پروفیسر خورشید احمد


۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء ، ۲۷رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ ہماری تاریخ کا ایک روشن اور سنہری دن ہے۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص سے بیسویں صدی میں پہلی بار ایک آزاد اسلامی ملک وجود میں آیا__ ایک ایسا ملک، جو آزادی کی تحریکات کے قافلے میں ایک منفرد مقام رکھتا تھا۔

اس امتیازی شان کی بنیاد یہ تھی کہ مغربی استعمار کے خلاف جو دیگر اقوام اور ممالک، آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ پہلے سے اپنا نام اور جغرافیہ رکھتے تھے، اور صرف اپنے اُوپر سے بیرونی تسلط سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کے برعکس برعظیم کی صورت حال یہ تھی کہ ایک قوم جس کی بنیاد عقیدے اور نظریے پر تھی، وہ اپنے لیے ایک نیا ملک وجود میں لانے کے لیے سرگرم تھی۔ اس کی جنگ ایک نہیں دو طاقتوں کے خلاف تھی۔ ایک طرف برطانوی سامراج تھا جس نے برعظیم میں محض قوت کے بل بوتے پر قبضہ کرلیاتھا اور دوسری طرف ہندستان کی ہندو اکثریت تھی، جو ’متحدہ ہندی قومیت‘ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے سیاسی محکومی کا ایک نیا جال بُن رہی تھی۔ برعظیم کے مسلمانوں نے ان دونوں طاقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بڑی گراں قدر قربانیوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک خطۂ زمین حاصل کیا جسے انگریزوں اور ہندوئوں نے بڑی کانٹ چھانٹ کے بعد ہی دیا۔ یہ ملک، جغرافیائی قومیت کی بنیاد کے مقابلے میں ایک اصولی اور نظریاتی قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، تاکہ ہندی مسلمان اپنی دینی، تہذیبی اور ملّی شناخت کی حفاظت اور ترقی کا اہتمام کرسکے، نیز اپنے اصول و نظریات کی روشنی میں اپنا مستقبل تعمیر کرسکے۔

انسانی تاریخ میں نظریاتی ریاست کی یہ روشن مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کی شکل میں قائم ہوئی تھی، اور ۱۲۰۰ سال تک مختلف شکلوں میں یہ اپنا جلوہ دکھاتی رہی، لیکن مغربی استعمار کے دو ڈھائی سو سالہ دور میں اس شمع پر اندھیروں نے غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ اگرچہ دلوں میں یہ شمع روشن تھی، لیکن اس کی روشنی سے سیاسی اور اجتماعی زندگی محروم ہوگئی تھی اور مغربی دنیا ہی نہیں تقریباً دنیا کے سارے طول و عرض پر ایک نئے سیاسی اور تہذیبی نظام کو مسلط کردیا گیا تھا جس میں قوموں کی شناخت کی بنیاد نظریے اور اقدار کی جگہ جغرافیے، نسل، رنگ اور سیاسی مفادات پر رکھی گئی تھی۔ پھر سیکولرزم، لبرلزم، جمہوریت اور سرمایہ داری کے نام پر انسانیت کے استحصال کا ایک نیا اور بڑا ہی تباہ کن نظام دنیا کی اقوام پر عسکری قوت، جبرواستبداد، تہذیبی یلغار اور جدید ٹکنالوجی کے ذریعے مسلط کردیا گیا۔

تحریکِ پاکستان سیاسی غلامی ہی کے خلاف محض آزادی کی ایک تحریک نہ تھی، بلکہ ایک نظریاتی اور تہذیبی تحریک بھی تھی، جس نے وقت کے غالب تصورات کو چیلنج کیا اور دنیا سے اس اصول کو تسلیم کرایاکہ عقیدے، نظریے اور تہذیب کی بنیاد پر قائم ایک قوم کا یہ حق ہے کہ جن علاقوں میں اسے اکثریت حاصل ہو، وہ ان میں اپنے تصورات کے مطابق نظامِ زندگی قائم کر کے اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے مطابق اپنا مستقبل تعمیر کرسکے۔ مغربی سامراج اور ہندو اکثریت نے بڑی مجبوری کے عالم میں اس دعوے کو قبول کیا۔ یہ ہے وہ خصوصی پس منظر، جو پاکستان کی تحریک اور پاکستان کو ایک ملک کی حیثیت سے منفرد اور ممتاز مقام عطا کرتا ہے، یعنی یہاں کسی ملک نے آزادی حاصل نہیں کی بلکہ ایک قوم نے ایک ملک حاصل کیا اور اس طرح تاریخ کے ایک نئے دور کی طرف پیش قدمی کا دروازہ کھول دیا۔ اس کے لیے ان مسلمانوں نے بھی بیش بہا قربانیاں دیں جو ان علاقوں میں رہتے تھے جو پاکستان کا حصہ بنے، اور ان سے بھی زیادہ قربانیاں، ان مسلمانوں نے دیں جو یہ جانتے تھے کہ وہ پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے، لیکن پھر بھی برعظیم کی اُمت اسلامیہ کے مستقبل کی خاطر وہ اس جدوجہد کا حصہ بنے اور اس کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی۔ یہ تاریخ کی بڑی ہی نادر مثال ہے کہ کروڑوں انسانوں نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس جدوجہد کے ثمرات میں کوئی حصہ نہ پائیں گے، صرف ایک نظریے کے غلبے کے لیے اپنے دنیاوی مفادات کو دائو پر لگادیا اور بے لوث نظریاتی جدوجہد کی ایک نادر مثال قائم کردی۔

تحریکِ پاکستان تک پہنچنے اور پھر اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے برعظیم کے مسلمان بڑے صبرآزما مراحل سے گزرے، جن کو سمجھے بغیر پاکستان کی حیثیت اور تحریکِ پاکستان کے مزاج، مراحل اور مقاصد کو سمجھنا مشکل ہے۔

تحریکِ پاکستان: پس منظر اور اساس

برعظیم میں ایک نہیں متعدد نسلیں آباد تھیں۔ دراوڑ، آریائی، سامی، عرب، مغل اور ان کے ارتباط سے رُونما ہونے والی بے شمار نسلیں، اس سرزمین کا انسانی سرمایہ تھیں۔ بدھ مذہب، ہندومت، جین مت، اسلام اور پھر سکھ مت، عیسائیت اپنے اپنے دور اور اپنے اپنے انداز میں کارفرما قوت بنتے رہے۔ ہندومذہب اور سماج کی بنیاد ذات پات پر ہے۔ اس معاشرے کی بنیاد تخلیق انسان کے بارے میں ان کے مذہبی تصورات پر ہے اور ذات پات کی یہ تقسیم ہی ان کی اصل تہذیبی اور مذہبی شناخت ہے۔ اسلام نے ان تصورات کو چیلنج کیا اور عقیدے اور دین کی بنیاد پر انسانوں کے اجتماع کو قائم کر کے ایک حقیقی انسانی اور عالمی سماج اور ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ برعظیم کے مسلمانوں کا تعلق بھی انھی نسلوں سے تھا، جو برعظیم میں پائی جاتی ہیں لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شناخت، نسل، رنگ، زبان، قبیلے یا طبقے پر نہیں، ایمان کی بنیاد پر ایک اُمت کی صورت اختیار کرگئی اور یہی ان کی قومیت کی بنیاد بنی۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے تحریکِ پاکستان کی بنیاد، یعنی دو قومی نظریے کو بڑے سادہ مگر تاریخی حقائق پر مبنی انداز میں علی گڑھ کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے یوں بیان کیا کہ ’’پاکستان کی بنیاد اس دن پڑگئی جس دن برعظیم کی سرزمین پر پہلا ہندو، مسلمان ہوا تھا‘‘۔

برعظیم میں مسلمانوں نے آٹھ نو سو سال تک حکمرانی کی، لیکن اس پورے دور میں تمام  نشیب و فراز کے باوجود ان کی کوشش یہی رہی کہ اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتا نہ کریں۔ دوسروں کو ان کی اپنی شناخت کے مطابق زندگی گزارنے کے پورے پورے مواقع دیں اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کریں، لیکن ان کی اور اپنی شناخت کو گڈمڈ کرکے کوئی مشترکہ دین اور تہذیب نہ بنائیں۔    اس سلسلے میں جو کوششیں بھی مختلف حلقوں کی جانب سے ہوئیں وہ ناکام و نامراد ہوئیں، خواہ وہ اکبربادشاہ کے سرکاری قوت کے استعمال کے ذریعے ہوں، یا انگریز سامراج کے ترغیب و ترہیب کے ہتھکنڈوں سے، یا انڈین نیشنل کانگریس کے سیکولر اور جمعیت العلماء ہند کے ایک دھڑے کے مذہبی حربوں سے ہوں۔

اس جدوجہد کا بڑا ہی اہم اور چشم کشا منظر برعظیم کی بیسویں صدی کی سیاسی جدوجہد میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سیّداحمدشہید کی قیادت میں تحریک مجاہدین،دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلمائ، سرسیّداحمد خان کی علی گڑھ تعلیمی تحریک، ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ کا قیام، تحریک ِخلافت کا ظہور اور ہندستان بھر میں پھیلائو اور پھر تحریک ِپاکستان اپنے اپنے انداز میں مسلم شناخت کی یافت اور حفاظت کی کوششیں تھیں۔ بلاشبہہ ایک مدت تک یہ کوشش ہوتی رہی کہ برعظیم کی تمام اقوام متحدہوکر سیاسی اہداف حاصل کریں، جن میں مسلمانوں کی شناخت کی حفاظت اور ترقی کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ جداگانہ انتخابات اور تہذیب، تعلیم، زبان اور مذہبی حقوق کی حفاظت، ۱۹۰۵ء سے لے کر ۱۹۴۰ء تک کی جدوجہد کے ہر مرحلے میں بحث و گفتگو کا مرکز اور محور رہے۔ جب کانگریس کے مسلم کش اور جارحانہ کردار، اور برطانوی حکمرانوں کے دوغلے پن سے یہ واضح ہوگیا کہ مسلمانوں کی قومی شناخت، ان کی اقدار اور ان کی تہذیبی روایات کی حفاظت و ترقی کسی بھی مشترک سیاسی انتظام میں ممکن نہیں، اور اس پر تاجِ برطانیہ کے ’۱۹۳۵ء کے قانون‘ کے نفاذ اور ۱۹۳۷ء کے صوبائی انتخابات کے بعد نیشنل کانگریس کی حکومتوں کے برہمنی جارحانہ اقدامات نے مہرتصدیق ثبت کردی، تو پھر علامہ محمد اقبال کے ۱۹۳۰ء کے خطبے کی روشنی میں مارچ ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے تقسیمِ ملک کی منزل کو اپنا ہدف مقرر کیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے صرف سات سال کے اندر قائداعظم کی روح پرور قیادت اور برعظیم کے مسلمانوں کی پوری یکسوئی کے ساتھ ایمان پرور اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک آزاد ملک وجود میں آگیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی کے طور پر یہ نعمت ۲۷رمضان المبارک کے دن حاصل ہوئی۔ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

تحریکِ پاکستان کا مقصد جہاں انگریز اور ہندو سامراج دونوں سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد اسلامی ملک کا قیام تھا، وہیں اس کا اصل ہدف پاکستان کو ایک آئینی اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے ترقی دینا تھا، تاکہ دین اور تہذیب کی بنیاد پر استوار ہونے والی قوم کو جب آزاد ملک کی نعمت میسر آجائے، تو پھر وہ اس ملک کو اپنے نظریے کی بنیاد پر ایک مثالی ریاست بناسکے۔ جو ایک طرف اپنے نظریے کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی صورت گری کرے، تو دوسری طرف دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے نہ صرف تمام شہری اور انسانی حقوق کی ضمانت دے، بلکہ ان کے مذہبی اور سماجی تشخص کی حفاظت اوراس کو پروان چڑھائے جانے کے تمام مواقع بھی فراہم کرے۔

علامہ اقبال، قائداعظم اور ملت اسلامیہ پاک و ہند کا وژن اور تحریکِ پاکستان کی قیادت اور برعظیم کے مسلمانوں کے درمیان جو عمرانی میثاق ہوا، وہ بالکل واضح ہے۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کی ۶۹ویں سالگرہ کے موقعے پر سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اس وژن اور اس میثاق کو ذہنوں میں تازہ کیا جائے اور خصوصیت سے اپنی نئی نسلوں اور زندگی کے ہر شعبے کے ذمہ دار حضرات کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہ ملک لاکھوں افراد کی جانوں، ہزاروں معصوم بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں، کھربوں روپے کی مالی قربانیوں، اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت کی قیمت پر قائم ہوا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا قیام، تحفظ اور ترقی صرف ان مقاصد سے وفاداری ہی کے ذریعے ممکن ہے، جو اس کی اساس ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد قوم سے صاف لفظوں میں کہی تھی:

اسلام ہمارا بنیادی اصول اور حقیقی سہارا ہے۔ ہم ایک ہیں اور ہمیں ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ تب ہی ہم پاکستان کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

تحریکِ پاکستان کا حقیقی تصور

اقبال اور قائداعظم نے قوم کو جس منزل کی طرف دعوت دی، اس کو آج دھندلا کرنے بلکہ بالکل مخالف سمت میں ڈالنے کی شرانگیز کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے اس وژن کو بالکل دوٹوک الفاظ میں ایک بار پھر قوم، اس کے دانش وروں، پالیسی ساز اداروں اور افراد اور سب سے بڑھ کر نئی نسل اور اس کے نوجوانوں کے ذہنوں میں تازہ اور راسخ کردیا جائے۔ اس لیے کہ پاکستان کی بقا اور ترقی صرف اس وژن اور منزل کے صحیح اِدراک اور ان کو حرزِجان بنانے پر منحصر ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اس تحریک کی فکری اور نظریاتی بنیادیں رکھیں تو قائداعظم محمدعلی جناح نے ان بنیادوں پر سیاسی اور نظریاتی تحریک برپا کی، اور اس کی قیادت اس طرح انجام دی کہ پوری قوم یکسو ہوکر ان کی تائید میں میدانِ عمل میں نکل آئی۔ ان کا اصل محرک آزادی کا حصول اور اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت اور ترقی تھا اور یہ دونوں ایک ہی جدوجہد کے دو رُخ ہیں، جن کو ایک دوسرے سے کسی صورت میں بھی جدا نہیں کیا جاسکتا۔

علامہ اقبال نے The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں اسلام کے تصورِ توحید اور ریاست کے تعلق کو اس طرح بیان کیا ہے کہ:

گویا بہ حیثیت ایک اصول، عملِ توحید اساس ہے حریت، مساوات اور حفظ ِ نوعِ انسانی کی۔ اب اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ازروے اسلام، ریاست کا مطلب ہوگا ہماری یہ کوشش کہ یہ عظیم اور مثالی اصول زمان و مکان کی دنیا میں ایک قوت بن کر ظاہر ہوں۔ وہ گویا ایک آرزو ہے ان اصولوں کو ایک مخصوص جمعیت ِ بشری میں مشہود دیکھنے کی۔ لہٰذا، اسلامی ریاست کو حکومت ِ الٰہیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے تو انھی معنوں میں۔ ان معنوں میں نہیں کہ ہم اس کی زمامِ اقتدار کسی ایسے خلیفۃ اللہ فی الارض کے ہاتھ میں دے دیں، جو اپنی مفروضہ معصومیت کے عذر میں اپنے جورواستبداد پر ہمیشہ ایک پردہ سا ڈال رکھے۔(Reconstruction،ص ۱۲۲-۱۲۳، ترجمہ: سید نذیر نیازی،تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ،ص ۲۳۸)

علامہ محمد اقبال نے ۳۰،۳۱ دسمبر ۱۹۳۰ء کے کُل ہند مسلم لیگ کے اجتماع الٰہ آباد میں اپنے خطبۂ صدارت میں نظریاتی اور دینی بنیادوں پر تقسیمِ ہند کا تصور پیش کرتے ہوئے اس کی جس بنیاد پر روشنی ڈالی وہ بہت اہم ہے۔ انھوں نے اپنی بات کا آغاز ہی اس دعوے سے کیا کہ:

آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے، جو اس امر سے مایوس نہیں ہوگیا ہے کہ اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے، جو ذہنِ انسانی کو نسل اور وطن کی قیود سے آزاد کرسکتی ہے۔ جس کا عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اور جسے یقین ہے کہ اسلام کی تقدیر خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ بحیثیت ایک اخلاقی نصب العین اور نظامِ سیاست کے، اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزو ترکیبی تھا، جس سے مسلمانانِ ہند کی تاریخِ حیات متاثر ہوتی ہے۔ اسلام ہی کی بدولت ان کے سینے ان جذبات اور عواطف سے معمور ہوئے، جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے، جن سے متفرق اور منتشر اجزا بتدریج متحد ہوکر ایک متمیزومعین قوم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔مسلمانوں کے اندر اتحاد اور ان کی نمایاں یکسانیت، ان قوانین اور روایات کی شرمندۂ احسان ہے جو تہذیب اسلامی سے وابستہ ہیں۔

اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے معاشرتی نظام سے، جو خود اس کا پیدا کردہ ہے، الگ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ نے ایک کو ترک کر دیا تو بالآخر دوسرے کو بھی ترک کرنا لازم آئے گا۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی کسی ایسے نظامِ سیاست پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہوگا، جو کسی ایسے وطنی یا قومی اصول پر مبنی ہو، جو اسلام کے اصولِ اتحاد کے منافی ہو۔ یہ مسئلہ ہے جو آج ہندستان کے مسلمانوں کے سامنے ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے، تو  اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ پھر اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہوکر، جو عربی شہنشاہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں، اس جمود کو توڑ ڈالے گا جو اس کے تہذیب و تمدن، شریعت و تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف اس کے صحیح معانی کی تجدید ہوسکے گی، بلکہ وہ زمانۂ حال کی رُوح سے بھی قریب ہوجائے گا۔

اسی طرح قائداعظم نے صاف الفاظ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

آپ نے غور کیا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبۂ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے   ایک جداگانہ مملکت کی وجۂ جواز کیا تھی؟ اس کی وجہ نہ ہندوئوں کی تنگ نظری ہے،    نہ انگریزوں کی چال__ بلکہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔

مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآنِ پاک میں موجود ہے۔ ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ  قرآنِ پاک کو غور سے پڑھیں، اور قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کرسکتی۔

قائداعظم نے پھر یہ بھی فرمایا:

ان لوگوں کو چھوڑ کر جو بالکل ہی ناواقف ہیں، ہرشخص جانتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔مذہبی، معاشرتی، دیوانی، معاشی، عدالتی، غرض یہ کہ ان مذہبی رسومات سے لے کر روزمرہ کے معاملات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، اجتماعی حقوق سے لے کر انفرادی حقوق تک، اخلاقیات سے لے کر جرائم تک، دنیاوی سزائوں سے لے کر آنے والی [اُخروی] زندگی کی جزا وسزا کے تمام معاملات پر اس کی عمل داری ہے۔ اور ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہرشخص اپنے پاس قرآن رکھے اور خود رہنمائی حاصل کرے۔ اس لیے کہ اسلام صرف روحانی احکام اور تعلیمات تک ہی محدود نہیں ہے، یہ ایک مکمل ضابطہ ہے جو مسلم معاشرے کو مرتب کرتا ہے۔

اسی طرح اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے ۱۳؍اپریل ۱۹۴۴ء کو آپ نے فرمایا:

ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا ہے، ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزمائیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت ِ خاص کے ساتھ جس چیز نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا اور یہ تاریخی کرشمہ وجود میں آیا، اسے چار نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے:

                ۱-            آزادی کا جذبہ اور اس کے حصول اور حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہ کرنا۔

                ۲-            دین، نظریۂ حیات، تہذیب و تمدن کی حفاظت اور ترقی کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ترجیح بنانا۔

                ۳-            عوام کی جمہوری قوت، ا ن کا اتحاد اور ان کا یہ جذبہ کہ اپنی آزادی اور اپنے دین اور نظریے کے باب میں کوئی سمجھوتا قبول نہیں کریں گے اور ان کی خاطر جان کی بازی لگادیں گے۔

                ۴-            مخلص، باصلاحیت اور ایمان دار قیادت۔

قائداعظم نے ہر ذاتی مفاد سے بالا ہوکر صرف قوم کی خاطر اور اللہ کی خوشنودی کے لیے، عوامی قوت کے ذریعے اور پوری یکسوئی کے ساتھ اصل ہدف پر ساری توجہ مرکوز کردی۔ اس مسلم قیادت نے قوم پر اعتماد کیا اور قوم نے اس پر اعتماد کیا اور دونوں نے اپنے اپنے اعتماد کو سچ کر دکھایا۔ ایک طبقہ آج قائداعظم کو مسلم قوم کا صرف ایک ’وکیل‘ بناکر پیش کر رہا ہے، جب کہ قائداعظم نے یہ پوری جدوجہد ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے کی تھی، یہ محض وکالت نہیں تھی۔ اس سے بڑا بہتان اُن پر اور کیا ہوسکتا ہے؟ قائدکے جذبات اور محرکات کیا تھے، انھی کے الفاظ میں سننے اور ذہن میں نقش کرنے کی ضرورت ہے:

مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اُٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت ِ اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علَمِ اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔(روزنامہ انقلاب، ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۹ئ)

یہی وہ جذبہ تھا، جس نے تحریکِ پاکستان کو ملت اسلامیہ ہند کے دلوں کی آواز بنادیا ،اور وہ ایک آزاد اسلامی ملک کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل ہوگئی۔ قوم کی یکسوئی اور تائید اور قائد کا عزم اور بے لاگ خدمت__ جب یہ دونوں قوتیں یک جا ہوجاتی ہیں تو تاریخ کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ آج ہمارے مسائل اور مشکلات کی اصل وجہ یہ ہے کہ منزل اور مقصد کا شعور دھندلا دیا گیا ہے۔ قوم اور اس کی فلاح و بہبود کو یکسر بھلادیا گیا ہے۔ مخصوص مفادات کے پرستار زمامِ اقتدار پر قابض ہیں، جو عوام کے اعتماد سے محروم ہیں اور جن کی دیانت اور صلاحیت دونوں مشتبہ ہیں۔ وژن اور مقصد سے محرومی، عوام کی تائید اور ان کے مرکزی کردار کا عدم وجود اور صحیح قیادت کا فقدان ہمیں پستی کی انتہائوں کی طرف دھکیلے جا رہا ہے۔

۱۴؍اگست کے تاریخی لمحے کی یاد میں ان تمام حقائق، جذبات اور عزائم کو ذہنوں میں تازہ کرنا ضروری ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہماری قوت کا اصل سرچشمہ یہی عزائم، جذبات اور داعیات ہیں۔ سات سال میں تحریکِ پاکستان کی کامیابی کا راز مندرجہ بالا چاروں عوامل پر ہے۔ انھی کے سہارے ہم ان بلندیوں پر پہنچے، جن کا نقطۂ فراز ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء تھا اور گذشتہ سات عشروں میں جس پستی کی طرف ہم لڑھکتے جارہے ہیں، اس کا تعلق بھی انھی چاروں کے بارے میں کمزوری یا فقدان سے ہے۔

پاکستان کا محلِ وقوع تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی اور مادی دونوں وسائل سے ہمیں مالا مال کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی قوم نے جس درجے میں ان چاروں عناصر کا اہتمام کیا ہے، وہ بلندیوں کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ مایوسی کفر ہے اور حالات کی خرابی کے باوجود کسی درجے میں بھی مایوسی مسلمان کا شعار نہیں ہوسکتی۔ اگر صحیح مقاصد کے لیے، صحیح قیادت کی رہنمائی میں، مؤثر اجتماعی اور عوامی جدوجہد کی جائے، تو بڑی سے بڑی مشکل دُور ہوسکتی ہے اور دُور دراز واقع منزل بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جس جس درجے میں یہ چیزیں حاصل ہوں، اسی حد تک محدود دائروں میں بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جس طرح پاکستان کا قیام ایک تاریخی کامیابی تھا، اسی طرح اوّلین دور میں پاکستان کی بقا اور ترقی بھی ایک کرشماتی نعمت سے کم نہیں۔ بھارتی قیادت کو یقین تھا اور انگریز سامراج بھی اسی وہم میں مبتلا تھا کہ پاکستان باقی نہیں رہ سکے گا۔

تقسیمِ ملک کے لیے اصل تاریخ اپریل ۱۹۴۸ء تھی لیکن انگریز اور کانگریسی قیادت دونوں انتقالِ اقتدار کے لیے مناسب وقت اور نقشۂ کار سے پاکستان کو محروم رکھنے اور اوّلین برسوں ہی میں  شکست وریخت (collapse ) کے خطرات سے دوچار کرنے کے لیے ۱۱ مہینے کی مدت کو کم کرکے یک طرفہ طور پر ڈھائی مہینے کردیا، یعنی ۳جون کو اسکیم کا اعلان ہوا اور ۱۴؍اگست تک اس پر عمل مکمل کرنے کا نوٹس دے دیا۔ پھر سرکاری وسائل اور مالیات کی تقسیم کے پورے انتظام کو درہم برہم کردیا اور پاکستان کو اس کے حقوق سے محروم رکھا۔ ریڈکلف نے ایوارڈ میں تبدیلیاں کرکے پاکستان کو کشمیر اور دوسرے اہم علاقوں سے محروم کردیا۔ پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی اور اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی واقع ہوئی کہ پورا انتظامی ڈھانچا درہم برہم ہو گیا۔

یہ سب ایک منظم منصوبے کے مطابق ہوا، جس میں برطانوی حکومت، اس کا مقرر کردہ گورنرجنرل مائونٹ بیٹن اور کانگریس کی حکومت اور ہندو عوام سبھی برابر کے شریک تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک طرف تقسیمِ ہند کی اسکیم پر دستخط کیے تو دوسری طرف اپنی قوم سے کہا:

ہماری اسکیم یہ ہے کہ ہم اس وقت جناح کو پاکستان بنالینے دیں اور اس کے بعد معاشی طور پر یا دیگر انداز سے ایسے حالات پیدا کردیے جائیں، جن سے مجبور ہوکر مسلمان گھٹنوں کے بل جھک کر ہم سے درخواست کریں کہ ہمیں پھر سے ہندستان میں مدغم کرلیجیے۔

برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے ایک طرف آزادیِ ہند کے منصوبے کی منظوری دی اور برطانوی پارلیمنٹ میں بل منظور کروایا، تو دوسری طرف یہ بھی کہہ دیا کہ:

ہندستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے اُمید واثق ہے کہ یہ تقسیم زیادہ عرصے تک قائم نہیں   رہ سکے گی اور یہ دونوں مملکتیں جنھیں ہم اس وقت الگ کر رہے ہیں، ایک دن پھر آپس میں مل کر رہیں گی۔(تاریخ نظریۂ پاکستان ، پروفیسر محمد سلیم، لاہور، ۱۹۸۵ئ، ص ۲۷۵)

اُمید کی کرن

ان حالات میں پاکستان کا باقی رہ جانا اور جلد اپنے پائوں پر کھڑے ہوجانا، اسی طرح کا ایک دوسرا تاریخی کرشمۂ قدرت تھا جیسا سات سال میں اس کا قیام۔پاکستان کے لیے ایٹمی صلاحیت کا حصول بھی اسی طرح کا ایک ناقابلِ تصور کرشمہ ہے۔ بلاشبہہ اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی پوری ٹیم کی مہارت اور کوشش، سیاسی اور عسکری سطح پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر صدر محمدضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی قیادت اور قوم کی تائید اور دُعائیں سب کا کردار ہے۔ دنیا کی مخالفت، امریکا اور مغربی اقوام کی جان لیوا پابندیاں اور وسائل کی قلت کے باوجود جب وژن، محنت اور صلاحیت، تنظیم اور کوشش، عوامی تائید اور دعائیں مل جاتی ہیں، تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے ساری پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایک ترقی پذیر ملک ہوتے ہوئے بھی یورنیم کی افزودگی ( Uranuim Enrichment) اور اسلحہ سازی (weaponization) کے اس مشکل عمل کو، جو امریکا میں۱۸سال میں مکمل ہوا تھا، صرف سات آٹھ سال میں مکمل کرلیا۔ صدر محمد ضیاء الحق نے راجیوگاندھی کو ۱۹۸۷ء میں یہ پیغام دیا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، ہمارے پاس وہ چیز ہے جو تمھیں منٹوں میں تباہ کرسکتی ہے۔ مئی۱۹۹۸ء میں ہندستانی ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں امتحان کا لمحہ آیا تو الحمدللہ ۱۵دن کے اندر پاکستان نے چھے ٹیسٹ کرکے ہندستانی جنگ  ُجو قیادت کے ہوش اُڑا دیے اور دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور دنیا کے چپے چپے میں مسلمانوں کا سر بلند کردیا۔ اس سے پہلے ۱۹۶۵ء میں بھارت کے حملے کے موقعے پر بھی فوج اور قوم نے جس کردار کا مظاہرہ کیا وہ لاجواب تھا۔

اکتوبر ۲۰۰۵ء میں ہولناک زلزلے نے ایک بار پھر قوم کی خوابیدہ صلاحیتوں کے خزانے کو بے نقاب کیا۔آزمایش کی اس گھڑی کے موقعے پر خیبر سے کراچی تک عوام جس طرح متحرک ہوئے اور اس قومی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر ہوگئے، وہ ایمان افروز اور اُمیدافزا تھا۔ اس موقعے پر اپنی مدد آپ کی ایک روشن مثال قائم ہوئی اور ایک بار پھر یہ یقین تازہ ہوگیا کہ  ع

ذرا نم ہو تو یہ مٹی ، بہت زرخیز ہے ساقی!

آج حالات کتنے ہی خراب ہوں، لیکن ساری خرابیوں کے باوجود قوم میں خیر کا بڑا خزانہ موجود ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی صلاحیتوں اور کارکردگیوں پر عدم اعتماد اپنی جگہ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری زکوٰۃ کٹوتی میں ہر رمضان میں حکومت کو چارپانچ ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ ملکی اور غیرملکی تحقیقی اداروں کے مطابق اصحابِ خیر کی طرف سے رضاکارانہ صدقات کی مد میں (صرف رمضان کے مہینے میں نہیں بلکہ سال بھر میں) ۱۱۰؍ارب روپے سے زیادہ رقم مستحقین کو منتقل ہوتی ہے۔ اور ’پاکستان سنٹر فار فلن تھراپی‘ کی رپورٹ کے مطابق سالانہ پاکستان میں عوامی سطح پر ۲۴۰؍ارب روپے سے زیادہ رقم مستحقین کو دی جاتی ہے۔ اس پہلو سے پاکستانی قوم، دنیا میں ان اقوام میں سرفہرست ہے، جن میں اہلِ ثروت، اہلِ ضرورت کی سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں۔ ہارورڈ یونی ورسٹی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکا میں پاکستانی کمیونٹی،امریکا کی سب سے زیادہ خیرات دینے والی کمیونٹی ہے۔ پاکستان میں الخدمت، فلاحِ انسانیت، ایدھی فائونڈیشن، اخوت اور درجنوں ایسے ادارے ہیں، جو کسی نام و نمود کے بغیر خدمت ِ خلق کے جذبے سے دُکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ تمام وہ پہلو ہیں، جو اس مایوس کن اور تاریک ماحول میں اُمید کی کرن ہیں اور یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ اگر قوم کو صحیح قیادت میسر ہو اور کام کرنے کے لیے مناسب طریق کار اور صحیح تنظیمِ کار کا اہتمام کیا جائے تو اس قوم میں بڑی قوت اور صلاحیت ہے۔ ضرورت صحیح وژن،صحیح تنظیم، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کی ہے۔

ملکی بحران کے اسباب

۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء ایک تاریخی بلندی کی علامت ہے، تو پاکستان کی تاریخ میں ۱۶ دسمبر۱۹۷۱ء پستی کی ایک ہولناک تصویر ہے۔ جب بھارت کی فوج کشی کے نتیجے میں اور خود اپنی بے پناہ غلطیوں کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا ۔ تب پاکستان توڑنے کی سازش میں شریک بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ بھارت کی ہندو قیادت نے مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دورِاقتدار کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ بھارت کے موجودہ ہندوقوم پرست وزیراعظم نریندر مودی نے جون ۲۰۱۵ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی میں اپنے خطاب میں بھارت کے دہشت پسندانہ کردار کا سرکاری اعلان کرتے ہوئے برملا کہا:’’ بھارتی فوجی، مکتی باہنی کے ساتھ مشرقی پاکستان میں مہینوں سرگرم رہے اور بالآخر بھارت کی فوج کشی نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا‘‘۔

 آج بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ دوسری بین الاقوامی قوتوں کی معاونت سے ملک میں جو دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں جو کردار ادا کر رہی ہے، اسے بھی اس پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے اور ۱۶دسمبر ۲۰۱۴ء کو پشاور کے فوجی اسکول پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ۱۶دسمبر کی تاریخ کا یہ اشتراک بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نائن الیون کے معاً بعد پاکستانی اقتدار پر متمکن جنرل پرویزمشرف نے جس طرح امریکی دھمکیوں کے آگے سپرڈالی اور ملک کو جس عذاب میں مبتلا کیا، وہ بھی ہماری تاریخ کا بڑا تاریک باب ہے۔ محض نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیے دہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں حُریت کانفرنس کی قیادت کے لیے افطارپارٹی کو ملتوی کرنا، اور اوفا (روس) کی ملاقات کے بعد اعلامیے کا کشمیر کے ذکر سے خالی رہنا بھی پستی کا دل خراش واقعہ ہے۔

پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کے انتقال اور لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد اقتدار پر جس طرح بیوروکریسی، چند فوجی جرنیلوں اور جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور زرپرست عناصر کی ہوسِ اقتدار کے سایے پڑے ہیں اور جس طرح دستور کو پامال اور اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے، بد سے بد تر حکمرانی کے جن اَدوار سے قوم اور ملک کو گزرنا پڑ رہا ہے اور بدعنوانی اور کرپشن کی جو داستان رقم کی جارہی ہے، وہ دل خراش بھی ہے اور تباہ کن بھی۔ آج پاکستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ہونے کے باوجود اسے دہشت گرد ملک بلکہ دہشت گردی کا مرکز بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔ جن ’اتحادیوں‘ کے لیے ہم نے اپنی عزت اور امن و چین کو قربان کیا، وہی ہم پر زبان طعن دراز کر رہے ہیں، اور ہماری سیاسی قیادتیں ہیں کہ ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ دنیا میں ہماری تصویر کیا ہے؟ اس کا اندازہ ورلڈ اکانومک فورم ۲۰۱۴ء کی Golbal Competitiveness Report سے کیجیے:

یہ ملک [پاکستان] مسابقت اور مقابلے کے تمام بنیادی اور اہم دائروں میں بہت کم نمبر حاصل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی بیماری، بے جا نوازشات اور غیرقانونی سرپرستی کے کلچر کو پروان چڑھانے کے ساتھ ملکیتی حقوق کے تحفظ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔

اسی طرح عالمی بنک کی ۲۰۱۳ء کی رپورٹ Worldwide Governance Indicators  میں بدعنوانی اور کرپشن کے باب میں پاکستان کا شمار نچلے ترین درجے میں ہوتا ہے۔ دنیا کے ممالک ۷۲ فی صد ہم سے بہتر ہیں، ہم آخری ۱۸ فی صد میں ہیں۔ بنگلہ دیش بھی ہم سے چھے درجے بہتر حالت میں ہے۔ یہی صورت قانون کی حکمرانی کی ہے۔ بنگلہ دیش اور موزمبیق ہم سے اُوپر ہیں۔ مجموعی طور پر اندازِ حکمرانی کے اشاریے میں بھی ہم پست ترین مقام پر ہیں، حتیٰ کہ غزہ بھی ہم سے اُوپر ہے۔ (ڈان، ۲۶ جون ۲۰۱۵ئ)

بدعنوانی اور کرپشن، وسائل کا ناجائز استعمال، اہم مناصب پر من پسند لوگوں کی تقرریاں، اہلیت کی دھجیاں بکھرتے ہوئے اداروں کی کمزوری اور تباہی، اداروں کے درمیان تصادم، پالیسیوں میں ہم آہنگی کا فقدان، پولیس اور بیوروکریسی کا سیاسی استعمال، عوام کی حقیقی ضروریات سے اغماض اور بنیادی سہولتوں کا فقدان اس بحران کے بدترین سرچشمے ہیں، جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اور سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت دونوں کو بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور دوسری طرف حکمران مہنگے منصوبوں کے عشق میں مبتلا ہیں۔ ستم ہے کہ ان حالات میں وزیراعظم صاحب کی ترجیح یہ ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے قافلے میں نت نئی کاروں کا ہرسال اضافہ کیا جاتا رہے۔ اس وقت جب ملک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے، قومی خزانے سے ۳۰کروڑ روپے کی قیمت پر ۱۰ لگژری کاریں خرید رہے ہیں، جن میں چھے وہ  کاریں ہیں، جو یورپ کے سربراہانِ مملکت بھی استعمال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔

یہ منظرنامہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑا خطرناک ہے اور جس کے نتیجے میں سول اور فوجی نظام کے درمیان توازن روز بروز بگڑ رہا ہے اور ایک طبقہ مسلسل یہ راہ ہموار کر رہا ہے کہ خدانخواستہ کوئی ’مصطفی کمال‘ بن کر جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دے۔

افسوس کا مقام ہے کہ وہ دانش ور، صحافی اور اینکر خواتین و حضرات جو آزادی، روشن خیالی اور حقوق کی باتیں کرتے ہیں، وہی آج کسی طالع آزما کی تلاش اور فوجی قیادت کو کچھ کرگزرنے کی دعوتیں دے رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نااہلی اور کرپشن اپنی جگہ، اور وہ ایک بڑا ناسور ہے جس کی اصلاح ضروری ہے، مگر اسے بہانہ بناکر اعلیٰ فوجی قیادت کو سیاست میں ملوث ہونے کی دعوت دینا، فوج اور ملک دونوں کے ساتھ خیرخواہی کا راستہ نہیں ہے۔

 فوجی قیادت کی حکمرانی کے چار دور ہم دیکھ چکے ہیں اور اس میں سے ہر دور بنیادی طور پر قومی حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا ہے، خصوصیت سے جنرل پرویز مشرف کا آخری دور تو سب سے زیادہ تباہ کن رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھی فوج جو خدمت انجام دے رہی ہے، وہ چند مثبت پہلوئوں کے باوجود، بالآخر اس کی دفاعی صلاحیت کار کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ امرواقعہ ہے کہ فوج اور رینجرز کا استعمال: سول انتظامیہ، پولیس اور نچلی سطح پر عدالتی عمل کی ناکامی کی وجہ سے ہے اور ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر فوج کو اس کا موقع دیا گیا ہے۔ لیکن اسے سیاسی نظام اور دستوری انتظام کو درہم برہم کرنے کے لیے وجہ جواز بنانا ایک زیادہ بڑی تباہی کی طرف جانے کے مترادف ہوگا۔ جس دلدل میں فوج کو گرا دیا گیا ہے، وہ حقیقت ہے، لیکن اس سے نکلنے کا راستہ یہ نہیں کہ فوج کو اقتدار میں لایا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اسباب کا تعین کیا جائے، جو پستی کی طرف لے جانے اور بگاڑ کو گمبھیر کرنے کا سبب بنے ہیں اور پھر اس دلدل کے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے، تاکہ ایک دلدل سے نکلنے کی خواہش میں کسی دوسری اور زیادہ بڑی دلدل میں نہ پھنس جائیں بلکہ وہ راستہ اختیار کریں جو فی الحقیقت بلندی اور فراز کی طرف لے جاسکے۔

  •  ہماری نگاہ میں بگاڑ کی پہلی اور اہم ترین وجہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور شناخت کے بارے میں فکری انتشار اور عملی غفلت ہے۔ قومیں نظریات ہی کی بنیاد پر مضبوط ہوسکتی ہیں۔ قوم میں جذبہ اور حرکت نظریے ہی سے پیدا ہوتے ہیں اور قومی یک جہتی اور اتحاد نظریے ہی کے رہینِ منت ہیں۔ اس سلسلے میں غفلت، انتشار اور بے وفائی ہماری کمزوری اور بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ حکمرانوں کی غفلت اور کمزوری اور ایک مخصوص سیکولر اور لبرل طبقے کا جارحانہ رویہ حالات کو بگاڑنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ ملک کی نئی نسل اور ہمارے نوجوان جو آج آبادی کا ۶۰ فی صد ہے، اسے گمراہ کرنے اور ذہنی انتشار اور اخلاقی بگاڑ کا نشانہ بنانے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ میڈیا اور بیرونی امداد پر پلنے والی این جی وزاس سلسلے میں بڑا ہی خطرناک کردار ادا کر رہی ہیں۔ فحاشی اور بے راہ روی کی ترویج کی منظم کوششیں روزافزوں ہیں اور غضب ہے کہ اس سال میڈیا نے رمضان کے تقدس کو پامال کرنے اور اس کے روحانی اور اخلاقی ثمرات سے معاشرے کو محروم کرنے کے لیے ٹی وی پر جس طرح کے رمضان پروگرام نشر کیے ہیں ،وہ شرمناک بھی ہیں اور اسلامی اخلاقیات کے یک سر منافی بھی۔ رمضان کو ایک تماشا اور تہوار بنا دیا گیا ہے اور اسے ریٹنگ کے چکر میں کمرشلائز کرنے اور کاروں، موٹرسائیکلوں اور نقدی اور سونے کے انعامات کے چکّر میں محصور ایک مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ سب ہو رہا ہے اور نہ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے، نہ پیمرا خوابِ غفلت سے بیدار ہوتا ہے اور نہ علما اور دینی حلقے ہی رمضان کی اس بے حُرمتی پر احتجاج کناں ہیں۔ دو ایک علما،سیاسی رہنمائوں اور چند صحافیوں کو چھوڑ کر کوئی دکھائی نہیں دیا جو اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ہم اس نظریاتی یلغار کو تحریکِ پاکستان کے اصل مقاصد پر ایک کاری ضرب اور حملہ سمجھتے ہیں۔
  • دوسرا خطرہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کا ہے جو نظریاتی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی میدانوں میں بھی روزافزوں ہے۔ امریکا، مغربی اقوام، بھارت اور کچھ دوسرے ممالک اپنے اپنے مقاصد کے لیے ہرممکن محاذ پر سرگرم ہیں۔ حکومتیں اور ان کی ایجنسیاں بھی اور بیرونی امداد پر پلنے والی بیرونی اور ملکی این جی اوز بھی۔ آج Hard Power (فوجی قوت) سے بھی بڑا خطرہ Soft Power (ابلاغِ عامہ کی جملہ قوت) بن گئی ہے اور ہماری حکومت اور سیاسی اور دینی جماعتوںکو اس خطرے کا یا پورا ادراک نہیں یا پھر وہ مصلحتوں کا شکار اور قوم کے حیات افروز مفادات کے بارے میں مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔
  • تیسرا بڑا مسئلہ اچھی حکمرانی کا فقدان اور شخصی پسند و ناپسند اور ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر دستور، قانون ، اداروں اور مسلّمہ ضابطہ ہاے کار کی خلاف ورزی بلکہ بہیمانہ پامالی ہے۔ اس نے بدعنوانی اور کرپشن کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ قومی وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج مرکزی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادایگی ہی خرچ کی سب سے بڑی مد بن گئی ہے۔ ٹیکس کی آمدنی کا ایک تہائی صرف سود کی ادایگی کی نذر ہو رہا ہے، جو دفاعی اخراجات سے بھی تقریباً دگنی ہے۔ اس کے برعکس اندازہ ہے کہ کرپشن کی وجہ سے جو نقصان ملک کو ہو رہا ہے، وہ ۸۰ کھرب روپے سالانہ سے بھی زیادہ ہے، جو پورے وفاقی بجٹ سے دوگنے کے لگ بھگ ہے۔

حکومت کی ترجیحات میں نمایشی منصوبے مرکزیت رکھتے ہیں، جب کہ عوام کی حقیقی ضرورتوں: خوراک، صاف پانی، تعلیم، صحت، رہایش پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ معیشت کا پورا نظام سرمایہ دارانہ اصولوں پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔معاشی ترقی کا جو تصور چھایا ہوا ہے، اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ۱۰ فی صد آبادی کو مل رہا ہے، جب کہ ۹۰ فی صد عوام محروم ہیں۔ دولت کی عدم مساوات روزافزوں ہے۔ غربت میں کمی نظر نہیں آرہی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی کا بحران حسب سابق ہے۔ زراعت رُوبہ زوال ہے۔ صنعت کی ترقیاتی رفتار ٹھیری ہوئی ہے، البتہ اسٹاک ایکسچینج میں بہار آئی ہوئی ہے اور بنکوںکے وارے نیارے ہیں۔ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (آئی ایم ایف) کی ایک تازہ ترین رپورٹ یہ کہنے پر مجبور ہوئی ہے: ’’دنیا میں جن دو ملکوں میں بنک سب سے زیادہ منافع کمارہے ہیں وہ پاکستان اور کولمبیا ہیں‘‘۔ گذشتہ سال جب زراعت کی پیداوار کا گراف نیچے گرا ہے، اور بڑی صنعت ۲ فی صد کی شرح سے بڑھی ہے، بنکوں کا منافع ۲۵ فی صد سے ۷ئ۴۰ فی صد تک رہا ہے اور وہ بھی اس عجیب و غریب سرمایہ کاری کے نتیجے میں کہ بنکوں کے وسائل کا ۹۰ فی صد حکومت کی سیکورٹیز اور بانڈز میں لگا ہوا ہے اور صنعت اور تجارت میں ان کی سرمایہ کاری ۱۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ بنکوں کے چیف ایگزیکٹوز کی تنخواہوں پر نگاہ ڈالیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو کی تنخواہ ایک کروڑ ۱۵لاکھ روپے ماہانہ ہے۔ مسلم کمرشل بنک

[بقیہ دیکھیے: ص ۱۰۹]

[’اشارات‘ ص ۲۳ سے آگے]

 کے منتظم اعلیٰ کو ۴۵لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ الائیڈبنک کے سربراہ کی تنخواہ ۴۴لاکھ ماہانہ ہے اور حبیب بنک کے سربراہ کی ۳۰ لاکھ روپے ماہانہ ہے، جب کہ ملکی آبادی کا ۶۰ فی صد اوسطاً ۶ہزار روپے ماہانہ اور ۳۰ فی صد اوسطاً صرف ۳ہزار روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ یہ ہے وہ معاشی دہشت گردی جس کی آماج گاہ پاک وطن بن چکا ہے۔

یہ وہ حالات ہیں، جن کے نتیجے میں پاکستان آج صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی کا شکار نہیں، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی انتشار میں بھی مبتلا ہے، جس کی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ آج حالات کی اصلاح کے لیے اسی طرح کی ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی برعظیم کے مسلمانوں کو برطانوی حکومتوں اور بھارتی سامراج سے نجات دلانے کے لیے  علامہ محمد اقبال کی فکری اور قائداعظم کی سیاسی رہنمائی میں برپا ہوئی تھی۔

قومی یک جھتی کی ضرورت

ہر زبان پر یہ سوال ہے کہ اصلاح کا راستہ کیا ہے؟

ہماری نگاہ میں نہ فوج کی سیاسی مداخلت پاکستان کے حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد اور لُوٹ مار کی سیاست۔ ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے، وہ صرف سیاست ہی نہیں بلکہ ریاست اور ملک کے وجود کے لیے بھی خطرہ بنتی جارہی ہے۔ حکومتوں کی آمرانہ روش، تنگ دلی، تنگ نظری اور مفادپرستی حالات کو بگاڑ رہی ہے اور اداروں کی کمزوری اور باہم آویزش حالات کو اور بھی مخدوش بنارہی ہے۔ ایک طرف عوام کی حالت روز بروز خراب ہورہی ہے تو دوسری جانب معاشی بگاڑ کم ہونے میں نہیں آرہا۔ توانائی کے بحران میں کوئی کمی نہیں ہورہی۔ وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی دوبھر کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ نے کچھ علاقوں میں بہتری پیدا کی ہے، مگر بحیثیت مجموعی حالات ابھی گرفت میں نہیں ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسئلے کا حل صرف فوجی قوت کا استعمال نہیں۔ مناسب حد تک فوجی قوت کا استعمال اور ریاست کی رِٹ قائم کرنے کے تمام ضروری اقدامات اپنی جگہ بہت اہم، لیکن سیاسی فضا کی بہتری اور سب سے زیادہ اندازِ حکمرانی کی درستی اور اداروں کو سیاسی مداخلت اور مفاد پرستوں کی گرفت سے آزاد کرکے اہلیت اور قانون کی حکمرانی اور ضابطۂ کارکے احترام کی بنیاد پر متحرک اور مؤثر کیے بغیر تبدیلی اور اصلا ح محال ہے۔

کس قدر صدمے اور شرم کی بات ہے کہ سیاست اور جرم اس طرح شیروشکر ہوگئے ہیں اور ہرسطح پر یوں جلوہ گر ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک ماڈل گرل کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود چار مہینے بڑے ناز نخروں کے ساتھ زیرحراست رکھا جاتا ہے اور عدالت میں روز روز کی پیشیاں ایک تماشا بنادی جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود چارج شیٹ نہیں کیا جاتا کہ جن پر ضرب پڑتی ہے وہ ہرقانون سے بالا اور ایک دوسرے کے محافظ ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جو پاکستان کی سیاست پر لوگوں کو تین حرف بھیجنے کا راستہ دکھاتے ہیں یا سیاست کی بساط لپیٹ دینے والوں کو موقع فراہم کرتے ہیں۔

اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، بگاڑ کے اسباب پر متفق ہیں اور اصلاح کے خواہاں ہیں، وہ مل جل کر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو دستور کے دائرے میں رہ کر بدلنے کے لیے سرگرم ہوں۔ اس مقصد کے لیے بگاڑ کے   ایک ایک سبب کو دُور کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے، جب عوام کو متحرک اور منظم کیا جائے اور عوامی تائید سے اقتدار ایک ایسی قیادت کو سونپا جائے جس کا دامن پاک ہو، جو اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل ہو، جس کا تعلق مفاد پرست طبقوں سے نہ ہو، بلکہ جو عوام میں سے ہو، جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو، اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتی ہو۔

قوم میں یہ صلاحیت موجود ہے اور وہ بار بار اس کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ ضرورت صحیح مقصد اور منزل کا تعین اور جماعتی اور گروہی تعصبات سے بالا ہوکر تمام محب ِ وطن عناصر کو ایک مؤثر اور متحرک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ہے۔ آسمان سے فرشتے نہیں اُتریں گے، قوم کو خود اپنے معاملات کی اصلاح کے لیے اپنے میں سے اچھے لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ یہی راستہ صحت مند تبدیلی کا راستہ ہے۔ اسی کو اختیار کرکے ہم خوش حال اسلامی پاکستان کی طرف پیش قدمی کرسکیں گے۔

قومی زندگی میں بجٹ کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایسی دستاویز ہے جو ایک طرف حکومت کی پچھلے ایک سال کی آمدنی اور اخراجات اور آیندہ سال کے پورے مالی دروبست کا میزانیہ ہوتی ہے، تو دوسری طرف اس کی اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں ملک کو درپیش حقیقی معاشی مسائل اور چیلنجوں کی صحیح تصویر قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے آتی ہے۔ اس میں وہ پورا نقشۂ کار بھی سامنے آجاتا ہے، جو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کے پیش نظر ہوتا ہے۔ گویا حقیقت اور وژن دونوں ہی کا عکس اس میں دیکھا جاسکتا ہے۔

بجٹ: معاشی ترقی کا آئینہ

قوم اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ درج ذیل پہلوئوں سے بجٹ کا جائزہ لینے کا اہتمام کرے:

اوّلاً: یہ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کا بے لاگ جائزہ لینے کا بہترین موقع ہوتا ہے جس کی روشنی میں دیانت اور انصاف کے ساتھ حکومت اور معیشت دونوں کی کارکردگی کے مثبت اور منفی پہلوئوں کو متعین کرنا چاہیے۔ ان کی روشنی میں مستقبل کے لیے جو سبق سیکھا جاسکتا ہے، اس کی بھی واضح الفاظ میں نشان دہی ہونی چاہیے۔ حکومت کو خود بھی یہ کام کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ اور قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ خدمت انجام دے۔ اس کا مقصد محض ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ملک اور قوم کے وسائل کو عوام کی حقیقی بہبود کے لیے کس طرح خرچ کیا جائے اور اس سلسلے میں بہتر سے بہتر کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن، سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی، دانش ور اور میڈیا، سب کی ذمہ داری ہے کہ اس بجٹ کے موقعے پر اس جائزے اور احتساب کے عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

ثانیاً: مسئلہ محض ایک سال کی کارکردگی کا نہیں بلکہ معیشت کے باب میں حکومت کی بنیادی حکمت عملی کے تعین اور پھر اس حکمت عملی کوعملی جامہ پہنانے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں، ترجیحات، ان پر عمل کے لیے وسائل کے حصول اور ان کے صحیح استعمال کے واضح نقشۂ کار کا تعین اور ان کا تنقیدی جائزہ ہے، تاکہ ملک صحیح سمت میں ترقی کرے اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔

ان دونوں مقاصد کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ اور اس پر بحث کو محض   ان چند دنوں کی بحث اور منظوری کا قصّہ نہ سمجھا جائے، بلکہ بجٹ پر سوچ بچار کا عمل ہرمرحلے میں، اس پر پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری کے دوران، اور منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کے پورے عمل میں جاری و ساری رہنا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بجٹ کو محض چند دنوں کا ایک تماشا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ دنیا کے جمہوری ممالک میں بجٹ اور اس کا جائزہ پورے سال پر پھیلا ہوا ایک مسلسل عمل ہے۔ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیاں پورے سال معاشی اور مالی امور کے باب میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ بجٹ سازی صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ اس میں معیشت و معاشرت کے تمام ہی کردار (اسٹیک ہولڈرز) دیانت داری سے اپنا اپنا حصہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں اور سول سوسائٹی کے ذمہ دار ادارے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور حکومت کو اپنا نتیجۂ فکر فراہم کرتے رہتے ہیں۔ نصف سے زیادہ ممالک میں پارلیمنٹ بجٹ پر بحث کے لیے دو سے چار مہینے صرف کرتی ہیں اور اس طرح بجٹ کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کم سے کم ۴۵دن سے لے کر چارمہینے تک وقف کرتی ہے، جب کہ ہمارے ملک میں اسے چند دن میں نمٹا دیا جاتا ہے۔ اس سال ۵جون کو بجٹ پیش ہوا ہے اور ۲۳ جون کو اسے منظور کرلیا گیا۔ گویا ۱۸دن میں اور اگر چھٹی کے دن نکال دیے جائیں تو صرف ۱۴ دن میں بجٹ کا ہرمرحلہ پورا ہوگیا۔ یہ بجٹ اور قوم دونوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ پاکستان کا سینیٹ کم از کم پچھلے سات سال سے برابر یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ بجٹ پر بحث کے دورانیے کو بڑھایا جائے، بجٹ سازی کے ہرمرحلے میں پارلیمنٹ اور عوام کو شریکِ کار بنایا جائے، سالانہ معاشی سروے بجٹ سے محض ۲۴گھنٹے پہلے شائع نہ کیا جائے، بلکہ کم از کم دو ہفتے پہلے آئے، تاکہ اس کی روشنی میں بجٹ کا جائزہ لیا جاسکے۔ ہندستان میں بجٹ پر ۴۵ دن بحث لازمی ہے، برطانیہ میں اس عمل میں چار مہینے لگتے ہیں، امریکا میں یہ عمل پورے سال اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں جاری رہتا ہے۔ خصوصیت سے ’تخصیصی کمیٹی‘ (Appropriation Committee) کا کردار مستقل اور مسلسل ہے اور ایک ایک سرکاری خرچ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔

اسی طرح ’ضمنی بجٹ‘ کا معاملہ بھی فیصلہ طلب ہے۔ سینیٹ نے اس کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور موجودہ وزیرخزانہ جب اپوزیشن میں تھے تو یہ بھی ہماری طرح اس کے بڑے ناقد تھے۔ ان سے توقع تھی کہ وہ پارلیمنٹ کے حقوق پر شب خون مارنے کے اس مسلسل عمل کو ہمیشہ کے لیے روکنے میں کردار ادا کریں گے۔ لیکن ان کے حالیہ اور سابقہ بجٹ میں وہی پرانی کہانی دہرائی گئی ہے اور اس سال (۱۵-۲۰۱۴ئ) یہ رقم ۱۴-۲۰۱۳ء کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہوگئی ہے، یعنی   ۲۰۵؍ارب روپے، جو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر بجٹ سے بالابالا خرچ کیے گئے اور بعد از خرچ اب ان کی منظوری کی محض کاغذی کارروائی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان ۲۰۵؍ارب روپے میں بلامنظوری اخراجات میں صرف ضابطے کی تبدیلیوں (technical reallocation) کا تعلق ۶۷؍ارب روپے سے ہے، جب کہ ۱۳۸؍ارب روپے ان مدات پر خرچ ہوئے ہیں، جن پر کوئی خرچ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جنھیں ’نئی تجاویز‘ (fresh allocations)  کہا جاتا ہے ۔ جب ان تفصیلات پر نگاہ ڈالی جائے جو ان ’غیرمعمولی اہمیت‘ کے حامل نادیدہ مصارف کی رپورٹ میں بیان کرنی پڑی ہیں، تو انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ ان میں VVIP جہاز پر ۱۳کروڑ ۴۰لاکھ روپے اور ۳۵لگژری گاڑیوں کی مد میں ۲۰کروڑ ۵۰لاکھ روپے پھونک دیے گئے ہیں۔ یہ اضافی مطالباتِ زر (ضمنی بجٹ) ایک ناقابلِ معافی زیادتی ہیں جس کا دروازہ بند ہونا چاہیے۔

