۵؍ اگست ۲۰۲۴ء کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بنگلہ دیش سے فرار ہو گئیں، جب ہزاروں شہری ان کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ وہ اور ان کی جماعت، عوامی لیگ، پندرہ سال تک ملک پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتی رہی۔ چار ادوار میں، ان کے دورِ حکومت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سیاسی و شہری آزادیوں کا خاتمہ دیکھا گیا، جس میں انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی، ماورائے عدالت قتل، سیاسی مخالفین کا دبانا، جبری گمشدگیاں کرنا،میڈیا کو ہراساں کرنا، اور ریاستی اداروں کو جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرنا شامل تھا۔
بنگلہ دیشی نوجوان، جو آبادی کا ۵۰ فی صد سے زیادہ ہیں، حسینہ واجد کے دور میں معاشی مواقع اور جمہوری کردار میں کمی سے خاص طور پر مایوس تھے۔ جب جولائی ۲۰۲۴ء میں عوامی لیگ حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم میں وسعت لاکر اپنے حامیوں کو فائدہ پہنچانا چاہا، تو نوجوانوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ حکومت کے پُرتشدد ردعمل سے، جس میں سڑکوں پر کم از کم ۱۴۰۰؍افراد ہلاک ہوئے، عدم اطمینان کا بند ٹوٹ گیا، اور ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے بنگلہ دیشی احتجاجی تحریک میں شامل ہو گئے، جس نے بالآخر حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ عوامی بغاوت کو طاقت سے قابو کرنے میں ناکامی کے بعد حکومت گر گئی۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے ۸؍اگست ۲۰۲۴ء کو عبوری حکومت کی قیادت کے لیے حلف لیا۔ اس حکومت نے قانونی اصلاحات کی نگرانی اور انتخابات کروانے کو اپنی بنیادی ترجیح قرار دیا۔
اگرچہ ’جولائی انقلاب‘ جیسا کہ طلبہ تحریک کو کہا جانے لگا، کا مرکز داخلی مسائل تھے، بنگلہ دیش نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، دفاع اور سفارت کاری کے شعبوں میں اپنی شراکت داریوں کو وسعت دی، اور تزویراتی مفادات کے لیے امریکا، چین، انڈیا، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔
اس تنوع کے باوجود، عوامی لیگ نے داخلی سیاست کو یک رُخا بنانے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کو انڈیا کی طرف بُری طرح جھکا دیا۔ حسینہ حکومت نے انڈین سلامتی کے مسائل اور خدشات کو بہت زیادہ ترجیح دی۔اس نے دفاعی تعاون کو وسعت دی، اور توانائی، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کے معاملے میں انڈیا کو بہت سی رعایتیں دیں۔ بدلے میں، نئی دہلی نے سیاسی جبر اور دھاندلی زدہ انتخابات پر شدید بین الاقوامی تنقید کے باوجود حکومت کو بھرپور سفارتی حمایت فراہم کی۔ نتیجتاً، حسینہ کو ہٹانے کے لیے طلبہ تحریک، نیز اس کے بعد آنے والی عبوری حکومت نے شدید انڈیا مخالف لہجہ اختیار کیا۔ اگرچہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت پر مبنی حکومت نے اٹھارہ ماہ تک حکومت کی، مگر خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی سے گریز کیا۔ تاہم چین اور پاکستان کی طرف دست ِ تعاون بڑھانے میں واضح پیش رفت کی۔
فروری ۲۰۲۶ء میں منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ اور وزیر اعظم طارق رحمان نے اسی رجحان کو جاری رکھا۔ جوان اور بوڑھے، نئے اور پرانے، بنگلہ دیش کے اُبھرتے ہوئے رہنما عوامی لیگ کے بعد کی ایک نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک، عوامی لیگی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں، آزاد کارکنوں اور متبادل سیاسی تحریکوں کو اقتدار کے لیے بامعنی مقابلے سے بڑی حد تک خارج رکھا۔ نتیجے کے طور پر، ملک کی اگلی نسل کے رہنماؤں میں نہ صرف طلبہ کارکن اور نئی تشکیل شدہ جماعتیں شامل ہیں، بلکہ وہ تجربہ کار سیاست دان بھی شامل ہیں جن کے قومی قیادت تک پہنچنے کے راستے عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں بند کر دیے گئے تھے۔ کئی حوالوں سے، یہ نئے رہنما بڑی حد تک علاقائی تعلقات، جغرافیائی سیاست، اور امریکا-چین مسابقت کے بارے میں زیادہ متوازن نقطۂ نظر قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اس وقت بنگلہ دیش کی سیاست پر تین جماعتیں حاوی ہیں اور یہی خارجہ پالیسی کو تشکیل دے رہی ہیں۔ عبوری حکومت کی جانب سے عوامی لیگ پر سیاسی مقابلے میں حصہ لینے پر پابندی کے بعد، مرکزی کردار بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)، جماعت اسلامی، اور ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP) بن گئے۔ مجموعی طور پر ان کے خارجہ پالیسی رجحانات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔
بی این پی، بنگلہ دیش میں دائیں بازو کی جماعت تصور کی جاتی ہے، جو غیر لسانی بنگلہ دیشی قوم پرستی اور عوامی زندگی میں اسلامی شناخت کو فروغ دیتی ہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الرحمٰن کی قائم کردہ اس پارٹی نے تاریخی طور پر اپنی خارجہ پالیسی میں انڈین اثر و رسوخ کو متوازن بنانے کے لیے چین، مسلم دنیا، اور مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ بی این پی روایتی طور پر کاروباری اشرافیہ، سول اور ملٹری بیوروکریسی، شہری پیشہ ور افراد، متوسط طبقے، اور قدامت پسند قوم پرست ووٹروں کے وسیع اتحاد سے حمایت حاصل کرتی رہی ہے۔ اس پارٹی نے کسانوں، دیہی گھرانوں اور چھوٹے قصبوں کے ووٹروں میں بھی اپنی حمایت کو وسعت دی۔ عوامی لیگ کے مقابلے میں، بی این پی روایتی طور پر مذہب پسند مسلمان ووٹروں میں زیادہ مقبول رہی ہے، جب کہ عوامی لیگ نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا اپنے آپ کو چیمپئن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’جولائی انقلاب‘ سے قبل، کسی بھی جماعت کو نوجوانوں کی حمایت پر پائیدار اجارہ داری حاصل نہیں تھی۔
