مارچ ۲۰۲۱

فہرست مضامین

| مارچ ۲۰۲۱ | مدیر کے نام

بیسویں صدی کی عالمی تاریخ میں پاکستان کا قیام، ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ملک دُنیا کے جغرافیائی نقشے پرنمودار ہوا تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ نیا ملک نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوا تھا اور اس کا وجود مغرب کی قوم پرستانہ فکر کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اس ملک نے نظریاتی سیاست کا علَم بلند کیا تھا اور تنگ نظر قوم پرستی (Narrow Nationalism)کی ستم زدہ دُنیا کے سامنے ایک نئی راہ پیش کی تھی۔

تحریک ِ پاکستان کی اصل بنیاد یہ تھی کہ:

چونکہ مسلمان اپنے مذہب اور عقیدے کی وجہ سے ایک قوم اور ایک ملّت ہیں۔

اور ___

چونکہ مسلمان اپنی آئیڈیالوجی ، اپنی تہذیب، اپنی معاشرت اور اپنا نظامِ قانون رکھتے ہیں، جسے وہ اجتماعی زندگی میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اس لیے جن علاقوں میں ان کی اکثریت ہے، ان پر مشتمل ایک ریاست قائم کی جائے، تاکہ وہ اپنی جداگانہ قومیت کی بنیاد پراپنی تہذیب اور اپنی آئیڈیالوجی کو قائم کرسکیں۔

یہ وہ انقلابی اعلان تھا، جس نے ایک طرف مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور دوسری طرف دُنیا کے تمام باطل تصورات کو چیلنج کیا۔ مسلمانوں نے بہت بڑی قربانی دے کرسات سال تک اَن تھک جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں ان کی اپنی الگ ریاست اُبھری۔مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات پرشاہد ہے کہ عام مسلمانوں کو اسلام کے علاوہ کسی اور مقصد نے کبھی اپیل ہی نہیں کیا۔ ظالم بادشاہ بہت سے ہوئے، اسلام سے انحراف کرنے والے بھی بیسیوں گزرے، لیکن اُمت نے کبھی انھیں اپنی آنکھوں کا تارا نہ بنایا۔ کبھی ان کو تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ ان میں سے بہتوں کے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اکثر لعنت ہی بھیجی۔ اس اُمت نے بہت مظالم برداشت کیے، بڑی مشقتیں جھیلیں، بے پناہ مصائب کوانگیز کیا، مگر اسلام کے علاوہ کسی اورمقصد کی خاطر دل و جان سے قربانی کے لیے کبھی تیار نہ ہوئی۔

ہمیشہ اس کے ہیرو،امام ابوحنیفہؒ، امام جعفر صادقؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام مالک بن انسؒ، امام شافعیؒ، ابن تیمیہؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، مجدد الف ثانی ؒاور سیّد احمد شہیدؒ وغیرہم ہی رہے۔ کسی حسن بن صباح اور اکبر کو اس اُمت نے اپناہیرو اور آئیڈیل نہیں بنایا، اور اسلام کے علاوہ کوئی اور نصب العین اس کی وفاداریوں کا مرکز نہ بن سکا۔  یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جس کا اپنے اورپرائے سبھی اعتراف کرتے ہیں، حتیٰ کہ بیسویں صدی کے ممتاز مستشرق ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ (۱۹۱۶ء-۲۰۰۰ء) نے اپنی تصنیف Islam in Modern History [دورِجدید میں اسلام : ۱۹۵۷ء] میں لکھا ہے: ’’ماضی میں صرف اسلام ہی ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) کا اجتماعی ضابطہ، اصل محرک اور کارفرما قوت رہا ہے۔ اور یہ کہ مسلمانوں کے کسی گروہ نے بھی اپنے میں ایسے قومی اور وطنی جذبات پیدا نہیں کیے،جس کی وفاداری اور تعلق کا مرکز اسلام سے ہٹ کر کوئی اور شے یا مسلم ملّت کے دائرے سے باہر کی کوئی چیز ہو‘‘۔

بلاشبہہ یہ مسلمانوں کی قابلِ فخر قومی اور ملّی خصوصیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظریۂ پاکستان نے مسلمانوں کو اسی بنیاد پر اپیل کیا تھا کہ یہ ان کی روح کی آواز، ان کے ایمان کی پکار، اور ان کی ملّی تمنائوں کا آئینہ دار تھا۔ اور پاکستان کے مستقبل کی تعمیر میں بھی مسلمانوں کا حقیقی تعاون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ دیکھیں کہ یہ اسلامی نظریے کے لیے وقف ہے۔ کوئی اور محرک ایسا نہیں ہوسکتا، جو ملّت اسلامیہ پاکستان کو کسی عظیم کارنامے کی انجام دہی کے لیے تیارکرسکے۔ یہ صلاحیت اسلام اور صرف اسلام میں ہے۔

اسلامی نظریے کی ضرورت و اہمیت

اسلامی نظریے کی بنیاد پر سیاست اور ریاست کے معاملات چلانے، اور تہذیب و تمدن کو پروان چڑھانے کی ضرورت محض اس لیے ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں میں اس کے بغیر جذبۂ عمل و قربانی پیدا نہیں کیاجاسکتا، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کی ایک خاص انداز میں تربیت کی ہے۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں سے دین ودُنیا اور مذہب و سیاست کی تفریق کے باطل نظریات کو کھرچ کھرچ کر نکال دیا ہے، اور ان کو یہ تعلیم دی ہے کہ دین کو زندگی کے ہرشعبے پر غالب کریں۔

اس پس منظر کی وجہ سے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک معاملے میں دین کا تقاضا کچھ اور ہے اورمروجہ نظام کا اندازِکار کچھ اور، تو وہ اس تناقض (contradiction)کو نظرانداز نہیں کرسکتے___ ایک عیسائی کے لیے غالباً یہ ممکن ہے کہ وہ اس تناقض کو برداشت کرلے۔ ایک ہندو کے لیے شاید آسان ہو کہ وہ اس سے صرفِ نظر کرلے کہ ان کے مذاہب نے اجتماعی زندگی میں دین کو قائم کرنے کی کوئی روایت پیش نہیں کی ہے۔ لیکن اسلام کی روایت ان مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس تناقض کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں فرمایا ہے:

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۴۴ (المائدہ ۵:۴۴) اور جو خدا کے نازل کردہ قانونِ حیات کے مطابق اپنےفیصلے نہیں کرتے وہی کافر ہیں۔

مسلمانوں کی تاریخ میں جتنی اجتماعی بے اطمینانی پیدا ہوئی ہے، اور انقلابی تحریکات اُٹھی ہیں، ان سب کا جذبۂ محرکہ اسی تناقض اور تضاد کو دُور کرنا تھا۔

اگر اس نظریے کو نظرانداز کیا گیا، تو اس سے ایک طرف ملّت میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہوگی، دوسری طرف مروجہ نظام سے مایوسی___ اور یہ دونوں چیزیں ایک قوم کے لیے بہت مہلک ہیں۔ اپنی قومی صحت کی درستی اور اجتماعی زندگی کے سکون کو قائم رکھنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ   ہم جلدا ز جلد اسلامی نظریے کی بنیاد پر اپنی ریاست کو تعمیر کریں تاکہ قوم کی تمام قوتیں، تعمیرنو کے لیے استعمال ہوں اورکوئی اندرونی کش مکش رُونما نہ ہو۔

پھر خود ملک جن مشکلات اور جن معاشی، سماجی، معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی بیماریوں کا شکار ہے، ان کا حل بھی صرف اسلامی نظریے میں مضمر ہے۔ مغرب کی ہوش ربا ٹکنالوجیکل ترقی اور بے پناہ مادی تجربات کی سلسلہ وار روایت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ محض مادی ترقی سے انسان کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

اسی طرح تیل پیدا کرنے اور اس بے اندازہ دولت کو گاڑیوں، عمارتوں کی تعمیر، بنکوں میں تجوریاں بھرنے یا لہوولعب میں اُڑانے والے بعض مسلم ممالک کے تجربات نے بھی یہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں کردی ہے کہ مسلمان دین کے مقتضیات کو چھوڑ کر محض مادی ترقی بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے مصائب کا حل اسلامی نظامِ حیات میں ہے، جو: ایک طرف فرد میں تقویٰ، ایمان اور خدا کا خوف پیداکرتا ہے، اور دوسری طرف معاشرے کو صحت مند بنیادوں پر قائم کرتا ہے۔ تیسری جانب سیاست کو اخلاق کے تابع کرتا ہے۔ چوتھی طرف معیشت کو عادلانہ معاشی انصاف کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔ اور پانچویں جانب قومی پالیسی کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے اصول پر استوارکرتا ہے۔

قوموں کے عروج و زوال کی بنیاد

ہمیں اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں صرف مادی اسباب و وسائل ہی کارفرما نہیں ہیں۔ یہ دُنیا اخلاقی قوانین کے بھی تابع ہے۔ انسان نے بارہا مادی ترقی کی بلندیوں کو حاصل کیا ہے،لیکن اخلاقی ضوابط سے بغاوت کی وجہ سے وہ اپنی مادی ترقی کو قائم نہ رکھ سکا۔

سلطنت روما اور سلطنت ِ فارس کے پاس کس چیز کی کمی تھی، لیکن وہ تباہی سے بچ نہ سکیں۔ تمام تہذیبیں جو آج تک اُبھری اور تباہ ہوئی ہیں، اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ مادی قوانین کے ساتھ ساتھ زندگی میں کچھ اخلاقی قوانین بھی کارفرما ہیں اور ان کونظرانداز کرکے کوئی قوم حقیقی ترقی حاصل نہیں کرسکتی۔ اسلامی نظریہ، ترقی کے مادی اور معاشی قوانین کے ساتھ ساتھ اخلاقی قوانین کی ترقی کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ اس طرح ایک متوازن اور مبنی بر عدل تہذیب کے فروغ کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ دوسرے تمام نظام ہائے زندگی اس تعلق کو نظرانداز کردیتے ہیں اور اسی لیے ناکام ہیں۔ مادی اور اخلاقی زندگی کے گہرے تعلق کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

  • کسی قوم میں جب بدکاری پھیل کر عام ہوجائے اور وہ اسے کھلم کھلا کرنے لگے تو ایسی قوم طاعون اوردوسری بیماریوں کی مصیبت میں گرفتار ہوگی اور ایسے دُکھ درد سے دوچار ہوگی جس سے اس کے اسلاف ناآشنا تھے۔
  • اور جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرے گی تووہ قحط سالی اور حکمرانوں کے ظلم و جور کا شکار ہوگی۔
  • اور جب کوئی قوم زکوٰۃ دینا بند کردے گی تو اس پر بارش (خدا کی چھت) بند ہوجائے گی اور اگر ہوگی بھی تو(انسانوں کی وجہ سے نہیں) بلکہ دوسرے حیوانوں کی وجہ سے۔
  • جب کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عہدوپیمان توڑ دےگی، تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کردے گا، جو ان کے قبضے کی بعض چیزیں چھین لے گا۔
  • اور جب ان کے ائمہ اور قائدین کتاب اللہ پر فیصلے کرنا ترک کردیں گے اور اپنی مرضی  کے احکام اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے پیدا فرما دے گا۔[ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات،حدیث: ۴۰۱۷]

اس طرح پہلے خلیفۂ راشد حضرت ابوبکر صدیق؄ نے اپنے پہلے ہی خطبہ میں فرمایا تھا:

  • اے لوگو! جس قوم نے بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چھوڑ دیا، اللہ نے اسے ذلیل کیا اور جس قوم میں بھی بدکاری پھیل جائے، تو اللہ اس میں مصیبت کو بھی پھیلادیتا ہے۔ [سیرت ابن ہشام، ج۴،ص ۳۱۲، دارالکتاب، العربی، بیروت]

اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی نظریے کا قیام خود ہماری مادی اور قومی زندگی کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس کے بغیر نہ ہم اپنے مسائل کو حل کرسکتے ہیں اور نہ اپنی تعمیرنو کو صحت مند بنیادوں پر استوار کرسکتے ہیں۔

آج دُنیا میں جو کش مکش برپاہے، اس سے بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اب مقابلہ محض چند افراد، کچھ قوموں اور بعض ملکوں میں نہیںبلکہ دراصل مقابلہ ’الٰہی ہدایت‘ سے رہنمائی و طاعت اور ہدایتِ الٰہی سے بغاوت و طاغوت کی پیروی کے درمیان ہے۔ مغرب کے پاس کوئی مثبت آئیڈیالوجی نہیں ہے، اور وہ جمہوریت، سیکولرزم، لبرلزم، آزادیٔ حقوقِ انسانی اور تحفظ فرد کے نعروں سے اپنا کام نکالنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ ہمارے عہد میں مسلط عالمی سامراج، مادہ پرست تہذیب کی پیداوار ہے اور ہم مغرب کی نقالی کرکے فائدے میں نہیں خسارے میں ہیں۔ ہمارے پاس اسلام کی صورت میں ایسا عادلانہ نظریہ ہے، جس کے ذریعے نہ صرف یہ کہ ہم خود سیکولر فسطائیت کا مقابلہ کرسکتے ہیں بلکہ باقی دنیا کو بھی ایک نئی راہ دکھا سکتے ہیں لیکن افسوس  ؎

کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت

وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

مسلمانوں پر مسلط کردہ موجودہ سیاسی و تہذیبی جنگ اور جدید مالی کش مکش پر نگاہ رکھنے والے افراد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم اگردُنیا کی سیاست میں کوئی تاریخی کردار ادا کرسکتے ہیں تو وہ نقالی کرکے نہیں کرسکتے بلکہ اس صورت میں کرسکتے ہیں کہ جب ہم اسلام کے عادلانہ نظریے کو بالفعل  قائم کریں اور اسے دوسروں کے لیے مثال بنادیں۔ نقالی کرکے ہم شاگرد بن سکتے ہیں، بہت سے بہت شاگردِ رشید بن سکتے ہیں، لیکن کوئی تخلیقی اور قائدانہ کارنامہ اسی وقت انجام دے سکتے ہیں کہ جب تک ہم خود ایک عالمی آئیڈیالوجی کے علَم بردار نہ بنیں۔

خدا سے عہد شکنی کا نتیجہ

پھر سب سے بڑھ کر دُنیاوی اور ملکی مفاد سے ہٹ کر ایک پہلو اور بھی قابلِ غور ہے۔

ہم نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے موقعے پر اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ ’’اے مالک، تو ہمیں کامیابی عطا کر اور ہم تیری زمین پر تیری نازل کردہ ہدایت قائم کریں گے‘‘۔ کیا اس نظریے کو ترک یا نظرانداز کرنے کے معنی خدا کے غضب کو دعوت دینے کے نہ ہوں گے؟ ہم اپنے آپ کو خدا کی عنایت اور اِکرام کا اسی وقت مستحق بناسکتے ہیں، جب ہم اس مقصد اور اس وعدے پر قائم رہیں، جو ہم نے زمین و آسمان کے مالک و خالق سے کیا تھا۔ اگر ہم اپنے اس عہد کو توڑ دیتے ہیں تو لازماً ہم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے بھی محروم کرلیں گے۔ اور اس سے زیادہ بدبخت کون ہوگا جو اپنے کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم کرلے!

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۙ (انفال ۸:۵۳) یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو دی ہے، اس وقت تک بدلنے والا نہیں جب تک وہ خود اپنے کو نہ بدل لے [یعنی اپنے اعتقاد اور اپنے مقاصد سے منحرف نہ ہوجائے]۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ:

یَا مَعشَرَ  قُرَیْشٍ  ، فَاِنَّکُمْ  اَھْلُ  ھٰذَا  الأَمْرِ، مَا لَمْ  تَعْصُوا اللہَ   فَاِذَا عَصَیْتُمُوْہُ  بَعَثَ  عَلَیْکُمْ  مَن  یَلْحَاکُمْ  ، کَمَا  یُلْحَی  ھٰذَا  القَضِیْبُ  لِقضِیبٍ فِی یَدِہ ثُمَّ  لَحَا قَضیہَ  [مسنداحمد، من مسند بنی ہاشم، مسند عبداللہ بن مسعودؓ، حدیث:۴۲۳۱] اے اہلِ قریش،تم اس وقت تک لطف و کرم کے مستحق رہو گے، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کروگے اور جب تم گناہ کی زندگی پراُتر آئو گے، تو وہ تم پر ان لوگوں کو بھیجے گا، جو تمھاری کھال ادھیڑ ڈالیںگے جیسے اس شاخ کی چھال چھیل دی جاتی ہے۔ آپؐ کے دست مبارک میں ایک شاخ تھی، جسے آپؐ نے چھیل کربتایا۔

اور قرآنِ پاک کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہِ راست ہم ہی سے خطاب ہے:

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ  اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۲۶ (انفال ۸:۲۶) اور وہ وقت یاد کرو جب تمھاری تعداد بہت تھوڑی تھی اور تم زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔ تم اس وقت ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تم کو اُچک نہ لیں۔ پھر اللہ نے تمھیں ٹھکانادیا، اپنی مددگاری سے قوت بخشی، اور اچھی چیزیں دے کر رزق کا سامان مہیا کردیا تاکہ تم شکرگزاربنو۔

شکرگزاری کا راستہ، اللہ کے دین کو اختیار کرنے اوراسلامی نظریے کو قائم کرنے میں ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو سخت ناشکرے ہوں گے اور اللہ کے عذاب کو دعوت دیں گے۔ اس لیے ہمارے لیے سیدھا راستہ یہی ہے کہ ہم اسلامی نظریے، اسلامی تہذیب و معاشرت اور اسلامی معاشی نظامِ عدل کو خلوص اور ایمان داری کے ساتھ اختیار کریں اوراس کے دیے ہوئے پروگرام پرعمل کریں۔

دو غلط نقطہ ہائے نظر

اسلامی نظریے کی تنفیذ کے سلسلے میں دو نقطہ ہائے نظر کے جائزے کی ضرورت ہے:

ایک نظریہ تو یہ ہے کہ ’’اصل چیز پروگرام ہے، نام نہیں، اس لیے اسلام کا نام لیے بغیر ہی اس کے اصلاحی پروگرام پر عمل کرناچاہیے‘‘۔

دوسرا نقطۂ نظر متجددین کاہے جو اسلام کا نام تو برقراررکھتے ہیں، لیکن ’تعبیرات‘ کے ایک نہ ختم ہونےوالے سلسلے سے ان اسلامی اصطلاحات کے معنی بدل دیتے ہیں، اوراسلام کے نام کی پرانی بوتلوں میں جدید مغربی فکروتمدن کا زہر بھر دیتے ہیں۔

ہم ان دونوں نقطۂ ہائے نظر کو غلط سمجھتے ہیں اور نظریۂ پاکستان کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اسلام کا نام لینے سےگریز

  • اوّل الذکر کے سلسلے میں پہلاسوال تو یہ ہے کہ آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ ’اسلام کا نام نہ لیا جائے؟‘ درحقیقت اس کا اصل محرک واقعاتی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔ یہ ایک قسم کے چھپے ہوئے احساسِ کمتری کی پیداوارہے اور ہرگز ہمت افزائی کے لائق نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام پر فخر محسوس کرنے کے بجائے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، وہی بالعموم اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسلام کے نام کو جان بوجھ کر استعمال نہ کریں اور پھر جو لوگ اسلام کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں وہ اس کے پروگرام پر کیا عمل کریں گے؟
  • دوسری چیز یہ ہے کہ نام کی خود اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے۔ وہ ایک زائد از ضرورت شے نہیں ہے۔ دراصل نام کے ذریعےکسی چیز کی حقیقت، اس کے اصل آئیڈیل اور منزل کو متعین کیا جاتا ہے۔ پھر نام کے ذریعے اس اصل مقصود کی مسلسل تذکیر بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح اصل مقصد کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوپاتا۔ایک مسلمان بچے کو سب سے پہلے مسلمانوں کاسا نام اسی لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو جان لے، اور اس میں بھی اچھے سے اچھا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس نام سے جو شخصیات اور جوتصورات وابستہ ہیں، وہ ان کو اپنا آئیڈیل اور مقصود بنالے۔
    نام اصل شے سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ اس کی حقیقت کا اظہار ہے اور یہی تصور قرآن کریم سے ہمارے سامنے آتا ہے۔ تخلیق انسان کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ آدمؑ کو  اشیا کے نام بتائے گئے (عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا) یعنی ان کی حقیقت سے آدمؑ کو مطلع کیا گیا۔ نام کا اصل شے سے ہٹ کر کوئی وجود نہیں اور اصل شے کا نام کے بغیر کوئی اثر نہیں!
  • تیسرے یہ کہ اسلام میں نام کی بڑی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اسلام اپنے پورے پروگرام کو کفر کے پروگرام سے ممتاز کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے جداگانہ تشخص اور مزاج کا اظہار منجملہ اور چیزوں کے، جداگانہ نام سے بھی ہوتا ہے۔ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کواس سے منع فرمایا ہے کہ وہ کفّار کے ساتھ ظاہری مشابہت بھی پیدا کریں: مَنْ تَشَبَّہَ  بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ۔ اس حکم میں نام کا مسئلہ بھی آتا ہے اور اس کی روشنی میں ہمیں اپناعلیحدہ تشخص ضرور ظاہرکرنا چاہیے، تاکہ ہمارے طریقے اور اہلِ کفر کے طریقے کا فرق نمایاں ہوسکے۔
  • پھر مسلمانوں کو ترغیب دینے ان میں عمل اور قربانی کے جذبات بیدار کرنے، ان میں تحریک و حرکت رُونما کرنے اور جدوجہدکا ولولہ اور شوق پیدا کرنے کے لیے اسلام کا نام بے حد ضروری ہے۔ ’جہاد‘کے لیے جو جذبہ مسلمانوں میں پیداہوگا وہ کبھی محض جنگ کے لیے نہیں ہوگا بلکہ جہاد کی تمام علمی، قلمی، دعوتی شکلوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کا کلچر بھی ہوگا۔زکوٰۃ اور انفاق کے لیے جو جذبہ و شوق رُونما ہوگا، وہ صرف محصول اکٹھا کرنے کے لیے نہیں ہوسکتا۔
  • ’عبادت‘ کے لیے جو ولولہ ہوگا وہ ورزش کے لیے نہیں ہوسکتا۔ ’شہادتِ حق‘ کے لیے جو قربانی وہ دیں گے، وہ پروپیگنڈے کے لیے نہیں ہوسکتی۔ اس لیے عملی نقطۂ نظر سے بھی نام کی بڑی اہمیت ہے۔
  • نیز ہم اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے کہ اپنے کام میں برکت پیدا کرنے اور اللہ کی مدد و استعانت طلب کرنے کے لیے بھی لازم ہے کہ ہم اسلام کا اور اللہ اور اس کے رسولؐ کا نام لیں۔ اس کے بغیر ہم اُس برکت کے مستحق نہیں ہوسکتے، جس کے بغیر ہماری ساری مساعی بیکار ہیں۔
  • اور پھر جب قرآن کریم ہمیں اصل کام کے ساتھ ساتھ نام کے اظہار کا بھی صاف صاف حکم دیتا ہے تو ہم اس سے رُوگردانی کرنے والے کون ہیں؟ اسلام کی مصلحتوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ سے زیادہ تو ہم نہیں جانتے۔ جب وہ خود ہمیں ’مسلم‘ کا نام دیتے ہیں اور اس کے اظہار کا بھی حکم دیتے ہیں تو ہم اس نام کی ’شدھی‘ کرنے والے کون ہیں؟ قرآن کا ارشاد ہے:

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۳۳ (حم السجدہ ۴۱:۳۳) اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ مَیں مسلمان ہوں۔

یہاں صاف ارشاد ربانی ہے کہ ’’اللہ کی طرف بلائے‘‘ اور کہے کہ ’’میں مسلمان ہوں‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کا نام بھی لیا جائے۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح اصل پروگرام کو چھوڑ کر صرف’نام‘ پر انحصار کرنا غلط اور اسلام کے منشا کے خلاف ہے، اسی طرح نام کے بغیر پروگرام کو پیش کرنا بھی اس کی تعلیمات کے منافی ہے۔ ’نام‘ اور ’پروگرام‘ دونوں کو ساتھ ساتھ ہونا چاہیے اور یہی راہِ صواب ہے۔

اجتہاد کے نام پر مغربی اقدار کا فروغ

جہاں ایک گروہ نام پر معترض ہے وہاں ایک دوسرا گروہ ہے، جو نام کو باقی رکھ کر معنی بدل دینا چاہتا ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ ’’جدید مغربی تہذیب نے جو بھی اقدار (values) دی ہیں اور تہذیب وتمدن کا جو بھی ڈھنگ بنایا ہے، اسے اسلام سے درست ثابت کردے‘‘۔ اسلام کی اصطلاحات کو اور اس کے الفاظ کو تو باقی رکھے، لیکن ’معنوی تحریف‘ (falsification) کے ذریعے  اللہ کے دین کو مغرب کا چربہ بنادے۔ اگر مغرب میں سود جائز ہے تو یہ اسلام میں بھی سود کے لیے جواز نکال لیتے ہیں۔ اگر مغرب میں موسیقی اور مجسمہ سازی، کلچر کا جزو لاینفک سمجھے جاتے ہیں، تو ہمارے متجددین بھی انھیں اسلامی ثقافت کی عین ’روح‘ ثابت کرتے ہیں۔ اگر مغرب ’حجاب‘ اور ’تعدداَزدواج‘ کو غلط سمجھتا ہے تو یہ ’دانش ور‘ باادب عرض کرتے ہیں کہ ’بھلا ان چیزوں کا اسلام سے کیا تعلق؟ یہ سب مُلّا کی ایجادات ہیں‘۔ اگر مغرب، اسلام پرتشدد کی پھبتی کستا ہے تو یہ جہاد کو یک سر منسوخ کردیتے ہیں۔ اگر مغرب نماز ، روزہ اور قربانی کو لغو سمجھتا ہے تو یہ بزعمِ خود اسلامی نقطۂ نظرسے بھی ان کی ’لغویت‘ بیان فرماتے ہیں۔ اور یہ سارا کارنامہ ’اجتہاد‘ کے نام پر اسلام کی ’تعبیر نو اور تشکیل نو‘ کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ اگر پہلا فساد ’نام نہ استعمال کرنا‘ تھا، تو یہ فساد ’فتنۂ تعبیر ‘ کے ذریعے ہے۔

ان حضرات نے اس بات کو تو محسوس کرلیا ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے نام کے بغیر عمل پر نہیں اُکسایا جاسکتا اور جب تک کسی چیز پر اسلام کا لیبل نہ ہو مسلمان اسے کبھی قبول نہیں کرسکتے۔ لیکن وہ اس کوبھول گئے ہیں کہ اسلام محض ایک خالی خولی نظریہ نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، اسے مسخ کریں اور جو شکل چاہیں اسے دے دیں۔ اسلامی نظریے کو خود خدا کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کے میدان میں قائم کیا تھا اور اسلامی تہذیب ومعاشرت کے آثار گذشتہ چودہ سو برسوں سے اس سرزمین پر قائم ہیں۔ اسلامی نظامِ زندگی کی حیثیت کوئی ایک کتابی شے کی سی نہیں، ایک عملی حقیقت کے طور پر ہے۔ تواتر کے ساتھ اس پرعمل ہورہا ہے اور جن معاملات میں عمل نہیں ہورہا، وہاں بھی اسلامی اقدار موجود اور محفوظ ہیں۔ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیمات، علمی اورعملی دونوں طریقوں سے پہنچی ہیں۔ اسلام کوئی معما نہیں ہے۔ اسلام تو ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے اور اسے مسخ کرناآسان کام نہیں ہے۔

یورپ میں عیسائی پادریوں نے یہ کام ضرور کیا تھا کہ جب چاہا، مسیحیت کی من مانی تعبیر کردی ،اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ وہاں خدا کی اصل ہدایت محفوظ تھی، نہ وہ زبان محفوظ تھی کہ جس میں خدا کی ہدایت نازل ہوئی تھی۔ اور نہ کوئی زندہ روایت موجود تھی، جو اس ہدایت کی عملی شکل پیش کرتی ہو۔ لیکن جہاں تک اسلام کا معاملہ ہے تو ان میں سے کوئی ایک کڑی بھی ٹوٹی ہوئی نہیں ہے۔

یہاں خدا کی کتاب اور اس کےرسولؐ کی سنت پوری طرح محفوظ ہیں۔ ان میں ’سرِمُو‘ بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ قرآن اور سنت کی زبان ایک زندہ زبان ہے، جس کے الفاظ و معانی متعین ہیں اور من مانی تاویلات کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اسلامی لٹریچر کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے، جس میں ہرہردور کا فکری وعملی سرمایہ محفوظ ہے۔ ایک معاشرہ اس نظریے پر قائم ہے اور پورے تسلسل کے ساتھ گذشتہ چودہ سو سالوں سے وہ اس پر عامل ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں’تعبیر کے فتنے‘ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ اپنے تمام جہل، کج روی، کم علمی اورکوتاہ عملی کے باوجود آج بھی مسلمانوں کا بچہ بچہ بتاسکتا ہے کہ نماز اور روزہ فرض ہیں۔ قربانی ضروری ہے، زکوٰۃ لازم ہے، بے حیائی منع اور حجاب و ستر پوشی لازم ہے ،سود حرام ہے، مجسمہ سازی ناجائز ہے، موسیقی ناپسندیدہ ہے۔ اسلام کوئی ’کتابِ گم شدہ‘ نہیں کہ آپ اپنی پٹاری سے جو چاہیں نکال لیں اور اسلام کے نام پر پیش کردیں۔ وہ ایک کھلی ہوئی کتاب ہے اورہر تحریف کا پردہ پہلے قدم پر ہی چاک ہوجائے گا، اور ان شاء اللہ ہماری سوسائٹی میں ’فتنۂ تعبیر‘ کے کھوٹے سکّے نہ چل سکیں گے۔

پھراپنی تمام کمزوریوں کے باوجود فتنۂ تعبیرو تحریف کو ملّت اسلامیہ کے ضمیر نے کبھی قبول نہیں کیا ۔ آج سے پہلے ’معتزلہ‘ نے یہی کام کیا تھا، لیکن ملت اسلامیہ نے اس گروہ کو اس طرح فراموش کردیا کہ دنیا اس کے نام تک کو بھول گئی۔سرسید احمد خاں مرحوم کی قومی خدمات اپنی جگہ ، لیکن انھوں نے بے جا طور پر دینی اُمور اور افکار میں تحریف یا من مانی تعبیر کی کوشش کی تھی مگر ملّت میں ایک دن کے لیے بھی ان کے مذہبی نظریات جگہ نہ بناسکے۔

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ مسلم سوسائٹی میں بہت سی خرابیاں اور کمزوریاں رہی ہیں، اور آج بھی موجود ہیں، لیکن آج تک اس نے اپنے آئیڈیل کونہیں بدلا اور نہ کسی کو بدلنے دیاہے۔  یہی وجہ ہےکہ فتنۂ تجدد نے بارہاسر اُٹھایا لیکن ہمیشہ ناکام رہا۔ کبھی یہ ’اعتزال‘ کی شکل میں رونما ہوا، کبھی ’باطنیت‘ کے رُوپ میں،کبھی دین اکبر کی صورت میں نمودار ہوا تو کبھی نیچریت کے پیکر میں۔ کبھی پہلوی ازم بنا، کبھی کمال ازم اور انکارِ سنت و انکارِ ختم نبوت کے رُوپ میں۔ لیکن ہمیشہ ایمان، دلیل اور اجتماعی ضمیر کی قوت سے ایسے فتنوں کا سر کچل دیا گیا۔ آج بھی ملت کاضمیر ایسی کسی حرکت کو قبول نہیں کرسکتا۔

پروفیسر ولفریڈکینٹ ول اسمتھ نے اس رجحان پر ’فکرمندی‘ کااظہار کرتے ہوئے لکھا:

یہ ایک ہمہ گیر حقیقت ہے کہ گذشتہ ربع صدی میں اسلام میں لبرلزم کا رجحان بڑی نمایاں حد تک کم ہوگیا ہے بلکہ بعض علاقوں کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ بالکل ہی غائب ہوگیا ہے۔

استحکام کے بجائے انتشار کا خدشہ

جو کچھ ہم نے اُوپر عرض کیا اس کےعلاوہ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس نوعیت کی تعبیرات اور تشریحات کبھی مسلمانوں میں جذبۂ عمل اور ذوقِ قربانی پیدا نہیں کرسکتیں۔ اگر آدمی اخلاص کے ساتھ اسلام کاہوجائے تو بڑے سے بڑاکارنامہ سرانجام دے سکتا ہے۔ اور اگر اخلاص کے ساتھ بالکل مغرب کا ہوجائے تو بھی کم از کم مغربیت کے اتباع میں تو ممکن ہے کچھ جوش دکھا سکتا ہے، لیکن آدھے تیتر اور آدھے بٹیروالی پالیسی کبھی بھی عملاً کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس کے نتیجے میں زندگی سے فرار تورُونما ہوسکتا ہے، اسلامی تہذیبی روایت سے انحراف بھی واقع ہوسکتا ہے، لیکن زندگی کی تعمیروتشکیل کا جذبہ کبھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اوراگر ہم خدانخواستہ کسی ایسے فتنے کا شکار ہوجاتے ہیں تو پھر یہ احمقانہ رویہ پوری قوم کوجذبۂ عمل سے محروم کر دے گا۔

اسی طرح ہمارے ہاں وقتاً فوقتاً پیدا ہونے یا پروان چڑھائے جانے والے متجددین کی ان کوششوں سے قوم میں فکری ژولیدگی پیدا ہورہی ہے۔ ایسے لوگ مسلمانوں کی اب تک کی روایات کو منہدم کررہے ہیں،جس سے ایک طرف تو ’جدید‘ اور ’قدیم‘ کی کش مکش پیدا ہورہی ہے اور دوسری طرف قوم میں ذہنی انتشار فروغ پارہا ہے اور جس قوم میں ذہنی انتشار ہو، وہ کبھی اچھادفترِ عمل پیش نہیں کرسکتی۔

ماضی سے اندھی بہری بغاوت کا رجحان خود اپنے اندر بڑے مفسدات رکھتا ہے۔ہماری ترقی اسی وقت ممکن ہے، جب ہم اپنے تاریخی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ اگر ہم نے وہ سب کچھ دریابرد کرنے کی کوشش کی، جو آج تک مسلمانوں نے حاصل کیا ہے تو ہماری قوتیں ایک اندرونی کش مکش کی نذر ہوجائیں گی اورمجموعی طور پر قوم کوکچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ’ تجدد‘ کا فتنہ ملک کے لیے ایک عظیم خطرہ ہے اور اس کی ہرکوشش نظریۂ پاکستان کی بنیادوں پر ایک ضربِ کاری ہے۔

