سوال : میں ان دنوں بہت زیادہ ذہنی انتشار کا شکار ہوں۔ میرا دل نہ تو عبادت میں لگتا ہے اور نہ گھر کا کوئی اور کام کرنے کو ہی دل چاہتا ہے۔ میری شادی پسند کی شادی ہے جس پر بعد میں والدین بھی راضی ہوگئے تھے۔ یہ شادی ہوجانے کے بعد وٹہ سٹہ اس طرح بن گیا کہ میری نند کی شادی میرے ماموں کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان دونوں میاں بیوی میں اکثر جھگڑا رہتا ہے جس کے نتیجے میں بیوی کا ناراض ہوکر میکے چلے جانا لڑائی کا اہم جز بن چکا ہے‘ اور جواب میں میرے شوہر اور سسرال والے مجھے اپنے گھر‘ یعنی میکے بھیج دیتے ہیں۔ میرے شوہر ہردلیل کو اس وقت رد کردیتے ہیں جب معاملہ ان کی بہن کا ہو۔ میں اپنے شوہر کو ان کے ماں باپ اور بہن بھائی کی باتیں ماننے سے اس وقت منع کرتی ہوں جب وہ ایسی باتیں ماننے کو کہیں جو دین و شریعت میں بھی لغو اور فضول ہوں۔
میرے شوہر کا کہنا ہے کہ ایک بیوی پر اپنے ماں باپ پر شوہر کے حقوق کو ترجیح دینا فرض ہوتا ہے‘ جب کہ ایک بیٹا جو کہ اپنے والدین کے لیے امیدوں کا مرکز ہوتا ہے اس کے لیے قرآن و حدیث میں والدین کی بات کو اوّلین ترجیح دینا فرض ہے چاہے وہ ناجائز ہی کیوں نہ ہو جیساکہ حضرت ابراہیم ؑاور ان کی بہو کا قصہ ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں اپنے والدین کی بھی نافرمان ہوں اور شوہر کی بھی۔ کیا والدین کی خدمت کرنا اور ان سے دعائیں حاصل کرنا صرف بیٹوں کے حصے میں آسکتا ہے؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے میرا بیٹا پیدا ہو کر فوت ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے دو بیٹیاں پیدا ہوکر فوت ہوگئی تھیں۔بچے نہ ہونا اور پیدا ہوکر فوت ہوجانے کو کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کالاجادو کیا گیا ہے۔ میرے شوہر ان چیزوں کو تسلیم کرتے ہیں‘ جب کہ میرا ذہن ان چیزوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ میرے شوہر کہتے ہیں کہ اس کا علاج ہونا چاہیے‘جب کہ میں کہتی ہوں کہ جب اللہ کی رضا ہوگی‘ ہمیں بچے مل ہی جائیں گے۔ ڈاکٹری علاج تو ہم کروا ہی رہے ہیں تو پھر کیوں روحانی علاج کے نام پر شرک کے اندھے کنویں میں پھنس جائیں۔ جو کچھ بھی ہوسکتا ہے‘ ہم خود ہی پڑھا کریں گے۔ لیکن میرے شوہر نہیں مانتے۔ میں عمر میں اپنے میاں سے بہت کم ہونے کی وجہ سے اور تعلیم بھی کم ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا دبتی ہوں اور مجھے یہ اچھا بھی لگتا تھا لیکن اب مجھے یہ سب کچھ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ بلکہ میں بہت زیادہ ذہنی ڈپریشن کا شکار ہوں۔
میرے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ میرے والدین بھی ان چیزوں کو بہت مانتے ہیں۔ وہ میرے شوہر کے ساتھ ہیں لیکن میں کسی طور پر اس بات پر‘ یعنی پیروں فقیروں کے پاس جانے کے لیے راضی نہیں ہوں اور سوچتی ہوں کہ یہ ایک اور نافرمانی ہے‘ وہ بھی شوہر اور والدین کی مشترکہ طور پر۔ میں والدین کی سرپرستی میں ان پیروں فقیروں کے ہاتھوں کافی ذلیل و خوار ہوچکی ہوں۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا روحانی علاج کرنے کے لیے لمبی سی مالا اور ہرا چوغہ پہننا ضروری ہے؟ کیا کوئی اسکالر یا عالم یا کوئی مذہبی رہنما اس کا علاج نہیں کرسکتا؟
جواب: آپ نے جن تین اہم پہلوؤں کی طرف اپنے خط میں متوجہ کیا ہے وہ ہمارے معاشرے کے اسلام سے دُوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ وٹہ سٹہ کی شادی اور اس سے متعلقہ رسمی خرابیوں کا کوئی تعلق اسلام کے ساتھ نہیں ہے‘ بلکہ اس خطے میں پائی جانے والی قبل از اسلام کی ان روایات سے ہے جنھیں اسلام ختم کرنے کے لیے آیا تھا۔