۲۰۲۴ء میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے اور دو عشروں تک اقتدار سے باہر رہنے کے بعد بی این پی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر دوبارہ اُبھری۔ حال ہی میں وفات پانے والی خالدہ ضیاء اور معزول ہونے والی عوامی لیگی حسینہ واجد کے درمیان ۳۰ سال سے زیادہ کے مقابلے کے بعد، بی این پی کے نئے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم طارق رحمان، جن کی عمر ۶۰ سال ہے، انھیں اگلی نسل کے رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بی این پی ماضی کی بی این پی حکومتوں سے وابستہ شخصیات کو واپس لائی ہے، لیکن اس نے کابینہ اور مشاورتی کرداروں کے لیے نئے چہروں کو بھی جگہ دی ہے۔ تاہم، اس کے نوجوان رہنماؤں کا اُبھرتا ہوا گروہ بڑی حد تک پارٹی کے اندر سے آیا ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس پہلے سے عہدے تھے اکثر طاقت ور بی این پی خاندانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۶ء کی انتخابی مہم کے دوران، بی این پی نے نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن پارٹی اپنی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ اور اصلاحات پر پرانے طرزِ فکر کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہی۔
تاریخی طور پر، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی نے ایک ایسی خارجہ پالیسی پیش کی ہے جو اسلامی یک جہتی میں جڑی ہوئی ہے، اور ساتھ ہی بڑی طاقتوں کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھنے میں خوش دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت نے روایتی طور پر مسلم اکثریتی ممالک، خاص طور پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت کی ہے،جب کہ انڈیا کے بارے میں عام طور پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس نے گذشتہ پوری مدت میں عوامی لیگ کی حمایت کی اور بنگلہ دیش کے داخلی معاملات پر اس کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ جماعت کے رہنما اکثر بین الاقوامی مسائل کو اسلامی نقطۂ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ فلسطینی کاز اور عالمی سطح پر مسلم برادریوں کی حمایت پر زور دیتے ہیں۔ تاہم، ’جولائی انقلاب‘ کے بعد سے، جماعت نے خارجہ پالیسی پر زیادہ قوت لگانے کے مقابلے میں داخلی سیاسی تجدید پر کہیں زیادہ توجہ دی ہے۔
انقلاب کے بعد جماعت اسلامی کی حکمت عملی کا ایک مرکزی پہلو اپنے روایتی اسلام دوست حلقے سے آگے بڑھ کر اپنی اپیل کو وسیع کرنا پیش نظر رہا ہے۔ ۲۰۲۶ء کی انتخابی مہم کے دوران، جماعت نے خود کو عوامی لیگ اور بی این پی دونوں کے مقابلے میں ایک منظم، ایماندار جمہوریت پسند، اور جمود کے خلاف متبادل کے طور پر پیش کر کے اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کی۔ پارٹی رہنماؤں نے اسلامائزیشن کے مطالبات کو مرکزیت دینے کے بجائے گڈ گورننس، بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی آزادی اوربنگلہ دیش میں نئی قیادت، خارجہ تعلقات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا،جب کہ ووٹروں کو بار بار یقین دلایا کہ پارٹی جمہوری طور پر حکومت کرے گی۔ اس طرح جماعت کی انتخابی مہم میں شریعت کے نفاذ کا موضوع مرکزی طور پر موجود نہیں تھا۔ ۱ جماعت نے نوجوان اور کم نظریاتی مذہبی ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اپنے عوامی پیغام میں بھی وسعت پیدا کی ہے، جس میں روزگار، تعلیم اور حکومتی جواب دہی پر توجہ دی گئی ہے۔ پارٹی نے اس حکمت عملی کو ایک نفیس ڈیجیٹل مہم کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن انفلوئنسرز، اور پیشہ ورانہ طور پر تیار کردہ مواد کا فائدہ اٹھا کر پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں اور شہری نوجوانوں تک پہنچی ہے، جس سے بہت سی معروف شخصیات کی عدم موجودگی کے باوجود اس کی عوامی صورت ایک روایتی اسلام پسند جماعت سے ایک جدید، اصلاح پسند سیاسی متبادل میں تبدیل ہونے میں مدد ملی۔
این سی پی نوجوان کی قیادت کی حامل سیاسی تحریک ہے، جو ’جولائی انقلاب‘ سے اُبھری ہے۔ بنیادی طور پر سابق طلبہ کارکنوں کی قیادت میں، یہ جماعت خود کو روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں اگلی نسل کے قوم پرست متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے اور آئینی اصلاحات، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، اور مضبوط جمہوری اداروں کے ذریعے ’دوسری جمہوریہ‘ کی تعمیر کی وکالت کرتی ہے۔ این سی پی کے رہنما کھل کر عوامی لیگ کی انڈیا نواز خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہیں،جب کہ بنگلہ دیش کے بیرونی تعلقات کو وسعت دینے کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر چین، دیگر علاقائی قوتوں اور مغرب کے ساتھ۔ این سی پی کے چھ اراکین پارلیمنٹ اہم رہنماؤں کے طور پر اُبھرے ہیں، جن میں سب سے نمایاں ناہید اسلام ہیں___ پارٹی کے کنونیر، عبوری حکومت کے سابق مشیر، اور جولائی انقلاب کے ایک رہنما۔ پارٹی تنظیمی طور پر کمزور اور سیاسی طور پر غیر محفوظ ہے۔ انتخاب سے پہلے کے سروے میں عوام میں، حتیٰ کہ نوجوان ووٹروں میں بھی، محدود حمایت ظاہر ہوئی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا این سی پی ’جولائی انقلاب‘ کی تحریک کو جماعت اسلامی کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد سے آزاد ایک پائیدار سیاسی تحریک میں تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں؟
تاہم، اب رجحان کی پائیداری سیاسی حالات کے استحکام پر منحصر ہوگی۔ عوامی لیگ کا سیاسی میدان سے اخراج عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگریہ انڈیا نواز پارٹی پھر سیاسی قوت حاصل کرتی ہے تو داخلی اور خارجی محاذ پر ایک بڑی کش مکش پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف انڈیا نے کوشش کی ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے تعلقات کو بحال کرے۔ یہ سارے کھیل اپنی جگہ، لیکن بنگلہ دیش کی نئی نسل کے راہ نما، انڈیا کے زیراثر خارجہ پالیسی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، بلکہ زیادہ متوازن اور وسیع البنیاد خارجہ پالیسی کے لیے سرگرم ہیں۔
