بعض احباب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’شہری زندگی کے مسائل اور لوگوں کی دنیاوی مشکلات حل کرانے کی جدوجہد کا اقامت ِ دین سے بھلا کیا تعلق ہے؟‘‘ پھر کچھ کرم فرما یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’جماعت ِ اسلامی تو معاشرے کی اصلاح اور شہادتِ حق کے لیے قائم ہوئی تھی، مگر یہ سڑکوں کی تعمیر، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی قوتیں لگانے کا جماعت کے مقصد ِ تاسیس و تحریک سے کیا تعلق بنتا ہے؟‘‘ یہ اور اس نوعیت کے سوالات اخلاص سے بھی کیے جاتے ہیں اور حکمت عملی سے گہری بے خبری کی بناپر بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ سوالات سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اصولی طور پہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اقامتِ دین کے لیے کوشاں اسلامی تحریک کے لیے عوام کے مسائل، تکالیف اور ان پر سرکاری و غیر سرکاری مظالم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک دینی تقاضا ہے، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور اسلامی دعوت و انقلابی جدوجہد کا لازمی جزو بھی ہے۔ اس عمل کو اقامت ِ دین کی جدوجہد سے غیرمتعلق سمجھنا، دین اور دین کے جامع اور ہمہ گیر تصور سے کماحقہٗ آگہی نہ ہونے پر مبنی واہمہ ہے۔ اسلام کسی ایسی تفریق کو قبول نہیں کرتا جہاں کچھ مخصوص اعمال کو ’دینی‘ ، جب کہ خلقِ خدا کی خدمت اور مظلوم کی حمایت اور دادرسی کو ’غیر دینی‘ سمجھا جائے۔
اس موقف کو سمجھنے کے لیے قرآن، سیرتِ طیبہؐ اور اسلامی تاریخ پر مختصراًنظر ڈالتے ہیں:
اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۲ۙ وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۳ۭ (الماعون۱۰۷: ۱-۳) تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزاکو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔[یعنی یتیم اور مسکین کے دُکھ سے بے حسی کو اللہ نے تکذیبِ دین قرار دیا ہے۔]
اس طرح قرآن کریم معاشی استحصال اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کو اقامتِ دین کی جدوجہد سے الگ نہیںکرتا، بلکہ اس جدوجہد کے لازمی جزو کے طور پر بیان کرتا ہے۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید پر مبنی اسلامی معاشرے کے قیام یا دوسرے لفظوں میں اقامت ِ دین کی دعوت اور جدوجہد میں اپنے اپنے دور کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مظالم اور عوام کی تکالیف کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی۔
اس طرح مدنی دور سے پہلے، مکی دور میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کے لازمی جزو کے طور پر مفلسوں، ناداروں، غلاموں اور کمزوروں کی دادرسی اور قریش کے استحصالی افراد کے خلاف گواہی بھی مرکزی طور پر دکھائی دیتی ہے۔
خلفائے راشدینؓ کا پورا زمانہ اس فکرمندی اور احساسِ ذمہ داری کی جیتی جاگتی مثال تھا کہ عوام کے دکھ درد کا خیال کرتے ہوئے اُسے دُور کرنے اور شہریوں کو راحت دینے کے انتظام و انصرام کو یقینی بنایا جائے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں سویا، کسی بیوہ کو آٹا تو نہیںچاہیے۔ ایک دفعہ ایک عورت بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہنڈیا چولہے پر چڑھائے ہوئے تھی، جب آپؓ کو معلوم ہوا تو آٹا خوداپنی پیٹھ پر لاد کر لائے۔
قحط کے زمانے میں حضرت عمرؓ نے اپنے لیے گوشت اور گھی کو ممنوع قرار دے لیا تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل:عام الرمادہ (قحط کے سال) میں حضرت عمرؓ نے عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اگرفرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر جائے تو عمر سےاس کی پوچھ گچھ ہوگی‘‘۔
یہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کے مطلوب خلافت راشدہ کے نظامِ حکومت کے سربراہ کا طرزِعمل تھا۔ خلفائے راشدینؓ عوام کی فلاح و بہبود کو رسولؐ اللہ کی اقتدا میں اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ گویا عامۃ المسلمین کی مشکلوں کو حل کرنے کی جدوجہد اقامت ِ دین کی جدوجہد کا لازمی جزو ہی نہیں، ایک اہم مقصد ہے، بلکہ ایک اسلامی اور عادلانہ نظامِ حکومت کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ ہرحق دار کو اُس کا حق پہنچایا جائے،اور ہر ظالم کو اس کے ظلم سے روک کر مخلوقِ خدا کو محفوظ بنایاجائے۔
اس ضمن میں سیّدنا ابوبکرؓ کے اوّلین خطبۂ خلافت کے یہ الفاظ یاد کیجیے: ’’تم میں جو کمزور ہے، میرے نزدیک قوی ہے، یہاںتک کہ مَیں اس کا اسے حق دلا دوں، اور تم میں سے جو طاقت ور ہے، وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں‘‘۔ اس اصول کا: ’’تقاضا یہ ہے کہ معاشرے کا ہرفرد اُن لوگوں کی دل سے عزّت کرے، جن کے حقوق ابھی ملنے ہیں۔ ان کے حقوق کی حمایت کرنا، ان کو ادا کرنے کی تلقین کرنا اور ان کو حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہونا ہرباحمیت مسلمان کا فرض ہے‘‘۔ ( تدبر قرآن، ج ۸، ص ۵۸۳)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دور میں زکوٰۃ کا نظام ایسا قائم کیا کہ زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ اس نظام نے عام لوگوں کے دُکھ درد ، معاشی استحصال اور ان کے ساتھ ہونے والی ہرطرح کی ناانصافی ہی کو ختم کیا تھا۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ’’مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بے جا طور پر عوام کے مسائل و مشکلات کے حل کی کوشش کو اقامت ِ دین کی جدوجہد کا حصہ بنا دیا‘‘۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سیّدمودودی نے کوئی نیا کام نہیں کیا۔ انھوں نے دراصل اُمت کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے۔
امام ابوحنیفہؒ (م:۷۶۷ء)اور ان کے شاگرد امام ابویوسفؒ (م:۷۹۸)کا عملی رویہ حکومت ِ وقت کے ساتھ تعاون کے بارے میں بالکل متضاد رہا۔ استاد نے ظالم حکمران اور اقتدار سے دُوری اختیار کی، جب کہ شاگرد نے اصلاح کی طرف مائل حکمران کی دعوت پر اقتدار میں شامل ہو کر اصلاحِ احوال کی کوشش کی۔ ان دونوں رویوں کا مقصد عوام کو حکومتی مظالم سے بچانا اور حقوق کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔
امام ابوحنیفہؒ نے عباسی حاکم ابوجعفر منصور کی پیش کش پر قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس پر منصور نے انھیں کوڑے لگوائے اور سرعام سزائیں دیں۔ ان کا موقف تھا کہ اقتدار کے قریب ہو کر ظالم حکمران کے فیصلوں پر شرعی مہر لگانے سے بہتر ہے کہ میں آزاد رہ کر حق بات کہوں۔ روایات کے مطابق انھوں نے اقتدار کے ظلم کے سامنے سمجھوتا کرنے کی بجائے عملاً قید و ابتلا کو ترجیح دی۔
امام ابویوسفؒ نے اس کے برعکس راستہ اپنایا۔ وہ ہارون الرشید کے دورِ خلافت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے، اور اسی حیثیت سے انھوں نے نظام کے اندر رہ کر نظام کی اصلاح کی۔ اپنی مشہور تصنیف کتاب الخراج میں انھوں نے ٹیکس کے نظام، زمین کی ملکیت، اور عوام پر عائد محصولات کے شرعی اصولوں کو منضبط کیا۔کتاب الخراج میں وہ صراحتاً لکھتے ہیں کہ عمال اور جمع کنندگانِ خراج کو رعایا پر نرمی کرنی چاہیے، کسی فرد کی استطاعت سے زیادہ ٹیکس نہیں لینا چاہیے، اور ظلم و زیادتی کرنے والے اہلکاروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلے میں ابن تیمیہؒ (۱۳۲۸ء)کا زاویۂ نظر ایک مختلف تاریخی و فقہی پس منظر رکھتا ہے۔ وہ ساتویں صدی ہجری کے ایک فقیہ و محدث تھے۔عوام پر مظالم اور حکمرانوں کے استحصال پر ان کا موقف نہایت واضح اور مضبوط ہے۔ان کی مشہور کتاب السیاسۃ الشرعیۃ فی إصلاح الراعی والرعیۃ کا بنیادی موضوع ہی حکمران اور رعایا کے تعلق میں عدل کا سوال ہے۔ ان کا مشہور فرمان ہے:
فَإنَّ النَّاسَ لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي أَنَّ عَاقِبَةَ الظَّلْمِ وَخِيمَةٌ، وَعَاقِبَةَ الْعَدْلِ كَرِيمَةٌ، وَلِهَذَا يُرْوَى: اللَّهُ يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الْعَادِلَةَ وَإِنْ كَانَتْ كَافِرَةً، وَلَا يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الظَّالِمَةَ وَإِنْ كَانَتْ مُؤْمِنَةً (مجموع الفتاویٰ ، ج ۲۸ ، ص ۱۲۸) بے شک لوگوں کا اس بات میں کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ ظلم کا انجام برا (وخیم) ہے اور عدل کا انجام عمدہ (کریم) ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ روایت کیا جاتا ہے: اللہ عادل ریاست کی مدد فرماتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو، اور ظالم ریاست کی مدد نہیں فرماتا اگرچہ وہ مومن ہو۔
ان کے نزدیک حکمرانی کا مقصد ہی رعایا کے دُنیوی و اُخروی مفاد کی حفاظت ہے، اور جو حکمران عوام پر ظلم کرے وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کا مرتکب ہے۔
ابن تیمیہؒ نے اس بات کو بہت وضاحت کے ساتھ اُجاگر کیا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ محض انفرادی گناہوں تک محدود نہیں، بلکہ حکمرانوں کے مظالم اور بیت المال کی بدانتظامی کی اصلاح بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا دائرئہ کار ہے۔ ان کے رسائل میں ٹیکس کے ظالمانہ نظام، غیر شرعی محصولات اور عوام پر زیادتی کرنے والے عہدیداروں پر سخت تنقید ملتی ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی فکر میں سیاسی استحکام اور فتنے سے اجتناب کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے، یعنی ظالم حکمران کے خلاف مسلح بغاوت کو وہ عموماً ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ اس سے بڑا فتنہ اور خوں ریزی جنم لے سکتی ہے۔یہ موقف ان کی مشہورکتاب الصبر علی جور الأئمة خیر من الخروج علیهم میں ملتا ہے۔ آواز اٹھانے اور نصیحت کرنے کو وہ درست بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر مسلح بغاوت کو آخری اور اکثر ناپسندیدہ راستہ قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہؒ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو حکمران کی جواب دہی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اصول کے تحت نہ صرف جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر اس کا اظہار وہ نصیحت اور علمی احتساب کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ مسلح بغاوت کی صورت میں۔ اس ضمن میں ان کی کتاب الحسبہ [نظامِ احتساب] دیکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح اٹھارھویں صدی میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ بھی معاشی استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو معاشی ظلم ختم کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ پھر ۱۹ویں صدی کے دوران بنگال میں ’فرائضی تحریک‘ ،دودھومیاں اور شہید تیتومیر کی تحریکیں بھی معاشی استحصال سے نجات پانے کے لیے انگریز اور ہندوزمین داروں سے ٹکرا جاتی ہیں۔
اس پس منظر کے ساتھ سیّد مودودی کے نزدیک اسلام محض چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ’نظامِ حیات‘ ہے، جس میں بنیادی عقائد، ارکان اسلام، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نوافل ،اذکار، تزکیہ، دعوتِ دین اور خدمت خلق کے ساتھ ساتھ حکومتی و ریاستی نظام، عوام کی خدمت اور حق گوئی پر مبنی سیاست، معاشی و معاشرتی عدل، بین الاقوامی تعلقات، بنیادی انسانی حقوق، اور معاشرہ و معاشرت سب شامل ہیں۔ چنانچہ، عوام کا معاشی استحصال اور سماجی فساد دراصل غلط حکومتی، ریاستی اور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں ،اور اس فساد کا اصل حل نظام کی تبدیلی (اقامتِ دین) میں ہے۔
انھوں نے اصلاح احوال کے لیے زور تدریجی، دستوری اور تحریکی جدوجہد پر دیا، یعنی دعوتِ حق، افراد کی اصلاح، منظم تنظیم و تحریک، اصلاحِ معاشرہ اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کی تبدیلی۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا اس پورے عمل کا حصہ ہے۔ وہ بالکل الگ تھلگ کسی ’سوشل ایکٹوازم‘ کے بجائے نظام کی اصلاح کو دعوت، تربیت، تنظیم کے دائرے سے مربوط رکھتے ہیں۔’ تحریکِ اسلامی‘ کی اصطلاح خود اس بات کی غماز ہے کہ ان کے نزدیک اجتماعی، منظم اور سیاسی جدوجہد ہی عوامی دکھوں کے مستقل حل کا راستہ دکھاتی اور بناتی ہے۔ وہ انفرادی یا وقتی احتجاج پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ اس شعورکو مسلسل تازہ و بیدار رکھتی ہے۔ اگر ظلم حد سے بڑھ جائے تو پھر ایک ہدف کے طور پر اُس مسئلے کے حل پر زیادہ قوت صرف کر دینا کوئی غیرتحریکی اقدام نہیں ہے۔
مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو صرف مسجد و منبر تک محدود تحریک نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے صاف لکھا ہے کہ اسلامی تحریک کو شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ شہادتِ عدل بھی دینی ہے۔ معاشی، سماجی اور سیاسی استحصال کے خلاف سینہ سپر ہو کر حق کی آواز بھی بلند کرنی ہے۔ اس مقصد کے لیے مزدور کی مزدوری، کسان کی فصل کے نرخ، اور بازار میں مہنگائی پر بات کرنی ہوگی۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تدبر قرآن میں لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج ، (الحدید ۵۷:۲۵)کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
رسولوں اور [الہامی] کتابوں کے بھیجنے کا مقصد واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں کہ لوگ زندگی کے ہرشعبے میں حق و عدل کے اختیار کرنے والے بنیں۔ عقائد میں وہ راہ اختیار کریں جو ہر کج پیچ سے پاک ہو، سیدھی اور بیچ (وسط) کی راہ ہو، اور اعمال میں، خواہ وہ انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے، وہ روش اختیار کریں جو حق وعدل پر مبنی اور ظلم و جَور کے ہرشائبے سے پاک ہو۔ معلوم ہوا کہ اللہ نے اپنے رسول محض وعظ سنا دینے کے لیے نہیں بھیجے، اور نہ اپنی کتابیں محض تلاوت کے لیے نازل کیں، بلکہ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کی راہ نمائی میں حق و عدل پر قائم رہنے والے اور اس کو قائم کرنے والے بنیں [ج۷، ص ۲۲۹]۔ قیامِ قسط [کا] یہ کام مجرد وعظ و تذکیر اور انذاروتبشیر سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے طاقت کی بھی ضرورت ہے‘‘ (ایضاً، ص ۲۳۰)
مولانا اصلاحی نے اسلامی ریاست میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کی پہلی ذمہ داری فلاحِ عامہ ہے۔ روٹی، کپڑا، انصاف اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر کے معاشی دُکھ کو قرآن کی روشنی میں اجاگر کرنا چاہیے۔ صرف تقریر کے ذریعے نہیں، بلکہ عملی خدمت کے ذریعے جیسے قرض حسنہ، تعلیم اور علاج میں مدد کے ذریعے۔ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو غیر دینی بات کہنا تو دُور کی بات ہے، بلکہ یہ تو دین کا لازمی تقاضا ہے۔ جو تحریک صرف اقتدار کی بات کرے اور عوام کی بھوک، ننگ اور ظلم پر خاموش رہے، وہ قرآن کی ہدایت سے رُوگردانی کی زد میں آتی ہے۔
اسی طرح سیّد قطب شہید کے نزدیک موجودہ نظام محض ناقص نہیں بلکہ ’جاہلیت‘ کا مظہر ہے۔ گویا مغربی و مسلم دونوں طرح کے حکمران، نظام اسلامی کے اصولوں سے مکمل انحراف پر مبنی نظام چلا رہے ہیں۔ عوام کا معاشی و سماجی استحصال اسی جاہلی نظام کی لازمی پیداوار ہے۔ عوامی دُکھ کی جڑ محض معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ انسان نے اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظام کو چھوڑ کر خود ساختہ نظام اپنا لیا ہے۔ اس لیے جاہلیت سے مکمل قطع تعلق کرکے انقلابی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اقامت ِ دین کی جدوجہد میں درج ذیل دونوں پہلو نمایاں مقام اور یکساں اہمیت رکھتے ہیں:
اگر اس جامع جدوجہد میں سے دوسرا پہلو نکال دیا جائے تو اسلام کی دعوت اور تحریک کی جدوجہدعوام میں اجنبی ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس تحریک نے عوام کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھا، عوام بھی اس کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھیں گے۔ اور جس نے عوام کے آنسو پونچھے، اللہ اسی کے ذریعے دین کو قائم کرے گا۔
اس اعتبار سے عوام کے دکھ درد، معاشی و معاشرتی مسائل اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک اسلامی فریضہ ہے، بلکہ اقامت ِ دین کی تحریک کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مظلوم کی حمایت اور عوام کی خدمت کے بغیر اقامتِ دین کی کوئی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں ہے کہ اقامتِ دین کا کام اور عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا دو الگ چیزیں ہیں۔ بلکہ اسلام میں عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا عین اسلامی کام ہے، اور اقامتِ دین کی جدوجہد اس کے بغیر نامکمل ہے۔
