اپریل ۲۰۱۶

فہرست مضامین

نصیحت اور انتباہ

پروفیسر خورشید احمد | اپریل ۲۰۱۶ | شذرات

پاکستان کے حالات جس رُخ پر جارہے ہیں، ان سے شب و روز تشویش اور اضطراب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ مجھے اللہ پر مکمل بھروسا اور یقین صادق ہے کہ پاکستان اور اُمتِ مسلمہ اس تاریک رات سے جلد نکلیں گے۔ قرآن اور اُممِ سابقہ کی تاریخ اور خود     اپنے زمانے کے نشیب و فراز پر جتنا غور کرتا ہوں، اُمید کی شمع اتنی ہی روشن نظر آتی ہے۔ لیکن قرآن و سنت اور تاریخ کے اوراق ہمیں یہ تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے اور یہاں نتائج کا انحصار مشیت ِالٰہی کے فریم ورک میں کوشش اور تدبیر پر ہے۔

گذشتہ دو تین مہینے ایسے گزرے ہیں کہ ہر روز ایک نیا مسئلہ اُبھرکر سامنے آیا ہے اور اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے کے لیے دل بے چین ہوا ہے، مگر پھر صحت کی خرابی مانع ہوئی اور سینہ خواہشات کا مدفن بن کر رہ گیا۔ اس مہینے کئی ایشوز دل و دماغ پر چھائے رہے۔ ’متحدہ‘ اور اس سے متعلقہ اُمور پر شذرہ پیش نظر تھا، جو ’اشارات‘  بن گئے۔ پنجاب میں خواتین پر تشدد سے متعلق قانون کی نوعیت اور اس پر بحث میں بہت سی اہم باتیں اظہار کے لیے پریشان کرتی ہیں۔    تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اور اس پر عمل داری کا مسئلہ بھی ذہن پر چھایا رہا۔ ملک کی نظریاتی اساس، قراردادِ مقاصد اور قراردادِ لاہور کے بارے میں جو لایعنی بحثیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ہورہی ہیں، جس طرح ہرمتفق علیہ چیز کو ایک طبقہ متنازع اور مشتبہ بنانے کی کوشش کررہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کی     ایک خطرناک فصل اُگائی جارہی ہے۔ حقائق کو بے دردی بلکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے مسخ  کیا جارہا ہے ۔ یہ گندا کھیل، جھوٹے پروپیگنڈے کے گرو گوبلز کی حکمت عملی کے مطابق بڑے پیمانے پر کھیلا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلائو کہ آخرکار وہی جھوٹ، سچ بن جائے۔ افسوس کہ ایک مخصوص طبقہ یہ کھیل بڑے تسلسل سے کھیل رہا ہے۔

سیاسی قیادت کا رنگ ڈھنگ بھی عجیب ہے۔ نوازشریف صاحب جن کا گھرانا دینی پہچان رکھتا تھا۔ راقم کو اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے زمانے میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم اور پروفیسر عبدالغفور احمد مرحوم کے ہمراہ ایک رات اُن کے گھر پر قیام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ تہجد کے وقت ان کے والدصاحب کس طرح مصروفِ عبادت ہوئے۔ نمازِ فجر کے لیے پورے گھر کے افراد کو بنفسِ نفیس بیدارکیا اور میاں نواز شریف کے ساتھ ماڈل ٹائون کی کوٹھی کے باہر لان میںادا کی۔ان نوازشریف صاحب کی زبان سے معلوم نہیں کس کے رقم کردہ، لبرلزم کے الفاظ سن کر دُکھ اور تعجب دونوں کا شکار ہوجاتا ہوں۔

ہندستان اور پاکستان کے کلچر کی ہم آہنگی کی بات ان کی زبان سے سن کر یقین نہیں آتا کہ وہ کون سے کلچر کی بات کر رہے ہیں؟ آج پاکستان کی نئی نسل کو ان حالات کا تجربہ نہیں جو قیامِ پاکستان پر منتج ہوئے۔ میرا تعلق اس نسل سے ہے، جس نے دہلی کی گلیوں میں زندگی گزاری ہے اور عام پبلک اسکولوں میں تعلیم پائی ہے، جہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور سکھ طلبہ اور اساتذہ شانہ بشانہ زندگی گزارتے تھے۔ ہمیں خوب تجربہ ہے کہ کہاں پر کتنا اشتراک تھا اور کہاں کتنا شدید اختلاف۔ کتابیں ہم ساتھ پڑھتے تھے اور کھیل بھی ساتھ کھیلتے تھے مگر کھانا، پینا، لباس، رہن سہن، زبان اور محاورہ، جائز اور ناجائز کی حدود اور مظاہر کا فرق زندگی کی حقیقت تھا۔ آج کے پاکستان میں پیدا ہونے والے اور پڑھنے والے اس ماحول سے واقف ہی نہیں کہ جس میں ’مسلم پانی‘ اور ’ہندو پانی‘ ہر اسکول اور ریلوے اسٹیشن پر ایک منہ بولتی حقیقت تھے۔

سیاسی دنیا کے نومولود بلاول زرداری صاحب نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر بھارت میں مسلمان صدر ہوسکتا ہے تو پاکستان میں ہندو کیوں صدر نہیں ہوسکتا؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ نے وہ دستور پڑھا ہے، جسے آپ کے نانا جان نے اتفاق راے سے منظور کرایا تھا اور جس پر آپ کی والدہ صاحبہ اور والد صاحب نے حلف لیا تھا۔ اس دستور میں لکھا ہوا ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ پاکستان ایک سیکولر نیشن اسٹیٹ نہیں، بلکہ ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے اپنے اصول اور حدود ہیں، اور جس نے بھی ان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے، منہ کی کھائی ہے۔