بجٹ پر بحث کے دوران اگر حکومت اور اس کے اتحادیوں نے عجلت کے ساتھ اور آنکھیں  بند کرکے اسے منظور کر کے قوم اور ملک کے ساتھ انصاف نہیں کیا، تو وہیں پر اپوزیشن کی جماعتیں بھی جواب دہ ہیں کہ جنھوں نے فیصلہ کن مراحل پر بحث میں عدم شرکت اور بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرکے، اپنی ذمہ داری کماحقہ ادا نہیں کی۔ البتہ جہاں ہم اپوزیشن کے اس رویے پر تنقید کر رہے ہیں، وہیں اس امر کا اعتراف بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کم از کم دو جماعتوں نے بجٹ تجاویز بڑے مرتب انداز میں پیش کیں۔ تحریکِ انصاف نے متبادل بجٹ پیش کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان کے امیر اور سیکرٹری جنرل نے بجٹ سے پہلے بجٹ کے لیے مثبت تجاویز پیش کیں۔ اخبارات اور میڈیا میں بھی اچھی بحث ہوئی اور آزاد تحقیقی اداروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصیت سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے بجٹ سے پہلے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور بجٹ کے آنے کے بعد اس پر بھی اپنا مبسوط تجزیہ پیش کیا۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ بجٹ سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

معاشی ترقی کا حکومتی دعویٰ

۱۶-۲۰۱۵ء کا بجٹ مسلم لیگ (ن)کی مرکزی حکومت کا تیسرا بجٹ تھا۔ حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ دو سال میں معیشت کو دیوالیہ ہونے کے بحران سے نکال کر بڑے پیمانے پر استحکام (macro stabilization) کی راہ پر ڈال دیا ہے اور اب وہ معاشی ترقی کی سمت بڑی جست لگانے کی پوزیشن میں ہے۔ بجٹ میں وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب وہ معاشی ترقی کے لیے فیصلہ کن اقدام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو اگر حقائق پر مبنی ہو تو بہت خوش آیند ہے، لیکن اگر حقائق کوئی اور تصویر پیش کر رہے ہوں تو یہ ایک خطرناک مغالطہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے بجٹ، اس کے وسائل اور تجاویز کی روشنی میں اس دعوے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

گذشتہ بجٹ جسے استحکام کی راہ ہموار کرنے والی دستاویز قرار دیا گیا تھا، اس میں ۱۵اہداف سامنے رکھے گئے تھے۔ سالانہ معاشی دستاویزات کی روشنی میں جو حقیقت سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان ۱۵ میں سے صرف چار ایسے ہیں، جن میں حکومت اپنے اہداف حاصل کرسکی ہے۔ بیرونی ذخائر ۱۷؍ارب ڈالر کی حد پار کرگئے ہیں، جو ایک اچھی خبر ہے۔ افراطِ زر کی شرح کے بارے میں دعویٰ ہے کہ ۸ فی صد سے کم ہوکر ۸ئ۴ فی صد پر آگئی ہے۔ ٹیکس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اپنے ہدف کے قریب پہنچ گئی ہے اور ’ٹیکسوں سے بالا سرکاری آمدنی‘ ( non-tax revenue) میں ہدف سے تقریباً ۲۵ فی صد اضافے نے مجموعی محصولات کی پوزیشن مثبت کردی ہے۔

تصویر کے اس مثبت پہلو کے ساتھ منفی پہلو کا ادراک بھی ضروری ہے: معیشت کی شرح نمو (growth rate) جسے ۱۴-۲۰۱۳ء کے ۴ فی صد سالانہ کے مقابلے میں ۱ئ۵ فی صد ہونا تھا، وہ صرف ۲ئ۴ فی صد ہوسکی، یعنی ہدف سے ۲۵ فی صد کم۔ زراعت میں ترقی کی رفتار مایوس کن رہی، یعنی چار فی صد کے ہدف کے مقابلے میں صرف ۹ئ۲ فی صد۔مویشیوں کی افزایش (livestock) کے باب میں غیرمعمولی اضافے (یعنی ۷ فی صد) کی وجہ سے مجموعی پیداوار میں اضافے کا سراب رُونما ہوا۔ حکومت کے انتظامی اخراجات ہدف سے زیادہ اور ترقیاتی اخراجات میں کمی واقع ہوئی جس سے محصولاتی خسارہ بڑھ گیا۔ یہی معاملہ تجارتی خسارے کا رہا کہ درآمدات اور برآمدات کا فرق آسمان کو چھو رہا ہے۔ برآمدات میں ۴ فی صد کمی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں نصف سے زیادہ کی کمی کے باوجود درآمدات میں خاطرخواہ کمی نہیں ہوئی۔ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ نہ ہوتا اور ۳-جی اور ۴-جی کی فروخت سے’اندھی آمدنی‘ (windfall income)  نہ ہوتی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہوتا۔ زراعت کی طرح سب سے پریشان کن صورت حال صنعت کی ہے ۔ بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) اپنے ہدف کا نصف بھی حاصل نہیں کرسکی جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ٹیکسٹائل کی صنعت میں ۳۰ فی صد کمی ہوئی اور اس کی وجہ سے ۲۰لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ اس پر مستزاد وہ اضافہ ہے، جو ہرسال محنت کاروں (labour force) میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے، یعنی تقریباً ۱۸لاکھ افراد سالانہ۔ بیرونی سرمایہ کاری گذشتہ ۱۵ سال کے مقابلے میں اس سال سب سے کم رہی ہے، یعنی اب ۸۰۰ ملین ڈالر کے پھیرے میں آگئی ہے، جو سالِ گذشتہ کی تقریباً نصف ہے۔ اور اگر اس کا مقابلہ اس رقم سے کیا جائے، جو غیرملکی سرمایہ کارسابقہ سرمایہ کاری کے منافعے کے طور پر سالانہ ملک سے باہر لے جاتے ہیں، تو اس سال کی سرمایہ کاری، منافع کی منتقلی سے جو ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے، سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ پاکستانی سرمایے کی غیرممالک میں منتقلی کو بھی شامل کرلیا جائے، جو ایک باخبر اندازے کے مطابق ۲۰؍ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے، تو بڑی ہی بھیانک تصویر سامنے آتی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے دو سال استحکام کے ہدف کے حصول کے لیے وقف کیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد استحکام (stabilization)کی یہ پالیسی حکومت سے زیادہ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کی پالیسی ہے۔ اس پالیسی پر پچھلے دو سال نہیں، سات سال سے عمل ہو رہا ہے۔ اس کے موجودہ دور کا آغاز پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت نے کیا تھا اور موجودہ حکومت نے ماضی کی حکومت سے کچھ زیادہ ہی مستعدی سے اس پر عمل کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سات برسوں میں بھی ہم معاشی استحکام حاصل نہیں کرسکے۔ ملک کا پیداواری عمل سخت جمود کا شکار ہے۔ زراعت اور صنعت دونوں ہی کی حالت دگرگوں ہے۔ صرف مالیاتی سیکٹر اور سروسز سیکٹر متحرک اور نفع بخش ہیں، جن کے نتیجے میں امیرامیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ملک اس صورت حال سے دوچار تھا، جسے معاشیات کے ماہر stagflation کہتے ہیں، یعنی معیشت میں جمود اور ملک میں افراطِ زر ۔ ان دوسال میں ہم ’افراطِ زر کے ساتھ معاشی جمود‘ سے تو نکلے ہیں، لیکن ایک دوسری دلدل میں دھنس گئے ہیں، جسے Low-growth trap  (پیداوار میں سُست روی کا جال)کہا جاتا ہے۔ حکومت نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اور جس پر ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ اور عالمی ادارے تعریفوں کے ڈونگرے برسا رہے ہیں، وہ اس دلدل سے نہیں نکال سکتی۔ اس کے نتیجے میں تو قرضوں کا بار بڑھتا ہی رہے گا اور ماضی کے قرض ادا کرنے کے لیے نئے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، جو کسی صورت قابلِ برداشت (sustainable ) نہیں ہے۔

ہماری قرضوں کی غلامی کی کیفیت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے ۲۰۰۱ء تک ۵۴برسوں میں قرض کا بار ملک پر ۳۱۷۲؍ارب روپے تھا جو جنرل پرویز مشرف دورِ حکومت میں بڑھ کر ۲۰۰۸ء تک دوگنا ہوگیا، یعنی ۶۱۲۶؍ارب روپے۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سال کے تحفے کے طور پر یہ قرض بڑھ کر ۱۴ہزار۲سو۹۳ ؍ارب روپے ہوگیا۔ اب مسلم لیگ حکومت کا عطیہ یہ ہے کہ مجموعی قرض ۱۶ہزار۹سو۳۶؍ارب روپے ہے۔ ان سوا دو سال میں تقریباً تین ہزار ارب کا اضافہ ہوگیا ہے اور آج صرف سود کی ادایگی حکومت کے مصارف میں سرفہرست ہے، یعنی سرکاری مصارف کا تقریباً ۳۱فی صد، جو اَب دفاعی مصارف سے بھی ۵۰ فی صد زیادہ ہے، اور اگلے سال ۱۲۸۰ ؍ارب روپے صرف سود کی ادایگیوں کے لیے درکار ہیں۔ پاکستان کا ہربچہ، جوان اور بوڑھا ایک لاکھ تین ہزارروپے فی کس کا مقروض ہے۔ نیز حکومت ۲۰۰۵ء کے قرضوں کی حد پر پابندی کے قانون کی بھی مسلسل خلاف ورزی کرر ہی ہے اور پارلیمنٹ اور عدالتیں سب ’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘ کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ’معاشی استحکام‘ کا نہیں ’دائمی معاشی عدم استحکام‘ کا راستہ ہے، اور حکومت کا حال یہ ہے کہ  

زہر دے ، اس پہ یہ اصرار کہ پینا ہوگا

درپیش معاشی چیلنج

حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ: انتظامی اخراجات میں کمی کرے گی، کفایت شعاری کی روش اختیار کرے گی اور ملک میں اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی اور خود وزیراعظم اس کی پہلی مثال قائم کریں گے‘‘۔ وزیرخزانہ نے بجٹ کی تقریر میں بڑے واضح الفاظ میں فرمایا تھا:’’وزیراعظم صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس عمل کا آغاز وہ اپنے دفتر سے کریں گے‘‘۔

۱۳-۲۰۱۲ء میں وزیراعظم کے آفس کا بجٹ ۷۲ کروڑ ۵۰ لاکھ روپے تھا، جسے ۱۴-۲۰۱۳ء کے لیے ۴۵ فی صد کم کر کے بجٹ میں ۳۹کروڑ۶۰ لاکھ پر رکھا گیا۔ لیکن عمل کی کیفیت کیا رہی؟ ۱۴-۲۰۱۳ء کا ترمیم شدہ بجٹ ۷۵ کروڑ ۵۰لاکھ تھا جو ۱۵-۲۰۱۴ء میں بڑھ کر ۸۰ کروڑ ۱۰ لاکھ ہوگیا اور اب ۱۶-۲۰۱۵ء کے بجٹ میں ۸۴کروڑ ۲۰لاکھ مقرر کیا گیا ہے۔ نیز خبر ہے کہ ایک ارب روپے اس کے علاوہ ہیں، جو گذشتہ سال میں وزیراعظم کے دفتر کو فراہم کیے گئے ہیں، مگر اس کی تصدیق کرنے کے باوجود کہ ایسا ہوا ہے، بجٹ کی دستاویزات میں اس کا ذکر نہیں (ایکسپریس ٹریبیون، ۶جون ۲۰۱۵ئ)۔اس طرح وزیراعظم آفس کے روزانہ اخراجات ۲ لاکھ ۷۴ہزار روپے بنتے ہیں۔ دوسری طرف ایوانِ صدر کے اخراجات ۷۴کروڑ ۳۴ لاکھ تھے، جنھیں نظرثانی شدہ بجٹ میں ۷۴کروڑ۹۲لاکھ کردیا گیا اور اب تازہ بجٹ میں بڑھا کر ۸۰کروڑ ۱۰لاکھ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔

بدقسمتی سے شاہ خرچیوں کا بازار ہر شعبۂ زندگی میں گرم ہے۔ اور اچھی حکمرانی کا کہیں وجود نہیں۔شخصی پسند و ناپسند کی بنیاد پر پورا کاروبارِ حکومت تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے۔  حیرت کی بات ہے کہ ملک کو ہمہ وقتی وزیرقانون، وزیردفاع، وزیرخارجہ میسر نہیں۔ ۵۰ سے زیادہ اہم سرکاری عہدوں اور اداروں کے سربراہ یا ڈائرکٹرز میں سے عدالت عظمیٰ کے حکم پر صرف دوچار جگہ تقرریاں ہوئی ہیں، باقی سب خالی پڑی ہیں۔ خالص ٹیکنیکل وزارتوں اور عہدوں پر ایسے لوگوں کا تقرر کیا گیا ہے، جنھیں متعلقہ فن کی ہوا بھی نہیں لگی۔ کرپشن کا دوردورہ ہے اور میڈیا اور عدالتوں میں ایک سے ایک بڑا اسکینڈل ہر روز سامنے آرہا ہے، مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔

وزیرخزانہ صاحب بڑے فخریہ انداز میں عددی، اسٹینڈرڈ اینڈ یوور، وال اسٹریٹ جرنل اور دی اکانومسٹ کے مثبت تبصرے بیان کرتے نہیں تھکتے، لیکن اس سوال کا کوئی جواب دینے کو تیار نہیں کہ اگر یہ سب سبز باغ ارضِ وطن کو آراستہ کرچکے ہیں تو ملک میں غربت ۵۰ فی صد سے زیادہ کیوں ہے؟ اور یہ بھی عالمی بنک ہی کی رپورٹ ہے کہ ۹کروڑ سے زیادہ افراد آج غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور آبادی کا ۲۰ فی صد اس کس مپرسی کے عالم میں ہے، جسے شدید غربت اور موت و حیات کی کش مکش کہا جاتا ہے۔

عالمی بنک ہی کی رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا ۶ئ۳۱ فی صد کم خوراکی  اور ’کسرِ وزن ‘ (under weight)کا شکار ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات اور زچہ کی شرحِ اموات میں پاکستان عالمی برادری میں پست ترین سطح پر ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس میں ہم دنیا کے ۱۸۷ ممالک میں ۱۴۴ ویں مقام پر ہیں۔ ۲کروڑ ۵۰لاکھ بچے ایسے ہیں، جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں لیکن تعلیم سے یکسر محروم ہیں اور جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کا کیا حال ہے___ یہ ایک دوسری دل خراش داستان ہے  ع     تن ہمہ داغ داغ شد ،  پنبہ کجا کجا بہم۔

حکومت خوش ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ ایک معما ہے کہ ملک کا پیداواری سیکٹر سکڑ رہا ہے، برآمدات کم ہو رہی ہیں، ٹیکسٹائل صنعت جو کبھی ہمارا طرئہ امتیاز تھی، آج زبوں حالی کا شکار ہے ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل برآمدات ،پاکستان کی برآمدات سے دوگنی ہوگئی ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی ہورہی ہے۔ گذشتہ سال نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں ۳۰ فی صد کمی ہوئی ہے لیکن اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ صرف سٹے کی وجہ سے ہی ممکن ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امیر طبقہ روپے سے روپے ڈھال رہا ہے اور ملک کی معیشت اور عام آدمی اس بہتی گنگا سے کوئی حصہ نہیں پارہے۔ ۲۰ فی صد متوسط طبقہ اور خصوصیت سے اشرافیہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور عام آدمی دوقت کی روٹی سے محروم ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں، شادی ہالوں، اُونچے طبقے کے خریداری کے مراکز پر نظر ڈالیے، قیمتی گاڑیوں کے کاروانوں کو دیکھیے، شہروں میں محلات کی اُگلتی فصلوں پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرف فراوانی ہی فراوانی ہے۔ لیکن اگر آبادی کے نصف سے زیادہ کے حالات کو دیکھیے تو آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ ملک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے ۔ ایک حالیہ سرکاری رپورٹ Household Integrated Economic Survey کے مطابق ملک میں ۵۰ لاکھ افراد ایسے ہیں، جن کی خاندانی آمدنی ۱۵لاکھ سالانہ سے زیادہ ہے۔ لیکن انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد صرف ۸لاکھ ہے۔ دوسری طرف ۴۷ فی صد آبادی وہ ہے جس کی روزانہ آمدنی ۲۰۰ روپے سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ بھوک کی بناپر کوئی موت واقع ہوئی ہو، یا کسی نے اس کی وجہ سے خودکشی کی ہو۔ لیکن آج پاکستان میں یہ مثالیں بھی رُونما ہورہی ہیں اور بڑھ رہی ہیں۔

کیا بجٹ میں ان حالات کا کوئی حقیقی ادراک موجود ہے؟ کیا حکومت نے کوئی ایسی حکمت عملی بنائی ہے، جس سے ملک ایسی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، یا جس میں ملک کے وسائل سے عام آدمی مستفید ہوسکے؟ اس کی زندگی میں تبدیلی آسکے، اسے روزگار میسر آسکے، وہ اپنی ضروریاتِ زندگی عزت کے ساتھ پوری کرسکے؟اس کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں، اس کے سر پر چھت اور پیٹ میں روٹی ہو۔ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کے اس تیسرے بجٹ میں کوئی جھلک ایک حقیقی تبدیلی کی نظر نہیں آتی۔ نہ معاشی ترقی کا کوئی ایسا واضح تصور سامنے آتا ہے جو معاشی اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو۔ جس میں قوم ترقی اور خودانحصاری کے راستے پر گامزن ہوسکے، جس کے نتیجے کے طور پر عام افراد کی زندگی میں خوش حالی رُونما ہوسکے۔ جو دولت کی منصفانہ تقسیم اور ملک کے تمام علاقوں، خصوصیت سے پس ماندہ علاقوں، طبقوں کو شادکام کرسکے۔

وزیرخزانہ نے اگلے سال کے لیے ۵ فی صد شرحِ نمو کی بات کی ہے اور ۲۰۱۸ء تک   ۷فی صد پر لے جانے کی خوش خبری دی ہے۔ لیکن لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کا جو راستہ یہ حکومت  آئی ایم ایف، عالمی بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کی خواہش کے مطابق اختیار کیے ہوئے ہے،  اس کے نتیجے میں ہمیں دُور دُور تیزرفتار، مستحکم اور منصفانہ ترقی کے وقوع پذیر ہونے کے کوئی آثار  نظر نہیں آتے۔ معیشت کو حقیقی ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ بیرونی اور اندرونی قرضوں کے چنگل سے نکلا جائے اور ملک کے اپنے وسائل کو دیانت اور محنت کے ساتھ بروے کار لایا جائے۔ اس کے لیے قیادت کو فکری اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال قائم کرنی ہوگی۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے، ضرورت صحیح قیادت، صحیح منصوبہ بندی، اچھی حکمرانی اور سب سے بڑھ کر معاشی ترقی کے اس عمل میں پوری قوم کو، خصوصیت سے اس کے نوجوانوں کی شرکت کو   عملی صورت دینے کی ہے۔ اس قوم میں بڑی صلاحیت ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ قیادت مفقود ہے جو اس صلاحیت کو بیدار اور منظم کرسکے۔ ۲۰۰۵ء کے زلزلے کے موقعے پر سب نے دیکھا کہ کس طرح خیبر سے کراچی تک قوم کے ہر طبقے اور خصوصیت سے نوجوانوں نے آفاتِ سماوی کے مقابلے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی اور خدمت کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی۔ کیا قوم کی اس صلاحیت کو آزادی کی حفاظت اور ایک خوش حال اسلامی پاکستان کی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا؟

مسلم لیگ کا منشور اور حقائق

مسلم لیگ (ن)نے اپنے ۲۰۱۳ء کے منشور میں ’مضبوط معیشت، مضبوط پاکستان‘ کا خواب دکھایا تھا اور ’ہم بدلیں گے پاکستان‘ کا جھنڈا لے کر قوم کو تعاون و تائید کے لیے پکارا تھا۔ اس میں جس منزل کو اپنی منزل قرار دیا گیا تھا وہ ’خوددار، خوش حال، خودمختار پاکستان‘ تھا۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ:

ہم وی آئی پی کلچر کا خاتمہ اور کفایت کی مہم کا آغاز کریں گے، خاص طور پر صدر، وزیراعظم، گورنر اور وزراے اعلیٰ سے متعلق اخراجات غیرمعمولی طور پر کم کیے جائیں گے۔

  • منشور کے چند اہم نکات کو ذہنوں میں تازہ کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان دو سال اور تین بجٹوں میں قوم اس منزل کی طرف بڑھی ہے یا ساری دوڑ دھوپ اسی پرانی ڈگر پر رہی ہے جس سے نجات کے لیے قوم سے مینڈیٹ لیا گیا تھا:
  •  تمام آمدنی پر ٹیکس لگانا، اور براہِ راست ٹیکس پر انحصار بڑھا کر ٹیکس سے آمدنی کے نظام کو  مبنی بر انصاف بنانا۔
  • آئی ٹی ڈیٹابیس کے زیادہ استعمال کے ذریعے ٹیکس سسٹم کی بنیاد کو وسیع کرنا۔lٹیکس کی عدم ادایگی کم کرنا۔ ٹیکس انتظامیات میں اصلاح کرنا۔
  • تمام اشیا کے لیے معیاری نرخ یقینی بناکر سیلزٹیکس کو معقول بنانا۔
  • منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا۔اشیاے تعیش کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا، اور غیرضروری درآمدات پر ریگولٹیری ڈیوٹی عائد کرنا، یقینی بنانا۔گیس اور بجلی تمام شہری اور دیہی صارفین کو ایک قابلِ ادایگی قیمت پر مسلسل مہیا کی جائیں گی۔
  • پانی اور بجلی، پٹرولیم اور قومی وسائل کے انضمام سے توانائی اور قومی وسائل کی ایک وزارت قائم کرنا۔ lنیپرا کی اصلاح کرنا۔
  • بجلی کی تقسیم کی کمپنیوں کی اصلاح کرنا۔lبجلی کے بلوں کو ۱۰۰ فی صد سے قریب ترین ممکنہ سطح تک وصول کرنا۔
  • گردشی قرضے کا مستقل خاتمہ کرنا۔
  • دیہی معیشت جو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور چھوٹے کاشتکاروں پر توجہ دینا اور ٹکنالوجی کو فروغ دینا پیداواری inputs (یعنی کھاد، بیج، کرم مار ادویہ وغیرہ) تک ان کی رسائی یقینی بنانا۔   
  • تحفظ خوراک کا حصول، خاص طور پر ان ۴۰ فی صد کے لیے جو ۲۰۱۲ء میں خوراک کے    عدم تحفظ کا شکار تھے۔
  • خوراک کے حق کو دستوری ترمیم کے ذریعے دستوری حق قرار دینا۔ روزگار کی فراہمی کے ایسے پروگرام کو رواج دینا جن میں لیبر کا استعمال زیادہ ہو (labour intensive)lقومی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا تاکہ ناخواندگی کو جنگی بنیادوں پر ختم کیا جاسکے۔
  • تعلیم کا یکساں نظام مرحلہ بہ مرحلہ نافذ کیا جائے گا۔
  • مڈل سطح تک ۱۰۰ فی صد داخلے اور ترقی کے مقاصد کے تحت ۸۰ فی صد خواندگی حاصل کرنا (واضح رہے کہ یہ عالمی ترقیاتی منصوبے کاحصہ ہے جسے دسمبر ۲۰۱۵ء تک مکمل ہونا تھا اور پاکستان اس معاہدے کا حصہ ہے۔)

ہم نے تذکیر کے مخلصانہ جذبے سے مسلم لیگ کے منشور کے ان دعوئوں کو یہاں پیش کیا ہے۔ مگر کیا کوئی دیانت داری سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تیسرے بجٹ میں جو درمیانی مدت (mid-term) کی حیثیت رکھتا ہے، اس وژن کی کوئی جھلک بھی نظر آتی ہے؟ ہم تو بار بار کی کوشش کے باوجود روشنی کی کوئی کرن نہ دیکھ سکے! ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ غالباً منشور کا یہ وژن عوام کو سبزباغ دکھانے کے لیے تھا، حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ پر اس کا کوئی سایہ دُور دُور تک نظر نہیں آتا ہے۔

ہماری نگاہ میں اس بجٹ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس میں حالات کا صحیح تجزیہ اور معیشت کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کا کوئی ادراک موجود نہیں ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ اعدادوشمار کی ایک اچھی مشق ہے، جس میں حالت ِ زار کو جوں کا توں (status quo) باقی رکھنے کا بندوبست ہے۔ اس حقیقی تبدیلی اور وہ بھی بنیادی تبدیلی کا کوئی اشارہ ہمیں دُور دُور نظر نہیں آتا جس کے بغیر ملک کو معاشی بحرانوں اور قرض کی غلامی کی دلدل سے نکالنا ممکن نہیں۔

بجٹ اور سروے میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ تصویر کا ایک رُخ دکھایا جائے اور ماضی کی غلطیوں اور خود اپنی پالیسیوں کے نتائج کے بے لاگ اور معروضی تجزیے کے صحت مند راستے کے مقابلے میں الفاظ کے گورکھ دھندے اور اعداد وشمار کے دائوپیچ سے ایک ایسی منظرکشی کی جائے ،جس کے ذریعے اصل حقائق کو نظروں سے اوجھل رکھا جاسکے۔ ہم اس سلسلے میں چند مثالیں اہلِ نظر کے غوروفکر کے لیے پیش کرتے ہیں:

افراطِ زر کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ ۸ئ۴ فی صد پر آگیا ہے، حالانکہ عام آدمی کا تجربہ یہ ہے کہ اشیاے خوردونوش جن کا ایک عام آدمی کے بجٹ میں بڑا حصہ ہوتا ہے، نہ صرف یہ کہ ان کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ دی نیوز کے نمایندے نے جون سالِ گذشتہ اور جون ۲۰۱۵ء کے بازار سے حاصل کردہ جو نرخ دیے ہیں، وہ نہ صرف اضافہ بلکہ ۱۰ سے ۲۰ فی صد اضافے کی خبر لاتے ہیں۔

وزیرخزانہ کا دعویٰ ہے کہ بے روزگاری میں کمی ہوئی ہے اور لیبرفورس کے ۳ئ۶ فی صد سے کم ہوکر ۶ فی صد پر آگئی ہے، جب کہ ’پاکستان پلاننگ کمیشن‘ اور ’قومی اقتصادی کونسل‘ (NEC) کی دستاویزات کی روشنی میں اس وقت بے روزگاری کی شرح ۳ئ۸ فی صد ہے۔ حکومت ہی کے اداروں کے دیے ہوئے اعداد و شمار میں ۲۵ فی صد کا فرق ہے     ؎

کس کا یقین کیجیے، کس کا یقین نہ کیجیے

لائے ہیں ان کی بزم سے یار خبر الگ الگ

وزیرخزانہ کا دعویٰ ہے کہ اس سال معیشت ۲۵ لاکھ افراد کو نیا روزگار دے سکے گی۔ لیکن معاشی ماہرین انگشت بدندان ہیں کہ معیشت کے ۵ فی صد شرحِ نمو پر یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے کم از کم ۸ فی صد شرحِ نمو ضروری ہے۔ پھر جس ملک میں کئی کروڑ افراد بے روزگار ہوں یا رزق کی عام سہولتوں سے محروم ہوں، اور جس میں ۲ئ۲ فی صد آبادی میں سالانہ اضافے کے نتیجے میں ہرسال ۱۸لاکھ افراد کا روزگار کی تلاش کرنے والی فوج میں اضافہ ہورہا ہو، اس میں ۵ فی صد کی شرحِ نمو سے ۲۵لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟ معاشیات کے  طالب علموں کے لیے یہ باور کرنا محال ہے۔

حکومت کا اپنی پالیسیوں کے باب میں نظرثانی سے اجتناب اور غیرمتعلق اُمور کو معاشی مشکلات کا سبب قرار دینے کی روش کبھی صحت مند نہیں ہوسکتی۔

وزیرخزانہ نے کہا ہے: ’’معاشی ترقی میں اضافے کی رفتار کو مجروح کرنے والے عوامل میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کی کمی اور ملک میں پانچ مہینے تک دھرنوں کا بڑا دخل ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اُتارچڑھائو کا اثر صرف پاکستان پر کیوں پڑا؟ ہمارے ہی جیسے دوسرے ملکوں کی ترقی کی شرح ان سے کیوں متاثر نہیں ہوئی؟ بھارت، بنگلہ دیش، ملایشیا،  سری لنکا، سب کی شرحِ نمو اور برآمدات پر منفی اثرات کیوں نہیں پڑے؟ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ ہماری درآمدات کے سستا ہوجانے کے مثبت اثرات ہماری معیشت پر کیوں نہیں پڑے؟  قیمت کم ہونے سے درآمدات کی مقدار (volume) کے مقابلے میں قدر (value) میں کمی ہونا چاہیے تھی مگر درآمدات کی قدر میں براے نام کمی ہوئی ہے ا ور تجارتی خسارہ اور بڑھ گیا ہے۔

اسی طرح دھرنے کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ اگر اس کا کوئی اثر پڑا بھی ہوگا تو وہ محدود ہوگا۔ البتہ ایک مطالعے کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر کی شرح دھرنے سے پہلے ۹ئ۷ فی صد تھی جو اگست ۲۰۱۴ء میں ۷ فی صد اور دسمبر ۲۰۱۴ء میں ۳ئ۴ فی صد تھی۔ یہ تبدیلی مثبت ہے یا منفی، حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر ملک کی برآمدات کو لیا جائے، تو جولائی اور اگست میں درآمدات میں کمی واقع ہوئی یعنی ۹ئ۷ فی صد اور ۶ئ۳ فی صد ،لیکن نومبر میں ۵ئ۹ فی صد کا اضافہ ہوا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اس عمل اور دھرنوں میں کوئی باہم تعلق نہیں۔ ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوار کے رجحان کو اگر دیکھاجائے تو صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ: جولائی میں اضافہ ۴۵ئ۰ فی صد، اگست میں ۴ئ۴ فی صد، ستمبر میں ۳ئ۳ فی صد، اکتوبر میں ۲ئ۲ فی صد، نومبر میں ۴ئ۵ فی صد، دسمبر میں ۶۹ئ۰ فی صد۔ یہاں بھی اعداد و شمار کسی واضح منفی رجحان کی خبر دینے سے قاصر ہیں۔ (ایکسپریس ٹریبیون، ۱۳ جون ۲۰۱۵ئ)

دھرنے کی افادیت یا اس کا مضر ہونا ہمارا موضوع نہیں۔ ہماری دل چسپی صرف اس بات سے ہے کہ وزیرخزانہ کو دلیل اور مبالغہ آمیز نعرے بازی میں فرق کرنا چاہیے اور معاشی حقائق کی روشنی میں پالیسیوں اور ان کے اثرات کا تجزیہ معروضی انداز میں کرنا چاہیے، تاکہ ان سے صحیح سبق حاصل کیاجاسکے ورنہ ہم خود بھی مغالطے کا شکار ہوں گے اور قوم کی بھی صحیح حالات کے سمجھنے میں مدد نہیں کرپائیں گے۔

مجوزہ حکمت عملی

ملک کو جن معاشی حالات اور چیلنجوں سے سابقہ درپیش ہے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے  مناسب حکمت عملی درکار ہے۔ اس کی کوئی جھلک اس بجٹ میں نظر نہیں آتی، بلکہ مسئلے کے پورے پورے اِدراک کا بھی فقدان ہے۔ توانائی کے مسئلے کو جو اہمیت دی جانا چاہیے تھی وہ مفقود ہے۔ ٹیکس کی چوری، ٹیکس کے نیٹ ورک کی تنگ دامنی، معیشت میں ضیاع کے بڑے بڑے جھرنوں کا بدستور پھیلنا لاپروائی اور بے حسی کا عذاب، اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر کرپشن اور اس کی تباہ کاریوں کے سلسلے میں حکومت کوئی واضح پالیسی اور پروگرام دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس بارے میں دو آرا مشکل ہیں کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے جو امکانات ہیں اس کا بمشکل ایک تہائی اس وقت حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ (ایف بی آر)کا کردار اس میں محدود اور مشتبہ ہوتا جارہا ہے۔ ذرائع آمدنی پر  ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو بھی عملاً ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے۔ ۳۵ لاکھ سے زیادہ افراد کو  ’ٹیکس کے دائرے‘ میں ہونا چاہیے، مگر عملاً صرف ۸لاکھ افراد ہیں جو ٹیکس دے رہے ہیں۔ ساری معلومات اور دعوئوں کے باوجود ٹیکس نادہندہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں ایف بی آر ناکام رہا ہے۔ عالمی بنک اور لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ایک تحقیقی مطالعہ (۲۰۱۳ئ) کے مطابق پاکستان کے موجودہ ٹیکس ادا کرنے والے ۸لاکھ افراد سے جو ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، وہ ان کے واجب الادا ٹیکس کا صرف ۳۸ فی صد ہے، باقی ۶۲ فی صد کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر ان لاکھوں افراد کو نظرانداز بھی کردیا جائے، جن کو ٹیکس دینا چاہیے اور وہ نہیں دے رہے، تب بھی جو ٹیکس دے رہے ہیں، صرف ان کا اگر تمام واجب الادا ٹیکس وصول کیا جائے تو اس وقت ۳ہزار ارب روپے کے بجاے اسے ۸ہزار ارب روپے ہونا چاہیے۔گویا ۵ہزار ارب روپے صرف ان ٹیکس دینے والوں کے کھاتے سے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی متعین کیا گیا ہے کہ اس ۵ہزار ارب روپے کو ٹیکس گزار افراد، ٹیکس جمع کرنے والے عملے اور دوسرے سہولت کاروں کے درمیان تقریباً درج ذیل تناسب سے اُڑایا جا رہا ہے:l۷۰ فی صد ٹیکس دینے والے l۲۵ فی صد ٹیکس جمع کرنے والے l۵ فی صد ٹیکس میں سہولیات فراہم کرنے والے۔

اگر ان تمام ۳۰ سے ۳۵ لاکھ کو بھی ٹیکس کے نیٹ ورک میں لے آیا جائے، جو اس وقت ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر ہیں اور اگر ٹیکس کی شرح میں کمی بھی کردی جائے، تب بھی کم از کم ۸ہزار سے ۱۰ہزار ارب روپے تک مزید محصولات حکومت کو حاصل ہوسکتے ہیں۔

وسائل کے غلط استعمال اور اخراجات کے باب میں کرپشن کی کہانی اس کے علاوہ ہے۔ اندازہ ہے کہ کم از کم ۱۳؍ارب ڈالر کی سالانہ اسمگلنگ ملک میں ہورہی ہے۔  ’غیردستاویزی معیشت‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ’دستاویزی معیشت‘ سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔گویا اس وقت کُل معیشت کا صرف ۳۰ فی صد دستاویز شدہ ، باقی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

ایک حالیہ مطالعے کی روشنی میں صرف چین سے تجارت کے باب میں یہ حیرت ناک بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی چین سے درآمدات ۹؍ارب ڈالر سالانہ دکھائی جارہی ہیں، جب کہ چین کے شعبۂ تجارت اور شماریات کے مطابق چین کی پاکستان کو برآمدات ۱۵؍ارب ڈالر ہیں۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہمارے اور چین کے دیے ہوئے اعداد و شمار میں ۶؍ارب ڈالر کا فرق ہے۔ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ بیرونی اور ملکی قرضوں کے ذریعے حکومتی اخراجات اور ترقیاتی مصارف پورے کرنے کے بجاے خود اپنے وسائل کو ملکی معیشت کی تعمیر کے لیے منظم و متحرک کرے اور بیرونی وسائل کو متوازن انداز سے خرچ کرے تاکہ خودانحصاری کے ذریعے ترقی کا راستہ اختیار کیا جاسکے۔

ہماری نگاہ میں ایف بی آر کو مکمل طور پر ’اوورہال‘ کرنے، اس ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کرنے، ایمان دار اور باصلاحیت افراد کو اس ادارے کی ذمہ داری سونپنے اور مناسب نگرانی کا نظام بنانے کو اوّلیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس ادارے میں مکمل خوداختیاری بھی ضروری ہے، جس کی برسوں سے مزاحمت کی جارہی ہے۔ صرف اس ایک اصلاح سے حالات میں جوہری تبدیلی رُونما ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ ۱۹۸۱ء کی دہائی تک دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں سے تھا، لیکن چینی حکومت نے وہاں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے مؤثر انتظام کیا اور سیاسی مداخلت سے پاک نظام قائم کیا، جس نے صرف تین سال میں ہانگ کانگ سے کرپشن کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا۔ یہ محض دیوانے کا خواب نہیں۔ اگر ایمان دار اور باصلاحیت قیادت ہو تویہ کام چند سال میں انجام دیا جاسکتا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ ترقی کے وژن اور ترجیحات کا ہے۔ ہمیں لبرل سرمایہ دارانہ تصورات کے طلسم سے نکلنا ہوگا۔ خوش حالی اس وقت ممکن ہے جب معاشی ترقی محض دولت مند طبقے کے لیے مالی فراوانی کے مترادف نہ ہوجائے، بلکہ ہراعتبار سے معاشی اور سماجی، تمام طبقات اور تمام علاقوں کی ترقی اور خوش حالی سے عبارت ہو۔ اس کے لیے مارکیٹ کا وجود تو ضروری ہے مگر ’مارکیٹ کی حکمرانی‘ میں یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ ریاست کو اس پورے عمل میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، لیکن خود کاروباری بن کر نہیں، بلکہ تمام عوام کے حقوق کے محافظ اور ان کی خوش حالی کو یقینی بنانے والے کی حیثیت سے۔ ریاست کا یہ تصور ’واشنگٹن کنسنسس‘ (Washington Consensus)اور عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بنک کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔ ’حکومت کا بزنس میں کوئی کام نہیں‘ محض سرمایہ داروں کا بنایا ہوا ایک فلسفہ ہے، جس کے نتیجے میں اس نعرے کے نام پر بزنس مین، حکومت اور ریاست پر قابض ہوجاتا ہے اور انھیں اپنے مفادات میں استعمال کرتا ہے۔ اگر حکومت کا بزنس سے کوئی کام نہیں ہے تو اس سے زیادہ بزنس مین کا یہ کام نہیں کہ وہ حکومت کرے۔ حکومت اور بزنس دو الگ الگ میدان ہیں۔ بزنس مین کو قانون اور اجتماعی مفاد کے دائرے میں بزنس کا ہر موقع ملنا چاہیے، لیکن ریاست کی مشینری کا اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ریاست کو سب کا مائی باپ ہونا چاہیے، اور اس سے بھی زیادہ اس کا کام وہ ہونا چاہیے جس کا اعلان حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زمامِ اختیار سنبھالتے وقت کیا تھا کہ ’’تمھارا طاقت ور میرے لیے کمزور ہے جب تک میں اس سے تمھارا حق حاصل نہ کرلوں، اور تمھارا کمزور میرے لیے اس بات کا حق دار ہے کہ میں طاقت ور سے اس کا حق حاصل کر کے اصل حق دار تک پہنچائوں‘‘۔

یہ ہے وہ تصورِ ریاست جس میں معاشی ترقی اور حقیقی خوش حالی قائم ہوسکتی ہے اور ایک بار پھر یہ کیفیت پیدا ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ دینے والے ان لوگوں کو تلاش کریں جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں، اور معاشرے میں زکوٰۃ دینے والے ہوں اور لینے والے ناپید    ؎

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہم پر اور اُمت مسلمہ پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہ مہینہ اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعامات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہ ہماری بڑی بدنصیبی ہوگی کہ اس مبارک مہینے کو پائیں، اللہ کی رحمت سے اس میں روزوں کی سعادت بھی حاصل کریں، مگر اس اصل مقصد اور پیغام کے بارے میں غافل رہیں جو اس مہینے اور اس میں انسانیت کو دیے جانے والے ربانی تحفے کا اصل جوہر ہے۔

روزے کے تین امتیاز

روزہ اللہ کے ماننے والے تمام انسانوں کے لیے ہر دور میں فرض کیا گیا ہے اور اس کی بے شمار مصلحتوں میں سے تین کم از کم ایسی ہیں جن کا ہرلمحے شعور از بس ضروری ہے۔

  • پہلی بات یہ ہے کہ روزہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتا ہے اور اس سے وفاداری اور صرف اس کی اطاعت کے جذبے پر دل و دماغ کو قانع اور مستحکم کرتا ہے، اور اس کے اس عہد کی تجدید کی خدمت انجام دیتا ہے کہ بندے کا جینا اور مرنا اور عبادات اور قربانیاں سب صرف اللہ کے لیے ہیں۔ حلال اور حرام کا تعلق صرف اللہ کی مرضی اور حکم سے ہے۔ جو چیز اُفق پر روشنی کی پہلی کرن آنے تک حلال تھی وہ صرف اس کے حکم سے سورج کے غروب ہونے تک حرام ہوگئی اور سورج کے غروب ہوتے ہی پھر حلال ہوگئی۔ یہ وہ عبادت ہے جس کا حقیقی گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک شخص دوسروں کے سامنے صائم ہوتے ہوئے بھی تنہائی میں کھا پی سکتا ہے مگر صرف اللہ کی خاطر کھانے اور پینے سے جلوت اور خلوت ہر کیفیت میں پرہیز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود ربِ کائنات نے فرمایا ہے کہ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا۔ اللہ سے جڑنا اور اللہ کی رضا کا پابند ہوجانا اور یہ عہد کرنا کہ ہمیشہ صرف اس کی رضا کا پابند رہوں گا__ یہ ہے روزے کا پہلا روشن ترین پہلو۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی میں نظم و ضبط اور خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتی ہے اور اسی کیفیت اور رویے کا نام ہے تقویٰ۔ اسی لیے فرمایا گیا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo(البقرہ ۲:۱۸۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیروئوں پر فرض کیے گئے تھے، اس توقع کے ساتھ کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

  •  روزے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ہے۔ جن انبیاے کرام ؑ کو کتاب سے نوازا گیا، ان کو یہ کتاب اس حالت میں دی گئی جب وہ روزے سے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وحی کا آغاز غارِحرا میں اس وقت ہوا جب آپؐ وہاں مسلسل روزوں کی حالت میں تھے اور اس مقدس کتاب کا آغاز بھی روزے سے ہوا اور اس کی تکمیل ماہِ رمضان میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ دراصل قرآن کا مہینہ ہے اور اس کے شب و روز قرآن سے تعلق کی تجدید، اس کی تلاوت، تراویح میں اس کی سماعت اور اس کے پیغام کی تفہیم اور تلقین کے لیے خاص ہیں۔ قرآن نہ صرف مکمل ہدایت کا حقیقی مرقع ہے بلکہ انگلی پکڑ کر ہدایت کی راہ پر انسان کو گامزن کرنے اور خیروشر میں تمیز کی صلاحیت اور داعیہ پیدا کرنے والی ہدایت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج (البقرہ ۲:۱۸۵) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے، اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔

بس یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے اور اس مہینے کا حق یہ ہے کہ ہم پورے شعور کے ساتھ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ قرآن کیا ہے، اس کی اتھارٹی کی کیا حیثیت ہے، اس کی تعلیمات کی نوعیت کیا ہے، اس سے ہمارا تعلق کن بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے اور اس کے پیغام کے ہم کس طرح     علَم بردار ہوسکتے ہیں تاکہ اللہ کے انعام کا شکر ادا کرسکیں۔ اس موقعے کی مناسبت سے ہم قرآن کے مقصد ِ حیات، اس سے تعلق کی بنیادوں اور ان کے تقاضوں پر اپنی معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

  • اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے روزے کے تیسرے امتیازی پہلو کی طرف بھی اشارہ کردیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ ایک طرف رمضان کے روزوں کو مکمل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو ذمہ داری تمھیں ادا کرنی ہے اور پورے سال بلکہ پوری زندگی ادا کرنی ہے وہ اعلاے کلمۃ الحق ہے، یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی کوشش کریں اور اس طریقے سے کریں جو تمھیں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور دکھایا ہے:

وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ o (البقرہ ۲:۱۸۵) تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکرگزار بنو۔

قدرت کا قانون ہے کہ جب تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو روشنی اس کا سینہ چیرتی ہوئی رُونما ہوجاتی ہے، ظلمتیں چھٹ جاتی ہیں اور فضا نور سے بھرجاتی ہے۔ تاریخِ انسانی میں روشنی اور نور کا سب سے بڑا سیلاب ۲۷رمضان المبارک ۱۳ قبل ہجرت میں رُونما ہوا۔

انسانیت کے لیے ھدایت

خشکی و تری اور بحروبر پر تاریکی کا غلبہ تھا۔ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ (الروم ۳۰:۴۱) کی حقیقی تصویر بن کر ظلم اور فساد سے خدا کی زمین بھر گئی تھی۔ انسان اپنے حقیقی معبود کو چھوڑ کر جھوٹے خدائوں کی بندگی کر رہے تھے۔ ارض و سما کے مالک نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے جو ہدایت اور رہنمائی بھیجی تھی، انسان نے اس کو گم کر دیا تھا۔ نتیجے کے طور پر گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا۔ انسان، آگ، درخت، پتھر، پانی اور جانوروں تک کی پوجا کر رہے تھے۔ زندگی کے اجتماعی معاملات میں کچھ انسان دوسرے انسانوں کے خدا اور رب بن بیٹھے تھے، اور اپنی من مانی کر رہے تھے۔ نیکیاں معدوم ہورہی تھیں اور بُرائیاں پَر افشاں تھیں۔ نسل، قوم اور قبیلے کے بتوں کی پوجا ہورہی تھی۔ حق، انصاف، آزادی، مساوات اور بندگیِ رب کو انسانیت ترس رہی تھی۔

یہ تھی وہ دنیا، جس میں خدا کے ایک برگزیدہ بندے، انسانیت کے گل سرسبد اور دنیا کے سب سے نیک انسان محمدؐ بن عبداللہ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ ظلم کے اس راج اور بدی کے اس غلبے پر حیران و سرگردان تھا، وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰیo (الضحٰی ۹۳:۷)۔ وہ جھوٹے خدائوں کا باغی اور ایک حقیقی خدا کی بندگی کا جویا تھا۔ دست ِ فطرت نے ۴۰سال اس کی تربیت فرمائی۔ پھر زمین و آسمان کے مالک نے ایک شب اس باکمال ہستی کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبیؐ کی حیثیت سے مامور فرما دیا۔ وہ غارِحرا میں عبادت میں مشغول تھا کہ خدا کا فرشتہ، اس کا امین اور پیام بر رُونما ہوا۔ بندگی میں مشغول بندے کو سینے سے لگایا، اسے خوب بھینچا اور رب السموات والارض کی طرف سے پہلی وحی اس پر نازل کی:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْاِِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ o اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الْاِِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ o (العلق ۹۶:۱-۵) پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے (ساری چیزوں) کو پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے بنایا۔ پڑھو اور تمھارارب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا،اس نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو اس کو معلوم نہ تھیں۔

تاریکیوں کے لیے موت کا پیغام آگیا۔ طاغوت کے غلبے کا دور ختم ہوگیا۔ رب کی آخری ہدایت کا دور شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ ۲۳سال تک چلتا رہا، حتیٰ کہ ہدایت مکمل ہوگئی اور انسانیت کو نور کا وہ خزانہ مل گیا، جس کی روشنی تاقیامت قائم رہے گی جس کے ذریعے وہ ہمیشہ رہنمائی اور ہدایت حاصل کرتی رہے گی:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط(المائدہ ۵:۳)آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔

خدا کی اس زمین پر انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق اس کی جسمانی اور مادی زندگی سے ہے، اور دوسری وہ جو اس کی روحانی، اخلاقی اور سماجی زندگی سے متعلق ہیں۔ خدا کی ربوبیت کاملہ کا تقاضا تھا کہ انسان کی یہ دونوں ضرورتیں پوری کی جائیں، تاکہ وہ زندگی کی آسایشیں بھی حاصل کرسکے اور ان کو صحیح طریقوں سے استعمال بھی کرسکے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ان دونوں ضرورتوں کو بہ حسن و کمال پورا کیا ہے۔ مادی اور جسمانی ضروریات کی تسکین کے لیے زمین و آسمان میں بے شمار قوتیں ودیعت کردی ہیں، جن کی دریافت اور ان کے مناسب استعمال سے انسان کی تمام ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح انسان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت نازل فرمائی اور اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے نہ صرف یہ کہ اس ہدایت کو انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کی زندگیوں میں اسے متشکل کرکے بھی دکھا دیا۔ اس طرح انسانیت نے اپنا سفر تاریکی میں نہیں، روشنی میں شروع کیا، اور ہر دور میں خدا کی ہدایت اس کے لیے مشعلِ راہ بنی رہی۔ اس دنیا میں پہلا انسان [آدم ؑ] پہلا نبی بھی تھا۔ خدا کی یہ ہدایت اپنی آخری اور مکمل ترین شکل میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ یہی ہدایت قرآن کی شکل میں موجود ہے اور قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

قرآن کا تصورِ زندگی

قرآن جس تصورِ زندگی کو پیش کرتا ہے وہ مختصراً یہ ہے:

۱- یہ دنیا بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک پیدا کرنے والا ہے جو اس کا مالک، آقا، رب اور حاکم ہے۔ ہرشے پر اس کی حکومت ہے اور وہی اس کا حقیقی فرماں روا ہے۔ ساری نعمتیں اسی کا عطیہ ہیں۔ اس کا اختیارکُلی اور ہمہ گیر ہے۔ جس طرح وہ دنیا کی ہرچیز کا خالق اور مالک ہے، اسی طرح وہ انسان کا بھی خالق ، مالک اور حاکم ہے۔ اس مالکِ حقیقی نے انسان کو ایک خاص حد تک اختیار اور آزادی دے کر، اس زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنایا ہے اور باقی تمام مخلوقات کو اس کے تابعِ فرمان کیا ہے۔

۲-انسان کو خلافت کی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کے لائق بنانے کے لیے مالکِ حقیقی نے اسے اپنی ہدایت سے نوازا اور اس کی رہنمائی صراطِ مستقیم کی طرف کی ہے۔ اسے بتایا گیا ہے کہ پورا جہاں اس کے لیے ہے، اس کے تابع ہے، لیکن وہ خود خدا کے لیے ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ خدا کی بندگی اختیار کرے اور اپنی پوری زندگی کو رب کی اطاعت میں دے دے۔ اس زندگی کی حیثیت ایک امتحان اور آزمایش کی سی ہے۔ اس میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ   وہ اپنے ارادے کو مالک کی مرضی کے تابع کردے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ لگا دے۔ جس نے اس راہ سے انحراف کیا ، وہ ناکام و نامراد ہے اور آنے والی ابدی زندگی میں جہنم اس کا ٹھکانا ہوگا۔

۳- یہ باتیں انسان کو ازل میں سمجھا دی گئیں۔ ان کا شعور اور احساس اس کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا۔ ان کی تذکیر اور بندگی رب کے راستے کی تشریح و توضیح کے لیے حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک، اللہ تعالیٰ انبیا علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا۔ ایک طرف انسان کو عقل اور سمجھ دی گئی کہ وہ حق کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی کے معاملات کی صورت گری کرے اور دوسری طرف خدا کے ان برگزیدہ بندوں (انبیا علیہم السلام) نے بڑی سے بڑی قربانی دے کر انسانیت کو سیدھی راہ پر لگانے کا کام انجام دیا۔ ہرملک اور ہرقوم میں انبیا مبعوث ہوئے۔ اس سنہری سلسلے کی آخری کڑی محمد عربی ؐ ہیں۔ آپؐ ساری دنیا کے لیے بھیجے گئے اور سارے زمانوں کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپؐ نے اللہ کا وہی دین، یعنی اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا جو اس سے پہلے پیش ہوتا رہا تھا جن لوگوں نے آپؐ کی دعوت قبول کرلی اور اسلام کو بہ حیثیت زندگی کے دین اور راستہ اختیار کرلیا، وہ ایک اُمت بن گئے۔ اب یہ اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کا نظام اس ہدایت کے مطابق تشکیل دے جو اللہ کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور جس کا نمونہ آپؐ نے اپنی مبارک زندگی میں پیش فرمایا، اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دیتی رہے۔

قرآن وہ کتاب ہے جس میں پوری دعوت موجود ہے ، جس میں اللہ کا دین اپنی مکمل اور آخری شکل میں ملتا ہے، جس میں وہ ہدایت ہے جو خالق کائنات نے اُتاری ہے اور جو تمام انسانوں کی دائمی خیروفلاح کی ضامن ہے۔ قرآن اپنی حیثیت اور اپنے مقصد کو اس طرح واضح کرتا ہے:

(الف) ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ  ج فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ o (البقرہ ۲:۲) یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔

(ب) اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ (بنی اسرائیل ۱۷:۹) حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔

(ج) یہ رہنمائی تمام انسانوں کے لیے ہے:

الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ (البقرہ ۲:۱۸۵) قرآن انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔

(د) یہ ہدایت کا ایسا مرقع ہے جسم میں ازل سے نازل ہونے والی ہدایت جمع کردی گئی ہے اور یہ پورے خیر کا مجموعہ ہے:

وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُھَیْمِنًا عَلَیْہِ (المائدہ۵:۴۸) پھر اے نبیؐ، ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے ، اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔

(ہ) یہ ہدایت ہر لحاظ سے محفوظ بھی ہے اور تاقیامت محفوظ رہے گی:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَo (الحجر۱۵:۹)بلاشبہہ ہم نے اس کو نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کو محفوظ رکھنے والے ہیں۔

(و) انسانیت کے دُکھوں کا واحد علاج یہ ہدایت ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ o (یونس۱۰:۵۷)لوگو!تمھارے پروردگار کی جانب سے تمھارے پاس ایک نصیحت آگئی ہے جو دل کے تمام امراض کے لیے شفا ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن تمام لوگوں کے لیے جو اسے مانیں۔

(ز) اور یہی ہدایت ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور حق کا حقیقی معیار ہے۔ اس لیے اس کو مھیمن کہا گیا ہے اور اسی لیے اس کا نام فرقان (حق و باطل میں تمیز کرنے والی) رکھا گیا ہے۔

قرآن کا اصل مقصد

قرآن کی اس نوعیت کو سمجھ لینے کے بعد اس کی حقیقت اور اس کے مقصد کی وضاحت آسان ہوجاتی ہے، اسے ہم مختصراً یوں بیان کرسکتے ہیں:

                 o        قرآن کا موضوع انسان ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی فلاح اور خسران کس چیز میں ہے۔

                  o        قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ظاہربینی یا قیاس آرائی یا خواہش کی غلامی کے باعث انسانوں نے خدا، نظامِ کائنات ، اپنی ہستی اور اپنی دنیوی زندگی کے متعلق جو نظریات قائم کیے ہیں اور ان نظریات کی بنا پر جو رویے اختیار کرلیے ہیں، وہ سب حقیقت کے لحاظ سے غلط اور نتیجے کے اعتبار سے خود انسان ہی کے لیے تباہ کن ہیں۔ حقیقت وہ ہے جسے انسان کو خلیفہ بناتے وقت خدا نے خود بیان فرما دیا ہے۔ اس حقیقت کے لحاظ سے وہی رویہ درست اور خوش انجام ہے جو خدا کو اپنا واحد حاکم اور معبود تسلیم کرکے اس دنیا میں اس کی ہدایت کے مطابق اپنی پوری زندگی کو گزارا جائے۔

                o          قرآن کا مدعا انسان کو اس صحیح رویے کی طرف دعوت دینا اور اللہ کی اس ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ہے، جسے انسان اپنی غفلت سے گم اور شرارت سے مسخ کرتا رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: تفہیم القرآن، جلد اوّل، مقدمہ از مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ)

نزولِ قرآن کا اصل مقصد انسانوں کی تہذیب اور ان کے باطل عقائد اور گم کردہ اعمال کی اصلاح اور درستی ہے۔ (الفوز الکبیر)

قرآن تمام انسانوں کو ابدی سعادت کی طرف بلاتا ہے، اور انسان کے ظاہروباطن کی ایسی تعمیر کرتا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، دنیا اور آخرت کی زندگیوں میں حقیقی چین اور راحت نصیب ہو۔ یہی راستہ رب کی بندگی کا راستہ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo (الذاریات ۵۱:۵۶) میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔

یہ بندگی انسان کی پوری زندگی پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا ہر سانس احساسِ عبدیت سے معمور ہونا چاہیے اور اس کا ہرعمل مالک کی اطاعت کا مظہر ہونا چاہیے۔

قرآن کا انقلابی تصور

یہ مقام ہے جہاں سے قرآن کا انقلابی تصورِ حیات ہمارے سامنے آتا ہے۔ قرآن انسانی زندگی کو مختلف گوشوں اور شعبوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ وہ پوری زندگی کو بندگیِ رب میں لانا چاہتا ہے۔ انسان کے فکروخیال اور عقیدہ و رجحان سے لے کر اس کی اجتماعی زندگی کے ہرپہلو پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطالبہ خود مسلمانوں سے یہ ہے کہ:

اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً (البقرہ۲:۲۰۸) داخل ہوجائو خدا کے دین میں پورے کے پورے۔

یعنی اسلام کے راستے کو اختیار کرنے کے بعد زندگی کے کسی شعبے کو خدا کی ہدایت سے آزاد رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان کی انفرادی زندگی اور اس کی اجتماعی زندگی ، خدا کے قانون کی پابندی اور اس کی رضا کو تلاش کرنے والی ہوگی۔پھر تمدن کے پورے نظام، یعنی معاشرت، سیاست، معیشت، قانون و عدالت، انتظام و انصرام، ملکی اور بین الاقوامی تعلقات، سب پر خدا کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔ صرف اپنے اُوپر ہی اس قانون کو جاری و ساری نہیں کرنا، بلکہ پوری انسانیت کو اپنے قول اور عمل سے اس راستے کی طرف دعوت دینا ہے۔ انسانیت کو حق کی طرف بلانا ہے، اور ہر اس رکاوٹ کو ہٹانے کی جدوجہد کرنی ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان اس تعلق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہے۔ اس کا نام دعوتِ حق ہے جو اسلام میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔ یہی وہ دعوت ہے جس کی طرف یہ کتاب بلاتی ہے۔

علامہ اقبالؒ مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کے حوالے سے قرآن کے اس مخصوص مزاج کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں:’’محمد عربیؐ برفلک الافلاک رفت و باز آید واللہ اگر من رفتمے ہرگز با ز نیامدے، محمد عربی ؐ [معراج کے موقعے پر] آسمانوں پر گئے اور واپس آگئے۔ اللہ کی قسم! اگر میں جاتا تو ہرگز واپس نہ آتا۔ یہ مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی ؒ کے الفاظ ہیں جن کی نظیر تصوف کے سارے ذخیرۂ ادب میں مشکل ہی سے ملے گی۔ شیخ موصوف کے اس ایک جملے سے ہم اس فرق کا اِدراک نہایت خوبی سے کرلیتے ہیں جو شعورِ ولایت اور   شعورِ نبوت میں پایا جاتا ہے۔ صوفی نہیں چاہتا کہ وارداتِ اتحاد سے جو لذت اور سکون حاصل ہوتا ہے اسے چھوڑ کر واپس آئے لیکن اگر آئے بھی، جیساکہ اس کا آنا ضروری ہے، تو اس سے     نوعِ انسانی کے لیے کوئی خاص نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ، نبیؐ کی بازآمد تخلیقی ہوتی ہے ۔ وہ ان واردات سے واپس آتا ہے تو اس لیے کہ زمانے کی رُو میں داخل ہوجائے اور پھر ان   قوتوں کے غلبہ و تصرف سے، جو عالمِ تاریخ کی صورت گرہیں، مقاصد کی ایک نئی دنیا پیدا کرے۔ صوفی کے لیے تو لذتِ اتحاد ہی آخری چیز ہے۔ لیکن انبیا علیہم السلام کے لیے اس کا مطلب ہے ان کی اپنی ذات کے اندر کچھ اس قسم کی نفسیاتی قوتوں کی بیداری، جو دنیا کو زیروزبر کرسکتی ہیں، اور جن سے کام لیا جائے تو جہان انسانی دگرگوں ہوجاتا ہے۔ لہٰذا انبیا ؑکی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان واردات کو ایک زندہ اور عالم گیر قوت میں بدل دیں… لہٰذا انبیاؑ کے مذہبی مشاہدات اور واردات کی قدروقیمت کا فیصلہ ہم یہ دیکھ کر بھی کرسکتے ہیں کہ ان کے زیراثر کس قسم کے انسان پیدا ہوئے‘‘۔ (تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، علامہ محمد اقبال، ترجمہ سیّد نذیرنیازی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۱۸۸-۱۹۰)

مطلب یہ کہ بزرگ صوفی کا یہ قول زندگی کے محدود تصور کا غماز ہے۔ اس تصور میں اصل اہمیت عرفانِ ذات کی ہے اور وہ اس سے اُونچے کسی مقام کا تصور نہیں کرسکتی ہے کہ بندے کے قدم وہاں پہنچ جائیں جہاں فرشتوں کے پَر جلتے ہیں۔ پھر اس دنیا کی طرف واپس آنے کا کیا سوال؟ لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم جس دین کے علَم بردار ہیں وہ دین جس کا نبی اس بلندی پر پہنچ کر پھر اس دنیاے رنگ و بو میں لوٹتا ہے، تاریخ کے منجدھار میں قدم رکھتا ہے اور اس نور سے جو اسے حاصل ہوا ہے تنگ و تاریک دنیا کو منور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف اپنے اس سینے کو گنجینۂ اَنوار نہیں بناتا بلکہ پورے عالم کو روشن کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک نیا انسان بنانے، ایک نیا معاشرہ تعمیر کرنے، ایک نئی ریاست قائم کرنے اور تاریخ کو ایک نئے دور سے ہمکنار کرنے میں مصروفِ جہاد ہوجاتا ہے۔

قرآن اسی دعوتِ انقلاب کو پیش کرتا ہے، وہ زمانے کے چلن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ایک انقلاب برپا کرنا ہے___ دلوں کی دنیا میں بھی انقلاب اور انسانی معاشرے میں بھی انقلاب۔ وہ صالح انقلاب جس کے نتیجے میں خدا سے بغاوت کی روش ختم ہو اور اس کی بندگی کا دور دورہ ہوجائے۔ بُرائیاں سرنگوں اور نیکیوں کو غلبہ حاصل ہو۔  خدا کے منکر اور اس سے غافل قیادت کو مسند سے ہٹا دیا جائے اور اس کے مطیع اور فرماں بردار بندے زمانے کی قیادت سنبھال لیں___ یہ ہے نزولِ قرآن کا مقصد اور یہی ہے انسانیت کی نجات کا راستہ۔

ہم اُمت مسلمہ کو جس بات کی دعوت دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس اُمت کا ہر فرد اس موقعے پر اور بھی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ قرآن کی اصل حقیقت کو سمجھے۔ اس کے مقصد کا حقیقی شعور پیدا کرے۔ اس کے پیغام پر کان دھرے اور اس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے۔

قرآن نے انسانیت کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ اس نے قبیلے، نسل، رنگ، خاک و خون اور جغرافیائی تشخص کے بتوں کو پاش پاش کیا ہے۔ اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ پوری انسانیت ایک گروہ ہے اور اس میں جمع تفریق اور نظامِ اجتماعی کی تشکیل کے لیے صرف ایک ہی اصول صحیح ہے، یعنی عقیدہ اور مسلک۔ اسی اصول کے ذریعے اس نے ایک نئی اُمت بنائی اور اس اُمت کو انسانیت کی اصلاح اور تشکیل نو کے عظیم کام پر مامور کردیا:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

قرآن نے اس اُمت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے، اور اسے باقی انسانیت کے لیے خیروصلاح کا علَم بردار بنایا ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے چھٹی صدی عیسوی کی ظلم اور تاریکی سے بھری ہوئی دنیا کو تاریخ کے ایک نئے دور سے روشناس کرایا۔ جس نے عرب کے اُونٹ چرانے والوں کو انسانیت کا حدی خواں بنایا۔ جس نے ریگستان کے بدوئوں کو تہذیب و تمدن کا معمار بنادیا۔ جس نے مفلسوں اور فاقہ کشوں میں سے وہ لوگ اُٹھائے، جو انسانیت کے رہبر بنے۔ جس نے وہ نظام قائم کیا، جس نے طاغوت کی ہر قوت سے ٹکر لی اور اسے مغلوب کرڈالا۔

قرآن طاقت کا ایک خزانہ ہے۔ اس نے جس طرح آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسانوں کی اصلیت بدل کر رکھ دی تھی اور ان کے ہاتھ سے ایک نئی دنیا تعمیر کرائی تھی، اسی طرح آج بھی فساد سے بھری ہوئی دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اپنے ماننے والوں کو، بشرطیکہ وہ اس کا حق ادا کرسکیں، انسانیت کا رہنما اور تاریخ کا معمار بناسکتا ہے۔

خوب کہا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے:

لَا یَصْلُحُ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا بِمَا صَلُحَ اَوَّ لُھَا، اس اُمت کے بعد کے حصے کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی، جس سے اس کے اوّل حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔

___ اور یہ چیز قرآن ہے۔

قرآن سے حقیقی تعلق اور تقاضے

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن نے پہلے بنجر اور شور زمین سے ایک نیاجہاں پیدا کردیا تھا، تو آج وہ یہ کارنامہ کیوں سرانجام نہیں دے رہا؟

oاگر وہ کل شفا و رحمت تھا، تو وہ آج یہ وظیفہ سرانجام دیتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا؟

 oاگر ہم کل اس کی وجہ سے طاقت ور تھے، تو آج اس کے باوجود ہم کمزور کیوں ہیں؟

 oاگر کل اس کے ذریعے ہم دنیا پر غالب تھے، تو آج اس کے ہوتے ہوئے ہم مغلوب کیوں ہیں؟

اگر غور کیا جائے تو اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیں___ ایک،یہ کہ ہم نے عملاً اس کتابِ ہدایت کو اپنا حقیقی رہنما باقی نہ رکھا ہو۔ اس سے ہمارا تعلق، غفلت و سردمہری و بے التفاتی اور بے توجہی کا ہوگیا ہو۔ دوسرے، یہ کہ ہم بظاہر تو اس کا احترام اور تقدیس کررہے ہوں لیکن اس کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صحیح راستہ اور صحیح طریقہ اختیار نہ کر رہے ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاملے میں یہ دونوں ہی باتیں صحیح ہیں۔

برف کی طرح پگھلتی اور ہر آن قطرہ قطرہ ختم ہوتی، اس زندگی میں یہ بڑا ہی سنہری موقع ہے کہ ہم لمحہ بھر رُک کر سوچیں کہ خدا کی اس کتاب سے ہمارا تعلق کیا ہونا چاہیے؟ اور ہمیں اس سے کیا معاملہ کرنا چاہیے تاکہ یہ اپنے اثرات دکھاسکے اور اس کی روشنی دنیا کے گوشے گوشے کو نور سے بھردے۔

۱- اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اپنے اس سوئے ہوئے ایمان کو بیدار کیا جائے جو قرآن پر لایا تو ضرور گیا ہے، مگر اس کا یقین اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جذبے اور شوق سے عاری ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ایمان اس کے، خدا کی کتاب ہونے پر، اس کے  مکمل طور پر محفوظ ہونے پر، اس کے ہرلفظ کے حق و صداقت ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے طریقے کے درست اور مفید ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے علاج کے اصل ضامنِ شفا ہونے پر ہے___ یہ ہے نقطۂ آغاز:

 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ o وَ مَآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ o (النمل ۲۷:۸۰-۸۱) بے شک تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی دعوت سنا سکتے ہو۔ جب وہ اعتراض کرتے ہوئے منہ پھیر لیں، اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال سکتے ہو۔ تم تو صرف انھی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔

وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo(البقرہ ۲:۱۲۱) اور جو لوگ اس کا انکار کریں گے، وہ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔

۲- پھر یہ بھی ضروری ہے کہ دل قرآن حکیم کی عظمت اور بلندی، اس کے اعلیٰ اور برتر کلام ہونے کے احساس سے معمور ہو۔ یہ وہ کلام ہے جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ شق ہو جاتے۔ اس پُرعظمت کلام کے مقابلے میں اپنی عاجزی کا احساس اور دل کا اس کے لیے موم ہوجانا بہت ضروری ہے:

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ ۵:۸۳) جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اُترا ہے، تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہوجاتی ہیں۔

یہ معرفت حق کا لازمی نتیجہ ہے۔

۳- قرآن سے رہنمائی اور رہبری کے لیے رجوع کرنا، اس کے بارے میں غفلت کی روش کو ترک کر کے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ دیکھنا کہ کس طرح وہ ہماری زندگی کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے، اس کتاب کو مضبوطی سے تھامنا اور ہرمعاملے میں اس سے ہدایت حاصل کرنا__ یہی وہ طریقہ ہے جس سے اس کتاب کے اصل اسرار و رُموز ہم پر منکشف ہوسکیں گے:

فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِِلَیْکَ اِِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o وَاِِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ o (الزخرف ۴۳: ۴۳-۴۴) اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمھاری طرف وحی کیا گیا ہے، اس کو خوب مضبوط پکڑے رہو۔ یقین رکھو کہ تم سیدھے راستے پر ہو اور یہ (قرآن) تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے یقینا ایک نصیحت نامہ ہے اور آگے چل کر تم سب سے اس کی بابت بازپُرس ہوگی۔

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بجا فرمایا ہے:

جو شخص دین کو جاننا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن ہی کو اپنا       مونس و ہم دم بنائے۔ شب و روز قرآن ہی سے تعلق رکھے۔ یہ ربط و تعلق علمی اور عملی دونوں طریقوں سے ہونا چاہیے۔ ایک ہی پر اکتفا نہ کرے۔ جو شخص یہ کرے گا وہی شخص گوہر مقصود پائے گا۔ (الموافقات، ج۳، ص۳۴۶)

۴- قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور اس طرح کیا جائے جو اس کا حق ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ط (البقرہ ۲:۱۲۱) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔

اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے ظاہری آداب پورے کیے جائیں، یعنی اسے پاک حالت میں چھوا جائے، ادب سے مطالعہ کیا جائے، ترتیل سے پڑھا جائے اور خوش الحانی سے پڑھا جائے وغیرہ۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے معنی کو سمجھا جائے اور ان پر غوروفکر کیا جائے۔قرآن کے الفاظ پر سے یوں ہی نہ گزرجایا جائے، بلکہ اس کی گہرائیوں میں اُترنے اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی پوری کوشش کی جائے۔ یہی قرآن کا مطالبہ ہے:

کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo(یونس ۱۰:۲۴) غور کرنے والوں کے لیے ہم نے اس طرح آیات تفصیل سے بیان کی ہیں۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(الانبیا ۲۱:۱۰) لوگو، ہم نے تمھاری طرف کتاب اُتار دی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔

کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ o (صٓ ۳۸:۲۹) اے پیغمبرؐ، یہ قرآن برکت والی کتاب ہے، جو ہم نے تمھاری طرف اُتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں۔ جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔

یہی صحابہ کرامؓ کا طریقہ تھاکہ وہ قرآنِ پاک کی آیات کو سمجھ سمجھ کر پڑھتے تھے اور ان پر غوروفکرکرتے تھے۔

۵- قرآن پر عمل کیا جائے اور اس کے مطابق اپنے فکروعمل کو بدلا جائے۔ قرآن پر اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا، کہ قرآن کے احکام کے مطابق اپنے کو بدلنے کے بجاے اپنی بداعمالیوں کے لیے جواز پیش کرنے کے لیے قرآن کو (نعوذباللہ) بدلنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح یہ بھی قرآن کے حقوق کے منافی ہے کہ اس کے احکام کو تو پڑھا جائے، مگر دوسری جانب ان پر عمل نہ کیا جائے۔ قرآن نازل ہی اس لیے کیا گیا ہے، کہ اس کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کے نقشے کو تعمیر کیا جائے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قرآن کے مطابق عمل کی سعی کی جائے۔  حضرت ابن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ ’’جب کوئی شخص ہم میں سے ۱۰ آیتیں سیکھ لیتا تھا، تو اس سے زیادہ نہ پڑھتا تھا، جب تک ان کے معنی نہ سمجھ لیتا اور ان پر عمل نہ کرتا‘‘۔(ابن کثیر، جلداوّل، ص ۵)

۶- پھر قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کے سلسلے میں رہنما اور نمونہ اس مبارک ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا، جس پر یہ کتاب نازل ہوئی:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۴:۸۰) جس نے رسولؐ کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ سے سرمو انحراف بھی قرآن سے دُور لے جانے والی چیز ہے۔

قرآن کے نظام کو قائم کرنے کے لیے جدوجھد

اور آخری چیز یہ ہے کہ قرآن جس دعوت کو لے کر آیا ہے، اسے پھیلانے اور اس کے نظام کو قائم کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بہت سچ لکھا ہے کہ:

___ فہمِ قرآن کی ان ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے، جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے، کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حاصل کرلیے جائیں.... یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم برداران کفروفسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے، ایک ایک سعید روح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے، ایک ایک فتنہ  ُجو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے کام شروع کر کے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال میں یہ کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی۔ اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اس نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔

___ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاع کفر و دیں اور معرکہ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی منزل کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو، اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں۔ اسے تو پوری طرح آپ اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیں اور جس جس طرح یہ کتابِ ہدایت دیتی جائے، اس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گی جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکہ، حبشہ اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجہل اور ابولہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا۔ منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے اور سابقین اوّلین سے لے کر مولفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سلوک‘ ہے جس کو میں ’سلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اس منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بخل برت جائے۔

___ پھر اس کلیے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول و قوانین، آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک وہ ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم    اس سے آشنا ہوسکتی ہے، جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف  چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، ج۱، مقدمہ،ص ۳۳-۳۴)

یہ ہیں قرآن سے تعلق کی صحیح بنیادیں اور اگر ان پر ٹھیک ٹھیک عمل کیا ہو تو پھر قرآن انفرادی زندگی کا نقشہ بھی بدل دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کی شکل بھی تبدیل کرا دیتا ہے۔ انفرادی زندگی اس کی برکتوں سے بھرجاتی ہے اور اجتماعی زندگی نیکی اور خوشی کی بہار سے شادکام ہوتی ہے۔

قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں۔ آج عالمِ اسلام جن مسائل اور مصائب سے دوچار ہے، ان سے نکلنے، ترقی اور عزت کی راہ پر پیش قدمی کرنے کا راستہ صرف یہی ہے اور  صادق برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تلقین کی تھی:

رسولؐ اللہ: خبردار عنقریب ایک بڑا فتنہ سر اُٹھائے گا۔

حضرت علیؓ: اس سے نجات کیا چیز دلائے گی یارسولؐ اللہ!

رسولؐ اللہ: اللہ کی کتاب۔

                __           اس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے حالات ہیں۔

                __           تم سے بعد میں ہونے والی باتوں کی خبر ہے۔

                __           اور تمھارے آپس کے معاملات کا فیصلہ ہے۔

                __           اور یہ ایک دوٹوک بات ہے، کوئی ہنسی دل لگی کی بات نہیں۔

                __           جو سرکش اسے چھوڑے گا، اللہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ ڈالے گا۔

                __           اور جو کوئی اسے چھوڑ کر کسی اور بات کو اپنی ہدایت کا ذریعہ بنائے گا، اللہ اسے گمراہ کردے گا۔

                __           خدا کی مضبوط رسی یہی ہے۔

                __           یہی حکمتوں سے بھری ہوئی یاد دہانی ہے۔

                __           یہی بالکل سیدھی راہ ہے۔

                __           اس کے ہوتے ہوئے خواہشیں گمراہ نہیں کرتیں۔

                __            اور نہ زبانیں لڑکھڑاتی ہیں۔

                __           اہلِ علم کا دل اس سے کبھی نہیں بھرتا۔

                __           اسے کتنا ہی پڑھو طبیعت سیر نہیں ہوتی۔

                __           اس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

                __           جس نے اس کی سند پر کہا، سچ کہا۔

                __            جس نے اس پر عمل کیا، اجر پائے گا۔

                __           جس نے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا، اس نے انصاف کیا۔

                __           جس نے اس کی دعوت دی، اس نے سیدھی راہ کی دعوت دی۔(مشکوٰۃ)

یہی وہ سیدھی راہ ہے، جس کی طرف قرآن ہم سب کو دعوت دے رہا ہے!

جرم و سزا کے تعلق سے کم از کم تین پہلو ایسے ہیں جن کا فہم ضروری ہے:

 ایک خالص قانونی پہلو ہے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے اور اس کو قانون کے مطابق سزا ملتی ہے تو یہ اس کے جرم کا فطری انجام ہے ۔

اگر مجرم کو اپنی غلطی کا احساس اور اعتراف ہوتا ہے، اور وہ سزا کے ساتھ اپنے رب اور  ان افراد سے جن کے حقوق پر اس نے ڈاکا ڈالا ہے، خلوصِ نیت سے معافی طلب کرتا ہے تووہ اخلاقی طور پر اپنے آپ کو سدھارنے  (rehabilitate)کے عمل کا آغاز کرتا ہے اور اس طرح اپنے دامن کے داغ دھو کر ایک نئی صاف ستھری زندگی کا آغازکرتا ہے۔

جرم و سزا کے تعلق کی ایک تیسری شکل بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص نے کوئی جرم نہ کیا ہو، مگر اس معصوم انسان کو ظلم کا نشانہ بنایا جائے اور ایسی سزا دی جائے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اس سزا کا سارا وبال ان ظالموں پر ہے، جو ایک معصوم انسان پر یہ ظلم ڈھاتے ہیں اور مظلوم اس کی سزا بھگتتا ہے اور وہ اخلاقی و روحانی، ہراعتبار سے کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ اگر اس کی جان بھی تلف کردی جائے، تو وہ شہادت اور حیاتِ جاودانی سے شادکام ہوتا ہے۔

یہ انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے لیکن ہماری تاریخ اللہ کے ان نیک بندوں سے بھری پڑی ہے، جنھوں نے ظلم کے ہر وار کو برداشت کیا، لیکن ظلم کے آگے سر نہ جھکایا۔ اس کی تازہ ترین مثالیں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی قیادت کے دو گلہاے سرسبد نے پیش کی ہیں، یعنی    محترم عبدالقادر مُلّاشہید اور محترم محمدقمرالزمان شہید۔ ان کو انصاف کا قتل کرتے ہوئے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور دین حق کے سپاہی، تحریکِ اسلامی کے کارکن اور پاکستان کے نظریے سے وفاداری کی پاداش میں موت کی سزا دی گئی۔ انھیں لالچ بھی دیا گیا کہ ظالم حکمرانوں سے معافی کی درخواست کردو تو سزاے موت سے بچ سکتے ہو، لیکن انھوں نے اللہ اور حق سے وفاداری کو ،محض جان بچانے کے لیے جھوٹے الزامات کو اُوڑھنے اور ظالموں سے رحم کی اپیل کرنے پر اپنی جاں، جاں آفریں کے سپرد کردینے کو ترجیح دی اور اس طرح اہلِ حق کے لیے ایک اور روشن اور تابناک مثال رقم کردی    ؎

سلام اُسؐ پر کہ جسؐ کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

اس موقعے پر جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی مثال بھی ذہنوں میں تازہ کیجیے___ آپ کو اپنی روح وجد کرتی ہوئی محسوس ہوگی۔ بانیِ جماعت کو مئی ۱۹۵۳ء میں لاہور کی مارشل لا کورٹ نے قادیانی مسئلہ نامی کتابچہ لکھنے کی پاداش میں موت کی سزا سنائی اور مولانا کو پھانسی کے احاطے میں منتقل کردیا گیا، اور پھر انھیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ رحم کی اپیل کریں تو جان بخشی ہوسکتی ہے۔

مولانا محترم نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ: ’’اگر میرا وقت آگیا ہے تو کوئی مجھے بچا نہیں سکتا، اور اگر میرا وقت نہیں آیا تو یہ لوگ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو میرا کوئی نقصان نہیں کرسکتے‘‘۔ انھوں نے اپنی اہلیہ، اولاد اور ذمہ دارانِ جماعت کو بھی مشورہ دیا کہ کوئی کسی بھی شکل میں رحم کی اپیل نہ کرے اور فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔پھر ملک اور عالمِ اسلام میں شدید ردعمل کے دبائو میں حکومت نے سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا۔

مَیں اُس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا ناظم تھا اور ہم نے کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ایئرپورٹ پر اس وقت کے وزیراعظم محمدعلی بوگرا کے خلاف حکومت کی ساری پیش بندیوں کے باوجود بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس لمحے ہم نے برادر عزیز ظفراسحاق انصاری کو لاہور روانہ کیا تاکہ مرکزی نظم سے رابطہ قائم کریں اور اگر ممکن ہو تو خود مولانا محترم سے بھی ملنے کی کوشش کریں۔ چند احباب کے تعاون سے ظفراسحاق بھائی، محترم مولانا مودودی سے سزاے موت کے عمرقید میں تبدیل ہونے کے اگلے ہی دن جیل میں ان سے ملے، اور ان سے یہ سوال کیا کہ: ’’آپ نے رحم کی اپیل کیوں نہیں کی؟‘‘ یہ تاریخی گفتگو ظفراسحاق انصاری نے میرے اصرار پر میرے گھر اپنی آواز میں محفوظ کرا دی ہے، جسے ہدیۂ ناظرین کیا جا رہا ہے:

ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری نے روایت کی ہے: ’’مئی ۱۹۵۳ء میں، اچانک یہ خبر آئی کہ مولانا مودودیؒ کو سزاے موت سنا دی گئی ہے، تو خورشید بھائی اور خرم بھائی کے مشورے سے میں (کراچی سے) لاہور گیا، اور لاہور میں ایف سی کالج میں مقیم ہوا۔ اللہ کا شکر ہے کہ جلد ہی جو سزا سنائی گئی تھی، اسے سزاے عمرقید میں تبدیل کردیا گیا۔ اس طرح ہم نے بھی ایک لحاظ سے اطمینان کا سانس لیا۔

میں کہہ نہیں سکتا کہ وہ تاریخ کون سی تھی، لیکن سزاے موت منسوخ ہونے کے زیادہ سے زیادہ ایک دن بعد، ایک صبح اپنے دوست کی مدد سے مَیں بورسٹل جیل گیا، جہاں مولانا مودودی قید تھے۔

مولانا محترم اپنے معمول کے لباس میں ملبوس نہیں تھے، یعنی جیل ہی کا دیا ہوا لباس پہنے ہوئے تھے۔مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ: ’’بھئی آپ کیسے یہاں آگئے؟‘‘

میں نے ان سے کہا کہ:’’مولانا! میں نے سنا تھاکہ آپ کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ سزاے موت کے بارے میں آپ رحم کی اپیل کریں۔ یہ تجویز جو دی گئی تو آپ نے کیا محسوس کیا؟‘‘

بالکل غیرجذباتی انداز میں انھوں نے کہا کہ جب یہ بات کہی گئی تو میرے دماغ میں معاً تین باتیں آئیں:

  •  پہلی بات یہ تھی کہ میں شہادت کا مستحق ہوں یا نہ ہوں، یہ چیز لگتا ہے کہ اب میرے نصیب میں ہے، یعنی میرے لیے اس کا موقع ہے۔ پہلے خیال آیا کہ اتنی بڑی چیز سے میں خود دست کش ہوجائوں اور کہوں کہ یہ مجھے نہیں چاہیے، تو یہ بڑی عجیب سی بات ہوگی۔
  • دوسرے یہ کہ اس ظالمانہ حکم کے خلاف رحم کی اپیل کرنا، میرے لیے عزتِ نفس کی بھی بات ہے اور میں اس کے لیے تیار نہیں پاتا کہ اس کو قربان کردوں۔
  • تیسری یہ کہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ یہ لوگ ظلم کے طور پر یہ اقدام کرنا چاہتے ہیں، اس کے خلاف رحم کی اپیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی پوری قوم کو شرم و حیا کے جذبات سے عاری کردوں۔

__ اور مسکرا کر کہنے لگے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اپنی قوم کو یہ ’سزا‘ دوں۔

یہ مختصر سی گفتگو تھی جو دو یا تین منٹ کی تھی۔ میں نے کوشش کی ہے کہ انھی الفاظ میں اسے یادداشت سے بیان کردوں۔

قرآنِ پاک کی ہر آیت ہدایت کا منبع اور نور کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتاب حق اور صرف حق کا ایک نہ خشک ہونے والا سمندر ہے۔ یہ بھی اس قرآن کا معجزہ کے کہ اس کی ایک ایک آیت میں ایسے حقائق کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے جن کا مکمل احاطہ فکرِ انسانی کی پوری تاریخ اورقوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی صدیوں کی داستان بھی کماحقہ نہیں کرپائے۔ ایسی ہی ایک آیت میں فرد اورگروہ، معاشرہ اور قوم، اُمت اور انسانیت کے عروج و زوال، بنائو اور بگاڑ، ترقی اور تنزل، کامیابی اور ناکامی کے عمل (process) کی کنجی کو سنت ِالٰہی کے ایک بنیادی نکتے کی صورت میں پیش کردیا گیا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط (الرعد ۱۳:۱۱) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔

آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کا ذکرکرتے ہوئے اسی اصول کو یوں بیان کیا گیا ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ لا وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ o (الانفال ۸:۵۳) یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِعمل کو نہیں بدل دیتی۔ اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔

دونوں آیات میں تبدیلی کا مدار ’انفس‘ کی تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے جو فرد یا قوم کے اندرون کی پوری دنیا پر حاوی ہے۔ گویا انفس ہی وہ زمین ہے جہاں عروج و زوال کی تخم ریزی ہوتی ہے اور پھر یہی وہ بیج اور جڑ ہے جس سے تبدیلی اور انقلاب کا تناور درخت نشوونما پاتا ہے۔ تبدیلی محض بیرونی عوامل کا کرشمہ نہیں ہوتی، یہ اندر کے ایک گہرے اور ہمہ جہتی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ قرآنِ حکیم پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’انفس‘ سے مراد اندر کی دنیا کا ایک پورا عالم ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ’آفاق‘ سے باہر کی دنیا کا عالم مراد ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِھِمْ (حم السجدہ ۴۱:۵۳) ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے نفس میں بھی‘‘___ انفس میں وہ تمام قوتیں شامل ہیں جن کا اثر کسی نہ کسی شکل میں انسانی عزائم، اعمال اور اس کی سعی و جہد پر پڑتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں انفس عبارت ہے تمام ذہنی اور نفسی، اخلاقی اور عملی قویٰ سے___ تبدیلی اور انقلاب کا آغاز دل و دماغ اور ذہن و اِدراک سے ایک اندرونی تبدیلی کی شکل میں ہوتا ہے جو ایمان و ایقان، افکار و احساسات، تصورات اور زندگی کے عزائم کی صورت میں فکروعمل کی صورت گری کرتی ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس سے عروج و ترقی کے سوتے   ُپھوٹتے ہیں۔ فرد ہو یاقوم، وہ اپنے اخلاق اور اعمال ہی کے ذریعے بلندی یا پستی سے ہم کنار ہوتی ہے۔ مولانا ظفر علی خاں نے قرآن کے اس اصول کو بڑے سادہ اور دل نشین انداز میں یوں بیان کیا ہے    ؎

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اُمت مسلمہ کے حالات پر نظر ڈالیے یا پاکستان کے نصف صدی سے زائد کے شب وروز کا تجزیہ کیجیے، صاف نظر آتا ہے کہ بیرونی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور شرانگیزیوں کو اگر کھل کھیلنے کا موقع ملا ہے تو وہ اسی اندرونی کمزوری کی وجہ سے۔ خرابی کی جڑ قلب و نظر کا فساد اور اندرون (انفس) کا بگاڑ ہے جس کی اصلاح کے بغیر صورتِ حال میں حقیقی تبدیلی کا امکان معدوم ہے۔ محض در و دیوار کی لیپاپوتی سے اُمت کی نشاتِ ثانیہ کا حصول ممکن نہیں۔ بلاشبہہ نظام کی اصلاح مطلوب بھی ہے اور ناگزیر بھی لیکن اس کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب اس کا نقطۂ آغاز اور محور و مرکز دلوں کی اصلاح، ایمان کی آبیاری اور انفرادی اور اجتماعی تقویٰ کا حصول اور اخلاق کی بہار ہو۔

مغربی تہذیب نے تبدیلی اور انقلاب کا جو فلسفہ پیش کیا ہے، اس کا سارا انحصار بیرون کی اصلاح اور معاشرے، ریاست اور معیشت کے نظام (structures) کی تبدیلی پر ہے، جب کہ اسلام جس انقلاب کا داعی ہے، وہ ’اندرون‘ کی اصلاح سے شروع ہوکر فرد اور معاشرہ دونوں کی مکمل قلب ِ ماہیت کردیتا ہے اور اس طرح پورے نظام کی تبدیلی پر منتج ہوتا ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے بگاڑ کو اس سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتا ہے جس کا اظہار مغرب کی فکرودانش میں کیا جاتا ہے لیکن اسلام کا دعویٰ اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اجتماعی بگاڑ کی اصلاح محض اجتماعی زندگی کے دَروبست کو تبدیل کرنے سے نہیں ہوسکتی۔ ایسی صورت میں برائی نت نئے رُوپ دھار کر طرح طرح کی نئی شکلوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے اور مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اجتماعی بگاڑ کی اصلاح کا راستہ بھی نفس کی اصلاح ہی کی وادی سے گزرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نہ سمجھ پانے کی وجہ سے   مغربی تہذیب کے علَم بردار اور محض سیکولر بنیادوں پر زندگی کی تعمیر نو کے داعی برابر تاریکیوں ہی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور انسانیت کے مصائب اور آلام کم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ عالم یہ ہے کہ:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

احیاے اسلامی کی جدوجھد اور تحریک اسلامی

بیسویں صدی اپنے بہت سے مثبت اور منفی پہلوئوں کی وجہ سے یاد کی جائے گی لیکن عالمِ اسلام کے نقطۂ نظر سے دو پہلو بڑی اہمیت کے حامل ہیں:

  •  اس صدی کا آغازایسے حالات میں ہوا کہ تقریباً پوری مسلم دنیا مغربی استعمار کے چنگل میں گرفتار تھی اور مغربی تہذیب کے علَم بردار اس زعم میںمبتلا تھے کہ اب ہمیشہ کے لیے وہی دنیا پر قابض رہیں گے۔ لیکن اس صدی کے اختتام تک مغربی استعمار کا سورج تقریباً غروب ہوگیا ہے  اور خود اس تہذیب کے بطن سے ایسے ایسے تضادات اور حوادث رُونما ہوئے، جن کے نتیجے میں  اس تہذیب کا رُعب ہی ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی   ُچولیں تک ہل گئیں اور اقبال کی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے آثار نظر آنے لگے    ؎

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپایدار ہوگا

  •  دوسری طرف عالمِ اسلام کو مغربی استعمار کا پردہ چاک کرکے دوبارہ عالمی سیاسی و معاشی اُفق پر اُبھرنے کا موقع ملا۔ احیا کی اس پوری جدوجہد کی اصل نظریاتی اور اخلاقی جڑیں ان دینی تحریکوں کی دعوت کی مرہونِ منت ہیں جو سقوطِ خلافت عثمانیہ کے بعد اسلامی دنیا کے مختلف حصوں، خصوصیت سے عالمِ عربی اور برعظیم میں رُونما ہوئیں، اور جن کا ہدف منہاجِ نبویؐ کے مطابق دورِحاضر میں دین کی اقامت اور انفس کی اصلاح کے ذریعے آفاق کی تعمیر نو ہے اور نہ صرف اُمت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کو نئی زندگی اور نیا نظام دینا ہے۔

اسلام کی اس دعوت کو تحریکِ اسلامی اس لیے کہا گیا کہ صدیوں کے جمود کو توڑ کراسلام کو پھر اسی طرح ایک دعوت اور پیغام کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس طرح سرورِعالم محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاے راشدین اور صحابہ کرامؓ نے پیش کیا تھا۔ قول و فعل کی ہم آہنگی، اللہ کی رضا اور اس کے دین کے قیام کو ہر دوسری مصلحت پر غالب رکھنا اور فرد کے فکرونظر اور سیرت واخلاق سے لے کر معاشرے کے ہرہرپہلو کی اصلاح اس کا ہدف اور مزاج ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر دعوت ہے جس کا مقصدزندگی کے ہر شعبے میں اہلِ ایمان کی قیادت میں، شریعت کے مطابق اسلام کے نظامِ عدل و صلاح کا قیام ہے۔ اس تحریک نے دین و دنیا کی تفریق اور مذہب و سیاست کی دوئی کے جاہلانہ تصورات کو چیلنج کیا اور شریعت کے نفاذ اور اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کی۔ لیکن نظام کی تبدیلی کی یہ جدوجہد مغربی ماڈل پر نہیں بلکہ خالص اسلامی منہج پر ہے جس کی جڑیں ایمان، عملِ صالح،انفرادی اور اجتماعی تقویٰ اور دعوت الی الخیر میں پیوست ہیں۔ قانون اور نظام کی اصلاح، اس ہمہ گیر جدوجہد کا ایک لازمی حصہ ہے، اور یہ اس لیے کہ اجتماعی زندگی کی اصلاح کے بغیر انقلاب کا عمل مکمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن نظام کی تبدیلی ایک وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے، اس سے ہٹ کر اس کا کوئی وجود نہیں۔

اجتماعی زندگی کی اصلاح اور اسلامی حکومت کے قیام پر زور دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ ۲۰۰سال اسلامی تاریخ کا وہ منفرد دور ہے جب اسلام اور ملت اسلامیہ قوت و اقتدار سے محروم ہوگئی اور اس کی گرفت رفتارِ زمانہ پر ڈھیلی پڑگئی۔ جو اُمت گیارہ بارہ سو سال تک ایک عالمی طاقت رہی وہ عملاً مغلوب اور محکوم ہوگئی۔ بالآخر ۱۹۲۴ء میں خلافت ِ عثمانیہ کی تحلیل سے وہ عالمی سیاسی اُفق پر سے معدوم کردی گئی۔ فطری طور پر جو چیز چھین لی گئی ہو اس کی بازیافت کو نئی جدوجہد میں ایک مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے تھی اور ملّی زندگی میں جہاں خلا واقع ہوگیا تھا اسے بھرنے کی ضرورت کو نمایاں کرنا اور اُبھارنا وقت کی ضرورت تھی۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی تحریکات کے پروگرام میں اُمت کی سیاسی آزادی اور متوازنِ قوت کی اسلامی تسخیر کو اہمیت حاصل ہوئی۔ لیکن اسلامی تحریکات کا یہ پروگرام ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے جو فرد کی اصلاح، معاشرے کی تعمیرنو، خیر کی قوتوں کی نظم بندی، نئی صالح قیادت اور اسلامی بنیادوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی تعمیر سے عبارت ہے۔ یہ محض ’سیاسی اسلام‘ کا کوئی رُوپ نہیں، اسلام کی اصل دعوت کو دورِحاضر کے تناظر میں کسی سمجھوتے اور کسی مداہنت کے بغیر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان تحریکات کے امتیازی کردار کو سمجھے بغیر ان پر فتویٰ زنی حق و انصاف سے رُوگردانی اور دورِحاضر میں دعوت و تربیت کی مساعی اور ان کے تقاضوں کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔

جس طرح ڈاکٹر یا حکیم مریض کو وہی دوا دیتا ہے جو مرض کا مداوا کرسکے اور وہی مقوّیات تجویز کرتا ہے جن کی کمی ہو، اسی طرح تحریکاتِ اسلامی نے بھی ان پہلوئوں کو اُجاگر کیا ہے جو نظروں سے اوجھل یا معدوم ہوگئے تھے۔

ہمارے پیش نظر پوری انسانی زندگی کی حقیقی اصلاح و فلاح ہے۔ ہم نہ محدود معنوں میں مذہبی جماعت ہیں، جس کی دل چسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی و اخلاقی مسائل سے متعلق ہوں اور اجتماعی زندگی کے بنائو اور بگاڑ پر اثرانداز ہونے کی عملی کوشش کرنا، جس کے دائرۂ فرض سے خارج ہو۔ اور نہ ان معنوں میں سیاسی جماعت ہی ہیں جس کی سرگرمیوں کا ہدف ہر حال میں اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی ہو۔ ہم پورے کے پورے دینِ حق کے علَم بردار ہیں جو دعوت و تربیت کے عمل سے گزر کر ایک مکمل نظامِ عدل کی شکل میں عملاً نفاذ بھی چاہتا ہے۔ ہم جس پیغامِ ہدایت و فلاح کے امین ہیں وہ اشخاص اور گروہوں کی دوستی اور دشمنی سے بالاتر ہے۔ ہم کسی فرد، گروہ یا طبقے کے مخالف نہ کبھی پہلے تھے نہ آج ہیں۔ فی الحقیقت ہم اپنی پوری قوم بلکہ پوری انسانیت کے بہی خواہ ہیں،   حتیٰ کہ وہ تمام عناصر جو ہمارے مشن کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمیں خواہ مخواہ اپنا دشمن تصور کربیٹھے ہیں، ہم ان کے لیے بھی اپنے ذہن کے کسی گوشے میں خیرخواہی کے سواکوئی جذبہ نہیں رکھتے۔ ہم الدین النصیحۃ (دین خیرخواہی ہے)کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں۔

ھماری دعوت

جس طرح ہماری دعوت ایک اصولی انقلاب کی دعوت ہے، اسی طرح ہماری کش مکش بھی ایک اصولی کش مکش ہے۔ دعوت و کش مکش کے اس سار ے کام سے ہمارا اصل مطلوب خدا پرست، خدا کی رضا ہی کے طالب اور بے لوث انسانوں کو تیار کرنا، ان کو منظم کرنا اور تربیت دے کر احیاے اسلام کے کام میں لگانا ہے جو اپنے ذاتی مفاد سے قطع نظر کرکے بے لوثی کے ساتھ تعمیرملت اور اصلاح اُمت کا عظیم فریضہ سرانجام دے سکیں۔ اور جن کے ذریعے ایک طرف ہم عوام کی صحیح ذہنی اور اخلاقی نشوونما کا کام کرسکیں اور دوسری طرف سیاسی نظام اور معاشی ادارات کو اسلامی تصورات کے ڈھانچے میں ڈھال سکیں۔ ہر کارکن کو اور بالخصوص ہرسطح کے ذمہ دار کو ان بنیادی حقیقتوں کو  پیش نظر رکھنا چاہیے۔

سب سے پہلے ذہنوں میں اس بات کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ دعوت کیا ہے جس کی طرف جماعت اسلامی پاکستان اپنے اہلِ وطن اور پوری اُمت مسلمہ کو، اور بالآخر پوری انسانیت کو بلاتی ہے؟ اس کی دعوت نہ کسی شخصیت کی طرف ہے اور نہ کسی مخصوص مسلک کی طرف۔ اس کی دعوت صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کے رسولؐ کی پیروی کی دعوت ہے۔ یہ اسی راستے کی دعوت ہے جس کی طرف تمام انبیاے کرام نے انسانیت کو بلایا اور جس کا آخری نمونہ اسوئہ محمدیؐ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے تابع کرنے کی دعوت ہے۔ یہ دین کے کسی جز یا اخلاق کے ایک یا چند پہلوئوں کی نہیں، پورے دین اور پوری زندگی کو صبغۃ اللّٰہ (اللہ کے رنگ) میں رنگ دینے کی دعوت ہے۔ یہ مسجد اور میدانِ کارزار، خانقاہ اور جہاد، مدرسہ اور کاروبارِ حیات، ذکروفکر اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایک لڑی میں پرونے اور ایک مربوط جہادِ زندگانی کے ناقابلِ تقسیم اجزا بنانے کی دعوت ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے اپنے اور پرائے دونوں ہی غتربود کردیتے ہیں اور تحریکی ترجیحات کو اپنے اپنے ذاتی ذوق کے مطابق نہ پاکر نکتہ سنجی فرمانے لگتے ہیں۔ ’سیاسی اسلام‘، ’راہِ تقویٰ سے انحراف‘ اور ’مسلک سلف سے فرار‘ کے طعنے دیے جانے لگتے ہیں۔ ان تمام کرم فرمائیوں پر دعوتِ اسلامی کے علَم برداروں کا ردعمل مخاصمانہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ پوری خود احتسابی کے ساتھ اپنی دعوت اور اس کے ہمہ پہلوئوں کی مخلصانہ پابندی اور وفاداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ صحیح مثالیہ (model) سامنے آسکے اور زبانِ حال سے غلط اندیشیوں کی تردید ہوسکے۔

اس دعوت کا خلاصہ جماعت اسلامی کے مؤسس نے دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات میں یوں بیان کیا ہے:

                ۱-            یہ کہ ہم بندگانِ خدا کو بالعموم اور جو پہلے سے مسلمان ہیں ان کو بالخصوص اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔

                ۲-            یہ کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرلے، یا اس کو ماننے کا دعویٰ اور اظہار کرے، اس کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے منافقت اور تناقض کو خارج کرے، اور جب وہ مسلمان ہے یا بنا ہے تو مخلص مسلمان بنے اور اسلام کے رنگ میں رنگ کر یک رنگ ہوجائے۔

                ۳-            یہ کہ زندگی کا نظام جو آج باطل پرستوں اورفساق و فجار کی رہنمائی میں چل رہا ہے، اور معاملاتِ دنیا کی زمامِ کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے، ہم دعوت دیتے ہیں کہ اسے بدلا جائے اور رہنمائی و امامت، نظری اور عملی دونوں حیثیتوں سے، مومنینِ صالحین کے ہاتھوں میں منتقل ہو۔

اس دعوت کو جماعت اسلامی کے دستور میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

اقامت ِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے، اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے، پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیے یا تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو  مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگرچہ مومن کا اصل مقصدِ زندگی رضاے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیرممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین وہ رضاے الٰہی ہے جو اقامت دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔

دعوت و تربیت کا ھدف

فرد اور معاشرے کی اصلاح اور بالآخر انقلاب قیادت اور اسلامی نظام عدل و مساوات کے قیام کا یہ کام بہ یک وقت دو جہتوں سے مساعی کا متقاضی ہے۔ اپنی اصلاح، ایک دوسرے کی اصلاح، اور نظامِ زندگی اور قوت و اقتدار کی اصلاح___ ایک ہی کوشش اور جدوجہد کے مختلف رُخ اور پہلو ہیں جو ایک دوسرے کی تقویت اور تکمیل کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ الگ الگ دنیا نہیں۔  اس کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اس سے کیے ہوئے عہد (کلمہ طیبہ) کے تقاضوں کو جاننے اور پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اپنی، اپنے خاندان، اہلِ و عیال اور اہلِ محلہ کی اصلاح کی کوشش کرے، اللہ کے تمام بندوںتک پہنچے اور انھیں بندگی کی دعوت دے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ اجتماعی زندگی کے نظام اور محرکات کو اسلامی زندگی کے قیام اور فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ تمام اجتماعی قوتوں، اور خصوصیت سے ریاست کے وسائل کو، ایمان کی آبیاری، صالحیت کے فروغ، نواہی کے خاتمے اور معروف کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک طرف ’خود اپنے کو بدلو‘ کی کوشش ہوتو دوسری طرف اجتماعی ماحول اور ریاست کے وسائل، اوامر کے نفاذ اور بدی، ظلم اور طغیان کے استیصال کے لیے استعمال ہوں، تاکہ خداکی زمین پر خدا کی مرضی پوری ہوسکے اور اس کا قانون جاری و ساری ہوسکے۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے کے معاون اور تکمیل کرنے والے ہیں۔ ان میں ’یہ یا وہ‘ (either / or) کا تعلق نہیں بلکہ یہ دو جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں، جیساکہ ارشاد نبویؐ ہے:

اسلام اور حکومت و ریاست دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے۔ جس عمارت کی بنیاد نہ ہو وہ گر جاتی ہے اور جس کا کوئی نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاسکتا ہے۔(کنز العمال)

آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ اسلام کی یہ عمارت اپنے ارکان کی بنیاد پر معاشرے میں مستحکم ہو اور حکومت وریاست اس کی نگہبانی کی ذمہ داری مؤثرانداز میں ادا کرے۔

اصلاحِ فرد و معاشرہ اور اصلاحِ حکومت اور انقلابِ قیادت ایک ہی جدوجہد کے دو پہلو اور محاذ ہیں اور ہرمحاذ اپنی جگہ اہم اور دوسرے محاذ کو تقویت دینے والا ہے۔ دعوت و تربیت کا ہدف یہ دونوں محاذ ہیں۔ کسی ایک کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی اصلاح اور تربیت، جماعت اسلامی کے لائحہ عمل کا اتنا ہی اہم پہلو ہے جتنا انقلابِ قیادت اور اسلامی حکومت کا قیام۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۵۱ء میں لائحہ عمل کے جو چار نکات پیش کیے اور پھر ۱۹۵۷ء میں جن کو جماعت کی پالیسی کا مرکز و محور قرار دیا گیا تھا، انھیں آج تک جماعت کی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا مرحوم کے الفاظ میں اس کام کے بڑے بڑے شعبے اور پہلو یہ ہیں جن کی تذکیر، دعوت و تربیت کے حوالے سے ضروری معلوم ہوتی ہے تاکہ ہدف اور وژن میں کوئی ابہام نہ رہے۔

  • مذھبی گوشہ: مذہبی گوشے میں کارکنان جماعت کو یہ کام کرنے ہوں گے:

                ۱-            عوام الناس کو اطاعت ِ خدا و رسولؐ کی طرف بلانا، ان میں آخرت کی بازپُرس کا احساس بیدار کرنا، ان کو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرنا، اور انھیں اسلام کی حقیقت سمجھانا۔

                ۲-            عام لوگوں کو ان ضروری احکامِ دینی سے باخبر کرنا جن کا جاننامسلمانوں کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

                ۳-            مساجد کی حالت درست کرنا اور ان کے لیے مسلم معاشرے میں مرکزی اہمیت پیدا کرنا۔

                ۴-            مذہبی جھگڑوں کوروکنا اور لوگوں کو اس کش مکش کے نقصانات کا احساس دلانا۔

  •  اخلاقی گوشہ:اخلاقی گوشے میں ہمارے کارکنوں کو تین کاموں پر اپنی قوت صرف کرنا ہوگی: ۱- غنڈا گردی کا انسداد ۲-ہرقسم کے فواحش کا انسداد ۳- رشوت و خیانت کی روک تھام۔

ان اغراض کے لیے ہم صرف اخلاقی تلقین ہی پر اکتفا کرنا نہیں چاہتے بلکہ معاشرے کے شریف عناصر کو ان بُرائیوں کے مقابلے میں منظم کر کے ان کے خلاف عملی جدوجہد بھی کرنا چاہتے ہیں۔

  •  معاشی گوشہ: معاشی گوشے میں ہم کوشش کریں گے کہ تین طرح کی خدمات انجام  دی جائیں:

۱- تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِ ھِمْ وَتُـرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِ ھِمْ کے شرعی اصول پر بستیوں کے غریبوں، محتاجوں اور معذوروں کی باقاعدہ اعانت کا انتظام اور اس کے لیے انھی بستیوں کے    ذی استطاعت لوگوں سے مدد لینا۔

۲- سرکاری محکموں اور اداروں سے عام لوگوں کی شکایات رفع کرانا اور داد رسی حاصل کرنے کے معاملے میں جس حد تک ممکن ہو، ان کی مدد کرنا۔

۳- بستیوں کے لوگوں میں اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ پیدا کرنا تاکہ خود ہی مل جل کر اپنی بستیوں کی صفائی اور راستوں کی درستی اور حفظانِ صحت کا انتظام کرلیا کریں۔

  • تعلیمی گوشہ:تعلیمی گوشے میں ہماری کوشش یہ ہوگی:

۱- بستیوں اور محلوں میں دارالمطالعے کھولنا۔

۲- تعلیم بالغاں کے مراکز قائم کرنا۔

۳- جہاں جہاں بستیوں کے لوگ مالی ذرائع فراہم کرنے پر تیار ہوں وہاں ایسے پرائمری اسکول قائم کرناجن میں سرکاری نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی ہو۔

جماعت اسلامی کے سامنے ایک مکمل اسلامی معاشرے اور ریاست کا قیام ہے اور اس کے کارکن اس جدوجہد کو وقت کا اہم ترین چیلنج سمجھتے ہیں۔ وہ دلوں کی نگری کو ایمان اور احتساب سے منور کر کے پورے معاشرے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے منور کرنا چاہتے ہیں اور ساری جدوجہد اللہ کے بھروسے پر اس یقین کے ساتھ انجام دے رہے ہیں کہ  ع

جان چو دیگر شد ، جہاں دیگر شود

( انسان کی جان (سوچ، نقطۂ نظر) صحیح سمت میں بدل جائے تو اس کے لیے یہ جہاں بھی بدل جاتا ہے)۔

فھم قرآن عام کرنا

ہماری دعوت کا مرکزی نکتہ قرآن کی طرف دعوت اور قرآن کے ذریعے زندگی اور نظامِ زندگی کو بدلنے کا عزم اور سعی ہے۔ الحمدللہ اس وقت بھی مطالعہ قرآن کے ہزاروں حلقے مردوں اور خواتین میں قائم ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ پورے ملک میں مردوں اور عورتوں کے لیے بہت بڑی تعداد میں قرآن سرکل قائم کیے جائیں۔ جگہ کی قید نہیں، گھر کی بیٹھک ہو، مسجد کا دالان ہو، مدرسے کا حجرہ ہو، کالج کی کلاس ہو، درخت کی چھائوں ہو یا کمیونٹی ہال کی آسایش__ اسے قرآن کے اجتماعی مطالعے کا گہوارا بنادیا جائے۔ چھوٹا اجتماع ہو یا بڑا مجمع__ ہرمسلمان مرد اور عورت اوربچے اور جوان کو آمادہ کیا جائے کہ قرآن سے اپنا رشتہ جوڑے، اس کے معنی و مفہوم کو سمجھے اور اسے اپنے لیے کتاب ِ ہدایت بنالے۔ لمبی چوڑی علمی بحثوں اور تفسیری محفلوں کا اپنا مقام ہے اور ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس پروگرام کا اصل مقصدہرمسلمان کو، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، قرآنِ پاک کو پڑھنے اور اس کے ترجمے اور مفہوم سے واقفیت پیدا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ مسلمانوں کی طاقت کا اصل سرچشمہ اللہ کی یہی کتاب ہے۔ جب بھی مسلمانوں نے اس کا دامن تھاما اور اس کے پیغام کو لے کر اُٹھے وہ بلندیوں اور کامیابیوں سے شادکام ہوئے، اور جب بھی وہ اس سے غافل ہوئے   وہ پستیوں اور ذلتوں کی طرف لڑھک گئے۔ سب سے سچے انسان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:     ان اللّٰہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین (مسلم) ’’بے شک اللہ اس کتاب (قرآن پاک) کی بدولت بہت سی قوموں کو بامِ عروج پر پہنچائے گا اور اس (کو ترک کرنے) کے باعث دوسروں کو رُسوا کردے گا‘‘۔ اقبال نے اس حقیقت کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے    ؎

گر تو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بقرآں زیستن

(اگر تو مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتا ہے تو یہ زندگی قرآنِ پاک کے بغیر ممکن نہیں)۔

                اور    ؎

ازیک آئینی مسلماں زندہ است

پیکرِ ملّت ز قرآں زندہ است

(مسلمان وحدت آئین ہی سے زندہ ہے، اور وہ آئین قرآن ہے)۔

اس کتاب پر ثبات نے دورِ اوّل میں مسلمانوں کو اوجِ ثریا سے ہم کنار کیا تھا اور یہی آج بھی ان کی قسمت بدل سکتی ہے اور انھیں ذلت اور پستی سے نکال کر امامت اور قیادت کے اعلیٰ مقامات پر متمکن کرسکتی ہے۔ سچ کہا امام مالکؒ نے: لَا یَصْلُحُ اٰخِرُ الامۃ اِلَّا بِمَا صَلَحَ بِہٖ اوَّلَھَا، اس اُمت کے آخری عہد کی اصلاح کبھی نہ ہوسکے گی مگر اس طریقے کے اختیار کرنے سے جس سے اس کے اوَلیں دور میں ترقی اور اصلاح پائی__ اور وہ ہے قرآن!

یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری دعوت میں مرکزیت صرف قرآن کی تعلیم کو حاصل ہے۔ قرآن کو باترجمہ پڑھنا اور اس کے پیغام کو سمجھنا اور سمجھانا، نیز اس کام کو انجام دینے کے لیے ہرضلع میں ایسے افراد کو تیار کرنا جو صحت کے ساتھ قرآن پڑھ سکیں، دوسروں کو پڑھاسکیں اور اس کا مطلب سمجھا سکیں۔ دعوت و تربیت کے اس پروگرام کا مقصد قرآن سے اس رشتے کو مضبوط کرنا اور اس کے ذریعے قوم کو روشنی کی راہ دکھانا اور اپنی کھوئی ہوئی منزل کی طرف گامزن کرنا ہے۔

گہر اور خاندان کی اصلاح

گھر کی اصلاح اور خاندان کے یونٹ کو اقامت دین کی جدوجہد کا بنیادی مرکز بنا دینا ہماری اس دعوت کا دوسرا ہدف ہے۔ خاندان کی بنیاد محض ایک رسمی رشتہ نہیں۔ یہ تہذیب کا گہوارا اور اسلامی سیرت و کردار کی تعمیرکے لیے سب سے اوّلیں اور کارفرما ادارہ ہے۔ شریعت میں ایمانیات اور عبادات کے بعد سب سے زیادہ ہدایت جس ادارے کے بارے میں ہے وہ خاندان ہی کا ادارہ ہے۔ خود حضورپاکؐ کو دعوت کے باب میں ہدایت فرمائی گئی کہ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ o (الشعراء ۲۶:۲۱۴) ’’(پس اے نبیؐ) اپنے قریب ترین رشتے داروں کو ڈرائو‘‘ ___ تمام مسلمانوں سے فرمایا گیا: ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (التحریم ۶۶:۶)’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان والدین کو جنت کی بشارت دی جو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں اور جو امانت ان کو سونپی گئی ہے  اس کا حق پورا پورا ادا کردیں۔

آج خاندان کا نظام اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہے۔ اپنوں کی جہالت اور غفلت اور بیرونی دشمنوں کی ہمہ گیر یلغار دونوں کے باعث دین و تہذیب کا   یہ حصار تباہی کی زد میں ہے۔ اس قلعے کی حفاظت اور اسے ایک بار پھر اسلامی قوت کا منبع بنانا  ہماری اولیں ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان خواتین کا کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن وہ اپنا کردار اسی وقت ادا کرسکتی ہیں جب ہم ان کے حقوق پورے ادا کریں اور انھیں عضو معطل بناکر نہ رکھیں بلکہ ان کو وہی مقام دیں اور مواقع فراہم کریں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو مطلوب ہے۔ قرآن حق و باطل کی کش مکش کے سلسلے میں مردوں اور عورتوں کو ایک ہی زبان میں خطاب کرتا ہے اور ایک ہی ذمہ داری کو ادا کرنے کی طرف بلاتا ہے، لیکن ہم قرآن کی اس پکار کو غفلت سے نظرانداز کردیتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے دعوت و تربیت کے پروگراموں میں گھر کی اصلاح، اہلِ خاندان اور قرابت میں دعوتی کام اور مردوں اور خواتین کا دعوت الی الخیر، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو اپنے اپنے دائروں، صلاحیتوں اور امکانات کے مطابق انجام دینے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کا فروغ

اس پروگرام کا ایک اور بڑا اہم حصہ بامقصد اور اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کا فروغ ہے۔ موجودہ تعلیمی صورتِ حال میں ضروری ہوگیا ہے کہ اہلِ خیر اچھی اور اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کی فراہمی کا انتظام نجی شعبے میں کریں اور ایک ایسی ملک گیر تعلیمی تحریک برپا کریں کہ ایک متبادل  صحت مند نظام وجود میں آجائے۔ سرکاری سطح پر اصلاح کے امکانات کم سے کم ہونے کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ملک و ملّت کے بہی خواہ اُوپر سے تبدیلی کا انتظار کیے بغیر اپنی نسل کو آگ کی لپیٹ سے بچانے اور اپنے دین و ثقافت کی حفاظت کے لیے جس طرح بیرونی استعمار کے دور میں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے خود کوشاں ہوئے تھے،اسی طرح اندرونی استعمار سے ٹکر لینے کے لیے خود ہی اپنے بچوں کی بہترتعلیم کا بندوبست کریں۔ جماعت اسلامی نے ’اسلامی نظامت تعلیم‘ قائم کی ہے اور صوبائی اور مقامی سطح پر وقف کی بنیاد پر، یا خود کفالت کے نظام کے تحت ملک بھر میں اچھے تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھا دینا چاہتی ہے۔ الحمدللہ، پچھلے چند برسوں کی کوشش سے کئی ہزار پرائمری اور سیکنڈری اسکول اس منصوبے کے تحت قائم ہوئے ہیں۔ اس سال ان میں خاطرخواہ اضافے کی کوشش کی جائے گی اور جن شہروں یا دیہات میں ابھی ایسے ادارے قائم نہیں ہوسکے ہیں وہاں مقامی آبادی اور اہلِ خیر کے تعاون سے جلد از جلد ان کے قیام کا اہتمام کیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ جس طرح مغرب کے زیراثر تعلیمی تحریک نے بقول اقبال، تعلیم کے ’تیزاب‘ میں مسلمان قوم کی خودی کو ڈال کر اپنے مفید مطلب انداز میں بگاڑنے کی کوشش کی، یہ اصلاحی تحریک اس قوم کی نئی نسلوں کو پھر اسلام کا سپاہی اور پاسبان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور ان شاء اللہ ’دل بدل جائیںگے تعلیم بدل جانے سے‘۔

حکومت کی تعلیمی پالیسی پر تنقید، اس کی ناکامیوں کا احتساب اور صحیح نظام تعلیم کا مطالبہ اسی طرح جاری رہے گا لیکن اپنی مدد آپ کے تحت ایک متبادل نظام بھی قائم کرنا ضروری ہے۔

اصلاح معاشرہ اور تبدیلی قیادت

معاشرے سے ظلم و طغیان، فتنہ و فساد اور فحاشی اور عریانی کا خاتمہ، اور مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنے اور ظلم کے خلاف فضا بنانے کی کوشش بھی ہماری دعوت کا ایک حصہ ہے۔ لوگوں میں  اپنے حقوق کا احساس پیدا کرنا اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا داعیہ اور حوصلہ پیدا کرنا بھی تحریکِ اسلامی کے اہداف میں سے ہے۔ دعوتی اور تربیتی پروگرام میں معاشرے کی اصلاح کے ان پہلوئوں کو نمایاں کرنا اور اس کام کو انجام دینے کے لیے مردانِ کارتیار کرنا ایک مشکل لیکن ضروری کام ہے۔ سیاسی بیداری اور ہرسطح پر نئی اور صاف ستھری قیادت اُبھارنا بھی اسی جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ ممبرسازی، رابطہ کمیٹیوں کا قیام اور مجالسِ مشاورت کی تشکیل کا مقصد یہی ہے۔ یہ تمام کام اس لیے انجام دیا جا رہا ہے کہ ایک خادمِ دین اور خادمِ عوام قیادت اُبھر سکے اور بالآخر ملک کی زمامِ کار ان لوگوں کے ہاتھوں میں آسکے جو شر اور فساد، رشوت اور غبن، حقوق کی پامالی اور ظلم و استحصال کا خاتمہ کرسکیں اور معاشرے میں خیر اور فلاح کو عام کرسکیں۔

یہ وہ تحریک ہے جو دعوت و تربیت کے ذریعے معاشرے کی اصلاح، اور نئے مردانِ کار کی تیاری کرے گی تاکہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے نئی قیادت بروے کار آئے اور اجتماعی نظام بشمول نظامِ حکومت تبدیل ہو۔ اگر اس کا نقطۂ آغاز اپنی اصلاح ہے تو نظام کی اصلاح اور زمانے کی رو  کی تبدیلی اس کا متوقع ہدف ہے۔ اور یہ سارا کام کسی دُنیوی منفعت کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا، اللہ کے بندوں کی خدمت او ر آخرت کی کامیابی کے لیے انجام دیا جاناچاہیے۔ اگر یہ سارا کام اور ساری تگ ودو صرف اللہ کے بھروسے پر انجام دی جائے تو ان شاء اللہ لازماً ثمرآور ہوگی۔

تعلق باللّٰہ کی مضبوطی

ہم نے جماعت اسلامی کی دعوت کے چند پہلوئوں پر گفتگو کی ہے۔ ہرمنصوبہ محض کاغذ کا ایک پُرزہ ہے، اگر اس پر عمل نہ ہو اور اس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تن، من، دھن کی بازی نہ لگا دی جائے۔ ہماری دعوت اور ہمارے منصوبے کی کامیابی کا انحصا ر اللہ تعالیٰ کی استعانت کے بعد کارکنوں کے جذبے، محنت اور قربانی پر ہے۔ یہ جہاں ایک طرف ’اپنی اصلاح آپ‘ کا نسخہ ہے، وہیں دوسروں کی اصلاح اور خدمت اور معاشرے کی تعمیروتشکیل نو کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے پہلی ضرورت اللہ پر بھروسا، اس کے دامن کو تھامنا، اس سے اپنا رشتہ مضبوط اور گہرا کرنا، اس کی رضا کی طلب اور اس کی محبت کی خواہش ہے۔ جتنا یہ جذبہ مضبوط اور صائب ہوگا اتنا ہی راستہ آسان ہوجائے گا۔

اس کے لیے دوسری ضرورت خود اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ اگر شمع خود روشن نہ ہوتو دوسروں کو روشنی کیسے پہنچائے گی۔ اگر برف میں برودت اور آگ میں حرارت نہ ہو تو دوسروں کو ٹھنڈک یا گرمی کیسے پہنچا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کا نبیؐ جو داعیِ اوّل ہوتا ہے وہ سب سے پہلے ایمان لانے والا اور سب سے پہلے اطاعت کرنے والا ہوتا ہے (انا اول المومنین وانا اول المسلمین)۔ کارکن اور قیادت، ہر سطح پر، ہم میں سے ہر ایک کو، سب سے پہلے خود اپنی فکر کرنی چاہیے اور اس جذبے سے کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خود بھی دین پر قائم رہنے اور اس راہ پر ترقی کرنے کی توفیق بخشے اور اس لائق بنائے کہ ہم شہادتِ حق کا فریضہ کماحقہٗ ادا کرسکیں۔

اس کے لیے اخلاص کے ساتھ ساتھ علم، قول و فعل کی یک رنگی، حُسنِ اخلاق، جذبۂ خدمت، حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی پاس داری، صبر اور تحمل، مسلسل جدوجہد، کوشش اور قربانی کے جذبے کی ضرورت ہے۔

دعوت کے لیے تڑپ

اس سلسلے کی ایک اوربڑی اہم ضرورت اپنے دائرے سے نکل کر دوسروں تک پہنچنا، عوام میں اُٹھنا بیٹھنا، ان سے محبت اور ہمدردی کا معاملہ کرنا، ان کے دُکھ درد میں شریک ہونا اور ان کے دلوں کو موہ لینا ہے۔ یہ کام خود رائی، خودپسندی اور احساسِ برتری کے ساتھ انجام نہیں پاسکتا۔ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ مبارک میں جہاں ہمیں خوش اخلاقی کا اعلیٰ ترین نمونہ نظر آتا ہے (وَاِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍo القلم ۶۸:۴)، وہیں آپؐ کے تمام معاملات، رہن سہن اور میل جول میں بلا کا انکسار اور عام انسانوں جیسی سادگی او رملنساری پائی جاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کی گواہی ہے: آپؐ فرماتے تھے: اِجْلِسْ کَمَا یَجْلِسُ الْعَبْدُ ،میںاسی طرح اُٹھتا بیٹھتا ہوں جس طرح خدا کا ایک عام بندہ اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ جب آپؐ نے حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن کا والی بناکر بھیجا تو نصیحت فرمائی: اَحْسِنْ خُلُقَکَ لِلنَّاسِ،لوگوں کے ساتھ بہتر اخلاق سے پیش آنا۔

آپؐ کے شوقِ دعوت اور دوسروں کی فکرگیری کی حالت یہ تھی کہ خود اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں آپؐ کو متوجہ فرماتا ہے کہ اے نبیؐ! شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَ لَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ o الشعراء ۲۶:۳)۔ آپؐ کی لگن اور فکرمندی کا یہ حال تھا کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کی کمر پکڑپکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں۔ آپؐ کی استقامت کی یہ کیفیت تھی کہ آزمایش کے سخت ترین مرحلے پر بھی برملا فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دو تو پھر بھی میں بندگیِ رب کی دعوت سے قطعاً باز نہیں آئوں گا۔   میں اس راہ میں اپنی جان تو دے سکتا ہوں، پسپائی اختیار نہیں کرسکتا۔ احساسِ ذمہ داری کا یہ حال تھا کہ جب تھکے ہارے بخار کے عالم میں دارارقم میں آرام کے چند لمحات کے دوران آپؐ کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ ایک قافلہ مکہ کے باہر آیا ہے تو دعوت پہنچانے کے لیے بے تاب ہوجاتے ہیں اور اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں آپؐ  تھکے ہوئے ہیں، طبیعت بھی ناساز ہے،     اس وقت آرام فرمالیں تو آپؐ کا ارشاد یہی ہوتا ہے کہ کیا خبر کل تک وہ قافلہ رخصت ہوجائے اور کیا پتا کل تک میرا ہی بلاوا آجائے۔ آرام اور استراحت ترک کردیتے ہیں اور دعوت پہنچانے کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں__ صلی اللہ علیہ وسلم!

دعوت، تربیت اور اقامت دین کا کام انجام دینے کے لیے اس عزم، اس ہمت، اس ولولے، اس احساسِ ذمہ داری اور اس مجاہدے کی ضرورت ہے     ؎

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرکارواں کے لیے

بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ صرف میرکارواں ہی کے لیے نہیں، ہر کارکن اور اس منزل کے ہر راہ رو کے لیے یہی رخت ِ سفر ہے۔

اَللّٰھُمَّ اَیِّدِ الْاِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ ۔ اَللّٰھُمَّ اَنْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَلَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ -

اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ

اے اللہ! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مدد اور اسے قائم کرنے کی سعی کریں، تو ان کی مدد فرما اور ہمیں ان میں سے کردے۔

اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو رُسوا کرے، تو ان کو رُسوا کردے اور ہم کو ان کے ساتھ نہ کرنا۔

اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عنایت فرما ،اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین!

 

تبدیلی فون نمبر

عالمی ترجمان القرآن ادارتی دفتر، منصورہ کا فون نمبر تبدیل ہوگیا ہے۔

نیا فون نمبر: 042-35252356

اس وقت دنیا میں ہر پانچواں انسان مسلمان ہے۔ آج دنیا میں ایک ارب ۳۰ کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ ان میں سے۹۰کروڑ مسلمان ۵۷ مسلم مملکتوں اور۴۰ کروڑ باقی دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں رہتے ہیں۔ وسط ایشیا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اور براعظم افریقہ کے بڑے حصے پر مسلم آبادیوں کا ارتکاز ہے، تاہم مسلمان دنیا کے ہرحصے میں موجود ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد ۳ کروڑ سے زائد اور شمالی امریکا میں ۷۰لاکھ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔۵۷ مسلم ممالک دنیا کے ۲۳ فی صد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین بری، بحری اور فضائی راستے مسلم دنیا ہی سے گزرتے ہیں۔ مسلم دنیا اور باقی دنیا کا    ایک دوسرے پر کافی انحصار ہے۔ مسلم ممالک میں وسائل کی فراوانی ہے لیکن وہ معاشی، اور صنعتی ترقی میں پس ماندہ ہیں۔ ان کے پاس بہت زیادہ مالیاتی وسائل ہیں لیکن ٹکنالوجی، انتظامیات اور پیداوار و ترقی کے جدید طریقوں کے استعمال میں وہ پیچھے ہیں۔ مسلم ممالک کی باہمی تجارت   ۱۳فی صد ہے ، جب کہ ۸۷ فی صد تجارت بقیہ دنیا کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقیاتی حوالے سے ۵ کا تعلق اعلیٰ ۲۵ کا تعلق وسط سے ہے ، جب کہ بقیہ ممالک کا تعلق نچلے گروہ سے ہے۔۱؎

مسلم دنیا کئی صدیوں تک تسلیم شدہ عالم گیر معاشی قوت کی حیثیت سے غالب رہی۔ معاشرتی برتری اور ٹکنالوجی میں ترقی صدیوں تک مسلم ممالک کا امتیازی نشان رہا ہے۔۲؎ البتہ گذشتہ ۳۰۰ برسوں میں معاشی زوال ہوا ہے اور ان کی معاشی طاقت میں کمی و اقع ہوئی ہے۔  مسلم دنیا کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر دوبارہ سنبھلنے کا تصور موجودہ دور میں برسرِکار ہوا ہے۔   اس بات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا تنقیدی و فکری کام ہوا ہے کہ کیا خرابی پیدا ہوئی؟ اور مسلم دنیا کیسے دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت حاصل کرسکتی ہے؟ اس مناسبت سے اپنی اخلاقی اور نظریاتی ساکھ اور بنیاد کی تلاش اس جدوجہد کاایک حصہ ہے۔۳؎

اسلام ایک آفاقی دین ہے اور امت مسلمہ ایک عالم گیربرادری ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے، اور یہی ایمان مسلم امہ کی عالم گیر حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ یہی توحید کائنات کی، انسانیت کی اور زندگی کی وحدت (Unity) اور قانون کے آفاقی ہونے پر دلیل ہے۔ اسلام کسی خاص قوم ، لسانی یا علاقائی نسلی گروہ یا کسی خاص سماجی و معاشی طبقے کا دین نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام ایک نیا دین  پیش کرنے کا دعوے دار نہیں ہے، بلکہ اس کے مطابق یہ رہنمائی ہے جو خالق نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے تخلیق انسان کے اول روز سے بہم پہنچائی ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کا مذہب (دین) اسلام ہی تھا۔

مسلمان حضرت آدمؑ سے لے کرحضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسٰی ؑ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام کے لغوی معنی ’امن‘اور ’سلامتی‘ کے ہیں۔ یہ اللہ کے واحد معبود ہونے او راس کی بندگی کرنے اور اس کے انبیا ؑپر ایمان لانے کا داعی ہے، جن کی زندگی اعلیٰ ترین نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت کے مطابق انسان کی مکمل سپردگی اور پیروی کا نام ہے۔ اسی طرح شریعت کچھ اقدار، اخلاقیات اور قوانین کے مجموعے کا نام ہے جو اسلامی طرزِ زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔

اسلام، ہر فرد کے اختیار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ عقیدہ و مذہب کے معاملے میں کسی زورزبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔۴؎ یہ انسانیت کے لیے ثقافتی لحاظ سے اورحقیقی طور پر تکثیریت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اختلاف راے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنااسلام کابنیادی اصول ہے۔ اسلام، انسان کی زندگی کے تمام پہلوئوں: ایمان، عبادت، شخصیت اور کردار ،فرد اور معاشرہ، معیشت اور معاشرت، قومی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق ہے۔ پھر اسلام غیرمذہبی معاملات کو بھی روحانیت کی مقدس چھتری کے تلے جمع کرتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں لادینی اور دنیاوی پہلوئوں کو نظر انداز نہیں کرتابلکہ زندگی کے تمام پہلوئوں کواخلاقی و روحانی طور پر باہم مربوط کرتا ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اخلاقی اور نظریاتی فکر ہے، جو عقیدے، رنگ، نسل،  زبان اور علاقے سے بالاتر ہوکر انسان کو مخاطب کرتی ہے۔ یہ تکثیریت کو حقیقی اور قابل تکریم سمجھتا ہے۔ امت مسلمہ کے اندر بھی تنوع موجود ہے۔ اسلام کسی مصنوعی اتحاد اور زبردستی کی ہم آہنگی کا قائل نہیں ہے۔ یہ بقاے باہمی اور تعاون کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اسلامی طرزِ زندگی اور تمدن کا ایک اور پہلو، اس کا: مطلق ، کائناتی اور عالم گیر اقدار پر زور دینا ہے۔ یہ کچھ ایسے اداروں کا تعین کرتا ہے، جو اسلام کے مستقل ستون کی حیثیت سے کام کرتے ہیں،اور بدلے ہوئے حالات کی ضرورتوں کے مطابق لچک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقدار کا تانا بانا انسانی فطرت اور کائنات کے حقائق کے مطابق بنتا ہے اور انسان کو وہ مواقع فراہم کرتا ہے کہ انسان بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی اقدار اور اصولوں کا اطلاق کرے۔ اس کے لیے اسلام ایک خودکار نظامِ عمل فراہم کرتا ہے، تاہم انسانی حالات کی جزئی تفصیلات کے ضمن میں جامد قواعد و ضوابط سے احتراز کرتا ہے۔ یہ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے جو تمام مخلوقات میں اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے۔ ہرفرد اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ انسان صرف سماجی مشین کا اہم پُرزہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک معاشرہ ، ریاست، قوم اور انسانیت تمام ہی اہم ہیں اور ہرایک اپنا خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، آخرت میں ہر فرد کی جواب دہی انفرادی سطح پر ہی ہوگی۔   اس سے اسلامی نظام کے اندر فرد کی مرکزیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہر فرد کو معاشرے اور   اس کے اداروں سے وابستہ کرتا ہے اور ان کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کرتا ہے۔

اسلامی اخلاقیات زندگی سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتیں بلکہ بھرپور زندگی گزارنے کے نظریے پر قائم ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام پہلو اور سرگرمیاں اخلاقی نظم و ضبط کے ذریعے پاکیزہ زندگی گزارنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ انفرادی تقویٰ اور اجتماعی اخلاقیات مل کر بھرپور زندگی کو فروغ دیتی ہیں، انفرادی اور معاشرتی بہبود میں اضافہ کرتی ہیں اور تمام لوگوں کے لیے فلاح کا باعث بنتی ہیں۔ اسلام میں ’دولت‘ ایک گالی نہیں۔ اگر اخلاقی اقدار اور امکانات کو پیش نظر رکھا جائے تو پیدایش دولت دراصل ایک پسندیدہ قدر ہے۔ ایک اچھی زندگی انسانی جستجو کابڑا ہدف ہے، فلاحِ دنیا اور فلاحِ آخرت کا ایک دوسرے پر انحصار ہے، اور یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ یہی وہ روحانیت ہے جو دنیاوی زندگی کے تمام پہلوئوں اور سرگرمیوں کو اخلاقی دائرہ کار میں لاکر اس طرح چھا جاتی ہے، کہ وہ انسان کو بیک وقت نہ صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل بنادیتی ہے،بلکہ ایک ایسامعاشرہ تشکیل دیتی ہے جس میں تمام لوگوں کی خواہشات عادلانہ طریقے پر پوری ہوتی ہیں۔

شخصی آزادی، حقوقِ ملکیت، کاروبار، منڈی کی میکانیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم، اسلامی معاشی نظام کے اہم حصے ہیں، تاہم مختلف سطحوں پر بہت سی اخلاقی بندشیں ہیں، مثلاً: انفرادی تحرک، ذاتی رجحان، سماجی طور طریقے، آجر اور اجیر کے رویے اور فرد اور ریاست کے باہمی تعلقات۔   اس نظام میں خاص طورپر نگرانی، رہنمائی اور ضروری قانون سازی کے دائرے میں ریاست اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ آزادی،معاشی مواقع کی فراہمی اور ملکیت کے حقوق کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔

اسلام ضروریات کی فراہمی کو اہمیت دیتا ہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دیناچاہتا ہے، جس میں معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی ہو۔ اوّلین طور پر ذاتی جدوجہد کے ذریعے اور محنت کا پھل ملنے کے رجحان کی بنیاد پر۔ لیکن ایک ایسے دوستانہ ماحول میں کہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں یا ان کا تعلق محروم طبقات سے ہو، ان کی اس طرح سے مدد کی جائے کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے فعال شریک بن جائیں۔ اسلام پیدایش دولت کی ایسی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے۔ اس کا ہدف ایسا عادلانہ اور مساویانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اسی صورت میں ایسا کیا جانا ممکن ہے کہ جب معاشرہ ایسا طریق کار وضع کرے کہ معاشرے کے محروم طبقات کو مؤثر مدد حاصل ہوسکے۔ یہ خاندان کے ادارے، معاشرے کے دوسرے اداروں اور ریاست کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اسلام معاشی طرز عمل میں آزادی کوذمہ داری کے ساتھ اور استعداد کار کو عدل کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ’عدل‘ بنیادی اسلامی اقدار میں سے ایک سب سے اہم قدر ہے اور انبیاعلیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی ایک مقصد عدل کا قیام ہے (الحدید ۵۷:۲۵)۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے اللہ کے ساتھ تعلق تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے انسانوں او رکائنات کے ساتھ عدل پر مبنی تعلق تک وسیع ہے۔

اسلام کا معاشی نظریہ

بنیادی خصوصیات

اسلام کے معاشی نظریے کی بنیادی خصوصیات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

۱- زندگی ایک مربوط اکائی ہے۔ انسان کی شخصیت کی طرح، عوامی ثقافت بھی ناقابل تقسیم ہے۔ پورا سماجی عمل ایک نامیاتی اکائی (organic unity)ہے۔ معاشی زندگی اور نظام کو ہم علیحدہ علیحدہ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ تخصیص کار اور تقسیم کار بہت اہم سہی، لیکن تمام چیزوں کو آپس میں مربوط ہونا چاہیے، تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وسیع تر اکائی بن سکے۔ معاشی نظریے کی بنیاد: ایمان، زندگی کے بارے میں نظریے اور عوام کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ہے کہ ایک باہم مربوط فکر کے ذریعے ہی انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو صحیح رخ دیا جاسکتا ہے۔

۲-  اسلام کا تصورِ جہاں (World View) توحید، رسالت اور آخرت پر مبنی ہے۔   مرد اور عورت دونوں کی دنیا میں حیثیت اللہ کے خلیفہ (vicegerent) کی ہے۔ اسے اختیار کی آزادی، خواہش، علم اور محدود حد تک حاکمیت عطا کی گئی ہے۔ اس کے کردار، مقام اور فرضِ منصبی کو استخلاف کہا گیا ہے، یعنی زمین پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا،عدل قائم کرنا، احسان کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے حیات طیبہ کا انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے بلند معیار قائم کرنا۔

امام غزالی علیہ الرحمہ مقاصد شریعت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’شریعت کا مقصد تمام انسانوں کی بھلائی ہے، جو انسان کے ایمان،اس کے نفس، اس کی عقل، اس کی نسل اور اس کے مال کے تحفظ سے وابستہ ہے‘‘۔۵؎

۳- ’تقویٰ‘ کے بعد اسلامی نظام کی اہم ترین قدر ’عدل‘ اور اس کے ساتھ ’احسان‘ ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ’عدل‘ سے مراد ہر فرد کو اس کا حق بہم پہنچانا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں فقہا اور مفکرین ’عدل‘ کو اسلامی زندگی، معاشرے کی خاص صفت اور قانونی و سماجی اور معاشی عمل کا ایک ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔

امام ابو یوسفؒ (م:۷۹۸ئ) نے خلیفہ ہارون الرشید (م:۸۰۹ئ)کو معیشت کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’مجرموں کے ساتھ انصاف کرنے اور نا انصافی کے خاتمے کے نتیجے میں ترقی کی رفتار تیز تر ہوگی‘‘۔ امام ابوالحسن علی الماوردیؒ (م: ۱۰۵۸ئ) نے فرمایا کہ: ’’جامع اور مختلف پہلوؤں سے انصاف کے نتیجے میں یک جہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، قانون کی عمل داری ہوتی ہے،ملک ترقی کرتا ہے، دولت بڑھتی ہے، آبادی میں افزایش ہوتی ہے، ملک کی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، اور نا انصافی سے بڑھ کر کوئی چیزنہیں جو دنیا کے لوگوں کے ضمیر اور شعور کو تباہ کرتی ہو‘‘۔    امام ابن تیمیہؒ (م: ۱۳۲۸ئ) عدل کو توحید کا لازمی نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر چیز میں انصاف، اور ہر ایک کے لیے انصاف ہر ایک کاحق ہے،اور نا انصافی کسی چیز میں کسی بھی فرد کے لیے کسی طور پر جائز نہیں ہے ،چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، حتیٰ کہ ایک ظالم شخص کے معاملے میں بھی نہیں‘‘۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ئ) علی الاعلان کہتے ہیں کہ: ’’عدل کے بغیر ترقی جائزنہیں ہے اور ظلم ترقی کا خاتمہ کرتا ہے،اور جایداد میں کمی ناانصافی اور ظلم کا لازمی نتیجہ ہے‘‘۔۶؎  پس، عدل اسلامی نظام کی روح اور سانس کادرجہ رکھتا ہے۔

۴-  سماجی تبدیلی اور انسانی معاشرے کی تشکیل نو کے لیے اسلامی منصوبہ منفرد ہے۔ یہ منصوبہ ایسے طریق کار پر مبنی ہے جو اٹھارھویں صدی کے بعد یورپ اور امریکا میں ابھرنے والے معاشی و سیاسی نظریات سے بالکل مختلف ہے۔

موجودہ مغرب میںاس کے لیے جو طریق کار، اور حکمت عملی سامنے آئی ہے وہ اس تصور پر مبنی ہے کہ انسانوں میںانقلابی تبدیلی لانے کے لیے سماجی اداروں اور ماحول کو تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ان کے ہاں تمام زور بیرونی ڈھانچے کی تشکیل نو پر ہے۔ اس نظام کی ناکامی کی وجہ انسان کو، مرد ہو یا عورت، ان کے عقائد، محرکات، اقدار اور ذمہ داریوں کو ہدف بنانے کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ تمام انسانوں کے اندر تبدیلی لانے کے عمل کو نظر انداز کرتا ہے اور بیرونی عناصر میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم جس چیز کی ضرورت ہے وہ مکمل تبدیلی اور انقلاب ہے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے اندر بھی ہو اور ان کے سماجی و معاشی ماحول میں بھی۔ مسئلہ صرف ڈھانچا جاتی تبدیلی کا نہیں ہے، تاہم ڈھانچا جاتی تبدیلی بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ نقطۂ آغاز انسانوں کے دل و روح، ان کا حقیقت کا ادراک اور زندگی میں خود ان کا مقصد اور مقام ہونا چاہیے۔

سماجی تبدیلی کی بنیادیں

سماجی تبدیلی کے لیے اسلامی نقطۂ نظر کے حوالے سے کلیدی نکات حسب ذیل ہیں:

(الف) سماجی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کے عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، اگرچہ زندگی میں بہت سی رکاوٹوں اور بندشوں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ تبدیلی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے تحریک حاصل کرتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ تبدیلی با مقصد ہونی چاہیے، یعنی آئیڈیل کی طرف پیش قدمی۔

(ب)  عوام ہی انقلاب کا فعال کردار ہیں۔ دنیا کی تمام دوسری قوتیں اللہ کے نائب اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے کائنات کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں اور جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان کے مطابق یہ انسان ہی ہے جو خود اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا ذمہ دار ہے۔

(ج) تبدیلی کی ضرورت صرف ماحول ہی میں نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں کے دل و روح کے اندر ، ان کے رویوں اور محرکات میں، اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے خارج کی دنیا میں ہے، اس کو مقاصد کی تکمیل کے لیے مجتمع کرنے کے عزم میں موجود ہے۔

(د)  زندگی بہت سے باہمی رشتوں کا تانا بانا ہے۔ انقلاب کا مطلب ان رشتوں میں کئی جگہ ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اس لیے یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں  عدم توازن پیدا ہو۔ تاہم، اسلامی سماجی تبدیلی کے نتیجے میں اس طرح کا ٹکرائو اور عدم توازن اپنی  کم از کم سطح پر ہوگا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ اور باہم مربوط انداز میں چلائی گئی مہم کے نتیجے میں، توازن کے ایک مقام سے دوسرے اونچے مقام کا حصول اور عدم توازن سے توازن کا حصول ممکن ہوسکے گا۔ اس لیے تبدیلی کو متوازن، بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے، نیزجدت اور اختراع کے ساتھ مربوط بھی ہونا چاہیے۔ یہ منفرد اسلامی طریقہ ارتقائی راستے سے انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جائے گا۔

۵-  انسانی زندگی میں ذاتی مفاد کا حصول ایک فطری قوتِ محرکہ ہے۔ لیکن ذاتی مفاد کو نیکی اور عدل کے وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا صلہ اور کوشش میں ناکامی پر نقصان، انسانی معاشرے اور معیشت کے لیے بہترین فریم ورک فراہم کرتا ہے۔۷؎ اسلام اس کی اہمیت اور اسے معاشی و سماجی کوششوں کا اولین اصول تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اسلام نے جدوجہد کے لیے ایک اخلاقی دائرہ کار بھی تشکیل دیا ہے، جو کچھ اقدار کے اپنانے اور کچھ اقدار سے پرہیز پر مبنی ہے، اور بتاتا ہے کہ کیا چیز درست اور جائز ہے اور کیا چیز اخلاقی، روحانی ، سماجی حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ حلال و حرام کا تصور انسان کی تمام جدوجہد کے لیے اخلاقی میزان کا کام کرتا ہے۔ اعتدال اور اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا اس اسکیم کا لازمی جزو ہے۔

صلہ (انعام) کے تصور کو دنیاوی صلے کے ساتھ ساتھ اُخروی صلے کے ساتھ مربوط کرکے اسے وسعت دی گئی ہے۔ ذاتی فائدے کے فطری تصور کو رد کیے بغیر یہ اچھے اور عادلانہ رویے کے لیے ایک مضبوط قوتِ محرکہ ہے۔ ذاتی ملکیت اور ذاتی کاروبار کو ناقابل تنسیخ حقوق اور معاشی سرگرمی کے فطری طریقے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اخلاقی اور قانونی ضابطوں کے ذریعے اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات پختہ کرکے، کہ مال و جایداد اپنی ہر شکل میں مادی، انسانی، مشینی قوت اور دماغی قوت کی صورت میں، انسان کے پاس ایک امانت ہے، مال و جایداد کے تصور کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور یہ ذہن نشین کرا دیا ہے کہ امانت ہونے کی وجہ سے ملکیت کے حقوق اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط ہیں اور ان کو مقاصد شریعت کی تکمیل سے مربوط کرتے ہیں۔

۶- معاشی سرگرمی، تعاون اور مقابلے کے عمل کے ذریعے فروغ پاتی ہے۔ منڈی کی سرگرمی، نجی ملکیت، کاروبار کی آزادی، منافع اور صلہ، قوتِ محرکہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔ الہامی ہدایت اور تاریخ کی گواہی اس بات پر شاہد ہے کہ تجارت، اشیا کی پیدایش میںاضافہ، اشیا و خدمات کا  لین دین، مناسب منافع کا حصول، طلب و رسد کی قوتوں کے ذریعے قیمتوں کا تعین، منڈی میں لین دین کاتحفظ اور معاہدوں کی تکمیل کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، اسلامی معاشی نظام کے ستون ہیں۔ جدوجہد، اختراع و تخلیق، تقسیم کار، ٹکنالوجی اور مہارتوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ تعاون، ہمدردی، عدل، انفاق اور یک جہتی پر تمام بڑے مسلم مفکرین نے زور دیا ہے۔

ایڈم سمتھ (م: ۱۷۹۰ئ) سے سات صدیاں قبل علامہ شمس الدین سرخسیؒ (م: ۱۰۹۰ئ) لکھتے ہیں: ’’کسان کو اپنے لباس کے لیے جولاہے کے کام کی ضرورت ہے اورجولاہے کو اپنی خوراک اور کپڑوں کے لیے کسان کے کام کی ضرورت ہے… ان میں سے ہر ایک اپنے کام کے ذریعے دوسرے کی مدد کرتا ہے‘‘۔ علامہ سرخسیؒ سے ایک صدی بعد دوسرے عالم جعفردمشقیؒ (م:۱۱۷۵ئ) اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مدت عمر قلیل ہونے کی وجہ سے کوئی فرد بھی تمام صنعتوں میں اپنے آپ کو نہیں کھپا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ کسی بھی صنعت میں اپنے آپ کو ماہر نہیں بناسکے گا۔ تمام صنعتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ تعمیر کے لیے بڑھئی کی ضرورت ہے اور بڑھئی کو لوہار کی ضرورت ہے، لوہار کو کان کن کی ضرورت ہے اور تمام صنعتوں کے لیے جگہ اور عمارت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے لوگوں کو مجبوراً اپنی ضرورت کے لیے شہروں میں یک جا ہونا پڑتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں‘‘۔

علامہ ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ئ) نے ایڈم سمتھ سے تین صدیاں قبل تقسیمِ کار، معاشی ترقی میں تخصص اور انسانی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’یہ بات سب جانتے ہیں اور یہ بہت واضح ہے کہ انسان انفرادی طور پر اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرسکیں۔ انھیں اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ضروریات جو کہ افراد کا ایک گروہ مل کر باہمی تعاون سے پوراکرسکتا ہے، ان ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہیں جو وہ انفرادی طور پر پورا کرسکنے کے قابل ہیں‘‘۔ وہ اس بات کی سائنسی وجوہ بیان کرتے ہیں کہ تجارت کے نتیجے میں ترقی کو کیسے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ترقی کاانحصار ستاروں یا سونے چاندی کی کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار معاشی سرگرمی اور تقسیم کار کے اصول پر ہوتا ہے جو بذات خود منڈی کی وسعت اور اوزاروں (مشینوں) پر منحصر ہے ، جب کہ اوزاروں (مشینوں) کے لیے بچتوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ بچت کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ بچت ہے‘‘۔ منڈی کی وسعت میں اضافے کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی طلب تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں میں پھیلائو آتا ہے، آمدنیاں بڑھتی ہیں، سائنس اور ٹکنالوجی میںاضافہ ہوتاہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے‘‘۔۸؎

منڈی کی میکانیت: اسلامی نقطۂ نظر

۷-  منڈی کی میکا نیت اسلامی معاشی نظریے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں اسلام نے چند بنیادی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ منڈیاں، ذاتی مفاد اور نفع اندوزی کی خواہش جیسی صورت حال کو جنم نہ دے دیں، جو سماجی لحاظ سے نقصان دہ ہو اور عدل اور راست بازی (fair play) کے تقاضوں کے خلاف ہو۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  •    ذاتی تحرک کی سطح پر اخلاقی ضوابط، حلال و حرام کی قیود،’ حسبہ‘ کے ادارے کا قیام، سماجی دبائو اور خصوصی قانونی ضابطوں کی تشکیل۔
  •   سماجی و معاشی اکائی کے طور پر ’خاندان‘ کا ادارہ جو سماجی تحفظ اور یک جہتی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
  •   معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے اخلاقی، سماجی اور قانونی اقدامات،  آمدنی کی عادلانہ پالیسی کے لیے رہنما خطوط کا تعین۔
  •   سماجی تحفظ کاایک پھیلا ہوا انتظام: نجی دائرے میں صدقات و خیرات کی صورت میں اور ریاست کی سطح پر ضرورت مند لوگوں کے لیے زکوٰۃ سے سرکاری امداد کا نظام۔
  •  ’وقف‘ کے ادارے کے قیام کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کے جال، مارکیٹ کے ذریعے ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غیر تجارتی بنیادوں پر اشیا کی فراہمی، اسلامی معاشی اسکیم کا ایک لازمی جزو ہے۔
  •   پیداکار کے طور پر نہیںبلکہ ضروریات زندگی کی رسد میں منڈی کی ناکامی کی صورت میں جائزہ کاری، ضابطوں کا نفاذ اور عوام کی امداد کے پروگرامات، تاکہ معاشرے کا ہر فرد مذہبی، لسانی، صنفی ، قومیت یا عمر کے امتیازات سے بالاتر ہوکر معاشی زندگی میں متحرک طور پر حصہ لے۔
  •   اسلام وسائل کے ضیاع، ختم ہوتے قدرتی وسائل کے بے جا نقصان اور معاشی سرگرمی کے ماحولیاتی پہلو کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند ہے۔ اس کا اچھی زندگی کانظریہ اعتدال،توازن اور بندگی پر مبنی ہے اور ہر انسان کی معاشی زندگی کے دنیاوی اور ذاتی پہلوئوں کو مساوی طور پر اہمیت دیتا ہے ۔ اسلام کامعاشی نظام جزوی نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے۔ ایک طرف تو یہ انسان کے لیے، انفرادی آزادی، انتخاب کی آزادی، نجی ملکیت اور کاروبار،منافع کے محرک اور لامحدود جدوجہد اور اس کے صلے کو یقینی بناتا ہے، اور دوسری طرف زندگی کی مختلف سطحوں پر مؤثر اخلاقی ضابطوں کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ دائرے کے علاوہ سرکاری انتظامی ٹیم کے ذریعے ایسے ادارے قائم کرتا ہے، جن کے ذریعے معاشرے میں معاشی ترقی اور سماجی انصاف قائم ہوسکے۔ حتیٰ کہ خیرات کے تصور کو اس نے انقلابی طور پر قانونی ذمہ داری کا حصہ بنا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ o لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o (المعارج ۷۰:۲۴-۲۵) ’’جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘۔ اسلام نے دوسرے نظاموں کی طرح تقسیم دولت میں عدل اور سماجی تحفظ کو رضاکارانہ ضمیمے کی حیثیت نہیں دی بلکہ اس کو نظام کا تشکیلی جزو بنادیا ہے۔

غربت و استحصال سے تحفظ

اسلام میں سرمایے کے رضاکارانہ اور لازمی انتقال کے ذریعے غربت اور استحصال سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔۹؎

  •   آمدنی کے کچھ ذرائع کی ممانعت اسلامی معاشی نظام کا ایک اور اہم جزو ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم حرمت سود (الربا) ہے۔ اس کے علاوہ جوا، سٹہ بازی، دھوکا دہی، استحصال اور دولت کا زبردستی حاصل کرناشامل ہے۔ کاروباری اخلاق کا ایک جامع ضابطہ تشکیل دیاگیا ہے  تاکہ دیانت داری اور معاملات کے شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالیاتی معاملات میں ذمہ داری کو یقینی بنایاجاسکے۔

حرمت سود کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام سرمایے کے استعمال پر کسی قسم کے صلے کاقائل نہیں۔ اسلام سرمایے کی پیداواریت کو تسلیم کرتا ہے اوراس کی حقیقی پیداواریت کے تناسب سے اس کے صلے کا قائل ہے۔ البتہ جس منصوبے میں سرمایہ لگایا گیا ہے اس کے اصل منافع کے علی الرغم ایک یقینی، مقررہ اور پہلے سے طے شدہ منافع کامخالف ہے۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اصل منافع میں سرمایہ دار اورآجر دونوں حصہ لینے کاحق رکھتے ہیں۔ وہ مقررہ منافع کے بجاے اصل ہونے والے منافع میں سے منافع لیں گے۔ اس کامطلب ہے کہ اسلام قرض کی بنیاد پر معیشت کے قیام کے بجاے شراکت کی بنیادپر، خطرے میں حصے داری اور ذمے داری میں شرکت کی بنیاد پر معیشت کے قیام کاخواہاں ہے۔ اس کے معیشت کے منتظمین اور معاشی و مالیاتی تنظیموں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی اصولوں پر قائم معیشت کارخ زری منافعوں کے بجاے حقیقی طور پر اثاثوں کی تخلیق کی طرف ہوگا۔ بلاشبہہ ایسی معیشت زیادہ مستحکم و زیادہ مادی ترقی کی طرف مائل، زیادہ مبنی بر مساوات اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے شراکتی ہوگی۔

  •   اسلام کا عالم گیریت کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے، تاہم اس کا عالم گیریت کا تصور کسی قوم کی اجارہ داری کے بجاے ’توحید‘ سے منسوب ہے۔ توحید میں انسانیت کی وحدت مضمر ہے۔ امت مسلمہ فکری اور تاریخی لحاظ سے ایک عالم گیر برادری ہے۔ انسانی تاریخ میں عالم گیریت کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے دور سے ہوا۔ پوری دنیا کو ایک عالم گیر بستی میں تبدیل کرنے کی حالیہ تبدیلیاں ایسے شان دار مواقع پیش کرتی ہیں، بشرطیکہ یہ عمل صحیح اور عادلانہ ہو۔ اسلام کا واسطہ عالم گیریت کے طور طریقوں کی نوعیت، سمت، سماجی و اخلاقی نتائج سے ہے۔ آج کی عالم گیریت بذاتِ خود کوئی پریشانی کامعاملہ نہیں ہے۔حقیقتاً یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل منصفانہ ہو اور اس کے پردے کے پیچھے طاقت ور قومیں، کمزوروں کااستحصال کرتے ہوئے ان پر اپنی بالادستی قائم نہ کریں۔

میں یہاں پر علامہ ابن خلدونؒ کے تجویز کردہ سماجی و معاشی تنظیم کے بین الاداراتی متحرک ماڈل کاخلاصہ پیش کروں گا، جو انھوں نے اپنے وقت کے حکمران کو پیش کیا تھا۔ آج کے زمانے میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔وہ کہتے ہیں:

  •                خلیفہ (الملک) کے بغیر شریعت کانفاذ نہیں ہوسکتا۔
  •                خلیفہ، عوام (الرجال) کے بغیر قوت حاصل نہیں کرسکتا ۔
  •                دولت (المال) کے بغیر عوام زندہ نہیں رہ سکتے ۔
  •                ترقی (العمارۃ) کے بغیر دولت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔
  •                عدل (العدل) کے بغیر ترقی حاصل نہیں ہوسکتی ۔
  •                عدل وہ میزان(المیزان) ہے، جس پر اللہ تعالیٰ انسانوں کا حساب لے گا۔
  •                اور خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ عدل کو قائم کرے۔۱۰؎

عالمی معیشت و معاشرت کے لیے عادلانہ ماڈل

یورپی و امریکی سرمایہ داری کی بین الاقوامی پہنچ ، اور عالم گیر نظام سرمایہ داری ایک حقیقت ہے۔ قضیہ یہ نہیں ہے کہ ان مختلف ممالک اور علاقوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلافات ہیں جو سرمایہ داری کے راستے پر گامزن خیال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ خیال کرنا بھی غیرحقیقی اور دورازکارہے کہ دنیا کے تمام ممالک اس چھتری کے نیچے آنے کے خواہش مند ہیں۔ بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی تناظر میں بہت سے یورپی ممالک اور فکری و سیاسی قوتیں غیر مشروط اور مکمل طور پر نظام سرمایہ داری کے تحت آنے پر ناخوش ہوں گی۔ جاپان اس کی ایک مثال ہے۔ مغرب ان کو اپنے کیمپ میں شمار کرتا ہے، جب کہ جاپانی گذشتہ دو عشروں سے اس پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ مغربی اثر سے باہر رہیں۔

سرمایہ داری کا مستقبل

۱۹۸۰ء کے عشرے میں شروع ہونے والے معاشی جمود سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے تجربے کے بارے میں شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورت حال کے سایے بڑھتے جارہے ہیں۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد روس پورے جوش و خروش سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھا۔ لیکن اس باب میں بھی وہ اپنے آپ کو ناکام پاتا ہے۔ چین نے ایک ملک میں دونظام اپنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مشرقی ایشیاکی معیشتیں۹۸-۱۹۹۷ء کے بحران کے بعد سے سکڑچکی ہیں اور ان کے خیالات بدل چکے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے اپنے تحفظات ہیں۔ مجموعی تصویر دھندلی اور شکوک پیدا کرنے والی ہے۔

میرے خیال میں عالم گیر معیشت اور معاشرت اتنے شکستہ اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ معیشت کا کوئی ایک ماڈل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ حقائق کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی لحاظ سے غیرمغربی دنیا کے لوگوں کی سوچ اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ایک سے زائد نظاموں (کثرتی نظاموں) پر مشتمل دنیا کا ایسامنظر پیش کیا جاسکے کہ جس کے نتیجے میں ایسا کھلا معاشرہ وجود میں آئے، جہاں خیالات، ٹکنالوجی، اشیا و خدمات، مالیات اور انسانوں کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر یہ عمل کامیاب بنانا مقصود ہو تو اسے بالکل شفاف اور باہمی برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد اصلاً مفادات طاقت وری اور بالاتری پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاملات کو عدل اور راست بازی کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔ بالاتری پر مبنی نظام تب تک ہی چل سکتا ہے جب تک طاقت کا توازن خراب نہیں ہوتا اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ طاقت کے توازن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۱۱؎ حقیقتاً تاریخ درجنوں سوپر پاورز کا قبرستان ہے۔    ہم نے اپنی زندگی ہی میں اس طرح کی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ پس، سبق یہی ہے متعلقہ مفکرین اس بات پر غور کریں کہ ایک بالاتر نظام کے بجاے یہ دنیا ایسی حقیقی کثرتی دنیا ہو، جس میں اندرونی تبدیلیوں کے باوجود ، تعاون اور مقابلے کی قوتیں کام کر رہی ہوں۔

میری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ مسلم دنیا کبھی خوشی کے ساتھ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گی۔ بلاشبہہ ہم مفید تعاون کے لیے خیالات و تجربات کے تعامل کے لیے آمادہ ہیں۔ سرمایہ داری میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو عالم گیر ہیں اور وہ دوسرے نظاموں کے اندر بھی موجود ہیں۔ لیکن اس میں بہت کچھ وہ ہے جو خصوصی طور پر اس کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی کی استعماری قوتوں کے ساتھ اس کا تعلق اور موجودہ دور میں صرف واحد سوپرپاور کے ساتھ اس کا تعلق ہونا، غیر مغربی دنیا میں اس کے داخلے کو مشکوک اور غیر متوازن بنادیتا ہے۔ مفادات ، تمنائوں اور اقدار کا فرق، اس کے عالم گیر نظام بننے کی راہ میں نہ صرف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، بلکہ اس نظام کے پسندیدگی کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کرنے کا سبب ہیں۔

نظام سرمایہ داری دنیا کے مختلف ممالک کے لیے کبھی بھی فائدہ مند نہیں رہا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے تجربات تو بہت تلخ ہیں۔ یورپ اور امریکا میں نظام سرمایہ داری کی کارکردگی قابلِ رشک نہیں اور دنیا کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے۔ معروف سرمایہ دارانہ ممالک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ترقی پذیر دنیا کے لوگوں کی کمرتوڑ رہا ہے بلکہ پوری دنیا کے لوگ اس سے پریشان ہیں۔ مالیاتی عدم استحکام کا جن بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا۔ بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی ناہمواریاں انسانیت کے جسم کا رستا ہوا ناسور ہیں۔ سرمایہ داری کو ابھی اپنا گھر درست کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، قبل اس کے کہ یہ بقیہ انسانیت کی توجہ کا مرکز بن سکے۔

اسی لیے اس تحریر کا مقصد موجودہ یا کلاسیکی سرمایہ داری کے مقدمے پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام کا وژن پیش کرنا ہے۔ نظام سرمایہ داری کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ہر مفہوم کے لحاظ سے ذمہ دار ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو اخلاقی پہلو معدوم ہیں ان کے ساتھ سرمایہ داری کے مستقبل کے بہتر بننے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے ذمہ دار  عالمی نظام کے وژن کی ضرورت ہے، جہاں مختلف اعتقادات اور ثقافتوں پر مبنی دوسرے معاشی متبادلات کے لیے بھی یکساں مواقع موجود ہوں۔

جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اسے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان باہمی انحصار کی اہمیت کا ادراک ہے۔ مکالمہ، مشترکہ معاشی کاروبار، بڑھتی ہوئی تجارت، نظریات، اشیا اور انسانوں کا تبادلہ مستقبل کے تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ امرواقعہ ہے کہ عدل کے تقاضے پورے کیے بغیر اور ایسا سیاسی اور انتظامی ڈھانچا تشکیل دیے بغیر دنیا کی ریاستوں، معیشتوں اور لوگوں کے درمیان حقیقی عدل  قائم کرنے کی خواہش اور پُرامن، خوش حال اور عالمی انسانی معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔

ہم نے اسلامی تناظر میں، عالم گیر سرمایہ داری کے چیلنج کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کی ہیں اور کچھ ایسے پہلوئوں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو سرمایہ داری کو بطور چیلنج درپیش ہوں گے۔ اگر سرمایہ داری واقعی ایک ’ذمہ دار نظام‘ (Responsible System) بن جاتا ہے تو بہت سے سماجی و معاشی نظاموں کے باہمی طور پر مل جل کر رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ امتحان اس بات میں پوشیدہ ہے کہ نظام سرمایہ داری کس حد تک صرف ایک نظام نہیں بلکہ ایک   ذمہ دار عالم گیر نظام بننے کے لیے تیار ہے؟ بصورت دیگر نظام سرمایہ داری یورپ و امریکا کی بالادستی کے لیے ایک وسیلہ بنا رہے گا اور دوسری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکے گا۔ مزید برآں اس کے نتیجے میں مغربی دنیا کے اندر سے بھی پھوٹ اور چیلنجوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

مستقبل کا معاشی نظام

مسلم دنیا سیاسی و معاشی طور پر کمزور ہوسکتی ہے، لیکن مسلم مفکرین اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ اسلامی معاشی نظام اقدار پر مبنی ہے او راس کے اپنے بنیادی اصول اور ادارے ہیں۔ یہ اپنے نظام کے اندر فطری معیشت کے ایسے اہم عناصر رکھتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہیں، مثلاً انفرادی آزادی،حقوق ملکیت، منڈی کی میکانیت، منافع کا محرک اور دولت پیدا کرنے اور وسائل تقسیم اور فرد اور اجتماع کی بہبود کے لیے قانونی اور اداراتی انتظامات۔

اسلامی نظامِ معیشت منفرد تو ہے مگر خود مختار نہیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تہذیب کاایک جزو ہے اور مسلم علاقوں میں ایک ایسے عالم گیر اور کھلے معاشرے کاخواہش مند ہے، جس کا یہ خود بھی ایک حصہ ہو۔ اس سے ایک ایسا عالمی معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں مختلف ثقافتیں اور نظام بقاے باہمی کے اصول پر موجود ہوں۔ اگر سرمایہ داری کی کچھ اہم اقدار اور اسلامی نظام میں کچھ یکسانیت موجود ہے تو دوسری جانب اسلامی عقائد اور ثقافت کے منفرد اصولوں کی بنا پر بہت سے نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ اسلامی معاشی نظام اپنی ثقافت اور تہذیب کے تناظر میں روبہ عمل آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ماہرینِ معیشت، نظام سرمایہ داری کی کسی قسم کو اپنی دنیا میں برتر قوت نہیں دیکھنا چاہتے۔ سطحی رعایتیں یا مذہب و ثقافت پر مبنی اقدامات بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

عالم گیر میدان کش مکش میں مقابلہ کرنے والوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں کچھ اقدار یکساں نوعیت کی ہیں، جو باہمی تعلق، تعاون اور میل ملاپ کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ دنیا پر حاوی ہونے کا ایک ہی نظامِ سرمایہ داری کا نظریہ، تکثیریت (Pluralism) پر مبنی ایک ایسی دنیا کی نفی ہے، جو کسی کی بھی بالاتری اور برسرپیکار تہذیبوں کے درمیان ٹکرائو سے آزاد ہو۔ میرے جیسے لوگوں کو جو بات اچھی لگتی ہے اور حوصلہ دیتی ہے، وہ ایک ایسی دنیا کاتصو رہے جس میں تمام شرکا کو یہ اعتماد حاصل ہوکہ وہ اپنی اقدار کے تحت زندگی بسر کرتے ہوئے ایک عالم گیر نظام کے باہم شراکت کار ہیں۔ موجود عالم گیر سرمایہ داری کاالمیہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہنے والے لوگوں کااعتماد حاصل کیے بغیر: باہمی اقدار اور رضامندی اور غیر رضامندی کی حدود کے بغیر،ایسی راہوں کو اختیار کیے بغیر جو معاشی ناہمواری کو کم کرسکیں، مفادات اور معاملات میں مطابقت پیدا کرسکیں، اور ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیے بغیر جس کے اپنے ادارے تمام لوگوں کے لیے آزادی، شراکت اور بہبود کو یقینی بناسکیں،بالادستی چاہتا ہے۔   حتیٰ کہ عالم گیر سرمایہ داری کا بڑا علَم بردار، جارج سوروس اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود اور پرامن،خوش حال اور عادلانہ عالم گیر معاشرے کے قیام کے لیے منڈی کی میکانیت،انفرادی آزادی او رجمہوری اقدار ناگزیر ہیں اور مارکیٹ فنڈامنٹلزم (Market Fundamentalism) معاشی ترقی، مالیاتی وسائل، تکنیکی مہارتوں اور سیاسی قوت میں تفاوت صحت مند عالم گیریت کی راہ میں معاون نہیں بلکہ رکاوٹیں ہیں۔۱۲؎

آزادانہ تجارت بہت اچھی بات ہے، لیکن اسے استحصال کے بجاے شائستہ اور مناسب تجارت بننا چاہیے۔ ترقی ایک بہت پسندیدہ ہدف ہے، لیکن یہ ترقی سب کے لیے ہو۔ دولت  خوش حالی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہ خوش حالی تمام لوگوں اور علاقوں کے لیے ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اخلاقی پہلوئوں کی برتری قائم ہو اور استعداد کار کے ساتھ ساتھ عدل کو عالم گیر نظام کابنیادی پتھر بنایا جائے۔