اسلامی معاشرت کی بنیاد عدل‘ توازن‘ رواداری‘ محبت‘ عفو و درگزر‘ احترام اور اللہ تعالیٰ کے خوف پر ہے۔ یہاں ادلے بدلے کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اگر ایک شخص کی بیوی تو حق پر ہو لیکن اس کو سزا اس بات کی دی جائے کہ اس کی بہن جو اس کے کسی سسرالی کے عقد میں ہے کوئی قابلِ اعتراض بات کرتی ہے‘ تو یہ سراسر ظلم و استحصال ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ظلم سے بچائے اور جو لوگ اس کا ارتکاب کر رہے ہیں انھیں ہدایت دے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ شوہر کا حق والدین کے حق سے زیادہ ہے تو قرآن کریم کو اُٹھا کر دیکھیے‘ وہ بلاتفریق. ِجنس کتنی مرتبہ والدین کے حقوق کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کتنے مقامات پر ان کے مقابلے میں شوہر کی ہر جائز و ناجائز بات کو ماننے کے لیے کہتا ہے؟ مسئلہ شوہر اور والدین کا مقابلہ کرکے یہ ثابت کرنے کا نہیں ہے کہ والدین کی ناجائز بات کو مانا جائے بلکہ یہ جاننے کا ہے کہ اس سلسلے میں قرآن و سنت کا اصول کیا ہے۔ قرآن و سنت نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ والدین کی اطاعت معروف میں ہوگی منکر میں نہیں۔ یہی اصول شوہر کی اطاعت کے سلسلے میں بھی ہے۔ ایسے میں اگر بیوی ایک ایسی بات پر اصرار کرے جو منکر ہو تو بیوی کی خوشی کے لیے منکر کو اختیار نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک آپ کے دوسرے مسئلے کا تعلق ہے‘ اس ضمن میں ایک اصول کو پیش نظر رکھیے۔ قرآن و سنت نے جن معاملات میں حلال و حرام کو متعین کردیا ہے ان میں کوئی مفاہمت کسی سے نہیں ہوسکتی‘ البتہ جہاں پر کسی حرام کا ارتکاب نہ کیا جا رہا ہو اور ایسے کام سے والدین یا شوہر خوش ہوں تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم ؑکی ہدایت کو عموم کی شکل دینا شاید مناسب نہ ہو۔ وہ اللہ کے انتہائی بزرگ رسول تھے (علیہ الصلوٰۃ والسلام)‘ اور اس علم کی بنا پر جو ان کے رب نے ان کو دیا تھا‘ انھوں نے بغیر کسی وضاحت کے اپنے بیٹے کو مشورہ دیا۔ یہ معاملہ ابوالانبیا کے گھرانے کا تھا۔ یہ کوئی عام معاملہ نہ تھا کہ اس سے نظیر لائی جائے۔
اسلام کا اصول اس سلسلے میں واضح ہے کہ آخری حد تک خاندان کے اتحاد کو بچایا جائے اور جب اصلاح احوال کا کوئی امکان نہ رہے تو صرف اس صورت میں طلاق کو اختیار کیا جائے۔ اسی لیے بالجبر دی گئی طلاق کی حیثیت شریعت میں واضح کر دی گئی ہے۔ ساس سسر کا تعصبات اور بغیر کسی شرعی سبب کے طلاق دلوانے کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں نہیں پایا جاتا۔
قرآن و سنت سے جادو کا وجود ثابت ہے‘ اور اگر جادو کیا گیا ہو تو اس کا علاج کروانا بھی ثابت ہے۔ علاج کا طریقہ مسنون ہو اور اس میں کسی غیراللہ سے امداد طلب نہ کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر آپ کے شوہر کسی ایسے اللہ کے نیک بندے سے واقف ہوں جو جادو کا علاج بغیر کسی غیراللہ سے امداد لیے کرسکتا ہو تو آپ ان کی بات مان لیں۔ ایسے فرد کے لیے یہ شرط قطعاً نہیں ہے کہ وہ کسی خاص حلیے اور وضع قطع والا ہو۔
آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس کی روشنی میں آپ اپنے والدین یا شوہر‘ کسی کی عدمِ اطاعت کی مرتکب نظر نہیں آتیں۔اس لیے اپنے ذہن سے اس وہم کو نکال دیں اور والدین اور شوہر جب تک معروف کی طرف بلائیں‘ ان کی بات کو سنیں اور مانیں کیوں کہ شریعت کا اصول ہے کہ معصیت.ِ خالق میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب! (ڈاکٹر انیس احمد)
قرآن جہاں مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس اور اہم ترین کتاب ہے وہاں غیرمسلم مفکرین اور مستشرقین نے بھی اس کتاب میں بھرپور دل چسپی لی ہے۔ ستمبر ۱۹۷۲ء میں گون ولے‘ سائیوسی کالج‘ کیمبرج‘ برطانیہ کے جناب کینتھ کریگ کی قرآن کے موضوع پر The Mind of the Quranکے عنوان سے کتاب منصہ شہود پر آئی جس کا اُردو ترجمہ محترم نیازاحمد صوفی نے کیا ہے۔ یہ کتاب مصنف کی ایک اور کاوش ’وقوعِ قرآن‘ کے ساتھ جوڑ کر پڑھنے کے لیے ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ ’’قرآن کے ان گہرے فکری تصورات کو توجہ سے سمجھنے کی کوشش کی جائے جو آج کے جدید دور میں ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں‘‘۔