_______________
۱ فاضل تجزیہ نگار کے اس جملے سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے اپنے تشکیل و تاسیس کے مقاصد اور بنیادی اصولوں کو نظرانداز کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا دستور اور اس کی تمام تنظیمی، دعوتی اور تربیتی سرگرمیوں کا مرکزی محور اقامت ِ دین ہی ہے۔ البتہ، موجودہ مخصوص زمینی حالات میں جماعت نے قومی سطح پر بگڑی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے، اصلاح کے پہلے مرحلے میں یہ اقدامات اپنی اوّلین ترجیح بنائے اور ان کی اصلاح کا اعلان کیا۔مدیر
تیونس کی پارلیمنٹ کے ۸۵ سالہ سابق اسپیکر اور تحریکِ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کی حراست کے دوران صحت تیزی سے اور خطرناک حد تک خراب ہورہی ہے۔ وہ اپریل ۲۰۲۳ء سے قید ہیں اور حال ہی میں انھیں عمر قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے، جسے ان کے حامیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔
جون ۲۰۲۶ء کے آخر سے اب تک انھیں کم از کم چھ مرتبہ ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس دوران ۱۷ جولائی کو تیونس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران جیل کے اندر بیہوش ہونے کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے کے ایک عینی شاہد کے مطابق انھیں ’مورناگیہ جیل‘ کے اندر بے ہوش ہوتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انھیں دس دن سے زائد عرصے تک مکمل تنہائی میں ہسپتال میں رکھا گیا، جہاں نہ ان کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی، نہ وکلا کو رسائی ملی اور نہ حکام ہی نے ان کی طبّی حالت کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت فراہم کی۔ ان کی صاحبزادی سمیّہ الغنوشی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں سوال اٹھایا کہ ان کے والد کو کہاں رکھا گیا ہے اور انھیں ملاقاتوں سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟
۲۷جولائی کو جیل واپس بھیجے جانے کے بعد راشد الغنوشی نے اپنے وکلا کو بتایا کہ انھوں نے مکمل تنہائی کی قید کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کی تھی۔ تاہم، صرف دو روز بعد، ۲۹جولائی کو، ان کی صحت مزید بگڑنے پر انھیں دوبارہ ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ چونکہ اُن کو جس مقام پر رکھا گیا تھا، اور پھر اُن کی طبّی کیفیت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ان کی وفات سے متعلق افواہیں گردش کرتی رہیں۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ان افواہوں کی نہ سرکاری سطح پر تردید کی گئی اور نہ تصدیق۔
تیونس کے قوانین کے مطابق ہسپتال منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ۲۱ روز تک ملاقات سے روکا جا سکتا ہے۔ راشد الغنوشی کے معاملے میں اس ضابطے کا باربار استعمال کیا گیا ہے، جسے ان کے خاندان نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی عمر، متعدد دائمی بیماریوں اور مسلسل طبّی ہنگامی صورت حال کے پیشِ نظر ان کی جاری حراست اب ان کی جان کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ صورت حال اس لیے بھی غیر معمولی تشویش کا باعث ہے کہ ’اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست‘ (WGAD) پہلے ہی ان کی حراست کو جبری قرار دے چکا ہے، جب کہ ’افریقی عدالت برائے انسانی و عوامی حقوق‘ تیونس کی حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ وہ ان کے وکلا اور اہلِ خانہ کے ساتھ رابطے کو یقینی بنائے اور انھیں مناسب طبّی سہولیات فراہم کرے۔
راشد الغنوشی ۲۰۱۱ء میں جلاوطنی سے واپسی کے بعد تیونس کی جمہوری جدوجہد کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ انھوں نے اسلام دوست اور سیکولر سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں تیونس کو ’عرب بہار‘ کے بعد خطے میں جمہوری منتقلی کی ایک نادر مثال کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ وہ نومبر ۲۰۱۹ء سے جولائی ۲۰۲۱ء تک تیونسی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، جب کہ ۱۹۹۱ء سے تحریکِ النہضہ کی قیادت کر رہے ہیں۔
سیاسی منظرنامہ جولائی ۲۰۲۱ء میں اس وقت تبدیل ہوا، جب صدر قیس سعید نے غیرمعمولی اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پارلیمنٹ کو معطل کر دیا اور بعد ازاں صدارتی فرمان کے ذریعے حکومت کرنا شروع کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں اور متعدد بین الاقوامی مبصرین نے اس اقدام کو ایک خودساختہ انقلاب (Self-coup) قرار دیا۔ اس کے بعد سے حکومت نے سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ میں نمایاں اضافہ کیا۔
راشد الغنوشی مختلف طبّی عوارض میں مبتلا ہیں، جن میں پارکنسنز، تھائیرائیڈ کی خرابی، بلڈپریشر، نیند کے دوران سانس رُکنے کے مرض (Sleep Apnea)، بائیں ٹانگ میں شدید درد اور مسلسل تھکاوٹ سمیت جیسی متعدد دائمی بیماریاں شامل ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق قید سے قبل وہ متوازن غذا، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے اپنی پارکنسنز کی بیماری پر مؤثر حد تک قابو رکھے ہوئے تھے اور ایک فعال زندگی گزار رہے تھے۔
حراست کے دوران ان کی صحت میں مسلسل بگاڑ آیا ہے، جس میں بلڈ پریشر میں شدید اتار چڑھاؤ اور انتہائی تھکاوٹ نمایاں ہیں۔ خاندان کے مطابق صرف جولائی ۲۰۲۶ء کے دوران انھیں چھ مرتبہ ہسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ گذشتہ دو ماہ میں ان کی مجموعی صحت تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ ایک موقعے پر وہ اپنے وکیل سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے شدید بخار اور بلڈپریشر کے باعث بے ہوش ہو گئے۔
راشد الغنوشی کی بگڑتی ہوئی صحت کی صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تیونس میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے علاوہ نیشنل سالویشن فرنٹ (National Salvation Front) کے رہنما اور معروف وکیل احمد نجیب الشابی بھی زیرحراست ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں بھی اسی نوعیت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سالویشن فرنٹ کے مطابق تمام سیاسی قیدیوں کی حفاظت ریاست کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری میں کسی بھی قسم کی کوتاہی انسانی حقوق، قومی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔
۲۵ جولائی کو صدر قیس سعید کی ۲۰۲۱ء کی بغاوت کے پانچویں برس کے موقع پر ہزاروں تیونسی شہری دارالحکومت تیونس میں جمہوریہ چوک سے حبیب بورقیبہ ایونیو تک مارچ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے بگڑتی معاشی صورت حال، پانی کی قلت، بجلی کی بندش اور جاری سیاسی جبر کے خلاف احتجاج کیا۔ مبصرین کے مطابق راشد الغنوشی کا مقدمہ اب جمہوری اداروں کے خاتمے، اپوزیشن رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی علامت بن چکا ہے، جسے صدارتی اختیارات کے ارتکاز اور دوبارہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
_______________
کہتے ہیں کہ کسی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی، اس کے لیے جنون اور ایسی استقامت درکار ہوتی ہے جو آدمی کو بار بار گرنے کے باوجود اسی کام کی طرف واپس لے آئے۔ خاص طور پر جب کام تحقیق، دستاویز سازی اور تاریخ جیسے حسّاس باب سے متعلق ہو۔ جس کے واقعات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی جانوں، خاندانوں کے المیوں، سماجی خوف اور سیاسی کش مکش سے عبارت ہوں، تو اس کی تکمیل ایک فرد کے معمول کے تحقیقی کام سے کہیں بڑھ کر ایک صبر آزما مہم بن جاتی ہے۔
نئی دہلی کے اشاعتی ادارے ’فاروس‘ کی جانب سے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی مرتب کردہ انگریزی کتاب Mob Lynching in India: A Record 2014-2024 (انڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں قتل: ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء کا ریکارڈ) اسی نوعیت کی ایک غیرمعمولی دستاویزی کاوش ہے۔ ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم دستاویز ایک رپورٹ ہے، مگر اپنی وسعت، واقعات کی کثرت، زمانی و جغرافیائی ترتیب اور معاون مواد کے اعتبار سے ایک موسوعاتی ریکارڈ ہے۔ مئی۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۲۴ء تک کے عشرے میں انڈیا میں ہجوم کے تشدد اور ماب لِنچِنگ کے نام سے درج کیے گئے ۱۷۴۳ واقعات کو یکجا کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے، اور اسی لیے اس کے مرتب اور پوری تحقیقی ٹیم کی محنت تحسین کی مستحق ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسانی حقوق کی بحث میں جذبات اپنی جگہ، مگر اعداد و شمار کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ کسی معاشرے میں ظلم، تشدد، امتیاز یا اقلیتوں کے خلاف زیادتی کی شکایت اس وقت زیادہ مؤثر شہادت بن جاتی ہے، جب اس کے ساتھ تاریخ، مقام، متاثرین، واقعاتی تفصیل، قانونی کارروائی اور دستیاب شواہد کا منظم ریکارڈ بھی موجود ہو۔ ہمارے یہاں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ظلم و ستم کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند برس گزرنے کے بعد واقعات حافظے کا ایک دھندلا حصہ تو رہتے ہیں، مگر ان کے قابلِ حوالہ شواہد تلاش کرنا دشوار بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے معاندین کے لیے ان کا انکار آسان ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ایک اہم خلا پُر کرنے کی کوشش ہے، جسے آئندہ محققین، صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی علوم کے طالب علم مزید تحقیق کے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کسی موضوع کو چھو کر گزر جانے کے قائل نہیں۔ اسی لیے ماب لِنچِنگ جیسے بکھرے ہوئے اور مسلسل بدلتے ہوئے موضوع پر ایک عشرے کا ریکارڈ مرتب کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے کام میں اصل دشواری صرف واقعات کی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ یہ طے کرنا بھی ہوتا ہے کہ کس واقعے کو شامل کیا جائے؟ مختلف خبروں میں موجود تضادات کو کس طرح دیکھا جائے؟ واقعے کے بعد پولیس اور عدالت کا رویّہ کیا رہا؟ متاثرہ خاندان کا موقف کیا تھا اور بعد کی پیش رفت کو اصل واقعے سے کس طرح مربوط کیا جائے؟ اس نوعیت کے کام میں ایک واقعہ خود ایک مکمل فائل بن جاتا ہے، اور جب ایسے واقعات کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جائے تو انھیں جمع کرنا، جانچنا، درجہ بند کرنا اور ایک مربوط دستاویز میں ڈھالنا ایک بڑا تحقیقی کام ہے۔
کتاب کا بنیادی موضوع مئی ۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۲۴ء تک انڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کا ریکارڈ ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے مطابق: ’’یہ اس عرصے میں سامنے آنے والے ۱۷۴۳ واقعات کا دستاویزی مجموعہ ہے‘‘۔ کتاب میں واقعات کے ساتھ ان کے سیاسی، سماجی اور قانونی پس منظر کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔کتاب کے شروع میں ڈاکٹر خان صاحب کا تقریباً سو صفحات پر مشتمل مقدمہ خاصا اہم ہے، جس میں ماب لِنچِنگ کے تاریخی پس منظر، انڈین صورتِ حال، قانون، شہری معاشرے اور اس رجحان کے ممکنہ اسباب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے بعد کتاب واقعات کے وسیع ریکارڈ، قانونی و انتظامی پہلوؤں، چارٹس اور دیگر معاون مواد کی طرف بڑھتی ہے۔ دادری میں محمد اخلاق کے واقعے پر حقائق کی جانچ پر مبنی رپورٹ، بعض اخبارات کے اداریے، اختصارات وفرہنگ اور مزید مطالعے کے لیے فراہم کیا گیا مواد بھی کتاب کی مجموعی ساخت کا حصہ ہے۔ یوں اس کے تقریباً پورے حجم پر محیط ”۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء ماب لِنچِنگ کے واقعات“ کا حصہ اس منصوبے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی میں وہ واقعاتی مواد محفوظ کیا گیا ہے، جس پر کتاب کا وسیع تر تجزیہ قائم ہوتا ہے۔
