صدر ٹرمپ کی آمد کے ساتھ نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر میں بے چینی اور اضطراب کی ایک لہر دیکھی جاسکتی ہے۔ بے خدا اور نسلی تفاخر کی بنیاد پر استوار مغربی تہذیب کے ایسے کردار وقتاً فوقتاً صفحۂ ہستی پر اُبھرتے ہیں، انسانیت کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کر کے ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ یوں سالہا سال تک اس کے نتائج یا اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا نوعِ انسانی بھگتتی رہتی ہے۔
امریکی حکومت اور اس کے عالمی کردار کے بارے میں اضطراب اور احتجاج کا سبب لوگوں اور قوموں کے مزاجوں میں کوئی رچی بسی امریکا دشمنی یا مخاصمت نہیں ہے۔ یہ وہی ملک اور لوگ ہیں، جو امریکا کی طرف اس اُمید سے دیکھتے تھے کہ یہ عصرِحاضر میں جمہوری اور دستوری دور کا آغاز کرنے والی ریاست ہے، جو بین الاقوامی سیاسی اُفق پر جمہوریت، حقوقِ انسانی اور قوموں کے حق خود ارادیت کی علَم بردار بن کر جلوہ گر ہوئی تھی۔ اور یہ ایک ایسی ریاست ہے جو کسی خاص نسل کا وطن نہیں تھی، بلکہ دنیا کی بہت سی نسلوں نے جس کی صورت گری کی تھی، اور جس کی تعمیر میں محض اس ملک ہی کے نہیں، دنیا بھر کے بہترین دماغوں نے سائنسی تحقیق سے انسانیت کو صحت مند بنایا اور اسے قوت عطا کی۔ افسوس کہ دنیا بھر کے بہترین دماغوں کی ایک لگن کے ساتھ کی جانے والی تحقیق کے ثمرات کو، امریکی مقتدر قوتوں نے دنیاپر دھونس جمانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، اور انصاف پر مبنی عالمی نظام کی داعی بننے کے بجاے ایک استعماری قوت (Imperial Power) کا کردار ادا کرنے لگی۔ دنیا اگر آج امریکا سے خو ف زدہ ہے اور اس کے حکمرانوں اور پالیسیوں سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے تو یہ نتیجہ ہے ان پالیسیوں اور اقدامات کا، جن کی دنیا ستم زدہ ہے۔
حالات کی صحیح تفہیم کے لیے اس امر کا اعتراف ضروری ہے کہ آج امریکا سے بہ حیثیت ایک عالمی طاقت ایسی مایوسی اور بے زاری اور اتنی تیزی اور شدت سے اس کا ہمہ گیر اظہار نہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے اور نہ محض کسی سازش کا شاخسانہ۔ اس کے ٹھوس اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کا سمجھنا امریکا کی قیادت کے لیے بھی ضروری ہے اور ان اقوام کے لیے بھی، جو اضطراب، احتجاج اور مایوسی سے دوچار ہیں۔ اس تفہیم کا مقصد حالات کی اصلاح اور عالمی تصادم کے اسباب و عوامل کا تدارک ہے، تاکہ دنیا جنگ و جدل اور خون خرابے سے محفوظ رہ سکے۔
انسانوں اور قوموں میں، طاقت کا عدم توازن اور وسائل کا غیرمتناسب وجود ایک حقیقت ہے۔ محض اس کی وجہ سے اضطراب اور تصادم ایک غیرفطری عمل ہوگا۔ لیکن ایسا فرق جب ایک قوت کی دوسروں پر بالادستی،استیلا اور ان کے استحصال (exploitation) کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے، تو بے زاری، اضطراب اور تصادم کے دروازے کھلنے لگتے ہیں جو آخرکار ٹکرائو اور خون خرابے پر منتج ہوتے ہیں۔ یہی ہے وہ عمل جو امریکا اور دنیا کی دوسری اقوام کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ عمل ۱۹۸۹ء میں اشتراکی روس کے ایک سوپرپاور کی حیثیت سے میدان سے نکل جانے کے بعد اور بھی تیز ہوگیا ہے۔
امریکا کے پاس مادی اور قدرتی وسائل کی اتنی بہتات رہی ہے کہ اپنے باشندوں کے لیے وہ زندگی کی تمام سہولتیں بہ افراط فراہم کرسکتا ہے، لیکن عالمی بالادستی کا خواب، دنیا کی دوسری اقوام کے وسائلِ حیات کو اپنی گرفت میں لینے کے عزائم، دنیا کو اپنے تصورات کے مطابق ڈھالنے اور دوسروں پر اپنی اقدار اور نظریے کو بہ زور مسلط کرنے کے منصوبے ہی دراصل تصادم اور ٹکرائو کی جڑ ہیں۔ یہ خواہشات دراصل دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکا کی عالمی حکمت عملی کے اجزا بنتی جارہی ہیں۔ سردجنگ کے دور میں امریکا نے آزاد دُنیا کے تحفظ اور اشتراکیت دشمنی کے نام پر ان اہداف کو حاصل کرنے کی سعی کی، لیکن سردجنگ کے بظاہر خاتمے کے بعد امریکا نے اس لہر کو باندازِ دگر اور بھی تیز کردیا۔
بدقسمتی سے اب اس کے نئے اہداف میں سرفہرست اسلامی دنیا، احیاے اسلام کی تحریکات اور خود اسلام بن گئے ہیں، جس کا دبے لفظوں میں اور ہیرپھیر کے ساتھ اعتراف تو گذشتہ ۳۰برسوں میں ہوتا رہا ہے، مگر اب امریکا کی نئی قیادت اور اس کے پیچھے دائیں بازو کے مفکرین، ’مراکز دانش‘ (Think Tanks) ،میڈیا اور منظم گروہ کھلے بندوں اعتراف کر رہے ہیں۔ صدرٹرمپ کے دستِ راست اور قومی سلامتی کے ایڈوائزر جنرل فلِن کو صرف تین ہفتوں میں مستعفی ہونا پڑا، تاہم صدرٹرمپ نے اس کو اپنا معتبر ترین ساتھی قرار دیا ہے۔ جنرل فلِن نے متعدد بار اسلام کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ ۲۰۱۶ء میں اپنی کتاب The Field of Fight میں اسلام کو کینسر قرار دیتے ہوئے خبث ِ باطن کا اظہار کیا اور متعدد بار ان خیالات کا بہ تکرار اعادہ کیا۔
اکیسویں صدی کو ’امریکا کی صدی‘ اور ساری دنیا کو ’امریکا کے رنگ میں رنگنے ‘کی مہم کا نام ’عالم گیریت‘ (Globalisation) رکھا گیا ہے۔ یوں امریکا انا ولاغیری کے زعم میں مبتلا ہوگیا۔ اس خبط میں دوسروں پر اپنی طاقت کا رُعب جمانا اس کا مقصد ِوجود بن گیا۔ یہی ہے وہ دوراہا ہے جہاں دوسری اقوام میں بھی اپنی آزادی، اپنی عزت اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہونے کی اُمنگ پیدا ہوئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج عالمی سیاست تصادم کے خطرناک راستے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
امریکا کاواحد عالمی قوت ہونا، ظاہربین نگاہوں میں ممکن ہے ایک حقیقت ہو، لیکن اس واحد سوپر پاور کا دوسروں پر غلبہ حاصل کرلینا اور ان کو اپنا تابع مہمل بنالینے کی کوشش میں مگن رہنا ایک خطرناک کھیل ہے، جس نے عالمی امن کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ غلبہ اور جہانگیری کے انھی عزائم کے حصول کے لیے خارجہ سیاست کے ساتھ فوجی حکمت عملی اور معاشی اثراندازی کا عالم گیر جال اور جاسوسی اور تخریب کاری کا ایک ہمہ پہلو نظام،امریکا نے پوری دنیا کے لیے قائم کیا ہے، اور اسے روز بروز زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
فوجی معاہدات اور معاشی زنجیروں کا جال ہے جو ریاستی، عالمی مالیاتی اور تجارتی اداروں کے ذریعے پوری دنیا کو اپنے دام میں گرفتار کیے ہوئے ہے۔ سامراجی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے غیرسرکاری اداروں (NGO's) کی ایک فوج اس عالم گیر استیلا کا ہراول دستہ ہے اور جاسوسی کا نظام ہے جو صرف سی آئی اے ہی تک محدود نہیں ہے، بلکہ متعدد بلاواسطہ اور بالواسطہ ایجنسیوں کے ذریعے کام کر رہا ہے۔ یہ تمام مظاہر امریکا کے عالمی سامراجی آکٹوپس کے مختلف پنجے ہیں۔
اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے امریکا، جہاں دنیا کے دوسرے ممالک کے مادی وسائل کو ہضم یا بھسم کر رہا ہے، وہیں اپنے شہریوں کے وسائل استعمال کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی جواز پیش کرنے کے لیے مجبور ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک زمانے میں اشتراکیت اور روس کا ہوّا تھا، اور ماضی قریب میں سرکش ریاستوں(Rogue States) کا ڈرائونا خواب دکھایا گیا تھا۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سی آئی اے کو جو مینڈیٹ سردجنگ کے زمانے میں دیا گیا تھا، وہی اختیاراس کے مقتدر طبقے کو آج چاہیے۔ اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے ۱۹۵۴ء میں وائٹ ہائوس کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا:
اس کھیل کے کوئی قواعد نہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے خلاف جو طریقے استعمال کرتے ہیں، ہمیں ان سے زیادہ مؤثر، سوچے سمجھے طریقوں کو ہوشیاری سے استعمال کر کے دشمن کو سبوتاژ کرنا ، مٹانا اور تباہ کرنے کے اسباب مہیا کرنے ہیں۔(Brave New World Order، از جیک نیلسن پال میر، ص ۴۳)
امریکا کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ۲۰ویں صدی کے آخری عشرے ہی سے پورے زوروشور سے عوامی جمہوریہ چین، شمالی کوریا اور چند مسلمان ملکوں (ایران، افغانستان، لیبیا، سوڈان) کو امریکا اور مغربی دنیا کے لیے ’اصل خطرہ‘ بنا کر پیش کرنا شروع کیا تھا، اور اب ان میں چار مزید مسلم ممالک عراق، شام، یمن، صومالیہ کا اضافہ کر دیا ہے، اور اس نام نہاد ’خطرے‘ سے مختلف سطحوں پر نبٹنے کے لیے ’جواز‘ کی فضا بنائی جارہی ہے۔
اب سے ۳۴ برس قبل امریکی صدر جمی کارٹر (۸۱- ۱۹۷۷ء) کے قومی سلامتی کے مشیر زبگینیو بریزنسکی نے اپنی کتاب The Grand Chessboard میں صاف لفظوں میں لکھا تھاکہ امریکا کی خارجہ سیاست کا اصل ہدف ہونا ہی یہ چاہیے کہ اکیسویں صدی میں امریکا دنیا کی سوپرپاور رہے اور اس کا کوئی مدمقابل اُٹھنے نہ پائے___ کم از کم پہلی ربع صدی میں تو میدان صرف امریکا ہی کے ہاتھ میں رہنا چاہیے:’’یورپ اور ایشیا دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہاں امریکا کی برتری برقرار رہنی چاہیے۔ یہ ناگزیر اور لازم ہے کہ یور پ اور ایشیا میں کوئی ایسی طاقت نہ اُبھر پائے جو امریکا کو چیلنج کرسکے‘‘۔
یہی وہ ذہنیت ہے جو امریکا کے پالیسی سازوں اور سیاسی قیادت میں ایک قسم کی رعونت پیدا کرتی آئی ہے۔ اس رعونت کے جواب میں بجاطور پر باقی دنیا میں مایوسی اور بے زاری کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پیش تر ایک امریکی وزیرخارجہ نے کسی تکلف اور تردّد کے بغیر امریکا کی اس ذہنیت اور عزائم کا جو اعلان کیا، وہ کالمیرجانسن کی کتاب میں ان الفاظ میں ملتا ہے:
ہمیں طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکا ہیں۔ ہم نوعِ انسانی کے لیے ایک ناگزیر قوم ہیں۔ ہم سربلند ہیں اور ہم مستقبل میں دُور تک دیکھتے ہیں۔ (Blowback: The Costs and Consequences of American Empire، ص ۲۱۷)
واحد عالمی طاقت ہونے کا زَعم ہی وہ چیز ہے جس نے امریکی قیادت میں اس فرعونیت کو جنم دیا ہے۔ اس کی ایک چشم کشا مثال وہ الفاظ ہیں، جن میں اپنی حیثیت کا اظہار امریکی صدر لنڈن بی جانسن (۶۹- ۱۹۶۳ء) نے قبرص کے تنازعے کے موقعے پر یونان کے سفیر سے کیا تھا۔ یونان، امریکا کا ایک دوست ملک اور امریکی قیادت میں فوجی اتحاد ناٹو میں اس کا رفیقِ کار ہے۔ جب یونان کے سفیر گیرانینوز گیگ نیٹس نے امریکا کا حکم نہ ماننے کے لیے، اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ اور اپنے دستور کے حوالے سے التجا کے لہجے میں بات کی، تو امریکی صدر جانسن طیش میں آگئے اور انھوں نے گالی دے کر یونانی سفیر سے کہا:
بھاڑ میں جائے تمھاری پارلیمنٹ اور جہنم رسید ہو تمھارا دستور___ امریکاایک ہاتھی ہے اور قبرص ایک چھوٹا سا پسّو۔ اگر یہ پسّو ہاتھی کو تنگ کرے گا تو ہاتھی کی سونڈھ اسے کچل دے گی۔ مسٹر سفیر، ہم یونان کو بہت سے امریکی ڈالر دیتے ہیں۔ اگر تمھارا وزیراعظم مجھ سے جمہوریت، پارلیمنٹ اور دستور کی بات کرتا ہے تو یاد رکھو: وہ، اس کی پارلیمنٹ اور اس کا دستور زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے۔ (Should Have Died، از فلپ ڈین، ۱۹۷۷ء، ص ۱۱۳-۱۱۸)
ذرا مختلف پس منظر میں، لیکن اسی ذہنیت کا مظاہرہ امریکا کے چیف آف اسٹاف جنرل کولن پاول (بعدازاں صدر بش جونیئر کے زمانے میں وزیرخارجہ) نے باربار کیا تھا۔جن دنوں امریکا نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پانامہ جیسے ایک آزاد ملک پر فوج کشی کی، اس کے صدر کو اغوا کیا اور سزا دی تو اعتراض کرنے والوں کے جواب میں جنرل پاول نے کہا تھا:
ہمیں کنکر کو اپنے دروازے سے یہ کہہ کر باہر پھینکنا ہے کہ یہاں سوپرپاور رہتی ہے۔(Brave New World Order، ص ۸۷)
پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر اپنی برہمی کا اظہار بھی امریکا اسی ذہنیت سے کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی سفیر سیّدہ عابدہ حسین سے جو گفتگو جنرل پاول نے کی تھی، وہ نوٹ کرنے کے لائق ہے۔ امریکا سے شائع شدہ کتاب Between Jihad and Salam میں جوائس ڈیوس نے عابدہ حسین کا انٹرویو شامل کیا ہے، جس میں انھوں نے بتایا:
جنرل پاول نے مجھ سے پوچھا: ’’امریکی اعتراضات اور مالی امداد ختم کر دینے کے باوجود پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام پر اتنا اصرار کیوں ہے؟ آپ یہ بات جانتی ہیں کہ یہ بم آپ استعمال نہیں کرسکتی ہیں تو اس کے باوجود آپ انھیں کیوں رکھنا چاہتی ہیں؟‘‘
میں نے کہا:’’ جنرل، آپ کیوں ایٹم بم رکھتے ہیں؟‘‘
جنرل پاول نے کہا:’’ ہم کم کر رہے ہیں‘‘۔
میں نے پوچھا: ’’کتنے سے کتنے، جنرل؟‘‘
پاول نے جواب دیا: ’’چھے ہزار سے دو ہزار‘‘۔
میں نے کہا: ’’جنرل، آپ دو ہزار بم رکھیں گے اور چاہتے ہیں کہ ہمارے جو چند بُرے بھلے زمین میں پوشیدہ ہیں، ہم ان سے بھی فارغ ہوجائیں۔ آپ تو ہم سے خودکشی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم ایک جوہری ریاست کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ کیا اگر کینیڈا اور میکسیکو کے پاس بم ہوں تو آپ اپنے بم ختم کردیں گے؟ کیا آپ ایسا کریں گے؟‘‘
جنرل پاول نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’دیکھیے سفیرصاحبہ، میں اخلاقیات کی بات نہیں کر رہا ہوں، میں آپ سے صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم ریاست ہاے متحدہ امریکا ہیں اور آپ پاکستان ہیں‘‘۔
میں نے کہا: جنرل، آپ کا شکریہ کہ آپ نے صاف صاف بات کی ہے‘‘۔
اپنے اقتدار اور قوت کے نشے میں بدمست ہونا، دوسروں کو خاطر میں نہ لانا، ہرکسی کو اپنے مقابلے میں حقیر سمجھنا اور خودپسندی، تکبر اور زعم میں مبتلا ہوکر دوسروں کی تضحیک کرنا، انسان اور اقوام کے وقار کو بڑھاتا نہیں، کم کرتا ہے۔
ایسی ہی ذہنیت، ان عزائم اور ایسے مطالبات کے ساتھ امریکا دنیا میں جمہوریت کا علَم بردار، حقوقِ انسانی کا محافظ، قانون کی مساوات اور پاس داری کا داعی اور انصاف کا پرچارک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے___ اور اس کی اسٹرے ٹیجی کا ہدف یہ ہے کہ پوری دنیا کو امریکا کے وژن اور اقدار کو قبول کرلینا چاہیے۔ یہی دراصل سامراجیت کی روح ہے جس کی بنا پر امریکا اور باقی دنیا کے درمیان اجنبیت، فاصلہ اور تلخی پیدا ہورہی ہے۔
امریکا کی ٹفٹس یونی ورسٹی میں علمِ سیاسیات کے پروفیسر ٹونی اسمتھ نے ایتھکس اینڈ انٹرنیشنل افیئرز میں ۱۶برس پیش تر اپنے مضمون میں متنبہ کیا تھا کہ نہ امریکا کی طاقت غیرمحدود ہے اور نہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے نظام اور اقدار کو دوسروں پر مسلط کرے، کیوں کہ یہ لبرل امپریلزم ہی کی ایک شکل ہے جس کا موجودہ زمانے میں کوئی جواز نہیں:
امریکی طرزِ حیات، اقدار اور اداروں کو دنیا کی دوسری اقوام میں رُوبہ عمل لانے کی کوشش میں ناکامی کا اندیشہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ امریکی طاقت محدود ہے، بلکہ اس لیے کہ بڑے پیمانے پر اس کا استعمال بھی ان عقائد اور طریقوں میں اصلاح نہ کرسکے گا جو بنیادی طور پر امریکی طریقۂ کار کے مخالف ہیں۔ چین، مسلم دنیا یا روس کا امریکی مطالبوں کے آگے سپر ڈالنے کے لیے آمادہ ہونا بعید از امکان ہے۔ (Ethics & International Affairs ، ج ۱۴، ص ۶۰، مئی ۲۰۰۱ء)
بلکہ ا س سے بھی پہلے معروف امریکی مفکر والٹرلپ مین نے بڑی پتے کی بات کہی تھی:
جب ایک قوم ساری دنیا کے نظام کو یکساں شکل دینے کی ذمہ داری خود سنبھال لیتی ہے تو اس طرح دراصل وہ دوسروں کو اپنے خلاف متحد ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اس بات کا امکان ہے کہ جوہری اسلحہ وسیع پیمانے پر تشکیل پائے۔ یہ چیز کسی بھی صورت میں امریکی عوام کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خوش کُن راستہ نہیں ہوگا۔(رچرڈ بارنیٹ، Intervention and Revolution ، ۱۹۶۸ء، ص ۳۱۲)
اگرچہ امریکا اپنی موجودہ عظیم طاقت کو دنیا میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے، مگر اس کے برعکس جب تک امریکی یہ خام خیالی نہ چھوڑ دیں گے کہ دنیا بھر میں تبدیلی لانا ان کا حق اور فرض ہے، اس وقت تک خود امریکیوں کو بھی امن نصیب نہیں ہوسکے گا۔(ایضاً، ص ۳۳۲)
ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا پر بے اعتمادی اور اس کی مخالفت کا پہلا اور سب سے اہم سبب دنیا کے ممالک میں کوئی خرابی یا مرض نہیں بلکہ امریکا کا یہی زعمِ باطل ہے کہ: ’’وہ واحد سوپر پاور ہے اور ہمیشہ سوپر پاور ہی رہے گا۔ اس کا حق ہے کہ دنیا اس کے سامنے جھکے اور اس کی بالادستی قبول کرے‘‘۔
زمینی حقائق کے مطابق دنیا اسے ایک بڑی طاقت تو تسلیم کرے گی، مگر اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کے لیے کبھی تیار نہ ہوگی۔ وہ اس سے دوستی کا تعلق بخوشی رکھے گی، مگر غلامی اور چاکری کا مقام کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اگر امریکی حکومتیں تھوڑی سی حقیقت پسندی قبول کرلیں اور بالادستی اور شہنشاہی کی حکمتِ عملی کو ترک کرکے تکبر اور رعونت کے راستے کو چھوڑدیں، تو دُنیا ان کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے، اور ان کے عزت و وقار میں اضافہ ہوگا۔
امریکا سے دنیا کی بے زاری کے اسباب کو سمجھنے کے لیے امریکا کو خود اپنے رویے اور اپنے وعدوں اور عمل کے فرق پر غور کرنا ہوگا۔ اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں ایک چشم کشا کتاب Blowback: The Costs and Consequences of American Empire
۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی تھی (’بلوبیک‘ سی آئی اے کی اصطلاح ہے، جس کا مفہوم امریکی عوام کی لاعلمی میں کیے جانے والے اقدامات کا ردّعمل ہے۔ اس کا ترجمہ ’مکافات‘ بھی کیا سکتا ہے)۔ تب اس کے مصنف کالمیر جانسن، یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈیاگو (امریکا) کے پروفیسر تھے۔ یہ کتاب امریکا اور برطانیہ سے بہ یک وقت شائع ہوئی تھی۔ مصنف نے امریکا کو اپنے رویے پر غور کرنے کی دعوت دی تھی اور تقریباً وہی بات کہی ہے، جو باقی دُنیا کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی زبان پر ہے:
مجھے یقین ہے کہ غیرمتعلق اسلحے کے سسٹم پر ہمارے وسائل کا غیرمعمولی ضیاع، عسکری ’حادثوں‘ کا مسلسل جاری رہنا اور امریکی سفارت خانوں اور چوکیوں پر دہشت گرد حملے، ۲۱صدی میں امریکا کی غیر رسمی سلطنت کے لیے بحران پیدا کرنے والے بنیادی عناصر ہیں۔ امریکا، ایک ایسی سلطنت جو دنیا کے ہرحصے پر فوجی طاقت کے دبائو اور اپنی شرائط، مگر دوسروں کی قیمت پر امریکی سرمایے اور منڈی کو استعمال کرکے عالمی اقتصادی اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو ضمیر کی ہرایسی خلش سے بھی آزاد کرلیا ہے، کہ ہم اس دنیا کے دوسرے لوگوں کو کتنے بُرے نظر آرہے ہیں۔ بیش تر امریکی غالباً جانتے ہی نہیں ہیں کہ واشنگٹن ، دنیا کی اقوام پر کس طرح اپنی بالادستی استعمال کرتا ہے، کیونکہ اس سرگرمی کا کافی حصہ خفیہ یا دوسرے حیلوں بہانوں کے پردے میں انجام پاتا ہے۔ اس حوالے سے بہت سوں کو یہ یقین کرنے میں دقّت پیش آئے گی کہ دنیا میں ہماری حیثیت ایک عالمی سلطنت کی سی ہوگئی ہے۔ لیکن جب ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک خود اپنی بنائی ہوئی سلطنت کا اسیر ہوگیا ہے تو ہمارے لیے دنیا کے بہت سے واقعات کی تشریح کرنا ممکن نہیں رہتا..... سوچنا چاہیے کہ انسانی حقوق، جوہری پھیلائو، دہشت گردی اور ماحول کے بارے میں غیرملکیوں کو امریکی پالیسیاں تضاد کا شکار کیوں نظر آتی ہیں؟ (کالمیر جانسن، حوالۂ مذکورہ، ص ۷-۸)
امریکا اور امریکیت کے اس عالمی رُوپ کو سامنے رکھتے ہوئے اُمت مسلمہ اور پاکستان کو یہ اُمور مدنظر رکھنے چاہییں:
امریکا اور مغربی اقوام آج خواہ کتنی ہی قوی کیوں نہ ہوں، ان کی موجودہ بالادستی اور وسائل پر غلبے اور دسترس کا اِدراک کرنے کے ساتھ، اس عزم کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنا جداگانہ تشخص رکھتے ہیں ۔ ان کی منزل اپنی آزادی اور اپنی تہذیب کی ترقی اور فروغ ہے، جو دوسروں کی غلامی یا بالادستی کے تحت جاے پناہ پر قناعت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اگر امریکا کا ایک بڑی مادی قوت ہونا ایک حقیقت ہے، تو مسلم اُمت کے ایک ارب ۳۰کروڑ نفوس بھی ایک حقیقت ہیں، جنھیں نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ محض طاقت سے غلام بنایا جاسکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ تصادم سے پہلو بچاتے ہوئے اپنے گھر کی اصلاح، دینی و دُنیوی علم میں پختگی ، اپنے داخلی اتحاد کا حصول، اپنے وسائل کی ترقی اور اپنی قوت کا استحکام ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اپنے ایمان، اپنے دین اور اپنے نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنا، وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اپنی بنیادوں کو استوار کرکے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری ہماری فکروسعی کا محور ہونا چاہیے۔
اس کام کو انجام دینے کے لیے ہمیں کچھ عالم گیر اصولوں کو اپنی دعوت اور حکمت عملی کی بنیاد بنانی چاہیے اور دنیا کے تمام انسانوں اور تمام اقوام کو ان کی طرف لانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ہمیں نہ دوسروں کا کاسہ لیس ہونا چاہیے، اور نہ ہر ایک سے الگ تھلگ رہنے اور تعلقات توڑنے کا راستہ اختیار کرنا ہی کوئی صحیح طرزِعمل ہوسکتا ہے۔ قدرِ مشترک کی تلاش اور اس پر تعلقات استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کے حالات بھی اس مقام پر ہیں کہ کچھ اصولوں اور مشترک اقدار پر سب کو جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسی میں تمام انسانوں کی بھلائی ہے۔ بجاے اس کے کہ مسلمان محض دوسروں کے اقدامات پر ردعمل تک اپنے آپ کو محدود رکھیں، ہمیں آگے بڑھ کر پوری انسانیت (بشمول مغربی اقوام) کو کچھ بنیادوں پر متفق کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اصول ہماری عالمی دعوت کا محور بن سکتے ہیں:
۱- تمام اقوام کی آزادی، حاکمیت اور سلامتی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بنیاد، تمام انسانوں کی برابری، تمام اقوام کی آزادی اور ان کا حقِ خود ارادیت ہے۔ اسلام نے اسی اصول کو انسانیت کے سامنے پیش کیا تھا اور یہ اصول استعماریت اور امپریلزم کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
۲- کسی ایک ملک یا تہذیب کی بالادستی پر اُستوار نظام عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سب اس اصول کو تسلیم کریں کہ ہرقوم کو اپنی تہذیب و ثقافت کی پاس داری کا حق ہے اور دنیا کی یک رنگی، فطرت کے خلاف اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ اس لیے سب کو اپنے اپنے اصول و اقدار کی روشنی میں ترقی کے مواقع حاصل ہونے چاہییں۔
۳- تمام انسانی معاملات کو دلیل اور مکالمے (Dialogue) کے ذریعے حل کیا جائے اور قوت کے استعمال کو قانون اور عالمی انصاف کے تابع کیا جائے۔ ہرقسم کے تشدد کے خلاف عالمی راے عامہ کو منظم کیا جائے اور اس میں دہشت گردی کی ہرشکل میں مخالفت شامل ہو۔ نیز دہشت گردی اور آزادی کے حصول یا ملک و ملّت کی حفاظت کے لیے جدوجہد کو اس سے ممتاز و ممیز کیا جائے اور قوت کے استعمال کی حدود اور اس کا ضابطۂ کار متعین کیا جائے۔
۴- انصاف کے حصول کے لیے دنیا کے تمام انسانوں اور اقوام کو ایک منصفانہ عالمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ انصاف ہی وہ مثبت بنیاد ہے جس پر عالمی امن قائم ہوسکتا ہے اور ظلم کی دراندازیوں سے انسانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
۵- بین الاقوامی تعاون اور اشتراک کے ساتھ ساتھ قوموں یا ملکوں کے الحاق کی اجتماعی خودانحصاری کے اصول کا احترام کیا جائے۔ اس سے عالم گیریت کا ایک ایسا نظام وجود میں آسکتا ہے جس کے تحت اگر ایک طرف انسانوں، مالِ تجارت، مالی اور دوسرے وسائل کی نقل و حمل میں سہولت ہو، تو دوسری طرف ایسے عالمی ادارے وجود میں آسکیں جس کے نتیجے میں سب کو خوش حالی، استحکام اور باعزت زندگی حاصل ہوسکے۔
ان پانچ بنیادوں کی طرف دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت دے کر اُمت مسلمہ اور پاکستان ایک ایسے عالمی نظام کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں ، جو حقیقی امن و انصاف کا ضامن ہوسکتا ہے۔
بلاشبہہ آج کے طاقت ور اس کی راہ میں حائل ہوں گے، لیکن دنیا کے تمام دوسرے ممالک کو منظم اور متحرک کر کے اور پُرامن ذرائع سے عالمی راے عامہ کو منظم کرکے اس قدرِ مشترک کو نئے نظام کی بنیادبنایا جاسکتا ہے۔ نیز یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دنیا کے ممالک دوسروں پر بھروسا کرنے کے بجاے اپنے اُوپر بھروسا کر کے اپنے وسائل کو صحیح صحیح استعمال کرنے اور منظم کرنے کی جدوجہد کریں اور تعاون اور اشتراک کی منصفانہ شکلوں کو رواج دیں۔ جس طرح دنیا کے بہت سے ممالک میں، بشمول آج کے ترقی یافتہ مغربی ممالک، اندرونِ ملک دولت کی تقسیم اور قوت کے توازن کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں ایک درجہ کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح عالمی سطح پر ایک متوازن اور منصفانہ نظام کا قیام ممکن ہے، بشرطیکہ اس کے لیے صحیح طریقے پر مسلسل جدوجہد ہو۔
اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر محض پیش کرنا مطلوب نہیں۔ اس ایجنڈے پر دنیا کو لانا اسی وقت ممکن ہوگا جب مسلمان ممالک خود اپنے گھر کو درست کریں اور اس کا آغاز خود احتسابی سے کریں۔
آج جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ جو افراد یا ملک یہ سمجھتے تھے کہ امریکا سے دوستی کے ذریعے ان کو حفاظت، عزت اور سلامتی مل جائے گی اور جو اپنی دولت اپنے ملکوں میں رکھنے کے بجاے امریکا اور یورپ میں اسے محفوظ سمجھ رہے تھے، ان کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ انھوں نے کیسا کمزور سہارا تھاما تھا اور کس طرح خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔
اس سے یہ سبق بھی حاصل کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے کہ مانگے کا اُجالا کبھی روشنی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ خودانحصاری اور اپنی قوت کی تعمیر کے بغیر آپ اپنی آزادی، اپنے ایمان اور اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ مقصد کسی سے لڑنا نہیں لیکن اپنے گھر کی تعمیر اور اپنے ممالک کی مضبوطی اور دوسروں پر محتاجی سے نجات، قومی سلامتی کے لیے ازبس ضروری ہے۔
اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم ممالک میں خود اپنے عوام پر اعتماد کی فضا پیدا کی جائے۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں حاصل ہوں، اختلاف کو برداشت کیا جائے ، اور معیشت اور سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے، کہ اسی میں اصحابِ اقتدار کے لیے بھی خیر ہے اور مسلم عوام کے لیے بھی۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے جہاں نظریہ اور قومی تشخص ضروری ہے وہیں سیاسی، معاشی اور اداراتی نظام کا ایسا آہنگ درکار ہے، جس میں سب کی شرکت ہو، عوام اور حکمرانوں کے درمیان کش مکش کے بجاے تعاون اور اشتراک کا رشتہ قائم ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے: ’’تمھارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں، اور بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور جو تم سے نفرت کرتے ہیں‘‘۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۵۳۶)
پھر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ آزادی اور اشتراک کے ساتھ تعلیم، زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو ملکی پالیسی میں مرکزیت کا مقام حاصل ہو۔ وقت کی ٹکنالوجی کو حاصل کیا جائے اور ایجاد و اختراع اور تحقیق و تفتیش کے ذریعے علم اور سائنس پر عبور حاصل کیا جائے۔ نیز معیشت اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں بھی خودانحصاری کی پالیسی اختیار کی جائے۔
عالمی طاقتوں کے دبائو سے نکلنے کے لیے خود انحصاری کی جانب گام زن ہونے کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا نہیں ہے۔ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمیں وسائل پر اتنی دسترس حاصل ہو کہ ہم اپنی پالیسیاں، اپنے مقاصد اور اہداف کے مطابق خود طے کرسکیں، اور دوسروں کی ایسی محتاجی نہ ہو کہ وہ ہماری پالیسی پراثرانداز ہوسکیں۔ دنیا کے تمام ممالک سے تعاون اور تجارت سب کے لیے اسی وقت بہتری کا باعث ہوسکتے ہیں، جب خودانحصاری کے ساتھ یہ تعاون ہو ورنہ یہی بین الاقوامی رشتے اور معاملات ظلم اور استحصال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
مسلمان ممالک کی تعمیر و ترقی میں یہ بات بھی سامنے رہے کہ یہ اُمت ، ’اُمت ِ وسط‘ ہے جس کا کام دنیا کے سامنے خدا کے پیغام کی شہادت دینا ہے اور جو انصاف کے فروغ اور نیکیوں کی ترویج اور بُرائیوں سے نجات کی داعی ہے۔ اس اُمت میں اگر تشدد کی سیاست دَر آئی ہے تو یہ اس کے مشن اور مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی اور یہ اس کے اصل کردار پر ایک بدنما دھبّا ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، اسلام: تشدد، زور زبردستی اور اکراہ کا مخالف ہے اور محبت، بھائی چارے، رواداری اور تعاون و اشتراک کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
جہاد کا مقصد انصاف کا قیام اور تمام انسانوں کے لیے آزادی، عزت اور عدل کی ضمانت ہے۔ جہاد اپنی تمام صورتوں میں___یعنی نفس کے ساتھ جہاد، زبان اور قلم سے جہاد، مال سے جہاد اور جان سے جہاد___ واضح اخلاقی حدود اور مقاصد کا پابند ہے۔ ہرسطح پر اس کے تصور، تعلیم اور تبلیغ کی ضرورت ہے تاکہ جہاد کا صحیح فہم و ادراک ہو اور اس کی نعمتوں سے مسلمان اور غیرمسلم سب فیض یاب ہوسکیں۔ یوں تو جہاد کے اس تصور کا فہم اور احترام ہر دور میں ضروری تھا مگر آج جب جہاد کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور اسے تشدد اور دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جارہا ہے، اس وقت جہاد کی تفہیم اور جہاد کے آداب کے مکمل احترام کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ جہاد اسلام کی ابدی تعلیم اور اس کا رکن رکین ہے۔ اس کا یہ کردار سب سے پہلے خود مسلمانوں کے سامنے واضح ہونا چاہیے تاکہ غیرمسلم بھی اس کی گواہی دے سکیں۔
عصرِحاضر میں اسلامی تحریکات کی خدمات میں سے ایک نمایاں خدمت یہ ہے کہ ایک طرف اس نے جہاد اور روحِ جہاد کے احیا کا کارنامہ انجام دیا ہے، تو دوسری طرف جہاد کے مقاصد، آداب اور ضابطۂ کار کی وضاحت اور احترام کر کے اس کے اصل کردار پر توجہ مرکوز کی ہے اور مسلمانوں کو اس کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے۔
مسلم ممالک کے درمیان معاشی، سیاسی، تعلیمی، ٹکنالوجی اور میڈیا کے میدانوں میں قریب ترین تعاون بلکہ اتحاداورالحاق کی ضرورت ہے، جو نظریے اور تاریخ کے اشتراک کے ساتھ مفادات کے اشتراک اور سیاسی اور معاشی حوالوں سے باہمی تعاون اور احترام کی محکم بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ یہ ایسی ضرورت ہے، جسے مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظام میں تنازعات کے تصفیے کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے، تاکہ حقیقت پسندی سے اتحاد کو مستحکم کیا جاسکے۔ عالمی سطح پر مسلم نقطۂ نظر کو پیش کرنے کے لیے میڈیا کی مؤثر ترقی و تنظیم بھی ضروری ہے۔
اسلام کے عالمی کردار کی مؤثر ادائی اسی وقت ممکن ہے جب تمام مسلمان ملک اور اُمت مسلمہ ان خطوط پر اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کرے۔ ’اُمت ِ وسط‘ کی حیثیت سے اللہ کی بندگی اور انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح کے نظام کی داعی کی حیثیت سے اپنے گھر کی تعمیر کرے اور دنیا کے سامنے اس کا نمونہ پیش کرے۔
وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان اور اہلِ پاکستان پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے اندرونی معاملات میں بیرونی قوتوں کی چھپی اور کھلی دراندازیاں مشکلات میں اضافے اور آزادی کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ تصادم، عدم مشاورت اور وقت گزاری کی پالیسی ترک کرکے ایک ایسی پالیسی اپنائی جائے، جس میں پاکستان، اس کے نظریے اور قوم کی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے لیے درج ذیل اُمور فوری توجہ کے طالب ہیں:
۱- اللہ سے وفاداری اور اس پر بھروسے کو سب چیزوں پر اولیت دی جائے۔ اللہ کی طرف رجوع ہو اوراپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا اپنے مالک کے حضور اعتراف کرکے اس سے طاقت اور رہنمائی طلب کی جائے۔ پوری قوم اور اس کی قیادت اپنے خالق و مالک کا دامنِ رحمت تھامے اور اس سے مدد مانگے۔
۲- عوام پر اعتماد کیا جائے اور ان کو اعتمادمیں لیا جائے اور مؤثر طور پر ان کو قومی سلامتی، ترقی اور تعمیرنو کے لیے متحرک کیا جائے۔
۳- ایسی نظریاتی کش مکش اور لاحاصل بحث سے بچا جائے جس میں مغربی میڈیا اور دانش ور ہمیں مبتلا کردینا چاہتے ہیں۔ ’بنیاد پرستی‘، ’انتہاپرستی‘ اور ’فرقہ پرستی‘ ہمارے مسائل نہیں۔ جدید اور قدیم کی بحثیں بھی بہت پرانی باتیں ہیں اور ہم ان سے گزر چکے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات بہت صاف اور واضح ہیں۔ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو بنیادی اخلاقی اقدار کی روشنی میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرتا ہے۔ سیکولرزم ایک مُردہ گھوڑا ہے ، اس پر سواری کے خواب دیکھنا ایک حماقت ہے۔ پاکستان کے دستور نے جن تین بنیادوں کو واضح طور پر پیش کر دیا ہے، یعنی: اسلام، جمہوریت اور وفاقی طرزِحکومت انھیں متفق علیہ بنیاد بناکر قومی پالیسی کی تشکیل کی جائے اور ان طے شدہ اُمور کو ازسرِنو زیربحث لانے کی جسارت نہ کی جائے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد، دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس پر عمل کی ہے۔ ہمارا ایجنڈا، ہماری تحریک ِ آزادی اور ہماری قراردادِ مقاصد، ہمارے دستور میں طے ہے۔ اسے مضبوطی سے تھام لیجیے۔
۴- ملک کی دفاعی قوت کی حفاظت کو اولیت حاصل ہے۔ اس خطے میں امریکی فوجوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اسی طرح بھارت کے عزائم کا ادراک اور مقابلے کے لیے فوج اور قوم میں ہم آہنگی اور دونوں کا متحرک و فعال ہونا ضروری ہے۔
۵- پاکستان اور اسلامی دنیا میں ایسی معاشرتی ترقی کا حصول جو ملکی پیداوار اور پیداآوری صلاحیت میں ہمہ افزوں اضافے کا باعث ہو، ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا جائے، تاکہ ملک کی مارکیٹ وسیع تر ہو۔ جدید ٹکنالوجی کا حصول اور ترقی جس کا لازمی جزو ہو۔ معاشی انصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم جس کا مرکزی ہدف ہو اور جس کا مطلوب معاشی ترقی کے ساتھ عدلِ اجتماعی کا قیام اور خود انحصاری کا حصول ہو۔ عسکری قوت کے ساتھ معاشی قوت کا حصول بھی باعزت زندگی کے لیے لازمی شرط ہے۔
۶- جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی بہیمانہ سرگرمیوں کی مذمت کرنے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کے بارے میں مکمل یکسوئی اور مضبوط و متحرک موقف پر عمل درآمد کی راہوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ِ پاکستان کو کشمیر کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل کرکے، دنیا بھر کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو پوری قوت سے پیش کرنا چاہیے۔
۷- افغانستان میں بدامنی کی فضا کو قائم رکھنا امریکا اور بھارت کی ضرورت ہے، تاکہ وہاں ان کی موجودگی کا کوئی نہ کوئی جواز پیش کیا جاسکے۔ اس ضمن میں چین اور روس کے ساتھ مل کر وہاں امن قائم کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں، انھیں تیز تر کیا جائے اور کابل میں محدود انتظامیہ کو افغانستان کی نمایندہ قوت تصور کرنے کے بجاے وہاں کی اصل قوت کے مراکز کو شریکِ مشورہ کیا جائے۔ دین، تاریخ اور مشترک مفادات کی بنیاد پر امن اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
۸- فلسطین پر مغربی اقوام کی زیرسرپرستی صہیونی سلطنت کے ناجائز وجود کو ختم کیا جائے اور اعلانِ بالفور کے بعد ایک سو سال سے مسلط کردہ جبری خوں ریزی کا خاتمہ کیا جائے۔
۹- مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک سے تعلقات میں گہرائی پیدا کی جائے اور مشترکہ حکمت ِعملی کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کیا جائے۔
۱۰- ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مشترک مفادات میں باہم تعاون کو بڑھایا جائے۔
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک جانب یہ اُمور حکومت ِ پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کا تقاضا کرتے ہیں تو دوسری جانب وطن عزیز کے اہلِ دانش اور ماہرین کو بھی حق کی گواہی اور وقت کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے پکارتے ہیں۔
امریکی صدارتی نظام میں، روایتی طور پر نئے صدر کے پہلے سو دن بڑے فیصلہ کن سمجھے جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں اپنے بارے میں خاص و عام کے بہت سے اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے اور قدم قدم پر حیرت میں مبتلا کیا ہے، وہیں اپنی صدارت کے پہلے دس دن میں وہ کچھ کرڈالا جو دوسرے سو دن میں نہیں کرپاتے۔ یہ اور بات ہے ان ’حیرتوں‘ کے نتیجے میں خوشی کے نغمے کم ہی بلند ہوئے ہیں اور خوف و ہراس اور اضطرابی احتجاج کی لہروں نے امریکا ہی نہیں پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ سی این این پر ایک امریکی تجزیہ نگار نے خوب کہا ہے کہ: Trump's ten days as President have created a Tsunami of humam misery (ٹرمپ کے بطور صدر، دس دنوں نے انسانی بدبختی کا سونامی دکھا دیا ہے۔)
معروف سیاسی تجزیہ کار خیال کرتے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ری پبلکن پارٹی کی اُمیدواری کی منزل سر نہیں کرسکیں گے لیکن موصوف نے بڑی چابک دستی سے اپنے تمام گھاگ اور تجربہ کار حریفوں کو مات کر دیا۔ اسی طرح ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی اُمیدوار امریکا اور امریکا کے باہرعالمی سیاست پر نظر رکھنے والے بیش تر دانش وروں، صحافیوں، سفارت کاروں اور سیاسی مبصرین کا خیال تھا اور راے عامہ کے تمام ہی سروے یہ خبر دے رہے تھے کہ ہیلری کلنٹن انتخاب جیت جائیں گی، لیکن ۹نومبر۲۰۱۶ء کو سب ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے کہ ہیلری سے ۲۹لاکھ کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود صدارتی بازی ٹرمپ نے جیت لی۔
اسی طرح سبھی سمجھ رہے تھے کہ انتخابی مہم کے دوران بلند بانگ دعوے، دل خوش کُن وعدے، ہوش ربا اعلانات، حتیٰ کہ جو متضاد پالیسی اہداف پوری تحدی اور خطابت کی گرم گفتاری کے ساتھ اس صدارتی امیدوار نے بیان کیے تھے، وہ محض سب انتخابی مہم کا حصہ تھے۔ صدارت کی ذمہ داری پڑنے کے بعد یہ صاحب ہوش کے ناخن لیں گے اور منقسم قوم کو جوڑنے اور حقیقت پسندی کی دنیا میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے سے ملکی اور عالمی سیاست کو ایک مثبت جہت دینے کے لیے اُمید اور روشنی کے پیامی بن کر اپنے صدارتی دور کا آغاز کریںگے لیکن ٹرمپ صاحب نے نہ صرف اپنی صدارتی تقریر میں ان سب توقعات کو پاش پاش کر دیا، بلکہ اپنی ٹیم کے انتخاب اور صدارت کے پہلے دس دنوں ہی کے اقدامات میں وہ تشویش ناک صورتِ حال پیدا کردی، جس میں حالات کی سنگینی پر نظر رکھنے والے ’تباہی اور بربادی کے سونامی‘ کے خطرات دیکھ رہے ہیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والے چار سال امریکا ہی نہیں پوری دنیا کے لیے بڑے طوفانی سال ہوں گے اور امریکی عوام اور دنیا کی تمام ہی اقوام کو سیاسی زلزلوں کے جھٹکوں اور ان کے جلو میں پیدا ہونے والے بعد از تلاطم صدمات ( after-shocks)سے سابقہ رہے گا۔
۲۱ویں صدی کا آغاز ’نائن الیون‘ (۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء) کے نیویارک ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون پر ہوائی حملے سے ہوا جس کے نتیجے میں مسئلے سے نبٹنے کے لیے کوئی مثبت اور سوچی سمجھی حکیمانہ پالیسی بنانے کے بجاے، نشۂ قوت کی بدمستی میں پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ جدید تاریخ کی یہ عجیب و غریب جنگ ۱۵سال سے جاری ہے۔ جس میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیا تباہ کر دیےگئے ہیں۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکا میں ۴۰ممالک کے تقریباً ۳ہزار افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے امریکا نے اپنی سربراہی میں جو جنگ شروع کی تھی، اس میں ۶لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکا اور ناٹو کے ہلاک ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی تعداد ۳ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔اس سے چارگنا زیادہ زخمی اور اپاہج ہوچکے ہیں۔ ۸۰لاکھ سےزائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اپنے اپنے تباہ کردہ ممالک میں یا پھر دیگر ممالک میں مہاجرت پر مجبور ہوئی ہے۔ مالی اعتبار سے دنیا اس جنگ کی جو قیمت اب تک ادا کرچکی ہے اس کا اندازہ ۶ سے ۸ ٹریلین ڈالر ہے، جس کا اگر نصف بھی دنیا کے انسانوں کو غربت، بھوک اور بیماری سے نجات دلانے کے لیے استعمال ہوتا تو دنیا کی آبادی کا ۵۰ فی صد (۳ء۶ ملین افراد) جو اس وقت غربت ، جہالت اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی اوسط آمدنی کی آبادی کے معیار کے برابر آسکتا تھا۔
ٹرمپ کی سربراہی میں امریکا کی نئی قیادت جو زبان استعمال کر رہی ہے اور جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، اس کے نتیجے میں ذہن یہ بات سوچ کر مائوف ہو جاتا ہے کہ ’الیون نائن‘ (۹نومبر) کے صدارتی انتخابی نتائج دنیا کو ’نائن الیون‘ کے زلزلے سے بھی بڑے زلزلے کی طرف لے جارہے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ’الیون نائن‘ کے نتیجے میں ۲۰جنوری ۲۰۱۷ء کو جس قیادت نے امریکا کی زمامِ کار سنبھالی ہے، اس کے ذہن، تصورِ جہاں، سیاسی شاطرانہ چالوں، معاشی حکمت عملی اور اندازِ کار کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سمجھا جائے۔ پھر دنیا کو اس تباہی سے بچانے کے لیے سوچ بچار سے کام لیا جائے اور عملی اقدام کیے جائیں، تاکہ ۲۱ویں صدی کو جنگ و جدال اور تباہی و بربادی سے محفوظ کیا جاسکے اور انسانیت کو امن و سلامتی اور ترقی و خوش حالی کی راہ پر گامزن کرنے کی خدمت انجام دی جاسکے۔ واضح رہے کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کی اس کوشش کے ذریعے ہی ہم جہاں خود اپنے گھر کو بچانے کی جدوجہد کریں گے، وہیں ہم اُمت مسلمہ کو محفوظ و مستحکم بنانے اور پوری انسانیت کو خیروفلاح کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھی ایک کردار ادا کرسکیں گے۔
یاد رکھیے، جو پالیسیاں بھی خوف، نفرت، غصے اور انتقام کے جذبے کے تحت بنتی ہیں، وہ ہمیشہ تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ حقائق کے بارے اغماض، جانب داری اور پسند کے انتخاب (selectivity) کے تباہ کن راستے سے بچیں، نیز مسائل اور زمینی رجحانات کو نظرانداز کر کے محض اپنی خواہشات کی بنیاد پر پالیسی بنانے سے مکمل احتراز کریں کہ یہ بڑے ہی خسارے کا سودا ہے۔
امریکا بلاشبہہ آج بھی دنیا کی درجہ اوّ ل کی طاقت ہے۔ ۳۳کروڑ کی آبادی کا یہ ملک جس کی آبادی دنیا کا صرف ۵ فی صد ہے، اس وقت دنیا کی دولت کے ۲۲ فی صد پر قابض ہے۔ اس ملک کی مادی ترقی اور خوش حالی کا آغاز انیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔ اس وقت امریکا کے پاس دنیا کی دولت کا صرف ۱ء۴ فی صد تھا، جو دوسری جنگ عظیم(۴۵-۱۹۳۹ء) کے اختتام تک دنیا کی دولت کے ۴۵فی صد تک پہنچ گیا تھا۔ گذشتہ ۷۰برسوں کے دوران میں اگرچہ امریکا دنیا کا امیرترین اور طاقت ور ترین ملک رہا لیکن اس کی تقابلی پوزیشن میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
فوجی اعتبار سے امریکا آج بھی دوسرے تمام ممالک پر فوقیت حاصل ہے۔ اس کی فوج کا بجٹ آج بھی روس، چین، جرمنی، جاپان، فرانس اور برطانیہ کے مجموعی دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔ دنیا کے ۸۹ممالک میں اس کے فوجی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور ۴۰ ممالک میں اس کے فوجی اڈے قائم ہیں۔ لیکن دوسری جانب معیشت کے میدان میں اسے ماضی جیسی برتری حاصل نہیں رہی۔ چین، روس، جرمنی، جاپان، برازیل اور چند دوسرے ممالک اس دوڑ میں برابر آگے بڑھ رہے ہیں اور چین اس وقت اس معاشی دوڑ میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے اور اگلے ۱۵، ۲۰ سال میں پہلی پوزیشن میں آنے کا اُمیدوار ہے۔
ٹکنالوجی کے میدان میں جو تبدیلی گذشتہ ۵۰برسوں میں آئی ہے اور عالم گیریت (Globalization)کے نتیجے میں امریکا کی صنعتی پیداواری صلاحیت میں جو کمی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علاقوں کے علاقے ’غیرصنعتی بحران‘ (de-industrialization ) کا شکار ہوئے ہیں، جس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ درمیانی آمدنی والا طبقہ شدید معاشی دبائو کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مالی بوجھ اور پھر ۲۰۰۸ء سے شروع ہونے والے عالمی مالیاتی بحران نے آبادی کے ایک بڑے طبقے کو بُری طرح کچل کر رکھ دیا ہے۔ افریقی امریکیوں میں تو غربت اور بے روزگاری پہلے ہی بہت زیادہ تھی، لیکن گذشتہ ۲۰، ۲۵ برسوں میں سفیدفام آبادی میں بھی غربت اور بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پھر تقسیمِ دولت کے سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں ملک میں شدید عدم مساوات کا دور دورہ اور معاشی ترقی کے اصل فوائد سے صرف مال دار طبقہ فیض یاب ہوا ہے، جب کہ آبادی کا بڑا حصہ محرومیوں کا شکار ہے۔
امریکا میں آبادی کے ۵۰ فی صدی کا حال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اُجرت (real wages) تقریباً ۳۵، ۴۰ سال سے ایک ہی سطح پرہے یا اس میں کچھ کمی ہوئی ہے۔ لیکن آبادی کا ایک فی صد جو امیرترین ہے، اس کی دولت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ عالم گیریت، مارکیٹ اکانومی، آزاد تجارت اور آبادی کی منتقلی کی سہولت نے امیروں کو امیرتر اور غریبوں کو غریب تر کردیا ہے۔ جنوری ۲۰۱۶ء اور جنوری ۲۰۱۷ء میں Oxfam کی جو دوسالانہ رپورٹیں شائع ہوئی ہیں، وہ معاشی ناانصافی، دولت کی عدم مساوات اور اکثریت کی زبوں حالی کا بڑا دردناک نقشہ پیش کرتی ہیں:
۲۰۱۶ء کی رپورٹ کا نام ہے: An Economy for the 1%: How Privilage and Power in the Economy Drive Extreme Inequality and how this can be stopped.
اور ۲۰۱۷ء کی رپورٹ کا عنوان ہے: An Economy for the 99%. Its time to build a Human Economy that benefits everyone, not just the Privileged Few.
۲۰۱۷ء کی رپورٹ سے ہم صرف چند حقائق پیش کرتے ہیں، تاکہ زمینی صورتِ حال کو سمجھنے، عوامی سطح پر اصل اضطراب کی نوعیت کا فہم حاصل کرنے کے ساتھ تبدیلی کی خواہش کا صحیح اِدراک کیا جاسکے اور اس کی وجوہ کا اندازہ کیا جاسکے جو اضطراب اور بے چینی کے سیلاب کا ذریعہ ہیں:
l FTSE-100 کا چیف آفیسر تنہا ایک سال میں اتنا کما لیتا ہے، جتنا کہ بنگلہ دیش کے ملبوسات کے کارخانوں میں کام کرنے والے ۱۰ہزار کارکن مل کر کماتے ہیں۔
اس صورتِ حال کے لیے حکومتوں اور کمپنیوں کے پالیسی سازوں کو کم از کم جزوی طور پر تو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ کرئہ ارض پر ہونے والے حالیہ سیاسی واقعات نے ایک اور بڑی تقسیم؍تفریق کاری کو جنم دیا ہے اگر ہم عدم مساوات سے نبٹنا چاہتے ہیں تو اس کی طرف فوری طور پر توجہ منعطف کرنا بہت ضروری ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق بریگزٹ (Brexit) { FR 891 } سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کی کامیابی تک، نسل پرستی میں پریشان کُن اضافہ اور مین سٹریم سیاست سے وسیع پیمانے پر مایوسی اور بددلی تک، اس بات کے روزافزوں اشارے مل رہے ہیں کہ مال دار ملکوں میں زیادہ لوگ اب اسٹیٹس کو برداشت کرنے کے لیےمزید آمادہ نہیں ہیں۔ یہ آخر اسے برداشت کریں بھی تو کیوں، جب کہ تجربے سے یہ اشارے ملے ہیں اس کی وجہ سے جو کچھ حاصل ہو رہا ہے، وہ جامد معاوضے، غیرمحفوظ ملازمتیں اور صاحب ِ ثروت اور نادار لوگوں میں بڑھتی ہوئی خلیج ہے ۔ چیلنج جس کا سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مثبت متبادل (Alternative)تعمیر کیا جائے، ایسا نہیں جو تقسیم در تقسیم کو ہوا دے۔
واضح رہے کہ آج دنیا بھر میں صرف آٹھ افراد اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی دنیا کے ۳؍ارب ۳۰کروڑ کا مقدر ہے اور ان میں آٹھ میں سے چھے افراد امریکی ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ۲۰۱۰ء میں دنیا کی ۵۰ فی صد آبادی کی دولت کے برابر دولت کے مالک افراد کی تعداد ۳۸۸ تھی، جو ۲۰۱۵ء میں ۶۲ رہ گئی تھی اور ۲۰۱۶ء کے آخر میں اب دولت کا یہ ارتکاز اورسمٹائو صرف آٹھ افراد تک ہوگیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی کا تصور کر کے اللہ تعالیٰ سے گریہ کیا تھا کہ ؎
کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات!
ڈونلڈ ٹرمپ نے ’تبدیلی‘ کے نعرے کو بڑی ہوشیاری اور چابک دستی سے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، حالاں کہ اس کا تعلق اسی سفاک سرمایہ دار طبقے سے ہے، جو اس ہوش ربا استحصال کا ذمہ دار ہے۔ اس نے امریکا میں باہر سے آکر آباد ہونے والے پردیسیوں اور عالم گیریت کو، سفیدفام آبادی کی غربت اور معاشی ابتری کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ پھر اس نظام کو بدلنے اور امریکا کے معاشی اور سیاسی حکمران طبقے کو چیلنج کرکے اپنے کو متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی قوت کو استعمال کر کے اقتدار کے محافظوں اور طاقت کے روایتی کارگزاروں اور دلالوں (brokers) کو ایک طرف دھکیل کر عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
یہ امریکی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ ایک ایسا شخص جسے نہ اعلیٰ تعلیم کا اعزاز حاصل ہے، نہ کوئی سیاسی یا انتظامی تجربہ اس کے دامن میں ہے، جس کا پورا کردار یا پراپرٹی ڈیلر یا ڈویلپرکا سا ہے، یا ٹی وی کے ہنرمند بازی گر (entertainer ) کا سا۔ جس کی اپنی امریکیت کی عمر بھی کچھ زیادہ طویل نہیں ہے۔ جس کا دادا جرمنی سے امریکا مہاجرت کرکے آیا تھا۔ جس کی تیسری بیوی کی پیدایش سلاوینیطا (Salavinita) کی ہے اور جسے امریکی شہریت ۲۰۰۵ء میں حاصل ہوئی ہے۔ اس نے متوسط طبقے کی معاشی بدحالی اور مہاجرت کرنے والے (immigrants) لوگوں کو جن میں: میکسی کن ، لاطینی امریکی، چینی، برعظیم پاک و ہند، افریقہ اور عرب دنیا سے آنے والے نوامریکی لوگوں کو جن کی تعداد اس وقت آبادی کا ۱۴ فی صد سے زیادہ نہیں ہے، انھی کو نشانہ بناکر اور زیرزمین نفرت اور خوف کے لاوے کو پکاکر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ووٹ کی طاقت کے ذریعے امریکا کے مقتدر طبقات کو چیلنج کیا ہے۔ خود اپنی پارٹی کے روایتی قائدین کے چھکے چھڑا دیے اور بالآخر صدارت پر براجمان ہوگیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ اس کی سیاست قوم کو تقسیم کرنے سے چمکی ہے اور اس نے تمام اقلیتوں اور خصوصیت سے مسلمانوں کو ہدف بناکر قربانی کا بکرا ( scapegoat) بنا کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے۔ امریکا کے انتخابات میں سیاسی گرماگرمی تو ہمیشہ ہی ہوتی تھی، لیکن ۲۰۱۶ء کے انتخابات میں جس طرح نفرت، غصے، خوف اور انتقام کا دور دورہ رہا، وہ غیرمعمولی واقعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات اور انتقالِ اقتدار کے بعد بھی تنائو اور تصادم کی فضا موجود ہے۔
امریکا کی سوسالہ تاریخ میں انتخابات کے بعد اور صدارتی حلف برداری کی تقریب اور اس کے بعد مظاہروں کی وہ کیفیت کبھی رُونما نہیں ہوئی جو اس بار ہوئی ہے اور اس کے تھمنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اس لیے کہ صدرٹرمپ نے لوگوں کو جوڑنے اور انتخابی معرکے کے ٹکرائو کو پیچھے چھوڑ کر نئے اتحاد اور قومی یک جہتی اور مشترکات پر قوم کو جمع کرنے کا راستہ اختیار نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس رنگ و نسل کی بنیاد پر اس تقسیم کو ملک ہی نہیں عالمی سطح تک پھیلا کر اپنے ایجنڈے پر عمل، اس کا ہدف نظر آرہا ہے جو دنیا کو اور زیادہ غیرمحفوظ بنائے گا اور تصادم اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث ہوگا۔
اس انتخاب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمہوریت میں قیادت کے لیے ازبس ضروری ہے کہ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہو اور ان کے مسائل، ان کے متعلقات (concerns)، ان کی مشکلات، ان کے عزائم اور تمنائوں کا صحیح ادراک ہو۔ پھر وہ زبان استعمال کی جائے جسے عوام سمجھتے ہوں اور جو ان کے دل کی گہرائیوں میں اُتر سکے اور ان کو سیاسی تائید، تحرک اور ووٹ کی قوت سے تبدیلی کے لیے اُٹھا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ عوام خصوصیت سے محروم طبقات کے جذبات کوسمجھا اور ان کو اپنے سیاسی عزائم کے لیے متحرک اور استعمال کیا۔ اسے اندازہ تھا کہ زمینی معاشی حقائق کیا ہیں؟آبادی کے تناسب میں جو تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور ان کو سفیدفام آبادی کس طرح محسوس کر رہی ہے۔ ان پر اس کی نگاہ تھی۔ پھر اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ کوئی کھل کر اسے ایشو بنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے ایک طاقت کے روایتی مراکز کی مخالفت مول لے کر، اس طبقے کی تائید حاصل کی جو اس کی کامیابی کے لیے ذریعہ بن سکتا تھا، کہ جن سے خود اس کو اپنی سوچ بھی جِلدکی رنگت اور مذہب سے نسبت سے ہم آہنگ تھی۔
گلوبلائزیشن جسے امریکی انتظامیہ نے اپنے مفاد کی خاطر ’تقدیس‘ کے درجے پر پہنچادیا تھا اور اس کے خلاف بات کرنا گویا کفر کے مترادف ہوگیا تھا، ٹرمپ نے اسے کھل کر چیلنج کیا اور اس کے نتیجے میں جو مسائل مقامی یا قومی سطح پر پیدا ہوئے تھے، ان کو مبالغہ آمیز حد تک نمایاں کیا۔ مسائل کا ٹھیک ٹھیک ادراک کرنا، تبدیلی کے نعرے کو صحیح انداز میں اپنانا اور اس کی علامت بن جانا، مقتدر قوتوں کو چیلنج کرنا اور عوام کو یہ اعتماد دینا کہ ان قوتوں سے ٹکر لینے کی ہمت اور صلاحیت چیلنج کرنے والے میں موجود ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ پھر یہ سارا کام روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ غیرروایتی ابلاغ کے ان تمام ذرائع کو استعمال کر کے انجام دیا، جن سے بلاواسطہ عوام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کا استعمال بڑی مہارت سے کیا۔ ۳۰لاکھ سے زائد افراد اس کے twitter کے ساجھی تھے۔
ٹرمپ کی مہم کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے چند بڑی اہم چیزوں پر روشنی ڈالی ہے جو قابلِ غور ہیں:
ان کا کہنا ہے کہ راے عامہ کے تمام ہی جائزے اس بنا پر صحیح تصویر پیش کرنے میں ناکام رہے کہ ٹرمپ کے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی تائید کو صرف ووٹ کی شکل میں ظاہر کیا اور انتخاب سے پہلے یا انتخاب کے روز راے عامہ کے سروے (exit poll) تک میں اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ چونکہ مسئلہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائو کا تھا، اس لیے یہ راستہ تک اختیار کیا گیا۔
خواتین کے ووٹ نے بھی ایک غیرمتوقع کردار ادا کیا۔ سب کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے خواتین کے بارے میں جو نازیبا باتیں کہی ہیں، ان کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد اس سے متنفر ہوگئی ہوگی۔ حالاںکہ ایسا نہیں ہوا اور خواتین ووٹروں کی ۵۳ فی صد نے ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ ہیلری کلنٹن کا خاتون ہونا بھی اس کے کام نہیں آسکا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے وابستگی یا قربت کا تاثر اس کے لیے ووٹ کی راہ میں حائل ہوگیا اور خواتین ووٹروں نے محض خاتون ہونے کے ناتے نسوانی خوداختیاریت (Feminism)کے نعروں کے زیراثر ووٹ کو استعمال نہیں کیا۔
یہ انتخابات امریکی معاشرے کی اخلاقی حالت اور سماجی اقدار کو سمجھنے کا بھی ایک آئینہ ہیں۔ ذاتی زندگی اور پبلک لائف کو الگ الگ دائروں میں محصور کرنا سیکولر معاشرے کی ریت ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب سیاسی قیادت کے لیے کچھ خاص اخلاقی اقدار کا حامل ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مذہب اور ریاست کی تقسیم کو تسلیم کرنے کے باوجود کچھ اخلاقی صفات اور کردار کی کچھ خاص خوبیوں کو سیاسی قیادت کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ فرد کی جنسی زندگی کے بارے میں عام معاشرے میں خواہ کتنی بھی رواروی اور آزاد خیالی ہو، مگر سیاسی قیادت سے ایک خاص کردار کی توقع ہوتی تھی۔
یہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے کہ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائیوں تک امریکی صدارتی اُمیدوار کی اگر کسی بداخلاقی اور مالی معاملات میں بے قاعدگی کی بات منظرعام پر آتی تھی، تو کم از کم صدارتی اُمیدوار کے لیے راہ کھوٹی ہوجاتی تھی۔ لیکن اب نوبت بہ اینجا رسید کہ ایک درجن سے زائد خواتین برملا دست درازی کی شکایت کرتی ہیں، مگر نہ صدارتی اُمیدوار میدان چھوڑتا ہے اور نہ ووٹروں پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے۔ حالاں کہ ۳۰، ۴۰ سال پہلے تک یہ روایت تھی کہ ایسے حالات میں صدارتی اُمیدوار خود بخود دست کش ہو جاتا تھا۔
امریکا ہی نہیں، مغربی دنیا کے تمام ہی جمہوری ممالک میں سیاسی قیادت کے لیےاخلاقی مضبوطی (integrity) ایک لازمی صفت تھی۔ سر آئی ورجے نگز (Jennings) اپنی کتاب Cabinet Goverment میں پورے وثوق کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سیاسی قیادت اور پارلیمان کے ارکان کے لیے یہ صفت ہر دوسری صفت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکا کا ایک مشہور پارلیمانی مشیر اسٹیو سمڈٹ (Steve Schmidt) جس نے بہت اہم انتخابی مہموں کی نگرانی کی ہے صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ قیادت میں صداقت او ر حق پرستی جمہوریت کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ (ملاحظہ ہو نیویارک ٹائمز، ۳۱جنوری ۲۰۱۷ء میں ڈیوڈہارسٹر کا صفحہ اوّل کا مضمون: Trump and his long history of untruths)
آج بھی دنیا کی بیش تر پارلیمنٹوں میں ’اخلاقی اُمور کمیٹی‘ ایک اہم کمیٹی ہوتی ہے، جو پارٹی کی وفاداری اور گروہی عصبیت سے بالا ہوکر آزادانہ کام کرتی ہے۔ امریکی کانگرس میں بھی ’اخلاقی اُمورکمیٹی‘ آج بھی موجود ہے ۔ گو یہ اور بات ہے کہ اب اس میں بھی تبدیلی لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ واضح رہے ایک وقت وہ بھی تھا جب امریکا کے قانون میں ملک کی شہریت کے لیے بھی اچھا کردار ایک لازمی شرط تھی۔ ۱۷۹۰ء کے شہریت کے قانون میں جہاں ہرشہری کے لیے آزاد ’سفیدفام مرد و عورت‘ہونا ضروری تھا (کہ غلام اورسیاہ فام اس زمانے میں شہری نہیں بن سکتے تھے) وہاں دو مزید شرائط یہ بھی تھیں، یعنی: ’اچھا اخلاقی کردار اور کم از کم دوسال سے امریکا میں قیام‘۔
لیکن اب اخلاقی اقدار اور کردار قصۂ پارینہ بن چکے ہیں اور اس صدارتی انتخاب میں یہ بات بہت ہی کھل کر سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی دولت کس طرح کمائی، ٹیکس ادا کیے یا نہیں؟ بار بار دیوالیہ ہوکر قرض داروں سے کیسے نجات پائی؟ ٹرمپ یونی ورسٹی میں طلبہ سے لاکھوں ڈالر غلط بیانی سے کس طرح حاصل کیے؟{ FR 893 } ___ یہ سب کھلے حقائق ہوتے ہوئے بھی انتخاب میں غیرمتعلق ہی رہے۔ حتیٰ کہ صدارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی مطالبے کے باوجود ٹیکس کا ریکارڈ پیش کرنے سے انکار اور اپنے یہودی داماد کو وائٹ ہائوس کی انتظامیہ میں اہم کردار دینے اور بین الاقوامی سیاست، خصوصیت سے اسرائیل سے امریکا کے تعلقات کی نگہداشت کے لیے ذمہ داریاں سونپنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ اہم سیاسی دانش ور اس پر چیخ پکار کر رہے ہیں اور مفادات کے ٹکرائو کی دہائی دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی شخصیت، ان کا اندازِ گفتگو، ذاتی اخلاق، معاشرتی معاملات، طریق تجارت، کاروباری دیانت اور معاملات میں عدم شفافیت کے بارے میں جو شہرت ہے، اسے امریکی جمہوریت کا غارت گرِ حُسن ہی کہا جاسکتا ہے۔
نومبر کے صدارتی انتخابات کے بارے میں ایک بات یہ بھی کہی جارہی ہے کہ اس انتخاب میں مقابلہ ’کون بہتر ہوگا؟‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ کون کم خراب ہوگا کی میزان پر ہوئے۔ گویا ٹرمپ کی کامیابی کا اصل سبب ہیلری کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ناکامی ہے۔ پھر ایک اور بڑا اہم سبب خود طریق انتخاب ہے جس پر انگلی اُٹھائی جارہی ہے۔ ہیلری کو ڈیموکریٹک پارٹی کی ساری غلطیوں کے باوجود ۳۸ لاکھ ووٹ زیادہ ملے مگر ریاستی بنیاد پر ہونے والے الیکٹورل کالج اور اس کے متعین ووٹ کے نظام کی وجہ سے صدارتی انتخابی ادارے میں ٹرمپ صاحب کو اکثریت حاصل ہوگئی۔ الیکشن میں بدعنوانی ہونے کی بات پہلے خود ٹرمپ صاحب نے انتخابی مہم کے دوران کہی تھی اور پھر سی آئی اے اور تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر روس کی hacking کا دعویٰ کیا۔ اس سب کے باوجود یہ امریکی جمہوریت ہی کا حصہ کہ ووٹ کے ذریعے اور دستور اور قانون کے دائرے کے اندر اقتدار کی منتقلی واقع ہوئی۔ گو عوامی سطح پر صدر ٹرمپ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں، جو ان سے پہلے کے صدور کو حاصل رہی ہے۔ وہ تاریخ کے سب سے کم مقبول منتخب صدر کی حیثیت سے وائٹ ہائوس میں تشریف لائے ہیں۔
جارج بش کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو پہلی صدارت کی تقریب حلف برداری کے وقت ۴۵ فی صد عوام کی تائید حاصل تھی اور اس طرح وہ گویا ۵۰ فی صد کی سطح سے نیچے تھے ،لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف جائزوں کی روشنی میں ۳۲ سے ۳۷ فی صد امریکی عوام کی تائید حاصل تھی۔ واضح رہے کہ صدر اوباما کو جب انھوں نے جنوری ۲۰۰۹ء میں حلف اُٹھایا، تو مختلف راے عامہ کے جائزوں کے مطابق۵۳ فی صد سے ۶۰فی صد عوام کی تائید حاصل تھی اور جب صدر اوباما صدارت سے فارغ ہوئے اس وقت بھی عوامی جائزوں میں ان کی مقبولیت ۵۲ فی صد سے زیادہ تھی۔
صدر ٹرمپ کی نہ صرف یہ کہ مقبولیت کا گراف کم تھا بلکہ وہ جدید تاریخ کے پہلے صدر ہیں جن کے خلاف ملک بھر میں ان کے انتخاب کے اعلان کے بعد سے لے کر ان کی تقریب حلف برداری اور اس کے بعد بھی امریکا ہی نہیں دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور ایک بڑی تعداد نے ان کو ایک ’جائز صدر‘ (Legimate president ) تسلیم نہیں کیا۔
بدقسمتی سے صدارت کے پہلے دس دنوں ہی میں انھوں نے جو احکامات جاری کیے ہیں، ان میں سے چند نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ خصوصاً ۲۷جنوری کو مسلمان ممالک سے آنے والے افراد کے بارے میں بالعموم اور مسلمانوں کے بارے میں بالخصوص ان کے احکامات نے جو افراتفری برپا کی ہے، اس نے دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے جس سے بین النسلی اور سیاسی فضا بُری طرح مکدر ہوگئی ہے۔ آبادی میں تلخی اور بے اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس نے امریکا کے شہریوں کے درمیان باہمی اخوت، بھائی چارے اور امریکا اور دنیا کے دوسرے ملکوں اور اقوام کے مابین، خصوصیت سے مسلمانوں سے تعلق کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ کچھ حلقے تو اس خطرے تک کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ان حالات کے دبائو میں صدرٹرمپ کوئی ایسی حرکت نہ کر گزریں کہ جو دنیا کو خدانخواستہ جنگ کی طرف لے جانے کا باعث بن جائے۔
انسان کو امریکا سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ یہ اس کا نقصان ہے۔ اس سے امریکا کا عالمی اثر اور قیادت اس سے چھن جائیں گے اور یہ وہ قیمت ہوگی جو اسے ان پالیسیوں؍ حکمت عملیوں کے عوض دینا ہوگی جن کا وہ مثلاً چین کے حوالے سے منصوبہ بنائے ہوئے ہے اور اس کی بیش تر معاشی قیمت امریکا ہی کو ادا کرنا ہوگی۔ امریکا کا دوسرے ملکوں سے الگ تھلگ رکھنے کا رویّہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا کیوں کہ دنیا اس کے ساتھ نبٹ سکتی ہے، مگر یہ بنیادی طور پر امریکا کو نقصان پہنچائے گا، جسے اس معرکے میں فتح کے بجاے شکست کا سامنا ہوگا۔ ایشیائی قوم کے سفیر نے، جس پر چینی پالیسیوں کا گہرا اثر ہے، دلیل دی کہ امریکا کی پسپائی چین کے عروج کو تیز تر کردے گی، کیوں کہ چین اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ ’’تاہم ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں کے نتیجے میں امریکا کے معاشی مصائب بدتر ہوجائیں گے اور اس چیز سے تحریک پاکر اس کا یہ عقیدہ ہوجائے گا کہ اب اسے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے کہیں جنگ کی ضرورت ہے۔
ایک اور پہلو جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا انتخاب کسی خلا میں منعقد نہیں ہوا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے انتخابی نتائج کو اس پس منظر سے کاٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا کہ ان سے پہلے باراک اوباما آٹھ سال امریکا کے صدر رہے۔ وہ بھی تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ہی صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان سے قبل جارج بش کے آٹھ سال امریکا اور دنیا کے لیے ترقی معکوس کے سال تھے۔ صدر اوباما، کانگرس کے ان چند نمایاں ارکان میں سے تھے، جنھوں نے ۲۰۰۳ء سے عراق کی جنگ کی کھل کر مخالفت کی تھی اور اسے تباہی کا راستہ قرار دیا تھا۔ صدراوباما امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے اور جن لوگوں نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ دوسری باری نہیں لے سکیں گے، ان ’مستقبل بینوں‘ نے منہ کی کھائی۔ اس طرح ۲۰۱۲ء میں بھی اوباما بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئے لیکن چند محاذوں پر انھیں بُری طرح ناکامی ہوئی۔
امریکا کے قومی ایجنڈے کے مطابق ان کے سامنے سب سے اہم محاذ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ تھا۔ اوباما جنگ ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ صدر بنے تھے، لیکن: نہ صرف یہ کہ وہ عراق میں جنگ ختم نہ کرا سکے بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی آگ انھی کے دور میں پھیلی۔ لیبیا اور شام جنگ کی لپیٹ میں آگئے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارستانیوں کی وجہ سے تباہی کا یہ بازار گرم ہوا۔ یمن بھی اپنے انداز میں آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ یوکرائن میں بھی جنگ کے شعلے بلند ہوئے، خواہ اس کی بڑی ذمہ داری روس کی سیاسی انگڑائیوں پر تھی۔ افغانستان، امریکی کامیابیوں کے سارے دعوئوں کے باوجود، برابر جنگ کی آماج گاہ بنا ہوا ہے اور صدراوباما کو افواج کم کرنے کے بعد دوبارہ ان کی تعداد کو بڑھانا پڑا، اور اس کے باوجود افغانستان کے ایک چوتھائی حصے پر طالبان کی حکمرانی ہے اور عملاً ان کے اثرات مزید ۳۰ فی صد علاقے پر ہیں، حتیٰ کہ کابل بھی ان کی دسترس سے باہر نہیں۔ صدراوباما کے زمانے میں ڈرون حملے امریکی صدربش کے دور سے ۱۰گنا زیادہ ہوئے۔ صدراوباما کے اقتدار کے آخری سال (۲۰۱۶ء) میں امریکا نے دنیا کے سات ممالک میں ۲۶ہزار ۱۷۱ بم گرائے، اور یہ تعداد صدر بش کے دور سے کہیں زیادہ تھے۔
یہی معاملہ گوانتاناموبے کے عقوبت خانے کا ہے۔ صدراوباما اسے ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ آئے تھے۔ وہ اپنی صدارت کے پہلے سال ہی میں یہ کارنامہ انجام دینا چاہتے تھے۔ لیکن آخری وقت تک ان کا کوئی بس نہ چلا اور آج بھی گوانتاناموبے کا تعذیب گھر امریکا کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ بنا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی پاس داری کے باب میں بھی صدر اوباما کا ریکارڈ مایوس کن رہا۔ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاں بدترین تعذیب اور مبغوض ترین حربوں کا استعمال جاری رہا۔ عام انسانوں کی نجی زندگی کی نگرانی بلکہ ایک طرح کی غلامی کا ملک گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر نظام قائم کیا گیا۔ صدراوباما کو دنیا میں امن کے قیام کی خدمت کے سلسلے میں پیشگی نوبل انعام سے نوازا گیا، لیکن ان کے آٹھ سالہ دور میں نہ جنگ ختم ہوسکی اور نہ دہشت گردی، بلکہ اس کی تباہ کاریوں اور وسعتوں میں اضافہ ہی ہوا۔
دوسرا محاذ جس پر صدراوباما کو شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، وہ نسل و رنگ کی بنیاد پر امریکا میں قتل و غارت اور ظلم و استحصال پر مکمل قابو پانے کا دعویٰ تھا۔ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ خود ان کے دورِ اقتدار میں صرف پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوانوں کے ظالمانہ قتل کے واقعات میں نہ صرف یہ کہ کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا اور ہرواقعے پر وہ آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔
صدراوباما کو بہت مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کرناپڑا اور پوری کوشش کے باوجود، کچھ میدانوں میں جزوی کامیابی کے باوصف، وہ امریکا کے معاشی بحران پر قابو نہ پاسکے۔ مسلم دنیا سے بھی امریکا کے تعلقات کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور ۲۰۰۹ء میں قاہرہ کی تقریر اس ضمن میں ایک اہم آغاز تھا، مگر یہ آرزو بھی پوری نہ ہوسکی۔ بالآخر امریکا اور اسلامی دنیا میں بے اعتمادی اور بے زاری میں اضافہ ہی ہوا۔ ایران سے ایٹمی معاہدہ اور کیوبا سے تعلقات کی بحالی اہم مثبت کامیابیاں ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ذاتی شرافت اور باوقار اسلوب کے باوجود، امریکا اور عالمی سطح پر ان آٹھ برسوں کو ترقی اور کشادگی کے سال نہیں کہا جاسکتا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاہ فام صدراوباما کی یہ ناکامیاں ایک سفیدفام، دائیں بازو کے انتہاپسند صدر کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم محرک ثابت ہوئیں۔ صدر ٹرمپ اور صدراوباما رنگ و نسل کے اعتبار سے ہی نہیں، نظریات، سیاسی ترجیحات، اخلاق و کردار، غرض ہراعتبار سے دوبالکل مختلف ماڈل پیش کرتے ہیں۔ ایسے نمونے جن میں بعدالمشرقین کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں سیاست کی اس جست (swing) کا منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ۲۰۰۸ء میں صدراوباما کو منتخب کرکے امریکی جمہوریت نے اپنے جس جوہر کا مظاہرہ کیا تھا، وہ اپنی جڑیں اس زمین میں پیوست نہ کرسکا، بلکہ ایک واضح ردعمل رُونما ہوا، جسے سیاست کا انتقام بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ قوتیں جنھوں نے ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۳ء کے انتخابی رجحان کو مجبوراً قبول کرلیا تھا، انھوں نے ایک نئے اور زیادہ جارحانہ انداز میں اپنی بالادستی کو قائم کیا اور جو کچھ برتن کے اندر تھا وہ کھل کر باہر آگیا۔ اس سے یہ پہلو بھی سب کے سامنے آگیا کہ ہرمعاشرے کی طرح امریکی معاشرے میں بھی خیر اور شر دونوں کے عناصر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور عمل اور ردعمل کا سلسلہ ہرجگہ دوسرے ملک اور معاشرے کی طرح وہاں بھی جاری وساری ہے۔
جہاں صدرٹرمپ اور اس کی پوری ٹیم کے چند واضح اہداف ہیں اور وہ ہے: ’سب سے پہلے امریکا‘ (America First ) اور ’امریکا کو عظیم بنانا‘ (Making America Great) ۔ ان نعروں کو اپنی اوّلین ترجیح بناکر سیاسی، معاشی، عسکری، ثقافتی ہر میدان میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لانا صدر ٹرمپ کا ہدف ہے۔ یوں جارحانہ قوم پرستانہ دور کا آغاز ٹرمپ کی خواہش ہے جس میں امریکا کی سفیدفام آبادی کا کردار مرکزی ہوگا اور قومی اور عالمی دونوں سطح پر پالیسی سازی اور پالیسی کے نفاذ دونوں پہلوئوں سے نسبتاً سخت گیر اور صرف صدر کی شخصیت کے گرد (president centered) اسلوبِ کار اختیار کیا جائے گا۔ نظریاتی اور اخلاقی پہلوئوں کو غلبہ اور فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوگی اور پوری پالیسی محدود اہداف کے حصول پر مرکوز ہوگی۔ مشاورت اور فیصلہ سازی کے معروف طریقوں سے بھی انحراف کیا جائے گا اور امریکا کے سیاسی نظام میں جو توازن اور تحدید کی روایت ہے، اس پر بھی بُرے اثرات پڑیں گے، جو اداروں کے درمیان تنائو اور تصادم کی حدوں کو بھی چھوسکتے ہیں۔ اسی طرح خارجہ تعلقات میں جو مقام اسٹرے ٹیجک غوروفکر اور حکمت کار کو حاصل رہا ہے اس میں تبدیلیاں آئیں گی اور زیادہ اہمیت نعروں پر مبنی، فوری نتائج کے حصول کو حاصل ہوجائے گی۔ عالم گیریت اور دوسری جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور اس کی صورت گری کرنے والے اداروں پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔امریکا کی اپنی فوجی اور معاشی قوت کی ترقی کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور امریکا کی عالمی کردار کی ازسرِنو صورت گری ہوگی۔
۲۰۱۷ء اس پہلو سے بڑا اہم سال ہوگا جس میں جنم لینے والی تبدیلی کے بڑے دُور رس اثرات امریکا میں جمہوریت کے مستقبل پر بھی پڑیں گے۔ یہ دور تخریب اور تعمیر دونوں پہلوئوں سے عبارت ہوگا۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ امریکا کے عوام اور تمام ہی سوچنے سمجھنے والے افراد، ادارے اور گروہ محض ’دیکھو اور مست رہو‘ ( wait & see) کا راستہ اختیار نہ کریں اور نہ اندھی تائید اورخون آشام مخالفت کا راستہ اختیار کریں۔ ہماری نگاہ میں کھلے ذہن کے ساتھ اس منظرنامے کا ادراک کرنا اور اس میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مکالمے (ڈائیلاگ) کا راستہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس غلط فہمی سے نکلنا ضروری ہے کہ اب امریکا سے معاملات اس طرح ہوسکیں گے جس طرح ماضی میں ہوتے رہے ہیں۔ ’جس طرح ہوتا آیا ہے‘ والا دور بظاہر رخصت ہوگیا ہے۔ اب وقت نئی سوچ اور نئی راہیں تجویز کرنے کا ہے___ اور یہ چیلنج جس طرح امریکا میں آباد افراد اور تنظیموں کے سامنے ہے، اسی طرح عالمی سطح پر تمام ممالک اور اقوام کو بھی درپیش ہے۔ خصوصیت سے پاکستان اور مسلم دنیا کے حالات کا گہری نظر سے مطالعہ و تجزیہ کرکے نئے خطوط کار کی ترتیب کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ہم اللہ کی توفیق کے طالب ہیں کہ اللہ ہمیں اس بارے میں اپنے خیالات پیش کرنے کی توفیق سے نوازے۔ ہم سب اہلِ فکر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ وقت کے اس چیلنج کے مقابلے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مستعد ہوجائیں، اس لیے کہ:
یہ بزمِ مے ہے ، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
۲۰۱۶ء اس حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کہ پورے سال میں مختلف حلقوں کی طرف سے ’جمہوریت کو خطرہ ہے‘ کی گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں۔ ستمبر اور نومبر تو وہ مہینے ہیں جب سول اور نیم عسکری ہرحلقے سے یہ راگ کچھ زیادہ ہی اُونچے سُروں میں الاپا گیا۔ اللہ اللہ کر کے نومبر اپنے اختتام کو پہنچا۔
جنرل راحیل شریف بڑی عزت اور اعزاز سے اپنی دستوری مدت ملازمت پوری کرکے، کسی توسیع سے دامن بچاتے ہوئے رخصت ہوئے اور فوج کی نئی کمانڈ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو ہر طرح کی آمریت اور جبر کی حکمرانی سے محفوظ رکھے۔ دستور اور اس کے قائم کردہ سب ادارے اپنے اپنے دائرے میں مؤثر خدمات انجام دیں۔ ریاستی اُمور اور قومی زندگی کو چلانے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور نے جو سرخ لکیر یں واضح طور پر کھینچ دی ہیں، ان کا سب احترام کریں۔ پھر نظم و ضبط یا چیک اینڈ بیلنس کا جو نظام دستور نےقائم کیا ہے اور جو جمہوری کلچر میں معتبر ہے، وہ مؤثر اور متحرک رہے، انحراف کی تمام مخلصانہ یا شرانگیز کوششیں ناکام و نامرا د ہوں، اور یہ ملک سارے خطرات سے محفوظ رہے۔ آمین!