فاضل مصنف نے نہایت فلسفیانہ انداز میں یہ کتاب تحریر کی ہے اور قرآن کے حوالے سے ایک غیرمسلم کے ذہن میں جو کچھ ہوسکتا ہے وہ سب اس کتاب میں واضح طور پر جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ جس تحقیق اور وسعت ِ مطالعہ کے ساتھ یہ کتاب رقم کی گئی ہے اس سے فاضل مصنف کی محنت‘ خلوص اور احترام واضح طور پر ایک قاری کے سامنے آتا ہے۔ کتاب کے بہت سے مندرجات سے اختلاف کی واضح گنجایش موجود ہے‘ تاہم ایک غیرمسلم کی ذہنی سطح کی بلندی کا اعتراف بھی ازحد ضروری ہے۔ فاضل مصنف نے جن موضوعات پر بحث کی ہے وہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں‘ مثلاً حفظِ قرآن کے لحاظ سے مفہوم اور اہمیت‘ تجوید کا فن‘ محکمات اور متشابہات پر بحث‘ تفاسیر کی روایت‘ انسان کی پریشانی‘ مغفرت کی گزارش‘ لا الٰہ الا اللہ‘ زمین کی تقدیس‘ خدا کے دیدار کی خواہش‘ ہدایت نامہ اور ہدایت کے عنوانات کے تحت نہایت عالمانہ بحث کی گئی ہے۔ مذہب اور سائنس‘ سیکولرازم‘ قرآن کے ساتھ آج کے مسلمانوں کا رویہ جیسے موضوعات بھی شاملِ کتاب ہیں‘ تاہم فاضل مصنف کا جھکائو صوفی ازم کی طرف محسوس ہوتا ہے۔ شاید اس کا ترجمہ بھی اسی لیے ایک صوفی صاحب نے کیا ہے۔ مجموعی طور پر قرآنیات سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک فکرانگیز کتاب ہے‘ نیز بین المذاہب مکالمہ کرنے والوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ (محمدالیاس انصاری)
اُردو زبان میں علوم الحدیث پر لکھی جانے والی کتب میں یہ ایک غیرمعمولی جامع کتاب ہے‘ جس میں سند کی اہمیت اور مستشرقین کے اسناد پر اعتراضات کے جائزے‘ علوم الحدیث‘ مطالب حدیث کے آداب‘ مقامِ صحابہؓ اور کتب معرفۃ الصحابہ‘ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ تخریجِ حدیث‘ علم الانساب‘ علم معرفۃ الاسماء والکنیٰ‘ معرفۃ الالقاب‘ علم الطبقات اور نقدِحدیث پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اسی طرح تاریخ حدیث کے تحت علمِ حدیث کے ارتقا‘ ابتدائی دور کے معروف مراکز حدیث اور محدثین کی خدمات کے ساتھ ساتھ برعظیم کے مراکزِ حدیث اور مدارس‘ نیز عصرِحاضر کے مراکزِ حدیث کا ذکر بھی شامل ہے۔
حدیث کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر کے نظریات کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے اعتراضات اور شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب میں فتنہ انکارحدیث‘ برعظیم کے منکرین حدیث اور موجودہ صورت حال کا تذکرہ بھی زیربحث لایا گیاہے۔ تحریک استشراق‘ مستشرقین کے حدیث پر اعتراضات کا جائزہ‘ معروف مستشرقین کے تذکرے سے حدیث پر جدید رجحانات سامنے آتے ہیں۔ آخر میں مولانا امین احسن اصلاحی کا نظریۂ حدیث بھی بیان کیا گیا ہے۔
بحث میں اعتدال کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ حوالہ جات‘مصادر اور مراجع کتاب کی جامعیت میں مزید اضافے کا باعث ہیں۔ اسلوب تحریر سلیس ہے۔ مؤلف اس وقیع علمی کاوش پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (محمد احمد زبیری)
نبیؐ رحمت للعالمین دنیا کی وہ واحد ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں سب سے زیادہ لکھا اوربولا گیا ہے۔ اُن کی زندگی کا ایک ایک کرشمہ تاریخ کے صفحات پر اس طرح محفوظ ہے کہ ایسی مثال کسی اور شخصیت کے حوالے سے دیکھنے میں نہیں آئی۔ آپؐ کی ذاتِ گرامی کی اتباع اسی صورت میں ممکن تھی کہ جب آپؐ کی زندگی کا ہر پہلو سب کے سامنے ہوتا۔ سیرت نگاری کی اس عظیم اور اہم روایت کی ایک سعادت اب جناب ظہورالدین بٹ کے حصے میں اس طرح آئی ہے کہ انھوں نے حدیث کے عظیم ذخیرئہ کتب سے آپؐ کی ذاتِ مبارکہ کا ایک پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ فاضل مصنف نے یقینا نہایت محنت سے ۸۷ ایسی احادیث کو اس کتاب میں الگ الگ عنوان کے تحت جمع کیا ہے جن میں آپؐ کے مقدس آنسوئوں کا ذکر ہے۔ صبر کا پیمانہ کب‘کیسے اور کیوں چھلکا اور کس طرح آپؐ کی مبارک آنکھوں میں مقدس آنسو اُمڈے‘ آپؐ کو اپنی اُمت سے کس قدر پیار تھا جس کے باعث اُمت کی فکر آپؐ کو ہر وقت دامن گیر رہتی تھی اور اُن کی فلاح و مغفرت کے لیے آپؐ کس طرح رقت آمیز انداز میں رب کے سامنے رویا کرتے تھے۔ اپنے صحابہؓ سے آپؐ کو کس قدر اُلفت تھی کہ اُن کے دکھ‘ درد اور غم کو اپنا سمجھ کر آپؐ روتے تھے۔ اُن کی جدائی اور اہلِ خانہ کی یادوں کے منظر آپؐ کو کس طرح رُلاتے تھے___ یہ ہیں وہ موضوعات جن کے تحت مصنف نے احادیث کو تلاش کیا اور جمع کر کے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ خوب صورت اور مجلد کتاب سیرتؐ کے اس گوشے سے ہمیں بخوبی روشناس کراتی ہے۔ (م - ا - ا )
۶۰ کا عشرہ پاکستان میں نظریاتی کش مکش کا زمانہ تھا کہ جب سوشلزم‘ کمیونزم اپنی پوری قوت کے ساتھ اسلام کے ساتھ نبردآزما تھا جس کا مقابلہ اسلام پسندوں نے ڈٹ کر کیا۔ اس وقت جنگ کا ذریعہ کتاب اور رسائل و جرائد تھے۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد کا زمانہ ایک بار پھر نظریاتی کش مکش کا زمانہ ہے۔ اب جنگ کا ذریعہ کتاب‘ رسائل و جرائد ہی نہیں ریڈیو‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ وغیرہ سبھی شامل ہیں۔ اسلام پسندوں کے پاس کتاب اور رسائل و جرائد کے ذریعے جواب دینے کے مواقع تو ہیں مگر وہ ریڈیو‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ وغیرہ پر قطعی غیرمؤثر ہیں۔ کیونکہ ٹی وی اور ریڈیو ان کے قبضے میں نہیں ہیں۔ جو نظریاتی کش مکش اسلام اور تہذیبِ مغرب کے درمیان جاری ہے‘ ڈاکٹر محمد امین نے نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ اس کا تجزیہ اور مطالعہ پیش کیا ہے۔
کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اوّل میں ’مغربی تہذیب کے بارے میں مسلمانوں کے ممکنہ رویے‘ کے عنوان کے تحت تین رویوں کو زیربحث لایا گیا ہے‘ یعنی آیا’مغربی تہذیب کو رد کردیا جائے‘ یا ’مغربی تہذیب کو قبول کرلیاجائے‘ یا پھر یہ کہ ’مغربی تہذیب سے مفاہمت کرلی جائے‘۔ اس کے بعد مصنف نے ہررویے کے مؤیدین کے دلائل پیش کرنے کے بعد اپنا نقطۂ نظر پیش کیاہے کہ ہمیں مغربی تہذیب کو رد کر دینا چاہیے کیونکہ اس کی فکری اساسات اور جہانی تصور (world view) ہماری فکری اساسات اور جہانی تصور کے بالکل متضاد ہے۔ اس دنیا میں ہماری کامیابی اور آخرت میں فلاح کا سائنٹی فک اور مجرب نسخہ یہ ہے کہ ہم اپنے نظریۂ حیات (اسلام) سے محکم طور پر وابستہ ہوجائیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کریں۔ لیکن مغربی تہذیب کو رد کرنے اور اپنے نظریے پر اصرار کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں مغرب سے سیاسی‘ معاشی یا اسلحی جنگ کرنا چاہیے۔ ہرگز نہیں‘ بلکہ ہمیں مغرب کے ساتھ مفاہمت اور مکالمے کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ہم کسی کش مکش میں الجھے بغیر اپنے نظریۂ حیات کے مطابق تیزرفتار ترقی کرسکیں۔ اس مفاہمت کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اگر کسی مسلم ملک پر حملہ ہو تواس کی مزاحمت اور مدافعت نہ کی جائے۔
کتاب کا دوسرا حصہ ’مسلم معاشرے پر مغربی تہذیب کے اثرات - پاکستانی تناظر میں‘ کے عنوان سے ہے جس میں تین طرح سے مباحث کو سمیٹا گیا ہے۔ مبحث اوّل: ’مغربی تہذیب کے اثرات: اسباب و مظاہر‘ مبحث دوم: ’مغربی تہذیب کے اثرات مختلف شعبہ ہاے حیات میں‘ مبحث سوم: ’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟‘
فاضل مصنف نے نہایت عرق ریزی سے اس موضوع کو حوالہ جات سے سجایا ہے۔ اسلامی فکر وتہذیب کا مغربی فکروتہذیب سے جدولی انداز میں سات عنوانات کے تحت خوب صورت انداز میں موازنہ (صفحہ ۲۰‘۲۱) کیا ہے اور اس موضوع پر گہرا اور وسیع مطالعہ کرنے کے خواہش مند حضرات کے لیے صفحہ ۲۳‘ ۲۹ پر اُردو انگریزی کتب کی ایک طویل فہرست بھی درج کر دی ہے جس میں ۲۳ اُردو ماخذ‘ جب کہ ۴۳ انگریزی کتب و جرائد کے نام درج ہیں۔ صفحہ ۵۲‘ ۵۳ پر مسلم اور مغربی نظریۂ علم کے جدولی موازنے میں پانچ موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے قرآن و سنت سے استدلال کے ساتھ ساتھ کلام اقبال سے بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ صفحہ ۷۳ پر دنیاوی ترقی کا اسلامی و مغربی ماڈل ایک جدول کی صورت میں موازنے کے لیے پیش کیا ہے۔
مصنف کے بعض افکار سے اختلاف کے باوجود وہ قابلِ مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اس اہم ترین مسئلے کوسادہ اور آسان زبان میں نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ کتابی صورت میں پیش کیا۔ (م - ا - ا )
لبنان‘ لبنانی عوام‘ حزب اللہ اور حسن نصراللہ اُمت مسلمہ کی بالخصوص اور پوری دنیا کی بالعموم توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ زیرنظر کتاب ترتیب دے کر مصنف نے حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل کی شکست کا پردہ چاک کیا ہے۔ کتاب کا انتساب حسن نصراللہ کے نام کیا گیا ہے جو حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ جن کی قیادت میں حزب اللہ اور لبنانی عوام نے اسرائیل کے خلاف ’عوامی جنگ‘ جیتی اور اسرائیل جسے سوپرپاور امریکا کی مکمل آشیرباد حاصل تھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا۔
مصنف نے اس ۳۳ روزہ عوامی جنگ کے لمحہ بہ لمحہ احوال مرتب کر کے ایک اہم خدمت سرانجام دی ہے جو مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے اس اہم واقعے کے بارے میں جاننے والے شائقین کے لیے گائیڈبک کا درجہ رکھتی ہے۔
کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب لبنان پر اسرائیلی حملہ‘ دوسرا باب مصنف کے تجزیے‘ تیسرا باب دورانِ جنگ‘ چوتھا باب مصنف کے خیالات‘ پانچواں باب نئے مشرق وسطیٰ کی تقسیم پر مشتمل ہے۔ کتاب پڑھ کر نہ صرف تازہ ترین جنگ سے مکمل آگہی حاصل ہوتی ہے بلکہ اس قضیے کا تاریخی پس منظر بھی سامنے آتا ہے۔ مختلف نقشہ جات‘ تصاویر اور معلومات پر مبنی چارٹس‘ اقوام متحدہ کی قرارداد کا متن‘ لبنان و اسرائیل کا تعارف‘ صہیونی ریاست کا قیام‘ عرب اسرائیل جنگوں پر ایک نظر‘ اعلان بالفور اور دیگر معلومات نے کتاب کی اہمیت دوچند کر دی ہے۔ زیرنظرکتاب لبنان‘ اسرائیل اور حزب اللہ کے بارے میں تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔(عمران ظہور غازی)
علامہ اقبال ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ انھوں نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی‘ شعروشاعری کا ایسا نمونہ چھوڑ گئے جسے پڑھتے ہوئے‘ نہ صرف برعظیم بلکہ ساری دنیا کے انسان اپنے اندر ایک خاص طرح کی حرکت و حرارت‘ جوش و ولولہ اور ایک مثبت اور تعمیری جذبہ محسوس کرتے ہیں___ ہم جیسے اُن کے لاکھوں عامی مداحوں کے علاوہ‘ ان کے بیسیوں نام ور معاصرین نے بھی اُن کی شخصیت اور شاعری سے گہرا تاثر قبول کیا۔
زیرنظر کتاب میں مصنف نے اقبال اور ان کی ۱۱معاصر شخصیتوں (قائداعظم‘ نواب بھوپال‘ مولانا مودودی‘ خلیفہ عبدالحکیم‘ سلیمان ندوی‘ تاثیر‘ ابوالکلام‘ محمدعلی جوہر‘ راس مسعود‘ مسولینی اور نہرو) کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے بقول: ’’برصغیر کے معاصر مشاہیر نے کلامِ اقبال اور فکراقبال کو نہایت شان دار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور اقبال نے بھی ان شخصیات کے علم و فضل اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے‘‘ (دیباچہ)۔ مشاہیر کا‘ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تو سمجھ میں آتاہے‘ مگر اقبال کیوں کر‘ ان شخصیات کے مدّاح تھے؟ اس لیے کہ اقبال‘ ان کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی خوبی دیکھتے تھے‘ جو نہ صرف مسلم معاشرے کی بھلائی اور اُمت مسلمہ کی خیرخواہی کے نقطۂ نظر سے قابلِ تعریف تھی‘ مثلاً اقبال‘ قائداعظم کو ہندی مسلمانوں کا نہایت پُرخلوص‘ قابل اور دیانت دار لیڈر سمجھتے تھے۔ ’علومِ اسلامیہ کی جوے شیر‘ سید سلیمان ندوی اس لیے اقبال کے نزدیک قابلِ احترام تھے کہ وہ قدیم و جدید علوم کا بے نظیر امتزاج تھے۔ بقول اقبال: اس رئیس المصنفین کا وجود علم و فضل کا دریا ہے جس سے سیکڑوں نہریں نکلی ہیں اور ہزاروں سوکھی کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں۔ علمی معاملات میں علامہ اکثر انھی سے رجوع کرتے تھے۔ اقبال چاہتے تھے کہ سید سلیمان لاہور منتقل ہوجائیں تاکہ اہلِ پنجاب ان کے علم و فضل سے استفادہ کرسکیں۔ محمدعلی جوہر کی بے باکی‘ طبیعت کا سوزوگداز اور اُمت مسلمہ کے لیے ان کی دردمندی اور جوش و جذبہ علامہ کے نزدیک قابلِ تحسین تھا۔ ان کی وفات پر علامہ اقبال نے فارسی میں ایک نہایت دل گداز مرثیہ لکھا تھا جس کا معروف شعر ہے ؎
خاکِ قدس او را بہ آغوشِ تمنّا درگرفت
سوے گردوں رفت زاں را ہے کہ پیغمبر گذشت
(بیت المقدس کی سرزمین نے اسے اپنی آغوش تمنّا میں لے لیا اوروہ اس راستے سے آسمانوں کی طرف چلا گیا جہاں سے پیغمبر گزرے تھے۔)
بحیثیت مجموعی سبھی مضامین دل چسپ اور معلومات افزا ہیں۔ پروفیسر محمدسلیم اپنی بات کو سادہ مگر دل نشیں اسلوب میں کہنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہرمضمون میں متعلقہ کوائف و حقائق مربوط انداز میں یک جا کر دیے ہیں جس سے ان شخصیات کی تصاویر کے ساتھ اقبال سے اُن کے روابط کی نوعیت اور خود اقبال کی وضع داری‘ ملن ساری‘ رکھ رکھائو اور دانش و بینش کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)
عام طور پر فلاحی معاشرے کے لیے آج مغرب کی طرف نظریں اُٹھتی ہیں اور بطورِ مثال مغرب ہی کو پیش کیا جاتا ہے۔ زیرنظر کتاب میں‘ مولانا سید جلال الدین عمری نے جو علمی حلقوں کی ایک معروف شخصیت ہیں‘ اسلام کے سماجی بہبود اور خدمتِ خلق کے جامع تصور کو پیش کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ دنیا میں صرف اسلام ہی وہ واحد نظریۂ حیات ہے جو بلاامتیاز مذہب و ملّت اور مسلم و غیرمسلم کی تمیز کیے بغیر نوعِ انسانی کی خدمت اور بہبود پر زور دیتا ہے۔ مغرب اپنے تمام تر انسانی حقوق کے دعووں کے علی الرغم سماجی بہبود کے لیے عملاً قومیت اور نسلی تعصب کا شکار ہے‘ نیز انسانی رشتوں کے تقدس اور حرمت کو کھو چکا ہے۔ اسلام اس لحاظ سے بھی برتری رکھتا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ساتھ فرد کو بھی اپنے مجبور و پس ماندہ بھائیوں کی امداد اور حُسنِ سلوک کا پابند ٹھیراتا ہے۔ اس ضمن میں حقوق و فرائض کا باقاعدہ تعین کیا گیاہے اور اسے قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے۔
کتاب میں خدمت ِ خلق کے مختلف پہلوئوں‘ رفاہی خدمات کے دائرے‘ فرد‘ اداروں اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داریوں اور دائرۂ کار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک باب میں خدمتِ خلق کے غلط تصورات اور پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بے اعتدالیوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جو اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام وقتی امداد کے بجاے مشکلات کے پایدار حل پر زور دیتا ہے‘ نیز خدمتِ خلق کے لیے اخلاص شرطِ لازم ہے۔ یہ شرط سماجی بہبود کے تصور کو انسانیت کی معراج پر پہنچا دیتی ہے۔ آخر میں حوالہ جاتی کتب کی فہرست کتاب کی جامعیت میں مزید اضافے کا باعث ہے۔ بلاشبہہ مصنف نے موضوع کا حق ادا کردیا ہے اور یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ The Concept of Social Services in Islam کے نام سے بھی کیا جاچکا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ خدمتِ خلق کے اس تصور کو عام کیا جائے اور حکومتی و عوامی سطح پر منظم انداز میں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے تاکہ عملاً اسلام کے حقیقی فیوض و برکات کا مشاہدہ کیا جاسکے۔یہ ہمارے معاشرے کے بڑھتے ہوئے بگاڑ کا ناگزیر تقاضا بھی ہے۔(امجد عباسی)