تعمیرِ ملّت کی اساس

ہماری نگاہ میں مذکورہ بالا دونوں راستے گمراہی کے راستے ہیں۔ سیدھی راہ یہ ہے کہ اسلامی آئیڈیالوجی پر اس کے اصل رنگ میںعمل ہو اور آزادی کے ہرپہلو پر اس کی حکمرانی قائم ہو۔

اس کےلیے ایسا پروگرام بنانا ہوگا، جو ایک طرف فرد کی اصلاح کرے اور اس میں حقیقی ایمان پیدا کرے۔ اللہ کے خوف سے اس کے دل کو معمورکرے اورعمل صالح کی راہ پر اسے گامزن کردے اور دوسری طرف اجتماعی زندگی کی اصلاح اور تشکیل نو کا کام انجام دے۔جب تک ان دونوں محاذوں پر بیک وقت کام نہ ہوگا، نظریۂ پاکستان کو اپنی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی نہیں کیا جاسکے گا۔یہ کام کسی ایک فرد، ادارے، جماعت یا صرف حکومت کے کرنے کا نہیں ہے۔ یہ سب کا کام ہے اور پوری اُمت کی ذمہ داری ہے:

کُلُکُمْ رَاعٍ  وَکُلُّکُمْ مَسْؤلٌ  عَنْ رَعِیَّتِہٖ [صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب المرأۃ، راعیۃ فی بیت زوجھا، حدیث:۴۹۰۸] تم میں سے سب کے سب نگران ہیں اور تم میں سے ہرایک سے اپنی اپنی رعیت کے بارےمیں سوال کیا جائے گا۔

یہ ذمہ داری ہرفرد کی ہے ، ہر ادارے اور جماعت کی ہے اور سب سے بڑھ کر حکومت کی ہے کہ وہ زندگی کے ہرشعبے میں اس نظریے کو قائم کرے۔ ہر ایک کو سب سے پہلے، اسے اپنے اُوپر قائم کرنا چاہیے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ اسے دوسروں پر اورپورے نظامِ زندگی پر نافذ کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے:

اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ (الرعد ۱۳:۱۱) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہیں بدلتی۔

اصلاح اور تعمیرِ نو کی ذمہ داری، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ ہرفرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اس نظریے کا پرچار کرے اور جس دائرے میں بھی اسے اختیار حاصل ہے، اس میں اسے قائم کرے۔ ہرادارے اور جماعت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی علَم بردار بنے اور اپنے دائرۂ اختیار میں اسے نافذکرے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی داعی بنے اور ملک کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، اخلاقی، قانونی اور بین الاقوامی پالیسی کو اس کی روشنی میں مرتب کرے، تاکہ یہ نظریہ زندگی کے ہرشعبے میں جلوہ گر ہو اور اس طرح پاکستان اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہوسکے۔

ملک کو درپیش مسائل

پاکستان کے نظریاتی پہلو پر زور دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روز مرہ زندگی اور ریاست میں پیدا ہونے والے سماجی و معاشی چیلنجوں کا جواب نہ دیا جائے۔ آج وطن عزیز درج ذیل حوالوں سے دہکتے انگاروں کا منظر پیش کررہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ:

       ۱-    پاکستان عمومی طور پر شدید نوعیت کی معاشی مشکلات، تضادات اور تصادمات کی زد میں ہے۔ جس کا بنیادی سبب معاشی بدانتظامی، سودی معیشت پر اصرار اور ناپائدار معاشی پالیسیاں ہیں۔

       ۲-    قومی بجٹ اور ریاست کی جانب سے اپنے شہریوں کے ساتھ سالانہ عہدوپیمان (بجٹ) کے بجائے، عملاً سال کے دوران چار، پانچ بجٹ لانے کی شرانگیزی ہے۔ پہلے ہریکم تاریخ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا تھا اور اب ہرماہ کی یکم اور ۱۵تاریخ کو بھی قیمتوں میں رد و بدل کرکے سارے معاشی منظرنامے کو بدترین صورتِ حال سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر فرد، کارپوریشن اور ادارہ معاشی منصوبہ تیار کرنے کی صلاحیت اور اختیار کھوبیٹھا ہے۔ ایسی معاشی بدانتظامی کا یہ اثر ہے کہ افراطِ زر، مہنگائی اور حد سے بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق کا پہاڑ کھڑا ہوگیا ہے۔ بدقسمتی سے اس ریاستی اداراتی بے راہ روی کے منہ زور گھوڑے کو لگام دینے کے لیے نہ سیاسی پارٹیاں تیار ہیں اور نہ دُور دُور تک اعلیٰ تعلیمی ادارے، دانش وَر اور تجزیہ کار بند باندھنے کے لیے آمادہ کار ہیں۔

       ۳-    اس معاشی اور طبقاتی فساد نے سماجی فاصلے گہرے کر دیے ہیں۔ شہریوں میں جسمانی بیماریاں تو ایک طرف رہیں، ذہنی بیماریوں کا نہ ختم ہونے والا جنگل بڑھتا جارہا ہے۔ ہرسال خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات، طلاق اور خلع کی تعداد میں ناقابلِ تصور اضافے کا رجحان، بات بات پر لوگوں کا توڑ پھوڑ پر آمادہ ہو جانا (جس کی ایک مثال تو وکیلوں کی جانب سے معزز ججوں پر حملے، پولیس اور ڈاکٹروں پر تشدد وغیرہ کی صورت میں بھی سامنے آتی رہتی ہے) اور اس نوعیت کے مریضانہ رویے، جنگل کے معاشرے کی یاد دلاتے ہیں۔

       ۴-    پولیس کے نظام کی بدانتظامی اور عدالتی عمل کے غیرمؤثر ہونے کی کیفیت نے لوگوں کو عدم تحفظ، خوف اور مایوسی سے دوچار کیا ہے۔

       ۵-    زراعت کے پیشے میں سہولیات کی فراہمی کے نظام کی بدنظمی، اور زراعت کے بارے میں ریاستی مشینری کی کم فہمی اور کسانوں کے معاملات کو سمجھنے اور ان کے بالکل جائز مسائل حل کرنے سے لاتعلقی نے زراعت و خوراک جیسی بنیادی صنعت کو شدید دھچکا پہنچایاہے۔

       ۶-    صنعت و حرفت اور درآمد و برآمد تجارت کے معاملات میں غیر متوازن رویوں نے لوگوں کو سرمایہ کاری سے ہٹاکر، بیرونِ ملک جائدادوں کی خریداری کی طرف دھکیل دیا ہے، یا پھر دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری کی راہ دکھائی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں بے روزگاری کو فروغ ملا۔ اس صورتِ حال میں جرائم میں اضافہ فطری بات ہے۔

       ۷-    دوسری طرف کثیر قومی کمپنیوں کے لیے سرخ قالین بچھا کر استقبال کرنے کا اور انھیں من مانی کرنے کی کھلی اجازت دینے کا رویہ ظاہر کرتاہے کہ اہلِ حل وعقد (نوکرشاہی اور سیاسی قیادت) کے گٹھ جوڑ کو ملک اور ملک کے شہریوں کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں اور ادویات ساز کمپنیوں کی مثالیں اس معاملے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

       ۸-    اور سب سے زیادہ لرزا دینے والا معاملہ تعلیم کی فروخت سے منسوب کاروبار ہے۔ بچوں کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی، لیکن تعلیمی تاجر دونوں ہاتھوں سے، پسے ہوئے غریب شہریوں کو لُوٹ رہے ہیں۔ درس گاہیں علم کی شمع روشن کرنے کے بجائے فیشن پریڈ کے مراکز میں تبدیل ہورہی ہیں۔ روز افزوں اخلاقی بے راہ روی الگ مسئلہ ہے، اور دی جانے والی تعلیم کے معیار کو جانچنے کا سوال اس سے بھی زیادہ الم ناک کیفیت سامنے لاتا ہے۔ یکساں نظامِ تعلیم کے نام پر قومی تعلیمی پالیسی میں غیرمنطقی اور متصادم تبدیلیوں کا ڈراما مضحکہ خیز منظر دکھاتا ہے۔ سرکاری تعلیمی شعبہ زبوں حالی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرکاری شعبۂ تعلیم کی اس بدانتظامی نے نجی شعبے کو من مانی کرنے کا کھلا لائسنس عطا کر دیا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس موضوع کو کوئی زیربحث لاتا ہی نہیں۔ نہ پارلیمنٹ، نہ میڈیا، نہ سیاست دان اور نہ اخبارات۔

       ۹-    مختلف آئینی اداروں کا ایک دوسرے کے معاملات اور منصبی ذمہ داریوں میں بے جا مداخلت کرنا بلکہ زور زبردستی کرنا، ایسا بدنُما طرزِ عمل ہے، جس نے ریاستی انتظامی توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

       ۱۰-  معاشرے کی تعمیر حددرجہ بنیادی فریضہ ہے۔ عصرحاضر نے معاشرتی تعمیر کا کم و بیش خاصا حصہ ذرائع ابلاغ کے سپرد کردیا ہے، جو دل، دماغ، مشاہدے اور تعلقات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وطن عزیز کے بیش تر ذرائع ابلاغ، اس حوالے سے مایوس کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ مایوسی، تصادم، مبالغہ، گاہے تاریخی عوامل کی جھوٹی منظرکشی اور اخلاقی قدروں کی پامالی کی بہت سی مثالیں ہمار ےذرائع ابلاغ پیش کر رہے ہیں۔

       ۱۱-  سب سے نازک معاملہ یہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر پر قومی یکسوئی کو متاثر کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ایسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں، جن سے پوری جدوجہد کو شدیدصدمہ پہنچتا ہے۔ پھر    محکمہ خار جہ اور پارلیمنٹ کی جانب سے قرار واقعی توجہ نہ دینا، مسئلۂ کشمیر کی ماہیت پر شدید منفی اثرڈالنے کا سبب بن رہا ہے۔

نظریاتی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، اُوپر مذکورہ جن گیارہ نکات کی جانب توجہ دلائی گئی ہے، انھیں درست کرنا کسی بین الاقوامی ادارے کی نہیں خود ہمارے اہل حل وعقد کی ذمہ داری ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے بااثر لوگ یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے اپنا حصہ ادا کرنے سے حددرجہ غافل دکھائی دیتے ہیں۔ اگر انھوں نے یوں ہی فرار کی راہ اختیار کیے رکھی تو ملک و ملّت کو شدید نقصان پہنچے گا اور آیندہ نسلیں اُنھیں معاف نہیں کریں گی۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اقبال کی یہ پیش گوئی جدید مغربی تہذیب کے جن شعبوں میں پوری ہوتی ہوئی صاف نظر آرہی ہے ،اُن میں خاندان کا شعبہ سر فہرست ہے۔گذشتہ صدی کے وسط میں ساری مغربی دنیا میں اور ان کی نو آبادیات میں جدید نظریات کا غلغلہ تھا۔ لبرل مکتب فکر، مغربی دنیا کا مقبول ترین مکتب فکر تھا۔ اس نے خاندان کے بارے میں یہ تصور پیش کیا کہ یہ ’’پدر شاہی ‘‘ (Patriarchal) ادارہ  ہے اور اس کا اصل مقصد عورت کا استحصا ل کرنا ہے‘‘۔مارکسی مفکرین نے اور آگے بڑھ کر کہا کہ ’’یہ بورژوا طبقہ کا ایک استحصالی آلہ کار ہے اور خاندان کے ادارے کا بنیادی مقصد دولت کی تقسیم کو روکنا اور بورژوا طبقے کی طاقت کو استحکام بخشنا ہے‘‘۔

ان سرگرم کار تصورات نے یہ یقین پیدا کیا کہ خاندان کی انسان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں شادی کے بغیر جنسی زندگی کا رواج شروع ہوا۔ میاں بیوی کی جگہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ نے لے لی ۔ بغیر شادی کے اور بغیر کسی طویل مدتی عہدنامےکے، ساتھ رہنے کا سلسلہ چل پڑا۔ جنسی آوارگی عام ہوگئی اور خاندانی ادارہ تیزی سے معاشرے سے غائب ہونے لگا۔

دوسرے مرحلے میں کج روی پر مشتمل جنسی رجحانات کی نئی اقسام کا تصور عام ہوا۔ فلسفیوں نے اسے انصاف اور مساوات کے تصور سے جوڑ ڈالا۔کسی نے اسے ’صنفی انقلاب‘ کا نام دیا اور کسی نے کہا کہ: ’’جنسی تعلق مرد اور عورت کے درمیان ہی ہو، یہ ضروری نہیں ہے۔ فطرت نے کئی طرح کے جنسی جذبے پیدا کیے ہیں۔مرد اور مرد یا عورت اور عورت مل کر ہم جنسی خاندان بھی بناسکتے ہیں‘‘۔ کہا گیا کہ ’’یہ جذبات بھی فطری ہیں اور ایسے جذبات رکھنے والے اگرچہ جنسی اقلیت ہیں مگر ان کے حقوق کا تحفظ عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ ہم جنسیت کے خلاف کچھ بولنا یہ ظلم کی تائید اور ظلم کی راہ ہموار کرنا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ تمام مغربی معاشروں میں اور اس کے بعد مشرقی معاشروں میں ہم جنس جوڑے عام ہوگئے۔ کئی ملکوں میں ان کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگیا۔

تیسرے مرحلے میں مشینوں اور جنسی مصنوعات کے ساتھ صنفی تعلق کی ہمت افزائی کی جارہی ہے اور ایسے کھلونوں اور روبوٹوں کی یہ صنعت اب پچاس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی ہے جس میں ۳۰فی صد سالانہ کی رفتار سے ترقی ہورہی ہے۔ ایسے جنسی روبوٹ (sexbot) تیزی سے عام کیے جارہے ہیں، جو شوہر یا بیوی کا کردار ادا کرسکیں۔

ان سب بے ہودہ تصورات اور رواجوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاندانی نظام پوری طرح تباہ ہوگیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سو سالوں کے دوران میں امریکا میں شادی کی شرح میں ۶۶فی صد کمی آئی ہے۔ گویا سو سال پہلے ہر سال جتنی عورتیں شادی کرتی تھیں، آج اس کے مقابلے میں آبادی میں اضافے کے باوجود ۶۶فی صد کم عورتیں شادی کررہی ہیں۔ شادی کی عمر والے افراد میں صرف ۲۵ فی صد امریکی ہی رشتہ ازدواج میں بندھے ہوئے ہیں۔ تقریباً آدھی آبادی  ’خاندانی غلامی‘ سے ’آزاد‘ ہے۔ ۲۵فی صد بچے ’اکیلی ماں‘ کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ان میں سے اکثر کے باپ کا تعین ممکن ہی نہیں ہے۔دوتہائی امریکی آبادی یہ تسلیم کرتی ہے کہ دو مرد یا دو عورتیں مل کر بھی فیملی بناسکتے ہیں اور بچوں کی پرورش کرسکتے ہیں۔۳۹ فی صد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ’’اب خاندان کا ادارہ اذکارِرفتہ (out date) اور متروک ہوتا جارہا ہے‘‘(تفصیلات دیکھیے: پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹThe Decline of Marriage and Rise of New Families)۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ اب مغربی معاشروں میں یہ احساس بھی بڑھتا جارہا ہے کہ ’’خاندان کا تحفظ نہایت ضروری ہے اور خاندان کا بحران ایک بڑا سماجی بحران ہے‘‘۔محولہ بالا سروے میں ۹۶ فی صد امریکیوں نے کہا کہ ’’خاندان کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت ہے۔ قدروں کے عالمی سروے (World Values Survey) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری مغربی دنیا میں اب بہت بھاری اکثریت خاندان کی ضرورت او راہمیت کو محسوس کرنے لگی ہے۔ ایسا سوچنے والوں کی تعداد سال بہ سال بڑھتی جارہی ہے۔

چنانچہ اب امریکا کے صدارتی انتخابات میں جن موضوعات پر بحثیں ہوتی ہیں ان میں خاندان اور خاندانی قدروں کا موضوع بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یورپ کے کئی ملکوں میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں تو ایک سیاسی جماعت اسی نعرہ کے ساتھ وجود میں آئی تھی اور اس کا نام ہی ’فیملی فرسٹ پارٹی‘ تھا۔ اسی نام سے یہ پارٹی گذشتہ پندرہ سالوں سے الیکشن لڑتی رہی اور اپنے نمایندوں کو منتخب کراتی رہی۔ تاہم اپریل ۲۰۱۷ء میں یہ پارٹی ایک اور پارٹی میں ضم ہوگئی۔

        امریکا کا مشہور دانش ور فرانسس فوکویاما، ملک کی ترقی حتیٰ کہ معاشی ترقی کے لیے بھی ایک چیز کو ضروری قرار دیتا ہے، اور اس کو وہ سماجی سرمایہ (Social Capital) قرار دیتا ہے۔ اس سرمایہ کی ضرورتوں میں خاندانی قدروں کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

مختصر یہ کہ اب مغرب کا انسان خاندانی ادارے کے انتشار سے تنگ آچکا ہے اور چاہتا ہے کہ مضبوط خاندان کی بنیادیں دوبارہ بحال ہوں، لیکن جو طرز زندگی، جو اخلاقی تصورات اور جو سماجی روایات اب وہاں عام ہوچکی ہیں، ان کے پیش نظر اب واپسی کا امکان باقی نہیں رہا۔

اب یہ مریضانہ معاملہ صرف مغربی معاشروں تک محدود نہیں ہے۔ جاپان میں گذشتہ عشرے میں طلاق کی شرح میں ۶۶فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اور وہاں کے مزدوروں میں ’اکیلی ماں‘ کا تناسب ۸۵فی صد ہے۔چین میں بھی خاندانی نظام تیزی سے زوال کا شکار ہے۔چلی میں ۷۰فی صد اور میکسیکو میں ۶۸فی صد بچے غیر شادی شدہ پیدا ہوئے ہیں۔ یہی صورت حال اسٹونیا، بلغاریہ جیسے ملکوں کی ہے۔ بھارت کے شہری علاقوں میں بھی ہم جنس خاندانوں اور طلاق کی شرح تیزی سے ’ترقی کی منازل‘ طے کررہی ہے۔

اس طرح سنجیدہ جائزہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ خاندان کا نظام، مغربی دنیا میں زوال پذیر ہونے کے بعد اب تیزی سے مشرقی معاشروں میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ دوسری طرف جدید سرمایہ دارانہ استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے عورت کا بدترین استحصال کیا ہے۔ یہ صورت حال بھی اب ساری دنیا میں تیزی سے عام ہوتی جارہی ہے۔اور مشرقی معاشروں میں عورت کا روایتی کردار پامال ہورہا ہے۔جدید عورت کو اب یہ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ عورت کے وجود کے تحفظ کا اب آخری قلعہ اسلام ہی باقی رہ گیا ہے۔

       اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی قدریں، سماجی اور تاریخی روایات کی ناپائیدار بنیادوں پر نہیں کھڑی ہوئی ہیں۔ اسلام کی قدروں کی بنیاد نہایت مستحکم عقائد پر رکھی گئی ہے۔ ایک مسلمان معاشرہ خاندانی زندگی کی قدروں اور عورت کے نسوانی کردار کا تحفظ کرتا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس معاشرے کی قدیم روایتیں اس کا تقاضا کرتی ہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ معاشرہ اس پر پختہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ خدا کے احکا مات میں شامل ہیں، جن میں تبدیلی کا اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔یہ پختہ ایمان ہی اُس بلاخیز طوفان کا مقابلہ کرسکتا ہے جو جدید مغرب کی دانش گاہوں سے اٹھا اور اب ساری دنیا کے سماجی اور خانگی ڈھانچوں کو ملیامیٹ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ خاندان اور عورت کے نسوانی وجود کی آخری پناہ گاہ، اسلام ہی ہے۔

اسلام کی یہ خصوصیت بہت سے لوگوں کے لیے زبردست کشش کا باعث ہے تو اسلام مخالف طاقتوں کے لیے اسلام سے خوف کا بھی ایک اہم سبب ہے۔مشہور نومسلم دانش ور مراد ولفریڈ ہوف مین نے اپنی کتاب Religion on the Rising:Islam in the Third Millennium میں بہت تفصیل سے واضح کیا ہے کہ ’’خاندانی نظام اور خاندانی قدریں، اسلام کی بہت بڑی قوت ہیں اور مستقبل میں یہ مغربی دنیا میں اسلام کے لیے بہت بڑی کشش پیدا کریں گی‘‘۔

ایک مشہور فیمی نسٹ دانش ور تھیریسا کوربن نے اسلام قبول کرکے حجاب اختیار کرلیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ ’’حجاب تو استحصال اور ظلم کی علامت ہے‘‘ جس کا تھریسا نے دل چسپ جواب دیا: ’’ہاں، میں اسکارف پہنتی ہوں۔میرا اسکارف پشت پر میرے ہاتھ نہیں باندھتا۔ یہ کیسے میرے استحصال کا ذریعہ ہوسکتا ہے؟میرا اسکارف نہ دماغ میں خیالات کے داخلے میں کوئی رکاوٹ بنتا ہے اور نہ منہ سے اس کے اظہار کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ آج مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں ماضی میں کچھ ایسا ہی سمجھتی تھی۔میرا اسکارف البتہ مردوں کی ان ہوسناک نظروں کی راہ میں ضرور رکاوٹ بنتا ہے، جو عورت کے استحصال کی پہلی سیڑھی ہیں۔ یہ مجھے تحفظ اور احترام و عزّت عطا کرتا ہے… بلاشبہہ اسلام فیمی نسٹ تصورات سے ہم آہنگ نہیں ہے، لیکن فیمی نسٹ آئیڈیلز کی تکمیل کہیں ہوسکتی ہے تووہ صرف اسلام ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ عورت کے وقار کی بحالی، تحفظ اور مقام‘‘۔

یہ صرف تھریسا کوربن کا ہی خیال نہیں ہے۔سفید فام عورتوں میں اب یہ تصور بہت تیزی سے عام ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ میں لگ بھگ ۵۰ہزار سفید فام برطانو ی ہر سال اسلام کی آغوش میں آتے ہیں۔ ان میں ۷۰فی صد خواتین ہوتی ہیں۔ ٹونی بلیر کی نسبتی بہن لارن بوتھ، بی بی سی کی نامہ نگار ایوان ریڈلی اور ایم ٹی کی میزبان کرسٹینا بیکر وغیرہ جیسی مشہور عورتیں بھی ان میں شامل ہیں۔چند سال پہلے کیمرج یونی ورسٹی کے سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز نے ایک دلچسپ مطالعہ کیا تھا۔ اس نے نومسلم برطانوی خواتین سے یہ وجہ جاننے کی کوشش کی کہ انھوں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ اس مطالعے کے سربراہ پروفیسر یاسر سلیمان نے برطانوی اخبار آبزرور کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:

ہم جدیدیت کے زمانے میں ہیں۔ہماری زندگیوں کا غالب ڈھانچا سیکولر ہے۔ اور اس میں اسلام کوایسے مذہب کے روپ میں دیکھا اور دکھایا جاتا ہے، جو نہایت ظالم، پرتشدداور جدید دنیا کے عقلیت پسند رویے سے غیر ہم آہنگ ہے۔ اس کے باوجود ہرسال کچھ انتہائی ذہین، کامیاب اور دل چسپ لوگ اسلام کے عقیدے میں اپنی الجھنوں اور سوالوں کا جواب پاتے ہیں اور اسلام کی آغوش میں پناہ حاصل کرتے ہیں۔ سوال کی وجہ تلاش کرنا اس مطالعے کا ایک اہم مقصد ہے۔

چنانچہ یہ تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ مکمل ہوا اور مارچ ۲۰۱۳ء میں اس کی تہلکہ خیز رپورٹ Female Perspective: Narratives of Conversion to Islamکے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں اُن اعلی تعلیم یافتہ خواتین نے قبول اسلام کے جو اسباب بیان کیے، ا ن میں سے بیش تر کا تعلق عورت اور خاندان سے متعلق اسلام کی تعلیمات سے ہے۔ مثال کے طور پر کئی خواتین نے اسلام میں نکاح کے تصور اور بیوی کے مقام و مرتبے کو قبولِ اسلام کا ایک اہم سبب گردانا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان فرائض و اختیارات کی تقسیم نے کئی خواتین کو اپیل کیا۔بعض خواتین حجاب کے تصور سے متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب ہی اصل فیمی نسٹ علامت ہے۔ اس لیے کہ اس سے نسوانی شخصیت کا باعزّت اظہار ہوتا ہے اور معاشرہ جس طرح عورت کو جنسی علامت بنادیتا ہے، اس کا رد ہوتا ہے۔ شوہر بیوی کے حقوق کا تصور، شوہر کی خانگی ذمہ داریوں کی تفصیلات وغیرہ نے بھی کئی خواتین کو متاثر کیا۔ حیرت انگیز طور پر ان جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز عورتوں میں ایسی عورتیں بھی تھیں، جنھیں اسلام کے تعدد ازدواج کے اصول نے متاثر کیا۔ایک خاتون نے کہا ، ’’شوہر کی دوسری بیوی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی خاندانی اور ازدواجی ذمہ داریاں آدھی ہوگئیں،جب کہ حقوق میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔میرے خیال میں یہ سودا تو عورت کے حق ہی میں ہے‘‘۔

دوسری طرف اسلام کے مخالفین، اسلام کی خاندانی زندگی کو اسلام سے خوف زدہ کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام کی ایسی طاقت ہے جس کا کوئی توڑ ان کے پاس نہیں ہے۔ڈیوڈ سیلبورن (David Selbourne)ایک مشہور ’اسلاموفوبک‘ [یعنی ’اسلام سے خوف زدہ کرنے والے‘] مصنّف ہے، اس کی کتاب Losing Battle with Islam  (اسلام سے ہاری ہوئی جنگ ) بہت مشہور ہوئی۔ اس نے دس اسباب گنائے ہیں، جن کی وجہ سے اس کے خیال میں اسلام سے جنگ جیتنا امریکا اور مغرب کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان میں ساتواں سبب امریکا کا اخلاقی افلاس، قدروں کا بحران اور اس کے مقابلے میں اسلام کا نہایت مستحکم اخلاقی نظام ہے۔ جب وہ قدروں کی بات کرتا ہے توخاص طور پر خاندانی قدروں کو اسلام کی بڑی قوت قراردیتا ہے۔

اس بحث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا خاندانی نظام، اور عورت کو اسلام میں دیا گیا مقام، اُن امور میں شامل ہے، جن کی وجہ سے اسلام میں جدید دور کے لوگوں کو کشش محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی مخالف طاقتوں کا ایک اہم ہدف مسلمان عورت اور اسلامی خاندان ہے۔

آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے حوالے سے جو کوششیں ہورہی ہیں، ان میں ایک اہم کوشش یہ ہے کہ مسلمان شریعت اور شریعت کے خانگی قوانین سے دست بردار ہوجائیں، یا ان میں ’اصلاحات‘ کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے اس عظیم اثاثے کی حفاظت کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ اسلام کے نظام رحمت کی عملی شہادت کا ذریعہ بنائیں۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم خاندان کے وجود کے زبردست وکیل اور عالمی سطح پر خاندان کے طاقت ور نگہبان کے طور پر سامنے آئیں۔ خاندان کی اہمیت پر بحث میں پرزور حصہ لیں۔ کسی تذبذب اور مداہنت کے بغیر اسلام کے عائلی اور خانگی احکام کی برکتوں کو اجاگر کریں۔

اس بات کو مستحکم سائنسی اور سماجی دلائل سے ثابت کیا جائے کہ خاندان انسانی معاشرے کی ضرورت ہے اور یہ کہ خاندان کے وجود کے لیے مردو عورت کے مخصوص صنفی و سماجی کرداروں کو تسلیم کیا جائے اور اس بنیاد پر قانونی طور پر تسلیم شدہ مرد ’شوہر‘ اور عورت ’بیوی‘ مل کر اپنے بچوں کی پرورش کریں___ نام نہاد غیر روایتی خاندان سے خاندان کاکوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔اور خاندان کی بقا کا کوئی راستہ اسلامی اخلاقیات کے سوا ممکن نہیںہے۔پھر اس بات کی زبانی شہادت کے ساتھ ساتھ عملی شہادت بھی دیں، جو اسی وقت ممکن ہے، جب ہمارے خاندانوں میں اسلامی احکام نافذ ہوں اور ہمارے خاندان، اسلام کی رحمتوں اور ثمرات کے عملی نمونے بن جائیں۔

خاندان اور اس کے تصورات

جدیدیت اور اسلام کے تصوراتِ زندگی میں جو فرق ہے، ان میں ایک نمایاں فرق خاندان کے ادارے کے حوالے سے ہے۔ اسلام، خاندان کے ادارے کو اہمیت دیتا ہے۔صنفی عدل کے حوالے سے اسلام کے اور جدید نسائی تحریکات (Feminist Movement)کے تصورات میں جو اصل فرق ہے، اس کا تعلق درج ذیل تین سوالات سے ہے:

       ۱-    مرد اور عورت مل کر ایک خاندان بنائیں، کیا یہ ایک تمدنی ضرورت ہے؟ کیا بچوں کا یہ حق ہے یا نہیں کہ انھیں پرورش کے لیے ایک شفیق خاندان کا آسرا میسرہو؟

       ۲-    کیا خواتین کا علیحدہ تشخص ہے یا نہیں؟ کیا صنفی فرق صرف جسمانی ساخت کا فرق ہے یا سماجی اور نفسیاتی سطحوں پر بھی مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ یعنی کیا دونوںکی صورت حا ل ایک جیسی ہے یا الگ الگ ہے؟

       ۳-    اگر خاندان کی ضرورت ہے تو وہ کیسے چلے؟ اس میں مرد اور عورت کا الگ الگ کردار اور ذمہ داریاں ہوں یا نہ ہوں؟ کیا مرد اور عورت کے الگ الگ کردار، مصنوعی طور پر معاشرے کے پیدا کردہ ہیں یا فطری حقائق کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں؟

 بہت سے فیمی نسٹ ان سوالوں کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خاندان ایک ’پدرشاہی‘( Patriarchal)ادارہ ہے۔ اس لیے مساوات کا تقاضا ہے کہ اسے ختم کردیا جائے۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق صرف حیاتیاتی ہے، اور یہ حیاتیاتی فرق بھی ختم ہونا چاہیے‘‘۔ مشہور فرانسیسی فیمی نسٹ سیمون ڈی بوایر اپنی کتاب The Second Sex [دوسری جنس] میں عورت کے جسم اور اس کے حیاتیاتی وجود ہی کو ’’عورت کے ساتھ ناانصافی قراردیتی ہے‘‘۔ اس کے بقول چونکہ تولید کے عمل میں جن مشقتوں سے عورت کو گزرنا پڑتا ہے، اُن سے مرد نہیں گزرتا۔ اس میں مساوات کے لیے ضروری ہے کہ اس حیاتیاتی رکاوٹ پر قابو پایا جائے۔ حقیقی انصاف اس وقت ہوگا جب افراد کو اپنی جنس منتخب کرنے کا حق حاصل ہو‘‘۔

 ان معاشروں کے نزدیک: ’’ مردوں اور عورتوں کے الگ الگ سماجی رول، روایتی معاشروں کے پیدا کردہ ہیں اور روایتی سماجوں میں ہمیشہ مردوں کا تسلط رہا ہے۔ اس لیے عورتوں کے استحصال کے لیے انھوں نے یہ تصورات گھڑ رکھے ہیں۔ اول تو خاندان ضروری نہیں ہے، لیکن اگر مرد اور عورت مل کر ہی خاندان بنائیں تو اس میں مرد کا الگ رول اور عورت کا الگ رول ضروری نہیں۔ ہرکام جو مرد کرسکتا ہے، وہ عورت بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے سماج کا پیدا کردہ ہر فرق ختم ہونا چاہیے۔ ان افکار کے نتیجے میں تشکیل پانے والا تصور یقینا اس تصور سے مختلف ہوگا جو خاندان کے ادارہ کی اہمیت اور اس کے لازمی اور فطری تقاضوں کے شعور کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے۔ ان ’نسائی تصورات‘ نے مغربی معاشروں میں عورتوں اور مردوں کے درمیان بظاہر غیر فطری مساوات تو قائم کردی، لیکن خاندان اور خود عورت کی ذات کو اس کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصانات اب بہت واضح بھی ہوچکے ہیں۔

صنفی رول اورخاندان

اسلام کے مطابق مرد اور عورت کو اللہ نے الگ الگ سماجی کردار ادا کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ دونوں اصناف سماجی حیثیت کے لحاظ سے یقیناً برابر ہیں، لیکن ان کے جسم ، نفسیات اور معاشرتی کرداراور ذمہ داریوں میں فرق ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے تکمیل کنندہ (complementary) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حیاتیاتی لحاظ سے بھی اور معاشرتی لحاظ سے بھی۔ مردعورت کے بغیر نامکمل ہے اور عورت مرد کے بغیر۔ اللہ نے ان کے درمیان حیاتیاتی فرق پیدا کیا ہے ، اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان دونوں سے الگ الگ حیاتیاتی کردار اور ذمے داریاں بھی متوقع ہیں۔

نہ مرد اکیلے بچے پیدا کرسکتا ہے اور نہ بچوں کی پیدائش میں وہ کردار ادا کرسکتا ہے جو عورت کے لیے مخصوص ہے۔اسی سے خود بخود سماجی فرق واقع ہوجاتے ہیں۔ بچوں کی پرورش میں بھی بعض کردار ایک عورت ہی ادا کرسکتی ہے، مرد ادا نہیں کرسکتا۔ ماں کی کوکھ سے پیدا ہونے کی وجہ سے اور اس کا دودھ پینے کی وجہ سے جو ُانس اور قربت بچے ماں کے تئیں محسوس کرتے ہیں، وہ باپ سے نہیں کرتے۔بچوں کے باپ سے تعلق اور محبت کی نوعیت اور ماں سے تعلق کی نوعیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان فطرت نے صرف جسمانی فرق نہیں رکھے بلکہ مزاج اور نفسیات کے بھی واضح فرق رکھے ہیں۔ عام طور پر ایک مرد، عورت سے زیادہ جسمانی طاقت رکھتا ہے۔ عام طور پر شیر خوار لڑکے بھی ٹرک اور کار کے کھلونے اٹھاتے ہیں اور شیرخوار لڑکیاں، گڑیاں اٹھاتی ہیں۔ اسکول میں لڑکے کچھ اور مضامین میں اچھے ہوتے ہیں اور لڑکیاں کچھ دوسرے مضامین میں۔ ان کے دماغ واضح طور پر ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ یہ سب حقائق اس بات کی دلیل ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں معاشرتی کردار کے اعتبار سے بھی فرق ہے۔