اس سخت اور خطرناک مرحلے سے کامیابی سے گزرنے پر، جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، اور جنرل راحیل شریف کو ان کے معیاری پیشہ ورانہ کردار اور ہر طرح کی اشتعال انگیز یوں اور ترغیبات سے دامن بچا کر گزر جانے پر ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں، وہیں قوم اور اس کے تمام بہی خواہوں اور خصوصیت سے سوچنے سمجھنے والے باثر افراد کو غوروفکر کی دعوت دینا چاہتے ہیں، کہ جمہوریت کو بچانے یا جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے باب میں اس زمانے میں جو کچھ ہوا، اس کا بے لاگ جائزہ لیں۔ خرابی جہاں بھی ہے اور خطرات جن دروازوں پر دستک دیتے رہے ہیں، ان کو شناخت کرنا اور آیندہ کے لیے پیش بندی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں غفلت بڑی مہنگی پڑسکتی ہے۔
ہم پوری دل سوزی سے بات کا آغاز اس حوالے سے کرنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں ہے کہ پاکستان ہی کی تاریخ میں غالباً یہ منفرد واقعہ ہے کہ جس میں فوج کے ایک سربراہ کو وزیراعظم اور صدرِمملکت نے اس طرح رخصت کیا ہے کہ جیسے کسی بڑے خطرے کے ٹلنے پر وہ سُکھ کا سانس لے رہے ہوں۔
حکومتی حلقے جس انداز میں ہفتوں سے اس مہم کے مقابلے میں جوابی مہم چلائے ہوئے تھے، ملک کے دَر و دیوار پر باربار جس قسم کی تحریریں رُونما ہورہی تھی، میڈیا کےدانش ور اور بعض جیالے جس جوش و خروش سے اور جس زبان میں اپنے اپنے خوابوں کو حقیقت کے رُوپ میں پیش کر رہے تھے اور تاریخوں تک کا ورد کرنے میں کسی بھی احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کر رہے تھے___ الحمدللہ وہ پورا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ تاہم، خود جمہوریت کو جو خطرہ اس پورے کھیل سے اور اس کی ہرشکل اور ہرپہلو سے تھا اور آیندہ پھر کسی نئے عنوان سے سر اُٹھا سکتا ہے اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے اور مستقبل میں اس صورتِ حال سے بچنے کی تدابیر نہ کرنا بڑا عاقبت نااندیشانہ رویہ ہوگا۔
یہ امر تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت اور فوج کے درمیان تنائو یا کش مکش (tension) موجود تھی اور اس کا اظہار عجیب و غریب صورتوں میں ہوتا رہا ہے۔ فوجی ترجمانوں کے بیانات اور سوشل میڈیا پر مختصر پیغامات (tweets) کا تبادلہ یا سہارا بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔ پھر عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مناقشے پر مبنی گمراہ کن خبر کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونا اور اس کے بعد حکومت اور عسکری ذرائع دونوں کی طرف سے حقائق کو بے نقاب کرنے یا معاملات کو اور زیادہ گنجلک کرنے کے سلسلے میں جو کچھ کیا گیا، وہ بڑا تکلیف دہ تھا۔ ایسی بدنما صورتِ حال سے آیندہ بچنے کی فکر ازبس ضروری ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کا کردار بھی بڑا پریشان کن ہے۔ ہم نے دنیا کے کسی بھی مہذب جمہوری ملک کے میڈیا پر ساری آزادی کے باوجود ایسے حساس اُمور پر اس قسم کی لاف زنی کی کوئی مثال نہیں دیکھی۔ ہم اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو ملک میں جمہوریت کے مستقبل اور اداروں کے درمیان غلط فہمیوں کے فروغ، نیز تعاون اور توازن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اس پس منظر میں سینیٹ کے چیئرمین جناب میاں رضا ربانی کا انٹرنیشنل پارلیمانی یونین کے پلیٹ فارم سے بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے بجا طور پر جمہوریت کو لاحق خطرات کی احتیاط سے نشان دہی کی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی، تمام اداروں کے اپنے اپنے حدود میں کام کرنے اور احتساب کے باب میں سب کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے اور کسی کے لیے بھی ’مقدس گائے‘ نہ ہونے کی بات کر کے قوم کو بڑے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ کی باتوں سے عمومی اتفاق کے ساتھ ہم یہ کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی دستور کے فریم ورک کے اندر ہے اور پارلیمنٹ بھی اسی طرح دستور کی تخلیق (creature) ہے، جس طرح دوسرے تمام ادارے، خصوصیت سے انتظامیہ، عدلیہ، فوج اور آزادیِ صحافت۔
جمہوریت کو جو حقیقی خطرات آج درپیش ہیں، ان میں جہاں فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کا اپنے اپنے دائرے کے اندرمحدود رہنا ضروری ہے، وہیں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کی پیداوار حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دستور اور جمہوری کلچر اور ان کے اصول و آداب کا پورا پورا احترام کرے۔ سیاسی جماعتوں کی تنظیم اور ان کا کردار بھی جمہوری، دستوری اور آئین کی حکمرانی کے باب میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اُمور میں فوج کی مداخلت، خواہ وہ کسی بھی عنوان سے ہوئی ہو اور اس نے کیسی ہی تائیدِ اعتبار (validation) حاصل کرلی ہو، وہ فی الحقیقت ملک کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ بات صرف ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت اور خارجہ تعلقات تک محدود نہیں رہی، خود ملک کی سلامتی، اس کے نظریاتی اور جمہوری تشخص اور فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت ہرچیز پر اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔ دفاعی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ سیاست میں فوج کی شرکت سے نہ صرف کرپشن میں اضافہ ہوا بلکہ خود فوج کا دامن جس طرح کرپشن سے پاک ہونا چاہیے، وہ بھی داغ دار ہوا ہے۔ اس سب پر مستزاد فوج کا بیرونی حکومتوں سے براہِ راست تعلق، بیرونی قوتوں کا ملک میں دراندازیوں میں خطرناک حد تک اضافے کا ذریعہ بنا ہے۔ یہ عمل جنرل محمد ایوب خان کے زمانے ہی میں شروع ہوگیا تھا، جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی انتہا کو پہنچا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے زمانے میں ایک عرصے تک یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد، اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور جنرل راحیل شریف کے زمانے میں نمایاں فرق پڑا۔ ہم کس مقام تک گر گئے تھے، اس کا ادراک ضروری ہے، تاکہ بگاڑ کو اس کی ہرشکل میں روکا جاسکے۔
جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی صدربش اور وزیرخارجہ کولن پاول کے حکم (ستمبر ۲۰۰۱ء) پر ملک کو امریکیوں کی آماج گاہ بنایا بلکہ ملک کی آزادی و خودمختاری کو پارہ پارہ اور امن و امان کو تباہ و برباد کیا۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی معاملات میں بھی امریکا کو وہ اثر و نفوذ فراہم کیا، جس کا تصور بھی دل ودماغ کو مفلوج کردیتا ہے۔ پاول کے بعد کونڈالیزا رائس امریکا کی وزیرخارجہ اور بش کے زمانے میں کرتا دھرتا تھیں۔ موصوفہ نے اپنی خودنوشت میں جو صورتِ حال بیان کی ہے، وہ غور سے پڑھنے کی چیز ہے۔ اس کے آئینے میں اپنی سیاسی اور فوجی قیادت کی کارگزاریوں سے واقف ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے سیاسی کھیل اور ملک کی سلامتی اور مفادات کا سودا کرنے کا دروازہ بندکیا جاسکے۔ جنرل مشرف صاحب آج دستور کی دفعہ۶ سے بھاگتے پھر رہے ہیں اور اب بھی ٹی وی شوز پر غداری کے الزام پر غصے میں آجاتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ کونڈالیزارائس کی خودنوشت کے آئینے میں ان کی جو اصل شکل نظر آتی ہے، وہ بڑی عبرت ناک ہے۔ اس میں اس وقت کی پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ کا بھی جو کردار سامنے آتا ہے، وہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ بات جب ذاتی مفاد کی ہو تو بدقسمتی سے ہرقیادت، چاہے وہ عسکری راستے سے اقتدار میں آئی ہو یا سیاسی دروازے سے، اس کی جو شکل قوم کے سامنے ہے اس پر شرمندگی ہوتی ہے۔
۲۰۰۷ء کے شروع میں جنرل مشرف صاحب نے خود امریکیوں سے درخواست کی کہ: ’’مَیں بے نظیر بھٹو صاحبہ سے مفاہمت چاہتا ہوں اور اس کے لیے امریکا کی معاونت چاہیے‘‘۔ ان کی اس خواہش کے جواب میں کونڈا لیزا رائس نے درمیانی کردار ادا کیا، جو بالآخر ۴؍اکتوبر ۲۰۰۷ء کو باقاعدہ معاہدے پر منتج ہوا۔ اس سلسلے میں امریکی سفیر متعینہ اسلام آباد پیٹرسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تین بنیادی نکات تھے:
۱- جنرل پرویز مشرف اپنی وردی اُتار دیں گے۔
۲- بے نظیر صاحبہ اور ان کے شوہر کے خلاف کرپشن کے جو مقدمات ہیں، انھیں ان کی گرفت سے خلاصی اور ضمانت دی جائے گی کہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
۳- دستوری ترمیم کی جائے گی جس کے نتیجے میں تیسری بار وزیراعظم بننے پر [۱۷ویں ترمیم کے ذریعے] جو پابندی ہے، وہ ختم کردی جائے گی۔
اس سارے بول تول اور معاملہ بندی میں امریکی صدر بش براہِ راست شریک تھے اور بے نظیر صاحبہ نے انھیں صاف کہا تھا کہ مَیں جنرل مشرف کے وعدے پر اعتماد نہیں کرتی، اور صرف امریکا کی ضمانت پر اس معاہدے میں شریک ہوسکتی ہیں۔ کونڈا لیزا رائس کے الفاظ:
"She didn’t trust Musharraf", adding that "I am taking this as a US guarantee that he will".
واضح رہے کہ خفیہ طور پر یہ معاہدہ اس وقت ہو رہا تھا، جب ’لندن معاہدے‘ کے تحت بے نظیر صاحبہ اور میاں نوازشریف صاحب نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی فوجی حکمرانوں سے بات چیت نہیں کرے گا۔ بلاشبہہ مشرف صاحب نے ۳نومبر ۲۰۰۷ء کی ایمرجنسی کے ذریعے بے نظیر سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بے نظیر صاحبہ نے بھی اس سے براءت کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی حمایت کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر فرخ سلیم ۱۳نومبر ۲۰۱۶ء کے دی نیوز میں یہ ساری تفصیل دینے کے بعد ہماری سیاست اور اس میں امریکا کے کردار کا جو خلاصہ پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے:
۱- امریکی پاکستان میں حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
۲- امریکی پاکستان میں ایسی قیادت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے ہیں، جسے وہ ’ماڈریٹ‘ تصور کرتے ہیں۔
۳- ہمارے سیاست دان ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے اور عموماً امریکا کی ضمانت چاہتے ہیں۔
۴- امریکی کرپٹ سیاست دانوں کو ’محفوظ‘ کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ (دی نیوز، ۱۳نومبر ۲۰۱۶ء)
واضح رہے کہ کونڈا لیزا رائس اپنی سوانح میں اپنے اس کردار کے بارے جو بات لکھتی ہیں وہ ہرپاکستانی کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے اور جو نظریاتی جنگ آج عالمی سطح پر ہورہی ہے اس کی نوعیت کو سمجھنا چاہیے۔ پرویز مشرف اور بے نظیر کو شراکت ِ اقتدار کے اسٹیج پر لانے کے لیے امریکا کا اصل محرک کیا تھا؟ اس بارے میں کونڈا لیزا رائس کے الفاظ بہت واضح، اور قوم کے لیے چشم کشا ہیں:
اگر دو حریف طاقت میں تعاون کا معاہدہ کرسکیں، تو اس سے سیاست کا وزن ماڈریٹ (قیادت) کی طرف منتقل ہوجائے گا اور اسلام پسندوں کے وزن کو کم کردے گا۔ جیساکہ سابق وزیراعظم نوازشریف، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں دیگر نمایاں شخصیات کے مقابلے میں وہ عسکریت پسندوں سے تعلقات نبھانا چاہتے ہیں۔
مشرف صاحب نے یہی نہیں کیا بلکہ بھارت کی شرائط پر کشمیر کے مسئلے کو پانی پانی کرنے (liquidate ) اور بھارتی قیادت کی وضع کردہ ’دہشت گردی‘ کی تعریف کو قبول کرنے کے جرم کا بھی فخریہ انداز میں ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں اصل دہشت گردی کو تحریکِ آزادی اور حقِ خوداختیاری (right of self determination) کی اس جدوجہد کے برابر کی سطح پر لاکھڑا کیا گیا جس بارے میں خود بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسئلۂ کشمیر پر ہمارے قومی موقف کو تسلیم کر رکھا ہے۔ اس پسپائی نے ہمارے قومی موقف کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
پھر مشرف صاحب نے خود ملک کی سیاست میں ان عناصر کو گلے سے لگایا اور انھیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا، جو منظم عسکری قوت کو سیاست میں بے دریغ استعمال کر رہے تھے۔ وہ بھتّا خوری، قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ، ناجائز قبضے اور میڈیا اور سیاسی مخالفین کو دہشت زدہ کرنا، ان عناصر کا معمول تھا۔ ان کی قیادت بھارت کی تقسیم کو تاریخی غلطی قرار دیتی تھی، اس نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کے قیام کی مخالفت کی، اور اس کے بارے میں تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی اور ایم آئی کو یقین تھا کہ بھارت اور اس کی ایجنسی ’را، ان کی مالی سرپرستی کر رہی ہے، ان کی دہشت گردی کی عسکری تربیت کا اہتمام کرتی ہے اور یہ بھارت اور برطانیہ دونوں کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
حال ہی میں صوبہ سندھ میں ۱۴برس تک براجمان رہنے والے گورنر عشرت العباد اور جنرل مشرف کے منظورِ نظر کراچی کے میئر نے ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہا ہے، حقیقت میں دونوں کے ’ارشادات‘ حرف بہ حرف درست ہیں۔ البتہ سوال ان قیادتوں پر ہے، خواہ ان کا تعلق فوج کے دائرۂ اقتدارسے تھا یا سیاست دانوں کے میدانِ کار سے: یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ’ن‘ اور مسلم لیگ ’ق‘ وغیرہ کہ جنھوں نے ان عناصر کی نازبرداری کی، انھیں سینے سے لگایا اور انھیں کھل کھیلنے کا ہرموقع فراہم کیا۔
پرویز مشرف چونکہ صدر ہی نہیں، فوج کے سربراہ بھی تھے، اس لیے ان کے دور میں جو کچھ ہوا، عوام کی نگاہ میں اس کی ذمہ داری میں فوج بہ حیثیت ادارہ بھی شریک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں خود فوج کو اپنے جوانوں کو یہ ہدایت دینا پڑی کہ وہ فوجی وردی میں سول ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے اجتناب کریں۔ اللہ کا شکر ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے بعد یہ صورتِ حال ختم ہوئی۔ یوں فوج اور قوم کے اعتماد کا رشتہ بحال ہوا اور خصوصیت سے جنرل راحیل شریف کے دور میں فوج نے پھر وہ عزت اور اعتماد حاصل کرلیا، جو پاکستان کی قومی زندگی میں ہمیشہ اس کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم دل پر پتھر رکھ کر اور ندامت کے احساس کے ساتھ امریکی مداخلت کی ایک اور مثال ضرور قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ قوم کو اندازہ ہوسکے کہ ملک کے سیاسی اور فوجی معاملات میں امریکی مداخلت اور اثراندازی کہاں تک پہنچ چکی ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ جو اخباری اطلاعات کے مطابق دنیا میں سب سے بڑا امریکی سفارت خانہ ہے، کیا کیا گُل کھلاتا رہتا ہے اور ہماری سیاسی قیادت کس حد تک اس کے ہاتھوں کھیلنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔
بروس ریڈل جو امریکی سی آئی اے میں اعلیٰ افسر اور امریکا کے چار صدور کے مشیر بھی رہے، وہ اپنی یادداشتوںDeadly Embrace میں لکھتے ہیں:
واشنگٹن پس پردہ اس مقصد کے لیے متحرک تھا کہ جنرل پرویز کیانی کی اُس مدتِ ملازمت میں توسیع ہو، جو ۲۰۱۰ء میں ختم ہورہی تھی، جب کہ [یوسف رضا] گیلانی کی حکومت جو بعض وجوہ سے جنرل کیانی کو برقرار رکھنا چاہتی تھی اور تین سال کی توسیع دینا چاہتی تھی۔
جمہوریت کو خطرہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہی سے نہیں ہے بلکہ فوج اور سیاسی معاملات میں امریکا اور دوسری بیرونی قوتوں کی کارفرمائیوں سے بھی یہ خطر ہ ہے۔ سیاسی قیادت بھی ان معالات میں شریکِ کار رہی ہے۔ یہ رویے جمہوریت، پاکستان کی سلامتی، آزادی، شناخت کی حفاظت، ترقی، عوام کی آرزوئوں اور عزائم کے مطابق تعمیروتشکیل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ویسے تو آج جمہوریت کو ساری دنیا ہی میں خطرات سے سامنا ہے۔ یورپ اور امریکا میں شدت پسند اور بند ذہن والی دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کے عروج اور سیاسی اُفق پر چھا جانے کے امکانات نے ان خطرات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ خود امریکا میں حالیہ صدارتی انتخاب (۸نومبر ۲۰۱۶ء) کے جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان میں امریکی سفیر نے، اخباری اطلاعات کے مطابق، انتخابات پر ایک تقریب میں اقبال کا سہارا لیتے ہوئے اشارتاً اعتراف کیا ہے کہ ؎
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے
ہم موصوف کی خوش ذوقی، سیاسی جرأت اور سخن فہمی کی تو داد دیتے ہیں، لیکن ان کو یاد کرانے کی جسارت کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سلسلے میں تو امریکی جمہوریت اس (گنتی والے) معیار سے بھی دُور ہی نظر آتی ہے، کیونکہ ہیلری کلنٹن صاحبہ نے ان سے بیس لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے ہیں۔ تین ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑ کی بھی خبریں ہیں اور فنڈ ریزنگ مہم جاری ہے کہ وہاں دوبارہ گنتی کرائی جائے جسے Physical recountکہا جاتا ہے ۔
سیاسی معاملات میں فوج کی کھلی یا پس پروہ مداخلت اور قومی سیاسی اُمور پر پبلک اظہارِ راے، جمہوری روایات اور دستور کے الفاظ اور روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح فوج پر ناروا تنقید اور اسے سیاسی مخالفت یا سیاسی کردار پر اُبھارنا بھی دستور کی روشنی میں ایک سنگین جرم ہے، جس کا یہاں کھلے بندوں ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ اب مستقل بنیادوں پر ختم ہونا چاہیے۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے یہ اولین ضرورت ہے۔
رضاربانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ فیصلہ سازی کا محل پارلیمنٹ اور اسلام آباد ہے۔ راولپنڈی [یعنی جی ایچ کیو]کا کردار قومی سلامتی اور دفاع کے نقطۂ نظر سے سیاسی قیادت کو باخبر رکھنا اور پالیسی سازی میں بلارُو رعایت اپنی راے پیش کر دینا مسلّم ہے۔ لیکن اصل فیصلہ باہمی مشاورت سے اور سیکورٹی، ڈپلومیسی، ملکی مفادات، عوام کے جذبات و احساسات اور نظریاتی، اخلاقی اصولوں اور ملکی مصالح کی روشنی میں سیاسی قیادت ہی کو کرنا چاہیے، اور معرو ف طریقے سے دستوری اداروں کے ذریعے کرنا چاہیے۔ جنھیں ذاتی اور شخصی ترجیحات اور مفادات سے پاک ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں اگر فوجی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ حدود کا احترام کرے تو سیاسی قیادت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ فیصلہ سازی کا وہی طریقہ اختیار کرے، جو دستور نے طے کیا ہے، جس کی حدود اور آداب کو قانون اور اعلیٰ عدالت کے فیصلوں میں بھی واضح کر دیا گیا ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری سیاسی حکومتیں ان کا احترام نہیں کرتیں۔ اس طرح وہ صرف جمہوریت ہی کو پامال کرنے کی مرتکب نہیں ہوتیں بلکہ ملک و قوم کو بھی بہترین اور مفید ترین فیصلوں سے محروم رکھتی ہیں۔ یوں اپنے شخصی رجحانات کو فیصلہ سازی پر مسلط کرکے دستور، قوم اور جمہوری کلچر سے بے وفائی کی مرتکب ہوتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت جمہوری رویہ اختیار کرنے کے بجاے خالص آمرانہ رویہ اختیار کرنے کی بھی مجرم ہے۔ وہ جمہوریت کی جگہ ’بادشاہت‘ کو اپنا ماڈل سمجھتی ہے اور عملاً شاہانہ انداز ہی میں فیصلے کرتی ہے اور شاہانہ انداز ہی میں زندگی گزارتی ہے۔ ہم بڑے دُکھ سے کہتے ہیں کہ دونوں بڑی حکمران جماعتیں اور ان کی قیادتیں اس باب میں ایک ہی جیسا رویہ رکھتی ہیں۔ حزبِ اختلاف اور حکمران جماعت دونوں ہی میں ایک مختصر ٹولا ہے، جو سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔
جماعت اسلامی کے سوا کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے، جس کے اندر جمہوریت ہو۔ ’پلڈاٹ‘ اور ’فافن‘ کی رپورٹیں اس پر شاہد ہیں، لیکن اگر یہ رپورٹیں نہ بھی ہوتیں تو پوری قوم بچشم سر اس کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت پر ایک خاندان اور اس کے چند معتمدعلیہ ساتھیوں کو مکمل غلبہ حاصل ہے۔ پارٹی کی نہ حقیقی ممبرشپ ہے اور نہ پارٹی کا اپنا کوئی مشاورتی اور فیصلہ کرنے کا نظام ہے۔ عدالت اور الیکشن کمیشن کے حکم پر نمایشی انتخابات کیے گئے ہیں۔ مجلس عاملہ کا اجلاس ساڑھے تین سال کے بعد صرف انتخابات کی خانہ پُری کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ غضب ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس برسوں گزر جاتے ہیں، منعقد نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ مرکزی کابینہ کا اجلاس بھی کئی کئی مہینے منعقد نہیں ہوتا، حالاں کہ ’رولز آف بزنس‘ [ضوابطِ کار]کی رُو سے ہفتے میں ایک بار کابینہ کا اجلاس ہونا چاہیے۔
مَیں گواہی دیتا ہوں کہ جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت جو ایک فوجی حکومت تھی لیکن ایک معاہدے کے تحت ’پاکستان قومی اتحاد‘ جس طرح ساڑھے آٹھ مہینے حکومت میں شریک رہا، اس کی کابینہ کا اجلاس ہرہفتے ہوتا تھا اور کئی کئی گھنٹے بلکہ پورا پورا دن جاری رہتا تھا اور ایک ایک پالیسی ایشو پوری بحث کے بعد طے ہوتا تھا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ۱۹۹۰ کے عشرے میں ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ (آئی جے آئی) کی حکومت کے زمانے میں کابینہ کے اجلاسوں کی باقاعدگی میں خلل کا آغاز ہوگیا اور اب تو ایسا بھی ہوا ہے کہ کابینہ کا اجلاس سات یا آٹھ مہینے کے بعد منعقد ہوا ہے، اور سپریم کورٹ کو باقاعدہ اپنے فیصلے میں احتساب کرنا پڑا ہے کہ: ’’وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کے بغیر ایسے فیصلے اور اقدام کر رہے ہیں جن کے وہ مجاز نہیں‘‘۔ حد یہ ہے کہ ٹیکس لگانے، لیوی کا اطلاق کرنے اور ٹیکس سے چھوٹ دینے تک کا کام جو کابینہ کے فیصلے کے بغیر ہوہی نہیں سکتا، وہ بھی بے دریغ انداز میں کیا جارہا ہے۔ دسیوں وزیر ایسے ہیں کہ جو وزیراعظم کا چہرہ مہینوں تک نہیں دیکھ پاتے۔
اسی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کا بھی یہ حال ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور قومی معاملات کے سلسلے میں فیصلوں پر اثراندازی سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکمران پارٹی کے ارکان تک کسی شمار قطار میں نہیں۔ ان کی سعادت بس یہ ہے کہ اگر وزیراعظم صاحب اسمبلی میں آئیں، جو وہ شاذونادر ہی آتے ہیں کہ گذشتہ ساڑھے تین سال میں وہ صرف ۱۹ فی صدی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں، تو اس وقت ممبر لائن لگاکر اپنے کام درخواستوں کی شکل میں پیش کرتے ہیں___ یہ ایک ایسی بدنما مثال ہے جس کی کوئی نظیر جمہوری ملک کی پارلیمنٹوں میں دُور دُور تک نہیں ملتی۔
اسی طرح جو دستوری ادارے ہیں، یعنی: کونسل آف کامن انٹرسٹ، نیشنل اکانومک کونسل، این ایف سی اوارڈ کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی براے دفاع و قومی سلامتی، ان کے اجلاس مہینوں تک نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں تمام دوسرے متعلقہ ادارے بروقت مشاورت میں شرکت سے محروم رہتے ہیں۔ اگر چار و ناچار اجلاس ہوتے بھی ہیں تو نہایت عجلت میں، مناسب ایجنڈے اور ورکنگ پیپرز کے بغیر، بس رواروی میں معاملات کو نمٹانے کے لیے۔اصل فیصلہ وزیراعظم خودیا ان کے چند چہیتے وزیر اور مشیر کرتے ہیں ۔ یہ رویہ جمہوریت کی ضد اور اس کے فروغ کے لیے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جمہوریت کو خطرہ صرف طاقت کے دوسرے ماخذ ہی سے نہیں، سیاسی قیادت کے مجرمانہ رویے کے نتیجے میں طاقت کے اس ارتکاز سے بھی ہے۔جب تک یہ درست نہ ہو جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔
ہم دُکھ سے عرض کرتے ہیں کہ پارلیمان بھی اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ نصف کے قریب ارکان وہ ہیں، جنھوںنے کبھی تقریر کرنے یا بحث میں حصہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ایک بڑی تعداد بشمول بہت سی پارٹیوں کے سربراہ، وہ کلیدی ارکان ہیں جن کی اجلاسوں میں شرکت ۱۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ اسمبلی میں جن ۱۵؍ارکان کی کارکردگی سب سے بہتر ہے، ان میں حکومتی پارٹی کا صرف ایک رکن ہے۔ الحمدللہ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے ارکان کا کردار مثالی ہے۔سب سے بہتر کارکردگی کا اعزاز جمعیت علماے اسلام کی خاتون رکن نعیمہ کشور کا ہے، جن کا اسکور ۷۰ فی صد رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے چاروں ارکانِ اسمبلی اوّلین ۱۰؍ارکان میں شامل ہیں اور اس طرح جماعت اسلامی کا اسکور ۱۰۰ فی صد رہا ہے ، جب کہ اسمبلی میں کارکردگی کے حوالے سے سب سے کم شرکت کا سہرا فریال تالپور صاحبہ کا ہے، جو زرداری صاحب کی بہن اور پیپلزپارٹی کی بڑی حد تک کرتا دھرتا ہیں۔ بدقسمتی سے کم ترین کارکردگی دکھانے والوں میں محترم عمران خان صاحب، مسلم لیگ ن کے ’گلِ سرسبد‘ حمزہ شہباز شریف بھی شامل ہیں، ان کا اسکور ۲۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ جماعت اسلامی کو اعلیٰ کارکردگی کا یہ اعزاز پہلی مرتبہ حاصل نہیں ہو رہا۔ ۱۹۷۲ء کی اسمبلی میں پروفیسر عبدالغفور احمد کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ ۱۹۸۵ء کی اسمبلی میں لیاقت بلوچ سرفہرست تھے۔ سینیٹ کے ۲۱برسوں میں الحمدللہ، راقم الحروف کی اوّل پوزیشن رہی۔ آج بھی سینیٹ کے ۱۰ مؤثر ترین ارکان میں امیرجماعت برادرم سراج الحق اپنی تمام دوسری ذمہ داریوں کے باوجود شامل ہیں۔
اگر پارلیمنٹ اور ارکانِ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے، تو پارلیمنٹ کی بالادستی کے بارے میں کتنے ہی خوش کُن دعوے آپ کیوں نہ کرڈالیں، پارلیمنٹ بالادست نہیں ہوسکتی۔ آج پارلیمنٹ ایک نمایشی ادارہ بنادی گئی ہے۔ ہرسال دسیوں بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس برخاست کرنا پڑتے ہیں۔ سوالات کرنے والے کم ہیں اور جو سوال کیے جاتے ہیں، ان میں تین چوتھائی جواب سے محروم رہتے ہیں۔ آدھی قانون سازی آرڈی ننس کے ذریعے کی جاتی ہے اور انتظار کیا جاتا ہے کہ اسمبلی برخاست ہو اور آرڈی ننس نازل کر دیا جائے۔ کمیٹیاں کچھ ہی متحرک ہیں، تاہم سینیٹ کی کمیٹیاں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ چودھری نثار علی خاں کے دورِ صدارت میں قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن موجودہ دور میں گو کہ قائد حزبِ اختلاف اس کے سربراہ ہیں، اس کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دورِحکومت کے اکائونٹس کا احتساب اس کمیٹی کا ایجنڈا ہے، جس کے سربراہ پیپلزپارٹی کے نمایندہ ہیں ؎
گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
کار طفلاں تمام خواہد شد
عدلیہ کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش
سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس ظہیرجمالی صاحب اور دوسرے جج حضرات نے گذشتہ دو مہینوں میں چار مرتبہ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بدترین حکمرانی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ’اچھی حکمرانی‘ کا فقدان ہے۔ ذاتی پسندوناپسند رہنما اصول بن گئے ہیں اور بادشاہت کے انداز میں کارِ حکمرانی انجام دیے جارہے ہیں۔ احتساب کا دُور دُور پتا نہیں، تقرریاں میرٹ سے محروم ہیں۔ اعلیٰ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے اہم محکمے قائم مقام سربراہوں کی نگرانی میں چل رہے ہیں اور وہاں بھی بالعموم مطلوبہ گریڈ سے ایک گریڈ کم کے افسر کو لگایا گیا ہے تاکہ وہ حکمرانوں کے اشارئہ چشم و ابرو پرکام کرے اور اختلاف کی جرأت نہ کرسکے۔ جو افسر اصول اور قواعد کا احترام کرتا ہے، وہ نظروں سے گرتا ہے اور انتقامی کارروائی کا مستحق بن جاتا ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک شعبے کا نہیں، اہم ترین شعبوں کا بھی یہی حال ہے۔
وزیراعظم صاحب کے اہلِ خانہ (جن کی کوئی نمایندہ حیثیت نہیں اور جنھوں نے ’رازداری‘کا حلف بھی نہیں لیا ہے) سرکاری معاملات میں دخیل اور پالیسی بنانے،نافذ کرنے یا نگرانی کرنے پر مامور ہیں۔ سرکاری تقاریب میں شریک ہوتے ہیں۔ جن محفلوں اور اجتماعات میں ’رازداری‘ اصل الاصول ہے، ان میں شرکت کرتے ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق اپنی مرضی سے جو معلومات آشکارا (leak) کرنا چاہتے ہیں ، بے دھڑک کرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ اندازِ حکمرانی جمہوریت کے لیے سمِ قاتل ہے اور اقتدار میں نوازشریف ہوں یا بے نظیر صاحبہ یا زرداری صاحب، سب جمہوریت کے اس قتل میں شریک ہیں۔ جمہوریت کو آج اصل خطرہ اسی طرزِ حکمرانی سے ہے۔اور جب تک اس کی اصلاح نہیں ہوتی، جمہوریت ایک خواب رہے گی، حقیقت نہیں بن سکتی۔ چیف جسٹس صاحب نے اورنج ٹرین کے مقدمے کی سماعت کے دوران بڑے دُکھ سے جو بات کہی ہے، وہ نوشتۂ دیوار اور پاکستان کے ہرمخلص بہی خواہ کے دل کی آواز ہے۔ ان کا ارشاد ہے:
جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور اچھی طرزِ حکمرانی پر بُری حکمرانی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں .... عوام کو چاہیے کہ ووٹ دیتے وقت دُور اندیشی سے ان معاملات پر نظر رکھیں۔
چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر حکومت کے ترجمان اور کاسہ لیس بڑے سیخ پا ہوئے ہیں اور عدالت کے رویے کو جمہوریت کے لیے ’خطرہ‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں، لیکن دستور کی دفعہ۱۸۴ (ج) اور دفعہ ۱۸۷ ، اعلیٰ عدالت کی یہ ذمہ داری مقرر کرتی ہیں کہ مفادِ عامہ، بنیادی حقوق کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے غیرمحدود اختیارات کو استعمال کرے اور اصلاحِ احوال کے لیے ضروری احکام جاری کرے۔ دستور نے نظم و ضبط کا یہ نظام قائم کیا ہے اور جمہوریت کے قیام اور استحکام کے لیے اس کی کلیدی اہمیت ہے اور یہ حکومت کو اُن مواقع پر لگام دینے کے لیے ضروری ہے جب وہ جمہوری اصولوں اور دستور کے الفاظ اور روح سے انحراف کرتے ہوئے بادشاہت، آمریت یا جمہوری اقدار کی پامالی کی راہ پر گامزن ہو:
دفعہ ۱۸۷: ۱- عدالت ِ عظمیٰ کو بہ اخراج ہر دیگر عدالت کے، کسی دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان کسی تنازع کے سلسلے میں ابتدائی اختیارِ سماعت حاصل ہوگا۔
تشریح: اس شق میں ’حکومتوں‘ سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مراد ہیں۔
۲- شق (۱) کی رُو سے تفویض کردہ اختیارِ سماعت کے استعمال میں عدالت ِ عظمیٰ صرف استقراری فیصلے صادر کرے گی۔
۳- آرٹیکل ۱۹۹ کے احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر ، عدالت ِ عظمیٰ کو، اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے باب۱ کے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے، تو مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اسے اختیار ہوگا۔
اسی طرح دفعہ۱۸۷ بہت واضح ہے:
دفعہ ۱۸۷ : (۱) (آرٹیکل ۱۷۵ کی شق (۲) کے تابع) عدالت عظمیٰ کو اختیار ہوگا کہ وہ ایسی ہدایات، احکام یا ڈگریاں جاری کرے، جو کسی ایسے مقدمے یا معاملے میں جو اس کے سامنے زیرسماعت ہو، مکمل انصاف کرنے کے لیے ضروری ہوں، ان میں کوئی ایسا حکم بھی شامل ہے، جو کسی شخص کے حاضر کیے جانے، یا کسی دستاویزکو برآمد کرنے یا پیش کرنے کے لیے صادر کیا جائے۔
(۲) ایسی کوئی ہدایت، حکم یا ڈگری پاکستان بھر میں قابلِ نفاذ ہوگی اور جب اس کی تعمیل کسی صوبے میں، یا کسی ایسے قطعے یا علاقے میں کی جانی ہو، جو کسی صوبے کا حصہ نہ ہو، لیکن اس صوبے کی عدالت عالیہ کے دائرۂ اختیار میں شامل ہو، تو اس کی اسی طرح سے تعمیل کی جائے گی گویا کہ اسے اس صوبے کی عدالت ِ عالیہ نے جاری کیا ہو۔
دونوں دفعات بہت واضح ہیں اور عدالت ِ عالیہ کو صرف یہ اختیار ہی نہیں دیتیں، بلکہ اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ وہ حقوق کی حفاظت اور عدل کی فراہمی کے سلسلے میں ہرحکومت اور حکومت کے ہر فرد اور ہرحکم، خواہ اس کا تعلق ان میں سے کسی بھی ادارے سے ہو، یعنی سیاسی قیادت، انتظامیہ، میڈیا، عسکری حکام اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ عدالت: دستور، قوم اور اللہ تعالیٰ سب کے سامنے جواب دہ ہے۔ وہ یہ حلف لیتی ہے کہ خدا کو حاضروناظر جان کر اسلامی نظام کے قیام اور دستور اور قانون کے مکمل نفاذکے لیے ہرمفاد سے بالا ہوکر اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔
موجودہ وفاقی حکومت، اعلیٰ عدلیہ کے اس دستوری کردار سے اتنی خائف ہے کہ اس نے رات کی تاریکی میں ۲۴ویں دستوری ترمیم لانے کی کوشش کی، کہ دفعہ ۱۸۴ (ج) کے تحت عدالتی احکام پر نظرثانی کی کارروائی کا اسے اختیار دیا جائے۔ یہ جمہوریت اورعدل کے نظام کو کمزور کرنے اور انصاف کے تقاضوں کے نفاذ میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے مترادف ہے اور پارلیمنٹ، عوام اور تمام سیاسی اور دینی قوتوں کو اس ترمیم کا راستہ روکنا چاہیے۔
اس موقعے پر ایک قومی امانت کو قوم تک پہنچانے کے جذبے سے میں اپنا ایک واقعہ ضبط ِ تحریر میں لارہا ہوں جو وزیراعظم محمد نواز شریف کے ذہن اور اندازِ حکمرانی کو سمجھنے میں مددگار اور ان کے رفقاے کار کی اپنی ذمہ داری بہ حُسن و خوبی انجام نہ دینے کی مثال ہے:
یہ بات ہے ۱۹۹۰ء کی آئی جے آئی کے زمانۂ حکومت کی۔ہم نے وزارت میں شرکت نہیں کی تھی، لیکن پارلیمنٹ میں پارٹی آئی جے آئی کی تھی، جس میں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی اہم شریکِ کار تھیں۔ اقتدار میں آنے کے چند ہی مہینے بعد، نواز شریف صاحب نے بارھویں دستوری ترمیم ۱۹۹۱ء کا سلسلہ شروع کیا۔ اصل مسودے کے دو اہم حصے تھے: ایک یہ کہ نفرت انگیز اور وحشیانہ جرائم کے لیے اپیل کورٹس مقرر کی جائیں، اور دوسرے یہ کہ وزیراعظم کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے صواب دیدی اختیارات کے تحت، دستور کی جس شق کو چاہے وقتی طور پر معطل کرسکے اور معطلی کی مدت کے تعین کا اختیار بھی وزیراعظم ہی کو حاصل ہو۔ جب یہ مسوّدہ ہمارے سامنے آیا تو قاضی حسین احمد مرحوم اور میں نے اس کی بھرپور مخالفت کی، جو نوازشریف صاحب کے لیے بڑی ناگوار تھی۔ ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ حق نہ ہم اپنے لیے لینا پسند کریںگے، نہ آپ کے لیے اور نہ کسی اور کے لیے، بشمول صدرِ مملکت۔ پھر صدر غلام اسحاق خان صاحب نے بھی اس کی سخت مخالفت کی اور میاں صاحب کو دستوری ترمیم کا یہ حصہ مسوّدے سے خارج کرنا پڑگیا۔ نوازشریف صاحب سے ہماری گفتگو کے دوران مسلم لیگ کے کئی وزرا بھی شریک تھے، جو پوری میٹنگ میں تو مکمل طور پر خاموش رہے لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد ان میں سے تین نے، یعنی: جنرل مجید ملک، وسیم سجاد اور حامدناصر چٹھہ نے مجھ سے فرداً فرداً اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں سے دو نے یہ تک کہا کہ ہم آپ کے ممنون ہیں کہ آپ حضرات نے اس ترمیم کا راستہ رکوا دیا، ورنہ ہم اس پر مضطرب تھے مگر کابینہ میں ہم اسے نہ روک سکے۔ جنرل مجید ملک صاحب اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، لیکن باقی دونوں حضرات الحمدللہ بقید حیات ہیں اور میری اس بات کی تائید کریں گے۔
دراصل یہ نواز شریف صاحب کا مزاج اور ذہن ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر۱۵ویں دستوری ترمیم کے ذریعے ایسے ہی اختیارات حاصل کرنے اور اسلام کے نام پر کُلی اختیارات کے حصول کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔
ہم دراصل اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو جہاں بہت سے بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں، وہاں خود جمہوریت کا نام لینے والوں، اس کی دہائی دینے والوں اور اس کے نام پر حکمرانی کرنے والوں کے اپنے ذہن اور رویے بھی خطرات کو دعوت دینے کا باعث ہیں۔
ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے ہرکسی کو دستور، قانون اور اداروں کی مشاورت کا پابند کرناہوگا اور چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام وضع کرنا، اور پھر اس پر عمل بھی کرنا ہوگا کہ سب اپنی اپنی حدود میں رہیں اور کوئی بھی ایسے اختیارات حاصل نہ کر پائے جو اسے مشاورت اور اداراتی ڈسپلن سے آزاد کردے۔ فوج اور عدلیہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی حدودِ کار میں رہیں اور میڈیا بھی۔ اجتماعی اُمور اور دستور میں دیے ہوئے حقوق کی پاس داری اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے اجتناب بھی اشد ضروری ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ، حکومت اور وزیراعظم اور وزرا کے لیے بھی مشاورت کا التزام اور اس کا احترام اور دستور، قانون اور ضابطۂ کار کی پابندی لازم ہے۔ انتظامیہ، حکمرانوں کی ملازم نہیں ریاست کی ملازم ہے۔ پولیس ہو یا سول انتظامیہ، اس کے لیے قانون اور ضوابط کا پابند ہونا ضروری ہے اور حکومت ِ وقت کے اشارۂ چشم و ابرو پر اور ان کے ملازم کی حیثیت سے کردار کی ادایگی نہ صرف عزتِ نفس کے خلاف ہے بلکہ دستور اور قانون کی حکمرانی کی بھی ضد ہے۔
اخبارات میں پنجاب کے ایک چیف سیکرٹری کی تابع داری کا ایک واقعہ شائع ہواہے، جو سب کے لیے شرم کا باعث ہے۔ ہوا یہ کہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ سے کوئی چیز چھٹ کر زمین پر گرگئی، تو قبل اس کے کہ وہ افراد جو ان کی خدمت پر مامور ہیں، آگے بڑھیں، چیف سیکرٹری صاحب نے جست لگائی اور وہ چیز اُٹھا کر وزیراعلیٰ کی خدمت میں پیش کر دی۔
انتظامیہ ہو یا پولیس، ایک بڑی تعداد حکمرانوں کی ذاتی پسند و ناپسند کے چکّر میں رہتی ہے اور اس کو اپنی ترقی اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے زینہ بناتی ہے___ یہ رویہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف کے قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کی راہ میں سنگین رکاوٹ ہے۔ جمہوریت کو خطرہ اس رویے سے ہے اور جب تک یہ طرزِفکر اور طرزِ عمل نہ بدلے گا، جمہوریت کا مستقبل تاریک رہے گا۔ الحمدللہ، ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو اصول اور ضابطے کا احترام کرتے ہیں اور جان پر کھیل کر ان کی پاس داری کرتے ہیں، لیکن افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسےلوگوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، وہ اُٹھ رہے ہیں یا ریٹائر ہورہے ہیں۔ ان کی جگہ لینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
اس زمانے میں عدالتِ عظمیٰ نے دو بڑے اہم فیصلے کیے ہیں، جو آرڈر کی شکل میں جاری ہوچکے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ وزیراعظم کو اپنی صواب دید (discretion) میں حکمرانی کا کوئی اختیار نہیں، بجز ان چیزوں کے جو دستور نے ان کو متعین طور پر بطور اختیار دی ہیں۔ وزیراعظم کابینہ کے ذریعے فیصلے کرنے کا پابند ہے اور دستور کی دفعہ ۹۰ اور ۹۱ وفاقی حکومت کی صاف لفظوں میں تعریف دے رہی ہیں۔ اصل اختیار کابینہ کا ہے جس کا سربراہ وزیراعظم ہے۔ برطانوی قانون کے مطابق کابینہ کے تمام ارکان بشمول وزیراعظم برابر ہیں۔ صرف انتظامی وجوہ سے وزیراعظم کو اوّلیت حاصل ہے لیکن فیصلے اجتماعی ہونے چاہییں۔ملاحظہ کیجیے، دستور کی متعلقہ دفعات:
دفعہ ۹۰: (۱) دستور کے مطابق، وفاقی حکومت کی جانب سے وفاق کا عاملانہ اختیار صدر کے نام سے استعمال کیا جائے گا، جو وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہوگا، جو وزیراعظم کے ذریعے کام کریں گے۔
(۲) دستور کے تحت اپنے کارہاے منصبی کو وزیراعظم ، خواہ بلاواسطہ یا وفاقی وزرا کے ذریعے بجا لائے گا۔
دفعہ ۹۱: (۱) صدر کو اس کے کارہاے منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دینے کے لیے وزرا کی ایک کابینہ ہوگی، جس کا سربراہ وزیراعظم ہوگا۔
سپریم کورٹ نے اسی دستوری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم کے لیے لازمی ہے کہ وہ کابینہ کے فیصلوں کے ذریعے کام کریں اور تمام قانون سازی بھی اسی طریقے سے ہونی چاہیے۔
عدالت ِ عظمیٰ کے ان فیصلوں کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی ایک بڑا اہم فیصلہ صادر کیا ہے کہ: صوبائی وزیراعلیٰ کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ کابینہ کے ذریعے کام کرے، وہیں دستور انھیں ایسے مشیر (adviser) بنانے کا اختیار نہیں دیتا، جو وزیر کے درجے پر کام اور فیصلے کرسکیں۔
یہ بھی بڑا اہم فیصلہ ہے، اس لیے کہ وفاقی حکومت کے سلسلے میں دستور کی دفعہ ۹۳ وزیراعظم کے مشورے پر صدرپانچ مشیر مقرر کرسکتاہے، جن کا مرتبہ وزیرکے برابر ہوتا ہے لیکن صوبے کے لیے دستور میں ایسی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرصوبے میں مشیروں اور خصوصی معاونین کی فوج ظفرموج مقرر ہے، جو بالکل وزرا کی طرح اختیارات استعمال کررہی ہے اور مراعات لے رہی ہے حالاں کہ ان سے ’رازداری‘ تک کا حلف نہیں لیا جاتا۔ یہ دستور اور جمہوریت کے ساتھ مذاق اور اپنوں کو نوازنے کا ذریعہ تھا۔ ہمیں توقع ہے کہ سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی توثیق کرے گی اور اس کا اطلاق تمام صوبوں پر ہوگا۔ یوں دستور کی خلاف ورزی اور اقرباپروری اور احباب نوازی کا یہ دروازہ بند ہوگا۔
کابینہ اور مشاورت کے تمام اداروں کے بارے میں ہم یہ بات بھی واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہرسطح پر مشاورت کے معنی یہ ہیں کہ مشورے کے نتیجے میں جو فیصلہ کیا جائے گا، اس پر عمل بھی ہوگا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو مشاورت کے سربراہ کی حیثیت سے شوریٰ کے فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ اسلامی فکر کے ماہرین میں بھی اگرچہ ماضی میں اس سلسلے میں ایک سے زیادہ آرا رہی ہیں، اور کچھ علما کی نگاہ میں شوریٰ کا فیصلہ لازم اور غالب حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، کچھ علما کی نگاہ میں یہ صرف مشورہ ہوتا ہے، جس کے قبول یا رد کرنے کا اختیار امیر یا صدر کو حاصل ہے، لیکن اب اُمت کے اہلِ علم کا اس پر تقریباً اجماع ہے کہ شوریٰ کا فیصلہ ہی اصل فیصلہ ہوتا ہے، محض مشورہ نہیں ہوتا کہ جسے امیریا صدر ویٹو کر سکے۔ یہ شورائیت اور جمہوریت کی روح کے عین مطابق ہے۔
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت پر کاری ضرب لگانے والی ایک اور روایت، پارٹیوں میں اور خود حکومتوں میں ایک خاندان کا غلبہ اور قیادت کا وراثت کے طور پر منتقل ہونا ہے۔ وراثت کے ذریعے اقتدار دراصل بادشاہت کی علامت ہے، جب کہ جمہوریت کی روح سے یہ متصادم اور اس کے اصولوں کی ضد ہے۔ بلاشبہہ بے نظیرصاحبہ نے اپنی ذہانت، قابلیت اور صلاحیت سے اپنی قیادت کا لوہا منوایا، لیکن جناب ذوالفقار علی بھٹو کا اپنی اہلیہ کو صدر مقرر کرنا اور پھر بے نظیر صاحبہ کا شریکِ صدر ہوتے ہوئے اپنی والدہ کو قیادت سے محروم کرنا۔ پھر ان کے بعد زرداری صاحب کا شوہر ہونے کے ناتے ایک مشتبہ وصیت کی بنیاد پر اقتدار سنبھالنا، اور پارٹی کا اس کے آگے سرتسلیم خم کر دینا، ایک عجیب اور بُری مثال ہے (بے نظیر صاحبہ نے اپنے دورِ اقتدار میں زرداری صاحب کو تلخ تجربات اور ان کی مجروح شہرت کی وجہ سے حکومت سے دُور رکھنے کی براہِ راست کوشش کی)۔ اسی طرح یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ بے نظیر صاحبہ کے انتقال کے بعد ان کے زیرتعلیم صاحب زادے پارٹی کے چیئرمین بن گئے اور مرحومہ کے شوہر شریک چیئرمین کی کرسیِ صدارت پر متمکن ہوگئے۔ پھر ایوانِ صدر بھی ان کے تصرف میں آگیا اور صدرصاحب کی ہمشیرہ صاحبہ ڈرائیونگ سیٹ پر تشریف فرما ہوگئیں۔
یہی معاملہ مسلم لیگ ’ن‘ اور اس کی تمام ہم جولی لیگوں کا ہے۔ نیز وہ سب جماعتیں بھی، جن کو لبرل، آزاد خیال، بائیں بازو کی (Leflist) اور نہ معلوم کیا کیا ہونے کا دعویٰ ہے، وراثت کے اس دھندے سے پاک نہیں ہیں۔ کچھ دینی جماعتوں میں بھی بدقسمتی سے وراثت ہی کا سکّہ رائج ہے۔ ان میں واحد استثنا جماعت اسلامی پاکستان ہے، جس نے قیادت، تنظیم، فیصلہ سازی، اندرونی نظامِ احتساب، ہر پہلو سے حقیقی اسلامی جمہوری آداب کا پورا پورا احترام کیا ہے اور جس میں الحمدللہ جمہوریت اپنے آداب اور اپنی روح کے مطابق جاری و ساری ہے۔
اسی طرح معاملہ صلاحیت، دیانت، فنی مہارت کی ضرورت و اہمیت کا ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت کا ہرفن مولا ہونا ضروری نہیں، لیکن اہلیت اور دیانت دولازمی صفات ہیں، جن کے بغیر قیادت مؤثر نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے اہلیت کو ذمہ داری کے مناصب کے لیے اوّلین اہمیت دی ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا - النساء۴:۵۸)، اور اہلیت کے باب میں بھی صاف اشارہ کر دیا ہے کہ اس میں علم اور جسم، یعنی فکری صلاحیت اور کام کی مناسبت سے جسمانی قوت اور مہارت ضروری ہیں (اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِط - البقرہ ۲:۲۴۷)۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں جماعتی اور سرکاری ذمہ داریوں کے باب میں فیصلے ذاتی تعلق، شخصی وفاداری اور مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور بالعموم کسی معروضی معیار کا احترام نہیں کیا جاتا۔ ’اندھا بانٹے ریوڑیاں، ہر پھر اپنوں ہی اپنوں کو دے‘ پر عمل ہوتا ہے۔ احتساب کے ادارے غیرمؤثر اور مذاق بن گئے ہیں۔ کرپشن کا دور دورہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی وسائل ایک مخصوص طبقے (اشرافیہ) کے ہاتھوں کا میل بن گئے ہیں اور عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ستم یہ ہے کہ مشہور عالمی ادارے ’انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کی تازہ ترین رپورٹ جو Global Hunger Index کے عنوان سے ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہوئی ہے، اس کی رُو سے دنیا کے ۱۱۸ترقی پذیر ملکوں میں پاکستان پست ترین ۱۱ملکوں میں سے ایک ہے، یعنی نیچے سے ہمارا نمبر ۱۱ ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ۲۲ فی صد، یعنی تقریباً ساڑھے چار کروڑ افراد خوراک کی کم سے کم مقدار سے بھی محروم ہیں اور پاکستانی بچوں کا ۴۵فی صد فطری ترقی کی رفتار سے محروم ہے۔ گویا چار سال کے بچے کی نشوونما کی وہ کیفیت ہے جو دو سے تین سال کے بچے کی ہوتی ہے۔
معاملہ وسائل کی کمی کا نہیں ہے، ان کی غیرمنصفانہ تقسیم ، بے دریغ استحصال اور غلط استعمال کا ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال عدالتِ عظمیٰ کے زیرغور اس مقدمے میں سامنے آئی ہے۔ ضلع مظفرگڑھ کے ایک مخیر زمین دار نے اپنی ہزاروں ایکڑ زمین تعلیم اور فلاحی کاموں کے لیے وقف کی تھی مگر اس پر بااثر افراد نے ناجائز قبضہ کرلیا ہے اور اس کے بڑے حصے کو کوڑیوں کے مول اور سرکاری افسران نے اپنے اور اپنے مصاحبین کے مفاد میں پٹے (لیز ) پر دے دیا ہے۔ ان اربوں روپوں مالیت کی زمین ایک مخیر فرد نے عوام کے بچوں کی تعلیم، صحت اور دوسری ضرورتوں کے لیے وقف کی تھی۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید صاحب نے اس مقدمے کے سلسلے میں پنجاب کے محکمہ اوقاف کی نااہلی اور بددیانتی پر نہ صرف سخت گرفت کی ہے، بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ: ’’پنجاب حکومت اس قابل ہی نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جائے‘‘ اور یہ کہ ’’کروڑوں روپے خردبرد کر لیے گئے لیکن نیب کو کیس نہیں بھیجا گیا۔ پنجاب حکومت زمین نہیں سنبھال سکتی تو اس کو سنبھالنے کا ٹھیکا کسی اور کے سپرد کردے۔ کچھ شرم و حیا بھی ہونی چاہیے۔ لگتا ہے کہ مظفرگڑھ میں ریاست کی رٹ بہت ہی کمزور ہے، اس لیے وہاں کی انتظامیہ ناجائز قابضین کے سامنے اتنی بے بس ہے‘‘۔ (روزنامہ جنگ، ۲۵نومبر ۲۰۱۶ء)
یہ اس صوبے کا حال ہے جس کے وزیراعلیٰ صاحب اپنے کو ’خادمِ اعلیٰ‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں اور شب وروز سرگرم نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف صوبہ پنجاب کے ساتھ خاص نہیں ہے، سب ہی صوبوں کا اور خود مرکز کا حال بھی یہی ہے۔ عوام مصائب کا شکار ہیںاور حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ایک لاوا ہے جوزیرزمین پک رہا ہے اور وقتاً فوقتاً یہ لاوا پھٹ کر فضا کو مکدر کر رہا ہے۔ جمہوریت کو ایک حقیقی خطرہ اس زمینی اور زیرزمین صورتِ حال سے ہے۔ امریکا کے حالیہ صدارتی انتخاب کے بے شمار پہلو ہیں لیکن محروم طبقات میں انتہاپسندی اور انتقام کی آگ کو بھڑکانے میں ایسے ہی حالات کا بھی بڑا دخل ہے۔ جمہوریت کے لیے خطرے کی اس جہت سے نظریں چُرانا بڑے خسارے کا سودا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح کرپشن، پھر کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ جمہوریت کے لیے ہوش ربا خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے لیکن اربابِ اختیار کو اس کا کوئی شعور نہیں یا پھر ان کے اپنے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں اور خود وہ مسئلے کا حصہ ہیں۔ اس طرح ان سے مسئلے کے حل کی توقع عبث ہے۔
اس وقت عالم یہ ہے کہ قومی آمدنی کا تقریباً نصف کالے دھن اور کالے کاروبار (بلیک اکانومی) کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو جتنا ٹیکس وصول کرنا چاہیے، وہ اس کے نصف سے بھی کم وصول کر رہی ہیں اور ریاست کا کاروبار قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ زراعت اور صنعت خصوصیت سے ایکسپورٹ انڈسٹری چارپانچ سال سے رُوبہ زوال ہیں۔ حالات کی اصلاح کےلیے کوئی مؤثر پالیسی وضع کرنے میں حکومت ناکام ہے۔ توانائی کا بحران جاری ہے، گیس کی قلت دردِسر بن چکے ہیں۔ مہنگائی ناقابلِ برداشت ہے، بے روزگاری روزافزوں ہے۔ پاکستانی کرنسی روز بروز بیرونی مارکیٹ میں اپنی قدر کھو رہی ہے۔ ملک سے سرمایہ باہر جارہا ہے اور حکومت ہے کہ محض ’پاک چین راہداری‘ (سی پیک) کی ڈفلی بجارہی ہے اور باور کرا رہی ہے کہ صرف سی پیک ہی گویا ہمارے سارے معاشی مسائل کا حل ہے۔ ان سب پر مستزاد پانی کی قلّت کا خطرہ اور تیل کے ذخائر کا خطرناک حد تک کم ہوجانا، ہوش اُڑا دینے والی کیفیات ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے، جب بھارت نے لائن آف کنٹرول پر عملاً جنگ برپا کی ہوئی ہے اور تین دریائوں کے پانیوں کی بوند بوند سے ملک کو محروم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ ہیں وہ حالات جو جمہوریت کے لیے اندرونی خطرہ ہیں اور اس خطرے کا کوئی ادراک اور اس کے مقابلے کی کوئی تیاری ایوانِ اقتدار میں نظر نہیں آرہی۔
عالمی سطح پر جو تبدیلیاں ہورہی ہیں اور خصوصیت سے امریکا کےحالیہ انتخابات کے نتیجے میں جنوری ۲۰۱۷ء میں جو نئی قیادت امریکا کی زمامِ کار سنبھال رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ صاحب جس قسم کی ٹیم اپنے صدارتی انتظام و انصرام کے لیے ترتیب دے رہے ہیں اور امریکا، یورپ، جنوبی ایشیا اور شرقِ اوسط کے لیے جن پالیسیوں کا اشارہ دے رہے ہیں، اور خصوصیت سے امریکا بھارت تعلقات اور بھارت کے ذریعے اس علاقے میں جو کردارادا کرنا چاہتے ہیں، وہ بڑے سنجیدہ اور ٹھنڈے غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مناسبت سے قومی مفادات کے تحفظ اور دیرپا پالیسی سازی کے لیے پوری قوم کو اعتماد میں لینے، قوم کو متحد کرکے اندرونی اور بیرونی خطرات کے مقابلے کی مؤثر منصوبہ سازی وقت کا اہم ترین چیلنج ہے اور اس پورے عمل کے لیے سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی___ وہ پہلو ہے جس کو اولین اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔
بلاشبہہ اس پورے عمل میں پارلیمنٹ کا بڑا بنیادی اور مرکزی کردار ہے، لیکن کیا ہماری پارلیمنٹ اپنے اس فرضِ منصبی کا شعور رکھتی ہے؟ اور کیا اس فریضے کی انجام دہی کے لیے کمربستہ ہے؟ کیا ہمارا میڈیا پوری سنجیدگی سے ان موضوعات پر عوام کی تعلیم، بیداری اور انھیں متحرک کرنے میں اپناکردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا ہماری سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داری محسوس کرتی ہیں؟ ہم پوری دردمندی کے ساتھ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ؎
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
o حضرت عبداللہ بن سَرجِس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُسنِ کردار (نیک چال چلن) بُردباری اور اعتدال و میانہ روی ، نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے۔ (ترمذی)
یعنی یہ اوصاف معمولی اور کم درجے کے نہیں ہیں۔ ان اوصاف کو انبیا علیہم السلام کی سیرت میں نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ جو شخص جس قدر اپنی سیرت و کردار میں ان اوصاف کو جگہ دے گا، وہ اسی قدر فیضانِ نبوت سے فیض یاب سمجھا جائے گا۔
اعتدال و میانہ روی زندگی کے ہر معاملے میں مطلوب ہے۔ دانش مند وہی ہے، جو زندگی کے تمام معاملات میں افراط و تفریط کے بجاے معتدل طرزِعمل اختیار کرے۔
oحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین آسان ہے اور دین سے جب بھی کسی نے زورآزمائی کی اور اس میں شدت اختیار کی، دین نے اسے ہرا دیا۔ پس، میانہ روی اختیار کرو اور بہ سہولت دینی اُمور (اور اللہ) کے قریب آئو اور خوش خبری لو اور صبح و شام اور کچھ رات کے حصے سے مدد حاصل کرو۔(بخاری)
مطلب یہ ہے کہ دین، انسان کے لیے مصیبت بن کر نہیں اُترا ہے۔ دین درحقیقت زندگی کے صحیح اور فطری طرزِعمل کا نام ہے۔ فطرت کی راہ پر چلنا ہی انسان کے لیے آسان ہے، اِلاّ یہ کہ کوئی اپنی فطرت ہی کا باغی ہوجائے۔ کم فہمی، عاقبت نااندیشی اور دوسرے غلط محرکات کی بنا پر اکثر ایسا ہوا ہے کہ آسان اور فطری دین کو لوگوں نے اپنے لیے مصیبت بنا لیا اور اپنی خودساختہ سختی اور مشقت کو مذہب کی طرف منسوب کر دیا۔