کتاب کی ایک اہم خوبی اس کی زمانی اور جغرافیائی ترتیب ہے۔ واقعات کو تاریخی لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس سے ایک محقق کے لیے یہ دیکھنا آسان ہو جاتا ہے کہ مختلف اَدوار میں ہجوم کے تشدد کی نوعیت کیا رہی؟ واقعات کے بعد ایف آئی آر، عدالتی کارروائی اور سزا یا بریت کی صورتِ حال کے بعد کی پیش رفت بھی اس دستاویزی منصوبے کو محض اخباری تراشوں کے مجموعے سے آگے لے جاتی ہے۔ حتی الامکان، انسانی حقوق کی تنظیموں کی حقائق پر مبنی رپورٹس، مقامی ذرائع، متاثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کی رودادوں کو بھی تحقیق کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے اور کچھ غیرمعمولی واقعات جیسے محمداخلاق، ناصر و جنید، پہلوخان، رکبر اور مظلوم انصاری وغیرہ کے ہجومی قتل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کی تیاری میں موقر اخبارات، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی حقائق پر مبنی رپورٹس، مقامی ذرائع، متأثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کے بیانات اور قانونی کارروائی کے بعد کی پیش رفت سے استفادہ کیا گیا ہے، اور دہلی کے اخبارات، بعض خبری ذرائع اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں کو کھنگال کر واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ وسائل کی کمی کے باعث ملک کے ہر تھانے، ہرمقامی اخبار اور مختلف علاقائی زبانوں کے ذرائع تک رسائی ممکن نہ ہونے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ یہ اعتراف کتاب کی تحقیقی دیانت داری کی علامت ہے۔ اسی طرح پولیس یا جیل میں ہونے والی ہلاکتوں اور اِنکاؤنٹرز کو اس مطالعے سے الگ رکھنے کا ذکر کرتے ہوئے انھیں کسی الگ تحقیق کا موضوع بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ حد بندی واضح کرتی ہے کہ کتاب میں ’ہجوم کے تشدد‘ سے مراد ایک مخصوص دائرۂ کار میں آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ انڈیا میں ہونے والی ہر غیرقانونی یا مشتبہ ہلاکت۔
کتاب کے بیانیے میں ۲۰۱۴ء ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ محقق کے مطابق مئی ۲۰۱۴ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ماب لِنچِنگ میں نمایاں اضافہ ہوا، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں، اور اس رجحان کو ’ہندوتوا‘ کی سیاست، گئورکشا کے نام پر سرگرم گروہوں، پولیس کی بےعملی اور بعض حالات میں مجرموں کو حاصل ہونے والے سیاسی و سماجی تحفظ سے جوڑا گیا ہے۔ کتاب کے تعارف اور مقدمے میں ہجوم کے تشدد کو ایک ’نئی قسم کی دہشت گردی‘ قرار دیا گیا ہے اور ’لِنچستان‘ (Linchistan) جیسی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ ڈاکٹرظفرالاسلام کے مطابق ماب لِنچِنگ محض کچھ افراد کے بےقابو ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ بعض واقعات ایک ایسے ماحول کی علامت ہیں، جس میں خوف کو اجتماعی سطح پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
۲۰۱۴ء کو انڈیا میں ہجوم کے تشدد یا اجتماعی قتل کے وسیع تر تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو تقسیمِ ہند کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والے فسادات، ۱۹۸۴ء کا سکھ مخالف تشدد، ۲۰۰۲ء کا گجرات تشدد اور اس سے پہلے اور بعد کے متعدد فرقہ وارانہ واقعات اس بات کی یاددہانی کراتے ہیں کہ ہجوم، فرقہ واریت اور اجتماعی تشدد، جدید انڈین تاریخ میں ۲۰۱۴ء سے پہلے بھی موجود رہے ہیں۔ اس لیے ۲۰۱۴ء کو ایک سیاسی، سماجی یا ابلاغی موڑ کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط تعبیر ہے، نہ کہ ہجوم کے تشدد کی پیدائش کے سال کے طور پر۔
اسی ضمن میں امریکا میں افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف تاریخی لِنچِنگ سے بھی تقابل کیا گیا ہے اور ایڈا بی ویلز بارنیٹ کی اس تشریح کو پیش کیا گیا ہے کہ ایسے قتل کا مقصد صرف ایک شخص کو ختم کرنا نہیں، بلکہ پوری برادری میں خوف پیدا کرنا اور اس کی آزادی کی حدود متعین کرنا بھی ہوتا ہے۔ انڈین تناظر میں کتاب اسی تصور کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ہجومی تشدد پر منطبق کرتی ہے۔ یہ تقابلی زاویہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ ماب لِنچِنگ کو صرف قتل کے ایک واقعے کے بجائے اجتماعی خوف، سماجی دباؤ اور طاقت کے اظہار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
کتاب کے چارٹس اس پیچیدہ صورت حال کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ مئی ۲۰۲۴ء تک کے چارٹ کے مطابق دستاویزی واقعات میں ہندو متاثرین کی ہلاکتیں ۷۸۷ ہیں، جب کہ مسلمان متاثرین کی ہلاکتیں ۳۷۲ درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دلتوں کی ۸۵، قبائلی یا آدیواسی افراد کی ۳۱، سکھوں کی ۱۷، عیسائیوں کی ۱۴، پولیس، فوجی یا سرکاری اہلکاروں کی ۱۴ اور نامعلوم شناخت کے ۱۰۲ افراد کی ہلاکتیں درج ہیں۔ دیگر متفرق زمروں کو ملا کران دس برسوں میں ہجومی تشدد میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کا مجموعہ تقریباً ۱۴۴۶ بنتا ہے۔ کتاب خود واضح کرتی ہے کہ یہ اس کے مطالعے میں دستاویزی واقعات اور ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے جس کی رپورٹنگ ایک خاص علاقے میں ہوئی، اس لیے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
وجوہ کے چارٹ سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے۔ ۵۷۱ واقعات لڑائی، سڑک پر اشتعال انگیزی یا عام جھگڑوں سے متعلق درج ہیں۔ چوری کے الزام سے متعلق واقعات ۲۸۴ ہیں۔ پرانی دشمنی یا سیاسی رقابت کے ۱۶۹، بین المذاہب شادیوں یا محبت کے معاملات ۱۴۱، مذہبی شناخت، بالخصوص مسلمان ہونے کی بنیاد پر ۸۹، بچہ اٹھانے کے الزام کے ۵۳، گائے یا بھینس کی اسمگلنگ کے ۵۷، بیف یا گائے ذبح کرنے کے الزام کے ۵۳، اور جادو ٹونے کے الزام کے ۵۰ واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اس طرح خود کتاب کے فراہم کردہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ گائے، بیف یا مذہب سے متعلق واقعات اگرچہ نہایت سنگین اور بعض اوقات واضح طور پر فرقہ وارانہ نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیا میں ہجوم کے تشدد کے محرکات مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ سماجی، شخصی اور سیاسی نوعیت کے بھی ہیں۔