اس اصولی صورتِ حال کو مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں یوں بیان فرمایا ہے:
انبیا علیہم السلام کو جس مقصد کے لیے بھیجا گیا وہ یہ تھا کہ دُنیا میں انسان کا رویہ اور انسانی زندگی کا نظام فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی، عدل پر قائم ہو۔ ایک طرف ہرانسان اپنے خدا کے حقوق ، اپنے نفس کے حقوق اور ان تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق ، جن سے اس کو کسی طور پر سابقہ پیش آتا ہے ، ٹھیک ٹھیک جان لے اور پورے انصاف کے ساتھ ان کو ادا کرے۔ اور دوسری طرف اجتماعی زندگی کا نظام ایسے اصولوں پر تعمیر کیا جائے، جن سے معاشرے میں کسی نوعیت کا ظلم باقی نہ رہے، تمدن و تہذیب کا ہر پہلو افراط و تفریط سے محفوظ ہو، حیات اجتماعی کے تمام شعبوں میں صحیح صحیح توازن قائم ہو، اور معاشرے کے تمام عناصر انصاف کے ساتھ اپنے حقوق پائیں اور اپنے فرائض ادا کریں ۔ بالفاظِ دیگر انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصود عدلِ انفرادی بھی تھا اور عدلِ اجتماعی بھی ۔ وہ ایک ایک فرد کی شخصی زندگی میں بھی عدل قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ اس کے ذہن، اس کی سیرت، اس کے کردار اور اس کے برتاؤ میں توازن پیدا ہو ۔ اور انسانی معاشرے کے پورے نظام کو بھی عدل پر قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ فرد اور جماعت [معاشرہ] دونوں ایک دوسرے کی روحانی ، اخلاقی اور مادی فلاح میں مانع و مزاحم ہونے کے بجائے معاون و مددگار ہوں۔(الحدید، حاشیہ ۲۵، ص ۳۲۲)
گویا اقامت ِ دین کا مطلب معاشرتی، سماجی، معاشی اور سیاسی، غرض زندگی کے ہرشعبے میں دین قائم کرنے کی ہمہ پہلو جدوجہد ہے، اور یہ کہ دین کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی، انفرادی و اجتماعی تقویٰ و تزکیہ اور انسانوں کو ظلم، جبر اور قہر سے نجات دلانا ہے۔
_______________
انسانی زندگی میں وسائلِ معیشت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ معاشی سرگرمیوں کو نظر انداز کرکے اللہ کے نازل کردہ احکامات اور حقوق العباد کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں معاشی، معاشرتی، خاندانی و سماجی زندگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے کسب ِ حلال اور کسب ِ حلال کی طلب و کوشش کی ضرورت کو بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث: ۱۰۹۲۴) [رزقِ حلال کے] فرض ہونے کے ساتھ ساتھ رزقِ حلال کمانے کی طلب و کوشش [بھی] فرض ہے۔
حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، اَیُّ الْکَسْبِ أَطْیَبُ؟ قَالَ: عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہٖ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ (مسنداحمد، مسندالشامیین، حدیث: ۱۶۹۴۸) یارسولؐ اللہ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز تجارت‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں امت مسلمہ کی معاشی رہنمائی کے لیے نہ صرف آپؐ کے اقوال و ارشاد ملتے ہیں، بلکہ آپؐ کی معاشی سرگرمیوں کی عملی تصویر بھی ملتی ہے۔ آپؐ کی معاشی زندگی کے حوالے سے مختلف افکار و خیالات پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں معتبر و مستند احادیث کی روشنی میں معاشِ نبویؐ کی مختلف جہتوں کو پیش کرتے ہوئے اسلام کے معاشی نظام کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مستشرقین اور جدید مؤرخین کا نظریہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو انتہائی کمزور تھا، جس کی معاشی اور سماجی حالت انتہائی خستہ تھی، جب کہ خوش حالی معاشرے میں انسانی مقام کو بلند کرتی اور باعزّت بناتی ہے۔
دوسرا قابل غور نظریہ مشرقی سیرت نگاروں اور مسلمانوں کا ہے، جن کے مطابق آپؐ ایک ایسے اعلیٰ خاندان کے فرد تھے جس کو اس سوسائٹی میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن یتیمی و یسیری کے سبب آپؐ کی معاشی حالت کمزور تھی اور شاید یہ عین منشائے الٰہی تھا کیوںکہ دولت مندی کے بالمقابل فقرو فاقہ تقویٰ و طہارت سے زیادہ قریب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی کے حوالے سے جب بات کی جاتی ہے تو دواہم نکات پر نگاہ مرکوز ہوجاتی ہے جن پر غور کرنا اور ان کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے۔ آپؐ کی مکی زندگی دو اَدوار میں منقسم ہے: بچپن سے عنفوانِ شباب، اور عنفوانِ شباب سے بعد کا دور۔ پہلا دور آپؐ کے خاندان کی معاشی و سماجی حالت کو متعین کرتا ہے۔ دوسرا دور آپؐ کی ذاتی مہارت و محنت اور دیانت پر مبنی حالات کو بیان کرتا ہے اور آپؐ کی تاجرانہ حیثیت کو سامنے لاتا ہے۔
عنفوانِ شباب تک آپؐ کے ذرائع اور وسائل آمدنی اس طرح تھے:
مکان کے علاوہ وراثت میں آپؐ کو ملنے والے اسلحے اور گھریلو سامان کا ذکر بھی ملتا ہے:
ابن سعد و بلاذری نے بیان کیا ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپؐ کے پاس ایک تلوار بھی تھی جو آپؐ کو اپنے والد گرامی سے ترکہ میں ملی تھی۔ اس کا قوی قرینہ ہے کہ آپؐ کو اپنے والد/ والدین سے کچھ اور اسلحے، جیسے تیر و کمان، ڈھال، خود اور گھریلو ضروری سامان بھی ملے تھے‘‘۔
اس حدیث نبویؐ کی تشریح و تفسیر میں علما کے مابین اختلاف ہے:
۱- ابن ماجہ کے شارح شیخ سوید کی رائے کے مطابق آپؐ ہر بکری ایک قیراط (سکّے) کے عوض چرایا کرتے تھے۔
۲- علامہ عینی شارح بخاری نے الگ مفہوم بیان کیا ہے کہ ’قراریط‘ ایک مقام کا نام ہے اور وہ مقام اجیاد کے قریب ہے۔ آپؐ وہاں بکریاں چرایا کرتے تھے، اُجرت پر نہیں چراتے تھے۔
مذکورہ حدیث کو مستند احادیث کے مجموعے کتاب الاجارۃ اور کتاب التجارات میں منقول ہونے کے سبب اور ان کی تائید میں متعلقہ ابواب ’باب رعی الغنم علی قراریط‘ اور’باب الصناعات‘ کی وجہ سے اس مفہوم کو راجح قرار دیا گیا ہے کہ آپؐ یہ خدمت اُجرت پر انجام دیا کرتے تھے۔
یہ امر یقینی ہے کہ آپؐ نے اپنی تجارت کی ابتدا اصولِ مضاربت کے مطابق کی، یعنی مکہ مکرمہ کے مال دار جو دُور دراز کے سفر اور بازاروں کی مصروفیات سے گریز کرتے تھے، یا بعض وجوہ سے خودتجارت نہیں کرسکتے تھے، وہ دوسرے محنتی اور کارگزار امانت دار اشخاص کو اپنا مالِ تجارت دے کر عرب کے مختلف بازاروں اور قریبی ممالک شام ویمن وغیرہ بھیجا کرتے تھے، اور نفع کا ایک تناسب جو فریقین میں طے پا جاتا تھا ’مضاربوں‘ کو ادا کردیتے تھے۔ اس طرح دونوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے مالِ تجارت کو شام لے جانے سے قبل آپؐ نے تجارت کا آغاز کرلیا تھا۔ بعدازاں حضرت خدیجہؓ کے مال کے ساتھ اور ان کے غلام میسرہ کی معیت میں آپؐ نے شام کی طرف تجارت کا سفر کیا جس میں دیگر اسفار کے بالمقابل زیادہ منافع ہوا اور حضرت خدیجہؓ نے دوسروں کے مقابلے میں آپؐ کو حسب وعدہ زیادہ اُجرت دی اور اپنے غلام میسرہ سے آپؐ کے اخلاقی معاملات سن کر بہت متاثر ہوئیں اور انھی کے زیر اثر شادی کا معاملہ طے پایا ۔
بعض روایات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعثت نبویؐ کے بعد بھی آپؐ کا تجارتی سلسلہ جاری رہا تھا۔ اس کے ثبوت میں ابن کثیر کا ایک مرفوع بیان بھی موجود ہے کہ :’’ابوسفیان بن حرب اموی اپنے دوست امیہ بن ابی الصلت ثقفی کے ساتھ تجارت کے لیے شام گئے اور وہاں دو ماہ قیام کرکے مکہ واپس آئے اور پھر یمن کے سفرِ تجارت پر چلے گئے جہاں پانچ ماہ قیام کیا اور پھر مکہ مکرمہ واپس آئے۔ لوگوں کو خبر ہوئی تو وہ ان سے ان کی قیام گاہ پر آکر ملنے اور اپنے سامان تجارت کے بارے میں پوچھنے لگے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس وقت ابوسفیان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ آپؐ نے ابوسفیان کو سلام کرکے مبارک باد دی اور ان کے سفر و قیام کے بارے میں گفتگو کی، مگر اپنے سامان کے بارے میں کچھ نہ پوچھا اور تشریف لے گئے۔ ابو سفیان نے ہند سے کہا کہ آپؐ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ قریش کے ہرآدمی نے جس کا سامان میرے پاس تھا، مجھ سے اس کے بارے میں ضرور پوچھا مگر آپؐ نے اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا‘‘۔ہند نے کہا’’آپ کو ان کا حال نہیں معلوم؟ ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
ابوسفیان اس کے بعد طواف کعبہ کے لیے گئے تو آپؐ سے ملاقات ہوئی اور آپؐ سے کہا کہ آپؐ کا سامان اتنا اتنا ہوگیا ہے اور اس میں نفع ہوا ہے۔ آپؐ کسی کو بھیج کر اسے منگوالیں اور آپؐ سے وہ معاوضہ بھی نہ لوں گا جو اپنی قوم سے لیتا ہوں۔ یہ سن کر آپؐ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تب تو میں بالکل نہ لوں گا۔ ابوسفیان نے یہ سن کر کہا کہ اچھا آپؐ کسی کو بھیج دیں اور میں اتنا ہی لے لوں گا، جو اپنی قوم سے لیتا ہوں۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا سامان تجارت منگوالیا اور ابوسفیان نے دوسروں کی مانند آپؐ سے اپنا معاوضہ لے لیا‘‘۔
یہ روایت واضح طور پر بعثت سے ذرا قبل و بعد آپؐ کی تجارت میں فعال دل چسپی کو بیان کرتی ہے، جو مضاربت کے اصولوں پر مبنی تھی۔ اس کے علاوہ اس سلسلے کی ایک روایت انساب الاشراف میں بلا ذری نے بیان کی ہے جس کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد تجارت کا سلسلہ یقینا جاری رہا تھا۔ البتہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مکی عہد میں حضرت خدیجہؓ کی دولت و تجارت کو کافی اہمیت حاصل تھی۔ بعض قدیم و جدید مؤرخین اور مفسرین کے خیال میں آپؐ کی خوش حالی اور مال داری میں حضرت خدیجہؓ کی دولت کا بھی ایک کردار تھا اور یہ منجانب اللہ تھی، تاکہ آپؐ دنیا میں معاش کے مسائل سے بری الذمہ ہوکر پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کے دین کو پھیلانے میں ہمہ وقت مصروف ہوجائیں۔
اس کے علاوہ آپؐ کے سازو سامان اور مال کا اندازہ ان روایات سے بھی ہوتا ہے کہ آپؐ بعثت سے قبل ہر سال حج میں شریک ہوتے تھے اور عرفات میں عام حجاج کے ساتھ قیام فرماتے تھے۔ کسی حج کے موقعے پر جبیر بن مطعم بن عدیؓ نے آپؐ کو اپنے ایک اونٹ (بعیر) پر وقوفِ عرفات کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی کے وقت نزولِ قرآن کے بعد آپؐ کو تسلی دی اور آپؐ کی دل جوئی کی اور آپؐ کی صفت فیاضی و مہمان نوازی، کمزوروں وبیوائوں کی امداد، اجنبیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا جو ذکر کیا، اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اوصاف پہلے ہی سے آپؐ کی فطرت میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ ابن اسحاق نے اسلام کے لیے آپؐ کے افراد خاندان کی دعوتوں کے انتظام کا ذکر کیا ہے۔
’’جب قرآن مجید کی سورۃ الشعراء کی آیت ۲۱۴: وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ (اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو باخبر کرو) نازل ہوئی، تو آپؐ نے حضرت علیؓ کے ذریعے ایک صاع کا کھانا تیار کرایا، اور اس پر سالم بکری کا پکا ہوا گوشت رکھوا دیا اور دودھ سے بھرا ہوا ایک لگن رکھوایا اور بنوعبدالمطلب کو دعوتِ طعام دی، جس کے لیے ۴۰ مرد جمع ہوئے۔ انھوں نے کھانا پیٹ بھر کر کھایا، لیکن ابو لہب کے بہکاوے میں آکر مجلس خراب ہوگئی اور آپؐ دعوت پیش نہ کرسکے۔ آپ ؐنے پہلے دن کی مانند دوسرے دن بھی دعوتِ طعام کا انتظام کیا اور اس بار مختصر دعوت پیش کی۔ ان دونوں دعوتوں پر آپ ؐکے مال کے خرچ ہونے کا معاملہ ظاہر ہے‘‘۔
اس ضمن میں ابن اسحاق کی ایک روایت بھی ہے، جو انھوں نے ’نزول وحی کے بعد آپؐ کے معمول‘ کے عنوان کے تحت درج کی ہے، اور جس میں آپؐ نے فرمایا تھا:’’اے اولادِ عبدمناف! اے اولادِ عبد المطلب! اے فاطمہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی! اے صفیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پھوپھی! تم لوگ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچائو، کیونکہ میں اللہ کی گرفت سے تم کو بچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ البتہ میرے مال میں سے تم جو چاہو مجھ سے مانگ سکتے ہو‘‘۔
lحضرت ابوبکرؓ اور دیگر صحابہ کا ایثار: مذکورہ روایات سے مکّی دور میں آپؐ کے مال کا صاف ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی صحابیؓ اور جاں نثار دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، جنھوں نے ہر موقعے پر اپنے تعلق و محبت کا نذرانہ پیش کیا۔ آپؐ نے خود ان کے بارے میں فرمایا کہ ’’مجھے ابوبکر کے مال و خدمت سے جتنا فائدہ پہنچا اتنا کسی سے نہیں پہنچا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہجرت کے وقت مدینہ جانے کے لیے سارے انتظامات، یعنی زادِ سفر، سواری، خدمت و رہبری جس خوبی کے ساتھ انجام دیے، وہ آپؐ سے محبت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح دیگر صحابہؓ نے بھی ایثار کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ارقم بن ابی ارقم مخزومی نے اپنا مکان دعوت و تعلیم کے لیے آپؐ کو پیش کیا تھا جو دارارقم کہلاتا تھا۔
_______________
ہر نظریاتی تحریک کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اگلی نسل کو اپنا ہمنوا بنا سکتی ہے یا نہیں؟ جین زی (Gen Z)، یعنی تقریباً ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، اس وقت دنیا کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہے، اور مسلم دنیا میں تو یہ نسل اور بھی نمایاں ہے۔ اگر کوئی اسلامی تحریک اس نسل تک نہ پہنچ سکی، تو مسئلہ صرف اس کی توسیع نہ ہونے کا نہیں، بلکہ اگلے پچیس برسوں میں وہ تحریک پوری طرح سکڑ کر رہ جائے گی۔
اس نسل سے ربط اور نفوذ کے لیے اسلامی تحریکوں کو درج ذیل اہم تبدیلیاں کرنی ہوں گی:
جب ہم جین زی کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں، تو بالعموم اطاعتِ نظم کا سوال ہمارے اکثر افراد کے سامنے انتہائی شدت کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ اس گفتگو کا نازک ترین سوال ہے، اور اس کا دیانت دارانہ جواب یہ ہے کہ، محض (اندھی) اطاعت کا جذبہ اس نسل میں پیدا نہیں کیا جا سکتا، اور شاید کرنا بھی نہیں چاہیے، البتہ شعوری، بااعتماد اور مضبوط تر اطاعت ضرور پیدا کی جا سکتی ہے۔ اسلام میں مطلق اطاعت صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ تنظیمی و امارتی اطاعت مشروط، معروف میں اور مشاورت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ گویا ’جواز مانگنا‘ اسلامی تنظیمی روایت سے انحراف نہیں بلکہ عین اس کی بازیافت ہے۔ جین زی کا سوالیہ مزاج درحقیقت تحریک کے لیے اپنی اصل شورائی روح کی طرف لوٹنے کا محرک بن سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ اطاعت کی نفسیات بدلی ہے، مگر ضرورت اور اہمیت نہیں۔ تنظیمی نفسیات کی تحقیق بتاتی ہے کہ نئی نسل ڈسپلن کی مخالف نہیں۔ وہ فوج، اسٹارٹ اپس اور کھیلوں کی ٹیموں میں سخت ڈسپلن قبول کرتی ہے، بشرطیکہ تین چیزیں موجود ہوں: (الف) مقصد کی وضاحت (میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟)، (ب) قیادت پر اعتماد (کیا یہ فیصلہ اہلیت اور دیانت سے ہوا؟)، اور (ج) آواز کا حق (کیا میں اختلاف ریکارڈ کرا سکتا ہوں؟)۔ جہاں یہ تینوں موجود ہوں، وہاں جین زی کی اطاعت پرانی نسل کی رسمی اطاعت سے زیادہ گہری ثابت ہوتی ہے۔اس سلسلے میں تحریکِ اسلامی کے لیے درج ذیل عملی ماڈل قابلِ عمل ہو سکتا ہے:
اس تجزیے کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ تحریک جین زی کی ہر خواہش کے آگے سپر ڈال دے۔ اس نسل میں عجلت پسندی، مستقل مزاجی کی کمی، آن لائن شور کو کام سمجھ لینے، اور تنقید کو ہی مقصد بنا لینے کے امراض بھی پائے جاتے ہیں۔ تحریک کا کام آئینہ بھی بننا ہے اور سانچا بھی۔ ان کے جائز مطالبات (شفافیت، شرکت، توجیہ) قبول کیے جائیں اور ان کی کمزوریوں (بے صبری، سطحیت، انفرادیت کی افراط) کی تربیت کی جائے۔ اس سلسلے میں مطلوب چیز ان کی منہ بھرائی (appeasement) نہیں بلکہ حکیمانہ مطابقت (adaptation) ہے۔
جین زی کا مسئلہ محض نوجوانوں کے شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ تحریک کی توسیع اور استحکام دونوں کا مرکزی سوال ہے۔ آگے اس امر پر گفتگو کی جائے گی کہ نئی نسل میں نفوذ توسیع کی ہرجہت اور استحکام کے ہر ستون سے کس طرح براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
توسیع و استحکام کے سنگم پر ایک اہم عملی مسئلہ طلبہ و نوجوانوں کی ذیلی تنظیموں سے مرکزی تحریک میں منتقلی کی رفتار میں کمی بھی ہے۔ بیشتر تحریکوں کی طلبہ و نوجوان تنظیمیں ہر سال ہزاروں تربیت یافتہ نوجوان فارغ کرتی ہیں، مگر ان کی ایک معتدبہ تعداد مرکزی تحریک سے باقاعدہ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس رساؤ کے اسباب پر غور کیا جائے تو تین چیزیں نمایاں ہوتی ہیں:
اس کا حل ایک منظم راہداری (Structured Pathway) ہے۔ فراغت سے قبل ہی ہرطالب علم کا تحریک کی مقامی تنظیم سے تعارف، فراغت کے فوراً بعد مرکزی تحریک میں باضابطہ شمولیت کی کوشش ہو۔ نئے شہر منتقل ہونے والوں کی خودکار منتقلی رابطہ (ہینڈ اوور)، اور تین سال کے اندر ذمہ داری کی تفویض۔ یہ ایک اقدام بیک وقت توسیع (تیار افرادی قوت کی شمولیت) اور استحکام (نسلی تسلسل اور دوسری صف) دونوں کی خدمت کرتا ہے۔ اس لیے اسے اولین ترجیح ملنی چاہیے۔
متبادل منظرنامے کے سلسلے میں عرض ہے کہ اگر کوئی تحریک موجودہ روش پر قائم رہی تو اگلے ۱۵،۲۰ برسوں میں متوقع نتائج درج ذیل ہو سکتے ہیں:lکیڈر کی اوسط عمر میں مسلسل اضافہ اور تعداد میں بتدریج کمی۔lذیلی تنظیموں اور مرکزی تحریک کے درمیان ثقافتی خلیج مزید گہری ہوگی۔ lملت کے نوجوانوں کی توانائی غیر منظم آن لائن شخصیات، وقتی مہمات یا مسابقت پذیر تنظیموں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔l آخرکار تحریک ایک زندہ و متحرک قوت سے سکڑ کر ایک محدود فکری حلقے اور اداروں کے نگراں ٹرسٹ میں تبدیل ہو جائے گی۔یہ منظرنامہ ناگزیر نہیں، مگر اس سے بچنے کی واحد راہ وہی ہے جو اس مقالے کا موضوع ہے: نئی نسل میں شعوری، منظم اور تیز رفتار نفوذ۔
اس اہم ضرورت اور تقاضے کو سمجھتے ہوئے تحریک اسلامی کو فوری طور پر ایک متعین مدت، مثلاً چار سال ، کے لیے ایک ہنگامی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا، جس پر مرکزی، علاقائی اور مقامی سطح تک نفاذ ہو۔ اس میں ہر سال کے لیے درج ذیل نکات کے مطابق تفصیلی پروگرام طے کیے جائیں:
lمستقل اقدامات: قیادت کی ریورس مینٹرنگ (نوجوان نسل اپنی بزرگ قیادت کو ڈیجیٹل دنیا کی تربیت دے، انھیں ان کا استعمال سکھائے، اس سے دو طرفہ اعتماد بنتا ہے)۔ سالانہ یوتھ پارلیمنٹ جس کی قراردادیں مرکزی شوریٰ میں باقاعدہ زیرِ غور آئیں، اور ہر تنظیمی فیصلے پر ’جین زی ٹیسٹ‘: کیا ہم اس فیصلے کی توجیہ اپنے بیس سالہ کارکن کو اطمینان بخش انداز میں دے سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو فیصلے پر نظر ثانی ہو۔
جین زی اسلامی تحریک کے لیے خطرہ نہیں، آئینہ ہے۔ اس کے سوالات تحریک کو اس کی اپنی شورائی، اجتہادی اور دعوتی اصل کی طرف لوٹنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جو تحریک کبھی اپنے عہد کے تعلیم یافتہ نوجوان کی زبان بول کر اٹھی تھی، اس کے لیے آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ ’’نئی نسل ہماری بات کیوں نہیں سنتی؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’ہم نئی نسل کی زبان میں بات کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اگر ہم ایسا کر سکیں تو نئی نسل تحریک کی آغوش میں آئے گی۔ تحریک میں اطاعت ختم نہیں ہوگی، بلکہ رسمی اطاعت سے شعوری رفاقت میں بدلے گی۔ اور شعوری رفاقت ہی درحقیقت وہ چیز ہے جو اقامت ِ دین جیسے طویل اور صبر آزما مشن کو اگلی نسل تک منتقل کر سکتی ہے۔
_______________
ماضی میں جس طرح ’پتھر کے دور‘ میں خوراک، ’زرعی دور‘ میں زمین اور پھر ’صنعتی دور‘ میں مشینوں اور توانائی پر مشتمل فیکٹریوں کو مال کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، اسی طرح یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد ’اطلاعاتی دور‘ میں ڈیٹا یا معلومات کو مال کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایک عام انسان دن بھر دفاتر میں کمپیوٹر اسکرین اور پھر فارغ وقت میں اسمارٹ فون پر جڑا ایک ڈیجیٹل زندگی گزار رہا ہے۔ اور اس کے چھوڑے ہوئے ڈیجیٹل قدموں کے نشان [Digital Footprints] ’مصنوعی ذہانت‘ کے حصول کا باعث بن رہے ہیں۔
’مصنوعی ذہانت‘ کی اس تیز رفتار ترقی کو ذہانت کی صنعتی پیداوار سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ ماضی میں جیسے پہلے فیکٹریاں مزدوروں کی مدد سے مال تیار کرتی تھیں، اب ذہانت کی صنعتی پیداوار کی جارہی ہے۔ اور آنے والے دنوں میں انسانی مزدوروں کی جگہ ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس سسٹم [AI Agents] لے لیں گے۔
جس طرح آج ایک امریکی کمپنی کا پاکستانی نمائندہ پاکستان میں بیٹھ کر امریکا میں موجود کسی صارف کا مسئلہ حل کررہا ہوتا ہے، اسی طرح اب ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس سسٹم [AI Agents] آگئے ہیں جو دن رات، بغیر تنخواہ اور بغیر سوئے اسی کام میں جتے رہتے ہیں۔ اب یہی اے آئی ایجنٹس آپ کی دی گئی ضرورت کے مطابق سوفٹ وئیر وغیرہ بھی بنارہے ہیں اور بغیر کسی انسانی مدد کے مشکل فیصلے مثلاً کسی کی جانب سے کی گئی ڈیجیٹل ادائیگی کی واپسی کا فیصلہ، یا کسی کام کے لیے کسی دوسرے اے آئی ایجنٹ کی خریداری اور رقم کی ادائیگی بھی کررہے ہیں۔ لہٰذا، اب یہ کہا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اربوں مالیت کی کمپنیوں کے مالک بہت سارے لوگ نہیں، بلکہ فرد واحد ہوگا جو اپنی کمپنی کا سارا کام ان اے آئی ایجنٹس کی مدد سے انجام دے گا۔
ظاہر ہے جب یہ کمپیوٹر پر چلنے والے اے آئی ایجنٹس کام کریں گے، تو یہ کسی خریداری کی ادائیگی بھی ڈیجیٹل طریقے مثلاً ’بٹ کوائن‘ یا ’اسٹیبل کوائن‘ سے کریں گے۔ اور جو موضوع آج حلال و حرام کی بحث بنا ہوا ہے ایک عام چلن بن جائے گا۔
مستقبل کی کمپنیاں کیسی ہوں گی؟ اس بارے میں جاننا ہے تو چین کی ’تاریک فیکٹریوں‘ [Dark Factories] کے بارے میں پڑھیے۔ چین میں اب ٹکنالوجی، روبوٹکس اور ’مصنوعی ذہانت‘ کے ملاپ سے ایسی فیکٹریاں بنائی جارہی ہیں جہاں سارا کام خودمختار ربوٹس [Humanoid Robots] کررہے ہیں۔ کیونکہ ان فیکٹریوں میں انسانوں کا عمل دخل نہیں ہے۔ اسی لیے ان فیکٹریوں میں روشنی، ٹھنڈک اور گرمائش کا اہتمام بھی نہیں کیا جارہا۔ اسی لیے ان فیکٹریوں کو ’تاریک فیکٹریاں‘ کہا جارہا ہے۔ اس کا نتیجہ بہتر اور مسلسل پیداوار کی صورت میں مل رہا ہے۔ یہاں مزدوروں کی ہڑتال، دفتری سیاست یا انسانی غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہے جو بالآخر بہتر منافع کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح آج کل ایک کمپنی میں مختلف شعبے مثلاً مال کی پیداوار کے لیے پروڈکشن کا شعبہ، اس کے لیے درکار مال کی خریداری کے لیے خریداری کا شعبہ، پھر تیار مال کو بیچنے کے لیے سیلز اور مارکیٹنگ کا شعبہ، حساب کتاب کے لیے فنانس کا شعبہ، اور ان تمام شعبوں میں کام کرنے والی افرادی قوت کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے الگ شعبہ درکار ہوتا ہے۔ لیکن جب ’مصنوعی ذہانت‘ کے سسٹمز عام ہوں گے تو ہر کام اے آئی ایجنٹس کریں گے۔ مال ایک ’تاریک فیکٹری‘ میں ربوٹس کی زیرنگرانی تیار ہوگا، مارکیٹنگ اور سیلز کے ماہر اس مال کو بیچنے کا کام کریں گے، حساب کتاب کے ماہر کمپنی کی مالیات سنبھالیں گے اور بہت سے شعبے مثلاً افرادِ کار کو سنبھالنے والا شعبہ [HR]، تنخواہیں دینے والا شعبہ [Payroll] وغیرہ ختم ہوجائیں گے، کیونکہ جب ملازمین ہی نہیں تو ان کو سنبھالنے اور تنخواہ دینے کا جھنجٹ بھی نہیں۔
صورت حال یوں ہوگئی ہے ’مصنوعی ذہانت‘ کی کمپنیاں بڑے پیمانے پر انسان نما ربوٹس [Humanoid Robots] کی پیداوار میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگلے چار برسوں میں ۱۰ لاکھ سے زیادہ ربوٹس انسانوں کے درمیان گھومتے اور کام کرتے دکھائی دیں گے۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ انڈیا میں پھیلی غربت کا فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف ’مصنوعی ذہانت‘ کی کمپنیاں لوگوں کو، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، روزمرہ کے کام کرتے وقت اس کی ویڈیو بنانے کے فی گھنٹہ ڈھائی سو روپیہ دے رہی ہیں، تاکہ وہ ویڈیوز بعد میں انسان نما ربوٹس کی تربیت میں استعمال کی جائیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی ۲۴ جون ۲۰۲۶ء کی ایک خبر کے مطابق یہ خواتین اپنے سر پر اسمارٹ فون لگا کر دن بھر اپنا کام کرتی ہیں جس میں کھانا بنانا، صفائی کرنا، برتن دھونا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اور سر پر لگا اسمارٹ فون اس سارے عمل کی ویڈیو بنا کر اے آئی کی کمپنیوں کو بھیج دیتا ہے۔ پھر ان ویڈیوز کے ذریعے Humanoid Robots کی تربیت اور استعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ جب کمپنی کے لیے دفتر، دفتر کے لیے لوازمات، اور سب سے بڑھ کر ملازمین کی ضرورت نہیں رہے گی، تو منافع کی شرح میں بھی بے حساب اضافہ ہوگا۔ یہاں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب فرد واحد ہی اربوں ڈالر مالیت کی کمپنی کا مالک ہوگا تو پھر ایک نئی اشرافیہ پیدا ہوجائے گی۔ جس طرح زمین نے جاگیردار پیدا کیے، فیکٹریوں نے صنعت کار پیدا کیے، اطلاعاتی دور نے گوگل اور فیس بک جیسے ٹکنالوجی دیو [Tech Giants] پیدا کیے ، اسی طرح اب وہ کمپنیاں اس دور میں سب سے آگے نکل رہی ہیں جو ’مصنوعی ذہانت‘ پر کام کررہی ہیں۔ یعنی جتنی زیادہ ذہانت کی صنعتی پیداوار آپ کرسکتے ہیں، اس اشرافیہ میں آپ کا مقام اتنا ہی بلند ہوگا۔
فی الحال تو ارب پتی کاروباری اور ان کے ساتھ جڑے ماہرین اس سب کو نہایت خوشنما بنا کر پیش کررہے ہیں۔ کام سے آزاد معاشرہ کی باتیں ہورہی ہیں۔ گویا زمین پر اسی طرح فارغ البالی ہوگی جیسے جنت میں۔
اس تصویر کا ایک بھیانک رخ بھی ہے۔ ’مصنوعی ذہانت‘ جیسے جیسے عام ہورہی ہے، اس کو استعمال کرنے والی کمپنیوں کا منافع بھی بڑھ رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انسانی وسائل کی ضرورت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ لہٰذا پچھلے چند مہینوں میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کے نکالے جانے کی خبریں اب عام ہورہی ہیں۔ دلچسپ لیکن ساتھ ہی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پہلے اگر کسی کمپنی سے ملازمین کے نکالے جانے پر اس کمپنی کے شیئرز کی قیمت اسٹاک مارکیٹ میں گر جاتی تھی، تو اب ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ اس کی وجہ منافع میں اضافہ ہے۔
ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی کال سینٹر انڈسٹری میں، جو تقریباً ۶۰ لاکھ لوگوں کے روزگار کا بندوبست کرتی ہے، تقریبا آدھی نوکریاں اگلے سال کے آخر تک ختم ہوجائیں گی۔ کیونکہ ان کی جگہ اے آئی ایجنٹس لے لیں گے جو خرچے میں ۸۵ فی صد تک کمی لے آئیں گے۔
آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ جس طرح ہم اپنے استعمال کے لیے بجلی خریدتے ہیں، اسی طرح مستقبل میں ہم ضرورت پڑنے پر ’ذہانت‘ خریدا کریں گے۔ یعنی کسی اکاؤنٹنٹ، استاد، وکیل، سوفٹ وئیر انجینئر کی جگہ اے آئی ایجنٹ کی سہولت خرید رہے ہوں گے۔
لیکن یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا اور معاشرے پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اس کا اندازہ ذیل میں دی گئی ایک تحریر سے لگالیں جو ایک تجربہ کار برطانوی سوفٹ وئیر انجینئر نے نوکری سے فارغ ہوجانے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھی۔ نوکری سے نکالے جانے کے صدمے اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کے خوف کے اظہار کے بعد وہ لکھتا ہے:
That's not even the sad thing. The sad thing is that I have A TON to contribute. I can upskill devs. I can fix bugs. I can design systems. I can bridge between departments. I have an exceptional track record. An impressive following. I ve written books. My GitHub is popular. I can't do anything with any of it.There's obviously work to be done. But nobody wants my services. Not in the UK and not in Europe. I've never seen anything like this.
’درد اس بات کا نہیں ہے [کہ میں تقریباً دو سال سے بے روزگار ہوں]، درد یہ ہے کہ میں اب بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں۔ میں نئے آنے والوں کی تربیت کرسکتا ہوں، مسائل حل کرسکتا ہوں، سسٹم تیار کرسکتا ہوں، مختلف شعبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہوں۔ میری پچھلی کارکردگی شاندار ہے۔ میرے [سوشل میڈیا پر] بے شمار پیروکار ہیں۔ میں [سوفٹ وئیر کے موضوع پر] کتابیں لکھ چکا ہوں۔ میرا گٹ ہب [اوپن سورس پروگرامز کی ایک ویب سائٹ] بہت مشہور ہے، لیکن اس سب کے باوجود میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں۔ میری خدمات کی کسی کو ضرورت نہیں۔ نہ برطانیہ میں اور نہ یورپ میں ہی۔
گویا جس مستقبل [Career] کے لیے یہ معاشرہ ہم کو بچپن سے تیار کرتا آرہا ہے، جس مستقبل کے حصول کے لیے ایک فرد اپنی زندگی کے قیمتی ترین بیس بائیس سال لگادیتا ہے، جس مستقبل کے سہانے خواب سجائے بچے، نوجوان سب ایک لگے بندھے نظام میں دن رات محنت کررہے ہیں، وہ مستقبل یا نوکری محفوظ بھی رہے گی یا نہیں؟ اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ امریکا میں نوکریوں کی صورتِ حال اتنی نازک ہوچکی ہے کہ بعض جامعات کو اپنی تشہیر کے لیے کئی سال پرانے ڈیٹا کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ نئے فارغ التحصیل طلبہ کو حصولِ ملازمت میں زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔
کام کی بدلتی شکلوں کی وجہ سے نوکریوں کی خراب صورتِ حال ہو، یا ملکی و غیرملکی قرضوں کے جال کے باعث کاغذی نوٹ کی گرتی اہمیت کی حکومتی پریشانی ہو، یا کم محنت سے اپنے نفع میں زیادہ اضافے کی سرمایہ دارانہ خواہش، اس وقت سب کی امیدوں کا مرکز ’مصنوعی ذہانت‘ بن چکی ہے۔ ماہرین معیشت کے خیال میں ’مصنوعی ذہانت‘ کا عروج، جسے ’خدائی ذہانت‘ کہا جاتا ہے، ہمیں صرف کام کے غم سے ہی آزاد نہیں کرے گا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ ہمیں ایسا معاشی عروج بھی دے گا جس کا تصور تاریخ انسانی میں نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے خیال میں اگر موجودہ ترقی [Growth] کی رفتار اسی طرح رہی تو انسان اپنی زندگی میں کم سے کم تین سے چار دفعہ اپنا معیار زندگی پچھلے معیار زندگی کے مقابلے دُگنا بہتر ہوتا دیکھے گا۔
اوکسفرڈ یونی ورسٹی سے وابستہ مشہور فلسفی نک بوسٹرم [Nick Bostrom] اپنی کتاب ’خدائی ذہانت: راستے، خطرات، حکمت عملی‘ [Super intelligence: Paths, Dangers, Strategies] میں انسانی تاریخ میں معاشی ترقی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان نے کیسے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جنگلات سے نکل کر بستیاں بسائیں، کس طرح ’زرعی دور‘ نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو بہتر کیا جس کا نتیجہ مزید ترقی کی صورت میں نکلا۔ اور کس طرح ’صنعتی دور‘ نے اس ترقی کو بام عروج پر پہنچایا۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
A few hundred thousand years ago... growth was so slow that it took on the order of one million years for human productive capacity to increase sufficiently to sustain an additional one million individuals living at subsistence level. By 5000 BC, following the agricultural revolution, the rate of growth had increased to the point where the same amount of growth took just tow centuries. Today, following the industrial revolution, the world economy grows on average by that amount every ninety minutes.
Even the present rate of growth will produce impressive results if maintained for a moderately long time. If the world economy continues to grow at the same pace as it has over the past fifty years, then the world will be some 4.8 times richer by 2050 and about 34 times richer by 2100 than it is today.
Yet the prospect of continuing on a steady exponential growth path pales in comparison to what would happen if the world were to experience another step change in the rate of growth comparable in magnitude to those associated with the Agricultural revolution and the Industrial revolution.The economist Robin Hanson estimates, based on historical economic and population data, a characteristic world economy doubling time for Pleistocene hunter-gatherer society of 224000 year; for farming society, 909 years; and for industrial society 6.3 years.... If another such transition to a different mode were to occur, and it were of similar magnitude to the previous two, it would result in a new growth regime in which the world economy would double in size about every two weeks.