  •  خلاصہ بحث: سرمایہ داری کلی طور پر ذاتی مفاد کے محرک پر مبنی ہے، جس کا اظہار زیادہ سے زیادہ افادہ ، زیادہ سے زیادہ منافع اور زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی صورت میں ہوتا ہے۔ منڈی ہی پوری معیشت کی راہیں متعین کرتی ہے۔ اشتراکیت نے ساری توجہ پیداوار کے طریقوں اوران کو کنٹرول کرنے پر مرکوز کردی تھی۔ اس طرح منڈی پر حاکمانہ معیشت کو برتری حاصل ہوگئی تھی۔ دونوں نظام چند حقیقی عناصر رکھنے کے باوجود یک طرفہ ہونے کی وجہ سے غلط راہ پر چلے اور بعض اوقات بہت روشن ہونے کے باوجود ناکام ہوئے۔

اسلام انسان اور طریق پیداوار دونوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اور ان کو متوازن اور   ہم آہنگ بناتا ہے۔ اصل مرکزِ توجہ انسان کو بناتا ہے اور ان کی خوش حالی اس کا اصل مقصد ہے۔ ذاتی مفاد، نجی ملکیت اور کاروبار اور محرک منافع کا پوری طرح تحفظ کرتا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت کو سب سے بڑا کردار حاصل ہے۔ اسلام منڈی سے بلند ہوکر تمام سطحوں پر اخلاقی اصولوں،اقدار اور احکام پر توجہ کرتا ہے جو کہ انسانی محرک ،اداروںاور عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فرد اور اجتماع کی بھلائی میں اشیا (Public Goods) میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے ذاتی مفاد کو اعتدال پر لانے کی بھی اسے فکر ہے۔

اعلیٰ انسانی مقاصد کی تکمیل کے لیے اسلام ایسے سماجی و معاشی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے افراد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت و تشکیل اور قانونی اداروں کا قیام عمل میں لاتا ہے۔ انفرادی آزادی، انسانی حقوق اور معاشی عمل کے لیے لامحدود مواقع کی فراہمی، اخلاقی اقدار، اخلاقی قوانین اور عدالتی و قانونی دائرۂ کار کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔ ریاست جابرانہ یا آمرانہ انداز اختیار کیے بغیر اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ تمام معاشی سرگرمیاں زندگی کے مقصدِ اعلیٰ کے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ثقافت اور معاشرے کے تناظر میں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

اس حوالے سے پروفیسر ڈننگ جان  کی تین C کے ساتھ۱۳؎ مزید چار C کا اضافہ کرتے ہوئے اور ان کی معنویت کو وسیع تناظر میں پیش کیا جارہا ہے(یعنی حسب ذیل نکات کا پہلا حرف ’C‘ ہے)۔اسلامی نظام کی محرک قوتیں درج ذیل ہیں:

۱- ذمہ داری، لگن (Commitment): ایمان کی بنیاد پر قائم احساس ذمہ داری اور توحید (اللہ کی وحدانیت) پر مبنی تصورِ دنیا (World view) ، انسانیت کی وحدت اور مساوات، اس احساس ذمہ داری میں شرکت، کمیونٹی اور معاشرے کو مضبوط بنانے والی قوت ہے۔

۲-  کردار (Character):  تمام مردوں اور عورتوں میں جو معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی اکائیاں ہیں، ایک متوازن شخصیت کا ارتقا اسلام کے تصورِ تقویٰ، یعنی اخلاقی نظم و ضبط، اللہ اور عوام کے سامنے احتساب کے مضبوط احساس کی بنیاد پر۔

۳- تخلیق (Creativity): علم، ذاتی فائدے، تکنیکی جدت اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خدمت بلکہ دوسرے انسانوں کی خدمت، نیز اچھے کاموں میں شرکت اور زندگی میں اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ۔

۴-مقابلہ، مسابقت (Competetion):  آزادی، مواقع، جدوجہد اور مسلسل کوشش کے ذریعے ان مادی اور انسانی وسائل کو بروے کار لاکر ذاتی، معاشرتی، دنیاوی او راخلاقی مقاصد کے لیے مقابلہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن (البقرہ ۲:۱۴۸) خیر اورنیکی کے کاموں میںصحت مندانہ مسابقت کے اصول پر زور دیتا ہے۔

۵-  تعاون (Cooperation ): مقابلے کی قوتوں کی تقویت اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنے، نقصان پہنچانے والا بننے سے روکنے کے لیے تعاون۔ مقابلہ اور تعاون دونوں مل جل کر اتفاق باہمی، معاشرے اور انسانیت کے لیے اتفاق و اتحاد کا باعث بنتے اور جدت و ترقی کے لامحدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مقابلے و تعاون کے لیے جو ادارہ سب سے بنیادی اہمیت اور انفرادیت کا حامل ہے، وہ خاندان ہے۔ مزید برآں معاشرہ مقامی، قومی، علاقائی اور عالم گیر    سطح کے اداروں کے ایک جال کے ذریعے ہر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بین الانسانی رشتوں، اعلیٰ ترین معاشی و سماجی شراکت کاایک ماڈل پیش کریں۔ رسول کریمؐ نے پوری انسانیت کو عیال اللّٰہ (اللہ کا کنبہ) فرمایا۔

۶- شفقت، ھمدردی (Compassion):اسلامی تناظر میں شفقت و ہمدردی  اور عدل و احسان کا حسین امتزاج ہے۔ عدل کا مطلب تمام معاملات میں انصاف ہے اور اس سے مراد ہر ایک کو اس کا حق دینا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کااحترام اور ان حقوق کو پورا کرنا ہے۔ ’احسان‘ کا درجہ ’عدل‘ سے بھی اوپر ہے۔ اس سے مراد فیاضی، فضیلت، بہت اچھے طریقے سے کسی کام کو سرانجام دینا، رحم، محبت اور قربانی کے جذبے اور عمل میں ترقی ہے۔ یہاں تک حکم ہے کہ جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے اس سے بڑھ کر دوسروں کے لیے پسند کرے۔ یہ برابری کی وہ سطح ہے کہ جس پر باہم معاملات کرنے (reciprocity) سے بھی بڑھ جانا، یعنی دوسروں سے ہم وہ توقع کریں جو وہ ہم سے توقع کرتے ہیں۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص دوسرے کی بہتری کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دے دے۔ اطالوی ماہرمعاشیات ولفریڈو پاریٹو (م: ۱۹۲۳ئ)کا نظریہ انسانی چنائو (choice) کے اونچے درجے کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یوں ’عدل‘ کے ساتھ ’احسان‘ مل کر اسلام کے حقیقی شفقت کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔

۷- بقاے باھمی (Coexistence): اس کا مطلب ہے آزادی، برداشت، باہمی احترام اور مل جل کر رہنے کا عہد۔ یہ صحیح تکثیریت (plurality) ہے جہاں اپنی پسندیدگی کی قربانی دیے بغیر اور صحیح بات کے ساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے اختلاف (diversty) کو قبول کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے ’تکثیریت‘ دیانت داری کے ساتھ ہو اور اس سے ایسا باہمی میل جول وجود میں آتا ہے جو بغیر کسی کو نیچا دکھائے، برتری جتلائے یا آمرانہ طور پر اپنی بات منوائے۔ یہ نمونہ افراد، گروہوں، قوموں، ریاستوں، علاقوں، آبادیوں، اور مذاہب اور نظریات سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس کا فطری نتیجہ مکالمہ ہے نہ کہ زبردستی یا بے جا مداخلت۔ صحیح اختلافات اور تنوع اس     فریم ورک کا مقصد ہیں۔ جس میں بہت سی لچک ہوسکتی ہے اور باہمی طور پر اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر کچھ لو اور دو (Give and Take) ہوسکتا ہے۔ بقاے باہمی کا یہ بھی تصور ہے کہ معاشرے میں ایسے مؤثر طریقے ہوں جو آپس میں مل جل کر رہنے اور اختلافات اور جھگڑوں کو  حل کرنے کے قابل ہوں اور تمام اختلافات کے باوجود باہم مل کر رہنے کا عہد ہو۔ یہی عدل اور آزادی کے ساتھ امن کا ایک ماڈل ہوسکتا ہے۔

یہ تمام حکمت عملیاں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں۔ اسلامی تناظر میں دونوں پالیسیاں بیک وقت اختیار کی جاسکتی ہیں۔ ایک کو دوسرے کا حصہ بناکر اخلاقی اقدار، زری و مالی ترغیب، مادی انعام اور سزا، ایثار، قربانی،ہمدردی، روایت و رسم ، عوامی آرا، معاشرتی ادارے، قانون اور ریاست تمام اپنا لازمی لیکن محدود کردار ادا کرتے ہیں۔ حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین اپنی ذات کے اندر سے نافذ کرنے والے عمل مسلم معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ صرف جامع اور باہم،   زیادہ مربوط طریقے سے ہی ایک عادلانہ و باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

آزاد نظریے کے مغربی نمونے میں مرکزی ہدف آزادی ہے اور اس معاشرت کی ہر شے اسی کے گرد گردش کرتی اور اس سے نکلتی ہے۔ اسلامی نظریے میںآزادی ، عدل، یکجہتی اس کے اہم ترین کردار ہیں۔ ’عدل‘ کے معنی توازن اور مطابقت کے بھی ہیں۔ ان تینوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور ان کے باہم ملنے سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر انسانی ذہانت (human genius) حقیقی طور پر بارآور ہوتی ہے۔ یہ چیز اسلامی نظریے کو منفرد بناتی ہے۔

اسلام دوسرے الہامی مذاہب کی طرح ایک اور بہت ہی اہم پہلو کو اپنے طریق کار (strategy) کی کہکشاں میں شامل کرتا ہے ،اور وہ یہ کہ آخری انعام تو آنے والی زندگی میں ملنے والا ہے۔ مادی دولت مندی، سماجی بھلائی، روحانی مسرت اور ہمیشہ کی سلامتی، کامیابی و فلاح کے ماڈل کے متفرق پہلو ہیں۔روحانی اور مادی پہلو ایک ہی تصورِحیات کے دو رُخ ہیں۔ زندگی ایک نامیاتی کل ہے۔ موت زندگی کااختتام نہیں، بلکہ زندگی کے ایک نئے دور کے نقطۂ آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔ زندگی اور زندگی بعد الموت ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔ دنیا میں انسان کی حیثیت اور ہرمرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ اور کائنات کے ساتھ تعلق بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ بامقصد انسانی منزل کے کلی نظریے میں لادینی (سیکولرازم) اور تقدیس ایک دوسرے میں گم ہوجاتے ہیں۔ ماورا کی حدود انسانی پہنچ میں آ جاتی ہیں۔ یہ چیز نظام کو یکتا (منفرد) بناتی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اسلام کا کسی دوسرے ’ازم، (Ism) کے ساتھ موازنہ کیا جائے اور اس میں سے کسی اور نظام کو تلاش کیا جائے، تاہم یہ ممکن ہے کہ مختلف ازم اور اسلام اکٹھے رہ سکتے ہیں اور اپنی حیثیت برقرار  رکھ سکتے ہیں۔ آپس میں مقابلہ و تعاون کرسکتے ہیں اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے کام کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

۱-            ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ ۲۰۰۰‘ اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ص ۱۵۶-۱۶۰۔

۲-            ابراہام ادووچ، The Islamic Middle East 700-1900، ڈارون پریس، ۱۹۸۱ئ، تھامس آرنلڈ، اور الفریڈ گولیوم The Legacy of Islam، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۳۱ئ، ص ۱۰۰-۱۰۶۔

۳-            محمدعمر چھاپرا، Islam and the Economic Challenge، دی اسلامک فائونڈیشن،لسٹر، ۱۹۹۲ئ۔ محمدعمرچھاپرا: Future of Economics ، ۲۰۰۰ئ۔ محمدنجات اللہ صدیقی، Muslim Economic Thinking، دی اسلامک فائونڈیشن ، لسٹر، ۱۹۸۱ئ۔ پروفیسر خورشیداحمد، Islamic Approach to Development،انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد، ۱۹۹۴ئ۔

۴-            البقرہ ۲: ۲۵۶، ۲:۳۸،۳۹، مریم ۱۹:۱۳، المائدہ ۵:۴۸۔

۵-            ابوحامد الغزالی، المصطفٰی، بحوالہ محمد عمر چھاپرا، Future of Economics، ص۱۱۸۔

۶-            محمد عمر چھاپرا، اسلامک اکنامک تھاٹ اینڈ دی نیوگلوبل اکانومی، Islmic Economic Studies، ستمبر ۲۰۰۱ئ، ص ۸۔

۷-            لسٹر تھرو، The Future of Capitalism، نکولس بریلی، لندن، ۱۹۸۶ئ، ص ۳۰۔

۸-            محمد عمر چھاپرا، اسلامک اکنامک تھاٹ اینڈ دی نیوگلوبل اکانومی، ، ص ۷۔

۹-            آغا خان فائونڈیشن، Philanthrophy in Pakistan، ۱۹۸۸ئ، ص ۴۶۔

۱۰-         محمدعمر چھاپرا، Future of Economics،ص۱۴۷، ۱۴۸۔

۱۱-         پال کینیڈی، The Rise and Fall of Great Power،  ۱۹۸۷ئ، ص ۶۸۹۔

۱۲-         جارج سوروس، The Crisis of Global Capitalism، ناشر: لٹل برائون کمپنی، لندن، ۱۹۹۸ئ۔

۱۳-         ڈننگ جان: The Moral Imperatives of Global Capitalism، پہلا باب۔

 

عالمی سرمایہ دارانہ نظام(گلوبل کیپٹلزم ) اپنی نئی شکل و شباہت کے باوجود‘ عمومی طور پر  ’عالم گیریت‘(گلوبلائزیشن) کی طرح کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ نہ تو اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی نظام سرمایہ داری بہت تیزی سے آگے بڑھا ہے اور نہ  انسانی وسائل، کمپیوٹر (Micro-Chip) کے بڑھتے ہوئے کردار کو کسی صورت میں کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ چیزیں اور جغرافیائی حدود بہت اہم سہی‘ لیکن اس کے ساتھ کچھ دوسرے بنیادی مسائل بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

مجھے عالمی سرمایہ داری کے ہاتھوں انسانیت کو درپیش عالمی چیلنج کے اخلاقی، انسانی اور برابری کی بنیاد پر حقوق کو درپیش خطرات اور صدمات کے حوالے سے برابر تشویش ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں افراد، اقوام اور معاشروں کے حوالے سے بھی یہ مسائل زیادہ گہرے اور نہایت پیچیدہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’عالم گیریت‘ مختلف جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر رکھنے کے باوجود کس طرح اس چیلنج کا جواب دے رہی ہے؟ یہ عالم گیریت کیا انسانیت کو ایک غالب معاشی نظام، یعنی عالم گیر نظام سرمایہ داری کی طرف لے کر جارہی ہے، یا تکثیریت پر مبنی دنیا میں مختلف نظاموں کے پھلنے پھولنے کے ساتھ، مستقبل میں انسانیت زیادہ بہتر حالت میں ہوگی؟

گذشتہ چھے صدیوں سے نظام سرمایہ داری ایک زبردست قوت کے طور پر موجود ہے۔ یہ نظام تاجرانہ سرمایہ داری سے صنعتی سرمایہ داری، مالیاتی سرمایہ داری، اخلاقی سرمایہ داری اور ریاستی سرمایہ داری سے ہوتا ہوا، اب عالم گیر سرمایہ داری تک آ پہنچا ہے۔ اس نظریے کا تنقیدی جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ جس مقام پر آج انسانیت کھڑی ہے، اسے بھلا کس طرح تاریخ کا اختتام (End of History) کہا جاسکتا ہے، کہ جہاں پوری نوع انسانی کے پاس عالم گیر معاشی نظام کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے؟

اِ ن معروضات میں نظام سرمایہ داری کے اصولوں کی تشریح غیر روایتی انداز سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطۂ نظر سے عالم گیر نظام سرمایہ داری کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی عالم گیر معیشت اور عالم گیر معاشرت کا نقشہ بھی پیش کیا گیا ہے، جہاں مختلف نظام کچھ مشترک اقدار، ترجیحات، مقاصد و اہداف، تعاون کے میدان اور اسی طرح کے اہم میدانوں میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوئے اکٹھے موجود رہیں، اور مختلف طریقے اختیار کرتے ہوئے مسلسل ابھرتے ہوئے نئے نئے درپیش مسائل اور چیلنجوں کا جواب بھی پیش کرسکیں۔ اسے ایک اختلافی (dissent)آواز بھی قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں بہرحال بہتری کا کچھ پہلو بھی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام : بنیادی تصورات اور ارتقا

سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا معاشی نظام ہے، جس کی بنیاد نجی ملکیت اور نجی کاروبار پر ہے۔ اس میں معاشی زندگی کاایک بڑا حصہ خصوصاً اشیاے سرمایہ کی ملکیت اور سرمایہ کاری نجی ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ افراد اور کاروباری ادارے، منڈی کی میکانیت (خرید و فروخت اور لین دین) کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں برسرپیکار ہوتے ہیں۔ نظام سرمایہ داری کی بنیاد ان فطری اقدار اور اصولوں پر رکھی گئی ہے، جن کا خاکہ نظام سرمایہ داری سے بہت پہلے انفرادی طور پر تیار اور مرتب کیا گیا، اور اس کی سمت کا تعین کرنے کے لیے یورپ میں نشات ثانیہ کے بعد کے عرصے میں ایک مضبوط عقلی، سیاسی، ثقافتی، تکنیکی اور معاشی ترقی کی بنیاد پر ایک سمت دی گئی (یہ عرصہ چودھویں صدی سے انیسویں صدی کے درمیان کا ہے)۔

ایک معاشی نظام کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں:

۱- ذاتی مفاد، ۲- نجی ملکیت اور ذاتی کاروبار، ۳-نفع کے حصول کا داعیہ، ۴-منڈی کی میکانیت، ۵- آزاد کاروبار کے اداراتی تحفظ کو یقینی بنانے والا معاشرہ، ۶-کاروباری حقوق اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، ۷-لین دین میں زر کا کردار ، ۸- اچھی حکومت اور سیاسی استحکام براے داخلی اور خارجی امن و سلامتی ۔

انسان کی معاشی زندگی میں اشیا کے باہم تبادلے کے نظام (Barter System)کے بعد اُبھرنے والے معاشی نظاموں میں درج بالا اصول انفرادی حیثیت میں کسی نہ کسی طور موجود رہے ہیں۔ باوجودیکہ ان کی شکل و صورت اور سمت مختلف معاشروں اور مختلف ادوار میں مذہبی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی پس منظر سے مخصوص رہی ہے۔ جاگیرداری نظام کے زوال، نشات ثانیہ کے فروغ، یورپ کے ابھرنے اور بڑے یورپی ممالک کی ٹکنالوجی اور سیاسی حدود میں وسعت نے اس پس منظر کو ترتیب دیا، جس میں جدید نظام سرمایہ داری ابھر کر سامنے آیا۔ سومبارٹ، میکس ویبر، رابرٹ ٹانی جیسے اسکالرز کی طرف سے پیش کیے گئے اخلاقی اصولوں اور کچھ ثقافتی رویوں کے علاوہ کانٹ، والٹیر، ہیوم، روسو، ہابز، بینتھم، ایڈم سمتھ اور دوسرے دانش وروں کی طرف سے پیش کی گئی نئی فکر نے ایک نئی معاشرتی اخلاقیات کو جنم دیا، جس نے ایک نئے نظام کی بنا ڈالی۔ اس کانام   اس کے معترضین کے نزدیک ’مسیحی سرمایہ داری نظام‘ ہے۔ نئے نظام یعنی ’کیپٹل ازم‘ کی اہم خصوصیات میں نفع اندوزی، پیدایش دولت اور غیرمنقسم قوت اور اثر و رسوخ کا حصول شامل ہیں۔

اس نئے نظام کا یہ کردار اس کی اُوپر بیان کردہ خصوصیات ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کے ایک گروہ کی طرف سے تشکیل دیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف تجارت اور سامراجی استحصال کے ذریعے دولت حاصل کرنے کے قابل تھے بلکہ معاشی وسائل کی پیدایش میں جدّت کے لیے نئی ٹکنالوجی کے استعمال پر حاوی تھے۔ اس نے صنعتی انقلاب، دیہی معاشرت کے شہری زندگی میں منتقل ہونے (urbanisation) اور بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تجارت کی راہ ہموار کی۔ اس طرح طاقت کا توازن اس نئے گروہ کی طرف منتقل ہوگیا۔ معاشی اور سیاسی تعلقات کے تمام رشتے، سرمایے اور سرمایہ کاروں کے اس اہم کردار کی روشنی میں تشکیل پانے لگے۔ معاشی رویوں کا اظہار مقابلہ بازی سے ہونے لگا اور فیصلہ سازی کا مؤثر ذریعہ منڈی کے لین دین اور کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ معاشرے کی تقسیم دولت مند اور محنت کش طبقوں کی صورت میں فروغ پانے لگی۔

نیا نظام جن عقلی بنیادوں پر استوار ہوا وہ یہ ہیں کہ: ۱- فرد معیشت کا بنیادی ستون بن گیا۔ ۲- فرد کے ذاتی مفاد کا اظہار مالی ادایگی، زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تسکین، او ر نفع اندوزی کی صورت میں نظام کی حقیقی بنیاد بن گیا۔

یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نتیجے میں فرد کو بہت کچھ حاصل ہوگا۔ معاشیات میں ہر جگہ ذرائع کی بہترین حدبندی کی جاسکے گی، جس کے نتیجے میں کارکردگی بہتر ہوگی اور معاشی دوڑ میں حصہ لینے والے بہترین نفع (reward) حاصل کر سکیں گے۔ اس طرح ’ذاتی مفاد‘ کام کروانے کی واحد نہیں تو غالب قوت بن گیا۔ اسی طرح دولت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ سب سے بڑی خوبی اور زندگی کا سب سے بڑا تحفہ قرار پایا۔ خواہشات اور ان کو پورا کرنے کا جذبہ معاشرے کی بنیادی قدر قرار پاگیا۔ ریاست کا کردار صرف ایسے حالات اور ماحول کو پیدا کرنے تک محدود کردیا گیا جس میں یہ نظام اچھے طریقے سے چل سکے۔ عدم مداخلت کو ریاست کے اندر اور عالم گیر سطح پر ایک رہنمااصول کے طور پر اختیار کیا گیا۔ اس نظام کے نتیجے میںصنعتی و کاروباری سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد وجود میں آگیا۔ اس مضبوط سیاسی و معاشی اتحاد نے نئے سرمایہ دارانہ نظام کو پوری طرح رُوبہ عمل آنے کے قابل کیا اور اسے غیر معمولی ترقی دینے اور عالم گیر سطح پر پھیلنے کا موقع دیا۔ نظام سرمایہ داری اور سامراجیت ایک دوسرے کے ہم نوا بن کر ایک دوسرے کو بھرپور امداد اور قوت فراہم کرنے لگے۔

ثقافتی، عملی، عقلی اور سماجی عوامل کی اثر اندازی کے نتیجے میں لادینی اور سیکولر بنیادوں پر معاشروں کی تشکیل ہوئی۔ مذہب اور روایتی اخلاقیات کے بندھن کمزور پڑ گئے۔ دولت پرستی نے ایک نئے طرز زندگی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں دولت کی نمایش اور مفاد پرستی بڑھ گئی۔ مزید برآں ذاتی مفاد کی چکا چوند اور بے لگام انفرادیت پسندی ہی سماجی نظام کے ستون بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو باہمی تصادم، عدم مساوات اور نا انصافی پر مبنی تھا۔ اس نئی آزاد روی (لبرلائزیشن) اور موقع پرستی نے تخلیقی صلاحیتوں، جدّت طرازی ، مہم جوئی اور انتظامی صلاحیتوں کو فروغ دیا ۔ جس کے نتیجے میں زبردست معاشی ترقی اور مادی دولت وجود میں آئی،  تاہم یہ دولت صرف مراعات یافتہ طبقے تک ہی محدود رہی۔

مفادات کے اس تصادم، آمدنیوں اور دولت کی تقسیم میں گہری ناہمواری اور دولت مندی کی برق رفتار اُڑان نے معاشرے کو طبقات میں تقسیم کردیا، اور ایک ایسا منظر پیدا کیا، جسے ماہرین سماجیات سوشل ڈارونزم (Social Darwinism) کا نام دیتے ہیں، یعنی ایسا نظام جس میں:  ’’مقاصد کے حصول کے لیے ہر ذریعہ اختیار کرنا جائز ہے‘‘۔۱؎ جیسے جدید اصول نے اس صورت حال کو مزید گمبھیر بنادیا۔ یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں ترقی کے ثمرات معاشرے کے  تمام افراد کے مابین منصفانہ بنیادوں پر تقسیم نہ تھے۔ گویا کہ عالم گیر سطح پر یہ نظام سامراجی استحصال کا علَم بردار بن گیا۔

چودھویں اور اٹھارھویں صدی کے درمیان ہونے والی مختلف النوع ترقی کو سرمایہ داری کا تشکیلی (formative) دور کہا جاتا ہے، تاہم اس نظام کو حقیقی فروغ اٹھارھویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے اختتام کے دوران حاصل ہوا۔ بیسویں صدی میں اس نظام کی مزید ترقی کے ساتھ ساتھ سوشلزم اور اس کے دیگر حریف بڑے بڑے چیلنجوں کی صورت میں ابھرے اور پھر بیسویں صدی ہی کے اختتام تک بکھر گئے۔

دوسری جنگ عظیم (۱۹۳۹ئ-۱۹۴۵ئ) کے بعد کا دور اس نظام کی بھرپور ترقی کا دور ہے۔ خصوصاً ۱۹۸۹ء میں دیوار برلن کا ٹوٹنا کمیونزم کے خاتمے کا علامتی اعلان تھا۔ اس کے بعد سابقہ کمیونسٹ ریاستوں اور کسی تیسرے نظام کے لیے کوشاں ممالک میں نظام سرمایہ داری کا نفوذ اس نظام کی بالادستی اور عروج کا دور ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر دنیا بھر میں نظام سرمایہ داری ایک غالب معاشی نظام کے طور پر موجود ہے۔ باوجویکہ ترقی پذیر دنیا کا بہت بڑا حصہ غربت، بھوک، بیماری اور محرومی کی گرفت میں ہے، خاص طور پر افریقا، لا طینی امریکا اور جنوبی ایشیا۔ مشرقی ایشیا کی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والی تباہی اور دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی مالیاتی ہلچل نے اس نظام کے تحفظ اور استحکام کو مضبوطی عطا کر دی ہے ۔

روس اور مشرقی یورپ کے کچھ ممالک میں معاشی نج کاری اور معاشی آزاد روی (لبرلائزیشن) کے تجربات نے اجنبی زمین پر نظام سرمایہ داری کے زوال کو روز روشن کی طرح واضح کیا ہے۔ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی دو جہتیں ہیں: ۱- یہ غیر مغربی ممالک کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ۲- یہ نظام سرمایہ داری کے لیے بذات خود ایک چیلنج ہے کہ وہ نظام سرمایہ داری کے اندر سے اٹھنے والے لاینحل مسائل کو کیسے حل کرے؟ صرف ایک روشنی کی کرن یہ ہے کہ ہر چیلنج دراصل ایک اور موقع ہوتا ہے۔

عالم گیر نظام سرمایہ داری: کیا پایا، کیا کہویا

تین صدیوں پر محیط سرمایہ دارانہ تجربے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ: معاشی ترقی، پیداواریت، تخلیق اور جدّت طرازی کی بے مثال کامیابیوں کے ساتھ ساتھ یہ ناقابلِ معافی حادثات اور سماجی و انسانی حوالوں سے نامساوات کی ملی جلی تصویر پیش کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی اور سرمایہ دارانہ نظام کے ناقد (بشمول کارل مارکس) اس نظام کے پیدایش دولت کے زبردست کردار پر متفق ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جو معاشی ترقی اور دولت مندی نظامِ سرمایہ داری کی قیادت میں حاصل کی گئی ہے وہ نظام سرمایہ داری سے پہلے کی تمام معاشی سرگرمی سے زیادہ ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں نظام سرمایہ داری کو چیلنج کرنے والا متبادل اشتراکی نظام، دولت کی پیدایش کے حوالے سے نظام سرمایہ داری سے بہت پیچھے رہا ہے اور اپنی خامیوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا،جب کہ اس کے مقابلے میں نظام سرمایہ داری زمانے کے نشیب و فراز اور انقلابات کے باوجود محفوظ نظر آتا ہے اور تخلیق، جدت طرازی اور صنعت کاری و ہنر مندی کو فروغ دینے کاباعث دکھائی دیتا ہے۔ اگر استعدادِ کار کی تعریف طبعی اور مادی نقطۂ نظر سے کی جائے تو کہاجاسکتا ہے کہ جیسے تیسے اس نظام نے استعدادِ کار کا ایک معیار قائم رکھا ہے۔ فرد کے محوری کردار اور آزادی، جدوجہد، موقع ملنے پر فوری عمل اور کامیابی پر انعام نے اس نظام کے اعتبار کو دوام بخشا ہے اور جس نظام نے اسے چیلنج کیا اس پر اپنی تقابلی برتری کو ثابت کیا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کے باجود زیادہ مستعد ثابت ہوئی ہے۔

یہ نظام بنیادی طور پر کچھ مفروضات، اقدار اور اصولوں پر قائم کیا گیا تھا، جو بُری بھلی انسانی فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں اور معیشت کی فطری حالت سے قریب تر ہیں۔ اس لیے سرمایہ داری نے، باوجود بہت سی ناکامیوں کے، اپنی قوت کو ظاہر کیا اور قائم رکھا ہے، اور اشتراکیت (کنٹرولڈ اکانومی) پر اپنی برتری اور قابل عمل ہونے کو ظاہر کیا ہے۔ نظام سرمایہ داری نے اپنے فعال اور لچک دار نظام کے ذریعے صورت حال کا مقابلہ کیا۔ جس میں پیش آمدہ حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور ٹکنالوجی کے مؤثر استعمال سے اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے تبدیلیوں میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں جغرافیائی حدود کو پار کرنے اور عالم گیر حیثیت حاصل کرنے کی استعداد بھی موجود ہے۔ نظام سرمایہ داری او رجمہوریت میں تعلق کے بارے میں بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ امر واقع ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں ’مثبت آزادی‘  کے مقابلے میں ’منفی آزادی‘ اور اس کے ذمہ داروں میں بہت زیادہ امیر لوگوں کی موجودگی کی وجہ، دولت کا ارتکاز ہے۔ بحیثیت مجموعی کہا جاسکتا ہے کہ سرمایہ داری، جمہوری عمل اور آزادی میں بہت زیادہ ہم آہنگی ہے۔  یہ پس منظر نظامِ سرمایہ داری کامثبت پہلو پیش کرتا ہے، تاہم اس کا دوسرا پہلو بہت ناگوار اور اذیت ناک ہے۔

  •  بے لگام انفرادیت اور اجتماعیت میں تصادم: فرد کی اہمیت یا انفرادیت پسندی (Individualism) کا رواج ایک بہت بڑی انسانی کامیابی قرار دی گئی تھی، لیکن محض فرد کی اہمیت کسی صحت مند اور ہم آہنگ معاشرے کو یقینی نہیں بناسکتی۔ معاشرہ اور ریاست، انسانی زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ فرد کی اہمیت کسی خلا میںممکن نہیں ہے۔ اس کا قیام دوسرے انسانوں اور اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ ایک صحت مند،مبنی برانصاف اور ہمدرد معاشرہ صرف اسی صورت میں وجود میں آسکتا ہے کہ جب فرد اور معاشرے کے درمیان ایک مناسب رشتہ قائم ہو۔

انفرادیت پسندی بھی انسان کو ’کلیت پسندانہ‘ (Totalitarianism)، ا شتمالیت اور    بے لگام ریاستی طاقت کے سے انداز میں پاگل پن میں مبتلا کرسکتی ہے۔ فرد کو ملنے والے فوائد اور سماجی بھلائی دونوں ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہر معاشرے میں افراد کے مفادات کاٹکرائو ہوتا ہے۔ لیکن ہر معاشرہ اس طرح کے تعلقاتِ کار کو فروغ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ اختلافات اس طرح کم ہوتے ہیں کہ فرد کی بھلائی اور سماجی بھلائی کے مقاصد بیک وقت حاصل کیے جاسکیں۔ فرد کی بھلائی اور عوامی بھلائی دونوں کو ان کا مقام دیا جائے تو ایک پروقار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو اہمیت نہ دینے سے معاشرتی اور معاشی اضطراب پیداہوتا ہے۔اگر ’سوشلزم‘ کی غلطی اجتماعیت کی انتہا تھی تو اس کے مقابلے میں سرمایہ داری کی ناکامی کو اس کی بے لگام انفرادیت میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ باوجود ان تمام سنجیدہ کوششوں کے، جو انفرادی اور سماجی بھلائی، ذاتی اور معاشرتی مقاصد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کی گئیں، ان کے درمیان تصادم تقریباً ہر سطح پر قائم رہا۔

  •  مقابلے اور منڈی کی معیشت کی بنیاد: معیشت کے تمام عوامل بشمول صنعت کاروں اور صارفین، فروخت کنندگان اور خریداروں، آجروں اور اجیروں، منافع کمانے والوں اور اجرت پر کام کرنے والوں، سب کے درمیان مکمل معلومات کی موجودگی اور ان کی حیثیت اور  قوتِ سوداکاری کی برابری کے مفروضات پر رکھی گئی تھی۔ معاشی انفرادیت کا جو تصور ایڈم سمتھ اور ریکارڈ و کی تحریروں میں پیش کیا گیا ہے اور جو منڈی کی معیشت کے مفروضات میں داخل ہے، وہ صرف معاشیات کی نصابی کتب اور سرمایہ داری کے ریاضیاتی طریقوں میں نظر آتا ہے۔ حقیقی دنیا میں اس کی غیر موجودگی کااظہار بڑے پیمانے پر عدم مساوات کی صورت میں ہوتا ہے، اور بہت سے پہلو منڈی کی ان قوتوں کو کنٹرول کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں اثرانداز میں ہوتے ہیں۔

بڑی مچھلیاں نہ صرف تالاب کو کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ بے بس چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔ اشیا پر مشتمل منڈی کی اجارہ داریاں، عاملین پیدایش کے ذرائع پر مشتمل منڈی کی اجارہ داریاں اور چند بڑی قوموں کی معاشی استعماری اجارہ دارانہ قوتیں منڈیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ منڈی کی غیرمتوازن کارکردگی اور خرابیاں، داخلی اور عالم گیر سطح پر معیشت کے لیے تباہی کاباعث ہیں ۔ ان کی وجہ سے طبقاتی کش مکش، علاقائی دشمنیوں، قومی لڑائیوں اور عالم گیر سطح پرتصادم کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہ نظام مراعات یافتہ طبقوں اور افراد کی بقا اور طبقاتی تقسیم پر منتج ہوا ہے۔ طاقت اور دولت مندی میں عدم مساوات اس نظام کی بنیاد ہے، جو خرابی، استحصال اور عدم مساوات کو فروغ دینے کا باعث ہے۔

  •  وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم:یہ تشویش ناک صورت حال ہمیں معیشت اور معاشرے میں شدید نوعیت کی ناہمواری کا منظر دکھاتی ہے۔ یہ صورتِ حال انصاف اور برابری کے حصول میں ناکامی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ معاشرے کے مختلف افراد، مختلف اقوام اور علاقوں میں دولت، آمدنی اور وسائل کی تقسیم بڑے پیمانے پر غیرمساویانہ ہے۔ یہ نظریہ کہ جب پانی اونچا ہوتا ہے تو ساری کشتیاں بلند ہوجاتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے اس رُوپ میں سچ ثابت نہیں ہوا، بلکہ  اس میں بہت سی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور ان کو بچانے کاکوئی نظام نہیں ہے۔ یہ نظریہ کہ   ’’فوائد آہستہ آہستہ نیچے تک پہنچتے ہیں‘‘ غیر مؤثر ثابت ہوچکا ہے۔ فراوانی کے درمیان غربت، خوش حالی کے ساتھ بھوک، شاہ خرچوں کے ساتھ محرومی، نظام سرمایہ داری کے رستے ہوئے ناسور ہیں۔

معاشی اعتبار سے ترقی پذیر دنیا کے زیادہ تر ممالک: معاشی ترقی، بہبود اور فی کس آمدنی کے حوالے سے کم و بیش اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں آج کے سرمایہ دارانہ ممالک اٹھارھویں صدی کے وسط میں تھے۔ نظام سرمایہ داری کی ترقی کے ۳۰۰ برسو ںمیں اکیسویںصدی کے آغاز میں صورت حال تبدیل ہوچکی ہے جس کے مطابق دنیا کی ۲۰ فی صد آبادی والے امیر ترین ممالک دنیا کی ’خام داخلی پیداوار‘ (GDP) کے ۸۷ فی صد کے مالک ہیں،جب کہ دنیا کی بقیہ ۸۰ فی صد آبادی صرف ۱۳ فی صد خام داخلی پیداوار کی مالک ہے۔ یہ تفاوت نہ صرف عالم گیر سطح پر امیر اور غریب ممالک اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بڑھ رہا ہے بلکہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے کے امیر اور غریب طبقات کے درمیان بھی روز افزوں ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ طرز پر ترقی کا ناگزیر نتیجہ ہے اور اس صورت حال کا تدارک کرنے کے لیے نئی منڈیوں کے ساتھ ساتھ معاشی دائرے سے باہر بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  •  معاشی تفاوت اور خواھشات کی ترجیح: معاشی ترقی کاحصول ایک بڑی مثبت کامیابی ہے، تاہم معاشرے کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے حصول کے حوالے سے قابلِ ذکر تحفظات موجود ہیں۔ انسانی ضروریات کی ایک معروضی سمت ہوتی ہے۔ لیکن نظام سرمایہ داری میں ان انسانی ضروریات کا احساس کرنا کوئی زیادہ اہم نہیں ہے۔ جو چیز اہم ہے وہ خواہشات ہیں، یعنی وہ ضروریات جن کے پیچھے قوتِ خرید موجود ہو۔ اس سے ایک بڑی خرابی جنم لیتی ہے۔ اگرچہ قوتِ خرید کاانحصار معاشرے میں آمدنیوں اور دولت کی تقسیم پر ہے۔ لیکن جب معیشت میں بہت زیادہ عدم مساوات ہو، تو معاشرے میں اشیا کی پیدایش اور صرف کی ترجیحات لوگوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتیں۔

یہ نظام سرمایہ داری کی بنیادی خرابی ہے۔ ’مارکیٹ‘ حقیقی انسانی ضروریات کے بجاے موضوعی اور نفسانی خواہشات کے مطابق کام کرتی ہے۔ آمدنیوں اور دولت میں کسی حد تک تو تفاوت قابل قبول ہے اور کچھ حدود کے اندر تو یہ ناگزیر بھی ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو مؤثر ترغیب اور کارکردگی کی بنیاد پر اجر اور نفع حاصل ہو۔ اس معاملے میں جان لینا چاہیے کہ بہت زیادہ معاشی تفاوت اور ناہمواری معاشرے کے پورے ڈھانچے اور اس کی پیداواری اور صرفی ترجیحات کو بدل کر رکھ دے گی، جس کا نتیجہ ایک غیر متوازن اور استحصالی نظام کی صورت میں نکلے گا۔

معیشت اور منڈی کو ایک ہی چیز سمجھ لینے سے سرمایہ دارانہ نظام کی آہستہ آہستہ قلب ِماہیت ہوئی اور یہ سماجی بھلائی اور اخلاقی ذمہ داری سے بے تعلق ہوگیا ہے۔ اس کی اصل توجہ ضروریات سے خواہشات، انسان سے زر، معاشرے سے معیشت کی طرف منتقل ہوئی ہے۔

زر اور مالیات کے اس بدلتے ہوئے کردار اور معیشت میں حقیقی اثاثوں کی پیدایش اور زر کے لین دین سے بڑھتی ہوئی عدم وابستگی نے بہت شدید خرابیاں اور عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ زر کا اصل کردار مالیاتی ثالثی اور قدر کی پیمایش تھا۔ معاشی سرگرمیوں کا اصل ہدف انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے اشیا اور خدماتی وسائل کو پیدا کرنا تھا۔ معاشی علامتی زبان میں CMC (Commodity Money Commodity) ،یعنی ’اشیا۔ زر۔ اشیا ‘کا مطلب زر کے ثالثی کردار پر زور دینا تھا، جب کہ حقیقی ہدف معیشت کا طبیعی پھیلائو تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت یہ تعلق اُلٹ کر کچھ یوں تبدیل ہواکہ یہMCMہوگیا، یعنی زر۔ اشیا۔ زر، جب کہ حقیقی معیشت اس نازک  موڑ پر آگئی کہ معیشت کاحقیقی ہدف اشیا و خدمات کی زیادہ سے زیادہ پیداوار، عوام کی کثیر الجہتی ضروریات کو پورا کرنا اور معاشرے کی فلاح و بہبود اور خوش حالی نہ رہا، بلکہ سرمایہ داروں کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع اور سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ اضافہ ہی ہدف بن گیا۔ طبیعی معیشت کا فروغ اور اس کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی مقدار میں اضافہ مقصد کے حصول کا ذریعہ بن گئے۔ اس طرح موجودہ مالیاتی سرمایہ داری نظام ،اثاثوں کی تخلیق کے کردار سے بہت دُور چلا گیا ہے۔

اس طرح ’مالیاتی آلات‘ نے حقیقی مالیاتی اقدامات کارخ ’تخمینی مالیات‘ (Speculative Finance) کے ذریعے منافع کمانے کے ایک ایسے عمل کی طرف موڑ دیا ہے، جس کا اثاثوں کی تخلیق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتیجے میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی اشیا و خدمات کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس مالیات کے کھیل کے نتیجے میں کروڑوں اور اربوں میں کھیلنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ داخلی سطح پر اور عالم گیر سطح پر معاشرے میں حقیقی اثاثوں اور بنیادی ضروریات کی چیزوں کی مقدار میں اضافے کی رفتار، مالیاتی اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔

انسان کی ذہنی قوت اور انسانی سرمایے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھا جانا چاہیے اور ان کی استعداد کے مطابق معاوضہ لازماً دیا جانا چاہیے۔ تاہم حقیقی معیشت کے محرکات کچھ ایسے ہیں کہ  عدم مساوات اور عدم استحکام کے ساتھ ساتھ معیشت غبارے کی طرح پھولتی جاتی ہے، جس کی وجہ سے معیشت میں ایک ایسی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو طبیعی معیشت کو متاثر کرتی ہے اور امیروںکی ایک ایسی فوج پیدا کرتی ہے جس کا معاشرے کی فلاح و بہبود میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ  وہ فوائد جو اس کے نتیجے میں ان کو حاصل ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا کے امیر ترین ایک فی صد لوگ دنیا کی کل دولت کے ۵۹فی صد کے مالک ہیں۔ بالفاظ دیگر ۵کروڑ امیر لوگوں کی دولت ۲ ارب ۷۰کروڑ لوگوں کی دولت کے مساوی ہے اور اس میں امرا کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔۲؎ ۱۹۶۰ء میں ۲۰فی صد امیر ترین اور     ۲۰ فی صد غریب ترین لوگوں کے درمیان دولت کی تقسیم کاتناسب ۳۰:۱ کا تھا۔ ۱۹۹۷ء میں یہ تناسب بڑھ کر ۷۴:۱ ہوگیا، اور یہ کیفیت اس دنیا میں ہے جہاں ڈھائی ارب انسان دو ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کرتے ہیں، اور پھر ایک ارب ۲۰ کروڑ لوگ روزانہ ایک ڈالر سے بھی کم پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ دنیا کی آبادی کے ۴۰ فی صد کو صاف پانی اور دوسری نہایت بنیادی سہولیاتِ زندگی تک نصیب نہیں ہیں۔ جہاں ہرروز ۱۰ہزار بچے پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ المیہ لوگوں کی ناآسودگی کی وجہ سے ہے۔

 دنیا میں نظر آنے والی اس مضحکہ خیز ترقی نے دنیا کی معیشت میں خرچ (consumption) اور پیدایش دولت کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ عمومی سماجی زندگی: خوف اور اذیت کا عنوان بن کررہ گئی ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاے تعیش کی بھرمار ہے، جب کہ بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا کوئی تسلی بخش انتظام نہیں ہے۔ اشتہار بازی کے ذریعے مصنوعی طلب پیدا کی جاتی ہے۔ جس چیز کو صحیح معلومات کی فراہمی کا بہت اچھا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، وہ خواہشات کے ابھارنے اور منافع خوری کاذریعہ بن گئی۔ مارکیٹ میں چھا جانے والی طاقت ور قوت کے سامنے اخلاقی اور ثقافتی اقدار غیرمؤثر اور غیرمتعلق ہوگئی ہیں۔

  • اسلحے کی صنعت کا فروغ اور بنیادی سھولیات کا فقدان: فوجی سازو سامان کی تیاری ایک اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ وہ ممالک جہاں لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتے، جہاں صاف پانی، صحت کی بنیادی سہولتیں، کم از کم تعلیم او رمناسب سفری سہولتوں کا فقدان ہے اور لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، وہ مفلوک الحال اور بدقسمت ممالک اربوں ڈالر ترقی یافتہ ممالک سے اسلحے کی خریداری پر خرچ کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک دنیا میں ۸۵ فی صد اسلحے کی فروخت کے اجارہ دار ہیں اور اصل فوائد یہی طاقت ور فوجی صنعتی طاقتیں حاصل کرتی ہیں۔

’علمی ملکیت کے حقوق‘ (Intellectual Rights) کے نام پر ضروری ادویات بھی مناسب قیمتوں پر ان غریب ممالک کو مہیا نہیں کی جاسکتیں، جہاں لاکھوں لوگ ان سہولتوں کی   عدم فراہمی کے سبب سسک سسک کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ یہ تمام ہلاکت خیز باتیں سرمایہ داری کے تحت ہونے والی نام نہاد ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔

  •  بے روزگاری میں اضافہ:مالیاتی پھیلائو اور سرمایہ کاری کے سیلاب کے باوجود، یہ معیشتیں روزگار کے کافی مواقع پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ عالم گیر سطح پربے روزگاری ایک مستقل اور ناقابل قبول حد تک پہنچ چکی ہے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ یہ پہلو بھی بہت بھیانک حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مغربی یورپ میں ۱۹۷۳ء سے ۱۹۹۴ء تک کوئی نئی آسامی پیدا نہیں ہوئی۔ انسانیت کے جسم پر غربت، بے روزگاری اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی کمی رستا ہوا ناسور ہے۔ نج کاری کے دبائو کی وجہ سے بیسویں صدی کی ایک بہت بڑی کامیابی، یعنی ’فلاحی ریاستوں‘ تک میں بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ پیداواری عمل میں مشغول آبادی کے مختلف طبقات اور وہ جن کا انحصار معاشرے پر ہے، ان کے درمیان بھی پیداواری شعبے کی خرابیوں کی وجہ سے تعلق خراب ہوا ہے۔ جدید ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ ساتھ، ترقی پذیر دنیا میں عدم مساوات ایک ایسا چیلنج ہے جس کی طرف آج تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔

مالیاتی عدم استحکام سرمایہ دارانہ دنیا میں جاری و ساری ہے۔ جنوبی افریقہ اور مشرقی ایشیا، گذشتہ تین عشروں میں اس سے بری طرح متاثر ہوئے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی عالم گیر مالیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نہیں بچ سکے۔ دنیا کے تمام حصوں میں قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ناقابلِ اصلاح حد تک دوسروں پر انحصار اور عدم استحکام بڑی تیزی سے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ افراد اور معیشتوں کے لیے قرضوں کے بوجھ اور مصارف، قرضے کی برداشت کو روزبروز مشکل بناتے جارہے ہیں۔

  •  ماحولیاتی تباھی: چکاچوند کرتی اس تباہ کن ترقی کا ایک اور پہلو ماحولیاتی تباہی ہے۔ یہ بھی ایک عالم گیر مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض کم ترقی پذیر ممالک میں خرابی بہت زیادہ تشویش ناک ہے جو کہ ترقی یافتہ ممالک کی دولت مندی اور عیاشی کی بہت زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ امریکا جو دنیا کی کل کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ۳۰ فی صد پیدا کرتا ہے، عالم گیر درجہ حرارت میں کمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور عملاً ’کویوٹوپروٹوکول‘ (Koyoto Protocol) کو مسترد کرچکا ہے۔

’مارشل پلان‘ بحرِ اوقیانوس کے حوالے سے مل جل کر کام کرنے کی ایک واحد مثال ہے۔ لیکن یہ ماڈل ایشیا اور افریقہ کے ممالک کے حوالے سے ناکام ہوچکا ہے۔ تمام وعدے جو غریب ممالک کی مدد کے حوالے سے کیے گئے تھے، بھلا دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی خام قومی پیداوار کاایک فی صد ہر سال غریب ممالک کو دیں گے۔ اسے ۱۹۹۲ء میں کم کرکے ۷ئ۰ فی صد کردیا گیا، جب کہ حقیقی طور پر دی جانے والی امداد صرف ۳ئ۰فی صد ہے، اور اس میں امریکا کا حصہ اس کی خام قومی پیداوار کا صرف ۱ئ۰ فی صد ہے۔

  •  ترقی پذیر ممالک کے لیے مسائل: دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنی منڈیاں صنعتی ممالک کی تیار کردہ اشیا کے لیے کھول دیں، جب کہ امریکا اور یورپی یونین کے ممالک غریب ممالک کی زرعی پیداوار، کپڑوں اور دوسری برآمدات کے خلاف تحفظاتی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے یہ غریب ممالک ایسے تجارتی فوائد کے میدان میں دو سے چار گنا تک محروم کردیے جاتے ہیں، جو ان کو معاشی امداد کی صورت میں ملنا چاہیے، جو اپنی نوعیت اور اس سے متعلقہ دوسری شرائط سے اس طرح مشروط ہے کہ اس معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے سے حقیقی طور پر اس کا بہت ہی کم تعلق رہ جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو زرعی منڈی کی صورت میں روزانہ ایک ارب ڈالر (یا سالانہ ۱۳۵۰ بلین پائونڈ) دیتے ہیں۔ جس سے تیسری دنیا کے کسانوں کے لیے یورپ اور امریکا کی منڈیوں میں مقابلہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کے جائزے کے مطابق ان یک طرفہ پالیسیوں کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک ہر سال کئی سو ارب ڈالر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۲۰۰۲ء میں ’آکس فم رپورٹ‘ بعنوان Rigged Rules and Double Standards میں انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں نظام سرمایہ داری کے لیڈروں کی ناکامی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، اور ان اصولوں کے منفی پہلوئوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر نظام سرمایہ داری اور عالم گیریت کی بنیاد ہے ۔

آزاد اور عادلانہ معاشی نظام کی ضرورت

آخر میں، لیکن آخری نہیں، عالم گیر سرمایہ داری کی سیاسی جہتیں ہیں، نیز معاشی اور مالیاتی قوت کے نامساوی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فوجی بالادستی کا بھی معاملہ ہے۔ تمام بڑے   بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے کر ’عالمی بنک‘ اور ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ پر ترقی یافتہ ممالک کی بالادستی ہے۔ جمہوریت کے بارے میں تمام زبانی جمع خرچ کے باوجود ان اداروں میں فیصلہ سازی میں کسی قسم کا جمہوری طریق کار اختیار نہیں کیا جاتا۔ عالم گیر سرمایہ داری نظام دنیا کے ہر ہر خطے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کی یلغار غیر جانب دارانہ یا از خود عامل طریق کار پر استوار نہیں ہے۔ حکومتوں کے بننے بگڑنے میں بہت سے بیرونی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور بیرونی مداخلت ہوتی ہے۔ ان میں سیاسی، معاشی، اطلاعاتی اور ثقافتی اثرات شامل ہیں۔ حکومتیں، کثیر قومی کارپوریشنیں (MNCs)، عالم گیرمالیاتی ادارے، ذرائع ابلاغ، ہالی وڈ، این جی اوز کی ایک فوج ظفر موج، وہ عناصر ہیں جو ان خرابیوں کو بڑھانے اور مستحکم کرنے کا موجب ہیں۔

مشہور ’واشنگٹن اتفاق راے‘ (Washington Consensus) کے آزاد روی، نج کاری اور عالم گیریت کے نسخے نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ ترقی پذیر اور غریب دنیا کے بہت سے ممالک محسوس کرتے ہیں کہ اب ان کی اپنی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ ایک نئے انداز میںسابقہ شہنشاہی اور استبدادی نظام اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک عالم گیر نظام سرمایہ داری فطری ترقی کامظہر ہے، جب کہ کچھ اسے معاشی اور ترقی یافتہ آمریت کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ ان کے اقتدار اعلیٰ اور ان کے رضاکارانہ انتخاب کی آزادی کا قاتل ہے۔ وہ عالم گیر نظام کاحصہ بننا چاہتے ہیں لیکن دب کر نہیں بلکہ وہ ایک عالم گیر دوستانہ ماحول کے خواہش مند ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام فطری اصولوں پر مبنی ایک آفاقی نظام ہونے کا دعوے دار ہے۔ اس کی عالم گیر پہنچ سے انکار نہیں ہے، لیکن اس سے مطابقت اختیار کرنا اور پسندیدگی پیدا کرنا قابلِ بحث ہے۔ اس کے سیاسی و ثقافتی پہلو اور اس کے معاشی اصولوں کے درمیان عدم موافقت بھی قابل بحث ہے۔ کیا یہ سب کچھ باقی ساری دنیا کے لیے بھی ہے؟ اور کیا اسے دوسرے اختیار کرسکتے ہیں؟ اور جو یورپی وامریکی تاریخی و ثقافتی بنیادیں ہیں، کیا وہ دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں سے مطابقت رکھتی ہیں؟ کیا ہم ان اصولوں اور اوامر کوجن پر سرمایہ دارانہ نظام پروان چڑھا ہے، اخلاقی اقدار اور رسوم سے علیحدہ کرسکتے ہیں؟ بلاشبہہ ذاتی مفاد ایک بڑی تخلیقی قوت ہے۔ لیکن اگر اسے ایک مرتبہ قوت محرکہ کے طور پر فروغ دے دیا جائے، تو وہ اخلاقی فکر جو سماجی ضروریات کو تحفظ دیتی ہے بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ہدف اُلٹ جاتا ہے، پھر معاشرے کے بجاے معیشت ہی مرکزی ہدف بن جاتا ہے اور معیشت سکڑ کر منڈی بن جاتی ہے ۔

یہی معاشی منڈی ’قدر‘ (Value) کاحقیقی منبع بن جاتی ہے۔ اس کی میکانیت ذاتی پسند و ناپسند کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اخلاقی اقدار کاجنازہ نکل جاتا ہے اور عدل کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو سماجی و اخلاقی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں، ان کے نزدیک: ’’نظام سرمایہ داری کا یہ دعویٰ کہ وہ فطری نظام ہے‘‘ قابل قبول نہیں ہے۔

مختلف ممالک کے حوالے سے زمینی حقائق، ترقی کے مختلف مدارج اور وسائل کی دست یابی میں فرق ایک زندہ ثبوت ہے جس میں انسانی سرمایے اور سماجی سرمایے کی کیفیات، اور سماجی و ثقافتی پہلو مختلف رنگ و نسل پر مشتمل مختلف انسانوں اور معاشروں کے لیے ایک ہی نوع کا معاشی ماڈل اختیار کرنا ممکن نہیں ہے۔ عالم گیر معاشرے کی طرح عالم گیر معیشت کو بھی ایک ہی ماڈل میں نہیں سمویا جاسکتا ہے۔ اس کے بجاے ایک آزاد اور عادلانہ دنیا کو، جو حقیقی طور پر مختلف النوع ہو، وجودمیںلانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپس میں ان کو اس انداز میں مربوط بنانا اور باہمی تعلق پیدا کرنا ہوگا کہ جس کے نتیجے میں تمام لوگ، معاشرے اور ریاستیں باہمی تعاون اور صحت مندانہ مقابلے کے ذریعے ترقی کے فوائد سمیٹ سکیں۔

مغرب کے کئی روشن خیال مفکرین بھی ترقی پذیر دنیا اور مسلم دنیا کے مفکرین کی اکثریت کے اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں۔ پروفیسر لیسٹر تھرو کے مطابق: ’’خطرہ یہ نہیں کہ اشتراکیت کی طرح نظام سرمایہ داری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ایک قابل عمل متبادل نظام کی عدم موجودگی میں جس کی طرف لوگ نظام سرمایہ داری سے مایوس ہوکر لپکیں، نظام سرمایہ داری خود بخود تباہ نہیں ہوگا۔ نظام سرمایہ داری کے حقیقی مسائل بالکل واضح ہیں: یعنی عدم استحکام، ناہمواریوں میں اضافہ اور مزدور طبقے کی بدحالی جیسے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ نئے مسائل بھی ہیں جیسے نظام سرمایہ داری کا انسانی وسائل پر حد سے زیادہ انحصار اور انسانی ذہنی قوتوں کو بروے کار لاکر وجود میں آنے والی صنعتیں۔ انسانی ذہنی کاوشوں کی اہمیت کے اس دور میں جو لوگ کامیاب ہوں گے، وہ ایک نیا کھیل کھیلنے کی پوزیشن میں ہوں گے اور اس کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔آج کے فاتحین کے مقابلے میں کل کے فاتح مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوں گے‘‘۔۳؎

