پابند ہوجاتی ہے، جو قرآن و سنت نے ہمارے لیے متعین کی ہیں۔ آزادی برحق اور عوام کا یہ اختیار کہ وہ ہی حکمرانوں کا انتخاب کریں اور ان کا احتساب کریں اپنی جگہ مسلّم، لیکن عوام اور اربابِ اقتدار، افراد اور ادارے سب حدود اللہ کے پابند کردیے گئے ہیں۔ سب کو وہ مقصد اور مشن دے دیا گیا ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ؑ بھیجے اور جس کا مکمل ترین اظہار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، تعلیمات اور نمونے میں ہے۔

قراردادِ مقاصد کی باقی تمام شقیں اس بنیادی اپروچ کی وجہ سے بالکل مختلف معنویت رکھتی ہیں اور اگر الفاظ میں دنیا کے دوسرے دساتیر سے کچھ مماثلت نظر آتی ہے، تو وہ بھی صرف ظاہری ہے۔ جوہری اعتبار سے ان سب کا مفہوم حدود اللہ کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔ ویسے تو شکل و صورت کے اعتبار سے ایک مسلمان اور کافر میں بہت سی چیزیں مشترک اور مماثل ہیں، لیکن تصورِ زندگی اور  حلال و حرام کی حدود دونوں کو دو مختلف شخصیتیں بنادیتے ہیں۔ اسی طرح قراردادِ مقاصد اور خصوصیت سے اس کے اساسی عقیدے نے ہر چیز کا رُخ بالکل بدل دیا ہے۔

۲- قراردادِ مقاصد نے اس بنیادی حقیقت اور پاکستان کے دستور اور حکمرانی کے لیے نئے مثالیے کی نشان دہی کے بعد پاکستان کے سیاسی نظام کا جو نقشہ دیا ہے وہ یہ ہے:

                ۱-            مملکت اپنے اختیارات اور اقتدار کو جمہور کے منتخب نمایندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔

                ۲-            جمہوریت، آزادی، مساوات ، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا۔

                ۳-            جس کی رُو سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کے لائق بنایا جائے گا۔

                ۴-            جس کی رُو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور اس پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔ نیز اقلیتوں اور پس ماندہ طبقوں کے جائز حقوق کو تحفظ ملے گا۔

                ۵-            جس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون و اخلاقِ عامہ کے ماتحت مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل، اظہارِ خیال، عقیدہ و دینی عبادات اور ارتباط کی آزادی شامل ہو۔

                ۶-            جس کی رُو سے وفاق کے علاقوں کی حفاظت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں اس کے برو بحر و فضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔

ان چھے بنیادوں پر پاکستان کی علاقائی سالمیت اور عوام کی خوش حالی اور اقوامِ عالم میں  اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کرنے اور امنِ عالم کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے مقاصد کے حصول کو ملک و قوم کا ہدف اور منزل مقرر کیا گیا۔

واضح رہے کہ قرارداد میں نظریاتی ریاست کی تشکیل کے باب میں ابتدائیہ کے علاوہ:  دو دفعات نظریاتی ریاست میں مسلم معاشرے کی تشکیل سے متعلق ہیں، اور دو دفعات غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کے لیے۔ ایک دفعہ عوامی نمایندہ حکومت اور عوام کے سرچشمۂ قوت ہونے کے بارے میں ہے۔ ایک کا تعلق سب شہریوں کے لیے بنیادی حقوق کی ضمانت سے ہے۔ ایک عدلیہ کی آزادی کے بارے میں ہے، ایک علاقائی حدود کے تعین اور ان کی حفاظت سے متعلق ہے، اور ایک مملکت کے وفاقی نظام کی وضاحت کرتی ہے۔ یہی تمام پہلو دستور کے وہ بنیادی خصائص (features) ہیں، جن سے ہمارا سیاسی اور تہذیبی وجود عبارت ہے اور جن میں کوئی تبدیلی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ قرارداد اور دستور کے یہ پہلو ہر چیز پر غالب اور حکمران ہیں اور ان کی حفاظت عوام، پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔(جاری)