چند لاکھ سال پہلے… ترقی [کی رفتار] اتنی سست تھی کہ انسانی پیداواری صلاحیت کو کافی حد تک بڑھنے میں ۱۰ لاکھ سال کا عرصہ لگا، تاکہ ۱۰لاکھ افراد کو ایک مستقل معیارِ زندگی پر برقرار رکھا جا سکے۔ لیکن ۵ہزار قبل مسیح کے آنے تک، زرعی انقلاب کے بعد، شرح نمو اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ترقی کی اسی رفتار میں محض چند صدیاں لگیں۔ آج صنعتی انقلاب کے بعد، عالمی معیشت ہر ۹۰ منٹ میں اوسطاً اس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
یہاں تک کہ موجودہ شرح نمو بھی اگر طویل عرصے تک برقرار رکھی جائے تو شاندار نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر عالمی معیشت گذشتہ ۵۰برسوں کی رفتار سے ہی ترقی کرتی رہی تو ۲۰۵۰ء تک دنیا ۸ء۴گنا امیر اور اکیسویں صدی کے اختتام تک ۳۴ گنا زیادہ امیر ہو جائے گی۔
اس کے باوجود ترقی کی یہ مستحکم رفتار ’زرعی دور‘ اور ’صنعتی دور‘ جیسے اگلے کسی انقلاب کے سامنے پھیکی نظر آتی ہے۔ اگر ’زرعی دور‘ اور ’صنعتی دور‘جیسا ہی ایک اور انقلاب آگیا تو کیا ہوگا؟ ماہر اقتصادیات رابن ہینسن کے تاریخی معاشی تخمینے کی بنیاد پر اگر ’شکاری معاشرہ‘ کو ترقی کی رفتار دوگنی کرنے میں ۲ لاکھ ۲۴ہزار سال لگے، ’زرعی دور‘ کو ۹۰۰ سال لگے اور ’صنعتی دور‘ کو ساڑھے چھ سال لگتے ہیں، تو اگر ایسی ہی کوئی نئی انقلابی تبدیلی آئی تو ترقی کی رفتار محض دوہفتوں میں دوگنی ہوجایا کرے گی۔
دوسرے الفاظ میں ’مصنوعی ذہانت‘ کے انقلاب کی صورت میں قومی ترقی کی رفتار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کیا کرے گی۔ لیکن یہ دعوے جتنے خوش گوار لگتے ہیں حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ بظاہر تو یہ صحیح ہے کہ دولت بڑھ رہی ہے مگر یہ اَعداد کا من پسند ہیر پھیر ہے۔ اوسط ترقی اور مساوی ترقی دو الگ الگ کہانی سنا رہے ہیں۔ جہاں ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن چکے ہیں، وہیں ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
چند خبروں کے مطابق ترقی کی اس تیز رفتاری اور کام کی بدلتی نوعیت اور مستقبل میں بے روزگاری عام ہونے کے خوف سے اب امریکی حکومت ’مصنوعی ذہانت‘ کی مختلف کمپنیوں میں حصہ دار بننے پر غور کررہی ہے۔ جس کا بظاہر مقصد ان کمپنیوں سے ملنے والے منافع کو بے روزگاروں میں بے روزگاری الاؤنس [Universal Basic Income] کے طور پر بانٹنا نظر آتا ہے۔
لیکن ساتھ ہی امریکی سرمایہ کار اور کاروباری ’مصنوعی ذہانت‘ کی اس فضا کو اپنے حق میں خوب خوب استعمال کرکے اسٹاک مارکیٹ میں اندھا منافع کما رہے ہیں۔ ’مصنوعی ذہانت‘ میں استعمال ہونے والے مخصوص چپس [GPU] بنانے والی کمپنی نیویڈیا [NVIDIA] کا منافع آخری بارہ برسوں میں تیرہ سو گنا بڑھا ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اس کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ نوّے کی دہائی سے قائم اس کمپنی کے حصص کی مالیت ۵۰ سینٹ کے آس پاس رہتی تھی۔ لیکن آخری بارہ برسوں میں یہ قیمت بڑھتے بڑھتے دو سو ڈالر سے اوپر نکل گئی ہے۔ اسی وجہ سے یہ مالیت کے اعتبار سے ایپل [Apple]کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔
یہ صرف ایک کمپنی کی کہانی نہیں بلکہ ہر دوسری کمپنی ہی ’مصنوعی ذہانت‘ کی اس لہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اعلان کرتی نظر آرہی ہے کہ وہ ’مصنوعی ذہانت‘ کا استعمال شروع کررہے ہیں، اور یہ خبر آتے ہی ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔
دوسروں کی طرح اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلون مسک بھی پیچھے نہ رہے۔ ایلون مسک نے مریخ کے سفر کو ممکن بنانے والی اپنی کمپنی اسپیس ایکس [SpaceX] کے حصص امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لانے سے پہلے اپنی دوسری کمپنی [xAI]، جو ’مصنوعی ذہانت‘ کے میدان میں کام کرتی ہے، کا انضمام اسپیس ایکس [SpaceX] سے کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان کرنے کی دیر تھی کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ نے SpaceX کی مالیت تقریباً دو ٹریلین ڈالر تک پہنچا دی اور ساتھ ہی ایلون مسک کو پہلے کھرب پتی بننے کا اعزاز بھی دلادیا۔
لیکن جہاں ایک طرف ناقدین اس سب کو ایک بلبلہ کہہ رہے ہیں جو ایک اگلے خطرناک معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں چند مؤرخین اس سب کو نئی دنیا، یعنی امریکا کی دریافت سے مماثلت دے رہے ہیں۔ جس طرح جب نئی دنیا یا امریکا دریافت ہوا تو اس نے ترقی کے امکانات کا ایک نیا باب کھولا، ویسے ہی مریخ کا سفر ہماری معاشی ترقی میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔
مگر اہم سوال یہ ہے کہ جس طرح نئی دنیا کی تعمیر میں افریقی ممالک سے لائے گئے غلاموں کا استحصال شامل تھا، کیا مریخ کی تسخیر میں بھی اسی طرح غلاموں کا استعمال ہوگا؟ ظاہر ہے جب دنیا میں ’خدائی ذہانت‘ کے حصول کے بعد کام ختم اور بے روزگاری عام ہوجائے گی، تو انسان روزگار کے حصول کے لیے مریخ کی طرف جدید غلام بن کر جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایک طرف ’مصنوعی ذہانت‘ سے دن دوگنی رات چوگنی معاشی ترقی کے حصول کے خواب دیکھے جارہے ہیں، وہیں ناقدین نوکریوں کے ختم ہوجانے کی صورت میں دو طرفہ نقصان کی طرف بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بوسٹن یونی ورسٹی کے محققین کی تحقیق [The AI Layoff trap] اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ جب ایک فرد نوکری ختم ہوجانے کے بعدروزمرہ اشیاء خریدنا بند کردے گا، تو پھر ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس روبوٹس کی مدد سے تیار کردہ اشیاء آخر خریدے گا کون؟
If AI displaces human workers faster than the economy can reabsorb them, it risks eroding the very consumer demand firms depend on. In a competitive task-based model of a transitioning economy, each firm captures the full cost saving from automation but bears only a fraction of the demand loss it creates in the product market; the rest falls on rivals. This demand externality traps rational firms in an automation arms race, displacing workers well beyond what is collectively optimal. The resulting loss harms both workers and firm owners. More competition and better AI amplify the excess.
اگر ’مصنوعی ذہانت‘ کی وجہ سے بے روزگار ہوجانے والی افرادی قوت کو معیشت میں دوبارہ ضم نہ کیا گیا، تو اس کا نتیجہ [اشیاء کی] طلب کے ختم ہوجانے کی صورت میں نکلے گا جس پر خود یہ کمپنیاں انحصار کرتی ہیں۔ آٹومیشن کے نتیجے میں نکالے جانے والے ملازمین کی تنخواہ سے حاصل ہونے والی بچت کا سو فی صد فائدہ توکمپنی کو ہوتا ہے، مگر [بے روزگاری کے نتیجے میں] طلب میں کمی کا خمیازہ دیگر تمام کمپنیوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر کمپنی کو عقل مندی اسی میں نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ آٹومیشن کی جائے۔ یوں آٹومیشن کی وہ دوڑ شروع ہوجاتی ہے جو معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اور اس سب کا بالآخر نتیجہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے ۔ یعنی صرف فرد ہی نہیں بلکہ کمپنیاں بھی [بے روزگاری کے نتیجے میں اشیاء کی طلب کے ختم ہوجانے کی وجہ سے] نقصان میں رہتی ہیں۔ گویا ’مصنوعی ذہانت‘ کے استعمال میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا، طلب میں بھی اتنی ہی کمی ہوتی جائے گی۔
اگر آپ نے یہ مضمون پورا پڑھا ہے تو آپ کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ دنیا کس رخ پر جارہی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہورہے ہیں جہاں ہر چیز مال کی شکل اختیار کرلے گی اور ہر چیز برائے فروخت ہوگی۔ پیسہ یا دولت کی نجکاری اور ساتھ ہی ایک نئی اشرافیہ کی پیدائش صرف معاشی اعتبار سے ہی نہیں سیاسی اعتبار سے بھی ایک نئی کش مکش پیدا کرے گی۔ اگر اشتراکیت کو اطلاعاتی دور [Information age] میں پروپیگنڈا نے شکست دی تھی، تو اب ’دور ذہانت‘ [Intelligence age] میں سرمایہ دارانہ نظام کو خود اپنی بقا کے لیے چند طاقت ور لوگوں کی مطلق العنانی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
’مصنوعی ذہانت‘ کو انسانوں جیسی ذہانت حاصل کرنے کے لیے ہماری یادداشت، ہماری توجہ، ہمارے جذبات، ہماری آواز اور یہاں تک کے ہماری سوچ و شعور کو بھی سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ظاہر ہے جب ان چیزوں کی اہمیت بڑھے گی تو ان کی قیمت بھی لگے گی۔ لہٰذا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ خود انسان بھی محض ایک قابل فروخت شے بن جائے گا جس کی ضرورت محض ’مصنوعی ذہانت‘ کی تربیت کے لیے ہوگی۔
ایسا لگتا ہے کہ آنے والے پچیس پچاس برسوں میں وقت کا مؤرخ ہماری غلط ترجیحات پر افسوس کرتا نظر آئے گا۔ فی الوقت تو دنیا بھر سمیت خود پاکستان میں افراط زر، روپیہ کی ناقدری اور معاشی بے یقینی کو معاشی مسائل سمجھا جارہا ہے لیکن ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ اس سب نے عوام کو مستقل خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں۔ جب ترجیحات بدلتی ہیں تو اقدار بھی بدلتی ہیں اور دنیا کو دیکھنے اور برتنے کا زاویہ بھی۔ معاشرتی دباؤ، آگے نکلنے کی دوڑ اور اپنی بقا کی جنگ میں معاملہ حلال و حرام کی قیود سے نکل کر دین و اخلاق سے دُوری کی صورت نکلتا نظر آرہا ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ذہانت کی صنعتی پیداوار کے نتیجے میں سب سے بے وقعت چیز خود انسان بن جائے گا۔ اگر ایلون مسک کا مریخ کو مسخر کرنے کا دو کھرب ڈالر کا جوا کامیاب ہوگیا، تو مریخ پر کس کی حکمرانی، کس کا قانون، کس کی مرضی چلے گی؟ جب خوراک سے لے کر لباس تک اور رہائش سے لے کر سفر تک سب کچھ ’مصنوعی ذہانت‘ کے ذریعے ممکن ہوگا، تو معیشت کیسے چلے گی؟ اگر ہم نے اپنی خواہشوں کے مطابق زمین پر جنت بنا بھی لی، تو زندگی کا مقصد رہ کیا جائے گا؟ یہ اور ان جیسے لاتعداد سوالات اب کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ حقیقت بنتے نظر آرہے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر معاشی نظام فرد کو اس مقام پر پہنچادے جہاں بقاء کی جنگ تمام دوسری اقدار پر حاوی ہوجائے، تو کیا مسئلہ صرف معیشت کا رہ جاتا ہے یا پھر یہ ایمان ، اخلاق اور تہذیب کا مسئلہ بن جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہمارے مستقبل کی سمت طے کرے گا!
_______________
اسلامی اخلاقیات ٹکنالوجی کی رفتار نہیں روکتیں، اسے انسانیت کی فلاح کی سمت ضرور موڑتی ہیں۔اکیسویں صدی میں ٹکنالوجی جس رفتار سے انسانی زندگی، معیشت اور ریاستی نظام کو تبدیل کررہی ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ صنعتی انقلاب نے مشین کو انسانی جسمانی طاقت کا متبادل بنایا، کمپیوٹر نے حساب اور معلومات کے شعبے میں انسان کی استعداد بڑھائی، اور انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لیکن مصنوعی ذہانت نے معاملہ اس سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ اب مشین صرف انسان کے ہاتھوں سے کام نہیں کررہی بلکہ زبان سمجھ رہی ہے، تصاویر بنارہی ہے، کوڈ لکھ رہی ہے، فیصلوں میں معاونت کررہی ہے، سائنسی تحقیق میں مدد دے رہی ہے، اور بعض صورتوں میں ایسے کام بھی انجام دے رہی ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف انسانی ذہانت کا میدان سمجھے جاتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ٹکنالوجی کا موضوع نہیں رہی۔ یہ روزگار، معیشت، تعلیم، صحافت، جنگ، سائبر سیکیورٹی، جمہوریت، رازداری اور بالآخر انسانی اختیار کا سوال بن چکی ہے۔ اس بحث کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور رکنِ ایوانِ نمائندگان گریگ کاسار نے ۳ستمبر ۲۰۲۶ء کو ایسی قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مصنوعی سپر انٹیلی جنس کی تیاری اور استعمال پر مستقل پابندی اور جدید طاقت ور اے آئی کی ترقی کو عارضی طور پر روکنا ہے، جب تک وفاقی سطح پر ایک باقاعدہ حفاظتی اور نگران نظام قائم نہ ہوجائے۔
یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔ سینڈرز اور کاسار کی تجویز اس وقت قانون نہیں بلکہ مجوزہ قانون سازی ہے۔ اس میں مصنوعی سپر انٹیلی جنس پر پابندی، جدید اے آئی کی ترقی پر عارضی توقف، ایک نئی وفاقی نگران ایجنسی کے قیام اور بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے سپر انٹیلی جنس کے پھیلاؤ کو روکنے کی پالیسی شامل ہے۔ مجوزہ قانون میں خطرناک صلاحیتوں کی نگرانی، انھیں ختم کرنے کی نگرانی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزاؤں کی بات بھی کی گئی ہے۔
سینڈرز کی یہ کوشش دراصل ایک بڑے سوال کو سیاسی سطح پر سامنے لاتی ہے، اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر انسان ایسی ذہانت تیار کررہا ہے جس کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، تو اس کے استعمال کی آخری حد کون طے کرے گا؟ چند بڑی ٹکنالوجی کمپنیاں، ان کے انجینئرز، سرمایہ کار، حکومتیں یا دنیا کے عوام؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اے آئی کی ترقی اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی۔ اسٹن فرڈ یونی ورسٹی کے AI Index 2026 کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تکنیکی صلاحیتیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ صنعت نے ۲۰۲۵ء میں نمایاں Frontier Models کی تیاری میں ۹۰ فی صد سے زیادہ حصہ لیا، جب کہ اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال، شفافیت اور حکمرانی کے نظام اس رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ رہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ریکارڈ کیے گئے AI Incidents کی تعداد ۳۶۲ رہی، جو ۲۰۲۴ء کے ۲۳۳ واقعات سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
اس صورتِ حال میں برنی سینڈرز کا سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا۔ تاہم، اس بحث میں خوف اور حقیقت کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ہر ممکنہ خطرے کو ’انسانیت کی تباہی‘ قرار دینا اتنا ہی غیر سائنسی ہے جتنا یہ سمجھ لینا کہ اے آئی ہمیشہ انسان کی وفادار معاون رہے گی۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ حال اور مستقبل کے قابلِ پیمائش خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے، مگر مفروضوں کو حقائق بناکر پیش نہ کیا جائے۔
روزگار اس بحث کا سب سے فوری اور نمایاں پہلو ہے۔ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ۴۰ فی صد روزگار کسی نہ کسی درجے میں اے آئی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح تقریباً ۶۰ فی صد ہے، جب کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں تقریباً ۴۰ فی صد، اور کم آمدنی والے ممالک میں ۲۶ فی صد ہے۔ لیکن یہاں ’متاثر‘ ہونے کا مطلب لازماً ’ملازمت ختم ہونا‘ نہیں۔ ’اے آئی‘ بہت سے کاموں میں انسان کی جگہ لینے کے بجائے انسانی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی سے متاثر ہونے والی ملازمتوں میں تقریباً نصف کو پیداواری صلاحیت میں اضافے کا فائدہ پہنچ سکتا ہے، جب کہ دوسری نصف میں انسانی محنت کی طلب کم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے، کیونکہ اے آئی کے بارے میں سب سے زیادہ دُہرایا جانے والا دعویٰ یہی ہے کہ ’کروڑوں ملازمتیں ختم ہونے والی ہیں‘۔ Goldman Sachs نے ۲۰۲۳ء میں اندازہ لگایا تھا کہ Generative AI دنیا بھر میں تقریباً ۳۰۰ ملین کُل وقتی ملازمتوں (Full-time Jobs) کے برابر کام کو متاثر کرسکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ۳۰۰ ملین افراد لازماً اپنی ملازمتیں کھو دیں گے۔ دراصل اے آئی کا بڑا اثر ملازمتوں کے اندر موجود Tasks کی نوعیت بدلنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
مک کنزے کی تحقیق بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق امریکا میں ۲۰۳۰ء تک موجودہ کام کے تقریباً ۳۰ فی صد گھنٹے خودکار کیے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ تقریباً ۱۲ ملین افراد ایک پیشے یا ملازمت سے دوسرے پیشے یا ملازمت کی طرف منتقلی کے چیلنج سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یورپ میں بھی تیز رفتار ٹکنالوجی اپنانے کی صورت میں ۲۰۳۰ء تک تقریباً ۱۲ملین پیشہ ورانہ منتقلیاں درکار ہوسکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ۱۲ ملین ملازمتیں ختم ہوجائیں گی، مطلب یہ ہے کہ لاکھوں کارکنوں کو ایک پیشے سے دوسرے پیشے میں منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔
لیکن اس تبدیلی کے فوائد خودبخود سب تک نہیں پہنچیں گے۔ اگر اے آئی سے پیدا ہونے والی اضافی دولت چند بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں تک محدود رہی اور کارکنوں کو نئی مہارت حاصل کرنے کے وسائل نہ ملے، تو معاشی عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اے آئی عالمی سطح پر آمدنی کے فرق کو وسیع کرسکتی ہے، خصوصاً اُن ممالک میں جو نئی ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں میں پیچھے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اے آئی ایجنٹس کے زیادہ خودکار ہونے کے ساتھ یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ اگر کسی اے آئی نظام کو بیرونی نیٹ ورک، کوڈ چلانے یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع تک وسیع رسائی حاصل ہو، تو اس کی سرگرمیوں کی نگرانی اور انھیں قابو میں رکھنا کس حد تک مؤثر رہ سکتا ہے؟
یہ خدشہ اب محض ایک نظری امکان نہیں رہا،اسی لیے ستمبر ۲۰۲۶ء میں امریکی قانون سازوں نے اوپن اے آئی سے متعلق ایک ایسے واقعے پر تشویش ظاہر کی جس میں ایک اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی تجربے کے دوران مقررہ حدود سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور بگنگ فیس (Bugging face)کے نظام یعنی خرابی پیدا کرنے کے نظام تک رسائی کی کوشش کی۔ اس کے بعد اوپن اے آئی نے خودکار طور پر نظام بند کرنے کی صلاحیت اور نگرانی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی بات کی۔