اس حدیث سے جو بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ دین میں تمھارے لیے معتدل طرزِعمل پسند کیا گیا ہے، جس کو تم اختیار کرسکو۔ اس لیے دین میں غلو اور شدت پسندی سے ہرگز کام نہ لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی طرف سے کوئی ایسا طرزِعمل اختیار کرو، جو اعتدال سے ہٹا ہوا ہو۔ زندگی کے توازن کو برقرار رکھو، ہر ذمہ داری کو ملحوظ رکھو، صبح و شام اللہ کی عبادت کرو اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے حضور میں کھڑے رہو۔ اس طرح اپنے لیے وہ قوت فراہم کرتے رہو، جس سے تمھارے لیے سفرِحیات کی دشواریاں آسان ہوجائیں اور تم خوشی اور مسرت کے ساتھ کامیابی سے ہم کنار ہوسکو۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے: یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ز (البقرہ ۲:۱۸۵) ’’اللہ تمھارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمھارے لیے سختی نہیں چاہتا‘‘۔
oحضرت ابو عبداللہ جابر بن سمرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھا، آپؐ کی نماز بھی اعتدال کے ساتھ تھی اور آپؐ کا خطبہ بھی اعتدال کے ساتھ تھا۔(مسلم)
یعنی نہ تو آپ نے بہت طویل نماز پڑھائی اور نہ بہت مختصر۔ یہی حال آپؐ کے خطبے کا بھی تھا۔ خطبے میں ایسی طوالت نہ تھی کہ سامعین گھبرا جائیں۔
oحضرت عمارؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کسی شخص کی نماز کی طوالت اور اس کے خطبے کا اختصار اس کے فقیہ (دین کا فہم رکھنے والا)ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا نماز کو لمبی کرو اور خطبے کو مختصر رکھو۔ یقینا بعض خطبے جادو ہوتے ہیں۔(مسلم)
مطلب یہ ہے کہ خطبہ بہت طویل نہیں ہونا چاہیے۔ خطبے کے مقابلے میں نماز طویل ہونی چاہیے۔ یہ بڑی ناسمجھی کی بات ہوگی کہ آدمی نماز تو بہت ہی مختصر پڑھائے، مگر خطبہ اس کا بہت طویل ہو۔ بعض خطبے ایسے بلیغ ہوتے ہیں جن میں جادو کا سا اثر ہوتا ہے۔ خطبے کا اختصار اس کی اثرانگیزی کو کم نہیں کرتا بلکہ اس سے اس کی اثرانگیزی میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
oحضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرما رہے تھے کہ آپؐ نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے۔ آپؐ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ ابواسرائیل ہیں۔ انھوں نے نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑے رہیں گے، نہ بیٹھیں گے اور نہ سایہ لیں گے، نہ بات چیت کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: ان سے کہو کہ بات چیت کریں، سایہ لیں، بیٹھیں اور روزہ پورا کریں۔(بخاری)
مطلب یہ ہے کہ دین و شریعت سے مقصود آدمی کی جسمانی تعذیب اور نفس کشی ہرگز نہیں ہے۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے، وہ ہےتزکیۂ نفس اور انضباطِ نفس، نہ کہ نفس کشی۔ خواہشاتِ نفس پر قابو پانے کے لیے روزہ کافی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی نے غلط اور غیرشرعی قسم کی کوئی نذر اور منت مانی ہے، تو اس کا پورا کرنا ہرگز واجب نہیں ہے بلکہ اس کا نہ کرنا ضروری ہے۔
oحضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک بہترین عمل وہ ہے، جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔(بخاری ، مسلم)
عمل پر پابندی اختیار کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔ مومن کا ہر نیک عمل اس تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جو اس کا اپنے ربّ سے ہوتا ہے۔ کسی نیک عمل کو اختیار کر کے اسے چھوڑ دینے کے معنی صرف اس عمل کو چھوڑ دینا نہیں ہے، بلکہ اس سے اس تعلق کو بھی صدمہ پہنچتا ہے، جو آدمی کا اپنے ربّ سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ چیز کبھی بھی پسندیدہ نہیں ہوسکتی کہ آدمی کے اس تعلق اور نسبت میں کسی قسم کی کمی پیدا ہو، جو اس نے اپنے ربّ سے قائم کی ہو۔ عمل پر پابندی اسی وقت ممکن ہے، جب کہ آدمی کا شعور بیدار ہو اور وہ عبادت و اعمال میں معتدل طرزِعمل اختیار کرے، اتنا ہی بوجھ اُٹھائے جتنا وہ اُٹھا سکتا ہو۔ یوں اعتدال کے راستے کو اختیار کرکے وہ اپنی زندگی میں بھی توازن پیدا کرسکتا ہے۔
oحضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ ان کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی، اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: یہ کون ہیں؟ عرض کیا کہ یہ فلاں خاتون ہیں اور ان کی نماز کا بہت چرچا ہے (یہ نمازیں زیادہ پڑھتی ہیں)۔
آپؐ نے فرمایا: رُک جائو! تم پر اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی تم میں طاقت ہو۔ اللہ نہ اُکتائے گا جب تک تم نہ اُکتائو۔ اللہ کو وہی دین و طاعت زیادہ محبوب ہے، جس پر اس کا اختیار کرنے والا پابندی اختیار کرے۔ (بخاری ، مسلم)
آدمی کی وہی طاعت و بندگی اور عبادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور حقیقت کی نگاہ میں معتبر ہے جو محض وقتی اور چند روزہ نہ ہو، بلکہ وہ اس کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئی ہو۔
oحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔
فرمایا: مجھ کو بھی نہیں سواے اس کے کہ مجھے اللہ اپنی رحمت میں چھپا لے، لہٰذا میانہ روی اختیار کرو اور بہ سہولت دینی اُمور (اور اللہ) کے قریب آئو اور صبح و شام اور کچھ رات کے حصے میں (عبادت کرو)، میانہ رفتار سے چلتے رہو، منزلِ مقصود کو پہنچ جائو گے۔(بخاری ، مسلم)
یعنی آدمی کو یہ غلط فہمی ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے عمل کے بل پر جنت میں داخل ہوگا۔ طاعت و بندگی کا حق کس سے ادا ہوسکا ہے۔ آدمی کے لیے صحیح طرزِعمل یہی ہوسکتا ہے کہ وہ زندگی میں اعتدال کی روش اختیار کرے اور اللہ کی رحمت و مغفرت پر بھروسا رکھے۔ یقینا اللہ کی رحمت شاملِ حال ہوگی، اور وہ منزلِ مقصود پر پہنچ جائے گا۔
oحضرت انسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اُوپر سختی نہ کرو کہ اللہ تم پر سختی کرے۔ ایک گروہ نے یہی تشدد اختیار کیا تھا تو اللہ نے بھی پھر اسے سخت پکڑا۔ دیکھ لو، وہ ان کے باقیات راہب خانوں اور کنیسائوں میں موجود ہیں۔یہ انھی کی یادگار ہیں۔ رہبانیت کی راہ انھوں نے خود نکالی تھی۔ یہ طریقہ اللہ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ (ابوداؤد)
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو احکام بھی دیے ہیں، وہ فطری اور قابلِ عمل ہیں۔ تم خود اپنے لیے پابندیاں اور سختیاں نہ ایجاد کرو۔ اس سے پہلے ایک قوم (یہود و نصاریٰ) نے دینِ فطرت کی خلاف ورزی کی اور اپنے لیے طرح طرح کی سختیاں اور مشقتیں گھڑلیں، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے ساتھ سختی فرمائی۔ رہبانیت اور ویراگ کی رسم عیسائیوں نے خود ایجاد کی تھی۔ اس کا حکم اللہ نے انھیں نہیں دیا تھا۔ آج بھی راہب خانوں اور کنیسائوں میں جو لوگ پائے جاتے ہیں، وہ اسی زمانے کی یادگار ہیں۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ فطری اور متوازن دین پر عمل پیرا ہوں۔ ان لوگوں کی روش ہرگز اختیار نہ کریں، جنھوں نے اللہ کے انعامات کی قدر نہ پہچانی۔ زندگی کے فطری راستے سے ہٹ گئے۔(الحدید ۵۷:۲۷)
oحضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دین موزوں اور مضبوط ہے، اسے نرمی کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ (خواہ مخواہ کی سختیاں ایجاد کر کے) اللہ کی عبادت سے اپنے دل متنفر نہ کرو، کیونکہ زیادہ تیز رو مسافر نہ سفر طے کرپاتا ہے اور نہ سواری بچ پاتی ہے (یعنی وہ اپنی سواری کو ہلاک کر دیتا ہے اور منزلِ مقصود تک بھی پہنچ نہیں پاتا)‘‘۔(بیہقی)
ہر دور کے کچھ مخصوص نعرے ہوتے ہیں، جن کا چلن آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ہرشخص کی زبان پر رواں ہوجاتے ہیں اور ہرکس و ناکس بلاادنیٰ غوروفکر، انھی کے انداز میں سوچنے اور انھی کی زبان میں بولنے لگتا ہے۔
ان نعروں کا رواجِ عام ہونا، عقل و فہم کی موت کے مترادف ہے۔ جب یہ ذہنوں پر چھا جاتے ہیں تو آزادیِ فکر باقی نہیں رہتی۔ عامی اور عالم، اَن پڑھ اور پڑھے لکھے، سب انھی کا سہارا لینے لگتے ہیں اور سمجھ بوجھ کی صلاحیتیں اِس آکاس بیل کے تحت مرجھا جاتی ہیں۔
ہمارے دور میں بھی کچھ خاص نعرے ہیں، جو رواجِ عام اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نعرہ ہے: ’با زمانہ بساز‘۔ آئے دن یہ بات زورشور سے دُہرائی جارہی ہے کہ:
زمانہ بدل چکا ہے۔ مذہب کو زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ دیتے ہوئے نئے حالات کے مطابق بدلنا چاہیے۔ اگر مذہب دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا ، تو اس کے خلاف بغاوت ہوجائے گی اور وہ زندگی سے بے دخل ہوجائے گا۔ جمود کا نتیجہ موت ہے۔ ہم کو زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بدلنا ہوگا، ورنہ موت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
آج جسے دیکھو وہ کسی نہ کسی عنوان سے یہی درس دیتا نظر آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نعرے پر ’ایمان بالغیب‘ لانے کے بجاے اس کے تمام پہلوئوں پر عقل و تجربے کی روشنی میں غور کیا جائے اور محض اس لیے کسی بات کو قبول کرنے کی غلطی نہ کی جائے کہ اس کا اظہار بہ تکرار ہو رہا ہے۔
اس امر میں شبہے کی کوئی گنجایش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہا ہے، بہت کچھ بدل چکا ہے اورمزید رنگ بدلے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمود ایک مصیبت ہے ، جو قوم کی تخلیقی قوتوں کو یخ بستہ کردیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تبدیلی صحت مند ہے؟ کیا ہرخیر باعث ِ تغیر ہے؟ کیاتاریخ کا ہر قدم عروج ہی کی طرف اُٹھتا ہے؟ اور کیا ہر حرکت بلندی ہی کی سمت جاتی ہے؟
ان سوالات پر جب آپ تاریخ کی روشنی میں غور کریں گے، تو لازماً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کا جواب نفی میں ہے۔ ہرحرکت لازماً ترقی کے مترادف نہیں۔ ایک نوع کی حرکت اگر آپ کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے، تو ایک دوسری قسم کی حرکت تحت الثریٰ کی پستیوں تک گرا دیتی ہے ۔ مطلوبِ نفس،محض حرکت نہیں بلکہ صحیح سمت میں حرکت ہے۔
ترقی ایک نسبتی یا اضافی (relative) اصطلاح ہے۔ ترقی اور تنزل کا فیصلہ منزل کے لحاظ ہی سے ہوسکتا ہے۔ ہم صرف اسی حرکت کو ’ترقی‘ کہہ سکتے ہیں، جو صحیح راستے سے ہمیں اپنی منزل کی طرف لے جارہی ہو۔ جو حرکت منزل کے برعکس سمت میں لے جائے، وہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حرکت سے پہلے سمت ِ حرکت اور منزلِ مقصود کا تعین ہونا چاہیے، ورنہ محض جمود کو توڑنے کے شوق میں کوئی حرکت کرکے آپ اپنی منزل سے اور دُور بھی ہٹ سکتے ہیں۔ تمدنی اور تہذیبی زندگی میں اصل معیار وہ مقصد ہوتا ہے، جو آپ حاصل کرنا چاہیں۔ اگر آپ کا مقصد اور آپ کی منزل اسلام ہے، تو پھر ہر وہ حرکت جو اس کی مخالف سمت میں لے جائے، خواہ وہ کتنی ہی سبک خرام کیوں نہ ہو، ترقیِ معکوس ہوگی، بلکہ یہ حرکت جتنی تیز ہوگی، تنزل اتنا ہی تیز رفتار ہوگا۔
اسی طرح اندھی تقلید اور کورانہ نقالی صرف ماضی ہی کی نہیں ہوتی۔ یہ حال کے مروّجہ طریقوں اور ضابطوں کی بھی ہوسکتی ہے۔ اور کسی فرد یا قوم کی خودی اور اس کے صحت مندانہ ارتقا کے لیے جتنی مہلک ماضی کے بتوں کی اندھی پرستش ہے، اتنی ہی مہلک حال کے نئے بتوں کی پوجا بھی ہے، بلکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو نقالی دراصل ’جمود‘ ہی کی ایک شکل ہے۔ اگرچہ ہے بڑی پُرفریب! عقل و فکر کو دونوں ہی صورتوں میں معطل کر دیا جاتا ہے۔ ’جمود‘ میں آپ ماضی کی پرستش کرتے ہیں اور لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں، تو نقالی میں آپ ماضی کے بجاے کسی نئے سورج کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی خودی کے لیے دونوں تباہ کُن ہیں۔
جو لوگ زمانے کے چلن کی پیروی کا بلاوا دیتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ شعوری یا غیرشعوری طور پر وہ دراصل دوسروں کی تقلید ہی کی دعوت دے رہے ہیں، اور ’جدید‘ کی تقلید اگر کی جائے تو وہ کوئی فخر کے قابل چیز نہیں بن جاتی۔ اُس کے نقصانات علیٰ حالہٖ قائم رہتے ہیں، جن کی بناپر قوم کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں کبھی اُبھرنے نہیں پاتیں۔ اس کی وجہ سے انسان کی روح میں جمود اور احساسِ کمتری پیوست ہوجاتا ہے۔ انجام کار، پوری قوم زمانے کو بدلنے کے بجاے بس خود اپنے ہی آپ کو بدلنے میں لگی رہتی ہے اور دوسروں کی ’شاگردی‘ کے مقام سے آگے بڑھنا کبھی اسے نصیب نہیں ہوتا۔
پھر زمانے کی تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اس امر کو بھی ملحوظ نہیں رکھتے کہ زمانہ تو بدلنے ہی کے لیے بنا ہے۔ آج وہ ایک خاص سمت میں تبدیل ہورہا ہے تو کل کسی دوسری سمت میں تبدیل ہوجائے گا۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے ہمیشہ اپنے ہی دور کی غالب تہذیب کو ترقی کا کمال سمجھتے رہتے ہیں۔
چشمِ تاریخ نے اس امر کا بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت ور تہذیب بھی ایک دن زوال کی نذر ہوجاتی ہے:
اگر ماضی کی تمام غالب تہذیبیں قابلِ تسخیر ثابت ہوئیں، اور ایک دن کامیاب وہی لوگ ہوئے جو ان کی نقالی نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی جگہ ایک دوسرا نظام پیش کرتے تھے تو مستقبل کے متعلق یہ کیوں تصور کرلیا جائے کہ جدید مغربی تہذیب کوباوجود اس کے موجودہ غلبے کے،مسخر نہیں کیا جاسکتا؟
محض یہ چیز کہ آج ایک خاص تہذیب کو غلبہ حاصل ہے، اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ: ’’یہی تہذیب مبنی برحق بھی ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اسی کو ہمیشہ قائم رہنا ہے اور نوعِ انسانی کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے آپ کو اسی کے مطابق ڈھال لے‘‘۔
طاقت اور غلبہ، حق کے معیارات کو تبدیل نہیں کردیتے اور اقتدار کسی چیز کو محاسن کا پیکر نہیں بنا دیتا۔ نہ ہر رائج شدہ چیز ناقابلِ تغیر اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ کمزوروں کی روش دکھائی دیتی ہے کہ وہ طاقت کی پوجا کرتے ہیں اور ہرچڑھتے سورج کے آگے جھک جاتے ہیں۔ یہ کم نظروں کا طریقہ ہے کہ وہ محض اس بناپر کسی مسلک کو اختیار کرلیتے ہیں کہ اسے اقتدار اور غلبہ حاصل ہے اوریہ نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط؟
اصل قدر غلبہ نہیں، سچائی ہے
حالاںکہ دیکھنے کی اصل چیز غلبہ اور طاقت نہیں بلکہ کسی چیز کا حق یا باطل ہونا ہے۔ اگر زمانہ بدل رہا ہے تو اس کو مزید بھی بدلا جاسکتا ہے۔ لیکن محض زمین و آسمان کی گردش اور ماہ و سال کی آمدورفت کی وجہ سے زندگی کے اصول، خیروشر کی تمیز اور حق و باطل کے معیار نہیں بدلے جاسکتے۔
جدید ذہن کی تعمیر جن عوامل نے کی ہے، ان میں وہ فکروفلسفہ بھی شامل ہے، جو ہرنئی چیز کو خوب تر اور قابلِ احترام اور لائقِ اختیار سمجھتا ہے۔ مغرب کے ذہن کو ہیومنزم (Humanism) کے فلسفے نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس فلسفے کی اساس، تاریخ میں ناگزیر ترقی کا اصول (Inevitability of progress)ہے۔ اس کی رُو سے:’’ہر آنے والا دن، گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔ انسان کا ورثہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ حال، ماضی سے اچھا ہے اور مستقبل، حال سے بہتر ہوگا۔ ہمارے قدم لازماً ترقی کی طرف اُٹھ رہے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں‘‘۔
اس اصول کو فریڈرک ہیگل کے’ فلسفۂ جدلیاتی تاریخ‘ اور کارل مارکس کی ’معاشی تعبیرتاریخ‘ نے بڑی تقویت پہنچائی۔ یہ اسی اندازِ فکر کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی ہرچیز کو کم مایہ اور حقیر، اور حال کی ہرشے کو قابلِ قدر سمجھا جا رہا ہے۔ ترقی کا لازمی تقاضا یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ تغیر زمانہ کے نام پر ہرقدیم چیز کو بدل ڈالا جائے۔
یہ نظریہ بدیہی، منطقی اور عقلی طور پر غلط ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ میں ارتقا کی کوئی سیدھی لکیر نظر نہیں آتی۔ یہ ’تاریخ‘ بڑی کج رو واقع ہوئی ہے: اس میں ترقی بھی ہے اور تنزل بھی، عروج بھی ہے اور زوال بھی، ارتقا بھی ہے اور انحطاط بھی، فراز بھی ہے اور نشیب بھی۔ ہربعد کے دور کو پچھلے دُور سے بہتر سمجھنا تاریخی لحاظ سے ایک بالکل غلط مفروضہ ہے، جسے ہرگز صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
جدید تاریخ کے فلسفیوں میں سے کوئی ایک بھی ہیگل اور مارکس کی اس توجیہ کو صحیح نہیں سمجھتا اور خود تاریخی حقائق اس کی توثیق کرنے سے انکاری ہیں۔ ’مسلسل ارتقا‘ کا نظریہ آج علمی حیثیت سے ایک متروک نظریہ ہے۔ لیکن اس کے بطن سے جس فاسد تصور نے جنم لیا ہے، وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دماغ پر مسلط ہے۔ وہ اپنی ترقی پسندی کا ڈھول پیٹنے کے لیے محض فیشن کے طور پر ہرقدیم چیز پر ناک بھوں چڑھاتے اور ہرنئی چیز کی طرف بے سوچے سمجھے لپک پڑتے ہیں۔ حالانکہ قدیم کو لازماً بُرا اور جدید کو لازماً اچھا سمجھنا اور تمام قدیم چیزوں کو تبدیلی کے خراد پر چڑھا دینا، ایک غلط روش ہے، جس کے لیے کوئی معقول دلیل موجود نہیں۔
اسی طرح سوال یہ بھی ہے کہ: ’’زمانے کے تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اور یہ تغیر زندگی کے کس دائرے میں واقع ہو رہا ہے؟‘‘
کائنات کا وہ دور جو زمین پر انسان کی آمد سے شروع ہوا ہے، اب تک جاری ہے۔ ارتقاے کائنات کے نقطۂ نظر سے اگر غور کیا جائے، تو یہ امر صاف ظاہر ہے کہ موجودہ دَور اپنی چند متعین خصوصیات رکھتا ہے، جو انسانی تہذیب کے سارے ہی مرحلوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان خصوصیات میں کوئی اساسی تبدیلی اسی وقت واقع ہوگی، جب یہ دَور ختم ہوجائے گا اور کوئی دوسرا دَور شروع ہوگا، یعنی دورِ آخرت۔
اس پورے زمانے میں انسان کی فطرت، کائنات کے فطری قوانین، انسانی زندگی کے اساسی اصول، حیات و موت کے ضابطے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں، ہدایت و ضلالت کے قواعد، یہ تمام ایک ہی رہے ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔ افراد پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ تہذیبیں اُبھرتی ہیں اور معدوم ہوجاتی ہیں۔ سلطنتیں بنتی ہیں اور بگڑکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں: کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ(الرحمٰن۵۵:۲۶)، لیکن قدرتِ حق کے تحت فطرت کے قوانین غیرمتبدل ہیں۔ زندگی کی اصل غیرمتغیر ہے، اور اجتماع و تمدن کے اساسی ضابطے ثابت و مستحکم ہیں۔ ایک ہی اصول ہے جو کارفرما ہے، ایک ہی حقیقت ہے جو جلوہ گر ہے۔
تغیر و تبدل صرف ظاہری اور سطحی چیزوں میں ہے، بنیادی اور اساسی چیزوں میں نہیں۔ اس لیے یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے موجودہ دور میں جو تغیرات بھی واقع ہو رہے ہیں، وہ ایک محدود دائرے میں ہیں۔ بنیادوں میں نہیں۔ صرف فروع میں ہیں، اور ان کی بناپر قدیم و جدید کا جھگڑا بجز کوتاہ نظری کے اور کچھ نہیں۔ بقولِ علامہ محمد اقبال ؎
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری، قصۂ جدید و قدیم
محض تبدیلی مذموم نہیں
ہم تغیر کے وجود کے منکر نہیں ہیں۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ لیکن جس چیز کا سمجھنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اس لیے کہ اس کی نوعیت کو سمجھے بغیر کوئی صحت مند اجتماعی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔
انسان کی اجتماعی زندگی میں جو تبدیلی بھی آرہی ہے، وہ ذرائع اور رسل کی دنیا میں ہے، مقاصد اور اصول و اَخلاق کی دنیا میں نہیں۔ فنی ایجادات اور تکنیکی انکشافات، انسان کے وسائل اور فطری قوتوں پر اس کے اختیار کو برابر بڑھا رہے ہیں۔ زمان و مکان کی رکاوٹیں دُور ہورہی ہیں اور انسان کا اقتدار بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ ساری تبدیلی ذرائع اوروسائل ہی کی حد تک ہورہی ہے۔ اس تبدیلی کا یہ تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ مقاصد ِ زندگی، اُصولِ اخلاق اور اقدارِ حیات کو بھی تبدیل کر دیا جائے۔
اگر ہوائی جہاز، جیٹ اور راکٹ کے استعمال سے زمین کی طنابیں کھنچ گئی ہیں، تو اس کے یہ معنی کب ہیں کہ زنا جو کل تک حرام تھا، آج حلال ہوجائے؟ اگر برقی قوت کے ذریعے انسان کے پاس وہ طاقتیں آگئی ہیں، جو پہلے صرف جنوں اور فرشتوں سے منسوب تھیں، تو اس کا آخر کیا اثر خیروشر کے اصولوں کی صداقت پر پڑتا ہے؟ میزائل اور خلائی راکٹوں کے استعمال کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ جھوٹ، سُود، سٹہ، دھوکا دہی، شراب اور دوسرے منکرات کو جائز قرار دے دیا جائے؟ صنعتی ترقی کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ اصولِ انصاف کو بھی بدل دیا جائے؟
جو حضرات سطحی نظر رکھتے ہیں، وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ تغیرات اصولوں میں ردّوبدل کے مقتضی ہیں۔ درحقیقت تمام ایجادات و اکتشافات انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تمام مادی ترقیات اسی وقت مفید ہوسکتی ہیں، جب وہ انسان کی بھلائی کے لیے استعمال ہوں۔ خود بھلائی اور بُرائی کے اصول، ان کی خاطر نہ بدل جائیں۔ یہ قوتیں جو انسان کو حاصل ہوئی ہیں، اُسی وقت نافع ہیں جب وہ اعلیٰ مقاصد ِ حیات کے تابع ہوں، اپنے ریلے میں وہ ان اعلیٰ مقاصد ِ زندگی کو بہا کر نہ لے جائیں۔ مقاصد اور اصول کو ان کے مطابق نہیں، بلکہ ان کو مقاصد و اصول کے مطابق بدلنا چاہیے۔ مقاصد اور اصولوں کی حیثیت تو اُن معیارات کی ہے، جن سے تکنیکی ترقیات کے حُسن و قبح کو ناپا جائے گا۔ اگر ان ترقیات کے باوجود انسان ہی پریشان و مضطرب رہتا ہے، تو پھر ساری مادی ترقی بے کار ہے ؎
نہ کلی ہے وجہ نظر کشی، نہ کنول کے پھول میں تازگی
فقط ایک دل کی شگفتگی، سببِ نشاطِ بہار ہے
انسانی زندگی میں تغیر کا منہاج (methodology)کچھ ایسا ہے کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ ثبات اور دوام کا بھی ایک پہلو موجود ہے۔ تبدیلی ہرلحظہ آتی ہے، لیکن بنیادی حقیقت کو متاثر کیے بغیر۔
مثال کے طور پر انسان کے جسم اور اس کی ذات ہی کو لیجیے:میڈیکل سائنس کے مشاہدات ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کے جسمانی نظام میں ہرلمحہ تغیرات ہورہے ہیں۔ ایک بچے کے جسم کا ایک ایک ریشہ جوان ہونے تک بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے، حتیٰ کہ ایک خاص مدت میں ہر انسان کا جسم اپنے کو بالکل تبدیل کر کے ایک نیا جسم بن جاتا ہے، لیکن اس تبدیلی میں بنیادی نظام وہی رہتا ہے اور ہرشخص کی اساسی شخصیت اور اس کی اَنا (ego) جوہری طور پر غیرمتبدل رہتی ہے۔
اسی کیفیت کو نکولائی بردائیف (Nicoli Berdyve) نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے: Personality is Changelessness in Change(انسانی ذات، تغیرات کے جلو میں عدم تغیر کا نام ہے)۔
اور برگسان نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے:’’ہم میں تغیر تو آتا ہے، لیکن ہماری بنیادی حقیقت معدوم نہیں ہوتی‘‘۔
اسی طرح درختوں کو دیکھیے: ایک درخت، ایک خاص مدت میں اپنے پھول پتّے بالکل تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی نباتاتی زندگی میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ تبدیلی اس کی اصل کو نہیں بدلتی بلکہ اس سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ اس درخت کا ایک بنیادی رنگ اور ایک بنیادی تاثیر ہوتی ہے ،جو بہرصورت غالب رہتے ہیں اور یہی اس درخت کی انفرادیت ہے ؎
صبحِ بہار آئی ہے لے کر، رُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
غنچۂ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے
زندگی محض تغیر نہیں
یہ فطرت کا قانون ہے جو ہر شعبۂ زندگی میں جاری و ساری ہے۔ انسان کی اجتماعی اورتہذیبی زندگی میں بھی ہمیں یہی جلوہ گر نظر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر علامہ محمداقبال نے کہا تھا:
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ زندگی محض تغیر ہی نہیں، اس میں حفظ و ثبات کا ایک عنصر بھی موجود ہے… لہٰذا، اس ہرلحظہ آگے ہی آگے بڑھنے والی حرکت میں، انسان اپنے ماضی کو نظرانداز نہیں کرسکتا… اسی بات کو ہم دوسرے لفظوں میں یوں ادا کریں گے کہ زندگی چونکہ ماضی کا بوجھ اُٹھائے آگے بڑھتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ جماعت میں تغیر و تبدل کا جو نقشہ بھی ہم نے قائم کیا ہو، اس میں قدامت پسند قوتوں کی قدروقیمت اور وظائف کو فراموش نہ کریں۔(ڈاکٹر محمد اقبال، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ، ترجمہ:سید نذیر نیازی، ص۲۵۷)
ان اُمور کے واضح ہو جانے کے بعد اب مسئلے کا سمجھنابہت آسان ہوجاتا ہے۔
اسلام، اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کا نام ہے، جو اس نے اپنے برگزیدہ نبیوں کے ذریعے انسان کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً بھیجی ہے اور جو اپنی آخری اور مکمل شکل میں ہم کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ یہ وہ ضابطۂ حیات ہے، جو عین فطرت کے اصولوں پر قائم ہے اورانسان اسی کے ذریعے سے دنیاوی اور اُخروی دونوں کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ یہ زندگی کا مکمل قانون ہے۔ اس قانون کو انسان نے نہیںاللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ یہ ابدالآباد تک کے لیے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
قرآن پاک کی یہ آیات بالکل صاف اور واضح ہیں، اور اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اللہ کا دین، اس کے احکام اور قوانین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور محض زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تبدیلی زمانے میں کرنی ہوگی، اللہ کے قانون میں نہیں۔ اس پس منظر میں مردود وہ ہیں جو ع
نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أو آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری:۳۱۷۹) ’’جو بدعت نکالے یابدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے‘‘۔
اگر اس مسئلے پر عقلِ سلیم کی روشنی میں غور کیا جائے،تو فکرونظر کا ہر گوشہ اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے قانون میں کسی تبدیلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجایش۔ اور اس کی وجہ بھی بہت واضح ہے۔ زمانے کی تبدیلی کا اثر اُس قانون اور اصول پر پڑتا ہے، جسے انسان نے بنایا ہو۔
انسانی فکر زمان و مکان [time and space]کی حدود میں مقید ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حقائق سے واقف نہیں۔ وہ ایک محدود بصیرت کے ساتھ آج ایک چیز کو صحیح سمجھ کر پیش کرتی ہے، مگر کل جب وہ حالات سامنے آتے ہیں، جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہ تھا، تو وہ غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا علم ہرشے پر محیط ہے۔ زمان و مکان کی قیود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو قانون ایسے اللہ کی طرف سے ہو، اس کا کسی ایک مخصوص زمانے کے ساتھ محدود ہوجانا کیسے ممکن ہے۔ اللہ کے علم اور دیے ہوئے قانون کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کبھی ازکار رفتہ ہوجائے۔ وہ تو ہمیشہ اتنا ہی تازہ رہے گا، جتنی صبحِ نو!
ثانیاً: اللہ کا یہ قانون بنیادی طور پر ہدایت و ضلالت کی حقیقت کو واضح کرتا ہے اور اُن اصولوں اور اُن اقدار کو بیان کرتا ہے جن پر وقت کے تغیرات، تہذیبوں کے عروج و زوال اور ماہ و سال کی آمدورفت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ فطرت کے اصولوں کو بیان کرتا ہے اور فطرت کا قانون قائم و مستحکم ہے۔
ثالثاً: قرآن و سنت اصولی رہنمائی دیتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور ان اساسی اداروں کو قائم کرتے ہیں، جنھیں ہر زمانے میں قائم رہنا چاہیے۔ ان چیزوں پر زمان و مکان کے تغیر کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اصول غیرمتبدل ہیں اور ان میں تبدیلی فطرت کے قانون کے خلاف ہوگی۔
ان وجوہ کی بنا پر زمانے کی تبدیلی کے مطابق اسلام میں تبدیلی کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔
یہی چیز ہے،جو انبیاؑ کی سنت اور صلحا کی کی قابل قدر زندگیوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ہر نبی ایسے حالات میں مبعوث ہوا، جب زمانے کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا اور زندگی کا دریا بالکل غلط رُخ پر رواں دواں تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے زمانے کے چلن کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ زمانے کے رنگ سے متاثر نہ ہوئے، بلکہ زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی سعی میں مصروف ہوگئے، اور بالآخر اس پر صبغۃ اللہ کو غالب کردیا۔ قرآن میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے:
ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ o(الصف ۶۱:۹)وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
ہدایت اور دینِ حق ہیں ہی اس لیے، کہ انبیاؑ ان کو دنیا کے باقی تمام نظاموں اورطریقوں پر غالب کریں۔ اللہ کا دین اس لیے نہیں ہے کہ اسے زمانے کے چلن کے مطابق بدلا جائے بلکہ اس لیے ہے کہ زمانے کو اس کے مطابق بدلا جائے اور اس کو غلبہ و اختیار کا مقام حاصل ہو۔ مشرکوں، کافروں اور منافقوں کی تو دلی تمنا ہی یہ ہوتی ہے کہ دین کو ان کے منشا کے مطابق بدلا جائے، لیکن اللہ اس بات کو صاف کردیتا ہے کہ ان کی ناخوشی کا ہرگز کوئی خیال نہیں کیا جاسکتا۔ سربلندی دین کو حاصل ہونی چاہیے اور زمانے پر اس کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔
انبیاؑ کی سیرت اسی حقیقت پر شاہد ہے ۔ حضرت نوحؑ ^کی قوم بغاوت پر تلی رہی۔ آپ نے ساڑھے نو سو سال تک دینِ حق کی دعوت دی، لیکن ایک دن کے لیے بھی وہ ’وقت کے تقاضوں‘ کے مطابق دین کو تبدیل کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی دعوت یہی رہی کہ:
یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط(الاعراف۷:۶۵)اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔
تمام انبیاؑ کی سنت یہی رہی ہے۔ نبی اکرمؐ کے زمانے میں مشرق سے مغرب تک جو نظام چل رہا تھا، اسے قبول کرنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے دین کو ڈھالنے کے بجاے آپ نے اسے ایک فاسد نظام قرار دیا: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم۳۰ :۴۱) ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے‘‘ لیکن اللہ کے نبیؐ نے زمانے کے تقاضوں سے compromise اور اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے بجاے اس کی ہرہر خرابی کے خلاف جنگ لڑی۔
وَاللّٰہِ لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِی یَمِیْـنِی وَالْقَمَر فِی یَسَارِیْ عَلٰی اَنْ اَتَرُکَ ہٰذَا الْاَمْرَ مَا تَرَکْتُہٗ حَتٰی یظہر اللّٰہ اَوْ اہلک فیہ (سیرۃ ابن ہشام، جلد اول، استمرار رسول اللہ فی دعوتک، ص۲۶۶) خدا کی قسم! اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ آفتاب و مہتاب کے عوض میں اس دعوت کو ترک کردوں، تو میں ہرگز اسے ترک نہ کروں گا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دعوت کو غالب کردے یا مَیں اس راہ میں جان دے دوں۔
انبیاؑ کا طریقہ یہ نہیں رہا کہ وہ زمانے کے آگے جھکیں اور لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کے دین کو بدلیں۔ وہ حق کے پیغامبر ہوتے ہیں اور زمانے کی رُو کے خلاف اپنی دعوت پیش کرکے اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر وہی زمانے سے مطابقت اختیار کرلیں تو پھر انسانیت کی فلاح و اصلاح کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
اِس اسوئہ انبیاؑ کے اتباع کی بہترین مثال ہمیں حضرت ابوبکرؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ حضور اکرمؐ کے وصال کے بعد یکایک عرب کا نقشہ پلٹ گیا۔ ہر طرف سے بغاوتوں نے سراُٹھالیا۔ جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بہت سے قبائل نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ صحابۂ کبار تک اس صورتِ حال پر پریشان ہوگئے اور لوگ یہ راے پیش کرنے لگے کہ: ’’وقتی مصلحت کا تقاضا ہے کہ قبائل کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وقت کی نزاکت کا لحاظ کیا جائے‘‘ مگر حضرت صدیق اکبرؓ کا جواب یہ تھا کہ:
واللہ، مجھ پر یہ فرض ہے کہ جو کام میں رسولؐ اللہ کو کرتے دیکھ چکا ہوں، خود بھی وہی کروں اور اس سے سرِمو انحراف نہ کروں۔ اگر جنگل کے بھیڑیے مدینہ میں داخل ہوکر مجھے اُٹھا لے جائیں تو بھی مَیں وہ کام کرنے سے باز نہ آئوں گا، جسے رسولؐ اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔ واللہ، اگر مانعینِ زکوٰۃ اُونٹ باندھنے کی ایک رسّی دینے سے بھی انکار کریں گے، جسے وہ رسولؐ اللہ کے زمانے میں ادا کرتے تھے، تو بھی مَیں ان سے جنگ کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں زکوٰۃ اور نمازمیں فرق کرنے والے لوگوں سے ضرور لڑوں گا۔
اسلام عبارت ہی نبیؐ کی سنت کی پیروی سے ہے۔ اگر زمانے کی سنت نبیؐ کی سنت سے متصادم ہے تو وہ شخص اپنے دعواے ایمان میں جھوٹا ہے، جو نبیؐ کی سنت کو چھوڑ کر زمانے کی سنت اپناتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کا دین ثابت و محکم ہے اور محض زمانے کے انداز دیکھ کر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ خیال کرنا بھی غلط ہوگا کہ زمانے کے تغیرات کو دین اسلام کلّی طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ وہ ہدایت و ضلالت کے بنیادی اصول بتادیتا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے وہ حدود واضح کردیتا ہے، جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ رہے جزوی اور وقتی اُمور، تو ان کو شریعت کے دیے ہوئے بنیادی اصولوں کی روشنی میں اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر ہروقت اور ہر زمانے میں طے کرنے کی اجازت ہے۔ یہ کام اجتہاد کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعے نظامِ دین میں حرکت و ارتقا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
زمانے کے تغیرات پر دو قسم کے جواب (response) اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں۔ ایک کا نام ’تجدید‘ ہے اور دوسرے کا ’تجدّد‘۔
’تجدید‘ یہ ہے کہ زمانے کے تغیرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اصل دین کو بلاکم و کاست پیش کیا جائے اور اپنے دور، اپنے زمانے کی زبان میں محکم استدلال کے ساتھ پیش کیا جائے۔ نیز تدبر و اجتہاد کے ذریعے دین کو اپنے دور کے حالات پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ اُن تمام ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے، جو قدرت نے انسان کو فراہم کیے ہیں، اور اسلامی بصیرت کے ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیا جائے۔
’تجدید‘ کے ذریعے ہر زمانے میں دین کی تعلیمات اور زندگی کے بہائو کے درمیان تعلق اوررابطہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور زندگی کا دریا اسلام کی شاہراہ سے ہٹ کر چلنے نہیں پاتا۔ یہاںمخلصانہ اجتہاد کے ذریعے نئے مسائل اور نئی مشکلات کو حل کیا جاتا ہے اور دین اپنے رنگ پر قائم رہتا ہے۔
’تجدّد‘ اس کے مقابلے میں وہ کوشش ہے، جو زمانے کے تقاضوں کے نام پر خود دین کو بدل ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ زندگی اور زمانے کے درمیان ربط اس طریقے سے بھی قائم ہوجاتا ہے، لیکن یہ ربط اسلام کی سرزمین پر نہیں غیراسلام کی سرزمین پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں اسلام کو اصل قرار دے کر،حالات کو اس کے مطابق ڈھالنے کے بجاے زمانے کی چلتی ہوئی تہذیب کو اصل مان کر اُس کے پیدا کیے ہوئے حالات پر اسلام کو ڈھال دیا جاتا ہے۔ اس طریق کار کو اگر مسلمان ہر زمانے میں اختیار کرتے چلے جائیں، تو اسلام کی کوئی چیز بھی اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ سکتی، بلکہ اسلام سرے سے کسی متعین مذہب و مسلک اور نظریہ و نظام کا نام ہی نہیں رہتا۔
اسلام میں ’تجدید‘ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور پوری تاریخ میں اسلام کے سچے خادم یہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ’تجدّد‘ کی اس میں کوئی گنجایش نہیں۔ ماضی میں جب بھی ’تجدّد‘ نے سر اُٹھایا ہے، مسلمانوں نے سختی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہر ایسی تخریبی کوشش ملّت کی راے عام سے ٹکرا کر آخرکار ختم ہوگئی ہے۔
آج بھی بنیادی کش مکش ’تجدید‘ اور ’تجدّد‘ ہی کے درمیان ہے اور ہماری پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دین کو متجدّدین کی خاطر نہ کبھی ماضی میں بدلا گیا ہے اور نہ آج بدلا جاسکتا ہے۔ کسی مصطفیٰ کمال، کسی جمال ناصر، یاکسی اور حکمران یا صاحب ِ اثر شخصیت کی یہ طاقت نہیں ہے کہ زمانے کے تقاضوں کا نام لے کر اسلام کو بدل سکے۔ اس معاملے میں جو انجام مغل بادشاہ اکبر کی کوششوں کا ہوچکا ہے، وہی انجام اِن نئے متجدّدین کے لیے بھی مقدر ہے۔
دین میں مسخ و تحریف کی کوئی تدبیر اگر طاقت کے بل پر زبردستی نافذ کر بھی دی جائے، تواسے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے نہ ماضی میں کبھی قبول کیا ہے اور نہ آج قبول کرسکتا ہے۔ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے اور اُس نے ایسے ذرائع بھی پیدا کر دیے ہیں کہ اس کی حفاظت ہوتی رہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَo(الحجر۱۵:۹) ہم نے ہی اس ذکرکو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
آخر میں ہم ایک اور بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ہمیشہ عظیم کارنامے انھی لوگوں نے انجام دیے ہیں، جو حالات کی رُو پر بہنے کے بجاے ان کا مقابلہ کرنے اُٹھے ہیں۔ زندگی پر اَنمٹ نقوش انھوں نے نہیں چھوڑے جو مرغ بادِ نما کی طرح ہوا کے رُخ پر مڑتے اور دوسروں کی نقالی کرتے رہے، بلکہ ان لوگوں نے چھوڑے ہیں جو ہوا کے رُخ سے لڑے ہیں اور زندگی کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا ہے۔ بڑے کام مکھی پر مکھی مارنے والوں نے نہیں کیے، اپنی راہ آپ نکالنے والوں نے کیے ہیں۔ بہادر وہ نہیں ہے جو دوسرے کے مارے ہوئے شکار کو کھاتا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اپنا شکار خود کرتا ہے۔ قابلِ تقلید وہ نہیں ہے جو گرگٹ کی طرح صبح و شام رنگ بدلتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خود اپنا کوئی رنگ رکھتا ہے اوردنیا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔
مسلمان دنیا میں زمانے کے پیچھے چلنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں، وہ تو پوری انسانیت کی طرف اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نیکی کہتا ہے: اس کا حکم دیں، جسے اللہ تعالیٰ بدی کہتا ہے اسے مٹائیں اور دنیا میں اللہ کی اطاعت کی روش کو عام کردیں۔ وہ دوسروں کے رنگ میں رنگے جانے کے لیے نہیں ہیں، دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے ہیں:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ ہے مسلمانوں کا اصل مقام …مگر انھیں ڈالا کس راہ پر جا رہا ہے؟ بقولِ اقبال ؎
کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
درحقیقت، مسلمان کے لیے اس سے بڑی ذلّت کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ کے پیغام کا امین ہونے کے باوجود، زمانے کو اپنے دین کے مطابق بدلنے کے بجاے خود زمانے کی رُو پر بہنے لگے اور اس کے ساتھ اپنے دین کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ بزدلوں اور کم نظر لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جنھیں ہوائیں خس و خاشاک کی طرح اُڑائے لیے پھرتی ہیں، جن کی اپنی کوئی جڑ نہیں ہے کہ وہ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوسکیں۔ یہ مسلمان کا شیوہ نہیں ہے، مسلمان کا شیوہ تو یہ ہے کہ ع
زمانہ با تو نہ سازد ، تو بازمانہ ستیز
۱-
۲-
۳-
۴-
۵-
بنگلہ دیش میں ظلم کا دریا بہے جا رہا ہے۔ ظالم بے حیا ہوتا ہے اور ہٹ دھرم بھی۔ یہی رویہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر قابض ایک غیر نمایندہ ٹولہ اپنائے ہوئے ہے۔ وہاں کے مسلمان اپنے لہو کے گھونٹ پیتے ہوئے، بے بسی کے عالم میں دنیاے اسلام اور عالمی ضمیر کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
سرزمینِ بنگال پر تحریکِ اسلامی نے ۱۵؍اگست ۱۹۶۹ء کو ڈھاکا یونی ورسٹی سے اپنے پہلے شہید محمد عبدالمالک کی میت اُٹھائی تھی، تو داعیِ تحریک مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے فرمایا تھا: ’’اس راہ میں یہ پہلی شہادت تو ہوسکتی ہے آخری نہیں‘‘۔
درحقیقت وہ مستقبل بین نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ مشرقی پاکستان کی سرزمین پر بے دینی، بنگلہ قوم پرستی، اشتراکیت اور ہندو انتہا پسندی نے جس زہر کا بیج بویا ہے، اس کے زہریلے پودے معلوم نہیں اور کتنے حق پرستوں کا لہو پئیں گے۔
اس ہفتے کے اختتام پر بنگلہ دیشی سپریم کورٹ، جماعت اسلامی کے سب سے بڑے مالی معاون کی زندگی کے خاتمے کا راستہ صاف کردے گی، وہ جماعت جو بنگلہ دیش میں سب سے بڑی اسلامی پارٹی ہے۔ ایک عدالت [؟] نے میرقاسم علی کو ۱۹۷۱ء میں پاکستان سے علیحدگی کی مزاحمت کرنے پر سزاے موت دے رکھی ہے۔ ان کو پھانسی دینے کا عمل، بے بنیاد (flawed) مقدموں کے سلسلے کی ایک کڑی کو مکمل کرے گا، جسے حسینہ واجد نے ۲۰۰۹ء سے شروع کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کی تقریباً تمام قیادت کو چور دروازے سے پکڑ کر ڈھاکا سنٹرل جیل میں قید کررکھا ہے۔ …اصول کی بات ہے کہ ظالمانہ آمریت، انتہاپسندی کو جنم دیتی ہے۔ اس طرح کانٹوں سے لتھڑا ’انصاف‘ بنگلہ دیش کو زہریلے کنویں پر کھڑا کرنے جا رہا ہے کہ جہاں سے اسے زہر کے گھونٹ ہی پینا پڑیں گے۔(۲۶؍اگست ۲۰۱۶ء)
اور پھر بنگلہ دیش کی ’سپریم کورٹ‘ نے ۳۰؍اگست کو نام نہاد عدالتی ٹریبونل کے اُس فیصلے (۲نومبر ۲۰۱۴ء) کی توثیق کرتے ہوئے نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی، جس کے تحت میرقاسم علی کو سزاے موت سنائی گئی تھی۔ میرقاسم علی کے وکیل خوندکر محبوب حسین نے عدالت کے صدردروازے پر کھڑے ہوکر واشگاف الفاظ میں کہا:
یہ جھوٹے الزامات اور جھوٹی گواہیوں پر مبنی ایک فیصلہ ہے۔ مستقبل میں اور مستقبل کی نسلوں میں جو افراد شعبہ عدل و انصاف میں خدمات انجام دیں گے، ان کے سامنے یہ سوال ،جواب طلب رہے گا کہ کیا واقعی یہ فیصلہ جائز تھا؟ (ڈیلی اسٹار، یکم ستمبر۲۰۱۶ء)
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے اسی لمحے اخباری نمایندے سے کہا: ’’یہ حکومت ایک سازش کے تحت جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کو ایک ایک کرکے پھانسی کے گھاٹ اُتار رہی ہے، اور میرقاسم علی کو بھی اسی سفاکی کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے۔ حالاں کہ یہ تمام مقدمات جھوٹے، الزامات جعلی اور گواہان کِذب و افترا کی بدترین تصویر پیش کرتے ہیں۔ مگر دوسری طرف سپریم کورٹ حکومت کے خانہ ساز گواہوں اور جعلی ریکارڈ پر مبنی الزامات اورغیرعدالتی عمل پر مبنی فیصلوں کی توثیق کیے جارہی ہے۔ میرقاسم علی ۱۹۷۱ء کے پورے زمانے میں ڈھاکا میں تھے، لیکن ان پر قائم شدہ اور اب سزا کی بنیاد بنائے جانے والے مقدمے چٹاگانگ میں، اور چٹاگانگ ہی کے حوالے سے قائم کیے گئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس جھوٹے ڈرامے کے لیے، جھوٹے ڈرامائی گواہوں کو تیار کیا اور ان جعلی گواہوں کو وکلاے صفائی کی جرح سے بچاکر میرقاسم کی موت کے لیے مرضی کا فیصلہ لیا گیا ہے، جسے کوئی بھی باضمیر فرد قبول نہیں کرسکتا‘‘۔ (جماعت ویب: ۳۰؍اگست)
یورپی پارلیمنٹ کے ۳۵ ممبران نے حسینہ واجد کو ایک مشترکہ خط میں لکھا: ’’ہم اپنی اس فکرمندی کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جس کے تحت بنگلہ دیش میں ایک مقامی اور غیرقانونی عدالت میں عدل و انصاف کی دھجیاں اُڑاتے عمل کے ذریعے موت کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔ ہم بنگلہ دیش حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی پر باربار متوجہ کر رہے ہیں، اور یہ بھی بتا چکے ہیں کہ آپ کا خصوصی ٹریبونل عدل، قانون اور بین الاقوامی قانون کے کسی بھی معیار پر پورا نہیں اُترتا، لیکن آپ کے ہاں سے اس عدالت کے نام پر اب تک ۱۷؍افراد کو موت کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، (جن میں سے کچھ پھانسی پاچکے ہیں، کچھ جیلوں میں پھانسی کے منتظر ہیں اور کچھ بیرونِ ملک ہیں)۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ جب تک بنگلہ دیشی انتظامیہ، شفاف عدالتی اور قانونی عمل کے ذریعے میرقاسم علی کے مقدمے کو نہیں سن لیتی، اس وقت تک انھیں انتہائی سزا دینے سے اجتناب برتے۔ اسی طرح ہم میرقاسم علی کے بیٹے بیرسٹر میراحمد بن قاسم کے غیرقانونی اغوا و گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، جو اپنے والد کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔ یہ ایک خوف ناک بات ہے کہ اس نوجوان وکیل کو ۹؍اگست [۲۰۱۶ء] سے غائب کرکے، اپنے والد کی وکالت کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ ہم احمد بن قاسم کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں‘‘۔ (۳۵؍ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط)
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان ۳۵؍افراد میں کسی ایک فرد کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے، کوئی ایک فرد بھی بنگلہ دیشی نہیں، اور کوئی ایک ممبر مسلمان بھی نہیں۔ یہ معزز ارکان پارلیمنٹ، (جو یورپ کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں) صرف عدل اور انصاف اور انسانیت کے نام پر، بھارت نواز حسینہ واجد کو توجہ دلا رہے ہیں کہ وہ گھنائونے اقدامات سے گریز کرے۔
۳ستمبر کی صبح عالمی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے ایک طویل بیان میں، میرقاسم علی کے مقدمے میں بدنیتی اور عدالتی معاملات میں قانون شکنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: ’’سیاسی انتقام بازی کے بجاے قانونی طریق کار کو اختیار کیا اور دنیا بھر کے تسلیم شدہ قانونی اصولوں کو اپنایا جائے‘‘۔ مگر کہاں؟ ڈھاکا کے ایوانِ اقتدار میں ایک ہی زبان بولی جارہی ہے: ’موت!‘
قاسم پور سنٹرل جیل نمبر۲ ڈھاکا کے سپرنٹنڈنٹ پرشانتا کمار نے ۲ستمبر کو۱۱بجے اپنی جیل میں قید میرقاسم علی کو پیغام دیا کہ: ’’صدر سے رحم کی اپیل کے لیے آپ کے پاس وقت ہے۔ اگر اپیل نہیں کریں گے تو کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے‘‘۔ میرقاسم علی نے بڑے پُرسکون انداز میں موصوف کو جواب دیا: ’’کس جرم پر رحم کی اپیل؟ اور کس سے رحم کی اپیل؟ میں کسی صدر سے اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا، جب کہ مَیں نے ایسا کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے‘‘۔ پرشانتاکمار نے سہ پہر کے وقت یہ بات ڈھاکا ٹربیون کے نمایندے کو بتائی۔
پھر سپرنٹنڈنٹ نے ساڑھے تین بجے سہ پہر میرقاسم علی کے اہلِ خانہ کو اس امر کی اطلاع دے دی کہ: ’’صدر سے رحم کی اپیل کی رعایت نہ لینے کے سبب وہ آخری ملاقات کے لیے تیار ہوں‘‘۔ اور اس کے ساتھ ہی ڈھاکا سے شمال کی جانب ۴۰کلومیٹر دُور قاسم پور جیل میں پھانسی دینے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔
میرقاسم کی اہلیہ نے آخری ملاقات کے بعد کہا: ’’مَیں اپنے اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میرقاسم کو پھانسی دینے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ میرقاسم بے گناہ ہیں اور اسلام کے لیے جان دے رہے ہیں‘‘۔
آخرکار اس دنیا میں کالے قانون کے علَم برداروں اور کالی حکمرانی کے سوداگروں نے ۳ستمبر ۲۰۱۶ء کو پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے نوبجے رات میرقاسم علی کو پھانسی دے دی___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ ان کی میت پونے تین بجے گائوں مانگ گنج پالا پہنچائی گئی، جہاں ساڑھے تین بجے تدفین عمل میں آئی۔ بنگلہ دیش بھر میں ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
میرقاسم علی ۳۱دسمبر ۱۹۵۲ء کو مانک گنج میں پیدا ہوئے اور ہائی اسکول میں ۱۹۶۷ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے وابستگی اختیار کی۔ چند برسوں بعد اس کے رکن بن گئے۔ ۱۹۷۱ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی میں تھے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد اپنے گائوں چلے گئے اور پھر ڈھاکا آکر تعلیم کی مکمل کی۔ ۶فروری ۱۹۷۷ء کو ’اسلامی چھاترو شبر‘ کی تاسیس کی۔
میرقاسم علی رفاہِ عام کے کاموں میں ایک بڑی سرگرم شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اسلامی بنک بنگلہ دیش کے ڈائرکٹر تھے۔ دگنتا میڈیا کارپوریشن کے چیئرمین تھے، جس کے زیرانتظام بنگلہ دیش کا مشہور نجی چینل ’دگنتا ٹی وی‘ کام کر رہا تھا۔ انھوں نے ’ابن سینا ٹرسٹ‘ کے نام سے ایک بڑا نیک نام ادارہ قائم کیا۔ ’اسلامی انشورنس‘ کے نظام کی داغ بیل ڈالی۔ نظامت ِ دینی مدارس قائم کر کے دینی تعلیم کے نظام کو جدید تعلیم سے ہم آہنگ کیا۔ تعمیرِ مساجد کے لیے تنظیم قائم کی۔ بنگلہ دیش میں رابطہ عالمِ اسلامی کے مرکزی رہنما تھے۔ وہ بنگلہ دیش کی ایسی اوّلین شخصیت تھے، جس نے بڑے پیمانے پر غریبوں کے لیے معیاری ادویات کی مفت اور نہایت سستے داموں ترسیل کا خودکار نظام تشکیل دیا۔
دیانت، محنت، لگن اور حُسنِ سلوک پر مبنی انتظامی صلاحیت کے بل پر، وہ بلاشبہہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی سے وابستہ ایک امیرترین شخص تھے، لیکن انھوں نےاپنی دولت کو اپنی آسایش و آرام پر خرچ کرنے کے بجاے جماعت اسلامی کے رفاہی کاموں، یتیموں اور مسکینوں کی امداد کے علاوہ دعوتی کاموں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی۔ کروڑپتی انسان ہونے کے باوجود معمولی مکان میں نہایت قلیل سہولیات کے ساتھ قناعت کی زندگی بسر کی۔
۲۰۰۹ء کے بعد جماعت اور جمعیت کے کارکنوں کو، عوامی لیگی حکومت نے جسمانی، تعلیمی اور کاروباری سطح پر بدترین ظلم کا نشانہ بنایا۔ کارکنوں کو بے روزگار کیا۔ بہت سوں کو دانستہ طور پر دائمی معذوری کے غار میں دھکیل کر زندگی اجیرن بنادی۔ لیکن ایسے ہرکارکن کے لیے میرقاسم علی، ان کی اہلیہ، ان کے بیٹے اور ان کی بیٹیاں ایک دست گیر، ہمدرد اور دردآشنا رفیق کے طور پر، ایک مالی سرپرست اور شفیق معاون کی شکل میں حتی الوسع اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہے۔ ان کے بارے میں برطانیہ کے اخبار نے درست لکھا: ’’میرقاسم نے جماعت اسلامی کو اس بحرانی صورتِ حال میں کھڑا رہنے کے لیے گراں قدر رقوم دیں‘‘۔(ڈیلی میل، ۳ستمبر ۲۰۱۶ء)
ایسی بے لوثی اور اتنی بے مثال قربانی کا نُور، ظلم کے سوداگروں کو مجبور کرتا رہا کہ وہ اپنا منہ نوچ کر رہ جائیں۔ مادہ پرستی میں ڈوبی معاشرت میں ایسا سخی، نہ ان کے تصور میں آسکتا تھا اور نہ وہ اسے برداشت کرسکتے تھے۔ آخر شیطان نے یہی فیصلہ کیا کہ: ’’اس کی جان ہی لی جائے کہ یہ جیل میں قید رہنے کے باوجود، وسائل کو دوسروں پر لُٹا رہا ہے۔ اس کے اداروں کو تباہ اور اس کی جان کو ختم کرنا ہی ’روشن خیالی‘ ہوگی‘‘۔
غربت و ناداری سے برسرِجنگ اس سپہ سالار نے رسولِؐ رحمت کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے، رحمت کی چھائوں سے سبھی کو سیراب کیا، جن میں: مسلمان، ہندو، عیسائی اور بدھ مت کے ماننے والے سبھی شامل تھے۔ ان کا یہ جگمگاتا کردار، بنگلہ دیش میں تحریکِ اسلامی کے لیے مشعلِ راہ تھا۔ اندھیروں کے پجاریوں کے لیے شاید یہی راستہ رہ گیا تھا کہ وہ اس مشعل کو گُل کردیں۔
حالات کا دھارا بتاتا ہے کہ ظلم کی اس داستان کو ابھی: lشہید عبدالقادر مُلّا [۱۲دسمبر ۲۰۱۳ء]l شہید قمرالزماں [۱۱؍اپریل ۲۰۱۵ء]l شہید علی احسن محمد مجاہد [۲۲نومبر ۲۰۱۵ء] lشہید صلاح الدین قادر چودھری [۲۲نومبر ۲۰۱۵ء]l شہید مطیع الرحمٰن نظامی [۱۱مئی ۲۰۱۶ء] اور lشہید میرقاسم علی [۳ستمبر ۲۰۱۶ء] تک نہیں رُکنا تھا، اس لیے یہ بادِ سموم اپنی زہر ناکیوں کے ساتھ اپنے رُوپ بدل بدل کر موجود ہے۔
ایک طرف غم کا یہ پہاڑ اور دوسری جانب میرقاسم بھائی کی شہادت کے اگلے روز بنگلہ دیشی وزیرداخلہ اسدالزماں کا یہ بیان کہ: ’’حکومت وہ تمام اقدامات اُٹھا رہی ہے، جن کے تحت اسلامی چھاترو شبر پر پابندی عائد کر دی جائے گی‘‘(روزنامہ پروتھم آلو، ۵ستمبر ۲۰۱۶ء)۔ ایسے اقدامات جنگل کے قانون اور پاگل پن کے مترادف ہوں گے، جنھیں سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے: ’’یہ سیکولر فاشسٹوں کی جاہلیت پر مبنی وحشت کے سوا کچھ نہیں، گویا کہ آج کا ’روشن خیال‘ ذہن، اپنے آپ کو تاریکی کے کنویں سے نکالنے کے لیے تیار نہیں‘‘۔
میرقاسم کی شہادت کے چوتھے روز یعنی ۷ستمبر کو بنگلہ دیشی وزیرقانون و پارلیمانی اُمور انیس الحق نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا:’’حکومت بڑی عرق ریزی سے ’جنگی مجرموں‘ کی جایدادوں کو ضبط کرنے کا قانون بنارہی ہے‘‘۔ اور ان کے ساتھیوں نے اعلان کیا: ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ’جنگی مجرموں‘ کی جایدادوں اور دولت کو ضبط کرکے ۱۹۷۱ء کے متاثرین میں تقسیم کیا جائے‘‘۔(ڈیلی اسٹار، ۸ستمبر ۲۰۱۶ء)
یاد رہے، دو نام نہاد جنگی ٹربیونلوں نے اب تک ۲۶فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ ۵۰ کے مقدمات چل رہے ہیں، جب کہ ۱۷؍افراد کو سزاے موت سنائی جاچکی ہے۔ مذکورہ بالا وزیرقانون نے کہا: اسلامی قانونِ وراثت کے تحت ’مجرموں‘ کے وارثوں میں جایدادیں تقسیم ہوچکی ہیں، جنھیں موجودہ قانون کے تحت واپس نہیں لیا جاسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ جنگی جرائم کے تحت ایک نیا قانون وضع کر کے یہ وسائل ان کے وارثوں سے واپس ضبط کرلیے جائیں‘‘ (ڈیلی اسٹار، ۸ستمبر ۲۰۱۶ء)۔اگلے روز یہی وزیرقانون کہتے ہیں: ’’جنگی جرائم کے مجرموں کے بچے معصوم نہیں ہیں۔ وہ سازشوں میں مصروف رہتے ہیں، مگر ہم ان کو بھی نہیں چھوڑیںگے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ۹ستمبر ۲۰۱۶ء)۔ اس سنگ دلی پر کیا تبصرہ کیا جائے!