۱۶؍اگست ۲۰۱۵ء کو نمازِ فجر کے بعد خبریں سننے کے لیے ٹی وی کھولا تو پہلی خبر ہی جنرل حمیدگل کے انتقال کی تھی___  انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

موت برحق ہے۔ ہم سے رخصت ہونے والا یاددہانی کراتا ہے کہ آنے والی اصل زندگی کے لیے کچھ کر رکھنے کی فکر ہماری ہر فکرمندی پر غالب ہونی چاہیے۔ نیز رخصت ہونے والا جتنا عزیز، جتنا قریب اور جتنا عظیم ہوتا ہے اس سے جدائی کا دُکھ بھی اتنا ہی شدید، اتنا ہی گہرا اور قلب کو تڑپانے والا ہوتا ہے۔ جنرل حمیدگل عزیز ہی نہیں، عزیز جہاں بھی تھے۔ ان کا انتقال بلاشبہہ میرے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے لیکن مجھے علم ہے کہ یہ نقصان میرے جیسے ہزاروں انسانوں کا نقصان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور عالمِ اسلام کا نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ان کو اپنے جوارِرحمت میں جگہ دے،ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات سے نوازے۔ یہ بھی دُعا ہے کہ ان کی وفات سے پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے بھرنے کا انتظام فرمائے اور اس قوم کو وہ قیادت میسر آئے جس کا وژن ہر آلودگی سے پاک ہو، جس کی سیرت بے داغ ہو، جو عزم و ہمت کا پیکر ہو، جس کی منزل اور مشن اسلام کی سربلندی، پاکستان کے نظریاتی، سیاسی ، معاشی اور تہذیبی وجود کا استحکام ہو، اور جو ملت اسلامیہ کے لیے ایک روشن مستقبل کی تعمیروتشکیل کے لیے سرگرم ہو۔

جنرل حمیدگل سے میرا پہلا تعارف اس دن ہوا جب مارچ ۱۹۸۸ء میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں، جس میں جنیوا معاہدے پر بحث ہو رہی تھی، ان کو ارکانِ پارلیمنٹ کے سامنے افغان جہاد اور جنیوا معاہدے کے بارے میں بریفنگ کی دعوت دی گئی۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ معاہدہ ہوجائے، اور وزارتِ خارجہ نے ایسی بریفنگ دی تھی جو تصویر کا ایک خاص رُخ پیش کر رہی تھی۔ آئی ایس آئی کے چیف کی حیثیت سے جنرل حمیدگل کو بریفنگ کی دعوت دی گئی اور وزیراعظم صاحب کی توقعات کے برعکس انھوں نے بڑے مضبوط دلائل سے اور بڑے اعتماد اور بڑی جرأت کے ساتھ اس معاہدے کا پوسٹ مارٹم کرڈالا اور تصویر کا وہ رُخ پیش کیا جسے چھپایا جا رہا تھا۔ وزیراعظم اور ان کے وزیروں خصوصیت سے زین نورانی کے چہروں پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا۔ بالآخر جونیجو صاحب سے نہ رہا گیا اور بیچ میں مداخلت کر کے انھوں نے جنرل حمیدگل کو بات ختم کرنے کی ہدایت کی۔ جنرل حمیدگل نے کسی ناراضی کے بغیر بات کو ختم کردیا، لیکن ارکان پارلیمنٹ نے صاف محسوس کرلیا کہ ان کی زبان بندی کی گئی ہے۔ محترمہ سیّدہ عابدہ حسین میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان سے بھی رہا نہ گیا اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا کہ حالات کی یہ تصویر تو ہمارے سامنے آئی ہی نہ تھی! پارلیمنٹ میں مَیں نے اور حزبِ اختلاف کے دوسرے ارکان نے جنیوا معاہدے کی بھرپور مخالفت کی، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کی راہداری میں سابق وزیرخارجہ صاحبزادہ یعقوب علی نے بھی اپنے اضطراب کا اظہار کیا (وہ رکن نہ تھے اس لیے بحث میں شرکت نہیں کرسکتے تھے)۔ لیکن جونیجو صاحب نے وہ کیا جو امریکا چاہتا تھا اور اس طرح جہاد افغانستان کو de-rail کرنے (پٹڑی سے اُتارنے) اور افغانستان اور پاکستان دونوں کے لیے ایک جیتی ہوئی بازی کو ہار کی طرف دھکیلنے کا عمل شروع ہو گیا جس کے نتائج آج تک ہم اور پورا خطہ بھگت رہا ہے۔