یہ واقعہ بجائے خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ’’اے آئی انسانوں سے زیادہ ذہین ہوچکی ہے‘‘، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ خودکار اے آئی نظاموں کے ساتھ سائبر سیکیورٹی اور انھیں قابو میں رکھنے کے عملی مسائل حقیقی اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔
جنگی میدان میں اے آئی کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ خودکار یا نیم خودکار ہتھیار انسانی فیصلے کو کم کر سکتے ہیں اور جنگ کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک الگورتھم کسی ہدف کو دشمن قرار دے اور حملہ کرنے کا فیصلہ کرے تو آخری ذمہ داری کس کی ہوگی؟ فوجی کمانڈر، پروگرامر، کمپنی یا ریاست کی؟ یہی وجہ ہے کہ خوداختیاری ہتھیاروں پر عالمی سطح پر انسانی نگرانی کی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔
اگر عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ہر ویڈیو جعلی ہوسکتی ہے اور ہر آڈیو مصنوعی… تو مسئلہ صرف فیک نیوز کا نہیں رہے گا، اصل خبر بھی مشکوک بن سکتی ہے۔ اسے بعض ماہرین Liar’s Dividend (جھوٹے منافع)جیسے تصور سے جوڑتے ہیں، یعنی ایسی صورتِ حال جہاں جعلی یا مصنوعی مواد کی بہتات کے باعث حقیقی معلومات اور شواہد کو بھی جھوٹا قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔ طاقت ور افراد حقیقی ثبوت کو بھی یہ کہہ کر مسترد کرسکتے ہیں کہ وہ اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔ انتخابات میں یہ صورتِ حال خاص طور پر خطرناک ہے، کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں بلکہ قابلِ اعتماد معلومات اور شواہد پر بھی قائم ہوتی ہے۔
یہ بھی ابھی ثابت شدہ حقیقت نہیں کہ ایسی سپر انٹیلی جنس دنیا میں موجود ہے یا مستقبل قریب میں لازماً وجود میں آ جائے گی۔ تاہم، اے آئی کو انسانی مقاصد اور اقدار سے ہم آہنگ رکھنے کا مسئلہ (Alignment Problem) ایک سنجیدہ تحقیقی سوال بن چکا ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی انتہائی طاقت ور اے آئی نظام ایسے مقاصد اختیار کرلے جو انسانی اقدار سے متصادم ہوں، تو انسان اس کے رویّے کو کس حد تک قابو میں رکھ سکے گا؟
یہی وہ نظریاتی خطرہ ہے جسے سینڈرز کی مجوزہ قانون سازی میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مجوزہ قانون ایسے اے آئی نظاموں پر پابندی کی بات کرتا ہے جو انسانی ذہانت سے آگے نکل جائیں، یا جن میں نظام کو بند کرنے کے احکامات کو ناکام بنانے جیسی خطرناک صلاحیتیں پیدا ہو جائیں۔
امریکا اور چین کے درمیان اے آئی کی مسابقت اب محض تجارتی مقابلے تک محدود نہیں رہی۔ اس میں سیمی کنڈکٹر ٹکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز، فوجی استعمال، روبوٹکس اور سائنسی تحقیق جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے لیے اے آئی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ اگر امریکا اپنی جدید ترین اے آئی ٹکنالوجی کی تیاری روک دے، لیکن کوئی دوسرا ملک ایسا نہ کرے تو واشنگٹن میں یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ وہ معاشی اور دفاعی اعتبار سے عالمی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں سینڈرز کی موجودہ تجویز میں عالمی تعاون کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ ان کا مقصد امریکا میں پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے دُنیا بھر میں سپر انٹیلی جنس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔ تاہم، اسے ایٹمی عدمِ پھیلاؤ کے معاہدے، یعنی این پی ٹی (NPT) کا عین متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جوہری ٹکنالوجی اور اے آئی کی ساخت، رسائی، نقل سازی اور تجارتی استعمال بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اے آئی کے کئی ماڈلز سافٹ ویئر کی صورت میں دنیا بھر میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں، اوپن ویٹ سسٹمز بھی موجود ہیں، جب کہ انھیں چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر مختلف ممالک اور نجی اداروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اے آئی کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے عالمی سطح پر ایسے نئے اور مختلف طریقۂ کار کی ضرورت ہوگی جو اس ٹکنالوجی کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھیں۔
یورپی یونین نے اس معاملے میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ (EU AI Act) خطرے کی سطح پر مبنی ایک ضابطہ جاتی نظام ہے، جس کے تحت مختلف نوعیت کے اے آئی نظاموں کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ اگست ۲۰۲۶ء سے اس قانون کی کئی اہم دفعات، جن میں ممنوع اے آئی طریقۂ کار، شفافیت کے تقاضے اور عمومی مقصد کے اے آئی ماڈلز سے متعلق بعض قواعد شامل ہیں، نافذ العمل ہوچکی ہیں، جب کہ زیادہ خطرے والے اے آئی نظاموں سے متعلق کچھ قواعد بعد کی تاریخوں میں لاگو ہوں گے۔
ملک کی نیشنل اے آئی پالیسی ۲۰۲۵ء میں تعلیم، صحت، زراعت، حکمرانی، عدالتی نظام، صنعت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو ترجیح دی گئی ہے۔ پالیسی میں ۲۰۳۰ء تک ۱۰ لاکھ اے آئی ماہرین کی تربیت، تحقیق کے فروغ، اسکالرشپس، مقامی اے آئی مصنوعات اور سائبر سکیورٹی پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ ملک کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ علاقائی زبانوں کے لسانی ڈیٹا، زرعی معلومات، موسمیاتی پیش گوئی، صحت کے ریکارڈ، ٹیکس نظام، عدالتی دستاویزات اور شہری خدمات کو بہتر بناکر اے آئی کو محض درآمد شدہ ٹکنالوجی کے بجائے مقامی ترقی کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا، رازداری کا تحفظ، مضبوط سائبر سیکیورٹی، مقامی تحقیق اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ انسانی وسائل ضروری ہیں۔ خود ملک کے ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ کمزور انفراسٹرکچر، محدود فنڈنگ، انسانی سرمائے کی کمی اور کمزور ضابطہ کاری اے آئی پالیسی کے نفاذ میں بڑی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے بھی ۲۰۲۵ء میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی، جس میں اے آئی کے احکام، رہنما اصولوں اور اخلاقی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم دنیا میں اے آئی کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فقہی، اخلاقی اور معاشرتی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے شاید سب سے اہم اصول انسانی جواب دہی ہے۔ اے آئی فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اخلاقی ذمہ داری انسان سے منتقل نہیں ہوجاتی۔ حالیہ اسلامی علمی مطالعات میں اسی لیے مقاصدِ شریعت، انسانی وقار، عدل، امانت، سچائی، نقصان سے بچاؤ اور انسانی نگرانی کو اے آئی کے استعمال کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے۔
یہ اصول ہم جیسے ملک میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی غریب شہری کو قرض دینے سے انکار کرے، کسی طالب علم کی تعلیمی اہلیت کا فیصلہ کرے، کسی مریض کی تشخیص میں مدد دے، یا کسی شخص کو سرکاری سہولت سے محروم کرے، تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ الگورتھم نے کیا فیصلہ کیا؟ سوال یہ بھی ہوگا کہ اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر ہے، اس میں غلطی کی صورت میں دادرسی کیسے ہوگی، اور کیا متاثرہ انسان کو فیصلے پر نظرثانی کا حق حاصل ہوگا؟
دینی معاملات میں بھی یہی اصول مزید اہم ہوجاتا ہے۔ اے آئی، قرآن، حدیث اور فقہی کتب سے مواد تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اسے خودبخود مفتی یا شرعی اتھارٹی سمجھنا حددرجہ خطرناک ہوگا۔ بعض معاصر علمی آراء واضح کرتی ہیں کہ اے آئی کو تحقیق، معلومات جمع کرنے اور مختلف آراء کو مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر حتمی شرعی حکم اہلِ علم اور مستند مفتیانِ کرام ہی کی ذمہ داری رہنا چاہیے۔
اس لیے ہمارے لیے درست راستہ نہ اے آئی سے خوف زدہ ہوکر اسے روک دینا ہے اور نہ اسے بغیر کسی اخلاقی نگرانی کے کھلا چھوڑ دینا۔ ضرورت ایسے انسان مرکز اے آئی نظام کی ہے جس میں ٹکنالوجی ترقی کا ذریعہ ہو، مگر انسان اس کا مقصد اور جواب دہ فریق برقرار رہے۔
اسلامی اخلاقیات اور جدید ٹکنالوجی کے درمیان تصادم نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ٹکنالوجی کو اخلاقی سمت دی جائے۔ مقاصد ِ شریعت کا بنیادی تصور انسانی فلاح، عدل اور نقصان سے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ یہی اصول ہمارے لیے ایک ایسا راستہ فراہم کرسکتے ہیں جس میں اے آئی ترقی بھی کرے، مگر انسانی وقار، معاشرتی انصاف اور اخلاقی ذمہ داری اس ترقی کی قیمت نہ بنیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ ذہین ہوگی یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ذہانت سے بنائی ہوئی مشین کی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟ ٹکنالوجی کی رفتار شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو، لیکن اس کی سمت کا تعین اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
_______________
ہمارے تعلیمی نظام کا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے اسکولوں میں چھٹی جماعت کے طلبہ کو سود اور مرکب سود کا حساب تو سکھا دیا جاتا ہے، مگر اعلیٰ تعلیم، حتیٰ کہ ماسٹرز کی سطح تک پہنچنے کے باوجود انھیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ نفع کن اصولوں پر قائم ہوتا ہے؟ تجارت میں اس کا حقیقی ضابطہ کیا ہے، اور مالی معاملات میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں طلبہ کو قرض اور مالی معاونت کے درمیان فرق بھی نہیں سمجھایا جاتا۔
ربوٰ (ربا) کیا ہے؟ سود اور نفع میں کیا امتیاز ہے؟ سود کیوں حرام ہے اور تجارت و کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع کیوں حلال ہے؟ یہ بنیادی سوالات آج بھی بنیادی تعلیمی نظام اور علمی بحث سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ معاشیات کو صرف اس محدود تعریف تک مقید کر دیا گیا کہ ’’انسانی خواہشات لامحدود ہیں، جب کہ وسائل محدود ہیں‘‘، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ وسائل کے حصول اور استعمال میں حلال اور حرام کی تمیز ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
آج بہت سے لوگ اسلامی بینکاری سے فائدہ اٹھانے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ اسلامی معیشت محض بینکاری کا نام نہیں بلکہ معاشیات اور مالیاتی نظام اور اس کے اصولوں کے عملی نفاذ کے بارے میں اسلامی معاشی تعلیمات کا ایک مکمل نظام ہے۔ یہ نظام دراصل ایسے اصولوں کا عملی اظہار ہے جو قرض پر نہیں بلکہ صلاحیت، اشیاء، شراکت، جائیداد اور حقیقی اثاثوں پر قائم ہوتے ہیں۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشی شعور میں عواملِ پیداوار کا بنیادی تصور بھی تقریباً ناپید ہو چکا ہے، حالانکہ ایک مضبوط معاشی نظام میں ’انسان‘ قوت ہے، ’سرمایہ‘ ذریعہ ہے، ’اشیاء‘ ضرورت ہیں اور ’خدمات‘ عملی استعمال ہیں۔ یہی وہ ستون ہیں جن پر ہر مستحکم معیشت قائم ہوتی ہے۔
پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ۲۰۲۷ء میں روایتی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کر دینے سے سب کچھ بدل جائے گا، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ربا صرف سود کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی اور معاشی فساد ہے جو انسانی معاملات کے بے شمار پہلوؤں میں سرایت کر چکا ہے۔ جب تک ربا کی جڑیں معاشرے، تجارت، قانون اور مالی رویوں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، اس وقت تک اسلامی معیشت کا حقیقی نفاذ ممکن نہیں۔
پاکستان میں اگر عدل، دیانت اور معاشی استحکام پر مبنی ایک حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے، تو سب سے پہلے ربا کے ہر روپ کو پہچاننا، اس کے اثرات کو سمجھنا، اور اسے جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ تبھی ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں معاشرتی انصاف، مالی پاکیزگی اور اقتصادی توازن محض نعرے نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہوں گے۔
پاکستان میں مکمل اسلامی بینکاری کا قیام صرف بینکوں کے نام یا نظام بدلنے سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو اللہ سبحانہٗ کے احکامات، عدل اور سماجی ذمہ داری کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔اسلامی قانون کسی انسان یا ادارے کا محتاج نہیں۔ یہ اللہ کا ابدی حکم ہے۔ پاکستان میں حقیقی اسلامی معاشی نظام اسی وقت قائم ہوگا جب معاشی نظام کے ساتھ سوچ، کردار اور طرزِ زندگی بھی تبدیل ہو اور اس نظام کو پاکستان کے معاشی نظام کے طور پر سمجھنا اور قبول کرنا ناگزیر ہے۔ کیونکہ یہی نظام حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔
اسلامی معیشت کے ذریعے عواملِ پیداوار کے چاروں ستون پاکیزگی، عدل اور توازن کے ساتھ استوار ہوں گے۔ یہ چار بنیادی عواملِ پیداوار درج ذیل ہیں:
قرآنِ کریم انسان کی محنت اور جدوجہد کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کی جسمانی قوت، ذہنی صلاحیت، اخلاقی کردار اور دیانت داری میں پوشیدہ ہے۔
ایک باکردار، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت انسان ہی معاشرے کو ترقی دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام علم، ہنر، محنت اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ سماجی معیشت میں انسان کا کردار تین جہتوں میں ظاہر ہوتا ہے lفکری قوت: سوچ و تدبر اور منصوبہ بندی lجسمانی قوت: محنت، پیداوار اور تعمیر lاخلاقی قوت: دیانت، انصاف اور امانت
اگر انسان کی تربیت درست اسلامی بنیادوں پر نہ ہو اور اس کو بنیادی اسلامی تعلیمات کا جامع علم نہ ہو تو سرمایہ بھی فساد پیدا کرتا ہے اور وسائل بھی ظلم کا سبب بن جاتے ہیں۔
سرمایہ صرف ان مقاصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے جن کی طرف اللہ اور اس کے رسولؐ نے رہنمائی فرمائی ہے، جیسے زراعت، تجارت اور صنعت کے قیام کے لیے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے، ضرورت مندوں کی مدد کے لیے، اور معاشرے میں خوش حالی پھیلانے کے لیے۔ اسلام سودی نظام کی حوصلہ شکنی ہی نہیں کرتا ہے اسے حرام اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔کیونکہ سودی نظام سرمایہ کو محنت اور حقیقی تجارت سے جدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام شراکت، مضاربت، مشارکت اور تجارت کو فروغ دیتا ہے، تاکہ سرمایہ گردش میں رہے اور دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے۔
اشیاء کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ انسانی ضروریات پوری کرنا بھی ہے۔ اگر معاشرہ ضرورت کی اشیاء کو صرف نفع کمانے کا ذریعہ بنا لے تو غربت، مہنگائی اور استحصال پیدا ہوتا ہے۔ اسلام اشیاء کے استعمال میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے:وَّاکُلُوا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (اعراف۷:۳۱) ’’اورکھاؤ، پیو مگر فضول خرچی نہ کرو‘‘۔ یعنی اشیاء ضرورت پوری کرنے کے لیے ہیں، خواہشات کی تکمیل و غلامی کے لیے نہیں۔
اسلامی معیشت میں خدمات کی بنیاد پانچ اصولوں پر قائم ہے:دیانت داری، مہارت، انصاف، امانت داری اور انسانی خدمت۔ جب خدمات اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دی جائیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب خدمت بھی دھوکا، رشوت یا ذاتی مفاد کا شکار ہوجائے تو سماجی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔
جب یہ چاروں عوامل عدل، امانت، حلال رزق اور اللہ کی نافرمانی سے بچنے (تقویٰ) کے اصولوں کے تحت کام کریں تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں غربت کم ہوتی ہے، استحصال ختم ہوتا ہے اور معاشی انصاف قائم ہوتا ہے۔ یہی اسلامی سماجی معیشت کا اصل مقصد ہے۔
سچ پوچھیں تو دہائیوں سے اسلامی بینکاری کا نام سننے کے باوجود عام آدمی آج بھی ایک ہی سوال کرتا ہے: یہ واقعی اسلامی بینکاری ہے یا صرف بینکاری پر اسلامی لیبل چسپاں کردیا گیا ہے؟ کیونکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، ہونٹوں اور پیالی کے درمیان بہت کچھ گر جاتا ہے، اور جدید مالی زبان میں کہا جائے، تو کام بہت ہے، مگر منزل تک پہنچنے والی رفتار کم ہے۔
ہم اسلامی بینکاری پر بات تو بہت کرتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی اسے سمجھ بھی رہے ہیں؟ یا پھر معاملہ وہی ہے کہ، بہت سے اجلاس، بہت سے سیمینار، بہت سے اجتماعات، بہت سے پاورپوائنٹ عرضِ حال یعنی پریذنٹیشنز، لیکن پھر بھی وضاحت کی کمی۔
ایک مختصر تاریخی یاد دہانی یہ ہے کہ اسلامی مالیات کا آغاز آج کے پاورپوائنٹ پری زیٹشنز سے نہیں ہوا۔ ۱۹۵۸ءمیں مصر میں ڈاکٹر احمد النجار نے اس کا تصور پیش کیا، اور پھر ۱۹۶۲ء میں ’مٹگمرسیونگ بینک‘ کی صورت میں عملی شکل ملی۔ اصل مقصد سادہ تھا، یعنی اخلاقی بینکاری، حقیقی معیشت سے جڑاؤ، سماجی فائدہ، نہ کہ بینکاری کے عمل میں صرف سود کا نام بدل کر منافع رکھ دینا۔
مرکزی بینک شرح سود بڑھاتے ہیں، پھر کم کرتے ہیں اور اسے زرِی پالیسی کہتے ہیں، وہ پالیسی جس کے ذریعے مرکزی بینک ملک میں پیسے کی رسد، شرحِ سود اور مہنگائی کو کنٹرول کرتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی بینکاری کوشش کرتی ہے کہ اسی نظام میں رہتے ہوئے مختلف بھی نظر آئے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک خوب صورت فریج میں شراب کی بوتل کے اندر زم زم کا پانی رکھا ہو۔
اصل مسئلہ مصنوعات کا ہے۔ آج بہت سی اسلامی مالیاتی مصنوعات اسلامی لگتی ہیں، اسلامی سنائی دیتی ہیں۔ مگر سرمایہ کار پھر بھی پوچھتا ہے: کیا یہ واقعی منافع ہے یا صرف سود کا نیا نام؟
اسلامی مالیاتی نظام صرف بینکاری نہیں ہے، بلکہ مکمل سماجی، معاشی، تجارتی اور زرِی پالیسی کا نظام ہے جو معاشی انصاف، حقیقی تجارت کو فروغ،شراکتی معیشت کی تشکیل اور معاشرے کو مستحکم کرتا ہے، نہ کہ صرف وہی مالیاتی ڈھانچہ جس پر صرف عربی اصطلاحات کا لیبل لگا دیا گیا ہو۔