نئی دہلی حکومت کے تابع بنگلہ دیشی آلۂ کار انتظامیہ اس کے سوا اور کر ہی کیا سکتی ہے کہ جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینے کے لیے قوم کو تقسیم، پریشان اور متحارب رکھے۔ اسی ذریعے سے بھارت کے لیے سہولت پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ ۱۶کروڑ کے بنگلہ دیش کو معاشی و صنعتی ترقی سے محروم اور اپنی تجارتی منڈی بنائے رکھے۔ باہمی فساد کو بنیاد بنا کر اپنی فوجی و سیاسی موجودگی کا جواز قائم کیے رکھے۔
ہماری یہ فکرمندی بے وزن بھی نہیں ہے۔ بھارت جو اپنے تئیں دنیا کی سب سے ’بڑی سیکولرجمہوریہ‘ کہلاتا ہے،وہ عدل کے قتل اور جمہوریت کی بربادی کی ’دہکتی چتا‘ بنگلہ دیش کے بارے میںیہ کہتا ہے:’’بھارتی حکومت بنگلہ دیش میں، ۱۹۷۱ء کے جنگی جرائم کے مقدمات کی بھرپور تائید کرتی ہے‘‘ (وایکاس سروپ، ترجمان وزارتِ خارجہ، دی ہندستان ٹائمز، ۱۰ستمبر ۲۰۱۶ء)۔ اس بیان میں پوشیدہ ڈھٹائی سے کون صاحب ِ نظر انکار کرسکتا ہے۔
اس پر بنگلہ دیش جماعت اسلامی مرکزی شوریٰ کے رکن حمید الرحمان آزاد نے جواب میں کہا: ’’بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش میں متنازع مقدمات کی حمایت کا مطلب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ بھارت جنگی جرائم کے نام پر جماعت اسلامی کی قیادت کو چُن چُن کر مارنے کے اس شیطانی منصوبے کی تائید کر کے: جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے عالمی اصولوں کو قتل کرنے کا طرف دار ہے‘‘۔ (جماعت ویب: ۱۱ستمبر ۲۰۱۶ء)
مزید ظلم و زیادتی کا یہ پہلو کہ حسینہ واجد حکومت کی ہدایت پر بنگلہ دیش یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن نے ۲۳ستمبر ۲۰۱۶ء کو تمام یونی ورسٹیوں کے نام یہ حکم نامہ جاری کیا:’’ یونی ورسٹی کیمپس میں اسلامی جمعیت طالبات [اسلامی چھاتری شنگھستا] کی جملہ سرگرمیوں کو سختی سے روک دیا جائے‘‘۔
ان تکلیف دہ حالات میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد اور ادارے نبردآزما ہیں۔
اُمتِ مسلمہ اس اعتبار سے بڑی خوش نصیب ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام بے پایاں ہی نہیں، بڑی حد تک منفرد اور بے مثال بھی ہیں۔ قرآن اور اسوۂ رسولؐاگر الطاف و عنایات کی اس کہکشاں کے آفتاب و مہتاب ہیں، تو نماز، زکوٰۃ، روزہ، رمضان، لیلۃ القدر، حج، عمرہ اور جہاد اس کے روشن اور تابناک ستارے ہیں، جن سے نہ صرف یہ کہ حُسنِ کائنات اور جمالِ ہستی دوبالا ہے، بلکہ نور کے یہ مینار، دکھی انسانیت کی رہنمائی اور منزل مقصود کی طرف رہبری کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔
ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں یا حال کے اداروں اور تجربات کا جائزہ لیں، صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کی اور خود امت مسلمہ کی ہدایت اور اس کے ذریعے باقی انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو انتظام زمین و آسمان کے خالق اور مالک نے مرتب فرمایا ہے، وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ آقا کی ہر نعمت یکتا اور عظیم ہے اور اس کی ہر نوازش، نور کا منبع اور زندگی کی پیام بر ہے۔
اگر رب کریم و رحیم کے ان الطاف و عنایات کے باوجود اُمت کا حال پریشان ہے اور انسانیت کے ستارے گردش میں ہیں، تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے! سوچنے کی بات ہے کہ بگاڑ کہاں کہاں سے دَر آیا ہے؟ اور کوتاہی اور کمی کس کس مقام پر ہوئی ہے کہ آب حیات کی موجودگی کے باوجود یہ اُمت صحت مند اور باعزت زندگی، توانائی اور تابندگی سے محروم ہے۔ چاند اور سورج ضوفشاں ہیں، لیکن تاریکی چھٹنے کا نام نہیں لیتی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا (اپنا احتساب کر لو قبل اس کے تمھارا احتساب کیا جائے) کی روشنی میں احتساب کیا جائے۔ تجدید عہد اور خود احتسابی کے لیے تھوڑا سا وقت، امت کے سوچنے سمجھنے والے تمام افراد، مرد اور عورتیں، انفرادی اور اجتماعی طور پر نکالیں۔ پوری دیانت داری سے جائزہ لیں کہ نماز دن میں پانچ مرتبہ اور روزہ سال میں ایک ماہ اور پھر ہرذی استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر حج زندگی میںکم از کم ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ بندہ ہرلمحے اور ہرحال میں رب کو یاد رکھنے، اس کی معیت میں زندگی گزارنے کی سعی و جہد کرے، اور اس طرح دینی اور دنیاوی، روحانی اور جسمانی ہر قسم کے بے پناہ و بے شمار فوائد اور برکتوں سے اُمت اور اس کے ہر ہر فرد کا دامن بھر جائے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس کے وہ اثرات جو مطلوب و موعود ہیں، وہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیوں رونما نہیں ہو رہے؟
اسلام اور دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے تصور عبادت میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ دوسرے مذاہب اور تہذیبوں میں عبادت محض پوجا پاٹ کا ایک نظام بن کر رہ گئی ہے، یا دنیاوی زندگی سے کٹ کر اپنے اپنے خدا سے لو لگانے کے لیے مراقبہ، نفس کشی، مجاہدات وریاضات یا چند ذہنی اور بدنی التزامات کا نام ہے، جن سے دیوتا کو خوش کیا جاسکے اور اس طرح اخروی نجات حاصل ہو سکے۔
اس کے برعکس اسلام کا تصور یہ ہے کہ عبادت ہی دراصل وہ مقصد ہے، جس کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo(ذاریات۵۱:۵۶) ’’میںنے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں‘‘۔ عبادت ہی کی زندگی کی طرف ان کو بلایا گیا ہے: یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o(البقرہ۲:۲۱)،’’ لوگو، بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمھارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے تاکہ تم تقویٰ کی زندگی حاصل کرسکو‘‘۔ رب کی اس بندگی کی طرف ساری انسانیت کو، خصوصاً پہلے انبیاؑ کی اُمتوں کو، دعوت دی گئی ہے: قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ( اٰل عمرٰن۳:۶۴)،’’اے نبیؐ، کہو، اے اہل کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں‘‘۔
یہ عبادت محض چند مراسم عبادت تک محدود نہیں، اگرچہ متعین عبادات اس کے ستون اور مقصود بالذات سنگ میل ہیں۔ اسلام کا تصور عبادت یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی، اللہ کی بندگی میں بسر ہو۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آرام اور محنت، حضرو سفر، غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے قانون اور ہدایت کی پابندی میں ہو اور زندگی کا جو مشن اور شب و روز کے لیے جو ترجیحات ہمارے مالک اور آقا نے مقرر کی ہیں، پوری زندگی انھی کے مطابق بسر کی جائے۔
گویا اسلام اور عبادت ہم معنی اور ایک ہی طرز زندگی کے دو عنوان ہیں۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کو عبادت میں تبدیل کردینا چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی اللہ کی عبادت سے خالی نہ ہو۔ کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے ساتھ ہی یہ بات لازم آجاتی ہے کہ جس اللہ کو انسان نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے، اس کا بندہ بن کر پوری زندگی گزارے۔ گویا کامیاب زندگی عبادت گزار بندہ بن کر رہنے ہی سے عبارت ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بندہ نفس کی خواہشات پر قابو پائے اور اپنے جسم و جان اور قلب و نظر کی تمام صلاحیتیں زندگی کے اُن مقاصد کے حصول کے لیے صرف کرے، جو اللہ اور اس کے آخری رسولؐ نے متعین کر دیے ہیں۔
ہر مرد اور عورت جو بندگی کا راستہ اختیار کرے، اس کے اخلاق اور سیرت و کردار اُن سانچوں میں ڈھل جائیں، جو شریعت نے مقرر کیے ہیں۔ دنیوی زندگی میں، جہاں قدم قدم پر آزمایش اور راہ حق سے پھسل جانے کے مواقع پیش آتے ہیں، بندہ حیوانی اور شیطانی طرزِعمل سے بچتے ہوئے، اور پورے شعور اور ارادے سے بندگیِ رب کی راہ پر گام زن رہے۔ یہ ہے وہ چیز جو رب کو پسند ہے۔ یہ عبادت کی روح اور اس کا جوہر بھی ہے اور پوری زندگی میں اس کا مظہر اور مطلوب بھی۔
پوری زندگی کا اس طرح عبادت کا مظہر بن جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ایمان کی لازوال قوت کے ساتھ ساتھ بڑی زبردست اور ہمہ گیرذہنی، روحانی، بدنی، انفرادی اور اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے، تاکہ فکر و نظر میں بھی یہ انقلاب مستحکم ہو جائے اور انفرادی اور اجتماعی سیرت و کردار بھی ایسے پیمانوں میں ڈھل جائیں، جو فرد اور ملت کو اس عبادت کے لیے تیار کرسکیں۔
منصوص عبادات: نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عمرہ، ذکر، استغفار اور دعا ایسا ہی انسان مطلوب اور امت بنانے کا ذریعہ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ یہ خود بھی عبادت ہیں اور پوری زندگی کو عبادت بنانے کا ذریعہ بھی۔ یہ خود بھی مالک کو پسند اور محبوب ہیں اور انسان کو مالک کا پسندیدہ اور محبوب بندہ بنانے کا ذریعہ بھی ہیں، تاکہ وہ مالک کے بتائے ہوئے محبوب اور مطلوب مشن___ دعوت الیٰ الخیر، شہادت حق، امربالمعروف، نہی عن المنکر، قیام قسط اور نصرت دین کے لیے سرگرم عمل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عبادات کو ارکان اسلام کہا گیا ہے، یعنی یہ وہ ستون ہیں، جن پر اسلامی زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم نے ان ربّانی ستونوں کا تعلق اس رحمانی عمارت سے منقطع کر دیا ہے اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ ستون ہی عمارت ہیں اور بس ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گُلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
عبادت اور شریعت کا تعلق
دوسری چیز عبادات کا شریعت کے پورے نظام سے ربط اور تعلق ہے، جہاں: ایمان، احتساب اور تقویٰ عبادات کے جسم میں جان ڈالنے کا وظیفہ انجام دیتے ہیں اور ان کے بغیر وہ بس ایک رسم اور ایک عادت رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر ان عبادات کا ربط و تعلق پوری شریعت اور اسلامی نظام زندگی سے کٹ جائے، تو یہ اس پرزہ کی مانند ہو جاتی ہیں، جو خواہ خود حرکت کر لے مگر پوری مشین کو چلانے میں اس کا کردار غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ نیز پوری مشینری سے جو تقویت ان اجزا کو ملتی ہے، وہ بھی مفقود رہتی ہے۔
اس وقت امت مسلمہ کا المیہ ہی یہ ہے کہ عبادات کے ستون تو موجود ہیں، لیکن ان ستونوں کو جس عمارت کو اٹھانا اور سنبھالنا ہے، وہ موجود نہیں ہے۔ جب تک وہ عمارت وجود میں نہیں آتی یہ ستون ان درختوں کی مانند ہیں، جن کا تنا تو موجود ہے، مگر پتے، پھول اور پھل ناپید ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج انسان کو جس کش مکش اور جدوجہد کے لیے تیار کرتے ہیں، وہ انفرادی سطح پر سیرت سازی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کی تنظیم و تشکیل اور زندگی کے ہر شعبے میں شریعت کے مطابق حالات کی صورت گری کے بغیر اپنے اصل اہداف کو نہیں پا سکتے۔ نظام زندگی کی تصویر ان کے بغیر نامکمل ہے۔ شریعت کے کتنے ہی احکام اور قوانین ہیں، جو اجتماعی زندگی کی اصلاح اور معاشرت، معیشت، عدالت اور حکومت پر اسلامی شریعت کی بالادستی کے بغیر نافذ العمل نہیں ہوسکتے، جس کے نتیجے میں زندگی دوئی اور تضاد کا شکار اور شترگر بگی کا نمونہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت اس بگاڑ کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے، جو کچھ معاملات میں اللہ کی ہدایت کی پیروی اور کچھ میں اس سے اغماض بلکہ بغاوت کے نتیجے میں ہوتا ہے اور جس پر اللہ رب العزت نے بندوں پر یہ چارج شیٹ لگائی تھی:
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (البقرہ۲:۸۵)،تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اورآخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی سخت وعید ہے۔ اُمت کی کمزوریوں، تضادات اور تباہ حالیوں میں بڑا دخل ان تضادات کا ہے جن میں یہ مبتلا ہے اور جو بیک وقت اللہ اور اہرمن، ایمان اور کفر، دین اور سیکولرزم سے رشتہ استوار کرنے سے عبارت ہے۔
عبادتوں کے غیر مؤثر ہونے کی ایک اور وجہ نظام احتساب کا فقدان اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے مجرمانہ غفلت کا چلن ہے۔ قرآن پاک میں اس امت کی جو امتیازی خصوصیات بیان ہوئی ہیں، ان میں تین بہت نمایاں ہیں: یہ اُمت ایک اُمت ہے، یہ امت وسط ہے اور یہ اُمت ایک مشن اور دعوت کی علم بردار ہے، جو صاحب شریعت امت اور اس شریعت اور پیغام کی تمام انسانیت کے لیے گواہ اور شاہد اور اس کی نصرت اور غلبے کے لیے جدوجہد کی ذمہ دار ہے۔
یہی وہ تین خصوصیات ہیں جو اس اُمت کے امت ابراہیمی سے تسلسل کی ضامن ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (المومنون ۲۳:۵۲) ’’اور یہ تمھاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو‘‘ ۔
دوسری اور تیسری خصوصیت کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الْرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا o (البقرہ ۲:۱۴۳)، ’’اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمتِ وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہو۔‘‘
وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج ٍط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ط ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ لا مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ج فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ ط ھُوَ مَوْلٰکُمْج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ o (الحج۲۲:۷۸)اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمھیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام ’مسلم‘ رکھا تھا، اور اس (قرآن) میں بھی (تمھارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسولؐ تم پرگواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہوجائو۔ وہ ہے تمھارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (اٰل عمران۳:۱۱۰، مزید ملاحظہ ہو ۳:۱۰۶)
اُمت کے اس مشن اور کردار کے تعین کے ساتھ ساتھ یہ بھی صاف لفظوں میں بتا دیا کہ نیکی محض دین داری کے نام پر ایک خاص طرح کی وضع قطع اور طاعت اور بندگی کے محدود اعمال میں نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے، اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں جان اور مال سے جہاد کرنے میں ہے۔ صرف اسی راستے کو اختیار کرنے سے ہماری عبادتیں حقیقی معنی میں ثمر آور ہو سکیں گی اور دنیا خوف اور بھوک کے عفریتوں سے محفوظ ہو کر حقیقی امن گاہ بن سکے گی:
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ واٰتَی الزَّکٰوۃَ ج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَo(البقرہ۲:۱۷۷)نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یامغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں،کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست بازلوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ o (الحجرات۴۹:۱۵) حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انھوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی سچے لوگ ہیں۔
لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ o کَانُوْا لَا یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَo (المائدہ ۵:۷۷-۷۸)بنی اسرائیل میں جن لوگوںنے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائودؑ اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انھوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔
اور حضور اکرمؐ نے تنبیہ فرمائی کہ:’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو ضرور ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے۔ پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور تمھاری دعائیں قبول نہ ہوں گی‘‘۔ (ترمذی)
اسی طرح حضوؐرنے فرمایا:’’جو شخص کسی قوم میں رہتا ہو اور ان کے اندر رہ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتا ہو، اور وہ لوگ اس کے اس طرز عمل کے بدلنے کی قدرت رکھتے ہوں، لیکن اس کے باوجود نہ بدلیں تو اللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے دنیا ہی میں ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا‘‘۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
اور قرآن میں اس امت کو مخاطب کرکے صاف لفظوں میں متنبہ کر دیا گیا کہ اگر برائی کا مقابلہ نہ کرو گے، تو محض تمھاری نیکی اور تمھاری عبادتیں تم کو تباہی سے نہ بچا سکیں گی:
وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo (انفال۸:۲۵)’’اور بچو اس فنتے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
قرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات،ا حکام اور تنبیہات سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ہماری عبادتیں، ہماری دعائیں اور ہماری نیکیاں اسی وقت دنیا میں اپنے ثمرات اورحسنات سے زندگی کا دامن بھر سکیں گی، جب ہم فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر امت کے سپرد کردہ مشن دعوت الیٰ الخیر، شہادت حق، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جان اور مال سے جہاد اور اداے حقوق کی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں گے۔اگر اس میں ہم کوتاہی برتتے ہیں تو پھر انفرادی نیکیوں کے باوجود ہم فتنے کا شکار ہونے اوراللہ کے عذاب کی مار سے نہیں بچ سکیں گے اور ہماری دعائیں بے اثر ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے حالات سے بچائے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امت اور اس کے برسرِاختیار طبقے بڑی غفلت اور بڑی نادانی سے ان خطرات کی طرف بڑھ رہے ہیں جن سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ کیا تھا۔ ان حالات میں امت کو تباہی سے بچانے کا راستہ عبادتوں کے ساتھ احقاق حق، ابطال باطل اور اقامت دین کی جدوجہد میں جان اورمال کی بازی لگا دینا ہے۔
اس خلفشار کا ایک پہلو نظام اقتدار کا سند جواز (Legitimacy)سے محروم ہونا اور مسلم ممالک میں بنیادی حقوق کی پامالی، آزادی کا فقدان اور نظام شوریٰ کا عدم وجود ہے۔ اسلام میں اقتدار کے لیے سند جواز دو ہی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے، یعنی: شریعت کی بالادستی اور ارباب اقتدار کا امت کا امین اور معتمد علیہ ہونا، جو شوریٰ کے ذریعے وجود میں آئے اور نظام زندگی کواللہ کی ہدایت کی روشنی میں چلائے۔ آج مسلم دنیا میں سیاسی آزادی کے حصول کے بعد بھی بیش تر ممالک میں جواز کی یہ دونوں بنیادیں ناپید ہیں۔ پھر اجتماعی زندگی اسلام کی برکتوں اور نعمتوں سے کیسے شادکام ہو اور دشمن کے مقابلے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کیسے بنے؟ ؎
آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گُلستاں پیدا
عبادت کے اسلامی تصور کی تفہیم اور انسانی زندگی میں اس کے گہرے اور ہمہ گیر انقلابی کردار کو سمجھنے کے لیے حج کی حقیقت اور اس کے پیغام پر تدبر کی نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ ویسے تو جتنی بار بھی انسان کو حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت حاصل ہو، وہ اس کی خوش نصیبی ہے۔ لیکن صرف ایک بار ہرصاحب استطاعت پر اسے فرض کرنے میں غوروفکر کا یہ پہلو بھی پایا جاتا ہے کہ زندگی میں ایک بار بھی ایمان اور احتساب کے ساتھ اس تجربے سے گزرنے سے عبودیت کے سارے ہی پہلوئوں سے انسان ہم آغوش ہو سکتا ہے اور اس سے اس کی زندگی میں وہ تبدیلیاں رُونما ہوسکتی ہیں جو اسے پوری زندگی راہِ حق پر قائم رکھ سکیں۔
حج ایک جامع ہے: عبادت کے جملہ مراسم و آداب کا، اور اسلام کی عالم گیر اور ازلی دعوت کے نمایاں ترین تاریخی پہلوئوں کا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے دھارے کو عبدیت کی راہ پر رواں دواں کرنے کے لیے یہ تجربہ اگر اپنے پورے آداب کے ساتھ ایک بار بھی ہو جائے، تو یہ اتنا قوی اور جان دار ہے کہ پھر عیدالاضحی کی تجدید کے ساتھ ساری زندگی اس رخ پر بسر ہو سکتی ہے۔
حج کے لغوی معنی ’زیارت کا ارادہ‘ کرنے کے ہیں۔ حج کو ’حج‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں انسان ان متعین دنوں میں (۸تا۱۳ذوالحجہ) جو اس کے لیے مقرر کیے گئے ہیں (عمرہ یا زیارت کسی وقت بھی ہو سکتی ہے) کعبۃ اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔ حج ہربالغ اور صاحب ِاستطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بارفرض کیا گیا ہے اور جو شخص حج کی طاقت (جسمانی اور مالی) رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتا، وہ ایک عظیم ترین سعادت ہی سے محروم نہیں رہتا، بلکہ اپنے مسلمان ہونے کو بھی عملاً جھٹلاتا ہے:وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَo(اٰل عمرٰن۳:۹۷)‘ ’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے، اورجو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے، تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔ اس آیت کریمہ میں قدرت رکھنے کے باوجود قصداً حج نہ کرنے کو کفر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آں حضوؐر نے بھی یہی بات صراحت سے فرمائی ہے:’’جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو اور پھر حج نہ کرے، تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
وہ مسلمان عورت یا مرد جو تمام احکام اور آداب کے ساتھ حج کا فریضہ انجام دیتا ہے، اس کے بارے میں شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’حج اور عمرہ گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتے ہیں، جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل اور کھوٹ کو صاف کر دیتی ہے، اورجو مومن اس دن (یعنی عرفہ کا دن) احرام کی حالت میں گزارتا ہے، اس کا سورج جب ڈوبتا ہے تو اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے‘‘۔ (نسائی و ترمذی)
سرور کائناتؐ نے فرمایا: ’’جس نے صرف اللہ کے لیے حج کیا، اور اس میں ہوس رانی اور گناہ نہ کیا، تو وہ ایسا ہو کر لوٹا، جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا۔‘‘
غور کرنے کی بات ہے کہ حج کی وہ کیا اہمیت اور خصوصیت ہے، کہ جس کی بنا پر ایک طرف قصداً اس کے کرنے کے انکار کو کفر کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کی ادایگی کو پچھلے گناہوں سے پاکی کاضامن قرار دیا گیا ہے اور اس کے بعد بالکل ایک نئی پاک و صاف زندگی کا باب کھول دیا گیا ہے؟
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حج کا کعبہ سے تعلق ہے، جو زمین پر اللہ کا گھر، امت مسلمہ اورانسانیت کا مرکزومحور اور رب کعبہ سے خصوصی نسبت رکھتا ہے۔ حج کی اصل بیت اللہ کی زیارت اور اسوۂ ابراہیمی کا تجربہ اور تجدید ہے۔ اس پورے عمل میں ایک طرف دعوت اسلامی کے سارے تاریخی مراحل سے انسان کو گزار دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف تمام منصوص عبادات کی روح اور ان کے خلاصے کو بھی اس میں سمو دیا گیاہے۔ اس طرح یہ مراسم عبادات کا جامع اور ایک جلوے میں ہزار جلوں کی تجلی گاہ بن جاتا ہے۔
کعبہ، اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر اور بندوں کی پہلی عبادت گاہ ہے، جو توحید کی علامت اور رب کے حضور بندگی کے لیے پہلی سجدہ گاہ ہے۔ زمین پر انسان کے سفر عبودیت اور شمال و جنوب سب اطراف کے رہنے والے اسی کی طرف رخ کرکے اپنے مالک کو پکارتے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے اسے بندگی کا محور اور ملت اسلامیہ کا مرکز بنا دیاہے۔ اس گھر کی زیارت حج کا مقصودو مطلوب ہے تاکہ بیت اللہ کی زیارت سے رب بیت اللہ سے رشتہ استوار کیا جائے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کی زمین پر اس سادہ تعمیر سے زیادہ حسین، دیدہ زیب اور ایمان افروز مقام کوئی دوسرا نہیں۔
دوسرا قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ کعبہ بیت اللہ ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ اللہ کے برگزیدہ نبی ابوالانبیا حضرت ابراہیمؑ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیلؑ کی دعوت حق، شانِ اطاعت و فدائیت اور یکسوئی اور قربانی کے مثالی نمونوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ اللہ کے حکم سے انھی برگزیدہ انبیاؑ نے بیت اللہ کی موجودہ تعمیر مکمل کی تھی۔ اس پر بیت عتیق اور مکہ کے گردونواح کے چپے چپے پر اسوۂ ابراہیمی کے نقوش ثبت ہیں۔ دعوت اسلامی کی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ کی زندگی اور عالمی مساعی ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے ایمان و یقین، اطاعت و سپردگی، عبودیت و فدویت، ایثار وقربانی اور جہد مسلسل کا وہ نمونہ پیش کیا، جو ہمیشہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
اللہ سے آپ کی محبت اور اللہ کا آپ کو اپنا ’خلیل‘[دوست] کہنا وہ شرف ہے، جس نے آپ کو پوری انسانیت کا محبوب بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان کامل پر نبوت کے سلسلۃ الذہب کا خاتمہ اور تکمیل ہوئی وہ اور آپ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حضوؐر پر درود وسلام کے ساتھ اگر کسی نبی کی طرف مسلسل درود وسلام کی سوغات بھیجی جاتی ہے، وہ حضرت ابراہیمؑ ہیں:
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ
حضرت ابراہیمؑ کو یہ مقام ان کے مثالی کردار کی وجہ سے حاصل ہوا۔ ان کو آزمایشوں کی کسوٹی پر بار بار پرکھا گیا، اور وہ ہر بار آزمایش کی کٹھالی سے کامیاب و کامران نکلے۔ انھوں نے عین عالم جوانی میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم کے بت کدے میں اذان دی اور ان بتوں کو پاش پاش کر دیا، جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا۔
جب حضرت ابراہیمؑ کو دین آبا کی توہین کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا تو ’’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘۔ فرعون نے جب اپنے جبرواقتدار کا سہارا لے کر اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا، تو انھوں نے برہان قاطع سے اس کو لاجواب کر دیا اور اپنی جان کی کوئی پرواتک نہ کی۔ جب انھیں دعوت حق پھیلانے کے لیے اپنے خاندان، قوم اور وطن سب کچھ چھوڑنے اور اللہ کے لیے ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو سب کچھ چھوڑ کر کمربستہ ہو گئے اور چار دانگ عالم میں اللہ کے کلمے کو پہنچانے کے لیے مصروف دعوت و جہاد ہو گئے۔ اور پھر جب ان کو اپنے محبوب لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو بلاتوقف اس کی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حکم الٰہی کی تعمیل، دعوت حق کی تشریح و توضیح اور آقا کی مرضی اور محبوب کے اشارۂ چشم و ابرو پر سب کچھ قربان کردینے کی یہی وہ ادا ہے، جس نے جاں بازی، جاں نثاری اور جاں سپاری کی وہ روشن مثال قائم کی، جو اسوۂ ابراہیمی ؑ کی اصل اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نمونہ اورمعیار بنا دی گئی۔
حج اسی تاریخ دعوت وعزیمت کی یاد دہانی اور اس تاریخ کو از سر نورقم کرنے کی دعوت اور اس کے لیے تیاری کی مشق ہے۔ حج کا مقصد اللہ کے حکم کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کے حقیقی حج کے ساتھ تشبہ اختیار کرکے ان کے نمونۂ ایمان و للہیت، جذبۂ عبدیت اور کمال فدویت و فدائیت کو یاد کرنا اور ان کی روشن مثال سے خود اپنے اندر ایمان، اطاعت اور ایثار و قربانی کے جذبے کی آبیاری کرنا ہے۔ مالک کی پکار پر لبیک کہنا اور ساری زندگی کو پوری آمادگی شوق اور وارفتگی سے اس کی رضا طلبی کے لیے وقف کر دینا ہے:
لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالْنِعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ ،اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے اللہ، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ حمد تیری ہی ہے، نعمتیں تیری ہی دین ہیں اور بادشاہی اور اقتدار صرف تیرا ہی ہے، اور ان سب میں تیرا کوئی شریک نہیں۔
یہ صرف ایام حج کا تلبیہ اور ترانہ ہی نہیں ہے،بلکہ اللہ کے بندوں کے لیے پوری زندگی کا وظیفہ ہے۔ یہ مالک کے حضور مکمل سپردگی کاعہد ہے۔ اپنے اللہ کے سامنے خود جس کی مثال اورنمونہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضور اکرمؐ نے انسانیت کے سامنے رکھا۔ حج کا اصل سبق اور پیغام اپنے اللہ کے سامنے یہی خود سپردگی ہے۔ ستم ہے کہ ہم زبان سے یہ تلبیہ ادا کرتے ہیں لیکن اللہ کی وحدانیت کی گواہی کے ساتھ اس میں جن تین صفاتِ الٰہی پر توجہ کو مرکوز کیا ہے ان پر غور نہیں کرتے، یعنی حمد کا مستحق صرف اللہ ہے، ہرنعمت اللہ کی طرف سے ہے، اور اقتدار اور بادشاہی اللہ اور صرف اللہ کی ہے۔ لہُ الملک کا اس تلبیہ کا آخری اعلان ہونا اپنے اندر جو معنویت رکھتا ہے افسوس آج وہ آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔
حج کے مناسک پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر بار اور کاروبار کو چھوڑنے، سفر کی صعوبتیں انگیز کرنے اور روایتی لباس ترک کرکے احرام کے فقیرانہ لباس زیب تن کرنے سے لے کر طواف، سعی، وقوف عرفات، مزدلفہ کی شب باشی، منیٰ کا قیام، قربانی، رمی جمار اور حلق (سر کے بال منڈوانا) تک ہر چیز سے بندگی کی تصویر ابھرتی ہے۔ ان میں سے ہر عمل کی اسوۂ ابراہیمی کے کسی نہ کسی پہلو سے نسبت ہے۔ للہیت، سپردگی، اطاعت اور فداکاری کی شان ہر ہر عمل سے نمایاں ہے اور یہی حج کی اصل رمز ہے اور اس پورے تجربے میں تعلیم و تربیت کا بڑا مؤثر سامان ہے، تاکہ بندہ یہاں سے یہ سبق لے جائے کہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارا راستہ، ان کا نمونہ ہی ہمارے لیے نمونہ، اور اس راستے پر چلنا اور اس نمونے کا اتباع ہی ہماری زندگی کا مقصود ہوگا اور اس راہ میں ہمارے قدم کبھی سُست نہیں پڑیں گے۔
حج پر غور وفکر کا تیسرا پہلو اس کی جامعیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام ہی مراسم عبادت کا جامع ہے۔ نماز کا آغاز اگر نیت کی درستی، قبلے کے استقبال اور بدن کی طہارت سے ہوتا ہے اور اس کی روح ذکر الٰہی ہے، تو حج پہلے ہی مرحلے سے ان سب کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ بیت اللہ کی طرف رخ ہی نہیں اس کا قصد اور اس کی طرف سفر،اور پھر اس کا طواف اور اس کی طرف سجدے ہی سجدے، احرام اور جسم اور روح کی طہارت اور حج کی نیت سے لے کر طواف وداع تک ذکر ہی ذکر۔ نماز اگر فحش اور منکرات سے روکنے کا ہتھیار ہے، تو احرام بھی فحش اورمنکرات کے باب میں ایک حصار ہے۔
حج کے پورے عمل کو خواہش نفس سے پاک کرنا اور گناہوں سے بچانا، آداب حج کا حصہ ہے۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے، جو ایک طرف حب دنیا اور حبِ دولت سے انسان کو بچاتی ہے تو دوسری طرف معاشرے سے بھوک اور غربت کو مٹانے اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ حج میں بھی انسان کو کثیر مالی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ صرف زاد راہ اور قربانی ہی کے لیے نہیں بلکہ ایک عرصے کے لیے ترکِ معاش اور اہل خاندان کے لیے معاش کے انتظام کی شکل میں۔
احرام پوری امت کے لیے مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتا ہے اور امیرغریب، بادشاہ فقیر، سب ایک ہی لباس میں آجاتے ہیں۔ روزے کا مقصد بھی تقویٰ پیدا کرنا، ضبط نفس کی تربیت دینا، جسمانی مشقت انگیز کرنے کے لیے تیار کرنا، تعلقات زن و شو سے احتراز (صرف دن ہی میں نہیں، حج کی راتوں میں بھی)، بے آرامی اور ذکر کی کثرت کی فضا بنانا ہے۔ حج میں یہ سب اپنے اپنے انداز میں موجود ہیں۔
روزے کو قرآن سے خصوصی نسبت ہے۔ حج میںبھی قرآن کی تلاوت اور مقاماتِ نزول قرآن کی زیارت، روزے کے ان پہلوئوں کا لطف پیدا کر دیتے ہیں۔ نماز کی باجماعت ادایگی، زکوٰۃ کی بیت المال کے نظام کے ذریعے منظم تقسیم اور روزے کو ایک ہی مبارک مہینے میں تمام اُمت کے لیے فرض کرنے میں اجتماعیت کی جو شان ہے، حج اس کی معراج ہے۔ غرض اس ایک عبادت میں، جو بالعموم کئی مہینوں پر پھیلی ہوئی ہے اور سفر کی جدید سہولتوں کے باوجود کئی ہفتوں کا اعتکاف اور انہماک تو لازماً چاہتی ہے۔ عبادت کے تمام ہی مراسم اور ان کے اہداف کسی نہ کسی شکل میں جمع کردیے گئے ہیں، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد اوریادگار تجربہ ہے۔
حج کا ایک اور منفرد پہلو امت کی وحدت اور انسانیت کے ایک خاندان اور برادری ہونے کو نمایاں کرنا ہے۔ رنگ، نسل، وطن، زبان، مرزبوم، سماجی تنوع، معاشی تفاوت، غرض ہر فرق ختم ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کے ماننے والے بیت اللہ کی زیارت اور طواف کے لیے دنیا کے گوشتے گوشے سے ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں اور ایک خاندان کی طرح ایک امام کی قیادت میں ایک ہی تلبیہ کا ورد کرتے ہوئے دن رات ساتھ گزارتے ہیں۔
تہذیب وتمدن کے سارے خول اتر جاتے ہیں اور صرف للہیت اور انسانیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں اور ان سب کا آخری ہدف اللہ کی رضا کا حصول، زمین پر اس کی مرضی پوری کرنے کا عزم، استخلاف فی الارض کے مشن کی تنفیذ کے جذبے کو تازہ کرنا اور دین کی دعوت اور نصرت کی جدوجہد میں زندگی وقف کرنے کا داعیہ اجاگر کرنا بن جاتا ہے۔ یہ وہ انقلابی مقصد ہے، جس کے لیے اس امت کو برپا کیا گیا اور اس کی تذکیر حج کا اصل وظیفہ ہے۔
’’خانہ کعبہ اس دنیا میں عرش الٰہی کا سایہ اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا نقطۂ قدم ہے… یہ وہ منبع ہے، جہاں سے حق پرستی کا چشمہ ابلا، اور اس نے تمام دنیا کو سیراب کیا۔ یہ روحانی علم و معرفت کا وہ مطلع ہے، جس کی کرنوں نے زمین کے ذرے ذرے کو درخشاں کیا۔ یہ وہ جغرافیائی شیرازہ ہے، جس میں ملت کے وہ تمام افراد بندھے ہوئے ہیں، جو مختلف ملکوں اور اقلیتوں میں بستے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں، مگر وہ سب کے سب، باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیازات کے، ایک ہی خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں، اور ایک ہی قبلے کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں اور ایک ہی مقام کو اُم القریٰ مان کر وطنیت، قومیت، تمدن ومعاشرت، رنگ روپ اور دوسرے تمام امتیازات کو مٹا کر، ایک ہی وطن، ایک ہی قومیت (آلِ ابراہیمؑ) ایک ہی تمدن و معاشرت (ملت ابراہیمی) اور ایک ہی زبان (عربی) میں متحد ہو جاتے ہیں۔
’’لوگ آج یہ خواب دیکھتے ہیں کہ قومیت وو طنیت کی تنگ نائیوں سے نکل کر وہ انسانی برادری کے وسعت آباد میں داخل ہوں، مگر ملت ابراہیمی کی ابتدائی دعوت اور ملت محمدیؐ کی تجدیدی پکارنے سیکڑوں ہزاروں برس پہلے اس خواب کو دیکھا اور دنیا کے سامنے اس کی تعبیر پیش کی۔ لوگ آج تمام دنیا کے لیے ایک واحد زبان کے ایجادوکوشش میں مصروف ہیں، مگر خانہ کعبہ کی مرکزیت کے فیصلے نے آلِ ابراہیمؑ کے لیے مدت دراز سے اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔ لوگ آج دنیا کی قوموں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک ورلڈ کانفرنس یا عالم گیر مجلس کے انعقاد کے درپے ہیں، لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ساڑھے [چودہ صدیوں] سے یہ مجلس دنیا میں قائم ہے اور اسلام کے علم، تمدن، مذہب اور اخلاق کی وحدت کی علم بردار ہے۔
’’مسلمان ڈیڑھ سو برس تک جب تک ایک نظم حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم ان کے سیاسی اور تنظیمی ادارے کا سب سے بڑا عنصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہوتا تھا، جس میں اُمور خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے۔ اسپین سے لے کر سندھ تک مختلف ملکوںکے حکام اور والی جمع ہوتے تھے، اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے اور طریق عمل طے کرتے تھے، اور مختلف ملکوں کی رعایا آکر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں، تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھیں، اور انصاف پاتی تھیں۔
’’اسلام کے احکام اور مسائل جودم کے دم میں اور سال ہا سال دُور دراز اقلیموں، ملکوں اور شہروں میں اس وقت پھیل سکے، جب سفر اور آمدورفت کا مسئلہ آسان نہ تھا۔ اس کا اصل راز یہ سالانہ حج کا اجتماع ہے اور خود رسولؐ اللہ نے اپنا آخری حج جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے، اسی اصول پر کیا۔ وہ انسان جو تیرہ برس تک مکہ میں یکہ و تنہا رہا، ۲۳برس کے بعد وہ موقع آیا جب اس نے تقریباً ایک لاکھ کے مجمع کو بیک وقت خطاب کیا اور سب نے سَمْعاً وَ طَاعَۃً کہا۔ آپؐ کے بعد خلفاے راشدینؓ اور دوسرے خلفا کے زمانے میں صحابہ کرامؓ اور ائمہ اعلام نے اسی طرح سال بہ سال جمع ہو کر احکام اسلام کی تلقین و تبلیغ کی خدمت ادا کی، اس کا نتیجہ تھا کہ نت نئے واقعات اور مسائل کے متعلق، دنیا کے مختلف گوشوں میں اسلام کے جوابی احکام اور فتوے پہنچتے رہے اور پہنچتے رہتے ہیں‘‘۔(سیدسلیمان ندوی، سیرت النبیؐ، پنجم، ص۲۱۹،۳۲۱)
ہم نے مولانا سید سلیمان ندویؒ کی تحریر سے یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ حج کے اس منفرد پہلو کو ایک روایتی عالم دین کے الفاظ میں اجاگر کریں۔ ورنہ محدود مذہبی ذہن رکھنے والے تو اس پر ’دین کی سیاسی تعبیر‘یا ’سیاسی اسلام‘ کی پھبتی کستے نہیں تھکتے۔ حالانکہ یہ اسلام کا ایک ایسا اعجاز اور تاریخی کارنامہ ہے، جس پر مخالف بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پیش تر شائع ہونے والی اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیامیں مقالہ نگار رابرٹ بیانشی (Robert Bianchi) کے یہ جملے قابلِ غور ہیں(انگریزی سے ترجمہ):
دنیا کی تمام زیارتوں میں حج منفرد بھی ہے اور اہم ترین بھی۔ عیسائیت اور ہندومت کے قدیم اور اعلیٰ ترقی یافتہ بین الاقوامی زیارت کے نظاموں سے مقابلہ کیا جائے تو عقیدے کی مرکزیت، جغرافیائی ارتکاز اور تاریخی تسلسل کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔(اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ ( اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۵ئ، جلد۲،ص۱۸۸)، ’حج‘)
اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو جس طرح حفظِ قرآن، کتابت وتعلیم قرآن اور رمضان المبارک میں قرآن سے تجدید تعلق نے اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھا ہے، اسی طرح حج نے اسلام کی اصل روح…للہیت، عبدیت اور امت کی وحدت اور اخوت کو اس طرح ایک تاریخی نظام میں پرو دیا ہے۔ ایک ادارے کے طور پر یہ روایت اپنے مرکز سے پوری دنیا میں اور ایک نسل سے دوسری نسل اورایک دور سے دوسرے دور کی طرف برابر منتقل ہو رہی ہے اور ان شاء اللہ تاابد ہوتی رہے گی۔
پس اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ تمام اسلامی دنیا میں تقویٰ کا موسم ہے، اسی طرح حج کا زمانہ تمام روے زمین میں اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہے۔ اس طریقے سے شریعت بنانے والے حکیم ودانا نے ایسا بے نظیر انتظام کر دیا ہے کہ ان شاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالم گیر تحریک مٹ نہیں سکتی۔ دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں اور زمانہ کتنا ہی خراب ہو جائے، مگر یہ کعبے کامرکز اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے، جیسے انسان کے جسم میں دل ہوتا ہے۔ جب تک دل حرکت کرتا رہے، آدمی مر نہیں سکتا، چاہے بیماریوں کی وجہ سے وہ ہلنے تک کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ بالکل اسی طرح اسلامی دنیا کا یہ دل بھی ہر سال اس کی دُور دراز رگوں سے خون کھینچتا رہتا ہے اور پھر اس کو رگ رگ تک پھیلادیتا ہے۔ جب تک اس دل کی یہ حرکت جاری ہے اور جب تک خون کے کھینچنے اور پھیلنے کا سلسلہ چل رہا ہے، اس وقت تک یہ بالکل محال ہے کہ اس جسم کی زندگی ختم ہو جائے، خواہ بیماریوں سے یہ کتنا ہی زار ونزار ہو۔(خطبات،چہارم،ص۲۴۵-۲۴۶)
حج کی یہ برکتیں اورمنافع ہیں کہ ساری خرابیوں کے باوجود اس امت میں زندگی اور حرارت ہے۔ اگر شر کی قوتیں ہر طرف سے حملہ آور ہیں تو حق کی قوتیں بھی مدافعت، مزاحمت اور پیش رفت میں سرگرمِ عمل ہیں، اور یہ سب اس کے باوجود ہے کہ حج اور تمام ہی عبادات، مختلف وجوہ سے اپنے اثرات بکمال و تمام پیدا نہیں کر پا رہیں اور اسلام نے تجدید واصلاح کا جو نظام بنایا ہے وہ بڑی حد تک مفلوج ہے۔
بلاشبہہ امت میں نیک نفوس بھی موجود ہیں اور چند متحرک گروہ بھی، جو دین کو اس کی اصل اسپرٹ میں قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی امت غفلت اور دین کے بارے میں بے توجہی کا شکار ہے۔ خصوصیت سے بااثر طبقات، جدید تعلیم یافتہ لوگ اوربرسرِاقتدار عناصر اپنی ذمہ داریوں سے غافل، نفس پرستی اور دنیا داری میں مگن اور قیامِ دین اور احیاے شریعت سے کنارہ کش ہیں۔
عبادتیں بڑی حد تک اپنی اصل روح سے عاری اور محض رسم اور عادت بن گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت اور شریعت کی موجودگی، نماز روزہ، زکوٰۃ اور حج کی پاس داری، مسجدوں اور مدرسوں کے قیام و انصرام اور دعوتی اور تبلیغی اجتماعات کی ریل پیل کے باوجود نمازیں اثر سے خالی ہیں، روزے تقویٰ کی فصل بہار پیدا نہیں کر پا رہے، زکوٰۃ معاشی اور سماجی انصاف کے قیام پر منتج نہیں ہو رہی، اور حج میں لاکھوں کے اجتماع کے باوجود ملت کے جسم میں تازہ خون نہیں آ رہا اور بدن فساد خون کا شکار ہے۔
تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود جو مثبت اثرات حج اور دوسری عبادات کے رونما ہورہے ہیں، ان کے اعتراف اور ان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ہم امت کے تمام ہی ارکان کو، اور خصوصیت سے اس کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور دینی اجتماعی قیادت کو ان اسباب کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، جن کی وجہ سے پوری عبادتیں پوری طرح اپنے ثمرات پیدا نہیں کر پا رہیں۔
سب سے پہلی چیز عبادات کی ظاہری ادایگی اور ان کی اصل روح اور دین کی تعلیمات اور اصلاح کی مجموعی اسکیم میں ان کا رول اور کردار ہے۔ مذہب اور ثقافت کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انقلابی تصور اس وقت تک انقلابی رہتا ہے، جب تک اس کی اصل روح بیدار رہتی ہے اور وہ محض ایک رسم اور بے جان جسم نہیں بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت نے نیت کی اصلاح اور ہر عبادت کے ایمان اور احتساب کے ساتھ انجام دینے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
آج مسلمانوں کا بڑا بنیادی مسئلہ دین سے ناواقفیت، عمومی جہالت اور تعلیم کی پستی ہے، حالانکہ اسلام تو آیا ہی ایک تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے تھا اور حصول علم کو ہر مسلمان مرد اورعورت کے لیے واجب قرار دیا گیا تھا۔ عبادات اور خصوصیت سے حج کے غیر مؤثر ہونے میں بڑا دخل ان عبادات کو بلا سمجھے ادا کرنے کا مرض ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن کی تعلیم، دین و شریعت سے واقفیت اور نظام زندگی میں ان کے کردار کا پورا پورا فہم و ادراک پیدا کیا جائے۔ محض حفظ کرکے چند سورتوں کو نہ دہرا لیا جائے،بلکہ ہر عبادت کو پوری طرح سمجھ کر، الفاظ کے معنی کا پورا پورا ادراک کرکے اور ہر عبادت کو اس کے مقصد اور منشا کے مکمل شعور کے ساتھ اس کو ادا کیا جائے۔ علم کا یہ حصول ہر فرد کی ذمہ داری بھی ہے اور معاشرے کے تمام بااثر افراد کی بھی(یہاں ہم حفظ کرنے کی فضیلت اور کلماتِ قرآنی کے دہرانے کی فضیلت اور اعزازکا درجہ کم تر نہیں کر رہے بلکہ اس کی تاثیر اور اثر پذیری میں اضافے کے لیے مفہوم اور معانی تک رسائی کی اہمیت واضح کر رہے ہیں)۔
حضوؐرنے فرمایا ہے کہ: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلَّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتَہِ (بخاری، ۸۹۳)، تم میں سے ہر ایک چرواہے کے مانند ہے اور ہر ایک اپنے اپنے ریوڑ کے بارے میں جواب دہ ہے۔ جس کے معانی یہ ہیں کہ ماں، باپ، استاد، گھر کے بزرگ، محلے کے پنچ، معاشرے کے لیڈر، مملکت کے ذمہ دار سب کی ذمہ داری ہے کہ جہالت کی اس وبا سے قوم کو نجات دلائیں۔ تعلیمی انقلاب، اصلاحِ احوال کی طرف پہلا قدم ہے۔
اس تعلیمی انقلاب کے تین پہلو ہیں:
عبادات سکڑ کر اگر صرف رسوم و رواج بن جائیں اور جنھیں اللہ سے ملاقات کا ذریعہ اورمناجات کا وسیلہ ہونا چاہیے، وہ محض ایک بے روح اور بے جان عادت کی شکل اختیار کر لے، تو وہ زندگی میں کوئی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔ آج ہماری نمازیں، ہمارے روزے اور ہمارے حج اس وجہ سے بے اثر ہو گئے ہیں کہ ہم نے ان کو بس ایک رسم، ایک عادت، ایک جسدِ بے روح بنادیا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم عبادات کا حق ادا کر رہے ہیں۔
شیخ عثمان بن علی ہجویریؒ [م:۲۵ستمبر۱۰۷۲ئ]کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ: ’’ایک صاحب حضرت جنید بغدادی[م:۹۱۰ئ] کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا: کہاں سے آرہے ہو؟ جواب ملا: حج سے واپس آ رہا ہوں۔ پوچھا: حج کر چکے؟ عرض کیا: کر چکا۔ پوچھا: جس وقت گھر سے روانہ ہوئے اور عزیزوں سے جدا ہوئے تھے، اپنے تمام گناہوں سے بھی مفارقت کی نیت کرلی تھی؟ کہا: نہیں یہ تو نہیں کیا تھا۔ فرمایا: بس سفر پر روانہ ہی نہیں ہوئے! پھر فرمایا:کیا راہ میں جوں جوں تمھارا جسم منزلیں طے کر رہا تھا، تمھارا قلب بھی قربِ حق کی منازل طے کرنے میں مصروف تھا؟ جواب دیا: یہ تو نہیں ہوا… ارشاد ہوا: پھر تم نے سفرِ حج کی منزلیں طے ہی نہیں کیں۔ پھر یہ پوچھا کہ جس وقت احرام کے لیے اپنے جسم کو کپڑوں سے خالی کیا تھا، اس وقت اپنے نفس سے بھی صفات بشریہ کا لباس اتارا تھا؟ کہا: یہ تو نہیں کیا تھا۔ ارشاد ہوا: پھر تم نے احرام باندھا ہی نہیں۔ پھر پوچھا: جب عرفات کے وقوف اور مزدلفہ کے قیام میں اپنی مراد کو پہنچ چکے تو خواہشات نفسانی کے ترک کا بھی عہد کیا تھا؟ کہا: یہ تو نہیںکیا۔ ارشاد ہوا: پھر عرفات اور مزدلفہ میں تم حاضر ہی نہیں ہوئے۔ پھر پوچھا: قربانی کے وقت اپنے نفس کی گردن پر بھی چھری چلائی تھی؟ کہا: یہ تو نہیں کیا۔ ارشاد ہوا: تم نے قربانی نہیں کی۔ اسی طرح سارے سوال پوچھنے کے بعد شیخ نے آخر میں فرمایا کہ ’’تمھارا حج کرنا، نہ کرنا برابر رہا، اب پھر جائو اور صحیح طریقے پر حج کرو‘‘۔
دین کی تعلیم، عبادات کی تعلیم اور ان کی حقیقی روح کا شعور پیدا کرنا ہی تعلیم کی اصل ہے۔ ضروری ہے کہ امت کے تمام افراد کو تعلیم وتعلّم کے تمام قدیم اور جدید ذرائع استعمال کرکے دین کی بنیادی تعلیمات اور ان کی حقیقی روح اور مطلوبہ نتائج سے روشناس کیا جائے۔ تب ہی ہماری عبادات پوری طرح ثمر آور ہو سکتی ہیں۔ ورنہ خدشہ ہے کہ عبادات ہی نہیں ہر دینی عمل، ایمان، احتساب اور تقویٰ کے بغیر بے جان اور غیر مؤثر رہے گا، اور حج جیسی جامع بھی غیرمؤثر ہوکر رہ جاتی ہے۔
۸جولائی۲۰۱۶ء کشمیر کی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک روشن سنگ ِ میل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ۲۱سالہ مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت نے اس تحریک کوایک نئے اور فیصلہ کن دور میں داخل کردیا ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے جسے اچھی طرح سمجھنا اور حالات کے گہرے ادراک اور مستقبل کے حقیقت پسند انہ امکانات کی روشنی میں صحیح، جامع اور مؤثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ بُرہان وانی شہید کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے لیکن وقت کی اصل ضرورت حالات کے دھارے کو سمجھنے اور اس عظیم تحریک کی حفاظت ، اس کی ترقی اور اسے حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو صحیح خراج تحسین اس تحریک کوآگے بڑھانے اور کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی و جہد میں ہے اور اس کی فکر پاکستانی قوم، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت اور پوری اُمت مسلمہ اور حق پرست انسانوں اور آزادی کے پرستاروں کو کرنی چاہیے۔
کشمیر کے سلسلے میں جولائی کا مہینہ ہر دواعتبار سے تو گذشتہ ۸۵برس سے اہم تھا، یعنی ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو ڈوگرہ راج کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کا آغاز ہوا، جسے برعظیم کے مسلمانوں کی مکمل تائید حاصل تھی۔ ۱۹جولائی ۱۹۴۷ء کو جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (جسے ۱۹۴۷ء کے کشمیر کے انتخابات میں مسلمانوں کی ۱۶ نشستیں حاصل کر کے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی ترجمانی کا مقام حاصل ہوگیا تھا) کی الحاقِ پاکستان کی قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی منزل کا تعین ہوگیا۔
جولائی ۱۹۳۱ء سے جولائی ۲۰۱۶ء تک تحریکِ آزادی مختلف اَدوار میں بڑے بڑے نشیب و فراز سے اسے گزرتی رہی ہے لیکن ۸جولائی کو مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ، بھارتی حکومت کی اندھی قوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو کچلنے کی کوشش اور اس پر کشمیری مسلمانوں کے شدید ردعمل نے عوامی تحریک اور جذبات کو قوت کے ذریعے ختم کرنے کی پالیسی کے دیوالیہ پن کو ایک بار پھر دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا ہے۔
ان سطور کے ضبط ِ تحریر میں لانے تک ۶۰سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ ساڑھے تین ہزار زخمی ہیں، کرفیو کا سلسلہ صرف ایک دن کے خونی استثنا کے ساتھ جاری ہے۔ کاروبارِ زندگی مفلوج ہے، اخبارات اور معلومات کے تمام معروف ذرائع کا بشمول ٹیلی فون اور انٹرنیٹ گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود عوامی جذبات کا ریلا پوری طرح رواں دواں ہے اور سرکاری دہشت گردی کے باوجود آزادی کا نعرہ اس طرح بام و دَر میں گونج رہا ہے جس طرح نوجوان مجاہدین کی شہادت کے بعد رُونما ہواتھا۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ، دانش ور، پالیسی پر اثرانداز ہونے والے ادارے اور عالمی قوتیں جس بے حسی اور بے دردی سے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو نظرانداز کررہے تھے، ان میں بھی ایک ارتعاش پیدا ہوا ہے اور جو منقار زیر پر تھے، وہ بھی اب یہ سوچنے اور آہستہ آہستہ بڑبڑانے پر مجبور ہورہے ہیں کہ یہ سب کیا ہے اور اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اب تک جن پالیسیوں پر عمل کیا گیا ہے، کیا ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
مجاہد بُرہان وانی کی شہادت کی جگہ خاص و عام کے لیے زیارت کا مقام بن گئی ہے اور الجزیرہ ٹیلی وژن کا نمایندہ شہادت کے پانچ دن کے بعد جاے شہادت یعنی کاوپور کے علاقے میں واقع چھوٹے سے گائوں ’بمدور‘ اور بُرہان کی جاے پیدایش اور مقامِ تدفین ترال پہنچا۔ اس نے اپنے اور کشمیر کے عوام کے جو تاثرات الجزیرہ کے ۱۵جولائی کے پروگرام میں نشر کیے ہیں، وہ زمینی حقائق کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔ رپورٹ الجزیرہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور خاصی طویل ہے۔ ہم صرف چند اقتباسات دے رہے ہیں:
بمدور( اننت ناگ) بھارتی مقبوضہ کشمیر___ کالے کوّوں کی آواز کے سوا جو ٹین کی ہر چھت سے آرہی ہے،یہاں مکمل خاموشی ہے۔ یہ بدھ کی صبح ہے، اور تھوڑی دیر کے لیے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی نہیں رہتا۔ دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں، درجنوں کوّے ہیں اور خاموشی ہے۔ یہ کاوپور کے علاقے میں ہے جس کے لفظی معنی کوّوں کے مسکن کے ہیں جو ’بمدور‘ گائوں کے نزدیک واقع ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے بہت سے مکانات ہیں۔ جھاڑیاں، چشمے اور وسیع و عریض دھان کے کھیت ہیں۔ اس بغاوت کا گذشتہ جمعے کو یہاں سے آغاز ہوا جس نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایک تنگ راستے پر جو مرکزی سڑک سے مکانات کی طرف جاتا ہے پتھروں، لاٹھیوں اور رسیوں کے چوکور رقبے میں کوّے اور کالے اور ہرے جھنڈوں کے درمیان اس جگہ کا نشان ہے جہاں ۲۲سالہ لڑکے بُرہان وانی کو قتل کیا گیا۔ یہ زیارت کی ایک جگہ بن گئی ہے۔ پچھلے ہفتے تک کوئی کبھی یہاں نہیں آیا تھا۔ اس گائوں میں کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ۲۴سالہ انجینیرنگ کے طالب علم شوکت احمد نے کہا: ’’گذشتہ پانچ دنوں سے روزانہ یہاں ایک ہزار سے بھی زیادہ لوگ آتے ہیں کہ بُرہان کو یہاں قتل کیا گیا تھا‘‘۔
اس رپورٹ میں بُرہان کے خنجربکف مجاہد بننے، دوسروں کو بیدار کرنے اور پھر شہادت کے بعد آخری سفر کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
۲۰۱۰ء میں وانی نے جب وہ ۱۵سال کا لڑکا تھا، بندوق اُٹھائی۔ لیکن دوسرے لڑنے والوں کی طرح اس نے اپنا دوسرا نام یا لقب نہ رکھا اور اپنی شناخت کو نہ چھپایا۔ اس کے بجاے اس نے اپنی تصاویر اور وِڈیو فیس بک جیسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں اور یہ کرتے ہوئے اس نے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپیل کی۔ اس طرح عوام کے تصور میں مسلح مزاحمت عود کرآئی۔ وانی ہرگھر کا جانا پہچانا نام بن گیا۔ ہفتے کی صبح تقریباً ۲لاکھ افراد نے ترال میں اس کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ جب اسے دفن کیا گیا تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک بغاوت برپا ہوچکی تھی۔
دوسری رپورٹوں میں مزید تفصیل ہے کہ ترال میں مسلسل ۴۰بار نمازِ جنازہ ہوئی اور نمازیوں کا اندازہ ۶لاکھ بتایا گیا ہے۔ اس طرح سری نگر کی جامع مسجد میں غائبانہ نمازِ جنازہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کشمیر کی وادی کا کوئی قابلِ ذکر مقام ایسا نہیں جہاں نمازِ جنازہ نہ ہوئی ہو۔ بیرونی ممالک میں بھی یہی کیفیت تھی۔
الجزیرہ کا نامہ نگار پورے علاقے میں گھوم پھر کر، ان ہسپتالوں کے چکّر لگاکر جہاں زخمی زیرعلاج ہیں، ان حالات کا خلاصہ بیان کرتا ہے جن سے کشمیر کے مسلمان مرد وزن، بوڑھے اور بچے دوچار ہیں اور ان کے ساتھ ان جذبات، احساسات اور عزائم کا بھی کھل کر ذکر کرتا ہے جو اس وقت ان کے سینوں میں موجزن ہیں اور جو تحریک کے موجودہ اور آنے والے مرحلوں کو سمجھنے اور ان کو صحیح رُخ پر آگے بڑھانے کے لیے سامنے رکھنا ضروری ہیں۔
وہ کہتی ہے کہ مقامی پولیس افسروں نے اسے گوریوان کے قریب اس کے مکان پر اسے زد و کوب کیا جب وہ اس کے سب سے چھوٹے بیٹے کی تلاش میں جو کہ ایک جاناپہچانا احتجاج کرنے والا ہے، آئے تھے۔ اس کی سیدھی ٹانگ سوجی ہوئی ہے اور ٹخنے سے گھٹنے تک زخمی ہے۔ اس کی دوسری ٹانگ پر ۱۳ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے مجھے مارا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ میں ایک بیمار اور بوڑھی عورت ہوں۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں کہتی ہے کہ ان میں سے ایک نے مجھے فرش پر لٹا دیا اور میرے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اس کا پوتا محمدآصف بتاتا ہے کہ پولیس والوں نے قیمہ بنانے والے لکڑی کے ڈنڈے سے جو قریب ہی پڑا تھا، اسے مارا۔ انھوں نے گھر میں موجود تمام عورتوں کو مارا۔ ایک دوسرا ۱۵سالہ پوتا بتاتا ہے کہ انھوں نے میری ۱۲سالہ بہن کو برہنہ کر دیا۔ میں خواہش ہی کرسکتا ہوں کہ کاش! میں گھر میں نہ ہوتا۔ تین راتوں سے میں سو نہیں پایا۔ میری عریاں بہن کا تصور مجھے پریشان کرتا رہتا ہے، یہ مجھ کو سونے نہیں دیتا۔ پچھلے تین دن سے میں نے صرف یہ سوچا ہے کہ ان پولیس والوں کو جنھوں نے میری بہن کو عریاں کیا، قتل کردوں۔
اس طرح کے جانے پہچانے احتجاج کرنے والوں کو پولیس جب گرفتار کرتی ہے تو بغاوت اُٹھتی نظر آتی ہے۔ عمر جیسے سیکڑوں نوجوان احتجاج میں شریک ہوجاتے ہیں۔
ہم یہ حقائق دل سخت کر کے اور بڑی شرمساری کے جذبات کے ساتھ شائع کر رہے ہیں لیکن یہ دنیا کو پہلی مرتبہ معلوم ہو رہا ہے کہ کشمیری مسلمان ۸۵سال سے کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اُفق پر روشنی کی لکیر وہ بے خوفی اور حالات کے مقابلے کا نیا عزم ہے جو اَب نوجوانوں کے سینے میں موجزن اور آنکھوں سے عیاں ہے۔ نامہ نگار لکھتا ہے:
ہسپتال سے باہر میں زبیر سے ملا جو کہ فری میڈیکل کیمپ کا ایک رضاکار تھا۔ اس دفعہ کے احتجاج میں پہلے سے فرق کے بارے میں گفتگو کے دوران وہ بے خیالی میں چھروں والی گن سے بنے ہوئے سوراخوں کو کھجانے کے لیے اپنی نیلی ٹی شرٹ اُٹھاتا ہے جو بھارتی فورسز احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس دفعہ لوگوں کے کوئی بھی مطالبات نہیں ہیں، کوئی بھی نہیں۔ وہ قانون میں کوئی بہتری نہیں چاہتے، نہ کسی مقدمے کی تفتیش چاہتے ہیں، کچھ بھی نہیں۔ یہ بُرہان کی موت کے غم کا اظہار تھا یا اس کی زندگی کی تقریب تھی،یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ’’یہ وقت ہے کہ ہم نے لفظ آزادی کو ایک بار پھر دُہرایا‘‘۔ ۱؎
بھارتی اور مغربی میڈیا نے کشمیر کے حالات کے باب میں مجرمانہ بلیک آئوٹ کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ غالباً یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چند بھارتی اخبارات اور تھوڑے بہت مغربی میڈیا پر کچھ چیزیں آنا شروع ہوئی ہیں۔ کشمیر کے اندر ظلم و استبداد پر خاموشی اور سپردگی (surrender) کے مقابلے میں مزاحمت اور بے خوفی کے ساتھ جوابی جدوجہد کا عزم نمایاں ہے اور اس میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم اور نمایاں ہے جو اس وقت آبادی کا ۶۰ فی صد ہیں۔ ایک طرف بھارتی حکمرانی اور بھارت نواز مقامی حکومتوں اور عناصر سے بے زاری اور نفرت اور دوسری طرف قوت کے خوف کی جگہ بے خوفی اور حالات سے ٹکر لینے کا عزم جسے جدید سیاسی اصطلاح میں انتفاضہ (popular uprising) اور بندوق کے مقابلے میں پتھر (Stone vs Gun) سے جواب کے عنوان سے بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں تحریکِ آزادی اب داخل ہوچکی ہے اور اس جوہری تبدیلی کی روشنی میں حالات کے ازسرِنو جائزہ لینے اور نئے حالات کے مطابق کشمیر میں، پاکستان میں، بھارت میں، عالمِ اسلام میں، اور عالمی محاذوں پر نئی پالیسی اور اقدامات کی فکر، وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں زمینی صورتِ حال میں جو تبدیلی آئی ہے اور اس کا جو تھوڑا بہت ادراک اب تمام ہی حلقوں میں ماسواے بھارت کی مودی سرکار اور پاکستان کے کچھ لبرل دانش وروں، اینکر پرسنز اور سیمفا جیسے اداروں سے وابستہ صحافیوں کے ہو رہا ہے، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہم نمونے کے طور پر چند مثالیں کر رہے ہیں جو دیگ کے چند چاولوں کے مانند حالات کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
کلدیپ نائر بھارت کا ایک نام وَر صحافی ہے، سفارت کی ذمہ داریاں بھی ادا کرچکا ہے۔ بھارت کے مفادات کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر دل گرفتہ ہے اور بھارت کے مفاد میں اسے غلط سمجھتا ہے اور فوری تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ اس کے چند حالیہ مضامین میں اس فکرمندی کو صاف دیکھا جاسکتاہے۔ ۹؍اگست ۲۰۱۵ء کے Syndicated Article میں جو پاکستان ٹوڈے میں بھی شائع ہوا ہے، وہ بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ:
پانچ سال سے کم عرصے میں کشمیر اتنا زیادہ بدل چکا ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔ گذشتہ مرتبہ جب میں سری نگر آیا تھا تو وادی کا بھارت دشمن ہونا نظر آتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کے حمایتی ہوگئے ہیں، اگرچہ اندرونِ سری نگر کچھ سبز پرچم نظر آتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ علیحدگی جو پہلے بھی نظر آتی تھی، وہ اب غصے میں بدل گئی ہے۔
کشمیریوں کا احتجاج جو کم یا زیادہ پُرامن ہے، اپنے انداز اور آہنگ میں اسلامی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ اظہار کا ایک ذریعہ ہے، نہ کہ اصل بات۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری اپنا ملک چاہتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے لوگ یہ شبہہ کرتے ہیں کہ ایک خودمختار کشمیر صرف ایک واہمہ ہے۔ کشمیریوں کا اصل ارادہ پاکستان میں شامل ہونے کا ہے مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ آزادی کا تصور ایک خواب کی طرح ہے اور اس نے کشمیریوں کو اپنے ساتھ بہا لیا ہے، اس لیے کشمیریوں کی اصل خواہش کے بارے میں کچھ شبہہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے جب میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ خودمختار کشمیر کا مطالبہ اگر ماناگیا تو بھارت میں بھی مسلمانوں پر بڑا کڑا وقت آئے گا تو میں ان کے غصے سے بھرے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ ہندو یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کشمیری مسلمان ۷۰سال تک بھارت کے ساتھ رہنے کے باوجود آزادی چاہتے ہیں تو ۱۶کروڑ مسلمانوں کی وفاداری کی کیا ضمانت ہے؟
اس کے بعد کلدیپ نائر نے ذاتی اور انسانی سطح پر مسلمانوں اور ہندوئوں میں بُعد کا بھی ذکر بڑے چشم کشا انداز میں کیا ہے:
جس بات نے مجھے سب سے زیادہ مایوس کیا، وہ کشمیر میں درمیانی صورتِ حال (grey area) کا غائب ہوجانا ہے جو کچھ برس پہلے نظر آتی تھی۔ موقف اتنے سخت ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوئوں میں معاشرتی روابط ختم ہوگئے ہیں۔ میں ذاتی مثال افسوس کے ساتھ دے رہا ہوں۔
پھر وہ لکھتا ہے: سیف ملک اور سیّدشاہ جیسے قائدین جن سے اس کے برسوں سے ذاتی اور گہرے تعلقات تھے، ان تک نے اس سے ملنے کی ضرورت محسوس نہ کی جس کا اسے بے پناہ افسوس ہے اور جو دونوں کمیونٹیز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت ہے جو بالآخرعلیحدگی پر منتج ہوئی ہے۔ کلدیپ نائر اس سماجی تبدیلی پر بھی اپنی شدید پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔
کلدیپ نائر مئی ۲۰۱۶ء میں کشمیر پھر جاتا ہے۔ مجاہد بُرہانی کی شہادت سے صرف ایک دو مہینے پہلے، اپنے ۱۳مئی ۲۰۱۶ء کے مضمون میں جو بھارتی اخبار The Daily........ میں شائع ہوا ہے وہ ایک طرف عسکریت میں کمی کا اعتراف کرتا ہے تو دوسری طرف پوری آبادی کے اضطراب، بے چینی اور بے زاری کے احساس کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ بھارت سے آزادی کو تو وہ ناقابلِ تصور سمجھتا ہے۔ البتہ بھارت کے اندر خودمختاری اور مسئلے کے عسکری کے مقابلے میں سیاسی حل کے لیے حکومت کو پوری قوت سے متوجہ کرتا ہے۔ ریاست میں جو لاوا پک رہا ہے، اس کا اسے پورا احساس ہے اور ۸جولائی کے بعد جو دیکھنا نہیں چاہتے تھے، وہ بھی دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں:
کشمیر اس مفہوم میں معمول کے مطابق ہے کہ وہاں پتھر پھینکنے کے واقعات نہیں ہورہے۔ عسکریت بھی آخری دموں پر ہے لیکن وادی میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ اگر ایک دفعہ بھی آپ وہاں جائیں تو آپ اس کا ذائقہ چکھ لیں گے۔ اس کی کوئی ایک وجہ بتانا مشکل ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ سب سے زیادہ پورے بھارت پر چھایا ہوا یہ احساس ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے سب کچھ ہے ۔اگر کشمیر کو صرف تین اُمور میں اختیار دے دیا جائے، یعنی: دفاع، اُمورخارجہ اور مواصلات۔ شکایت صحیح لگتی ہے اس لیے کہ ایک ریاست خودمختاری کرسکتی ہے جتنی وہ چاہے، لیکن وفاق دیگر اختیارات غصب نہیں کرسکتا۔ نئی دہلی نے ٹھیک یہی بات کی ہے۔ یہی بات وزیراعظم جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ کے راستے میں آئی جو بڑے گہرے دوست تھے۔ شیخ عبداللہ نے ۱۲سال قید میں گزارے۔ نہرو کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ایسا ہی شدید مسئلے میں آج بھی نئی دہلی اور کشمیرگرفتار ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ مرکز سے اچھے تعلقات کس طرح رکھے اور وادی کو ایک آزاد تشخص بھی دے؟ ریاست کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔
وہ جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں دستور کی دفعہ ۳۷۰ کو جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے، ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف دستور سے انحراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف کشمیریوں کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ بھارت سے الحاق پر سنجیدہ سوالات اُٹھ رہے ہیں ۔ ماضی میں خودمختار کشمیر کا نعرہ جو بہت کم لوگوں کی توجہ حاصل کرتا تھا، اب بہت زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ ہر روز ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے بعد کلدیپ نائر اُردو کے بارے میں مرکزی حکومت کے رویے اور کشمیری عوام کے اضطراب اور بے زاری کا ذکر کرتا ہے جو کلچرل سطح پر کشمیر اور بھارت کو دُور لے جانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس لیے کہ اس کے الفاظ میں:
کشمیری شدت سے محسوس کرتے ہیں اور مرکزی حکومت اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے، وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتِ حال کی فوراً تلافی کی جائے۔
اس کے بعد وہ اس دل چسپ سوال سے تعرض کرتا ہے کہ عوام خود عسکریت کے خلاف کیوں نہیں اُٹھتے؟ اس کا جواب سننے کے لائق ہے:
مگر وہ جو خود عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے کے لیے بندوقیں اور دوسرا اسلحہ نہیں اُٹھا رہے، اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ ان سے خوف زدہ ہیں اور دوسری وجہ ایک عام احساس ہے کہ عسکریت پسند ان کو ایک شناخت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے وادی کے اندر اگر عسکریت کو مزاحمت نہیں مل رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علیحدگی کا ایک حصہ ہے۔
کلدیپ نائر متنبہ کرتا ہے کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ازبس ضروری ہے اور اس کی نگاہ میں ۱۹۵۳ء کے معاہدے کی بنیاد پر آج بھی کشمیریوں کو ساتھ رکھا جاسکتاہے بشرطیکہ مرکزی حکومت دیانت داری کے ساتھ، کشمیر میں عوام کو اعتماد میں لے کر، سیاسی حقوق کی بحالی، معاشی امداد اور مواقع کی فراہمی ، بھارت کی منڈیوں کو کشمیر کے لیے کھولنے، کشمیر کی شناخت کے احترام، فوری طور پر تین اُمور___ یعنی اُمورِ خارجہ، مالیات اور کمیونی کیشنز کے سوا تمام اختیارات ریاست کو دے۔ ان تمام قوانین کو منسوخ کردے جو ان اُمور کے علاوہ مرکز نے بنا کر ریاست میں نافذ کیے ہیں اور فوج اور فوجی کارروائیوں کو جو تحفظ اور اختیارات The Armed Forces میں حاصل ہے اور جس کے سہارے ۲۵سال سے مرکزی حکومت قوت کا استعمال کر رہی ہے ، جو اسے ختم کیا جائے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑنے کا خطرہ ہے۔
کلدیپ نائر نے اصل زمینی حالات کو ٹھیک سے بھانپ لیا ہے مگر جو حل وہ تجویز کر رہا ہے وہ نہ ۱۹۵۳ء میں کسی کام آیا، بلکہ شیخ عبداللہ کو ۱۲سال جیل کی ہوا کھانا پڑی اور نہ آج یہ کوئی حقیقی حل ہے بلکہ نہ ۱۹۵۳ء میں اس سے کشمیری عوام کو مطمئن کیا گیا اور نہ آج کیا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ حق خودارادیت (right of self-determination) کا ہے جس کی اصل یہ ہے کہ ڈوگرہ راج اور بھارتی راج دونوں سامراجی اقتدار (occupation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت نے دھوکے، چالاکی، عسکری یلغار اور قوت کے بے محابا استعمال سے استبداد اور غلبے کا ہرحربہ استعمال کرتے ہوئے ۱۹۴۷ء سے ریاست جموں و کشمیر کے ۶۰ فی صد رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے سے آزادی اور نجات اصل مسئلہ ہے۔
دوسرا پہلو بھی کچھ کم اہم نہیں اور اس کا تعلق ریاست اور اس کی عظیم اکثریت کی نظریاتی، دینی، اخلاقی، تہذیبی اور سماجی شناخت کا ہے اور اس کا بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے لوگوں کو مکمل آزادی ہو، تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنا نظامِ زندگی وضع کریں اور سیاسی غلامی کی وجہ سے جو دینی، نظریاتی، اخلاقی، تہذیبی اور لسانی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، اس سے بھی نجات پائیں اور اپنی اصل شناخت کے مطابق اپنی زندگی اور اپنا مستقبل تعمیر کرسکیں۔ صوبائی خودمختاری، ۱۹۵۳ء کا معاہدہ اور دستورہند کی دفعہ ۳۷۰ کو بھی ان دونوں بنیادی ایشوز کا جواب نہیں اور ۶۹برسوں پر پھیلی ہوئی ناکام اور خون آشام تاریخ کو جزوی اور نمایشی معمولی تبدیلیوں کے ذریعے کشمیری عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں بنایا جاسکتا ۔۸جولائی۲۰۱۶ء اس سیاسی حکمت عملی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے اور آزادی اور اسلامی شناخت کی مکمل بحالی کے راستے کو روکنے کی جو کوشش بھی ہوگی خواہ وہ دولت اور قوت کے کیسے ہی بے محابا استعمال سے عبارت ہو ، تحریکِ آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اور اگر سیاسی، جمہوری اور عوامی راستوں کو بند کیا جائے گا تو پھر فطرت کا تقاضا اور تاریخ کا تجربہ ہے کہ لوہے کو کاٹنے کے لیے لوہا میدان میں آکر رہتا ہے۔
یہی وہ چیز ہے جس کی طرف شیخ عبداللہ کے صاحب زادے فاروق عبداللہ نے جنوری ۲۰۱۶ء میں ایک مضمون لکھ کر توجہ دلائی ہے وہ ایک مدت تک جموں و کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور انھیں ۱۹۹۰ء میں اس وقت کان پکڑ کر نکال دیا گیا تھا جب ۱۹۸۷ء کے دھاندلی کے انتخابات کے نتیجے میں ریاست گیر عوامی تحریک نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی تھی اور جمہوری راستوں کو بند کرنے کے نتیجے میں عسکری تحریک اُبھری اور ایوانِ اقتدار کو متزلزل کرنے کا ذریعہ بنی۔ انھی فاروق عبداللہ صاحب نے کشمیر کے اخبارات میں اُردو میں ایک مضمون لکھا ہے جسے پڑھ کر کلدیپ نائر صاحب نے سرپکڑ لیا ہے اور خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ کلدیپ نائر اپنے ایک مضمون ’پاکستان، ہندستان اور کشمیر‘ میں جو پاکستان ٹوڈے میں ۷فروری ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے، لکھتے ہیں:
سری نگر کے ایک معروف اُردو رسالے میں ایک مضمون میں فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اس کے مرحوم باپ شیخ عبداللہ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کشمیر کے نوجوان اپنے حقوق کے لیے بندوق اُٹھا رہے ہیں۔
کلدیپ نائر صاحب نے سارا مضمون فاروق عبداللہ کو جھاڑ پلانے کے لیے وقف کر دیا ہے، اسے شیخ عبداللہ سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ کشمیر کے ’صوفی اسلام‘ کے تصور سے بغاوت کہا ہے۔ شیخ عبداللہ کے سیکولرزم اور عالم گیریت کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں اور اسے مشورہ دیا ہے کہ اسے عسکریت کے حق میں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے تھی بلکہ دستورِہند کی دفعہ۳۷۰ کے اندر خودمختاری پر سارا زور صرف کرنا چاہیے تھا۔ اس کا کہنا ہے:
وہ لوگ جو ہروقت یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس غلط فہمی سے دوچار ہیں کہ ریاست کشمیر کو دستور کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت خودمختاری حاصل ہے جس کے تحت صرف تین اُمور: دفاع، خارجہ اور مواصلات، جب کہ دستور کی دوسری دفعات جو حکومت کو اختیار دیتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر پر ان کا اطلاق ریاست کی دستور ساز اسمبلی کی مرضی سے ہوگا۔
فاروق عبداللہ نے قدوقامت کم کرنے کے لیے اسے کشمیر تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ وہ نئی دہلی کو ریاست میں ایسے حالات پیدا کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرتا رہا کہ کشمیری اپنے حق کے لیے بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوگئے اس لیے کہ نئی دہلی اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی کہ مرکز کے پاس صرف تین اُمور ہوں گے: دفاع، اُمورِخارجہ اور مواصلات، جب کہ باقی ریاست کے اختیار میں ہوں گے۔
کلدیپ نائر اور دوسرے بھارتی دانش وروں کا سیاسی حل کا تصور کشمیری عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور آج بے وقت کی راگنی ہے۔ لیکن ہمارے لیے اصل اہم پہلو اس بحث کا یہ ہے کہ کلدیپ نائر جیسے لوگ بھی کھل کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ بھارتی دستور کے مطابق، جس پر کوئی عمل نہیں کر رہا اور جسے ۱۹۵۳ء ہی سے عملاً معطل کیا ہوا ہے، کشمیر پر بھارت کی حاکمیت (sovereignty)مکمل اور غیرمنقسم (absolute) نہیںبلکہ مشروط (conditional) ہے اور باقی تمام صوبوں سے مختلف ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر بھارت نے ان شرائط کو توڑ دیا ہے تو وہ معاہدہ بھی پارہ پارہ ہوچکا ہے جس کے سہارے بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی نوٹ کیے جانے کے لائق ہے کہ فاروق عبداللہ صاحب بھی آج دبے لفظوں میں وہی بات کہنے کی کوشش کررہے ہیں جو حُریت کانفرنس اور حزب المجاہدین کہہ رہی ہیں یعنی___ بھارت کا قبضہ غیرقانونی ہے اور اس کے خلاف عوامی جدوجہد نہ صرف عوام کا حق بلکہ غلامی سے نجات کا واحد ذریعہ ہے اور مزاحمت کی اس تحریک کو اگر کچلنے کے لیے ریاستی قوت کا استعمال کیا جائے تو اس قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی عسکریت بھی تحریکِ آزادی (Liberation War) کا حق ہے۔
فاروق عبداللہ کے صاحبزادے عمر عبداللہ نے جو خود بھی وزیراعظم رہ چکے ہیں، مجاہد بُرہان مظفر وانی کی شہادت پر جو الفاظ کہے ہیں وہ بھی نہ صرف تحریکِ مزاحمت اور تحریکِ آزادی کی صداقت اور افادیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے بلکہ بھارت کی حکومتی دہشت گردی کی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے۔
میرے الفاظ سن لو، بُرہان مظفر وانی کی قبر کے اندر سے جہادی بھرتی کرنے کی صلاحیت، اس کی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہوگی۔
کسے توقع تھی کہ شیخ عبداللہ کے صاحب زادے اور ان کے پوتے ایک دن یہ بات کہیں گے ع
ہاے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!