جنرل ایوب خاں نے ۱۹۶۲ء کے دستور میں پاکستان کے نام کے ساتھ لگا’اسلامی‘ کا لفظ نکالا اور قراردادِ مقاصد میں بھی ترمیم کرڈالی تھی، لیکن انھی کے نظام کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی نے ایوب صاحب اور ان کے وزیرقانون ریٹائرڈ جسٹس محمد منیر کی ساری تگ و دو کے باوجود، اسلام کو بحیثیت ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کتابِ قانون پر رقم کیا۔ اس کے  حق میں خود ذوالفقار علی بھٹو نے زوردار تقریر کی۔ اس بحث کے دوران میں سب سے بُرا حال جسٹس منیر کا تھا، جنھوں نے پہلے مخالفت کی اور پھر کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں، اسمبلی یہ اضافہ کرلے۔مگر ان کی بددیانتی کا حال یہ رہا کہ خود یہ سب بھگتنے کے باوجود اس واقعے کے ایک سال بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں وہی رٹ لگائی کہ ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کی اصطلاح جنرل ضیاء الحق کی اختراع تھی۔ علمی بددیانتی اور حقائق کو مسخ کرنا اس طبقے کا شیوہ ہے۔

یہی معاملہ ۱۹۷۳ء کے دستور کے وقت ہوا۔ پیپلزپارٹی کے مجوزہ مسودۂ دستور کی دفعہ اے-۳ یہ تھی کہ ’’پاکستان کا نظام سوشلسٹ معیشت پر مبنی ہوگا‘‘، لیکن پھر اسے واپس لیا گیا۔ ملک کا متفقہ دستوربنا، جس میں اسلام کی ضروری دفعات موجود ہیں۔ ۱۸ویں ترمیم کے موقعے پر سیکولرلابی کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود یہ اصول طے ہوا کہ جن چیزوں پر قوم کا اتفاق ہوچکا ہے انھیں دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، بلکہ ان کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اسلامی شریعت کا ایک محکم حصہ ہے اور مغرب کے واویلا سے متاثر ہوکر اس میں کوئی ترمیم اُمت مسلمہ کے لیے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

محمد نوازشریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کو اگر کچھ غلط فہمی یا خوش فہمی لاحق ہوگئی ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ قوم اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود قانون میں کوئی ایسی تبدیلی گوارا نہیں کرے گی، جو شریعت سے متصادم ہو، خواہ اس کا تعلق ناموسِ رسالتؐ سے ہو یا مسلمانوں کے خاندانی نظام اور اس کی بنیادی اقدار سے۔ جو چیز خاندانی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرے اور اسے درہم برہم کرنے والی ہو تو اسے کسی قیمت پر اور کسی بھی شکل میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔  صحیح راستہ یہ ہے کہ قانون سازی باہم مشاورت، دلیل سے بحث و گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے کی جائے، جو دستور کا بھی تقاضا ہے اور عقلِ عام کا مطالبہ بھی، اور یہ قانون سازی پاکستانی معاشرے کے اسلامی شریعت کے احکام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی اقدار اور روایات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ قانون سازی کے اس عمل میں علما ، وکلا اور سماجی کارکنوں کے ساتھ خود مسلمان خواتین کے مشورے کو بھی شریک  کیا جائے، اور صرف ملک کی ایک فی صد سے کم خواتین کی ابلاغی یلغار کے مقابلے میں، ان ۹۹فی صد سے زیادہ مسلمان خواتین کے احساسات، جذبات اور ترجیحات کا احترام کیا جائے، جو ترقی، تحفظ اور انصاف چاہتی ہیں، مگر اسلام کے نظام کے دائرے کے اندر۔

ایک اور ہنگامہ ہولی پر قومی چھٹی اور ہولی کے تہوار میں مسلمانوں کی شرکت کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے۔ ہولی ہی نہیں، اقلیتوں کو ان کے ہر معروف تہوار کے موقعے پر چھٹی ہماری تاریخ کا حصہ ہے، لیکن ایک فی صدی کے تہوار کو قومی چھٹی بنانا عقل اور قومی مفاد کسی کا بھی تقاضا نہیں اور پھر دوسروں کے تہواروں میں شرکت اور دھوم دھڑکا کرکے بلاول زرداری صاحب کس روایت کو قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کے نانا، والدہ صاحبہ، والد صاحب سب ہی سیاسی اور اجتماعی زندگی میں بڑا متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔جو بلاول کو سوجھی ہے وہ کسی کو   اس سے پہلے نہیں سوجھی تھی۔ یہ بڑی سطحی حرکتیں ہیں جن سے سنجیدہ قیادت کو احتراز کرنا چاہیے۔ اس قسم کی شعبدے بازی سے پیپلزپارٹی اپنا کھویا ہوا وقار واپس نہیں لاسکتی۔ اس کے لیے اچھی حکمرانی، وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے والی پالیسیاں، دانش مندانہ حکمت عملی اور ٹھوس پروگرام، کرپشن سے پاک اور مفادات کی سیاست کی جگہ اصولی اور ملکی مفاد کی سیاست کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ کی قیادت ہو یا پیپلزپارٹی کی، ہماری نصیحت بھی ہے اور انتباہ بھی کہ ملک، اس کے دستور اور مسلم معاشرے کی روایات اور اقدار کے احترام اور ملک و ملّت کے اعلیٰ مفادات کے لیے بے لاگ اور اَن تھک محنت ہی سے ملک کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر جو راستہ اختیار کیا جائے گا و ہ ناکام ہوگا اور ایسے تجربات کرنے والوں کو ان شاء اللہ منہ کی کھانا پڑے گی۔