آخری حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری تب ہی کامیاب ہوگی جب شفافیت بڑھ جائے، تربیت اسلامی ہو، بازار تک رسائی یعنی مارکیٹنگ پر غالب آ جائے، حقیقی اسلامی اخلاق، مصنوعی خوشنما اشیاء یعنی کاسمیٹکس پر غالب آ جائے، اور اصل مقصد، نعروں پر غالب آ جائے۔ کیونکہ آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کبھی کبھی اشیاء سے زیادہ اس کا لیبل بیچ رہے ہوتے ہیں۔
اسلامی مالیات صرف ایک بینکاری ماڈل نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے: دیانت، ذمہ داری اور عدل کا نظام۔ یاد رکھیں کہ آپ اللہ سبحانہٗ کے ساتھ حصص کا بازار یعنی اسٹاک ایکسچینج کی طرح تجارت نہیں کرتے بلکہ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اصل تبدیلی نام بدلنے سے نہیں آتی، بلکہ سوچ بدلنے سے آتی ہے۔اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور آج کی نیتیں بظاہر ہمیں مسلمان تو ظاہر کرتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلام کی اصل روح یعنی اس کے عملی تقاضوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام ہم سے صرف ارکانِ اسلام کی ادائیگی کا نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات کا مطالبہ کرتا ہے، جس کی بنیاد سماجی انصاف، عدل، امانت اور دیانت پر ہے۔اگر نیتیں صاف ہوں اور عمل میں اخلاص ہو تو معاشرے سے جرائم کم ہو سکتے ہیں اور ایک مضبوط، پُرامن اور خوش حال معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کو محض دعوؤں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشی و سماجی ترقی، غربت کے خاتمے اور انصاف کے قیام کے لیے استعمال کریں۔ جب نیتیں درست ہوں اور پُرخلوص کوششیں مقصدِ خالص کے ساتھ ہوں، تو زمین پر بھی فلاح ممکن ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کی امید۔
_______________
وہ محنت کش ہاتھ جو زندگی سے لڑتے ہیں، قسم قسم کے بوجھ ڈھوتے ہیں، لگاتار کام کرتے ہیں، بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ وہ پُرعزم پاؤں جو نشیب میں لپکتے ہیں، بلندیوں پہ چڑھتے ہیں، پلٹتے ہیں، جھپٹتے ہیں اور بلا تکان چلتے ہیں، بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حرکت کی برکت سے محروم ہو تو جسم ناتواں، کمزور و مضمحل ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول عقل پر بھی صادق آتا ہے۔
وہ انسان جو ذہنی کاہلی میں مبتلا ہوں، جو ریلز، شارٹس اور سستے ڈوپامین کی لت کے شکار ہوں، جنھیں لمبے مضامین اور موٹی کتابوں سے وحشت ہوتی ہو، جو مشاہدے و مطالعے سے گھبراتے ہوں، جو تین، چار اور پانچ کو جمع کرنے کے لیے بھی کیلکولیٹر نکال لیتے ہوں، جو چیٹ جی پی ٹی کا دامن تھامے بغیر چار لائن کا ای میل لکھنے پر قادر نہ ہوں، جن کے حافظے میں دو چار چھوٹی سورتوں کے علاوہ نہ حدیثیں ہوں، نہ دعائیں اور نہ اذکار۔ جنھیں نہ پہاڑے یاد ہوں اور نہ فون نمبر اور راستے۔ جو ہر کام کے لیے موبائل کے محتاج ہوں ، ان کی ذہنی صلاحیتیں وقت کے ساتھ ساتھ ماؤف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی عقل کا وہی حال ہوتا ہے جو غذا اور ورزش سے محروم کسی جسم کا ہوا کرتا ہے۔
مطالعہ ذہن کی غذا ہے اور تفکر و تدبر اس کی ورزش! جو انسان پڑھتے ہیں، دنیا کو شعور کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں، اپنے ذہن و دانش کی اعلیٰ صلاحیتوں کو مرکوز کرکے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں، تلاشِ حق میں سرگرداں رہتے ہیں، انھیں فراست، دانائی اور بصیرت کے خزانے نصیب ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہیں دُور اندیش، ذہن چست، شعور پختہ و پائیدار، تفکر عمیق اور عقل فرقان ہوجاتی ہے۔
’عقل‘ اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ ’عقل‘ حق و باطل، صحیح و غلط، نفع و نقصان، اور خیر و شر کا شعور بخشتی ہے۔ اسی کے فیصلوں پر ہماری زندگی کا دار و مدار ہے اور اسی کی وجہ سے ہم عند اللہ جوابدہ ہوں گے۔ ابن رشد کے مطابق جو تعلق محسوسات کا قوت حاسہ سے (یعنی منظر کا آنکھ سے، خوشبو کا ناک سے، یا ذائقے کا زبان سے) ہے وہی تعلق معقولات کا عقل سے ہے۔ ان معنوں میں عقل قابلِ فہم باتوں کو سمجھنے کی حس، بالفاظِ دیگر ’قوتِ ادراک‘ کا نام ہے۔ عقل کمال کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مطالعہ، تحقیق و تفکر اس کی غذا ہے۔ حق کو پالینا اس کا منتہائے مقصود ہے۔
ابن رشد (پ:۱۱۱۶ء)زور دیتے ہیں کہ سعادت کا حصول اسی طور پر ممکن ہے کہ پوری عمر مطالعہ و مجاہدہ میں گزار دی جائے۔ جو ایسا نہ کرسکے، وہ ناکام و نامراد ہے۔ اپنی کتاب فصل المقال فیما بین الحکمۃ والشریعۃ من الاتصال میں ابن رشد نے آیات قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ ’تعقل و تفکر واجب ہے‘۔ گویا فکروتدبر کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے ذہنی تعطل اور کاہلی، اللہ کی دی ہوئی نعمت کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات انھوں صرف شرعی علوم کے تناظر میں نہیں کہی بلکہ اس پر فلسفہ و منطق کے حوالے سے بھی زور دیا، کیونکہ یہ علوم بھی انسان کو حقیقت کا ادراک کراتے ہیں۔ لہٰذا، مسلمان حکمت کے ان خزانوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔
یقیناً ابن رشد فلسفہ اور شریعت کے ظاہری تضاد کو دُور کرنے کے لیے کوئی فعال لائحہ عمل نہیں دے سکے۔ وحی کی تاویل و تمثیلی تعبیر کا جو راستہ انھوں نے دکھایا اس کی افادیت مشکوک ہے، لیکن ان کا یہ خیال کہ فلسفہ و شریعت باہم رفیق، مددگار بلکہ رضاعی بھائی ہیں اور دونوں میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہے کیونکہ حق حق کو رَد نہیں کرتا۔ یہ بات جہاں فلسفے پر ان کے یقین کی مظہر ہے، وہیں شریعت پر ان کے پختہ ایمان کی بھی علامت ہے۔ ان مباحث کی تفصیل کے لیے ان کی کتاب الکشف عن مناہج الادلۃ فی عقائد الملۃ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
ابن رشد نے اس نامعقول مگر مشہور خیال کی تردید کی کہ ’’فلسفے کا مطالعہ انسان کو کفروضلالت کی راہ پر ڈال دیتا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ’’ بادی النظر میں فلسفے کے مطالعے سے گمراہ ہونے والے کی گمراہی کا اصلی سبب نفس فلسفہ نہیں بلکہ مطالعے کے دوران مغالطہ یا نفسانی اغراض کا غلبہ ہے۔ ایک طالب علم کو مطالعہ کے دوران صحیح علمی و روحانی رہنمائی میسر آئے تو مغالطوں سے بچا جاسکتا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک ’’اہل نظر و بصیرت کا فلسفہ پڑھنا ناگزیر ہے کیونکہ ایک فلسفی ہی باتوں کی جڑ اور گہرائی میں اُترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس صلاحیت کے بغیر نصوص کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا اور عصرِ حاضر میں ان کا انطباق (adaptation) دشوار ہے‘‘۔
ابن رشد تعقل کے پُرزور داعی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ’’ہر بات خود نہیں جانی جاسکتی، لہٰذا اسلاف کی علمی پیش رفت سے بے نیاز ہوکر پہیے کی ایجادِ نو میں مہلتِ عمر گنوا دینا حماقت ہے۔ عقل مندی، پیش رو محققین کی تحقیقات سے استفادے میں ہے۔ البتہ اس استفادے کے دوران اندھی عقیدت سے اجتناب ضروری ہے‘‘۔ ابن رشد انسانی عقل کے ثمرات کو آنے والی نسلوں کے لیے بہترین ورثہ سمجھتے ہیں، لیکن اصرار کرتے ہیں کہ ’’اس ورثے پر غور و فکر اور اس کا محاکمہ ضروری ہے‘‘۔ وہ خود بھی تحقیق و تنقید کی اسی روش کو پسند کرتے ہیں اور پیش رو مفکرین کی کتابوں میں بیان کردہ حق کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے ہیں، اور ساتھ ہی جس بات کو غلط سمجھتے ہیں اسے رد کرکے نئی راہ نکالنے میں کسی قسم کا تکلف نہیں کرتے۔
ابن رشد کی علمی آراء سے اسی طرح اختلاف کیا جاسکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے، جیسا کہ خود انھوں نے اپنے پیش رو مفکرین سے کیا، لیکن ان کا علمی کام اور تحقیقی و تنقیدی فکر آج بھی طلبہ و محققین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ابن رشد آج سے تقریباً ۹۰۰ برس پہلے، قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان علم و فقہ کی روشن روایات کا امین تھا۔ ان کے دادا اور پھر والد نے بھی قرطبہ کے ’قاضی القضاۃ‘ (چیف جسٹس) کے طور پر اپنے فرائض انجام دیے تھے۔ ایک تعلیم یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے علاوہ ابن رشد خود ایک ذہین و فطین طالب علم تھے۔ والد کی نگرانی میں انھوں نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ مؤطا امام مالک بھی حفظ کرلی تھی۔ انھیں ادب سے بھی دلچسپی تھی چنانچہ حبیب ابوتمام (۸۰۴ء-۸۴۶ء)اور متنبی (۹۲۰ء- ۹۶۵ء)کا کلام انھیں زبانی یاد تھا۔ انھوں نے فقہ، کلام، فلسفہ، ریاضی اور طب کی تعلیم بھی وقت کے مایہ ناز اساتذہ سے حاصل کی اور بہت جلد علم کے اُفق پر آفتاب بن کر طلوع ہوئے۔
ابن رشد صرف کتابی مطالعے کے نہیں بلکہ اولو الالباب کے مصداق کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و تدبر کے قائل تھے۔ بچپن ہی سے ان کی عادت تھی کہ وہ گھنٹوں آسمان میں اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ ان کی شہرت یقیناً بطور فلسفی ہوئی، لیکن علم فلکیات میں ان سے کئی فلکیاتی مشاہدات بھی منسوب ہیں۔ مراکش کی رصدگاہ میں اپنے مشاہدات کے دوران انھوں نے ایک نیا ستارہ ’سہیل‘ (Canopus) دریافت کیا۔ اس دریافت سے انھوں نے زمین کے گول ہونے کے دلائل اخذ کیے۔ انھوں نے کائنات سے متعلق کلاؤ دیوس بطلیموس (۱۰۰ء-۱۷۰ء) کے نظریے پر تنقید کی اور کائنات کی توضیح کے لیے نئے ماڈل پیش کیے۔ ابن رشد کی فلکیاتی خدمات کے اعتراف میں مریخ و مشتری کے درمیان واقع ’حلقۂ سیارچگان‘ (Asteroid belt) کے ایک سیارچےکو ان کے نام سےمعنون کیا گیا ہے، اسے Averroes 8318 کہتے ہیں۔
طب کے میدان میں بھی ابن رشد کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ خصوصاً ان کی الکلیات فی الطب کو خداداد شہرت اور مقبولیت ملی۔ سات جلدوں پر مشتمل اس طبی انسائیکلوپیڈیا میں جسم کو لاحق ہونے والے تمام امراض اور ان کے علاج پر مبنی معلومات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ فلسفے میں استغراق نے ابن رشد کو استقلال کے ساتھ طبی تجربات کی فرصت نہیں دی۔ اس کے باوجود اس میدان میں بھی ان سے کئی اوّلیات منسوب ہیں، مثلاً:
حکیم جالینوس کے نظریات کی تنقیح پر ابن رشد نے تقریباً دس رسائل تصنیف کیے۔ اسی طرح کلیات میں دوران خون اور جراثیم سے متعلق ان کی توضیحات ولیم ہاروے (۱۵۷۸ء- ۱۶۵۷ء) اور لوئس پاسچر (۱۸۲۲ء-۱۸۹۵ء)کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔ انھوں نے تریاق پر ایک رسالہ لکھا تھا جو بڑا مقبول ہوا۔ کلیات اور ان کے دیگر طبی رسائل کے لاطینی، عبرانی و دیگر یورپی زبانوں میں ترجمے کیے گئے اور صدیوں تک وہ یورپ کی یونی ورسٹیوں میں داخلِ نصاب رہے۔ ابن رشد نے مراکش میں شاہی طبیب کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
علمی و تصنیفی مشاغل کے ہمراہ ابن رشد ایک زمانے تک قرطبہ اور اشبیلیہ میں قاضی کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ علم فقہ میں ابن رشد کی تصانیف میں سے بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد فقہی احکام و مسائل سے متعلق مختلف آراء کے تقابلی مطالعہ پر ایک رجحان ساز کتاب ہے۔ کسی ایک مسلک کی آراء کی تعلیم و تفہیم کے بجائے یہ کتاب ان کے اس نظریے کی آئینہ دار ہے کہ فقہی مسائل میں صحیح رائے تک پہنچنے کا طریقہ تقلید جامد نہیں بلکہ عقلی استدلال ہے۔ ان کی کتاب فقہی اختلافات کو عقل کی عدالت میں پیش کرنے، اختلافات کے اسباب پر غور و خوض کرنے، اور فقہاء کی جانب سے مختلف آرا ءکے حق میں پیش کیے گئے دلائل کی تفتیش و تجزیے کے بعد قرآن و سنت کے مطابق اقرب الی الصواب رائے تک پہنچنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔
امتحان ہی زندگی کی اصل ہے۔ لہٰذا، ابن رشد کو بھی اضطراب اور پیچ و تاب کے ایک کٹھن دُور سے گزرنا پڑا۔ حاسدوں کو ان کی یہ عزت افزائی راس نہ آئی۔ انھوں نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے۔ ابن رشد کی تحریروں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عجیب و غریب معنی پہنائے گئے اور ان پر الحاد و زندقہ کا الزام لگا۔ پھر ابن رشد کے بیباک سیاسی افکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ دراصل اسلامی تاریخ کے تجزیاتی مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ’’دورِ نبوی ؐ اور خلفائے راشدینؓ میں حکومت جمہوری و شورائی اصولوں پر عامل تھی۔ اس کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہوا اور حکومت کی یہ اسلامی شناخت مسخ ہوتی چلی گئی‘‘۔ ابن رشد کی کتابوں میں حریت افکار کی دعوت، جمہوریت و شورائیت کی وکالت، سیاسی آزادی کی باتیں، اور آمریت پر جارحانہ تنقید، ملوکیت کے دور میں باغیانہ قرار پائیں۔ درباری سازشوں کا شکار ہوکر ابن رشد کو شہر بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کتابوں کو نذرِ آتش کیا گیا، اور انھیں ایک دُور دراز گاؤں میں نظر بند کردیا گیا۔
ابن رشد مضبوط اعصاب اور اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ انھوں نے ایام جلاوطنی و اسیری کا صبر و استقامت سے سامنا کیا۔ ان کی زندگی کا یہ مشکل مرحلہ بھی علمی مجاہدے سے عبارت رہا۔ حالات کی ناسازگاری کو بالائے طاق رکھ کر وہ پورے انہماک سے مطالعہ و تفکر، درس و تدریس، اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ الیسانہ نامی جس گاؤں میں انھیں نظر بند کیا گیا تھا، وہاں یہودی خاطر خواہ تعداد میں بستے تھے۔ ابن رشد کی قید ان یہودیوں کے لیے بڑی سودمند ثابت ہوئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں یہودیوں کو بھی ان سے علمی استفادے کا موقع ملا۔ بعدازاں یہ طلبہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے یورپ کے لیے علم کے مینارۂ نور ثابت ہوئے۔
یورپ پر ابن رشد کے علمی احسانات کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کی فلسفیانہ کاوشوں پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔
فلسفہ، ابن رشد کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ ان کی اکثر تصانیف فلسفیانہ مباحث سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں ابن رشد نے ارسطو (۳۸۴ ق م-۳۲۲ ق م)کی تقریباً تمام کتابوں کی شرحیں لکھیں۔ یہ شرحیں تین طرح کی ہیں:
ابن رشد کی شرحیں محض فکرِ ارسطو کی جگالی نہیں ہیں بلکہ اپنی ایک اجتہادی شان رکھتی ہیں۔ ان شروحوں، بالخصوص شروحات کبریٰ، میں ارسطو کے افکار کی توضیح کے ساتھ ساتھ ابن رشد کے طبع زاد خیالات کا اظہار بھی ہوا ہے۔ ارسطو کی کم از کم پانچ کتابوں پر ابن رشد نے تینوں طرز کی شرحیں لکھی ہیں۔ ان میں الطبیعیات، مابعدالطبیعیات ، النفس، السماء اور البرھان شامل ہیں۔
ابن رشد کی ان علمی فتوحات کی قدر مسلم دنیا سے بڑھ کر یورپ میں ہوئی۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے لیے ابن رشد کی حیثیت شارحِ ارسطو، مجددِ فلسفۂ یونان اور مسیحائے علم کی تھی۔ ابن رشد نے افلاطون کی The Republic کی جو شرح لکھی، وہ یورپ میں جدید سیاسی فلسفے کا ایک اہم ماخذ بنی۔ ارسطو کا فلسفہ یورپ میں ابن رشد کے واسطے سے پہنچا۔ یورپ میں علمی بیداری اور نشاتِ ثانیہ کے سارے نقیب ابن رشد کے خوشہ چیں اور احسان مند تھے۔
جارج سارٹن لکھتے ہیں:’’ابن رشد کی عظمت اس زبردست اثر میں ہے، جو انھوں نے کئی صدیوں تک انسانی ذہنوں پر ڈالا۔ رشدیت کی تاریخ سولھویں صدی کے آخر تک پہنچتی ہے، یعنی چار صدیوں کا ایسا زمانہ جو قدیم اور جدید دور کے درمیان ایک حقیقی عبوری مرحلہ تھا‘‘۔ اس زمانے میں ابن رشد کی ایسی علمی دھاک بیٹھی تھی کہ اہل علم ان کا نام لینے کے بجائے صرف The Commentator لکھتے تھے، اور پڑھنے والے جان جاتے تھے کہ کس عظیم الشان علمی ہستی کا تذکرہ ہورہا ہے۔ دھیرے دھیرے ابن رشد یورپ کے اہل علم و دانش کے لیے باوثوق ترین حوالے کی حیثیت اختیار کرگئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتب مقدسہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ابن رشد کی کتابوں کے تراجم تھے۔ آج انٹلکچول کہلانے کی آس میں لوگ جس طرح ہائیڈیگر، فوکو، سارتر، گرامسی، اور چومسکی وغیرہ کی مالا جپتے ہیں، ویسے ہی اس وقت یورپ میں شائقینِ علم ابن رشد کے مداح تھے اور ان کا حوالہ دینا مہذب، بیدار مغز، تعلیم یافتہ اور عقلیت پسند ہونے کی علامت تھی۔
موسیٰ بن میمون اور جرسونیدس جیسے یہودی فلسفی نیز سیجر برابانتی، پیترو بومپوناتسی اور جان بیکنتھارپ جیسے عیسائی فلسفیوں پر ابن رشد کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ تھامس ایکویناس جیسے عیسائی متکلم و پادری اور راجر بیکن، ڈیکارٹ، گلیلیو، لیونارڈو ڈاونچی، برونو اور نیوٹن جیسے ارباب علم و سائنس بھی اپنی کتابوں میں ابن رشد کے افکار و دلائل کی جگالی کرتے یا ان سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پیرس یونی ورسٹی، پیڈوا یونی ورسٹی، اوکسفرڈ یونی ورسٹی اور یورپ کی دیگر دانش گاہوں میں ابن رشد کا جادو کئی صدیوں تک سر چڑھ کر بولتا رہا۔اس کے اثرات تو ہونے ہی تھے سو ہو کر رہے۔ آہستہ آہستہ یورپ کی فضا بدلنے لگی، اندھی تقلید کے بجائے عقل پر زور دیا جانے لگا، علم کا شوق بڑھا، بیداری آئی، غیرمشروط اطاعت کے بجائے سوالات پوچھے جانے لگے۔
عیسائیت کی فرسودہ تعلیمات کے خلاف ایک بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ جن کی روزی روٹی اور قوت و اقتدار، عقل و خرد پر کلیسائی تسلط سے وابستہ تھی وہ تشویش و توحش میں مبتلا ہوگئے۔ اہل کلیسا نے پایا کہ اس آزاد خیالی کے اصل محرک ابن رشد کے افکار ہیں۔ لہٰذا، ان کی کتابوں کی خرید و فروخت اور افکار کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی۔ ۱۲۷۰ء کی دہائی میں متعدد مذہبی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں پابندی کے اس عزم کی تائید کی گئی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی گئیں۔