جنرل حمیدگل نے سرکاری افسر ہوتے ہوئے وزیراعظم کی لائن سے ہٹ کر صحیح صحیح صورتِ حال پیش کر کے ایک تابناک مثال قائم کی___ اوریہیں سے میرے اور ان کے تعلقات کا آغاز ہوا۔ میں نے ان کی راے کی تائید کی، ان کی زبان بندی پر احتجاج کیا اور جنیوا معاہدے کو  رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ پہلی ملاقات ایک اجتماع میں ہوئی تھی، جس میں مَیں نے سرعام ان کے تجزیے اور ان کی جرأت دونوں کو سراہا۔ جو تعلق ۱۹۸۸ء کی اس ملاقات میں بنا تھا، وہ وقت  گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا اور ذاتی دوستی اور اعتماد کے رشتے میں تبدیل ہوگیا۔ الحمدللہ، ہمارے تعلقات ۲۷سال کے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ بارہا میرے گھر اور میرے دفتر میں تشریف لائے۔ مجھے یاد ہے کہ کم از کم دو بار مَیں بھی ان کے گھر گیا او ان کے دیوان خانہ میں سجا ’دیوارِبرلن‘ کا ٹکڑا آج بھی یاد ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر ایک ماہ ہم ۱۹۹۳ء میں کابل میں تقریباً ساتھ رہے۔ گو ہمارا قیام دو مختلف جگہوں پر تھا، مگر ہم روزانہ ہی ملتے رہے اور مجاہدین کے متحارب گروہوں کو ایک متفقہ لائحہ عمل پر آمادہ کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کے رفیق کار رہے۔

یہاں اس امر کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ گو ہم (یعنی جماعت اسلامی کا وفد جس کی قیادت محترم قاضی حسین احمد کر رہے تھے اور جس میں مولانا جان محمد عباسی، مولانا عبدالحق بلوچ، پروفیسر ابراہیم، برادرم خلیل حامدی اور مَیں شامل تھے) افغانستان کے صدر پروفیسر ربانی کے مہمان تھے اور جنرل حمیدگل ایک دوسرے مہمان خانے میں ٹھیرے ہوئے تھے، لیکن دن کا بڑا حصہ ہمارے ہی ساتھ گزرتا تھا، جس میں بار بار پروفیسر ربانی، احمد شاہ مسعود، پروفیسر سیاف اور حکمت یار (جن کا کیمپ  (base) کوئی ۲۱ کلومیٹر دُور تھا) سے مشترکہ اور الگ الگ ملاقاتیں ہوتی تھیں۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ جنرل حمیدگل کے پسندیدہ مجاہد گلبدین حکمت یار تھے اور یہی بات جماعت اسلامی کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے، اس میں اتنی صداقت تو ضرور ہے کہ وہ اور ہم سب گلبدین حکمت یار کی دل سے قدر کرتے تھے اور کرتے ہیں اور حزبِ اسلامی کے جو حقیقی اثرات تھے ان کا ادراک رکھتے تھے، مگر اس بات میں قطعاً کوئی صداقت نہیں کہ جنرل صاحب یا ہم کسی ایک کے ساتھ بریکٹ (bracket) تھے۔ پروفیسر ربانی کے تو ہم مہمان ہی تھے، احمد شاہ مسعود سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے اور ہر روز ہی بات چیت ہوتی تھی۔ میں شاہد ہوں کہ جنرل حمیدگل کو سب کا اعتماد حاصل تھا۔ اُس پورے مہینے میں مَیں نے خود دیکھا کہ سب مجاہد رہنما ان کی عزت کرتے تھے ، ان کی بات کو وزن دیتے تھے اور ان سے تعلقات میں کوئی شائبہ بھی اس کا نہیں تھا کہ وہ انھیں کسی ایک کا سرپرست سمجھتے ہوں۔ جب بھی حکمت یار صاحب کے بارے میں میری     ان سے بات ہوئی تو انھوں نے ہمیشہ اپنے اتفاق اور اختلاف دونوں کا اظہار کیا، البتہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ میں زمینی حقائق سے واقف ہوں کہ کس کی کتنی قوت ہے اور کس کے کیا اہداف ہیں!

