اکتوبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

بنگلہ دیش: نئی قیادت اور خارجہ تعلقات

جیفری مکڈونلڈ | اکتوبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

۵؍ اگست ۲۰۲۴ء کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بنگلہ دیش سے فرار ہو گئیں، جب ہزاروں شہری ان کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ وہ اور ان کی جماعت، عوامی لیگ، پندرہ سال تک ملک پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتی رہی۔ چار ادوار میں، ان کے دورِ حکومت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سیاسی و شہری آزادیوں کا خاتمہ دیکھا گیا، جس میں انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی، ماورائے عدالت قتل، سیاسی مخالفین کا دبانا، جبری گمشدگیاں کرنا،میڈیا کو ہراساں کرنا، اور ریاستی اداروں کو جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرنا شامل تھا۔

بنگلہ دیشی نوجوان، جو آبادی کا ۵۰ فی صد سے زیادہ ہیں، حسینہ واجد کے دور میں معاشی مواقع اور جمہوری کردار میں کمی سے خاص طور پر مایوس تھے۔ جب جولائی ۲۰۲۴ء میں عوامی لیگ حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم میں وسعت لاکر اپنے حامیوں کو فائدہ پہنچانا چاہا، تو نوجوانوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ حکومت کے پُرتشدد ردعمل سے، جس میں سڑکوں پر کم از کم ۱۴۰۰؍افراد ہلاک ہوئے، عدم اطمینان کا بند ٹوٹ گیا، اور ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے بنگلہ دیشی احتجاجی تحریک میں شامل ہو گئے، جس نے بالآخر حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ عوامی بغاوت کو طاقت سے قابو کرنے میں ناکامی کے بعد حکومت گر گئی۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے ۸؍اگست ۲۰۲۴ء کو عبوری حکومت کی قیادت کے لیے حلف لیا۔ اس حکومت نے قانونی اصلاحات کی نگرانی اور انتخابات کروانے کو اپنی بنیادی ترجیح قرار دیا۔

اگرچہ ’جولائی انقلاب‘ جیسا کہ طلبہ تحریک کو کہا جانے لگا، کا مرکز داخلی مسائل تھے، بنگلہ دیش نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، دفاع اور سفارت کاری کے شعبوں میں اپنی شراکت داریوں کو وسعت دی، اور تزویراتی مفادات کے لیے امریکا، چین، انڈیا، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔

اس تنوع کے باوجود، عوامی لیگ نے داخلی سیاست کو یک رُخا بنانے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کو انڈیا کی طرف بُری طرح جھکا دیا۔ حسینہ حکومت نے انڈین سلامتی کے مسائل اور خدشات کو بہت زیادہ ترجیح دی۔اس نے دفاعی تعاون کو وسعت دی، اور توانائی، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کے معاملے میں انڈیا کو بہت سی رعایتیں دیں۔ بدلے میں، نئی دہلی نے سیاسی جبر اور دھاندلی زدہ انتخابات پر شدید بین الاقوامی تنقید کے باوجود حکومت کو بھرپور سفارتی حمایت فراہم کی۔ نتیجتاً، حسینہ کو ہٹانے کے لیے طلبہ تحریک، نیز اس کے بعد آنے والی عبوری حکومت نے شدید انڈیا مخالف لہجہ اختیار کیا۔ اگرچہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت پر مبنی حکومت نے اٹھارہ ماہ تک حکومت کی، مگر خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی سے گریز کیا۔ تاہم چین اور پاکستان کی طرف دست ِ تعاون بڑھانے میں واضح پیش رفت کی۔

فروری ۲۰۲۶ء میں منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ اور وزیر اعظم طارق رحمان نے اسی رجحان کو جاری رکھا۔ جوان اور بوڑھے، نئے اور پرانے، بنگلہ دیش کے اُبھرتے ہوئے رہنما عوامی لیگ کے بعد کی ایک نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک، عوامی لیگی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں، آزاد کارکنوں اور متبادل سیاسی تحریکوں کو اقتدار کے لیے بامعنی مقابلے سے بڑی حد تک خارج رکھا۔ نتیجے کے طور پر، ملک کی اگلی نسل کے رہنماؤں میں نہ صرف طلبہ کارکن اور نئی تشکیل شدہ جماعتیں شامل ہیں، بلکہ وہ تجربہ کار سیاست دان بھی شامل ہیں جن کے قومی قیادت تک پہنچنے کے راستے عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں بند کر دیے گئے تھے۔ کئی حوالوں سے، یہ نئے رہنما بڑی حد تک علاقائی تعلقات، جغرافیائی سیاست، اور امریکا-چین مسابقت کے بارے میں زیادہ متوازن نقطۂ نظر قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