بھارت کی معروف دانش ور ارون دھتی راے تو ایک مدت سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں بھارت کی حیثیت ایک قابض حکمران (occupying forces) کی ہے اور جو جدوجہد ریاست میں ہورہی ہے وہ ایک قانونی اور جائز (legitimate) تحریکِ آزادی ہے اور جو اس کی تائید نہ کرے، وہ اخلاقی طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا ہے۔ ۲۰۱۱ء میں ارون دھتی راے کی ایک کتاب Kashmir: A Case for Freedom شائع ہوچکی ہے جس میں اس نے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیا ہے ۔ بُرہان وانی کی شہادت کے بعد اس کا مضمون بھارت کے رسالے Outlook کی ۲۳جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات نذرِ قارئین کرنا چاہتے ہیں:
کشمیر کے عوام نے ایک دفعہ پھر واضح کر دیا ہے سال بہ سال، عشرہ بہ عشرہ، قبربہ قبر واضح کر دیا ہے کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ آزادی ہے (عوام کا مطلب ان لوگوں سے نہیں ہے جو فوجی سنگینوں کے سایے میں کیے گئے انتخابات جیت گئے ہیں، اس کے معنی وہ لیڈر نہیں ہیں جنھیں اپنے گھروں میں چھپنا ہوتا ہے اور اس طرح کے حالات میں باہر آنے کی جرأت نہیں کرتے)۔
جب ہم مذمت کرتے ہیں، جیساکہ ہمیں کرنا چاہیے، سیکورٹی فورسز کی غیرمسلح احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کی، ایمبولینسوں اور ہسپتالوں پر پولیس کے حملوں کی، اور چھرے والی بندوق سے نوعمروں کو نابینا بنانے کی، تو ہمیں دماغ میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ حقیقی بحث کشمیر کی وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کی ہے۔
یہ خلاف ورزی جو بہت قبیح ہے، یہ ناگزیر اور لازمی نتیجہ ہے: عوام کی جدوجہدِ آزادی کو فوج کے ذریعے دبانے کا۔ کشمیری، قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں، اور نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے لڑرہے ہیں، وہ آزادی کے لیے لڑرہے ہیں۔ اس کے لیے وہ گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ بڑی تعداد میں مرنے کے لیے تیار ہیں اور کرفیو وغیرہ کی کھلی خلاف ورزی کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جو خواہ انھیں موت کی طرف لے جائے، یا دنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقے میں ہرطرح کی قیدوبند کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ ہتھیار اُٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ موت تک سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ نوجوان ہی مریں گے۔ انھوں نے یہ بات نہایت باقاعدگی سے ثابت کی ہے۔ اس کا وہ مستقل مزاجی سے مظاہرہ کررہے ہیں۔
یہ پیش گوئی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ بھارتی حکومت کو مستقل امن عامہ کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ایک چھوٹا سا گروہ پیدا کر رہا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خطرناک بڑھتا ہوا بحران ہے جس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ ایک ایسے علاقے میں جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے۔ صرف اس وجہ سے ہی اسے پوری دنیا کا مسئلہ ہونا چاہیے۔
اگر ہم بحران کو واقعی حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم قتل کرنے اور مارنے کے نہ ختم ہونے والے چکر کو واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم خون بہنے کو روکنا چاہتے ہیں، تو پہلا قدم یہ ہوگا کہ ہم دیانت داری کی طرف قدم بڑھائیں۔ہمیں ایک دیانت دارانہ گفت و شنید کرنا ہوگی۔ ہمارا نقطۂ نظر کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں،اس گفتگو کا موضوع آزادی کو ہونا ہے۔ کشمیریوں کے لیے آزادی کے لیے ٹھیک ٹھیک مسئلہ کیا ہے؟ اس پر بحث کیوں نہیں ہوسکتی؟ نقشے کب سے اتنے مقدس ہوگئے ہیں؟ کیا کچھ لوگوں کے حق خودارادیت کا کسی بھی قیمت پر انکار کیا جاسکتا ہے؟ کیا بھارت کے عوام اس کے لیے تیار ہیں کہ ہزاروں آدمیوں کے خون کا بوجھ اپنے ضمیر پرلیں؟کس اخلاقی حیثیت سے ہم بات کرتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہورہی ہیں؟ کیا بھارت میں کشمیر پر اتفاق راے حقیقی ہے یا خودساختہ ہے؟ کیا یہ وزن رکھتا ہے ؟ اصل تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں اور کس طرح ایک پُرامن، جمہوری اور معلوم نظریے تک پہنچا جائے۔
یہ آوازیں بدلتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور اس اُمید کو قوی تر کر رہی ہیں کہ استبداد کے نظام کے خلاف جدوجہد میں اعوان و انصار ایسے مقامات سے بھی مل سکتے ہیں جہاں سے گمان بھی نہیں تھا۔ حالات کو بدلنا اور بدلتے ہوئے حالات سے فائدہ اُٹھانا ہی صحیح سیاسی حکمت عملی ہوسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم بھارت کے مؤقر جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی کے ادارتی نوٹ (۱۶ جون ۲۰۱۶ئ) کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں جس کے بغور تجزیے کی ضرورت ہے۔ دو باتیں ایسی ہیں جن پر مذکورہ جریدے نے غور کرنے کی خصوصی دعوت دی ہے: ایک یہ کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مقامی (indigenous) ہونے کا اعتراف اور پورے معاملے کو پاکستان کی ’ریشہ دوانی‘ قرار دینے کی بھارتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار۔ یہ چیز دوسرے ادارتی نوٹس اور مضامین میں بھی اب آرہی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ’آزادی‘ کے مطالبے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ سیاسی حل اس ایشو کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اور لازماً فیصلہ وہی غالب آسکے گا جسے کشمیری عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ جمہوری حل (Democratic Solution) کے معنی محض سیاسی اصلاحات نہیں بلکہ پورے مستقبل کے نظام کے بارے میں کشمیری عوام کی راے کو معلوم کرنا اس کے لیے ضروری ہوگی۔ یہ غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ مؤقر قومی جریدے میں اس حوالے سے ریفرنڈم کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم آغاز ہوسکتا ہے۔
جموں و کشمیر میں مسلح مزاحمت ۹۰-۱۹۸۹ء میں شروع ہوئی جب پُرامن سیاسی حل کی ۴۰سالہ کوششیں ناکام ہوگئیں۔ ۸-۲۰۰۷ء تک عسکریت ذیلی سطح پر آئی تھی اور عوامی سطح پر چھا گئی تھی۔ مسلح عسکریت کا انکار کا مطلب یہ لیا گیا کہ یہ تحریک کی شکست ہے نہ کہ عوامی احتجاج کی ایک شکل جسے احتجاجی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے انتخابات میں ووٹوں سے آنے کے مطلب کی یہ تعبیر کی گئی ہے کہ لوگوں نے بھارت کی تائید کردی ہے اور آزادی یا تحریک ِ آزادی کو marginalise کردیا گیا ہے۔معاشی بہتری کا مطلب یہ لیا گیا کہ جو کچھ بھی ظلم کیا گیا ہے یہ اسی کی تلافی کردے گا۔ ماضی قریب میں غیرریاستی عوام کو زمین کی منتقلی کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی مسائل کو کتنا پیش نظر رکھا گیا ہے۔
ہم نے ۹۲-۱۹۸۹ء ، ۱۰-۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۳ء میں خونی کریک ڈائون کا مشاہدہ کیا ہے جب بڑی تعداد میں لوگ غیرمسلح باہر آئے اور ان کی ننگی طاقت سے مقابلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں، مگر اس دفعہ واضح طور پر کچھ مختلف ہے۔ ۲۰۰۸ء میں ایک قابلِ لحاظ غیرمسلح احتجاج کی طرف بندوقوں سے منتقلی تھی۔ آج یہ چیزیں واضح طور پر مسلح عسکریت کی طرف پیچھے پلٹ آئی ہے۔ بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے خوف اہمیت رکھتا ہے۔ اگر عسکریت پسندوں کے جنازے لوگوں کے بڑے ہجوم کے لیے کشش رکھیں اور وہ وہاں بڑی تعداد میں جمع ہوں جہاں مقابلہ ہو رہا ہو، تو یہ عوام کی طرف سے اس بات کی علامت ہے کہ وہ بے خوف ہوگئے ہیں۔ یونائیٹڈ پراگرس الائنس کی حکومت ۱۰-۲۰۰۸ء میں تحریک کو روکنے میں ناکام ہوگئی، اس لیے کہ اس کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ خودمختاری کی پیش کش اب زیادہ متعلق نہ تھی کیونکہ نئی دہلی نے اس کی بنیاد ختم کرنے کے لیے ۶۹سال تک کام کیا تھا۔ جموں و کشمیر میں ریاست کی شہریت کا مسئلہ، شمال مشرق اور وسطی ہند کے نزدیک کے پہاڑی علاقوں کی طرح تھا، اسے زمین اور حکومتی ملازمتوں سے ……… جموں و کشمیر کے حالیہ وزیرخزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے مرکز کی پالیسی طاقت کے اظہار پر مبنی ہے۔ اس لیے جب ہم کو بتایا جاتا ہے کہ تاریخ کو ۱۹۵۳ء سے پہلے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت ہند کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں۔
یہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں آج کی مسلح مزاحمت ہوئی ہے۔ بُرہان وانی اور اس کے کمانڈر عسکریت کے نئے مرحلے کی نمایندگی کرتے ہیں۔ وجوہات، تحریکات اور ہتھیار اُٹھانے کی تحریک ان حالات کے نتیجے میں ہے جس کا سامنا بھارتی قبضے میں علاقوں میں ہے یہ وہ نسل ہے جو فوجی جارحیت میں پَل کر جوان ہوئی ہے۔ جس نے ۲۰۱۳ء کی غیرمسلح بغاوت کو کچلتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر یہ عسکریت کی طرف بتدریج گئی ہے۔ بُرہان وانی جب قتل کیا گیا تو۲۲سال کا تھا۔ وہ حزب المجاہدین میں ۱۶سال کی عمر میں شامل ہوا تھا۔ا س نے سوشل میڈیا میں جس طرح سے تصاویر اور پیغام کو پھیلایا، اس نے اس کو مقبول بنا دیا۔ اس کا ایک آخری بیان امرناتھ کے زائرین سے خطاب پر مبنی تھا۔ جب بارڈر سیکورٹی فورس نے زائرین پر ایک یقینی حملے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ بُرہان وانی نے ان کو خوش آمدید کہا اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ وہ بغیر کسی اندیشے اور خوف کے آئیں۔ اس کی ہلاکت کے بعد جو کریک ڈائون ہوا، اس نے غم زدہ عوام کو مزید مشتعل کر دیا۔ اب تک ۳۶؍افراد ہلاک ہوچکے ہیں، ۱۵۳۸ زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ چھروں سے زخمی ہوئے ہیں۔ قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہیں کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ہسپتال اور ایمبولینس پر حملے کیے۔ اس سے پہلے بھی یہ واقعہ ہوچکا تھا اور مہلک ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانیاں اب سنگین مذاق بن گیا ہے۔ ۱۱ہزار نئے فوجی بھیجنا اور ۶لاکھ جو پہلے سے موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔
وہ اسکالر جو حکمت عملی کے مسائل پر لکھتے ہیں وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ مقامی لوگ فوجیوں کے سوشل ورک کی تحسین تو کرسکتے ہیں لیکن وہ فوجیوں کو ایک قابض فوج کا حصہ سمجھتے ہیں، اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ امن و امان کی صورت قابو میں آسکتی ہے لیکن اگر ہم بھارت سے آزادی کے عوامی مطالبے سے انکار کریں تو یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ بندوق کی نوک پر اختیارات کے نفاذ کو لوگوں کو ان کی غلامی پر مرضی سے اُلجھاکر (کنفیوز کرکے) یا لوگوں کا ووٹ دینے کے لیے آنے کو تائید سمجھنے کا مطلب بھارت سے علیحدگی کے جذبے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت کمزور وکٹ پر ہے، ہندوئوں کے پھیلائو سے مسلمانوں کے ساتھ ادارتی امتیازی سلوک کی انڈین سیکولرزم کی رفتار تیز کردی ہے۔ پاکستان اور اسلامسٹوں کے پروپیگنڈے کو بُرا بھلا کہنے، اور عسکریوں کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں لگتا کیوں کہ سب کچھ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے۔………………
……………
ایک آدمی یہ یقین کرنا پسند کرے گا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سمجھ دار عناصر حالات کی سنگینی سے آگہی حاصل کریں گے۔ ایک حل جس سے ہم بچتے رہے ہیں ایک جمہوری حل ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کا ایک ریفرنڈم کے ذریعے متعین کریں، جس کا وعدہ فوجی تنازعے کو بڑھنے سے روک سکتا ہے…
ہم نے بھارتی دانش وروں اور اخبارات کے خیالات اپنے قارئین اور ملک کے پالیسی ساز اداروں اور افراد کے غوروفکر کے لیے پیش کیے ہیں کہ ان میں مسئلے کے حل کی تلاش کی ایک کوشش دیکھی جاسکتی ہے۔ خود انھیں بنیاد بنا کر افہام و تفہیم کی نئی کوششیں بروے کار لائی جاسکتی ہیں۔ جگہ کی قلت کے باعث ہم دوسری ایسی کوششوں کو پیش کرنے سے قاصر ہیں لیکن ۸جولائی کے واقعہ کے بعد ہمارے علم و مطالعہ میں دو درجن سے زیادہ جریدوں، اخبارات اور معروف اہلِ قلم کی طرف سے کھلے طور پر یا کچھ ملفوف انداز میں جو باتیں اب کہی جارہی ہیں وہ یہ ہیں:
۱- جموں وکشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ اسے ایک طے شدہ یا حل شدہ معاملہ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
۲- مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ فوجی حل کی دو ہی صورتیں ہیں یا ریاستی قوت سے تحریکِ آزادی کو کچل دیا جائے جس کے بہت ہی خون آشام نتائج کم از کم ۱۹۹۰ء سے دیکھے جارہے ہیں۔ اس زمانے میں تحریک کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آیا ہے لیکن ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت، اس سے زیادہ افراد کے زخمی یا معذور کردیے جانے، ہزاروں کی تعداد میں اغوا، گرفتاریاں، گم شدگیاں، جمہوری آزادیوں پر قدغنیں، عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کے علی الرغم تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ صرف وادیِ کشمیر میں ۶لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی اور معاون operational forces کے استعمال اوران افواج کی کارروائیوں کو ہرقسم کی بازپُرس اور جواب دہی سے روکنے کے باوجود ۲۶سال میں تحریکِ مزاحمت کو نہ صرف ختم نہیں کیا جاسکا بلکہ کیفیت یہ ہے ع
فوجی حل کی دوسری صورت بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی قوت کے استعمال کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل ہے جس کی کوششیں بھی تین سے چار بار ہوچکی ہیں۔ اس کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور نکلے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور اب دونوں کے ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے یہ راستہ اور بھی خطرناک اور ناقابلِ تصور ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے جو جمہوری اور معتبر ہو۔ یہ راستہ آزادانہ استصواب راے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع ہوگا، جس کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے۔
۳- کشمیر کی تحریکِ آزادی کے کشمیری کیرکٹر (indigenous character مقامی ہونے) کا بھی اب برملا اعتراف کیا جارہا ہے۔ حزب المجاہدین پہلے دن سے خالص کشمیری تنظیم تھی۔ آل پارٹیز حُریت کانفرنس کی بھی یہی حیثیت ہے جو سیاسی محاذ پر سب سے آگے ہے۔ واجپائی، من موہن سنگھ اور پرویز مشرف جو بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ بُری طرح ناکام ہوئی اور ۲۰۰۸ء کے امرناتھ ٹرسٹ کو زمین دینے کے معاملے کے خلاف تحریک سے لے کر ۸جولائی تک کے سانحے تک تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عسکری پہلوئوں میں کمی اور عوامی جمہوری حمایت اور شرکت کی وسعت نے زمینی صورتِ حال کو تبدیل کر دیا ہے اور ۸جولائی کے واقعے کے بعد کی صورتِ حال نے تحریک کی اصل قوت اور سیاسی اعتبار سے اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا لوہا منوا لیا ہے۔ یہ وہ جوہری فرق ہے جو تحریک کے موجودہ مرحلے کو ماضی کے تمام مراحل سے ممیز کررہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی پہلی بار اس طرح بھارت میں اور ایک حد تک عالمی میڈیا اور تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس کی نگارشات میں ہو رہا ہے۔ امریکا کے مؤقر جریدے فارن پالیسی کے ایک مقالہ نگارنے مئی ۲۰۱۶ء میں ایک مقالہ INDIA IS LOSING KASHMIR اس کی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے جو جولائی کے واقعے سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بھی ۲۱جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ادارتی طور پر کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور تحریک کے مقامی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں دسیوں مضامین بھارت کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن میں کسی نہ کسی شکل میں اس زمینی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مسئلے کے حل کی تلاش میں اس تبدیلی کا ایک اہم کردار ہوسکتا ہے۔
۴- چوتھی چیز جو اَب بالعموم صرف دبے الفاظ میں لیکن کہیں کہیں نسبتاً کھل کر تسلیم کی جارہی ہے، یہ ہے جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے، اسے صرف پاکستان کی کارستانی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پرویز مشرف کے دور سے تحریکِ آزادی میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ خصوصیت سے جہادی سرگرمیوں کی مدد تو تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ۲۰۰۳ء کے بعد جس طرح بارڈر پر اسرائیلی حکمت عملی کے تحت باڑیں اور الیکٹرانک وائرز لگائے گئے ہیں، ان کے نتیجے میں افرادی قوت کا آرپار جانا یا اسلحے کے باب میں مدد تقریباً ناممکن ہوگئے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم پاکستان کی حکومتی پالیسی کے باب میں کنفیوژن، کمزوری اور تنکوں کا سہارا___ اس نے تو پاکستان کے اصولی اور عملی ہردو کرداروں کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔ پاکستان سے جو اُمیدیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بجاطور پر تھیں، ان پر اوس پڑگئی ہے۔ گو پاکستان سے ان کی محبت آج بھی قائم ہے، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستانی جھنڈا آج بھی ان کو مرغوب و محبوب ہے۔ بُرہان مظفر وانی کا جسد ِ خاکی پاکستان ہی کے پرچم میں قبر میں اُتارا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں گھڑیاں پاکستان کے وقت کے مطابق ہی نظامِ اوقات کی صورت گری کرتی ہیں۔ عید اہلِ کشمیر بھارت کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے، اور ہم بحیثیت قوم اس پر نادم ہیں اور پاکستانی عوام کے جذبات کا خون کر کے پاکستانی حکمرانوں نے اور خصوصیت سے پرویز مشرف کے دور میں ۲۰۰۲ء کے بعد سے جو پالیسیاں اختیار کی گئیں، وہ اصولی اور اسلامی اعتبار سے غلط اور سیاسی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے اعتبار سے تباہ کن رہیں جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ۱۴سال کے اس کنفیوژن، کمزوری اور بے وفائی کے دو ضمنی نتائج ایسے ضرور نکلے جن میں اللہ تعالیٰ نے شر میں سے خیر کے نکلنے کا معجزہ سب کو دکھاد یا۔ ایک یہ کہ بھارت کا یہ ہتھیار کند ہوگیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پاکستان کا کیا دھرا ہے اور آئی ایس آئی اور پاکستان کی جہادی تنظیمیں تحریکِ مزاحمت کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل سہارا ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو دُکھ بھی اہلِ کشمیر کو پاکستان کی قیادت کی اس کمزوری اور بے وفائی سے پہنچا، انھوں نے اپنا سارا بھروسا اللہ پر اور خود اپنے زورِبازو پر کیا اور اس طرح یہ تحریک تقریباً صد فی صد مقامی تحریک بن گئی اور سب سے زیادہ وہاں کے نوجوانوں نے اس کی باگ ڈور سنبھال کر اسے نئی زندگی، نئی ٹکنالوجی اور نئی سیاسی حکمت عملی سے شادکام کیا۔
اللہ پر بھروسا ان کا سب سے بڑا سہارا بن گیا۔ پاکستان یاترا، ٹریننگ کے لیے باہر جانے کا تصور، باہر سے اسلحہ حاصل کرنے پر بھروسا، عسکری پہلو پر ساری توجہ اور سیاسی، عوامی اور خدمتی میدانوں پر توجہ کی کمی، ان سب اُمور پر ازسرِنو غور کیا جانے لگا۔ نئی حکمت عملی بنائی گئی۔ خودانحصاری کو طریق واردات قرار دیا گیا۔ اسلامی اخلاقی تعلیمات پر بھی زیادہ سختی سے عمل کی فکر کی گئی اور اسلام کے نام پر جو غلط طریقے دنیا کے مختلف مقامات پر اختیار کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے اسلامی جہاد اور دہشت گردی میں جو جوہری اور ہمہ جہتی فرق ہے وہ متاثر اور مجروح ہوا ہے، اس کی تلافی کی فکر کی گئی۔ یہ بڑی بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں ہیں جو اس دور میں نمایاں طور پر کی گئیں اور کی جاتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ بُرہان وانی اس عسکریت کی علامت بن گیا جو اَخلاق کی پابند، فساد سے پاک اور صلاح کا ذریعہ ہے۔ بلاشبہہ حزب المجاہدین کا ۱۹۷۱ء کی مشرقی پاکستان کی البدر کی طرح پہلے دن سے یہی مقصد اور ہدف رہا ہے اور ان کی سرگرمیاں اس عہد پر مبنی تھیں کہ وہ آلۂ ظلم نہیں بنیں گے اور جہاد کے اسلامی آداب و احکام کی مکمل پاس داری کریں گے۔ الحمدللہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے اس موجودہ دور میں یہ پہلو بہت نمایاں ہے اور اس کا گہرا تعلق اس تصور سے بھی ہے کہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی صرف بھارت کی استعماری قوت کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد ہونے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی اصل شناخت___ اسلام اور اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت، ترویج اور ترقی کے لیے ہے۔ یہ صرف سیاسی مقصد کے لیے ایک تحریک نہیں بلکہ سیاسی تحریک کے اصل مقاصد نظریاتی، دینی ، تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی ہیں۔ تحریک کے اس رنگ اور مزاج کا آئینہ وہ انٹرویو ہے جو بُرہان اور خالد کے والد مظفراحمد وانی نے خالد کی شہادت کے بعد اور بُرہان کی شہادت سے پہلے ہندستان ٹائمز کے نامہ نگار ہریندر بویجا کو اکتوبر ۲۰۱۵ء میں دیا:
جواب: ہندستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوں کہ مسلمان ہے۔ ہم حلال جانور ذبح کرتے ہیں فساد ہوجاتے ہیں۔ پھر سوال کیا: آپ کو پتا ہے ہندستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبۂ ایمانی سے بھرپور جواب دیا: بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔ دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہوگی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا: ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے۔ پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمدصلی اللہ علیہ وسلم، پھر بیٹا، پہلے قرآن ، پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا: بُرہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں۔ وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا: آج ۹۰ فی صد لوگ اُسے دعائیں دیتے ہیں کہ بُرہان زندہ رہے تاکہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے مجاہد بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے، یہ دوہزار دن بنتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا: آپ اس کے لیے دعا کرتے ہیں؟ کہا: میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔
جواب: اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں ۲۰۰ سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس کا مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مر کر امر ہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے، شہادت کی موت ہے۔
مجاہد بُرہان وانی کی شہادت سے صرف ایک ماہ پہلے جون ۲۰۱۶ء میں آنے والی ویڈیو اسلامی جہاد کے تصور اور اس سے وفاداری کی منہ بولتی تصویر ہے، اخلاقیات کی علَم بردار تھی۔ اس نے کہا: مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بنائو۔ اس نے کہا: ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔۱؎
۱- یہ انٹرویو روزنامہ دنیا میں برادرم اوریا مقبول جان کے کالم مورخہ ۱۱جولائی ۲۰۱۶ء سے لیا گیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔
لندن کے روزنامہ دی گارڈین میں اس کے نمایندے جان بون کا کالم ۱۱جولائی کو شائع ہوا ہے۔ اس میں بُرہان وانی کی شہادت اور ان کے والد کے تصورات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
کشمیر میں تشدد کا حالیہ رائونڈ جس کے بارے میں بھارت اور پاکستان دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں جمعہ کو اس وقت شروع ہوا جب ایک بُرہان وانی مقبول کمانڈر جو کشمیر کی سب سے مقبول عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھا، جنگلات میں، دیہات میں، سری نگر میں ہلاک ہوگیا تھا۔
وانی ایک نئی نسل کا حصہ ہے جو ویب کی شوقین سائٹس پر مبنی ہے جو اپنے مطالبات اور کشمیر کی آزادی کو قبول کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ہفتے کے روز اس کے جنازے میں شرکت کی۔
آزادی کے حامیوں نے سڑکوں پر آکر ردعمل کا اظہار کیا۔ بند دکانوں پر نعرے پینٹ کیے ہیں۔وانی نے اپنی تازہ ترین وڈیو میں پولیس افسروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی قبضے کی حمایت ترک کردیں اور آزادی کی جنگ میں شریک ہوجائیں۔ ایک سینیر پولیس افسر نے حالیہ برسوں میں وانی کی ہلاکت کو militants کے خلاف سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے جب کہ دوسروں نے تصدیق کی کہ اس کی موت تشددپسند علیحدگی پسندوں کے لیے اپیل میں اضافہ کرے گی۔
جموں و کشمیر کے ساتھ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ٹویٹ کیا کہ وانی کی قبر میں صلاحیت اس سے زیادہ عسکریت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جتنی اس نے سوشل میڈیا سے پیدا کی۔ اس کے والد مظفروانی کے بقول: وانی ۱۵سال کی عمر میں حزب المجاہدین میں شریک ہوا۔ جب سیکورٹی فورسز نے اس پر حملہ کیا اور اس کی توہین کی۔ اس کے والد نے ANP کو ۲۰۱۴ء میں بتایا کہ اگر وہ اپنی عزت اور عوام کے لیے مرتا ہے تو وہ شہید ہوگا۔ (دی گارڈین،………)
جہاد اور مجاہد کے بارے میں ایسی رپورٹ ایک مؤقر انگریزی روزنامے میں دہشت گردی کے خلاف نائن الیون کے بعد کی جنگ اور اسلامی دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے اس ماحول میں ایک بڑی نادر شے ہے___ اور یہ بھی ۸جولائی کے ثمرات میں سے ایک ہے۔
روزنامہ دی ایکسپریس ٹربیون (۲۵ جولائی ۲۰۱۶ئ) میں مرکزی حکومت کے ایک سابق سیکرٹری جناب طارق محمود نے بُرہان وانی پر The Robin Hood of Kashmir کے عنوان سے دل چسپ مضمون لکھا ہے۔اس سے ایک اقتباس اس لیے پیش خدمت ہے کہ انگریزی اخبارات کے اس انبوہ میں جس میں ہر دہشت گرد گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے اور اچھے عسکری (Good Militant)اور بُرے عسکری (Bad Militant) کے تصور کو ٹکسال سے باہر کر دیا گیا ہے بلکہ سیاسی اور نظریاتی جرم بنادیاگیا ہے۔ ایک مجاہد کی جو تصویرآئی ہے وہ ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہی تصور کی جاسکتی ہے:
بُرہان مظفروانی ایک ملیشیا کمانڈر تھا جو کچھ مختلف تھا۔وہ ایک کمانڈر تھا جس نے اپنے ساتھیوں کو خودکش جیکٹ پہن کر عوامی مقامات پر دھماکا کرکے بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کی ہدایت نہیں کی تھی۔ وہ ایک ایسا کمانڈر تھا جو کمین گاہوں میں چھپتا پھرتا نہ تھا بلکہ لوگوں کے دلوں میں رہتا تھا۔ وہ ان لوگوں کو ہدف بنانے کا کہتا تھا جنھوں نے کشمیریوں کی واضح توہین کی ہو، ذہنی و نفسیاتی ٹارچر کیا ہو۔ وہ ایسا کمانڈر تھا جو نوجوانوں سے اپیل کرتا کہ امرناتھ یاترا میں ہندو یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس کے پاس کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے پار عناصر سے مدد لیتا۔ بلاشبہہ وہ کشمیریوں میں ظالم ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کا تسلسل ہے جو ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی تھی۔
تحریکِ آزادی کے نئے دور کا یہ ایک بڑا خوش گوار پہلو ہے کہ تحریکِ آزادی اور دہشت گردی کے جس فرق کو نائن الیون کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اس کا احساس ایک بار پھر بیدار ہونے لگا ہے۔ ہرہتھیار اُٹھانے والا لازماً دہشت گرد نہیں۔ گولی معصوم انسانوں کا خون بہانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور مجبور اور کمزور انسانوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے بھی۔ تلوار دوسروں کو غلام بنانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھی۔ قوت کا استعمال خیر اور صلاح کے قیام اور انصاف اور عدل کے فروغ کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور ظلم اور کفر کے فروغ کے لیے بھی۔ دونوں کا فرق مقصد، آداب و ضوابط ، کردار اور کارکردگی بالآخر عملی نتائج کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے ؎
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
۵- ۸ جولائی کے بعد جو تحریریں سامنے آرہی ہیں ان میں ایک اور بڑے بنیادی اصولی مسئلے کی بازیافت کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔ تاریخ میں ’مبنی برحق جنگ ‘ (just war) اور ’مبنی برظلم جنگ‘ (unjust war) میں ہمیشہ فرق کیا گیا ہے اور ایک یعنی ’جسٹ وَار‘ کو خارجہ سیاست کا ایک ہتھیار اور خیر اور فلاح کے حصول کا ایک ذریعہ تصور کیا گیا ہے اور صرف زر، زمین اور قوت حاصل کرنے اور دوسروں کو ان کے حقوق کے محروم کرنے کے لیے تلوار کے استعمال کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر جدید بین الاقوامی قانون میں سامراجی اقتدار اور غلبہ ظلم کی ایک شکل قرار دیا گیا اور سامراج کے خلاف جنگ ِ آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد خواہ وہ سیاسی ہو یا وہ عسکری جنگ کی شکل اختیار کرے، میں فرق کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے جنگ ِ آزادی (war of liberation) کو دہشت گردی تسلیم نہیں کیا گیا۔ امریکا کی برطانوی سامراج کے خلاف جنگ کو ’جنگ ِ آزادی‘ کا نام دیا گیا اور جارج واشنگٹن کو خواہ تاجِ برطانیہ کے نمایندے غدار اور دہشت گرد قرار دیتے رہے ہوں لیکن دنیا نے اور بین الاقوامی قانون نے اسے آزادی کا ہیرو قرار دیا۔ موجودہ اقوامِ متحدہ کے ۱۹۲؍ارکان ممالک میں تقریباً ۱۵۰ ایسے ہیں جو سیاسی اور عسکری جنگ کے نتیجے میں آزادی حاصل کرسکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دہشت گردی کی تعریف پر آج تک متفق نہیں ہوسکی کہ عظیم اکثریت کی نگاہ میں جنگ ِ آزادی دہشت گردی نہیں۔ اور اس امر پر اقوامِ متحدہ کے تمام ہی ادارے متفق ہیں۔(دیکھیے: کرسٹوفر کوئے، Liberation Struggle in International Law، ٹمپل یونی ورسٹی پریس، فلاڈلفیا، ۱۹۹۱ئ)
اس پس منظر میں ۸جولائی کے بعد کم از کم میری نظر سے پہلی بار ایک مشہور بھارتی صحافی آکار پٹیل کی یہ تحریر آئی ہے کہ بھارت میں ریاست جموں و کشمیر میں مزاحمت کی تحریک اور ملک کے دوسرے حصوں خصوصیت سے وسط ہند کی آرمی واسی بیلٹ جس کی سرحدیں جھارکھنڈ ، اڑیسہ اور چاٹس گڑھ تک پہنچتی ہیں اور تیسری شمال مشرق قبائلی بیلٹ میں برپا بغاوت کی تحریکوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے موقف کے ثبوت میں جو نقشہ وہ کشمیر اور اس میں برپا تحریک ِ آزادی کا کھینچتا ہے اس میں یہ پیغام بہ صراحت موجود ہے کہ کشمیر کی جدوجہد کو محض دہشت گردی کہنا قرین انصاف نہیں۔("Misapplying the term terrorism in India"،دی ایکسپریس ٹربیون، ۱۶ جولائی ۲۰۱۶ئ)
۶- ایک اور پہلو جو تحریک ِ آزادی کے موجودہ مرحلے کے سلسلے میں سامنے آرہا ہے اس کا تعلق نوجوانوں کے کردار سے ہے۔ ویسے تو تاریخ کی ہربڑی تحریک کے روحِ رواں جوان ہی رہے ہیں لیکن دورِ جدید کی آزادی کی تحریکات میں قیادت بالعموم پختہ عمر کے لوگوں کی رہی ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے موجودہ مرحلے میں جوانوں کے کلیدی کردار نے اس تحریک میں نئی جان ڈال دی ہے۔ پرانی قیادت آج بھی محترم ہے اور عزت اور رہنمائی کے اعلیٰ مقام پر متمکن ہے۔ لیکن اب ایک فطری انداز میں نئی قیادتیں اُبھر رہی ہیں اور یہ ایک نعمت ہے۔
تحریک ِ آزادیِ کشمیر کے یہ چھے پہلو ہیں جو ہماری نگاہ میں ۸جولائی کے بعد نئی اہمیت کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور آیندہ کی پالیسی سازی کے باب میں ان سب کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
آیندہ گزارشات سے پہلے میں تحریکِ آزادیِ کشمیر کے پورے تاریخی ، نظریاتی، سیاسی اور عسکری پس منظر کی روشنی میں جو سب سے اہم بات کہنا چاہتا ہوں اور جو میرے اپنے۷۰سالہ مطالعہ اور غوروفکر کا حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ۸جولائی جہاں تحریک کے تسلسل کی علامت ہے وہیں وہ تحریک کو ایک ایسے فیصلہ کن تاریخی موڑ تک لے آیا ہے جہاں صحیح حکمت عملی اور اس پر عمل کرنے کے لیے ایک مؤثر ، قرارواقعی ، حقیقت پسندانہ اور جامع پالیسی تحریک کو اپنی منزل سے بہت قریب کرسکتی ہے۔ ہماری نگاہ میں اس حکمت عملی اور پالیسی کو ان حقائق کی روشنی میں مرتب کرنا وقت کی اصل ضرورت ہے:
(الف) مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ۶۹سالہ قبضہ اپنے اصل مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ فوجی قوت اور سرکاری استبداد کے ہرممکن حربے کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کو محکومی کو قبول کرنے یا اس پر خاموش ہوجانے میں حکمران قوت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن بھارت کے حکمران اور بااثر طبقے اس صورتِ حال کو سمجھنے کے باوجود ابھی اسے تسلیم نہیں کر رہے لیکن اسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔
(ب) حالات کو اس مقام تک لانے میں سب سے اہم کردار جموں و کشمیر کے عوام اور تحریکِ آزادی کی قیادت کا ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی ہے اور بالآخر اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا لیکن اقتدار کی ظالمانہ اور استبداد پر مبنی پالیسی کے نتیجے میں عسکریت نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اصل چیز ان کے درمیان صحیح توازن اور سیاسی پہلو کا غلبہ ہے۔ جہاں عسکریت کا ایک اہم مثبت کچھ حالات میں فیصلہ کن حد تک اہم کردار ہے، وہیں عسکریت پسندی اصل فیصلہ کن عامل نہیں۔ اس کا کردار یا معاونت کا ہے یا سدجارحیت کا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر عسکریت کا چہرہ اور کردار مثبت اور اخلاقی برتری کا ہوگا (جس کا سمبل آج بُرہان وانی ہے) تو وہ مفید اور فیصلہ کن ہوگا اور اگر فساد، عدم تواز ن اور نتائج اور اثرات سے بے نیاز ہوکر انتقام اور غصہ کا ہوگا تو عسکریت اپنا اخلاقی وزن کھو دیتی ہے۔ جدید اور قدیم تاریخ اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خود کشمیر کی تحریک کی تاریخ میں خصوصیت سے ۱۹۹۰ کے عشرے کے وسط میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ ۸جولائی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے عسکریت کے معتبر چہرے کو ایک بار پھر اس جدوجہد میں نمایاں کر دیا ہے اور تحریک ِ آزادی کی اخلاقی اور سیاسی برتری کو اس حد تک واضح کردیا ہے کہ جو اپنوں کے لیے قوت اور نئے جذبے کا ذریعہ اور مخالفین کے لیے نہ صرف سوالیہ نشان بلکہ کڑوی گولی بنتا جارہا ہے۔ یہ وہ نازک لمحہ ہے جب اس توازن کی حفاظت اور سیاسی جدوجہد کی اوّلیت اور مرکزیت کا سختی سے اہتمام تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
ان بنیادی حقائق کی روشنی میں اور تحریک کو ان میں نظر آنے والے مقاصد اور حقائق کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جس وژن، جس حکمت عملی اور جس پالیسی اور جس نوعیت کے اقدام کی ضرورت ہے___ آیندہ سطور میں ان کی نشان دہی کی جارہی ہے۔
اب ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ سب سے پہلے ان اُمور کو واضح کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کی اصل بنیاد ہیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں حکومت، قوم اور اس کی سیاسی، دینی اور عسکری قیادت اور ان تمام عناصر کو کرنے چاہییں جو سیاسی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
۱- جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔
۲- ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے، اس کے ۶۰ فی صد علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے، نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور دھوکا ہے، جسے کوئی دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
۳- ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب راے کرایا جائے گا۔
۴- کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا تنازعہ ہے، نہ سرحد کی صف بندی کا معاملہ ہے، اور نہ محض پاکستان اور بھارت میں ایک تنازعہ ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام___ جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔
۵- کشمیر بھارت کے لیے غاصبانہ ہوسِ ملک گیری کا معاملہ ہے اور پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیوں کہ اس کا تعلق ان بنیادوں سے ہے جن پر پاکستان قائم ہوا اور تقسیم ہند عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ اس کا تعلق ریاست کے مسلمانوں (جن کو عظیم اکثریت حاصل ہے) کے مستقبل اور پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات، نیز معاشی اور تہذیبی وجود سے بھی ہے۔
ان پانچ اُمور پر قومی اجماع تھا اور ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی ۱۳؍اکتوبر ۱۹۴۸ئ، ۵ جنوری ۱۹۴۹ء اور سلامتی کونسل کی دوسری قرارداوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف نے ۲۰۰۳ء میں اس پالیسی سے انحراف کا راستہ اختیار کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو بائی پاس کرنے کی بات کی اور پھر ایک چار نکاتی فارمولے کا ڈھونگ رچایا جواللہ کی اعلیٰ تر تدبیر کے طفیل بھارت اور پاکستان دونوں کی اندرونی سیاسی صورتحال کے باعث زمین بوس ہوگیا۔ البتہ فکری انتشار، پالیسی کے باب میں کنفیوژن، اور سب سے بڑھ کر عملاً جموں و کشمیر کی تحریک ِ آزادی کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوا۔ جیساکہ ہم نے پہلے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے تلافی کے دوسرے سامان پیداکیے لیکن ایک مدت تک تحریک ٹھٹھری ٹھٹھری رہی اور اس کی ترقی کی رفتار بُری طرح متاثر ہوئی۔ نیز پاکستان سے جو توقعات کشمیری عوام کو ہیں، انھیں بھی بڑا دھچکا لگا۔ افسوس کا مقام ہے، پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جو حکومتیں بنیں انھوں نے بھی پالیسی کو اصل اجماعی پوزیشن کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے اور پوری قوت سے متحرک کرنے کے باب میں کوئی اہم قدم نہیں اُٹھایا۔ کشمیر کمیٹی بھی کوئی مفید اور مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی۔ نوازشریف صاحب نے عوامی اور خود اپنی جماعت کے کچھ اہم لوگوں کے دبائو میں چندبیانات کی حد تک اصولی موقف کا اعادہ کیا لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں اُٹھایا بلکہ اپنی ذاتی ترجیحات کے زیراثر بھارت سے خوش گوار تعلقات، اعتماد سازی کے لیے اقدامات کے سلسلے میں نئی دل چسپی اور بھارت سے تجارت کے ناکام تجربات کو ایک بار پھر دُہرانے کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی اور ہرقدم پر ٹھوکر کھائی۔ اس پس منظر میں۸جولائی پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ایک تاریخی موقع فراہم کر رہا ہے اور ہم ملک کی پوری قیادت سے پوری درمندی اور دل سوزی سے استدعا کرتے ہیں کہ اس تاریخی موقعے سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی قرارداد ایک اچھا ابتدائی اقدام ہے لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ایک طرف اس قومی موقف پر سختی سے ڈٹ جائیں جس کا آغاز علامہ اقبال کی رہنمائی میں ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو شروع ہونے والی تحریکِ آزادیِ کشمیر کے موقعے پر ہوا، جسے تحریکِ پاکستان کے دوران نکھار اور تقویت ملی اور جس پر قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی قوم قائم ہے۔
کشمیر کا مسئلہ تمام مسلمانانِ ہندستان کی سیاسی حیات اور موت کا مسئلہ ہے۔ اہلِ کشمیر سے ناروا سلوک، ان کی جائز اور دیرینہ شکایات سے بے اعتنائی اور ان کے سیاسی حقوق کا تسلیم نہ کرنا، مسلمانانِ ہند کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ حق بات بھی یہی ہے کہ اہلِ خطہ کشمیر ملّت ِ اسلامیہ کا جزولاینفک ہے۔ ان کی تقدیر کو اپنی تقدیر نہ سمجھنا تمام ملّت کو تباہی و بربادی کے حوالے کر دینا ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں ایک مضبوط و مستحکم قوم بننا ہے تو دو نکات کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اوّل یہ کہ شمال مغربی سرحدی صوبے کو مستثنیٰ کرتے ہوئے حدود ہند کے اندر جغرافیائی اعتبار سے کشمیر ہی وہ خطہ ہے جو مذہب اور کلچر کی حیثیت سے خالصتاً اسلامی ہے۔ دوسری بات جسے مسلمانانِ ہند کبھی نظرانداز نہیں کرسکتے، یہ ہے کہ ان کی پوری قوم میں سب سے بڑھ کر اگر صناعی و ہنرمندی اور تجارت کو بخوبی پھیلانا……… نمایاں طور پر کسی طبقے میں موجود ہیں تو وہ اس خطے کا گروہ ہے۔ بہرحال وہ قوم اسلامی ہند کے جسم کا بہترین حصہ ہیں۔ اگر وہ حصہ درد و مصیبت میں مبتلا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ باقی افراد ملّت فراغت کی نیند سو جائیں۔ (بحوالہ کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی، ص ۴۷۱)
مسلمان جغرافیائی حدود کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے اسلامی برادری کے نام پر ہندستان کے مسلمان آپ کی مدد کے لیے کمربستہ ہیں۔ اگر آپ پر ظلم ہوا یا آپ سے بدسلوکی کی گئی تو ہم بیکار تماشائی کی صورت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسی صورت میں برطانوی ہند کے مسلمان آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوجائیں گے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم آپ کی مدد کے پابند ہیں۔
آج ہمارے حکمران’جہاد‘ کے لفظ سے خائف اور اس پر شرمندہ ہی نہیں ہیں بلکہ اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو ’دہشت گرد‘ تک قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھیے جب اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے قبائلی مسلمان، وہی قبائلی مسلمان جن پر آج امریکا کی خوش نودی کے حصول یااس کے حکم کے تحت پاکستانی فوج کو بم باری اور آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ان قبائلی مسلمانوں نے کشمیر کے جہاد میں شرکت کی اور اس پر جب بھارتی گورنر جنرل نے ان کے خلاف اقدام کا مطالبہ کیا تو قائداعظم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا فرمایا:
ہم اس کی ذمہ داری لینے پر تیار نہیں اور نہ ہم قبائلیوں پر دبائو ڈال سکتے ہیں کہ وہ کشمیر کو خالی کردیں۔ مسلمانانِ کشمیر نے ڈوگرہ آمریت سے تنگ آکر ہری سنگھ کی گورنمنٹ کو فتح کرنے کے لیے جہاد شروع کر رکھا ہے اور قبائلیوں نے مجاہدین کا ہم مذہب ہونے کی مناسبت سے ان کی امداد کی ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے میں کسی قسم کا دخل دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ مجاہدین کی یہ جنگ ِ آزادی ہے اور کوئی آزادی پسند ملک آزادی کی خاطر لڑنے والوں کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتا۔ اس لیے جن قبائلیوں کو برطانوی حکومت نہ دبا سکی، ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ وہ ایک نصب العین کے لیے نبردآزما ہیں۔ (۳ نوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم اور مائونٹ بیٹن کے مابین ایک کانفرنس کی رُوداد ملاحظہ ہو، رشحاتِ قائد ، مرتبہ: نجمہ منصور، العبد پبلی کیشنز، سرگودھا، ۱۹۹۲ئ، ص ۱۶۷-۱۶۸)
عوام نے متعدد بار راجا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں شامل ہوجائیں لیکن راجا پر اس مسئلے کا اُلٹا اثر ہوا، اور اس نے عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوششیں کیں۔ اس پر عوام نے بھی طاقت کا جواب طاقت سے دینا شروع کر دیا۔ جب راجا ان کی چوٹ برداشت نہ کرسکا تو اپنا اقتدار ختم ہوتے دیکھ کر اسے ہندستان میں شامل ہونے کی سوجھی۔ دراصل کشمیر ہندستان میں شامل نہیں ہوا، بلکہ ہری سنگھ شامل ہوا ہے۔ جب ہندستان میں ہری سنگھ کی شمولیت کے خلاف کشمیری عوام ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تو ان سے یہ راے طلب کرنے کی تجویز کہ وہ ہندستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں، نہ صرف فریب بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر قائداعظم نے مائونٹ بیٹن سے یہ بھی کہا: کشمیر جہاں اقتصادی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کا ایک جز ہے، وہاں سیاسی اعتبار سے بھی اس کا پاکستان میں شامل ہونا ضروری ہے۔ (رشحاتِ قائد، مذکورہ بالا)
کشمیر کے بارے میں قائداعظم کی پالیسی کیا تھی؟ اس کا اظہار انھی کے الفاظ میں ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے کیا ہے:
کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے آگے کردے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ ہے جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظرانداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائے گی۔(قائداعظم کے آخری ایام)
آج اس امر کی ضرورت ہے کہ اقبال اور قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اور ان تمام زمینی اور تاریخی حقائق اور پاکستان او ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے حقیقی جذبات، عزائم اور تمنائوں کے مطابق پاکستان اپنی کشمیر پالیسی مرتب کرے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدام کرے جن پر پوری تندہی اور شفافیت کے ساتھ ہرسطح پر عمل کیا جائے۔ پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں رکھا جائے، احتساب کا نظام متحرک اور مؤثر ہو اور پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر ایک دوسرے کے لیے تقویت کا ذریعہ بن کر مشترکہ مفادات اور مقاصد کے لیے اس تحریک کو اپنے منطقی انجام تک لے جائیں جس کی آبیاری ہمارے نوجوان اپنے خون سے کر رہے ہیں۔
اصولی بات تو ایک جملے میں ادا کی جاسکتی ہے: پاکستان کی کشمیر پالیسی کا مقصد پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے عزائم، حقیقی مفادات اور پورے علاقے کے لیے ترقی، استحکام، سلامتی اور خوش حالی کا حصول ہونا چاہیے۔
۱- مسئلہ کشمیر ، ریاست جموں و کشمیر کے سوا کروڑ سے زائدمسلمانوں کے ایمان، عزت، آزادی اور سیاسی اور تہذیبی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ یہ تقسیم ملک کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی ترجیحات میں اسے اولیت دینا چاہیے۔
۲- مسلمانانِ جموں و کشمیر نے اپنی بیش بہا قربانیوںکے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھا ہے اور اس وقت اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں ہندستان اور دنیا کے دوسرے ممالک یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کے فریق پاکستان، ہندستان اور اقوامِ متحدہ بھی ہیں۔ پاکستان کا فرض ہے کہ ایک فریق کی حیثیت سے مسئلے کو لے کر اُٹھے اور ہرمیدان میں اس کے حل کے لیے سرگرم ہو… تحریکِ آزادی کی مدد کے ذریعے بھی اور عالمی راے کو منظم اور مسخر کر کے بھی۔
۳- پاکستان اس موقف کے بارے میں ذرہ برابر بھی کمزوری نہ دکھائے کہ مسئلۂ کشمیر کے حل کا صرف ایک طریقہ ہے وہ ہے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے۔ اس استصواب راے میں بھی صرف دو ہی راستے ہیں: یعنی ہندستان یا پاکستان سے الحاق۔ کسی تیسرے آپشن کا دروازہ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے، پاکستان کے لیے بھی اور مسلمانانِ جموں و کشمیر کے لیے بھی۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری جرأت اور دانش مندی سے پیش کرے۔ پاکستان یہ بات بھی واضح کردے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر میں تعلقات کی نوعیت، نظم و نسق اور انتظام و انصرام کا نقشہ، اور خود اختیاری کی شکل و نوعیت کیا ہو۔ یہ تمام اُمور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہوں۔ پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۵۷ بہت واضح ہے جو ریاست کے عوام کی راے کو حرفِ آخر تسلیم کرتا ہے۔
۴- پاکستان کا فرض ہے کہ مجاہدین کشمیر کی بھرپور مدد کرے اور اس کے اعلان میں شرمندگی نہ محسوس کرے۔ پاکستان نے کشمیر کی خاطر گذشتہ ۶۹سال میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آج جب کشمیر کے نوجوان کشمیر اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کی مدد کریں۔ ان کی ہرضرورت کو پورا کریں، اور ہندستان نے ان پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، ہم صحیح معنی میں ان کے پشتی بان بن جائیں۔
۵- پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ، اس جدوجہد میں آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کی طرح، آزاد کشمیر کی حکومت بھی اپنے اصلی مشن کو بھول چکی ہے۔ وہ محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں، بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اس کا اوّلین مقصد ہے۔ اسی لیے اسے بیس کیمپ کا لقب دیا گیا تھا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ گروہی سیاست سے بالا ہوکر، آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنی ترجیحات کو یکسر بدل کر تحریکِ آزادی کو اس کے منطقی اور فطری نتیجے تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔
۶- حکومت ِ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ یہ مقصد محض سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوسکتا، مگر سیاسی اور سفارتی مہم بہت اہم ہے اور اب تک اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔ محض چند وفود باہر بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ اس کے لیے بڑے ہمہ گیر، منظم اور مؤثر کام کی ضرورت ہے، جس کے تحت پوری دنیا میں ہر علاقے کے حالات کے مطابق تحریکِ کشمیر کے تعارف اور اس کے لیے تائید کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہماری وزارتِ خارجہ بالعموم اس مقصد میں ناکام رہی ہے۔
اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کشمیر کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وزارت کی تنظیم نو ہو، اور کشمیر ڈیسک سب سے اہم ڈیسک ہو۔ ہر اس ملک میں جہاں ہمارا سفارت خانہ ہے کشمیرسیل قائم کیا جائے، علم اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو جو کشمیر کے لیے صحیح جذبہ رکھتے ہوں، اس کام پر لگایا جائے، اور اس طرح عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک چلائی جائے۔
۷- پوری پاکستانی قوم کو حالات سے آگاہ رکھنا اور جذبۂ جہاد سے سرشار کرنا بھی اس پالیسی کا اہم جزو ہونا چاہیے۔ جب تک پوری قوم کو اس تحریک کے لیے متحرک نہیں کیا جائے گا، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہراسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں، ہرشہر، قصبہ اور دیہات میں، ہرمسجد اور مدرسے میں، ہرکارخانہ اور بازار میں، جہادِ کشمیر سے لوگوں کو متعارف کرایا جائے اور اس میں شرکت کے لیے مال سے، جان سے، ہر صورت میں آمادہ کیا جائے۔ قوم میں بڑا جذبہ ہے لیکن اسے آج تک صحیح انداز میں متحرک و منظم نہیں کیا گیا۔
۸- حکومت پاکستان کو اپنے بجٹ کو بھی ان ترجیحات کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کرنا ہوگا۔ جہادِکشمیر کی ضروریات کو اوّلیت دینا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ایٹمی طاقت کی مناسب ترقی، فوج کو چوکس رکھنا اور قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ جب کشمیر میں حالات ہندستان کی گرفت سے بالکل نکلنے لگیں گے تو وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیار رہیں۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو قوم جنگ سے خائف رہی ہے وہ اپنی آزادی سے بھی محروم ہوگئی ہے اور جو قوم جنگ کے لیے تیار رہی ہے، وہی اپنے ایمان، عزت و آزادی کو محفوظ رکھ سکی ہے ۔
سابق امریکی صدر نکسن نے بہت صحیح کہا تھا کہ ’’ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قوت کے استعمال سے دستبرداری، دراصل دشمن کو اپنے خلاف قوت کے استعمال کی دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘۔ نکسن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’صرف تیار ہی نہ رہو، مخالف کو یہ پیغام بھی دے دو کہ تم ہرقوت کے استعمال کے لیے تیار ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو دشمن کو تم پر دست درازی سے روکے گی‘‘۔ اسی بات کو ہنری کسنجر نے ایک دوسرے انداز میں کہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اگر امن کے معنی محض جنگ سے بچنا لے لیے جائیں، اور یہ چیز ایک قوم یا بہت سی اقوام کے مجموعے کا بنیادی مقصد بن جائے، تو سمجھ لو عالمی سیاسی نظام کا سب سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ملک کے رحم و کرم پر ہوگا‘‘۔ اس لیے جنگ سے بچنے کا بھی سب سے مؤثر راستہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔
۹- ہندستان پر مؤثر دبائو ڈالنے کے لیے چار ہی اہم طریقے ہیں اور ان چاروں کو مؤثر انداز میں اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے:
o تحریکِ آزادی کشمیر کی بھرپور اور مؤثر مدد، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت پر اتنا دبائو پڑے اور اسے قبضے کی اتنی گراں قیمت ادا کرنی پڑے کہ وہ پُرامن حل کے لیے تیار ہوجائے۔
o عالمی راے عامہ کو منظم کرنا، اور اس کا دبائو اتنا بڑھانا کہ ہندستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے کے لیے مجبور ہو۔ اگر فرانس کو الجزائر چھوڑنا پڑا، اگر اقوامِ متحدہ کو نمیبیا میں استصواب راے کروانا پڑا، اور اگر جنوبی افریقہ ۳۰۰سالہ نسلی امتیاز کے نظام کو ختم کرنے پر مجبور ہوا، تو ہندستان کو بھی کشمیر میں استصواب راے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ ۲۰برسوں میں جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور اور شمالی آئرلینڈ میں ریفرنڈم ہوئے ہیں۔ اوّل الذکر دونوں آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آچکی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور ’گڈفرائیڈے‘ معاہدے کے تحت مل کر تمام عناصر حکومت چلا رہے ہیں جسے ۱۵سال ہوچکے ہیں۔ کینیڈا میں کیوبک کے علاقے میں اور برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہوا۔ گو دونوں جگہ اس کے نتیجے میں نئی ریاستیں قائم نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ انگلستان نے ابھی دو ماہ پہلے یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں ریفرنڈم کرایا اور یورپ سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا جس پر اگلے دو سال میں عمل ہونا ہے۔ اگر دنیا میں ان تمام ممالک میں بین الاقوامی قانون کے تحت ریفرنڈم ہوسکتے ہیں تو کشمیر کے باب میں اقوامِ متحدہ میں ۲۰ سے زیادہ قراردادوں کی موجودگی میں اور بھارت کے حکمرانوں کے اپنے عہدوپیمان کے مطابق اور سب سے بڑھ کر وہاں کی عوام کی راے کو احترام میںریفرنڈم کیوں نہیں ہوسکتا؟
o ہندستان اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عالمی مہم: پاکستان خود اس کا آغاز تمام تجارتی تعلقات منقطع کر کے کرے۔ تمام مسلمان ممالک کو اس کی ترغیب دی جائے کہ اوآئی سی کی اپریل۱۹۹۳ء کی قرارداد کے مطابق ہندستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس وقت صرف مشرقِ وسطیٰ میں ہندستان کی کُل برآمدات کا تقریباً ۵۰ فی صد جا رہا ہے۔ اگر ایک مؤثر عوامی اور سرکاری تحریک چلائی جائے تو یہ معاشی دبائو بھی ہندستان کو مجبور کرے گا کہ کشمیر میں استصواب راے کرائے۔ پھر عالمی پلیٹ فارم پر بھی معاشی پابندیوں کا مطالبہ کیا جائے۔ سیکورٹی کونسل میں، جنرل اسمبلی میں، دنیا کی مختلف پارلیمانوں میں یہ قراردادیں منظور کرائی جائیں۔ عوامی بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ سرکاری پابندیوں کی تحریک بھی چلائی جائے۔فلسطین کے مسئلے کے باب میں دنیا میں اس وقت اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ آغاز میں یہ کام ناممکن محسوس ہوتا تھا مگر چندبرسوں کی کوشش سے تحریک نے اب تقویت حاصل کرلی ہے اور اسرائیل اس پر آتش زیرپا ہے۔ ہندستان کے سلسلے میں بھی ایسی ہی تحریک کی ضرورت ہے۔اگر اس واضح ہدف کے لیے کام کیا جائے تو جلد فضا تبدیل ہوسکتی ہے۔
o قوم کو جہاد کے لیے تیار کرنا، فوج کا چوکس رہنا اور ایٹمی صلاحیت کا صحیح درجے میں موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ایک طرف یہ چیز بیرونی جارحیت کے لیے مؤثر مانع ثابت ہوگی، اور دوسری طرف ہم کو وہ استطاعت حاصل رہے گی کہ اگر دشمن کوئی دست درازی کرتا ہے تو اس کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔ ایٹمی طاقت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے محدود جنگ کے امکانات کی نوعیت بدل گئی ہے اور مکمل جنگ سے اجتناب ممکن ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس دفاعی اسٹرے ٹیجی میں ایٹمی طاقت کا مؤثر کردار ہے۔
۱۰- مندرجہ بالا خطوط پر مرتب کردہ کشمیر پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے نفاذ کے لیے بھی ایک مؤثر مشینری وجود میں لائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پالیسی اور اس کی تنفیذی مشینری قومی بنیادوں پر استوار کی جائے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مناسب ابتدائی اقدامات کرنے چاہییں۔ میڈیا کا کردار بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کام کے لیے ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔
جس طرح کشمیر کے نوجوانوں نے چند برسوں میں وہاں کی فضا تبدیل کردی ہے ،اسی طرح اگر پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنے فرض کی ادایگی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں تو حالات بہت کم وقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف تحریکِ آزادیِ کشمیر اور بالآخر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شکل میں ہی نہیں ہوگا، بلکہ قوم کو نئی زندگی اور نیا جذبہ ملے گا، اور اس نئی زندگی اور نئے جذبے کو پاکستان کو ایک حقیقی اور مضبوط اسلامی، فلاحی مملکت بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہی تحریکِ پاکستان کا اصل مقصد تھا اور یہی تحریکِ کشمیر کی بھی قوتِ محرکہ ہے۔
جمہوری معاشرے میں سالانہ قومی بجٹ اور پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس موقعے پر قوم کو ملک کی معاشی حالت، اس کے مالی وسائل اور ان کے استعمال کی صورتِ حال، حکومت کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں اور ترجیحات کی کیفیت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ حال اور مستقبل کے سیاسی، دفاعی اور ہرقسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اس کے استعمال کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ اس پر بحث و گفتگو کرنے اور قوم اور ملک کے معاشی اور اجتماعی مقاصد اور اہداف کی صورت گری کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کی حکومت نے اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرلیے ہیں اور یہ چوتھا بجٹ اس حکومت کی تین سال کی کارکردگی کے جائزے کا بہت ہی مناسب موقع ہے۔
ویسے تو جمہوری ممالک میں نئی حکومت کے پہلے ۱۰۰دن ہی اس کی کارکردگی اور سفر کے رُخ کو سمجھنے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن تین سال کی مدت تو ہراعتبار سے حکومت کی صلاحیت ِکار اور مستقبل کے باب میںا س سے توقعات کے بارے میں ایک معروضی راے قائم کرنے کے لیے کافی مدت ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں تو حکومت کی ٹرم چار سال ہی ہوتی ہے جس کی سب سے اہم مثال خود امریکا ہے لیکن چونکہ ہمارے دستور میں یہ مدت پانچ سال ہے، اس لیے اس کے دوسرے نصف کے آغاز کو ہراعتبار سے جائزے اور محاسبے کے لیے ایک مناسب میقات تصور کیا جانا چاہیے۔
جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ، قومی بجٹ صرف گذشتہ سال کے دوران حکومت کے زیرتصرف مالی وسائل کے حصول اور خرچ کا ایک میزانیہ اور اگلے سال کے لیے وسائل اور ان کے استعمال کا ایک پروگرام ہی نہیں ہوتا بلکہ دراصل ان مالی اعداد و شمار کے آئینے میں حکومت کی معاشی منزل اور وژن، پالیسیوں اور حکمت عملی، ترجیحات اور اہداف کی ایک معتبر اور مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔
بجٹ سے پہلے سالانہ معاشی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جو گزرے ہوئے سال کے معاشی حالات، طے شدہ اہداف کے حصول یا حصول میں ناکامی اور معاشی اور مالی پالیسیوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو پیش کرتا ہے، اور جس کے اسٹیٹ بنک کی سہ ماہی اسٹیٹ آف دی ایکونومی رپورٹوں کے ساتھ مطالعے سے ملک کی تاریخ کے پس منظر میں گزرے ہوئے سال کی پوری صورتِ حال کو سمجھا جاسکتا ہے۔ پھر اس کی روشنی میں نئے سال کا بجٹ اور سالِ گذشتہ کے اخراجات اور آمدنیوں کی پوری تفصیل کئی ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی دستاویزات کی شکل میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور قوم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ قوم، ملک کے معاشی، سیاسی اور علمی حلقے، میڈیا اور متاثر ہونے والے تمام عناصر اپنی اپنی راے کا اظہار کرسکیں۔ سینیٹ اگرچہ بجٹ منظور نہیں کرتا لیکن اسے دو ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کا اختیار ہے۔قومی اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب آرا کی روشنی میں بجٹ کو آخری شکل دے۔ اس کے تین مرحلے ہوتے ہیں، یعنی بجٹ کے پیش ہونے کے بعد اس پر عام بحث۔ پھر متعین اخراجات پر احتساب جنھیں کٹوتی کی تحریکات (Cut Motions) کہا جاتا ہے اور پھر بجٹ کی منظوری۔ کٹوتی کی تحریک بھی اتنا اہم مرحلہ ہوتا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف کی طرف سے صرف ایک تحریک منظورہوجائے تو حکومت کو مستعفی ہونا پڑتا ہے اور بجٹ کی ازسرِنو تشکیل ضروری ہوجاتی ہے۔
دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں بجٹ سازی کا کام چار سے چھے مہینوں پر پھیلا ہوا ہوتا ہے تاکہ ہرسطح پر معاشی اور مالی معاملات کا گہرائی میں جائزہ لیا جاسکے۔ امریکا میں اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیاں سال بھر کام کرتی ہیں۔ برطانیہ میں یہ عمل بجٹ پیش ہونے سے تین مہینے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور برطانیہ اور نصف سے زیادہ جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹ اس پر چار سے آٹھ ہفتے گفتگو کرتی ہے اور پھر افہام و تفہیم کے ساتھ اسے متفقہ طور پر یا اکثریت کی بنیاد پر منظور کیا جاتا ہے۔
بجٹ سازی کا عمل جس سنجیدگی، ملک گیر بحث و گفتگو اور ان تمام عناصر کے درمیان جو کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہورہے ہوں، معنی خیز افہام و تفہیم کے جس عمل کا متقاضی ہے، بدقسمتی سے اس کا پاکستان میں کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ پارلیمنٹ خود بھی اپنا دستوری کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور تمام ہی حکومتوں نے بجٹ کو محض ایک رسم اور حکومت کی مرضی کو آمرانہ انداز میں مسلط (bulldoze) کرنے کی روایت قائم کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب حزبِ اختلاف میں تھی تو پیپلزپارٹی کی روش پر سیخ پا تھی اور اس رویے کو ننگی آمریت کہتی تھی، اب اقتدار میں ہے تو اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرنے میں وہ کوئی باک محسوس نہیں کرتی۔ جس کی بدترین مثال اس سال پیش کی گئی ہے۔
سینیٹ کی سفارشات میں سات آٹھ سال سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سالانہ معاشی جائزہ بجٹ سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے شائع ہو تاکہ اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاسکے۔ ۲۴گھنٹے پہلے لانا ایک مذاق ہے۔ موجودہ وزیرخزانہ ہمارے ساتھ اس مطالبے میں پورے جوش و خروش سے شریک تھے مگر ان کی اپنی حکومت کے چوتھے بجٹ کے موقعے پر بھی معاشی جائزہ وہی ایک دن پہلے شائع کیا گیا ہے۔ اس طرح ان کے دور میں بھی ہرسال اسی طرح بجٹ کے ساتھ اضافی اخراجات کی پوری کتاب آرہی ہے جس طرح پہلے آتی تھی، جو دستور اور جمہوری اصولوں کی روح کے خلاف ہے اور دستور کی کسی بہت ہی خاص مجبوری کے حالات کے لیے ایک گنجایش کا صریح غلط استعمال ہے۔ اس سال میں یہ اضافی اخراجات ۲۶۱؍ارب روپے پر پھیلے ہوئے ہیں اور لگژری گاڑیوں کی خریداری بھی اس کا حصہ ہے۔ بجٹ کی تیاری کے دوران جس نوعیت کی مشاورت ضروری ہے، اس کا اہتمام نظر نہیں آتا۔ سب سے افسوس ناک صورت حال بجٹ کے پیش کیے جانے کے ساتھ وہ سلوک ہے جو اس کے اور پارلیمنٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ سینیٹ کی سفارشات کی منظوری کے وقت وزیرخزانہ بحث میں موجود نہیں تھے اور ان کی اختتامی گفتگو کے بغیر سینیٹ کو اپنی سفارشات بھیجنا پڑیں۔ قومی اسمبلی میں نصف درجن سے زائد مواقعے پر بجٹ اجلاس کو کورم نہ ہونے کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔وزیرخزانہ بحث کے تین چوتھائی وقت اسمبلی میں موجود نہ تھے۔ سرکاری ارکان تک شکوہ سنج تھے کہ انھیں کوئی سننے والا نہیں ہے اور ایک مسلم لیگی ایم این اے نے تو اپنی تقریر پھاڑ دی اور تقریر کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ نہ کوئی وزیر ہے اور نہ کوئی سننے والا ۔ اخباری اطلاع ہے کہ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری جماعت کے ۶۰ سے زیادہ ارکان نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا اور ان کو مناکر واپس لانے کی رسم بھی ادا کرنا پڑی۔ افسوس صد افسوس! ع
بجٹ اور بجٹ سیشن کی اتنی بے توقیری کی کوئی مثال خود ہماری اپنی پارلیمنٹ کی تاریخ میں موجود نہیں۔ ایک موقعے پر تو حکومت اور حزبِ اختلاف کے تمام حاضر ارکان کی تعداد صرف نو بیان کی گئی ہے۔
سیشن میں کیے جانے والے مباحث کا جائزہ لیا جاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ دو یا زیادہ سے زیادہ تین تقاریر کو تسلی بخش قرار دیا جاسکتا ہے۔ ستم ہے کہ خود حکومت کے وزرا کی فوج ظفرموج بھی بجٹ کی تشریح یا دفاع کرتی نظر نہیں آتی۔ کوئی ایک تقریر بھی سرکاری بنچوں کی طرف سے ایسی نہیں ہوئی جسے قابلِ ذکر قرار دیا جاسکے۔ رہا میڈیا تو وہی چار پانچ وزیر اور ایک مشیر ہیں جو گھسی پٹی باتیں ایوان میں اور میڈیا پر دہراتے رہے ہیں اور اصل ایشوز پر کسی کو کوئی مدلل بات کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ حزبِ اختلاف کی تقاریر کا معیار بھی تسلی بخش نہیں قرار دیا جاسکتا حالانکہ یہ حکومت اور اس کی پوری کارکردگی پر گرفت کا بہترین موقع تھا۔ خود حکومت کا رویہ بڑا تشویش ناک رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم (جو خود بھی پارلیمنٹ میں بہت کم رونق افروز ہوتے تھے) کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کا کوئی سرپیر ہی نہیں ہے۔ بجٹ بنانے میں بھی سارا بوجھ وزارتِ خزانہ پر ہے حالانکہ اس میں پلاننگ کمیشن اور تجارت، معاشی اُمور، بجلی، گیس اور پٹرولیم، زراعت، تعلیم، صحت، لیبر وغیرہم کا بھی ایک نمایاں کردار ہونا چاہیے ۔ اس سال خصوصیت سے جو صورتِ حال سامنے آئی ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ بجٹ سازی اور اس کے دفاع میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ حتیٰ کہ خوراک کے لیے خودانحصاری کے حصول کے لیے جو نئی وزارت بڑے طمطراق سے قائم کی گئی تھی، اس تک کا دُور دُور کوئی پتا نظر نہیں آتا۔ حکومت کا حال یہ ہوگیا ہے کہ ؎
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اتنے سپاٹ، بے روح، وژن سے محروم اور سطحیت کے شکار بجٹ کی توقع وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم سے نہ تھی___ ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر مسلم لیگ کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ ہمارے پاس پروگرام، تجربہ اور لائق ٹیم ہے اور ہم چھے مہینے میں ملک کی قسمت کو بدل کر رکھ دیں گے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تیسرا سال ختم ہوگیا ہے اور پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، خوش حالی نایاب ہے، اور غربت بڑھ رہی ہے، روزگار معدوم ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت کا پہیہ ہے کہ گردش میں نہیں آرہا۔ مالی سال ۱۶-۲۰۱۵ء میں زراعت پچھلی دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ نہ صرف یہ کہ ترقی کا اپنے ہدف حاصل نہ کرسکی بلکہ عملاً منفی پیداوار کا منظر پیش کر رہی ہے اور گذشتہ سال کی پیداوار کے مقابلے میں پیداوار کا کُل حجم کم ہوگیا ہے۔ معاشی ترقی کی شرحِ نمو میں زراعت کا کردار منفی رہا ہے۔ اسی طرح برآمدات جو زرمبادلہ کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہیں، وہ تین سال سے جمود کا شکار ہیں اور جون ۲۰۱۶ء میں سالانہ برآمدات کا حجم ۲۰۱۳ء کی برآمدات سے کم ہے۔ یہی معاملہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے جو ساڑھے تین بلین ڈالر سالانہ سے کم ہوکر صرف ایک بلین ڈالر پر آگئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ حالات غیرمتوقع طور پر رُونما ہوگئے ہوں۔ ان تینوں برسوں کے اکانومک سروے دیکھ لیجیے، اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی سہ ماہی رپورٹوں کا مطالعہ کرلیجیے۔ ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کی تبصراتی رپورٹوں سے رجوع کر لیجیے۔ کہیں کھلے الفاظ میں ، کہیں اشارتاً معیشت کی مخدوش صورتِ حال اور خصوصیت سے زراعت، برآمدات کا جمود، توانائی کی قلّت کی تباہ کاریاں، پیداواری inputs کی قیمتوں کے اضافے، قوتِ خرید کی کمی، قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور قومی بچت کے غیرتسلی بخش رجحانات، تعلیم اور صحت کی زبوں حالی، غیرمنظم اور غیرمتوازن شہرکاری سب کا ذکر موجود ہے لیکن حکومت آزاد معیشت (liberalization) اور گلوبلائزیشن کے عشق میں ایک گھسی پٹی لکیر پیٹتی رہی اور اب بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ کبھی کسان پیکج کی بات کرتی ہے اور کبھی برآمدات کے لیے نئے محرکات کی۔ بلاشبہہ ان دونوں میدانوں میں فوری اقدامات کی ازحد ضرورت ہے لیکن مسئلہ پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی کی ترجیحات، وسائل کے منصفانہ استعمال اور اچھی حکمرانی کے قیام کا ہے۔ بحران صرف زراعت اور برآمدات کا نہیں بحران پوری معاشی پالیسی اور تمام ہی اہم ادارات کی ناکامی اور خستہ حالی کا ہے۔ جب تک پالیسی کے جملہ پہلوئوں کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے اور جو structural اور اداراتی بحران ہے، اس کو درست نہ کیا جائے، حالات میں کسی بڑی تبدیلی اور عوام اور ملک کی مشکلات دُور ہونے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ ان سب پر مستزاد ملک گیر کرپشن اور قومی دولت کو قوم کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے بجاے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کا مسئلہ ہے جو معیشت کو گھن کی طرح کھا رہا ہے اور عوام اور حکمرانوں کے درمیان دُوریاں بڑھا رہا ہے۔
بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے کم از کم تین معیار ہوسکتے ہیں۔ سب سے آسان اور سطحی معیار یہ ہے کہ سابقہ بجٹ میں جو اہداف رکھے گئے تھے وہ کہاں تک پورے ہوئے ہیں اور کہاں گاڑی مطلوبہ رفتار سے نہیں چل سکی؟ اس پہلو سے آپ جائزہ لیں تو ۲۰واضح اہداف رکھے گئے تھے جن میں سے نو کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ حاصل کرلیے ہیں ، جب کہ ۱۱ میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی___ خصوصیت سے زراعت جس کا قومی پیداوار میں حصہ ۲۱ فی صد اور ملک کی لیبر فورس میں ۴۵ فی صد ہے۔ برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری کے اہداف بھی پورے نہیں ہوسکے۔ معیشت میں مجموعی نمو کی شرح میں گو سالِ گذشتہ کی شرح سے زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہدف سے معیشت بہت پیچھے رہی ہے، یعنی ۵ئ۵ فی صد متوقع اضافے کے مقابلے میں اضافہ ۷ئ۴ فی صد ہے جس کے بارے میں بھی آزاد معاشی ماہرین کی ایک تعداد کا خیال ہے کہ اصل اضافہ اس سے بہت کم ہے، یعنی سالِ گذشتہ کے اضافے ہی کے لگ بھگ ہے، یعنی ۱ئ۳ فی صد۔ البتہ افراطِ زر، بیرونی ذخائر اور بجٹ کے خسارے کے باب میں حکومت کی کوششیں نسبتاً مؤثر رہی ہیں۔ گو وہاں بھی بہت سے سوالات ہیں جو نتائج کو مخدوش بنادیتے ہیں، مثلاً بجٹ خسارے کے اعداد و شمار میں گردشی قرضوں (circular debt) کے ساڑھے تین سو ارب کو شامل نہ کرنا اور اسی طرح اڑھائی ارب کے نجی شعبے کے برآمدات کے باب میں refunds کو تین مہینے میں واپس کردینے کے وعدوں کے باوجود دو سال سے زیادہ لٹکاکر رکھنا کسی صورت میں بھی صاف شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سب سے کامیاب سیکٹر سروسز کا ہے اور اس میں بھی بنکاری سیکٹر، کاروں کا اور آٹو موبائل (automobile) سیکٹر اور سیل فون اور متعلقہ آئی ٹی سیکٹر نمایاں ہیں۔ سروسز سیکٹر کی کامیابی کی ایک وجہ سرکاری اخراجات، تنخواہوں اور پنشن کے اضافے وغیرہم بھی ہیں جو مالی اور حسابیاتی حد ( Accounting terms) تک تو معیشت کی ترقی اور پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن عملاً ملک کے پیداواری عمل اور پیدا آوری صلاحیت کو بڑھانے میں ان کا حصہ محلِ نظر ہے۔
بنکاری کے شعبے میں تیزرفتاری سے اضافہ ہوا ہے لیکن بنکوں نے جو قرضے دیے ہیں ان کا ۹۰ فی صد مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور سرکاری اداروں نے لیا ہے، جب کہ نجی شعبے میں ان کے ذریعے سرمایہ کاری کا حصہ بمشکل ۱۰ فی صد رہا ہے جو تشویش ناک ہے۔ بنکوں کے اپنے منافع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور بنکوں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں، بونس اور مراعات میں محیرالعقول اضافے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن بنکوں میں عام کھاتہ داروں کو ان کے جائز حق سے بھی بُری طرح محروم رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں امیر امیرتر ہو رہا ہے اور غریب غریب تر۔ بنک حکومت کو قرضے دے کر خطیر رقم سود کے باب میں کما رہے ہیں۔ بنک سے عام کھاتہ دار افراطِ زر کی شرح کے بھی نیچے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں جس کے معنی ہیںکہ حقیقی معنوں میں تو وہ اپنے اصل زر میں بھی کمی کا بوجھ اُٹھا رہے ہیں۔ بنکوں کا اپنوں کو نوازنے کے باب میں کیا کردار ہے؟ اس کا اس رپورٹ سے اندازہ کریں جو روزنامہ ایکسپریس ٹربیون میں ۲۹فروری ۲۰۱۶ء کو شائع ہوئی ہے، یعنی نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر کی تنخواہ اور بونس وغیرہ میں سال کے دوران (۲۰۱۵ئ) میں ۵۱فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اس زمانے میں بنک کے حصص میں مارکیٹ میں ۲۲ فی صد کمی ہوئی ہے۔ بنک کے صدر نے اس سال ۷کروڑ ۱۱لاکھ روپے مشاہرہ وصول کیا جو سالِ گذشتہ (۲۰۱۴ئ) سے ۲کروڑ ۳۹ لاکھ زیادہ تھا۔ اسی طرح یونائٹیڈ بنک کے صدر اور سی ای او کو ۲۰۱۵ء میں جو ادایگی کی گئی وہ ۱۲کروڑ۷۳لاکھ روپے تھی۔ حبیب بنک کے سربراہ کے مشاہرے میں ۳ئ۴۱ فی صد اضافہ ہوا اور ان کو ۷کروڑ ۵۱لاکھ کی ادایگی کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سال حبیب بنک کو ۳۵؍ارب روپے کا منافع ہوا جو سالِ گذشتہ سے ۱۴فی صد زیادہ تھا، جب کہ معیشت کی عمومی رفتار ترقی سرکاری دعوے کے مطابق ۷ئ۴ فی صد تھی۔ مسلم کمرشل بنک کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۸کروڑ ۴۷لاکھ ادا کیا گیا جو سالِ گذشتہ سے ۹ئ۱۴ فی صد زیادہ تھا، حالانکہ اس سال کے دوران اس بنک کے حصص کی قیمت میں بھی ۲۹ فی صد کمی ہوئی۔ پانچویں بڑے بنک الائیڈ بنک کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۴کروڑ ۶۳ لاکھ تھا جو سالِ گذشتہ سے ۷ فی صد زیادہ تھا۔
معیشت کے جن جن گوشوں میں تھوڑی بہت مثبت تبدیلی ہوئی ہے، اس کا کریڈٹ حکومت کو ضرور دیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ تصویر کے دوسرے رُخ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ مجموعی طور پر صحیح صورتِ حال قوم کے سامنے آسکے اور حالات کی اصلاح کے لیے مناسب حکمت عملی بنائی جاسکے۔ سابقہ دو برسوں کی کارکردگی کے پس منظر میں اس سال کا جائزہ لیا جائے تو وزیرخزانہ کی اس بات میں ایک حد تک صداقت ہے کہ مجموعی طور پر معیشت کے استحکام کے ہدف کی طرف جزوی پیش رفت ہوئی ہے۔ گو بجٹ کے اخراجات پر، خصوصیت سے انتظامی اخراجات پر کوئی مؤثر گرفت نہیں کی جاسکی اور حسبِ سابق غیر ترقیاتی اخراجات میں بجٹ کے ہدف سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ترقیاتی مصارف میں کمی۔ ترقیاتی بجٹ کی حد تک اصل allocations طے شدہ بجٹ کا ۶۰ فی صد ہوسکے ہیں۔ قرضوں، قرضوں پر سود کی ادایگی اور حد پوری کرنے والے قرضوں کی واپسی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہوئے ہیں جو اَب دفاع کے کُل بجٹ کا بھی تقریباً دگنا ہوکر قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ قرض لے کر قرض ادا کرنے کی رِیت قائم کی گئی ہے، اور جو بھی قرضے حاصل ہوئے ہیں بدقسمتی سے ان کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات میں عدم توازن کو کم کرنے اور قرضوں اور سود کی ادایگی کی نذر ہوگیا ہے۔ ترقیاتی مقاصد کے لیے ان کا استعمال واجبی ہی رہا ہے۔ قرض لینے کا یہ طریقہ معاشی اور سیاسی دونوں اعتبار سے تباہ کن ہے اور اسے بجٹ خسارے کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ تو ضرور قرار دیا جاسکتا ہے مگر ملک کی ترقی میں اس کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے ایسے قرضوں کو معاشیات کے جدید مباحث میں Odius Loansکہاجارہا ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ آٹھ سال میں ہم نے ترقیاتی قرضوں کو کریہہ، ناگوار اور قابلِ نفرت قرضوں میں تبدیل کر دیا ہے جن کے مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں اور منفی اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ قرضوں کی یہ ’فاقہ مستی‘ رنگ دکھا رہی ہے اور ہم مصر ہیں کہ اس زہر کو جو صحت کو تباہ کر رہا ہے دوا سمجھ کر جاری رکھیں۔
وزیرخزانہ نے ضمانت دی تھی کہ SRO's کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور ٹیکس سے چھوٹ کے نظام کو ختم کر دیا جائے گا لیکن تین سال مکمل ہوجانے کے باوجود اور بظاہر SRO's پر کچھ تحدیدات لگانے کے باوصف ٹیکس چھوٹ کا سلسلہ جاری رہا ہے اور سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۳۹۴؍ارب روپے ٹیکس میں چھوٹ کی نذر ہوگئے ہیں۔ زراعت کو تو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دم توڑنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن آٹوموبائل کے سیکٹر کو سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۲۲ ارب روپے کی چھوٹ ( waiver) دی گئی۔ نئے سرکلر قرضوں کے پہاڑ بلند ترہورہے ہیں اور ان کا ان کی مکمل شکل میں بوجھ اب بھی پردۂ خفا میں ہے لیکن مختلف اعلانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ۲۵۰ سے ۳۰۰؍ارب کے پیٹے میں ہیں۔ اور یہ سب اس ۵۰۰؍ارب کی ادایگی کے بعد ہے جو نوازحکومت نے اقتدار میں آتے ہی لوڈشیڈنگ سے نجات کے نسخۂ کیمیا کے نام پر قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی عجلت میں ادا کر دیے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ میں کمی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کے لیے جو ہدف رکھا گیا تھا اسے قریب قریب پورا کرلیا گیا ہے جو ایک قابلِ قدر چیز ہے لیکن یہ سوال پھر بھی ہے کہ یہ سب کچھ کس قیمت پر ہوا ہے۔ مقصد تو یہ تھا کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے ہیں ان کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے، اور ٹیکس چوری کو آہنی گرفت کے ذریعے ختم کیا جائے لیکن ٹیکس چوری کا بازار اسی طرح گرم ہے اور محصولات وغیرہ کی جو رقم وصول ہورہی ہے وہ بمشکل اس کا نصف ہے جو صرف موجودہ قوانین کے ٹھیک ٹھیک اطلاق سے ملنی چاہیے۔ معتبر اندازوں کے مطابق جن میں ورلڈبنک کے اندازے بھی شامل ہیں، وصول کی جانے والی رقم کا ۸۰ فی صد سالانہ چوری کی نذر ہو رہا ہے جو ۳۰؍کھرب روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت ملک میں کم از کم ۴۰لاکھ افراد اور ادارے ہیں جنھیں بلاواسطہ ٹیکس نیٹ ورک کا حصہ ہونا چاہیے، جب کہ عملاً جو افراد اور ادارے ٹیکس ریٹرن داخل کر رہے ہیں ان کی تعداد ۹ اور ۱۰ لاکھ کے درمیان ہے، یعنی مطلوبہ تعداد کا بمشکل ایک چوتھائی۔ ان حضرات اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ (Tax Amnesty) کے نام پر نو اسکیموں پر عمل ہوچکا ہے مگر بے نتیجہ۔ ایف بی آر اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہا ہے اور اس کے ازسرِنو جائزے اور کارکردگی کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی جاسکی۔ سارا انحصار نئے ٹیکسوں، ٹیکسوں میں اضافے اور راست ٹیکسوں (direct taxes) کو بھی withholding tax کے ذریعے بالواسطہ( indirect tax) میں تبدیل کرنے پر ہے جو اصولی طور پر غلط اور عملاً ملک میں سماجی ناانصافی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ ایک مدت سے اس غلطی کا پورے تسلسل سے اعادہ کیا جارہا ہے۔ یہی وہ جادو کی چھڑی بن گئی ہے جس کے ذریعے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کا معجزہ سرانجام دیا گیا ہے۔ اس کارنامے کو ایک جملے میں یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ یہ ٹیکس کے نظام میں اصلاح کے بغیر محصولات میں اضافہ ہے، یعنی Revenue generation without tax reforms۔
Tax Base وہی قومی دولت کا ۵ئ۸ سے ۹ فی صد ہے حالانکہ یہ ۲۰سال پہلے ۱۳ بلکہ ۱۴فی صد تک کی حد چھو چکا ہے اور موجودہ حکومت کا بھی دعویٰ تھا کہ تین سے پانچ سال میں اسے ۹فی صد سے بڑھا کر ۱۲اور پھر ۱۴ فی صد تک لے آیا جائے گا، وہ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ ٹیکس وصولی کے ہدف کے پورا ہونے میں اس امر کا بھی دخل ہے کہ برآمد کنندگان کی فاضل ادایگیوں کی جو ادایگی (refund) حکومت کی ذمہ داری تھی اور جن کی جلد ادایگی کا باربار وعدہ بھی کیا گیا تھا وہ ادا نہیں کی گئی اور اس طرح تقریباً ۲۵۰؍ارب روپے، جو حکومت کا حق نہیں، وہ بھی اسی ہدف کے پورے کرنے کے دعوے کا حصہ ہیں۔ بجٹ میں اس سلسلے میں ضروری شفافیت کی کمی ہے۔
حکومت کی سالِ گذشتہ کی کارکردگی کا اس کے اپنے اہداف اور دعوئوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو تصویر بڑی پراگندا نظر آتی ہے جسے macro-stabilization کہنا مبالغہ اور growth economy کے لیے زینہ کہنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چند مثبت پہلو ضرور ہیں لیکن پلڑا اب بھی منفی پہلوئوں کا بھاری ہے جن کو خوش نما الفاظ کے سہارے پردئہ خفا میں چھپایا نہیں جاسکتا۔ مجموعی ترقی بس رکھ رکھائو کی حد تک ہوئی ہے۔ معیارِ زندگی میں کوئی بہتری دُور دُور نظر نہیں آتی۔ غربت کے سلسلے میں جو نئے اعداد و شمار خود پلاننگ کمیشن نے جاری کیے ہیں ان کی رُو سے آبادی کا ۳۰ فی صد شدید غربت کی لپیٹ میں ہے حالانکہ چندماہ پہلے تک یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ غربت کی سطح ۹فی صد تک لے آئی گئی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا حال سب سے خراب ہے حالانکہ انسانی ضرورت کے اعتبار سے ہی نہیں، خود معاشی ترقی کے لیے بھی ان شعبوں کو ترقی اور ان میں مؤثر سرمایہ سرکاری ازبس ضروری ہے۔ تقسیم دولت کی صورت حال بد سے بدتر ہے۔ اُوپر کے ۵ سے ۱۰فی صد آبادی کے پاس وسائلِ دولت کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ ہے، جب کہ ۶۰ سے ۷۰ فی صد آبادی کے پاس وسائل کا ۱۰ فی صد بھی نہیں۔ ۳۰ فی صد شدید غربت کا شکار ہیں اور ۶۰ فی صد معقول زندگی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دولت کی عدم مساوات میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف بھوک، فاقہ اور خودکشی کے اَلم ناک مناظر ہیں تو دوسری طرف لگژری مالز پر دولت کی ریل پیل، پوش علاقوں میں پُرتعیش زندگی کے مناظر اور شادیوں کی تقریبات میں اسراف و تبذیر کی بدترین مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر اکمل حسین نے اپنے ایک مضمون (دی نیوز، ۵مئی ۲۰۱۶ئ) میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کیے ہیں جو عالمی بنک کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ہیں کہ پاکستان میں صرف ۲۰ہزار افراد ایسے ہیں جن کی فی کس آمدنی ایک ملین ڈالر، یعنی سوا ۱۰ کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ ہے، جب کہ آبادی کے نچلی سطح کے ۶۰ فی صد افراد کی فی کس آمدنی ۱۴-۲۰۱۳ء کے پاکستان اکانومک سروے کے مطابق ۷۳۰ ڈالر، یعنی ساڑھے ۷۰ ہزار روپے سالانہ ہے۔ یہ فرق ایک اور ۱۳۰۰ کا ہے، جب کہ کسی مہذب معاشرے میں دولت میں تفاوت میں اتنے فرق کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن تو اسلامی معاشرے کی شناخت ہی یہ بتاتا ہے کہ اس میں دولت صرف امیروں کے درمیان گردش نہیں کرتی بلکہ تمام طبقات کے درمیان رواں دواں ہوتی ہے:
کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُولَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (الحشر ۵۹:۷) تاکہ وہ تمھارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔
دولت کی یہ عدم مساوات جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے اور ا س کے خلاف مغربی دنیا میں بھی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، خصوصیت سے وال سٹریٹ تحریک اور ۹۹ فی صد vs ایک فی صد۔ لیکن مغربی ممالک میں بھی عدم مساوات ایک اور ۱۳۰۰ کی حدود نہیں چھوتی___ جو بدقسمتی سے آج پاکستان اور چند مسلم ممالک کا چلن بن گئی ہے اور عوام کی بڑی تعداد کی محرومی ہی وہ حقیقت ہے جو معاشرے میں نفرت، بغاوت اور انتہاپسندی کے جذبات کو جنم دے رہی ہے۔ اس پس منظر میں ان مشاہروں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے جو پانچ بڑے بنکوں کے سربراہوں کے ہم نے اُوپر بیان کیے ہیں اور اس تناظر میں خود ملک کے صدر اور وزیراعظم کے سرکاری دفتر اور توشہ خانے کے مصارف پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ بجٹ کے مطابق ایوانِ صدر کے سالانہ اخراجات ۸۶ کروڑ ۳۰ لاکھ ہیں اور ایوانِ وزیراعظم کے ۸۸ کروڑ ۱۰ لاکھ جو ۱۷-۲۰۱۶ء کے لیے ۸ئ۷ فی صد اور ۷ئ۴ اضافے کے ساتھ بجٹ کا حصہ ہیں۔ ۸؍اپریل ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں پاکستان پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ غربت کے جائزے کے مطابق ہر ۱۰ میں سے تین پاکستانی شدید غربت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ملک میں تقریباً ۶کروڑ افراد غربت و افلاس کی پست ترین سطح پر ہیں۔ ماضی کے جائزوں کی روشنی میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ تعداد صرف ۲کروڑ ہے جس کی بڑی وجہ وہ تعریف (definition)تھی جو غربت کی کی گئی تھی اور وہ پیمانے (indicators) تھے جس کے ذریعے اسے ناپا جارہا تھا۔ تازہ تحقیق کی روشنی میں غربت کی لکیر کے تحت ۶کروڑ کے علاوہ ۲کروڑ مزید ایسے ہیں جو صرف سرحد پر ہیں اور معیشت کی معمولی سی تبدیلی ان کے لیے معاشی دھچکا (economic shock) بن سکتی ہے اور انھیں غربت کی اس لکیر کے نیچے دھکیل سکتی ہے۔ ۱۹کروڑ کی آبادی کے ملک میں ۸کروڑ ضروریاتِ زندگی کی کم سے کم حد سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ مجبوروں، یتیموں اور سائل و محروم کے حق سے غفلت اور بے پروائی کو قرآن نے دین کے انکار سے تعبیر کیا ہے۔
معاشی حالت کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ خوراک کا عدم تحفظ ہے۔ اس اعتبار سے تقریباً نصف آبادی پر خوراک کے محرومی کے سایے منڈلا رہے ہیں، بطور مثال تھرپارکر کے حالات کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ مقصد کسی ایک صوبے یا علاقے پر تنقید نہیں۔ دوسرے صوبوں میں بھی ایسے رستے ہوئے ناسور بے شمار ہیں لیکن چونکہ میڈیا نے اس علاقے پر توجہ دی ہے اس لیے اس امر کا بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنی توجہ اور میڈیافوکس کے باوجود آٹھ سال کے عرصے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور خوراک اور پانی کی قلت اور علاج کی کم سے کم سہولتوں سے محرومی علاقے کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ ۱۶جون ۲۰۱۶ء کے دی نیشن میں چھپنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف اس سال بھوک پیاس اور علاج سے محرومی کے سبب مرنے والے بچوں کی تعداد ۲۲۲ ہوگئی، جب کہ علاقے کے لوگ یہ تعداد ۳۵۵ بتاتے ہیں۔ ملک کے شہری علاقوں میں رہنے والے ۱۷لاکھ نوجوان روزگار سے محروم اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے نوجوانوں کی تاک میں رہنے والوں کے لیے تر نوالہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان ۱۷لاکھ میں سے ۴۱ فی صدسندھ کے شہری علاقوں میں ہیں، جب کہ سندھ میں ملک کی آبادی کا صرف ایک چوتھائی اقامت پذیر ہے۔
اس سلسلے میں ایک تازہ رپورٹ، کے مطابق جسے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر (SPDC) نے شائع کیا ہے ، ۲۰۱۵ء میں ۱۵ سے ۲۴ سال کے درمیانی عمر کے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد پنجاب میں ۸لاکھ ۶۱ ہزار، سندھ میں ۷لاکھ ۱۱ ہزار، بلوچستان میں ۱۰لاکھ ۷۰ہزار اور خیبرپختونخوا میں ۵۷ہزار ہے۔ یہ خطرے کا ایک بڑا الارم ہے جسے حکومتیں مسلسل نظرانداز کررہی ہیں۔۱؎
عالمی جائزوں میں انسانی ترقی کے باب میں پاکستان کا مقام بڑا ہی شرم ناک ہے۔ دنیا کے ۱۸۸ ممالک میں پاکستان کا نمبر ۱۴۷ ہے اور Human Development Index میں ہمارا اسکور ۵۳۸ئ۰ آتا ہے۔
UNDP کی رپورٹ کے مطابق ہمارا شمار کم ترقی یافتہ ممالک کے بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو اس دوڑ میں اپنے کنبے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ نیپال (۵۴۸ئ۰)، بنگلہ دیش (۵۷۰ئ۰)، بھارت (۶۰۹ئ۰)، سری لنکا (۷۵۷ئ۰) ہم سے آگے ہیں۔ تمام تر تباہی کے باوجود فلسطین (غزہ اور ویسٹ بنک) بھی ہم سے بہت آگے ہیں (۶۷۷ئ۰)۔ صحت کی حالت دیکھیں تو وہ بھی نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح پاکستان میں ہرہزار بچے پر ۶۶ ہے، جب کہ بھارت میں یہ شرح ۳۸ اور سری لنکا میں صرف ۸ ہے۔ عورتوں کی اوسط عمر پاکستان میں ۶۷ سال ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں ۷۳ اور تھائی لینڈ میں ۷۸ ہے۔ دورانِ ولادت ماں کی موت کی شرح پاکستان میں ایک لاکھ میں ۱۷۰ ہے، جب کہ سری لنکا میں یہ شرح صرف ۳۰ اور تھائی لینڈ میں ۲۰ ہے۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع سے فراہم کی جانے والی علاج کی سہولتوں تک آبادی کے صرف ۳۰ فی صد کو بہ مشکل رسائی حاصل ہے اور ۷۰ فی صد اس سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اور یہ بھول جایئے کہ جو ’سہولتیں‘ حاصل ہیں ان کا کیا حال ہے، کیا معیار ہے۔ ملک بھر میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ ۸۴ہزار ۷سو۱۱ ہے۔ گویا ۱۰۳۸ ؍افراد کے علاج کے لیے ایک ڈاکٹر۔ہسپتالوں کا حال یہ ہے کہ ۱۶۱۳؍ افراد کے لیے ہسپتال میں ایک بستر موجود ہے۔ ہر کمرے میں کئی کئی مریض زمین پر لیٹنے پر مجبور ہوتے ہیں اور دسیوں ناکام و نامراد واپس بھیج دیے جاتے ہیں۔ یہ ہے عام آدمی کی صورتِ حال۔ اگر اسی کا نام مجموعی سطح پر ’معیشت کا استحکام‘ ہے تو ایسے استحکام کو سلام!
