مارچ ۲۰۲۱

فہرست مضامین

| مارچ ۲۰۲۱ | کتاب نما

سیّدالبشرؐ،بے مثل و بے مثال، ڈاکٹر خالد علی انصاری

 ناشر: حامد اینڈ کمپنی، ۳-اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۱۲۱۷۳-۰۴۲۔ صفحات: ۷۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔

ڈاکٹرخالد علی انصاری دس سال تک کراچی سے ماہنامہ ساحل شائع کرتے رہے۔ پھر کینیڈا منتقل ہوکر شعبۂ طب میں خدمات انجام دینے لگے۔ زیرنظر کتاب مصنف نے اپریل ۲۰۱۵ء میں مسجدنبویؐ میں اصحابِ صفّہ کے چبوترے پر بیٹھ کر لکھنا شروع کی تھی۔

سیرتِ نبویؐ ایسا وسیع اور جامع موضوع ہے کہ اس پر جتنا بھی لکھیں، جتنی بھی تعریف و توصیف کریں، کسی بندئہ بشر کے لیے ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ مصنف نے حسب ذیل عنوانات کے تحت لکھا ہے: قرآن حکیم میں رسولِ اکرمؐ کا ذکر، حدیث میں آپؐ کا تذکرہ (کتب ِ حدیث کی اقسام اور تعارف)، کتب سیرت کی فہارس، رسولِ اکرمؐ پر درود و سلام کے واقعات (بعض  غیرمصدقہ واقعات بھی شاملِ اشاعت ہیں)۔ رسولِ اکرمؐ کے اعزہ، خدّام، جنگی ہتھیار اور دیگر اثاثہ۔ رسولِؐ اکرمؐ دُنیا کو اوّلین قانون دینے والے، آپؐ کے معجزے، آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے والے غیرمسلم دانش وروں کے اعترافات۔ مختلف زبانوں میں سیرت کی کتابیں اور ان کے مصنّفین کا تعارف۔

بقول مصنف: ’’انسانی تاریخ میں جامعیت کے درجۂ کمال کی معراج پر اگر آپ کسی ہستی کو متمکن کرسکتے ہیں تو وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفات ہی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


مولانا گلزار احمد مظاہری: زندگانی، جیل کہانی، ڈاکٹر حسین احمد پراچا

ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۴۱ء میں تحریک ِاسلامی کا جو پودا لگایا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ تحریک نے مسلم معاشروں کو ایسے ایسے افراد مہیا کیے، جن کے بلندپایہ کردار پر انگلی اُٹھانا مشکل ہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ (۱۰فروری ۱۹۲۲ء-۱۰ستمبر ۱۹۸۶ء) انھی حضرات میں سے تھے۔ مولانا مظاہری مرحوم نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر ان کے پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جامعہ قاسم العلوم، سرگودھا اور ’پاکستان جمعیت اتحاد العلما‘ کا قیام عمل میں لائے۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا مظاہری صاحب کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ جب تقریر کرتے تو ایک سماں باندھ دیتے۔ پروفیسر خورشیداحمد لکھتے ہیں کہ ’’مولانا مظاہری کی تقریر اور خطبات میں ایک درجے میں وہی لطف آتا تھا، جو سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریروں اور تلاوتِ قرآن میں ملتا تھا‘‘۔ پھر مظاہری صاحب بہترین کارکن تھے۔ گھر گھر جا کر لوگوں کودعوت ِ اسلامی سے روشناس کرایا۔ انھوں نے اس زمانے میں بعض پس ماندہ اور دُورافتادہ علاقوں میں کئی کلومیٹر پیدل چل کر اور بعض اوقات لائوڈ اسپیکر کندھوں پر اُٹھا کر جلسوں میں تقریریں کرکے دعوت پہنچائی۔

پروفیسر خورشیدرضوی لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر حسین احمد پراچا کا اسلوبِ نگارش رواں اور دل نشیں ہے۔ یہ[کتاب] ایک بیٹے کے قلم سے باپ کی یادنگاری کے علاوہ عمومی فکر انگیزی کا باعث بھی ہوگی‘‘۔

کتاب صوری لحاظ سے بھی خوبصورت اور تصاویر سے مزین ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


الایام ۲۲، مدیرہ: ڈاکٹر سجاد نگار ظہیر

ناشر: مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت، فلیٹ نمبر۱۵-اے، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ فون: ۹۲۴۵۸۵۳-۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۴۳+ انگریزی ۵۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

علمی اور تحقیقی ششماہی جریدہ برسوں سے شائع ہورہا ہے۔ بایں ہمہ اس کا قابلِ قدر علمی معیار برقرار ہے۔ زیرنظر شمارے (جولائی، دسمبر ۲۰۲۰ء) میں ’فسطاط کی جامع عمرو بن العاصؓ کا ایک قدیم نسخۂ قرآن‘ پرتحقیقی مضمون ، پروفیسر واسطی کے نام مظہر محمود تہرانی کے خطوط، ڈاکٹر نگار کی معیت میں محمد سہیل شفیق کا سفرنامۂ مصر اور عصمت درانی کا سفرنامۂ ازبکستان، پھر ڈاکٹر منیرواسطی، ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کی یاد میں وفّیاتی مضامین۔ اسی طرح انگریزی حصے میں بھی چند مضامین شاملِ اشاعت ہیں۔