جنرل حمیدگل ۲۰نومبر ۱۹۳۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان سوات سے کوئی ۱۰۰برس پہلے پنجاب منتقل ہوا تھا لیکن ان کے گھرانے میں پشتون اور پنجابی دونوں روایات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ۱۹۵۶ء میں فوج میں ان کا کمیشن ہوا اور وہ اپنی خداداد صلاحیت اور غیرمعمولی فکری اور پروفیشنل خدمات کی بنا پر تیزی سے بلندی کے مراحل طے کرتے ہوئے کورکمانڈر، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی، آئی ایس آئی کے مناصب پر فائز ہوئے۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دورِ حکومت میں ان کو ۱۹۸۹ء میں آئی ایس آئی سے ملتان کور کی کمانڈ کے لیے منتقل کردیا گیا اور پھر ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے چیف آف اسٹاف نے ان کو ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں منتقل کرنے کی کوشش کی، مگر جنرل گل نے معذرت کی اور فوج سے رخصت ہوگئے۔ بلاشبہہ انھوں نے اس وقت کی سیاسی قیادت کی ناقدری کے باعث ۱۹۹۲ء میں وردی اُتار دی لیکن جو حلف فوج میں داخل ہوتے وقت لیا تھا، اسے زندگی کے آخری لمحے تک نبھایا۔ پاکستان اور اسلام ان کی زندگی کا محور اور ان کے عشق کا مرکز تھے۔ اپنے ۲۷سالہ تعلق کی بنیاد پر مَیں شہادت دے سکتا ہوں کہ انھوں نے جو عہد اپنے اللہ سے کیا تھا اسے پورا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ چھوڑی۔

جنرل حمیدگل کو میں نے ایک بہت باخبر فرد پایا۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور ان کی فکر  بہت بیدار تھی۔ اقبال کا انھوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ مولانا مودودی کی بھی بیش تر کتب کا  مطالعہ وہ کرچکے تھے۔ مغربی فکر اور خصوصیت سے عسکری اور بین الاقوامی اُمور پر ان کا مطالعہ وسیع تھا اور وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر تھے۔ پھر ان کے روابط اتنے وسیع اور اتنے کثیرالجہت تھے کہ تعجب ہوتا ہے کہ ایک انسان ۲۴گھنٹے میں اتنا کچھ کیسے کرلیتا ہے۔ اہلِ خانہ کو بھی وہ وقت دیتے تھے،  اہلِ محلہ سے بھی ان کے روابط گہرے تھے، فوجیوں اور سابق فوجیوں میں بھی بڑے متحرک تھے۔ دوستوں کے وہ دوست تھے لیکن مخالفین سے بھی میل ملاپ رکھتے تھے۔ میڈیا سے بھی ان کی راہ و رسم معمول سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ دینی اور سیاسی حلقوں میں بھی ان کا اُٹھنا بیٹھنا تھا۔ سفارت کاروں اور غیرملکی صحافیوں اور سیاست کاروں کا بھی ان کی طرف رجوع رہتا تھا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ    ؎