موجودہ حکومت بحیثیت مجموعی ان تین برسوں میں معیشت کی گاڑی کو پٹڑی پر لانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ ریلوے کے نظام میں جزوی بہتری آئی ہے لیکن توانائی کی فراہمی، پیداوار میں اضافہ، عوامی سہولتوں میں اضافہ ، معیارِ زندگی میں بہتری، عالمی تجارت میں افزونی، ملکی اور بیرونی سرمایہ کاری، ہر اشاریہ غیرتسلی بخش ہے۔ پینے کے صاف پانی کی کمیابی اور تعلیم اور صحت کی زبوں حالی ناگفتہ بہ ہے۔ زراعت اور برآمدات معیشت کے بڑے اہم ستون ہیں۔ یہ دونوں بُری طرح متزلزل ہیں اور یہ کیفیت صرف سالِ رواں میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ان تین برسوں میں حالات بتدریج بگاڑ کی طرف بڑھے ہیں اور اسٹیٹ بنک کی رپورٹوں اور متعلقہ حلقوں کی چیخ پکار کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس بجٹ میں زرعی مداخل (inputs) کے سلسلے میں جو سبسڈی دی جارہی ہے، بجلی کی فراہمی کے لیے جن اقدامات کا وعدہ کیا جارہا ہے، اور برآمدات کے لیے جن پانچ میدانوں میں zero-rating کی نوید دی جارہی ہے، ان کا مطالبہ تین سال سے ہورہا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبسڈی اور زیرو ریٹنگ دونوں کے سلسلے میں پانچ سال پہلے تک یہ سب سہولتیں حاصل تھیں جن سے پیپلزپارٹی کے دور میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کی خاطر محروم کیا گیا تھا اور مسلم لیگ کی حکومت نے بھی تین سال تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کیا۔ اب بعد از خرابیِ بسیار چند اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے جو ہماری نگاہ میں صحیح سمت میں قدم ہے ، گو بہت دیر سے ہے لیکن ہم صاف کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ہرگز کافی نہیں اور ہم آیندہ سطور میں سفارش کریں گے کہ ان اقدامات کے ساتھ جو structural bottlenecks ہیں جب تک ان کو دُور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، حالات کا رُخ بدلنا اور ملک کو واقعی ترقی اور خوش حالی کے راستے پر ڈالنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے طرزِ فکر ( mind-set) اور معاشی ترقی کے مفہوم اور فریم ورک، حکومتی ترجیحات اور مالیاتی پالیسی، ٹیکس اور سرکاری اخراجات، مالیاتی پالیسی، تجارتی پالیسی ، زرعی اصلاحات، لیبرپالیسی اور تعلیم اور صحت کے میدان میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ مسلم لیگ کا ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر قوم کے سامنے پیش کیے جانے والا منشور ہے۔ اس منشور میں معاشی اصلاحات کے سلسلے میں کئی درجن وعدے کیے گئے تھے اور بڑے واضح الفاظ میں کچھ صورتوں میں وقت اور مدت کے تعین کے ساتھ باتیں کی گئی تھیں۔ حکمرانی کے تین سال بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت خود بھی یہ زحمت گوارا کرے کہ ایک چارٹ بنا کر دعوئوں اور عملی پالیسیوں اور تین برسوں میں حاصل نتائج کا گوشوارہ بنائے اور اپوزیشن کی جماعتوں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کو بھی یہ کام کرنا چاہیے۔ ہم صرف چند موٹی موٹی چیزوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
اس منشوراور اس کی تشریح میں کی جانے والی تقاریر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ توانائی کے مسئلے کو اولیت دی جائے گی اور چھے ماہ سے لے کر دو سال تک بجلی کے بحران کو ختم کر دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، بلکہ جنابِ شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو میرا نام بدل دینا‘‘۔ تین سال بعد جو صورتِ حال ہے، سب کے سامنے ہے۔
وعدہ کیا گیا تھا کہ توانائی کی ایک وزارت بنائی جائے گی تاکہ واٹر پاورز، منرل ریسورسز اور پٹرولیم کی وزارتیں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائیں بلکہ ایک جامع توانائی پالیسی بن سکے اور اس طرح مسئلے کا مستقل حل نکالا جاسکے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد!
ٹیکس کے نظام کو یکسر بدلنے کا دعویٰ تھا۔ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے اور بالواسطہ (indirect)ٹیکس کو کم کرنے اور بلاواسطہ (direct)ٹیکس کو بڑھانے کا دعویٰ تھا۔ اس کے برعکس نہ صرف بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوا، سیلزٹیکس جو پہلے ۱۵ فی صد تھا وہ اب ۱۷ فی صد اور کچھ اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ حالانکہ سینیٹ کی ۱۳-۲۰۱۲ء سفارشات میں موجودہ وزیرخزانہ نے ہم سب کے ساتھ ہم آواز ہوکر مطالبہ کیا تھا کہ سیلزٹیکس میں ۱۵ سے ۱۶ فی صد اضافہ معاشی ترقی کے لیے بے حد مضر اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ ہے جسے واپس لیا جائے۔ ان کے دور میں یہ اب ۱۷ فی صد اور چند اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ دوسرا ستم یہ کیا گیا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکسوں کے سلسلے میں with holding tax کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے انھیں بھی ایک طرح کا بالواسطہ ٹیکس بنادیا گیا ہے جس کا آخری بوجھ اب عوام اور عام صارفین پر پڑتا ہے۔ اس طرح اس وقت جو ٹیکس کا نظام رائج ہے اس میں فی الحقیقت ۸۵ فی صد ٹیکس عملاً بالواسطہ ہوگئے ہیں۔
ایک اور مسئلہ جس پر بڑی تحدی سے بات کی گئی تھی اور بجا طور پر کی گئی تھی، اس کا تعلق معیشت کو دستاویزی (documentation) بنانے سے تھا۔ افسوس ہے کہ اس زمانے میں اس طرف بھی کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے بلکہ حکومت نے اسٹیٹ بنک کے ذریعے جو cash flow پالیسی اختیار کی ہے اور with holding tax کی جو تلوار بے نیام کی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں ملک میں cash economy میں اضافہ ہو رہا ہے اور دستاویزی معیشت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین رپورٹیں سخت تشویش کا باعث ہیں۔
۲۰ جون ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے زیراستعمال کرنسی کے بارے میں جو اعداد و شمار آئے ہیں وہ سخت پریشان کن ہیں۔ یکم جولائی ۲۰۱۵ء کے مقابلے میں ۳جون ۲۰۱۶ء کے درمیان زیرگردش کرنسی میں ۶۷ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ حکومت کے دعوے کے مطابق معیشت میں بحیثیت مجموعی ترقی کی رفتار صرف ۷ئ۴ فی صد رہی ہے جو آزاد تحقیقی اداروں کی نگاہ میں دراصل ۱ئ۳ فی صد اور ۴فی صد کے درمیان ہے۔
معاشیات کے طالب علم جانتے ہیں کہ ملک میں مسلسل کرنسی ان سرکولیشن M-2 (Broad Money) کی نسبت سے زیادہ رہی ہے اور اس کی وجہ دستاویزی معیشت کے مقابلے میں کیش اکانومی کا کردار ہے۔ مرکزی بنک کے ایک سابق ڈپٹی گورنر نے اس پر بجاطور پر ان الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے:
حالیہ مالی سال میں جس رفتار سے CIC میں اضافہ ہوا ہے، وہ تکلیف دہ ہے اور خصوصیت سے اس لیے کہ یہ سب کچھ معیشت کو دستاویزی کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ہوا ہے۔ (ڈان، ۳جون ۲۰۱۶ئ)
اگر CIC اور M-2 کے تناسب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو یہ مالیاتی سال ۲۰۱۲ء میں ۴ئ۲۲ فی صد تھا جو ۲۰۱۳ء میں ۳ئ۲۲ فی صد، ۲۰۱۴ء میں ۲ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا مگر ۲۰۱۵ء میں پھر بڑھ کر ۵ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا، اور خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ زیرگردش کرنسی میں اضافے کی یہی رفتار رہتی ہے تو یہ کہیں ۲۶ فی صد تک نہ پہنچ جائے جس کے نتیجے میں افراطِ زر کے خطرات چند درچند بڑھ جائیں گے۔
مسلم لیگ کے منشور میں پیداوار بڑھانے، شرح پیداور کو سات اور آٹھ فی صد تک لے جانے اور برآمدات کے اضافے کو اہمیت دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ درآمدات برابر بڑھ رہی ہیں اور برآمدات کمی ہی نہیں جمود کا شکار ہیں۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا یہ صورتِ حال محض ۲۰۱۵ء کی پیداوار نہیں۔ ۲۰۱۳ء سے برابر رجحان یہی ہے مگر برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات میں نمایاں کمی لانے کی کوئی مؤثر اور جامع کوشش نہیں ہوئی۔ یورپین یونین کے ۲۸ممالک سے تین سال کے لیے ٹیرف ریلیف (Tariff Relief) سے بڑی توقعات باندھی گئی تھیں مگر عملاً اس سے کوئی بڑافائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ پاکستان اکانومک سروے ۱۶-۲۰۱۵ء کے مطابق:
پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی شدید تشویش کا باعث ہے۔ گذشتہ ۱۸مہینے سے ہرمہینے ان میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ جولائی ۲۰۱۵ء سے مارچ ۲۰۱۶ء تک برآمدات صرف ۶ئ۱۵ بلین ڈالر تھیں جو گذشتہ سال کے اس زمانے کے دوران ۹ئ۱۷ بلین ڈالر تھیں۔ گویا صرف ان مہینوں میں برآمدات میں عملاً ۹ئ۱۲ فی صد کمی واقع ہوئی۔
اس تباہ کن کارکردگی کے بارے میں روزنامہ ڈان کے مضمون نگار ڈاکٹر منظور احمد کا یہ تبصرہ چشم کشا ہے:
درحقیقت ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ ہوگا کہ کسی حکومت کی مدت کے اختتام پر برآمدات اس سے کم تر ہوں گی جتنی حکومت کی مدت کے آغاز کے وقت تھیں۔
ایک طرف یہ سنگین صورت حال ہے اور دوسری طرف وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگلے ۱۰سال میں ’وژن ۲۰۲۵‘ کے تحت پاکستان کی برآمدات کو بڑھا کر ۱۵۰بلین ڈالر سالانہ کردیا جائے گا، یعنی ۲۴ فی صد سالانہ اضافہ!
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن میں کوئی ربط اور تجارتی پالیسی تک کے باب میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ ہر ایک الگ الگ wave length پر ہے اور اس کا نام ہے معاشی ترقی کی گرینڈ اسٹرے ٹیجی!
منشور کے اور بھی پہلو موازنہ طلب ہیں لیکن ہم صرف ان چند نکات پر قناعت کرتے اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ اس میزان پر حکومت کی کارکردگی کتنی کامیاب یا ناکام رہی؟
بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے لیے سب سے اہم میزان ملک کا دستور ہے جو قومی مقاصد اور اہداف کے باب میں قومی مقاصد کا ترجمان ہے۔ دستور کی دفعہ ۲ اور ۲-اے اسلام کے کلیدی کردار کو واضح کرتی ہیں۔ دفعہ۳ معاشرے سے استحصال، ظلم کے خاتمے اور اجتماعی انصاف کے حصول کو ہدف مقرر کرتی ہے اور ریاست کی رہنمائی کے اصول خصوصیت سے دفعہ۳۱، دفعہ ۳۷ اور دفعہ ۳۸ بڑی تفصیل سے معاشی اصلاحات، اسلامی معاشی اصولوں کی ترویج اور ایک ترقی پذیر، خوش حال اور مبنی برانصاف فلاحی معاشی نظام کا تصور دیتے ہیں۔ یہی وہ مقاصد ہیں جو اقبال اور قائداعظم نے اپنے مختلف خطبات میں بیان کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے دوٹوک الفاظ میں اپنے ۲۸مئی ۱۹۳۷ء کے خط بنام قائداعظم محمدعلی جناح میں شریعت اسلامی پر مبنی معاشی نظام کے قیام کی اولیں ضرورت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا، اور خود قائداعظم نے اپنے متعدد بیانات میں خصوصیت سے آل انڈیا مسلم لیگ کے ۱۳ویں سیشن میں جو ۲۴؍اپریل ۱۹۴۳ء دہلی میں منعقد ہوا تھا پاکستان کے معاشی نظام کے خدوخال واضح کیے تھے۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد ۲۷ستمبر ۱۹۴۷ء کو ولیکا ٹیکسٹائل ملز کے افتتاح کے موقعے پر اور خصوصیت سے اپنے آخری خطبے میں جو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پر جولائی ۱۹۴۸ء میں دیا، اپنے تصورات کی وضاحت کر دی تھی۔ علامہ اقبال نے ایک شعر میں پورے تصور کا جوہر یوں بیان فرمایا ہے: اسلام کا اصل مقصود انسان کو انسان کی محتاجی سے نجات دلانا، محرومی اور استحصال کا خاتمہ اور ہر فرد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لائق بنانا ہے ؎
کس نہ باشد در جہاں محتاج کس
نکتۂ شرعِ مبیں این است و بس!
پاکستان کے دستور سے وفاداری اور تحریک پاکستان کے مقاصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کے لیے معاشی ترقی کی ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جو معیشت اور معاشرے کو عدل و انصاف، ترقی اور خوش حالی، اور عوامی فلاح و بہبود سے شادکام کرسکے۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی اصل ناکامی یہ ہے کہ وہ نہ معاشی ترقی کا صحیح وژن مرتب کرسکی ہے اور نہ ایسی حکمت عملی، ترجیحات اور مربوط پروگرام اور منصوبہ بناسکی جو ان مقاصد کے حصول پر منتج ہوسکیں۔ لبرل معیشت کے نام پر اور گلوبلائزیشن کے خوش نما الفاظ کے چکّر میں مغرب کے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام کو ملک پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ریاست کے معیشت میں کردار کو مشتبہ بنادیا گیا ہے۔ ایک طرف جاگیردار اور سرمایہ دار حکومت پر قابض ہیں تو دوسری طرف بغلیں بجابجا کر اعلان کیا جارہا ہے کہ حکومت کا کام بزنس نہیں حالانکہ زیادہ صحیح امر یہ ہے کہ بزنس مین کا یہ کام نہیں کہ وہ حکمرانی کرے۔ وہ تو ریاست کو بھی ذاتی کاروبار ہی کی طرح چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور نتائج بتاتے ہیں کہ ایسے حکمران اپنی مخصوص ذہنیت کی گرفت سے نہیں نکل پاتے ہیں جو بالآخر پاناما لیکس کے ڈرائونے انجام کی طرف لے جاتی ہے!
حکومت کا کام ملک و معاشرے کو صرف امن دینا اور سرحدوں کا دفاع نہیں، بلکہ انصاف اور عدل و احسان کے نظام کا قیام، سب کے لیے معاشی، سماجی اور سیاسی مساوات کا فروغ اور معاشرے کو حقیقی انسانی فلاح اور خوش حالی کا گہوارا بنانا ہے۔ ریاست محض تماشائی نہیں ایک فیصلہ کن قوت ہے جسے زندگی کے اجتماعی معاملات میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہے اور اصحابِ اقتدار کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس میدان میں اور اس میزان پر کامیابی ہے۔
اس پہلو سے اگر اب تک پیش کیے جانے والے چاروں بجٹوں کا جائزہ لیا جائے اور جو پالیسیاں اس حکومت نے اختیار کی ہیں تو بڑی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ معاشی منزل کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ قومی مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفادات ہر طرف غالب نظر آتے ہیں۔ مربوط اور کلّی پالیسی کا فقدان ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ مختلف وزارتوں کے درمیان کوئی تعاون اور توافق نظر نہیں آتا۔ کابینہ میں بھی کوئی ہم آہنگی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی سطح اور حتیٰ کہ بجٹ تک میں کوئی مربوط اور تضادات سے پاک لائحہ عمل پیش نہیں کیا جاسکا ہے، بلکہ عالم یہ ہے کہ کابینہ کے اجلاس کئی کئی مہینے منعقد ہی نہیں ہوتے۔ غضب ہے کہ گذشتہ آٹھ مہینے میں کابینہ کا کوئی باقاعدہ اجلاس نہیں ہوا۔ پلاننگ کمیشن ایک عضومعطل بن کر رہ گیاہے۔ کوئی وسط مدتی پلان ایک عرصے سے وجود ہی میں نہیں آیا ہے ۔ پلاننگ کمیشن کا اصل وژن یہ تھا کہ وہ ایک طویل عرصے کے perspective plan کے فریم ورک میں پانچ سالہ منصوبے بنائے گا جو ایک طرف معروضی تحقیق پر مبنی ہوں گے تو دوسری طرف ریاست اور معیشت کے تمام متعلقین کی شرکت سے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کا نمونہ پیش کرسکیں گے اور پھر پوری آزادی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا۔ صرف مالیاتی پہلو ہی سے نہیں بلکہ Physical achievment کے باب میں بھی۔نیز پلاننگ کمیشن محض فیڈریشن ہی نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی قائم کیے جائیں گے اور وفاق صوبائی پلاننگ کمشنر کی رہنمائی، معاونت اور صلاحیت کی تعمیر (capacity building) کا کام انجام دے گا۔ پلاننگ کمیشن کے تحقیقی بازو کی حیثیت سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کام کرے گا جس کا سربراہ پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین ہوا کرتا تھا۔ مگر اب PIDC ایک آزاد تعلیمی ادارہ بن گیا ہے جو ڈگریاں دے رہا ہے اور پلاننگ کمیشن اپنے تحقیقی بازو سے محروم ہوگیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ایک کلیدی کردار پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی اور ترجیحات کے تعین میں ناگزیر ہے لیکن ا س وقت سارا اختیار وزارتِ خزانہ ہی کے پاس ہے اور پلاننگ کمیشن اور وزارتِ خزانہ دو الگ الگ جزیرے بن گئے ہیں۔
اسی طرح دستورکا تقاضا ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان ایک حقیقی، خودمختار ادارہ ہو اور مالیاتی پالیسی وہ خود وضع کرے اور وزارتِ خزانہ کی گرفت سے آزاد ہوکر بنائے۔ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مرکزی بنک ایک مدت سے وزارتِ خزانہ کا ضمیمہ بن چکا ہے اور عملاً اس کی آزاد حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔ اب بھی یہ ادارہ بہت غنیمت ہے لیکن اس کی پیشہ ورانہ قدروقیمت (professional worth) اور پالیسی سے مناسبت (policy relevance) میں بڑی کمی آگئی ہے۔
ایک اور بڑا اہم دستوری ادارہ کونسل آف کومن انٹرسٹس (Council of Common Interests) ہے جس کی اہمیت اور کردار ۱۸ویں دستوری ترمیم کے بعد دوچند ہوگیا ہے اور فیڈریشن کے نظام کی صحیح خطوط پر استواری کے لیے اس کا فعال ہونا ضروری ہے۔ لیکن اسے بھی عملاً عضومعطل بنادیا گیا ہے۔ دستور کا تقاضا ہے کہ اس کا اجلاس ۹۰روز کے اندر اندر ہو مگر یہاں مہینوں گزر جاتے ہیں اور اس ادارے کا اجلاس ہی نہیں ہوتا۔ اور جب ہوتا ہے تو نہ پوری تیاری سے ہوتا ہے اور نہ گہرائی میں جاکر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ نے، اور اس میں سینیٹ کا بڑا کردار تھا، بڑی جدوجہد کے بعد ایف بی آر (Federal Bureau of Revenue)کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کی حیثیت سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا۔ ا س سلسلے میں سینیٹ کی کمیٹی براے خزانہ و معاشی ترقی نے میری صدارت میں ۸۰صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی تھی اور پھر ایف بی آر کو عملاً ایک ڈویژن بنایا گیا مگر آج کیفیت ’من تو شدم تو من شدی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اسی طرح سینیٹ اور اسمبلی کی تحریک پر شماریاتی بیورو کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کے مقام سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا گیا تاکہ اعداد و شمار صحیح صورت میں آزاد ذریعے سے پارلیمنٹ ، حکومت اور قوم کے سامنے آسکیں اور پالیسی سازی کا کام حقائق کی بنیاد پر ہو، حقائق کو سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہ بنایا جائے۔ قانونی اور لفظی کارروائی ہوگئی ہے مگر عملاً اعداد وشمار سیاسی دراندازیوں اور حکومت ِ وقت کی کرم فرمائیوں سے آزاد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی بجٹ اور اکانومک سروے کے پیش کردہ اعداد و شمار کے بارے میں بڑے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
۱۶-۲۰۱۵ء میں ترقی کی شرحِ نمو کے بارے میں علمی حلقوں اور تحقیقی اداروں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ حکومت اور قوم کے لیے فخر کا باعث نہیں۔ ۱۶-۲۰۱۵ء کے سال کے لیے معاشی ترقی کی نمو کی شرح کے بارے میں جو باتیں باہر آئی ہیں ان کو پڑھ کر انسان سر پکڑ لیتا ہے کہ ہم معاشی حقائق کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ہمارے فراہم کردہ اعداد و شمار پر اگر عالمی ادارے اور آزاد تھنک ٹینکس اعتبار نہیں کرتے تو وہ کتنے حق بجانب ہیں۔ ہم یہ اصول بھول گئے ہیں کہ آرا اور تعبیرات میں اختلاف فطری ہے لیکن حقائق کو شک و شبہے (tempering) سے بالا ہونا چاہیے اور ان کے بارے میں selectivityبھی پیشہ ورانہ بددیانتی کے مترادف ہے۔ اس سال کی ۷ئ۴ فی صد کی شرح کے بارے میں اس اخباری اطلاع پر ایک نظر ڈالیے کہ اس میں ہماری تصویر کیا نظر آتی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کی ۲۱ مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں اکانومک سروے کی اشاعت سے ۱۰ دن پہلے اس کے نامہ نگار شہباز رعنا کی یہ رپورٹ شائع ہوئی، جس کی کوئی تردید شائع نہیں ہوئی:
گزرے ہوئے مالی سال میں حکومت نے مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو میں اضافے کے لیے۵ئ۵ فی صد کا ہدف رکھا تھا۔ ملک میں نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کو جذب کرنے کے لیے ۷ فی صد سالانہ شرحِ نمو کی ضرورت تھی۔ اگر اضافے کی رفتار اس شرح سے کم ہوجائے تو اس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شکل میں سامنے آئے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے اعداد و شمار کے بیورو چیف آصف باجوہ نے ۱۸مئی کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو مطلع کیا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ ۲ئ۴ فی صد کے قریب آرہا ہے۔ باجوہ نے اسحاق ڈار کو یہ بھی بتایا کہ سابقہ دو مالی برسوں کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار ۴ فی صد سے نیچے جارہے ہیں۔ بہرکیف اسحاق ڈار نے ان اعدادوشمار کو قبول نہیں کیا اور باجوہ صاحب سے کہا کہ وہ پھر سے اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔ جب رابطہ کیا گیا تو باجوہ صاحب نے ۱۸مئی کی نشست کی نہ تردید کی اور نہ تصدیق۔
باجوہ صاحب نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا: اعداد و شمار بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ آخری اعداد و شمار منظور کیے جاتے ہیں اور ۱۵-۲۰۱۴ء کے لیے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافے کی عارضی شرح ۷ئ۴ فی صد ہے ۔ جب زرعی سیکٹر کی پیداوار میں نمایاںکمی ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری میں مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو رہا، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’۷ئ۴ فی صد کی شرح نمو کہاں سے آگئی؟‘‘ وزارتِ خزانہ کے سابق معاشی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے سوال کیا۔ خان صاحب نے کہا: اعداد و شمار کے باب میں ان کا اپنا حساب کتاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزرے ہوئے مالی سال میں شرحِ نمو ۵ئ۳ فی صد سے زیادہ نہیں تھی۔
تمام پہلوئوں پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرکار نے جس شرحِ نمو کو پسند کیا وہ ۷ئ۴ تھی۔ کیوں نہ ہو۔ ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو گذشتہ سال کی حاصل کردہ ۴فی صد کی شرح سے بہتر تھی اور آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق، یعنی ۵ئ۴ فی صد سے بھی تھوڑی بہتر ہی تھی۔
بس طے ہوگیا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ۲ جون کو معاشی سروے آف پاکستان ۱۶-۲۰۱۵ء جاری کرنے کے ساتھ ۷ئ۴ فی صد کی عارضی شرحِ نمو کا رسمی اعلان کریںگے۔
اعداد و شمار کے ساتھ کھیل کی یہ ایک مثال ہے۔ ورنہ حال یہ ہے کہ ہرمیدان میں اصل حقائق سے اغماض اور پسند کے ’حقائق‘ کی صورت گری بائیں ہاتھ کا کھیل بن گئی ہے اور ملک اور ملک سے باہر ہمارے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشی منصوبہ بندی کو مضبوط بنیادوں سے محروم کرکے نمایشی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب شیرانی ایک معروف معاشی ماہر اور سابق معاشی مشیر ہیںاس کا نوحہ ان الفاظ میں کرتے ہیں اور اس پس منظر میں کرتے ہیں کہ مشرف صاحب اور شوکت عزیز صاحب کے دور میں بھی اعداد و شمار کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جاتارہا ہے:
تازہ ترین واقعہ، حکومت نے دو دائروں میں جو سرکاری اعداد و شمار دیے ہیں، اس سے تعلق رکھتا ہے: نیشنل اکائونٹس (گروتھ) اور قومی حسابات (ایف بی آر کا جمع کردہ ٹیکس اور مالی خسارہ)دونوں مشرف اور شوکت عزیز کے دورکے محرکات ہی کا تسلسل ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کو مسخ کیا گیا ہے، تاکہ گذشتہ برسوں میں بلندترین شرحِ نمو سامنے آسکے۔ ۱۶-۲۰۱۵ء میں سرکاری جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ۷ئ۴ فی صد ہونا ایک ایسے وقت میں جب کپاس کی پیداوار میں ۴۰ لاکھ گانٹھوں کی کمی ہوئی ہو، کپاس کی معیشت کی شرح ۶ فی صد میں مضمر ہے۔ یہ ناقابلِ یقین ہے۔ معیشت کے کسی بھی پیمانے ___ برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کا استعمال اور نجی سطح پر سرمایہ کاری___ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے جیساکہ نمایاں مبصروں نے اس کی نشان دہی کی ہے، کہ پاکستان کے شماریات کے ادارے کا اعدادو شمار میں تبدیلی کرنا غیرپیشہ ورانہ ہے۔ ہرسیکٹر کی پیداوار کے معاملے میں اضافے کی شرح حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ پھر یہ ہیرپھیر بھی فنی مہارت سے عاری ہے۔ پیداواری سیکٹرز میں تو تبدیلی کردی گئی مگر اس کے متوازی تبدیلی اخراجات کے باب میں نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں پیداوار (production) اور اخراجات (expenditures)کا تعاون درہم برہم ہوگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے قومی حسابات ۲۳ئ۱ مارجینل رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، جو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ممکن نہیں۔
دوسرا شماریاتی ہاتھ کا کرتب سرکاری فنانس میں دکھایا گیا ہے۔ٹیکس جمع کرنے کی رقم کو بڑھایا گیا اوراس میں ان مدّات کو بھی شمار کرلیا گیا جو ۲۰۱۳ء سے بھی پہلے نان ٹیکس ریونیو کے تحت ریکارڈ کیے جارہے تھے۔ اسی طرح ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۶ء کے درمیان مالی خسارے میں کمی کو بھی بڑھا چڑھا کر مبالغے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
آخری بات یہ ہے کہ حالیہ تحفظات سرکاری اعداد و شمار کے معیار اور درست ہونے کے حوالے سے بہت زیادہ ناقابلِ اطمینان ثابت ہورہے ہیں۔
اگر معیشت کے تمام رجحانات کو سامنے رکھا جائے تو ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو کو تسلیم کرنے میں آزاد تحقیق کے تحفظات میں بڑا وزن ہے۔ ٭ ہمارا رجحان بھی ان معاشی ماہرین کی طرف ہے جن کی نگاہ میں ۷ئ۴ فی صد کا دعویٰ درست نہیں اور اصل شرحِ نمو ۱ئ۳ فی صد اور ۴ فی صد کے درمیان رہی ہے۔ حتمی طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے لیکن ماضی کی روایات کی روشنی میں سرکاری اعداد و شمار پر مکمل اعتماد بڑی آزمایش کا معاملہ ہے۔
اعداد و شمار پر شبہے کی داستان پرانی ہے لیکن ان تین برسوں میں موجودہ حکومت نے دستور کی دو بڑی پریشان کن خلاف ورزیاں اور بھی کی ہیں جو معاشی منصوبہ بندی، پالیسی سازی، بجٹ سازی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے باب میں مشکلات کا باعث ہیں اور باہمی اعتماد کو مجروح کرنے والی ہیں۔
ملک کی آبادی، اس کی جغرافیائی تقسیم، اس کی معاشی اور تعلیمی کیفیات یہ سب وہ بنیادی لوازمہ ہے جس کی روشنی میں معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کی جاتی ہے۔ آخری مردم شماری ۱۹۹۸ء میں ہوئی تھی اور دستور کا تقاضا ہے کہ ہر ۱۰سال پر مردم شماری ہو۔ ۲۰۰۸ء سے یہ واجب ہے مگر حکومت (پیپلزپارٹی ۲۰۰۸-۲۰۱۳ء اور مسلم لیگ ۲۰۱۳-۲۰۱۶ئ)نے اب تک اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ اپریل ۲۰۱۶ء کے بارے میں بڑی یقین دہانی تھی کہ مردم شماری ضرور کرائی جائے گی مگر عین وقت پر فوجی دستوں کی عدم دستیابی کے نام پر اسے ملتوی کردیا گیا ہے اور اس طرح یہ چوتھا بجٹ بھی ملک کے اور اس کی آبادی کے بارے میں معتبر معلومات کی جگہ تخمینوں اور اندازوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور ناقابلِ معافی کوتاہی ہے۔
اسی طرح دستور (دفعہ ۱۶۰-الف) کا تقاضا ہے کہ ہر پانچ سال پر نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (NFC Award) آئے جن میں آبادی اور دوسرے طے شدہ بنچ مارکس کی روشنی میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ریونیو کی تقسیم کی جائے۔ ساتواں ایوارڈ دسمبر ۲۰۰۹ء میں منظور ہوا تھا جس کی مدت دسمبر ۲۰۱۴ء میں ختم ہوگئی تھی۔ آٹھواں ایوارڈ ۲۰۱۵ء میں آجانا چاہیے تھا مگر نہ کمیشن بنا ہے اور نہ ایوارڈ آیا ہے۔ سابقہ ایوارڈ ہی کی روشنی میں محصولات کی آمدنی کو تقسیم کیا جا رہا ہے جو آئین اور قانون کے مطابق ہی نہیں زمینی حقائق اور انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ حکومت اس پورے معاملے کو بہت ہی ہلکا لے رہی ہے حالانکہ اس کے بڑے دُور رس آئینی، معاشی اور سیاسی مضمرات ہیں۔اسی طرح صوبوں میں بھی صوبائی فنانس کمیشن بننے چاہییں اور صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں وسائل کی تقسیم قانون اور انصاف کے مطابق ہونی چاہیے۔ ۱۸ویں دستوری ترمیم ۲۰۱۰ء میں منظور ہوئی تھی۔ چھے سال گزرنے کے باوجود اس پر قانون اور اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو رہا جس کے اثرات قومی یک جہتی کے لیے بڑے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ دستور، قانون اور اجتماعی عدل کے تقاضوں سے کھیل کر کوئی قوم خیر اور اعتمادِ باہمی کو مجروح کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ایک اور بڑا ہی اہم دینی اور دستوری تقاضا ہے جس کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ملک جہاں معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اللہ کے غضب کو بھی دعوت دی جارہی ہے اور رزق اور معاشی ترقی کے باب میں بے برکتی کی شکل میں اس کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن کا واضح اعلان ہے کہ سودی لین دین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس معیشت کا مٹھ مار دیتا ہے جو سود کی بنیاد پر قائم ہو۔ ہم سود کے نظام کو مستحکم اور سود سے پاک معیشت کے دعوئوں اور واضح دستوری مطالبے سے رُوگردانی کر رہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آج سود اور سودی قرضوں میں ہمارا بال بال گرفتار ہے۔ بجٹ کا سب سے بڑا مصرف سود اور سودی قرضوں کی ادایگی اور اس مکروہ عمل کو جاری رکھنے کے لیے مزید سودی قرضے لیناہوگیا ہے۔ ہم بڑے دُکھ اور افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں جناب نوازشریف کی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور شریعت اور دستور سے عملاً باغیانہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پہلے دور میں ۹۰کے عشرے میںوفاقی شریعت کورٹ کے سود کو ختم کرنے اور متبادل نظام کو سرکاری سطح پر رائج کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف حکومت اور اس کے ایما پر مسلم کمرشل بنک جسے اس حکومت نے نجی بنایا تھا۔ سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس کی وجہ سے یہ عمل ۱۱سال معطل رہا۔ پھر سپریم کورٹ نے مشرف دور میں اپنا تاریخی فیصلہ دیا جسے غیرمؤثر بنانے کے لیے مشرف صاحب نے شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کو بدل دیا اور مسئلے کو پھر ازسرِنو سماعت کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کو بھیج دیا جہاں وہ آج بھی معلق ہے۔
یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اس بارے میں خاموش برتی جس پر احتجاج ہو اور اس کے نتیجے میں وزیرخزانہ نے مرکزی بنک کے نائب گورنر کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی جسے یہ کام سونپا گیا کہ ایک سال کے اندر اس سلسلے میں اپنی رپورٹ دے گی اور تبدیلی کا نقشۂ کار پیش کرے گی۔ ذمہ دار حضرات نے خود مجھے یقین دلایا اور ڈپٹی گورنرصاحب نے خود بھی اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں بلکہ رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی کی ایک کانفرنس میں جس کا کلیدی خطبہ مَیں نے دیا تھا یہاں تک کہا کہ میرے ڈپٹی گورنر کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک بنیادی مصرف بھی یہ ہے کہ ملک میں غیرسودی بنکنگ کے نظام کو قائم کرنے میں کردارادا کرسکوں۔ میرے اندازے کے مطابق اس کمیٹی کی رپورٹ ۲۰۱۵ء کے وسط تک آجانی چاہیے تھی لیکن قوم کو اس کی کوئی خبر نہیں کہ کمیٹی نے کیا کام کیا ہے اور اس لعنت سے نجات کے لیے کوئی منصوبۂ کار ہے بھی یا نہیں۔ وزیراعظم صاحب اور وزیرخزانہ اس باب میں ناقابلِ معافی غفلت اور کارکردگی کے فقدان کے ذمہ دار ہیں۔ بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ ماضی کے بجٹ میں اس کمیٹی کے قیام کو حکومت کے ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
کیا وزیراعظم صاحب کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ میری موجودگی میں ان کے والد ِ محترم نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ان کو تلقین کی تھی کہ سود سے معیشت کو پاک کرنے کا کام ذمہ داری سے انجام دیں اور میری اطلاع کی حد تک اپنی جلاوطنی کے دور میں مدینہ منورہ میں جناب نوازشریف نے کچھ افراد کے سامنے یہ اظہار کیا تھا کہ ماضی میں ان سے کوتاہی ہوئی اور اگر ان کو آیندہ موقع ملا تو وہ اس کی تلافی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور موقع دیا جسے ان تین برسوں میں انھوں نے بُری طرح ضائع کیا ہے۔ اللہ کے قانون میں ڈھیل تو ہے لیکن اس کی گرفت بھی بہت ہی سخت ہے۔
ان تمام دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی تقاضوں کے باب میں موجودہ حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا رویہ فوری نظرثانی کا محتاج ہے۔
بجٹ میں ملک کو درپیش معاشی چیلنج کا صحیح ادراک ہی موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ احوال کے لیے جن اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے خصوصیت سے زراعت اور برآمدات کے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ جزوی اور خام ہیں۔ معاشی ترقی کے پورے تصور (paradigm) کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت ہے۔ ملک کے زمینی حقائق اور دستور اور قوم کے عزائم اور توقعات کی روشنی میں مقاصد، حکمت عملی، ترجیحات اور پروگرام کے ازسرِنو تعین اور وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال کی صحیح منصوبہ بندی درکار ہے۔ معاملہ محض جزوی اور وقتی اصلاحات کا نہیں بنیادی پالیسی اور ترجیحات کا اور اس کے ساتھ صحیح وژن، اداروں کی اصلاح، تحقیق اور مشاورت سے مربوط پالیسیوں کی تشکیل، فیصلہ سازی اور ان کے نفاذ کے باب میں مؤثر تعمیرِصلاحیت (capacity building) اور صرف میرٹ کی بنیاد پر مردانِ کار کا انتخاب، معاشی اور سماجی انفراسٹرکچر کی اصلاح، delivery system کی تنظیم نو___ ان میں سے ہرپہلو فوری توجہ اور مناسب تنظیم نو کا متقاضی ہے۔ موجودہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ وژن ہے اور نہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ڈھانچا اور افرادِ کار۔
ایک اطلاع کے مطابق ۴۰ سے زیادہ اہم مرکزی ادارے باقاعدہ سربراہ سے محروم ہیں۔ دو اہم ترین وزارتیں ہمہ وقت وزیر کو ترس رہی ہیں۔ جامعات اور تحقیقی اداروں میں اپنے ملک کے مسائل کے بارے میں تحقیق اور زمینی حقائق کی روشنی میں نئی ٹکنالوجی کی دریافت کا کام معطل ہے۔ ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے جو اثرات پڑ رہے ہیں اور ان کی روشنی میں جس قسم کی فصلوں اور ان کی کون سی اقسام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیں ۔ زرعی میدان میں ریسرچ اور توسیعی خدمات (extension service) غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک اخباری تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ایک طرف کپاس کی کاشت بحران کا شکار ہے اور موسم کے اثرات کے علاوہ بیج کے ناقص ہونے اور جراثیم کش ادویات کی ضرورت سے مطابقت نہ ہونے نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ چین سے جو بیج درآمد کیا گیا وہ ہمارے حالات سے کوئی مطابقت نہ رکھتا تھا لیکن سیاسی مصالح یا معاشی مفادات کی خاطر یہ ظلم ملک اور کاشت کار طبقے پر کیا گیا جس کی سزا پورا ملک اور پوری فارم کمیونٹی بھگت رہی ہے مگر حکومت کو نہ حالات کا اِدراک ہے اور نہ اصلاح کا جذبہ۔ نمایشی اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس وقت جب کپاس کی فصل تباہ اور اس کی کاشت کرنے والی پوری برادری پریشان ہے حکومت کی غفلت کا یہ حال ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان مستقل افسر تک سے محروم ہے۔ تین سال سے دفتر ایسے انچارج کے ہاتھوں چل رہا ہے جو اس شعبے میں مہارت نہیں رکھتا اور عارضی چارج لیے ہوئے ہے۔ مرکزی سطح پر اسلام آباد میں کیا گل کھلائے جارہے ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کاٹن ریسرچ کو وزارت زراعت کے بجاے وزارتِ ٹیکسٹائل کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں کپاس کی کاشت کے اُمور سے متعلق کوئی کام ہو ہی نہیں رہا (روزنامہ دنیا، ۴مئی ۲۰۱۶ئ)
زراعت کے مسائل ہوں یا برآمدات کے___ ان جزوی اصلاحات سے ان کا حل ممکن نہیں جن کا بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ان دونوں شعبوں میں پورے نظامِ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پالیسی کے اہداف سے لے کر پورے نظامِ کار بشمول Extension Services اور Delivery System کے ازسرِنو جائزے کی ضرورت ہے۔ ہر میدان میں ریسرچ اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کا اہتمام کرنا ہوگا۔ ہر کام کے لیے اس کے لیے مناسب مہارت رکھنے والے قابل افراد کے تقرر اور احتساب اور باقاعدگی سے نگرانی (regulation)کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہوگی۔ محض اَشک شوئی سے بحرانوں کی اس دلدل سے نکلنا ممکن نہیں۔ مسئلہ structural ہے صرف سبسڈیز اور زیرو ریٹنگ سے اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔
بلاشبہہ اس پورے کام کے لیے صحیح قیادت اور مردانِ کار کے ساتھ مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری نگاہ میں ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ کمی دیانت داری اور مہارت و اہلیت کے ساتھ ساتھ وسائل کے حصول اور ان کے مناسب استعمال کی ہے۔ ملکی وسائل کی صحیح مو بلائزیشن اور بیرونِ وطن پاکستانیوں کو معاشی ترقی میں مؤثر انداز میں شریک کر کے قرضوں کے بغیر خطیر وسائل کا حصول ممکن ہے۔ کرپشن پر قابو پاکر حقیقی وسائل کو دوچند کیا جاسکتا ہے۔ صرف اسمگلنگ پر قابو پاکر اربوں ڈالر کے وسائل سرکاری خزانے میں لائے جاسکتے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کی اصلاح سے ٹیکس کی آمدنی کو دگنا اور اس سے بھی زیادہ ترقی دینا چند سال میں ممکن ہے۔ پیداوار کو value added کی سمت میں ڈھال کر اور جدید ٹکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر ملک کی comptiveness کو کہیں سے کہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس ٹیلنٹ سے فائدہ اُٹھانے کی کمی ہے۔ اس کے لیے ایک نئے طرزِفکر (mind-set) کی، ایک نئی ٹیم کی اور محرکات (incentives) کے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ دیانت دار اور باصلاحیت قیادت جو اپنی ذات کے مفاد کی پجاری نہ ہو بلکہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے کمربستہ ہو، وہ چند سال میں ملک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ جس تبدیلی کی ملک کو ضرورت ہے وہ وہ ہے جس کی ہم نے اُوپر نشان دہی کی ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ حالیہ بجٹ اور موجودہ حکومت اس تبدیلی کی سمت میں کوئی قدم بڑھانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے ؎
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ جو دُکھ ہمیں تھے، بہت لادوا نہ تھے
(کتا بچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔۱۷ روپے،۱۰۰ ۱روپے سیکڑہ۔ فون:35252211)
اچھی زندگی پر رشک تو زمانے کا چلن ہے لیکن کامیاب زندگی وہ ہے جس کا اختتام اس موت پر ہو جس پر ہر صاحب ِ دل بے ساختہ رشک کرے__!!
میرے عزیز بھائی مطیع الرحمن نظامی کی شہادت ایک ایسی ہی یادگار موت بن گئی ہے جس نے ان کو بہترین انسانوں کے اس قافلے کا شریکِ سفر بنا دیا ہے جس میں ہمیشہ زندہ رہنے والے ہی سرگرم اور سرفراز رہیں گے۔
جس وقت ان کا جسد ِ خاکی بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے قصبے پبنہ میں، جو ان کا مولد ہے، سپردِ خاک کیا جارہا تھا اور اس بستی میں کرفیو کی کیفیت کے باوجود ہزاروں افراد شریکِ جنازہ تھے اور ان کے لیے مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعائیں کر رہے تھے، تو ان دعائوں کی بازگشت بیت اللہ اور مسجد نبویؐ سے لے کر استنبول، نیویارک، سری نگر، دہلی، اسلام آباد، لاہور، لندن، ٹوکیو اور مشرق و مغرب کے بیسیوں مقامات پر سنی جاسکتی تھی۔ جہاں ایسے ہزاروں افراد کی آنکھیں اَشک بار لیکن زبانیں مصروفِ دعا تھیں جن کی اکثریت نے زندگی میں کبھی ان کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی ؎
ہے رشک ایک خلق کو جوہرؔ کی موت پر
یہ اس کی دین ہے، جسے پروردگار دے
مطیع الرحمن نظامی نے اللہ کی بندگی ، اس کے دین کی وفاداری، اور اسلام کی دعوت اور تحریک ِ اسلامی کی سربلندی کا جو عہد اپنے رب سے نوجوانی کے آغاز میں کیا تھا، اسے آخری لمحے تک صبرواستقامت کے ساتھ نبھایا، اللہ کی نافرمانی اور طاغوت سے سمجھوتے کے ہر دام سے اپنا دامن بچاتے ہوئے صرف اپنے خالق کی رضا کے حصول اور اس کے فیصلے پر اعتماد اور شکر کا راستہ اختیار کیا اور آخری چال ’رحم کی اپیل‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اس طرح اللہ سے اپنے عہد کو سچا کر دکھایا:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ز وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo(احزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
برادرم مطیع الرحمن نظامی نے اللہ پر بھروسا اور صرف اس کی خوشنودی کی طلب اور اپنے اہلِ خانہ کے جذبے اور عزم کے ساتھ تمام تحریکی رفقا اور ساتھیوں کے لیے اور تمام ہی اہلِ وطن کے لیے صبرواستقامت اور راہِ حق سے وفاداری کی وصیت کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے کی طرف جس اعتماد اور شوق کے ساتھ پیش قدمی کی، اس کا تصور ایمان افروز ہی نہیں بے ساختہ دل سے یہ پکار نکالنے کا وسیلہ بھی بنتا ہے کہ نئی زندگی میں فرشتوں نے بھی اسی شوق اور انبساط سے ان کا استقبال کیا ہوگا:
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o (الفجر۸۹: ۲۷-۳۰) اے نفس مطمئنہ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔
میرے لیے مطیع الرحمن چھوٹے بھائی کے مانند تھے۔ پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ۱۹۶۵ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن بنے۔ البتہ خرم بھائی ان کا ذکر اس سے پہلے کرچکے تھے۔ جن افراد کا خرم بھائی سے خصوصی تعلق تھا، ان میں مطیع الرحمن نمایاں تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں شرکت سے بھی پہلے انھی کے ایما پر انھوں نے جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ پروفیسر غلام اعظم اور مطیع الرحمن نظامی دونوں ہی کا خرم بھائی سے بہت گہرا تعلق تھا اور مجھے بھی دونوں سے خصوصی تعلق رہا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، دونوں نے اپنے اپنے انداز میں جو مثال قائم کی ہے، وہ مدتوں تحریک ِ اسلامی اور اُمت مسلمہ کے لیے روشن چراغ کی مانند رہے گی۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب سے میرے تعلقات تقریباً ۶۰برس اور مطیع الرحمن نظامی سے ۵۰برس پر پھیلے ہوئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دونوں کو اچھا انسان ، تحریک ِ اسلامی کا مخلص اور صاحب ِ بصیرت، خادم و قائد، وفادارپاکستانی اور دل و جان سے بنگلہ دیش کی خدمت اور ترقی اور اسلامی تشکیل و تعمیر کے لیے جان اور مال کی بازی لگادینے والا پایا۔
پروفیسر غلام اعظم ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک جماعت اسلامی مشرقی پاکستان اور پھر ۱۹۷۸ء سے ۲۰۰۰ء تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر رہے اور مطیع الرحمن بھائی ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۶ء تک امارت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ میں اس تاریخی حقیقت کو پوری دیانت اور پوری قوت سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح وہ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے وفادار تھے اور ان کی پوری کوشش تھی کہ جس بنیاد پر پاکستان قائم ہوا اور جو اس کی اصل پہچان ہے، اس کی حفاظت کے لیے وہ سردھڑ کی بازی لگاد یں، اسی طرح جب بنگلہ دیش قائم ہوگیا تو پھر دل کی گہرائیوں سے انھوں نے اسی جذبے کے ساتھ اس کی آزادی، ترقی اور اسلامی تشکیل کے لیے اپنا سب کچھ لگادیا۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب ۱۹۷۲ء کی اس مرکزی شوریٰ میں شریک تھے جس میں مولانا مودودیؒ نے امارت سے فارغ ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور پھر جماعت میں یہ طریقِ انتخاب رائج ہوا کہ شوریٰ امارت کے لیے تین نام تجویز کرتی ہے اور ارکان ان تینوں میں سے کسی ایک کو، یا جسے وہ مناسب سمجھیں اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ میں کوئی راز فاش نہیں کر رہا ہوں لیکن اسی وقت جو تین نام آئے تھے، ان میں سرفہرست پروفیسر غلام اعظم ہی کا نام تھا اور اغلب تھا کہ وہ امیرجماعت منتخب ہوں لیکن پروفیسر صاحب نے جن الفاظ میں معذرت کی وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا مرنا اور جینا پاکستان کے لیے تھا لیکن اب زمینی حقائق کی روشنی میں میرا اصل میدانِ کار بنگلہ دیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے چند ماہ بعد ہی مشرق وسطیٰ اور پھر انگلستان منتقل ہوگئے اور بنگلہ دیش کے تحریکی معاملات سے اپنے کو وابستہ کرلیا۔ بالآخر ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش آگئے۔ اپنی شہریت کے لیے قانونی اور سیاسی جنگ مردانہ وار لڑی اور بالآخر ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ان کی شہریت بحال کی گئی۔
جسٹس انوار چودھری نے اپنے فیصلے میں پروفیسر صاحب کے بنگلہ دیش سے وفاداری کے تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
درخواست گزار کا ایک طرزِ عمل بالکل واضح دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ بنگلہ دیش کی شہریت کے بغیر تقریباً ایک بے ریاست فردتھے، اور ایک بحرانی لمحے سے گزر رہے تھے، نہ وہ پاکستان گئے اور نہ پاکستان کا انتخاب کیا، جب کہ وہ ایسا کرسکتے تھے جیساکہ دیگر نااہل (disqualified)افراد نے کیا۔ یہ طرزِعمل اور ان کا یہ ارادہ کہ ایک بنگلہ دیشی کی حیثیت سے انھیں شناخت کیا جائے، اصل ڈومیسائل سے محض رہایشی ہونے کے مقابلے میں زیادہ متعلق ہے۔ (بحوالہ جسٹس انوارالحق چودھری، قطعی فیصلہ دیتے ہوئے ۱۰۳، ۱۰۴ اور ۱۲۲ رٹ پٹیشن نمبر ۱۲۱۶)
اس امر کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے وفاداری، اس کے تحفظ کی جدوجہد اور آخری لمحے تک جدوجہد ایک چیز ہے، اور زمینی حقائق کے نتیجے میں سیاسی نقشے کی تبدیلی کے بعد نئی مملکت سے تعلق اور وفاداری ایک دوسری شے۔ اول الذکر کو دوسرے پہلو سے دشمنی یا مخالفت کی دلیل بنانا، بدنیتی اور خلط مبحث ہی نہیں، تاریخی حقائق کا بھی مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کانگریس، خدائی خدمت گار، احرار اور جمعیت علماے ہند نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان کے قیام کے بعد جب انھوں نے پاکستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تو وہ قومی زندگی کا حصہ بن گئے اور کانگریس کے ارکان نے پارلیمنٹ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کی پوری قیادت نے پاکستان کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی مگر تقسیم کے بعد ہندستان کا حصہ بننے والے علاقوں کی مسلم لیگ کی قیادت بھارت کی وفادار شہری بنی اور پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اپنا کردار ادا کرنے لگی۔ یہی معاملہ ان ۱۵۰ سے زیادہ ممالک کی سیاسی قوتوں کے بارے میں رہا جنھوں نے تحریکاتِ آزادی میں حصہ لیا تھا یا اس کا مقابلہ کیا تھا لیکن آزادی کے بعد آزادی سے پہلے کی سیاسی صف بندیوں کو قصۂ ماضی بناکر نئے دروبست میں نیا کردار ادا کیا۔
مجھے خوشی ہے کہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کے فیصلے پر بحث کرتے ہوئے اس نکتے کو واضح کردیا ہے اور بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے کے دور کے سیاسی موقف اور جنگ کے دوران یا اس کے بعد انسانی جان، مال اور عزت کے باب میں جرائم کو دوالگ الگ ایشوز تسلیم کیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے میں جہاں پروفیسر صاحب کے بارے میں یہ بات صاف الفاظ میں کہی گئی ہے کہ ۱۹۷۱ء تک پاکستان سے وفادار ہونے، ۱۹۷۱ء کے بعد بنگلہ دیش سے باہر رہنے، ۱۹۷۳ء میں ان کو شہریت سے محروم کردینے اور ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش واپس آکر شہریت سے محرومی کے علی الرغم بنگلہ دیش میں رہنے سے ان کے حقِ شہریت اور بنگلہ دیش کی آزاد مملکت سے وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ رہا معاملہ جنگی جرائم یا کسی دوسرے پہلو سے کسی ایسے جرم کا جسے وارکرائم یا Collaborators Act میں جرم قرار دیا گیا ہو تو ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک بھی پروفیسر صاحب کو کسی ایسے جرم میں ماخوذ نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت واضح ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے ۲۰۱۰ء سے جو محاذ کھولا ہے، وہ طبع زاد ہے اور ۱۹۹۲ء سے ۲۰۰۸ء تک پروفیسر صاحب یا جماعت اسلامی کی قیادت پر قتل و غارت اور اخلاقی جرائم کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ جو کچھ گذشتہ چھے سات سال سے کیا جارہا ہے، وہ حکومت کی صریح دروغ بیانی ہے۔ جنگی جرائم کے نام نہاد ٹریبونل نے جو کچھ کیا ہے، وہ انصاف کا قتل ہے۔ غضب ہے کہ ان بے داغ سیاسی قائدین پر ایک سے ایک کریہہ اتہام لگایا جارہا ہے اور ظلم کی انتہا ہے کہ ان ناکردہ گناہوں پر ان کو پھانسی اور عمرقید کی سزائیں دی جارہی ہیں۔
ان افراد کے مقدمے اور سزا کے لیے، جنھوں نے جنگ ِ آزادی کے دوران افواجِ پاکستان سے خفیہ تعاون کیا اور یہ کرتے ہوئے دیگر مجرمانہ افعال کے لیے ایک خصوصی قانون بنا: Bangladesh Collaboration (special tribunal) Order 1972 (PO No.89 1972) بنایا گیا۔ اس قانون کے تحت کچھ لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا اور سزا دی گئی۔ لیکن بعد میں سزایافتہ اور ان افراد کو جو مقدمات کے لیے مطلوب تھے، معافی دے دی گئی، سواے ان لوگوں کے جو سنگین جرائم، مثلاً قتل، عصمت دری، آتش زنی وغیرہ میں سزا یافتہ تھے یا مطلوب تھے۔ بالآخر یہ قانون منسوخ کر دیا گیا۔ لیکن نہ تو ۱۹۷۲ء کا PO No.8 اور نہ PO No.149 میں کوئی ایسی دفعہ ہے جو کسی کی بنگلہ دیش کے شہری ہونے کی اہلیت ختم کردے۔
بھارتی فوج کے ساتھ جنگ ِ آزادی کے دوران تعاون کرنے اور قتل، عصمت دری یا آتش فشانی کرنے یا اس میں مدد دینے یا آزادی کے بعد بنگلہ دیش دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینا، اس قسم کے کسی جرم کا ارتکاب درخواست گزار کے خلاف کسی بااختیار عدالت میں ابھی تک رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی آگے بڑھ کر درخواست گزار کے خلاف کریمنل لا کے تحت پولیس میں ایف آئی آر درج کرواکر یا کسی مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کر کے کارروائی کا آغاز نہیں کیا ہے۔
مزید یہ کہ درخواست گزار نے بعد کی مطبوعات میں درج کیے گئے واقعات کی سچائی کو چیلنج کیا ہے۔ سواے چند خبروں اور ایک تصویر کے جن سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ درخواست گزار جنرل ٹکا خان یا جنرل یحییٰ سے ملا ہے، کوئی چیز بھی نہیں ہے جو درخواست گزار کو ان مظالم میں ملوث کرے جن کا پاکستانی فوج اور ان کے حلیفوں البدر اور الشمس کے رضاکاروں پر الزام لگایا جاتا ہے۔ کوئی بھی چیز درخواست گزار کو براہِ راست ملزم ثابت نہیں کرتی سواے اس بات کے کہ درخواست گزار آزادی کی اس جنگ کے دوران فوجی جنتا کے ساتھ ملتاجلتا تھا۔
بنگلہ دیش کی عدالت ِ عالیہ کے ۱۹۹۲ء کے فیصلے سے تین باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں جن کا تعلق اصولی طور پر ان تمام افراد اور اُمور سے بھی ہے جن پر ۲۰۱۰ء کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے انصاف کاخون کرتے ہوئے فیصلے صادر فرمائے ہیں۔
۱- بنگلہ دیش جنگ ِ آزادی کے دوران جن لوگوں نے اس کی مخالفت کی، وہ کسی جنگی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ یہ ایک نظریاتی اور سیاسی پوزیشن تھی۔ اس کے برعکس اگر کوئی فرد کسی غیرقانونی حرکت کا مرتکب ہوا ہے تو اس پر متعلقہ قانون کے تحت گرفت ہونی چاہیے اور قانون اور مجاز عدالت میں ہونی چاہیے۔ دونوں کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔
۲- محض جنگ ِ آزادی میں عدم شرکت یا اس کی مخالفت کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی شہریت سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جس نے اس سے وفاداری کا عہد کیا ہے، اس کے اس عہد کو چیلنج کیا جاسکتا ہے یا مشتبہ بنایا جاسکتا ہے۔ البتہ آزادی کے بعد اگر کسی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ قانون کے مطابق مجاز عدالت سے ثابت ہوجاتا ہے تو اس پر گرفت ہوسکتی ہے۔
۳- جہاں تک پروفیسر غلام اعظم صاحب کا تعلق ہے، ۱۹۹۲ء تک ان پر کوئی الزام بھی کسی مجاز عدالت میں نہیں لگایا گیا اور ۷۳-۱۹۷۲ء میں جن افراد پر الزامات لگائے گئے تھے، ان میں پروفیسر صاحب کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ محض اخباری اطلاعات اور سنی سنائی باتوں (heresy) کی بنیاد پر ایسے سنگین الزامات لگانے کی کسی ایسے معاشرے میں کوئی گنجایش نہیں جو قانون کی حکمرانی کا دعوے دار ہو۔
گو یہ تینوں باتیں پروفیسر صاحب کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے میں آئی ہیں لیکن یہ ان تک محدود نہیں اور برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے تمام افراد جنھیں اس وقت ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان کے بارے میں بھی اتنا ہی لاگو (applicable) ہے، لیکن اب عدالت اور پوری انتظامی مشینری جس بے دردی اور بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، اس نے پورے نظامِ حکومت کو غیرمعتبر بنادیا ہے۔ اس کھلے کھلے ظلم میں سب ہی شریک نظرآرہے ہیں اور اب اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جانے لگا ہے بلکہ وہ بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں جو حسینہ واجد کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چند آرا حقائق کو واضح کرنے کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔
دی اکانومسٹ اپنی ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ’بنگلہ دیش __ یک جماعتی آمریت کی پھسلن پر‘(Bangladesh is sliding into one party dictatorship) کے عنوان سے لکھتا ہے کہ بنگلہ دیش کا اصل مسئلہ عدم برداشت اور مخالفت کی آواز کو قوت سے دبانا ہے جسے وہ بنگلہ دیش کا ’پیدایشی مرض‘ قرار دیتا ہے۔ اور وہ مرض کیا ہے؟ ___ ’’ایک سیاسی کلچر جو اختلاف کو برداشت نہیں کرسکتا اور جو اقتدار کو اسے کچلنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے‘‘۔
بہت سے بنگلہ دیشیوں کو اس پر غصہ تھا کہ اتنے طویل عرصے تک ۱۹۷۱ء میں کیے گئے جرائم کا کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھیرایا گیا۔ اس لیے جب عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کی حکومت نے ۲۰۱۰ء میں ٹریبونل قائم کیا تو اس اقدام کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ عمل انصاف کے ساتھ ایک مذاق ثابت ہوا۔ یہ دراصل عوامی لیگ کی مخالفت کو کمزور کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈکر پکڑنے کی ایک کارروائی تھی۔ نظامی صاحب اپنی پارٹی جماعت اسلامی کی چوتھی سینیرشخصیت ہیں جن کو سزاے موت دی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی حکومت میں اس کی اتحادی تھی، اس کی پاداش میں شیخ حسینہ کے مظالم کا نشانہ بن رہی ہے۔ نظامی صاحب نے اس کے وزیرصنعت کی حیثیت سے کام کیا۔ جماعت اسلامی رُوبہ زوال ہے لیکن بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں اب بھی ایک طاقت ہے…
اپوزیشن کنارے لگا دی گئی ہے اور عوامی لیگ پریس کو دبائو میں لے آئی ہے اور زبان بندی کردی ہے اور سرکاری ملازموں کو بہت زیادہ تنخواہیں بڑھا کر خرید لیا ہے۔ عدالتیں، سول سروس، فوج اور پولیس، سب پوری طرح سیاست زدہ ہیں۔
یہ ٹریبونل جماعت اسلامی کے قائدین کو ہدف بنانے کے لیے حکومت کا ایک سیاسی حربہ بن گیا ہے۔ (ڈیلی ٹائمز، ۱۲مئی ۲۰۱۶ئ)
بھارت کا روزنامہ دی ہندو اس سے پہلے برادرم علی احسن محمد مجاہد اور محترم صلاح الدین قادر چودھری کو پھانسی دیے جانے کے اس ٹریبونل کے فیصلے کے بارے میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کرچکا ہے۔ سزاے موت کے باب میں دی ہندو کا کہنا یہ تھا کہ:
اس نے مقدمے کی کارروائی کو بجاے انصاف کے حصول کے، جو کسی ریاست کے قانونی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے، انتقام کا رنگ دے دیا ہے۔ (Crime and Penalty in Bangladesh، دی ہندو، ۲۵نومبر ۲۰۱۵ئ)
بھارتی صحافی اور سابق سفارت کار کلدیپ نائر جو جماعت اسلامی کا سخت ناقد اور مذہبی قوتوں کا مخالف ہے اور ان کو غیرمؤثر دیکھنا چاہتا ہے وہ بھی اپنے syndicated مضمون میں جو پاکستان ٹوڈے (۱۹ جنوری ۲۰۱۵ئ) میں شائع ہوا ہے اور جس کا عنوان ’بنگلہ دیش کا المیہ ‘ ہے، میں لکھتا ہے:
یہ بات کہ شیخ حسینہ آمرانہ مزاج رکھتی ہے کوئی نئی بات نہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت ایک فردِ واحد کی حکومت ہے۔ حتیٰ کہ عدلیہ بھی ایسے فیصلے دینے سے ہچکچاتی ہے جو اسے ناراض کریں۔ رہی نوکرشاہی ،تو وہ محض ربڑاسٹامپ ہے۔
انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ شمارے (۲۰مئی ۲۰۱۶ئ) میں امریکا کے ایک سابق سفیر اور واشنگٹن کے مشہور تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سنٹر کے اسکالر ولیم میلام کا مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان Bangladesh's Real Terror ہے۔ اس میں وہ اعتراف کرتا ہے:
عوامی لیگ کا سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے خلاف عدلیہ اور پولیس کو استعمال کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔
یہ وہ کرب ناک صورتِ حال ہے جس نے پوری عدلیہ اور انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور سیاسی آمریت کے سایے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن انتقام اور ظلم کا سب سے مؤثر ذریعہ جنگی جرائم کا نام نہاد بین الاقوامی ٹریبونل بن گیا ہے جو اب تک ۱۳؍افراد کو سزاے موت دے چکا ہے جن میں سے پانچ کو سولی پر چڑھایا بھی جاچکا ہے۔ برادرم مطیع الرحمن نظامی اس کا تازہ ترین شکار ہیں۔ ان کے سلسلے میں انصاف کا کس طرح خون کیا گیا ہے، اس کی داستان انگلستان کے مشہور قانون دان بیرسٹر ٹوبی کاڈمین نے اپنے حالیہ مضامین میں پیش کی ہے۔ ہم اس تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی تحریر کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جو مشہور آن لائن مجلہ The Huffington Post میں ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے:
آج بین الاقوامی انصاف کے لیے ایک افسوس ناک دن ہے۔ ۱۱مئی ۲۰۱۶ء کو ایک بجے شب مطیع الرحمن نظامی کو ڈھاکہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔یہ پھانسی دیے جانے والے پانچویں شخص ہیں جنھیں انتہائی ناقص بین الاقوامی کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی بی) کے حکم پر پھانسی دی گئی۔ یہ ٹریبونل بین الاقوامی جرائم کی جواب دہی اور فراہمیِ انصاف کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس کی کارروائی کے جواز کو بے ضابطگیوں، مقدمات کو سیاسی طور پر حسب موافق و منشا بنانا اور قانونی ناانصافی نے مجروح کردیا۔ سپریم کورٹ اور آئی سی ٹی بی کے فیصلوں کا ایک سادہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ان دوسرے افراد کی طرح جن کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا نظامی کے مقدمے کی کارروائی بھی بین الاقوامی انصاف کے معیارات کے مطابق نہیں ہوئی۔ متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین نے ایک عام بیان میں جو پھانسی کی سزا سے دو دن پہلے جاری کیا گیا تھا یہی موقف اپنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: جو لوگ آئی سی ٹی بی میں پیش ہونے والے تھے، ان کو دستوری اور منصفانہ ٹرائل میں جو تحفظات حاصل تھے انھیں حکومت نے واضح طور پر ختم کرکے اس کی اثرپذیری اور قانونی استحقاق کو شروع ہی سے ختم کردیا۔ اور مزید جو کچھ بعد میں ہونا تھا، اس کے لیے زمین ہموار کر دی۔ اس بیان پر آزاد اور نام وَر وکلا، جج اور ماہرین کے ایک گروہ کے دستخط ہیں۔
استغاثے کے مطابق نظامی ’البدر‘ کے جو پاکستان آرمی کی نیم فوجی فورس تھی، چیف تھے لیکن بکثرت ریسورسز تک رسائی کے باوجود سرکاری وکیل کوئی ایسی شہادت پیش کرنے سے قاصر تھا جو اس تنازعے سے متعلق ہو اورجس سے یہ ظاہر ہو کہ نظامی اس منصب کے حامل تھے۔ اس کے بجاے انھوں نے اشاروں (innuendo) اور نتیجہ نکالنے (inferences) کو ترجیح دی۔
فیصلے کی زبان اور بیان فنی کے بجاے لفظی اور یک رُخی ہے لیکن قانونی نقطۂ نظر سے جو بات اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ یہ جرائم سے متعلقہ عناصر کے مکمل تجزیے سے محروم ہے۔ گو کہ اپیل کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسل کشی کی سزا کو برقرار رکھا لیکن کورٹ نے نہ تو مطلوبہ تقاضوں (subjective)، یعنی نسل کشی کی تعریف کے مطابق متعلقہ گروہ کا تعین کیا ، نہ جرم کا ذہنی عنصر کو جو اس قسم کے جرم کا ایک لازمی خاصہ (فیچر) ہوتا ہے، فیصلے میں بیان کیا گیا۔
بہرحال مقدمے کی ناانصافی متعلقہ شہادتوں اور قانونی تجزیہ نہ ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اساسی بنیادی حقوق کو بھی متاثر کرتی ہے۔ نظامی کے خلاف مقدمہ اسلحے کی خوف ناک عدم مساوات سے متاثر (infect) تھا۔ استغاثے کو تفتیش کے لیے ۲۲ماہ دستیاب تھے، جب کہ دفاع کے لیے مقدمے کی تیاری کے لیے محض تین ہفتے دیے گئے۔ استغاثہ نے ۲۶ گواہ بلائے، جب کہ مستغیث کو چار سے زیادہ گواہ بلانے سے روکا گیا۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن یہ حقیقت ہے کہ گواہوں نے یہ قبول کیا کہ انھوں نے رشوتیں قبول کرنے کے بعد ایک خاص بیان دینے کی مشق کی اور جھوٹی گواہی دی ہے۔
اس حقیقت کے خلاف بڑی آراستہ و پیراستہ بیان بازی کے باوجود اس سے مفر نہیں ہے کہ آئی سی ٹی بی سیاسی طور پر ایک ساختہ پرداختہ ٹریبونل ہے۔ اسکائپ گیٹ اسکینڈل جس میں آئی سی ٹی بی کے ججوں اور ایک تیسرے فریق کے درمیان گھنٹوں گفتگو کا تجزیہ کیا گیا تھا، اس نے نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ آئی سی ٹی بی کے جج بیرونی احکامات کی پیروی کرتے ہیں بلکہ مقدمے کا سامنا کر نے والوں کا جرم پہلے ہی سے طے ہے۔
متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی انجمنوں کی جانب سے آئی سی ٹی بی اور بنگلہ دیش پر پہلے ہی تنقید کی جارہی ہے کہ مقدمے کا سامنا کرنے والوں کو دستوری حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور ایک جانب دار موقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ٹریبونل کے قانونی اختیارات تنازعے کے ایک فریق کے کیے گئے جرائم تک محدود ہیں۔
اس مرتبہ نظامی کی پھانسی کو روکنے کے لیے عوام کا احتجاج پہلے کے مقابلے میں بہت مضبوط اور بہت زیادہ تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ، ٹام لنٹس ہیومن رائٹس کمیشن، دی بار ہیومن رائٹس کمیشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز اور سابق سفیر امریکا براے وارکرائمز نے بیانات دیے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کمیشن براے انسانی حقوق نے نظامی کی سزا کو روکنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ ٹریبونل نے جن مقدمات کو سناہے، وہ بدقسمتی سے منصفانہ مقدمے اور مقررہ قانونی کارروائی کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت بنگلہ دیش نے ان تمام مطالبات اور تنقید کو بالکل نظرانداز کر دیا جس سے آدمی کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے لیے زیادہ مضبوط اقدام کرنے کا وقت ہے۔
انصاف کی ضرورت کو مسخ کردیا گیا ہے اور وہ ایک انتقام کی تلاش میں تبدیل ہوگیا۔ بغیر مقررہ قانونی کارروائی، بغیر حقوق کے اور یہ قانونی کارروائی محض ایک دکھاوے کا مقدمہ ہے اور موت کا فیصلہ آمرانہ قتل قرار پاتا ہے۔
برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسری تحریکی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ جنگی جرائم پر گرفت کے نام پرجو ظلم کیا جا رہا ہے، اس کے قانونی، عدالتی پہلوئوں اور عالمی اداروں کے اس ڈھونگ پر ردعمل کے اس مختصر جائزے کے ساتھ یہ امر بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے اسلامی تحریکات، انسانی حقوق کے نام وَر اداروں اور کچھ اہم سیاسی اور علمی شخصیات نے ان پر بھرپور احتجاج کیا ہے اور ترکی کے صدر اور وزیراعظم نے سب سے مؤثر انداز میں اس ظلم کو برملا ظلم کہا ہے اور بنگلہ دیش سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے، وہیں بیش تر مسلم ممالک کی قیادتیں خاموش تماشائی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی نمایشی ردعمل سے ہٹ کر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور مغرب کی وہ تمام قیادتیں اور تجزیہ نگار جو جانوروں اور درختوں کے تلف کیے جانے پر تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں اور سیاسی اور معاشی پابندیوں (sanctions) کے تیرونشتر حرکت میں آجاتے ہیں، وہ بالکل منقار زیر ہیں بلکہ چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اسلامی تحریکات اور شخصیات پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑے جائیں تو ان کے ضمیر میں کوئی کسک نہیں ہوتی۔ یہی وہ منافقت اور دوغلاپن ہے جو مغرب کی سیاسی اور فکری قیادت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور اگر عام انسان اس گندم نما جوفروشی پر اپنے اضطراب اور غصے کا اظہار کرتے ہیں تو معصوم چہرہ بناکر فرمایا جاتا ہے Why do they hate us? (وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟)
برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے مظلوم رہنمائوں اور ساتھیوں کی پاک دامنی کا ثبوت یہ ہے کہ عدالت متعصب ہے، قانون بددیانتی پر مبنی ہے، انصاف کے ہرتقاضے کا خون کیا جارہا ہے، ملزموں کو دفاع کے حق اور کم سے کم مواقع سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، گواہوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، حتیٰ کہ اغوا کیا جارہا ہے اور عدل کی فراہمی کے عمل میں کھلے کھلے مداخلت کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ وزرا، سرکاری مشیر، بیرونی افراد ججوں کو ہدایات دے رہے ہیں اور آخری حد یہ ہے کہ جب کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت میں کھلے الفاظ میں یہ تک کہہ دیا کہ ملزموں کے خلاف نہ کوئی قابلِ اعتماد گواہی اور شہادت ہے اور نہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرسکا ہے تو بھارت کا ہائی کمشنر فیصلے کے اعلان سے ایک دن پہلے کھلے بندوں چیف جسٹس سے ملتا ہے اور وہی چیف جسٹس صاحب اس شخص کو جس پر اس کے اپنے بقول استغاثہ جرم ثابت نہیں کرسکا، نہ صرف موت کی سزا دے دیتے ہیں بلکہ یہ بھی فرما دیتے ہیں: ’’جنگی جرائم کا ثابت ہونا ضروری نہیں، بلکہ جنگ ِ آزادی کی مخالفت بھی ایک کافی ’جرم‘ ہے ‘‘ اور اس طرح معصوم انسانوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جارہا ہے۔
ایک طرف حکمرانوں، عدالتوں اور قانون کے محافظوں کا یہ کردار ہے اور دوسری طرف ان افراد کی پوری زندگیوں کو دیکھا جائے جن کو اس ظلم و سفاکیت اور انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایک بالکل دوسری ہی تصویر سامنے آتی ہے۔
آیئے کچھ جھلکیاں تصویر کے دوسرے اور اصل رُخ کی بھی دیکھ لیں۔ وہ حضرات جن کو ظلم اور عدالتی قتل کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان کا اصل کردار کیا ہے اور معاشرے میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں، یہ سب ایک کھلی کتاب کے مانند ہے۔
مطیع الرحمن نظامی ضلع پبنہ کے گائوں منحت پور میں ۳۱مارچ ۱۹۴۳ء کو ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی اور پھر ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شعیب پور کے مدرسے کی طرف رجوع کیا جس سے فارغ ہوکر ڈھاکہ کے مدرسۂ عالیہ سے ۱۹۶۳ء میں کامل کی سند حاصل کی۔ دینی علوم کے ساتھ آپ نے جدید تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ڈھاکہ سے ۱۹۶۴ء میں انٹر اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے ۱۹۶۶ء میں بی اے کی سند لی۔
مدرسیہ عالیہ ہی کے دور میں تحریک اسلامی سے رشتہ جوڑا اور خرم بھائی کی تحریک پر جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۱۹۶۳ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے اور ۱۹۶۵ء میں مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک مشرقی پاکستان جمعیت کے ناظم رہے اور ۱۹۶۹ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے اور اس طرح مشرقی پاکستان سے پہلے ناظم اعلیٰ منتخب ہونے کی سعادت پائی۔ یہ ذمہ داری ۱۹۷۱ء تک ادا کی اور اس طرح متحدہ پاکستان کی جمعیت کے آخری ناظم اعلیٰ ہونے کا تاج بھی ہمیشہ کے لیے ان کے سر کی زینت بن گیا۔
۲۰ویں صدی میں اسلامی تحریکات کے قائدین کو طرح طرح کی آزمایشوں سے سابقہ رہا ہے اور شہادت اور عدالتی قتل ان کا حصہ رہے ہیں لیکن جہاں تک میرا حافظہ ساتھ دیتا ہے، برادرم مطیع الرحمن نظامی کسی ملک کے پہلے امیرجماعت ہیں جنھیں امیرجماعت ہوتے ہوئے عدالتی ڈرامے کے نتیجے میں شہادت کی سعادت نصیب ہوئی ہے ع
یہ رُتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا
نظامی صاحب پر الزامات کی حقیقت
میں اپنے۵۰ سال سے زیادہ پھیلے ہوئے ربط و تعلق کی بنیاد پر پورے وثوق سے یہ گواہی دینے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ان کا جو اَخلاق، جو مزاج، جو جذبات و احساسات میں نے دیکھے اور ان کی ذاتی زندگی، تحریکی معاملات، ملکی اور سیاسی اُمور کو انجام دینے کے طریقے کا جتنا مجھے تجربہ ہے، اس کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ جن جرائم کو ان کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے ان کے بارے میں قرآن کے الفاظ میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ o (النور ۲۴:۱۶)
ان الزامات کے بارے میں نظامی بھائی نے ٹریبونل کو جو بیان دیا ہے اس کے یہ اقتباسات میرے احساس کو تقویت پہنچاتے ہیں:
’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں انھیں تاریخ کا بدترین جھوٹ کہوں گا۔ یہ مقدمات مخالفین کے سیاسی قدکاٹھ کو کم تر بناکر پیش کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ میں عرصۂ دراز سے کارزارِ سیاست میں ہوں۔ صرف سیاسی بنیادوں پر کسی کو عدالتوں کے حوالے کر دینا کوئی کمال نہیں ہے۔ میری جو سرگرمیاں بھی رہی ہیں، سیاسی کارکن کے طور پر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہیں۔
’’جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میں کبھی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا۔ کوئی بھی حکومت آخری حکومت نہیں قرار دی جاسکتی، نہ دنیاکی کسی عدالت کو آخری عدالت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس عدالت کے بعد ایک اور عدالت ہے اور تمام افراد کو اس عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’۱۹۷۱ء میں، مَیں ایک سیاسی کارکن تھا اور میرا کسی غیرقانونی سرگرمی سے تعلق نہ تھا۔ میرا مطالبہ یہ تھا کہ مقامی طور پر جو نمایندے منتخب ہوئے ہیں، ان کو اقتدار منتقل کیا جائے۔ جماعت اسلامی بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی کہ اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کیا جائے۔ اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ) بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی۔ اگر اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کر دیا جاتا تو موجودہ کریہہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔
’’تاریخ گواہ ہے کہ کس نے اقتدار کی منتقلی کے لیے زور دیا اور کس نے رکاوٹ پیدا کی؟ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ثبوت دے سکے کہ اقتدار کی منتقلی میں جماعت اسلامی نے رکاوٹ پیدا کی۔ بھٹو کی تقریر کی مخالفت سب سے پہلے میں نے کی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنھوں نے اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان کے بل بوتے پر اقتدار سے لطف اندوز ہورہے تھے یا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس سوال پر تحقیق ہونی چاہیے۔ نہ ہمارا کوئی ایسا رابطہ تھا، نہ ایسی کوئی بنیاد تھی جس کی بنیاد پر ’نسل کشی‘ کا ارتکاب ہوتا۔
’’اتفاقیہ طور پر میں اُس وقت متحدہ پاکستان کی ’اسلامی چھاترو شنگھو‘ [اسلامی جمعیت طلبہ] کا ناظم اعلیٰ تھا اور میں ستمبر کے آخری ہفتے تک اس ذمہ داری پر رہا۔ ۲۹ ستمبر تا یکم اکتوبر کو ایک کانفرنس [۲۰واں سالانہ اجتماع] ملتان میں ہوئی اور مجھے اس ذمہ داری سے فارغ کر دیا گیا۔
’’بعدازاں ایک دینی ریسرچ سنٹر کے ممبر کے طور پر میں نے کام شروع کر دیا۔ مجھ پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، اُن میں الزام نمبر۱۶ یہ ہے کہ میں اُس وقت عہدے دار تھا اور چھاتروشنگھو کا مرکزی صدر تھا،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں اکتوبر کے بعد اُس کا عام کارکن بھی نہیں تھا، بلکہ اُس وقت میں جماعت کا رُکن بھی نہیں تھا۔ اس حوالے سے یہ سوال اُٹھانا بے بنیاد ہے کہ جماعت اسلامی کے صدر کے طور پر میری کیا سرگرمیاں تھیں۔
’’میرے بارے میں کہا گیا کہ میں ’البدر‘ کا سربراہ تھا۔ اس سلسلے میں جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں، اُن میں کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میں البدر اور رضاکاروں کا کمانڈر تھا۔ بطور ثبوت جو کتاب پیش کی گئی ہے، اُس میں تحریر ہے کہ ’انصار باہنی کو رضاکار باہنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ انصارباہنی کا سازوسامان، البدر باہنی کے حوالے کر دیا گیا۔ انصارباہنی کے ذمہ دار، رضاکار کے اعلیٰ عہدے دار بن گئے۔ انصار باہنی کے نمایاں لوگ، البدر کے اہم ترین اور نمایاں ترین عہدے دار بن گئے۔ تب میرے لیے کون سا موقع تھا کہ میں رضاکاروں کا کمانڈر یا سربراہ بن جاتا۔ آپ کی جانب سے پیش کی جانے والی کتاب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ میرے رضاکاروں کے سربراہ بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
’’میرے خلاف کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انھیں کریمنل پروسیجر ۱۸۹۸ء کے تحت پیش کیا گیا ہے، لیکن میرا ضمیر صاف ہے اور میں اپنے رب کے حضور سرخ رو ہوں کہ ایک سیاسی کارکن کے سوا میرا کوئی کردار نہ تھا۔ میرا کسی بھی غیراخلاقی، جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم میں کوئی کردار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کسی بھی شرم ناک حرکت اور سرگرمی سے بچائے رکھا۔
’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ، میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی جرم میری موجودگی میں کبھی نہیں ہوا، نہ میری رضامندی سے ہوا اور نہ میں ایسے کسی جرم سے واقف ہوں۔ میں جن جن جگہوں پر گیا ہوں، اُن کے نام اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں، لیکن میں اپنے والدین سے ملنے کے لیے ایک روز بھی نہیں گیا۔ جن علاقوں میں جرائم کا ارتکاب ہوا، نہ میں وہاں گیا، نہ میں نے جرائم کا ارتکاب کیا تو میں کس طرح ان جرائم کا ذمہ دار ٹھیرایا جاسکتا ہوں؟ میں اسے تاریخ کا بدترین جھوٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔
’’مجھ پر الزامات کے دوران جن علاقوں کے ناموں کا تذکرہ ہے، ان میں سے کئی نام میرے لیے نئے ہیں، مثلاً ’کورموجا‘۔ مجھ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ میں نے کورموجا کے لوگوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں کیں، کیونکہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں مَیں اُمیدوار ہی نہیں تھا، تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔
’’اسمبلی کا اُمیدوار پہلی بار ۱۹۸۶ء میں بنا۔ ۱۹۸۸ء میں میرے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل بننے کی خبر شائع ہوئی تو میری اہلیہ کو گمنام شخص کی طرف سے فون کال موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ اگر میں نے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے طور پر کام کرنا شروع کیا تو میری اہلیہ بیوہ ہوجائے گی۔ میری اہلیہ سے کہا گیا کہ اگر بیوہ ہونے سے بچنا چاہتی ہو تو اپنے شوہر کو جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دو۔
’’جب میں وزیر بنا، میں نے واضح کیا کہ میں نے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے ملک کو نقصان پہنچا ہو۔ جب میں وزیرزراعت تھا تو ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی بنیادی اور مؤثراقدامات کیے گئے۔
’’کوئی عدالت آخری عدالت نہیں ہے اور کوئی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ ایک اور عدالت آئے گی جس میں ہم سب کو پیش ہونا ہوگا‘‘۔
میری شہادت مجھے نظر آرہی ہے اور یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو عطا فرماتا ہے۔ میری شہادت پر کسی کو رونے دھونے کی ضرورت نہیں۔ میں سب کو صبر کی تلقین کرتا ہوں [پھر قرآنِ حکیم کی یہ آیت پڑھی: وَ اصْبِرُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَo انفال ۸:۴۶]۔ میرا دل بالکل مطمئن ہے، میں اپنے تمام چاہنے والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پُرامن جدوجہدجاری رکھیں اور اللہ سے دُعا کرتا ہوں کہ میرے وطن عزیز بنگلہ دیش میں اللہ تعالیٰ اسلامی نظام کے لیے فضا ہموار فرمائے۔
۱۰ مئی ۲۰۱۶ء کی شب آٹھ بجے سے پہلے ان کو ڈھاکہ سنٹر ل جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کا ریویو پٹیشن پر فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے شب اہلِ خانہ سے آخری ملاقات ہوئی۔ خاندان کے ۲۶؍افراد نے مطیع الرحمن بھائی کے ساتھ ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت گزارا۔دن کے دوران دو وزرا نے رابطہ کیا اور اطمینان دلایا کہ اگر رحم کی اپیل کردیں تو سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن نظامی بھائی نے صاف انکار کر دیا کہ یہ خسارے کا سودا ہے۔ شہادت تو مومن کے لیے مقصود و مطلوب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے اتنے قریب آنے کے بعد اس سے محروم رہنے کا کون سوچ سکتا ہے؟ ان کا جواب بڑا نپاتلا تھا:
آٹھ بج کر ۵۸ منٹ پر دو منٹ کے لیے ڈیلی اسٹار کے نمایندے کو آخری بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کال کوٹھڑی میں لایا گیا۔ مطیع الرحمن نظامی نے ایک جملے میں پوری داستانِ حیات بیان کردی:
میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ عمر کے اس حصے میں شہادت نصیب ہو، اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہوگی۔
خاندان کے ہم ۲۶؍افراد ان سے ملنے کے لیے جیل کے بلاک راجن ایگندھا میں داخل ہوئے۔ والد صاحب اس بلاک کے آخری کمرہ نمبر ۸ میں تھے اور سبزرنگ کی جاے نماز پر قبلہ رُو دُعا میں مشغول تھے۔ ان کے پوتے نے دادا کو متوجہ کیا جس پر انھوں نے خود دروازہ کھولا اور یوں آخری ملاقات شروع ہوئی۔ موسم بے حد گرم تھا ۔ وہ اور ہم سب ہی پسینے میں شرابور تھے لیکن ان کا چہرہ پُرسکون اور روشن تھا۔
اس ملاقات میں نظامی صاحب نے اہلیہ اور بچوں کو رحم کی درخواست کے بارے میں بھی بتایا اور واضح کیا کہ ’’میں نے زبانی ہی نہیں، لکھ کر بھی دے دیا ہے کہ مَیں اللہ کے سوا کسی سے رحم کی درخواست نہیں کرتا۔ زندگی اور موت کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور میں کسی انسان سے رحم کی درخواست کر کے اپنے ایمان کو تباہ نہیں کرنا چاہتا۔
۱۰مئی ۲۰۱۶ء سہ پہر کے وقت جیل کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو لکھ کر دے دیا ہے کہ: I would not seek any mercy or clemency
اس ملاقات میں عجیب سماں تھا، جذبات موجزن تھے۔ میرے والد نے ہم سب کو صبر کی تلقین کی اور بار بار کی۔ والد صاحب پُرسکون تھے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک نفس مطمئنہ اپنے رب سے ملنے کا منتظر ہے۔
پھر کچھ دیر کے لیے ہم سب کمرے سے باہر چلے گئے اور صرف والدہ، والد صاحب کے ساتھ رہ گئیں۔ میری والدہ نے بتایا کہ ہم نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور شہادت کے اعلیٰ مرتبے کو اتنا قریب دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا۔
ہم اللہ کے سامنے بھی گواہی دیں گے کہ آپ ایک نیک اور دیانت دار شخص تھے اور آپ نے کبھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔
اس کے جواب میں میرے والد نے والدہ کو یہ نصیحت کی کہ اب آپ کو صرف ماں ہی نہیں بچوں کے لیے باپ کا کردار بھی ادا کرنا ہے۔ آپ مجھے میرے بیٹوں اور بیٹیو ں کی شخصیت میں پائیں گی۔
ہم سب ایک بار پھر کمرے میں داخل ہوگئے۔ اس موقعے پر والد صاحب نے سب کو مخاطب کر کے جو کہا اس کا خلاصہ یہ ہے:
تم سب آیندہ بہت ہم آہنگی کے ساتھ رہو۔ اللہ اور رسول کے راستے کی پیروی کرو اور اپنی والدہ کا خیال رکھو۔ تم مجھے اپنی ماں میں پائو گے۔ یہ بھی یقینی بنائو کہ تمھاری والدہ مجھے تم میں پائیں۔ تم لوگوں کو میرے بارے میں بتائو جیساکہ تم نے مجھے دیکھا ہے، مبالغہ مت کرو۔ اب میری عمر ۷۵برس ہوگئی ہے۔ میرے بیش تر رفقاے کار اور ساتھیوں کو اتنی طویل زندگی نہیں ملی۔ تمھیں اپنا باپ بہت طویل مدت کے لیے زندہ ملا۔ زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اگر اللہ کی مرضی ہے کہ میں آج رات مرجائوں تو اگر میں اپنے گھر پر ہوتا جب بھی مجھے موت آجاتی۔ ہمیشہ اللہ کے بارے میں پُرامید رہو اور اللہ کے شکرگزار بھی رہو۔
اس کے بعد ہم نے اپنے بچوں اور بچیوں کو پیار اور دُعا کے لیے ان کے سامنے پیش کیا، خصوصیت سے چھوٹے بچوں کو۔ ان کا ارشاد تھا:’’میں ان کے لیے دُعائیں کررہا ہوں تاکہ وہ مجھ سے بھی بڑے ہوجائیں، رسولؐ اللہ کے صحابہ کی طرح‘‘۔
والد صاحب نے خصوصیت سے ہمیں پیغام دیا کہ تحریک اسلامی کے تمام قائدین اور کارکنوں تک ان کا سلام اور دُعاپہنچا دیں اور یہ درخواست بھی کی کہ سب سے درخواست کریں کہ ان کے لیے، خصوصیت سے ان کی شہادت کے قبول کیے جانے کی دُعا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں عزت دی ہے اور ان شاء اللہ آنے والی زندگی میں بھی آپ کو عزت دے گا۔
میں دیہات سے آنے والا ایک عام سا آدمی تھا۔ یہ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کے علما میرے بارے میں اپنی پریشانی اور فکر کا اظہار کر رہے ہیں اور میرے لیے دُعائیں کر رہے ہیں۔
شیخ حسینہ او آئی سی کانفرنس میں اس لیے نہیں گئی کہ اسے یہ اندیشہ تھا کہ وہاں میری رہائی کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ یہ تمام چیزیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ رحم اور رحمتیں ہیں۔
ہم نے والد صاحب سے استدعا کی کہ اللہ کے دربار میں ہمارے لیے بھی دُعا کریں کہ جنت میں ہم سب کو ملوائے۔
والد صاحب نے فرمایا: نیک عمل کرو کہ جنت تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ ان شاء اللہ پھر اللہ تعالیٰ بھی کرم فرمائیں گے اور ہمیں جنت میں رفاقت نصیب ہوگی۔ پھر انھوں نے بڑی رقت کے ساتھ یہ دُعا کی جو ہمارے دلوں پر نقش ہوگئی۔
انھوں نے پھر اپنے دونوں ہاتھ ہمارے ساتھ دُعا کے لیے اُٹھائے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور رسولؐ اللہ پر درود و سلام بھیجا۔پھر ۲۰منٹ تک رسولؐ اللہ کی سکھائی ہوئی دُعائیں کرتے رہے جیساکہ وہ اپنی پوری زندگی میں کیا کرتے تھے۔
پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی: اے اللہ! میں ایک عام گناہ گار شخص ہوں۔ ازراہِ کرم میرے ان تمام اچھے کاموں کو قبول کرلیجیے جن کی آپ نے مجھے اپنے دین کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے ایمان اور اسلام کے راستے پر موت تک استقامت عطا فرما اور مجھے شہادت عطا فرما۔ اے اللہ! مجھے اور میری آیندہ نسلوں کو اقامت صلوٰۃ کی توفیق عطا فرمائے اور میری اور تمام اہلِ ایمان کی فیصلے کے دن مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہمیں مضبوط ایمان کی برکت عطا فرما اور صرف اپنے پر ہی سچا توکل عطا فرما۔ ہماری زبانوں کواپنے ذکر سے ہمیشہ تر فرما۔ ہم ایسے زندہ قلب کے لیے آپ سے التجا کرتے ہیں جو ہمیشہ آپ سے ڈرے، علم نافع، حلال روزی اور اسلام کے صحیح فہم کی توفیق دے۔ ہم آپ سے اس کی التجا کر رہے ہیں ۔ اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے پچھتانے کی توفیق دے۔ موت کے وقت ہمیں آرام دے اور موت کے بعد ہمیں اپنی مغفرت عطا کر اور دوزخ کی آگ سے بچا۔
یااللہ! ہم کو حلال پر قانع رہنے کی توفیق عطا فرما اور حرام سے بچنے کی توفیق دے۔ ہمیں پوری زندگی اپنا مطیع بنا اور ہمیں اپنی معمولی سی نافرمانی سے بھی دُور رکھ اور ہمیں اپنی ذات کے علاوہ کسی کا محتاج نہ کر۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنے نور (قرآن) سے ہدایت دے۔ تو ہمارے گناہوں کو پورا کا پورا جانتا ہے اس لیے ہم تیرے سامنے نادم ہوتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ یاحنّان! یامنان!