جدید فیمی نسٹ تصور میں اور اسلام میں اصل فرق یہی ہے کہ اسلام کے نزدیک ’’خاندان ایک بڑی انسانی ضرورت ہے اور اس ادارہ کا تحفظ ہونا چاہیے۔ خاندان کے اس ادارہ کے تحفظ کا فطری طریقہ یہی ہے کہ مرد اور عور ت اپنے فطری دائروں میں اپنے اپنے رول ادا کریں۔دونوں کے رول چونکہ الگ الگ ہیں، اس لیے اس حوالے سے انصاف کے تقاضوں میں کچھ نہ کچھ فرق ہوگا۔ کچھ خصوصی مراعات عورت کو اس کردار کی وجہ سے حاصل ہوں گی تو کچھ اضافی اختیارات مرد کو اس کے رول کی وجہ سے۔ ماں کے حقوق باپ سے زیادہ ہیں۔ بیوی کو خصوصی معاشی مراعات حاصل ہیں۔ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کی پرورش کا زیادہ ثواب ہے۔دوسری طرف مرد کو  قوام کی حیثیت میں بعض اضافی اختیارات حاصل ہیں۔ اس فرق کا مقصد یہ ہے کہ دونوں اصناف اپنے اپنے دائروں میں اپنے تمدنی فرائض بہتر انجام دے سکیں اور اس کے نتیجے میں ایک خوش حال خاندان اور ایک خوش حال معاشرہ وجود میں آسکے‘‘___اسلام میں صنفی عدل کے تصور کو سمجھنے کے لیے ان بنیادی تصورات کو سمجھنا ضروری ہے اور اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو خاندان کے سلسلہ میں اسلام کے وژن میں اور جدید فیمنسٹ وژن میں پایا جاتا ہے۔

چونکہ اسلام کے نزدیک خاندان، معاشرے اور تمدن کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس ضرورت کی تکمیل کے لیے اس نے مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض میں بعض فرق رکھے ہیں۔ پیدایش و رضاعت کی اہم تمدنی ضرورت کی تکمیل کے لیے عورت کو پُرمشقت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ فرق کسی معاشرے کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ فطری ہے۔ بچوں کی یہ ضرورت ہے اور ان کا حق ہے کہ ان کی پرورش ماں کے شفیق آنچل کے زیر سایہ ہو۔ماں سے جو قربت وہ محسوس کرتے ہیں اور جس طرح اس کا اثر قبول کرتے ہیں، اس کاتقاضا ہے کہ ان کی شخصیت ساز ی میں وہ اہم رول ادا کرے۔ خاندان کی اہم اکائی اور ادارہ کا نظم و انتظام بھی وقت اور توجہ چاہتا ہے۔ان سب ضرورتوں کی تکمیل کا کام اسلام نے عورت کے سپرد کیا ہے۔

ان کاموں میں اور اس کی جسمانی و نفسیاتی خصوصیات میں گہری مطابقت ہے ۔ یہ مطابقت سماجی اور تاریخی عوامل کی پیدا کردہ نہیں ہے، بلکہ فطرت کی پیدا کردہ ہے۔چنانچہ اسلام نے ان فرائض کی انجام دہی کے لیے عورت کو معاشی ذمہ داریوں سے فارغ رکھا ہے۔ خاندان کی کفالت شوہر کے ذمے ہے۔ بیوی اگر مال دار ہو تب بھی اس کی کفالت شوہر ہی کے ذمے ہے۔ مالی ضروریات کی تکمیل کے علاوہ بیوی کا تحفظ اور اس کی دل جوئی بھی شوہر کی ذمہ داری ہے۔ قوّام کی حیثیت سے اس کا یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ خاندان کی تمام ذمہ داری قبول کرے اور اسے ادا کرے۔اسلام نے عورت کو معاشی مصروفیت سے منع نہیں کیا، بلکہ اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اور شریعت کے حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے، وہ معاشی مصروفیت بھی اختیار کرسکتی ہے، لیکن یہ اس کی بنیادی ذمہ داری نہیں ہے۔اس طرح اسلام کی خاندانی اسکیم میں معاشرے اور تمدن کی اہم ضروریات کا لحاظ بھی ہے اور مرد ، عورت اور بچوں کے ساتھ مکمل انصاف بھی۔

صنف کی بنیاد پریہ تقسیمِ کار، مغرب زدہ خواتین کو اس لیے کھٹکتی ہے کہ فیمی نسٹ تصورات کی ایک اہم بنیاد نسوانی شخصیت اور نسوانی رول کا استخفاف ہے۔ان کے نزدیک ہوائی جہاز میں مسافروں کی خدمت اور دفاتر استقبالیہ پر مہمانوں کی دل جوئی تو قابل احترام مصروفیت ہے، لیکن نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور خاندان جیسے بنیادی ادارے کا نظم و انصرام کوئی بڑا حقیر کام ہے۔ان تصورات نے عورت کے تشخص ، اس کے جذبات و نفسیات اور اس کے کردار کی قدر و منزلت کو اتنا گھٹا دیا کہ عورت اپنے عورت پن پر شرمندگی محسوس کرنے لگی۔ اسلام نے عورت ہی کو نہیں اس کے نسوانی وجود کو عزت و احترام بخشا ہے۔ اسلام میں عورت کو سماج میں قدر و منزلت حاصل کرنے کے لیے مرد بننا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا خاندان کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ اسلام کا نہایت معتدل نقطۂ نظر عام کیا جائے۔

اس سوال کا جواب، مولانا کی چند تقریروں اور گفتگوؤں سے مرتب کیا گیا ہے۔ ادارہ

مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ سے ایک سوال جو باربار کیاجاتا رہا، وہ ہے ملکِ عزیز پاکستان کے مستقبل کا سوال۔الفاظ کے تھوڑ ے بہت فرق کے ساتھ یہ سوال عام جلسوں میں بھی ان کے سامنے پیش کیا گیا، پریس کانفرنسوں میں بھی اُٹھایا گیا، طلبہ نے بھی یہ بات پوچھی، اور کارکن بھی اسے لے کر ان کے پاس باربار آئے۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین گوشہ ہے کہ جب بھی یہ سوال اُٹھا، لوگ اس کا جواب حاصل کرنے کے لیے مولانامودودیؒ کے پاس ان کی رہایش گاہ ۵-اے ذیلدار پارک پر پہنچے اور زندگی کا پیغام اور زندگی کی اُمنگ لے کر واپس لَوٹے۔

مولاناؒ نے ایسے ہرموقعے پر ایک بات کہی:

’مستقبل کا سوال تو جدوجہد کا سوال ہے۔ یہ عزم اور عمل کا مسئلہ ہے، پیش گوئیوں کا نہیں‘۔

ایک اور موقعے پر مولانا محترمؒ نے فرمایا:

’مستقبل کے بارے میں صرف سوال نہ کیجیے۔ مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیجیے۔ فیصلہ یہ کیجیے کہ بحیثیت مسلمان، آپ اس ملک کا کیا مستقبل چاہتے ہیں؟‘

اسی طرح ایک سوال کے جواب میں ایک اور مرحلے پریہ فرمایا:

’آج بھی اگر کسی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیےکام کرنے کی سب سے زیادہ گنجایش ہے تو وہ ہمارا یہی ملک ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس دن کے لیے ہم کام کررہے ہیں وہ دن ہماری زندگی میں نہ آئے، لیکن وہ ان شاء اللہ اس ملک میں آئے گا ضرور‘۔

۱۹۷۱ء کے بعد تو یہ سوال اتنی مرتبہ پوچھا گیا کہ ایک موقعے پرمولانا محترم ؒ نے فرمایا:

’میں جہاں بھی گیا ہوں، لوگوں نے یہ سوال پوچھا ہے___ کسی ملک کے حکمرانوں کی اس سے زیادہ نالائقی کوئی اور ہو نہیں سکتی کہ ملک کے رہنے والوں کے ذہنوں میں ملک کے مستقبل سے متعلق ایسے سوالات پیدا ہونے لگیں‘۔

سقوطِ مشرقی پاکستان، ۱۶دسمبر۱۹۷۱ء سے ۲۰ برس پہلے۱۰نومبر ۱۹۵۱ء کو کراچی کی ککری گرائونڈ میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ نے فرمایا:

’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں علانیہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی ہورہی ہے اورفرنگیت اورفسق وفجور کی رَو بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام   آج بھی بے بس ہے … یہ سب کچھ اُن مقاصد کے بالکل خلاف ہے، جن کا نام لے کر پاکستان مانگا گیا تھا، اور جن کے اظہارواعلان ہی کے طفیل، اللہ تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں بخشا تھا۔ کہا یہ گیا تھا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین اس لیے درکارہے کہ اس میں ہم مسلمان کی سی زندگی بسرکرسکیں، اور اسلام کی بنیادوں پر خود اپنے ایک تمدن اوراپنی ایک تہذیب کی عمارت اُٹھا سکیں۔ مگرجب خدا نے وہ خطّہ دےدیا، تو اب کیا یہ جارہا ہے کہ اسلام کے رہے سہے آثار بھی مٹائے جارہے ہیں، اور اُس تہذیب، اخلاق اور تمدن کی عمارت مکمل کی جارہی ہے، جس کی نیو یہاں انگریز رکھ گیا تھا۔

اس صورتِ حال کو ہم جس وجہ سے خطرہ نمبرایک سمجھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ صریح طورپر خدا کے غضب کو دعوت دینے کے ہم معنی ہے۔ ہم ہرگز یہ توقع نہیں کر سکتے کہ اپنے ربّ کی کھلی کھلی نافرمانیاں کرکے ہم اس کی رحمت اور نصرت کے مستحق بن سکیں گے۔

 اس میں خطر ے کایہ پہلو بھی ہے کہ پاکستان کے عناصر ترکیبی میں نسل،زبان،جغرافیہ، کوئی چیز بھی مشترک نہیں ہے۔ صرف ایک دینِ اسلام ہے، جس نے ان عناصر کو جوڑکر ایک ملّت بنایاہے۔ دین کی جڑیں یہاں جتنی مضبوط ہوں گی، اتنا ہی پاکستان مضبوط ہوگا۔ اور وہ جتنی کمزور ہوں گی، اتنا ہی پاکستان کمزور ہوگا۔ اس میںخطرے کا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے ہاں جتنی زیادہ بڑھے گی، ہماری قوم میں منافقت، اورعقیدہ و عمل کے تضاد کی بیماری بڑھتی چلی جائے گی‘۔

ایک موقعے پر جب یہ سوال ان کے سامنے آیا: ’’مولانا، وطنِ عزیز کے حالات دیکھ کر باربار یہ خیال آتا ہے کہ آخر اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟ بعض اوقات تو شدت کے ساتھ مستقبل کے تاریک ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ کیا آپ اس سلسلے میں کچھ ارشاد فرمائیں گے؟‘‘

اس مرحلے پر مولانا مودودی نے صحت کی کمزوری کے باوجود سوال کا مفصل جواب دیتے ہوئے فرمایا:

’یہ احساس جو کچھ عرصے سے لوگوں میں پیدا ہوا ہے کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟ درحقیقت دیکھنے والوں کے سامنے یہ سوال پہلے دن سے موجود تھا۔ برسوں سے پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا کام ہورہا ہے۔ آخرکار اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بچہ بچہ تشویش میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اس ملک کے ٹکڑے اُڑانے کا برسوں سے سامان کیاجارہا تھا، ا ور جب وہ [دسمبر ۱۹۷۱ء میں] دو ٹکڑے ہوگیا، تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ حالانکہ دیکھنے والے دیکھ رہے تھے اور قدم قدم پر سمجھا رہےتھے کہ کون سا راستہ تباہی کا راستہ ہے اور کس راہ پر چل کر اس ملک کو ایک مثالی ملک بنایا جاسکتا ہے‘۔

ہلکے سے توقف کےساتھ سلسلۂ کلام کو جوڑتے ہوئے فرمایا:

’آج یہ سوال سب کی زبان پر ہے کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟‘___ میرا کام مستقبل کی پیش گوئیاں کرنا نہیں ہے۔ مجھے آپ سے صرف یہ کہنا ہے کہ اگر آپ کو اس ملک کا مستقبل عزیزہے تو پھراس بات پر ڈٹ جایئے کہ اس کے مستقبل کو تاریک نہیں ہونے دیں گے‘۔

’فی الحقیقت اس ملک کا مستقبل اس کے وجودمیں آنے کے بعد سے ایک ہی چیز پر منحصر تھا،اوروہ یہ کہ اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ اس ملک کو حاصل کرتے ہوئے کیا گیا تھا، اس کو ایمان داری کے ساتھ پورا کیا جائے:

  • تحریک پاکستان کی جدوجہد کے دوران واضح طور پر اور باربار یہ کہا گیا تھا کہ ’’ہم اس سرزمین کو اسلام کے نظام کے لیےحاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ’’ہمیں یہاں اسلام کاقانون نافذ کرنا ہے‘‘۔
  • یہ اقرارکیا گیا تھا کہ ’’یہاں اسلامی تہذیب کو زندہ کیا جائے گا‘‘۔
  • یہ عہد کیا گیا تھا کہ ’’ہم پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے ایک مثالی اسلامی مملکت بناکرپیش کریںگے‘‘۔

یہی وعدے تھے جن کی بناپراللہ تعالیٰ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہوئی اورانھی وعدوں کی وجہ سے بالکل ایک معجزاتی کےطور پر پاکستان وجود میں آیا۔ ورنہ ۱۹۴۷ء کے آغاز تک بھی اس کی توقعات پیدا نہیں ہوسکی تھیں کہ پاکستان بن جائے گا۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرنے پایا تھا کہ ان وعدوں کو فراموش کرنا شروع کر دیا گیا۔ وہ عہد جو خدا سے باندھا گیا تھا، اس کو توڑنے لگے اور یہ بات بالکل بھلا دی گئی کہ خداسے بدعہدی کرکے، خدا سے بے وفائی کرکے، اور خدا کی نافرمانی کرکے، مسلمان سربلند نہیں ہوسکتا۔ جب ایسی بدعہدی کرکے کوئی دوسرا اس کی سزا پائے بغیر نہیں رہاہے، تو آخر ہم بدعہدی کرکے کیسے سزا سے بچ سکتے تھے!‘

پھر کس قدرواضح اور سچی حقیقت کا یہ بیان تھا، جب مولانا محترمؒ نے فرمایا:

’اب اگر اس ملک کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے تواچھی طرح جان لیجیے کہ اسی عہد کو پورا کرکے ہوسکتا ہے۔ یاد رکھیے، اس عہد کی خلاف ورزی جب تک ہوتی رہے گی، مستقبل تاریک ہوتا رہے گا اور جتنا زیادہ اس سے انحراف کیا جائے گا، اتنا ہی زیادہ یہ تاریک ہوتا چلا جائے گا‘۔

’پاکستان بناتے وقت آخر کس نے کہا تھا کہ ہمیں بلوچ، بنگالی یا پنجابی کی حیثیت سے آزادی مطلوب ہے؟ یا ہم پٹھان یا سندھی کی حیثیت سے آزاد ہونا چاہتے ہیں؟ یقینا کسی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی، اور ایسی کسی بات کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سب مسلمان بن کر اُٹھے تھے۔ مسلمان بن کر اور ایک مسلم ملّت کی بنیاد پرانھوں نے اس مملکت کی بناڈالی۔ لیکن اس کے بعد کوششیں شروع ہوگئیں کہ مسلمان اسلام کے نام پر جمع نہ رہیں، بلکہ انھیں بنگالی، پنجابی،بلوچ، پٹھان اور سندھی کی بنیاد پر تقسیم کردیا جائے۔

’آج بچ جانے والے پاکستان میں چارقومیتوں کے نعرے بلند کیے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف ایک صوبے ہی کو دیکھیے کہ ’صوبہ بلوچستان میں پٹھان بھی آباد ہیں، بلوچ بھی ہیں ،کرد بھی ہیں، بروہی اور سندھی بھی۔ اگر اسی طرح قومیت کے نعرے بلند ہوتے رہیں، تو اس ایک صوبہ بلوچستان ہی کے بھی چار پانچ بلوچستان بن جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے صوبوں کا ہے۔

اسی لیے میں آپ سے کہتا ہوں کہ مستقبل کے متعلق کچھ پوچھنے کے بجائے آپ یہ فیصلہ کیجیے کہ جو تاریک مستقبل بنایا جارہا ہے، اسے ہرگز تاریک نہیں بننےدینا ہے۔ ہمیں اس ملک کا وہ مستقبل تعمیر کرنا ہے، جو ایک مسلمان قوم کا مستقبل ہونا چاہیے۔ ملک کے مستقبل کا سوال تو جدوجہد کا سوال ہے۔ یہ عزم اور عمل کا مسئلہ ہے، پیش گوئیوں کا نہیں‘۔

یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پرقائد اعظم ؒنے اپنی زندگی کی آخری تقریرفرمائی تھی،جس میںانھوں نے ملک میںمغرب کے ُسودی نظام کی جگہ اسلامی معاشی نظام کونا فذکرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:

I shall watch with keenness the work of your Research Organisation in evolving  banking practices compatible with Islamic Ideals of social and economic life. The economic system of the West has created almost insoluble problems for humanity and to many of us it appears that only a miracle can save it from disaster that is now facing the world.

میں انتہائی توجہ سے آپ کے تحقیقی ادارے کے کام کا جائزہ لیتا رہوں گا ،جو وہ بنکاری نظام کو اسلام کے معاشرتی اورمعاشی اصولوں پرترتیب دینے میں سرانجام دے گا۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے ایسے لاینحل مسائل پیدا کردیے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو نظر آتاہے کہ آج کی دنیا کو جس تباہی کا سامنا ہے، کوئی کرشمہ ہی اس سے بچا سکتا ہے ۔

اسی خطاب میںقائد محترم نے اہل پاکستان کو دنیا کی رہنمائی کرنے کی طرف بھی ان الفاظ میں متوجہ کیا تھا: ’’مغرب کے اقتصادی نظام کے نظری اور عملی طریق کارکو اختیار کرنا ہمارے لیے بے سود ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک نئی راہ ِ عمل اختیار کریں اوردنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کریں، جو انسانی اخوت اور سماجی انصاف کے صحیح اسلامی نظریات پرمبنی ہو‘‘۔

۱۲مارچ ۱۹۴۹ءکوجب قرارداد مقاصد کی منظوری دی گئی،تو دراصل یہ پاکستان سے سُود سمیت مغرب کے تمام اسلام دشمن نشانات کو ختم کرنے کا آغاز تھا۔۲مارچ۱۹۸۵ ء کے بعد تو یہ قرارداد دستور کا رُوبہ عمل جزو بنا دی گئی ہے۔بدقسمتی سے قائد اعظم ؒ قیام پاکستان کے بعدصرف تیرہ ماہ زندہ رہے۔بانیٔ پاکستان کی وفات سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ان کے مقتدر رفقا نے بعض صورتوں میں گومگو کی کیفیت میں، بعض حوالوں سے دانستہ طور پر ملک کو ان کے نظریات سے کاٹ دیا۔

اللہ اور رسولؐ کے خلاف جنگ

 گذشتہ پون صدی سے سود کے خلاف یہ جنگ مسلسل جاری ہے،مگر ہماری بے بسی اور کج فہمی دیکھیں ،پھر بھی اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’پاکستانی عوام تباہ حال کیوں ہیں؟ پاکستان کے معاشی،سماجی اور سیاسی حالات اتنے ابتر کیوں ہیں؟‘‘ ہم اس کا یہ جواب کیوں نہیں جانتے کہ اللہ اور رسولؐ سے جنگ کوئی نہیں جیت سکتا۔

 وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ سے دو مرتبہ یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ سُود، اللہ کے واضح احکام کے خلاف ہے،یہ اللہ اور رسولؐ کے خلاف جنگ ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت حکم دے چکی ہے کہ ’’سُود سے پاکستان کے قومی مالیاتی نظام کو پاک کر دیا جائے۔یہ آئینِ پاکستان کی رُو سے بھی ناجائز اور ممنوع ہے‘‘۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت پاکستان کو متعین مدت کے اندر اندر تمام مالیاتی اداروں اور بنکوں میں سُودی معیشت کو ختم کرنے اور اسلامی مالیاتی نظام کو رائج کرنے کا حکم دیاتھا۔ تاہم، تمام حکومتوں نے اللہ اور رسولؐ کے احکام سے علانیہ بغاوت کی اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کو غتربود کرنے کے لیے کئی بار ناپاک سازشیں رچاکرسُود جیسی ناپاک معیشت کو جاری و ساری رکھا۔

پاکستان کی مالیاتی بنیاد میں خرابی

پاکستان قائم ہوا توہندستان نے شروع ہی سے اسے شدید مادی اور عسکری نقصانات سے دوچاررکھا۔اثاثوں کی تقسیم میں بھارتی لیڈر شپ نے ڈنڈی ماری، فوجی سازوسامان کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ہندستان کے مرکزی بنک میں موجود چار ارب روپوں میں سے پاکستان کا حصہ ایک ارب روپیہ غتر بود کیا گیا۔ لیاقت علی خان نے مشترکہ ہندستان کا آخری وفاقی بجٹ پیش کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے مالی سال۴۹-۱۹۴۸ء کا ۸۹ کروڑ ۵۷ لاکھ روپے حجم کا ،۱۱؍ کروڑ روپے خسارے کا بجٹ تھا ۔ ہندستان کی طرف سے مالی خیانت کے باوجود مالی سال کے خاتمے تک پاکستان مالیاتی بحران سے نکل آیا تھا۔ تاہم، پاکستان کے مالیاتی نظام اور معیشت میں سود کو شامل رکھا گیا۔ مالی سال۵۰-۱۹۴۹ء کا دوسرا قوی بجٹ ایک ارب ۱۱ کروڑ کا بغیر خسارے کا بجٹ تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۹ء تک تمام قومی بجٹ خسارے سے پاک تھے۔یہاں تک کہ سقوط ِ ڈھاکہ کے ایک برس بعد ۷۳-۱۹۷۲ء کاپہلا قومی بجٹ بھی خسارے سے پاک اور بچت کا بجٹ تھا، اگرچہ اس بجٹ میں سعودی عرب اور لیبیا کی بھاری مالی امداد شامل تھی۔ بہرحال اس میں ۱۸کروڑ کی بچت دکھائی گئی تھی ۔لیکن سودی معیشت ہمارے نظام حکومت میں اوپر سے نیچے تک موجود رہی۔

۱۹۴۷ء میںپاکستان کے قیام سے لے کرآج تک ملک کو سود سے نجات دلانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ اگرچہ یکے بعد دیگرے تشکیل دیے گئے تینوں دساتیر میں سُود کو جلدازجلدختم کرنے کے عزائم ظاہر کیے گئے۔۱۹۶۲ء کے آئین کے آرٹیکل۲۰۴ کے تحت ’اسلامی مشاورتی کونسل‘ قائم کی گئی،جس کا نام۱۹۷۳ء کے آئین میں بدل کر ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ کر دیا گیا۔ ۷۳ء کے آئین کی شق نمبر ۲۲۷ کے مطابق: ’’پاکستان میں  قرآن وسنت سے متصادم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جائے گا‘‘۔ پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے فرائض میں ایسی سفارشات پیش کرنا شامل ہے کہ جن سے مسلمانان پاکستان کو ایسی رہنمائی مل سکے کہ ’’وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں اسلام کے سنہری اصولوں کے تحت بسر کر سکیں‘‘۔پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کونسل کی سفارشات کو قانونی شکل دیں۔ اب تک کونسل کے ۲۱۱ اجلاس ہوچکے ہیں۔ کونسل نے قانونی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظاموں کا جائزہ لے کر ساڑھے ۶ہزار سفارشات مرتب کی ہیں۔تاہم، صرف ۹۰ سفارشات پر عمل ہوسکا ہے۔

سُود کاخاتمہ۔۔۔اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

سُود کو ختم کرنے کے بارے میں اسلامی مشاورتی کونسل نے پہلی سفارشات۱۹۶۹ء میں پیش کی تھیں،لیکن ان پرکبھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اس رپورٹ کے آٹھ سال بعد ستمبر۱۹۷۷ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ سے رجوع کیا ۔انھوں نے کونسل کو سود کے خاتمے کی سفارشات پیش کرنے اورایسے متبادل طریقے تجویز کرنے کے لیے کہا،جن پر عمل کرکے سود جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جاسکے۔بظاہر ایسا لگتا تھا کہ جنرل ضیاء الحق سود کے خاتمے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں، مگر جلد ہی یہ تاثر زائل ہو گیا۔سُود کے خاتمے کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے علما، بنک ماہرین اور اقتصادی ماہرین سے طویل مباحث اور عالمی سطح پر اس مسئلے کی پیچیدگیوں کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی دوسری رپورٹ کو حتمی شکل دی اور ۲۵جون ۱۹۸۰ءکو یہ رپورٹ جنرل ضیاء کوپیش کردی گئی۔ رپورٹ کے ساتھ سودی نظام کا متبادل اورقابلِ عمل مالیاتی نظام کاخاکہ بھی پیش کیا گیا،جس پر عمل درآمد سے دوسال کے اندر اندر ہدف حاصل ہوسکتا تھا۔

۱۹۸۰ء کے اواخر میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے تمام تجارتی بنکوں کو یہ حکم جاری کیا کہ’’۱۹۸۱ء سے وہ اپنے تمام معاملات غیر سودی بنیادوں پر قائم کرنے کے پابند ہوں گے‘‘۔ اسٹیٹ بنک کے اس حکم نامے کے پیش نظر حکومتی تحویل میں موجود تجارتی بنکوں نے نفع و نقصان پر مبنی پی ایل ایس اکائونٹ کے نام سے غیر سودی کھاتے کھولنے کی اسکیم شروع کی اوراس بات کا عندیہ دیا کہ: ’’رفتہ رفتہ پورے بنکاری نظام کو غیر سودی نظام میں تبدیل کردیا جائے گا‘‘۔تاہم، وقت گزرتا رہا،مگر کوئی ٹھوس تبدیلی سامنے نہ آئی۔۱۹۸۳ء میںاسلامی نظریاتی کونسل نے جسٹس تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومت کو یاد دلایا کہ ’’۱۹۷۹ء میںسودی معیشت کے خاتمے کے لیے تین سال کی مقرر کی گئی مدت دسمبر۱۹۸۱ءمیں ختم ہوگئی ہے، لیکن سودی نظام نہ صرف ختم نہیں ہوا بلکہ حکومتی اقدامات سودی نظام کے استحکام کا سبب بن رہے ہیں‘‘۔

غیر ملکی سُودی قرضے تباہی کا پیش خیمہ

  پاکستان میں غیرملکی منحوس سُودی قرضوں کی شروعات۱۹۵۲ء میں ہی ہو گئی تھی،لیکن یہ چندلاکھ سے زیادہ نہ تھے۔سودی معیشت کی نحوست بھی پاکستان کے مالیاتی نظام میں شروع ہی سے موجود تھی۔یہی وجہ تھی کہ۱۹۵۶ء میں پاکستان کا پہلا دستور منظور ہوا،تو اس کی دفعہ ۲۸- الف میں کہا گیا تھا کہ ’’ریاست سُود اور سُودی معیشت کو بہ عجلت ختم کرنے کی کوشش کرے گی‘‘۔جنرل محمدایوب خان ۱۹۵۶ء کے آئین کو توڑ کر ملک پر قابض ہوئے اور ۱۹۶۲ء میں اپنا دستور نافذ کیا۔ اس آئین کے پالیسی اصولوں میں اصول نمبر ۱۸ میں سُود کو فی الفور ختم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ایوب خان کا دستورکم وبیش دس برس نافذ رہا،مگر نہ تو ایوب خان، نہ ان کے جانشین یحییٰ خان نے سُود ختم کرنے میں کوئی دل چسپی دکھائی۔ ان کے بعدذوالفقار علی بھٹو آئے، جن کے دور میں ۱۹۷۳ء کا آئین بنا اور نافذہوا۔ ۱۹۷۳ءکے آئین کی دفعہ ۳۸- الف میں بھی سُود کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا،مگر نہ تو بھٹو اور ضیاء الحق نے دستور کایہ تقاضا پورا کیا،نہ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے ملک کو سُود کی نحوست سے نکالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ بلکہ پے درپے ایسے اقدامات کیے گئے، جن سے معیشت پرسُودی نظام کی گرفت مستحکم ہوئی اور ملک اقتصادی طور پر تباہی سے دوچار ہوا۔

  افغان جہاد کے دوران پاکستان کو اربوںڈالر کی امداد اور آسان شرائط پر سُودی قرضے ملتے رہے، ضیاء دور میں پاکستان کو ریکارڈ غیرملکی مالی امداداورآسان شرائط پر قرضے ملے،مگر ملکی معیشت ڈوبتی رہی، اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۷۶) ’’اللہ سُود کو مٹاتا اورصدقات میں اضافہ فرماتا ہے‘‘۔ اگر جنرل ضیاء چاہتے کہ سُود ختم ہو،تو انھیں سُود کی لعنت سے ملک کو نجات دلانے کا بہترین موقع ملاتھا، مگر انھوں نے یہ موقع گنوا دیا۔ انھوں نے باربار اسلامی نظام کے نفاذ کا عندیہ دیا،مگرسُودکے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدر جنرل ضیاء کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا۔ انھوں نے اس اختیار سے کام لیتے ہوئے اپنے مارشل لا کے دوران قانون سازی کو تحفظ دینے کے لیے آئین میں آٹھویں ترمیم کی۔ جس کی رُو سے صدر پاکستان کو اضافی آئینی طاقت میسر آ گئی۔  ’وفاقی شرعی عدالت‘ قائم کی گئی اور سپریم کورٹ میں ’شریعت اپیلٹ بنچ‘ بھی بنایاگیا، لیکن انھوں نے وفاقی شرعی عدالت پر یہ پابندی لگادی کہ ’’دس سال تک مالی معاملات میں شریعت کے حوالے سے یہ کوئی مقدمہ نہیں سنے گی‘‘۔ یاد رہے شریعت کورٹ ۱۹۸۰ء میں قائم ہوئی تھی۔ ۱۹۹۰ء میں عدالت پر سے سود کے خلاف مقدمات سننے کی پابندی ختم ہوئی۔

سُود کا مقدمہ شریعت کورٹ میں

۲۶ جون ۱۹۹۰ء کو شرعی عدالت کا مالیاتی قوانین کی سماعت کرنے کا اختیار بحال ہو گیا۔پابندی اُٹھتے ہی ایک شہری محمو د الرحمٰن فیصل نے وفاقی شرعی عدالت میں پٹیشن نمبر۳۰؍آئی داخل کی اور استدعا کی کہ ’’عدالت رائج الوقت سودی نظامِ معیشت کو غیر اسلامی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کردے اور حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام سے ُسود کا چلن ختم کردے‘‘۔۱۱دسمبر ۱۹۹۰ء کو شریعت کورٹ نے پٹیشن باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کی۔عدالت نے سود کے مقدمے کی سماعت شروع کی ،تو بہت سے دوسرے ادارے، اشخاص، قانون دان اور خود حکومت اس طرف متوجہ ہوئی اور عدالت کے پاس ۲۰ سُودی قوانین کے خلاف ۱۱۵مقدمات جمع ہوگئے۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت نے ان سب مقدمات کی مشترکہ سماعت شروع کی۔

وفاقی شرعی عدالت میںچالیس سے زیادہ وکلا نے سُود کے خلاف دلائل دیے۔ سُودی معیشت کو زندہ رکھنے کے حامی وکلا بھی بڑی تعداد میں آئے۔ان میں وفاق اور صوبوں کے علاوہ مختلف مالیاتی اداروں اور بنکوں کے وکیل بھی شامل تھے ،جنھوں نے بھاری فیسیں لے کر قرآن و سنت کے واضح احکام کے خلاف مو شگافیاں پیش کیں۔۶۰ کے قریب افراد سُود کے خلاف اپنی درخواستوں کے ساتھ اصالتاً پیش ہوئے۔ان سب کا اس پر اتفاق تھاکہ ’’جب تک سُودی معیشت سے آ ٓزادی نہیںملے گی،ملک پر معاشی تباہی کے سائے منڈلاتے رہیں گے‘‘۔

پا کستان کے مختلف افراد، جماعتوں اور اداروںنے سُود کے۲۰ قوانین کے خلاف درخواستیں پیش کیں۔ ان میں سے آٹھ قوانین انگریزی دور کے اور بارہ قیام پاکستان کے بعد کے تھے،  جب کہ سُود کے تین قوانین کے خلاف عدالت نے خود نوٹس لیا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے آغاز میں ہی تیرہ نکاتی سوال نامہ مرتب کر کے علما، سکالرز،دانش وروں، ماہرین اقتصادیات اور مالیاتی اداروں کو بھیج دیاتھا۔ ان حضرات نے تحریری جوابات بھی دیے اور بعض نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے دلائل بھی پیش کیے۔سٹیٹ بنک کے حسن الزمان، الائیڈبنک کے سابق صدر خاد م حسین صدیقی اور ڈاکٹر محمدغدیر نے سُودکی تمام شکلوں کو حرام کہا ۔ انھوں نے کہا:’’مغربی ماہرین معاشیات کے زیر اثر’سُود‘ اور ’ربا‘ کوالگ کیا جارہاہے،ورنہ یہ دونوں ہی یکساںہیں اور اسلام کی رُو سے دونوں حرام ہیں‘‘۔انھوں نے کہا: ’’مشارکہ اور مضاربہ کے طریقوںسے مالیاتی اداروں اور بنکوں کا کاروبار بھی چلایا جا سکتا ہے اور ملک سُودکی لعنت سے بھی نجات پا سکتا ہے‘‘۔

سُود کے حق میں  خالد اسحاق کے دلائل

معروف قانون دان خالد ایم اسحاق، نیشنل بنک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی طرف سے پیش ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کے بنک، سٹیٹ بنک کے تیار کردہ فریم ورک کے ماتحت کام کرتے ہیں، جسے اسلامی نظریاتی کونسل کی تائید و توثیق حاصل ہے‘‘۔ حالانکہ انھوں نے جس رپورٹ کو حوالے کے طور پر پیش کیا،وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بجائے وزارت خزانہ کا پیش کردہ حکومتی نقطۂ نظر تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے کبھی اس کی توثیق و تصدیق نہیں کی۔ خالداسحاق کو جب اس جانب توجہ دلائی گئی،تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ’’میرے پاس مکمل رپورٹ نہیں تھی، اس لیے غلطی ہو گئی‘‘۔

