مارچ ۲۰۲۱

فہرست مضامین

| مارچ ۲۰۲۱ | مدیر کے نام

راجا محمد عاصم ، کھاریاں

فروری کے شمارے میں حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کی تحریر ’رواداری کیا ہے اور کیا نہیں!‘ نے عصرِحاضر کی منافقت کو قرآن اور عقل کی روشنی میں بڑے خوب صورت اور مؤثر انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ کاش! یہ تحریر پاکستان کے ہرشہری تک پہنچے اور دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو۔ پھر ’تعلیم کا تہذیبی نظریہ‘ از نعیم صدیقی، مختصرہونے کے باوجود بہت جامع تحریر ہے۔ ’پاکستانی نصابِ تعلیم پر لبرل شکنجا‘ از وحیدمراد میں تعلیم پر لادینی قوتوں کے حملے کو کھول کر بیان کیاگیا ہے۔ اس مضمون نے ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے رہنمائی کی ہے۔


پروفیسر عبداللہ شاہین ، حافظ آباد

فروری کے شمارے میں مولانا مودودی کی ۱۹۳۴ء کی ایک تحریر رواداری کی مناسبت سے شائع ہوئی ہے، جس میں انھوں نے بدھ، کرشن، زردشت، سقراط وغیرہ کو انبیاء کی امکانی صف میں بیان کیا ہے۔ حالانکہ قرآنِ مجید اس بات پر شاہد ہے کہ تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام واحدانیت کے قائل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اصنام پرستی، ثنویت یا تثلیث کا ماننے والا نہ تھا۔ اس لیے مندرجہ بالا بات درست نہیں ہے۔

[جزاک اللہ، بلاشبہہ جن انبیاء کرام ؑ کے نام واضح طور پر قرآنِ عظیم میں درج ہیں، انھی پر ایمان لانا لازم ہے۔ لیکن ان کے علاوہ جن افراد کے نام تواریخ کی روایات کی بنیاد پر ہمارے علم میں آتے ہیں ، ان کو نبی قرار نہیں دیاجاسکتا، ان کے بارے میں محض قیاس ہی کیا جاسکتا ہے اور قیاس کی بنا پر ان کی کسی بات کو حجت نہیں مانا جاسکتا۔ ممکن ہے ان تک ہدایت الٰہی پہنچی ہو، مگر بعد میں وہ سب کچھ شرک و کفر کے گہرے پردوں میں چھپ کر  رہ گیا ہو۔ ترجمان القرآن کے ص ۱۴ پر مولانا مودودی مرحوم نے بڑی وضاحت سے اس پہلو کو قرآنِ کریم ہی کے حوالے سے بیان کیا ہے، اور ان معروف لوگوں کو ’بہت ممکن ہے‘لکھا ہے۔ آپ پورے مضمون کے استدلال پر غور فرمائیں تو دیکھیں گے کہ مولانا کی تحریر اور آپ کے احساس میں کوئی فرق اور تضاد نہیں ہے۔ ادارہ]


آمنہ حسین  ، پشاور

فریضہ اقامت دین کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے تحقیقی مقالے (فروری) نے بہت سے مغالطوں کو صاف کر دیا ہے، اور جدوجہد کے لیے بھرپور اعتماد کی دولت سے نوازا ہے، جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔


اعظم علی ، جدہ

فروری کے شمارے میں کشمیر پر چاروں تحریریں بہت جامع اور مظلوموں کی جدوجہد کا دردناک اور ولولہ انگیز باب ہیں۔ جن کے لیے ارشاد محمو د، افتخار گیلانی، حسن علی اور غازی سہیل خاں خصوصی شکریے کے مستحق ہیں۔


محمد افضل خان منصوری ، اٹک

جنوری کے شمارے میں ’دعوت بالقرآن اور تربیت صحابہؓ، ازڈاکٹر اختر حسین عزمی ایمان کو تازگی عطا کرنے والی تحریر تھی۔ جناب قاضی حسین احمد کی تحریر نے اقبالؒ کو پڑھنے کا جذبہ عطا فرمایا۔جناب مجیب الرحمان شامی نے، ’مَیں کیسے بھول جائوں‘ میں بلامبالغہ ایک تاریخی دستاویز پیش فرمائی ہے۔ اور محترم ڈاکٹر انیس احمد نے قائداعظم کے تصورِ پاکستان کو دستاویزی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا۔ سارا شمارہ حددرجہ دل چسپ اور معلومات افزا ہے۔


نصیرحسین شاہ ، راولپنڈی

کافی عرصے سے ترجمان القرآن میرے زیرمطالعہ ہے۔ تاہم، مجھے یہ کمی محسوس ہوتی ہے کہ آپ پرچے میں حقوق اللہ پر تو بہت سی تحریریں دیتے ہیں، لیکن حقوق العباد اور قطع رحمی کے حوالے سے کوئی واضح تحریریں شائع نہیں کرتے۔ یہ بات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے کہ اکثر دین دار حضرات بھی حقوق العباد کے حوالے سے کوئی اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ ترجمان القرآن اس معاشرتی فساد سے بچائو کے لیے بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔

[اگرچہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ، ہمارا موضوع حقوق العباد ہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحریریں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ ادارہ]


نسیم جہاں ، ڈھوک گنگال، راولپنڈی

ایک مدت سے ترجمان القرآن کی قاری ہوں۔ یہ ایک عظیم خدمت ہے کہ آپ پوری قوم کو جگارہے ہیں کہ ’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام رکھو‘۔ ترجمان نے حسن البنا شہیدؒ پر تاریخی نمبر شائع کیا تھا، اور اس سے قبل ۲۰۰۳ء میں سیّد مودودیؒ نمبر بھی۔ بہت اچھا ہو کہ سیّد مودودیؒ پر ایک اور نمبر شائع کریں۔