ریاستی تقسیم دیکھیں: اتر پردیش ۴۲۲ واقعات کے ساتھ سب سے اُوپر ہے۔ اس کے بعد دہلی ۲۹۶، بہار ۱۷۳، ہریانہ ۱۰۰، راجستھان ۹۷، مہاراشٹر ۹۴، مدھیہ پردیش ۹۲ اور جھارکھنڈ ۷۱ واقعات کے ساتھ آتے ہیں۔ دہلی کے ۲۹۶ واقعات خصوصاً قابلِ توجہ ہیں، کیونکہ دارالحکومت اور ایک نسبتاً محدود جغرافیائی خطے میں درج یہ تعداد کئی بڑی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ ایسے واقعات کی تشریح کرتے وقت آبادی، شہری کثافت، ذرائع ابلاغ کی موجودگی، رپورٹنگ کی سہولت، پولیس تک رسائی اور واقعات کے دستاویزی ہونے کے امکانات جیسے عوامل بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
اعداد و شمار کی یہی پیچیدگی انڈین معاشرے میں ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف لے جانے والے عمومی سماجی اسباب پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ۵۷۱ واقعات عام لڑائی، سڑک پر اشتعال انگیزی یا جھگڑوں سے اور ۲۸۴ چوری کے الزامات سے متعلق ہیں، تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ انڈین معاشرے میں ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف لے جانے والے عمومی سماجی اسباب کیا ہیں؟ اگر مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف ۸۹ واقعات درج ہیں، گائے یا بھینس کی اسمگلنگ سے متعلق ۵۷ اور بیف یا گائے ذبح کرنے کے الزامات سے متعلق ۵۳ واقعات ہیں، تو ان مخصوص واقعات کی نوعیت کیا ہے؟ ان میں مذہبی تعصب کس حد تک بنیادی محرک تھا اور دوسرے تنازعات کے ساتھ کس طرح جڑا ہوا تھا؟ اسی طرح مختلف طبقات کے خلاف ہجوم کے تشدد کے محرکات الگ الگ ہیں یا نہیں، یہ بھی مزید تحقیق کا ایک اہم موضوع ہو سکتا ہے۔
کتاب کے بعض گوشے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محقق نے ہر واقعے کو صرف مذہبی زاویے سے درجہ بند کرنے کے بجائے متعدد محرکات کو الگ الگ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ تین جانوروں کی ہلاکتوں کو انسانی ہلاکتوں سے الگ درج کرنا، ’مسلم تشدد‘، ’نَکْسَل تشدد‘، ’جہیز‘ اور’سیاسی تشدد‘ جیسے الگ زمرے بنانا اسی رجحان کی مثال ہے۔ خود اس درجہ بندی میں ایک ایسے وسیع تر مسئلے کی طرف اشارہ ملتا ہے جس میں مذہبی تعصب، سماجی تنازعات، افواہیں، ذاتی دشمنی، سیاسی رقابت اور قانون شکنی کے دوسرے محرکات ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں اور بعض صورتوں میں ایک دوسرے سے جڑ بھی جاتے ہیں۔
کتاب کے مقدمے میں پونا میں محسن شیخ کی ۲۰۱۴ء میں ہلاکت، دادری میں محمد اخلاق کی ۲۰۱۵ء کی ہلاکت، پہلو خان، رکبر عرف اکبر خان اور علیم الدین انصاری جیسے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں۔ گائے، بیف یا گئو رکشا کے نام پر ہونے والے یہ واقعات کتاب کے مرکزی استدلال کا اہم حصہ ہیں۔ دادری کا واقعہ اس قدر اہم سمجھا گیا ہے کہ اسے الگ حقائق پر مبنی رپورٹ کی صورت میں ضمیمے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں بعض مقدمات کی بعد کی عدالتی پیش رفت، ضمانت، گواہوں کے مسائل، مقدمات کی سست روی اور بعض مواقع پر مقدمات واپس لینے کی کوششوں کا ذکر بھی موجود ہے۔
کتاب میں ریاستی اداروں، خصوصاً پولیس اور انتظامیہ، کے کردار پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ بعض واقعات میں یہ الزام سامنے آتا ہے کہ پولیس نے زخمی متاثرین کی فوری مدد کے بجائے مویشیوں کو ترجیح دی۔ کہیں مقتول کے خاندان کو قانونی دستاویزات کے حصول میں دشواری ہوئی۔ کہیں گواہوں پر دباؤ اور دھمکی کی شکایت سامنے آئی، اور کہیں ملزمان کی جلد ضمانت یا ان کے ساتھ سیاسی ہمدردی نے انصاف کے عمل پر سوال اٹھائے۔ علیم الدین انصاری کے مقدمے کے حوالے سے مرکزی وزیر جے سنہا کی جانب سے ضمانت پر رہا ہونے والے افراد کے استقبال اور ان کی مالی اعانت کا ذکر بھی کتاب میں موجود ہے، جسے وہ اپنے اس استدلال کے ضمن میں پیش کرتی ہے کہ جب سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ قانون کے عمل پر غالب آجائے تو ہجوم کے تشدد کے خلاف قانونی کارروائی کمزور پڑ سکتی ہے۔
اسی قانونی پس منظر میں سپریم کورٹ کی ۲۰۱۸ء کی ہدایات بھی کتاب کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ شہری معاشرے کی جانب سے ’ماسکا‘، یعنی ’مانَو سُرکشا قانون‘، جیسے مجوزہ قوانین کا ذکر بھی آتا ہے، جب کہ مغربی بنگال سمیت بعض ریاستوں میں انسدادِ لِنچِنگ قانون سازی کی کوششوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا مطالبہ ایک ایسے مضبوط خصوصی قانون کا ہے، جو ہجوم کے ذریعے قتل و تشدد کو واضح طور پر متعین کرے، پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری مقرر کرے، متأثرین اور گواہوں کو تحفظ دے اور سیاسی مداخلت کے امکانات کو ختم کرے۔ نئے فوجداری قانونی ڈھانچے، بالخصوص بھارتیہ نیائے سنہتا، کے بارے میں بھی کتاب کا موقف یہ ہے کہ ہجوم کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مخصوص اور مؤثر قانون اب بھی درکار ہے۔
کتاب میں کئی اہم سوالات اُٹھائے گئے ہیں: اگر کسی شخص پر چوری، قتل، گائے کی اسمگلنگ، مذہبی جرم یا کسی اور جرم کا الزام ہو تو بھی اسے سزا دینے کا حق ہجوم کو نہیں۔ جرم کا تعین عدالت کرے گی، سزا عدالت دے گی اور قانون سب کے لیے یکساں ہوگا۔ الزام جرم نہیں ہوتا اور شبہ سزا نہیں ہوتا۔ ایک مہذب معاشرے میں کسی شخص کو سڑک پر کھڑا ہجوم نہ مجرم قرار دے سکتا ہے اور نہ سزا دے سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب قانون کی حکمرانی کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔ اگر اس اصول کو واقعی عالم گیر بنا دیا جائے تو ماب لِنچِنگ کے خلاف جدوجہد محض مسلمانوں، ہندوؤں، دلتوں، عیسائیوں یا کسی ایک گروہ کی جدوجہد نہیں رہتی، بلکہ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کی مشترکہ جدوجہد بن جاتی ہے۔
