۲۰۰۷فروری

فہرست مضامین

کتمانِ حق کی سزا

| ۲۰۰۷فروری | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

حقیقت یہ ہے کہ ہم حق کی شہادت دینے میں جتنی جتنی کوتاہی کرتے گئے ہیں اور باطل کی شہادت ادا کرنے میں ہمارا قدم جس رفتار سے آگے بڑھا ہے‘ ٹھیک اسی رفتار سے ہم گرتے چلے گئے ہیں۔ پچھلی ایک ہی صدی کے اندر مراکش سے لے کر شرق الہند تک ملک کے ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گئے‘ مسلمان قومیں ایک ایک کر کے مغلوب اور محکوم ہوتی چلی گئیں‘ مسلمان کا نام فخروعزت کا نام نہ رہا بلکہ ذلت و مسکنت اور پس ماندگی کا نشان بن گیا۔ دنیا میں ہماری کوئی آبرو باقی نہ رہی‘ کہیں ہمارا قتل عام ہوا‘ کہیں ہم گھر سے بے گھر کیے گئے‘ کہیں ہم کو سوء العذاب کا مزا چکھایا گیا اور کہیں ہم کو چاکری اور خدمت گاری کے لیے زندہ رکھا گیا۔ جہاں مسلمانوں کی اپنی حکومتیں باقی رہ گئیں وہاں بھی انھوں نے شکستوں پر شکستیں کھائیں اور آج ان کا حال یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کے خوف سے لرز رہے ہیں‘ حالانکہ اگر وہ اسلام کی قولی و عملی شہادت دینے والے ہوتے تو کفر کے علَم بردار ان کے خوف سے کانپ رہے ہوتے…

مگر خدارا مجھے بتایئے کہ آپ اسلام کے سچے گواہ ہوتے تو یہاں کوئی اکثریت ایسی ہوسکتی تھی جس سے آپ کو کوئی خطرہ ہوتا؟ یا آج بھی اگر آپ قول اور عمل سے اسلام کی گواہی دینے والے بن جائیں تو کیا یہ اقلیت و اکثریت کا سوال چند سال کے اندر ہی ختم نہ ہوجائے؟ عرب میں ایک فی لاکھ کی اقلیت کو نہایت متعصب اور سخت ظالم اکثریت نے دنیا سے نیست و نابود کر دینے کی ٹھانی تھی‘ مگر اسلام کی سچی گواہی نے ۱۰سال کے اندر اسی اقلیت کو سو فی صد اکثریت میں تبدیل کر دیا۔ پھر جب یہ اسلام کے گواہ عرب سے باہر نکلے تو ۲۵ سال کے اندر ترکستان سے لے کر مراکش تک قومیں کی قومیں ان کی شہادت پر ایمان لاتی چلی گئیں اور جہاں سو فی صد مجوسی‘ بت پرست اور عیسائی رہتے تھے وہاں سو فی صد مسلمان بسنے لگے۔ کوئی ہٹ دھرمی‘ کوئی قومی عصبیت اور کوئی مذہبی تنگ نظری اتنی سخت ثابت نہ ہوئی کہ حق کی زندہ اور سچی شہادت کے آگے قدم جماسکتی۔ اب اگر آپ پامال ہو رہے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے شدید تر پامالی کے خطرے میں مبتلا پاتے ہیں تو یہ کتمانِ حق اور شہادتِ زُور کی سزا کے سوا اور کیا ہے۔(’شہادتِ حق‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۳‘ ربیع الاول ۱۳۶۶ھ‘ فروری ۱۹۴۷ء‘ ص ۱۵۸-۱۵۹)