معاملہ صرف ذہنی صلاحیتوں کاہی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ اہمیت انسان کے اخلاقی، سماجی، ثقافتی، روحانی اور سیاسی پہلوئوں کو بھی حاصل ہے۔ مشین سے ہٹ کر دانش کی اہمیت کی طرف توجہ پھیرنا عالم گیر انسانی صورت حال میں ایک قابلِ قدر تبدیلی ہے۔ اس جانب بڑھیں تو  بحث کا محور اخلاقی اصول بن جاتے ہیں اور مادی دولت اور مادی ترقی اور استعداد کے مقابلے میں اصل اہمیت عدل اختیار کرجاتا ہے۔

معاشیات پر ۱۹۹۳ء کے نوبیل انعام یافتہ رابرٹ ولیم فوگل نے اپنی تحریر "The  Fourth Great  Awakening and Future of Egalitarianism" میں اس مسئلے پر قلم اٹھایا ہے اور اس حقیقی مسئلے پر بہت جامع انداز سے بحث کی ہے۔ فوگل نے لکھا ہے: ’’نئے ہزاریے کے آغاز پر اصل مسئلہ کاروباری اتار چڑھائو (بزنس سائکلز) کو درست کرنا  یا معیشت کی ایک اطمینان بخش سطح پر نمو (ترقی دینا ہی) نہیں ہے، اور مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ کیا ہم پچھلی صدی کے دوران میں انسانی معاشرت کو عطا کیے گئے سماجی شعور کو دفن کیے بغیر ترقی کرسکتے ہیں۔ پچھلی کامیابیوں کو بلاشبہہ ہم نظر اندازنہیں کرسکتے۔ امریکا میں معاشرتی مساوات کا مستقبل قوم کی اس صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ مسلسل معاشی نمو اور سماجی مساوات کے حوالے سے نئی اصلاحات کو ساتھ لے کر چل سکے۔    پھر ہمارے دور کی روحانی ضروریات کوبھی ساتھ ساتھ پیش نظر رکھے، جو سیکولربھی ہو اور مقدس بھی۔ روحانی(یا غیر مادی) عدم مساوات بھی مادی عدم مساوات کی طرح ایک بڑا اہم مسئلہ ہے، شاید اس سے بھی بڑا ‘‘۔۴؎

فوگل اپنی کتاب کا اختتام ایک انتباہ سے کرتا ہے:’’ہماری تیسری نسل (ہمارے پوتے) جو دنیا ہم سے وراثت میں پائے گی، وہ ہماری نسل کے مقابلے میں مادی لحاظ سے بہت امیر ہوگی، ماحولیاتی خرابیاں بہت تھوڑی ہوں گی، لیکن یہ دنیا ان کے لیے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ پریشان کُن ہوگی۔ علمی و فکری سطح پر اخلاقی معاملہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا اور ان مسائل کے ساتھ ملحق معاملات آج کے مقابلے میں روز مرہ زندگی کا بہت بڑاحصہ ہوں گے ۔ علمی زندگی میںجمہوریت کے بارے میں مباحث میں وسعت آئے گی اور سیاسی زندگی میں روحانی معاملات زیادہ جگہ کا مطالبہ کریں گے۔ پرانے اور نئے مذاہب میں اختلاف اور زیادہ اُبھریں گے، لیکن آبادی کی  اوسط عمر کافی بڑھ جائے گی۔امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں متانت بڑھے گی اور علمی قوت میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہماری آنے والی نسلیں ہمارے مقابلے میں مسائل کا بہتر حل تلاش کرسکیں گی‘‘۔۵؎

اسی طرح جان گرے نے سیاسی پہلوؤں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے: ’’دنیا کی معیشت میں ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں تہذیبوں، حکومتوں اور منڈی کی معیشتوں کے تنوع کو تسلیم کیا گیا ہو۔ ایک عالم گیر آزاد منڈی، ایسی دنیا کو سامنے لاتی ہے، جہاں مغربی ممالک کی بالادستی یقینی ہے۔ ایک آفاقی تہذیب پر مبنی خیالی دنیا (Utopia) میں مغرب کی بالادستی لازم ہے۔ یہ آفاقی تہذیب، کثیر تہذیبی دنیا کے تصور کو قبول نہیں کرتی۔ یہ [آفاقی تہذیب] اپنے وقت کی ان ضروریات کے مطابق نہیں ہے کہ جس میں مغربی ادارے اور مغربی اقوام آفاقی حاکم نہ ہوں۔ اسی طرح یہ دنیا کی بہت ساری تہذیبوں کو یہ اجازت بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنی تاریخ، حالات اور مخصوص ضروریات کے مطابق جدیدیت کی منزل حاصل کرسکیں‘‘۔۶؎

کئی نظام یا ایک عالم گیر نظام سرمایہ داری

عالم گیریت کے حوالے سے یہ بحث ثقافتی اور سیاسی تناظر میں تھی۔ یہ بات بڑی خوش آیند  اور اُمید افزا تبدیلی کی نشان دہی کرتی ہے کہ دنیا کے تمام حصوں اور مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مفکرین میں سے ایک گروہ، اس سارے معاملے کااخلاقی نقطۂ نظر سے جائزہ  لے رہا ہے۔ تاہم نظام سرمایہ داری کی جو بھی خوبیاں یا خامیاں ہیں، اگر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اس نظام میں تبدیلیاں قبول کرنے اور اندرونی و بیرونی محسوسات کا جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی صلاحیت کا یہ ثبوت ہے کہ نظام سرمایہ داری نے کئی انداز اور شکلیں اختیار کی ہیں۔ کاروباری سرمایہ داری سے لے کر صنعتی سرمایہ داری ،پھر مالیاتی سرمایہ داری، ریاستی سرمایہ داری، فلاحی سرمایہ داری اور اب عالم گیر سرمایہ داری تک، یہ سب اس نظام میں تبدیلیوں کو قبول کرنے اور نئی صورت گری کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اشتراکیت، سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ لیکن اشتراکی نظام انسانی ہمدردی کے تمام تر جذبات کے باوجود ایک قابل عمل اور پایدار متبادل ثابت نہ ہوسکا، تاہم اس نے نظام سرمایہ داری میں تبدیلیاں لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ شروع میں اشتراکی چیلنج نے اپنی بنیاد اخلاق اور انسان دوستی کی بنیادوں پر ہی رکھی تھی۔ رابرٹ اوون، سینٹ سائمن اور کئی دوسروں نے سرمایہ دارانہ نظام کو اس کی اخلاقی اور معاشرے میں مساوات پیدا کرنے کی ناکامیوں کی بنیاد پر چیلنج کیا۔ کارل مارکس اور اینجلز نے معاملے کوایک اور رنگ دیا۔ سائنٹفک سوشلزم نے مادی اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر سرمایہ داری کو چیلنج کیا اور سائنس کے نام پر معاشی اور تاریخی جبر کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی۔ جرمنی، اٹلی اور سپین میں پروان چڑھنے والا نیشنل سوشلزم ایک اور چیلنج تھا۔ سرمایہ داری نے ان چیلنجوں کا بھی مقابلہ کیا، اور ان کا بھی جو نظام کے اندر سے کاروباری اتار چڑھائو، افراطِ زر، بے روزگاری، جمود اور محروم طبقوں کی بغاوت کی صورت میں سامنے آرہے تھے۔ فلاحی سرمایہ داری اورمخلوط معیشت جیسی تبدیلیاں اصلاحی تحریکوں کانتیجہ ہیں۔ عالم گیر سرمایہ داری کے موجودہ دور کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جاناچاہیے۔ بہرحال اخلاقی اور انسانی تناظر میں تنقیدی مباحث کاسلسلہ برابر جاری ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کے عشروں میں لاطینی امریکا میں شروع ہونے والی عیسائی جمہوری تحریک، دنیا کے دوسرے ملکوں میں انسانی اور معاشرتی حوالے سے گرین گروپس (Green Groups) اب عالم گیر حیثیت کے مالک بن چکے ہیں۔ انسانی شرف کے بارے میں احساس اور ظلم سے نفرت کے خلاف یہ جذبات حقیقی ہیں اور ان کے اثرات دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ جبر اور انسانیت کش پالیسیوں کے خلاف شدید ردّعمل کا اظہار  کیا جاتا ہے۔ انتہائی بائیں بازو کے لوگ بھی اس جبر کے خلاف ردّ عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف جو اظہار سیٹل  واشنگٹن، بڈاپسٹ (ہنگری)، اوٹاوہ (کینیڈا) اور جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں شروع ہوا، اس نے فکری میدان میں عملی سوچ کے لب و لہجے اور انداز کو تبدیل کیا ہے۔

ڈربن (جنوبی افریقہ) میں ۲۰۰۱ء میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس اور ۲۰۰۲ء میں دوحہ(قطر) میں ہونے والی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی کانفرنس میں نئے انداز میں معاملات پر  اتفاق راے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ حقیقت کہ بڑے کاروباری ادارے، یعنی ورلڈ اکنامک فورم نے مشترکہ بنیادوں کی تلاش کے لیے ڈیووس (Devos) سے نیویارک تک اجلاس منعقد کیے۔ جب ’ورلڈ اکنامک فورم‘ (WEF)کا اجلاس نیویارک میں ہو رہا تھا، عین اسی وقت ایک اور پلیٹ فارم، ’ورلڈ سوشل فورم‘(WSF) کا اجلاس دھوم دھام سے ایلے گر (برازیل) میں منعقد ہوا۔ مارچ ۲۰۰۲ء میں ہونے والے مالیاتی اتفاق راے کاانداز، نام نہاد واشنگٹن اتفاق راے سے مختلف تھا۔ یہ تمام نکات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عالم گیر سرمایہ دارانہ نظام میں اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لچک اور حرکت موجودہے۔

عالم گیر نظام سرمایہ داری کو دو محاذوں پر چیلنج درپیش ہے:

۱-   اس کی اپنی اندرونی کمزوریاں، تضادات اور نا انصافیاں

۲-  مسلمان اور ترقی پذیر دنیا کے ممالک کا رد عمل، جو دنیا کا ۸۰ فی صد حصہ ہیں اور جن کا ثقافتی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے دنیا کے بارے میں بالکل مختلف نقطۂ نظر ہے اور ان کی ثقافتی اور تہذیبی اقدار مختلف ہیں۔

اب ، جب کہ سرمایہ دارانہ نظام بے خوف و خطر عالم گیریت کی لہروں پر سفر کر رہا ہے،   اس کے لیے ’تنوع میں وحدت‘ (unity in diversity) کا راستہ حقیقی راستہ نہیں ہے، بلکہ چیلنج    یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں لایا جائے جس میں ایک سے زائد نظاموں کا حقیقی تصور (genuine plurality) موجود ہو۔ ایک ایسا تنوع موجود ہو جس میں باہمی مشترک اقدار اور مشترک مفادات کے تحت باہمی تعاون ہو۔ ایک ماڈل سے بالادستی کا تصور اُبھرتا ہے۔ عالم گیر معاشرے کی ایک مختلف تشکیل وقت کی ضرورت ہے۔

جان رالز نے ۱۹۷۲ء میں اپنی شروع کی تحریروں میں باہمی برابری (reciprocity) کی بنیاد پرانصاف کی فراہمی کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیاتھا، ۷؎ لیکن ۳۰سال بعد اپنی کتاب ’عوام کا قانون‘ میں اپنے نظریے کو ’بے لاگ انصاف‘ کے عنوان سے اس طرح پیش کیا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں اور معاشروں تک پھیلایا جانا چاہیے۔۸؎ یہ تصور عام طور پر دیگر مغربی مفکرین کے سیاسی آزادی کے فکری احاطے میں نہیں آتا۔ جان رالز نے تہذیب یافتہ معاشروں کے تنوع کو تسلیم کیا ہے۔ وہ مثالوں کے ذریعے معاشرتی تنظیم کے مختلف طریقوں کی بھی وضاحت کرتا ہے۔   وہ ’مناسب طور پر آزاد رو لوگوں‘ (reasonably liberal people) کے ساتھ ’معقول لوگوں‘ (decent people) کا نظریہ پیش کرتا ہے اور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کچھ دوسرے معقول لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو میری بیان کی ہوئی ترتیب میں نہ سموئے گئے ہوں، لیکن وہ انسانوں کے معاشرے کے قابل احترام رکن ہوں۔

جان رالز نے اس بات کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک عوامی قانون نہیں بلکہ معقول قوانین کا ایک ایسا مجموعہ درکار ہے جو تمام شرائط اور معیارات پر پورا اترے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس پر بحث کروں گا اور قانون سازی کرنے والے عوامی نمایندوں کو اس بات پر قائل کروں گا۔ آزاد پسندی کے اس پہلو پر رالز کا نقطۂ نظر ایک ایسی دنیا کے تناظر کی طرف اہم قدم ہے، جس میں حقیقی تکثیریت (pluralism) قائم رہ سکتی ہے اور ایک عالم گیر سیاسی، معاشی اور ثقافتی منظر قائم کیا جاسکتا ہے۔ جو انسانیت کو باہم مل جل کر تعاون اور مقابلے کی فضا میں رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ مستقبل کی ایک عالم گیر معاشرت کے اس تناظر کاانحصار ایک معقول اور مناسب تکثیریت پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں معقول لوگوں کے درمیان مختلف ثقافتوں اور مذہبی اور غیرمذہبی فکری روایتوں کا تنوع، معقول تکثیریت کے ساتھ ساتھ۔۹؎

اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عالم گیر سرمایہ دارانہ نظام دوسرے نظاموں کے ساتھ بقاے باہمی کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس سے یہ سمجھنا ہرگز ضروری نہیں ہے کہ دوسری معاشرتوں اور ثقافتوں کو نظام سرمایہ داری کی متنوع شکل بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ پھر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ باہم مشترک اقدار، دل چسپیوں ، آرزوئوں کے وسیع میدان میں اور باہمی تعاون ، تعامل اور تقابل کے امکانات نہیں ہیں۔ وسائل کی فراہمی، تخصیص کار (specialization) اور کم و بیش فائدے کے لحاظ سے فرق کی بنا پر معقول حدود کے اندر رہ کر ایک دوسرے کے اوپر انحصار کو بھی ردنہیں کیا جاسکتا۔ جس بات کو رد کیا جا رہا ہے وہ ایک نظام کی بالادستی اور محتاجی کا ایسا تعلق ہے، جو سیاسی آزادی، ثقافتی انفرادیت، معاشی خود انحصاری اور اخلاقی و روحانی تشخص سے متصادم ہو۔

حوالہ جات

۱-            دیکھیے: جے ایم کینز، The End of Laissez Faire ،ہوگرتھ پریس، ۱۹۲۶ئ، ص ۱۳، ۱۴۔

۲-            برانسامیلانووچ، The World Income Distribution، مشمولہ The Economic Journal، شمارہ ۱۱۲، ص ۵۱-۹۲۔

۳-            لیسٹرتھرو،  The Future of Capitalism، ناشر نکولس برکلے، لندن ۱۹۹۶ء ، ص ۳۲۵، ۳۲۶۔

۴-            رابرٹ فوگل، حوالۂ مذکور، مطبع شکاگو یونی ورسٹی ، شکاگو، ۲۰۰۰ئ، ص ۱۔

۵-            ایضاً، ص ۲۴۲۔

۶-            جان گرے، False Down: The Delusions of Global Capitalism،لندن، ۱۹۹۸ئ، ص ۲۰۔

۷-            جان رالز، A Theory of Justice، اوکسفرڈ کلارنڈن پریس، ۱۹۷۲ئ۔

۸-            جان رالز، The Law of Peoples، ہارورڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۹ئ، ص ۴۔

۹-            جان رالز، ایضاً، ص ۱۱۔

بلاشبہہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیاں بکھری پڑی ہیں، اور یہ نشانیاں ہیں ہی اس لیے کہ ان پر غوروفکر کیا جائے اور ان کی روشنی میں اپنا رویہ اور عمل مرتب کیا جائے۔ مگر افسوس کہ انسانوں کی عظیم اکثریت ان نشانیوں پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور اندھوں اور بہروں کی طرح اللہ کی روشن نشانیوں سے معاملہ کرتی ہے۔ قرآن بار بار انسانوں کو  اللہ کی ان نشانیوں پر غور کرنے اور کھلی آنکھوں اور کھلے دماغ سے ان سے روشنی حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ o(البقرہ۲:۲۲۱) ’’اور وہ اپنی نشانیاں واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق سیکھیں‘‘۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ o(النحل ۱۶:۱۱) ’’اس میں ایک بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں‘‘۔  اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَo(النحل ۱۶:۱۳) ’’ان میں ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں‘‘۔

ملت ِاسلامیہ پاکستان کے لیے ۱۴؍اگست کا دن بھی اللہ کی ایک نشانی ہے۔ صرف سات سال کی بھرپور اور پُرامن جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کے سیاسی نقشے پر، اور وہ بھی ایک ایسے سیاسی نقشے پر جس کے سبھی نقش مغربی تہذیب، مادیت، سیکولرزم اور لبرلزم کے رنگوں سے آلودہ تھے، عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست کا قیام ایک تاریخی کرشمے سے کم نہ تھا۔ تحریکِ پاکستان کی اصل بنیاد اور روح ہی یہ تھی کہ برعظیم ہند میں مسلمان محض دوسری اکثریت نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہیں۔ ان کا مقصد صرف یورپی استعمار سے آزادی ہی نہیں، توحید اور رسالت ِ محمدیؐ کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی اور اجتماعی نظام کا قیام ہے۔ جو بہرحال وقت کے غالب تصورات سے بغاوت اور ایک نئے نظریاتی مستقبل کی تعمیر کے عزم سے عبارت تھا۔ آزادی کا حصول اس اصل مقصد کے لیے تھا۔ ان دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ تھا، جسے علامہ محمد اقبال نے اپنے ۱۹۳۰ء کے خطبے اور پھر قائداعظم محمدعلی جناح کے نام اپنے خطوط میں بہت صاف الفاظ میں بیان کردیا تھا:

  • سیاسی مطمح نظر کی حیثیت سے مسلمانانِ ہند، ملک میں جداگانہ سیاسی وجود رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اندرون اور بیرونِ ہند دنیا کو بتا دیا جائے کہ ملک میں صرف اقتصادی مسئلہ ہی تنہا ایک مسئلہ نہیں ہے، اسلامی نقطۂ نگاہ سے ثقافتی مسئلہ ہندستان کے مسلمانوں کے لیے اپنے اندر زیادہ اہم نتائج رکھتا ہے۔
  • اسلامی قانون کے طویل و عمیق مطالعے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس نظامِ قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے، تو ہرشخص کے لیے کم از کم حقِ معاش محفوظ ہوجاتا ہے، لیکن شریعت اسلام کا نفاذ اور ارتقا ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے بغیر اس ملک میں ناممکن ہے۔ سالہا سال سے میرا یہی عقیدہ رہا ہے۔
  • مسلم ہندوستان کے ان مسائل کا حل آسان طور پر کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو ایک یا ایک سے زیادہ مسلم ریاستوں میں تقسیم کیا جائے، جہاں پر مسلمانوں کی واضح اکثریت ہو۔ کیا آپ کی راے میں اس مطالبے کا وقت نہیں آپہنچا؟

انگریزوں سے آزادی اور حصولِ ملک براے قیامِ نظامِ اسلامی‘ ہی تحریکِ پاکستان کی امتیازی خصوصیت ہے اور قائداعظم کی قیادت میں جو تاریخی کامیابی قیامِ پاکستان کی شکل میں حاصل ہوئی، اس کا سہرا اسی تصور اور اس تصور کی خاطر برعظیم کے مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے سر ہے۔ ۱۴؍اگست کی اصل اہمیت ہی یہ ہے کہ یہ تاریخ ہرسال پوری قوم کو تحریکِ پاکستان کے اصل مقصد اور ہدف و منزل کی یاددہانی کراتی ہے، اور ہمیں اس امر پر سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ  سات سال میں کیا کچھ اس قوم نے حاصل کرلیا تھا پھر آزادی کے چھے عشروں میں اس اصل مقصد کے باب میں غفلت اور بے وفائی کا راستہ اختیار کیا، تو اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کے نتیجے میں  موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اللہ کی اس نشانی سے سبق سیکھتے ہوئے راہِ راست کی طرف آنے کی کوشش اور جدوجہد نہیں کررہے۔

آزادی کی ۶۸ویں سالگرہ کے موقعے پر ہم قوم کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس عظیم موقعے کو محض چند روایتی اور نمایشی کارروائیوں کی نذر کرنا ایک سنگین مذاق اور بڑا المیہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اس عظیم دن کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پھر اس سبق اور پیغام کو حرزِ جاں بنایا جائے جس کی نشانی (آیت) ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء، ۲۷رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ ہے۔

 تحریکِ پاکستان کی اساس

پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ اس ملک کے قیام کی جدوجہد جہاں زوال پذیر برطانوی استعمار اور اُبھرتے ہوئے ہندو سامراج کی گرفت سے آزادی کی تحریک تھی، وہیں اس سے زیادہ یہ ایک نظریاتی اور تہذیبی احیا کی تحریک تھی۔ اس کا اصل مقصد برعظیم کے ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، وہاں کے لوگوں کو اپنے دین، ایمان، تصورِ حیات، روایات اور ملّی عزائم کی روشنی میں آزاد فضا میں ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کرنا تھا۔ سیاسی آزادی اور دینی اور تہذیبی تشکیلِ نو کا مقصد اور عزمِ تحریکِ پاکستان کے دو اہداف تھے، جو ایک ہی تصویر کے دو رُخ کی حیثیت رکھتے ہیں___ ان دونوں کا ناقابلِ انقطاع تعلق اسلامیانِ پاکستان کی قوت کا راز ہے اور ان میں تفریق اور امتیاز بگاڑ اور خرابی کی اصل وجہ ہے۔

تحریکِ پاکستان کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے برعظیم کے مسلمانوں کو ان کی قومی شناخت دی اور اس شناخت کی بنیاد پر ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے ان کو سرگرم اور متحرک کردیا، جس کا نتیجہ تھا کہ سات سال کی مختصر مدت میں برعظیم کے دس کروڑ مسلمانوں نے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند اپنی آزادی اور دین کے تحفظ کی جنگ لڑی اور بلالحاظ اس کے کہ پاکستان کے قیام سے کس کو کیا فائدہ پہنچے گا اور کس کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، ایک نظریاتی جنگ کے نتیجے میں ایک آزاد ملک قائم کیا۔

تحریکِ پاکستان کی بنیاد اسلام کا تصورِ قومیت ہے جس کی روشنی میں قوم کی آزادی اور آزادی کے سایے میں قوم کی اجتماعی زندگی کی تشکیل نو کے لیے مملکت کا حصول عمل میں آیا۔ لیکن پاکستان کے ساتھ یہ المیہ رُونما ہوا کہ وہ قوم جسے مختصر ترین وقت میں یہ مملکت ِ خداداد ملی تھی، اسی قوم کے اہلِ حل و عقد اسلامی قومیت کی بنیاد پر ملک کی تعمیر سے غافل ہوگئے۔ نظریاتی شناخت اور بنیاد سے ہٹ کر ملک کو ’ترقی یافتہ‘ بنانے کی سعی لاحاصل میں ملک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ جس کانتیجہ ہے کہ صرف ۲۴برس بعد ۱۹۷۱ء میں ملک دولخت بھی ہوگیا اور آج جو کچھ موجود ہے، اس کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آج جس حقیقت کے اِدراک اور اقرار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اور پاکستان کے وجود،بقا اور ترقی کا انحصار اس نظریے پر ہے، جو تحریک کی روح اور کارفرما قوت تھی۔ قائداعظم نے ایک جملے میں اس حقیقت کو بیان کردیا تھا:

اسلام ہمارا بنیادی اصول اور حقیقی سہارا ہے۔ ہم ایک ہیں اور ہمیں ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ تب ہی ہم پاکستان کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ قائد کے اس انتباہ کو ہم نے بحیثیت قوم نظرانداز کیا۔

۱۴؍اگست ایک عظیم یاددہانی ہے، اور یہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اگر ملک اور نظریے کے رشتے کو نظرانداز کیا گیا تو ملک کا وجود بھی معرضِ خطر میں ہوگا (یوں تو اس وقت بھی معرضِ خطر ہی میں ہے) ۔ ہم قیامِ پاکستان کی ۶۸ویں سالگرہ کے موقعے پر اسی بنیادی نکتے پر قوم کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ ملک آج  جن مشکلات میں پھنسا ہوا ہے، ان سے نکلنے کے لیے اس بنیاد کی طرف لوٹ کر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، جو تحریکِ پاکستان کی اساس ہے، جو ہماری قوت کا اصل منبع ہے، جس کے ذریعے ہم یہ ملک حاصل کرسکے اور جس کے بغیر ہم اس کو نہ قائم رکھ سکتے ہیں اور نہ ترقی دے سکتے ہیں۔

آج سب سے بڑی ضرورت قوم اور ملک کے اس تعلق کو سمجھنے اور اس پر سختی سے قائم رہنے میں ہے کہ اللہ کی سنت یہ بھی ہے کہ اگر ایک فرد یا قوم اس کی نعمتوں پر شکر کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے انعامات میں بیش بہا اضافہ ہوتا ہے اور اگر وہ کفرانِ نعمت کرتے ہیں تو پھر اس کی پکڑ بھی بہت ہی شدید ہے___ اور ناشکری کے نتیجے میں جو بگاڑ اور تباہی رُونما ہوتی ہے، اس کی ذمہ داری صرف اور صرف فرد اور قوم کے اپنے رویے اور کرتوتوں پر ہوتی ہے:

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ  لَشَدِیْدٌ o (ابراہیم ۱۴:۷) اور یاد رکھو، تمھارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار ہو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔

اور یاد رکھو:

وَ مَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ o(القصص ۲۸:۵۹) اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجائیں۔

 قیامِ پاکستان کے اصل محرکات

جیساکہ ہم نے عرض کیا پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ جس میں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہونے کے ساتھ یہ موقع بھی ملا کہ آزاد فضا میں اپنے تصورات کے مطابق نئی زندگی تعمیر کریں۔ لیکن افسوس کہ ابتدائی چند برسوں کے بعد ہی جو عناصر قیادت پر قابض ہوگئے تھے، انھوں نے نہ صرف ان مقاصد کو فراموش کیا بلکہ ملک کو انھی باطل نظریات اور مفادات کے حصول کی بھٹی میں جھونک دیا جن سے نکلنے کے لیے تحریکِ پاکستان برپا کی گئی تھی۔ وہ یک سوئی جو تحریکِ پاکستان کا طرئہ امتیاز تھی ختم ہوگئی اور ملک اندرونی کش مکش اور بیرونی سازشوں کی آماج گاہ بن گیا اور آج ہماری آزادی بھی معرضِ خطر میں ہے اور ملک بھی معاشی، سیاسی، ثقافتی، اخلاقی غرض ہر اعتبار سے تنزل کا شکار نظر آتا ہے۔

۱۴؍اگست ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ان اصل مقاصد کی نشان دہی کریں جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد کا محرک اور اس تحریک کی امتیازی خصوصیت تھے اور پھر اس بگاڑ کی نشان دہی کریں جس نے ہمیں تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔ اس تجزیے کی روشنی میں ایک بار پھر اس راستے اور منزل کی نشان دہی کریں جو اس تباہی سے بچنے اور اصل مقاصد کے حصول کی طرف پیش قدمی کا راستہ ہے۔

تحریکِ پاکستان کا پہلا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے دورِحاضر میں برعظیم کے مسلمانوں نے اپنی خودی کو پہچانا اور اس طرح اپنے حقیقی وجود کو پایا۔ تحریکِ پاکستان نے پاکستانی قوم کو اس کا اصل تشخص دیا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس اور سامراجی قوتیں جو خطرناک کھیل کھیل رہی تھیں، وہ ناکام ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے اصل تشخص کی بقا اور استحکام کے لیے جان کی بازی لگادی۔ انھوں نے بھی جن کو اس جدوجہد کے نتیجے میں سیاسی آزادی ملی اور انھوں نے بھی جو جانتے تھے کہ سامراج کے رخصت ہونے کے بعد وہ خود حقیقی آزادی کی روشن صبح سے محروم رہیں گے۔ انھیں یہ یقین تھا کہ مسلمانوں کی ایک ایسی آزاد مملکت قائم ہوگی، جو اسلام کا مظہر اور سارے مظلوم انسانوں کا سہارا ہوگی۔ نظریاتی وطن کے قیام کی اس کامیاب جدوجہد نے مغرب کی لادینی قومیت کے بت کو پاش پاش کردیا اور ملت اسلامیہ پاک و ہند نے اقبال کا ہم زباں ہوکر انسانیت کے لیے ایک نئے روح پرور تشخص کی یافت سے ایک نئے دور کا آغاز کیا:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

قیامِ پاکستان کا یہی وہ پہلو ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پوری مسلم دنیا میں اسلامی ریاست اور اسلامی تہذیب کے احیا کی لہریں بار بار اُٹھ رہی ہیں اور سارے نشیب و فراز کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔

قیامِ پاکستان کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایک طرف اہلِ پاکستان نے غلامی کی زنجیریں توڑیں، دوسری طرف برعظیم کے مسلمانوں کو امن کی جگہ میسر آئی۔ برعظیم کے مسلمانوں کے ایک بڑی تعداد ’’ہے ترکِ وطن سنت محبوب الٰہی‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھربار چھوڑ کر اس نئے ملک کی تعمیر کے لیے سرگرمِ عمل ہوگئی۔ جس جذبے اور جن عزائم سے یہ ترک و اختیار،  واقع ہوئے، وہ ہماری تاریخ کا نہایت ایمان افروز اور روشن باب ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا، جس نے پاکستان کو ان اولیں ایام میں ایسے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لائق بنایا، جو اس نوزائیدہ ملک کو درپیش تھے اور جن حوادث کا ہدف اس غنچے کو پھول بننے سے پہلے ہی مَسل دینا تھا۔ آزادی خود ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا پورا اِدراک انھی لوگوں کو ہوسکتا ہے، جنھوں نے غلامی کی تاریک رات کی صعوبتوں کو برداشت کیا ہو۔ آزادی کی شکل میں جو نعمت آج اہلِ پاکستان کو حاصل ہے،  وہ ہر دوسری نعمت سے زیادہ قیمتی اور حیات افروز ہے۔

اس تحریک کا تیسرا پہلو یہ تھا کہ یہ ایک عوامی اور جمہوری تحریک تھی۔ قائداعظمؒ نے مسلمان قوم کو بیداراور منظم کیا اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عوامی قوت اور تائید کے ذریعے  سات سال کی قلیل مدت میں وہ کام کردکھایا، جسے دوسرے، سالہا سال میں بھی انجام نہ دے سکے۔ تحریکِ پاکستان ایک عوامی تحریک تھی۔ جن کی نظر تحریکِ پاکستان کی تاریخ پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ سیاسی اشرافیہ (elites) نے کس کس طرح اس تحریک کاراستہ روکنے کے لیے سازشوں کے جال بُنے۔ لیکن اللہ کے فضل سے قائداعظمؒ کی قیادت اور عوام کی تائید و اعانت نے اس تحریک کو آزادی کی منزل سے ہم کنار کیا۔

اس تحریک کاچوتھا پہلو یہ تھا کہ قیامِ پاکستان ،اس تحریک کی آخری منزل نہیں تھا بلکہ پہلا سنگِ میل تھا۔ اصل ہدف ایک ایسے معاشرے اور ریاست کا قیام تھا، جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی سچی وفادار اور ان تعلیمات کی آئینہ دار ہو، جو انھوں نے انسانیت کو عطا کی ہیں۔ جس میں اخلاقی اقدار کو بالادستی حاصل ہو، جہاںفرد کے حقوق کی پوری حفاظت ہو، جہاں ہر مرد اور ہرعورت کی جان، مال اور آبرو محفوظ ہو۔ جہاں تعلیم کی روشنی سے بلاتخصیص مذہب و عقیدہ ہرفرد نورحاصل کرسکے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ جہاں حلال رزق اور معاشی ترقی کے مواقع تمام انسانوں کو حاصل ہوں۔ جہاں عدلِ اجتماعی کا بول بالا ہو اور جہاں ریاست اور اس کے کارپرداز عوام کے خادم ہوں۔ اسلام اور اس کے دیے ہوئے جمہوری اور عادلانہ نظام کا یہ تصور تھا، جس نے مسلمانوں کو اس تحریک میں پروانہ وار شریک کیا تھا اور وہ برملا کہتے تھے ہمیں ایک بار پھر اس دور کا احیا کرنا ہے، جس کی مثال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاے راشدینؓ نے قائم کی تھی۔

آیئے، قیامِ پاکستان کے ان مقاصد اور عزائم کے پس منظر میں اپنی قومی زندگی کے اس نئے سال کے آغاز پر اس امر کاجائزہ لیں کہ پاکستانی قوم اور اس کی قیادتوں نے کہاں تک ان اہداف کی طرف پیش قدمی کی اور ملک عزیز کو آج کون سے مسائل، خطرات اور چیلنج درپیش ہیں۔ نیز ان حالات میں اصل منزل کی طرف پیش رفت کے لیے صحیح حکمت عملی اور لائحہ عمل کیا ہے۔

ملک کا اصل المیہ

تحریکِ پاکستان اور تاریخ ِ پاکستان کے معروضی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قیامِ پاکستان کا اصل سہرا اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص کے بعد اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ قائداعظم کی فراست و قیادت اور مسلمان عوام کا جذبہ اور قربانی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ان کی بیماری اور وفات نے ایک ایسی صورت حال پیدا کردی، جس میں وہ کھوٹے سکے، جو ان کے گرد جمع تھے، اقتدار پر قبضہ جماکر ریاست کی مشینری کو بالکل دوسرے ہی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔

پہلے وزیراعظم کو گولی کا نشانہ بنا کر قومی منظر سے ہٹا دیا گیا، دوسرے وزیراعظم کو برطرفی کی تلوار کے بل پر نکال باہر کیا گیا اور ان کے مخلص ساتھیوں کو سازشوں کے ذریعے غیر مؤثر بنادیاگیا، اور چند ہی برسوں میں بساط سیاست ایسی اُلٹی کہ اصل نقشہ درہم برہم کرکے یہ مخصوص ٹولہ اقتدار کے ہرمیدان پر قابض ہوگیا۔قانون اور ضابطے کا احترام ختم ہوگیا۔ منتخب دستور ساز اسمبلی کو بار بار توڑ دیا گیا۔ انتظامیہ اور پولیس کو سیاسی قیادت نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جو بالآخر انھی کے ہاتھوں اسیر ہوکر رہ گئی۔ فوج کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر فوج نے اپنے لیے سیاسی کردار حاصل کرلیا۔ عدلیہ نے کچھ مزاحمت کی، لیکن اسے بھی زیردام لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔

 نوسال بعد پہلا دستور بنا، جسے دوہی سال کے بعد توڑ دیا گیا، اور دستور شکنی کی ایک ایسی ریت چل پڑی، جس کے مذموم اثرات سے آج بھی نجات ممکن نہیں۔ جس احساس تشخص نے قوم کو جوڑا تھا، اس پر ہر طرف سے تیشہ چلایا گیا، لادینی نظریات، علاقائیت، لسانیت، برادری کا تعصب، قبائلیت، غرض کون سا تیشہ ہے جو اس پر نہ چلایا گیا ہو۔

آزادی کے بعد۲۳سال تک بالغ راے دہی کی بنیاد پر انتخاب نہ کرائے گئے اور پھر دسمبر ۱۹۷۰ء میں انتخابات منعقد ہوئے تو وہ دھونس، دھاندلی اور بدعنوانی کا شاہ کار رہے کہ عوامی مینڈیٹ ایک مذاق بن گیا۔ سیاسی جماعتوں میں ذاتی بادشاہت، خاندانی قیادت اور علاقائی اور لسانی تعصبات کا غلبہ رہا اور حقیقی جمہوریت کے فروغ کا ہر راستہ بند کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں علاقائی تعصبات نے سیاست کو آلودہ کیا اور قومی سیاست کی گاڑی پٹڑی سے اُتر گئی۔ مغربی اور ہندو تہذیب کو رواج دینے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

معاشی ترقی کا وہ راستہ اختیار کیا گیا جس نے ملک کو ایک طرف طبقاتی تصادم میں مبتلا کیا تو دوسری طرف مغرب کے سودی سامراج کے چنگل میں اس طرح گرفتار کردیا کہ آج ملک اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ جیسے بوجھ تلے سسک رہاہے۔ بیرونی قرضے ۶۰؍ارب ڈالر کی خبر لارہے ہیں اور قرضوں کا کُل حجم ۱۵کھرب روپے سے متجاوز ہے۔ وفاقی حکومت کے کُل سالانہ بجٹ کا تقریباً ایک تہائی صرف سود اور قرضوں کی ادایگی کی نذر ہورہا ہے اور ملک کا ہر بچہ، جوان اور بوڑھا ۸۰ ہزار روپے کا مقروض ہے۔

پاکستان کا اصل المیہ ہی یہ ہے کہ اصل اقتدار اور اختیار آج تک عوام کی طرف منتقل نہیں ہوا، اور سارے وسائل پر ایک طبقہ قابض ہے جس کا تعلق سیاسی، انتظامی اور عسکری اشرافیہ سے ہے اور جو باری باری اقتدار پر براجمان ہوکر ملک کے سفید و سیاہ کا مالک بنا ہوا ہے۔ قومی دولت کا ۸۰فی صد آبادی کے اُوپر کے ۱۰ فی صد کے پاس ہے۔ ۱۰/۱۲ہزار بڑے خاندان ہیں جو زراعت، صنعت اور تجارت پر مکمل تصرف رکھتے ہیں اور یہی خاندان سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ پارٹی خواہ کوئی بھی ہو، سول بیوروکریسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی اس گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔

دستور موجود ہے مگر اس کا بڑا حصہ عملاً معطل ہے۔ قانون صرف کتاب قانون کی ’زینت‘ ہے، اور عملاً قانون، ضابطے اور میرٹ کا کوئی احترام نہیں۔ پولیس سیاسی قیادت کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ ہرسمت کرپشن کا دور دورہ ہے ۔ عوام کے مسائل اور مشکلات کا کسی کو درد نہیں اور نہ کوئی ان کا پُرسانِ حال ہے۔ عدالت، خصوصیت سے اعلیٰ عدالت نے کچھ آزادی حاصل کی ہے مگر اس کے فیصلوں اور احکام کو بھی کھلے بندوں نظرانداز کیا جاتا ہے، یا عملاً انھیں غیرمؤثر (frustrate) کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ بجلی،گیس اور پانی کے بحران نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور لاقانونیت اور دہشت گردی کے سبب عوام کی جان، مال اور عزت، سب معرضِ خطر میں ہیں۔

اندرونی انتشار اور بیرونی مداخلت

ان حالات کو اور بھی سنگین بنادینے والے چند پہلو اور بھی ہیں، جن کا اِدراک ضروری ہے۔

ان میں سب سے اہم محاذ یہ ہے کہ ملک کے معاملات میں بیرونی قوتوں اور خصوصیت سے امریکا اور مغربی اقوام کی دراندازیاں ہیں۔ یہ سلسلہ توملک غلام محمد اور جنرل ایوب خان کے دور ہی سے شروع ہوگیا تھا مگر جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے اَدوار میں یہ اپنے عروج کو پہنچ گیا اور یہی اُلٹا سفر آج بھی جاری ہے۔ ویسے تو قوم کو اس کا پورا پورا اِدراک تھا مگر  وکی لیکس، ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد کے واقعے اور شکیل آفریدی کے اسکینڈل، این آر او اور پھر جنرل مشرف کے صدارت سے استعفے کے ڈرامے، فوجی سلامی کے ساتھ رخصتی، اور پھر بیرونِ ملک روانگی کے سلسلے میں جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور ان میں جو کردار سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ امریکا اور برطانیہ کے سفارت کاروں کا سامنے آیا ہے، اس نے تو ملک کی آزادی اور ہماری سیاسی قسمت کی تخریب و تعمیر میں بیرونی کردار کا پردہ بالکل ہی چاک کر کے رکھ دیا ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی انھی قوتوں کی گرفت ہماری معیشت پر مضبوط تر ہورہی ہے اور سیاسی اعتبار سے بھی اندرونی معاملات کی باگ ڈور انھی کے ہاتھوں میں نظر آرہی ہے۔ سول اور فوجی تعلقات کے جو نشیب و فراز قوم نے رواں سال میں دیکھے ہیں اور دیکھ رہی ہے، معاشی پالیسیوں کی صورت گری جس طرح عالمی بنک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اشاروں پر کی جارہی ہے اور سیاسی اُفق پر تبدیلیوں کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس نے آزادی اور قومی خودمختاری کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اس پر مستزاد وہ نظریاتی انتشار ہے جو ملک و قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ بھی آج متنازع بنایا جارہا ہے۔ قراردادِ مقاصد ہدف تنقید و ملامت ٹھیری ہے۔ تاریخ کے قتل کا ہوّا دکھا کر تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ریاست اور مذہب کے تعلق کو زیربحث لایا جا رہا ہے۔

ایک فی صد سے بھی بہت کم تعداد رکھنے والا سیکولر اور لبرل طبقہ ہے جو میڈیا پر قابض ہے، اور آزادیِ فکر کے نام پر قومی زندگی کے مسلمات کو چیلنج کر رہا ہے اور ملک و قوم میں فکری انتشار اور خلفشار پیدا کرنے اور بھارت اور مغربی اقوام کے سامراجی ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ان ۶۷برسوں میں جو طبقہ حکومت، معیشت اور سیکورٹی کے نظام پر قابض رہا ہے وہ یہی سیکولر گروہ ہے جو کبھی سوشلزم کے نام پر، کبھی سرمایہ داری کے نام پر،  اور کبھی روشن خیال جدیدیت کے نام پر حکمران رہا ہے اور سارے بگاڑ کا سبب رہا ہے۔ ملّا کو گالی دینا اور ہر خرابی کو ضیاء الحق کے سر تھوپنا تو اس کا وتیرا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلام محمد کے دور سے لے کر مشرف اور زرداری کے دور تک اقتدار اگر کسی طبقے کے ہاتھوں میں رہا ہے تو وہ یہی سیکولر مراعات یافتہ اشرافیہ ہے۔ سول دور ہو یا عسکری ، اس دوران میں یہی سیکولر طبقہ حکمران رہا ہے ۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ چیزیں اسلام کے احکام کے مطابق ضرور ہوئیں، لیکن بحیثیت مجموعی اس دور میں بھی اصل فکر اور اصل کارفرما ہاتھ بہت مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ آزادی کے چھے عشروں میں اگر کوئی فکر اور کوئی طبقہ حکمران رہا ہے تو وہ یہی سیکولر فکر اور سیکولر طبقہ ہے۔ چند مغربی محققین نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور عرب ممالک میں خود مسلمانوں کی مغرب زدہ سیکولر قیادت ہے جو ناکام رہی ہے اور بگاڑ کی بھی  بڑی حد تک ذمہ دار یہی بدعنوان اور نااہل قیادت ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ اور پروفیسر کیتھ کیلارڈ نے بہت صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ان ممالک میں آج جو بھی حالات ہیں وہ مذہبی قوتوں کے پیدا کردہ نہیں ہیں، بلکہ ان ممالک میں مغرب نواز سیکولر قیادتیں ان کی ذمہ دار ہیں۔

انھی حالات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آج صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی کا شکار نہیں، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی انتشارمیں بھی مبتلا ہے۔ حالات کی اصلاح کے لیے اس طرح کی ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی برعظیم کے مسلمانوں کو برطانوی اور برہمن سامراج سے نجات دلانے کے لیے اقبال کی فکری اور قائداعظم کی سیاسی رہنمائی میں برپا کی گئی تھی۔

اس ہمہ گیر بگاڑ کے تین بڑے تشویش ناک پہلو ہیں:

  • پہلا اخلاقی بگاڑ جو خود سرکاری سرپرستی میں منظم اور ہمہ گیر کوششوں کے نتیجے میں بد سے بدتر صورت اختیار کررہا ہے اور ظلم اور بداخلاقی اس نشان کو چھو رہی ہے جہاں کارواں کے دل سے احساسِ زیاں بھی رخصت ہوتا نظر آتا ہے۔ ہرسُو بدعنوانی کا دور دورہ ہے جو تقریباً ہرسطح پر طرزِحیات بنتی جارہی ہے، حتیٰ کہ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کو دنیا کے دو یا تین سب سے زیادہ بدعنوان ملکوں میں شامل کر رہے ہیں۔ ملکی اور عالمی ذرائع ابلاغ سبھی اسلامی شعائر اور معاشرے کی مسلّمہ اقدار و آداب کو پامال کرنے میں مصروف ہیں۔ تعلیم کے نظام نے صرف علم ہی کی رسوائی کا سامان نہیں کیا ہے، بلکہ اخلاق کا بھی جنازہ اُٹھا دیا ہے۔ روایات کے بندھن کھل رہے ہیں اور اباحیت پسندی اور آزاد روی کا سیلاب اُمڈ رہا ہے اور بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
  • دوسرا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ افراد کے اس اخلاقی بگاڑ کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے ہر اس ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے، جو قوم کی کشتی کو لنگر کی طرح تھامتا ہے۔ دستور ہو یا قانون، پارلیمنٹ ہو یا انتظامیہ، عدلیہ ہو یا پولیس، سول سروس ہو یا بلدیاتی نظامِ حکومت، تعلیم ہو یا ذرائع ابلاغ، حتیٰ کہ قوم کا آخری سہارا، یعنی خاندان___ ہر ایک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ جن اداروں کو بڑی محنت اور قربانی سے استعمار کے اقتدار کے باوجود محفوظ رکھا گیا تھا، آج ان کی چولیں بھی ہل گئی ہیں اور دیواریں گر رہی ہیں۔
  • بگاڑ کا تیسرا پہلو پالیسی سازی کے سارے عمل اور فیصلہ کرنے والے اداروں اور افراد کا بیرونی اثرات کے تابع ہونا ہے، جس سے ملک کی سیاسی اور نظریاتی آزادی خطرے میں پڑگئی ہے۔ معاشی پالیسیاں بیرونی ساہوکاروں کے ہاتھوں گروی رکھ دی گئی ہیں اور اب عالمی بنک اور  عالمی مالیاتی فنڈ کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ ملک کا بجٹ ملک کی پارلیمنٹ نہیں، ان اداروں کے احکام کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وزیراعظم کے معاشی مشیر تاجروں اور صنعت کاروں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی سفارشات کو منظور کرانا ہے تو آئی ایم ایف کے کارپردازوں سے بات کریں۔

یہی حال قانون سازی کا ہے۔ قانون بناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ ملک و ملّت کا مفاد کیا ہے یا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ امریکا اور مغرب کس بات پر خوش ہوں گے؟ اور کس پر نکتہ چیں؟ چونکہ مغرب نے آج کل فنڈامنٹلزم اور تشدد کا ہوّا کھڑا کر رکھا ہے اس لیے ہماری قومی قیادت کی جانب سے نہ صرف قسمیں کھائی جارہی ہیں کہ ہم فنڈامنٹلسٹ نہیں ہیں بلکہ ہرقانون اور اخلاقی قدر کو پامال کر کے واشنگٹن اور اس کے گماشتوں کے آگے ناک رگڑی جارہی ہے اور انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ان بھیڑیوں اور درندوں کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ خود اقتدار میں آنے اور اقتدار میں رہنے کے لیے عوام اور پارلیمنٹ کے بجاے واشنگٹن کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

غرض سیاست، معیشت اور ثقافت و تمدن ہر میدان میں ہم اپنی آزادی اور حاکمیت پر سمجھوتے کر رہے ہیں اور جو کچھ مسلمانانِ پاک و ہند نے اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا اسے چند طالع آزما اپنے مفاد کی خاطر مسلسل دائو پر لگاتے چلے آرہے ہیں۔

یہ ہے وہ حالت ِزار جس میں، آزادی کے ۶۷سال کے بعد ماضی کے کچھ فوجی اورماضی اور حال کی کچھ نام نہاد جمہوری قوتوں کی حکمرانی کے طفیل پاکستان اور اہلِ پاکستان مبتلا ہیں۔ وہ ملک جو پوری ملت اسلامیہ کے لیے نئی اُمیدوں اور ایک روشن مستقبل کا پیغام لے کر سیاسی اُفق پر نمودار ہوا تھا، اسے ان اتھاہ تاریکیوں میں پہنچا دیا گیا ہے اور بگاڑ اس انتہا کو پہنچ گیا ہے کہ جہاں لوگ خود ملک کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ   ع

وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ!