’جموں و کشمیر سے دست برداری‘ (جنوری ۲۰۰۷ء) ہرغیرت مند پاکستانی مسلمان اور کشمیری کے لیے چشم کشا اور دل دہلا دینے والا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے روشن خیال اور امریکی ڈکٹیشن پر آنکھیں بند کرکے چلنے والے حکمران کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیوں اور عزت مآب کشمیری ماؤں بہنوں کی عزت کا سودا کرچکے ہیں۔ وہ کشمیر جسے قائداعظمؒ نے پاکستان کی شہ رگ اور مفکراسلام سید مودودیؒ نے اپنے جسم کا حصہ گردانا‘ اسے امریکی مفادات اور بھارتی اَنا کی بھینٹ چڑھانے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔
’محاسبہ اور تربیت ِ نفس‘ (جنوری ۲۰۰۷ء) پڑھ کر نیا حوصلہ ملا۔ ’افغانستان: طالبان کا ظہورثانی‘ معلوماتی ہے اور امید افزا بھی۔ ’انتہاپسندی‘ بنیادپرستی اور دہشت گردی‘ کے مطالعے سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔
جنوری ۲۰۰۷ء کا ترجمان القرآن خوب صورت سرورق کے ساتھ ساتھ معیاری مضامین سے مزین ہے‘ خصوصاً ’راہ ایمان کے موانع‘ اور ’نائن الیون کے بعد مسلم نوجوان کا کردار۔ عالم اسلام کا درد رکھنے والی نومسلمہ وُون رِڈلے نے مسلمان حکمرانوں کو خوابِ خرگوش سے جگانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
وُون رِڈلے کی ایمان افروز تحریر مسلمانوں بالخصوص اُمت مسلمہ کے حکمران طبقے کو جھنجھوڑ رہی ہے اور خوابِ غفلت سے بیدار کر رہی ہے۔ موجودہ تہذیبی کش مکش میں مسلم نوجوانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ اسلام ہی وہ نظریۂ حیات اور روحانی نظام ہے جو دنیا میں حقیقی امن و سلامتی اور خوش حالی برپا کرسکتا ہے۔
’’اور یہ تحفظات اس ماحول کو رکھ کر کیے گئے تھے جس میں پاکستان میں اقامت دین کے نام پر دین میں سیاست کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے اور اندیشہ ہے کہ حِسبہ کا سیاسی استعمال شریعت اور دین کو متنازع بنا دے گا‘‘ (’اسلامی نظریاتی کونسل اور قانونی تحفظ نسواں‘ ص ۷۵‘ جنوری ۲۰۰۷ء)‘ مجھے اسلامی نظریاتی کونسل کے صدرمحترم سے اس قسم کے جملوں کے صدور کی قطعاً توقع نہ تھی۔اس سے ایک طرف تو دین اور سیاست میں تفریق کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف اقامت دین‘ شریعت اور دین بہ ضمن حِسبہ‘ جیسی اصطلاحوں کو متنازع فیہ بنانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اس دین پر کلی اور مجموعی نظر نہ رکھنے والے جب ایک مسلمان کو تہجد کی نماز اور دیگر پانچ نمازیں پڑھتے دیکھتے ہیں تو یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ یہ دین تو نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کا دین ہے‘ جب کہ یہ دین ان عبادتوں کے بغیر نہ تو قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ قائم ہی رہ سکتا ہے۔ یہی کچھ حال ان لوگوں کا ہے جو رسولؐ اللہ کی مدینہ میںجہادی سرگرمیوں کو دیکھ کر اور غزوات اور سرایا کی کثرت کو دیکھ کر یہ حکم لگاتے ہیں کہ اس دین میں جنگ جوئی کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے‘ آج کل اس کو ’دہشت گردی‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین پہلے دن سے اتنا ہی عبادتی ہے جتنا یہ سیاسی تھا اور روزِ اوّل سے وہ اتنا ہی سیاسی ہے جتنا کہ وہ مالی اور اقتصادی تھا۔
’مساجد میں خواتین کی شرکت‘ (دسمبر ۲۰۰۶ء) میں ڈاکٹر انیس احمد حضرت عائشہؓ کے ایک ارشاد کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں: ’’اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہوتے اور مدینہ میں خواتین جس طرح مسجد میں جاتی تھیں‘ خود ملاحظہ فرماتے تو شاید خواتین کا داخلہ مسجد میں منع فرما دیتے‘‘ (ص ۹۵)۔ روایت کے اصل الفاظ میں لَمَنَعَھُنَّ میں لام تاکید ہے بمعنی ضرور۔’ضرور کی جگہ ’شاید‘ کا لفظ لانے سے مفہوم مسخ ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے بقول احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ خواتین کی گھر میں ادا کردہ نماز کا اجر مسجد میںادا کی گئی جماعت کے مساوی ہے‘‘ (ص ۹۴)۔ کسی صحیح حدیث میں گھر اور مسجد کی نماز کے اجر کو مساوی قرار نہیں دیا گیا‘ بلکہ احادیث میں تو گھر کی نماز کو افضل اور بہتر بتایا گیا ہے۔
