[قرآن کریم میں] ’نیکوکار‘ لوگوں کی تین صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باقی ساری نیکیوں کا دارومدار انھی تین چیزوں پر ہے:
ان تین خصوصیات کی وجہ سے یہ ’نیکوکار‘ اس طرح کے نیکوکار نہیں رہتے جن سے اتفاقاً نیکی سرزد ہوجاتی ہے اور بدی بھی اسی شان سے سرزد ہوسکتی جس شان سے نیکی سرزد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ خصوصیات ان کے نفس میں ایک مستقل نظام فکرواخلاق پیدا کردیتی ہیں، جس کے باعث ان سے نیکی کا صدور باقاعدہ ایک ضابطے کے مطابق ہوتا ہے اور بدی اگر سرزد ہوتی بھی ہے تو محض ایک حادثے کے طور پر ہوتی ہے۔ کوئی گہرے محرکات ایسے نہیں ہوتے جو ان کے نظام فکرواخلاق سے اُبھرتے اور ان کو اپنے اقتضائے طبع سے بدی کی راہ پر لے جاتے ہوں۔(’تفہیم القرآن‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۵، عدد۶، مارچ ۱۹۶۱ء، ص۱۱)
ناشر: حامد اینڈ کمپنی، ۳-اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۱۲۱۷۳-۰۴۲۔ صفحات: ۷۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔
ڈاکٹرخالد علی انصاری دس سال تک کراچی سے ماہنامہ ساحل شائع کرتے رہے۔ پھر کینیڈا منتقل ہوکر شعبۂ طب میں خدمات انجام دینے لگے۔ زیرنظر کتاب مصنف نے اپریل ۲۰۱۵ء میں مسجدنبویؐ میں اصحابِ صفّہ کے چبوترے پر بیٹھ کر لکھنا شروع کی تھی۔
سیرتِ نبویؐ ایسا وسیع اور جامع موضوع ہے کہ اس پر جتنا بھی لکھیں، جتنی بھی تعریف و توصیف کریں، کسی بندئہ بشر کے لیے ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ مصنف نے حسب ذیل عنوانات کے تحت لکھا ہے: قرآن حکیم میں رسولِ اکرمؐ کا ذکر، حدیث میں آپؐ کا تذکرہ (کتب ِ حدیث کی اقسام اور تعارف)، کتب سیرت کی فہارس، رسولِ اکرمؐ پر درود و سلام کے واقعات (بعض غیرمصدقہ واقعات بھی شاملِ اشاعت ہیں)۔ رسولِ اکرمؐ کے اعزہ، خدّام، جنگی ہتھیار اور دیگر اثاثہ۔ رسولِؐ اکرمؐ دُنیا کو اوّلین قانون دینے والے، آپؐ کے معجزے، آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے والے غیرمسلم دانش وروں کے اعترافات۔ مختلف زبانوں میں سیرت کی کتابیں اور ان کے مصنّفین کا تعارف۔
بقول مصنف: ’’انسانی تاریخ میں جامعیت کے درجۂ کمال کی معراج پر اگر آپ کسی ہستی کو متمکن کرسکتے ہیں تو وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفات ہی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔
سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۴۱ء میں تحریک ِاسلامی کا جو پودا لگایا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ تحریک نے مسلم معاشروں کو ایسے ایسے افراد مہیا کیے، جن کے بلندپایہ کردار پر انگلی اُٹھانا مشکل ہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ (۱۰فروری ۱۹۲۲ء-۱۰ستمبر ۱۹۸۶ء) انھی حضرات میں سے تھے۔ مولانا مظاہری مرحوم نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر ان کے پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جامعہ قاسم العلوم، سرگودھا اور ’پاکستان جمعیت اتحاد العلما‘ کا قیام عمل میں لائے۔
اللہ تعالیٰ نے مولانا مظاہری صاحب کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ جب تقریر کرتے تو ایک سماں باندھ دیتے۔ پروفیسر خورشیداحمد لکھتے ہیں کہ ’’مولانا مظاہری کی تقریر اور خطبات میں ایک درجے میں وہی لطف آتا تھا، جو سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریروں اور تلاوتِ قرآن میں ملتا تھا‘‘۔ پھر مظاہری صاحب بہترین کارکن تھے۔ گھر گھر جا کر لوگوں کودعوت ِ اسلامی سے روشناس کرایا۔ انھوں نے اس زمانے میں بعض پس ماندہ اور دُورافتادہ علاقوں میں کئی کلومیٹر پیدل چل کر اور بعض اوقات لائوڈ اسپیکر کندھوں پر اُٹھا کر جلسوں میں تقریریں کرکے دعوت پہنچائی۔
پروفیسر خورشیدرضوی لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر حسین احمد پراچا کا اسلوبِ نگارش رواں اور دل نشیں ہے۔ یہ[کتاب] ایک بیٹے کے قلم سے باپ کی یادنگاری کے علاوہ عمومی فکر انگیزی کا باعث بھی ہوگی‘‘۔
کتاب صوری لحاظ سے بھی خوبصورت اور تصاویر سے مزین ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
ناشر: مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت، فلیٹ نمبر۱۵-اے، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ فون: ۹۲۴۵۸۵۳-۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۴۳+ انگریزی ۵۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔
علمی اور تحقیقی ششماہی جریدہ برسوں سے شائع ہورہا ہے۔ بایں ہمہ اس کا قابلِ قدر علمی معیار برقرار ہے۔ زیرنظر شمارے (جولائی، دسمبر ۲۰۲۰ء) میں ’فسطاط کی جامع عمرو بن العاصؓ کا ایک قدیم نسخۂ قرآن‘ پرتحقیقی مضمون ، پروفیسر واسطی کے نام مظہر محمود تہرانی کے خطوط، ڈاکٹر نگار کی معیت میں محمد سہیل شفیق کا سفرنامۂ مصر اور عصمت درانی کا سفرنامۂ ازبکستان، پھر ڈاکٹر منیرواسطی، ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کی یاد میں وفّیاتی مضامین۔ اسی طرح انگریزی حصے میں بھی چند مضامین شاملِ اشاعت ہیں۔
فروری کے شمارے میں حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کی تحریر ’رواداری کیا ہے اور کیا نہیں!‘ نے عصرِحاضر کی منافقت کو قرآن اور عقل کی روشنی میں بڑے خوب صورت اور مؤثر انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ کاش! یہ تحریر پاکستان کے ہرشہری تک پہنچے اور دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو۔ پھر ’تعلیم کا تہذیبی نظریہ‘ از نعیم صدیقی، مختصرہونے کے باوجود بہت جامع تحریر ہے۔ ’پاکستانی نصابِ تعلیم پر لبرل شکنجا‘ از وحیدمراد میں تعلیم پر لادینی قوتوں کے حملے کو کھول کر بیان کیاگیا ہے۔ اس مضمون نے ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے رہنمائی کی ہے۔
فروری کے شمارے میں مولانا مودودی کی ۱۹۳۴ء کی ایک تحریر رواداری کی مناسبت سے شائع ہوئی ہے، جس میں انھوں نے بدھ، کرشن، زردشت، سقراط وغیرہ کو انبیاء کی امکانی صف میں بیان کیا ہے۔ حالانکہ قرآنِ مجید اس بات پر شاہد ہے کہ تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام واحدانیت کے قائل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اصنام پرستی، ثنویت یا تثلیث کا ماننے والا نہ تھا۔ اس لیے مندرجہ بالا بات درست نہیں ہے۔
[جزاک اللہ، بلاشبہہ جن انبیاء کرام ؑ کے نام واضح طور پر قرآنِ عظیم میں درج ہیں، انھی پر ایمان لانا لازم ہے۔ لیکن ان کے علاوہ جن افراد کے نام تواریخ کی روایات کی بنیاد پر ہمارے علم میں آتے ہیں ، ان کو نبی قرار نہیں دیاجاسکتا، ان کے بارے میں محض قیاس ہی کیا جاسکتا ہے اور قیاس کی بنا پر ان کی کسی بات کو حجت نہیں مانا جاسکتا۔ ممکن ہے ان تک ہدایت الٰہی پہنچی ہو، مگر بعد میں وہ سب کچھ شرک و کفر کے گہرے پردوں میں چھپ کر رہ گیا ہو۔ ترجمان القرآن کے ص ۱۴ پر مولانا مودودی مرحوم نے بڑی وضاحت سے اس پہلو کو قرآنِ کریم ہی کے حوالے سے بیان کیا ہے، اور ان معروف لوگوں کو ’بہت ممکن ہے‘لکھا ہے۔ آپ پورے مضمون کے استدلال پر غور فرمائیں تو دیکھیں گے کہ مولانا کی تحریر اور آپ کے احساس میں کوئی فرق اور تضاد نہیں ہے۔ ادارہ]
فریضہ اقامت دین کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے تحقیقی مقالے (فروری) نے بہت سے مغالطوں کو صاف کر دیا ہے، اور جدوجہد کے لیے بھرپور اعتماد کی دولت سے نوازا ہے، جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔
فروری کے شمارے میں کشمیر پر چاروں تحریریں بہت جامع اور مظلوموں کی جدوجہد کا دردناک اور ولولہ انگیز باب ہیں۔ جن کے لیے ارشاد محمو د، افتخار گیلانی، حسن علی اور غازی سہیل خاں خصوصی شکریے کے مستحق ہیں۔
جنوری کے شمارے میں ’دعوت بالقرآن اور تربیت صحابہؓ، ازڈاکٹر اختر حسین عزمی ایمان کو تازگی عطا کرنے والی تحریر تھی۔ جناب قاضی حسین احمد کی تحریر نے اقبالؒ کو پڑھنے کا جذبہ عطا فرمایا۔جناب مجیب الرحمان شامی نے، ’مَیں کیسے بھول جائوں‘ میں بلامبالغہ ایک تاریخی دستاویز پیش فرمائی ہے۔ اور محترم ڈاکٹر انیس احمد نے قائداعظم کے تصورِ پاکستان کو دستاویزی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا۔ سارا شمارہ حددرجہ دل چسپ اور معلومات افزا ہے۔
کافی عرصے سے ترجمان القرآن میرے زیرمطالعہ ہے۔ تاہم، مجھے یہ کمی محسوس ہوتی ہے کہ آپ پرچے میں حقوق اللہ پر تو بہت سی تحریریں دیتے ہیں، لیکن حقوق العباد اور قطع رحمی کے حوالے سے کوئی واضح تحریریں شائع نہیں کرتے۔ یہ بات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے کہ اکثر دین دار حضرات بھی حقوق العباد کے حوالے سے کوئی اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ ترجمان القرآن اس معاشرتی فساد سے بچائو کے لیے بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔
[اگرچہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ، ہمارا موضوع حقوق العباد ہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحریریں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ ادارہ]
ایک مدت سے ترجمان القرآن کی قاری ہوں۔ یہ ایک عظیم خدمت ہے کہ آپ پوری قوم کو جگارہے ہیں کہ ’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام رکھو‘۔ ترجمان نے حسن البنا شہیدؒ پر تاریخی نمبر شائع کیا تھا، اور اس سے قبل ۲۰۰۳ء میں سیّد مودودیؒ نمبر بھی۔ بہت اچھا ہو کہ سیّد مودودیؒ پر ایک اور نمبر شائع کریں۔