اکتوبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

جیل میں الغنوشی کی گرتی صحت

محمد خان ترین | اکتوبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

تیونس کی پارلیمنٹ کے ۸۵ سالہ سابق اسپیکر اور تحریکِ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کی حراست کے دوران صحت تیزی سے اور خطرناک حد تک خراب ہورہی ہے۔ وہ اپریل ۲۰۲۳ء سے قید ہیں اور حال ہی میں انھیں عمر قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے، جسے ان کے حامیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

جون ۲۰۲۶ء کے آخر سے اب تک انھیں کم از کم چھ مرتبہ ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس دوران ۱۷ جولائی کو تیونس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران جیل کے اندر بیہوش ہونے کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے کے ایک عینی شاہد کے مطابق انھیں ’مورناگیہ جیل‘ کے اندر بے ہوش ہوتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انھیں دس دن سے زائد عرصے تک مکمل تنہائی میں ہسپتال میں رکھا گیا، جہاں نہ ان کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی، نہ وکلا کو رسائی ملی اور نہ حکام ہی نے ان کی طبّی حالت کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت فراہم کی۔ ان کی صاحبزادی سمیّہ الغنوشی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں سوال اٹھایا کہ ان کے والد کو کہاں رکھا گیا ہے اور انھیں ملاقاتوں سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟

۲۷جولائی کو جیل واپس بھیجے جانے کے بعد راشد الغنوشی نے اپنے وکلا کو بتایا کہ انھوں نے مکمل تنہائی کی قید کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کی تھی۔ تاہم، صرف دو روز بعد، ۲۹جولائی کو، ان کی صحت مزید بگڑنے پر انھیں دوبارہ ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ چونکہ اُن کو جس مقام پر رکھا گیا تھا، اور پھر اُن کی طبّی کیفیت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ان کی وفات سے متعلق افواہیں گردش کرتی رہیں۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ان افواہوں کی نہ سرکاری سطح پر تردید کی گئی اور نہ تصدیق۔

تیونس کے قوانین کے مطابق ہسپتال منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ۲۱ روز تک ملاقات سے روکا جا سکتا ہے۔ راشد الغنوشی کے معاملے میں اس ضابطے کا باربار استعمال کیا گیا ہے، جسے ان کے خاندان نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی عمر، متعدد دائمی بیماریوں اور مسلسل طبّی ہنگامی صورت حال کے پیشِ نظر ان کی جاری حراست اب ان کی جان کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

یہ صورت حال اس لیے بھی غیر معمولی تشویش کا باعث ہے کہ ’اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست‘ (WGAD) پہلے ہی ان کی حراست کو جبری قرار دے چکا ہے، جب کہ ’افریقی عدالت برائے انسانی و عوامی حقوق‘ تیونس کی حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ وہ ان کے وکلا اور اہلِ خانہ کے ساتھ رابطے کو یقینی بنائے اور انھیں مناسب طبّی سہولیات فراہم کرے۔

راشد الغنوشی ۲۰۱۱ء میں جلاوطنی سے واپسی کے بعد تیونس کی جمہوری جدوجہد کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ انھوں نے اسلام دوست اور سیکولر سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں تیونس کو ’عرب بہار‘ کے بعد خطے میں جمہوری منتقلی کی ایک نادر مثال کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ وہ نومبر ۲۰۱۹ء سے جولائی ۲۰۲۱ء تک تیونسی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، جب کہ ۱۹۹۱ء سے تحریکِ النہضہ کی قیادت کر رہے ہیں۔

سیاسی منظرنامہ جولائی ۲۰۲۱ء میں اس وقت تبدیل ہوا، جب صدر قیس سعید نے غیرمعمولی اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پارلیمنٹ کو معطل کر دیا اور بعد ازاں صدارتی فرمان کے ذریعے حکومت کرنا شروع کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں اور متعدد بین الاقوامی مبصرین نے اس اقدام کو ایک خودساختہ انقلاب (Self-coup) قرار دیا۔ اس کے بعد سے حکومت نے سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ میں نمایاں اضافہ کیا۔

راشد الغنوشی مختلف طبّی عوارض میں مبتلا ہیں، جن میں پارکنسنز، تھائیرائیڈ کی خرابی، بلڈپریشر، نیند کے دوران سانس رُکنے کے مرض (Sleep Apnea)، بائیں ٹانگ میں شدید درد اور مسلسل تھکاوٹ سمیت جیسی متعدد دائمی بیماریاں شامل ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق قید سے قبل وہ متوازن غذا، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے اپنی پارکنسنز کی بیماری پر مؤثر حد تک قابو رکھے ہوئے تھے اور ایک فعال زندگی گزار رہے تھے۔

حراست کے دوران ان کی صحت میں مسلسل بگاڑ آیا ہے، جس میں بلڈ پریشر میں شدید اتار چڑھاؤ اور انتہائی تھکاوٹ نمایاں ہیں۔ خاندان کے مطابق صرف جولائی ۲۰۲۶ء کے دوران انھیں چھ مرتبہ ہسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ گذشتہ دو ماہ میں ان کی مجموعی صحت تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ ایک موقعے پر وہ اپنے وکیل سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے شدید بخار اور بلڈپریشر کے باعث بے ہوش ہو گئے۔

راشد الغنوشی کی بگڑتی ہوئی صحت کی صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تیونس میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے علاوہ نیشنل سالویشن فرنٹ (National Salvation Front) کے رہنما اور معروف وکیل احمد نجیب الشابی بھی زیرحراست ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں بھی اسی نوعیت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سالویشن فرنٹ کے مطابق تمام سیاسی قیدیوں کی حفاظت ریاست کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری میں کسی بھی قسم کی کوتاہی انسانی حقوق، قومی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔

۲۵ جولائی کو صدر قیس سعید کی ۲۰۲۱ء کی بغاوت کے پانچویں برس کے موقع پر ہزاروں تیونسی شہری دارالحکومت تیونس میں جمہوریہ چوک سے حبیب بورقیبہ ایونیو تک مارچ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے بگڑتی معاشی صورت حال، پانی کی قلت، بجلی کی بندش اور جاری سیاسی جبر کے خلاف احتجاج کیا۔ مبصرین کے مطابق راشد الغنوشی کا مقدمہ اب جمہوری اداروں کے خاتمے، اپوزیشن رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی علامت بن چکا ہے، جسے صدارتی اختیارات کے ارتکاز اور دوبارہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

_______________