انھوں نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ! اس ملک کو اپنے دین کے لیے قبول کرلے اور اس ملک کو پُرامن بنا دے اور قتل و غارت، غنڈا گردی، اغوا اور سامراجیت سے محفوظ کردے۔ انھوں نے ملک کی ترقی کے لیے بھی دعا کی۔ اس جذباتی دُعا کے دوران میں میری بیٹی نے جیل کے اہل کاروں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔
یہ منظر، یہ جذبات، یہ دُعائیں، یہ تمنائیں عزیزی مطیع الرحمن نظامی کی کُل کائنات اور سرمایۂ حیات ہیں۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے کبھی اپنے دشمنوں کو بھی تکلیف نہیں دی یہ الزام کہ اس نے درجنوں افراد کے قتل اور دسیوں محصنات سے جنسی زیادتی کا حکم دیا، ایک ایسا جھوٹ ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ اور یہ سب ایک چھوٹے سے قصبے میں جس کے باسی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود اس کے جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے۔ پہلے دوانتخابات میں اسے کُل ڈالے جانے والے ووٹوں کا ۵۴ فی صد سے زیادہ حاصل ہوا اور ۲۰۰۸ء میں جب تاریخی دھاندلی، جعلی ووٹ اور سرکاری مداخلت کے سب ریکارڈ ٹوٹ گئے، اس انتخاب میں بھی ووٹوں کا ۴۵ فی صد اسے حاصل ہوا۔
کیا کسی قاتل اور زانی سے بھی اس کے اہل محلہ اور اہلِ شہر ایسا پیار کرتے ہیں؟ بنگلہ دیش سے آنے والی خبریں چشم کشا ہیں۔ نظامی صاحب کی شہادت کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جب کہ شہید کے اہلِ خانہ کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ تحریک کے کارکنوں اور حامیوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے لیکن شہید کے گھر اور قبر پر ایسے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ وہ شہید کے احسان مند ہیں۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنھیں انھوں نے ہرقسم کی مدد دے کر اپنے پائوں پر کھڑا کیا اور ان میں بیش تر افراد وہ بھی ہیں جن کا جماعت سے باقاعدہ کوئی تعلق نہ تھا۔ ان میں سے متعدد نے جنازے کے بعد ان کے احسانات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کتنی دُور سے چل کر آئے ہیں تاکہ ان کے جنازے میں شرکت کرسکیں۔ روایت ہے کہ جنازے کے بعد ایک کلین شیو شخص نے جس کا جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا، بہ آوازِ بلند اعلان کیا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ مطیع الرحمن نیک، بلند کردار شخصیت کے حامل ہیں جو کسی کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کو پھانسی دینے والے دنیا اور آخرت میں ذلیل و رُسوا ہوں گے۔(روزنامہ اُمت، ۱۳مئی ۲۰۱۶ئ)
مطیع الرحمن نظامی کے دوسرے صاحب زادے ندیم طلحہ نے اخباری نمایندے سے بات کرتے ہوئے کہا:
ہمیں اپنے والد کی شہادت اور قربانی پر فخر ہے۔ حکمرانوں نے بنگلہ دیش اور اُمت مسلمہ کے سب سے بڑے خیرخواہ اور محب وطن کو پھانسی دی ہے۔ میرے والد نے تاریخ رقم کردی ہے۔ سزاے موت کے خلاف رحم کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ انھوں نے بہت پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا کہ ریکارڈ کی درستی اور حکمرانوں کی بدنیتی کو ظاہر کرنے کے لیے عدالتوں سے تو رجوع کیا جائے گا تاکہ حقائق کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جائے، مگر کسی حکمران سے رحم کی اپیل نہیں کی جائے گی۔ شہید مطیع الرحمن نظامی کل بھی عوام کے مقبول رہنما تھے اور آج بھی مقبول رہنما ہیں۔
میرے والد اکثر کہتے تھے کہ ہمارے تمام آنسو صرف اللہ کے لیے ہیں۔ میرے والد نے اپنی پوری زندگی ہم وطنوں کی فلاح و بہبود اور اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کی۔ جن لوگوں کا ان سے قریبی تعلق رہا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ پروفیسر مطیع الرحمن نے اپنی زندگی، دولت، جان و مال سمیت سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا تھا۔ ان کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک بہترین انسان تھے اور آج وہ دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر ہم اسلام کی آفاقی تحریک سے منسلک نہ ہوتے اور اسلام کی آبیاری کے لیے کام نہ کر رہے ہوتے تو ان کی موت کے بعد یہ دنیا اندھیر ہوجاتی۔ مگر اسلام کے رشتے کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے ہمیں اللہ کی جانب سے روشنی ملتی ہے۔ آج ہم انسانوں سے کوئی گلہ نہیں کرتے۔ صرف اپنے رب سے رحم اور بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔
اس کی عزت پر حسینہ واجد کے حواری کیا دھول پھینک سکتے ہیں؟ الحمدللہ اپنے اور غیر جس کے بارے میں جو گواہی دے رہے ہیں وہ دلوں پر نقش ہی نہیں فضا کو بھی معطر کیے ہوئے ہے۔ جوشخص آٹھ سال وزیر اور وہ بھی زراعت اور صنعت کا وزیر رہا ہو، لیکن اس کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے ۱۹۷۱ء میں یہ اور یہ کیا یا کروایا، اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کا باعث تو ہوسکتا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ قانونی سقم جو بھی ہوں، اور وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اس پورے مقدمے کو اسقاطِ عدل (miscariage of justice) کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے، لیکن مسئلے کو جانچنے کا ایک پیمانہ اخلاق اور معاشرے میں شہرت بھی ہے۔ اہلِ خانہ، پڑوسیوں، محلہ داروں، اہلِ شہر، دُور و نزدیک کے آشنائوں کی گواہی بھی ہے۔ بلاشبہہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے اور اس کے فرشتے ہرہرلمحے کا حساب محفوظ کیے ہوئے ہیں لیکن زبانِ خلق بھی نقارئہ خدا کی حیثیت رکھتی ہے کہ ’بھلا کہے جسے دنیا اسے بھلا سمجھو!‘
اس سلسلے میں قرآنِ پاک میں استدلال کا ایک عجیب و غریب پہلو بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ سورئہ یونس میں قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل کے طور پر قریش کو چیلنج کرکے کہا جاتا ہے کہ کیا تم اس شخص سے واقف نہیں ہو جس کے اُوپر یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرا کلام نہیں اللہ کا کلام ہے۔ کیا اس شخص نے پوری زندگی تمھارے درمیان نہیں گزاری؟ کیا تم نے اس کو صادق اور امین کے لقب سے نہیں نوازا؟ جس کی زندگی ایسی ہو، وہ ایسے عظیم معاملے کے باب میں کوئی غلط دعویٰ کرسکتا ہے؟
فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(یونس ۱۰:۱۶) آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمھارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
(کتابچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، لاہور۔قیمت:-/۱۵ روپے، سیکڑہ:۱۰۰۰ روپے)
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ظالموں کی گرفت اور پکڑ کے لیے اس کا اپنا نظام ہے۔ ڈھیل دینے کی مصلحتیں بھی اسی کی تدبیر کا حصہ ہیں، خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بھی اس کا اپنا طریقہ ہے اور اربابِ اقتدار کو اچانک گرفت میں لینا بھی اسی کا حصہ ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ انسانی زندگی خیروشر کی کش مکش سے عبارت ہے۔ کبھی کسی کے دن بڑے اور کبھی کسی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں___ لیکن جلد یا بدیر وہ وقت بھی آتا ہے جب اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت برپا ہوجاتی ہے، بڑی بڑی مضبوط کرسیاں ہلنے لگتی ہیں، ظلم و استحصال کے منبع کی حیثیت سے جو قلعے بڑے اہتمام سے تعمیر کیے گئے ہوتے ہیں اور جن کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بڑے بڑوں کو زعم ہوتا ہے، ان میں شگاف پڑنے لگتے ہیں اور شکست و ریخت اور بگاڑ اور بنائو کے نئے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔
یہ اللہ کی سنت ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے: وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo (انفال ۸:۳۰) ’’وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔ زمانے کے نشیب و فراز کا یہ الٰہی قانون ہے اور بالآخر اس کے ذریعے دُور رس تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں، بڑے بڑے تخت اُلٹ جاتے ہیں، برج گر جاتے ہیں، جو بالا ہوتے ہیں وہ زیر ہوجاتے ہیں اور جو کمزور ہوتے ہیں وہ طاقت وروں پر غالب آجاتے ہیں: وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔
آج پاکستان میں ملکی سطح پر نگاہ ڈالیں یا عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو ہرطرف تبدیلی کی لہریں موج زن نظر آرہی ہیں۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے اور زمانہ نئے نظام کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا قانون ہے کہ بہتر تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب افراد اور اقوام ایسے تاریخی لمحات کے موقعے پر خاموش تماشائی نہیں بنتے، بلکہ حق و انصاف کے حصول اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے صحیح خطوط پر مؤثر اور قرار واقعی جدوجہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اور بدی کو نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔
اس وقت پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا ممکنہ تبدیلی کے ایک ایسے ہی تاریخی لمحے کے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا ہم تاریخ کی پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہیں؟
۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کو ایک ایسی خبر نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا، جس کے بارے میں کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو قدرت کا ناگہانی تازیانہ بن کر نازل ہوئی۔ جرمنی کے ایک اخبار نے ’پاناما لیکس‘ (Panama Leaks) کے نام سے عالمی سطح پر کالے دھن کے کاروبار، اس کی وسعت اور ستم کاریوں کے بارے میں ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کا راز فاش کیا۔ اس خبر نے دنیا کے گوشے گوشے میں، مالیاتی اور سیاسی میدانوں میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔۲لاکھ۲۴ہزار نمایشی کمپنیاں ہیں اور کم از کم ۳۲ ٹریلین ڈالر (۳۲کھرب ڈالر) کا سرمایہ ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے جو دنیا کی کُل سالانہ دولت کا ایک تہائی ہے۔جو نمایشی کمپنیاں ہر طرح کے ٹیکس اور ریاستی نگرانی کے نظام سے بالا ہوکر اپنا کھیل کھیل رہی ہیں، انھیں پاناما میں قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر ۱۴۶ عالمی لیڈر اس کالے کھیل میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور مزید سیکڑوں چہروں سے پردہ اُٹھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
’آف شورکمپنی‘ کا لفظ جو ایک محدود حلقے ہی میں پہچانا اور بولا جاتا تھا، اب زبانِ زدعام و خاص ہے۔ ٹیکس سے بچائو کی پناہ گاہیں (Tax Havens) جو سرمایہ داروں، بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بنکوں کی کمین گاہیں بن گئی تھیں، اب وہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں، تاجروں، صنعت کاروں ، حتیٰ کہ ججوں اور خیراتی اداروں کو بھی کالے دھن کے تاجروں اور پجاریوں کی صف میں دیکھا جاسکتاہے۔ اس انکشافی آندھی سے ابھی تو ڈیڑھ سو کے قریب عالمی شخصیات کے چہروں سے پردہ اُٹھا ہے۔ یہ صرف پہلی قسط ہے، جسے سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے پہاڑ کا محض چھوٹا سا حصہ کہا جا رہا ہے۔ بس بارش کے چند پہلے قطرے۔ موسلادھار بارش کی پیش گوئیاں تو ۹مئی سے بعد کے زمانے سے منسوب کی جا رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
آئس لینڈ کے وزیراعظم، یوکرین کے صدر، اسپین کے وزیر صنعت و حرفت، FIFA (’فیفا‘ فٹ بال کی بین الاقوامی اتھارٹی) کے سربراہ اور نصف درجن اربابِ اقتدار مستعفی ہوچکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اپنے سارے حسابات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے باوجود، ان کا قدکاٹھ کم ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ وہ مالیات کی نگرانی کے نظام اور خصوصیت سے کارپوریشنوں اور آف شور کمپنیوں کے کردار میں بنیادی تبدیلیوں کے باب میں فوری اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
ان کے علاوہ ڈیوڈکیمرون کے وزیرخزانہ، پارلیمنٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن اور متعدد اہم شخصیات نے اپنی آمدنی، ٹیکس ادایگی کی تفصیلات اور ذاتی مالی صورتِ حال، تحریری شکل میں، رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس طرح انھوں نے بجاطور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھ رہے۔ یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جمہوریت کی جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہوں، ان میں سب سے اہم چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے۔ سرآئیورجنگز کی کتا ب Cabinet Government (کیمبرج یونی ورسٹی پریس،۱۹۵۹ئ) علمِ سیاسیات میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: جمہوریت میں اصل چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہے۔اگر اس پر حرف آجائے تو پھر حکمرانی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارے دستور میں بھی ایک دفعہ سیاسی قیادت کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے دستور کا یہ حصہ یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں!
یورپ کے پانچ ممالک اور دنیا کے ۳۰ سے زیادہ ممالک کے نظامِ احتساب و اصلاح میں تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور کالے دھن کو قابو میں کرنے کی بات اب سرفہرست آگئی ہے۔ ایک طرف احتساب کا عمل ہے، جو حرکت میں آرہا ہے، تو دوسری طرف کالے دھن کا پورا تصور، ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز ( Tax Haven) کا وجود، اس سلسلے کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوئوں پر سوچ بچار اور مالی معاملات میں شفافیت (transparency) کی ضرورت کو وقت کے اہم ترین مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ ہزاروں افراد اور اداروں سے جواب طلبی ہورہی ہے۔ دنیا کے پورے مالی دروبست اور ٹیکس کے نظام پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک شر سے بہت سے خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، حتیٰ کہ امریکا جس کی نصف درجن ریاستیں ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز کا درجہ رکھتی ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے ان ۳۰ممالک میں، جو ٹیکس چوری کی پناہ گاہ ہیں اور تیسرے نمبر پر ہے (یعنی پاناما سے بھی اُوپر ہے) اس کے صدر بارک اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ:
اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ عالمی سطح پر ٹیکس کی ادایگی سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اسے اس لیے قانونی نہیں بنانا چاہیے کہ محض ٹیکسوں کی ادایگی سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی (transactions) میں مصروف ہوا جائے، جب کہ اس پر زور دیا جانا چاہیے کہ اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہرشخص ٹیکس کے سلسلے میں اپنا مناسب حصہ ادا کرے۔ (دی گارڈین، ۵؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
امریکی اٹارنی براے مین ہیٹن، مسٹر پریٹ بھرارے نے امریکا کی ان تمام کمپنیوں، جن کا نام موجودہ فہرست میں آیا ہے اور جن کی تعداد ۲۰۰ ہے ، ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان ۲۰۰کمپنیوں کے بارے میں باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ’’امریکا کی کوئی کمپنی اس فہرست میں شامل نہیں‘‘، یہ درست بات نہیں ہے)۔ (دیکھیے: دی انڈی پنڈنٹ، لندن،۲۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
بلاشبہہ پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات، حتیٰ کہ ایک سابق اور ایک موجودہ جج تک آف شور کمپنیوں کے اس انکشاف کی زد میں ہیں اور یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے کو اس کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک طرف کالے دھن کا کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ریاست کی اور عالمی احتسابی نظام کی بھرپور گرفت ہوسکے، تو دوسری طرف ظلم اور استحصال کے اس نظام کا ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر قلع قمع کیا جاسکے، جس کی وجہ سے کرپشن، معاشی دہشت گردی اور لوٹ مار کی لعنت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفادپرستی، نفع اندوزی، دولت کی شرم ناک عدم مساوات (obscene inequalities) اور انسانوں کے بڑے طبقے کی محرومیاں زندگی کی تلخ حقیقت بن گئی ہیں۔
’کالادھن‘ کرپشن کی ایک ملعون شکل ہے اور اس سے مراد خصوصاً وہ دولت ہے، جو جائز طریقے سے حاصل نہ کی گئی ہو۔ رشوت، کمیشن اور ایسی ہی دوسری قبیح حرکتوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کے ساتھ وہ دولت بھی، جو چاہے جائز طریقے سے کمائی گئی ہو لیکن اگر اس کو ریاست کے ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر رکھا گیا ہو، تو وہ ’کالے دھن‘ میں شمار ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر ایک ہی کمپنی اپنی ذیلی کمپنیوں کی مدد سے اشیاے تجارت کی قیمتوں میں کمی اور اضافے کے ذریعے اخراجات کو مصنوعی طور پر بڑھانے اور دکھائے جانے والے منافعے کو کم کرنے کے لیے ہاتھ کی صفائی کا مظاہرہ کرے، تو یہ بھی کالے دھن ہی کی ایک صورت ہے۔
اگر یہ کھیل قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کر کے انجام دیا جائے، تو اسے ’فرارِمحاصل‘ یا فرارِ ٹیکس (Tax Evasion) کہتے ہیں اور اگر اس حوالے سے قانون کے کسی سقم سے راستہ نکالا جائے تو اسے ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax Avoidance)کہتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیز آمدنی اور اس کے اصل ذرائع کو مخفی (secret) رکھا جاتا ہے، اور حسابات اور مالی معاملات کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ اصل نفع راز بھی رہے اور ٹیکس کی مشینری کی گرفت میں بھی نہ آئے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ کھلے کھلے دھوکے کا ایک ’خوش نما‘ نام ہے اور ہاتھ کی صفائی کی جادوگری ہے۔ قانون کو ہوشیاری سے توڑا جائے یا قانون کو بھونڈے طریقے سے توڑا جائے، اخلاقی طور پر دونوں قبیح فعل ہیں اور اپنی روح کے اعتبار سے جرائم ہیں۔ اس لیے قانون کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس کی پاس داری لفظی اور معنوی اعتبار سے (in letter and spirit) کی جانی چاہیے۔
دین اسلام پر مبنی قوانین کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اَخلاق اور ایک حتمی اور بالاتر اتھارٹی کے حکم پر مبنی ہونے کی وجہ سے ایمان کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت محض قانون کی خانہ پُری کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ حق و انصاف کے قیام اور اللہ کی اطاعت، اور اس کی رضا کے حصول کے جذبے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قانون اپنی تمام برکات اور اپنے تمام ثمرات سے فرد اور معاشرے کو فیض یاب کرسکتا ہے۔ اللہ اور خلق، دونوں کے سامنے بیک وقت جواب دہی اور اس جذبے کے ساتھ قانون، اس کے الفاظ اور روح کے ساتھ پاس داری میں معاشرے کی مضبوطی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اپنی وسعت اور ہمہ گیریت سے الٰہی اصول، اور قانون فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جو اسلامی قانون اور شریعت کو انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا حقیقی ضامن بناتی ہیں۔ جب ’مذہبی خاندان‘ ہونے کے دعوے دار ’فرار‘ (evasion) اور ’اجتناب‘ (avoidance) کی بات کرتے ہوں تو اس پر تعجب نہ ہو تو اور کیا ہو۔
یہ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، جب جیل میں مَیں حضرت مولانا معین الدین خٹک مرحوم [مارچ ۱۹۲۰ئ-۲۷جولائی ۱۹۸۲ئ] سے اصولِ فقہ پڑھ رہا تھا، تو باب الحیل کی تدریس کے دوران زکوٰۃ کے بارے میں ایک بات انھوں نے ایسی کہی، جو ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہوگئی۔ زکوٰۃ اس مال پر واجب ہوتی ہے، جو ایک سال تک ایک فرد کی ملکیت میں رہا ہو۔ مولانا خٹک مرحوم نے فرمایا کہ: ایسے لوگ بھی ہیں جو ۱۰ماہ کے بعد اپنی دولت، اپنی بیوی یا کسی رشتے دار کو ہبہ کردیتے ہیں اور اگلے ۱۰ماہ کے بعد وہ رشتہ دار اوّلین مالک کو ہبہ کر دیتا ہے اور اس طرح دونوں زکوٰۃ سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ہے وہ اجتناب کی حیلہ بازی (avoidance) جس کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت وہی ہے جس کی طرف مولانا معین الدین خٹک نے متوجہ فرمایا، یعنی:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرہ ۲:۹-۱۰) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکابازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے ،جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔
ٹیکس بچانے کی کمین گاہوں اور آف شور کمپنیوں کا پورا نظام: ریاست، قانون کے نظام، معاشرے، انسانیت بلکہ خو د اپنے آپ کو دھوکا دینے کی ایک منظم ( بظاہر قانون کی چھتری کے تحت) کوشش سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، جو دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی چال بازی کے سوا کچھ نہیں۔ گذشتہ ۱۰۰ سال کے تجربے کے بعد اب اس کے نظامِ ظلم و استحصال ہونے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ عوامی ردعمل کے نتیجے میں اسے ختم کیا جائے گا یا پھر کم از کم اس پہلے مرحلے میں اس کی حشرسامانی کو بڑی حد تک محدود کیا جائے گا۔
۲۰ویں صدی کے آغاز میں انکم ٹیکس اور کاروباری ٹیکس کا آغاز ہوا، اور اس کے بعد ہی سے بنکاری نظام میں رازداری کے نام پر ٹیکس چوری کی کمین گاہوں کا قیام، نمایشی اور ذیلی کمپنیوں کا وجود، اور ان کے ذریعے نفعے کو لاگت کا لبادہ اُوڑھا کر کالے دھن کے کاروبار کو آسمان پر پہنچا دیا گیا۔ ابتدا میں پٹرول اور گیس کی کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ اور بحری جہازرانی کے شعبے، اس میدان میں بہت آگے تھے، پھر پوری ہی کاروباری دنیا نے اس نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔ اب یہ اندازہ ہے کہ دنیا کی تجارت کا تقریباً ۴۰ فی صد اس کالے دھندے کے سہارے انجام پذیر ہو رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: Panama and The Criminalization of the Global Finance System از Sharmini Peries and Michael Hudson ، کاؤنٹرپنچ، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ)۔ اس طرح ۳۲ ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم صرف ان ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر ممالک کا تعلق ہے، ان کی دولت کا بھی بڑا حصہ انھی پناہ گاہوں کی زینت ہے۔
ورلڈبنک کے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۳ء تک ۸ئ۷ ٹریلین ڈالر غریب ممالک سے ان مالیاتی کمین گاہوں میں منتقل ہوئے ہیں، جو تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور اٹلی کی مجموعی قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس وقت ان مراکز میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر منتقل ہورہے ہیں اور اس میں سالانہ اضافے کا اندازہ ۵ئ۶ ہے، جو عالمی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے سے دو گنا ہے۔ اس طرح منتقل ہونے والے سرمایے کی وجہ سے صرف ٹیکس کی مد میں جو نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے، وہ سالانہ ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر صرف یہ رقم ترقی پذیر ممالک کے پاس ہو اور کُل سرمایہ انھی میں دوبارہ گردش میں آجائے ہو تو ۱۰سال میں ان تمام ممالک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور صحت و صفائی اور مناسب سماجی زندگی میں بھی نمایاں ترقی ہوسکتی ہے۔ ایک طرف ان ممالک کی دولت امیر ملکوں کی طرف منتقل ہورہی ہے اور دوسری طرف غریب ممالک، امیرممالک کے قرضے کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں اور مالیاتی اور معاشی غلامی کے نئے شکنجوں میں گرفتار ہورہے ہیں۔بدقسمتی سے غلامی کے اس نئے دور کو مسلط کرنے میں ان کے اپنے سیاسی قائدین اور کاروباری طبقوں کا بڑا ہاتھ ہے۔
’پاناما لیکس‘ کے نتیجے میں جتنے ممالک کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اور کمیت اور کیفیت ہر دو کے سلسلے میں جو وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے اس کے ایک طرف یورپ اور امریکا کی قیادتیں ہیں، جن کے ساتھ مشرقی ممالک کی قیادت کو بھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، تو دوسری طرف عوامی سطح پر اس نے عام لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ استعجاب اور غصے کے بعد اب جو ردعمل ظہور پذیر ہوا ہے، وہ غلامی اور استحصال کے اس نظام کے خلاف بغاوت اور اس سے نجات کی جدوجہد کا ہے۔ اگر اس پہلوسے جان دار ردعمل رُونما ہوسکے تو اس شر سے بہت خیر کے رُونما ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت کیا احساسات کروٹ لے رہے ہیں، اس کا تھوڑا سا اندازہ مندرجہ ذیل آرا سے کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت کے عوامی ردعمل اور ہوا کے رُخ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
سامنے آنے والی ان دستاویزات پر جنھیں ’پاناما دستاویزات‘ کا نام دیا گیا ہے، پہلا ردعمل حیرت زدگی کا ہے، اس دستاویزی ذخیرے کے پھیلائو اور حجم پر اور اس گم نام ذریعے کی غیرمعمولی ہنرمندی پر، جس نے ایک کروڑ ۱۵لاکھ دستاویزات یعنی ۶ئ۲ ٹیرابائٹس کے غیرمعمولی انکشافات پریس کے سامنے لائے، کس طرح آف شور بنک اکائونٹ اور ٹیکس پناہ گاہیں دنیا کے امیر اور طاقت ور افراد اپنی دولت چھپانے یا ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا ردعمل نفرت اور کراہت کا ہے۔ پوری دنیا میں ۱۴ہزار سے زیادہ گاہک اور ۲لاکھ ۱۴ہزار ۵سو سے زیادہ آف شور عناصر نے پاناما کی Mossack Fonseca کمپنی،کو جس کی خفیہ دستاویزات ظاہر ہوئی تھیں، شریکِ جرم کیا۔ یہ معصومیت سے اصرار کرتی ہے کہ اس نے کسی قانون یا اخلاقیات کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
لیکن یہ تمام سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں: کس طرح یہ سب سیاست دان ، آمر، مجرم، ارب پتی اور مشہور شخصیات بہت زیادہ دولت جمع کرتے ہیں اور پھر کس طرح ان شیل کمپنیوں کے پیچیدہ جال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، تاکہ اپنی دولت کو چھپائیں؟
پھر سب سے بڑا اور مرکزی سوال یہ بھی ہے کہ کیا انکشافات کے بعد کوئی چیز تبدیل بھی ہوگی؟ بہت سی رسمی تردیدیں بھی کی گئی ہیں اور سرکاری تحقیقات کے وعدے بھی کیے گئے ہیں، لیکن قانون اور عوام کے سامنے شرمندگی کو اس عالمی اعلیٰ طبقے پر کس حد تک برتری حاصل ہوگی؟ وہ عوام جو حکومتی سطح پر مالیات میں کرپشن کے باربار انکشافات سے پہلے ہی گھبرائے ہوئے ہیں، وہ حقیقت جاننے کا مطالبہ کریں گے۔
ان دستاویزات میں ایک ایسی عالمی صنعت کو تاریخی طور پر ترتیب وار جمع کیا گیا ہے، جس نے ایک بین الاقوامی اشرافیہ کو کرپٹ اور غیرقانونی ذرائع سے مالامال کیا ہے، تاکہ اپنی دولت اور اس کاروبار کو ٹیکسوں، مقدمات اور عوامی غیظ و غضب سے چھپائیں۔ یہ دستاویزات اس مشکوک دولت کا انکشاف کرتی ہیں جسے سرکاری ملازمین نے چھپایا ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاناما دستاویزات ایک ایسی صنعت کا انکشاف کرتی ہیں جو بین الاقوامی مالیات کی دراڑوں اور خفیہ راستوں میں پھلتی پھولتی ہے۔ اس نظام کا ایک نتیجہ ٹیکس آمدنی کا وہ حصہ ہے جو وصول نہ ہوسکا۔ اس سے زیادہ خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ یہ جمہوری حکومت اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے کیوںکہ بدعنوان سیاست دانوں کے پاس، ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں وہ چوری کیے ہوئے اثاثوں کو عوام کی نظروں سے بچاکر خفیہ جگہ پر رکھتے ہیں۔
لندن کے اخبار دی آبزرور (The Observer، ۱۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ) نے ادارتی نوٹ میں برطانیہ اور اس کے وزیراعظم کے حوالے سے بات کہی ہے، لیکن اس کا پیغام بھی عالم گیر ہے:
’پاناما دستاویزات‘ کے جو حصے سامنے آئے ہیں اور ان میں جو انکشافات کیے گئے ہیں، وہ پوری دنیا کے رہنمائوں، حکومتوں اور تجارتوں کے لیے سنجیدہ مضمرات رکھتے ہیں۔ اب، جیساکہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ مغربی حکومتیں ہیں، جو ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کو برداشت کرتی اور سہولت دیتی ہیں ،جو موقع پرستانہ اور عموماً غیرقانونی، استحصالی، ایک نجی ملکیت میں کام کرنے والا ہو اور جس کا انتظام و انصرام بڑی حد تک خفیہ ہو، جو خودمختارکنٹرول کے بغیر، نیز ایک منظور شدہ قواعد کی کتاب اور مؤثر قواعد و ضوابط کے بغیر کام کرتا ہو۔اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسی بااختیار تنظیم ہے، جس کی نگرانی اقوامِ متحدہ کرتی ہو۔
پروفیسر مِل گورٹوو جو پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونی ورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں، اپنے ایک مضمون مطبوعہ کاؤنٹر پنچ (Counterpunch، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ) میں لکھتے ہیں:
کثیر قومی کارپوریشنوں کے کاروباری انتظام کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک منافعے کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور ریاست کی خودمختاری کو غیرمستحکم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کم ٹیکس والے ممالک کو منتقل ہوجائیں۔ بہت زیادہ دولت مند افراد کے ٹیکس سے فرار کے نتیجے میں غریبوں پر ٹیکس زیادہ ہو جاتا ہے۔
ایک یورپی مفکر، جس نے یورپ اور امریکا میں تدریس اور تحقیق کے طویل عرصے تک فرائض انجام دیے ہیں، اس نے اس پورے مسئلے پر الجزیرہ ٹیلی وژن (۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ) پر اپنی ایک تقریر Panama Papers: Why should we care? کے دوران بڑی پتے کی بات کہی ہے:
ایک ایسی دنیا میں جس میں عدم مساوات انتہا کو چھوتی ہو اور سماجی مسائل بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہوں، جیساکہ ہماری دنیا ہے، ٹیکس پناہ گاہوں کے وجود سے ٹیکس سے بچنے کے معاشی، سماجی اور سیاسی طریقے بے پناہ ہیں۔ ایسے میں وہ معاشرے جو ٹیکسوں کے بغیر ضروری معیار پر کام کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے، ناگزیر سماجی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہیں گے۔
لیکن جب مزدور اور اوسط درجے کے تاجر پوری شرح پر ٹیکس ادا کر رہے ہوں، جب کہ عالمی معیشت کی ساتھ ساتھ بڑھوتری اور آف شور پناہ گاہوں کے پھیلنے کی وجہ سے عالمی کارپوریشنوں اور غیرمعمولی دولت مند برسہا بر س سے کم سے کم ٹیکس ادا کر رہے ہوں___ تو پھر عالمی سرمایہ داری، ٹیکسوں کی ناانصافی اور جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کو خوش آمدید کہیے!
آخری بات یہ ہے کہ ’پانامادستاویزات‘ نے جس چیز کا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ صرف عالمی ٹیکس کا نظام نہیں بلکہ بذاتِ خود عالمی طرزِحکمرانی ٹوٹ گیا ہے۔ اب آخری چیلنج یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کو بذاتِ خود تبدیل کیا جائے۔(الجزیرہ، ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
’پاناما دستاویزات‘ پر جو ردعمل پاکستان میں سامنے آیا ہے اور جن اُمور پر بحث ہورہی ہے، ان پر بھی ہم کلام کریں گے، لیکن جو دو پہلو بدقسمتی سے اس بحث و مباحثے میں تقریباً مفقود ہیں، وہ اخلاقی، نظریاتی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی تباہ کاریوں کا حوالہ ہے، اور جس میں فتنے کی اصل جڑیں ہیں۔
دولت کا ایک وہ تصور ہے جو حرام اور حلال اور انصاف اور ظلم اور دولت کی پیدایش، وسائل کی ترقی اور انسانی معاشرے کی خوش حالی اور تہذیب و ثقافت کی آبیاری سے متعلق ہے۔ یہ زیربحث ہی نہیں آرہا۔ بلاشبہہ افراد کی کرپشن اہم ہے اور اس کے نتائج ملک و معاشرے کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس پر مؤثر گرفت بھی ہونی چاہیے کہ یہ انصاف کا تقاضا ہے اور ترقی اور خوش حالی کے لیے ضروری شرط ہے۔ لیکن کالے دھن کے اس کاروبار میں اَخلاق ، قانون، معاشرے، سرمایے اور دولت کے رشتے کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے، وہ بحث کو یک رُخا بنادیتا ہے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کو درپیش مسئلے کو، اس کے تاریخی اور عالمی معاشی نظام کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں۔
ہماری نگاہ میں اس کے تین پہلوئوں کو (جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں) سمجھنا، ان کے اسباب کا تعین اور حالات کی اصلاح کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر تبدیلی کا نقشۂ کار مرتب کرنا اصل ضرورت ہے۔
کالے دھن کی لعنت، دولت کے بارے میں غلط تصور، صرف مادی ترقی اور ذاتی اور خاندانی ثروت کی تگ و دو، حرام و حلال اور جائز و ناجائز سے بے پروا ہوکر دولت کی افزایش کا لالچ اور طمع، حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں سے اغماض اور صرف ذاتی غرض اور طمع کا اسیر بن جانا سارے بگاڑ کی بنیاد ہے اور کالا دھن اسی ذہن اور اسی روش کی پیداوار ہے۔
جو دین اسلام یہ حکم دیتا ہو کہ: ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو، دولت پیدا کرو، مگر اس لیے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرو، دعوت اور جہاد کی ضرورتوں کو پورا کرو، معاشرے اور ریاست کی خدمت کرو، ضرورت مندوں اور مجبوروں کو اُوپر اُٹھانے کے لیے وسائل کو بلاتامّل استعمال کرو۔ پھر جو دین یہ بھی دل و دماغ میں محکم کرتا ہو کہ: جواب دہی صرف ظاہری طور پر قانون اور معاشرے کے سامنے نہیں، سب سے بڑھ کر اللہ کے سامنے ہے اور ہم میں سے ہر فرد کو پائی پائی کا حساب دینا ہوگا کہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کیسے خرچ کیا تھا؟ تو پھر پوری معاشی زندگی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
اگر ہمارے دعوے ’مذہبی پس منظر کے حامل خاندان‘ کے سے ہیں اور ہمارا ذہن اور رویہ خالص مادہ پرستانہ اور سرمایہ دارانہ فکرو اَخلاق ہی پر استوار ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ دین پرستی اور مادہ پرستی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ مسئلے کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے اس اخلاقی اور نظریاتی پہلو کو بالکل شروع ہی میں واضح کردیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کالے دھن، ٹیکس چوری، کرپشن سے حاصل کردہ دولت، ٹیکس چوری کی پناہ گاہوںمیں چھپنے کا کھیل___ اسے مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے اس پس منظر میں قارئین کے سامنے رکھیں، جس میں یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس میں اپنے اور غیرسب برابر کے شریک ہیں۔ جن ۱۲ سربراہانِ مملکت کا نام لے کر ان کے یا ان کی اولاد کے یا قریبی عزیزوں کے ملوث ہونے کا ذکر ان دستاویزات میں آیا ہے ، ان میں سے چھے، یعنی ۵۰ فی صد مسلمان ہیں، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔
کرپشن کے خلاف مغربی قیادتیں اظہارِبیان کا لمباچوڑا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ لیکن ان کا قانون، ان کی پالیسیاں، ان کے بنائے ہوئے انتظامات ہی وہ فضا اور میدان فراہم کر رہے ہیں، جس میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جو یورپ کا مالیاتی دارالحکومت ہے اور ہانگ کانگ جو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ ہے، اس کے بعد امریکا اس وقت ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں نمایاں ترین مقام رکھتا ہے۔ خصوصیت سے اس کی چھے ریاستیں جو ’فرارِ ٹیکس‘ کی پناہ گاہوں کا درجہ رکھتی ہیں، اس سارے کھیل کی آماج گاہ ہیں۔ برطانیہ کے جزائر تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو ایک طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔
گذشتہ ۱۰۰ سال سے یورپ کے بیش تر ممالک میں ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارت دونوں کے سلسلے میں رشوت دے کر کاروبار حاصل کرنا، ایک جائز اور قانونی فعل تھا، اور اسے باقاعدہ حسابات میں ضروری اخراجات کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی صرف گذشتہ ۱۵،۲۰ سال میں آئی ہے کہ اس کھلی کھلی مالی بدعنوانی کے لیے قانونی جواز کو ختم کیا گیا ہے۔ اگرچہ عملاً یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق چند یورپی ممالک میں اب بھی کاروبار کے فروغ کے لیے اور خصوصیت سے اسلحے کی فروخت اور میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں، اپنے ملک سے باہر رشوت اور کمیشن کی جادوگری کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔
آج کے دور میں کالے دھن کی ریل پیل کو سمجھنے کے لیے یہ پس منظر جاننا ضروری ہے اور اس کا جو تزویری تعلق نظام سرمایہ داری، اس کی بنیادی اقدار اور نظامِ کار سے ہے، اس کو سمجھنا ، ازحد ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر ملک میں آپ سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیں گے تو ان تمام بُرائیوں اور تباہ کاریوں سے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں موضوعِ زیربحث کے تین پہلو ہیں، یعنی:
۱- کالا دھن، ان کی کمیت، کیفیت، تباہ کاریاں۔ ان کا ادراک اور لعنت سے نجات کی کوشش۔
۲- وہ نظام ظلم اور استحصال جو اس لعنت کو پیدا کرتا، پروان چڑھاتا اور معتبر بناتا ہے، بلکہ مذہبی پس منظر کے دعوے دار بھی کھلے بندوں اس سے فیض پانے کا اعلان کرتے ہیں۔’فرارِٹیکس‘ (Tax evasion) خلافِ قانون ہوسکتا ہے، لیکن ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax avoidence) تو ہمارا حق ہے اور اس کے لیے جہاں بھی جانا پڑے، ہمارا پیدایشی حق ہے۔
۳- تیسرا پہلو حالات کی اصلاح کا ہے اور پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں: یعنی احتساب اور غلط کام پر اصولِ انصاف اور قانون کے مطابق مضبوط اور مؤثر گرفت اور نظام، اور اس سے بھی بڑھ کر اس ذہن وفکر اور طرزِزندگی کی اصلاح، تاکہ ظلم اور استحصال کے نظام سے بچاجاسکے۔
مجھے افسوس ہے کہ اپنی صحت کی خرابی کے باعث اس اہم موضوع سے متعلق قرارواقعی معلومات پیش نہیں کرسکا اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آیندہ اپنی گزارشات پیش کروں گا۔ اس وقت صرف چند ضروری نکات کی نشان دہی کرتا ہوں، اور ملک کی قیادت اور خصوصیت سے اسلامی قوتوں کو ان پر غور کرنے اور ان کی روشنی میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی طے کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
۱-پہلی بات یہ ہے کہ ’پاناما دستاویزات‘ میں جو نام آئے ہیں اور جو مزید آئیں گے، ان سب کے بارے میں ایک واضح پالیسی اور طے شدہ قاعدے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے اس وقت ملک میں اور دنیا میں جو قانونی پوزیشن ہے، اس کی روشنی میں یہ کارروائی ہونی چاہیے۔ شاید اس کے لیے مناسب ترین انتظام یہ ہوکہ ملک میں حکومت، تمام اپوزیشن جماعتوں، عدلیہ اور سول سوسائٹی اور اچھی شہرت رکھنے والے سابق سول بیوروکریسی اور اعلیٰ فوجی افسران کے مشورے سے قومی احتساب کا ایک آزاد، بااختیار اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جائے اور اسے تفتیش اور قانونی گرفت (Prosecution) کے پورے اختیارات دیے جائیں، ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور تربیت کا نظام بنایا جائے۔ نیزاس کے اندر بھی احتساب و توازن (check & balance) کا اہتمام کیا جائے اور متعین وقت کے اندر اسے زیرغور معاملات کو طے کرنے کا پابند کیا جائے۔
اس کی رپورٹ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہو، اور اس پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں کھل کر بحث کی جائے، تاکہ یہ ادارہ فی الحقیقت مؤثرانداز میں کام کرے اور محض ’باہمی مالیاتی سودے بازی‘ ( Plea bargaining) کا اکھاڑہ نہ بن جائے۔ یہاں پر مثال کے طور پر یہ امر مدنظر رہے کہ بھارت نے ۲۰۱۳ء میں بیرونی ممالک میں بھارت کے کالے دھن پر گرفت کاقانون بنایا اور احتساب کا نظام قائم کیا ۔ اب تک اس کی دورپورٹیں آچکی ہیں اور گذشتہ دوسال میں، ٹیکس سے بچ جانے والے سرمایے سے ٹیکس کی مد میں ۶؍ارب ڈالر سے زیادہ واجبات وصول کیے جاچکے ہیں۔اگر بھارت میں یہ ہوسکتا ہے تو ہمارے ہاں اس کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے؟
۲- موجودہ خصوصی صورت حال کے پیش نظر جوڈیشل کمیشن بھی ایک مناسب حل ہے۔ ضرورت ہے کہ بحث کو صرف ٹی وی اور گلیوں میں کرنے کے بجاے بامعنی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو طے کیا جائے۔ جوڈیشل کمیشن کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے تحت اسی کے فیصلے سے تفتیشی ٹیم مقرر ہونی چاہیے جو ایسے معتبر اور تجربہ کار افراد پر مشتمل ہو، جو متعلقہ اُمور کے بارے میں انصاف کے ساتھ تفتیش کرسکیں یا کراسکیں اور عدالتی کمیشن کی صحیح معاونت کرسکیں۔
اس کمیشن کو اپنا کام ایک متعین مدت میں ختم کر دینا چاہیے اور پھر اس کے کام اور تفتیشی ٹیم کی سفارشات کی روشنی میں اُوپر جس احتساب کمیشن کا مشورہ دیا گیا ہے، وہ کام کو جاری رکھے۔
مجوزہ کمیشن کام کا آغاز موجودہ حکومت کے ان تمام افراد کے بارے میں تحقیق و تفتیش سے کرے، جن کا نام ’پاناما دستاویزات‘ میں آیا ہے اور یہ ۱۹۸۶ء سے اب تک کے عرصے کو اپنے دائرۂ بحث میں لائے۔ لیکن اس کے بعد اس کمیشن کو دو مزید سیاسی قوتوں سے متعلق افراد کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے___ یعنی سابق صدر جناب آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے وہ لوگ اور اس کے اتحادی، جو ۱۹۸۸ء کے بعد سے حکومت میں رہے ہیں۔ اس طرح تیسرا سیاسی گروہ صدرپرویز مشرف ان کی حلیف مسلم لیگ کی شریکِ اقتدار پارٹیاں یا شخصیات ہیں، جو جنرل موصوف کے ساتھ ۲۰۰۲ء سے شریک رہی ہیں۔اس طرح گذشتہ ۳۰برس میں جن تین بڑے گروپوں کے ہاتھوں میں حکومت کی زمام کار تھی، ان کا احتساب اسی ترتیب سے اس جوڈیشل کمیشن کو کرنا چاہیے۔ باقی افراد، اداروں، تجارتی اور دوسرے اداروں کا احتساب اسی ماڈل کی روشنی میں مستقل ادارۂ احتساب کرے۔
واضح رہے کہ جناب محمد نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے بارے میں سوالات ۱۹۹۲ء سے اُٹھ رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے دور سے لے کر اب تک ان کے اثاثہ جات میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے آئے۔ آمدنی کے ذرائع، اس پر ٹیکس کی ادایگی، سرمایے کی ملک سے باہر منتقلی، بیرونِ پاکستان جایدادوں اور کاروبار کا حصول، ہرچیز سامنے آنی چاہیے۔ ماشاء اللہ، اب ان کے بچے بڑے ہیں، اور اپنے معاملات کے ذمے دار ہیں، لیکن انھوں نے اپنے کاروبار کا آغاز تو محمد نواز شریف صاحب ہی کے عطا کردہ وسائل سے کیا تھا۔ اس سے متعلق اُمور سامنے آنے چاہییں۔
اسی طرح جناب آصف علی زرداری اور ان کی اہلیہ مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے مالی معاملات، شادی کے وقت ان کے مالی وسائل اور اس کے بعد سے اب تک اس خانوادے نے خود یا اپنے نمایندوں (proxies )کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا، اس کی تفصیل اور دلیل و جواز (justifications) قوم کے سامنے آنے ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی دستاویزات ملک کے اداروں یا عالمی اداروں اور میڈیا کے پاس ہیں، ان سب کی روشنی میں حالات اور معاملات کی پوری تصویر قوم کے سامنے پیش کی جانی ازبس ضروری ہے۔
ہم نے مارچ ۲۰۱۶ء کے اشارات اور دوسرے متعدد اہلِ قلم نے اپنے مضامین اور کالموں میں ان اسکینڈلوں کا ذکر کیا ہے، جو گارڈین، بی بی سی، برطانوی اور سوئس عدالتوں کے فیصلوں میں ضبط ِ تحریرآچکے ہیں۔ جن کا خلاصہ ریمنڈڈبلیو بیکر نے اپنی کتابCapitalism's Achilles Heel (مطبوعہ ۲۰۰۵ئ) میں پیش کیا ہے، اور جس میں زرداری صاحب کے خاندان کے علاوہ، بلاواسطہ یا بالواسطہ آف شورکمپنیوں اور درجنوں بنک اکائونٹس کی تفصیل دی گئی ہے (ملاحظہ ہو: ص۷۷ تا ۸۲)۔ اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بڑی اہم رپورٹ ۲۰۰۴ء میں، لندن سے شائع ہوئی تھی، جس کے صفحہ۱۰۲ سے ۱۰۴ تک، گرافکس کی شکل میں تفصیلات پیش کی گئی ہیں،انھیں بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہی معاملہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے شرکاے اقتدار گروہ کا ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۹ء میں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اثاثوں کا اعلان کیا تھا۔ آج جو کچھ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں اب خاصی معلومات مغربی میڈیا اور خود پاکستانی میڈیا میں برابر آرہی ہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد، کراچی، دبئی، لندن اور نیویارک میں ان کے پاس اربوں روپے کی جایدادیں ہیں۔ کروڑوں ڈالر، درجنوں بنک اکائونٹس میں موجود ہیں۔ ان کو بھی اپنے تمام اثاثوں اور ان کے حصول کی تفصیلات کا حساب دینا ہوگا۔ اور یہی معاملہ اس دور میں ان لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے، جو ان کے شریکِ اقتدار رہے ہیں۔ اندرونِ خانہ کیا کیا کچھ ہوتا رہا ہے، اس کی کچھ جھلکیاں، جنرل مشرف کے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل شاہدعزیز کی کتاب یہ خاموشی کہاں تک؟ میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم کی قیادت کے بارے میں جو معلومات سامنے آرہی ہیں، وہ بھی اسی دور کا قصہ ہیں۔
اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم ان تین بڑے بڑے ٹولوں (شریف خاندان، زرداری خاندان، مشرف اور ان کے رفقاے کار) کے مالی معاملات کا پورا پورا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنی پاک دامنی ثابت کردیں تو سر آنکھوں پر۔ لیکن اس کے برعکس، جس جس کا دامن داغ دار ہے، اس کا احتساب شفاف انداز میں ہونا چاہیے، تاکہ کالے دھن کے اس کاروبار پر کہیں تو ضرب لگے اور کسی مقام پر تو اس کو روکا جاسکے، تاکہ اس تاریک باب کو کہیں ختم کیا جاسکے اور شفاف قومی زندگی کے نئے باب کا آغاز ہوسکے۔۱؎
جوڈیشل کمیشن کی شرائط ِ تحقیقات (ToRs) میڈیا میں اور سڑکوں پر طے نہیں ہوسکتے، بلکہ حکومت اور اپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھیں اور طے کرلیں۔ ماضی میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور یہی ہے وہ طریقہ جس سے سیاسی مسائل طے ہوتے ہیں۔
۴- ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ ۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کے بعد سے حکومت ِ پاکستان کے نمایندوں اور اپوزیشن کے ترجمانوں کے درمیان جس زبان میں، جس انداز میں، اور جن پلیٹ فارموں پر لفظی جنگ جاری ہے، اسے ختم کرنا ازحد ضروری ہے۔ اصولی بات کہنے کا موقع ہمیشہ رہتا ہے، لیکن جتنے شخصی انداز میں اور جس زبان اور لہجے میں بات ہورہی ہے، اسے کسی مہذب معاشرے، چہ جائیکہ ایک مسلمان معاشرے میں مناسب، جائز اور معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ سب اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ شرائطِ تحقیقات طے کر کے معاملہ عدالتی کمیشن کے سپرد کردیں اور عدالتی کمیشن بھی اپنے لیے خود ضابطۂ کار طے کرلے، تاکہ ایک طرف اصل مسائل اور معاملات سے انصاف کیا جاسکے اور دوسری طرف کمرئہ عدالت سیاسی محاذآرائی کا ذریعہ نہ بن جائے، بلکہ گرمیِ گفتار کو قابوکرکے ساری توجہ حقیقی تفتیش، تحقیق اور حقائق کے تعین پر مرکوز ہونی چاہیے۔
۵- ہم پورے ادب اور دل سوزی سے میڈیا سے بھی درخواست کریں گے کہ اپنے رویے پر غور کرے۔ حقائق کی تلاش اور مختلف نقطہ ہاے نظر کی عکاسی ان کی ذمہ داری ہے، مگر خود فریق بن جانا اور جلتی پر تیل ڈالنا، ہرچیز کو تماشا بنانا کبھی بھی صحت مند صحافت کی روایت نہیں رہی اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ ہم سنسرشپ کے حامی نہیں، لیکن خوداختیاری سنسرشپ، احساسِ ذمہ داری کی ایک بہتر مثال ہے۔یہی وہ راستہ ہے جس سے زیادہ معتبر اور باوقار انداز سے بحث و گفتگو کو صحیح دائرے میں رکھا جاسکتا ہے اور اصل مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے، جس سے ملک کو کالے دھن اور اقتدار اور اختیار کے غلط استعمال کی لعنتوں سے پاک کیا جاسکتا ہے۔
۶- ملک اس وقت بہت ہی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل، قومی سلامتی کو چیلنج، افغانستان اور بھارت کا رویہ، امریکا کے بدلتے ہوئے تیور، شرق اوسط کا خلفشار، یہ وہ شعلہ فشاں پہلو ہیں جو ہمارے لیے آزمایش کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ علاقائی اور عالمی تناظر میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ان حالات میں ملک کے تمام اداروں اور مؤثر قوتوں کے درمیان تعاون اور مشاورت سے معاملات کو طے کرنے اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ سول، ملٹری تعلقات کا مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے، جسے نظرانداز کیا جاسکے اور نہ اسے قالین کے نیچے دبا کر رکھا جاسکتا ہے۔
کچھ عناصر تصادم کی فضا بنانے پرتلے نظر آتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو ختم کرنا (diffuse) ازبس ضروری ہے۔ ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے کو بڑھانے میں حکومت وقت کی خراب حکمرانی ہی واحد سبب نہیں ہے، بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بہت سے عناصر اس آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وہ وقت ہے جب حکومت اور پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور میڈیا بھی ان حدود کا پورا پورا لحاظ رکھے، جو ایسے نازک معاملات کو سلجھانے اور بروے کار لانے کے لیے ضروری ہیں۔
دستور کے تحت کابینہ کی ’دفاع و سلامتی کی کمیٹی‘ وہ اہم فورم ہے، جسے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اس کی نشست کا فی الحال باقاعدگی سے ہر مہینے اہتمام کیا جائے، جسے بعد میں حالات کی مناسبت سے معمول بنا لیا جائے۔ اسی طرح کابینہ کا اجلاس ہر ماہ لازماً ہونا چاہیے۔ وفاقی کابینہ اور ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ (CCI) وہ ادارے ہیں، جن کو باقاعدگی سے اپنے اداراتی فرائض انجام دینے چاہییں۔ پارلیمانی حکومت نام ہی کیبنٹ گورنمنٹ کا ہے، ورنہ یہ ایک قسم کا صدارتی نظام بن جاتا ہے۔یہ ہمارے دستور اور ہمارے زمینی حقائق دونوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور بدقسمتی سے ہم اس طرف لڑھکتے چلے جارہے ہیں۔اس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔
۷- حکومت اور اپوزیشن دونوں اسمبلی اور سینیٹ کو قرارِ واقعی اہمیت دیں اور ریاست کے تمام اداروں کو ان کی دستور کی طے کردہ حدود کار اور آج کے زمینی حقائق دونوں کی روشنی میں خوش اسلوبی کے ساتھ اصل توازن کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔
دستور ایک معاہدۂ عمرانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دستور کے فریم ورک میں سارے سیاسی مسائل اور اختلافات کو حل کیا جاناچاہیے۔ دستور کے دائرے سے نکل کر جو بھی حل ہوگا، وہ حل نہیں، بلکہ نئے مسائل اور مشکلات کا پیش خیمہ بن جائے گا، اور خدانخواستہ ملک ایسے خلفشار کا بھی نشانہ بن سکتا ہے جو اس کے لیے تباہی کا باعث ہو۔ توقع ہے کہ اس اشارے کو سبھی سیاسی عناصر اور قوتیں محسوس کریں گی، اور دستور سے کھیل کھیلنے کا کسی کو موقع نہیں دیں گی۔
۸- لوکل گورنمنٹ کو جلد از جلد قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انھیں اختیارات اور وسائل دونوں دیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی ساری توجہ کا مرکز وفاق اور اپنے اپنے صوبے کے مسائل پر ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں قانون سازی، پالیسی سازی، حکومت کی کارکردگی پر نگرانی، عوامی مسائل پر توجہ اور حکومت اور عوام کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ترقیاتی کاموں ہی میں ان کو گھسیٹنا اور پھر ترقیاتی فنڈ ان کے توسط سے خرچ کرنا بڑے خسارے کا سودا ہے،جو بدقسمتی سے وزیراعظم محمد خاں جونیجو صاحب (۸۸-۱۹۸۵ئ) کے دور سے شروع ہوا اور کرپشن کے فروغ اور اچھی حکمرانی کے پٹڑی سے اُترنے کا سبب بنا ہے۔ اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے۔ جو کام لوکل گورنمنٹ کا ہے، وہ لوکل گورنمنٹ کرے اور جو کام صوبے اور مرکز کے اداروں کا ہے، وہ انھیں انجام دیں۔ ترقیاتی کام کے سلسلے میں مرکزی پلاننگ کمیشن اور ہرہرصوبے میں مؤثر پلاننگ کمیشن ضروری ہیں۔ اسی طرح پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی شکنجے سے نکالنا بھی ازبس ضروری ہے۔ فوج اور رینجرز سے معاملہ کاری ( equation) پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ عدالت کی اپنی اصلاح ، تقویت، تربیت اور احتساب، یہ سب ضروری ہیں۔
۹- یہاں ہم دو مسئلوں کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں: ایک معاشرے کا اخلاقی بگاڑ، جس کے نتیجے میں باہمی حقوق کے احترام کا فقدان ہے۔ رواداری اور خوش خلقی سے معاشرہ محروم ہوتا جارہا ہے۔ جرائم اور جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور بحیثیت مجموعی معاشرے میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو خطرے کی علامت ہے۔ الحمدللہ، آج بھی ہمارے معاشرے میں جو خیر ہے، وہ اللہ کی نعمت ہے اور اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ لیکن یہ فکرمندی بھی ضروری ہے کہ معاشرے کی اقدار کمزور ہورہی ہیں اور اخلاقی بگاڑ میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی سب کو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرفرد، خاندان، معاشرہ، دینی اور سیاسی قوتیں، سول سوسائٹی، حکومت اور اس کے تمام ادارے ___ اس باب میں ہر ایک کو متحرک ہونا پڑے گا۔ کرپشن پر گرفت کے لیے احتساب کا مؤثر نظام ضروری ہے، مگر کرپشن کو ختم کرنے کے لیے فرد اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر و اصلاح اور ان اسباب کا چُن چُن کر قلع قمع کرنا ضروری ہے، جو اسے جنم دے رہے ہیں اور پروان چڑھا رہے ہیں۔ آنکھیں بند کرنے سے معاملات حل نہیں ہوسکتے، مسائل کو کھلی آنکھوں دیکھ سمجھ کر ہی قابو میں لایا جاسکتا ہے۔
۱۰-آخر میں عرض یہ ہے کہ ہمیں ملک کو نظریاتی اور فکری انتشار سے بچانا ہے۔ ہماری آبادی کا ۹۰ فی صد اپنے دین اور نظریے، اپنے ملّی اور قومی تشخص، اپنی اخلاقی اور تہذیبی اساس اور اپنی نئی نسلوں کی منزل کے بارے میں کسی شک کا شکار نہیں ہے۔ فقط، ایک طبقہ ہے جو کبھی لبرل ازم کا ، کبھی سیکولرزم کا راگ الاپتا ہے۔ کبھی دہشت گردی کو جہاد کا شاخسانہ قرار دے کر، کبھی اپنی تاریخ پر خطِ تنسیخ پھیرنے، اور کبھی قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں میں ذہنی پراگندگی اور خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں انگریزی صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کا رویہ خاصا پریشان کن بلکہ وطن دشمنانہہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سب عناصر سے بھی مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان حضرات کو جہاں اپنے نظریات پر قائم رہنے کا حق ہے، وہیں انھیں بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی شناخت اور مسلم معاشرے کی بنیادی اقدار کوئی بحث طلب شے نہیں ہیں۔اپنے اور غیروں کے کیے ہوئے تمام جائزے (سروے) شاہد ہیں کہ ۹۰ فی صد آبادی شریعت کی بالادستی اور اسلامی اقدار و احکام کی پاس داری کی خواہاں ہے۔ یہ جذبہ شہری اور دیہی آبادی میں، مردوں اور عورتوں میں، عمررسیدہ افراد اور نوعمر آبادی میں ایک ہی طرز (pattern) پر ہے۔ یہ زمینی حقائق ہیں، جن کا احترام ہی قوم اور معاشرے میں ہم آہنگی اور تعمیری قوتوں کی تقویت کا باعث ہوسکتا ہے۔
جس قوم میں تعداد میں کم ،مگر وسائل میں مضبوط بااثر ، صاحب ِ ثروت طبقوں اور عوام الناس کے درمیان نظریاتی اور تہذیبی کش مکش برپا رہے، وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اختلاف راے کا احترام مہذب معاشرے کی شناخت ہے۔ تاہم، یہ بھی مہذب معاشرے ہی کی ایک ضرورت ہے کہ بااثر افراد، اکثریت کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں اور تبدیلی کا راستہ افہام و تفہیم اور تعلیم و تعلّم اور اختلاف اور احترام کے ذریعے استوار کریں۔ اگر ایک مخصوص اقلیت محض اپنے وسائل اور بالاتر پوزیشن کے زعم میں اپنے خیالات اور ترجیحات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو یہ تصادم اور تباہی کا راستہ ہوگا۔
ہم ان افراد کو بھی جو مذہبی تشددکا راستہ اختیار کرتے ہیں، یہی مشورہ دیں گے جو لبرل، تشدد پسندوں کو دے رہے ہیں کہ مستقبل کی روشن راہ صرف اعتدال اور توازن میں ہے۔ اپنے مسلک پر قائم رہیے، لیکن دوسرے کے مسلک کی تحقیر نہ کیجیے۔ رواداری اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہے، جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔زندگی اور عزت سے زندہ رہنے کا یہی راستہ ہے، جس پر ہمیں ہمت اور استقلال سے سرگرمِ کار رہنا چاہیے۔
کراچی محض ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کے فکری، سیاسی اور معاشی قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے جو بات پورے ایشیا کے تناظر میں ملت افغان کے بارے کہی تھی، وہی بات کراچی پر بھی بدرجۂ اولیٰ صادق آتی ہے، یعنی اس کے فساد سے پورا پاکستان فساد اور ابتلا میں مبتلا ہوگا، اور اس کی کشادگی اور سکون پورے پاکستان کی کشادگی اور سکون پر منتج ہوگی۔۱؎
قیامِ پاکستان کے وقت کراچی اپنے سارے شہری جمال، معاشی مرکزیت اور جغرافیائی اہمیت کے باوصف چار ساڑھے چار لاکھ افراد کا شہر تھا، لیکن اس شہر قائد نے برعظیم پاک و ہند سے نقل آبادی اور مملکت ِ خداداد کے دارالحکومت اور تصورِ پاکستان کی علامت اور مرکزِ ثقل ہونے کے ناتے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔پہلے پانچ سال میں آبادی میں ۱۰ گنا اضافہ ہوا اور آج یہ شہر تقریباً اڑھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہے۔ قومی آمدنی میں تقریباً ایک چوتھائی اور قومی محصولات میں تقریباً نصف اسی شہر سے حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کے تمام علاقوں اور پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والے اس شہر کے باسی ہیں۔ اس کے بازو ہر علاقے کے لوگوں کے لیے کھلے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے آئینۂ پاکستان اور ’مِنی پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آبادی کے اس محیرالعقول اضافے اور اس کی شہری زندگی کی ساخت اور ترکیب میں تبدیلی، نیز اس کے جغرافیائی پھیلائو اور متنوع معاشی سرگرمیوں سے وابستگی اور مختلف حکومتوں کے متضاد اور امتیازی رویوں ہی نے اُن ہمالیائی مسائل کو جنم دیا ہے، جن کی وجہ سے یہ ایک دہکتے الائو کا منظر پیش کر رہا ہے۔
قیامِ پاکستان کے اوّلیں ۱۰، ۱۵ برس تو نسبتاً پُرسکون تھے، لیکن ۱۹۷۰ء کے عشرے سے آج تک یہ شہر اگر ایک طرف خودکار اور مستقبل بین منصوبہ بندی سے محروم ،غیرمتوازن بڑھوتری یا ترقی کا شاہکار رہا ہے، تو دوسری طرف گوناگوں تضادات کا مجموعہ، متصادم قوتوں کا گہوارہ اور شہر کے مختلف علاقوں، آبادیوں، طبقات اور لسانی اور معاشی گروہوں کے درمیان کش مکش کا میدان بن گیا ہے۔
نام نہاد جمہوری اَدوار ہوں یا فوجی مہم ُجو عناصر کی حکمرانی کے زمانے، بحیثیت مجموعی یہ شہر مشکلات، مسائل اور شکایات ہی کی آماج گاہ بنا رہا ہے۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ریاست کے تمام ہی ادارے اپنی اصل بنیادپر کام کرنے کے لائق نہ رہے۔ کرپشن، بدانتظامی، مفادپرستی، سیاسی جانب داری، لاقانونیت، بھتّا خوری، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوئے اڑھائی تین عشرے ہورہے ہیں۔ ریاست غیرمؤثر اور غیرریاستی ادارے اور گروہ اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
یہ سلسلہ جولائی ۱۹۷۲ء میں کراچی میں اُردو سندھی لسانی فسادات سے شروع ہوا ،اور گذشتہ ۱۸برس (۱۰برس جنرل مشرف + ایم کیو ایم اور آٹھ برس پیپلزپارٹی+ایم کیو ایم دور) اس کی بدترین مثال پیش کرتے ہیں۔ جب سے آپریشن ’ضربِ عضب‘ کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور کراچی کے حالات کو قابو میں لانے کے لیے رینجرز کے ہاتھوں حالات کچھ بہترہوئے ہیں، لیکن بنیادی مسائل اور حالات جوں کے توں اور شدید تشویش کا باعث ہیں۔ صوبائی حکومت کی بُری حکمرانی، نااہلی اور کرپشن اور بدعنوانی کی بدترین مثال ہے۔ مرکزی حکومت ظاہری فوں فاں کے باوجود ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ رینجرز اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان درپردہ ہی نہیں، کھلی کھلی کش مکش روز افزوں ہے اور غیر ریاستی عناصر کا تباہ کن کھیل جاری ہے۔
اس پس منظر میں تبدیلی کی جو لہریں اُبھر رہی ہیں اور جس طرح اُبھر رہی ہیں، وہ نئے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہیں اور لوگوں کی زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ آرہے ہیں ؎
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقعے پر ٹھنڈے دل سے صورتِ حال کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے، تاکہ حقیقت پسندی سے ایک بُرائی کے بعد دوسری بُرائی، اور ایک تباہی سے دوسری تباہی کے جال میں پھنسنے کے کرب ناک اور خوف ناک چکّر سے نکلنے اور حالات کے حقیقی سدھار کے راستوں کو تلاش کرنے اور ان پر عمل کی راہیں استوار کرنے کی فکر اور کوشش کی جاسکے۔
ایم کیو ایم نے گذشتہ ۴۰ برس میں کراچی اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں، سیاسی اور تنظیمی سطح پر ایک مقام بناکر ملک کی سیاست میں ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے اس کردار پر ملک میں پہلی بار کھل کر بات ہورہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک پورے ملک کی سیاسی فضا اور خصوصیت سے میڈیا پر جبر اور خوف کا وہ عالم طاری تھا کہ ’متحدہ‘ کے کردار کے بارے میں کسی کے لیے بھی تنقید، اختلاف اور احتساب کی بات کہنا تو دُور کا معاملہ ہے، اشارہ تک کرنا ممکن نہ تھا۔
بلاشبہہ جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف اور چند سیاست دانوں، دانش وروں اور صحافیوں نے جان پر کھیل کر اس عفریتی صورتِ حال پر گرفت کی اور اس کی بڑی قیمت ادا کی۔ ان کے علاوہ بھی کچھ نے دبے الفاظ میں اشارے کیے، مگر کراچی کی مجموعی سیاست میں ایم کیو ایم کی حیثیت ایک ’مقدس گائے‘ ہی کی رہی۔ سیاسی میدان اور میڈیا میں اختلاف راے اور ان کے بارے میں حقیقت کے برملا اظہار کا کوئی امکان نہ تھا۔ جس نے زبان کھولی، اس کی زبان کاٹ دی گئی۔ جس نے اختلاف کیا، اس کا مقدر بندوق کی گولی بنی۔ ۲۰ہزار سے زیادہ افراد نے جان کی بازی ہاری اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔ اس گروہ کی منہ زوری یہاں تک پہنچی کہ جن ۲۰۰ سے زیادہ پولیس افسروں اور اہل کاروں بہ شمول چند فوجی افسروں کے، جو ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران کراچی آپریشن سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ تھے، ایک ایک کر کے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح سچائی بیان کرنے والے ایک درجن صحافیوں کو خون میں نہلا دیا گیا اوران کے قتل کے گواہوں تک کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
خصوصیت سے ’آپریشن ضربِ عضب‘ کے آغاز اور اس کے نتیجے میں دوسری دہشت گرد قوتوں کے ساتھ ’متحدہ‘ کے کچھ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے سے، میڈیا پر ’متحدہ‘ کی حکمرانی کا بت اب ٹوٹ رہا ہے ۔ متحدہ کی سیاہ کاریوں کا جبری پردہ آہستہ آہستہ سرک رہا ہے اور اصل حقائق قوم کے سامنے نسبتاً زیادہ آزادی سے آنا شروع ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تصویر کا وہ رُخ اب نمایاں ہو رہا ہے، جسے عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا تھا۔ قانون، حکومت، عدالت اور ملک کے مقتدر طبقات سبھی اپنے اپنے مفادات کے چکّر میں یا کچھ دوسری مجبوریوں کے باعث اس جبری خاموشی، یا اس مجرمانہ پردہ پوشی کے نتیجے میں مجرموں کے طرف دار، سہولت کار اور پناہ دہندگان کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی بے گناہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس پس منظر میں ’متحدہ‘ سے وابستہ افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد نے پہلی بار کھلی تنقید کی راہ اختیار کی ہے۔ وہ باتیں جو ماضی میں صرف جماعت اسلامی اور چند اہلِ علم، دانش ور اور صحافی کہنے کی جرأت کر رہے تھے، یہ سب کھل کر بیان کرنے کے لیے خود ’متحدہ‘ ہی کے افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد سامنے آئی ہے اور گھر کے بھیدی کی حیثیت سے حقائق بیان کررہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ضمیر کی بیداری کے نام پر یہ حضرات اب گویا تو ہوئے ہیں اور کچھ اس اعتراف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ: ’’ہم لوگ ان کارناموں کو جانتے تو تھے، مگر کہنے کی جرأت نہ رکھتے تھے‘‘۔
یہی وہ مقام ہے جہاں گروہ بندی اور مفاد پرستی کے بجاے اصل حقائق کو جاننے اور صحیح راہِ عمل اختیار کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم تو ’متحدہ‘ کے بارے میں کبھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے اور ہرمیدان میں اس کا مقدور بھر مقابلہ کر رہے تھے اور اپنی جانوں کے ساتھ اس کی بھاری قیمت ادا کرتے آرہے ہیں۔البتہ تبدیل ہوتے ہوئے اس منظرنامے میں، اس امر کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ محض ’مٹی پائو‘ کی سیاست کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے، اور اصل حقائق کی روشنی میں بگاڑ کے اسباب کو سمجھا اور حقیقی اصلاح کا راستہ اختیار کیا جائے۔
’متحدہ‘ کے طرزِ فکر اور طرزِعمل سے سخت اختلاف اور ان کے غیض و غضب کا اوّلیں اور مسلسل نشانہ ہونے کے باوجود، ہم نے کل بھی یہ بات کہی تھی اور آج بھی کہتے ہیں کہ: سیاسی اختلاف___ اور سیاست میں تشدد، جبر اور فساد کے ہتھیاروں کا استعمال دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ریاست اور حکومت جب بھی قدم اُٹھائیں، اور جو بھی قدم اُٹھائیں، اسے قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ اوچھے ہتھکنڈوں اور انتقام سے اپنا دامن بچانا چاہیے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں جب پہلے مسلم لیگ (ن) اور پھر پیپلزپارٹی کے اَدوار میں، کراچی میں فوج اور رینجرز کے ذریعے ایم کیو ایم کی فسطائیت کے خلاف آپریشن ہوا، تو ہم نے اس وقت بھی اپنی اصولی اور حقیقی پوزیشن واضح کی تھی اور آج پھر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں۔
ہماری نگاہ میں ’متحدہ‘ کا ایک تو سیاسی چہرہ اور اس کے کچھ سیاسی کام ہیں۔ ان کی دوسری شناخت ایک فاشسٹ گروہ کی بھی ہے، اور یہ گروہ تشدد، ظلم، جبر اور قوت کے مبنی بر فساد استعمال کی خونیں روایت کا علَم بردار ہے۔ جس کو مفادات کی سیاست کرنے والوں نے: خواہ ان کا تعلق جمہوری قوتوں سے ہو یا عسکری عناصر سے، نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس میں شریک ہوئے اور ان کے سرپرست اور پشتی بان بنے۔ ہم دستور اور قانون کے مطابق ان کی سیاسی سرگرمیوں کا حق اسی طرح تسلیم کرتے ہیں، جس طرح اپنے اور دوسرے سیاسی عناصر کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، مگر ان کے دوسرے رُخ کو ہم ہر اعتبار سے مذموم، ملک کے لیے تباہ کن اور جمہوریت کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھتے ہیں۔ بگاڑ اور فساد کے جس عذاب سے آج سابقہ ہے، اور اس کے رُونما ہونے میں، ان کے اور چند دوسرے عناصر کی اس فسطائی اور تشدد پر مبنی سیاست کا نتیجہ تصور کرتے ہیں۔
۱۹۹۲ء کے آپریشن کے موقعے پر راقم الحروف نے سینیٹ میں اس وقت کے آپریشن پر مفصل تقریر میں جو کچھ کہا تھا، وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ تقریر اسی زمانے میں روزنامہ جنگ میں بطورِ مضمون بھی شائع ہوئی تھی۔ ریکارڈ کی خاطر اس کا ایک حصہ یہاں دیا جارہا ہے کہ کل بھی ہماری مخالفت اصولوں پر مبنی تھی اور آج بھی مبنی برحق ہے۔
ہم ذاتی مفادات یا گروہی عصبیت کے طرف دار نہیں ہیں۔ ہم نے کل بھی ’متحدہ‘ کے لیے انصاف اور اصل حقائق کی روشنی میں معاملہ کرنے کی بات کی تھی اور آج بھی اسی موقف کا اعادہ کرتے ہیں، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ جن حقیقی جرائم کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان پر پردہ ڈالنا اور ان کو نظرانداز کرنا نہ کل صحیح تھا اور نہ آج درست ہے۔ ان پر قانون کے مطابق گرفت ہونی چاہیے تھی اور اگر ماضی میں نہیں ہوئی تو آج ہونی چاہیے۔ لیکن جس جرم کے وہ مرتکب نہیں ہوئے ہیں، تو محض اس لیے کہ آج مقتدر عناصر ان سے ناراض ہیں، ان کو ماوراے حق و صداقت سزا دینا، بہرحال حق اور انصاف کا خون کرنا ہوگا۔ ہم اس سے بڑھ کر یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں جن جرائم کے بھی وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان کی سزا جس طرح ان کو ملنی چاہیے، بالکل اسی طرح ان تمام عناصر کا بھی احتساب اور قانون کے مطابق گرفت اور حق و انصاف کی روشنی میں انھیں بھی سزا ملنی چاہیے، جو جرم میں شریک یا اس پر پردہ ڈالنے اور ظالم کو پناہ دینے کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ فرد ہو یا ادارہ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، جمہوری ہو یا عسکری، یا کوئی اور: انھیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ ۱۹۹۲ء میں ہم نے کیا کہا تھا:
تشویش کا تیسرا پہلو وہ چند ابتدائی کارروائیاں ہیں، جن میں بحریہ کی مڈبھیڑ، پنڈبہاول کا واقعہ اور دورانِ تفتیش لوگوں کی اموات شامل ہیں۔ ان چیزوں نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ یہ بڑی قابلِ اطمینان بات ہے کہ پنڈبہاول کے واقعے کے بعد فوج نے ایک صحیح، واضح اقدام اور درست موقف اختیار کیا اور اس طرح اپنی آبرو کو بحال کیا۔
چوتھا تشویش کا پہلو ایم کیو ایم اور حکومت کے تعلقات ہیں۔ ایک طرف یہ بات ثابت ہے کہ ایم کیو ایم ایک پُرتشدد جماعت تھی۔ اس کے اذیت خانے برابر کام کر رہے تھے اور یہ کوئی خفیہ راز نہیں تھا۔ حکومت کے علم میں ان تمام باتوں کو وقتاً فوقتاً لایا گیا اور کراچی کے بے شمار شہری ان عقوبت خانوں کا شکار ہوئے۔ بہت سے بچ جانے والوں کی آہوں اور کراہوں کو کسی نے سنا تک نہیں۔ لیکن آج بھی مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت، دونوں سطحوں پر ایم کیو ایم برابر کی شریک ہے۔ اس پس منظر میں یہ ایک تشویش ناک پہلو ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس وقت درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ بلاشبہہ امن و امان کا ہے۔ اس مسئلے کو اگر حل نہ کیا گیا تو ملکی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ بات یقینا عاقبت نااندیشی ہوگی، اگر ہم یہ خیال کریں کہ یہ صرف امن و امان ہی کا مسئلہ ہے۔ درحقیقت یہاں اقتصادی اُمور میں خصوصیت سے زمینوں اور صنعت کا مسئلہ، انفراسٹرکچر کی تعمیر، بالخصوص نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسائل ہیں کہ جن کی بناپر یہ نوجوان تخریب کاری کی طرف گئے ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں کا زمین داری اور وڈیرہ شاہی کا نظام اس شکل میں مسلط ہے کہ جس کے باعث عوام وہاں ابھی تک احساسِ شرکت سے محروم ہیں۔ اگر عوام کسی پارٹی کو مینڈیٹ دیتے ہیں تو پھر ان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی حکومت بنائیں ۔ چنانچہ امن و امان کے ساتھ ساتھ مسئلے کا سیاسی صرف دیانت دارانہ عمل سے نکل سکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی پارٹیوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، خود ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔
جہاں ایم کیو ایم کا امن و امان کے مسئلے کو پیدا کرنے میں مرکزی کردار ہے، وہیں ایم کیو ایم کا ہر ممبر اس کا مجرم نہیں۔ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہمیں مجرم اور بے گناہ میں فرق کرنا ہوگا۔ جو لوگ تشدد کے ذمہ دار ہیں، ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔ انصاف ہر ایک کے ساتھ کیا جانا چاہیے ،خواہ اس کا تعلق ایم کیو ایم کے ساتھ ہو، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، جماعت اسلامی یا کسی اور پارٹی سے۔ مراد یہ ہے کہ تشدد کی سیاست، لسانی سیاست اور پھر جائز اور صحیح سیاست کے درمیان فرق ضروری ہے۔ اگر ہم نے مجرم اور بے گناہ کے درمیان فرق نہ کیا اور فوج نے مکمل غیر جانب داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ چنانچہ انصاف، سیاسی سرپرستی اور جانب داری سے ماورا ہوکر کیا جائے۔ تشدد کی سیاست سے جس کسی کا بھی تعلق ہے اور جس نے بھی کسی ڈاکو کو پناہ دی ہے اور جو بھی ان کے سرپرست اور ذمہ دار ہیں، ان تمام عناصر کا محاسبہ کیا جائے، چاہے ان کا تعلق ایم کیو ایم حقیقی سے ہو یا غیرحقیقی سے، یا کسی بھی طبقے سے۔ اگر حکومت نے اس معاملے میں کسی ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو یہ انصاف نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں یہ آپریشن ناکام ہوگا۔
متحدہ قومی موومنٹ سے ہمارا اصولی اختلاف ان کے بنیادی فلسفۂ سیاست، یعنی مہاجریت اور اُردو زبان کی بنیاد پر قومیت کے سوال سے ہے۔ مہاجر ایک واقعاتی تصور بھی ہوسکتا ہے اور ایک نظریاتی اور اختلافی تصور بھی۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق ہے، ہر وہ شخص جو کسی بھی وجہ سے ایک ملک سے نقلِ مکانی کرکے کسی دوسرے ملک میں جاکر آباد ہوجائے، وہ مہاجر ہے۔ لیکن محض یہ نقلِ مکانی اور اپنے اصل وطن سے نسبت کسی شخص یا گروہ کو ایک قوم نہیں بناتی۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد ایک نظریاتی اور اخلاقی جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد میں برعظیم کے مسلمانوں کی اکثریت شریک تھی۔ وہ بھی جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ بنے، اور وہ بھی جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جنھیں ہندستان کا حصہ بننا تھا۔ پھر نقلِ آبادی تقسیمِ ہند کے منصوبے کا ایک حصہ نہیں تھی۔ وہ ان حالات کا نتیجہ ضرور تھی جن میں ملک تقسیم ہوا اور فسادات کی آگ نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر مجموعی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی کوئی ایک زبان نہیں تھی۔اس میں اُردو بولنے والے بھی تھے، پنجابی، پشتو، بلوچی، پوربی، تامل، بہاری، گجراتی، میمن، کچھی، سرائیکی، دری اور دسیوں زبانیں بولنے والے ہم وطن شامل تھے۔
مغربی پاکستان میں ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کی روشنی میں آبادی ۳کروڑ ۳۷لاکھ تھی، جس میں سے مہاجرین کی تعداد ۶۳لاکھ تھی، گویا آبادی کا تقریباً ۲۰ فی صد۔ اس میں اُردو بولنے والوں کی آبادی ایک چوتھائی سے بھی کم تھی۔ تین چوتھائی مہاجر تھے، مگر وہ سب اُردو بولنے والے نہیں تھے اور یہ ایک چوتھائی اُردو بولنے والے بھی سبھی کراچی یا صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں آباد نہیں ہوئے۔ ہرچند کہ ان کی ایک بڑی تعداد یہاں ضرور آباد ہوئی، اور ان کے ساتھ دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہجرت کرکے اپنے اپنے حالات اور امکانات کے مطابق آباد ہوئے۔ یہ ہیں اصل زمینی حقائق! اس پس منظر میں کسی ایک گروہ کا لسانی بنیادوں پر اپنا استحقاق دوسروں پر مسلط کرنا تصادم ہی کا باعث ہوسکتا ہے۔ انصاف سب کے ساتھ ہونا چاہیے، لیکن کسی کے لیے بھی ترجیحی مقام (priviliged position) فساد ہی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور بن کر رہی ہے۔
اسی طرح مشرقی پاکستان میں ۷لاکھ کے قریب مہاجر آئے تھے، جن کی بڑی تعداد اُردو، بنگلہ اور آسامی بولنے والوں کی تھی۔ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ ہر زبان کا اپنا قابلِ احترام مقام ہے اور انسانوں کی پہچان میں زبان کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن ایک فرد کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت محض زبان کے استعمال و اختیار سے متعین نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآن نے زندگی کا جو تصور دیا ہے وہ بڑا واضح ہے:
ٰٓیاََیُّھَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ o (الحجرات ۴۹:۱۳) لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو عقیدہ اور دین کی بنیاد پر ایک قوم بنایا اور اللہ کی اطاعت کو ان کا نصب العین اور اجتماعی زندگی کی بنیاد قرار دیا:
اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِo(انبیاء ۲۱:۹۲) یہ تمھاری اُمت حقیقت میں ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔
وَاِِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ o(المومنون ۲۳:۵۲) اور یہ تمھاری اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔
مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بنیاد اور اللہ کو رب تسلیم کرکے عقیدے اور الہامی ہدایت کے مطابق زندگی کی تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ رب کی عبادت اور اس کے تقویٰ کو اللہ سے تعلق اور بندوں کے درمیان نظامِ کار کی اصل قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے باب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا کہ: اگر تم اپنا وطن اس لیے چھوڑ رہے ہوکہ وہاں دین کی پیروی اور اللہ کی اطاعت اور اس کا تقویٰ اختیار کرنا ممکن نہیں، اور ہجرت اس جگہ کے لیے کر رہے ہو، جہاں اللہ کی عبادت اور بندگی ممکن ہو اور اسلامی زندگی قائم کرسکو، تویہ ہجرت اللہ کے لیے ہے۔ اور اگر نقل مکانی کسی دنیوی مقصد کے لیے ہے، خواہ اس کا تعلق معاش سے ہو یا معاشرت (نکاح کی خواہش) سے، تو یہ ہجرت ان مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ اللہ کی رضا کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ حبشہ اور مدینہ کی ہجرت نظریاتی اور اخلاقی ہجرت تھی اور اس کے نتیجے میں مہاجروں اور انصار میں ایک نیا رشتۂ مواخات قائم ہوا، اور دونوں مدینہ کی اسلامی ریاست کے شہری اور اسلام اور دولت ِاسلامیہ کے دفاع اور حکومت کے لیے کمربستہ ہوگئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد جو بھی پاکستان کا شہری ہے، وہ پاکستان اور ملت اسلامیہ پاکستان کا حصہ ہے۔ ہر وہ زبان جس کے بولنے والے اس اُمت کا حصہ ہیں، ان کی ہر زبان معتبر ہے، لیکن ان کی قومیت، شہریت اور اجتماعیت کی بنیاد زبان نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ان کا نظریہ، پروگرام اور طریق کار ان کی شناخت کے صورت گرہیں اور اسی بنیاد پر اجتماعیت کی تشکیل و تعمیر میں سب اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہم بڑے دُکھ سے یہ بات کہتے ہیں کہ اُردو کا جھنڈا اُٹھانے والی ’متحدہ‘ نے اُردو زبان کی کوئی خدمت نہیں کی۔ وہ اُردو جو پاکستان کے ۸۰ فی صد سے زیادہ افراد کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور پاکستانی قوم کی وحدت و یگانگت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اسے آبادی کے صرف ۸فی صد سے منسوب زبان بناکر قومی دھارے میں اس کے مقام کو عملاً بُری طرح سے مجروح کر دیا گیا ہے۔
’متحدہ‘ ایک طرف ہجرت کے اسلامی تصور کا سہارا لیتی ہے اور دوسری طرف اپنے کو ایک سیکولر اور لامذہبی تحریک قرار دیتی ہے۔ اب کچھ عرصے سے اس کے کچھ ترجمان اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہنے کے بعد اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ کر کے اس اقرار کہ ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘کی نفی کردیتے ہیں اور اس تضاد کو محسوس بھی نہیں کرتے!