کتاب میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ آج کسی واقعے کی ویڈیو بنانا، اسے فوری طور پر پھیلانا اور تشدد کو ایک طرح کے تماشے یا فخریہ مظاہرے میں بدل دینا ماضی کے ہجوم کے تشدد سے ایک اہم فرق پیدا کرتا ہے۔ کتاب کے مطابق بعض قاتل یا حملہ آور اپنے اعمال کی ویڈیوز بناتے اور انھیں سوشل میڈیا پر نشر کرتے ہیں۔ افواہیں، جھوٹی خبریں، نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز مواد چند لمحوں میں وسیع حلقے تک پہنچ جاتے ہیں اور کسی معمولی شبہے کو اجتماعی تشدد میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مذہبی تشدد تک محدود نہیں۔ بچہ ومویشی چوری، ڈکیتی، جادو ٹونے اور دیگر افواہوں سے بھی ہجوم اس اطلاعاتی ماحول میں طاقت حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی ذمہ داری، میڈیا خواندگی اور افواہوں کی بروقت تردید، انسدادِ لِنچِنگ کی کسی بھی جامع پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
میڈیا کے کردار پر کتاب کا باب بھی اس سلسلے میں خاصا اہم ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض میڈیا ادارے اپنے انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات میں ایک ہی واقعے کو مختلف انداز اور مختلف زبان کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ بعض حساس اور فرقہ وارانہ معاملات میں پولیس پریس ریلیز میں غیرمصدقہ اطلاعات کو مناسب تحقیق کے بغیر شائع کرنے، قارئین کے جذبات کو ابھارنے، سنسنی خیزی پیدا کرنے اور مخصوص ہدفی قارئین کو مطمئن کرنے کے لیے صحافتی اصولوں کو پسِ پشت ڈالنے کی شکایات بھی درج ہیں۔ زبان کے انتخاب، الفاظ کی ساخت اور خبر کی ترتیب کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی یا سماجی گروہ کے بارے میں ایک خاص تاثر پیدا کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے مسائل کو کبھی نظرانداز کرنے اور کبھی منفی یا تعصب زدہ زاویے سے پیش کرنے کا ذکر بھی کتاب میں موجود ہے۔
اسی طرح نوجوانوں، بے روزگاری اور سیاسی و نظریاتی تنظیم سازی کے باہمی تعلق پر بھی کتاب میں گفتگو ملتی ہے۔ اس میں ’گئورکشک‘، بجرنگ دل اور دوسرے انتہا پسند گروہوں کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ معاشی محرومی، بےروزگاری اور سیاسی و نظریاتی تنظیم سازی بعض نوجوانوں کو تشدد کے لیے دستیاب افرادی قوت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ہتھیاروں کی نمائش اور شَسْتْرپوجا جیسے مظاہر کو بھی کتاب ایک ایسے وسیع تر ثقافتی ماحول کے ساتھ جوڑتی ہے جس میں تشدد کو معمول یا قابلِ فخر عمل بنانے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ بےروزگاری، نوجوانوں کی سیاسی تنظیم سازی، سوشل میڈیا اور نفرت انگیز بیانیے باہم مل کر اجتماعی تشدد کو کس طرح جنم دیتے ہیں؟ کتاب میں یہ بھی تفصیل سے واضح کیا گیا ہے کہ نام نہاد گئورکشکوں نے گئورکشا کے نام پر کھربوں کے جانور اور مویشی تاجروں اور ٹرک ڈرائیوروں کے بےشمار پیسے لوٹ لیے۔
کتاب کی انسانی جہت اس کے خشک اعداد و شمار کو ایک الگ معنویت عطا کرتی ہے۔ آسنول، مغربی بنگال کے مولانا امداد اللہ رشیدی کا واقعہ اس سلسلے میں نہایت اثر انگیز مثال ہے۔ ایک ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں ان کے سولہ سالہ بیٹے محمد صِبْغَۃُ اللہ کے قتل اور لاش جلائے جانے کے باوجود انھوں نے انتقام کے بجائے امن اور ضبط کی اپیل کی اور کہا کہ اسلام بدلے کے بجائے صبر و معافی کی تعلیم دیتا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر مسلمان تشدد کریں گے تو وہ شہر چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ۲۲مئی۲۰۱۸ء کو دہرادون میں ایک سکھ پولیس افسر نے جان پر کھیل کر ایک مسلم نوجوان کو ہندو بھیڑ سے بچایا۔ اس طرح کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اجتماعی نفرت کے مقابلے میں انسانی اخلاق کی اصل آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان ایک بات کو فوری طور پر چننا ہوتا ہے۔
کتاب کی اشاعت کا سال بھی ایک قابلِ توجہ پہلو ہے۔ کتاب ۲۰۲۶ء میں چھپی ہے، جب کہ عنوان کے مطابق کتاب ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء کا ریکارڈ پیش کرتی ہے۔ اس میں بعض اہم مقدمات کی بعد کی پیش رفت بھی شامل ہے، خصوصاً محمداخلاق کے مقدمے سے متعلق ۲۰۲۶ء تک کی معلومات درج ہیں۔ اس طرح کتاب کا بنیادی تاریخی خاکہ ایک عشرے کا ہے، لیکن اس کی بعض قانونی و واقعاتی معلومات اس دائرے سے آگے جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کو ملّی گزٹ کے آغاز، ۲۰۰۰ء سے ہی جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ مئی۲۰۰۴ء میں ایک شخص نے ای میل کے ذریعے کھلی دھمکی دی کہ’ہَٹ اسکواڈ بھیجا جائے گا‘ اور’تم سب جلد مر جاؤ گے‘۔ ۲۰۱۶ء میں وزارتِ آیوش پر رپورٹ شائع ہونے کے بعد رپورٹر کو گرفتار کیا گیا، پریس کونسل نے نوٹس جاری کیا اور دہلی پولیس نے اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کرنے کا نوٹس بھیجا۔ اپریل-مئی ۲۰۲۰ء میں سوشل میڈیا پوسٹ پر بغاوت کا مقدمہ درج ہوا، گھر پر چھاپہ پڑا، موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ قبضے میں لیا گیا اور گرفتاری کی کوشش کی گئی۔ اکتوبر ۲۰۲۰ء میں این آئی اے نے دیوار پھاند کر ڈاکٹر ظفرالاسلام کے گھر اور ’چیریٹی الائنس‘ کے دفتر پر چھاپہ مارا، دستاویزات، بہت سے لیپ ٹاپ، لاتعداد ہارڈ ڈرائیوز اور کاغذات اور پیسے اٹھا کر لے گئی۔ کوئی مقدمہ آج تک نہیں چلا، مگر کچھ ضبط شدہ سامان بھی واپس نہیں ملا۔
کتاب صرف ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والوں کا ریکارڈ نہیں، بلکہ اس سوال کا بھی ریکارڈ ہے کہ ایک معاشرہ اپنے قانون، اپنے ضمیر اور اپنی انسانیت کے ساتھ کہاں کھڑا ہے؟ اس کتاب کو اسی سوال کے ساتھ پڑھنا چاہیے، کھلی آنکھ اور مکمل انسانی حساسیت کے ساتھ۔ اس کے اعداد و شمار کو دیگر سرکاری، عدالتی، صحافتی اور تحقیقی ذرائع سے جانچا جا سکتا ہے۔ اس کے دعوؤں پر علمی بحث ہو سکتی ہے اور جہاں اس کی تصویر نامکمل ہو وہاں مزید تحقیق سے اسے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے: ہجوم کے ہاتھوں کسی انسان کی جان لینا، خواہ وہ کسی بھی مذہب، ذات یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، قانون اور انسانیت دونوں کی شکست ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اس حقیقت کو تسلیم کر لے اور انصاف کو ہجوم سے واپس عدالت کے ہاتھ میں دے دے، وہی اپنے جمہوری مستقبل کو محفوظ کر سکتا ہے۔