جناب خالد اسحاق نے یہ نکتہ بھی اُٹھا یا کہ ’’افراط زر سے مال میں جو کمی واقع ہوجاتی ہے، اس کی تلافی کے لیے جو رقم بڑھائی جاتی ہے، اسے ربا میں شامل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔پھر  ’’بنک جو منافع حاصل کرتے ہیں،اس منافع کوربا اور سُود نہ کہا جائے کہ بنک تو قوم کے پیداواری عمل میں حصہ لیتے ہیں‘‘۔خالد اسحاق نے سُود کو جائز ثابت کرنے کے دلائل پیش کیے،لیکن وہ اپنے حق میں کسی ایک آیت یا حدیث کاحوالہ پیش نہ کر سکے۔وفاق پاکستان اور بنکنگ کونسل کے وکیل نے بھی بنکوں کے سُود کو درست ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگایا۔

ڈاکٹر سید اسعد گیلانی نے اپنے تحریری دلائل میں بتایا کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات میں بار بار سود کی ہر شکل کو حرام قرار دے کر فی الفور ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ کونسل نے جنرل ضیا ء الحق کو سُود کی مکمل ممانعت کے آرڈی ننس کا مسودہ تک بھیج دیااور تجویز کیا تھاکہ۳۰ جون ۱۹۸۴ء تک سُود پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے‘‘۔ ڈاکٹر اسعد گیلانی نے صدرمملکت کو کونسل کی  طرف سے پیش کردہ اس سفارش کا حوالہ بھی دیا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ ’’چونکہ ربا کی ہر شکل اسلام میں حرام ہے ،اس لیے وہ غیر ملکی بنکوں اور مالیاتی اداروں کو بات چیت کے ذریعے غیر سودی لین دین پرقائل کریں۔ خدا نخواستہ ایسا ممکن نہ ہو تو ایسا لین دین ختم کر دیا جائے اور کسی قسم کے خسارے کو خاطر میں نہ لایا جائے‘‘۔مولانا گوہر رحمان نے سود کے خلاف اپنے دلائل میں قرآن مجید، حدیث اور اسلامی تاریخ سے ٹھوس حوالے پیش کیے۔عدالت نے ان درخواست گزاروں کو بھی سنا، جن کی طرف سے وکیل پیش نہیں ہوئے۔ان کی اکثریت نے سورئہ بقرہ کی آیات ۲۷۸ اور۲۷۹ کا حوالہ دیا اور کہا:’’ہم نے سود او سُودی معیشت کوجاری رکھ کر دراصل اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے جنگ چھیڑرکھی ہے،اسے فی الفور ختم کیا جائے‘‘۔

شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

تقریباً ایک برس پر پھیلی طویل سماعتوںکے بعد وفاقی شرعی عدالت نے۱۴نومبر ۱۹۹۱ء کو سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ دیا۔ شرعی عدالت کے چیف جسٹس تنزیل الرحمان نے فیصلہ سناتے ہوئے سود اور سودی نظام کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا اور سُود پر مبنی ۲۳ قوانین قرآن و سنت کے منافی ٹھیراتے ہوئے کالعدم قرار دیے ۔شرعی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ ’’بنکوں کے منافع سمیت سُود ہر شکل میں حرام ہے ،خواہ اسے منافع کہا جائے یا ’مارک اَپ‘ کا خوب صورت نام دیا جائے‘‘۔ عدالت نے حکومت کو سُود ی قوانین کی متبادل قانون سازی کے لیے چھے ماہ کی مہلت دی اور فیصلے میں واضح کردیا کہ ’’یکم جولائی۱۹۹۲ء سے متذکرہ قوانین خود بخود کالعدم ہو جائیں گے‘‘۔

 حکومت اور اس کے معاون مالیاتی اداروںنے پہلے تو خاموشی اختیار کیے رکھی ،مگر جب چھے ماہ کی حتمی مدت ختم ہونے کا وقت آگیا،تو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ میں  پے درپے اپیلیں دائر کردی گئیں۔ نواز شریف کی وفاقی حکومت خود بھی سود خواروں کی تائید میں اپیل لے کرسپریم کورٹ پہنچ گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے ۱۹۸۴ء میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے شریعت کورٹ کے فیصلوں کی جو قدر وقیمت گھٹائی تھی، اس کے خراب نتائج اب برآمد ہوئے۔ سپریم کورٹ میں اپیل داخل ہوتے ہی درخواست گزاروں کو’حکمِ امتناعی‘(Stay Order )مل گیا۔ اب یہ حکمِ امتناعی اس وقت تک مؤثر تھا، جب تک و فاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل نمٹا نہ دی جاتی۔

شریعت کورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعدانصاف پسندی اورآئین کی پابندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ حکومت اپنی استدعا پر حاصل ہونے والی مہلت کافائدہ اٹھاتی، خلوصِ نیت سے کام لیتی اور سُودی قوانین کی تبدیلی کا کام مکمل کرتی، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی،بلکہ حسب ِمعمول سُود کی بنیاد پر نئی اسکیمیں بنتی رہیں ،پرانی سودی اسکیموں کو جاری رکھا گیااورملک اور بیرونِ ملک سے سُود پر نئے قرضے حاصل کیے جاتے رہے ۔

 حکومت پاکستان نے شریعت اپیلٹ بنچ میں دعویٰ پیش کیا کہ ’’وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میںبہت سے قانونی نقائص رہ گئے ہیں، اس لیے اس پر نظرثانی کی جائے‘‘۔ تاہم، عدالت عظمیٰ نے جیسے ہی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمدروکا، تو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے والے خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔اگلے سات آٹھ برس کے دوران تین حکومتیں آئیں اور گئیں،مگر کسی نے نظرثانی کے مقدمے کو ’چھیڑنے‘ یعنی سماعت شروع کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔جماعت اسلامی اور دیگر مدعی اداروں نے آواز اُٹھائی ،جو صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ۔حکومتی ایما پر یہ باب بند رکھا گیا۔

 شرعی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی

درحقیقت نواز شریف کی حکومت، شرعی کورٹ کے فیصلے کے نفاذ کو روکناچاہتی تھی۔جب یہ مقصد حاصل ہو گیا،تو اب ان کی خواہش کے عین مطابق نظر ثانی کا معاملہ عدالتی فائلوں میں دبا رہا۔ نظر ثانی کے مقدمے کی سماعت ساڑھے سات برس (مارچ ۱۹۹۹ء) تک ملتوی ر ہی۔ مارچ ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع کی۔سماعت شروع کرنے کی وجہ حکومت کے مُوڈ کی تبدیلی نہ تھی،بلکہ سپریم کورٹ کے جس اپیلٹ بینچ کی تشکیل ہوئی ، اس کے جج اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے خوف سے آزاد نہ تھے۔

اس اپیلٹ بنچ نے اپنے فرض منصبی کاتقاضا سمجھ کرشرعی عدالت کے فیصلے پر غور وفکر کرنے کافیصلہ کیا۔پہلے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی سب اپیلوں کو یک جا کیا گیا، پھر ان کے اُٹھائے ہوئے سوالات پرتفصیلی بحث کی گئی۔ ماضی کی عدالتی کارروائی فاضل ججوںکے سامنے تھی۔وہ سب یہ بھی جانتے تھے کہ سود کے مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے انھوں نے سُود کے بارے میں دنیا بھر کے جید علما اور ماہرین معاشیات کا نقطۂ نظر جاننا ضروری سمجھا۔ علما اور اقتصادی ماہرین کو عدالت کی رہنمائی کرنے کی دعوت دی گئی، جنھوں نے اپنے زبانی اور تحریری دلائل کے ذریعے عدالت کی بھرپورمدد کی۔کئی ایک نے عدالت میں سود کی حرمت کے حق میںاور دوسروںنے اس کے خلاف مقالات اور تقاریر کے ذریعے دلائل پیش کیے۔ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام اس سے پہلے تاریخ انسانی میں کبھی نہ ہوا تھا ۔ اس طرح فیصلہ دینے سے پہلے فاضل ججوں کو نہ صرف سُودی نظام کے بارے میں شرعی احکام و حقائق سے آگاہی ملی،بلکہ اسلامی بنکاری نظام کا ایک مربوط خاکہ بھی عدالت کے سامنے آ گیا، جس کو اپناکر بنکوں سے سودی نظامِ زر کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا۔

اقتصادی ماہرین او رعلمائے کرام کی آراء

 عدالت کے رُو برو پیش ہونے والے قرآن و سنت کے علما اور جدیدماہرین معاشیات کے مابین ایک طویل صحت مندانہ مکالمہ ہوا:

 ڈاکٹر وقار مسعود صاحب نے بین الاقوامی حاصل کردہ قرضوں میں سود کی کمٹ منٹ کو پورا نہ کرنے کی صورت میں کہا:’’اس کے نتیجے میں، مستقبل میں حاصل ہونے والے تمام قرضوں سے محروم رہ جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘۔

ڈاکٹر عمر چھاپرا صاحب نے واضح کیا کہ ’’مشارکت اور مضاربت کے اسلامی اصولوں کو جدید معاشیات کی روشنی میں ترقی دے کر جدیدبنکاری نظام بنایا جا سکتاہے‘‘۔

حافظ عبدالرحمان مدنی صاحب نے کہا: ’’ابتدائے نبوت ہی سے سود کی نوع بہ نوع صورتوں کی تدریجاً حرمت کا موقف اختیار کر لیا گیا تھا‘‘۔

پروفیسر خورشید احمد صاحب نے کہا: ’’پوری دنیا میں سودی نظامِ زر کا جہاز آہستہ آہستہ غرقاب ہو رہا ہے۔ موجودہ سودی نظامِ آیندہ نصف صدی کے اندر اندر پوری دنیا میں ناکام ہوجائے گا۔ دنیا بھر کے اقتصادی ماہرین جس نئے مالیاتی نظام پر متفق ہو رہے ہیں وہ اسلامی نظامِ زر سے بہت قریبی اور حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے‘‘۔یہ بھی معلوم ہوا کہ پروفیسرخورشید احمد غیر سودی بنیاد پر کام کرنے والے ایک مکمل اور جدید بنک کا خاکہ تیار کرکے حکومت ِپاکستان کو پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔

شیخ القرآن مولانا گوہر الرحمان نے عدالت کی جانب سے جاری کیے جانے والے دس سوالات کی روشنی میں اپنا ایک مبسوط مقالہ عدالت میں پیش کیا اور نہایت مدلل انداز میں جدید بنکاری میں اختیار کیے گئے طریقوں کا تجزیہ کیا اور بعثت ِمحمدی کے وقت رائج مماثل اشکالِ تجارت سے ان کا موازنہ کرتے ہوئے رائے دی کہ ’’انڈیکسیشن اور مارک اَپ وغیرہ اسلامی شریعت کی رُو سے قطعاً حرام اور ممنوع ہیں؛ لہٰذا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کا چلن فی الفور ختم ہونا چاہیے‘‘۔

معروف قانون دان محمد اسماعیل قریشی نے کہا:قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے مطابق سود اپنی تمام تر اَشکال کے ساتھ مطلقاً حرام قرار پاچکا ہے۔ بیع موجل، بائی بیک، مارک اَپ، انڈیکسیشن، ڈی ویلیوایشن ، ڈی نامی نیشن اور بنک کمیشن سمیت تمام جدید اَشکال سودی نظام ہی کی توسیع اور حرام و ممنوع ہیں‘‘۔

 مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا: اسلام نے سود کی ہر شکل کو مکمل طور پر حرام قرار دیا ہے۔ بیرونی ممالک سے سود پر قرضے حاصل کرنا بھی اسلامی حکومت کے لیے ناجائز اور ممنوع ہے‘‘۔

معروف وکلا اورقانونی ماہرین کے علاوہ جید علمائے کرام بحث میں شریک ہوئے اور قرآن و حدیث کی تفاسیر اور شروح کے علاوہ جدید معاشی کتب کے حددرجہ قیمتی ذخیرے سے نہایت اہم اقتباسات کی نقول عدالت کے ریکارڈ پر لائے۔ ڈیڑھ ہزار سال میں لکھی جانے والی قرآنی تفاسیر اور فقہی آرا کے ایک عظیم علمی اثاثے سے سود سے متعلق مباحث عدالت کے سامنے لائے گئے۔ اسی طرح خود عدالت کے وضع کردہ سوالات کے ضخیم تحریری جواب نامے داخل کیے گئے۔ قرآنِ مجید کے تراجم و تفاسیر کے علاوہ تقریباً دو ہزار احادیث کے حوالے بھی پیش کیے گئے۔

شریعت اپیلٹ بنچ کا تاریخ ساز فیصلہ

مارچ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے سماعت شروع کی،توابھی جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی دوسری بار منتخب شدہ حکومت کو اقتدارسے بے دخل نہیں کیاتھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل کورٹ نے تقریباً پانچ ماہ تک تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،تب بھی نواز شریف ہی وزیراعظم تھے۔تاہم، فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو نواز شریف رخصت ہوچکے تھے اورجنرل پرویز مشرف اپنے تمام تر آمرانہ جاہ و جلال کے ساتھ برسرِ اقتدار آچکے تھے۔

مشرف کی فوجی حکومت نے عدلیہ پرواضح کر دیا کہ ’’و ہ سُود کے خلاف فیصلے کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔پھر فیصلہ سنانے کے خلاف ہر سطح پر سازشیںکی گئیں۔ بنچ نامکمل کرنے کے لیے جسٹس محمود احمد غازی کو سیکیورٹی کونسل کا حلف پڑھوا دیا گیا اور ایسا کرنے سے وہ جج نہ رہے، لیکن آئین کے مطابق ایک عالمِ دین سے بھی کام چل سکتا تھا،اس لیے بنچ نہ ٹوٹااور ۲۳ دسمبر۱۹۹۹ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ سنا دیا۔عدالت عظمیٰ کے اپیلٹ بنچ نے شرعی کورٹ کے فیصلے کی نہ صرف تصدیق و تو ثیق کی ،بلکہ تقریباً ۱۱۰۰صفحات پر مشتمل تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ’’سُود کو غیرآئینی، غیر قانونی اور اسلامی احکامات کے منافی قراردے دیا‘‘۔

 عدالت عظمیٰ کے طویل ترین تحریری فیصلے میں قرآن وسنت کے محکم دلائل اورگذشتہ صدیوں کے نظائر کی بنیاد پر سُود کی ہر شکل کے لیے ابدی حرمت کا اعلان کیا گیا۔ اس پانچ رکنی بنچ میں جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خان بطور چیئر مین شامل تھے، جب کہ جسٹس وجیہہ الدین،جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس مفتی تقی عثمانی اور جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی بطور ممبر شامل تھے۔

 سپریم کورٹ کے اس قطعی فیصلے کے بعدماہرین قانون کابجا طور پر یہ خیال تھا کہ ’’اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی جسارت کوئی نہ کر سکے گا،پاکستان کی حکومت کو اس کے سامنے سر جھکانا پڑے گا اور ملک پر سے سُودی معیشت کے منحوس سائے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے‘‘۔جیساکہ بتایا جاچکا ہے کہ شریعت اپیلٹ بنچ کاتاریخی فیصلہ آیا ،تو پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ شروع ہو چکی تھی۔

اب اس فیصلے کی عملی تنفیذجنرل مشرف کے سپرد ہو چکی تھی،مگرجنرل مشرف نے سود کے خلاف اب تک کی پوری پیش رفت کو سبو تاژ کر دیا۔ ۲۰۰۰ء میں ان کے کہنے پر یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ نے شریعت اپیلٹ بنچ میںایک درخواست دائر کی، جس میں ۱۹۹۹ء کے فیصلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ صحیح الفکر علما اور وکلا نے ’مشرف کے ارادے بھانپ کر یہ اعتراض اُٹھایا کہ بنچ کی تشکیل خلاف آئین ہے، مگر اس ناجائز عدالت نے سنی ان سنی کرتے ہوئے سماعت شروع کردی۔اس پر اسلامی نظریے کے حامی وکلا نے عدالت کی سماعت کے دائرئہ اختیار کے خلاف آواز اُٹھائی اور کہا، جن قوانین اور حقائق کا جائزہ سپریم کورٹ پہلے ہی لے چکی ہے اور عدالت ِ عظمیٰ جن پر تفصیلی فیصلہ دے چکی ہے، اُنھیں نظرثانی کی آڑ میں دوبارہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔تاہم، مشرف مارشل لا کے تابع پی سی او عدالت نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کے لیے انھی مباحث کو بنیاد بنایا جن پرسپریم کورٹ پہلے ہی سیر حاصل بحث کرچکی تھی۔ بنچ کے سربراہ جسٹس شیخ ریاض احمدچیئر مین، جسٹس وقاص محمد فاروق، جسٹس ڈاکٹر خالد محمود اور جسٹس رشید احمد جالندھری ارکان تھے۔ ان ججوں کے انداز فکر سے سب آگاہ تھے، اور اب یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ یہ بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔ سودکے مخالف وکلا کے ساتھ عدالت کا سلوک حددرجہ غیرمنصفانہ اور غیردوستانہ اور غیر پیشہ ورانہ تھا، جب کہ بنک کے وکلا اور سرکاری وکلا کو زیربحث مقدمے کوغلط رخ پر موڑنے کی پوری سہولت فراہم کی گئی۔

وفاقی شرعی عدالت اور پاکستان سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ کے فیصلے آئین کے تقاضے اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے قوانین اور مرضی کے مطابق تھے۔یہ فیصلے اتنے واضح اور مبنی برحق تھے کہ اگر نظر ثانی کی اپیل کی ایک شرم ناک سازش نہ رچائی ہوتی اور بنچ کی تشکیل میں خفیہ مقاصدکارفرما نہ ہوتے، تو ان فیصلوں کی تائید وتصدیق نا گزیر تھی، لیکن مشرف آمریت سود کے ظالمانہ نظام کو باقی رکھنے پر تلی ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا مقدمہ تھا، جس کا فیصلہ لکھنے کے بجائے اسے ماتحت عدالت کو واپس بھجوادیا گیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ سُود کے مخالفین کو واپس اس جگہ پہنچایا جائے جہاں سے سُود کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوا تھا۔۱۹۹۰ء میںسود کے خلاف مقدمہ وفاقی شرعی عدالت میں شروع ہوا تھا،۱۰ برس بعد مشرف نے اسے ملیا میٹ کر کے پھر شرعی عدالت کو بھجوا دیا۔ اس کے بعدیہ کیس یکے بعد دیگرے تین حکومتوں نے(۱۵ سال تک ) سرد خانے میں رکھا۔ پہلے مشرف، پھر آصف زرداری اور آخر میں نواز شریف کی حکومت نے اس مقدمے کی سماعت نہ ہونے دی۔ اگر کوئی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا تو اپیل مستردکر دی جاتی تھی۔

سود کا مقدمہ اورقرآن وسنت سے مذاق

سپریم کورٹ کے نئے اپیلٹ بینچ میں نظر ثانی کا مقدمہ لے جانے و الے یو بی ایل کے وکیل راجا محمد اکرم نے دریدہ دہنی کی حد کر دی۔انھوں نے قرآنی آیات کی سود کو ’حلال‘ کرنے والی خود ساختہ تفسیر پیش کرتے ہوئے سود کو جائز قرار دیا۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۳۰  يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبـٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً  ۝۰۠ کی واضح تحریف کرتے ہوئے راجہ اکرم نے کہا ، اس آیت میں سود سے متعلق اضعَافًا مُّضَاعَفَۃً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور لوگوں کو دوگنا چوگنا سود وصول کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اگر سود کی رقم دوگنی چوگنی رفتار سے نہیں بڑھتی،تو ایسے سود کی اسلام میں اجازت ہے۔ حالانکہ یہ آیت سود کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں نازل ہی نہیں ہوئی تھی،یہ تو غزوئہ احد میں بعض مسلمانوں کے فتح مکمل ہونے سے پہلے مال غنیمت کی طرف راغب ہونے پر بطور تنبیہ نازل ہوئی تھی۔ مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

اُحد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقعے پر مال کی طمع سے مغلوب ہو گئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لْوٹنے میں لگ گئے۔ اس لیے حکیمِ مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خواری سے باز آ ؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حرص بے حد بڑھتی چلی جاتی ہے۔

اس وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سود کے متعلق قرآن وسنت کی ہدایات قانونی نہیں، بلکہ اخلاقی درجے کی ہیں۔ اس لیے سود کی حرمت کو پاکستان کے عوام پر بذریعہ قانون نافذ کرنا قرین انصاف نہیں۔ حالانکہ قرآن پاک کے سب سے بڑے مفسر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودلینے اور دینے والے اور سود لکھنے اور سود کی شہادت دینے والے پراللہ کی لعنت فرمائی ہے۔

سود کا مقدمہ اکتیس برس سے عدالت میں

آج شریعت کورٹ میں سود کا مقدمہ قدیم ترین مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔شریعت کورٹ اورسپریم کورٹ میں چلتے ہوئے اس کیس کو ۳۲واں برس آ لگا ہے۔ اس عرصے میں پاکستان پر قابض بدعنوان حکومتوں نے دو اہم ترین فیصلوں کو نافذ ہونے دیا ہوتا،تو ملک اتنی بُری طرح سودی قرضوں میں جکڑا ہوا نہ ہوتا۔ماضی کی سب حکومتوں کی یہی خواہش رہی کہ عدالتوں میں سود کے مقدمے کی سماعت میں تاخیر ہوتی رہے۔چنانچہ گذشتہ ۳۰برس میں تمام حکمرانوںکی طرف سے تاخیر در تاخیر کے سوا کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اپریل ۲۰۱۷ء میںشرعی عدالت میںچوتھی مرتبہ اس کیس کی سماعت شروع ہوئی مگر پہلی سماعت کے بعد ہی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔ اس سماعت سے منفی اشارے ہی ملتے رہے۔ چند برس پہلے شریعت کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو اس دور کے چیف جسٹس صاحب کے جو ریمارکس اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں، وہ کسی طرح بھی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے شایانِ شان نہیں۔ انھوں نے بعض مجالس میں کھلے بندوں کہہ دیا: ’’آج کے دور میں اسلام ناقابلِ عمل ہے۔ اس لیے اسلامی تعلیمات آج کے معاشرے میں نافذ نہیں ہو سکتیں‘‘۔ انھوں نے کہا:’’موجودہ دور میں اسے سود نہیں بلکہ نقصان کا ازالہ کہا جائے گا‘‘۔ ان الفاظ سے ان کی واضح جانب داری ثابت ہوجاتی ہے۔ اگر چیف جسٹس کے موقف کو قبول کر لیا جائے تو پھر آئین پاکستان میں جن دفعات میں قرآن و سنت کے نفاذ اور حکومت کو ان کے نفاذ کا پابند بنایاگیا ہے، وہ بھی بے مقصد اور محض نمایشی قرار پاتی ہیں اور پھر خود اس شرعی عدالت کے قیام کا ہی کیا جواز باقی رہتا ہے۔

 سُود کا مقدمہ اور موجودہ حکومت کی ذمہ داری

آئینِ پاکستا ن کے تقاضے کے تحت چالیس برس پہلے سود کے خاتمے کے لیے جدوجہد شروع کی گئی تھی۔ دینی جماعتوں، اداروں اور افراد نے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مقدمات چلے، مگر اس دوران حکمرانوں،افسر شاہی اور عدلیہ کے ایک حصے نے سود کی بقا کے لیے پورا زور لگا دیا۔ سُودی معیشت کے خاتمے کے مطالبے کو نواز شریف، بے نظیر،مشرف اور زرداری کے اَدوار میں حکومتی وسائل سے ناکام بنایا گیا۔سودی معیشت کو ختم کرنے کی تحریک کے خلاف ۲۰۱۳ء سے۲۰۱۸ء تک نواز شریف نے ہر ممکن تدبیر کی۔اور پھر جولائی ۲۰۱۸ء کے بعد عمران خان،سود کے دفاع کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ان کے دورِ حکومت میں سود کے خاتمے کے سفر کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس مقدمے کی تازہ سماعتوں پرعمران خان حکومت کے رویے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سُود کو ختم کرنے کے بجائے وہ اس مقدمے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے شروع میںتو عدالت کو تسلیم کیا،مگر اب وہ اس کا یہ اختیار ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ اٹارنی جنرل نے پہلے تو یہ کہاتھاکہ وہ خود پیش ہو کر چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں؛ لیکن پھر ۳فروری ۲۰۲۱ءکی سماعت میں حکومت نے سود سے متعلق کیس کی سماعت میںوفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’’شرعی عدالت یہ کیس سننے کا اختیارہی نہیں رکھتی۔ یہ آئین کی تشریح کا مقدمہ ہے۔ آئین کی تشریح صرف سپریم کورٹ کا اختیار ہے‘‘۔

چیف جسٹس محمد نور مسکان زئی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جماعت اسلامی سمیت دیگر دینی جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت کی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے پہلے توعدالتی دائرہ اختیار کے حوالے سے اٹارنی جنرل کے موقف تبدیل کر نے کو مسترد کر دیاتھا، مگر تازہ سماعت میں عدالتی دائرۂ اختیار کے حوالے سے درخواست پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔ عمران حکومت کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کرنے کا دوسرا ثبوت اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا رویہ ہے۔ عدالتی ہدایت کے باوجود اس سماعت پر بھی سٹیٹ بنک کی جانب سے تحریری جواب جمع نہیں کروایاگیا۔اسٹیٹ بنک نے سودی نظام کے خلاف مقدمات میں طویل التوا کی درخواست دی، جوشرعی عدالت نے مسترد کر دی۔چیف جسٹس محمد نورمسکان زئی نے کہاہے کہ ’’سود کا خاتمہ آئینی تقاضا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

مولانا عبدالاکبر چترالی کا امتناع سود بل۲۰۱۹ء

  ۲۰۰۲ء میں جب سود کے خاتمے کا مقدمہ مشرف کی خواہش پر شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا، تو اس مقدمے کے غم زدہ مدعیوں اور ورثاء میں جماعت اسلامی بھی شامل تھی۔اگرچہ کچھ اور جماعتوں، اداروں اور افرد نے بھی سود کے خلاف مقدمے میں حصہ لیا،لیکن حکومتی عدم دل چسپی اور حوصلہ شکنی کی وجہ سے بعض اوقات سماعت کے موقعے پر صرف جماعت اسلامی کے وکیل ہی نظر آتے تھے۔مختلف حکومتوں کی خواہش تھی کہ سود کے خلاف پاکستانی عوام کی عدالتی جدوجہد ہمیشہ کے لے دم توڑ دے،مگر جماعت اسلامی اوراس کے وکلا کی بھرپور کوششیں جیسے تیسے اسے زندہ رکھنے میں کامیاب رہیں۔ فروری ۲۰۱۹ء میں جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبد الاکبر چترالی کا قومی اسمبلی میں سود کے خلاف بل پیش کرنا بھی جماعت اسلامی کی انھی کوششوں کا تسلسل ہے۔

مولانا چترالی نے امتناع سود کابل پیش کیا ،تو حزبِ اقتدار یا حزبِ اختلاف کے کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ اس طرح بل قائمہ کمیٹی برائے قانون کوبھیج دیاگیا، تاہم کمیٹی کی سُست رفتار کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی سود کے خاتمے میں زیادہ سنجیدہ نہیں۔ اس امتناع سود بل میں۲۹ مقامات کو نشان زد کیا گیا ہے، جہاں سود کی ناپاک مداخلت اور سودی قوانین کو ہدف بنایا گیاہے، جن کے ذریعے پاکستان میں سودی معیشت کو تحفظ حاصل ہے۔

مولانا عبد الاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں اپنے بل کے حق میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’قومی اسمبلی کے سپیکر اور وزیراعظم سمیت تمام ارکان اسمبلی نے پاکستا ن کے آئین پر حلف اْٹھایا ہواہے۔ا س آئین میں اللہ رب العالمین کوحاکم اعلیٰ اور قرآن و سنت کو سپریم لا تسلیم کیا گیا ہے۔ اس آئین میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ یہاں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں کی جا سکے گی۔اس آئین کی دفعہ ۳۸ -الف کے تحت سود کا خاتمہ بھی ایک اہم آئینی تقاضا ہے۔ ہمارا آئین سود کو حرام کہتا ہے، مگر ہمارا عمل اس کے خلاف ہے۔ ہمارے سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۸ء تک پانچ برسوں میں پاکستان پر۲۴؍ ارب ۳۲کروڑ بطورسود واجب الادا تھا۔سود کی ادائیگی کے لیے گذشتہ سال کے بجٹ میں تقریباً ۱۷۰۰؍ ارب روپے مخصوص کیے گئے تھے،جو اَب بڑھ کر ۳۰۰۰؍ارب ہو چکے ہیں۔سود کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا پورا دفاعی بجٹ سود کی سالانہ قسط کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔ یعنی نہایت خطرناک رفتار سے سود کی ادائیگی کے لیے ہر گزرتے سال کے ساتھ بجٹ میں مختص رقم بڑھ رہی ہے۔ اگر ایک سال میں سود کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آیندہ ایک دو سال میں سود کے لیے مختص بجٹ چار پانچ ہزار ارب تک پہنچ جائے گا۔اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے مستقبل قریب میں پاکستان کا سارا بجٹ ہی سود کھا جائے گا۔ اسلامی بنکاری میں اضافے کے خوش نما اعلانات تو بہت کیے گئے،مگرگذشتہ ۱۷برس میں ہم اسلامی بنکاری میں کوئی اضافہ نہیں کر سکے۔ ملک میں ۸۴فی صد سودی بنکاری کے مقابلے میں اسلامی بنکا ری کا حجم صرف ۱۶ فی صد ہے‘‘۔

قومی اسمبلی میں مولانا عبدالاکبر چترالی کے پیش کردہ ’امتناعِ سود بل‘ پر بحث ومباحثے کے بعد جب کچھ سب کمیٹیاں بنائی گئیں تو مولانا چترالی کے کہنے پرچند علما کو بھی سب کمیٹیوں میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس کمیٹی میں مولانامفتی تقی عثمانی صاحب کو بھی شامل کیا جائے۔ ۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء کے اجلاس میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا نام شامل تھا،لیکن انھوں نے اس اجلاس میں شرکت سے اس لیے معذرت کر لی کہ ان کو بتایاہی نہیں گیا کہ وہ کس حیثیت سے شریک ہورہے ہیں۔اس کے بعد سے کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا۔یاد رہے کہ مفتی صاحب ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کے اس شریعت اپیلٹ بنچ کے ایک اہم رکن تھے،جس نے سود کے خلاف فیصلہ لکھا تھا۔

’ امتناعِ سود بل‘ کے موضوع پر قائمہ کمیٹی کے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں۔ ابتدائی اجلاسوں میں حکومتی مالیاتی پالیسی کی نمایندگی کے لیے سٹیٹ بنک کے اعلیٰ افسر شریک ہوتے رہے، جنھوں نے پورا زورسودی بنکاری کی حمایت پر لگادیا۔تیسرے اجلاس میں مولانا عبدالاکبر اور سٹیٹ بنک کے ایک اہل کار کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس موقعے پرمولانا  چترالی نے مطالبہ کیاکہ آیندہ ماتحت افسروں کے بجائے گورنر اسٹیٹ بنک کو اجلاس میں بلایاجائے۔ چنانچہ چوتھے اجلاس میں گورنر سٹیٹ بنک اور وزیر خزانہ شریک ہوئے۔اس اجلاس کے آخر میں سٹیٹ بنک کے گورنر نے درخواست کی کہ مذکورہ بل انھیں دے دیا جائے،تاکہ وہ متعلقہ افسروں کے ساتھ مشاورت کرکے آیندہ اجلاس میں قابل عمل تجاویز پیش کر سکیں۔ اس کے لیے انھوں نے دوماہ کا وقت مانگا۔ کمیٹی نے دو ماہ دے دیے، دوماہ مزید مانگے، وہ بھی دے دیے گئے۔ چار ماہ بعد پھر ایک ماہ کی مزید مہلت مانگ لی،مگرپانچ ماہ پورے ہونے سے پہلے کرونا کی وباکا مسئلہ سامنے آگیا، تو چارماہ کی مزید تاخیر ہو گئی۔ اگست۲۰۲۰ء میں انھوں نے کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ پیش کی اس کا اس بل سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا،بلکہ یہ سٹیٹ بنک کی وہ پانچ سالہ رپورٹ تھی، جو بنک ۲۰۰۲ء سے پیش کرتا چلا آیا ہے۔ باعث حیرت بات یہ ہے کہ سٹیٹ بنک کی طرف سے پون سال گزرنے کے باوجود امتناع سود کے بل میں نہ توکوئی ترمیم لائی گئی نہ کوئی تجویز ہی شامل کی گئی۔ اس پر مولانا چترالی صاحب نے سوال اٹھایا کہ ہمیں بتایا جائے اس رپورٹ کا ہمارے پیش کردہ امتناعِ سود بل سے کیا تعلق ہے؟

اگرچہ حزب اقتدار اور اپوزیشن کے متعدد ارکان نے مولانا عبدالاکبر چترالی صاحب کو یقین دلا یاہے کہ وہ اس بل کو پاس کرانے میں پوری مدد کریں گے،لیکن ماضی میں بھی کئی بار اس قسم کے خوش نُما وعدے کیے جا چکے ہیں،جن پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔اگر موجودہ وفاقی حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ یہ بل بھی سُود کے خلاف سپریم کورٹ کے مقدمے کی طرح لٹکارہے ۔ اور حکومت کی جانب سے بھی وہی روایتی تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چھیڑی ہوئی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور سودی قرضوں سے نجات پانے کے بجائے نئے سودی قرضے چڑھائے جاتے ہیں، توموجودہ حکومت بھی یاد رکھے کہ بدترین ناکامی اور ذلت و رُسوائی کے سوا اسے بھی کچھ حاصل نہ ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کی شانِ ربوبیت ورحمت کائنات کی ہر چیز سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ رحمٰن ورحیم ہے (الفاتحہ )۔ اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ارشار ہے:

وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ (اعراف۷ :۱۵۶)اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ۝۰ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ۝۳۳ۚ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ ۝۰ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا ۝۰ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۝۳۴ۧ (ابراہیم ۱۴:۳۳-۳۴) اور اس( اللہ) نے سورج اور چاند کو تمھارے لیے مسخر کیا کہ لگا تار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمھارے لیے مسخر کیا۔ اور تم کو وہ سب کچھ دیا جوتم نے مانگا (یعنی تمھاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی )۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے۔ بے شک انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔

تفہیم القرآن میں ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ مسخر کرنے کا مطلب ان کو ایسے قوانین کاپابند بنانا ہے، جس کی بدولت یہ انسان کے لیے نافع ہوگئے ہیں۔

اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کا کسی ایک زاویے سے بھی احاطہ کر پانا ناممکن ہے۔ اس مضمون میں دھوپ اور سایے کے تعلق سے ان پر کچھ نظر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دھوپ اور سایہ بظا ہر متضاد چیزیں ہیں۔ سایے کو عام طور پر راحت اور آرام کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ دھوپ میں بظاہر ایسانہ ہو لیکن ذرا غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دھوپ خود کاروبارِ زندگی لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ دوسرے دھوپ ہی سایے کی اہمیت اور افادیت کی پہچان بنتی ہے۔ اگر دھوپ نہ ہو تو سایہ بھی نہیں رہتا۔

جس طرح گھنا سایہ رب کریم کی رحمتوں کا مظہر ہے اسی طرح دھوپ کو بھی اس نے سایے دار درخت اور اس کے ساتھ ہی دوسری زمینی مخلوقات کے لیے رحمت اور رزق کا سامان بنا دیا ہے۔  وہ اس دھوپ کو قابل برداشت اور اکثر صورتوں میں خوش گوار ربنائے رکھتا ہے۔

سایہ دار درخت اور زمین پر پھیلے ہوئے تمام پیڑ پودے ، جڑی بوٹیاں سورج کی روشنی (دھوپ) میں ہی اپنی خوراک بناتے ہیں اور نشونما پاتے ہیں اور اسی عمل میں وہ ماحول کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن نکالتے ہیںجو زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس دوران استعمال ہونے والی سورج کی توانائی (Solar Energy) کا ایک حصہ پیڑ پودوں کی پتیوں، ڈالوںاور تنوں میں محفوظ ہو جاتا ہے جو انھیں جلا کر دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح پیڑ پودے شمسی توانائی کے بہترین ذخیرے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَآ اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ۝۸۰  (یٰسٓ  ۳۶:۸۰) (اللہ) جس نے تمھارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے لیے آگ سلگاتے ہو۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ۝۷۱ۭ  ءَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ۝۷۲  نَحْنُ جَعَلْنٰہَا تَذْكِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ۝۷۳ۚ (الواقعہ۵۶:۷۱-۷۳)کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاد دہانی کا ذریعہ اورحاجت مندوں کے لیے سامانِ زیست بنایا۔

آج کل شمسی توانائی کو محفوظ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جن سے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے ۔ جگہ جگہ دھوپ کے مواقع پر سولرپینل (Solar Panels ) لگ رہے ہیں اور دھوپ سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ ان فوائد سے بڑھ کر پیڑ پودوں کے پھل پھول اور پتیاں ہی انسانوں اور جانوروں وغیرہ کی غذا بنتے ہیں اور  انھی سے پھر گوشت اور دودھ وغیرہ بھی بنتے ہیں ۔ اس طرح پیڑ پودے خاموش خدمت میں لگے ہوتے ہیں جس کا سارا انتظام رب کریم کی طرف سے ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کا بیان مختلف انداز میں ہوا ہے۔ (المؤمنون ۲۳:۱۷۔۲۲ ،قٓ۵۰:۶۔۱۱)

سورۃ الشعراء میں ارشاد ہے:

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَـتْنَا فِيْہَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ۝۷ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً ۝۰ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۸  وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝۹ۧ (الشعراء ۲۷:۷-۹)کیا انھوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ، ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اُگارکھی ہیں؟ اس میں بے شک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور بے شک تمھارا رب غالب بھی ہے، مہربان بھی۔ (ترجمہ تدبر قرآن  ، از مولانا امین احسن اصلاحی )

سورۂ شعراء میں خاص طور سے انبیائے سابقین کے حالات زندگی سے رب کریم کی رحمت اور قدرتِ کاملہ کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں اور نبی ؐ پر ایمان لانے سے انکار کرنے والوں کو ان کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے، لیکن سب سے پہلے (آیت ۲۷:۷) شانِ رحمت وربوبیت کی وہ نشانی  پیش کی گئی ہے جو سب کے سامنے ہے اور تھوڑے غورو فکر سے بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

دھوپ اپنی ساری افادیت کے باوجو داگر مستقل طور پر ہمارے اوپر پھیلی رہے تو ایک مصیبت بن جائے جس کا اندازہ گرمیوں میں ہوتا ہے، اور سردیوں میں اس کا بھی اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے کہ دھوپ ہماری زندگی کے لیے کتنی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیقات اس پر روشنی ڈالتی ہیں کہ اگر ایک لمبی مدت تک زمین سورج کی روشنی سے محروم ہو جائے تو موجود ہ نظام میں زمین پر زندگی معدوم ہو سکتی ہے، لیکن رب کریم نے دن کا ایک معتدل فیض بخش نظام قائم فرمایا ہے۔زمین اپنی دھرے (Axis ) پر تقریباً ۲۴ گھنٹوں میں ایک چکّر پورا کرتی ہے، جس سے رات اور دن باری باری آتے رہتے ہیں، اور اپنے دھرے پر تقریباً ۲۳ ڈگری زاویے پر جھکی رہتے ہوئے سورج کے گرد سال (تقریباً ۴/۱، ۳۶۵ دن ) میں ایک چکّر پورا کرتی ہے۔ جس سے رات، دن گھٹتے بڑھتے ہیں اور موسم کی تبدیلی وغیرہ جیسے بے شمار فوائد اعتدال کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہے:

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّۃٍ ۝۰۠ وَّتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝۱۶۴ (البقرہ۲: ۱۶۴) بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدایش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں ان چیزوں کے لیے چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں۔ اور اللہ نے جو آسمان سے پانی نازل کیا، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو جو مُردہ ہوچکی تھی زندہ کیا اور ان ہر قسم کے جانوروں میں جواس نے زمین میں پھیلائے ہیں اور ہوائوں کے پھیر بدل میں اور ان بادلوں میںجو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کردیے گئے ہیں عقل مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

دن اور رات بھی دھوپ اور سایے کی بڑی اور پھیلی ہوئی شکلیں ہیں۔ زمین کے جس آدھے حصے پر سورج چمک رہا ہوتا ہے، اسی کا سایہ دوسرے آدھے حصے پر پڑتا ہے اور وہاں رات ہوتی ہے ۔ کاروبار زندگی کے لیے دن اور رات کا مناسب رفتار سے آنا جانا جو اہمیت رکھتا ہے واضح ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ۝۰ۚ وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَہٗ سَاكِنًا ۝۰ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْہِ دَلِيْلًا۝۴۵ۙ ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا۝۴۶ وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا۝۴۷  (الفرقان ۲۵: ۴۵- ۴۷)کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سایے کو کس طرح پھیلادیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھیرا ہوا ہی کر دیتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنا دیا (یعنی دھوپ سے ہی سایے کا پتا چلتا ہے۔ اگر سورج نہ ہو تو سایہ بھی نہ ہو )۔ پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا اور وہی ہے جس نے رات کو تمھارے لیے پردہ بنایا اور نیند کو راحت بنایا اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت (جوکاروبار زندگی کے لیے ضروری ہے )۔

سورۂ قصص میں بھی یہ بات کچھ اور وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ارشاد ہوا:

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْہِ ۝۰ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۝۷۲ وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۷۳ (القصص ۲۸:۷۲-۷۳) ان سے کہو کیا تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمھیں رات لادے، تا کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سوجھتا نہیں؟ یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں ) سکون حاصل کرو اور (دن میں) اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔

رب کریم کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ ہماری زندگیوں میں ایسی شامل ہیں کہ اکثر ان کی قدر وقیمت کا احساس نہیں رہتا۔

اَللّٰھُمَّ اَعِنَّا عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِ کَ وَ حُسنِ عِبَادَتِکَ ، اے اللہ ! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرا ذکر، تیراشکر اور تیری عبادت بہ حسن وخوبی کرتے رہیں۔

ہمیں اپنی زندگی میں ایسی منصوبہ بندی کرنے کی عادت ہونی چاہیے کہ آیندہ پوری زندگی اس انداز سے گزرے کہ ہمار ا آج کا دن، گذشتہ کل سے بہتر ہو اور آنے والا دن آج کے دن سے بہتر ہو۔اے اللہ تو ہمارے آج کے دن کے پہلے حصے کو ہمارے کاموں کی درستی، درمیانے حصے کو بہبودی اور آخری حصے کو کامرانی بنادے، آمین!

یا د رکھیے وقت کو بچایا نہیں جاسکتا بلکہ اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کو ہی وقت بچانا سمجھا جاتا ہے۔وقت کی بچت کے سلسلے میں سب سے زیادہ مددگار اور معاون وہ شعور اورسوچ ہوتی ہے جو انسان وقت کی نسبت سے اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر پہلوئوں پر ہماری نظر رہنی چاہیے ، جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

یہاں وقت بچانے کے حوالے سے مختلف ماہرین کی آرا اور مشوروں کو جمع کیا گیا ہے۔ ان ماہرین نےاپنے اپنے تمدن و ثقافت اور حالات کے مطابق مشورے دیے ہیں۔چند دن ان مشوروں پر عمل کریں، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ نتائج غیر متوقع طور پر کتنے حوصلہ افزا ہیں۔  ہم نے ان مشوروں اور اشارات کو تین گروپس میں تقسیم کیا ہے : l ذاتی یا انفرادی زندگی اور تعلیمی زندگی

  • معاشی زندگی (دفتر اور کاروبار)
  • معاشرتی یا قومی زندگی۔

ذاتی یا انفرادی اور تعلیمی زندگی

  • وقت پرکنٹرول حاصل کرنا یا اس کا نظم و نسق، بہتر زندگی کی طرف پہلا قدم ہے۔ سب کو روزانہ وقت کی مساوی مقدار ملتی ہے۔ اب یہ انسان کے اپنے اختیار اور کنٹرول کی بات ہے کہ وہ کس طرح وقت کے اس قیمتی سرمائے کو استعمال کرتا ہے اور کس طرح اس کی مدد سے اپنی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔
  • جو لوگ وقت کو قابو میں کرنا چاہتے ہیں وہ یہ بات یا د رکھیں کہ وقت کو کسی بھی حالت میں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا لیکن انسان اپنے آپ کو کنٹرول کر کے ہی وہ نتائج حاصل کر سکتا ہے، جو وقت کو کنٹرول کرنے کے تصور سے وابستہ ہیں۔ کہنے کو ہم وقت گزار رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیں گزار رہا ہوتا ہے۔
  • کیلنڈر استعمال کیجیے۔اپنے کاموں کے لیے مناسب کیلنڈر، ڈائیری یا سوفٹ ویئر استعمال کیجیے اور اس کے ذریعے اپنے اوقات کی منصوبہ بندی کیجیے۔ اپنے کاموں کی شیڈولنگ کیجیے۔
  • اپنی ہفتہ وار اور ماہانہ منصوبہ بندی کیجیے۔
  • اپنے آپ کو منظم کرنے کے لیے اور اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے کچھ خرچ کرکے کتابیں، کیلنڈر، ڈائری ، نوٹ بک وغیرہ خریدنے کی کوشش کیجیے۔ یہ چیزیں پلاٹ کی مانند ہیں، کچھ عرصے کے بعد آپ کواس سے فائدہ حاصل ہوگا۔
  • اپنے شب و روز کا جائزہ لیجیے اور ٹی وی یا انٹر نیٹ کو دیا جانے والا وقت کم کیجیے۔
  • وقت کو بہتر طور پر اسی وقت گزارا جا سکتا ہے، جب اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہو۔ صرف کام کاج کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ گھر والوں کے ساتھ گزارے جانے والے وقت، خریداری، تفریح، ورزش، کھانے پینے، روز مرہ کے کاموں اور دیگر امور کے حوالے سے بھی زیادہ سے زیادہ منصوبہ بندی کیجیے۔
  • اپنی فون کالز، ای میلزاور برقی پیغامات یا خطوط کا جواب دینے کے لیے وقت مختص کرنا چاہیے تاکہ اس سلسلے میں وقت نہ ضائع ہو اور نہ بہت کم مختص کیا ہوا محسوس ہو۔
  • وقت کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو وقت جس کام کے لیے مختص کیا ہے، عموماً اس وقت وہی کام ہونا چاہیے ، اورپھر اپنی ساری توانائی اس کام پر خرچ کردیں تاکہ وہ کام اسی وقت کے اندر ہوجائے۔ یہ منصوبہ بندی کا حاصل ہے۔
  • کام کرتے وقت بہت ساری چیزیں خود آپ کو یاد آتی ہیں جو توجہ کو منتشر کرتی اور انہماک میں خلل ڈالتی ہیں۔ جب آپ منصوبہ بندی کے تحت کوئی کام کرنے بیٹھیں تو انہماک میں خلل ڈالنے والی ہر چیز کو آنے سے روکنے کی صلاحیت بیدار کرلیں۔
  • کام کے دوران ہر چالیس منٹ کے بعد تین منٹ کا وقفہ ضرور کریں۔ اسی انداز سے اپنی مصروف زندگی میں سے چند لمحات فراغت کے نکال کر سیر کیجیے یا دماغی تھکن دُور کیجیے۔
  • ہر روز صبح اپنا دن بھر کا منصوبہ بنالیں اور جو کام آپ کو سارے دن میں کرنے ہیں، انھیں کسی ڈائری یا کاغذ پر لکھ لیجیے۔ جو کام مکمل ہو جائیں انھیں کاٹ دیں۔
  • کاغذ یا چھوٹی نوٹ بک ہمیشہ اپنی جیب میں رکھیں تاکہ فارغ اوقات میں جب کوئی منصوبہ یا نیا خیال آپ کے ذہن میں آئے تو اسے فوراً لکھ لیں۔خیال بھی ایک نعمت ہے۔ اسے پکڑنے کے لیے اپنے پاس نوٹ بک کا جال تیا ر رکھیے۔یہ کام آپ اسمارٹ فون کے ذریعے بھی کرسکتے ہیں۔
  • آرام کے اوقات کو نماز کے اوقات سے ہم آہنگ کر لیں۔
  • اپنے فارغ اوقات کو لکھنے پڑھنے ، سوچنے یا کوئی تعمیری کام کرنے میں استعمال کریں۔
  • اگر آپ کا گزر اپنے پسندیدہ فلنگ اسٹیشن (پٹرول پمپپ) کے پاس سے ہو تو اپنی کار کی پوری ٹنکی بھروالیں، تاکہ صرف ایندھن لینے کے لیے آپ کو وہاں کا سفر نہ کرنا پڑے۔
  • ہروقت کچھ نہ کچھ کھلے پیسے یا ریزگاری اپنی جیب میں ضرور رکھیں، بصورت دیگر آپ کو مشکل صورت حال پیش آ سکتی ہے۔
  • ہر کام کے لیے صحیح اورمناسب طریقۂ کار اختیار کرکے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  • وقت میں برکت کے لیے تقویٰ کی روش ضروری ہے۔صبح اٹھنا ضروری ہے۔ اللہ سے برکت کی دعا کرنا ضروری ہے۔
  • بعض معاملات میں انکار کردینا یا منفی جواب دینا، مثلاً یہ کہہ دینا کہ یہ نہیں ہو سکتا، معذرت خواہ ہوں، ممکن نہیں، اصول کے خلاف ہے، میرے پاس وقت نہیں، کسی اور وقت رجوع کریں وغیرہ ضروری ہوتا ہے۔کچھ لوگ اس رویے کو رواداری کے خلاف سمجھتے ہیں۔
  • چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک ہی وقت میں نمٹانے کی کوشش کیجیے۔
  • ان مسائل کے بارے میں جو کہ آپ کےاوقات کو کھا جاتے ہیں یا آپ ان کا نام تساہل یا بیماری دیتے ہیں انھیں حل کرنے کے لیے ماہرین کی مدد لیں۔جو کام چند پیسے لے کر ایک کاریگر کرسکتا ہے، اس کام کو آپ خو د کرکے اپنے وقت کو مت ضائع کریں۔
  • انتظار کے لمحات کو بہتر طور پر استعمال کرنے لیے اپنے پاس کتاب رکھیں۔
  • یومیہ شیڈول بک استعمال کیجیے اور اپنے اوقات کے مصارف تحریر کیجیے اور ہفتہ وار جائزہ لیجیے۔
  • یومیہ کاموں کی ترجیحات ان کی اہمیت کے مطابق ترتیب دیجیے۔ اہم ترین کاموں کو اوّل وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔
  • اپنی ہفتہ وار بیلنس شیٹ بنائیے اور اپنی پروگریس کا جائزہ لیتے رہیے۔
  • ہر کام اور ہر پروجیکٹ کے لیے ایک لائحہ عمل بنانے کی کوشش کیجیے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایک نقشہ ساز کی طرح پہلے نقشہ بنائیں گے اور پھر اس کے بعد تعمیر شروع کریں گے۔
  • اپنے لیے قابل عمل مقاصد متعین کیجیے۔ان مقاصد کی منازل بھی متعین کریں۔
  • اپنے ٹیلی فون کے وقت کو کنٹرول کریں ۔ حال احوال میں زیادہ وقت نہ لگائیں۔
  • اپنی صحت ، توانائی اور قوت کار کا خاص خیال رکھیں۔صحت کے حوالے سے تنگ کرنے والی علامات کے سلسلے میں ڈاکٹر یا طبیب سے مشورہ کریں۔
  • آپ کے اوقات کی پچاس فی صد مقدار آپ کے اہم کاموں میں لگنی چاہیے۔
  • توازن اور اعتدال کی حدود میں رہیں۔اس سے باہر نکلے تو وقت اور منصوبے کو نقصان پہنچے گا۔
  • تعلقات میں احتیاط کریں۔ فیس بک کی دوستیاں صرف وقت گزاری ہیں۔ دوستوں کی فیکٹریاں بھی مت کھولیں۔ دوست بہت کم ہوتے ہیں بقیہ واقف کار ہوتے ہیں۔ ضرورت کے وقت فائدہ اٹھانے والے لوگوں کو دوست نہیں کہا جاتا۔
  • اپنے معاملات کو تحریر کریں۔ اپنے خیالات کو تحریر کریں۔ اپنے کرنے کے کاموں کو تحریر کریں۔ اپنی وصیت تحریر کریں۔ اہم چیزیں اور کاروباری معاملات اور اثاثہ جات  نوٹ بک میں لکھ لیں یا گھر والوں کو بتا دیں کہ کہاں رکھے ہیں۔ موت بتا کر نہیں آتی۔
  • ہفتہ وار چھٹیوں اور دیگر چھٹیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ تھکا دینے والے کاموں کو گھر والوں کے ساتھ بطور تفریح کریں تا کہ یہ کام آسانی کے ساتھ ہوجائیں۔
  • اپنے اور اپنے خاندان کے ذاتی ریکارڈ کو ترتیب اور منظم طریقے سے رکھیں۔ہر فرد کے لیے ایک فولڈر بنائیں اور اس میں اہم کاغذات جیسے برتھ سرٹیفیکیٹ، بلڈ گروپ، میڈیکل ریکارڈ، تعلیمی ریکارڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور اسی قسم کے دوسرے اہم کاغذات رکھے ہوں۔
  • کرایہ اور ٹیلی فون، بجلی، گیس، موبائل اور دیگر بلوں کے لیے ایک جگہ ضرور بنالیں۔
  • اپنے آپ میں لچک پیدا کریں اور ضد اور ہٹ دھرمی سے بچیں۔غم میں وقت نہ جلائیں۔
  • مناسب آرام، اچھی صحت، متوازن غذا، باقاعدگی سے ورزش، منصوبہ بندی اور محنت کے ساتھ فرائض کی ادایگی، تفکرات کی اللہ کو سپردگی، اللہ کی نعمتوں کا شکر اور محنت کے ساتھ توکّل اور دعا ___ یہ عناصر آپ کو ترقی دینے اور کامیاب بنانے میں اہم ہیں۔
  • ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا بغیر لگام کا گھوڑا ہے۔ جو وقت کی فصل کو روند ڈالتا ہے۔ اسے سرخ بٹن کے ذریعے کنٹرول میں رکھیں تاکہ وقت کے گھوڑے سے آپ گر نہ جائیں۔
  • تعلیم اور مطالعہ کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔

معاشی زندگی ،دفتر یا کاروبار

  • جب آپ کوئی وقت مقرر کریں تو اس امر کا یقین حاصل کر لیں کہ دونوں فریق اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ صحیح وقت کیا ہے۔اسے دوبارہ دُہرا کر پختہ کرنا بہتر ہے۔
  • مقررہ مقام پر پہنچنے کے لیے سفر میں کچھ نہ کچھ گنجایش غیر متوقع حالات کے لیے بھی رکھ لی جائے تاکہ مقررہ مقام پر بر وقت پہنچنے میں آپ کو کوئی دشواری نہ ہو۔
  • اگر آپ کوئی مقصد ایک خط لکھ کر یا ٹیلی فون کے ذریعے حاصل کرسکتے ہوں تو کوشش کریں کہ ذاتی طور پر متعلقہ لوگوں سے ملنے میں دوطرفہ وقت ضائع نہ ہو۔
  • چھوٹے چھوٹے معاملات پر فیصلے جلد ہوجایا کریں تو اس سے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  • دوسروں کے کاموں میں بے جا مداخلت سے پرہیز کیا جائےتاکہ وقت بچایا جائے۔
  • دوسروں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔ دوسروں کو انتظار کی زحمت مت دیجیے۔
  • تیزی سے کام کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مار دھاڑ کے ساتھ کام کریں بلکہ   سُست رفتاری سے بچتے ہوئے اسے مقررہ وقت میں کرنے کی کوشش مرادہے۔
  • ای میل کا جواب تحریر کرکے تھوڑی دیر اسے اپنی سوچ کے فریم میں رکھیے اور اگر کوئی جذباتی بات یا غیر مناسب جواب تحریر کرلیا گیا ہے، تو اسے بھیجنے سے پہلے اہتما م کے ساتھ بار بار دیکھیے۔ کوشش کیجیے کہ اگلے روز جواب بھیجا جائے۔
  • کئی کالز کو جمع کرکے ایک وقت میں فون کرنے کی کوشش کریں۔
  • عام معاملات میں فون پر کوشش کریں کہ تین منٹ میں بات ختم ہوجائے ورنہ پانچ منٹ سے زائد بات کرنا وقت کے ساتھ ظلم ہے۔
  • میٹنگوں کو کم از کم کرنےکی کوشش کریں اور وہ بھی ایجنڈے کے مطابق۔ میٹنگوں کو ادارے کے مفاد کے لیے استعمال کیجیے اور اسے بحث و مباحثے کا میدان مت بنائیے۔
  • دوپہر کے کھانے کے بعد چند لمحات آرام کرلیں۔یہ آپ کے لیے قوت عمل کا باعث ہوگا۔
  • ہم ہر کام نہیں کرسکتے۔ ان مصروفیات پر توجہ دیجیے جو بہت اہم ہیں۔ کم نفع مند کاموں کو مؤخر کرسکتے ہیں یا پھر کسی کو تفویض کرسکتے ہیں۔
  • اپنے وقت کا ریکارڈ رکھیے اور جائزہ لیتے رہیے کہ کتنا کارآمد اور کتنا غیر کارآمد خرچ ہوا۔
  • اپنے اہم کاموں کو اس وقت کرنے کی کوشش کیجیے، جب آپ کے جسم میں قوت زیادہ ہو۔
  • وہ کام جن کو کرنےکو طبیعت مائل نہیں ہورہی ہے، انھیں جلد ازجلد کرنے کی کوشش کیجیے۔
  • غیر متوقع کے لیے بھی متوقع رہیے اور اُن کاموں کو بھی اپنے شیڈول کا حصہ بنائیے جو غیرمتوقع طور پر آجاتے ہیں۔
  • جب بہت زیادہ کام آجائیں تو اپنے کاموں کے دو گروپ بنالیں۔ آج کے کرنے کے کام اور وہ کام جو کل ہو سکتےہیں۔ ترجیحات کا تعین کر لیجیے۔
  • اعلیٰ ترین کام کرنے والا (اکملیت پسند) بننے کی کوشش نہ کریں بلکہ کام کو اپنی استعداد کے مطابق احسن اور بہترین طریقے سے کرنے کی کوشش کریں۔
  • بعض اوقات غیرضروری سوچ اور بہت بڑی منصوبہ بندی بھی آپ کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری عمل بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔تساہل آپ کو کام شروع کرنے سے روکتا ہے اور اکملیت پسندی آپ کو کام ختم کرنے سے روکتی ہے۔
  • اپنے آپ میں اور اپنے رویے میں لچک رکھیے۔ اتنے سخت بھی نہ بن جائیے کہ ٹوٹنا پڑے۔ اتنے نرم بھی نہ بنیں کہ لوگ آپ کو موڑ توڑ کر رکھ دیں۔
  • ایک جیسے کام ایک جگہ جمع کرلیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک وقت میں نمٹائیے۔
  • ہمیشہ اپنی ترجیحات پر توجہ دیں، اپنی مصروفیات پر نہیں۔
  • فیصلے کرنے میں تاخیر نہ کیجیے اور دوسروں کے اوقات کی قدر کیجیے۔
  • اپنے دفتر کے ساتھیوں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔
  • اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے رہیے اور اپنی اصلاح کرتے رہیے۔
  • اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا سیکھیں۔
  • اپنی تحریر کو بہتر بنائیے۔ لہجے میں شیرینی لانے کی کوشش کیجیے۔ تیکھے لہجے سے احتراز کیجیے۔
  • جو چیزیں اور معاملات عموماً تنگ کرتے ہیں ان کا حل نکالنے کی کوشش کیجیے۔
  • جب کام ختم کرلیں تو پھر اسے سائڈ پر رکھ دیں اور بار بار اس پر نظریں نہ دوڑائیں۔
  • اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں۔ ان کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ انسانوں کے ساتھ غرور اور تکبر کا رویہ آپ کو بہت جلد بغیر سیڑھیوں کے زمین پر پہنچا دےگا۔
  • میٹنگ سے پہلے ہمیشہ پچھلی میٹنگ کی روداد اور اگلی میٹنگ کا ایجنڈا بھیج دیں۔
  • اپنے اسٹاف کی استعداد کار کا اندازہ بھی رکھیں اور ان کا خیال بھی رکھیں۔
  • زندگی کی جائز تفریحات سے فائدہ اٹھائیں۔
  • معذرت کرنے کا فن استعمال کریں۔ جو کام نہیں کرسکتے اور جو کام آپ کے مقاصد کے مطابق نہیں ہے، اس سے معذرت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
  • دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی دنیا اور اپنی آخرت تباہ نہ کریں۔ اپنی نوکری بچانے کے لیے دوسروں کی کرپشن کا حصہ بن گئے تو دوسرے اتنے طاقت ور ہوجائیں گے کہ وہ اپنے آپ کو تو بچالیں گے اور جیلیں ذلّتیں آپ کاٹیں گے اور مقدمات کی رقومات آپ کی نسلیں (وراثت سے) ادا کریں گی۔
  • اپنے آپ کو اوور کمٹ نہ کریں۔ انسان خود بے وقوفی کرکے اپنے اوپر بوجھ لادتا ہے۔
  • ایک وقت میں ایک چیز یا ایک کام کریں۔ بیل گاڑی یا ٹرانسپورٹ کنٹینر بننے کی کوشش نہ کریں۔
  • جو کام شروع کریں اسے ختم بھی کریں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے اور اس سےآپ کی کامیابی کے راز وابستہ ہیں۔ اس عادت سے آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
  • اپنی شخصیت اور رویے میں لچک پیدا کریں۔ ہٹ دھرمی انسانی تعلقات میں زیب نہیں دیتی۔
  • اچھی طرح سے اور غلطیوں سے پاک کام کرنے کی کوشش کریں۔احسن طریقے سے کام کریں کیونکہ یہ انسانوں سے مطلوب ہے۔
  • ناممکن کاموں کو کرنے کی کوشش نہ کریں۔
  • افراد کی تربیت کریں اور انھیں زیادہ سے زیادہ اُمور تفویض کریں اور آگے بڑھنے کا موقع دیں۔
  • مداخلتی چیزوں کا جائزہ لیں اور انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔
  • اپنے ہر کام کے لیے ٹارگٹ دیں اور مقررہ وقت میں اسے کرنے کی کوشش کریں۔
  • غیر ضروری چیزوں کا مطالعہ نہ کریں اور روزانہ آنے والی ای میلز کو بھی فلٹر کرلیا کریں۔
  • جب کسی کام میں کامیابی ہوجائے تو اس کی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رب کا شکر ادا کیجیے اور اپنے معاونین کی ان کی محنت پر حوصلہ افزائی کیجیے۔ انھیں کریڈٹ دیجیے۔
  • اپنے گھر اور معاشی مقام میں فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے وقت کی بچت ہو۔
  • کام کرنے سے پہلے منطق کے سوالات اپنے آپ سے کریں: کیا؟، کیوں؟ ، کیسے؟ اور کب؟
  • گھر پر کام مت لے جائیں اور گھر کو کام پر مت لائیں۔ جب کام پر آئیں تو گھر سے رابطہ کم از کم رکھیں اور جب گھر جائیں تو گھر والوں کے حقوق ادا کریں۔دفتر والوں سے نشریاتی رابطہ کم کردیں۔ شریک حیات اور بچے اور والدین آپ سے آپ کا وقت، آپ کی باتیں اور آپ کی مسکراہٹیں مانگتے ہیں۔ ان کے لیے اجنبی نہ بنیئے۔
  • خاص اور منتخب کام کریں، جن کے بغیر گزارہ ہوسکتا ہے اسے چھوڑدیں۔
  • وہ کام جو دماغی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں ان اوقات میں کریں جب آپ کا دماغ اس کام کے لیے تیار ہو۔ (اپنی روزگار کی زندگی کی بہتری کے لیے ہماری کتاب شاہراۂ روزگار پر کامیابی کا سفر کا مطالعہ کیجیے)۔

معاشرتی یا قومی زندگی

  • کسی دوست کو اطلاع دیے بغیر یا ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیے بغیر اس سے ہرگز نہ ملیے۔اسی انداز سے اپنے دوستوں میں اس کلچر اور عادت کوپروان چڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف ہے۔ اگر آپ بغیر اطلاع کے جاتے ہیں تو اس شخص کوآپ آزمایش میں ڈال دیتے ہیں۔
  • ایسے لوگوں سے بچیں جو بے مروت اور اتنے خود غرض ہوں کہ آپ کا وقت خواہ مخواہ ضائع کرنے کی کوشش کریں۔
  • اپنی مشکل حالت میں اپنوں میں سے غیر اور غیروں میں سے اپنے دیکھنے کی کوشش کیجیے۔
  • ٹیلی فون کے استعمال میں احتیاط۔ بسا اوقات بہت ہی غیر ضروری باتیں سامنے آ جاتی ہیں اور کبھی دوسری جانب سے غیر متعلقہ باتیں اور تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے بات چیت کو مختصر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
  • فضول گوئی سے اجتناب کرکے بھی وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  • وقت کی پابندی کیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر، دفتر، معاشرے میں اور تقریبات کے حوالے سے لوگوں کو پابندیٔ وقت کی ترغیب دیجیے۔
    • مرتب کی دیگر کتابیں: مزید مطالعے کےلیے ہماری یہ کتابیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں:
      • شاہراہ ِزندگی پر کامیابی کا سفر (بقا، ترقی اور کامیابی کے لیے گائیڈ بک کئی زبانوں میں ترجمہ)
      • شاہراہِ عافیت (تاریخی نصیحت اور وصیت ناموں پر مشتمل مختصر کتاب)
      • شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر
      • شاہراہِ روزگار پر کامیابی کا سفر
      • آج نہیں تو کبھی نہیں
      • وقت کا بہتر استعمال
      • مطالعہ اور امتحان کی تیاری  
      • دُعا اور دعائیں۔

اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کی پالیسی سازی، عمل درآمد اور اثرات سے نسلی تعصب صاف جھلکتا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا (Covid-19)کی وبا نے ممالک اور اقوام میں یک جہتی کے مظاہرے دکھائے ہیں۔اس وبا کے سدِباب کے لیے دولت مند ممالک نے کورونا ویکسین کے اپنے ہاں ڈھیر لگا دیئے ہیں اور عوام کو وبا سے بچائو کے لیے و یکسی نیشن پروگرامات بھی شروع کیے ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل کو اپنی قوم کو ویکسی نیشن کے عمل سے گزارنے والا پہلا ملک قرار دیا گیا ہے۔

۱۹؍دسمبر کو اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یا ہو نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں فائزر بائیو ٹیک کوویڈ-۱۹  ویکسین وصول کی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں قومی ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز ہو گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے دو ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ اسرائیلیوں کو یہ ویکسی نیشن لگا دی گئی۔ یوں آبادی اور رقبے کے اعتبار سے ایک چھوٹے سے ملک کی کم و بیش ۱۲فی صد آبادی کو کوویڈ -19کی ویکسی نیشن دینے والا سب سے پہلا ملک اسرائیل بن گیا۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا ، یہ بھی نسلی منافرت کی انوکھی مثال ہے۔

دنیا بھر میں سب ممالک پر سبقت لے جانے میں اسرائیل کئی وجوہ کی بنا پر پہلا ملک کس طرح بنا؟ اس کے لیے مختصر سا جائزہ بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسرائیل ڈیجیٹل دنیا میں قومی صحت کے پروگرام کے تحت اپنے شہریوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ خود کو اس پروگرام میں رجسٹر بھی کرائیں اور اس کے حصہ دار بھی بنیں۔ دوسرے ممالک کے برعکس اسرائیلی فوج پابندہے کہ وہ ایسے ہر پروگرام میں شرکت سے کسی بھی نوعیت کی تاخیر کے بغیر کام کرے، بلکہ کسی بھی ویکسین کی رجسٹریشن اور تقسیم کے عمل میں وہ انتظامی طور پر متحرک کردار ادا کرتی رہے۔

 ان دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ویکسین کی دوڑ میں کامیابی ممکنہ طور پر ان کے حق میں بہتر نتائج سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے اور انتخابات میں قدرے سیاسی توازن ان کی پارٹی کے حق میں پیدا کرسکتی ہے۔

بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں چرچے ہیں کہ اپنے عوام کو ویکسی نیشن فراہم کرنے میں اسرائیل دیگر ممالک پر بازی لے گیا ہے۔ اس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ ایک طرف دھوم ہے کہ اسرائیل نے بڑی تیزی سے اپنے عوام کو اس عالمی وبا کے خلاف مزاحمت حاصل کرنے کے لیے ویکسی نیشن پروگرام مکمل کر لیا ہے، دوسری طرف اسی حکومت نے ان لاکھوںفلسطینیوں کو باقاعدہ منصوبے کے تحت اس پروگرام سے قطعی محروم رکھا ہے۔ یہ وہ فلسطینی ہیں ،جو سال ہا سال سے اس کے قبضے میں کسم پرسی کی زندگی گزا رنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ اس ویکسین کی بہت بڑی مقدار مبینہ طور پرمحض اس لیے ضائع کر دی گئی ہے کہ یہ فلسطینی عوام کی رسائی میں نہ چلی جائے۔ اس مقدار کو مبینہ طور پر اس طرح سے ضائع کیا گیا ہے کہ استعمال کی مدت گزر جانے دی گئی تھی۔ کسی ایک فلسطینی کو بھی یہ ویکسین لگائی نہیں گئی۔ اسرائیل کے طبی مراکز پر جانے والے فلسطینیوں کو یہ ویکسین فراہم کرنے یا لگانے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔اسے صریحاً ظلم اور نسل پرستی نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیا جائے۔

غزہ اور مغربی کنارے کی دو بستیاں ۱۹۶۷ء سے ہی ایسے تعصب کا نشانہ بن رہی ہیں۔ غزہ کی پٹی ۲۰۰۷ء سے مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی سے دوچار ہے۔بہت سی بنیادی سہولتو ں سے مسلسل محرومی کے ساتھ ساتھ صحت کی نہایت اہم ضرورت سے تسلسل سے انکار نے ایسی کیفیات پیدا کر دی ہیں، جو مستقل خطرے کا الارم بجا رہی ہیں۔

اسرائیل کے قبضے نے فلسطینیوں کے اپنے صحت کے نظام کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ بنیادی ضروریات کی شدید کمی، طبی سازوسامان اور ادویات کی قلت ہے۔ اس قلت نے ان کو اس حال سے دوچار کر دیا ہے کہ مغربی کنارے میں رہنے والی فلسطینی آبادی کئی برسوں سے اِردگرد سے مانگ تانگ کر ان ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

کورونا نے ساری دنیا پر اچانک گذشتہ سال یلغار کی تو فلسطینی اتھارٹی کے پاس کسی نوعیت کے انتظامات نہیں تھے کہ وہ اس عالمی وبا (Pandemic)کا مقابلہ کر سکے۔

عالمی ادارہ صحت کےپروگرام سے بھی اتنی مدد نہ مل سکی جس سے کوویڈ- 19 کی ویکسین تمام غریب ممالک کو فراہم کی جا سکتی۔ ابھی تک عالمی ادارہ صحت نےکوویکس (COVAX) پروگرام کی ہنگامی فراہمی کی منظوری بھی نہیں دی ہے۔

گذشتہ دسمبر کے آغاز میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اس نے روس سے ’سپوتنک فائیو‘ (Sputnik V) کی ۴۰لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے اور   یہ آیندہ چند ہفتوں میں مل جائیں گی۔ حال ہی میں روسی حکام نے اس طرح کے معاہدے کی توثیق ضرور کی ہے، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ ’’ابھی روس اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ غیر ممالک میں یہ ویکسین فراہم کر سکے‘‘۔

اسرائیل نے اپنی قانونی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ذمہ داریاں پوری کی ہوتیں تو فلسطینیوں کو یوں دربدر پھرنا ہی نہ پڑتا۔ اسرائیلی حکام اتنی بات کہہ کر خود کو ان تمام ذمہ داریوں سے مبّرا قرار دے لیتے ہیں کہ ’’فلسطینی اتھارٹی نے ہم سے مدد طلب کی ہوتی تو اور بات تھی‘‘۔ حالانکہ اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل اس ذمہ داری کی ادایگی کا پابند تھا۔ لیکن اوسلو معاہدہ کے نتیجے میں کسی نوعیت کی خیر فلسطینی اتھارٹی کے حق میں نہیں مل سکی۔ غزہ اور مغربی کنارے میں ہر طرح کی ویکسی نیشن فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے ہی سر انجام پانا تھی، جو نہ مل سکی۔

 چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل۵۶ کے تحت یہ لازمی ہے کہ ’’کسی بھی قابض (جیسے اسرائیل) پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کے اقدامات کرے، جن سے وبائی یا متعدی امراض کو مقبوضہ علاقے میں پھیلنے سے روکا جاسکے اور وبائی امراض کے خاتمے اور روک تھام کے لیے پورے اقدامات بھی ممکن بنائے‘‘۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیلی انتظامیہ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قبضہ میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے کووڈ -۱۹ سے بچائو کی ویکسین مناسب مقدار میں فراہم کرے۔

اسرائیل نے پوری طرح سے فلسطینی اتھارٹی کے صحت کے نظام کو ہر طرح سے مفلوج کر رکھا ہے۔ اس نے کئی عشروں سے فوجی قوت کے بے دریغ استعمال سے قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس نے محض گنتی کی چند میڈیکل سہولیات غزہ جانے دی تھیں جو بین الاقوامی اداروں نے فراہم کی تھیں۔ یہ بھی اس لیے فراہم کرنے کی اجازت دی تھی کہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ ان سہولیات کی فراہمی کا پابند تھا۔

اسرائیل نے باربار یہ تاثر پیدا کیے رکھا کہ وہ فلسطینیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔  بین الاقوامی برادری اور میڈیا اس کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس نے شدید بیمار فلسطینی مریضوں کو تل ابیب کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی اجازت دی ہے۔ اس نوعیت کی کہانیوں کے عام کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ شدید نوعیت کے فوجی محاصرے اور ناکہ بندی سے مقامی ہسپتالوں میں ضروری طبی آلات اسرائیل نے غزہ کے ہسپتالوں اور طبی سہولیات کے مراکز پر عشروں پر محیط بم باری سے تباہ کر دیے تھے۔ ان حملوں نے فلسطینی مراکز اور نظام صحت ہر طرح سے مفلوج کر دیا تھا۔ اس کے باوجود اسرائیلی انتظامیہ چاہتی تھی کہ بین الاقوامی ڈونرز کے ایک گروہ کی جانب سے چند سہولیات غزہ لے جانے کی اجازت دینے پر اس کی تعریف کی جائے۔ حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اس کی اپنی ذمہ داری تھی کہ قابض قوت ہونے کی وجہ سے اسرائیل خود یہ سہولیات غزہ پہنچاتا۔

ویکسین کے حصول کی دوڑ سے یقیناً فلسطینی اکیلے باہر نہیں ہیں۔ گلوبل سائوتھ کے بہت سے ممالک اور بھی ہیں جو اس دوڑ سے الگ کر دیے گئے ہیں۔ ویکسین کی بڑی مقدار ایسی بھی ہے جو امیر ممالک کو مختصر نوٹس پر فراہم کی جائے گی مگر مغربی کنارے اور غزہ میں چیلنج اور طرح کا ہے۔ اسرائیل کے پاس فوجی قوت ہے اور فلسطینی عوام پر بے پناہ کنٹرول حاصل ہے۔ یہ دونوں عوامل مقابلے کو فلسطینیوں کے لیے سنگین تر بناتے رہے ہیں۔

دنیا اسرائیل کے تیز رفتار ویکسی نیشن پروگرام کو تو دیکھ رہی ہے لیکن اسے اس بڑی تصویر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اسرائیل ان لاکھوں فلسطینی عوام کو ویکسین حاصل کرنے سے بزورِ قوت روک رہا ہے۔[الجزیرہ، ۱۱جنوری۲۰۲۱ء]

ایک دانش ور خاتون، خواتین کے سامنے سوال اُٹھاتی ہے:

lجدید تہذیب و تمدن کی تشکیل کس کے خون پسینے سے ہوئی، مرد یا عورت؟lعورت، جب مرد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے توگویا وہ اپنے ہی تحفظ، آرام و آسایش کے دائرے کووسیع کرتی ہے۔lتحریک و ترغیب ہی جبری زنا کی بنیادی وجوہ ہیں، اور آپ بھی اس جرم میں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ lہم جنسیت کا ایجنڈا وسعت اختیار کر رہا ہے۔

کامیل اینا پالیا (Camille Anna Paglia: پ ۱۹۴۷ء)،ایک مشہور فیمی نسٹ نقاد اور یونی ورسٹی آف پنسلوینیا، امریکا میں آرٹس کی پروفیسر ہیں۔ وہ فیمی نزم اینڈ پوسٹ اسٹرکچرل ازم کے ساتھ ساتھ جدیدامریکی ثقافت کے بہت سے پہلوئوں، مثلاً وژول آرٹس، موسیقی، فلمی تاریخ وغیرہ کا گہرا تنقیدی جائزہ لیتی ہیں اوران موضوعات پر متعدد معرکہ آرا کتب کی مصنفہ ہیں۔

پالیا کا اسلوب و طرز استدلال

۲۰۰۵ء میں فارن پالیسی جرنل کی طرف سے دنیا کے سو عظیم عوامی دانش وروں کی لسٹ میں پروفیسر پالیا کا نام شامل کیا گیا۔ ۲۰۱۲ء میں نیویارک ٹائمز نے ان کے بارے میں لکھا کہ کئی عشروں سے جاری ثقافتی جنگوں کے بارے میں معمولی معلومات رکھنے والے لوگ بھی پالیا کو ضرور جانتے ہیں‘‘۔ پالیا کی تنقید انتہائی مؤثر، دلائل بہت واضح، لطیف اور نتائج دھماکا خیز ہوتے ہیں۔ وہ دیگرنقادوں کی طرح تجریدی اور پیچیدہ اسلوب اختیار کرکے اصل حقائق سے راہ فرار اختیار نہیں کرتیں۔ اسی طرح فیمی نسٹ نقاد ڈاکٹر ایلین شوالٹر (Elaine Showalter، پ:۱۹۴۱ء) کہتی ہیں:  ’’ہم عصر فیمی نسٹ اسکالرز، لیڈران، عوامی شخصیات، مصنّفین، اور کارکنان کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرنے میں پالیا منفرد حیثیت کی مالک ہیں‘‘۔ فیمی نسٹ ماہرین بھی پالیا پر تنقید کے خوب نشتر چلاتے ہیں۔ کچھ ماہرین نے ان کی کتاب Sexual Personae (جنسی شخصیت)کو: ’’فیمی نزم کے خلاف جنگ اور اس کے بنیادی مفروضات پر کھلا حملہ قرار دیا‘‘۔

پروفیسر پالیا بتاتی ہیں کہ نیویارک اسٹیٹ یونی ورسٹی میں وومن اسٹڈیز پروگرام کےبانی ممبران نے جب اس بات سے انکار کیا کہ ہارمونز کا انسانی طرز عمل اور رویوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو ان کے ساتھ جھگڑا ہوتے ہوتے رہا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ عجیب ستم ظریقی ہے کہ لبرل اسکالر،  گلوبل وارمنگ کے ایشو پر تواتنے جذباتی ہیں کہ انھیں سائنسی ثبوتوں کی پروا نہیں، لیکن مرد و عورت کے جنسی امتیازات کوحیاتیات کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود بھی تسلیم نہیں کرتے ‘‘۔ ۱۹۷۹ء میں ایسے ہی ایک مسئلے پر فیمی نسٹ ماہرین تعلیم کے ساتھ گرم مباحثے بالآخر پالیا کے استعفیٰ پر منتج ہوئے۔

پالیا کہتی ہیں کہ ’’ایک جملے کی خاطر اگر مجھے اپنا پورا کیرئیر بھی دائو پر لگانا پڑے تو مَیں اس کے لیے تیار ہوں اور وہ جملہ یہ ہے کہ ’’خدا… اگر انسانی تخیل بھی ہے تو انسان کے تخیلات میں سے یہ سب سے بڑا تخیل ہے‘‘۔ وہ مذہب کے آفاقی کردار کو بہت فروغ دیتی ہیں لیکن خود کوئی عملی مذہبی خاتون نہیں۔ وہ مذہب کو اس کے عالم گیر اصولوں اور علامتوں کی حیثیت سے دیکھتی ہیں۔

امریکی معاشرہ ،فیمی نسٹ تحریک کے اس قدر زیر اثر ہے کہ مختلف ادارے اس کے موقف، مطالبات اور مفروضات کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سات مختلف ناشروں نے پالیا کی کتاب Sexual Personae، کی اشاعت سے انکار کردیا۔  بالآخر جب یہ ییل یونی ورسٹی پریس(YUP) سے شائع ہوئی تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ اسے دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں ساتویں نمبر کا اعزاز ملا۔ اس کتاب میں پالیا کا استدلال یہ ہے کہ ’’انسانی فطرت موروثی طور پر جنسیت کے حوالے سےایک خطرناک پہلو رکھتی ہے۔ مذہب، تہذیب، ثقافت، خاندان اور شادی کے بندھن کے ذریعے اس قوت پر قابوپانے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔

مردانگی کا جشن

پالیا نہ صرف مضبوط مردوں کا دفاع کرتی ہے بلکہ مردانگی کےجشن بھی مناتی ہیں۔ اس کا استدلال ہے کہ ’’جدید معاشی ترقی اورسائنٹفک تمدن کی تشکیل میں مردوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ ہرچند کہ آج عورتیں بھی اس میں برابر کی حصہ دار بن گئی ہیں، لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ وہ اس تہذیب و تمدن کی خالق نہیں۔ جدید تمدن کی تعمیر میں جو پہاڑ توڑے گئے، جنگل و درخت کاٹے گئے، سرنگیں کھودی گئیں، ناہموار جگہوں پر بلڈوزر چلائے گئے، وہ سب کام مردوں کے ہاتھوں سے انجام پائے ۔ تمام سڑکیں، پل، کنکریٹ و اینٹوں کی عمارتیں، کارخانے، دفاتر اور پلازے مردوں نے تعمیر کیے۔ ریلوے لائنیں اور بجلی کی تاریں بچھائی گئیں، پول لگائے گئے، وسیع پیمانے پر معاشی پیداوار اور اس کی تقسیم کے نیٹ ورک تعمیر ہوئے، الغرض تمام خطرناک اور مشکل کاموں میں صرف مردانگی کام آئی، اس میں نسوانی طاقت کا براہ راست کوئی عمل دخل نہیں تھا‘‘۔

پھر وہ لکھتی ہیں: ’’جدید تمدن کی تعمیر کے مشکل مراحل طے ہونے کے بعد جب خوب صورت، دل کش، ٹھنڈے و گرم، تمام سہولتوں سے آراستہ دفاترکی آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے کا وقت آیا، تو خواتین کو بھی نتیجہ خیز کردار مل گیا اور مردوں نے اسے خوش گوار مسکراہٹ اور کھلے دل سے قبول کیا۔ یہ کوئی داستان، قصہ یاکہانی نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ یا تو اس حقیقت ِ حال کا صاف انکار کر دیا جائے یا پھر اس میں کام آنے والی مردانگی کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے اس کا جشن منایا جائے۔ یہ جشن صرف مردوں کے لیے نہیں، عورتوں کو بھی مردوں کے شانے کے ساتھ شانہ ملا کر اس میں شریک ہونا چاہیے۔ جب عورت، مرد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، تو وہ اپنے تحفظ، آرام و آسائش کے دائرے کی ہی توسیع کر رہی ہوتی ہے۔ اگر عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے بعد مرودں کے ساتھ محبت سے پیش آنے کے بجائے انھیں صرف طعنے اور کوسنے دیں گی یا ان کی مذمت کریں گی یا انھیں ایک جانور اور درندے کے سے رُوپ میں پیش کریں گی، تو آنے والی نسل کے مردوں کے پاس محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی کیا ترغیب ہوگی؟‘‘

وہ اس حقیقت کی جانب متوجہ کرتی ہیں کہ’’ یہ کائنات مرد اور عورت سے مل کر بنی ہے۔ اس میں آسمان مرد ہے اور زمین عورت۔ زمین کو کھاد باہر سے ملتی ہے اور وہ فصل اپنے پیٹ کے اندر سے پیدا کرتی ہے۔ کسان کی پیداواری علامت کا ارتکاز باہر کی طرف ہے اور وہ واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ کھیتی کی پیداواری علامت کا ارتکاز اندر کی جانب ہے، اس لیے وہ پوشیدہ ہے۔ اول الذکر ہم آہنگی و نظم و ضبط رکھنے والا، مضبوط، طاقت ور اورسخت گیر کردار کا حامل ہے۔ مؤخر الذکر زرخیز، لبھانے والی، مسحور کرنے والی، افراتفری کا شکار، مخفی قوت رکھنے والی اور آکاس بیل کی طرح لپٹنے اور طفیلی کردار کی حامل ہے۔ مذکر سیدھی لائن میں ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے اور مؤنث گول دائرے کی شکل میں چکر کاٹتی ہے اور اس کا آغاز اور انجام ایک ہی مقام پر ہوتا ہے۔

عورت مظلوم ہے یا مرد؟

جورڈن پیٹرسن کی طرح پالیا کا خیال ہے کہ مرد مظلوم ہیں۔ مرد، مراعات کی پروا کیے بغیر سخت مقابلے کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور اُف کیے بغیر اپنے وابستگان کو بھی زندگی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کو کھلانے پلانے، انھیں گھر اور تحفظ فراہم کرنے کی خاطر، مرد اپنا جسم اور جذبات قربان کرتے ہیں لیکن یہ کتنا سفاک تضاد ہے کہ حقوقِ نسواں کے کسی بیانیے میں ان کی تکالیف اور کارناموں کا کوئی ذکر تک موجود نہیں۔ اس بیانیے میں مردوں کو صرف جابر، ظالم اور استحصال کرنے والے بدمست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین مظلوم کیسے ہوسکتی ہیں؟ انھیں تو ہر جگہ مراعات اور خصوصی رعایت اور مقام حاصل ہوتا ہے۔ اگر ان کی سہولیات میں کوئی کمی ہو تو وہ مختلف فیشنوں کے ذریعے اپنے لباس، بالوں، چہرے کے خوب صورت رُوپ دھارتے ہوئے، مردوں کے دل میں جگہ بناکر مراعات حاصل کر لیتی ہیں۔ لیکن تفریحی (فلمی) صنعت سے باہر کاروباریا عملی دُنیا میں مرد، لمبے بالوں، میک اپ، مور جیسے رنگین لباس اور مخملی سوٹ کے ذریعے کوئی اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ ترقی کی سب منازل ان تھک محنت کے بل بوتے پر ہی طےکرتے ہیں، جب کہ رنگ و نزاکت انھیں کہیں خصوصی مقام نہیں دیتے‘‘۔

کام کی جگہوں اور کیمپس میں ریپ کی وجوہ

پروفیسر پالیا کے خیال میں 'جنسی سرگرمی، آمادگی اورتحریک و ترغیب ہی ریپ کی بنیادی وجوہ ہیں۔ معروف ماہرین نفسیات رینڈی تھورن ہیل (۱۹۴۴ء) اور کریگ ٹی پالمر بھی اپنے تحقیق و تجزیہ میں اس خیال کی توثیق کرتے ہیں‘‘۔ پالیا فیمی نسٹ خواتین کو اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ ’’خواتین، مردوں سے لڑنے جھگڑنے کی پارٹی لائن کی اندھا دھند پیروی کرنے کے بجائے اپنی عزّت و عصمت کی حفاظتی معلومات حاصل کریں تاکہ انھیں کوئی خطرہ لاحق نہ ہو‘‘۔

وہ کام کی جگہوں پر خواتین کو زیادہ سنجیدہ نہ لیے جانے کی وجہ ان کے لباس اور گیٹ اپ کو قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب آپ کام کی جگہ پر برہنہ ٹانگوں اور پنسل ہیل جوتوں کے اُوپر شارٹ اسکرٹ زیب تن کرتے ہوئے یہ کہہ رہی ہوں گی کہ میری جنسیت ہی میری طاقت ہے، تو آپ کی دیگر صلاحیتوں کی قدر کون جانے گا؟‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے بھی سیکسی لباس پسند ہے اورمیرا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر کشش لباس پہننا چھوڑ دیں، مگر میرا کہنا ہےکہ اپنے آپ کو خوب صورت زیور کے طور پر پیش کرکے دیگر صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوایا جا سکتا‘‘۔

 یونی ورسٹی کیمپسوں (یا مخلوط تعلیمی اداروں) میں جنسی حملوں کے بارے میں پالیا کہتی ہیں کہ مردوں کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ جنسی تجربے کی تلاش میں ہوتے ہیں اور خواتین کو اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟۔ اگر انڈر گریجوئیٹس کی کسی پارٹی میں سب لڑکیاں، لڑکے نشے کی حالت میں ہوں۔ اس پارٹی میں شریک کسی لڑکی سے کوئی نوجوان یہ پوچھے کہ کیا آپ میرے کمرے میں جانا پسند کریں گی اور اگر نشے کی بے خودی میں لڑکی کا جواب ’ہاں‘ میں ہوتو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ بے راہ روی کے لیے رضامند ہے‘‘۔

اسقاط حمل و ہم جنسیت

پالیا، فیمی نزم کے اندھے معیار کو مسترد کرتی ہیں اور انھیں اسقاط حمل کے ان استعماری اثرات پر سخت تشویش ہے، جن کی وجہ سے بدکاری کو الگ شناخت دے کر ایک فرقہ بنا دیا گیا۔ وہ ہم جنسیت کے فکروعمل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ’ایک ایسا سیاسی ایجنڈا‘ قرار دیتی ہیں جو آب و ہوا کی تبدیلی کی خاطر وسعت اختیار کر رہا ہے۔ انھوں نے ۱۹۶۰ء کے عشرے میں ہم جنس زدگان کی شناخت اور ’صنف و جنس کی سیاست‘(Gender Politics)  کو چیلنج کیا تھا اور آج تک اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

پالیا کا استدلال ہے کہ ’’جنس کی متعصب اور دقیانوسی تعریف کے ذریعے خواتین کے کردار اور خودمختاری کا تعین کسی طور درست نہیں۔ اس کا مطلب ان غریب خواتین کی خوداعتمادی اور عزت نفس کو نقصان پہنچانا ہے، جو سلیبرٹیوں کی طرح امیر، مشہور اور پُرکشش نہیں، یا جوفیمی نسٹ گروہ میں شامل نہیں ہو سکتیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا صحیح مطلب یہ ہے کہ غریب اور نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تربیت و رہنمائی ہو، تاکہ انھیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو سکے‘‘۔

وومن اسٹڈیز اور  جینڈر پالیٹکس

وہ اپنی کتاب Provocations  (فتنہ انگیزی)میں حیاتیات کے مطابق صنف کی وضاحت کرتے ہوئے ،مردانگی کے کچھ روایتی اصولوں کا دفاع کرتی ہیں۔ وہ یونی ورسٹی نصاب میں مذہبی مرکزیت کو فروغ دینے پر زور دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ محض معاشرتی اتفاق ہوتا ہے۔ کسی خاص خطے میں پایا جانے والا نظریاتی اتفاق رائے ہر عہد میں بدلتا رہتا ہے، اس لیے اسے تمام انسانوں کا عام فہم تصور نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

وومن اسٹڈیز اور جینڈر پالیٹکس پر تنقید کرتے ہوئے پالیا کہتی ہیں کہ ’’وومن اسٹڈیز کے مضامین ایسے گروہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو پہلے سے آرام دہ اور پُرسکون ماحول میں رہنے کا عادی ہے۔ اس گروہ کی سیاست رومانوی، جذباتی اورزبانی جمع خرچ پر مبنی ہے اور ہر روز تبدیل ہونے والے رجحانات کے ساتھ فیشن کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ یہ خواتین کاایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے جو اپنے ضمیر پر مراعات کے بوجھ کو تو محسوس کرتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساس ندامت و شرمندگی اور محروم طبقات کو گلے لگانے سے دُور بھاگتا ہے‘‘۔

’’ وومن اسٹڈیز کی تعلیم کا ارتکا ز صرف ’سیکس ازم‘ (جنس زدگی) اور صنفی تعصب پر ہے۔ فیمی نزم ایجنڈے پر کام کرنے والی خواتین، نہ تو عام خواتین کی نمایندگی کرتی ہیں اور نہ قومی اور عالمی جذبات و احساسات ہی کی ۔ اکیڈیمک فیمی نسٹ ماہرین یہ سوچتی ہیں کہ ان کے معصوم اور کتابی کیڑے نما شوہر ہی دنیا بھر میں پائی جانی والی مردانگی کا مثالی نمونہ ہیں۔ فیمی نسٹ ماہرین کا یہ مسلسل دعویٰ ہے کہ تاریخ مردوں نے رقم کی اور اس میں عورت ہر جگہ مظلوم نظر آتی ہے کیونکہ ذہین اور تخلیقی صلاحیتیں رکھنی والے عورتوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ عصری فیمی نزم کی یہ بنیاد ابتدا سے ہی ایک جذباتی وہم اور بے بنیاد مفروضے پر مبنی ہے‘‘۔

پھر یہ کہ ’’جینڈر اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں خدمات پیش کرنے والے لوگ منظم اجارہ داری (Cartel) پر مشتمل ہوتے ہیں۔اس کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ یونی ورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے ۔ زیادہ تر یونی ورسٹیوں میں بائیں بازو کے مستند لوگوں کا وجود ہی نہیں، لیکن بوژوا چیئرز پر ہر جگہ ماہرین تعلیم براجمان ہیں اور ان کے زیر نگرانی کیمپس 'نرسری اسکول کا سماں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے طالب علموں کی مثال انکوبیٹر سے پیدا ہونے والے مرغی کے بچوں کی سی ہے، جو ویکیوم کلینر کو بھی دیکھ کر اپنی ماں تصور کرتے ہیں‘‘۔

پروفیسر پالیا کا دعویٰ ہے کہ ’’وومن اسٹڈیز پڑھانے والوں کی اکثریت بے ہودہ، اناڑی، لکیر کے فقیر، خوشامدی، تصوراتی، رونے رلانے ،شکوے شکایتیں کرنے والے، پارٹی کے کارکنوں اور خفیہ ایجنسی کے کارندوں کی طرح ہوتی ہے۔ اعتدال پسند اور معقول فیمی نسٹ اسکالر اس پاپولر فیمی نزم سے اب پیچھے ہٹ گئے ہیں، اوروہ ’امن پسند‘ جرمنوں کی طرح بدمست فاشزم کے سامنے خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جتنی بھی عظیم خواتین اسکالرز پیدا ہوئیں وہ سب مردانہ کلاسیکی روایت کے دانش ورانہ نظم و ضبط کا نتیجہ ہیں، نہ کہ موجودہ ’فیمی نزم‘ کا ۔ یہ ’پاپولر فیمی نزم‘ تو خواہشات اور جذبات سے مغلوب، معافی تلافی کرنے والی آیا ہے جس سے اوّل درجے کی کوئی تخلیق سامنے نہیں آئی‘‘۔

جدید نوجوان خواتین کو  مشورہ

 پالیا کا مشورہ ہے کہ ’’جدید نوجوان خواتین کے لیے ۱۹۶۰ کے عشرے کی متحرک خواتین کاکردارایک نمونہ ہے۔ 'آپ بھی اس بات میں برابر کی ذمہ دار ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے ہیں۔ آپ کوہر وقت یہ راگ نہیں الاپنا چاہیے کہ ’میں اس طرح ہوں کیونکہ میرے والدین اور خاندان نے مجھے اس طرح بنایا ہے‘۔ ’میں ایسی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے مجھے اس طرح بننے پر مجبور کیا ہے‘۔ ہاں، ہم ان حادثات اورممکنات کے ذریعے ہی بنتے ہیں، جو آئے روز ہمارے ساتھ پیش آتے ہیں، لیکن اگر یہ سب کچھ آپ کو قبول نہیں تو پھر ہر طرح کی ذمہ داری آپ کو قبول کرنی ہوگی۔ کیا آپ اپنی سب چیزوں کی ذمہ داری اپنے سرلینے کو تیار ہیں؟‘‘

پھروہ لکھتی ہیں: ’’ایک عورت وہی رہتی ہے جو وہ ہوتی ہے،جب کہ ایک مرد کومرد بننا ہوتا ہے۔ مردانگی خطرناک اور انوکھی چیز ہے۔ یہ کردار، نسوانی سطح سے اوپر اٹھنے، جدوجہد ومشقت کرنے، جرأت و حوصلہ سے کام لینے، ذمہ داری اور عہد نبھانے، اپنے آپ کو قربان کرنے اور خطرات مول لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کردار کی تصدیق صرف دوسرے 'رجال ہی کر سکتے ہیں‘‘۔

ماہمہ افسونیٔ تہذیبِ غرب
کشتۂ افرنگیاں بے حرب و ضرب

اقبالؒ نے درست کہا تھا: ’’ہم سب مغربی تہذیب کے فُسوں میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بغیر کسی مزاحمت و جنگ و جدال کےفرنگیوں کے ہاتھوں کشتۂ اَجل بن رہے ہیں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ کی بالادستی کے اس عہد میں ابلاغی جنگ اوراصطلاحات کے سہارے مغرب کا فُسوں، جادو اوراستکبار ، اپنی آخری حدوں کوچھورہا ہے۔ تحریف ِ لسانی اور اصطلاحات سازی بالادست تہذیب کے ہاتھ میں موجود دو بڑے خطرناک ہتھیار ہیں جواعصابی جنگ جیتنے میں اُس کے مددگار ہیں۔ اس میں عصرحاضر کی نئی اصطلاح ’کورونا‘ بھی شامل ہے۔

کورونا یا کووڈ-۱۹ کا فُسوں جاننےکے لیے ہمیں ’جدیدیت‘ (Modernism) اور ’مابعد جدیدیت‘ (Post Modernism)کے علمی پس منظر کا ادراک کرنا ہوگا کیونکہ مغرب نے گذشتہ لگ بھگ چار صدیوں سے ان اصطلاحات کے سہارے نوعِ انسانی کو خدا پرستی اور’عبدیت‘ کے حدود سے تجاوز کرکے انسان پرستی اور نفس پرستی اور طاغوت پرستی کے دھانے پرلاکھڑا کیا ہے، جو آسمانی تعلیمات اورصحف ِ سماویہ سے ہٹ کر انحراف کے ذریعے ایک نیا زمینی مذہب تشکیل دینے کے مترادف ہے۔ اس حقیقت کو اقبالؒ نے اپنے خطبات میں یوں واضح کیا ہے: ’’فطرت پر وسعت اور غلبے کی طاقت نے انسان کوایک نیا عقیدہ اور مذہب دیا ہے، لہٰذا ہمیں بھی اپنی اسلامی فکر کی تشکیل نَوکرنا ہوگی جس میں عیسائیت ناکام ہوچکی ہے‘‘۔

اقبالؒ کے نزدیک آسمانی مذہب عیسائیت مراد نہیں بلک وہ تحریف شدہ عیسائیت ہے جسے پادری چلا رہے تھے۔ جب دُنیا پرستی کے جلو میں عیسائیت پر الحادی قوتوں کی یلغار ہوئی تو ان پادریوں کو شکست ہوئی اور نمرودِ وقت پھر غالب آگیا۔

طاقت کی زبان اور مکالمۂ نمرود

جب فرعون کو قارون کی دولت اور ہامان کے جنگی ہتھیاروں کی عسکری قوت حاصل ہوتی ہے تو فرعونیت جنم لیتی ہے جس میں نوجوان قتل کیے جاتے ہیں۔ انسا نیت کی تذلیل کی جاتی ہے۔ اُن کی خودی اورخودداری مٹا دی جاتی ہے اور انسانوں کو بے بس کرکے انھیں فرعون اورنمرود کی غلامی اختیارکرنے پرمجبور کیا جاتا ہے۔اس کش مکش موت و حیات اور فتنۂ حیات و ممات میں جینے کا ایک ہی راستہ اُن کے پاس رہ جاتا ہےکہ وہ جابر بندوں کی جھوٹی خدائی کو تسلیم کریں اور ان کے  دَر پر سرجھکائیں ورنہ جان ، مال، اولاد اور انسانی شرف سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ طاغوتی طاقتوں کا یہ عصری بیانیہ بھی دراصل ایک مشرکانہ بیانیہ ہے جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے نمرود کے بھرے دربار میں چیلنج کیا تھا۔اُس کا مکالمہ قرآن نے یوں محفوظ کیا ہے: ’’کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا، جس نے ابراہیم ؑ سےجھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم ؑ کا ربّ کون ہے، اوراس بناپرکہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دےرکھی تھی۔ جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’میرا ربّ وہ ہے جس کے  اختیار میں زندگی اورموت ہے، تو اُس نے جواب دیا: ’’زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے‘‘۔ ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا‘‘۔ یہ سن کر وہ منکرِ حق ششدر رہ گیا، مگر اللہ ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھایا کرتا۔ (البقرہ ۲:۲۵۸)

انسان کے اختیاری معاملات، یعنی تشریعی اُمور  (Moral laws)میں انسان کو مختار بنایا گیا ہے مگر تکوینی اُمور (Physical laws)یا God Action کے بارے میں حضرت ابراہیم ؑ کے توحیدی بیانیے نے نمرود کو حیرت زدہ کردیا کیونکہ باوجود پرلے درجے کے تکبر کے وہ یہ مانتا تھا کہ آفتاب و ماہتاب اُسی ایک خدا کے زیرفرمان ہیں مگر اختیاری اُمورمیں حضرت ابراہیم ؑ کی طرح ایمان لانے کا مطلب اپنی مطلق العنان فرماں روائی سے دست بردار ہوجانے کے تھے جس کے لیے اُس کے نفس کا طاغوت تیار نہ تھا (تفہیم القرآن، جلداوّل،ص ۱۹۹-۲۰۰)۔