تبدیلی کا لائحہ عمل

صورتِ حال کے بگاڑ اور تاریکی کی شدت کا انکار ، دراصل حقیقت کے انکار اور عاقبت نااندیشی کے مترادف ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ہماری نگاہ میں مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے بھی کہ مایوسی کفر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حالات کیسے ہی خراب کیوں نہ ہوں، مومن کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا (لَاتَقْنَطُوا مِن رَحْمَۃِ اللّٰہ) ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مخلص انسانوں کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا، جن کے خون اور عصمتوں کی قربانی سے یہ ملکِ عزیز وجود میں آیا ہے۔ اس لیے بھی کہ تاریخ کا یہی فیصلہ ہے کہ بگاڑ کی قوتیں ایک خاص حد پر پہنچنے کے بعد شکست و ریخت کا نشانہ بنتی ہیں اور خیر اور صلاح کی قوتیں بالآخر غالب ہوتی ہیں۔ جس طرح زوال اور انتشار ہماری تاریخ کی ایک حقیقت ہے، اسی طرح تجدید اور احیا بھی ایک درخشاں حقیقت ہیں   ؎

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے

آغوش میں ہرشب کے سحر ہوتی ہے

سوال یہ ہے کہ اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ ہماری نگاہ میں نہ فوج کی مداخلت حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد کی سیاست۔ ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے،    اس سے صرف سیاست ہی نہیں ملک کا وجود بھی خطرے میں ہے، جس کی بڑی وجہ حکومتوں کی آمرانہ روش، تنگ دلی اور تنگ نظری ہے۔ اگر ایک طرف معاشی بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے اور وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ کراچی سے راولپنڈی تک معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور کسی کی آنکھ نہیں کھل رہی۔ یہی وہ حالات ہیں جو تشدد کی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔

اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، بگاڑ کے اسباب پر متفق ہیں اور جو اصلاح کے خواہاں ہیں، وہ مل جل کر مؤثر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو بدلنے کی جدوجہد کریں۔ بگاڑ کے ایک ایک سبب کو دُور کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایک نئی قیادت اُبھرے جس کا دامن پاک ہو ، جو عوام میں سے ہو اور جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔

بگاڑ کے اسباب 

  • سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے اصل مقاصد، اس کی منزل اور ترجیحات کے بارے میں یکسوئی ہو۔ وہ تمام دینی اور سیاسی عناصر جو اسلام، جمہوریت، عدلِ اجتماعی اور خودانحصاری پر یقین رکھتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے قریب آئیں اور اصولوں پر پختہ ایمان رکھنے والی باکردار قیادت کو قوم کے سامنے لائیں۔

قائداعظمؒ نے اپنا مقدمہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور روایتی سیاست کاروں کے سامنے نہیں، برعظیم کے مسلم عوام کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ ان کو بیدار اور متحد کرتے ہوئے ایک ایسی عوامی اور جمہوری لہر پیدا کی تھی کہ روایتی قیادتیں اس سیلاب کے آگے بہہ گئیں۔ آج پھر اس کی ضرورت ہے کہ جمہوری ذرائع سے جمہور کو بیدار اور منظم کیا جائے اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کے لیے ان کو متحرک کیا جائے۔ ملکی اور غیرملکی سازشی عناصر کا اصل توڑ عوام کی بیداری اور ان کی منظم قوت ہے۔

  • دوسری بنیادی چیز قیادت کا صحیح معیار ہے۔ قوم نے بہت دھوکے کھائے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئی قیادت عوام میں سے اُبھرے اور اپنے اخلاق اور کردار کے اعتبار سے دستورِپاکستان میں مرقوم معیار (دفعہ ۶۲، ۶۳) پر پوری اُترے۔ عوام اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ملنا چاہیے جیساکہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ وہ ان دفعات کو عملاً نافذ کرسکیں۔ یہ وہ چھلنی (filter) ہے، جس سے بہتر قیادت رُونما ہوسکتی ہے۔

خودقائداعظم نے اپنی ۱۹۳۶ء کی ایک تقریر میں قیادت کے لیے بڑے نپے تلے انداز میں مطلوبہ معیار کی نشان دہی کی تھی، جس پر آج ہمیشہ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: ’’ملکی حالات کا بغور مطالعہ کیجیے، تجزیہ کیجیے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اس بات کو یقینی بنایئے کہ مقننہ (Legislature) میں دیانت دار، حقیقی، مخلص اور محب ِ وطن نمایندے پہنچیں‘‘۔

  • تیسری ضرورت آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل اور مؤثر تنفیذ ہے ۔ امریکا اور مغربی اقوام سے محتاجی کا جو رشتہ قائم ہوگیا ہے اور جو اب صرف پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک طرح کا  انتظامی تعلق (structural relationship) بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی، عسکری، معاشی اور تہذیبی ہر میدان میں بیرونی ممالک اور قوتوں کااثرو نفوذ بڑھ کر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں وہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور نظریاتی شناخت کو متاثر کررہا ہے۔ بڑے پیمانے (macro) کی سطح پر اثرات سے بڑھ کر بات اب جزوی انتظام و انصرام (micro-management ) تک پہنچ چکی ہے۔ اس لیے نئی آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل اب ملک کی آزادی اور سلامتی کے لیے ازبس ضروری ہوگئی ہے۔

اس کے لیے ایک طرف امریکا کی اعلان کردہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے ہمارانکلنا ضروری ہے، تو دوسری طرف ملکی وسائل کی بنیاد پر معاشی ترقی کا نقشۂ کار بنانا ضروری ہے۔ عسکری میدان میں بھی پہلے قدم کے طور پر اسلحے کے نظام اور خریداری میں مختلف ممالک سے رابطوں کی ضرورت ہے تو دوسری طرف جو حکمت عملی ۱۹۷۰ء میں بنیادی صنعتوں کے قیام اور فروغ کے سلسلے میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور اسٹیل ملز کے قیام کی صورت میں اختیار کی گئی تھی، اسے نئے حالات کی روشنی میں ایک نئے انداز میں فروغ دینا ضروری ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی جو صورت حال ہے اسے بھی جلد اور ایک متعین شکل دے کرکے مسئلے کے اصل سیاسی، معاشی اور تعلیمی ذرائع سے حل کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں بھارت سے تعلقات کے باب پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ملکی مفاد کا تقاضا ہے کہ جزوی اُمور میں اُلجھنے کے بجاے اصل بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے اور اس کے لیے فوری اور دیرپا دونوں نوعیت کی پالیسیاں بنائی جائیں۔ کشمیر اور پانی کے مسئلے کے حل ہی پر بھارت سے سیاسی اور معاشی تعلقات کا دیرپا بنیادوں پر فروغ ممکن ہے۔ ان اساسی پہلوئوں کو نظرانداز کرکے محض ’اعتماد سازی‘ کے اقدامات اور تجارت کا راستہ اختیار کرنا سیاسی اور معاشی ہردوپہلو سے مہلک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک آزاد اور حقیقی معنی میں پاکستانی مفادات اور ترجیحات پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کی جائے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات اور خطوطِ کار میں بعدالمشرقین ہے۔ تمام عوامی سروے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم امریکا اور بھارت کو اپنا دوست نہیں سمجھتی اور ان کی پالیسیوں کو ملک کے لیے سب سے اہم خطرہ شمار کرتی ہے، جب کہ جنرل مشرف دور سے اب تک حکومت کی پالیسی اور ترجیحات عوام کے جذبات اور خواہشات کی ضد ہیں۔

  • چوتھی چیز ایک ملّی ضابطۂ اخلاق کی تشکیل ہے جس کی پابندی تمام سیاسی جماعتوں، پریس اور میڈیا پر لازم ہو۔ اسے افہام و تفہیم سے مرتب کیا جانا چاہیے۔ اس ذیل میں بہت کام ماضی میں ہوا ہے۔ خود دستورِ پاکستان میں بھی اس سلسلے میں بڑی رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر نیا اتفاق راے پیدا کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے کوئی مؤثر نظام بنایا جائے، خواہ عدلیہ اس کام کو انجام دے یا کوئی اور نیا قومی ادارہ۔
  • پانچویں چیز نظامِ انتخاب کی اصلاح ہے۔ انتخابی کمیشن حکومت اور حزبِ اختلاف کے باہم مشورے اور اتفاق راے سے مقرر ہونا چاہیے۔ پاکستان کے حالات میں انتخابات نگران حکومت کے تحت ہونے چاہییں، جس کے بغیر منصفانہ انتخابات کی توقع عبث ہے۔ اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ اسمبلی کی مدت پانچ سال سے کم کر کے ۴سال کردی جائے تاکہ احتساب کم وقفے میں ہوسکے۔
  • چھٹی چیز ایک اعلیٰ احتسابی کمیشن کا قیام ہے، جس کا مطالبہ جماعت اسلامی اول روز سے  کر رہی ہے اور جس کا وعدہ خود پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ کے تو منشور میں بھی اس کا وعدہ ہے۔ اسی طرح اس کا مطالبہ تحریکِ انصاف نے بھی کیا ہے۔ گویا کہ یہ ایک متفقہ قومی مطالبہ ہے۔ پھر اس سے فرار کیوں؟ یہ مستقل کمیشن ایسا ہوناچاہیے جو حکومت، حزبِ اختلاف یا کسی بھی شہر ی یا متاثر ہونے والے فرد کی طرف سے تمام منتخب اور دوسرے ذمہ دار افراد کا احتساب کرسکے۔ اس ادارے کو یہ اختیار حاصل ہو کہ جس نے بھی اپنی سرکاری حیثیت کو ذاتی نفع کے لیے استعمال کیا ہو، اسے قرارواقعی سزا دے سکے اور عوامی وسائل ان سے واپس لے کر سرکاری خزانے میں لائے۔
  • ساتویں چیز دستور کے مطابق صوبائی اور لوکل باڈی کی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہے اور ان میں ضروری صلاحیت کار پیدا کرنا ہے۔ سینیٹ کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانا بھی اس سلسلے میں بڑا مفید ہوسکتا ہے۔
  • آٹھویں چیز عدلیہ کی آزادی، اس کی انتظامیہ سے علیحدگی اور عدلیہ کے فیصلوں کی بلاامتیاز تنفیذ ہے۔
  • نویں چیز سول انتظامیہ اور پولیس کا ایسا انتظام ہے، جو ان کی آزاد اور غیر سیاسی حیثیت کو مستحکم کرسکے۔ ملکی، سول انتظامیہ اور پولیس، ریاست کے ادارے تو ہوں، مگر حکمران پارٹی کے سیاسی آلۂ کار نہ ہوں۔ اس کے لیے ان کو دستوری تحفظ دیا جائے، نیز ان کی تربیت اور وسائل دونوں کا اہتمام کیا جائے۔
  • دسویں چیز قومی زندگی سے کرپشن کا خاتمہ اور اس کے لیے ہرسطح پر مؤثر مہم ہے۔
  • آخری اور بہت ہی ضروری چیز ایک نئی سماجی اور معاشی پالیسی ہے، جس کا ہدف صحیح تعلیم کا فروغ، علاج کی سہولتوں کی فراہمی ، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اور روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ایسی معاشی اصلاحات ہیں، جن سے سود، قمار اور ہر طرح کے استحصال کا خاتمہ ہو، دولت کی تقسیم منصفانہ ہوسکے اور تمام انسانوں کو زندگی کی جائز ضروریات مل سکیں۔

یہ وہ گیارہ نکات ہیں جن پر عمل کر کے قوم ایک بار پھر اسلام کے حیات بخش نظام کے قیام کے لیے متحد اور سرگرمِ عمل ہوسکتی ہے اور چمن میں اس کی روٹھی ہوئی بہار واپس آسکتی ہے۔

دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردی کے جرائم پر قانون کی گرفت کے مؤثر بنانے کے لیے قرارواقعی اقدام کی ضرورت نہ پہلے متنازع تھی اور نہ آج ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ  قانون سازی میں اصل ضرورت سیکورٹی اور عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی___ دونوںکے تقاضوں کو بیک وقت ملحوظ رکھنا ہے۔ کسی ایک طرف جھکائو ظلم کی ایک شکل ہے جو دستورِ پاکستان، اصولِ قانون اور شریعت، سب سے متصادم ہے اور کوئی بھی مہذب معاشرہ، چہ جائیکہ ایک اسلامی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔

نوازشریف حکومت نے اپنی مصالح یا مجبوری کے تحت اکتوبر ۲۰۱۳ء میں دو قوانین بذریعہ آرڈی ننس جاری کیے تھے، جن میں سے ایک دہشت گردی کے خلاف قانون میں ترامیم اور دوسرا ’تحفظ ِ پاکستان‘ کے نام پر ایک نیا Draconian (اژدہائی)قانون تھا، جن پر ملک کے گوشے گوشے سے شدید تنقید ہوئی اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہم نے    بھی نومبر ۲۰۱۳ء کے عالمی ترجمان القرآن میں ان قوانین پر گرفت کی اور تین بنیادوں پر اسے ایک ظالمانہ اور خلافِ دستور و شریعت اقدام قرار دیا:

  1. پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے آرڈی ننس کے ذریعے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا۔
  2. مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے کے دعووں کے ساتھ ایسے اختیارات حاصل کرنا جو سرکاری اہتمام میں صریح ظلم کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
  3. ان قوانین کا دستورِ پاکستان، مسلّمہ اصولِ قانون اور شریعت کے اصول و ضوابط سے متصادم ہونا۔

حکومت نے اب پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کا ہم اصولی طور پر خیرمقدم کرتے ہیں۔ البتہ پارلیمنٹ سے شکایت ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری   ٹھیک ٹھیک ادا نہیں کی اور سیاسی سمجھوتہ کاری اور بیرونی دبائو کے آگے سپر ڈال دینے کی روش اختیار کر کے، عوام کے حقوق کے تحفظ کے باب میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ قومی اسمبلی نے پہلے ہی دن سے تحفظ ِ پاکستان بل کے سلسلے میں سہل انگاری اور سمجھوتہ کاری کا راستہ اختیار کیا۔ پیپلزپارٹی، جمعیت علماے اسلام (ف) ، ایم کیو ایم اور اے این پی نے بظاہر مخالفت کا رویہ اختیار کیا، لیکن سیاسی مصلحتوں اور مراعات کے سایے میں چند جزوی اور غیرمؤثر ترامیم کا سہارا لے کر قانون کی تائید کا راستہ اختیار کرلیا اور یہی رویہ سینیٹ کا رہا، جس نے پہلے تو بہت شورشرابا برپا کیا اور چیلنج کیا کہ اس بل کو ہرگز منظور نہیں ہونے دیں گے، لیکن پھر ایک دم ہتھیار ڈال دیے۔

تحریکِ انصاف نے اصولی مخالفت کی مگر راے شماری کے وقت وہ بھی صرف غیر جانب دار ہوگئے۔ صرف جماعت اسلامی کے ارکان نے ڈٹ کر اس بل کی مخالفت کی،اس کے خلاف ووٹ دیا اور اب اس کے قانون بن جانے کے بعد اسے عدالت ِ عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔

دوسرا پہلو ان قوانین کے نفاذ کے وقت کے بارے میں تھا جو اب بڑی حد تک غیرمتعلق (irrelevant) ہوگیا ہے۔ بہت سا پانی پُلوں کے نیچے بہہ چکا ہے اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آزمایش میں ملک، ہماری افواج، پاکستانی عوام خصوصیت سے متعلقہ علاقے کے ۱۰ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہونے والے ہمارے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کی حفاظت کرے اور ان کی اپنے گھروں کو جلد واپسی ہو۔

تیسری بنیاد دستور، اصولِ قانون اور شریعت کے اصول و ضوابط سے تصادم تھی، جو چند ترامیم کے باوجود بہت بڑی حد تک اس قانون میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر چند ترامیم کے ذریعے کچھ دانت توڑنے کے عمل کے باوجود ہم اسے ایک کالا قانون اور ظلم کا آلہ تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے حقوقِ انسانی کمیشن اور عالمی اداروں میں ہیومن رائٹس واچ نے بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اول الذکر نے اسے بجاطور پر ایک اژدہائی قانون (Draconian Law) قرار دیا ہے، اور ہیومن رائٹس واچ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ عام شہریوں کے دستوری اور بنیادی حقوق کی پامالی کا اس میں بے حد سامان موجود ہے۔ڈان اور ایکسپریس ٹربیون نے اپنے ۱۳جولائی ۲۰۱۴ء کے ادارایوں میں ترمیم شدہ قانون کو بھی غیرتسلی بخش اور دستور کے خلاف قرار دیا ہے۔

جو ترامیم کی گئی ہیں انھیں ایک حد تک مثبت قرار دیا جاسکتا ہے لیکن وہ بے حد ناکافی اور ان بنیادی اعتراضات کو دُور کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہیں، جن کی بنا پر اس ظالمانہ قانون پر  ہم نے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں نے شدید تنقید کی تھی۔ ان ترامیم میں سے ایک کا تعلق’جنگی دشمنوں‘ (enemy combatant) کے تصور سے ہے، جسے اب نکال دیا گیا ہے اور دہشت گردی کی دو شکلوں کو ایک دوسرے سے ممیز کرنے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی ’بیرونی یا خارجی دشمنوں‘ (enemy alien) اور ’دہشت گرد‘ (militant)۔ اول الذکر کا تعلق دہشت گردی کے مرتکب غیرشہریوں سے ہوگا، اور دوسری کا ملک کے شہریوں سے۔ یہ ترمیم بہتر ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ترمیم شدہ شکل میں بھی ’alien‘ (بیرونی)کی تعریف میں جھول ہے اور  اس میں combatant (’جنگی‘) کے عنصر کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر کوئی ’بیرونی‘ دشمن اور دہشت گرد شمار ہوسکتا ہے، جو انصاف اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گرد صرف وہی غیرشہری ہوسکتا ہے جو جنگی عزائم کا حامل ہو۔ محض کسی مشکوک فرد کو ’دشمن‘ قرار دینا، اس وضاحت کے بغیر کہ وہ دہشت گردی کا مرتکب ہوا ہے، انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ تعریف میں یہ جھول خرابی کا باعث ہوسکتا ہے۔

ایک دوسری ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے مجرموں کے لیے سزا اب ۱۰سال سے بڑھا کر ۲۰سال کردی گئی ہے لیکن ان کی احتیاطی نظربندی ایک خلافِ انصاف عمل ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو گنجایش دی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ۲۴گھنٹے کی مدت اگر کم ہے تو ۷ یا ۱۰دن کے اندر اندر ایک شخص پر الزام عائد کیا جائے یا اس کی آزادی کو بحال کیا جائے۔ بدقسمتی سے دستور میں اس کی گنجایش موجود ہے لیکن اس قانون میں دستور کی دفعہ ۱۰ کے تحت due process of law (ضروری قانونی عمل) کے باب میں جو رخصت دی گئی ہے، یہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس طرح اس کے انسانی آزادیوں کے لیے خطرہ ہونے اور سیاسی بنیادوں پر استعمال کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔

ایک اور معمولی ترمیم قانون کی اس شق میں بھی کی گئی ہے جس میں شبہے کی بنیاد پر گولی چلانے کا اختیار پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے افراد کو دیا گیا تھا اور جسے ہم نے اور تمام ہی حقوقِ انسانی کے علَم برداروں نے، شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ہمارے اصل اعتراض کا تو کوئی مداوا نہیں کیا گیا۔ بس یہ اضافہ کردیا گیا ہے کہ ایسا حکم پولیس کے گریڈ۱۵ یا اس سے اُوپر کا کوئی افسر دے سکے گا۔ ہماری نگاہ میں محض شبہے کی بنیاد پر انسانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا صریح ظلم اور ریاستی دہشت گردی کی ایک بدترین شکل ہے۔ پولیس مقابلے کے نام پر یہ خونیں کھیل شب و روز  ہو رہا ہے ۔ حال ہی میں ماڈل ٹائون میں جو کچھ ہوا (۷جولائی ۲۰۱۴ء) وہ سب کے سامنے ہے۔ گریڈ۱۵ کی قید سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پھر یہ گریڈ۱۵ کی قید بھی صرف پولیس کے لیے ہے۔ فوج اور دوسرے نیم فوجی ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ نیز ایسے اقدام کے سلسلے میں لازمی جوڈیشل ریویو کی بھی کوئی باقاعدہ گنجایش نہیں رکھی گئی ہے۔ شکایت کی شکل میں in-house inquiry (شعبہ جاتی تحقیقات) کا ذکر ہے جو ایک bluff (فریب دہی) اور لیپاپوتی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس شق پر ہمارا اعتراض موجود ہے اور یہ دستور، اصولِ قانون اور شریعت کے قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایک اور ترمیم کے ذریعے اس قانون کی مدت دو سال کردی گئی ہے جسے قانون کی زبان میں sun-set provision (یعنی ایسا معاہدہ جو میعاد کے خاتمے پر اگر تجدید نہ کریں تو خود بخود ختم ہوجائے) کہا جاتا ہے۔ لیکن دو سال قیامت لانے کے لیے کیا کم مدت ہے کہ اس تحدید پر اطمینان کا اظہار کیا جائے۔

اپنی ترمیم شدہ شکل میں بھی اس قانون پر ہمارے موٹے موٹے اعتراضات یہ ہیں:

  1. اب بھی قانون میں دہشت گردی کی تعریف میں بہت سقم پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر یہ واضح دفعہ کہ اس شخص کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے جو دھمکی دیتا ہے، اقدام کرتا ہے، یا اقدام کرنے کی کوشش کرتا ہے جو پاکستان کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے خلاف ہو۔ یہ اتنی ڈھیلی ڈھالی تعریف ہے کہ اس کے تحت سرکار جسے چاہے دہشت گرد بناسکتی ہے اور سیاسی اختلاف اور تنقید بھی ایک شخص کو اس لقب کا سزاوار بناسکتی ہے جیساکہ ملک میں ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔ پُرتشدد اقدام (act of violence) پر قانون کی گرفت بجا، مگر محض انتظامیہ کی نگاہ میں جو بھی قول یا فعل سلامتی وغیرہ کے خلاف ہو، وہ بھی دہشت گردانہ اقدام بن جاتا ہے۔ یہ دستور، شریعت اوراصولِ قانون سے متصادم اور انسانی معاشرے اور بنیادی حقوق کے لیے ایک چیلنج ہی نہیں، فی الحقیقت ایک بے نیام تلوار ہے۔
  2. ترمیم شدہ قانون میں ایک نیا ظلم یہ کیا گیا ہے کہ اس کی دوسری فہرست میں جو جرائم ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ان میں حکومت اپنی مرضی سے جب چاہے ترمیم و اضافہ کرسکتی ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے اختیار پر ڈاکا زنی کے مترادف ہے۔ محض انتظامی حکم نامے سے فہرست میں اضافہ دستور اور اسلامی اصولِ عدل دونوں سے متصادم ہے اور سیاسی بنیادوں پر انتقام کا دروازہ کھولنا ہے۔
  3. احتیاطی نظربندی کے باب میں ہمارے اعتراضات حسب سابق باقی ہیں اور ہم اس پہلو سے بھی ترمیم شدہ بل کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں جو دستور کی دفعہ ۱۰ کی بھی خلاف ورزی ہے۔
  4. فرد اور گھر کی پوشیدگی اور خلوت پر دست درازی کا جو اختیار اس قانون میں دیا گیا ہے وہ بھی شریعت اور دستور دونوں کے خلاف ہے۔ وارنٹ کے بغیر تلاشی انسانی حقوق پر ایک وحشیانہ حملہ ہے اور کوئی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ عدالت ِ عظمیٰ نے بھی اپنے ایک مشہور فیصلے میں جو ’مقدمہ محرم علی بنام وفاق‘ پر مبنی ہے دستور کی دفعہ ۱۴ کے تحت ایسے اقدام کے جواز کو چیلنج کیا ہے اور غیرمعمولی حالات میں جب جوڈیشل آرڈر ممکن نہ ہو تو لازمی قرار دیا ہے کہ ان حالات کا تحریری طور پر ذکر کیا جائے جن کی وجہ سے عدالتی اجازت اور وارنٹ کے بغیر ایسا اقدام کیا جارہا ہو۔
  5. اسی طرح بلااشتعال پیشگی فائرنگ جو محض شبہے کی بنیاد پر کی جائے، اس کا کسی شکل میں بھی جواز ممکن نہیں۔ اس اقدام کو بھی سپریم کورٹ نے دستور کی دفعہ۹ سے متصادم قرار دیا ہے۔ ہماری پولیس اور دوسرے ادارے اس سلسلے میں بڑا سیاہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور ان کا اس طرح شبہے کی بنیاد پر عام انسانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا صریح ظلم اور ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
  6. وارنٹ کے بغیر گرفتاری کا حق بھی بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے اور یہ بھی اس قانون میں حسب سابق موجود ہے۔
  7. اس قانون میں الزام کے ثبوت کے سلسلے میں دستور، شریعت اوراصولِ قانون کے اس مسلّمہ اصول کو کہ ثبوت دینا الزام لگانے والے کا فرض ہے اور ہرشخص معصوم ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی الزام ثابت ہوجائے، اُلٹ دیا گیا ہے۔ اب الزام حکومت کے کارپرداز لگائیں گے اور معصومیت ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری ہوگی۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ طریق تفتیش ناقابلِ قبول ہے۔
  8. اس قانون میں لاپتا افراد کے سلسلے میں ایک عظیم ناانصافی کا دروازہ کھولا گیا ہے،   یعنی جو افراد سرکاری اداروں کی تحویل میں بلاقانونی جواز موجود ہیں ان کو بھی مؤثر بہ ماضی (with retrospective effect) زیرحراست تصور کیا جائے گا۔ یہ قانون کے مسلّمہ اصولوں کی نفی ہے اور اس کے ذریعے ایک غیرقانونی عمل کو قانونی جواز فراہم کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اور اس پر قانون کا غلاف بھی چڑھایا جا رہا ہے۔ اس طرح دستور کی دفعہ۱۰ کی جو ماضی میں خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں ان کو سندجواز دی جاسکتی ہے۔

کم از کم یہ آٹھ پہلو ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ قانون ایک کالا قانون ہے۔ پارلیمنٹ نے اسے قانون کی شکل دے کر قوم کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں اور وہ دستور اور شریعت دونوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ عدالت عالیہ سیاسی مصلحتوں اور مجبوریوں سے بالا ہوکر دستور اور اصولِ شریعت کی روشنی میں اس قانون کا جائزہ لے گی اور اس کی ان تمام شقوں کو خلافِ دستور قرار دے گی جو بنیادی حقوق اور اصولِ انصاف کی ضد ہیں۔ ہم پارلیمنٹ کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس قانون پر نظرثانی کرے اور قومی سلامتی اور دستور، شریعت اور انسانی حقوق کی حفاطت اور پاسداری دونوں میں مکمل توازن کے ساتھ قانون سازی کی ذمہ داری ادا کرے ورنہ وہ ان حدود کو پامال کرنے کی مجرم ہوگی جو دستور نے اس کے اختیارات کے استعمال کے لیے مقرر کیے ہیں۔ مقننہ ہو یا انتظامیہ یا عدالت، سب دستور کی تخلیق (creatures) ہیں اور دستور کی دی ہوئی حدود کے اندر ہی وہ اختیارات کے استعمال کا حق رکھتے ہیں۔ وہ عوام اور اللہ دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن غلطی پر اصرار غلطی سے بھی بڑا جرم ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پارلیمنٹ کو اصلاح اور اس کالے قانون میں ضروری ترمیم کی توفیق سے نوازے تاکہ وہ اس ظلم کی تلافی کرسکیں جس کا ارتکاب انھوں نے اس قانون کو منظور کر کے کیا ہے۔

۱۱مئی ۲۰۱۳ء کو منعقد ہونے والے قومی انتخابات کو، اپنی تمام تر خامیوں اور بے قاعدگیوں کے باوجود، ملکی حالات میں تبدیلی اور اصلاح کے باب میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا سمجھا جا رہا تھا اور توقع تھی کہ دو بار کا تجربہ رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر جناب نواز شریف صاحب کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت مشرف اور زرداری اَدوار کی روش کے مقابلے میں پاکستان کے حقیقی مفادات اور عوام کے جذبات اور توقعات کے مطابق اور خود اپنے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادے گی جس میں وہ پھنسی ہوئی ہے۔ سب ہی نے کھلے دل سے اس کو موقع دیا اور اچھی توقعات وابستہ کیں۔ راے عامہ کے جائزے اور اخبارات کے صفحات اس کے غماز ہیں۔

اس فضا میں پارلیمنٹ کی تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے انداز میں اور سارے تحفظات کے باوجود، دست ِ تعاون بڑھایا اور نواز شریف صاحب نے بھی ملک کے دستور اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کی پاس داری کے دعوے کے ساتھ اچھی طرزِ حکمرانی کا وعدہ کر کے اُمیدوں کے کچھ چراغ روشن کیے۔ عدلیہ سے ماضی کی حکومت کا جو ٹکرائو چل رہا تھا، وہ ختم ہوتا نظر آیا۔ سول اور عسکری اداروں میں نئے صحت مند تعاون اور اعتماد باہمی کی بات ہونے لگی۔ میڈیا کا رویہ بھی بحیثیت ِ مجموعی مثبت اور اُمید افزا تھا اور پھر صوبہ سندھ میںپیپلزپارٹی اور صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی اکثریت کا احترام کرتے ہوئے ان کی حکومتوں کے قیام، اور بلوچستان کے مخصوص حالات کی روشنی میں قومی وطن پارٹی کی اکثریت نہ ہوتے ہوئے بھی مسلم لیگ (ن) کی مدد سے مخلوط حکومت کا قیام ایک اچھا آغاز تھا۔ لیکن چند ہی ہفتوں میں پرانی سیاست کے تاریک سایے مطلع کو سیاہ آلود کرنے لگے، عوامی مسائل اور انتخابی وعدے پسِ پشت پڑنے لگے اور شخصی ترجیحات اور خاندانی سیاست ایک نئی شان کے ساتھ جلوہ فگن ہوگئی۔ اُمیدیں دم توڑنے لگیں، تصادم اور کش مکش کی لہریں اُٹھنے لگیں، مفادات کا کھیل پھر شروع ہوگیا، اور اُمیدوں کے جو چراغ روشن ہوئے تھے، ایک ایک کرکے  بجھنے لگے۔ عوام اور سیاسی حلقوں میں مایوسی کی ایک لہر اُبھرنے لگی جو اَب شدید مایوسی کا رُوپ اختیار کرچکی ہے۔ گیلپ کے تازہ جائزے کی رُو سے  ملکی آبادی کا ۴۴ فی صد حکومت کی کارکردگی سے غیرمطمئن ہے اور صرف ۸ فی صد نے مکمل طور پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پہلے ہی سال کی  اس ’کارکردگی‘ پر بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے   ع

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

جنرل مشرف کے اقتدار کے نو سال اور پیپلزپارٹی کی حکمرانی کے پانچ سال ہماری تاریخ کا تاریک باب ہیں۔ دونوں کی پالیسیوں میں ایک گونہ تسلسل تھا اور یہ اُس این آر او (مفاہمتی گٹھ جوڑ) کا ایک حد تک فطری نتیجہ تھا، جس کے تحت پیپلزپارٹی برسرِاقتدار آئی تھی اور جو امریکا اور برطانیہ دونوں کے بنائے ہوئے نقشے کے مطابق اور ان کی سفارت کاری کا ثمرہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی اور حزبِ اختلاف نے ایک خاص کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں گو جنرل مشرف کو سلامی دے کر بھی ملک سے رخصت کردیا گیا، مگر بدقسمتی سے مشرف کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو  اس کے ساتھ رخصت نہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نوازشریف صاحب نے جب جون ۲۰۱۳ء میں اپنے دورِ حکومت کا آغاز کیاتو ملک اندرونی اور بیرونی ہرمحاذ پر شدید ترین بحرانوں کی گرفت میں تھا۔

حکومت کو درپیش سات چیلنج :

نئی حکومت کو کم از کم سات بڑے ہی اہم اور گمبھیر چیلنجوں سے سابقہ تھا، یعنی:

  1. ملک عملاً اپنی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری سے محروم ہوچکا تھا۔ سیاسی اور معاشی ہردوپہلو سے امریکا کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی تھی کہ ملک کی خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے باب میں پالیسی اور معاشی پالیسی اسی کے اشارے پر چلائی جارہی تھیں۔ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ امریکا کے دوسرے اور تیسرے درجے کے سیاسی اور فوجی نمایندے بھی ہمارے صدرِ مملکت، وزیراعظم اور سول اور عسکری ذمہ داروں کو ہدایات ہی نہیں دے رہے تھے، بلکہ دھمکیوں سے بھی  اپنا کام نکال رہے تھے اور سی آئی اے کے کارندے ملک کے طول وعرض میں اپنی کارستانیاں کرنے میں آزاد تھے۔ بہت سے ریمنڈ ڈیوس اور بہت سے شکیل آفریدی یہاں امریکا کا کھیل کھیل رہے تھے، ڈرون میزائل کی بارش تھی، سلالہ اور ایبٹ آباد ہمارا مقدر بن چکے تھے اور ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کا دور دورہ تھا اور معیشت کا بال بال بیرونی اور اندرونی قرضوں میں جکڑ ا گیا تھا۔ ان حالات میں نواز حکومت کے سامنے پہلا بڑا چیلنج ملک کی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری کا تحفظ اور اس کی عزت و وقار کی بحالی تھا۔
  2.  ملک میں امن و امان کی حالت بھی سخت مخدوش تھی۔ لاقانونیت، بھتّا خوری ، ڈاکے اور رہزنی، قتل اور ٹارگٹ کلنگ نے زندگی اجیرن بنا دی تھی۔ جرائم کے ساتھ دہشت گردی اور سیاسی، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر خون خرابے کا بازار گرم تھا۔ امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کی شرکت نے ملک میں دہشت گردی کا ایک طوفان برپا کردیا تھا اور جس خطرناک آگ کے شعلے ۲۰۰۴ء میں اُبھرے اور ۲۰۰۶ء کے لال مسجد کے واقعے کے بعد وہ ایک ملک گیر الائو کا رُوپ دھار گئے۔ زرداری کے دور میں ان میں نہ صرف یہ کہ کمی نہیں ہوئی بلکہ ان کا دائرہ بڑھتا ہی گیا اور جیسے جیسے اور جتنا ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ہماراکردار بڑھا،اتنے ہی اس جنگ کے شعلے ہمارے اپنے در و دیوار کو خاکستر بنانے لگے۔ دہشت گردی کا یہ مسئلہ پیچیدہ اور گمبھیر تھا اور اس کی مختلف شکلیں الگ الگ حکمت عملی کا تقاضا کر رہی تھیں، جب کہ امریکا کے دبائو میں ہماری حکومتیں مسئلے کے سیاسی اور دوسرے پہلوئوں کو نظرانداز کرکے صرف عسکری قوت سے اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جو مسائل کو بڑھانے اور آگ کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہی تھیں۔ عالمی سطح پر بھی یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے مقابلے کے لیے کثیرجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ رہا قوت کا استعمال تو اس سے جتنے دہشت گردوں کا خاتمہ ہوتا ہے، ان کی خاک سے اس سے ۱۰گنا زیادہ دہشت گرد جنم لے لیتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ پارلیمنٹ اور کُل جماعتی کانفرنسوں کی چھے قرار دادیں موجود ہیں جن میں مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت کی نشان دہی کی گئی ہے اور قوت کے استعمال کو چند متعین حدود تک محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو حکمت عملی تجویز کی گئی وہ تین نکتوں پر مشتمل تھی، یعنی مکالمہ،  ترقی اورمزاحمت (Dialogue, Development and Deterrence)۔ اس جامع حکمت عملی کو صحیح اور مطلوب قرار دیا گیا لیکن عملاً اس حکیمانہ ہدایت کو نظرانداز کرکے محض عسکری قوت سے حالات کو قابو کرنے کے ناکام تجربے ہی کو بار بار دہرانے کا راستہ اختیار کیا گیا، حالانکہ دنیابھر میں آج اس امر کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ وہ جنگ ہے جس کا آغاز تو آسان ہے لیکن جب آغاز ہوجائے تو پھر اس سے نکلنا اور اسے ختم کرنا ایک مصیبت بن جاتا ہے۔ مشرف اور زرداری کے دور کا یہ دوسرا چیلنج تھا جس کے مقابلے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت تھی اور نواز حکومت سے توقع تھی کہ وہ لکیر پر لکیر کھینچنے کے بجاے نیا آغاز کرے گی۔
  3. تیسرا بڑا مسئلہ پاکستان کے نظریاتی، تہذیبی اور اخلاقی تشخص کا بُری طرح مجروح ہونا ہے۔ پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے اور پاکستان کی بقا اور ترقی کا انحصار اسلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر اور تشکیل پر منحصر ہے۔ پاکستان کا دستور اس منزل اور منہج کو بالکل واضح الفاظ میں متعین کردیتا ہے لیکن سیکولر اور لبرل طبقہ جو اقتدار پر قابض رہا ہے، اس نے پاکستان کی اس بنیاد کو کمزور ہی نہیں منہدم کرنے اور ’روشن خیالی‘ اور ’موڈریشن‘ کے نام پر مغرب کے ان سیکولر اور لبرل تصورات کو ملک و قوم پر مسلط کرنے کی کوششیں تیز تر کردی ہیں، جو خود مغرب میں ناکام ہوچکے ہیں اور تہذیب و تمدن کے بگاڑ اور انتشار کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ زرداری حکومت نے پرویز مشرف کی اس تباہ کن پالیسی کو جاری رکھ کر ملک کی نظریاتی شناخت کو مزید مجروح اور کمزور کیا۔ مسلم لیگ سے، جسے قیامِ پاکستان کی تحریک کی قیادت کی سعادت حاصل ہے، توقع تھی کہ وہ اس نظریاتی اور تہذیبی خلفشار کا خاتمہ کر کے دستور کے مطابق  ملک کے نظریاتی تشخص کو دوٹوک انداز میں واضح کرے گی۔
  4. چوتھے چیلنج کا تعلق توانائی کے بحران سے ہے جو ماضی کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے مشرف کے دور میں رُونما ہوگیا تھا، اور لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی دشوار اور معیشت کی گاڑی کو بے رفتار کردیا تھا۔ بجلی، گیس اور پانی، ہر تین کے باب میں ملک میں شدید قلت کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی جو زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی تھی۔ رہی سہی کسر بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے پوری کردی تھی اور لوگ بجلی کی نایابی اور گرانی دونوں کے عذاب میں مبتلا تھے۔ توقع تھی کہ نئی حکومت اپنے دعوئوں اور منشور کے اعلانات کے مطابق توانائی کے بحران پر قابو کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرے گی اور عوام کی مشکلات دور ہونا شروع ہوجائیں گی۔ مسلم لیگ کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس کام کا واضح نقشہ اور باصلاحیت ٹیم ہے اور اس چیلنج کے مقابلے میں اس کا بڑا امتحان تھا۔
  5. پانچواں مسئلہ معیشت کا عمومی بحران تھا جو معاشی ترقی کی رفتار کے ٹھیر جانے سے پیدا ہورہا تھا۔ عوام غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت کی گرفت میں تھے۔ ایک طرف پیداواری عمل سُست تھا، تو دوسری طرف درآمدات اور برآمدات میں خوفناک حد تک بڑھا ہوا  عدم توازن، بجٹ کے ہولناک خسارے اور قرضوں کے سونامی نے معیشت کی چولیں ہلا دی تھیں اور عوام کے لیے زندگی ایک عذاب اور آزمایش بن گئی تھی۔ لوگ خودکشیوں تک پر مجبور ہورہے تھے۔نئی معاشی حکمت عملی وقت کی ضرورت تھی۔
  6. چھٹا مسئلہ کرپشن کا تھا جس نے زندگی کے ہر دائرے کو مسموم کردیا تھا۔ ملک کے وسائل کو جس بے دردی سے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور جس طرح ہر سطح پر ملک کو لوٹا گیا، اس نے اشرافیہ کا ایک طبقہ پیدا کردیا ہے جو قومی دولت پر قابض ہے۔ صرف ٹیکس چوری کو لیا جائے تو آزاد تخمینوں کے مطابق ملک کے خزانے کو سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے ڈیڑھ ہزار ارب روپے تک محروم رکھا جا رہا ہے۔ ملک کی دولت جو ملک سے باہر لے جائی جاچکی ہے اس کا اندازہ ۱۰۰ سے ۲۰۰؍ارب ڈالر کا ہے۔ اگر صرف کرپشن پر ۵۰ فی صد ہی قابو پالیا جائے تو ملک کو کسی بیرونی قرضے یاامداد کی ضرورت نہیںرہے گی۔
  7. ساتواں مسئلہ اداروں کے درمیان تنائو، بے اعتمادی اور ٹکرائو سے پیدا ہورہا تھا۔ پرویزمشرف نے عدالت کو اپنی مٹھی میں لانے کے لیے اس پر ضربِ کاری لگائی اور پھر جب وکلا اور عوام کی تحریک کے نتیجے میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا تو ایمرجنسی پلس لگاکر عدالت کا بوریا بستر ہی لپیٹ دینے کی جسارت کی۔ زرداری حکومت نے پہلے تو عدلیہ کی بحالی میں لیت و لعل کی اور پھر جب عوامی دبائو سے مجبور ہوکر عدلیہ کو بحال کیا تب بھی عملاً اس کے ہرحکم کی خلاف ورزی کو اپنا شعار بنالیا۔ اس دور میں بھی عدلیہ ، انتظامیہ اور سول اور عسکری اداروں کے درمیان سرد اور گرم جنگ کا سلسلہ جاری رہا جس نے پولیس اور انتظامیہ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ دستور صفحۂ قرطاس پر تو موجود تھا مگر عملاً اس کو پامال کیا جا رہا تھا اور دستوری اداروں کے درمیان تعاون اور تواقف ناپید تھا۔ ملک دستوری اور انتظامی بحران (constitutional and structural crisis) کا شکار تھا۔

یہ تھے وہ سات بڑے بڑے چیلنج جو نواز حکومت کو درپیش تھے اور توقع تھی کہ وہ ان میں سے ہر ایک کے باب میں مناسب اور مؤثر حکمت عملی بنائے گی اور ایک واضح نقشۂ راہ کے ذریعے ملک کو اس دلدل سے نکالنے کی خدمت انجام دے گی۔

اچھی طرزِ حکمرانی کا فقدان:

حکومت نے عوام کی اچھی توقعات اور سیاسی اور دینی قوتوں کے تعاون کی فضا میں سفر کا آغاز کیا۔ پھر نواز حکومت کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل تھی اور مخلوط حکومت کی جو مجبوریاں ہوتی ہیں، وہ اس کی راہ میں حائل نہ تھیں۔ سب سے بڑے صوبے، یعنی پنجاب میں مسلم لیگ کی اپنی حکومت تھی اور بلوچستان میں بھی مسلم لیگ کو اسمبلی میں مضبوط پوزیشن حاصل تھی اور وہ حکومت کا حصہ تھی۔ ۲۰۱۳ء تک جو سفر جمہوریت نے طے کیا تھا اس میں بھی یہ اشارے موجود تھے کہ اگر حکومت اچھی حکمرانی کا مظاہرہ کرے تو تمام دوسرے ادارے اور قوتیں دستور میں دیے ہوئے توازنِ اختیارات کی طرف سفر جاری رکھ سکیں گے اور جو عدم توازن مشرف دور میں راہ پاگیا تھا، وہ اچھی حکمرانی، آزادعدلیہ اور فعّال میڈیا کی بدولت آگے کے مراحل کامیابی سے طے کرسکے گا۔ پھر یہ بھی توقع تھی کہ مسلم لیگ کے پاس نسبتاً زیادہ تجربہ کار اور باصلاحیت ٹیم ہے جو پارلیمنٹ کی تائید اور رہنمائی میں ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اور وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان تمام مثبت پہلوئوں کی موجودگی میں توقع کی جارہی تھی کہ حالات نئی کروٹیں لیں گے، ملک مسائل سے نکل سکے گا اور پاکستان حقیقی ترقی کی منزل کی طرف ایک آزاد اور اسلامی اور فلاحی ملک کی حیثیت سے پیش رفت کرسکے گا۔ لیکن یہ تمام توقعات ان ۱۲ مہینوں میں پاش پاش ہوگئی ہیں اور پانی کی تلاش میں سرگرداں قوم کا مقدر ایک اور سراب کا نشانۂ ستم بنتا نظر آرہا ہے۔

اس ایک سال میں نواز شریف حکومت نے جو کارکردگی دکھائی ہے، اس نے قوم کو مایوس کیا ہے اور بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ وہ عناصر جو جمہوریت کو ترقی کرتے نہیں دیکھناچاہتے، پَرتول رہے ہیں کہ کس طرح وار کریں اور جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اُتار دیں۔ ہم بڑے دکھ اور دل سوزی سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ حالات کو بگاڑنے میں بیرونی عناصر کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ذمہ داری خود مرکزی حکومت کی بے عملی، غلط حکمت عملی، بُری حکمرانی، بے تدبیری ، وقتی اقدامات (adhocism)  اور مہم جوئی (adventurism)  پر بھی آتی ہے۔ اگر حکومت نے اپنی روش فی الفور تبدیل نہیں کی تو ہمیں خطرہ ہے کہ جمہوریت کی گاڑی کے پٹڑی سے اُترنے کے خدشات خدانخواستہ حقیقت کا رُوپ اختیار کرسکتے ہیں۔

ابھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی جائے اور اس کے لیے تمام سیاسی اور دینی جمہوری قوتوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔

نواز حکومت کے اس پہلے سال کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں، جن کا اِدراک اور پھر اصلاحِ احوال کے لیے مؤثر حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل ہی ملک کو تباہی سے بچاسکتے ہیں۔ وقت اور مہلت کی گھڑیاں کم ہیں، اس لیے فوری توجہ اور عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ اس جائزے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کو دو بڑی بڑی درجہ بندیوں میں بیان کیا جاسکتا ہے: ایک کا تعلق طرزِحکمرانی سے ہے اور دوسری کا پالیسی کے اہداف اور خطوط کار سے۔

طرزِ حکمرانی کے باب میں صاف نظر آرہا ہے کہ وزیراعظم صاحب نے مشاورت اور فیصلہ سازی کے معروف جمہوری اور اداراتی راستے کو اختیار کرنے کے بجاے شخصی حکمرانی اور ذاتی وفاداریوں کی بنیاد پر کاروبارِ حکومت چلانے کے طریقے کو ترجیح دی ہے، جو بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ساری فیصلہ سازی ایک مختصر ٹولے میں محدود ہے جس کا انتخاب  خون کے رشتے یا ذاتی دوستی یا مفادات کے اشتراک پر ہے‘ صلاحیت، تجربے اور فہم وفراست پر نہیں۔

اچھی حکمرانی کا انحصار اصول اور ضابطۂ کار پر اعتماد، مشاورت کے وسیع تر نظام، پالیسی سازی میں تحقیق اور تجزیے کا اہتمام، اور ہر کام کے لیے صحیح ترین فرد کا انتخاب اس کی صلاحیت اور دیانت کی بنیاد پر ہے۔ ذاتی پسند و ناپسند سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔

اداروں کے درمیان تصادم:

ہر کامیاب نظام کے لیے، اور خصوصیت سے جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ، کابینہ، پارلیمنٹ اور کابینہ کی کمیٹیوں ، تحقیقی اداروں، صوبوں اور ملک کے دوسرے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر اور مسلسل مشورہ ہو۔ اس طرح پالیسی سازی باہمی مشاورت، مذاکرات اور تعاونِ باہمی کے ذریعے انجام دی جائے۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں کھلی بحث ہو۔ مرکزی حکومت کے بارے میں عام شکایت یہ ہے کہ چند افراد پورے ملک کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں نہ کوئی قابلِ ذکر قانون سازی ہوئی ہے اور نہ پالیسی اُمور پر بحث۔ پھر وزیراعظم صاحب پورے سال میں صرف آٹھ بار پارلیمنٹ میں تشریف لائے ہیں اور وہ بھی رسمی طور پر ۔ وزیراعظم نے بمشکل دو پالیسی بیان اس زمانے میں پارلیمنٹ میں دیے ہیں۔ سینیٹ میں پورے سال کے بعد اب ایک بار چند منٹ کے لیے شریک ہوئے ہیں، وہ بھی اس شان سے کہ جو تقریر قومی اسمبلی میں کی ہے وہی سینیٹ میں دہرا کر رخصت ہوگئے، اور مقامِ حیرت ہے کہ اس تقریر میں یہ جملہ بھی اسی طرح ادا کردیا جس طرح قومی اسمبلی میں کیا تھا کہ ’’میں نے ۲۹جنوری کو اس ایوان میں جو اعلان کیا تھا‘‘ اس سہل انگاری پر ماتم کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس بار بار یاددہانی کرا رہی ہیں لیکن اہم ترین اداروں پر یا تو تقرریاں ہوہی نہیںرہی ہیں یا اگر ہورہی ہیں تو قواعد کے مطابق مستقل تقرریوں کی جگہ ایڈہاک انداز میں نامزدگیاں کی جارہی ہیں یا قائم مقام کام چلا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ۱۰ماہ سے خالی ہے، پیمرا کے سربراہ کا عہدہ خالی ہے، ۴۰ سے زیادہ سرکاری ادارے ہیں، جن کے سربراہوں کا تقرر اس ایک سال میں نہیں ہوسکا۔ اخباری اطلاع کے مطابق نو اہم اداروں کے سلسلے میں سمری وزیراعظم کے دفتر میں موجود ہے، لیکن ان پر فیصلے کی نوبت نہیں آتی۔ نیشنل کمیشن براے ہیومن رائٹس بل پارلیمنٹ میں مئی ۲۰۱۲ء کو منظور ہوا تھا، مگر کمیشن اور اس کے سربراہ کا تقرر آج تک معرضِ التوا میں ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ NACTA کے سربراہ کا تقرر،  Rapid Deployment Force کا قیام اور جائنٹ انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کا نظام دواڑھائی ماہ میں متحرک ہوجائے گا۔ یہ اعلان ۱۳؍اگست ۲۰۱۳ء کو ہوا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی ادارہ اب تک عملاً اپنا کام شروع نہیں کرسکا ہے۔

اعلان کیا گیا تھا کہ کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوا کرے گا اور دستوری ادارہ مشترکہ مفادات کی کونسل (Council of Common Intersts) کا اجلاس ہر تین ماہ میں ایک بار ضرور ہوگا لیکن کوئی بھی ادارہ اپنے وقت پر اپنا اجلاس منعقد نہیں کر رہا ہے۔ بات صرف ان ایک یا دو اداروں کی نہیں، اس سلسلے میں باقی ادارے بھی تقریباً اسی حالت میں ہیں۔

ہم بڑے دکھ سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ شخصی حکمرانی اور اہم ترین تقرریوں میں کوتاہی یا ذاتی پسند و ناپسند کا دور دورہ محض مرکز ہی میں نہیں‘ صوبوں میں بھی عام ہے۔ پنجاب تو میاں صاحب کی روایات کا اسیر ہے، لیکن خود سندھ کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں۔ کراچی جو ۳۰سال سے دہشت گردی کی لعنت کی گرفت میں ہے وہاں پولیس اور انتظامیہ سیاسی قیادتوں کی دخل اندازیوں سے تباہ ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ کے تقرر کو سیاسی کھیل بنایا ہوا ہے۔ پچھلے ۱۸مہینوں میں      چھے سربراہ تبدیل ہوئے ہیں۔ اوسط مدت ملازمت ۱۲ہفتے بنتی ہے۔ شاہدحیات کو سب سے زیادہ زمانہ ایڈیشنل آئی جی رہنے کا موقع ملا، لیکن انھیں بھی نومہینے میں تبدیل کردیا گیا اور یہ سب اس کے باوجود کہ ڈی جی رینجرز ان کو قیامِ امن کے لیے عہدے پر فائز دیکھنا چاہتے تھے اور مرکزی وزیرداخلہ بھی اس تبدیلی پر کھلے بندوں احتجاج پر مجبور ہوئے، مگر چہیتوں کو تقرر کرنے والوں کا ہاتھ کوئی نہ روک سکا۔ شاید کچھ قوتیں چاہتی ہی نہیں کہ کراچی میں امن قائم ہو۔

سرکاری وسائل کا بے دردی سے استعمال:

سرکاری وسائل کو کس طرح ذاتی نام و نمود پر خرچ کیا جا رہا ہے، اس کی داستان بھی بڑی دل خراش اور شخصی حکمرانی کی بدترین مثال ہے۔ اس وقت جب تھر میں قحط پڑ رہا تھا اور بچے بھوک، پیاس اور ادویہ کی عدم فراہمی سے لقمۂ اجل بن رہے تھے، بلاول صاحب کے ’ذوقِ ثقافت‘ کی تسکین کے لیے موہن جوڈارو کا فیسٹیول منعقد کیا گیا جس پر ۲؍ارب روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے گئے۔ زرداری حکومت نے تحریکِ خواتین کی مدد کے پروگرام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام دے کر سیاسی فائدہ اُٹھانے کا سامان کیا۔ اب سندھ حکومت نے بے نظیر شہید ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا ہے۔ پھر لیاری میں سرکاری خرچ پر بلاول انجینیرنگ کالج قائم کیا جا رہا ہے اور لیاری ہی میں آصفہ انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس قائم  کیا جارہا ہے۔ یہ سب شخصی حکمرانی کی بدترین مثالیں ہیں۔ قومی وسائل جو ایک امانت ہیں، ان کو بے دریغ ذاتی اور سیاسی مصالح کے لیے صرف کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے سمِ قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔

اندازِ حکمرانی کی اس تباہ کاری کے ساتھ قومی سلامتی و خارجہ پالیسی، اور سیاسی اور معاشی حکمت عملی کے باب میں بھی حکومت کا ریکارڈ نہایت مایوس کن ہے۔

ملکی سلامتی کو خطرہ اور طالبان:

سب سے پہلے ملک کی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری کے مسئلے کو لیجیے۔ آزاد خارجہ پالیسی کی سمت میں کوئی پیش قدمی کسی سطح پر بھی نظر نہیں آتی۔ امریکا کا عمل دخل حسب سابق جاری وساری ہے۔ ڈرون حملے چھے ماہ کے تعطل کے بعد پھر اسی زور و شور سے شروع ہوگئے ہیں اور مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت پاکستان کی اجازت اور فوجی انٹیلی جنس کے تعاون سے ہماری حاکمیت پر یہ حملے کیے جارہے ہیں۔ امریکاکو ۱۰سال کی کوشش اور دبائو کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن کرانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے اگرچہ اس کی ذمہ داری خود لی جارہی ہے، لیکن حقیقت وہی ہے جس کا اظہار ۱۵جون کے اقدام کے دو دن بعد ۱۷؍جون ۲۰۱۴ء کے انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز میں کیا گیا ہے۔ یعنی: ’’۱۰سال بعد جاکر امریکی مطالبے کو بڑی مشکل سے پذیرائی ملی، اگرچہ پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے بہت بڑا رسک ہے‘‘۔ ۲۶ جون کو امریکا میں پاکستان کے سفیر جناب جلیل عباس جیلانی نے صاف الفاظ میں اس دعوے پر یہ کہہ کر مہرتصدیق ثبت کردی ہے کہ: ’’امریکا وزیرستان آپریشن کے بارے میں مثبت رویہ رکھتا ہے اور کولیشن سپورٹ فنڈوزیرستان آپریشن کے لیے ہے ۔ امریکا پاکستانی فوج کی قربانیوں کا معترف ہے‘‘۔

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر نے ایک سے زیادہ بار اس امر کا اظہار کیا ہے کہ: پاکستان افغانستان سے امریکی افواج کی ۲۰۱۴ء کے اختتام پر واپسی پر ناخوش ہے اور وہ امریکی افواج کے مزید افغانستان میں رہنے کاقائل ہے۔ حالانکہ علاقے میں امن کے قیام کا اس وقت تک کوئی امکان نہیں جب تک امریکی اور ناٹو افواج کاافغانستان سے مکمل انخلا نہیں ہوجاتا اور افغانستان میں ایک ایسی قومی حکومت وجود میں نہیں آتی، جس میں تمام افغان، بشمول طالبان، شریک ہوں۔لیکن ہماری حکومت وہی راگ الاپ رہی ہے جو مشرف نے امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کی آواز میں ملاکر شروع کیا تھا۔

طالبان کے تصورِ اسلام کے بارے میں ہمارے تحفظات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہم نے ان کا اظہار اس وقت کیا جب طالبان افغانستان میںبرسرِاقتدار تھے اور امریکا کی خفیہ تائید انھیں نہ صرف حاصل تھی بلکہ ان کے ساتھ توانائی اور معدنیات کی دریافت کے لیے کھلے مذاکرات کیے جارہے تھے۔

۱۳سال کی افغان جنگ کے بعد اب امریکی قیادت اور تحقیقی ادارے یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ طالبان افغانستان میں ایک حقیقت ہیں اور ان سے مذاکرات اور ان کی حکمرانی میں شرکت کے بغیر وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ امریکا اور طالبان میں مذاکرات کے سلسلے بھی ڈھکے چھپے اورکھلے بندوں جاری ہیں اور قیدیوں کا تبادلہ بھی کھلے عام ہورہا ہے۔

ان حالات میں پاکستان کی قیادت کا ان کے خلاف اور خصوصیت سے حقانی گروپ جس سے پاکستان کوکبھی کوئی خطرہ نہیں تھا کے خلاف ہونا ایک ناقابلِ فہم معاملہ ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے نام پر کی جانے والی ان تمام کارروائیوں کی ہم نے ہمیشہ مذمت کی ہے، جن میں معصوم انسان شہید کیے گئے ہیں یا ریاستی اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم قوت کے ذریعے شریعت یا جمہوریت اور سیکولر لبرلزم دونوں کے قیام کے ہمیشہ سے مخالف رہے ہیں اور اسے اسلام اور معروف جمہوری اور سیاسی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔ نیز ہم نے ہمیشہ اس راے کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی ایک قسم نہیں ہے اور اس کی ہرہرنوعیت کو سامنے رکھ کر اس کا مقابلہ اور ازالہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ لیکن ہماری آواز مقتدر حلقوں کے لیے صدابصحرا ثابت ہوئی اور فوجی آپریشن کے دائرے کو شمالی وزیرستان تک وسیع کردیا گیا ہے۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اب بھی پاکستانی حکومت، ہماری افواج اور خود طالبان کو ہدایت دے اور وہ بندوق کے بجاے دلیل اور افہام و تفہیم سے معاملات کو طے کرنے کا راستہ اختیار کریں۔ پاکستان کی افواج ہماری قیمتی متاع ہیں اور ہم قوم اور وطن کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کے دل سے معترف اور ان کی قوت اور کامیابی کے لیے دعاگو ہیں لیکن جس عمل کو ہم   بے فیض دیکھ رہے ہوں تو اس کے بارے میں اپنے تحفظات کے اظہار کے باب میں کسی مداہنت کو  بھی صحیح نہیں سمجھتے۔ ہماری کوشش تھی کہ نوبت آپریشن تک نہ آئے اس لیے ہم مذاکرات شروع کرانے کے لیے کوشاں رہے۔ لیکن اب، جب کہ آپریشن شروع ہوگیا ہے تو ہماری خواہش اور دعا ہے کہ یہ جلد از جلد ختم ہو اور معاملات کے سدھار اور اصلاح کا کوئی معقول راستہ اب بھی نکل آئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہرممکن کوشش اس امر کی ہو کہ اس سے جو مشکلات اور مسائل علاقے کے عوام کے لیے پیدا ہوگئے ہیں، ان کے فوری حل کے لیے تمام وسائل بروے کار لائے جائیں۔

جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت کے سرفروش مقدوربھر کوشش کر رہے ہیں کہ ۷لاکھ افراد جو بے گھر ہوگئے ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ان کی ہرممکن مدد کی جائے۔ پتا نہیں ان کی آزمایش کی مدت کتنی طویل ہوگی۔ اس موقعے پر اس امر کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ مرکزی حکومت نے اس آپریشن کے نتائج سے نبردآزما ہونے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی، حالانکہ اسے  چھے مہینے ملے تھے کہ خراب سے خراب صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کرتی، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیتی، مناسب مقامات پر بے گھر ہونے والے متاثرین (IDPs) کے قیام اور طعام کا انتظام کرتی اور اس کے لیے مناسب وسائل فراہم کرتی، تاکہ مرکز اور صوبے دونوں کے تعاون اور اشتراک سے اس صورتِ حال کا مقابلہ ہوسکتا۔

 یہاں بھی حکومت نے اس سہل انگاری کا مظاہرہ کیا جو اس کے اندازِ حکمرانی کا خاصّہ بن گیا ہے۔ پہلے ۱۰ دن میں ساڑھے چار لاکھ افراد صرف بنوں کے علاقے میں رجسٹر ہوچکے تھے۔ سوات اور دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہونے والے افراد اس کے علاوہ ہیں۔ کم سے کم اندازہ ہے ان ۱۰دنوں میں ۷لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے کمالِ فیاضی سے اس کے لیے ۵۰کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا، جب کہ اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق فوری طور پر کم از کم ۲۸؍ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس حکومت کی ترجیحات کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اسی زمانے میں پنڈی اسلام آباد ۲۴کلومیٹر کے میٹروبس پراجیکٹ کے لیے ۴۴؍ارب ۲۱کروڑ کی رقم رکھی گئی ہے۔

یہ تو فوری ضرورت ہے، لیکن دہشت گردی کے مسئلے کا صرف یہی ایک پہلو نہیں۔ اس کے تمام پہلوئوں کے بارے میں مناسب حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ اس وقت جہاں بے گھر ہونے والے متاثرین کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے اور فوری توجہ چاہتا ہے، وہیں دہشت گردی کے تمام اسباب کو سامنے رکھ کر ہمہ گیر پالیسی بنانے کی بھی ضرورت ہے، جس سے صرفِ نظر تباہ کن ہوگا۔ امریکا سے تعلقات پر نظرثانی اور امریکی جنگ سے نکلنے کے راستوں سے غفلت بہت ہی خسارے کا سودا ہوگا۔ ملک کے باقی تمام علاقوں میں جو دہشت گردی ہے، اس سے نبٹنے کے لیے بھی صحیح پالیسی اور اقدام درکار ہیں۔ یک رُخی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ نیز جو پالیسی محض ردعمل میں بنائی جائے یا جس کا محرک غصہ، بدلہ یا انتقام ہو، وہ خیروبرکت کا باعث نہیںہوسکتی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ حکومت تمام سیاسی اور دینی قوتوں کو اعتماد میں لے اور کھلے ذہن کے ساتھ مسئلے کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر زیادہ سے زیادہ قومی اتفاق راے پیدا کرکے ہمہ جہتی پالیسی بنائے۔ حالات کو سنبھالنا، نقصانات کو کم سے کم کرنا اور تباہ حال خاندانوں کو سینے سے لگانا اور ان کی مشکلات کو دُور کرنا ہم سب کی مشترک ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی کوتاہی بڑی مہنگی پڑسکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فاٹا پر ہمارا دستور ۶۷سال سے لاگو نہیں ہے اور سوات، باجوڑ اور دوسرے علاقوں میں جہاں فوجی آپریشن ہوا ہے پانچ سال گزرنے کے باوجود سول نظام بحال نہیں ہوسکا ہے۔ شمالی وزیرستان کے آپریشن کے ۱۰، ۱۱ دن ہی میں جو کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور   جو خطرات منڈلا رہے ہیں ان سے صرفِ نظر تباہ کن ہوگا۔ ٹی وی اینکر اور کالم نگار سلیم صافی نے بڑی دردمندی کے ساتھ متنبہ کیا ہے کہ ذرا سی غلطی کتنی خطرناک ہوسکتی ہے:

اللہ کے بندو! اس ملک اور اس قوم پر رحم کرو۔ ہماری خاطر نہیں اپنی اولاد کی خاطر۔   یہ ۷لاکھ آئی ڈی پیز [بے گھر ہم وطن] نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کا رویہ یہ رہا تو یہ ۷لاکھ خودکش بمبار بن جائیں گے۔ آج آپ لوگ سیاست اور اقتدار کے نشے میں مبتلا ہو لیکن یاد رکھو آپ پر بھی کبھی یوسف رضا گیلانی والاوقت آسکتا ہے اور خاکم بدہن آپ میں سے بھی کسی کا بیٹا حیدرگیلانی یا شہباز تاثیر بن سکتا ہے۔ ہماری خاطر نہیں، اپنے بچوں کی خاطر ان ۷ لاکھ وزیرستانیوں کی طرف توجہ دو تاکہ وہ خودکش بمبار، طالب یا پھر اغواکار بن کر مستقبل میں آپ کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں، جو انھوں نے ایک سابق گورنر اور سابق وزیراعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۴جون۲۰۱۴ء)

ناقص افغان پالیسی:

اندازِ حکمرانی کی اصلاح کے ساتھ بیرونی اور اندرونی سلامتی کی پالیسی کی اصلاح کو اولیں اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا مرکزی ہدف درست ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی اور اس کو درپیش حقیقی خطرات___ بیرونی اور اندرونی دونوں پر توجہ مرکوز رکھنا ضروری ہے۔ اندرونی خطرات کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا اور اندرونی خطرات کے غبار میں بیرونی خطرات سے صرفِ نظر اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اندرونی خطرات کے اسباب کے ساتھ ان کے بیرونی رابطوں کا شعور اور ان کے مقابلے کی حکمت عملی بھی سلامتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