_______________
سوال : خدا کا شکر ہے کہ جماعت اسلامی کافی عرصہ سے اسلام کی خدمت کر رہی ہے لیکن ابھی تک گھروں پر خصوصی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بعض گھر ایسے بھی ہیں جن میں مرد تو تحریک کا کام انجام دے رہے ہیں، لیکن خواتین دعوتِ دین اور تحریکی جدوجہد سے بالکل ناواقف ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
جواب : آپ کے سوال سے یہ مترشح ہو رہا ہے کہ آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جن مردوں نے دعوت و تحریک کو سمجھ لیا ہے وہ بھی اپنی خواتین کو دعوت و تحریک کی طرف متوجہ نہیں کر رہے ہیں، اور آپ کے نزدیک یہ مردوں کی ایک کوتاہی ہے۔ بے شک مرد ’قوام‘ ہیں، گھر کے سربراہ ہیں، انھیں یہ ذمہ داری سنجیدگی کے ساتھ پوری کرنی چاہیے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اگر انھوں نے گھر کی طرف توجہ نہ کی تو وہ دعوت و تحریک کا کام یکسوئی کے ساتھ نہ کر سکیں گے، اور گھر ہی ان کی راہ میں سب سے بڑا روک بن جائے گا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے بہت واضح اور دوٹوک انداز میں اہل ایمان کی یہ ذمہ داری بتائی ہے کہ وہ گھروالوں کو دین کی تعلیم دیں، ان کی تربیت کریں تاکہ وہ کل جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔
قرآن کا ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۶ (التحریم ۶۶:۶) اے ایمان والو! بچاؤ، اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں، جو ہرگز سرتابی نہیں کرتے اس حکم سے جو اللہ نے انھیں دیا ہے، اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
اس واضح حکم کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ مرد جس کو اللہ نے خانگی زندگی کا سربراہ اور ’قوام‘ بنایا ہے، دوسری ذمہ داریوں کی طرح، اس کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس کی نگرانی میں گھر کے جو لوگ دیے گئے ہیں وہ ان کی تعلیم و تربیت کا ایسا بندوبست کرے کہ وہ خدا کے مخلص بندے بن کر رہیں، اور اسلام کے خادم بن کر جئیں، اور کل حشر کے میدان میں وہ جہنم سے نجات پانے والے صالحین میں شامل ہوں۔
تاہم، مرد اگر غافل اور لاپروا ہو تو یاد رکھیے عورتوں کا دین مردوں کے ذمے نہیں ہے۔ نہ مرد عورت کی ذمہ داریوں کا جواب دہ ہوگا۔ دین جس طرح مردوں کا ہے ٹھیک اسی طرح عورتوں کا بھی ہے۔ اگر عورتوں کو خدا نے شعور دیا ہے تو وہ خود توجہ کریں۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں غفلت برت رہے ہیں، تو خواتین خود آگے بڑھ کر دعوت و تحریک کو سمجھیں اور اللہ کی عائد کردہ دینی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ مردوں کی غفلت اور لاپروائی کو بہانہ نہ بنائیں۔ بلکہ جہاں مرد دین سے غافل ہوں، عورتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ انھیں متوجہ کریں اور راہِ راست پر لانے کے لیے دلسوزی، حکمت اور تسلسل کے ساتھ کوشش کریں۔
ایک مثالی گھر یا خاندان وہ ہے، جہاں مہر و محبت ہو، سلیقہ اور تہذیب ہو، خوشگوار تعلقات ہوں، باہم تعاون ہو، ــ مگر یہ سب کچھ اسلام کی روشنی اور دین دارانہ ماحول میں ہو اور پورا گھر اسلام کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ اس نمائندگی میں بلا شبہ سربراہی کا مقام مرد کو حاصل ہے، لیکن اس سے انکار کی کیا گنجائش کہ عورت کا رول بھی اس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
بلاشبہ مرد کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ان کی دینی، تہذیبی اور اخلاقی تعلیم و تربیت پر بھی توجہ دے، لیکن اسی پر تکیہ کیے بیٹھے رہنا اور اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرنا، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ ایک خاتون کو بھی دین کی طرف اسی طرح بطورِ خود توجہ کرنی چاہیے جس طرح ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے۔ مرد اگر توجہ نہیں کرتا ہے، تو اس کی شکایت کرنے یا اس کی غفلت پر اظہارِ رنج و افسوس کرنے سے اپنے فرض کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورتِ حال میں تو عورت کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے کہ ’قوام‘ کے حصے کا کام بھی کسی نہ کسی طرح اسے انجام دینا ہے۔ ’قوام‘ کی غفلت اور لاپروائی نے اس کی ذمہ داری میں اضافہ کر دیا ہے، اور ایسے گھرانے میں عورت کو اور زیادہ دلسوزی، توجہ اور لگن کے ساتھ دینی فرائض انجام دے کر ’قوام‘ کو بھی دینی فرائض کی طرف متوجہ کرنا ہے۔(مولانا محمد یوسف اصلاحی)
سوال :موجودہ مشاعرے جس نوعیت کے ہو رہے ہیں اور جو اس کی غرض و غایت ہے غالباً آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کیا دینِ اسلام ان مشاعروں میں شرکت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اس میں طرح اور بے طرح اپنا کلام پیش کیا جا سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ شعر و شاعری کا اسلام میں کیا مقام ہے؟
جواب : اگر نیت محض تفریح اور لہو و لعب کی ہو تو ناپسندیدہ ہے، اس لیے کہ موجودہ عام مشاعروں میں متعدد قسم کی ناگوار باتیں رواج پا گئی ہیں، اور اگر نیت، زبان و ادب کی ترقی یا اپنے اچھے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی ہو تو یقینا پسندیدہ ہے۔
شعر و شاعری بھی انسانی کلام کی ایک قسم ہے، نثر بھی کلام ہے اور نظم بھی کلام ہے۔ روایتوں میں آتا ہے: الشعر كلام حسنه حسن و قبيحه ، قبيح یعنی شعر بھی کلام ہے۔ جس طرح اچھے اشعار اچھے ہیں اور بُرے اشعار برے۔ ٹھیک یہی بات نثر پر بھی صادق آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز وہ مضامین اور وہ باتیں ہیں جن کا اظہار انسان اپنی زبان و قلم سے کرتا ہے۔ اگر بُرے مضامین اور بُرے خیالات کا اظہار کر رہا ہے تو وہ کلام بُرا ہوگا اور اچھے مضامین اور اچھے خیالات کا اظہار کر رہا ہے تو وہ کلام اچھا ہوگا۔ یہ اظہار نثر میں ہو یا نظم میں۔ ادب وشعر دراصل ایک قوت ہے۔ اس کو جس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اسی کے لحاظ سے اس کا مقام متعین ہوگا۔ اگر اس کا مقصد دین کی خدمت ہو تو اس کو اسلام میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔( مولانا سیّد احمد عروج قادری)
_______________