سیجر برابانتی اور بوئیتھیئس دانمارکی پیرس یونی ورسٹی میں استاد تھے۔ دونوں ابن رشد کے افکار کے شیدا اور درس و تدریس کے ذریعے ان افکار کی اشاعت کرتے تھے۔ ابن رشد کے افکار سے اُلفت میں سیجر نہ صرف یہ کہ ریکٹر نہیں بن سکے بلکہ انھیں پیرس چھوڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس پر بھی گلو خلاصی نہیں ہوئی۔ انھیں کیتھولک عقائد سے انحراف پر تعذیب کے لیے کلیسائی عدالت (Inquisition Court) میں طلب کیا گیا، بعد میں پُراسرار حالات میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ ۱۲۷۷ء کی کلیسائی مذمتوں کے بعد بوئیتھیئس کا کیا بنا، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہم نہیں جانتے کہ کلیسائی استبداد سے بچنے کے لیے انھوں نے گمنامی کی زندگی اختیار کرلی یا اپنے افکار و نظریات کی قیمت اپنی جان سے چکائی۔ یہ ایک دو افراد کی نہیں، دو چار نسلوں کی سرگزشت ہے۔
ابن رشد کے خلاف جم کر پروپیگنڈا کیا گیا۔ انھیں الحاد کا علَم بردار گردانا گیا۔ اٹلی کے مصوروں نے مختلف چرچوں میں ابن رشد کے اہانت آمیز خاکے بنائے، جن میں وہ متکلم عیسائیت تھامس ایکویناس کے سامنے شکست خوردہ حالت میں نظر آتے ہیں۔ دانتے نے اپنی مشہورِ زمانہ رزمیہ ڈیوائن کامیڈی میں ابن رشد اور ابن سینا کی روحوں کو جہنم میں دکھایا ہے۔
البتہ یہ جھوٹ، پروپیگنڈا، اور ظلم و ستم ابن رشد کے اثرات پر غالب نہ آسکے۔ یورپ میں ابن رشد کے افکار سے ایک پورا مکتبۂ فکر وجود میں آیا، جسے Averroism کہتے ہیں۔ ابن رشد کے نظریات نے یورپ کے جاہلی معاشرے کی فرسودہ روایات کے خلاف ایک طوفان برپا کردیا۔ علم اور عقل کی تحریک زور پکڑ گئی، یہاں تک کہ عیسائیوں کے متعدد کلامی فرقے بھی اس پکار سے متاثر ہوئے اور پروٹسٹنٹ تحریک کے محرک ثابت ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابن رشد کو ’بابائے عقلیت‘ (Father of Rationalism) بھی کہا جاتا ہے۔
ابن رشد کے افکار نے اس مستقبل کو (جو آج ہمارے لیے ماضی ہے) جس شان سے سینچا اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، البتہ ہمارے سامنے جو اصل سوال ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ آج ہم ابن رشد سے کیا سیکھ سکتے ہیں ؟
ایک جملے میں کہا جائے تو ’’ابن رشد علمی تنقید کے مشکل محاذ پر ایک قابل تقلید نمونہ ہیں‘‘۔ پروفیسر ارنسٹ رینان لکھتے ہیں:’’مطالعہ اور علم و فضل کے معاملے میں دوسرے دانش ور بھی ابن رشد کے ہمسر ہوسکتے ہیں، لیکن جو چیز ابن رشد کو ممیز و ممتاز کرتی ہے وہ ان کی قوتِ تنقید ہے۔ اساطینِ علم و فکر کے بڑے ناموں اور عظیم کارناموں سے مرعوب ہوئے بغیر نفس مسئلہ پر مرکوز ہونا اور دلائل کو تحلیل و تجزیہ کی کسوٹی پر پرکھنا علمی تنقید کے لیے شرطِ اول ہے۔ اتنی ہی اہم یہ بات ہے کہ شخصیات کا احترام ملحوظ خاطر رہے، ان کی علمی خدمات کا صدق دل سے اعتراف کیا جائے، اور تنقید کسی صورت بھی تنقیص میں نہ ڈھلنے پائے۔ ابن رشد علمی تنقید کے ان دونوں معیارات پر کھرے اُترتے ہیں۔
ابن رشد نے علم فلکیات میں بطلیموس پر، علم طب میں جالینوس پر، اور علم فلسفہ میں الفارابی، ابن سینا اور امام غزالی جیسے صاحب الرائے مفکرین کے نظریات پر جرح کی ہے۔ ان کی عالمانہ تنقید سے ارسطو کے نظریات بھی مامون نہیں رہے۔ وہ ارسطو کے شارح کی حیثیت سے ضرور جانے جاتے ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ علم فلکیات سے لے کر علم نفسیات تک مختلف مسائل میں انھوں نے کھل کر ارسطو کی آراء سے اختلاف کیا ہے۔ ایک طرف یہ تنقید و اختلاف ہے تو دوسری طرف ابن رشد کے علمی کاموں میں ارسطو کی ہر کتاب کی شرح، بطلیموس کی المجسطی کا خلاصہ، اصول فقہ پر امام غزالی کی المستصفٰی کا اختصار، اور جالینوس کے طبی نظریات پر دسیوں رسائل شامل ہیں۔ عورتوں کے سماجی کردار کے تعلق سے ان کے نظریات اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ ابن رشد اپنے معاشرتی ماحول کی حدبندیوں کے اسیر نہ تھے۔ اہل علم کو اسی طرح اپنے زمانے کے فکری افق کی توسیع کا علَم بردار ہونا چاہیے۔
ان کی تصانیف میں تہافت التہافۃ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ کا جواب ہے۔ یہ کتاب ابن رشد کے علمی و تنقیدی اپروچ کا زریں شاہکار ہے۔ ابن رشد غزالی کے دلائل نقل کرتے ہیں اور ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے جاتے ہیں۔ وہ فلسفیوں کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’جن مسائل میں فلسفیوں کی تکفیر کی جاتی ہے ان کی تاویل و تعبیر کے ایسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں، جن سے فلسفہ و شریعت میں تصادم نہ ہو‘‘۔ انھوں نے متعدد مسائل میں اس بات کو تسلیم کیا کہ غزالی کی تنقید صحیح ہے لیکن اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل میں فلاسفہ بالخصوص ارسطو کی رائے وہ نہیں ہے، جس پر تنقید کی گئی ہے، بلکہ یہ آراء غلط تشریحات کے نتیجے میں ارسطو سے منسوب ہوگئی ہیں۔ ارسطو کے نظریات کی غلط تشریح و تعبیر کے لیے ابن رشد نے ابن سینا اور فارابی پر تنقید کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے کچھ رسائل مثلاً مقالہ فی منہج الفارابی فی المنطق، مسائل فی کتاب الشفاء، الرد علی ابن سینا فی تقسیم الموجودات، اور المقال علی اراء الفارابی علی القیاس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
ابن رشد بیدار ذہن کے مالک ہی نہیں وسیع القلب اسکالر بھی تھے۔ وہ صرف مطالعے کی وسعت اور تصانیف کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار کی مناسبت سے بھی طلبہ و نوجوانوں کے لیے ایک آئیڈیل ہیں۔ ابن رشد نے اپنے سرمایۂ علم پر کبھی غرور نہیں کیا۔ بڑی انکساری کے ساتھ انھوں نے ہر آن اس پر توجہ دی کہ وہ کیا نہیں جانتے ہیں، اور جو نہیں جانتے اسے جاننے کے لیے عمر بھر مطالعہ و تفکر میں لگے رہے۔ وہیں دوسری طرف ان کی شخصیت میں عزّتِ نفس اور خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ بادشاہ کے سامنے عام درباریوں کے تذلیل آمیز اور خوشامدانہ رویوں سے نالاں اور مجتنب رہے۔ انھوں نے اپنے حاسدوں اور دشمنوں سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے مجمع عام میں ابن رشد کو سخت سُست کہا۔ ابن رشد نے اس آدمی سے بھلے طریقے سے بات کی، اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس کے ذریعہ انھیں اپنے حلم اور عفو و درگزر کی صلاحیت کو آزمانے کا موقع ملا۔ مزید یہ کہ اس گستاخ کو تحفے تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ ان کے اعلیٰ اخلاق اور تحمل کی ایک مثال ہے۔
ابن رشد وقت کے صحیح استعمال کے معاملے میں بھی مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے مہلت زندگی کی ہر ساعت کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دربار اور عدالت کی مصروفیات سے لے کر قید وبند کی پُرمشقت ساعتوں تک ابن رشد نے مطالعہ، تفکر و تدبر اور تصنیف و تالیف کا دامن تھامے رکھا۔ ۱۱۹۸ءمیں انتقال سے پہلے اپنی ۷۲ سالہ زندگی میں انھوں نے فلسفہ، علم کلام، طب، فقہ، قانون، نحو و صرف، طبیعیات، ریاضیات، اخلاقیات، حیوانیات اور فلکیات پر تقریباً ڈیڑھ سو کتب و رسائل تصنیف کیے۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی انھیں احساس تھا کہ کچھ بھی نہیں ہوسکا۔
لکھتے ہیں: ’’میں مجبور ہو گیا ہوں صرف اہم مسئلوں تک محدود رہنے پر۔ میری مثال اس شخص کی سی ہے، جس کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہو، اور جس کے لیے اتنا موقع نہ ہو کہ وہ بے حد ضروری چیزیں بھی ساتھ لے جا کر جان بچا سکے‘‘۔ خود کو اہم مسائل تک محدود کرلینے کے باوجود اگر علمی تصانیف کا ایسا عظیم الشان ذخیرہ وجود میں آسکتا ہے، تو اس بات کا شاید اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا، کہ اگر مثالی حالات میسر آتے اور وہ خود کومحدود نہ کرتے تو ان کی علمی فتوحات کا کیا عالم ہوتا!
فی الوقت ابن رشد کے تعلق سے قابل ذکر اور قابل قدر بات یہ ہے کہ کفر و الحاد کے جھوٹے الزامات، جلاوطنی اور قید، حاسدوں کی سازشیں، متعدد عیسائی فرقوں کی مخالفت، متعصب مسیحی مصوروں اور ادیبوں کی اہانت، پادریوں کی متفقہ مذمتوں اور کتابوں کو نذر آتش کیے جانے کے باوجود آج بھی ابن رشد اپنی عقل کے ثمرات میں زندہ ہیں ،اور ہم سب کے لیے ذوقِ مطالعہ، علو تفکر، قوتِ تنقید، بلندئ کردار، وقت کی قدر اور صبر و توکّل کے حوالے سے روشن مثال ہیں۔
_______________
خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیل گئی ہے۔گذشتہ ہفتے ایران نواز ’انصاراللہ‘ المعروف ’حوثیوں‘ نے سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے ایک بڑے اہم بحری راستے کو بدلنے اور روکنے کی علامت ہے۔
l میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ:تقریباً ۲۷ کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ جزیرہ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔
اس طرح ایک جانب آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ ان کامیابیوں کو ایران کی فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہر سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا، جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پُر عزم ہے، تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم، اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں، تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔
دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے بُری طرح نقصان پہنچا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لیے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی‘‘۔ بحرین امریکا کے لیے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔
خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکا کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ، جغرافیہ کو شکست دے سکے گی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کردے گا؟
اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جب کہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔
ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انھیں یہود دشمنی سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔
فلم کا نام NAZA دراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’ضمنی نقصان‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک ’عسکری کوڈ‘ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں؟
۱۰ ستمبر کو اس کی افتتاحی نمائش کے بعد جب فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو ۲۵ منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AI ٹکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی نے انسان کو محض ایک ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے، جب کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو ’بدترین اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیرمعمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی’اکلوتی جمہوریت‘ بے نقاب ہوگئی ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جس کی بناپر کمرۂ تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔
_______________
۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کا دن تاریخِ کشمیر میں ایک ایسے تاریک موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انڈیا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کا یک طرفہ خاتمہ محض ایک قانونی ترمیم نہیں تھی، بلکہ یہ وادیِ جموں و کشمیر پر مستقل سیاسی، جغرافیائی اور نظریاتی تسلط قائم کرنے کے اس طویل مدتی ’ہندوتوا ایجنڈے‘ کا نقطۂ آغاز تھا، جس کے سدباب کے لیے نئی دہلی کی حکومت، عشروں سے پَر تول رہی تھی (یہ حکومت بی جے پی کی ہو یا کانگریس کی، دونوں میں بدنیتی کا عنصر غالب طور پر دیکھا جاسکتاہے)۔ آج، برسوں بعد، وادیِ کشمیر ایک ایسے جدید محاصرے میں ہے جہاں گولیوں کی گھن گرج سے زیادہ قانون، بیوروکریسی اور آبادیاتی تبدیلیاں ایک پوری قوم کی شناخت کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں، تو اگست سے نومبر ۱۹۴۷ء کے دوران پونچھ اور جموں میں ہونے والا مسلمانوں کا لرزہ خیز قتلِ عام یاد آتا ہے، جہاں مسلم اکثریتی خطے کو ہندو اکثریت میں بدلنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ نفوس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ موجودہ دور میں، ڈیجیٹل میڈیا، سیٹلائٹ نگرانی اور عالمی برادری کی موجودگی کے باعث انڈیا کے لیے وادی میں ایسا ننگا اور براہِ راست فوجی قتلِ عام کرنا سفارتی سطح پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن اب یہی کام ’قانونی اور بیوروکریٹک نسل کشی‘ کے ذریعے، مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مسلسل کیا جارہا ہے۔
نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں، مزدوروں اور ریٹائرڈ انڈین فوجیوں کو وادی کی مستقل شہریت دینا اور مسلم علاقوں میں خصوصی بستیاں قائم کرنا، اسرائیل کے مغربی کنارے والے آباد کاری کے ماڈل کی ہو بہو عکاسی ہے۔ اس مہم کا واحد مقصد مسلم اکثریت کو اپنے ہی گھر میں معاشی اور سیاسی طور پر اقلیت بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں استصوابِ رائے یا سیاسی عمل کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی، کشمیر کی صدیوں پرانی تعلیمی اور رابطہ زبان ’اردو‘ کو بتدریج پسِ پشت ڈال کر، ہندی اور انگریزی کو زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل اپنی تحریری تاریخ اور لٹریچر سے کٹ جائے۔
اس تادیبی رویے کے تحت ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے سیکڑوں نجی اسکولوں اور ’جامعہ سراج العلوم‘ جیسے بڑے تعلیمی اداروں اور مدارس کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کے کالے قوانین کے تحت جبراً سیل کر دیا گیا۔ ان اسکولوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے اور ان کی اربوں روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی و مقامی قائدین اور اساتذہ کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ان اسکولوں میں سیکولرازم اور جدید تعلیمی اصلاحات کے نام پر بچوں کو مذہب سے دور کرنے والا مادہ پرستانہ ذہن تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں اسلامی شعائر کو پسماندگی کی علامت اور انڈین قوم پرستی کو ترقی کا واحد راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نصاب اور تدریسی سرگرمیوں کا ڈھانچا اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ طلبہ کے دلوں سے کشمیر کے دیرینہ سیاسی کاز اور مذہبی حمیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی دانش ور اس عمل کو ’تعلیمی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے لاکھوں کشمیری طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا کر انھیں نفسیاتی طور پر مغلوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص ہمیشہ سے انڈین قوم پرستی کے راستے میں سب سے بڑی نظریاتی دیوار رہا ہے۔ اس دیوار کو گرانے کے لیے حال ہی میں ’وقف بورڈ ترمیمی ایکٹ‘ متعارف کروایا گیا ہے۔ اس کے تحت مساجد، خانقاہوں اور مزارات کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کو انڈین بیوروکریسی کے ماتحت کیا جا رہا ہے، اور ان مسلم بورڈز میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت کا قانونی راستہ بھی ہموار کیا گیا ہے، جسے مقامی علما اپنی مذہبی خودمختاری پر سیدھا حملہ قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔
وادی کی مساجد کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور خطباتِ جمعہ کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جاتی ہے، تاکہ کشمیر کی آزادی یا انسانی حقوق پر کوئی آواز بلند نہ ہو سکے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی بار بار تالہ بندی اور اہم اسلامی تہواروں پر پابندیاں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ وادی میں اسلامی راہ نمائی کو ایک سیکیورٹی رسک سمجھ کر دبایا جا رہا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈیا کی اس طویل مدتی مہم کو جس بیرونی عسکری و تکنیکی شراکت داری سے سب سے زیادہ توانائی مل رہی ہے، وہ اسرائیل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، کشمیر کا خطہ اس وقت اسرائیل کی جدید ترین جنگی ٹکنالوجی اور جنگی نظریات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کی عسکری سرگرمیاں اور اشتراک درج ذیل پانچ بڑے ستونوں پر کھڑا ہے:
۵- تعزیری مسماری (Punitive Demolitions): اسرائیل کی جانب سے فلسطینی حریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے کی عسکری حکمتِ عملی کو بھارتی فوج نے کشمیر میں ہو بہو اپنایا ہے۔ عسکریت پسندی کی حمایت کے شبہ میں کشمیری مسلمانوں کے مکانات، کاروباری دکانوں اور جائیدادوں کو دھماکوں سے اڑانا یا مسمار کرنا، اسی اسرائیلی جارحانہ ماڈل کا حصہ ہے۔
اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، فریڈم ہاؤس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ سالانہ رپورٹیں، مقبوضہ وادی کی مخدوش صورتِ حال پر شدید احتجاج کر رہی ہیں۔ ان عالمی اداروں کے مطابق، عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر اب تک ۲۸۰۰ سے زائد صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ جیسے کالے قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے لیے۸ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں اور ۲۵ سے زائد اہم کتابوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ حراستی اموات اور تشدد کے منظم واقعات وادی کے سیاسی منظرنامے کو مزید بھیانک بنا رہے ہیں۔