اصطلاحات کی جنگ کا ارتقا

طاغوتی قوتوں کی آسمانی عقیدہ و اعتقادکے خلاف جنگ کا آغاز سولھویں صدی میں نکولومیکیاولی (۱۴۶۹ء-۱۵۲۷ء)کی ۱۵۱۳ء میں بدنامِ زمانہ تصنیف ’شہزادہ‘ (The Prince) سے ہوا کیونکہ آسمانی اقدارکے مقابلے میں ’شہزادہ‘ مبہم ڈرامائی جنگ کا مرکزی کردار تھا۔ میکیاولی اس مذموم منصوبہ بندی کا خالق تھا جس کو اقبالؒ نے ’مرسلے از شیطان‘ کے لقب سے یاد کیا، یعنی  ’شیطان کا بھیجا ہوا پیغمبر‘۔ میکیاولی نے جھوٹ، تحریف، دھوکادہی اوربددیانتی کے سہارےہیومنزم (Humanism) یا ’اکرام انسانیت‘ کے فلسفہ کو پروان چڑھایا تاکہ انسان تکبر اور گھمنڈ میں مبتلاہوکر خالق کائنات کےخلاف سینہ سپرہوجائے۔ یہ نمرود اور فرعون کی طرح سیاسی، تمدنی اورمعاشرتی اُمورمیں ایک خدا کی خدائی سلب کرنے کی شیطانی کوشش تھی جو ہیومنزم کی اصطلاح میں لپٹے ہوئے انسان کی خدائی کا جھوٹا دعویٰ تھا۔ اِس نظریے کو مارٹن لُوتھر (۱۵۶۴ء) نے مذہب کی شکل دی جو دنیاپرستی پر مبنی زمینی مذہب قرار پایا۔ اٹھارھویں صدی میں صنعتی انقلاب کی صورت میں بتدریج اس ہیومنزم کوعملی شکل دی گئی تو عقلِ انسانی کو ’وحی‘ کے مقابلے میں لاکھڑا کیا گیا۔ اس تحریف کے نتیجے میں افادیت پرستی (Utilitarianism)  کو شریعت ِ الٰہی کا متبادل قراردیا گیا تاکہ وسائل دُنیا عین مقصد ِ زندگی بن جائیں اور خود غرض عقل اس کے پیچھے قوت ِمحرکہ۔ ان اصولوں اور اس کے عملی ڈھانچے کو جدیدیت یا Modernism کا نام دیا گیا جو دراصل ’انسان پرستی‘ کا مذہب تھا۔

اب، جب کہ ’مابعد جدیدیت‘ کے فلسفے کے نفاذ کا وقت آپہنچاتو ہیومنزم کی اصطلاح کو ’مابعدانسانیت‘ (Post Humanism)یا کا نام دیا گیا۔ ہیومنزم کے عہد میں خدا بیزار تہذیب نے خدا کےمرنے کا عقیدہ (نعوذ باللہ) تراشا تھا، جب کہ ’مابعد ہیومنزم‘ میں نیا فلسفہ Death of Man یااللہ کی شاہکار تخلیق ’انسان‘ کا خاتمہ ہے، جو کہ انسانیت کُش یا انسان کُش فلسفہ ہے جس میں آدمی کا وجود، اس کی خودی اور اس کی خودداری سب معرضِ خطر میں ہیں۔

اقبال نے آیت ِ قرآنی وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰) ’’ہم نے آدم ؑ کی اولاد کو عزّت و اِکرام بخشا‘‘ کی تشریح میں یہ فرمایا تھا:

برتر از گردوں مقامِ آدم است
اصلِ تہذیب احترامِ آدم است

(انسان کا مقام آسمان سےبھی بلند ہے اور احترامِ آدم ہی اصل تہذیب ہے)۔

اصطلاحات کی تحریف کے ذریعے آدم و اولادِ آدم کی تذلیل ایک ناقابلِ برداشت جرم ہے اور بنی آدم کی ہلاکت خیزی بہت بڑا شیطانی فعل ہے۔ اصطلاحات جدیدہ کے ارتقا پر وسیع پیمانے پر لٹریچر دستیاب ہے مگر دھوکا دہی کے طورپر یہ ادبی ذخیرہ تحریفات اورانحرافات کا مجموعہ ہے جس میں ظاہری اورباطنی طور پر صحف ِسماویہ کو تختۂ مشق بنایا گیا ہے اور اس فکرکو ’روشن خیالی‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

روشن خیالی اور تحریفاتِ انسانی

مغرب نے نشاتِ ثانیہ کے بعد کے اَدوار کو’روشن خیالی‘(Enlightenment) کی اصطلاح سے نوازا اور مذہب کو مسترد کرکے فکروعمل کا نیا ڈھانچا ترتیب دیا جس میں انسان کی اجتماعی زندگی میں خدا،اس کےرسولوںؑ اورآخرت کی زندگی اور آسمانی ہدایات کی کوئی گنجایش نہیں تھی،مگر انسان کو آزادی دینے کامُدعا سے جب یہ نظریہ ٹکرایا تو تحریف کے طور پر مذہب کوانسان کا ذاتی عمل قرار دیاگیا۔در اصل یہ خدا سے انکار کا نظریہ تھا اور اس کی بنیاد دُنیا پرستی تھی۔ اس لیے اس جعل سازی کو چھپانے کے لیے کئی اصطلاحات و تحریفات کا ارتکاب کیا گیا۔چونکہ جدیدیت کے اس عہد میں صحف ِ آسمانی پر ایمان کو منفی رجحان قراردیاگیا۔ اس لیے ۱۸۵۰ء میں اگست کانٹ نے ’مثبیت‘ یا Positivism کی نئی اصطلاح  وضع کی۔ اس انحراف کے تسلسل میں نئے کلچر اور نئے اخلاقیات تصنیف کرنے کی ضرورت پیش آئی تو ۱۸۵۳ء میں بندے اورخدا کے درمیان ’عبدیت کے رشتہ کو کمزور کرنے کے لیے پہلی بار ایک انجمن مذہب انسانیت کے نام سے اجتماعی کاوش کا آغاز کیا گیا۔ انجمن نے خدائی’عہد الست‘کے برخلاف سائنس اور فلسفے کے ارتقاء پر نیا عمرانی عہد باندھا۔

بتدریج اقدار متعارف کراتے ہوئے ۱۸۷۶ء میں فلکس ایڈلر (Felix Adlor) ’تحریکِ اخلاقی ثقافت‘ کے نام پر ایک اصطلاح وضع کرکے مذاہب ِ آسمانی کے فرسودہ ہونے کا نیابیانیہ سامنےلایا اور مذہب انسانی کی اخلاقی ثقافت کے ساتھ پیوند کاری کی تاکہ اس نئی ثقافت کے احیا سے انسان کا وحی پر مبنی تہذیب و ثقافت سے رشتہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوجائے۔ بغاوت اور انحراف پر مبنی ان اصطلاحات میں سوشلزم،کمیونزم، سیکولرزم اور کیپٹلزم پر مبنی نظریات دراصل Humanism یا’مذہب ِ انسانیت‘ کی توسیعی مہمات تھیں جو پےدرپے ناکامی سے دوچار ہوئیں۔   طاغوتی قوتیں  ردعمل کے طورپر شیطانی فلسفہ ’مابعد انسانیت‘ (Post Humanism) کی اصطلاح کا سہارا لے کر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ میدانِ عمل میں کُود پڑیں، تاکہ انسانوں کی ہلاکت کا وہ نقشہ دکھا دیں جس کے سامنے جنگ ِ عظیم اوّل ودوم کے اثرات بھی ماند پڑجائیں۔ یہ ایک نیا نظام یا ورلڈ آرڈر کے طورپرحال ہی میں پورے ابہام کے ساتھ نافذالعمل ہوا تاکہ کوئی مجرموں کے ٹولے کی نشان دہی بھی نہ کرسکے اورتحریفات سے خلافِ انسانیت جرائم کی پردہ پوشی ممکن ہو۔ تہلیک یا ہلاکت اس نئے مذہب کا مقصد ِ عظیم گردانا گیا مگر پردہ نشینوں نے گلوبلائزیشن کی قوت اورابلاغی یلغارکو ایک نیا طبّی مرض یا متعدی وائرس کے طورپر دُنیا کے سامنے متعارف کروایا، تاکہ تحریف سے ایک بار پھر انسانوں کو دھوکا اورفریب کا ہدف بنایا جاسکے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۝۰ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ۝۶۲ (یٰسٓ ۳۶:۶۲) شیطان نےتم میں سے گروہِ کثیر کو گمراہ کر دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟

پھر تنبیہ کے طورپر اوّلین و آخرین کو مخاطب کیا جو شیطان اورشیطانی قوتوں کو دوست بناتے ہیں:

اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّہُمْ اِلَيْہِمْ لَا يَرْجِعُوْنَ۝۳۱ۭ (یٰسٓ ۳۶:۳۱) کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اُن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی اُن کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟

منحرفین کا جرم آیات کے معانی اور مقصد اُلٹا دیناہو توقرآن اس کو ’الحاد‘ کی اصطلاح سے یاد کرتا ہے، مثلاً اگر اوّلین کو آخرین یا قرون وقروناً کو ’کرونا‘ بنایا جائے اور خود خدا بن کر انسانوں کو ہلاکت کی نذر کیا جائے تو تحریف کے جرم کی نوعیت غیرمعمولی ہوجاتی ہے کیونکہ یہ اللہ اور رسولؐ سے مذاق اور دین کو کھیل بنانا ہے، اور مقصد انکارِ دین ہے۔

کیا کورونا انگریزی اصطلاح ہے؟

’مابعد انسانیت‘ کی مبہم اصطلاح اور مذہبی فکر اور صحف ِ آسمانی میں لادینی افکار داخل کرنے کے پس منظر میں ’کرونا‘ یا ’کووِڈ-۱۹‘ کی غیرواضح اورپُراسرر اصطلاح بھی لفظاً ومعناً تحریف ِ لسانی کی بنیادی کڑی نظر آتی ہے، جو ’ارھاب‘ (warfare) کے عربی لفظ میں تحریف کرکے terrorism (دہشت گردی) کے خاتمے کے نام پر خطرناک جنگ کی ناکامی کےمعاً بعد تلمود کی عبرانی زبان سے اخذکرکے سامنےلائی گئی۔ ان صحف ِ سماوی اورعہد نامہ قدیم وجدید کے اندر لفظی اورمعنوی تحریفات کی خودقرآن کریم شہادت پیش کرتا ہے۔ حال ہی میں اوکسفرڈانگلش ڈکشنری میں ’کورونا‘ کا اندراج بطور متعدی وبایا Pandemic  ہواہے۔ اس پیوند کاری میں ’epidemic‘ اور ’endamic‘ کی دو انگریزی اصطلاحات بھی شامل ہیں۔ لسانی طور پریہ دونوں اصطلاحات تیزی سے پھیلنے والی وبااورجان لیوا مہلک مرض پر دلالت کرتی ہیں۔ endemic میں تحریف یا corruption کا مفہوم بھی شامل ہے اور غیراخلاقی رویّہ بھی جس کے ارتکاب سے کوئی بھی چیز، کلام اور متن کو اپنی اصلی حالت پر رہنے نہیں دیا جاتا بلکہ سیاق و سباق کے ساتھ متن کو بدل دیا جاتا ہے۔ اوکسفرڈ ڈکشنری اس کو بدعنوانی، چھوت یا نسل پرستی کی المناک وباسے بھی تعبیر کرتی ہے۔ یہ تحریف و انحراف ارادتاً طاقت کے زور پر کیا جاتا ہے (اوکسفرڈ ڈکشنری ، ساتواں ایڈیشن، ص ۳۴۴)۔

ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی تشہیر اور انجانے خوف کے اعتبار سے یہ نئی اصطلاح ’کورونا‘ اب Pendemic سے بڑھ کر Pandamonium کی اصطلاح کا رُوپ دھارچکی ہے جیساکہ کہا گیا: The situation in which there is a lot of noise, activity and confusion, specially because people are angry or frightened. ’’لوگوں کے غم و غصے اور خوف و اضطراب کی ایسی کیفیت جس میں چیخ و پکار، فعل و تحرک اورلوگوں میںابہام پایا جائے‘‘۔ (محولہ بالا، ص ۳۴۴)

انگریزی لُغت میں تحریف کرنے اورحقائق مسخ کرنے کے لیے Distortion کالفظ بھی مستعمل ہے، یعنی to change the shape, appearance or sound (شکل یا آوازیا حلیہ بگاڑ کر اسے تبدیل کرنا یا مسخ کرنا)۔ Distortion of facts on truth سچائی یا حقائق کو تحریف کے ذریعے مسخ کردینا(اوکسفرڈ ایڈوانسڈ لنرز ڈکشنری، ص ۴۴۴، ساتواں ایڈیشن)۔

چونکہ اصل انگریزی میں کورونا یا کووِڈ-۱۹ کی اصطلاحات ناپید ہیں، لہٰذا قدیم عبرانی لفظ سے اِن قدیم اصطلاحات کو distort یا تحریف کرکے ’طبی وبائی مرض‘ کے جھوٹے معنوں میں اس کو حال ہی میں انگریزی زبان کے ساتھ پیوند کاری کی گئی ہے۔

کورونا کی تحریف

’کرونا‘ انگریزی اصطلاح نہیں بلکہ’کووڈ-۱۹ ‘ اور ’کرونا‘عبرانی زبان میں تلمود سے ماخوذ اصطلاحات ہیں جس کے الفاظ و معانی میں ردّ و بدل اور تحریف کرکے اِسے ۲۰۱۹ء میں پہلی بار ایک طبی وبا کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ کووڈ-۱۹  میں ۱۹ سےمراد ۲۰۱۹ء نہیں ہے بلکہ وہ مناجات ہے جس کا ذکر تلمود کی آیت ۱۹ میں آیا ہے۔ کورونا، پکارنا اورآواز دینےکو کہا جاتا ہے۔ تلمود کی ہدایت کے مطابق اس کا مفہوم ہے اپنے مسیحا کو پکارنااور ’آجائو، آجائو‘ یعنی ’کوروناکورونا‘ کا واویلا مچانا تاکہ اُن کا ہاشم، یعنی مسیحا اُن کی پکار سنے۔یہودی جب اپنی نماز میں عاجزی اور خشوع اختیار کرتے ہیں جس کوعبرانی میں Covidکہا جاتا ہے اور نماز کا ۱۹واں کلمہ تلمود میں اِن الفاظ میں ترجمے کے ساتھ موجود ہے:

19-Sim Shalom, Grant Peace, goodness, blessings, grace and kindness mercy upon us and upon all Israel your people.

پھر اس طرز پر ابلاغ اور وسائل ابلاغ کے زورسے ان کلمات سےوائرس اور بیماری ثابت کرناتحریف لسانی اور یہود کی پرلے درجے کی بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس دھوکا دہی اور الفاظ و معانی کے ہیرپھیر سے نوعِ انسانی کو اپنے مقاصد کےلیے بہکایا جاتا ہے۔ قرآن نے واضح الفاظ میں یہودیوںپر تحریف کتاب کی فردِ جرم عائد کی ہے کیونکہ یہودی خود کو ابناء اللہ ’اللہ کے بیٹے‘ واحباءہ ’اور اس کے چہیتے‘ قراردیتے ہیں مگر اِن چہیتوں اور لاڈلوں کی مجرمانہ حرکات اور شاطرانہ چالوں پر گرفت کرکے اقبالؒ نے کہا تھا کہ ’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘۔اس شعرکے مصداق اب ’مابعد انسانیت‘ اور ’کرونا‘ کے پس منظر میں تمام انسانیت(Humanity) بنی اسرائیل کے ہاتھوں موت کے گڑھے کے کنارے آکھڑی ہے جو تحریف کے مجرم ہونے کےعلاوہ عَدواللہ اور عدوالنَّاس ،مخلوق کے دشمن  کا شاطرانہ کردار ادا کررہے ہیں۔

عربی میں تحریف  کے لغوی اوراصطلاحی معنی

امام راغب اصفہانی (۵۰۲ھ) نے مذکورہ آیاتِ قرآنی کے ضمن میںتحریف کے معانی کا تعین کیا ہے۔ الحرفُ  وہ چیز جس میں :

            ۱-         تلخی اورحرارت آگئی ہو اورحلاوت سے پھیردی گئی ہو۔(مفردات القرآن، جلددوم، ص۲۴۷-۲۴۸، ترجمہ:مولانا محمدعبدہٗ)

            ۲-         تحریف کے معنی کسی چیز کو ایک جانب مائل کردینا جیسے تحریف القلم، قلم کو ٹیڑھا قط لگانا۔

            ۳-         تحریف الکلام کے معنی ہیں: کلام کو اس کے موقع و محل اورسیاق وسباق سے پھیر دینا تاکہ دومعنوں کا احتمال پیدا ہوجائے۔

            ۴-         المحارف سے مرادوہ شخص جوخیرسے محروم اورطرف دارہو۔

            ۵-         انحرف عن کذا وتحرف: کسی چیز یاحقیقت سے کنارہ کشی کرنا اور ایک جانب مائل ہونا۔ (حوالہ مذکور ہ بالا)

صحف ِ سماویہ میں الفاظ و معانی اوراصطلاحات کی تحریفات میں منفی پہلو سے لغت کے تمام معانی براہِ راست شامل تھے۔ تاہم، عربی کے علاوہ میڈیا اور عصری انگریزی لُغت میں ایسی اصطلاحات متعارف کی گئی ہیں، جو جنگ کا مفہوم دیتی ہیں۔ ارھاب اورحرب عربی میں جنگ(warfare) کو کہتے ہیں۔ اس سے منحرف اصطلاح انگریزی میں ’حاروب‘ یا تکنیکی جنگ Haarp زبان زدِعام ہے جو بذاتِ خود ٹکنالوجی کے جدید وسائل کے ذریعے ایک بھرپور Techno warfare پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے اصطلاحات کی جنگ کو قرآنی آیات کی روشنی میں’تحریفی جنگ‘ یا ’ابلاغی جنگ‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ارھاب(Terror) اور رھبۃ خوف کے معنی میں اور ترھبون:تخافون کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

امام راغب کےنزدیک وایای  فارھبون  (اور تم مجھ ہی سے ڈرو) میں مذکورہ رھبۃ ایسے خوف کو کہا جاتا ہے جس میں احتیاط اوراضطراب شامل ہو۔

’ارھاب‘ کو انگریزی اصطلاح terrorism کے رُوپ میں تحریف کرکے پچھلے دو عشروں کے دوران ذرائع ابلاغ نے مسلمانوں کو دُنیا میں دہشت گردی کا مجرم ٹھیرایا مگر عوام الناس نے جھوٹ پر مبنی اس تحریف سے بالآخر برأت کا اظہار کیا تو انسانیت کو سزا دینے کے لیے اصطلاح ’کرونا‘ کی خوفناک صورت سامنے آگئی جو خوف واضطراب پر مبنی نفسیاتی، اعصابی اور عملی طورپربھرپور جنگ ہے۔

ہندستان میں صحف سماویہ میں تحریف کے مباحث

برصغیر پاک و ہند میں صحف آسمانی میں تحریف سے متعلق علمی مباحث اور مناظرے تاریخ کا حصہ ہیں۔ تاجِ برطانیہ نے جب برصغیر پر قبضہ جمایا تو انھوں نے عیسائی مشنریوں کا ہندستان میں جال پھیلا دیا تاکہ طاقت کے زور پر مقامی لوگوں کو اُن کے مذہب سے پھیر لیا جائے۔ ان پادریوں کے خلاف مسلم علمائے کرام کے مناظرے جو تحریف صحف ِ سماویہ سے متعلق تھے، ریکارڈ پرہیں۔

۱۰؍اپریل ۱۸۵۴ء کو جنگ آزادی سے قبل فنڈر نامی ایک عیسائی پادری کی قیادت میں  جس کو پادریوں اور پنڈتوں کی پوری فوج کی مدد حاصل تھی، دو معروف علما مولانا رحمت اللہ کیرالویؒ اورمولانا وزیرخانؒ کا مناظرہ ہوا۔ مباحثے اور مناظرے کا موضوع تحریف انجیل و تنسیخ انجیل تھا۔ جب مسلم علما نے اپنے دلائل پیش کیے تو فنڈر پادری نے تحریف بائبل کو تسلیم کیا۔

۱۸۷۶ء اور۱۸۷۷ء میں شاہ جہاں پور میں اپنی نوعیت کے دونئے میلہ ہائے ’خدا شناسی‘ منعقد ہوئے۔ طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ۱۸۷۶ء کے میلے میں وید، بائبل اور قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے پرہندوئوں، عیسائیوں اورمسلمان علما نے دلائل دیئے کہ تحریفات کے بعدان کتابوں کی حیثیت کیا ہے؟ ۱۸۷۷ء میں مولانا قاسم نانوتویؒ نےقرآن کی اَبدیت اور محفوظ ہونے پر دلائل پیش کیے جو مباحثہ شاہ جہاں پور کے نام سے اُن کی کتاب میں مندرج ہیں۔ مولانا نانوتویؒ کی حیثیت برصغیر میں اس وقت وہی تھی جو افریقہ میں مسلم عالم احمد دیدات کی یا اُن کے ممتاز شاگرد ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اب عالمِ اسلام میں ہے۔ بدقسمتی سے ہندستان کے اندر ان مناظروں کو سیکولر انگریز حکومت کی تائید حاصل تھی جن کا نعرہ تھا: ’’زمین خدا کی، رعایا بادشاہ کی اور حکم کمپنی بہادرکا‘‘ جوکہ ایک مشرکانہ بیانیہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ کمپنی بہادر کے حکم کی تحریف شامل تھی۔

بنی اسرائیل کا جرمِ عظیم

سورئہ مائدہ ، آیت ۴۱ میں یہودیوں کو براہِ راست مخاطب کرکے ارشاد ہوا:

وَمِنَ الَّذِيْنَ ہَادُوْا۝۰ۚۛ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۝۰ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ۝۰ۭ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ۝۰ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا۝۰ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَـيْـــــًٔـا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۴۱) اُن میں سے جو یہودی ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمھارے پاس کبھی نہیں آئے سُن گن لیتے پھیرتے ہیں، کتابُ اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمھیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو، اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے۔

مدینہ کی ریاست کے اندر یہودی معاہدے یا میثاقِ مدینہ کے تحت اسلامی ریاست کی رعایا تھے مگردھوکا دہی کے ذریعے اللہ کی آیات کے معنی بدلنے میں اور رسولؐ اللہ کی جاسوسی کرنے میں وہ طاق تھے۔ اس لیے قرآن نے صحابہؓ اور پیغمبرؐ خداکو تنبیہہ فرمائی اور ارشاد ہوا:

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝۷۵(البقرہ ۲:۷۵)اے مسلمانو! اب کیا اِن لوگوں سے تم توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے؟ حالانکہ اُن میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کردانستہ اس میں تحریف کی۔

اس دانستہ تحریف میں الفاظ قرآنی کا اُلٹا مفہوم پیش کرنا بھی ایک حربہ ہے جیسے اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ کی بجائے رحمآء علی الکفَّار  واشداء بینھم کا مفہوم پیش کرکے منحرفین یہود، مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے ہیں اور قرآن کو نشانۂ تضحیک بناتے اور مذاق اُڑاتے ہیں۔

اصطلاحی تحریفات کا معاشرتی تدارک

تحریفات کے تدارک کے لیے قرآن نے ایسے تمام ذومعنی ، مبہم اورمحرف کلمات اور اصطلاحات کے استعمال سے مسلمانوں کو منع کیا تھا جس کا مقصد کلام اللہ میں معانی کی تبدیلی، ذاتِ گرامی رسولؐ پر طنز و استہزا اور دین و شریعت میں طعنہ زنی کا پہلو نکلتا تھا۔ یہودیوں کی شہ پر منافقین اِن تحریف لسانی کے وسائل کو استعمال کرکے مقاصد ِ شریعت کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے تھے اور مسلمانوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔ قرآن نے ان مذموم حرکات و سکنات اور اشارات کو لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ (النساء ۴:۴۶) (وہ تحریف ِ لسانی کرتے ہیں اوردین میں طعنہ زنی کرتے ہیں) کہہ کر اُن کے مبہم تحریفات کے استعمال سے منع کیا اور راعنا  کے لفظ کو بد ل کر اںظرنا   کا متبادل الفاظ استعمال کرنے کا حکم دیا کیونکہ دشمنانِ حق اس لفظ کو زبان کا چکمہ دے کر راعینا  بناتے تھے، یعنی اس میں ’’اے ہمارے چرواہے‘‘ کی طنز وتشنیع کی کاٹ اور مبہم تحریف شامل ہوتی تھی۔

سورۃ المائدہ میں ارشاد ہوا:

يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ۝۰ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّـمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ۝۰ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَۃٍ مِّنْہُمْ  اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ (المائدہ ۵:۱۳) ان سخت دل لوگوں کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انھیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمھیں اُن کی کسی نہ کسی خیانت کا پتاچلتا رہتا ہے۔ اُن (یہودیوں) میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئےہیں۔

دوسری جگہ پر مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ   (۵:۴۱) استعمال ہوا ہے، یعنی سیاق و سباق اور معنیٔ اصلی متعین ہونے کے بعد اِن کے کلام اللہ اور صحفِ سماویہ میں تحریف اِن کی دیدہ دلیری کا ثبوت اور جرمِ عظیم کی شہادت ہے جو انحراف اور بغاوت کے مترادف ہے۔

سرکش کفّارِ مکّہ نے پیغمبرؐ خدا سے تحریف سے بڑھ کر یہاں تک کا مطالبہ پیش کیا تھا کہ ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ۝۰ۭ (یونس ۱۰:۱۵)’’اس قرآن کے علاوہ کوئی قرآن لے آئو یا اُسی میں تبدیلی کرو‘‘۔ لہٰذا قرآن نے اسلامی معاشرے کو ان اصطلاحات کے استعمال سے بروقت روک دیا۔

شرفِ انسانی اور فساد

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک ہم نے بنی آدم ؑ کو شرف و تکریم سے نوازا‘‘(بنی اسرائیل  ۱۷:۷۰) مگر کرونا کے ہاتھوں یہ تکریم انسانی اب خاک آلود ہوچکی ہے۔ اگرچہ کرونا وائرس کی ہیئت ترکیبی اور وقوع پذیر حالات کی تفصیل اس وقت میرا موضوع نہیں ہے، تاہم اسباب کی دُنیا سے قطع نظر المناک واقعات کے حولے سے کرونا کے ہاتھوں انسان، انسانی خودی اور خود انسانیت جس ذلّت و ہلاکت سے دوچار ہے، جنگ ِ عظیم کے بعد یہ اس صدی کا سب سے بڑافساد ہے  جس کی زد میں پورا کرئہ ارض آچکا ہے۔ وقفے وقفے سے پچھلے ایک سال کے دوران کووڈ-۱۹ کی ریڈیائی لہریں کہیں مُردہ وائرس کا حامل بن کر، کبھی زندہ وائرس اور کبھی سپر وائرس کے حاملین (Silent Carriers) بن کر ہلاکت خیزی دکھارہی ہیں اور انفرادی اور اجتماعی طور پر ہرانسان موت و زیست کی کش مکش میں مبتلا ہوچکا ہے اورعاجزی کے ساتھ خلاصی کے لیے چیخ و پکارکر رہا ہے۔

سورئہ روم میں قرآن نے فسادِ ارضی کا جو نقشہ کھینچا ہے ، حالات اس کے مشابہ ہیں۔ فرمایا گیا:

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۴۱ (الروم ۳۰:۴۱) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے  لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ، تاکہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔

علامہ امام راغب اصفہانیؒ (۵۰۲ھ) اپنی معروف لغت مفردات قرآنی میں اس آیت میں مذکور فساد اور کسب کے لغوی معنی کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’فساد‘ کسی چیز کے حد ِ اعتدال سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں چاہے وہ افراط کی صورت میں ہویا تفریط کی صورت میں۔ اَفسدُوہ فُلَانًا، ’فلاں نے اس چیز کا توازن بگاڑا‘۔ یا اس بااختیار شخص نے اپنی فتنہ انگیزی کے ذریعے حیوانوں اور انسانوں کی نسل کو نابود کر دیا، لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۰۵)۔ مفسد کے مقابلے میں مصلح فساد کو روکنے اور اصلاح کرنے کو کہا جاتاہے۔ وَاللہُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۲۰) ’’اللہ خوب جانتا ہےکہ خرابی کرنے والے کون ہیں اور مصلح کون؟‘‘

ایک ہزار سال پہلے کا یہ عالم باکمال لفظ ’کسب‘ اور ’اکتساب‘ کی بھی لغوی تشریح کرتے ہیں۔ کسب بھی ایسی چیز کا قصد کرنا یا ارادہ کرنا جو مفید اور نفع بخش ہو، چاہے وہ ذاتی اغراض کے لیے ہو یا دوسروں کی افادیت کے لیے، جب کہ اکتساب اس کام کو کہتےہیں جس میں انسان کی ذاتی غرض مطلوب ہو۔ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۝۰ۭ(البقرہ ۲:۲۸۶)’’ہرشخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے،اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے‘‘۔

بعض نے کسب سے مراد اُخروی اعمال لیا ہے اور اکتساب سے مراد دُنیوی کسب و پیشہ۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا۝۰ۚ (الانعام ۶:۷۰) کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ یہ لوگ اپنی شامتِ اعمال کے وبال میں پکڑے گئے۔ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا (الروم ۳۰:۴۱) ’’تاکہ اللہ اُن کو اُن کے بعض اعمالِ بد کا دُنیا میں مزا چکھادے‘‘۔(مفردات قرآنی،جلددوم،ص ۳۵۲)

امام راغبؒ فسادِ انسانی کے مترادف لفظ فتنۃ کی لغوی تعبیر پیش کرتے ہیں اور اس کا موازنہ قتل سے کرتے ہیں۔قتلت فُلانًا  قتلتہُ   ’’میں نے فلاں کو ذلیل کر کے رکھ دیا‘‘۔ والفتنۃ  اَشد  من القتل  (یہ کہ فتنہ، قتل سے زیادہ سخت ہے)۔

’قتل‘ کے لفظ میں معنی کی نسبت قتل کرنے والے قاتل کی طرف ہوتی ہے، جب کہ فتنہ میں قتل ہوتا ہے مگر قاتل کی طرف نسبت نہیں ہوتی (یا قتل پسِ پردہ قاتل کی طرف سے ہوتا ہے)۔ لہٰذاقرآن نے قتل سے فتنہ کو اشد قراردیا ہے: وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً۝۰ۚ (الانفال ۸:۲۵) ’’اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو‘‘۔

اخفش نے فتنہ کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک میسور اور دوسرا معسور، یعنی عُسر اور یسرکا فتنہ (مفرداتِ قرآنی، ص ۲۲۳)۔ وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ (المائدہ ۵:۷۱) ’’وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ بلا اُن پر نازل نہ ہوگی‘‘۔

امام راغب ؒکے نزدیک فتنہ کا مفہوم بلا، مصیبت، عذاب و آزمایش، قتل اور دھوکا دہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔تحریف اور انحراف کی بدترین شکل جو عصر حاضر میں فتنہ کی بدترین شکل اختیار کرچکا ہے اورذرائع ابلاغ پورے زور سے اس آگ کو بھڑکا رہے ہیں، وہ عمل انسانی (Human action) اور عمل خدائی (God action) میں فرق نہ کرنے کا فتنہ ہے۔ اکیسویں صدی سائنس اور ٹکنالوجی کے عروج کی صدی ہے۔ انسانی فن و پیشہ اپنے حد ِ کمال تک پہنچ چکا ہے۔ بحروبَر کی کائنات سائنسی لحاظ سے تسخیر ہوچکی ہے اور یہ تسخیر ہائیڈرو سفائر اور آئیونو سفائر پر بھی محیط ہے، جہاں پر میزانِ کائنات قائم ہے:

وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ۝۷ۙ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ۝۸ (الرحمٰن۵۵: ۷-۸) آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۔

عہد ِ حاضر میں فساد کی بدترین صورت فطرت کے نظام میں خلل ڈالنے اوراُسے عدم توازن کا شکارکرنے کی صورت میں نمودارہورہا ہے۔ آواز، بادل اوربارشوں کےراستے سائنس اور ٹکنالوجی کی زَد میں ہیں۔ وائرس سمیت فضائے بسیط کے اندر آواز کی لہروں اور صورتوں کا اپنی مرضی سے انتقال انسانی ٹکنالوجی کی ترقی کے باعث مسخر ہوچکا ہے جو انسان کی منفعت کے لیے ہی نہیں بلکہ مضرتِ انسانی اور خاتمۂ انسان کے لیے اس کا استعمال ہونا ممکن ہوگیاہے۔ حال ہی میں اسٹیفن بربرچر کی کتاب  Post-Humanismکے نام سے شائع ہوئی (۲۰۱۲ء) جس میں عہدحاضر کے جدیدنینو ٹکنالوجیز اور اطلاعی ، طبّی مہارتوں وغیرہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انسان کے لیے بشمول وسائل ترسیل مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اخلاق سے ماورا سچائی اور جھوٹ کا حوالہ پیش کرکے وہ لکھتے ہیں: ’’اخلاقی حس سے میراسچ اور جھوٹ کا تصور وہ پہلا نکتہ ہے جہاں سے ماوراانسانیت کی تحریک شروع ہوتی ہے‘‘۔

یہ تحریف جو سچ اور جھوٹ کو اخلاقیات سے پاک کردے ہمارے ابلاغی نظام کو کس انحراف سے دوچار کرے گا؟ یہی پوسٹ ہیومنزم کے تصور کو سمجھنے کے لیے کافی ہے، جہاں پیغمبروں ؑ کی شریعت کے برعکس جھوٹے ضوابط اور جھوٹے معیارات سے انسانوں کو بہلایا اور پھسلایا جائے گا۔ اور ہر مذموم اور قابلِ مذمت عمل کو محمود اورمعیاری قراریا جائے گا۔ ایسے ہی تحریفی ضوابط ِ عمل یا آپریشنل سٹینڈرز کا تصور میکیاولی نے بھی پیش کیا تھا۔

دوبنیادی قرآنی اصطلاحات

قرآن نے ایسے شریر دماغوں اور بدعمل اور بُری چال چلنےوالوں کا محاسبہ سخت الفاظ میں کیا ہے اور اُن کو ’تقلب‘ اور ’تخوف‘ میں پکڑنے کی وعید سنائی ہے:

اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللہُ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ۝۴۵ۙ  اَوْ يَاْخُذَہُمْ فِيْ تَقَلُّبِہِمْ فَمَا ہُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۝۴۶ۙ اَوْ يَاْخُذَہُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ۝۰ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۴۷ (النحل ۱۶: ۴۵-۴۷)پھر کیا وہ لوگ (جو دعوتِ پیغمبر ؑ کی مخالفت میں) بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ اُن کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے اُن پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کےآنے کا اُن کو وہم و گمان تک نہ ہو، یا اچانک چلتے پھرتے اُن کو پکڑ لے یا پھر (تخوف کی) ایسی حالت میں اُنھیں پکڑے، جب کہ انھیں خود آنےوالی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنّے ہوں؟ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے یہ لوگ اُس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا ربّ بڑا ہی نرم خُو اور رحیم ہے۔

’تخوف‘ کی اصطلاح کا انگریزی ترجمہ علّامہ محمد اسد نے  slow distruction بتدریج تباہی اور اخلاقی اقدار کی پراگندگی متعین کیا ہے اور بُری چال چلنے والوں ’مکروالسیات‘ کا ترجمہ Who devise evil schemesلکھا ہے۔

اس قرآنی اصطلاح کی تشریح میں وہ امام زمخشریؒ اور امام طبریؒ کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں:

In the above context, the term has obviously both a social and moral connotation, and graceful disintegeration of all ethical values of power, of civic cohesion of happiness and finally of life itself. (The Message of Quran, p479, published by Islamic Book Trust, Kualalmpur).