اس وقت بنگلہ دیش کی سیاست پر تین جماعتیں حاوی ہیں اور یہی خارجہ پالیسی کو تشکیل دے رہی ہیں۔ عبوری حکومت کی جانب سے عوامی لیگ پر سیاسی مقابلے میں حصہ لینے پر پابندی کے بعد، مرکزی کردار بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)، جماعت اسلامی، اور ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP) بن گئے۔ مجموعی طور پر ان کے خارجہ پالیسی رجحانات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔

بی این پی، بنگلہ دیش میں دائیں بازو کی جماعت تصور کی جاتی ہے، جو غیر لسانی بنگلہ دیشی قوم پرستی اور عوامی زندگی میں اسلامی شناخت کو فروغ دیتی ہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الرحمٰن کی قائم کردہ اس پارٹی نے تاریخی طور پر اپنی خارجہ پالیسی میں انڈین اثر و رسوخ کو متوازن بنانے کے لیے چین، مسلم دنیا، اور مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ بی این پی روایتی طور پر کاروباری اشرافیہ، سول اور ملٹری بیوروکریسی، شہری پیشہ ور افراد، متوسط طبقے، اور قدامت پسند قوم پرست ووٹروں کے وسیع اتحاد سے حمایت حاصل کرتی رہی ہے۔ اس پارٹی نے کسانوں، دیہی گھرانوں اور چھوٹے قصبوں کے ووٹروں میں بھی اپنی حمایت کو وسعت دی۔ عوامی لیگ کے مقابلے میں، بی این پی روایتی طور پر مذہب پسند مسلمان ووٹروں میں زیادہ مقبول رہی ہے، جب کہ عوامی لیگ نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا اپنے آپ کو چیمپئن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’جولائی انقلاب‘ سے قبل، کسی بھی جماعت کو نوجوانوں کی حمایت پر پائیدار اجارہ داری حاصل نہیں تھی۔

۲۰۲۴ء میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے اور دو عشروں تک اقتدار سے باہر رہنے کے بعد بی این پی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر دوبارہ اُبھری۔ حال ہی میں وفات پانے والی خالدہ ضیاء اور معزول ہونے والی عوامی لیگی حسینہ واجد کے درمیان ۳۰ سال سے زیادہ کے مقابلے کے بعد، بی این پی کے نئے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم طارق رحمان، جن کی عمر ۶۰ سال ہے، انھیں اگلی نسل کے رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بی این پی ماضی کی بی این پی حکومتوں سے وابستہ شخصیات کو واپس لائی ہے، لیکن اس نے کابینہ اور مشاورتی کرداروں کے لیے نئے چہروں کو بھی جگہ دی ہے۔ تاہم، اس کے نوجوان رہنماؤں کا اُبھرتا ہوا گروہ بڑی حد تک پارٹی کے اندر سے آیا ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس پہلے سے عہدے تھے اکثر طاقت ور بی این پی خاندانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۶ء کی انتخابی مہم کے دوران، بی این پی نے نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن پارٹی اپنی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ اور اصلاحات پر پرانے طرزِ فکر کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہی۔

تاریخی طور پر، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی نے ایک ایسی خارجہ پالیسی پیش کی ہے جو اسلامی یک جہتی میں جڑی ہوئی ہے، اور ساتھ ہی بڑی طاقتوں کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھنے میں خوش دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت نے روایتی طور پر مسلم اکثریتی ممالک، خاص طور پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت کی ہے،جب کہ انڈیا کے بارے میں عام طور پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس نے گذشتہ پوری مدت میں عوامی لیگ کی حمایت کی اور بنگلہ دیش کے داخلی معاملات پر اس کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ جماعت کے رہنما اکثر بین الاقوامی مسائل کو اسلامی نقطۂ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ فلسطینی کاز اور عالمی سطح پر مسلم برادریوں کی حمایت پر زور دیتے ہیں۔ تاہم، ’جولائی انقلاب‘ کے بعد سے، جماعت نے خارجہ پالیسی پر زیادہ قوت لگانے کے مقابلے میں داخلی سیاسی تجدید پر کہیں زیادہ توجہ دی ہے۔