ایسے وقت میں، جب کہ پاکستانی ریاست اندرونی معاشی و سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی اسٹرے ٹیجک دباؤ کے باعث کشمیر پالیسی پر ایک غیر معمولی دفاعی خاموشی اختیار کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی دینی اور نظریاتی تنظیموں کی ذمہ داری دگنی ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں جماعت ِ اسلامی جیسی منظم نظریاتی جماعتیں، جن کا کشمیر کی تحریکِ آزادی کے ساتھ ایک طویل، فکری اور خون کا رشتہ رہا ہے، اپنا یہ تاریخی فرض ادا کر رہی ہے۔ مگر یہ چیلنج جتنا بڑا ہے، اسے دیکھ کر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کشمیر کے مقدمے کو عوامی اور عالمی فورمز پر زندہ رکھنے کے لیے نئے سرے سے صف بندی کی جائے اور تسلسل قائم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان کے مذہبی اداروں اور علمائے کرام کو مساجد، منبر و محراب اور عوامی سیمی ناروں کے ذریعے پاکستانی عوام، بالخصوص نئی نسل میں کشمیر کی نظریاتی تڑپ کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی، اوورسیز نیٹ ورکس اور عالمی مسلم تنظیموں کے ذریعے انڈیا کے ’ثقافتی اور تعلیمی جبر‘ کو بے نقاب کرنا، اور آئینی دائرے میں رہ کر ریاستی پالیسی پر پرامن دباؤ قائم رکھنا وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے وادی کے مظلوم مسلمانوں کو تنہائی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالا جاسکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ اگر عالمی ضمیر، انسانی حقوق کے علَم برداروں ، اُمتِ مسلمہ، خصوصاً مملکت خدا داد پاکستان نے انڈیا کی اس خاموش، قانونی اور آبادیاتی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی برقرار رکھی، تو جغرافیائی نقشے پر وادیِ کشمیر کا نام تو شاید موجود رہے، لیکن اس کا صدیوں پرانا اسلامی، ثقافتی اور تاریخی تشخص ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ یہ وقت سطحی بیانات کا نہیں، بلکہ علمی، قانونی، سفارتی اور عوامی سطح پر اس فکری و جغرافیائی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اور پائیدار بند باندھنے کا ہے۔
_______________
بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے مندرجات کی منسوخی،اور ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوںمیں تقسیم کرنے کے سات سال بعد انڈین سول سوسائٹی سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک گروپ نے حال ہی میں خطے کی زمینی صورت حال کا انتہائی تاریک اور تشویش ناک نقشہ پیش کیا ہے ۔ ’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر‘ نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ ’’سیکورٹی میں بہتری تو آئی ہے، مگر ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات جمہوری حکمرانی، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس،جموں و کشمیر بدستور سیاسی بے یقینی، سکڑتی ہوئی شہری آزادیوں اور حکمرانی کے بحران کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے‘‘۔
اگر یہ گروپ محض رسمی حقوقِ انسانی سے وابستہ افراد پر مشتمل ہوتا تو اس کی معروضیت پر سوال کھڑے کیے جاسکتے تھے۔ مگر اس فورم کی مشترکہ صدارت انڈیا کے سابق مرکزی داخلہ سکریٹری گوپال پلئی اور حکومت کے جموں و کشمیر کے لیے مقرر کردہ سابق ثالثین کے گروپ کی رکن رادھا کمار کر رہی ہیں۔ اس کے اراکین میں سپریم کورٹ کی سابق جسٹس روما پال، دہلی اور مدراس ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ، اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس بلال نازکی، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جسٹس حسنین مسعودی، ’قومی کمیشن برائے انسانی حقوق‘ کے سابق سیکریٹری جنرل پربیر سین، معروف مؤرخ رام چندر گوہا، ’قومی کمیشن برائے تحفظ حقوقِ اطفال‘ کی سابق چیئرپرسن شانتا سنہا، سینئر ریٹائرڈ فوجی افسران بشمول لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ، میجر جنرل اشوک مہتا اور ایئر وائس مارشل کپل کاک، کے ساتھ ساتھ ممتاز وکلا، ماہرینِ تعلیم اور حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔
متنازع آئینی تغیرات کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ فورم کی ۶۰ صفحات پر محیط رپورٹ، بعنوان ’جموں اینڈ کشمیر: سیون ایئرز انڈر یونین رول‘میں شہریوں کے تحفظ، سیاسی و معاشی حقوق، آزادیٔ اظہارِ رائے، خواتین اور بچوں کے حقوق، اور لداخ کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیاہے اور پہلی بار اس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حالات و واقعات پر بھی الگ تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کا آغاز اس امر کے اعتراف سے ہوتا ہے کہ ’عسکریت پسندی سے وابستہ تشدد کے واقعات میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے‘۔ تاہم، رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ ’سکیورٹی میں بہتری کو کسی طور بھی سیاسی معمول سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے‘۔رپورٹ کے مطابق: ’سیاسی صورت حال بدستور غیر مستحکم اور بے یقینی کا شکار ہے۔ گذشتہ سال کے دوران منتخب عوامی نمائندوں اور ۲۰۱۹ء کے بعد قائم کردہ انتظامی ڈھانچے کے مابین خلیج وسیع ہوگئی ہے۔ اگرچہ جموں و کشمیر میں اب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں ایک منتخب عوامی حکومت موجود ہے، لیکن حقیقی اور بااختیار اقتدار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر ہی میں مرتکز ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہے۔ دوسری طرف جو عوام کے سامنے جوابدہ ہے ، اس کے پاس حکمرانی کے اختیارات برائے نام یا سرے سے ناپید ہیں‘۔
اس رپورٹ کی ایک مصنّف اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کا کہنا ہے :’ریاستی درجے کی بحالی میں بلا جواز تاخیر نے جمہوری احتساب کی بنیادیں ہلا دی ہیں، حکمرانی کو مفلوج کر دیا ہے اور عوام میں بیگانگی کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے‘۔انھوں نے یاد دلایا: ’وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دونوں کے سامنے بارہا جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ لوٹانے کی باضابطہ یقین دہانی کرائی تھی، مگر وہ تمام وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے‘۔ ان کا کہنا ہے:’ دفعہ ۳۷۰ کو پہلے انتظامی و صدارتی احکامات کے ذریعے کھوکھلا کیا گیا اور پھر پارلیمانی قانون سازی کے بلڈوزر سے زمین بوس کر دیا گیا۔ جس نے انڈیا کے پورے وفاقی نظام اور جمہوری روایات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں‘۔
رادھا کمار نے سکیورٹی کے اس جواز کو بھی چیلنج کیا کہ خطے میں جاری عسکریت پسندانہ حملے ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کا جواز بن سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا:’اس کے برعکس سکیورٹی کے بے رحمانہ اور سخت گیر اقدامات اختیار کرنا، اور ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت شہریوں کو جیلوں میں ٹھونسنا دراصل مزید تشدد کو جنم دینے کی ضمانت ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا:’اس چیلنج سے نمٹنے کا راستہ کشمیری عوام کے حقوق غصب کرنے کے بجائے دو ہی صورتوں میں ممکن ہے: یا تو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے، یا پھر ایک ناقابلِ تسخیر سکیورٹی ڈیٹرنس قائم کیا جائے‘۔ رادھا کمار کے مطابق: ’حکومت ان دونوں محاذوں پر مکمل ناکام رہی ہے‘۔
اگرچہ خطے میں ۲۰۲۴ء میں اسمبلی انتخابات منعقد ہو چکے ہیں، مگر ان کا استدلال ہے: ’منتخب حکومت کے پاس کوئی معنی خیز اختیارات سرے سے موجود نہیں۔ ’ٹرانزیکشن آف بزنس رولز ۲۰۲۴‘ کے تحت سول انتظامیہ، پولیس، سرکاری وکلا اور اب ٹیلی مواصلات سے متعلق ہنگامی اختیارات بھی مکمل طور پر لیفٹیننٹ گورنر کے کنٹرول میں دے دیے گئے ہیں‘۔انھوں نے بتایا ہے: ’جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ اور ’غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ‘ (UAPA) کے غلط استعمال پر بارہا کڑی سرزنش کی ہے۔ لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی‘۔رپورٹ عدلیہ کی اس بڑھتی ہوئی مداخلت کو حقوق انسانی کے اس کٹھن اور بنجر منظر نامے میں اُمید کی چند موہوم کرنوں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔ تاہم، فورم نے متنبہ کیا کہ عدلیہ کی جانب سے ملنے والے یہ ریلیف اسی وقت سامنے آتے ہیں، جب مظلوم شہری اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ کر گنوا چکے ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں ’احتیاطی نظربندی‘ کے قوانین کے مسلسل غلط استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں سوپور کے اس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں ایک اسکول کی طالبہ کی مبینہ جنسی بے حرمتی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو پابندِ سلاسل کیا گیا، روزمرہ امن و امان کے معمولی مسائل میں پی ایس اے کے نفاذ کی نشاندہی کی گئی، اور رواں سال کے اوائل میں امریکی جارحیت کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد وادی بھر میں نکلنے والے پُرامن جلوسوں پر یو اے پی اے کی دفعات لگانے کا احاطہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وادی بھر میں ان مظاہروں کے بعد لگ بھگ ۵۰ نوجوانوں پر دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
اس کے علاوہ فورم نے شوپیاں میں واقع دینی و عصری تعلیمی ادارے ’جامعہ سراج العلوم‘ کی بندش پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا، جسے حکام نے یو اے پی اے کے تحت ایک ’غیر قانونی تنظیم‘ قرار دے کر تالا لگا دیا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس اچانک فیصلے سے تقریباً ۶۰۰ بے قصور طلبہ کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو گیا، جب کہ اس کارروائی کی وجوہ اور بنیادوں کو عوام کے سامنے ظاہر تک نہیں کیا گیا۔
نومبر ۲۰۲۵ء میں دلی کے تاریخی لال قلعہ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد پیش آنے والے تشویش ناک حالات پر رپورٹ میں تفصیلی توجہ دی گئی ہے۔دھماکے کے چندہی گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پر کشمیریوں کے خلاف افواہوں اور زہریلے، اشتعال انگیز پیغامات کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ انڈیا کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری طلبہ، تاجروں اور ملازمت پیشہ افراد کو رہائش گاہوں سے جبری بے دخلی، کرائے پر مکان دینے سے انکار، پولیس تفتیش کے نام پر تذلیل، مکان مالکان کے جارحانہ رویے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک بھر کی یونی ورسٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ہاں زیرِ تعلیم تمام کشمیری طلبہ کا مکمل نجی ڈیٹا اکٹھا کریں، جب کہ گرگاؤں پولیس نے مکان مالکان اور رہائشی سوسائٹیوں کو باضابطہ احکامات جاری کیے کہ وہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپنے تمام کرایہ داروں کی تفصیلی فہرستیں فوری جمع کرائیں۔
فورم نے حکومت کے اس رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔ رپورٹ کا استدلال ہے کہ ماضی کے برعکس جب بڑے حملوں کے بعد مرکزی وزارت داخلہ ملک بھر میں کشمیری طلبہ کے تحفظ کے لیے فوری ایڈوائزریاں جاری کیا کرتی تھی ،اس بار ایسا کوئی بھی حفاظتی یا احتیاطی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ مگر اس کے برعکس، رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر خود سرکاری اقدامات نے شکوک و شبہات اور خوف کے اس زہریلے ماحول کو مزید تقویت دی گئی ہے۔ خود جموں و کشمیر کے اندر، لال قلعہ دھماکے کے بعد کم از کم ۵۰۰؍ افراد کو تھانوں میں بلا کر گھنٹوں تک سخت تفتیش کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ امرناتھ یاترا کے دوران اننت ناگ میں پولیس کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کی ہلاکت کے بعد وادی بھر سے ۲ہزار سے زائدافرادکو حراست میں لیا گیا۔
فورم کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں واضح کرتی ہیں کہ یہ کسی ٹھوس بنیاد پر ٹارگٹڈ تفتیش نہیں تھی بلکہ پولیس کی جانب سے کیا گیا ایک اندھا دھند آپریشن تھا۔رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ اس سال کی امرناتھ یاترا کے سکیورٹی انتظامات اب تک کی تاریخ کے سب سے سخت ترین درجے تک پہنچ گئے تھے۔ جن میں کثیر سطحی فوجی تعیناتی، نوفلائی زونز کا قیام، یاترا میں خدمات فراہم کرنے والے مقامی شہریوں کے لیے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈز کا لازمی اجرا، اور جموں سرینگر قومی شاہراہ پر عام شہریوں کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر کڑی پابندیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کہتی ہے: اگرچہ زائرین کا تحفظ بلاشبہ ضروری ہے، لیکن مقامی باشندوں کی اکثریت نے ان غیر معمولی بندشوں کو اپنی روزمرہ زندگی کی مسلسل عسکری ناکہ بندی اور تذلیل کے طور پر دیکھا۔
فورم نے مساجد، دینی مدارس، ائمہ کرام اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے اراکین کے وسیع ذاتی کوائف اکٹھے کرنے کی حالیہ حکومتی مہم پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مانگی گئی معلومات معمول کی انتظامی ضرورتوں سے کہیں زیادہ متجاوز تھیں، جس کے ردعمل میں وادی کے ممتاز دینی پلیٹ فارم ’متحدہ مجلس علما‘ نے اس اقدام کو شہریوں کی نجی زندگی کے تقدس اور مذہبی آزادی کے بنیادی آئینی حق پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی معیشت بغیر سوچے سمجھے اختیار کی جانے والی ان پالیسیوں کی تباہ کاریوں کا مسلسل شکار ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دے کر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی اوسط کے تناسب سے جموں و کشمیر کی فی کس آمدنی، جو ۱۴-۲۰۱۳ء میں ۷۹ء۶ فی صد تھی، گھٹ کر اب ۷۶ء۶ فی صد پر آ چکی ہے، یعنی اس میں ۳ء۳ فی صد پوائنٹس کی نمایاں گراوٹ درج ہوئی۔ مزید برآں گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۲۳ء۹ فی صد تک جاپہنچی ہے، جو قومی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، جب کہ سیب کی صنعت ،جو کشمیر کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،گذشتہ ایک عشرے کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ ایک مستحکم، بااختیار اور جواب دہ حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے روزگار، سرمایہ کاری اور دیہی ترقی کے حوالے سے طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ فورم کے مطابق اس کا ناگزیر نتیجہ بالخصوص نوجوان نسل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیزاری کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء کی آئینی تبدیلیوں کے فوراً بعد جموں و کشمیر کا ریاستی انسانی حقوق کمیشن (SHRC)، خواتین کا کمیشن، احتساب کمیشن اور معلوماتی کمیشن بیک جنبشِ قلم تحلیل کر دیے گئے تھے اور یہ توقع کی گئی تھی کہ منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان اداروں کا احیا ہو جائے گا۔ مگر منتخب حکومت کے تقریباً دو سال گزرنے کے بعد بھی،یہ ادارے بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں تاحال کوئی انسانی حقوق کمیشن وجود نہیں رکھتا، اور نہ قانون ساز اسمبلی نے فورم کی بار بار کی سفارشات کے باوجود انسانی حقوق پر کوئی باضابطہ اسمبلی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
اپنی گذشتہ تمام رپورٹس کے برعکس، ’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر‘ نے اس بار پہلی مرتبہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حالات پر ایک مکمل اور علاحدہ باب مختص کیا ہے۔ فورم کا استدلال ہے کہ خطے میں انسانی حقوق کی صورت حال کا کوئی بھی معتبر اور دیانت دارانہ جائزہ لائن آف کنٹرول کے اس پار ہونے والی پیش رفت کو نظر انداز کر کے مکمل نہیں ہو سکتا۔مصنفین نے واضح کیا کہ ماضی کی رپورٹس میں اس خطے کو اس لیے شامل نہیں کیا جاسکا تھا، کیونکہ وہاں سے مصدقہ اور غیر جانبدار معلومات کا شدید فقدان تھا اور پاکستان میں فورم جیسا کوئی ہم منصب ادارہ کام نہیں کر رہا تھا۔ تاہم، گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اٹھنے والی عوامی مظاہروں کی بڑی لہر نے ان حالات کا احاطہ کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے حالات کا احاطہ کر کے فورم نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ دونوں جانب کا سیاسی تناظر، ملکی نظام اور اسباب مختلف ہیں، لیکن جمہوری احتساب، بااختیار عوامی نمائندہ اداروں اور شہری آزادیوں کا تڑپتا ہوا مطالبہ اس پوری منقسم ریاست کے عوام کا مشترکہ درد بن چکا ہے۔
فورم نے سفارش کی ہے: جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بلا تاخیر بحال کیا جائے اور ۲۰۱۹ء کا ری آرگنائزیشن ایکٹ فوری واپس لیا جائے۔پولیس اور انتظامی اصلاحات کو تیز کیا جائے تاکہ پولیسنگ کو جمہوری تقاضوں کے تابع کیا جا سکے۔پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور یواے پی اے (UAPA) کے تحت درج تمام مقدمات اور قیدیوں کا آزادانہ عدالتی جائزہ لیا جائے اور بے بنیاد مقدمے ختم کیے جائیں۔جموں و کشمیر کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن، خواتین کمیشن، احتساب کمیشن اور معلوماتی کمیشن کو قانون کے مطابق فی الفور دوبارہ فعال کیا جائے۔ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک بااختیار کمیٹی قائم کی جائے۔
تاہم، فورم کی سب سے پُرزور اپیل یہ ہے کہ جمہوری حقوق کو سکیورٹی پالیسی کی زنجیروں سے آزاد کیا جائے اور عسکریت پسندی کو ڈھال بنا کر ریاستی درجے کی بحالی کو غیرمعینہ مدت کے لیے التوا میں ڈالنا خود ایک سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔ پوری رپورٹ کے دوران مصنّفین نے سکیورٹی کے زور پر قائم انتظامی استحکام اور عوام کے منتخب جمہوری جواز کے مابین باریک اور واضح فرق کھینچا ہے۔ رپورٹ استدلال کرتی ہے کہ حقیقی امن اور حالات کے معمول پر آنے کی واحد شرط آزاد و فعال آئینی ادارے، عوام کے سامنے جواب دہ بااختیار حکومت، عدالتی تحفظات کی بالادستی اور سلب شدہ سیاسی حقوق کی غیر مشروط بحالی ہے۔
فورم کے تمام معزز اراکین اس حتمی اور اٹل نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ، نگرانی اور جمہوری احتساب کا ایک اور صرف ایک ہی راستہ ہے: اور وہ یہ کہ جموں و کشمیر کو وہ مکمل اور باوقار درجہ بغیر کسی التوا کے لوٹایا جائے جو اگست ۲۰۱۹ء میں اس سے زبردستی چھین لیا گیا تھا۔
_______________