’متحدہ‘ سے ہمارا دوسرا بنیادی اختلاف اس شخصی پرستش گیری ( personal cult) کے باب میں ہے، جس پر اس کا پورا سیاسی فلسفہ اور تنظیمی نظام قائم ہے۔ درحقیقت ’متحدہ‘ میں اس کے ’قائد‘ کی مرکزیت ہی تحریک کا سیاسی فلسفہ ہے۔ اس کا ’قائد‘ ہی حتمی سچائی اور ہر معاملے میں حرفِ آخر ہے۔ ’قائد‘ سے وفاداری ’متحدہ‘ کی اساس ہے۔ ’متحدہ‘ کا لٹریچر اور عملی ڈھانچا، تربیتی نظام اور نعرے___ ان سبھی کا ایک ہی محور ہے، یعنی ’’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘۔ قائد پر اندھا ایمان (blind faith in the leader) ہی ہمارا اصل الاصول ہے۔ جس کا اظہار اس نعرے کی صورت میں ہرمحفل اور در و یوار پر کیا جا رہا ہے کہ:’جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے‘۔
’قائد ِ تحریک‘ ہی ہرمعاملے میں سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ فکری اور پالیسی اُمور سے لے کر معمولی معاملات تک، ہر مسئلے میں صرف وہی حرفِ آخر ہے۔ صدر یا امیر کے بجاے اسے ’قائد‘ اور ’پیر‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے اور وہ جسے چاہے کان پکڑ کر نکال دے اور جسے چاہے پارٹی عہدہ یا اسمبلی کی رکنیت دے ڈالے۔ حال ہی میں ’متحدہ‘ کو چھوڑنے والوں نے اپنی اس کیفیت کو یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ الطاف صاحب کو تحریک میں نعوذباللہ ’خدا‘ کا سا درجہ دیا ہوا ہے۔ ایک محقق نے ’متحدہ‘ کے فکر اور مزاج کا خلاصہ یوں پیش کیا:
پارٹی [’متحدہ‘]عجیب و غریب طرزِفکروعمل کا ایسا ملغوبہ پیش کرتی ہے، جس میں قومیت پرستی، زبان پرستی، عصبیت زدگی اور سوشلسٹ رجحانات باہم مربوط ہیں۔ اس پارٹی کو ایک غیرمنتخب لیڈر ’روحانی‘ اصطلاحوں میں اپنی سربراہی میں چلاتا ہے، جس کے لیے صدر سے زیادہ ’پیر‘ کا لفظ برتا جاتا ہے، اور جس کی زبردست گرفت میں پارٹی کام کرتی ہے۔(Criterion، The MQM and Identity Politics in Pakistan Qurterly ، نومبر ۲۰۱۲ئ)
شخصیت پرستی اور ’قائد‘ کے انا ولاغیری مقام کا واضح اعلان اس ’حلف نامے‘ میں ہوتا ہے ،جو متحدہ کے ارکان روزنامہ ڈان کراچی کے مطابق ان الفاظ میں اُٹھاتے ہیں:
مَیں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے لیے زندگی بھر وفادار رہوں گا۔ میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف کوئی بھی سازش ہوئی، یا میرے علم میں ایسا کوئی بھی اقدام آیا کہ جس سے ان دونوں کو کوئی نقصان پہنچنے کا امکان ہوا، تو مَیں فی الفور الطاف حسین کو اس کی اطلاع دوں گا۔ حتیٰ کہ ان سازشیوں میں اگر میرا بھائی، بہن، ماں، باپ، کوئی رشتے دار یا دوست تک بھی ہوا، [تو اسے نظرانداز نہیں کروں گا] ۔ مَیں قسم کھاتا ہوں کہ میں الطاف حسین کے فیصلوں کو ہرصورت میں حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کروں گا۔ اگر مَیں اس [الطاف حسین] کے کسی فیصلے سے سرتابی کروں تو مجھے غدار تصور کیا جائے۔(Herald Exclusive، Big brother is watching، عابد حسین، ڈان، ۳ستمبر ۲۰۱۴ئ)
’متحدہ‘ معروف معنی میں کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فرد کے گرد اور اس کے اشارئہ چشم و ابرو پر ناچنے والے ’مرکزِپرستش‘ گروہ (cult)کی حیثیت رکھتی ہے، جسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کامیابی سے یہ کھیل ۴۰برس سے کھیلا جارہا ہے۔
’متحدہ‘ سے ہمارا تیسرا بنیادی اختلاف سیاست میں تشدد کے بے مہابا استعمال پر ہے۔ یہ پارٹی کے اندر بھی ہے اور ملک کی سطح پر سیاسی مخالفین، معاشرے، میڈیا اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی میدانوں میں روا رکھا گیا ہے۔ تنظیم ہر مقام پر دو سطحوں پر متحرک ہے: ایک باہر کی سطح کہ جس پر جمہوری لبادہ ہے اور دوسری اصلی تنظیم جو خالص فاشسٹ اصولوں پر ہے۔ ’قائدِ تحریک‘ کی آہنی گرفت پورے نظام پر ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی جو بھی تنظیمیں ہیں، خصوصیت سے تنظیمی کمیٹی، سیکٹر کی تنظیم اور مختلف سطح پر اس کے انچارج اور پھر انفرادی سطح پر عامل کارندے (operatives)، یہ سبھی مسلح ہیں۔ قوت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ الطاف صاحب یا ان کے خاص نمایندوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کی تربیت ہرسطح پر اور ہرقسم کی تخریبی کارروائیوں کے لیے ہوتی ہے۔ انھیں اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے، ان کو بلیک میل کرنے، ان سے بھتّا وصول کرنے، ان کی زبان بندی کرنے، اور ہر اس کام کے لیے جو الطاف صاحب یا ان کے مامور کرانا چاہیں، ان کے لیے روا ہے۔ قوت کا استعمال، اس کے لیے عسکری تربیت، جماعتی ڈسپلن، مکمل رازداری، ذاتی وفاداری، ہرقسم کی قتل و غارت گری اور تخریب کاری کی تربیت اور یہ کام کرنے والوں کو حفاظت۔
ہزاروں افراد پر مشتمل یہ فورس ’متحدہ‘ نے ان ۴۰برسوں میںتیار کی ہے اور یہ اس کے ہمہ وقتی کارکنوں کی حیثیت سے ہروقت سرگرمِ عمل ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازم کے طور پر تنخواہیں وصول کرتی ہے، لیکن کارکن وہ صرف ’متحدہ‘ کے ہیں اور سیکٹر انچارجوں کے ذریعے خدمات انجام دیتے ہیں۔اگر یہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کو تحفظ دلانے اور رہا کرانے کا کام ’متحدہ‘ کی قیادت کرتی ہے۔ جیلوں میں ان کو وی آئی پی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ جیل کے اندر ہی ان کے لیے پارٹیاں ہوتی ہیں، حتیٰ کہ متحدہ کے اسمبلیوں کے ارکان اور سندھ کے گورنر تک ایسی محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں جن کی تصاویر اور وڈیوز موجود ہیں، جن میں کچھ صولت مرزا کے مقدمے،مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی)کی صورت میں قوم کے سامنے آچکی ہیں اور جن کی ’متحدہ‘کے ترجمانوں نے نہایت بھونڈے انداز میں توجیہات پیش کی تھیں، وہ آج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ گویا ایک ’برابر کی‘ (parallel) حکومت ہے، ’ریاست در ریاست‘ ہے (state within state) ۔ جس کے ذریعے ’متحدہ‘ اور اس کی قیادت بندوق کی نالی کی قوت سے اپنا پورا نظام چلارہی ہے اور کوئی انھیں روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور تشویش انگیز امر یہ ہے کہ اس گروہ کو قائم کرنے اور لسانی بنیاد پر کراچی میں تقسیم اور تصادم کے ذریعے اپنا اقتدار مستحکم کرنے کا آغاز خود صدرجنرل محمدضیاء الحق اور ان کے قابلِ اعتماد افسروں کے ہاتھوں ہوا۔ پاکستان سینیٹ کی سندھ کے حالات پر ایک کمیٹی، جس نے سینیٹر احمد میاں سومرو مرحوم کی صدارت میں کام کیا تھا، اور جس کا مَیں خود ممبر تھا۔ کمیٹی کے سامنے پولیس کے دو اعلیٰ افسروں نے اپنے بیان میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور پھر ان کے بعد فوجی قیادت کے دور کے اس کردار کا اعتراف کیا تھا، لیکن رپورٹ میں ان کے ناموں کی صراحت سے اس بیان کو ریکارڈ پر لانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ جس کا مطلب اپنے اور اپنی اولاد کے تحفظ کو قرار دینا تھا۔ لیکن ۲۰۱۱ء کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سوموٹو ، کیس نمبر۱۶، اور ۲۰۱۱ء ہی کے دستوری پٹیشن نمبر۶۱، جس کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں کی، اس پس منظر کو ان الفاظ کے ساتھ پیراگراف ۶۵ میں درج کیا ہے:
کراچی کی تاریخ، جو اُوپر بیان کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۸۵ء سے لے کر اب تک، وقت گزرنے کے ساتھ جرائم کی سطح بلند اور امن و امان کی صورتِ حال بڑی تیزی کے ساتھ بد سے بدتر ہوئی ہے۔ سیّداقبال حیدر [سابق وفاقی وزیرقانون، عدل و پارلیمانی اُمور] نے واضح کیا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے دانستہ طور پر یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور غیرسیاسی قوتوں کا تر نوالا بنانے کے لیے ان تشدد پسند گروہوں کی پرورش کی۔ انھی گروہوں کو اسلحے سے لیس کیا کہ جن گروہوں کی بنیاد لسانی منافرت پر استوار تھی۔ ان میں ’مہاجر قومی موومنٹ‘ (اب ’متحدہ قومی موومنٹ)، پنجابی پختون اتحاد(PPI) اور جیے سندھ (JS)شامل ہیں۔ اور پھر اپریل ۱۹۸۵ء میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی سڑک کے حادثے میں ہلاکت کے بعد بے شمار خونیں فسادات کا لاوا پھوٹ پڑا، جس میں مذکورہ بالا تینوں لسانی گروہوں یا پارٹیوں نے دل کھول کر حصہ لیا۔ انجامِ کار، کراچی اور حیدرآباد میں لاتعداد بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ سرکاری اور نجی املاک کا بے پناہ نقصان ہوا، ہزاروں شہری بُری طرح زخمی یا معذور بنا دیے گئے۔ کرفیو کا نفاذ اور ہڑتالوں کی لعنت اور روزمرہ زندگی کے کاموں کا تعطل ہی کراچی کی پہچان بن کر رہ گئے۔ مزید یہ کہ ۱۹۸۰ء کے بعد مختلف اوقات میں سندھ ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل چھے عدالتی کمیشن بنائے گئے۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک بھی عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی، اور نہ ان میں سے کسی کمیشن کی سفارشات پر کوئی عمل ہی کیا گیا ہے۔ جس کا سبب غالباً یہ ہے کہ ان خوں خوار واقعات کے ذمہ دار مجرموں کو تحفظ دیا جائے۔ اس کھیل کے پیش نظر، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک آزاد اور اعلیٰ اختیاراتی عدالتی کمیشن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افضل ظُلہ کی سربراہی میں تشکیل دیا، جس میںچاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بطورِ ممبر شامل تھے۔ ان کے ذمے یہ کام تھا کہ ۱۷مئی ۱۹۹۰ء کو پکاقلعہ حیدرآباد میں وقوع پذیر خوف ناک خونیں واقعے کی تفتیش کریں، مگر افسوس کی بات ہے کہ [اگست ۱۹۹۰ء میں] بے نظیر بھٹو کی مرکزی حکومت کو غیرآئینی طور پر تحلیل کردیا گیا۔ اور پھر اس دوران میں ایسی عبوری حکومت قائم کی گئی، جس نے مرکزی اور صوبائی وزارتوں میں ایم کیو ایم کو بھاری نمایندگی دے ڈالی اور انھوں نے مذکورہ بالا عدالتی کمیشن کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
لندن کے معروف جریدے دی اکانومسٹ (۲۱؍اگست ۲۰۱۱ئ) نے کراچی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس کے چند اقتباسات ذیل میں دیے جارہے ہیں:
پاکستان کے گنجان ترین شہر کراچی میں لسانی بنیادوں پر جنگ اس عروج کے نکتے کو چھورہی ہے کہ انسانی جان بچانے کے لیے ایمبولینس سروس تک کے ڈرائیور لسانی پہچان کے ساتھ زخمیوں کو اُٹھانے یا نہ اُٹھانے کی عصبیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جو ایمبولینس ڈرائیور زخمیوں کو اُٹھا کر ہسپتالوں کی طرف سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے چلتے ہیں، وہ بھی مخالف نسلی گروہ کی فائرنگ کا لقمہ بن رہے ہیں۔
اس خوں ریزی کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک نئی صورت یہ ہے کہ لوگوں کو محض گولی نہیں ماری جاتی بلکہ انھیں اغوا کرکے بہیمانہ ٹارچر کیا جاتا ہے، اور پھر ان کی گولیوں سے ہلاک شدہ مسخ لاشوں کو بوریوں میں بند کرکے تنگ گلیوں اور گٹروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔عباسی شہید ہسپتال میں، جو کہ ایک سرکاری ہسپتال ہے، ڈاکٹر صرف مہاجروں کا علاج کرتے ہیں، جن کی اس ضلع میں غالب اکثریت ہے اور [مہاجر] کراچی کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے۔
اگر یہ جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان صرف ایک جنگ تھی تو اس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ لیکن حیرت اس پر ہے کہ ہر جرائم پیشہ گروہ کو کسی نہ کسی مقبول سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس لڑائی کا آغاز ۲۰۰۷ء میں ہوا تھا، اور انتخابات کے بعد [جنرل مشرف کی] فوجی حکمرانی کے دور کا اختتام ہوا تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو نسلی گروہوں کی سیاسی حمایت سے مربوط ہے، اور جو اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ جو ۱۹۸۰ء کے عشرے میں قائم کی گئی تھی، اور جو مہاجروں کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے، ایک زمانے میں کراچی پر اس کی آہنی گرفت تھی۔ اِن دنوں صدر آصف زرداری کی پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل ہے۔ اس اجارہ داری کو عوامی نیشنل پارٹی جو پشتون آبادی کی ترجمان ہے ، چیلنج کر رہی ہے۔ ان کے جرائم پیشہ گروہ کو ہمسایہ صوبہ بلوچستان کے عصبیت پسند بلوچوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دو عشروں سے زیادہ ایم کیو ایم شہربھر سے تاجروں اور گھروں سے جبری وصولی جسے ’بھتّا‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جمع کرتی آئی ہے۔ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد نے جو سیاسی حمایت حاصل کی ہے، اب اس کو استعمال کرتے ہوئے پیشہ ور گروہ کیش میں اپنا حصہ بھی چاہتے ہیں۔ عین تنازعے کے بیچ میں تاجروں کو اب تین مخالف گروہوں کو ادایگی کرنا پڑے گی۔
جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، وہ اس قابل دکھائی نہیں دیتی ہیں کہ تشدد کو ختم کرسکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض جرائم پیشہ نہیں ہیں کہ جنھوں نے عملاً اپنے آپ کو پارٹی کے جھنڈے میں لپیٹ رکھا ہے بلکہ پارٹیوں کے سیاسی عمل کا جزو لازم ہے۔ اگر تشدد جاری رہتا ہے تو عام لوگ کسی سیاسی جماعت کا تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہوں گے اور انھیں مزید ادایگی کرنا ہوگی۔ غالباً یہ ہے یہاں سیاست دانوں کا ہدف۔ آپ اسے جرم کوسیاسی رنگ دینا یا سیاست کو جرم کا رنگ دینا کہہ سکتے ہیں۔
یہ ایسی دل خراش داستان ہے کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں، مگر حیف ہے ان سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور بااثر اور حُب ِ وطن کے دعوے دار حکمرانوں پر، کہ یہ سب کچھ ان کے سامنے ہورہا تھا اور ہو رہا ہے اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آپریشن ’ضربِ عضب‘ کے بعد جو حقائق کھل کر سامنے آرہے ہیں اور جن جن ناموں اور سیاہ ’کارناموں‘ کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے، وہ ایک چارج شیٹ ہے پورے نظام پر اور اس نظام کے تمام رکھوالوں پر۔ مقتولین کی روحیں اور مظلوموں کی آہیں پکار رہی ہیں کہ انصاف کب ہوگا اور ظالموں کو کون اور کب کیفرکردار تک پہنچائے گا؟
’متحدہ‘ کی مرکزی قیادت کے جو لوگ اب رو رو کر اپنے ہی اقتدار کے دور کے واقعات بیان کر رہے ہیں اور سارا الزام الطاف حسین صاحب پر ڈال کر اپنی پاک دامنی کا واسطہ یا مغالطہ دے رہے ہیں، احتساب ان کا بھی ہونا چاہیے، لیکن ان کی گواہی گھر کے بھیدی اور شاھدٌ من اھلہ کی ہے ،جو بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس سلسلے میں کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال اور ان کے چھے ساتھیوں، جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کرنے اور اس کی روشنی میں مزید حقائق کو معلوم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔اسے محض سیاسی واہمہ یا وقتی اُبال بناکر ہوا میں تحلیل نہیں ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں مشترکہ تفتیشی ٹیم (JIT) کی رپورٹوں کے بھی جائزے کی ضرورت ہے۔ بلدیہ ٹائون کے بارے میں اب کوئی شبہہ نہیں رہا کہ اس فیکٹری کو آگ ’متحدہ‘ کی قیادت کے حکم پر، اس کے کارکنوں نے لگائی اور مسئلے کی جڑ میں بھتّا اینٹھنے کا مطالبہ تھا۔ غضب خدا کا کہ ۲۵۸ سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا اور قاتل اور ان کے سرپرست نہ صرف دندناتے پھرتے رہے بلکہ آج بھی پھر رہے ہیں۔ ان میں حماد صدیقی کا نام بھی آتا ہے، جو اَب مصطفیٰ کمال صاحب کے سفیدپوش بریگیڈ میں شامل ہو رہے ہیں اور اشارے ہیں کہ JIT کے کسی نئے بیانیے (version) میں ان کا نام ’پاک صاف‘ کرنے کا امکان ہے۔ دیدہ دلیری کا عالم یہ رہا ہے کہ اس سب کے بعد بھی فیکٹری کے مالکان سے متاثرین کی مدد کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے مگر روپے متاثرین کو دینا تو کجا، ان کروڑوں روپوں کا سایہ تک اصل متاثرین پر نہیں پڑا۔
ایک اور ہوش ربا رپورٹ دسمبر ۲۰۰۹ء یومِ عاشور کے موقعے پر شیعہ نوحہ خانوں کے جلوس کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کے بارے میں ہے، جس میں ۴۵ معصوم افراد کا سفاکانہ قتل ہوا۔اس جلوس پر حملے کا سرا بھی ’متحدہ‘ کے دامن تک پہنچتا ہے، اور اس سلسلے میں بھی حماد صدیقی کا نام آرہا ہے۔ تخریب کاری کے اس سفّاکانہ واقعے میں قرآنِ پاک کے صفحات تک کو استعمال کیا گیا، اور اس حملے کا مقصد شیعہ سُنّی فسادات کی آگ بھڑکانا تھا۔ ایم کیو ایم جسے اپنے سیکولر ہونے پر بڑا ناز ہے اور جو اپنے آپ کو فرقہ واریت سے بالا ظاہر کرتے ہوئے نہیں تھکتی، اس کی قیادت کا اس خونیں ڈرامے میں کردار دل و دماغ کو مائوف کرنے والا واقعہ ہے۔
’متحدہ‘ سے منحرف ہونے والوں نے اب تک جو بیانات دیے ہیں، وہ ایک گھنائونی چارج شیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ اور چند دوسرے افراد جن حقائق کو جان پر کھیل کر بیان کیا کرتے تھے، ان کی تائید اور توثیق آج یہ حلفیہ بیانات کرتے ہیں، اور متحدہ کا یہی وہ کردار ہے، جوہمارے اختلاف کا مرکزی نکتہ ہے۔
اس سلسلے میں اب اتنا لوازمہ اور اتنے اعترافی بیانات سامنے آرہے ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مضمون تو کجا، پوری کتاب تک میں بھی ممکن نہیں۔ لیکن ڈان(۱۸مارچ ۲۰۱۶ئ) نے اپنے ادارتی کالم Confronting MQM's Past میں مختصراً جو بات کہی ہے، وہ بھی قابلِ توجہ ہے:
مصطفیٰ کمال کے مسئلے میں، بہت سے افراد ، جن کا اس کی بے نام پارٹی سے تعلق ہے، ماضی بھی بے داغ نہیں ہے۔ وہ کراچی تنظیمی کمیٹی سے وابستہ تھے جو کہ متحدہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بازو تھا۔ یہ ہمیں بنیادی مسئلے، یعنی متحدہ کی تشدد سے وابستگی اور اس کا اسے تسلیم کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت جس مسئلے پر بات نہیں کررہی، وہ یہ حقیقت ہے کہ جب تک حکومت نے اقدام نہیں کیا، پارٹی نے اپنے غیرواضح عسکری ونگ سے کراچی کو آہنی گرفت سے کنٹرول کیا۔ شہر کے رہایشی ابھی تک اس بات کو نہیں بھولے ہیں۔ جب ایم کیو ایم کے ایک اشارے پر تقریباً تمام شہر کو کئی کئی دن کے لیے ’سوگ‘ یا احتجاج کے لیے بند کر دیا جاتا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ [’متحدہ‘] پارٹی نے سندھ کی شہری سیاست کے ساتھ ساتھ عصبیت کی سیاست میں بندوق کے کلچر کو متعارف کروایا اور پارٹی جبری وصولی پر پھلی پھولی ہے، جیسے الزامات کو مسترد کرنا بہت مشکل ہے، جب کہ ایم کیو ایم اختلاف راے کو کم ہی برداشت کرتی ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا کی دو عدالتیں متحدہ قومی موومنٹ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہیں اور اسی بنیادپر اس سے متعلق افراد کو پناہ گزیں قرار دینے سے انکار کرچکی ہیں۔ اسی طرح بی بی سی کے نامہ نگار اور دی گارڈین کے کالم نگار اوون بینیٹ جونز کے بقول امریکا میں متحدہ کو TIER-3 کی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاچکا ہے۔
سپریم کورٹ نے بھی اپنے ۲۰۱۱ء کے سوموٹو کیس میں اپنے فیصلے کے پیراگراف ۱۳۱، ص۱۵۱ پر جہاں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں دہشت گرد اور مجرم کارفرما نظر آتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت پر باقاعدہ مقدمہ چلانے اور دستور کے تحت اس پر بندش کی بات کو متحدہ کے بارے میں مطالبے کے باوجود حکومت کی طرف لوٹا دیا تھا کہ وہ اس پر دستور اور قانون کی روشنی میں غور کرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اجمل پہاڑی اور اس کے بھارت میں تربیت پانے اور کراچی اور سندھ میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کا بھرپور انداز میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھیے: پیراگراف ۱۲۵، ص ۱۴۲-۱۴۳)
سپریم کورٹ کا فیصلہ، اخباری اطلاعات، عالمی میڈیا کی شہادت، متاثرہ افراد اور جماعتوں کا واویلا، ہزاروں افراد کا قتل، ساڑھے تین ہزار مقدمات سے سیاسی این آر او کے ذریعے گلوخلاصیاں، پولیس کی ناقص تفتیش اور مقدمات کی عدم پیروی، مجرموں کی سیاسی پشت پناہی، ان سب کی موجودگی میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں، ریاست کے حساس اداروں بشمول انٹیلی جنس فورسز، افواجِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر اُس وقت کے صدور جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری اور آج کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی، آنکھ مچولی، غفلت اور بے عملی کو عملاً سرپرستی نہ کہا جائے تو کس نام سے پکارا جائے؟ ؎
پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
’متحدہ‘ اور اس کے لیڈر کے بنیادی فلسفے ، سیاسی عزائم اور طرزِ سیاست اور ۴۰برسوں پر پھیلے ہوئے ان کے کردار اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والی تباہ کاریوں کے بارے میں ہم نے مختصراً اپنی گزارشات پیش کردی ہیں۔ ان کی روشنی میں اس امر سے انکار ناممکن ہے کہ اس تحریک نے گذشتہ ۴۰برسوں میں ملک کے دستوراور قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں اور جو طرزِسیاست اختیار کیا ہے، اس کے نتیجے میں فساد فی الارض کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور جو کچھ فساد ہوا ہے، اس کی اوّلیں ذمہ داری اگر ایم کیو ایم، اس کی قیادت اور بندوق بردار کارکنوں پر ہے، تو وہیں اس پورے عرصے میں جو جو بھی اور جس حد تک بھی، ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والا تھا، وہ ان کے حالات کا ذمہ دار تھا، ان جرائم میں شریک اور اس مجرمانہ شراکت کے لیے قوم کے سامنے جواب دہ ہے۔
مستقبل کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے اس مسئلے کا ایک اور پہلو ایسا ہے، جس کا واضح الفاظ میں ادراک، اور قومی سلامتی کے لیے اس کے خطرات کی نشان دہی ضروری ہے۔ اور یہ پہلو ہے ایم کیو ایم کی قیادت خصوصیت سے الطاف حسین صاحب اور ان کے معتمدترین ساتھیوں کا بھارت کے بارے میں رویہ، پاکستان کے نظریے اور قومی مفادات کے بارے میں سردمہری اور ا س سے بھی بڑھ کر بھارت کی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ان کا تعلق اور اس سے مالی اعانت کے حصول کا ہولناک اسکینڈل۔
یہ ہے وہ پہلو، جس کے پس منظر میں اگر اس جماعت اور اس کی قیادت کے ’کارناموں‘ کا جائزہ لیا جائے، تو صاف نظر آتا ہے کہ اگر یہ سب باتیں صحیح ہیں (اور بظاہر وہ صحیح نظر آتی ہیں) تو وہ قومی سلامتی کے لیے بڑا سنگین خطرہ ہے ۔ دبے لفظوں میں سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے آپریشنل حصے میں صاف اشارہ دیا ہے: یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دستور اور سیاسی جماعتوں کے قانون کی روشنی میں اس باب میں اقدام کا جائزہ لے۔
بھارت نے پاکستان کے قیام کو کھلے دل سے ایک دن کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا اور قیامِ پاکستان سے آج تک اسے کمزور کرنے، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور خاکم بدہن صفحۂ ہستی سے مٹانے کی مذموم کوشش میں نہ صرف وقتاً فوقتاً اس کا اعلان کرتا رہا ہے، بلکہ عملاً اس میں مصروف بھی رہا ہے۔ جس کا آغاز کانگریس کے اس باقاعدہ ریزولیوشن میں کیا گیا تھا جس میں ۳جون ۱۹۴۷ء کے تقسیم ہند کے منصوبے کو انڈین نیشنل کانگریس نے اس توقع کے ساتھ قبول کیا تھا کہ: پاکستان ایک دن دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔
۱۹۷۱ء میں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستان کو توڑنے کی پوری جنگ لڑی اور پاکستان کو دولخت کرنے کا مذموم ’کارنامہ‘ اپنے نام کیا۔ لیکن حال ہی میں موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی ڈھاکہ کی تقریر میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کیا کہ: ہم نے، ہماری فوج نے اور ہماری تربیت کردہ مکتی باہنی نے یہ کام انجام دیا تھا۔ واضح رہے کہ ’را‘ (RAW) کا قیام ہی ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد، اس جنگ کو دوسرے ذریعے سے جاری رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہی وہ ’را‘ ہے، جس نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے اندر مسلح مداخلت کرنے کے ساتھ، پاکستان پر کھلی بھارتی جارحیت مسلط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہی ’را‘ بلوچستان میں ایک مدت سے سرگرمِ عمل ہے۔ اسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے کھلی وارننگ دی تھی کہ کشمیر کی بات نہ کرو، ورنہ کشمیر کے ’ک‘ کی طرح ہمارے پاس ایک ’ک‘ (کراچی) ہے، اور حال ہی میں ایک دوسرے موقعے پر اس نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ: ’ایک اور ممبئی جیسا واقعہ ہوا تو بلوچستان سے پاکستان کو ہاتھ دھونے پڑیں گے‘۔
یہ ہے وہ ’را‘ ، جس کا ایم کیو ایم کی قیادت سے خصوصی ربط و تعلق ہے۔ جو ’متحدہ‘ کی مسلسل مالی امداد کرتی رہی ہے، جس نے اس کے عسکری اور دہشت گرد کارندوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔ یہ سارے حقائق اب دو اور دو چار کی طرح سامنے آرہے ہیں، بلکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی فراہم کردہ سرکاری دستاویزات کی روشنی میں اس کا اعتراف الطاف حسین صاحب اور کم از کم ’متحدہ‘ کے دوچوٹی کے قائدین ، (جو الطاف حسین صاحب کے معتمد ساتھی ہیں) نے بھی کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک دستاویزی رپورٹ میں دو سال پہلے یہ سب حقائق سامنے آگئے تھے۔ متعدد JIT (مشترکہ تفتیشی رپورٹوں) میں جستہ جستہ ان چیزوں کا ذکر ہے، جن میں سے کچھ تو اجمل پہاڑی کے ریفرنس سے پاکستان سپریم کورٹ کے ۲۰۱۱ء کے فیصلے کا حصہ بھی ہیں۔ [بقیہ دیکہیے: ص ۹۷]
[اشارات: ص ۲۶ سے آگے] اس سلسلے میں ہر روز مزید حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ انسان سمجھنے سے قاصر کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟ اور جو افراد اور ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہیں، وہ کیا کررہے ہیں؟ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ذرائع سے جو دستاویزات سامنے آئی ہیں، نیز لندن کے پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ نے میڈیا پر اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے گواہی دی ہے، اور پھر خود مصطفیٰ کمال نے دوبئی کی اس میٹنگ کی گواہی دی ہے، جس میں ’متحدہ‘ کی قیادت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے اس وقت کے وزیرداخلہ اور صدر آصف زرداری صاحب کے معتمدخاص عبدالرحمان ملک صاحب اور صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد صاحب شریک تھے۔
بات صرف مالی معاونت کی نہیں، اسلحے کی خریداری اور فراہمی، عسکری تربیت اور ہرطرح کی لاجسٹک سپورٹ کی ہے۔ اس کے بعد بھی قانون کے حرکت میں نہ آنے کے لیے کیا مجبوری ہے؟ انسان اس بات کے جواز کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ستم بالاے ستم یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ایف آئی اے اسلام آباد اخباروں میں اشتہار دینے کی مضحکہ خیز حرکتیںکر رہی ہے اور مشہور زمانہ آئی ایس آئی کی چلت پھرت بھی کہیں نظر نہیں آرہی۔ ہماری قیادتیں جس تضاد کا شکار ہیں، وہ کم سے کم الفاظ میں قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
اکتوبر ۱۹۹۹ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں متعدد بار کہا کہ ’’الطاف حسین غدار ہے‘‘۔ لیکن پھر اسی الطاف حسین کو مکمل تحفظ دیا۔ ان کی پارٹی’متحدہ‘ کو شریکِ اقتدار کیا، اربوں روپے سے نوازا، اس کی ہر غیرقانونی حرکت کو تحفظ دیا۔ ’بھارت یاترا‘ کی سرپرستی کی۔ ’را‘ سے تعلقات سے چشم پوشی فرمائی۔ ۱۲مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی ائرپورٹ، شاہراہِ فیصل اور شہر کے مختلف حصوں میں جو خون کی ہولی ’متحدہ‘ نے کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے کو روکنے کے لیے کھیلی، اسے کون بھول سکتا ہے؟ لیکن اسی رات پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویزمشرف نے ’متحدہ‘ کے اس خونیں کھیل کو ، فضا میں مُکّے لہراتے ہوئے اپنی قوت کا مظہر قرار دیا تھا۔ اس سب کے باوجود الطاف حسین صاحب قانون کی گرفت سے بالا ہیں اور جنرل پرویز مشرف بھی۔ آزاد مقتدر قوتیں نہ لندن سے کسی کو قانون کے کٹہرے میں لاسکی ہیں اور نہ پاکستان میں واپس آنے والے فوجی آمر کو قانون اور عدالت کی بالادستی کی خاطر ملک میں رہنے کو یقینی بناسکی ہیں۔اس کے برعکس منظر یہ ہے کہ کچھ ’پرندے‘ اب اُڑ اُڑ کر واپس پاکستان میں آرہے ہیں، جو دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر اپنا دامن بچانے کا ڈراما رچا تے دکھائی دے رہے ہیں اور بے وقت کی راگنی صدارتی نظام میں ملک کی فلاح کی باتیں کر رہے ہیں___ یاللعجب!
’متحدہ‘ کی قیادت، خصوصیت سے الطاف حسین صاحب، کا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ انھوں نے بھارت کی عظمت کے گیت گائے ہیں، اس کے مفادات کی تائید کی ہے، اس کی خفیہ ایجنسیوں سے رقم لی ہے، اسلحہ حاصل کیا ہے، پاکستانی نوجوانوں کو بھارتی کیمپوں سے تربیت دلاکر پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان میں سے ہرجرم بے حد سنگین ہے، جو آہنی گرفت، شفاف احتساب اور قرارواقعی سزا کا متقاضی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے تصور اور بنیاد تک کی نفی کی ہے، اس کے قیام کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے، دوقومی نظریے کی موت کا اعلان کیا ہے، اور بھارت میں پناہ لینے تک کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ہم دل کڑا کرکے اور قوم کو موصوف کے اصل عزائم کے بارے میں متنبہ کرنے کے لیے بھارت کی سرزمین پر ان کی ہرزہ سرائیوں میں سے چند نمونے یہاں دینے کی جسارت کررہے ہیں:
یہ حقیقت ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد بھارت میں feudal system [جاگیردارانہ نظام] کا خاتمہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے آزادی کے بعد بھارت میں ایک دن کے لیے بھی مارشل لا نہیں لگا اور جمہوریت strengthen [مضبوط] ہونے لگی۔ اگر ترقی کی رفتار یہی رہی تو بھارت آیندہ ۱۵ یا ۲۰ برسوں میں دنیا کی مضبوط ترین economy [معیشت] والا ملک بن جائے گا۔ کسی بھی ملک کی growth [ترقی و نمو]اور دنیا کے دیگر چھوٹے بڑے ملکوں سے بہتر پارٹنرشپ کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی معیشت مثبت سمت میں سفر کررہی ہو۔ معزز خواتین و حضرات، میں اپنا ہر لفظ اور ہر جملہ انتہائی سوچ بچار اور کئی بار غور کرنے کے بعد آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
معزز خواتین و حضرات، آج پاکستان کے سیاسی scenario [منظرنامے]کی صورتِ حال بے حد depressing [مایوس کن]ہے کہ جب ملک کی لیڈرشپ کھلے عام یہ بات مانتی ہے کہ اگر فوج نے ملکی معاملات نہ چلائے تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ میرے نزدیک یہ admission [اعتراف] نظریۂ پاکستان Idea of Pakistan یعنی sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک اور پچھلے ۵۰برسوں میں کمزور سے کمزور تر ہونے والی two nation theory (یعنی دو قومی نظریے ) کے لیے ایک serious blow [سخت صدمہ]ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کو tribal [قبائلی] اور linguistic differences [لسانی اختلافات] کی بناپر قتل کر رہے ہیں اور sectarianism [فرقہ وارانہ منافرت]میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس situation [صورتِ حال]سے سارا فائدہ mosque and madarasas [مسجد اور مدرسے] کو اپنے گھنائونے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے اُٹھا رہے ہیں۔ شاید پاکستان بننے کے ساتھ ہی نظریۂ پاکستان دم توڑ گیا تھا جب sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کی majority [اکثریت] نے تقسیم کے نتیجے میں بھارت میں رہنا ہی پسند کیا اور یہ سچائی ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی شکل میں پھراُبھر کر سامنے آئی۔
بھارتی اخبارات میں اس موقعے پر الطاف حسین صاحب کو ’مستقبل کے قائداعظم‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بلاک سائوتھ (جہاں بھارتی وزیراعظم کا دفتر واقع ہے) کے ذرائع کے مطابق ہندستان ٹائمز نے پروگرام سے پہلے ۴نومبر کو الطاف حسین صاحب کی ملاقات سیکورٹی ایڈوائزر جے این ڈکشٹ(J.N. Dixit) سے ہوئی۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے ساؤتھ ایشیا ٹربیون کے مطابق بھارتی حکومت، الطاف حسین سے کشمیر کے مسئلے میں معاونت لے رہی ہے:
سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت ِ ہند اس [الطاف] کی مدد چاہتی ہے، تاکہ کچھ اُمور میں وہ جنرل مشرف کو بھارتی شرائط کے مطابق مسئلۂ کشمیر کو حل کرنے میں مدد دے۔
اپنے ہندستان ٹائمز والے خطاب میں الطاف حسین صاحب نے کشمیر کی موجودہ سرحد کو تقسیم کشمیر کی بنیاد، مزاحمتی تحریک کو ایک ناکام اور نامراد تحریک اور استصواب راے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مُردہ اور بے اثر بھی قرار دے ڈالا تھا، اور کہا تھا [موصوف کی یہ تقریر روزنامہ نواے وقت میں بھی ۴جنوری ۲۰۱۱ء کو ’نمستے ست سری اکال‘ کے زیرعنوان شائع ہوچکی ہے]:
کیا لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد قرار دے کر یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ یا کوئی دوسرا حل جو اَب تک زیربحث نہ آسکا ہو؟ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی ذکر آتا ہے۔ میں پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ان قراردادوں کو نافذ کیا جاسکا؟ اور اگر یہ قراردادیں نافذالعمل ہوسکتی تھیں، تو ماضی میں ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟ میری نظر میں معاہدئہ تاشقند، شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور اب تک useless [بے فائدہ] رہے ہیں۔ مصلحت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے settlement [تصفیے]کے لیے کسی نئی اور disputed opinion [متنازع راے] کے بجاے جو حل پہلے سے بحث میں آچکے ہیں، اُنھی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ میری راے یہ ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور alternate opinion [متبادل راے]سامنے نہ آجائے، اس وقت تک پچھلی تین دہائیوں سے موجودہ ground reality [زمینی حقائق]یعنی لائن آف کنٹرول کو بنیاد بناکر مذاکرات کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور اس میں بُرائی ہی کیا ہے۔
اس موقعے پر جنرل پرویز مشرف کو استصواب راے (referendum) کو مسئلۂ کشمیر کے ایک حل کے طور پر رد کرنے کے جرأت مندانہ موقف پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں نے بھی ہمیشہ اس option [اختیار]کو ناقابلِ عمل ہی قرار دیا ہے۔ گذشتہ ۵۷برسوں میں پاکستانی رہنمائوں نے ایک صوبے کو دیگر صوبوں پر سبقت دینے کے لیے کشمیر کا نام استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا، بلکہ قوم کو جہالت، بھوک، غربت اور طبی سہولتوں سے محروم رکھ کر عوام کی نظروں میں ناکام بھی ہوئے۔
برعظیم میں اپنے پہلے دورے اور اپنی تقریر کے دوران [الطاف حسین نے]خام [Raw] جذبات سے یہ چیز ظاہر کی ہے کہ اپنے گھر واپسی کے وقت ایک فرد کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟
برعظیم کی تقسیم عظیم ترین غلطی تھی۔ یہ زمین کی تقسیم نہیں تھی، یہ خون کی تقسیم تھی۔ آپ کے وزیرخارجہ کا نام دلچسپ ہے۔ ان کا نام ’نٹور‘ میرے نزدیک Not War کے ہم معنی ہے۔
بھارت اس ہر [پاکستانی] مہاجر کے لیے اپنے دروازے کھول دے، جو مسلمان پاکستان چلا گیا تھا۔ میں یہاں کے سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں، جو بھارت چھوڑ کر [پاکستان] چلے گئے تھے۔(Pakistani Biggest Blunder،الطاف حسین، ۶نومبر ۲۰۰۴ئ)
الطاف حسین کی اس تقریر پر پاکستانی ہائی کمیشن میں پاکستانیوں کا کیا ردعمل تھا اور اس کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے احکام کیا تھے، اس کے لیے دی نیوز میں ۵؍اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی چشم کشا رپورٹ سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
پاکستان کے خلاف الطاف حسین کی نئی دہلی کے تاج ہوٹل میں متنازع تقریر کے بعد، اُس وقت دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو زور دے کر کہا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے لیڈر [الطاف حسین] کو عشائیے پر مدعو کریں، اگرچہ اُس وقت پاکستانی سفارت خانہ نئی دہلی کے افسران اور اہل کار اس تقریر سے سخت دل برداشتہ اور دُکھی تھے۔ تب پاکستانی ہائی کمشنر عزیز احمد خاں کو اسلام آباد سے شدید دبائو کے ساتھ مجبور کیا گیا کہ الطاف حسین کو عشایئے میں مدعو کیا جائے۔ جس کا محرک یہ تھا کہ الطاف حسین، جنرل مشرف حکومت کا حلیف ہے۔ بہرحال، سفیرپاکستان نے مجبوراً اس (الطاف حسین) کو ایک ’نجی عشایئے‘ کی دعوت دی، جس نے برملا کہا تھا کہ: ’’تقسیم ہند، تاریخ کی عظیم ترین غلطی ہے۔ یہ زمین کی نہیں، خون کی تقسیم ہے‘‘۔ بجاے اس کے کہ مشرف حکومت اس یاوہ گوئی پر کوئی اقدام کرتی، دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو الطاف حسین کی سرشاری میں شریک ہونے پر مجبور کیا گیا۔ سابق اعلیٰ سول افسر اور اُس وقت دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے وابستہ رائے ریاض حسین سے جب رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے بتایا کہ: ’’میں الطاف حسین کی تقریر کا چشم دید گواہ ہوں، جو تقریر نومبر ۲۰۰۴ء کو تاج ہوٹل، نئی دہلی میں ہوئی تھی، میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا، جب میں نے دشمن کی سرزمین پر الطاف حسین کی وہ تقریر سنی‘‘۔ انھوں نے یاد دلایا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ: ’’جب میں نئی دہلی ائرپورٹ پر اُترا تو اپنے دائیں دیکھا، بائیں دیکھا، اُوپر دیکھا، نیچے دیکھا اور گھر کی طرح محسوس کیا‘‘۔ رائے ریاض حسین نے کہا کہ:’’ پھر الطاف حسین نے تقسیم ہند کو تاریخ کی ہمالہ جیسی بڑی غلطی قرار دیا‘‘۔
چند غیر سنجیدہ جملوں کے بعد [الطاف حسین] اُردو میں یہ بتاتے ہوئے چلّائے کہ: ’’ہمیں پاکستان میں مہاجر ہونے کی بنا پر موردِ الزام ٹھیرایا جاتا ہے اور بدسلوکی سے پیش آیا جاتا ہے۔ اب، جب کہ مہاجر ہونے کی بنا پر ہم سے بدسلوکی کی جاتی ہے، ہم آپ (بھارت) سے پناہ چاہیں گے‘‘۔ ریاض حسین نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پھر ایم کیو ایم کے چیف نے سامعین سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے پوچھا:’’دلی والو بولو! ہمیں پناہ دو گے؟‘‘ مگر اس سوال پر ہال میں مکمل خاموشی چھائی رہی، جہاں معروف دانش ور، سفارت کار اور سینیرصحافی موجود تھے۔ رائے ریاض حسین نے بتایا کہ: الطاف حسین نے سامعین کے سامنے اس سوال کو تین مرتبہ دُہرایا۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا: ’’غالباً میں نے ایک مشکل سوال پوچھ لیا ہے‘‘۔
سابق پریس منسٹر پاکستانی ہائی کمیشن، نئی دہلی نے اس موقعے پر کہا کہ: ’’پاکستانی سفارت کار اس قطعیت پر گُنگ اور سراسیمہ ہوکر رہ گئے۔ بطورِ پریس منسٹر یہ رپورٹ حکومت کو میرے ذریعے ارسال کی گئی تھی اورپاکستانی پریس کو جاری کی گئی تھی، اور جو یہاں چھپی بھی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ: ہم اس پر بُری طرح پریشان تھے اور یہ بات ہمارے لیے قطعی حیران کن تھی۔ سفیر پاکستان نے مجبوراً ایم کیو ایم کے وفد کو اسی ہوٹل میں عشایئے میں مدعو کیا، جہاں وہ قیام پذیر تھے۔ ہائی کمشنر عزیز احمد خاں نے ہمیں وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا: ’’یار! اُوپر سے حکم ہے‘‘۔ رائے ریاض نے کہا:’’جنرل پرویز مشرف پریشان تھے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے ایم کیو ایم کے وفد کی میزبانی کیوں نہیں کی؟‘‘ ریاض حسین نے یہ بھی بتایا کہ: ’’نئی دہلی میں الطاف کی آمد کے موقعے پر، ائرپورٹ سے ہوٹل تک سڑک الطاف حسین کی تصاویر اور خیرمقدمی بینروں سے سجی ہوئی تھی جو کہ ایک خلافِ معمول عمل تھا‘‘۔
کیا بلی اب بھی تھیلے سے باہر نہیں آئی؟ ’متحدہ‘ کے کچھ ترجمان اب بھی وہی گھسی پٹی بات دُہراتے ہیں کہ: ’’الطاف بھائی کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے‘‘۔ خواہ ۴۰سالہ تاریخ کا ایک ایک صفحہ پکار رہا ہو ،کہ بھارت کو ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو قیامِ پاکستان کی شکل میں نظریاتی اور سیاسی میدان میں جو تاریخی شکست ہوئی تھی، وہ اس کا بدلہ چکانے میں آج بھی سرگرم ہے۔ البتہ افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ اس کے کچھ دست و بازو وہ لوگ بھی بن رہے ہیں، جنھیں پاکستان کا اصل خالق ہونے کا دعویٰ ہے اور جو اس دعوے کی بنیاد پر اپنے لیے ایک امتیازی حیثیت کے طالب ہیں۔
’متحدہ‘ کے ہاتھ کہاں کہاں تک رنگے ہوئے ہیں اور کس کس کا خون اس کے اور اس کی قیادت کے ہاتھوں پر ہے؟ نیز ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے میں اپنوں اور پرایوں، سیاسی قوتوں اور فوجی قیادتوں اور پاکستانی دوستوں اور پاکستان کے دشمنوں میں سے کس کس کا کتنا حصہ ہے؟ جب تک یہ ایک معما رہے گا، حالات کی اصلاح مشکل ہے۔ جرم کے تعین کے بعد مجرموں کا تعین اور ان کو قرارواقعی سزا ہی وہ راستہ ہے، جس سے افراد اور قوم کو انصاف مل سکتا ہے اور آیندہ کے لیے ان جرائم کے مقابلے کے لیے آہنی دیواریں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔
اس پس منظر میں عام معافی کی بات بھی بڑی معنی خیز ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ایک طرف اچھے اور بُرے دہشت گردوں میں کوئی تمیز کرنے کے روادار نہیں، اور مکمل بربادی (elimination) سے کم بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جب بھی امریکا کہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے سوا کوئی اور راستہ نہیں اور امریکی اور افغان قیادت سے ہم زبان ہوکر نوازشریف صاحب اور سرتاج عزیز صاحب تک کہتے ہیں: طالبان سے بیک وقت لڑائی اور مذاکرات ممکن نہیں، تو یہ سیخ پا ہوتے ہیں اور ’اچھے طالبان‘ اور ’بُرے طالبان‘ کی تفریق کو تباہی کا راستہ قرار دیتے ہیں، لیکن بلوچستان کے دہشت گردوں اور ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا ذکر آتے ہی ان کا رویہ بالکل بدل جاتا ہے اور جنرل ایمنسٹی یا ’عام معافی‘ کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔
۱-دہشت گردی اور سیاست میں قوت کے استعمال کی ہرشکل کو غلط تسلیم کیا جائے اور یہ راستہ ہر ایک کے لیے بند ہو۔
۲- ریاست کو قوت کے جائز استعمال کا حق ہے، لیکن اس کے لیے بھی دستور اور قانون کی پابندی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔
۳- جو اپنی غلطی اور گناہ کا صدقِ دل سے اعتراف کرے اور مستقل طور پر اور عملی سطح پر قوت کے استعمال کے راستے کو ترک کرے، معروف جمہوری طریقے سے قانون کے دائرے میں سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے، اسے سینے سے لگایا جائے اور کھلے دل سے موقع دیا جائے، مگر آنکھیں کھلی رکھی جائیں۔ دوست اور دشمن، مخلص اور مکار، توبہ کرکے پلٹنے والے اور لباس بدل کر دھوکا دینے والوں میں تمیز کی جائے۔ ناانصافی کسی کے ساتھ نہ ہو اور غلطی کا دیانت سے اعتراف کرکے راہِ راست پر آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاہم ، ان چور دروازوں کو بندکیا جائے کہ جن سے داخل ہوکر شاطر ایک نیا کھیل کھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے احتساب، نگرانی، جرم کی سزا اور مظلوموں کی اعانت کا یہ کام پوری حکمت اور فراست کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ یہ کام بالکل ایک نئی حکمت عملی کا متقاضی ہے، جو ہمہ جہت ہو اور اس کے مختلف پہلوئوں میں توازن کے قیام ہی پر اس کی کامیابی کا انحصار ہے۔
۴- مطلوبہ حکمت عملی کے ایک اہم حصے میں ان اسباب کا تعین ہونا چاہیے، جن کی وجہ سے حالات بگڑے اور پھر اس بگاڑ نے جن تحریکات کو جنم دیا ان کے مثبت اور منفی پہلو کیا رہے، تاکہ اس تجزیے کی روشنی میں آیندہ کے لیے ایسے حالات سے بچا جاسکے۔ خوداحتسابی اور اجتماعی احتساب ہی وہ راستہ ہے، جس سے ماضی کی غلطیوں کے اثرات سے اور ان غلطیوں کے دوبارہ ارتکاب سے بچا جاسکتا ہے۔ ہم یہ دعوت جہاں ’متحدہ‘ کی قیادت اور کارکنوں کو دے رہے ہیں، وہیں ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی اور دینی قوتیں اپنے اپنے انداز میں حالات کا بے لاگ جائزہ لے کر اصلاح کی راہوں کو استوار کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی ذمہ داری دوسروں سے بھی کچھ سوا ہے۔ حکومت کے اداروں کے لیے بھی اس نوعیت کا جائزہ ازبس ضروری ہے۔
۵- سیاست میں تشدد اور گولی کے استعمال ، شہر میں امن و امان کی بربادی، قانون کی بالادستی کے خاتمے، شہر کے دوسرے بنیادی مسائل سے پہلوتہی، عوام کی حقیقی مشکلات، اداروں کے غیرمؤثر ہوجانے یا مخصوص مفادات کے آلہ کار بن جانے کے باعث جو بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس پر بھی فوری اور بھرپور توجہ دی جائے۔ نیز صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے مسئلے کو بھی بروقت حل کیا جائے۔
۶- ہم یہ بات بھی بہت صاف لفظوں میں اور اپنی پوری قوت اظہار کے ساتھ کہنا چاہتا ہیں کہ حالات کو بگاڑنے، بگاڑ کے بڑھ جانے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے کے بجاے اس سے سمجھوتا کرنے اور ’مشترک مفادات‘ کے حصول کے چکّر میں بگاڑ کی قوتوں کو شریکِ اقتدار کرنے کے باب میں جو رویہ مختلف حکومتوں، ریاستی اداروں، حتیٰ کہ ملکی سلامتی کے ذمہ دار حساس ترین اداروں کے ذمہ داران نے اختیار کیا ہے، وہ بہت پریشان کن اور عبرت کا نمونہ ہے۔ گذشتہ ۴۰برسوں کے سیاسی حالات اور سیاسی قوتوں اور گروہوں کو بنانے، بگاڑنے، لڑانے اور محدود مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جو کوششیں ہوئیں، وہ ہولناک داستان پیش کرتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان سب معاملات کا دیانت اور حکمت کے ساتھ، مگر بڑے کھرے اور شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے۔ قومی سلامتی پر جو وار ہوتے رہے ہیں، اگر ذمہ دار ادارے اور افراد ان سے واقف نہیں تھے تو ان کی غفلت مجرمانہ اور ان کی صلاحیت کار ناقابلِ اعتبار ہے۔ اور اگر واقفیت کے باوجود وہ محض مصلحت، چھوٹے اور پست مقاصد، ذاتی، گروہی، طبقاتی، جماعتی یا دوسرے مفادات کی وجہ سے ان سے اغماض برت رہے تھے، تو وہ بہت بڑے قومی جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔ جس کی ان سے پوری پوری جواب دہی کی روایت اب قائم ہونی چاہیے، اور اگر وہ ان میں کسی بھی درجے میں شریک تھے اور ان کی سزا جرم کے دوسرے مرتکبین سے مختلف نہیں ہونی چاہیے۔ جس شیطانی چکّر (vicious circle) میں قوم اور ملک گرفتارہے، اسے اب ٹوٹنا چاہیے۔ جس گرداب میں ملک جکڑا ہوا ہے اس شیطانی جال کو توڑے بغیر اس سے نکلنا محال ہے۔ بات سخت ہے مگر اب اس کے کہنے اور اس پر عمل کی راہیں استوار کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔
۷- احتساب، گرفت، سزا اور اصلاحِ کار کے لیے ان سخت اقدامات کے ساتھ ایک ’نرم پالیسی‘ بھی اس مجموعی حل کا حصہ ہونی چاہیے۔
جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے کہ محض غلطی کا اعتراف ماضی کے جرائم سے دامن پاک کرانے اور ان کے بارے میں جواب دہی سے معاف کردینے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اگر ’سچائی اور معذرت‘ کا راستہ بھی اختیار کیا جائے تو اس میں صرف انھی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے جن کا تعلق پالیسی کے اُمور سے ہو۔ لیکن جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، جن میں قتل، لُوٹ مار، ناجائز دولت کا حصول شامل ہیں، ان کے بارے میں جواب دہی اور حق کو حق دار تک پہنچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اس سلسلے میں احتساب ، اصلاح، سزا اور عفو و درگزر ہر ایک کا کردار رہے گا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے سنہری اصول عدل و احسان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ حق دار کو حق ملنا چاہیے، لیکن خیرکثیر کی خاطر نرمی کا راستہ بھی باہم رضامندی سے اختیار کیا جاسکتا ہے۔ خوش دلی کے ساتھ رعایت، کسی جبر کے بغیر معافی اور رخصت، اور دلوں کو موہ لینے کے لیے حق سے بھی زیادہ نرمی اور انعام وہ راستہ ہے ،جس سے تشدد اور ظلم کی سیاست کا خاتمہ، معاشرے سے ناانصافی کا استیصال، ماضی کی غلطیوں کی اصلاح، ناجائز دولت کی واپسی اور پوری شفافیت کے ساتھ قانون اور اخلاق کی حدود میں نئی سیاسی زندگی کے فروغ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ بُرائی کو بُرائی سے نہیں بلکہ بھلائی، نیکی، خیر اور حُسن سلوک سے دُور کرو، تاکہ دنیا کا نقشہ بدلے اور خیرغالب ہو، لیکن یہ کام آسان نہیں اور اس کے لیے بڑے مضبوط عزم، قربانی اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بڑے واضح الفاظ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس اُمت کے لیے تعلیم کیا ہے:
اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(حم السجدہ ۴۱:۳۴-۳۶)