ایک دل ہے اور ہنگامہ حوادث اے جگر

ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں مَیں

میں نے جنرل حمیدگل کو ایک اچھا انسان، ایک محب ِ وطن پاکستانی، اسلام کا ایک شیدائی اُمتی، ایک پیشہ ور فوجی اور کامیاب جرنیل اور ایک بالغ نظر دانش ور پایا۔ ان کو اپنی بات پر بڑا اعتماد ہوتا تھااور انھیں اپنی بات کہنے کا بڑا سلیقہ آتا تھا۔ میں نے ان کو اصولی موقف پر کبھی سمجھوتا کرتے نہیں دیکھا۔ وہ اپنی بات بڑے محکم انداز میں اور بڑی جرأت کے ساتھ بیان کرتے تھے لیکن دوسرے کی بات کو اختلاف کے باوجود سننے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے اور سلیقے سے رد کرنے کا بھی۔ میں نے انھیں دوسروں کی تحقیر کرتے نہیں دیکھا۔ یہ ان کی شخصیت کا بڑا دل فریب پہلو تھا۔

الحمدللہ، جنرل حمیدگل نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور زندگی کے آخری لمحے تک وہ متحرک رہے اور اُس مقصد کی خدمت میں مصروف رہے جسے انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا تھا۔ بلاشبہہ پاکستان کی تاریخ میں ان کا ایک مقام ہے اور کم ظرفی کے اس سارے مظاہرے کے باوجود جو اُن کے ناقدین نے ان کی زندگی ہی میں نہیں ان کے انتقال کے بعد بھی کیا ہے، ان کی خدمات اَنمٹ ہیں اور مدتوں یاد رہیں گی۔ ان کی وفات سے جہاں ہرکسی نے کچھ نہ کچھ کھویا ہے، مَیں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک مخلص دوست اور ساتھی سے محروم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے، آمین!

جنرل حمیدگل ان لوگوں میں سے تھے جو فکری یکسوئی کی اعلیٰ ترین مثال ہوتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں بھی بڑی ہم آہنگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ذات، سیاسی رجحانات اور ان کی تزویراتی فکر کے بارے میں تو اختلافی آرا کا اظہار ہوا ہے، لیکن ان کی دیانت اور ان کے کردار کے بارے میں کسی کو انگشت نمائی کی جرأت نہیں ہوئی۔ انھوں نے ایک صاف زندگی گزاری جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں۔ امریکا کی نگاہ میں وہ ایک کانٹا تھے اور امریکی سیاست دان، سفارت کار اور صحافی ان پر تیراندازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے لیکن ان کی وفات پر جو اطلاعاتی شذرہ انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز (۱۶؍اگست ۲۰۱۵ئ) میں شائع ہوا ہے اور جس میں ان کی تزویراتی فکر پر اعتراضات کیے گئے ہیں اور انھیں سیاسی طور پر ایک متنازع فیہ شخصیت کہا گیا ہے ،مگر وہاں بھی وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ :

ان کے گرد سیاسی اور دہشت گردی سے متعلق تنازعات کی کثرت کے باوجود ان پر کبھی بھی معمولی سی اخلاقی یا مالی بدعنوانی کا الزام نہیں لگایا گیا۔

جنرل حمیدگل اپنی وفات کے بعد بھی ان شاء اللہ زندہ رہیں گے اور پاکستان اور اسلام کی سربلندی کے لیے جو جدوجہد انھوں نے کی وہ جاری و ساری رہے گی اور ظلمت کی یہ شام ان شاء اللہ ختم ہوگی۔