آج کل ہماری حکومت کثرتِ آبادی سے پریشان ہوکر‘ پورے اہتمام سے آبادی روکنے کا پروپیگنڈا کررہی ہے۔ ٹیلی وژن‘ ریڈیو اور اخبارات میں شاید ہی کوئی دن جاتا ہو جب اس کی یہ اپیل نظر سے نہ گزرتی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کی کثرتِ آبادی سے خوف زدہ ہیں اور اُنھی کی بدولت ہماری حکومت اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے‘ حالانکہ اگر اسلام کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ساری کوشش اللہ تعالیٰ پر عدمِ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے اور افلاس کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کی صریح نافرمانی ہے۔ ہمارے علما نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ اس کی تردید اسلامی نقطۂ نظر سے کریں حالانکہ یہ بھی غضبِ الٰہی کو بھڑکانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ضبطِ ولادت کا نظریہ کن نتائج کا حامل ہے‘ مغرب کو کن تہذیبی مسائل اور نسلی خودکشی جیسے مسائل کا سامنا ہے‘ کوئی اس سے عبرت بھی نہیں پکڑتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم حق کی شہادت دینے میں جتنی جتنی کوتاہی کرتے گئے ہیں اور باطل کی شہادت ادا کرنے میں ہمارا قدم جس رفتار سے آگے بڑھا ہے‘ ٹھیک اسی رفتار سے ہم گرتے چلے گئے ہیں۔ پچھلی ایک ہی صدی کے اندر مراکش سے لے کر شرق الہند تک ملک کے ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گئے‘ مسلمان قومیں ایک ایک کر کے مغلوب اور محکوم ہوتی چلی گئیں‘ مسلمان کا نام فخروعزت کا نام نہ رہا بلکہ ذلت و مسکنت اور پس ماندگی کا نشان بن گیا۔ دنیا میں ہماری کوئی آبرو باقی نہ رہی‘ کہیں ہمارا قتل عام ہوا‘ کہیں ہم گھر سے بے گھر کیے گئے‘ کہیں ہم کو سوء العذاب کا مزا چکھایا گیا اور کہیں ہم کو چاکری اور خدمت گاری کے لیے زندہ رکھا گیا۔ جہاں مسلمانوں کی اپنی حکومتیں باقی رہ گئیں وہاں بھی انھوں نے شکستوں پر شکستیں کھائیں اور آج ان کا حال یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کے خوف سے لرز رہے ہیں‘ حالانکہ اگر وہ اسلام کی قولی و عملی شہادت دینے والے ہوتے تو کفر کے علَم بردار ان کے خوف سے کانپ رہے ہوتے…
مگر خدارا مجھے بتایئے کہ آپ اسلام کے سچے گواہ ہوتے تو یہاں کوئی اکثریت ایسی ہوسکتی تھی جس سے آپ کو کوئی خطرہ ہوتا؟ یا آج بھی اگر آپ قول اور عمل سے اسلام کی گواہی دینے والے بن جائیں تو کیا یہ اقلیت و اکثریت کا سوال چند سال کے اندر ہی ختم نہ ہوجائے؟ عرب میں ایک فی لاکھ کی اقلیت کو نہایت متعصب اور سخت ظالم اکثریت نے دنیا سے نیست و نابود کر دینے کی ٹھانی تھی‘ مگر اسلام کی سچی گواہی نے ۱۰سال کے اندر اسی اقلیت کو سو فی صد اکثریت میں تبدیل کر دیا۔ پھر جب یہ اسلام کے گواہ عرب سے باہر نکلے تو ۲۵ سال کے اندر ترکستان سے لے کر مراکش تک قومیں کی قومیں ان کی شہادت پر ایمان لاتی چلی گئیں اور جہاں سو فی صد مجوسی‘ بت پرست اور عیسائی رہتے تھے وہاں سو فی صد مسلمان بسنے لگے۔ کوئی ہٹ دھرمی‘ کوئی قومی عصبیت اور کوئی مذہبی تنگ نظری اتنی سخت ثابت نہ ہوئی کہ حق کی زندہ اور سچی شہادت کے آگے قدم جماسکتی۔ اب اگر آپ پامال ہو رہے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے شدید تر پامالی کے خطرے میں مبتلا پاتے ہیں تو یہ کتمانِ حق اور شہادتِ زُور کی سزا کے سوا اور کیا ہے۔(’شہادتِ حق‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۳‘ ربیع الاول ۱۳۶۶ھ‘ فروری ۱۹۴۷ء‘ ص ۱۵۸-۱۵۹)