انقلاب کے بعد جماعت اسلامی کی حکمت عملی کا ایک مرکزی پہلو اپنے روایتی اسلام دوست حلقے سے آگے بڑھ کر اپنی اپیل کو وسیع کرنا پیش نظر رہا ہے۔ ۲۰۲۶ء کی انتخابی مہم کے دوران، جماعت نے خود کو عوامی لیگ اور بی این پی دونوں کے مقابلے میں ایک منظم، ایماندار جمہوریت پسند، اور جمود کے خلاف متبادل کے طور پر پیش کر کے اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کی۔ پارٹی رہنماؤں نے اسلامائزیشن کے مطالبات کو مرکزیت دینے کے بجائے گڈ گورننس، بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی آزادی اوربنگلہ دیش میں نئی قیادت، خارجہ تعلقات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا،جب کہ ووٹروں کو بار بار یقین دلایا کہ پارٹی جمہوری طور پر حکومت کرے گی۔ اس طرح جماعت کی انتخابی مہم میں شریعت کے نفاذ کا موضوع مرکزی طور پر موجود نہیں تھا۔ ۱ جماعت نے نوجوان اور کم نظریاتی مذہبی ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اپنے عوامی پیغام میں بھی وسعت پیدا کی ہے، جس میں روزگار، تعلیم اور حکومتی جواب دہی پر توجہ دی گئی ہے۔ پارٹی نے اس حکمت عملی کو ایک نفیس ڈیجیٹل مہم کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن انفلوئنسرز، اور پیشہ ورانہ طور پر تیار کردہ مواد کا فائدہ اٹھا کر پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں اور شہری نوجوانوں تک پہنچی ہے، جس سے بہت سی معروف شخصیات کی عدم موجودگی کے باوجود اس کی عوامی صورت ایک روایتی اسلام پسند جماعت سے ایک جدید، اصلاح پسند سیاسی متبادل میں تبدیل ہونے میں مدد ملی۔

این سی پی نوجوان کی قیادت کی حامل سیاسی تحریک ہے، جو ’جولائی انقلاب‘ سے اُبھری ہے۔ بنیادی طور پر سابق طلبہ کارکنوں کی قیادت میں، یہ جماعت خود کو روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں اگلی نسل کے قوم پرست متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے اور آئینی اصلاحات، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، اور مضبوط جمہوری اداروں کے ذریعے ’دوسری جمہوریہ‘ کی تعمیر کی وکالت کرتی ہے۔ این سی پی کے رہنما کھل کر عوامی لیگ کی انڈیا نواز خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہیں،جب کہ بنگلہ دیش کے بیرونی تعلقات کو وسعت دینے کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر چین، دیگر علاقائی قوتوں اور مغرب کے ساتھ۔ این سی پی کے چھ اراکین پارلیمنٹ اہم رہنماؤں کے طور پر اُبھرے ہیں، جن میں سب سے نمایاں ناہید اسلام ہیں___ پارٹی کے کنونیر، عبوری حکومت کے سابق مشیر، اور جولائی انقلاب کے ایک رہنما۔ پارٹی تنظیمی طور پر کمزور اور سیاسی طور پر غیر محفوظ ہے۔ انتخاب سے پہلے کے سروے میں عوام میں، حتیٰ کہ نوجوان ووٹروں میں بھی، محدود حمایت ظاہر ہوئی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا این سی پی ’جولائی انقلاب‘ کی تحریک کو جماعت اسلامی کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد سے آزاد ایک پائیدار سیاسی تحریک میں تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں؟

تاہم، اب رجحان کی پائیداری سیاسی حالات کے استحکام پر منحصر ہوگی۔ عوامی لیگ کا سیاسی میدان سے اخراج عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگریہ انڈیا نواز پارٹی پھر سیاسی قوت حاصل کرتی ہے تو داخلی اور خارجی محاذ پر ایک بڑی کش مکش پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف انڈیا نے کوشش کی ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے تعلقات کو بحال کرے۔ یہ سارے کھیل اپنی جگہ، لیکن بنگلہ دیش کی نئی نسل کے راہ نما، انڈیا کے زیراثر خارجہ پالیسی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، بلکہ زیادہ متوازن اور وسیع البنیاد خارجہ پالیسی کے لیے سرگرم ہیں۔

_______________

۱ فاضل تجزیہ نگار کے اس جملے سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے اپنے تشکیل و تاسیس کے مقاصد اور بنیادی اصولوں کو نظرانداز کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا دستور اور اس کی تمام تنظیمی، دعوتی اور تربیتی سرگرمیوں کا مرکزی محور اقامت ِ دین ہی ہے۔ البتہ، موجودہ مخصوص زمینی حالات میں جماعت نے قومی سطح پر بگڑی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے، اصلاح کے پہلے مرحلے میں یہ اقدامات اپنی اوّلین ترجیح بنائے اور ان کی اصلاح کا اعلان کیا۔مدیر