افغانستان سے اختلافات اور نوک جھونک تو قیامِ پاکستان کے وقت سے رہی ہے، لیکن افغانستان سے پاکستان کی سلامتی کو کبھی حقیقی خطرہ نہیں رہا۔ پہلی بار واضح خطرے کاسگنل افغانستان میں روس کی بالواسطہ مداخلت (ترکی ریولیوشن) سے رُونما ہوا، اور ڈیڑھ سال کے اندر اندر بالآخر دسمبر ۱۹۷۹ء میں روس کی بلاواسطہ فوج کشی کی صورت میں ایک فوری خطرے کی شکل اختیار کرلی۔ پاکستان کا ردعمل اسی وجہ سے ہوا اور اسی سے ہمارے دفاعی اور سلامتی کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی اور اس وقت سے آج تک افغانستان ہماری خارجہ پالیسی کا ایک مرکزی ایشو بن گیا۔

افغانستان میں بھارت کا کردار ۱۹۴۷ء سے تھا، مگر افغانستان پر امریکی فوج کشی اور بھارت اور امریکا کی اسٹرے ٹیجک شراکت کاری نے افغانستان میں اور افغانستان کے راستے میں بھارت کے کردار کو ایک نئی شکل دی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں ایک ایسا رشتہ کہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا اور پشتی بان ہوں، دونوں کے مفاد میں ہے اور اس کا راستہ ایک دوسرے کے معاملات میں حقیقی عدم مداخلت کے ساتھ تعاون اور افغانستان میں ایسے نظام کا ہے جو قومی مفاہمت اور یک رنگی سے عبارت ہو۔ تاہم، یہ اسی وقت ممکن ہے، جب افغانستان کے تمام عناصر اور خصوصیت سے پشتون، ہزارہ اور تاجک مل کر اپنے معاملات کو سنبھالیں۔ طالبان سے مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت خود امریکا محسوس کر رہا ہے اور پاکستان کا بہترین مفاد بھی اُس افغان یک جہتی کے حصول میں ہے جس میںسب افغان شریک ہوں۔ وزیرستان میں آپریشن اس کا ذریعہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس مقصد سے دُور کرنے کا باعث ہوگا۔ ہماری قومی سلامتی کی پالیسی میں اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

بھارت سے دوستی اور حقائق سے چشم پوشی:

پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے دوستی چاہتا ہے لیکن بھارت سے جو خطرات ہماری قومی سلامتی کو درپیش ہیں، ان سے صرفِ نظر کرنا بدترین تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ افغانستان میں نئے صدارتی انتخاب کے نتیجے میں جو بھی تبدیلی آئے گی اور جو بھی نئی قیادت برسرِاقتدار آتی ہے، پاکستان کو اس سے یک جان و دو قالب کے رشتے کو استوار کرنے کو اوّلیت دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ بھارت میں جس نئی قیادت نے زمامِ کار سنبھالی ہے اس کے عزائم، تاریخ اور ترجیحات کا بھی گہری نظر سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت میں دوستانہ تعلقات دونوں ممالک کی ضرورت ہے، لیکن یہ مقصد یک طرفہ طور پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جو بنیادی تنازعات موجود ہیں، ان کو حق وانصاف کے مطابق طے کیا جائے اور محض طاقت اور معیشت کے حجم کی بنیاد پر یاجزوی اور شخصی مفادات کو اولیت دے کر لیپاپوتی کے ذریعے حالات کو نارمل بنانے یا سمجھنے کی حماقت نہ کی جائے۔ جناب نواز شریف کا ذہن اس سلسلے میں بڑا پراگندا ہے۔ وہ بھارت کی تاریخ ، اس کے سیاسی اور معاشی عزائم اور اس کی سیاست کے پیچ و خم سے واقف نہیں اور اس غلط فہمی اور خوش خیالی میں مبتلا ہیں کہ تجارت اور معاشی لین دین سے تعلقات کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔

ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت کی طرف سے خطرات کا ان کو صحیح اِدراک نہیں اور جناب نریندرمودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کے بارے میں وہ شدید غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ اور ہماری عسکری قیادت کو حالات کا بہتر اِدراک ہے۔ بھارت سے مستقبل کے تعلقات کے مسئلے کو شخصی پسنداور ترجیحات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ اس سلسلے میں پوری سوچ بچار اور تمام پہلوئوں پر گہرے غوروفکر کے ساتھ کسی تاخیر کے بغیر ایک دیرپا پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف صاحب نے جس طرح نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے موقعے پر معاملات انجام دیے ہیں، وہ بہت محل نظر ہیں۔ وہ اپنے کاروباری صاحب زادے حسن نواز کو اس دورے میں ساتھ لے کر گئے، چنانچہ بھارت میں لوہے کی صنعت کے کرتادھرتا سے ان کی ملاقاتوں کے بارے میں بجاطور پر سوالیہ نشان اُٹھائے گئے ہیں، جو سنجیدہ غوروفکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر کشمیر کے مسئلے پر جس طرح اس دورے میں خاموشی کا روزہ رکھ لیا گیا اور حسب سابق کشمیری قیادت سے ملاقات تک کی زحمت نہیں کی گئی وہ بہت تشویش ناک ہے۔ آزاد خارجہ پالیسی کے باب میں بھارت کے بارے میں پالیسی اور جنوب سے اُبھرتے ہوئے خطرات کی روشنی میں عسکری اور سفارت کاری کے میدانوں میں صحیح حکمت عملی کی صورت گری ازبس ضروری ہے۔

پاک امریکا تعلقات اور قومی و ملّی مفادات کی نفی:

آزاد خارجہ پالیسی کے سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ امریکا سے تعلقات کی تنظیم نو ہے جو خواہشات کی بنیاد پر نہیں،اصل زمینی حقائق اور پاکستان کے مفادات کی بنیاد پر مرتب ہونی چاہیے۔ نیز مشرق وسطیٰ خصوصیت سے شام، عراق، لیبیا، مصر اور ایران کے سلسلے میں امریکا کی جو پالیسی ہے، اسے بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ حالیہ افغان جنگ میں امریکا نے جو کچھ کھو دیا ہے اور جو کچھ پایا ہے، اس پر امریکا کے علمی، سفارتی، صحافی اور سیاسی حلقوں میں بحث ہورہی ہے اور اس بحث کے دُور رس نتائج مرتب ہونے کی توقع ہے۔ امریکا کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کو جو حیثیت حاصل ہے وہ بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح امریکا اور بھارت کے تعلقات نے جو رُخ گذشتہ ۱۰سال میں اختیار کیا ہے، اس کا پاکستان اور اس کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں سے گہرا تعلق ہے۔ امریکا میں راے عامہ اور سیاسی اور سفارتی حلقوں میں پاکستان کا جو تصور ہے، اس سے صرفِ نظر کرکے خیالی پالیسیاں بنانا بڑا خسارے کا سودا ہوسکتا ہے۔ اس لیے پوری عرق ریزی کے ساتھ اور حقیقت پسندی کا دامن تھامتے ہوئے تعلقات کا ایک نیا دروبست بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات بھی سامنے رہے کہ پاکستانی عوام کی نگاہ میں امریکا سب سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ملک ہے اور امریکی راے عامہ کی نگاہ میں پاکستان کی یہی تصویر ہے۔ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا شدید فقدان ہے اور تعلقات کو نئی جہت دینے کا کام ان زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے انجام دینا بڑی حماقت ہوگی۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی یادداشتیں مرتب کی ہیں، اس میں اس نے اعتماد کے فقدان کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ اسی وجہ سے ایبٹ آباد کے امریکی آپریشن کا اہتمام پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔ یہ صرف ہیلری کلنٹن کے خیالات نہیں پوری امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اور ذہنی قیادت کی سوچ کا آئینہ ہے۔ امریکا اس وقت مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کی تشکیل نو میں جو کردار ادا کر رہا ہے اور افغانستان اور عراق میں امریکی مداخلت کا جس سے گہرا تعلق ہے، اس کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ امریکی دانش ور اور عسکری تجزیہ نگار پاکستان اور عرب دنیا کے نقشوں کی ٹوٹ پھوٹ کی جو تصویریں بنا رہے ہیں، وہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

نائن الیون کے بعد سے اسلام اور مسلم دنیا کو جس طرح ہوّا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض شاعرانہ خوش خیالی نہیں، سیاسی عزائم اور ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ دوستی اور تعاون کے رشتوں کو قائم رکھنے کے تمام دعوئوں کے ساتھ جو ذہن بنایا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکا کے لیے اصل خطرہ پاکستان ہے۔ اس کا بڑا ہی کھل کر اظہار اسی مہینے شائع ہونے والی کتاب The Wrong Enemy میں کیا گیا ہے جس کی مصنفہ ایک مشہور صحافی کارلوٹا گال ہے، جس نے گذشتہ ۱۲برس افغانستان اور پاکستان سے نیویارک ٹائمز کی نمایندے کی حیثیت سے کام کیا ہے اور جسے امریکا میں دونوں ممالک پر ایک مستند حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ موصوفہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ افغانستان پر فوج کشی کرکے ہم نے ناحق اپنے فوجیوں کی جانیں اور اپنے ٹیکس دینے والوں کی دولت کو ضائع کیا۔ ہمارا اصل دشمن تو پاکستان ہے اور جب تک اسے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا، امریکا کے مفادات معرضِ خطر میں رہیں گے۔ ملاحظہ ہو ، کیا ارشاد ہے:

جنگ ایک المیہ رہی ہے جس کی قیمت اَن گنت زندگیوں نے چکائی ہے۔ یہ بہت طویل عرصے سے جاری ہے۔افغانی کبھی بھی دہشت گردی کے وکیل نہیں رہے، لیکن    نائن الیون کے بعدسزا کا اصل دبائو انھوں نے ہی برداشت کیا۔پاکستان جو اتحادی فرض کیا جاتا ہے دھو کے باز ثابت ہوا۔ اس نے افغانستان میں تشدد کو اپنی بالادستی جیسے مقاصد کے لیے آگے بڑھایا ہے۔ پاکستان کے جرنیلوں اور ملائوں نے اپنے آپ کو، اپنے افغان پڑوسیوں کو اور ناٹو کے حلیفوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان نہیں، پاکستان حقیقی دشمن رہا ہے ۔ (The Wrong Enemy: America in Afghanistan (2001-2014) by Carlotta Gall, Houghton Mifflin Harcourt, Boston- New York-2014)

ہم ایک بار پھر واضح کرناچاہتے ہیں کہ پاکستان کو دنیا کے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے چاہییں۔ ہم دوست بنانا چاہتے ہیں، دشمن نہیں۔ لیکن یہ تعلقات حقائق پر مبنی ہونے چاہییں، اور پاکستان کے حقیقی مفادات کے حصول کو اولیت حاصل ہونی چاہیے۔ حقائق کو نظرانداز کرکے جو اڑان بھی کی جائے گی، وہ مفید نہیں ہوسکتی  ع

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

نواز حکومت نے اس ایک سال میں خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے باب میں جو بھی پالیسیاں بنائی ہیں اور اقدامات کیے ہیں، ہم بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ بڑی حد تک سابقہ اَدوار کے تسلسل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک کے اسٹرے ٹیجک مفادات اور عوام کے جذبات جن تبدیلیوں کا تقاضا کر رہے تھے، ان کی کوئی جھلک ان میں دُور دُور نظر نہیں آتی۔ جو بات خارجہ پالیسی، قومی سلامتی کی پالیسی اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی حکمت عملی کے سلسلے میں درست ہے، کم و بیش وہی ملک و قوم کو درپیش دوسرے چیلنجوں اور مسائل پر بھی صادق آتی ہے جن پر حسب توفیق ہم آیندہ گفتگو کی کوشش کریں گے۔ البتہ اس پہلے سال کے جائزے کا یہ پیغام واضح ہے کہ ملک و قوم کو جس تبدیلی کی ضرورت تھی، اس کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ ابھی وقت ہے اورحکومت اگر چاہتی ہے کہ پاکستان اس دلدل سے نکلے اور جمہوریت کی گاڑی آگے چل سکے، تو اسے اپنی روش میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔

روزہ ایک عظیم عبادت اور دین کے ان ستونوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے جن پر اس کی پوری عمارت مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر ایک بہت ہی عظیم الشان انعام ہے اور اس نعمت کا جتنا بھی  شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

اللہ کے اس انعام کا ایک پہلو ایسا ہے جو اسے عبادات اور احکام ِالہی میں منفرد بنا دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس کا گواہ اللہ اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔نماز عماد الدین ہے مگر وہ دل کی حضوری کے ساتھ جسم کے ایسے اعمال و اظہارپر مشتمل ہے جن کی وجہ سے جماعت ہی میں نہیں ، تنہائی میں، حتیٰ کہ گھر کی چار دیواری میں ادا کی جانے والی نماز بھی دوسروں کی نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتی۔ حج تو پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اجتماع ہے ہی۔ اس طرح زکوٰۃ اگر مکمل اخفا کے ساتھ ادا کی جائے تب بھی کم از کم ایک شخص، یعنی اس کا وصول کرنے والا تو اس راز میں شریک ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص سب کے ساتھ سحری کرے اور سب کے ساتھ افطار کرے، تب بھی تنہائی میں اس کے کھانے پینے سے احتراز کرنے کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص دنیا کو دھوکا دینے کے لیے روزے کے تمام اجتماعی آداب کا احترام کرے لیکن تنہائی میں کھا پی لے، تو دنیا کی کوئی آنکھ  اس کے روزے پر شک نہیں کرے گی، البتہ اللہ اس کی حرکات سے بخوبی واقف ہوگا۔

روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا گواہ ہے۔ اس طرح بندے کے رب سے تعلق کا یہ پہلو روزے کی امتیازی شان ہے ___کہ جلوت اور خلوت سب اللہ کے حکم اور اس کی رضا کے پابند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ اپنے تمام اجتماعی پہلوؤں کے باوجود صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب کریم نے یہ مژدہ بھی سنا دیا ہے کہ صرف وہ اس کا اصل اجر دینے کا ذمہ دار ہے۔ گویا روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے اور صرف رب کا بندہ بن جانے کی علامت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو اسے اسلام کی روح اور اس کے اصل جوہر کا مظہر بناتی ہے ۔

صرف اللہ کا بندہ بننے اور اس کی رضا کے لیے بھوک پیاس اور شہوت کی جائز ذرائع سے تسکین سے بھی اجتناب، انسان کو تقویٰ کی اس نعمت سے مالا مال کرتا ہے جو دنیا اورآخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور جو انسان میں وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو اسے اللہ کی ہدایت سے    فیض یاب ہونے میں ممد و معاو ن ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے جن کو اہل قرار دیا ہے وہ اصحا بِ تقویٰ ہی ہیں (البقرہ ۲:۲)۔ روزہ انسان کے اندر وہ تقویٰ پیدا کرتا ہے جو اسے ہدایت ربانی سے مستفید ہونے اور اس کا علَم بردار بننے کے لائق بنا تا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸۳) ’’اے ایمان لانے والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو سکے‘‘۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور روزے اور قرآن کا تعلق ایک جان اور دو قالب جیسا ہے۔ شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَــیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ(البقرہ ۲:۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔

ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز غار حرا میں ہوا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل عبادت فرماتے اور روزے رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب تورات سے نوازا گیا تو ان ایام میں آپ بھی روزے کا اہتمام فرما رہے تھے۔ روزہ اور قرآن کا یہی نا قابلِ انقطاع تعلق ہے جس کا تجربہ اور جس کی شہادت امت مسلمہ ماہِ رمضان میں قرآن سے تعلق کی تجدید کرکے کرتی ہے۔ اس طرح روزہ ہماری زندگیوں میں ہدایت ربانی کوحرز جان بنانے کا ذریعہ ا ور وسیلہ بن جاتا ہے__ یہ اللہ کا عظیم ترین انعام نہیں تو اور کیا ہے؟

اس انعام الٰہی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ روزے کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور محض روایتاً  یا مسلم معاشرے کے ایک معمول کے طور پر نہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ اور اس کے مقاصد اور آداب کے پورے اِدراک اور اہتمام کے ساتھ روزہ رکھا جائے، نیز رمضان میں حاصل کی جانے والی تربیت کی روشنی میں سال کے باقی ایام گزارے جائیں۔ جس طرح چارجنگ کے بعد گاڑی کی بیٹری اپنا کام ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہے، اسی طرح انسانی جسم اور زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے رمضان کے روزے اور قرآن سے تجدیدعہد، انسانی جسم وجان کی بیٹری کو چارج کرتے ہیں اور پھر باقی ۱۱مہینے اس قوت کے سہارے یہ گاڑی رواں دواں رہتی ہے ___ اس سے بڑا انعام ہمارے رب کی طرف سے اور کیا ہو سکتا ہے؟

بندہ کے اپنے رب سے تعلق کے تین پہلو ہیں: پہلا اور سب سے اہم رب کو پہچاننا ، اس سے عہد وفا باندھنا، ہر لمحے اس عہد کا ادراک رکھنا اور ہر دوسری غلامی اور وفا داری سے نجات پا کر صرف اللہ ، اپنے خالق اور مالک کا بندہ بن جانا ہے۔ دوسرا پہلو فرد کی اپنی ذات کی تربیت ، تزکیہ اور ترقی ہے تا کہ وہ اپنے رب کے انسانِ مطلوب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کر سکے۔ اس کے لیے نمونہ اللہ کے پیارے رسولؐ کا اسوۂ مبارکہ اور سنت ِمطہرہ ہے۔ اپنی ذات کی مسلسل اصلاح اور صفاتِ محمودہ کے رنگ میں اپنے کو رنگنے اور صفاتِ مذمومہ سے بچنے کی مسلسل کوشش اصلاحِ ذات اور بندگیِ رب کا اولیں اور مستقل تقاضا ہے۔ اس تعلق کا تیسر اپہلو دنیا اور اس کے رہنے والوں سے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی یہ رہنمائی بھی دیتی ہے کہ دوسرے انسانوں، معاشرہ، ریاست، انسانیت اور کائنات ، ہرایک سے کس طرح معاملہ کیا جائے تا کہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور حق و انصاف کے قیام کے ذریعے انسانوں کی زندگی خیر و فلاح کا نمونہ بن جائے۔

اسلام ان تینوں جہتوں کے باب میں صحیح تعلق اور صحیح رویے کا نام ہے۔ یہ سب اللہ کی بندگی کے ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں اور کسی بھی جہت کو نظرانداز کرنا یا عبدیت کے دائرے سے باہر تصور کرنا شرک، بغاوت اور طاغوت کا بندہ بننے کے مترادف ہے۔ روزہ ان تینوں میدانوں میں بیک وقت بندہ کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے اور اس تعلق کی روشنی میں زندگی کے ہر دائرے اور پہلو کو  ہدایت الٰہی کے مطابق گزارنے اور نور ربانی سے منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دعوتی زندگی کا آغاز ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن کے ذریعے کیا۔ آٹھ سال کی مسلسل جدوجہد کے ذریعے فکری میدان میں باطل نظریات پر ضربِ کاری لگائی اور اسلامی فکر کی تشکیلِ نو اور محکم دلائل سے اس فکر کی بالادستی کو وقت کی اصل ضرورت قرار دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے چومکھی لڑائی لڑی اور مسلمانوں کے سامنے اسلام کی روشن شاہراہ واضح کرکے اصل منزل کی ان کے سامنے نشان دہی کردی۔ برعظیم پاک و ہند کی، اس وقت کی ذہنی فضا میں ، جہاں یہ ایک منفرد اور چونکا دینے والی آواز تھی، وہیں قرآن و سنت کی اصل دعوت کے احیا کے لیے یہ ایک انقلابی اقدام بھی تھا۔

اسلامی احیا کا یہ تصور ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں رکھتا تھا، جو ہمارے اکابر کی علمی، فکری اور دعوتی جدوجہد کا فطری اور منطقی نتیجہ تھا۔ برعظیم کے مسلمانوں پر مغربی تہذیب اور یورپی استعمار کے فکری اور سیاسی و تہذیبی غلبے کے خلاف اور اسلامی احیا کے لیے سیّداحمدشہید، سیّداسماعیل شہید، مولانا قاسم نانوتوی، شبلی نعمانی، مولانا محمودحسن، مولاناابوالکلام آزاد، مولانا اشرف علی تھانوی، اور علامہ محمداقبال اپنے اپنے انداز میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کے احیا اور دین حق کی اقامت کی جدوجہد کو مسلمانوں کے اصل اور حقیقی مقصد ِ زندگی کے تصور کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے اقامت ِ دین کے تصور کو مدلل، منطقی اور دعوتی اسلوب میں قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ واضح کیا۔ تجدید و احیاے دین کے سلسلے کی ۱۴ سو سال پر  پھیلی ہوئی مسلمانوں کی تابناک تاریخ کے پس منظر میں انھوں نے بتایا کہ اسلام کا اصل مدعا اور مقصود کیا ہے، اور مسلمانوں کی اصل پہچان اور ان کی زندگی کا حقیقی مشن کیا ہے۔

دراصل اسلام نام ہے اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر اور انسانوں کا اصل ہادی اور راہبر ماننے، اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں د ے دینے کا۔ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا اقرار اور اعلان پوری زندگی کے لیے ایک راستہ اور نظام کار طے کرنے کا عہد ہے۔ یہ عہد محض چند الفاظ کے زبان سے ادا کرنے اور چند عبادات کا اہتمام کرنے سے عبارت نہیں ہے۔ عقیدہ اور عبادات وہ دو ستون ہیں جن پر اسلام پوری زندگی کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔

مولانا مودودی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور اسوئہ حسنہ کے اس پہلو کو اُجاگر کیا کہ اسلام عقیدے اور عمل کا ایک حسین امتزاج ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی کا نقشہ پیش کرتا ہے، تاکہ انسان، زندگی کے ہر میدان میں طاغوت کی غلامی سے نجات پاسکے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی، روحانی، اخلاقی اور مادی زندگی کے ہرپہلو کی تشکیل جدید کے ذریعے، اُسے آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔جماعت اسلامی اسی وژن کی حامل ہے اور اس دعوت کو عملی طور پر مسلمانوں کے لیے اور بالآخر پوری انسانیت کے لیے جاری و ساری کرنے کی اجتماعی کوشش کا نام ہے۔ اس کا پیغام اصولی اور آفاقی ہے، البتہ اس کی عملی جدوجہد کا مرکز و محور وہ خطۂ زمین ہے، جہاں اس نظامِ زندگی کو قائم کرکے اُمت مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی: انتخابی روایت کا تسلسل

ان معروضات کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک نظریاتی، فکری اور تہذیبی تحریک ہے۔ یہ محض ایک مذہبی یا سیاسی جماعت نہیں، بلکہ وسیع معنی میں ایک اصولی تحریک (Ideological Movement) ہے اور قرآن و سنت کی فراہم کردہ ہدایت کو زندگی کے ہر شعبے میں عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ جماعت کوئی قوم پرست یا محض وطن پرست جماعت بھی نہیں ہے، بلکہ اس کا نظریۂ حیات عالم گیر ہے اور پوری انسانی تہذیب کی تشکیل نو اس کے پیش نظر ہے۔ یہ پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فراہم کردہ ہدایت اور ان کے سکھائے ہوئے منہج کے مطابق استوار کرنا چاہتی ہے۔ صرف مسلمانوں ہی کی اصلاح و نجات اس کے پیش نظر نہیں، بلکہ وہ پوری انسانیت کی فلاح اور اس کی دنیوی اور اُخروی کامیابی چاہتی ہے۔ اس جامع نصب العین کو اس کے دستور میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

 جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضاے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا(دفعہ ۴)۔

الدین، حکومت الٰہیہ اور اسلامی نظام زندگی تینوں ہم معنی الفاظ ہیں اور اصطلاح ’اقامت دین‘  ان تینوں کی جامع ہے۔ دستور میں اس کی تشریح یوں کی گئی ہے:

اقامت ِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے، بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے۔ نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیے و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطورِ خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگرچہ مومن کا اصل مقصدِ زندگی رضاے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت ِ دین اور حقیقی نصب العین وہ رضاے الٰہی ہے جو اقامت ِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔

زندگی کا یہ تصور اور اس کا یہ مشن جماعت اسلامی کا اصل امتیاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تنظیم، اس کا اسلوبِ کار، اس کا دائرۂ عمل اور اس کی سرگرمیوں کا پھیلائو محض ایک سیاسی جماعت جیسا نہیں۔ بلاشبہہ جب پاکستان کی پہلی دستور سازاسمبلی نے مارچ ۱۹۴۹ء میں قراردادِمقاصد  منظور کی، تو اس کے بعد سے وہ معروف معنی میں ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے کام کررہی ہے۔ لیکن وہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسلام کے مشن کے مطابق ایک ہمہ گیر نظریاتی اور تہذیبی انقلاب کی داعی جماعت ہے۔ یہی اس کی امتیازی حیثیت ہے، یہی اس کی بہت سی خوبیوں اور خصوصیات کی بنیاد ہے اور یہی اس کی متعدد تحدیدات (limitations) کا سبب بھی ہے جسے سمجھنا اور جاننا بہت ضروری ہے۔

جماعت اسلامی کے قیام کے پہلے دن سے ’نظامِ امر‘ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ ’نظامِ امر‘ ایک دستور اور اس کے مطابق ضابطہ کار اور روایات سے عبارت ہے، جس کی صورت گری قرآن و سنت کی ہدایات اور تحریکِ اسلامی کی ضروریات اور تجربات کی روشنی میں کی گئی ہے۔

اس نظامِ جماعت میں وفاداری کا اصل مرکز وہ نصب العین ہے، جس کے حصول کے لیے جماعت قائم ہوئی ہے اور اس کے پورے نظام کی تشکیل و تعمیر ایک تحریری دستور کے ذریعے کی گئی ہے، جو خود بلاشبہہ ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا ہے۔ تاہم یہ ہردور میں اور ہرسطح کے لیے نقشۂ کار فراہم کرتا ہے۔ جو صرف تبرک کے لیے نہیں بلکہ معاملات کو طے کرنے میں اصل رہنما اور کارفرما حیثیت رکھتا ہے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی اور اس کے تمام ادارے دستور کے مطابق کام کرتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ جماعت اسلامی میں کسی ایک فرد، گروہ یا خاندان کی بات نہیں چلتی بلکہ سب ایک خاندان کی طرح، ایک دستور کے تحت، اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں پالیسی سازی، ڈسپلن، اطاعت، تعاون، ہم آہنگی، مشاورت اور تنقیدو احتساب کا وہ ماحول پیدا کرنے کوشش کی گئی ہے جو اسلام کا منشا اور اچھی حکمرانی (good governance)کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی کا پورا نظام، اس کے دستور اور ضابطہ کار کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس کی اصل پہچان اسلامی اصولوں پر مبنی جمہوری اور شورائی نظام ہے۔ انسانوں کی جماعت ہونے کے ناتے کوتاہیوں اور کمزوریوں سے کوئی پاک نہیں لیکن الحمدللہ، بحیثیت مجموعی اس جماعت میں مشاورت اور احتساب کا ایک مضبوط نظام قائم ہے، جس پر پوری شفافیت کے ساتھ عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شخصی وفاداری، خاندانی سیادت اور گروہ بندی کا کوئی کردار نہیں۔ دستور کے مطابق ایک نظامِ مشاورت و احتساب قائم ہے۔ اس نظام میں جہاں ایک دوسرے کی معاونت اس کا لازمی حصہ ہے، وہیں غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح بھی ہرشریکِ کار کی ذمہ داری ہے۔

مارچ ۲۰۱۴ء میں جماعت اسلامی میں امارت کا تیرھواں انتخاب دستور کے مطابق ہوا جس میں ارکانِ جماعت نے کثرت راے سے برادرم سراج الحق کو امیر جماعت اسلامی پاکستان  منتخب کیا اور ۹؍اپریل ۲۰۱۴ء کو منصورہ میں منعقدہ ایک روح پرور اجتماع میں انھوں نے جماعت اسلامی کے پانچویں امیر۱؎ کی حیثیت سے امارت کا حلف اُٹھا کر اللہ سے وفاداری، دستورِ جماعت کی پاس داری اور نظامِ جماعت کے سامنے جواب دہی کا عہد کیا اور بڑے انکسار کے ساتھ اللہ، اس کے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کی سربلندی کی اس جدوجہد کے لیے اپنی ساری توانائی کو صرف کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ان کی رہنمائی فرمائے، انھیں اس عظیم ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی توفیق سے نوازے، وہ اس تاریخی امانت کے سچے امین ثابت ہوں، تحریک کے قدم آگے بڑھیں اور ان کی قیادت میں اللہ تعالیٰ اس تحریک، اس ملک اور اس ملت کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے شادکام فرمائے، آمین! تحریک اسلامی کے تمام ساتھیوں اور پاکستان اور اُمت مسلمہ کے تمام خیرخواہوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

نظامِ جماعت اور نظامِ انتخاب

جماعت اسلامی میں قیادت کے انتخاب کے باب میں ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس میں امارت ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک بڑی گراں بار ذمہ داری ہے۔ امیر کا انتخاب جماعت کے دستور کے مطابق ارکانِ جماعت ہر پانچ سال کے بعد کرتے ہیں۔ یہاں امارت کے لیے کوئی مدعی اور طالب نہیں ہوتا اور نہ کوئی انتخابی مہم ہوتی ہے۔ ایک ضابطے کے مطابق مرکزی شوریٰ تین نام تجویز کرتی ہے وہ بھی صرف رہنمائی کے لیے۔ ارکان ان مجوزہ تین ناموں میں سے کسی ایک کو یا ان کے علاوہ بھی، اپنی نگاہ میں کسی اور اہل تر فرد کو اس ذمہ داری کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے لیے یہ عمل خواہ کتنا ہی اجنبی ہو، لیکن اسلامی تحریک کے مزاج اور اس کی ضرورت کے لیے اس سے بہتر انتظام مشکل ہے۔ انتخابِ امیر کے اس انتظام اور تحریکِ اسلامی کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ جماعت کی تاسیس کے وقت، اس جماعت کی جو خصوصیات داعیِ تحریک نے بیان کی تھیں، وہ ہرلمحے سامنے رہیں۔ آج شاید ان کا جاننا اور ذہن نشین رکھنا یقینا اس سے بھی کچھ زیادہ ضروری ہے ،جتنا تاسیس جماعت کے وقت تھا۔ اس وقت داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم نے فرمایا تھا:

جو لوگ ایک ہی عقیدہ، ایک ہی نصب العین اور ایک ہی مسلک رکھتے ہوں، ان کے لیے ایک جماعت بن جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا ایک جماعت بن جانا بالکل ایک فطری امر ہے.... اب، جب کہ آپ کی جماعتی زندگی کا آغاز ہورہا ہے۔ تنظیم جماعت کی راہ میں کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام میں جماعتی زندگی کے قواعد کیا ہیں؟

میں اس سلسلے میں چند اہم باتیں بیان کروں گا:

  • خیرخواہی کا جذبہ: پہلی چیز یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد کو نظامِ جماعت کا بحیثیت مجموعی اور جماعت کے افرادکا فرداً فرداً سچے دل سے خیرخواہ ہونا چاہیے۔ جماعت کی بدخواہی یا افرادِ جماعت سے کینہ، بُغض، حسد، بدگمانی اور ایذارسانی وہ بدترین جرائم ہیں، جن کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایمان کے منافی قراردیاہے۔
  • دوسری جماعتوں سے فرق: دوسری چیز یہ ہے کہ آپ کی اس جماعت کی حیثیت دنیوی پارٹیوں کی سی نہیں ہے، جن کا تکیہ کلام یہ ہوتا ہے کہ ’’میری پارٹی، خواہ حق پر ہو یا ناحق پر‘‘، نہیں، آپ کو جس رشتے نے ایک دوسرے سے جوڑا ہے،      وہ دراصل اللہ پر ایمان کا رشتہ ہے، اور اللہ پر ایمان کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ آپ کی دوستی اور دشمنی، محبت اور نفرت جو کچھ بھی ہو، اللہ کے لیے ہو۔ آپ کو اللہ کی فرماں برداری میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہے، نہ کہ اللہ کی نافرمانی میں___ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  (المائدہ ۵:۲)۔ اللہ کی طرف سے جماعت کی خیرخواہی کا جو فرض آپ پر عائد ہوتا ہے، اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ بیرونی حملوں سے آپ اس کی حفاظت کریں، بلکہ یہ بھی ہیں کہ ان اندرونی امراض سے بھی اس کی حفاظت کے لیے ہروقت مستعد رہیں، جو نظامِ جماعت کو خراب کرنے والے ہیں۔ جماعت کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ اس کو راہِ راست سے نہ ہٹنے دیا جائے۔ اس میں غلط مقاصد اور غلط خیالات اور غلط طریقوں کے پھیلنے کو روکا جائے۔ اس میں نفسانی دھڑے بندیاں نہ پیدا ہونے دی جائیں۔ اس میں کسی کا استبداد نہ چلنے دیا جائے۔ اس میں کسی دنیوی غرض یا کسی شخصیت کو بت  نہ بننے دیا جائے، اور اس کے دستور کو بگڑنے سے بچایا جائے۔

اسی طرح اپنے رفقاے جماعت کی خیرخواہی کا جو فرض آپ میں سے ہرشخص پر عائد ہوتا ہے، اس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ آپ اپنی جماعت کے آدمیوں کی بے جا حمایت کریں اور ان کی غلطیوں میں ان کا ساتھ دیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ معروف میں ان کے ساتھ تعاون کریں، اور مُنکر میں صرف عدم تعاون ہی پر اکتفا نہ کریں، عملاً ان کی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ سب سے بڑی خیرخواہی جو کرسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں اس کو راہِ راست سے بھٹکتے ہوئے دیکھے، وہاں اُسے سیدھا راستہ دکھائے، اور جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہو تو   اس کا ہاتھ پکڑلے۔ البتہ آپس کی اصلاح میں یہ ضرور پیش نظر رہنا چاہیے کہ نصیحت میں عیب چینی اور خُردہ گیری [نکتہ چینی ] اور تشدد کا طریقہ نہ ہو، بلکہ دوستانہ دردمندی و اخلاص کا طریقہ ہو۔ جس کی آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیں، اس کو آپ کے طرزِعمل سے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس اخلاقی بیماری سے آپ کا دل دُکھتا ہے، نہ کہ اس کو اپنے سے فروتر دیکھ کر آپ کا نفسِ متکبر لذت لے رہا ہے۔

  • جتھہ بندی اور نفسانی رقابت سے اجتناب: تیسری بات جس کی طرف مَیں ابھی اشارہ کرچکا ہوں ، مگر جس کی اہمیت اس کی متقاضی ہے کہ اسے واضح طور پر بیان کیا جائے، یہ ہے کہ جماعت کے اندر جماعت بنانے کی کوشش کبھی نہ ہونی چاہیے۔ سازشیں، جتھہ بندیاں، نجویٰ (convassing)، عہدوں کی اُمیدواری ، حمیت ِ جاہلیہ اور نفسانی رقابتیں، یہ وہ چیزیں ہیں جو ویسے بھی جماعتوں کی زندگی کے لیے سخت خطرناک ہوتی ہیں، مگر اسلامی جماعت کے مزاج سے تو ان چیزوں کو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ اسی طرح غیبت اور تنابز بالالقاب اور بدظنی بھی جماعتی زندگی کے لیے سخت مہلک بیماریاں ہیں، جن سے بچنے کی ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے۔
  •  مشاورت اور اس کی روح: چوتھی بات یہ ہے کہ باہمی مشاورت جماعتی زندگی کی جان ہے، اس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا چاہیے۔ جس شخص کے سپرد کسی جماعتی کام کی ذمہ داری ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے کاموں میں دوسرے رفقا سے مشورہ لے، اور جس سے مشورہ لیا جائے اُس کا فرض ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ اپنی حقیقی راے کا صاف صاف اظہار کرے۔ جو شخص اجتماعی مشاورت میں اپنی صواب دید کے مطابق راے دینے سے پرہیز کرتا ہے، وہ جماعت پر ظلم کرتا ہے اور جو کسی مصلحت سے اپنی صواب دید کے خلاف راے دیتا ہے، وہ جماعت کے ساتھ غدر کرتا ہے، اور جو مشاورت کے موقعے پر اپنی راے چھپاتا ہے اور بعد میں جب اس کے منشا کے خلاف کوئی بات طے ہوجاتی ہے تو جماعت میں بددلی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، وہ بدترین خیانت کا مجرم ہے۔
  •   اختلاف راے اور راے پر اصرار: پانچویں بات یہ ہے کہ جماعتی مشورے میں کسی شخص کو اپنی راے پر اتنا مُصر نہ ہونا چاہیے کہ یا تو اس کی بات مانی جائے، ورنہ جماعت سے تعاون نہ کرے گا، یا اجماع کے خلاف عمل کرے گا۔ بعض نادان لوگ بربناے جہالت اس کو ’حق پرستی‘ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ صریح اسلامی احکام اور صحابہ کرامؓ کے متفقہ تعامل کے خلاف ہے۔ خواہ کوئی مسئلہ کتاب و سنت کی تعبیر اور نصوص سے کسی حکم کے استنباط سے تعلق رکھتا ہو یا دُنیوی تدابیر سے متعلق ہو، دونوں صورتوں میں  صحابہ کرامؓ کا طرزِعمل یہ تھا کہ جب تک مسئلہ زیربحث رہتا، اُس میں ہرشخص اپنے علم اور اپنی صواب دید کے مطابق پوری صفائی سے اظہارِ خیال کرتا اور اپنی تائید میں دلائل پیش کرتا تھا، مگر جب کسی شخص کی راے کے خلاف فیصلہ ہوجاتا تو وہ یا تو اپنی راے واپس لے لیتا تھا، یا اپنی راے کو درست سمجھنے کے باوجود فراخ دلی کے ساتھ جماعت کا ساتھ دیتا تھا۔ جماعتی زندگی کے لیے یہ طریقہ ناگزیر ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ جہاں ایک شخص اپنی راے پر اس قدر مصر ہو کہ جماعتی فیصلوں کو قبول کرنے سے انکار کردے، وہاں آخرکار پورا نظامِ جماعت درہم برہم ہوکر رہے گا۔
  •  امارتِ جماعت ، گراں بار ذمہ داری:آخری چیز جو جماعتی زندگی کے لیے اہم ترین ہے، وہ یہ ہے کہ ’’اسلام بغیر جماعت کے نہیں ہے، اور جماعت بغیر امارت کے نہیں ہے‘‘۔اس قاعدۂ کلیہ کے بموجب آپ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت بننے کے ساتھ ہی آپ اپنے لیے ایک امیر منتخب کرلیں۔ امیر کے انتخاب میں آپ کو جو اُمور ملحوظ رکھنے چاہییں، وہ یہ ہیں کہ کوئی شخص جو امارت کا اُمیدوار ہو، اُسے ہرگز منتخب نہ کیا جائے، کیونکہ جس شخص میں اس کارِعظیم کی ذمہ داری کا احساس ہوگا، وہ کبھی اس بار کو اُٹھانے کی خود خواہش نہ کرے گا، اور جو اس کی خواہش کرے گا، وہ دراصل نفوذ و اقتدار کا خواہش مند ہوگا، نہ کہ ذمہ داری سنبھالنے کا۔ اس لیے اللہ کی طرف سے اس کی نصرت و تائید کبھی نہ ہوگی۔ انتخاب کے سلسلے میں لوگ ایک دوسرے سے نیک نیتی کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرسکتے ہیں، مگر کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف نجویٰ اور سعی نہ ہونی چاہیے۔ شخصی حمایت و موافقت کے جذبات کو دل سے نکال کر بے لاگ طریقے سے دیکھیے کہ آپ کی جماعت میں کون ایسا شخص ہے، جس کے تقویٰ، علمِ کتاب و سنت، دینی بصیرت، تدبر، معاملہ فہمی اور راہِ خدا میں ثبات و استقامت پر آپ سب سے زیادہ اعتماد کرسکتے ہیں۔ پھر جو بھی ایسا نظر آئے، اللہ پر توکّل کر کے اُسے منتخب کرلیجیے، اور جب آپ اُسے منتخب کرلیں تو اس کی خیرخواہی، اس کے ساتھ مخلصانہ تعاون، معروف میں اس کی اطاعت اور مُنکر میں اس کی اصلاح کی کوشش آپ کا فرض ہے۔(رُوداد جماعت اسلامی، اوّل، ص۲۱-۲۵)

چنانچہ ۱۹۴۱ء میں  جب تاسیس جماعت اور حلف ِرکنیت کے بعد، امیر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو فطری طور پر نظر انتخاب داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی پر پڑی اور انھیں متفقہ طور پر امیرجماعت منتخب کیا گیا۔ اس وقت تاسیسی ارکان کا خیال یہ تھا کہ امیر کا انتخاب تاحیات ہونا چاہیے، لیکن مولانا مودودی نے اس وقت کسی فقہی بحث میں پڑے بغیر ،ارکانِ جماعت پر واضح کیا کہ وہ امارت کو تاحیات جاری رکھنے کے قائل نہیں اور ارکان کو ہراجتماع کے موقعے پر انتخابِ نو کا موقع دیں گے۔ بعد میں دستورِ جماعت میں امیر کے لیے پانچ سال کی مدت اور فطری طور پر نئے انتخاب کا ضابطہ مقرر کردیا گیا، جس پر آج تک پوری دیانت داری سے عمل ہورہا ہے۔

جماعت کا نظامِ امر اور اس کا مزاج

۲۷؍اگست ۱۹۴۱ء کو امیر کے انتخاب کے بعد، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جو تقریر کی، وہ بھی جماعت کے نظامِ امر اور اس کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ الحمدللہ یہ جماعت اس روایت کی سچی امین ہے:

میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، نہ سب سے زیادہ متقی، نہ کسی اور خصوصیت میں مجھے فضیلت حاصل تھی۔ بہرحال، جب آپ نے مجھ پر اعتماد کر کے اس کارِعظیم کا بار میرے اُوپر رکھ دیا ہے، تو مَیں اب اللہ سے دعا کرتا ہوں اور آپ لوگ بھی دعا کریں کہ مجھے اس بار کو سنبھالنے کی قوت عطا فرمائے اور آپ کے اس اعتماد کو مایوسی میں تبدیل نہ ہونے دے۔ مَیں اپنی حد وسع تک انتہائی کوشش کروں گا کہ اس کام کو پوری خدا ترسی اور پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ چلائوں۔ میں    قصداً اپنے فرض کی انجام دہی میںکوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ میں اپنے علم کی حد تک کتاب اللہ و سنت ِ رسولؐ اللہ اور خلفاے راشدینؓ کے نقشِ قدم کی پیروی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھوں گا۔ تاہم، اگر مجھ سے کوئی لغزش ہو اور آپ میں سے کوئی محسوس کرے کہ  مَیں راہِ راست سے ہٹ گیا ہوں، تو مجھ پر یہ بدگمانی نہ کرے کہ مَیں عمداً ایساکر رہا ہوں، بلکہ حُسنِ ظن سے کام لے اور نصیحت سے مجھے سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔

آپ کا مجھ پر یہ حق ہے کہ مَیں اپنے آرام و آسایش اور اپنے ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دوں، جماعت کے نظم کی حفاظت کروں، ارکانِ جماعت کے درمیان عدل اور دیانت کے ساتھ حکم کروں، جماعت کی طرف سے جو امانتیں میرے سپرد ہوں ان کی حفاظت کروں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ   اپنے دل و دماغ اور جسم کی تمام طاقتوں کو اس مقصد کی خدمت میں صَرف کردوں، جس کے لیے آپ کی جماعت اُٹھی ہے۔

میرا آپ پر یہ حق ہے کہ جب تک مَیں راہِ راست پر چلوں، آپ اس میں میرا ساتھ دیں، میرے حکم کی اطاعت کریں، نیک مشوروں سے اور امکانی امداد و اعانت سے میری تائید کریں اور جماعت کے نظم کو بگاڑنے والے طریقوں سے پرہیز کریں۔ مجھے اس تحریک کی عظمت اور خود اپنے نقائص کا پورا احساس ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ یہ وہ تحریک ہے جس کی قیادت اولوالعزم پیغمبروں ؑ نے کی ہے، اور زمانۂ نبوت گزرجانے کے بعد وہ غیرمعمولی انسان اس کو لے کر اُٹھتے رہے ہیں، جو نسلِ انسانی کے گُل سرسَبد تھے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ مَیں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں، بلکہ مَیں تو اس کو ایک بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت اس کارِعظیم کے لیے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہ ملا۔ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائضِ امارت کی انجام دہی کے ساتھ مَیں برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کا بار اُٹھانے کے لیے مل جائے اور جب مَیں ایسے آدمی کو پائوںگا تو خود سب سے پہلے اُس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ نیز مَیں ہمیشہ ہر اجتماعِ عام کے موقعے پر جماعت سے بھی درخواست کرتا رہوں گا،کہ اگر اب اس نے کوئی مجھ سے بہتر آدمی پالیا ہے تو وہ اُسے اپنا امیر منتخب کرلے، اور مَیں اس منصب سے بخوشی دست بردار ہوجائوں گا۔ بہرحال، مَیں ان شاء اللہ اپنی ذات کو کبھی خدا کے راستے میں سدِّراہ نہ بننے دوں گا، اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دوں گا کہ ایک ناقص آدمی اس جماعت کی رہنمائی کر رہا ہے، اس لیے ہم اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔

نہیں، مَیں کہتا ہوں کہ کامل آئے اور یہ مقام جو آپ نے میرے سپرد کیا ہے ہر وقت اس کے لیے خالی ہوسکتا ہے، البتہ مَیں اس کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اگر کوئی دوسرا اس کام کو چلانے کے لیے نہ اُٹھے تو مَیں بھی نہ اُٹھوں۔ میرے لیے تو یہ تحریک عین  مقصد ِ زندگی ہے۔ میرا مرنا اور جینا اس کے لیے ہے۔ کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو، بہرحال مجھے تو اسی راہ پر چلنا اور اسی راہ میں جان دینا ہے۔ کوئی آگے نہ بڑھے تو مَیں بڑھوں گا۔ کوئی ساتھ نہ دے گا تو مَیں اکیلا چلوں گا۔ ساری دنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن تنہا اُس سے لڑنے میں بھی باک نہیں ہے۔ (رُوداد جماعت اسلامی، اوّل،ص ۲۹-۳۱)

یہی وہ جذبہ اور اسپرٹ ہے جو بعدازاں بھی جماعت کے امرا میں موجود رہی ہے۔  مولانا محترم سے لے کر سیّدمنورحسن تک ہر ایک نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طاقت اپنے میں نہیں پارہے تو ازخود ارکان سے ذمہ داری سے فراغت کی درخواست کی، اور اگر اس کے باوجود جماعت نے کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی تو وہ ہر قربانی دے کر اسے انجام دینے کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ اس تحریک میں جو جس مقام سے بھی، جو خدمت بھی انجام دے سکے، وہ ایک سعادت اور اعزاز ہے۔ اور ہر ایک کی خواہش، کوشش اور دعا ہوتی ہے کہ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۰۲) ’’تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔

تحریکوں کی مثال دریا کی سی ہے جس کی بلارکاوٹ روانی کا انحصار نئے پانی کی آمد پر ہے۔ اب جماعت کی تیسری نسل امارت کی ذمہ داری کو سنبھال رہی ہے۔ مولانا محترم اور میاں طفیل محمد صاحب بانی ارکان میں سے تھے۔ محترم قاضی حسین احمد اور برادرم سیّدمنور حسن کا تعلق دوسری نسل سے تھا۔ الحمدللہ، اب قیادت تیسری نسل کی طرف منتقل ہوئی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ اسی خوش اسلوبی کے ساتھ چلتا رہے گا۔ تحریک کی زندگی اور قوت کا راز تسلسل اور تبدیلی میں ہے۔ اگرکسی تحریک میں تبدیلی کے راستے بند ہوجائیں تو وہ جمود کا شکار ہوجاتی ہے اور دریا ’جوے کم آب‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ وہ تبدیلی جو تسلسل سے اپنا رشتہ توڑلیتی ہے، کٹی ہوئی پتنگ بن جانے کے خطرے سے اپنے کو دوچار رکھتی ہے۔ ’بحر بے کراں‘ وہی تحریک ہوتی ہے جس کا امتیاز تسلسل اور تبدیلی دونوں کا امتزاج ہو۔ اور سماں یہ ہو کہ    ؎

فصلِ بہار آئی ہے، لے کررُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی

سبزہ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے

جماعت اسلامی اور خود احتسابی

جماعت اسلامی کے حالیہ انتخابِ امیر کا ایک قابلِ غور پہلو وہ ردعمل بھی ہے جو پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سیاسی ، مذہبی اور دانش ور حلقوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ غالباً پاکستان کی تاریخ میں کسی جماعت کی مرکزی قیادت کے انتخاب پر ایسا بھرپور ردعمل نہیں ہوا اور یہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی جماعت اسلامی میں دل چسپی ہی کا مظہر نہیں، بلکہ   کئی حیثیتوں سے ملک کی سیاسی زندگی کے کچھ پہلوئوں پر بڑی روشنی ڈالنے والا عمل ہے اور خود جماعت اور اس کی قیادت کے لیے بھی اس میں غوروفکر کا بڑا سامان ہے۔ اس لیے چند پہلوئوں پر کچھ اشارات کرنا مفید محسوس کرتا ہوں۔

سب سے پہلے مَیں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے اپنے اپنے   نقطۂ نظر سے اور اپنے اپنے انداز میں ہمارے انتخابی عمل اور نتائج پر تبصرہ کیا ہے اور جماعت اسلامی، اس کے نظام کار، سیاسی کارکردگی اور مستقبل کے کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار    کیا ہے۔ ان میں سے ہر تحریر میں ہمارے لیے سوچنے کا کچھ نہ کچھ مواد موجود ہے، اس لیے جماعت بلاتفریق سبھی نقطہ ہاے نظر سے واقفیت اور استفادے کی کوشش کرے گی۔ البتہ اس حقیقت کا اِدراک بھی ضروری ہے کہ مختلف تحریروں اور تجزیوں میں جماعت کا جو امیج پیش کیا گیا ہے، وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال ہماری جن کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی ہے، ہمیں ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور جو آرا غلط فہمیوں، معلومات کی کمی اور تعصب اور مخاصمت پر مبنی ہیں، ان کے بارے میں یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مذاکرے اور بہتر ربط و ارتباط (dialogue, engagement and communication) کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی توضیح و تشریح کریں۔

صاف نظر آرہا ہے کہ جماعت اسلامی کے نصب العین، اس کے نظامِ کار، اس کی خدمات، اس کی پالیسیوں اور جو تبدیلیاں پاکستان میں لانا چاہتی ہے، ان سے صحیح معنوں میں واقفیت اور اِدراک کے باب میں بڑی کمی ہے۔ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک خود ہم پر بھی آتی ہے کہ ہم اپنی بات قوم اور اس کے بااثرطبقات تک مناسب انداز میں لے جانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ دوست اور مخالف سب اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے، جس میں باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جس کے ارکان اپنی آزاد مرضی سے اپنی قیادت کو منتخب کرتے ہیں، جس میں شخصی، موروثی یا گروہی قیادت کا کوئی تصور نہیں، جس میں دولت اور سیاسی اثرورسوخ کا کوئی کردار نہیں ہے، جس میں متوسط طبقے کے افراد کو ان کی صلاحیت، دیانت، مقصد ِ تحریک سے وابستگی اور وفاداری اور تحریک اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر قیادت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔

الحمدللہ، جماعت اسلامی میں خود احتسابی کا عمل بھی زندہ ہے۔ جس میں عہدوں کی بندربانٹ بھی نہیں ہوتی بلکہ عہدے کا تصور ہی بدل گیا ہے___ یہاں قیادت کے لیے باہمی کوئی مقابلہ نہیں ہوتا اور نہ کسی کی ’فتح‘ یا ’شکست‘ کا کوئی تصور پایا جاتا ہے۔ امارت اور قیادت ایک ذمہ داری ہے جسے ارکان اپنے میں سے زیادہ سے زیادہ مناسب فرد کے سپرد بطور امانت کرتے ہیں، جو اسے عبادت کے جذبے سے انجام دیتا ہے۔ جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ادایگیِ فرض کے جذبے سے اس بوجھ کو اُٹھاتا ہے، اور جو اس ذمہ داری سے بچ جاتا ہے، وہ ایک حد تک خود کو سبک بار محسوس کرتا ہے لیکن اس کی وفاداری اور سرگرمی کا مرکز و محوریہی دعوت اور تحریک ہی رہتی ہے۔ یہ ایک دوسری ہی نوعیت کا جماعتی کلچر ہے، جس کی حکمت، تاثیر اور لذت سے وہ آشنا نہیں جو اس قافلے کے ہم سفر نہ ہوں۔

 جماعت اسلامی ’پاکستان‘ میں کیا تبدیلی چاہتی ھے؟

جماعت اسلامی کا اصل ہدف فرد، معاشرہ اور ریاست کی سطح پر ان تبدیلیوں کو برپا کرنا ہے جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کو   اسلامی اخلاق و آداب کا آئینہ دار بنایا جائے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں ایک ایسی قیادت بروے کار لائی جائے جو اسلام کی صحیح نمایندہ ہو۔ اس کے لیے دعوت و ارشاد، تعلیم و تربیت، ترغیب و ترہیب، معاشی اور سماجی اصلاح، اور قانون اور میڈیا، سب کا استعمال اپنے اپنے دائرے میں ضروری ہے۔

اس تبدیلی کا آغاز انسان کے قلب سے ہوتا ہے۔ اس کے فکروذہن کی اصلاح کے ساتھ اخلاق و آداب کی اصلاح، خاندان اور معاشرتی اداروں کی تشکیلِ نو اور انفرادی اور اجتماعی وسائل کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ اس تاریخی عمل میں فرد اور معاشرے کے ساتھ ریاست کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی ضروری سمجھتی ہے کہ دستورِ پاکستان نے وطن عزیز کو    ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے جو نقشۂ کار دیا ہے، اس پر پوری دیانت اور بہترین صلاحیت کے استعمال سے کام کیا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو، جو اپنے فکرونظر، اخلاق و کردار اور صلاحیت کار کے اعتبار سے اسلام کے اچھے نمایندے ہوں اور ریاست کے وسائل کو امانت تصور کرتے ہوئے عوام کی خدمت اور پاکستان کی اسلامی خطوط پر تعمیروترقی کے لیے استعمال کریں۔

اسی غرض کے لیے جماعت اسلامی پُرامن، آئینی اور جمہوری طریقوں سے نظامِ حکومت کو بدلنا چاہتی ہے۔ اس کے پیش نظر پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے:

  •  جو قرآن و سنت کے اِتباع کی پابند اور خلافت ِ راشدہ کے نمونے کی پیرو ہو اور  جس میں اسلام کے اصول و احکام پوری طرح کارفرما ہوں،
  • جوبُرائی کو مٹائے، نیکی کو پروان چڑھائے اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرے،
  •  جوظلم، استحصال اور اخلاقی بے راہ روی کی ہرشکل کو مٹائے،
  • جو اسلامی اقدار کی بنیاد پر معاشرے کی تعمیر نو کرے اور زندگی کے ہر پہلو میں عدل قائم کردے،
  • جوایک خادمِ خلق ریاست ہو، ہر شہری کو اُس کی بنیادی ضروریات (غذا، لباس، مکان، تعلیم اور علاج) کی فراہمی کی ضمانت دے، رزقِ حلال کے دروازے کھولے، کسب ِ حرام کے دروازے بند کرے۔ تمام جائز ذرائع سے ملک کی دولت بڑھائے اور اس دولت کی مُنصفانہ تقسیم کا انتظام کرے،
  • جولوگوں کے چیخنے چلّانے سے پہلے اُن کی ضرورتوں کو سمجھے، اور فریاد سے پہلے اُن کی مدد کو پہنچے،
  • جودرحقیقت عوام کی خیرخواہ ہو اور عوام اس کے خیرخواہ، جس میں لوگوں کے تمام بنیادی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں،
  • جوصحیح معنوں میں ایک جمہوری حکومت ہو، عوام اپنی آزاد مرضی سے جن لوگوں کو اس کا اقتدار سونپنا چاہیں، وہی انتخابات کے ذریعے سے برسرِاقتدار آئیں، اور عوام جنھیں اقتدار سے ہٹانا چاہیں انھیں انتخابات کے ذریعے سے بآسانی ہٹایا جاسکے۔

یہ ہیں جماعت اسلامی کے مقاصد___ جو لوگ اِن مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں، انھیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کے حصول میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ (منشور جماعت اسلامی)

جماعت اسلامی، ماضی کی طرح آج بھی فرد، معاشرے اور حکومت کی سطح پر ان تمام تبدیلیوں کو رُوبہ عمل لانے کے لیے مصروفِ عمل ہے، جو اسلام کو مطلوب ہیں اور جو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان شاء اللہ، نومنتخب امیر جماعت کی قیادت میں ہمارا سفر روزِاوّل کے سے عزم اور ایمان و ایقان کے ساتھ جاری رہے گا!