مذکورہ بالا سیاق و سباق میں ’تخوف‘ کی اصطلاح سماجی اور اخلاقی دونوں مفاہیم کا احاطہ کرتی ہے، یعنی قوت کے مصادر سے اخلاقی اقدار کی بتدریج علیحدگی، باہمی تعلقات اور ملاپ میں عمل جدائی، خوشی کا درہم برہم ہونا اوربالآخر زندگی ہی کا خاتمہ اس اصطلاح کے مفہوم میں شامل ہے۔

اس کے برعکس خوش حالی اور امن و تعیش کی حالت ’تقلب‘ کی اصطلاح کےطور پر قرآن میں استعمال ہوئی ہے، جس میں فکروعمل کی تبدیلی کا مفہوم بھی شامل ہے۔ مجموعی طورپر عُسر کے ایام کو تخوف اور آسانی اور یُسر کے ایامِ زندگی کو تقلب کے اَدوار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ طاغوت کے زیراثر جب انسان نے تبدیلی یا Transformation کے عمل میں اللہ سے تعلقِ بندگی توڑنے کا فیصلہ کیا تو مفہوم المخالفۃ کی تحریف کے ذریعے یا Reversal interpretation کے طور پر ان دونوں قرآنی اصطلاحات کا بھرپوراستعمال کیا گیا اور بزعمِ خود خدا بن کر ترغیب و ترہیب کی عالمی پالیسی اپنائی گئی جس نے پچھلی دو صدیوں کے دوران ماڈرنزم اور ہیومنزم کے عقیدے کی صورت میں انسانی فکروعمل کے زاویوں کو بھی بدل دیا اور اکیسویں صدی میں پوسٹ ہیومنزم کے تخوف سے انسانوں کو دوچار کردیا تاکہ وہ فتنۂ موت و حیات کے ساتھ ساتھ ضعف ِ ارادہ و عمل کی آزمایش سےبھی دوچار ہوں اورعُسر کی تکالیف کا سامنا کریں۔

مقدمہ ابن خلدون میں حضرت عمرؓ کا واقعہ درج ہے کہ انھوں نے منبر پر تخوف کی آیت تلاوت فرمائی اور اصطلاح کا معنی دریافت کیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ اس آیت میں تخوف بمعنی تنقص استعمال ہوا ہے، یعنی نفس انسانی کا نقصان (مقدمہ ابن خلدون، ص ۴۸۰)۔

تکریم و شرف نوعِ انسانی کا ضابطہ

اس اشرف مخلوق کے لیے شریعت الٰہی میں ’عبدیت‘ کا خدائی ضابطہ ہے، جو ارادئہ الٰہی یا رضائے الٰہی کا مظہر ہے۔ اس تفویض کردہ delegated will یعنی ارادئہ انسانی سے عرفانِ ربّ اور عرفانِ ذاتِ انسانی دونوں ممکن ہیں۔ تاہم، صنعتی انقلاب میں تحریف کے ذریعے آزادی (liberty)  کا مفہوم ’عبدیت‘ کی حقیقت سے انسان کی آزادی کو قرار دیا گیا۔ اس فکر کو انسان کی خودمختاری یا soverignity قرار دیا گیا۔ متعدد اصطلاحات انسان پرستی یا ہیومنزم، ریشنلزم یا مفادپرستی یا Utilitarianism وغیرہ ’عبدیت‘ کی فکر کو توڑنے مروڑنے کے لیے انسانی سوچ اور تحریفات کا نتیجہ تھے۔

نکولومیکیاولی (۱۴۶۱ء-۱۵۲۹ء)، زونگلی (۱۵۳۱ء) ایراسمس مانڈیس (۱۵۳۶ء)، مارٹن لوتھر (۱۵۴۶ء) اور کولون (۱۵۶۱ء) کے نام سے ان پانچ ہم عصر شخصیات نے اپنی شرانگیز فکر سے اس ابلیسی مشن کو ریاستی قوت سے آگے بڑھایا۔ اُن ہی کی طرح، عصرحاضر کی معاصر پانچ متمول شخصیات نے ہیومنزم کے برعکس پوسٹ ہیومنزم یامابعد انسانیت کے فلسفے کو پچھلے چند سال میں بامِ عروج تک پہنچایا ہے اور فرعونیت اور قارونیت کے مرتبے پرفائز ہوچکے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں وہ انفوٹکنالوجی، نینو ٹکنالوجی، سائبرٹکنالوجی اور بایوٹکنالوجی کے بلاشرکت غیرے ’قرناء‘ عصری امام مانے جاتے ہیں جو ٹکنالوجی کے زور پر عصرِحاضر کے لیے نیو ورلڈ آرڈر تشکیل دے رہے ہیں۔  ان پانچ شخصیات میں بل گیٹس، امیزون، رُوتھ فیل چائلڈ، رمزک اور میلنڈگیٹس شامل ہیں جن کو پانچ بڑے Five Greats کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ انفوٹکنالوجی کے باوا آدم سمجھے جاتے ہیں۔سائنسی لحاظ سے اگرچہ نظریہ کے طور پرقاتل شعائوں (death rays) کا نظریہ بہت پہلے ۱۹۲۰ء میں نکولوٹیبلا نے پیش کیا تھا، اور ۱۹۴۳ء میں پُراسرار انداز میں اس کا انتقال ہوا تھا۔ مگر جدید ریڈیائی شعائیں پُراسرارحاملین (Silent Carriers) بن کر تابکاری، یعنی Radiations میں اضافہ کررہی ہیں۔ بعید نہیں کہ ہلاکت خیز تابکاری کو شیطان نما انسانوں نے تحریف کرکے طبّ کے ساتھ جوڑا ہے جس کے اہداف سیاسی اور اسٹرے ٹیجی یا حیاتیاتی جنگ میں پوشیدہ ہیں۔

دورِ اختتام کا آغاز اور دجالیت

فتنۂ حیات و ممات سمیت دجال کے مختلف النوع جنگی حربوں کے ذکر سے حدیث کا لٹریچر بھرا پڑا ہے جسے کتاب الملاحم اور علاماتِ آثارِقیامت کے مستند مصادر سےمطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس پُرفتنہ دورمیں موت و زیست کی حیاتیاتی کش مکش اورفتنے کو حدیث میں بڑی جنگوں یا الملحمۃ الکبریٰ کی اصطلاح سے واضح کیا گیا ہے جہاں سے دجالیت کے دورِ اختتام کا آغاز ہوتا ہے۔ وقت کے ائمہ ضلالت کی طرف سے مابعد انسانیت یا Post Humanism کی اصطلاح  ’جنگی فسوں‘ الملحمۃ الکبریٰ کی اسلامی اصطلاح سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے۔ اس پُرفتن اور پُرآشوب دور سے احادیث میں دُعائوں کے ذریعے پناہ مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ دجال کے کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے خدائی کاموں سے ملتے جلتے اور پُرفریب، سخت تحریفی اور فتنہ انگیز ہوں گے۔ عہد ِجدیدیت کے آغاز ہی میں اٹھارھویں صدی کے اندر تھامس مالتھس  ۱۷۹۸ءمیں ایک کتاب The Theory of Population لکھ کر انسانی آبادی کے کنٹرول کرنے کے مُدعا کو سامنے لایا تھا مگر کسے معلوم تھا کہ اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے مقتدرانسان کی مکارانہ چالوں سے آسمانی اقدارسمیت عالمی سطح پر لفظ اور حرف کی حُرمت بھی ناپیدہوگی۔ یہ دور اور یہ کتاب بالآخر ’کرونا کے بڑے فُسوں ‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جو حیاتیاتی جنگ اور تکنیکی جنگ کے امتزاج سے نوعِ انسانی کی ہلاکت کاباعث بنے گا۔

سازشی نظریہ کا نام لے کرغلط فہمی کے شکار انسانوں کو اِبلاغ کے زور پر کچھ عرصے کے لیے گمراہ تو کیا جاسکتا ہے مگراصطلاحات کی جنگ کے سہارے ہمیشہ کے لیے قرآنی حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ یہ کتابِ ہدایت براہِ راست اللہ کی حفاظت میں ہے۔ اس کے محفوظ مصادر کے ذریعے عصرحاضر کے ابلیسی حکمت و عزائم کا مقابلہ ممکن ہےکیونکہ شیطان کو قرآن نے انسان کا کھلا دشمن یا عدوّ مبین قراردیاہے۔ یہ بھی ارشاد ہوا:

 اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا۝۰ۭ (حم السجدہ ۴۱:۴۰) بے شک جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں۔

جب نوّے کے عشرے میں مَیں نے صحافت کی وادی میں قدم رکھا تو دہلی سے سری نگر واپسی کے دوران جموں شہر میں اکثر رُک جاتا تھا، جس کی ایک بڑی وجہ کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر وید بھسین، دانش ور بلراج پوری، کرشن دیو سیٹھی اور اوم صراف سے ملاقات تھی۔ ان مشاہیر کے ساتھ چند منٹ کی ملاقات، تاریخ کے ایسے دریچے کھول دیتی، جو سیکڑوں کتابیں پڑھنے پر بھی نہیں کھل سکتے تھے۔ جی چاہتا یہ ملاقات جلد ختم نہ ہو۔ اس قافلے کے آخری فرد کرشن دیو سیٹھی اس سال فروری میں ۹۳سال کی عمر میں جموں میں انتقال کرگئے۔ وہ پہلی جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے واحد بقیدِ حیات رکن تھے۔ وید بھسین اور سیٹھی مصلحتوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،اسی لیے وہ اکثر حکومت کے عتاب کا شکار رہتے تھے۔ دونوں بھارت نواز ہونے کے باوجود کشمیر میں استصواب رائے کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر استصواب ہوتا ہے تو ہم بھارت کے حق میں ووٹ ڈالیں گے، مگر صرف اس بنیاد پر کہ غالب آبادی بھارت کو تسلیم نہیں کرے گی، ان کے حق رائے دہی کو دبایا نہیں جاسکتا‘‘۔

سیٹھی صاحب ۱۹۲۸ء میں آزاد کشمیر کے شہر میر پور میں پیدا ہوئے۔ ۱۵سال کی عمر میں انھوں نے ڈوگرہ حکومت کے جاگیر دارانہ نظام کے خلاف علَم بغاوت بلند کیا۔ وہ اپنی تربیت کے حوالے سے سردار بدھ سنگھ، راجا محمد اکبر خان، مولانا عبداللہ ، حاجی عبدالرحمان اور حاجی وہاب الدین جیسے مقامی لیڈروں کے احسان مند تھے۔ وہ زمانہ جب جموں میں اور خاص طور پر آزاد کشمیر میں شعوری طور پر یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کے نجات دہندہ کے طور پر ڈوگرہ حکمران مہاراجا گلاب سنگھ اوران کے جانشین راجوںکو تاریخ کا ہیرو بناکر پیش کیا جائے، تو کرشن سیٹھی   اس پر خاصے آزردہ تھے۔ انھوں نے اس روش کے خلاف آوازاٹھائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ڈاکٹرکرن سنگھ اور ان کے کاسہ لیس متواتر یہ کوشش کرتے آئے ہیں، تاکہ ان کے آبائو اجداد کو ہیرو اور خود انھیں، ان کا وارث قراردے کر اس خطے میں جاگیر دارانہ نظریات کااحیا کیا جائے‘‘۔ سیٹھی کا کہنا تھا کہ ’’جب گلاب سنگھ نے جموں کے عوام سے بے وفائی کرکے جبر وتشدد کے ذریعے جموں و کشمیر کی ریاست میں اقتدار حاصل کیا اور ان کے لواحقین نے جانشین بن کر جاگیر دارانہ لوٹ کھسوٹ کی، تو بھلا ایسے بدنما اور سفاک پس منظر کے حامل راجے کو جموںکا ہیروکیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ ‘‘

تواریخ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے تھے کہ ’’جب راجا رنجیت سنگھ نے پیش قدمی کرکے جموں کو فتح کرنے کی کوشش کی تو یہاں اس کی زبر دست مزاحمت ہوئی اور لاہور دربار کے خلاف زبردست گوریلا جنگ لڑی گئی۔ گلاب سنگھ نے رنجیت سنگھ کی فوج میں ملازمت اختیار کرکے مزاحمتی لیڈر میاں ڈیڈو اوردوسرے کئی سرفروشوں کو قتل کیا اور اس غداری کے عوض ڈوگرہ گلاب سنگھ کو جموں کی باج گزار ریاست عطا ہوئی۔ جس نے سکھ دربار کو خوش کرنے کے لیے جسروٹہ، بلاور، بسوہلی،بھمبر، ٹکری، کرمچی،کشتواڑ، بھدرواہ، سراج، کوٹلی، راجوری، پونچھ ، میر پور اور دوسرے علاقوں کے راجگان کے سرقلم کیے یا انھیں ملک بدرکیا۔سبز علی خان اور مالی خان کی کھالوں میں بھوسہ بھرکر درختوں کے ساتھ لٹکایا گیا۔ تاہم، راجا رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت کا زوال شروع ہوا اور انگریزوں نے پنجاب پر یلغار کی تو جموں کا یہ ’ہیرو‘ انگریزوں سے مل گیا۔   اس ’خدمت خاص‘ کے عوض اور ۷۵ لاکھ روپے نانک شاہی رقم، جو انگریزوںنے تاوانِ جنگ متعین کیا تھا، اس کی ادائیگی کرکے’ بیع نامہ امرتسر‘ کے ذریعے کشمیر کا صوبہ راجا گلاب سنگھ نے حاصل کیا۔ اس کے بعد جموں کے اس ڈوگرہ خانوادے نے جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ تاریخ کے گھنائونے باب کی صورت میں رقم ہے‘‘۔ کرشن سیٹھی کا کہنا تھا کہ ’’جموں کے اصل ہیرو تو میاںڈیڈو، کیسری سنگھ، پونچھ کے راجا علی خان، سبز علی خان، شمس خان، بھمبرکے راجا  سلطان خان وغیرہ اَن گنت لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی آزادی کی حفاظت کی خاطر جانیں دیں‘‘۔

کرشن سیٹھی، ۱۹۴۷ء کے خونیں واقعات کے چشم دید گواہ تھے ۔ وہ اس وقت میر پور جیل میں نظر بند تھے، کہ ایک ہجوم نے جیل پر حملہ کرکے قیدیوں کو آزاد کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جموں میں مسلم کش فسادات کروانے میں راجا ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم مہر چند مہاجن نے بھر پور کردار ادا کیا‘‘۔ جموں کی سڑکوں پر قتل و غارت کو روکنے کے لیے وہ ، وید بھسین، بلراج پوری اور اوم صراف کے ہمراہ راجا کے محل پہنچے۔ جہاں ان کو مہرچند مہاجن کے روبرو لے جایا گیا۔ پڑھے لکھے نوجوانو ں کودیکھ کر مہاجن انھیں سمجھانے لگا کہ ’’آپ کو اسمبلی اور دیگر اداروں میں مسلمانوں کے برابر نشستوںکا مطالبہ کرنا چاہیے کیونکہ اب جمہوری دورکا آغاز ہو چکا ہے اور عددی قوت کے بل پر ہی اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا جاسکتا ہے‘‘۔ اوم صراف نے جرأت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’’یہ آخر کس طرح ممکن ہے، جب کہ جموں و کشمیر تو ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے؟‘‘ ویدبھسین اور کرشن دیو سیٹھی کے بقول ’’اس پر مہاجن نے محل کی دیوار سے متصل کھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’بالکل اس طرح‘۔ اورجب ہم نے بغور دیکھا تو وہاں متعدد مسلم گوجروں کی بے گور وکفن لاشیں نظر آئیں، جو شاید صبح سویرے محل میں دودھ فراہم کرنے آئے تھے۔ دراصل مہرچند مہاجن ریاست کی آبادی کا فرقہ وارانہ تناسب قتل و غارت سے تبدیل کرنے پر مصرتھا‘‘۔

ان فسادات کے دوران ہی شیخ محمد عبداللہ کو ’ایمرجنسی ایڈمنسٹریشن‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور اسی حیثیت میں وہ جموں وارد ہوئے۔ سیٹھی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’مَیں موتی لال بیگھڑا اور  مولوی محمدسعید مسعودی کے ہمراہ شیخ صاحب کے ساتھ مسلم مہاجر کیمپ پہنچا۔ بجائے اس کے کہ شیخ عبداللہ ان لٹے پٹے لوگوں کی ڈھارس بندھاتے، اور ان کی آباد کاری کے احکامات جاری کرتے، انھوں نے انھی بے خانماں مسلمانوں کو کوسنا شروع کیا‘‘۔ بقول سیٹھی: ’’شیخ کے یہ الفاظ کہ جموں کے مسلمانوں نے مجھے کبھی لیڈر تسلیم ہی نہیں کیا‘‘۔ ہمارے اور سبھی حاضرین کے لیے صدمے کا باعث بنا کہ اس وقت یہ شکوہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا۔ ’’ان کی آباد کاری کے بجائے مہاجن کی طرح شیخ عبداللہ بھی ان تباہ حال مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی جلدی میں تھے‘‘۔

 سیٹھی صاحب اس کے بعد چودھری غلام عباس اور چودھری اللہ رکھا ساغر سے ملاقات کرنے کے لیے جیل چلے گئے اور ان کو ایک حد تک راضی کروایا کہ وہ جموں چھوڑ کر نہ جائیں، ورنہ یہ خطہ مسلمانوں سے پوری طرح صاف ہوجائے گا۔ ساغر نے ان کو کہا کہ شیخ کو اس ملاقات کے بارے میں نہیں بتانا ’’مگر میں نے بے وقوفی میں شیخ صاحب کو ملاقات کے بارے میں بتایا اور ان سے گزارش کی کہ جموں کی مسلم لیڈرشپ کو جانے نہ دیں۔ مگر اگلے ہی دن انھوں نے حکم جاری کرکے مجھے راجوری، پونچھ کے لیے آباد کاری افسر مقرر کیا اور پیچھے چودھری عباس اور اللہ رکھا ساغر کو میر پور پہنچا دیا گیا‘‘۔

راجوری،پونچھ میں بطور آبادکاری افسر کام کرنے کے چند ہفتوں کے بعد ہی بھارتی فوج نے سیٹھی کو اس الزام کے تحت گرفتار کرلیا کہ ’’ہمارے ہاتھ چینی حکومت کا ایک خط لگا ہے، جو تمھارے نام ہے اور جس میں اس علاقے میں مسلمانو ں کی مدد کرنے پر تمھاری تحسین کی گئی ہے‘‘۔ میجر جنرل مسری چند نے اس پر سیٹھی کو راجوری قلعے میں قید کر لیا۔ ان کے ایک ساتھی ترال کے عنایت اللہ نے پیدل سرینگر پہنچ کر شیخ عبداللہ کو خبر دی، جس نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے مداخلت کی اپیل کی۔ نومبر ۱۹۴۷ء کی ایک رات، سیٹھی صاحب کو ایک سپاہی نے بتایا کہ آپ کو گولی مارنے کے احکامات موصول ہوئے ہیں۔ اسی دوران دہلی سے آنے والے سرکاری اہلکار  ان کو اپنے ساتھ جموں لے گئے اور اس پورے قضیے کی تفتیش کے احکامات کا اجرا ہوا۔ معلوم ہوا کہ خط جعلی تھا جسے بھارتی فوج اور خفیہ پولیس نے تیار کیا تھا۔

سیٹھی صاحب ایک ادیب، صحافی اور کمیونسٹ نظریات کے حامل دانش ور تھے۔ وہ ۱۹۶۲ء میں بھارت چین جنگ کے دوران ڈھائی سال تک قید میں رہے۔ وہ بھارتی پارلیمانی جمہوری نظام کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ’’اس جمہوری نظام کے ستون، یعنی سیاسی پارٹیاں سرمایہ دارانہ نظام کی غلام ہیں، کیونکہ انتخابات لڑنے کے لیے کثیر سرمایہ کی ضرورت پیش آتی ہے‘‘۔ وہ بھی اُردو زبان کے دیرینہ محبوں اور بہی خواہوں میں شمار ہوتے تھے اور ریاست کی ایک چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ منظور انجم نے درست لکھا: ’’جموں وکشمیر کی تاریخ اور سیاست کا یہ سرگرم کردا ر اپنے پیچھے دو بچوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑ کر گیا ۔ نہ کوئی بنک بیلنس ، نہ کوئی مکان ، نہ گاڑی اور سامان۔اس کی موت پر آنسو بہانے والوں میں ایسے بے شمار لوگ تھے ،جوا س کے دھرم ، قبیلے اور لسانی و نسلی گروپ سے تعلق نہیں رکھتے تھے‘‘۔

سیٹھی صاحب نے ایک بار شیخ عبداللہ سے کہا تھا کہ ’’میں تو لادین ہوں، مگر آپ اسلام کے پیرو کار ہیں اور آپ کا مذہب بتاتا ہے کہ مسلمان ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔ آخر   آپ بار بار دہلی کے حکمرانوں پر اعتبار کیسے کرتے ہیں؟‘‘کرشن دیو سیٹھی صاحب، الوداع، شہر جموں اب درد مند دانش وروں سے خالی ہوگیا ہے۔

[قرآن کریم میں] ’نیکوکار‘ لوگوں کی تین صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باقی ساری نیکیوں کا دارومدار انھی تین چیزوں پر ہے:

  • وہ نماز قائم کرتے ہیں ، جس سے خدا پرستی و خدا ترسی ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔
  • وہ زکوٰۃ دیتے ہیں، جس سے ایثار و قربانی کا جذبہ ان کے اندر مستحکم ہوتا ہے، متاعِ دُنیا کی محبت دبتی ہے اور رضائے الٰہی کی طلب اُبھرتی ہے۔
  • اور وہ آخرت پریقین رکھتے ہیں، جس سے ان کے اندر ذمہ داری و جواب دہی کا احساس اُبھرتا ہے۔ جس کی بدولت وہ اس جانور کی طرح نہیں رہتے، جو چراگاہ میں چُھوٹا پھر رہا ہو، بلکہ اس انسان کی طرح ہوجاتے ہیں، جسے یہ شعور حاصل ہو کہ مَیں خودمختار نہیں ہوں، کسی آقا کا بندہ ہوں اور اپنی ساری کارگزاریوں پر اپنے آقا کے سامنے مجھے جواب دہی کرنی ہے۔

ان تین خصوصیات کی وجہ سے یہ ’نیکوکار‘ اس طرح کے نیکوکار نہیں رہتے جن سے اتفاقاً نیکی سرزد ہوجاتی ہے اور بدی بھی اسی شان سے سرزد ہوسکتی جس شان سے نیکی سرزد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ خصوصیات ان کے نفس میں ایک مستقل نظام فکرواخلاق پیدا کردیتی ہیں، جس کے باعث ان سے نیکی کا صدور باقاعدہ ایک ضابطے کے مطابق ہوتا ہے اور بدی اگر سرزد ہوتی بھی ہے تو محض ایک حادثے کے طور پر ہوتی ہے۔ کوئی گہرے محرکات ایسے نہیں ہوتے جو ان کے نظام فکرواخلاق سے اُبھرتے اور ان کو اپنے اقتضائے طبع سے بدی کی راہ پر لے جاتے ہوں۔(’تفہیم القرآن‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۵، عدد۶، مارچ ۱۹۶۱ء، ص۱۱)

سیّدالبشرؐ،بے مثل و بے مثال، ڈاکٹر خالد علی انصاری

 ناشر: حامد اینڈ کمپنی، ۳-اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۱۲۱۷۳-۰۴۲۔ صفحات: ۷۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔

ڈاکٹرخالد علی انصاری دس سال تک کراچی سے ماہنامہ ساحل شائع کرتے رہے۔ پھر کینیڈا منتقل ہوکر شعبۂ طب میں خدمات انجام دینے لگے۔ زیرنظر کتاب مصنف نے اپریل ۲۰۱۵ء میں مسجدنبویؐ میں اصحابِ صفّہ کے چبوترے پر بیٹھ کر لکھنا شروع کی تھی۔

سیرتِ نبویؐ ایسا وسیع اور جامع موضوع ہے کہ اس پر جتنا بھی لکھیں، جتنی بھی تعریف و توصیف کریں، کسی بندئہ بشر کے لیے ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ مصنف نے حسب ذیل عنوانات کے تحت لکھا ہے: قرآن حکیم میں رسولِ اکرمؐ کا ذکر، حدیث میں آپؐ کا تذکرہ (کتب ِ حدیث کی اقسام اور تعارف)، کتب سیرت کی فہارس، رسولِ اکرمؐ پر درود و سلام کے واقعات (بعض  غیرمصدقہ واقعات بھی شاملِ اشاعت ہیں)۔ رسولِ اکرمؐ کے اعزہ، خدّام، جنگی ہتھیار اور دیگر اثاثہ۔ رسولِؐ اکرمؐ دُنیا کو اوّلین قانون دینے والے، آپؐ کے معجزے، آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے والے غیرمسلم دانش وروں کے اعترافات۔ مختلف زبانوں میں سیرت کی کتابیں اور ان کے مصنّفین کا تعارف۔

بقول مصنف: ’’انسانی تاریخ میں جامعیت کے درجۂ کمال کی معراج پر اگر آپ کسی ہستی کو متمکن کرسکتے ہیں تو وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفات ہی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


مولانا گلزار احمد مظاہری: زندگانی، جیل کہانی، ڈاکٹر حسین احمد پراچا

ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۴۱ء میں تحریک ِاسلامی کا جو پودا لگایا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ تحریک نے مسلم معاشروں کو ایسے ایسے افراد مہیا کیے، جن کے بلندپایہ کردار پر انگلی اُٹھانا مشکل ہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ (۱۰فروری ۱۹۲۲ء-۱۰ستمبر ۱۹۸۶ء) انھی حضرات میں سے تھے۔ مولانا مظاہری مرحوم نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر ان کے پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جامعہ قاسم العلوم، سرگودھا اور ’پاکستان جمعیت اتحاد العلما‘ کا قیام عمل میں لائے۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا مظاہری صاحب کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ جب تقریر کرتے تو ایک سماں باندھ دیتے۔ پروفیسر خورشیداحمد لکھتے ہیں کہ ’’مولانا مظاہری کی تقریر اور خطبات میں ایک درجے میں وہی لطف آتا تھا، جو سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریروں اور تلاوتِ قرآن میں ملتا تھا‘‘۔ پھر مظاہری صاحب بہترین کارکن تھے۔ گھر گھر جا کر لوگوں کودعوت ِ اسلامی سے روشناس کرایا۔ انھوں نے اس زمانے میں بعض پس ماندہ اور دُورافتادہ علاقوں میں کئی کلومیٹر پیدل چل کر اور بعض اوقات لائوڈ اسپیکر کندھوں پر اُٹھا کر جلسوں میں تقریریں کرکے دعوت پہنچائی۔

پروفیسر خورشیدرضوی لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر حسین احمد پراچا کا اسلوبِ نگارش رواں اور دل نشیں ہے۔ یہ[کتاب] ایک بیٹے کے قلم سے باپ کی یادنگاری کے علاوہ عمومی فکر انگیزی کا باعث بھی ہوگی‘‘۔

کتاب صوری لحاظ سے بھی خوبصورت اور تصاویر سے مزین ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


الایام ۲۲، مدیرہ: ڈاکٹر سجاد نگار ظہیر

ناشر: مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت، فلیٹ نمبر۱۵-اے، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ فون: ۹۲۴۵۸۵۳-۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۴۳+ انگریزی ۵۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

علمی اور تحقیقی ششماہی جریدہ برسوں سے شائع ہورہا ہے۔ بایں ہمہ اس کا قابلِ قدر علمی معیار برقرار ہے۔ زیرنظر شمارے (جولائی، دسمبر ۲۰۲۰ء) میں ’فسطاط کی جامع عمرو بن العاصؓ کا ایک قدیم نسخۂ قرآن‘ پرتحقیقی مضمون ، پروفیسر واسطی کے نام مظہر محمود تہرانی کے خطوط، ڈاکٹر نگار کی معیت میں محمد سہیل شفیق کا سفرنامۂ مصر اور عصمت درانی کا سفرنامۂ ازبکستان، پھر ڈاکٹر منیرواسطی، ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کی یاد میں وفّیاتی مضامین۔ اسی طرح انگریزی حصے میں بھی چند مضامین شاملِ اشاعت ہیں۔

راجا محمد عاصم ، کھاریاں

فروری کے شمارے میں حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کی تحریر ’رواداری کیا ہے اور کیا نہیں!‘ نے عصرِحاضر کی منافقت کو قرآن اور عقل کی روشنی میں بڑے خوب صورت اور مؤثر انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ کاش! یہ تحریر پاکستان کے ہرشہری تک پہنچے اور دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو۔ پھر ’تعلیم کا تہذیبی نظریہ‘ از نعیم صدیقی، مختصرہونے کے باوجود بہت جامع تحریر ہے۔ ’پاکستانی نصابِ تعلیم پر لبرل شکنجا‘ از وحیدمراد میں تعلیم پر لادینی قوتوں کے حملے کو کھول کر بیان کیاگیا ہے۔ اس مضمون نے ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے رہنمائی کی ہے۔


پروفیسر عبداللہ شاہین ، حافظ آباد

فروری کے شمارے میں مولانا مودودی کی ۱۹۳۴ء کی ایک تحریر رواداری کی مناسبت سے شائع ہوئی ہے، جس میں انھوں نے بدھ، کرشن، زردشت، سقراط وغیرہ کو انبیاء کی امکانی صف میں بیان کیا ہے۔ حالانکہ قرآنِ مجید اس بات پر شاہد ہے کہ تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام واحدانیت کے قائل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اصنام پرستی، ثنویت یا تثلیث کا ماننے والا نہ تھا۔ اس لیے مندرجہ بالا بات درست نہیں ہے۔

[جزاک اللہ، بلاشبہہ جن انبیاء کرام ؑ کے نام واضح طور پر قرآنِ عظیم میں درج ہیں، انھی پر ایمان لانا لازم ہے۔ لیکن ان کے علاوہ جن افراد کے نام تواریخ کی روایات کی بنیاد پر ہمارے علم میں آتے ہیں ، ان کو نبی قرار نہیں دیاجاسکتا، ان کے بارے میں محض قیاس ہی کیا جاسکتا ہے اور قیاس کی بنا پر ان کی کسی بات کو حجت نہیں مانا جاسکتا۔ ممکن ہے ان تک ہدایت الٰہی پہنچی ہو، مگر بعد میں وہ سب کچھ شرک و کفر کے گہرے پردوں میں چھپ کر  رہ گیا ہو۔ ترجمان القرآن کے ص ۱۴ پر مولانا مودودی مرحوم نے بڑی وضاحت سے اس پہلو کو قرآنِ کریم ہی کے حوالے سے بیان کیا ہے، اور ان معروف لوگوں کو ’بہت ممکن ہے‘لکھا ہے۔ آپ پورے مضمون کے استدلال پر غور فرمائیں تو دیکھیں گے کہ مولانا کی تحریر اور آپ کے احساس میں کوئی فرق اور تضاد نہیں ہے۔ ادارہ]


آمنہ حسین  ، پشاور

فریضہ اقامت دین کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے تحقیقی مقالے (فروری) نے بہت سے مغالطوں کو صاف کر دیا ہے، اور جدوجہد کے لیے بھرپور اعتماد کی دولت سے نوازا ہے، جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔


اعظم علی ، جدہ

فروری کے شمارے میں کشمیر پر چاروں تحریریں بہت جامع اور مظلوموں کی جدوجہد کا دردناک اور ولولہ انگیز باب ہیں۔ جن کے لیے ارشاد محمو د، افتخار گیلانی، حسن علی اور غازی سہیل خاں خصوصی شکریے کے مستحق ہیں۔


محمد افضل خان منصوری ، اٹک

جنوری کے شمارے میں ’دعوت بالقرآن اور تربیت صحابہؓ، ازڈاکٹر اختر حسین عزمی ایمان کو تازگی عطا کرنے والی تحریر تھی۔ جناب قاضی حسین احمد کی تحریر نے اقبالؒ کو پڑھنے کا جذبہ عطا فرمایا۔جناب مجیب الرحمان شامی نے، ’مَیں کیسے بھول جائوں‘ میں بلامبالغہ ایک تاریخی دستاویز پیش فرمائی ہے۔ اور محترم ڈاکٹر انیس احمد نے قائداعظم کے تصورِ پاکستان کو دستاویزی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا۔ سارا شمارہ حددرجہ دل چسپ اور معلومات افزا ہے۔


نصیرحسین شاہ ، راولپنڈی

کافی عرصے سے ترجمان القرآن میرے زیرمطالعہ ہے۔ تاہم، مجھے یہ کمی محسوس ہوتی ہے کہ آپ پرچے میں حقوق اللہ پر تو بہت سی تحریریں دیتے ہیں، لیکن حقوق العباد اور قطع رحمی کے حوالے سے کوئی واضح تحریریں شائع نہیں کرتے۔ یہ بات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے کہ اکثر دین دار حضرات بھی حقوق العباد کے حوالے سے کوئی اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ ترجمان القرآن اس معاشرتی فساد سے بچائو کے لیے بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔

[اگرچہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ، ہمارا موضوع حقوق العباد ہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحریریں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ ادارہ]


نسیم جہاں ، ڈھوک گنگال، راولپنڈی

ایک مدت سے ترجمان القرآن کی قاری ہوں۔ یہ ایک عظیم خدمت ہے کہ آپ پوری قوم کو جگارہے ہیں کہ ’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام رکھو‘۔ ترجمان نے حسن البنا شہیدؒ پر تاریخی نمبر شائع کیا تھا، اور اس سے قبل ۲۰۰۳ء میں سیّد مودودیؒ نمبر بھی۔ بہت اچھا ہو کہ سیّد مودودیؒ پر ایک اور نمبر شائع کریں۔

نریندر مودی کی بھارتی حکومت نے اپنے طور پر مسئلہ کشمیر ختم کرنے کے لیے آخری وار کردیا۔ ان کے وزیرداخلہ امیت شا نے پارلیمنٹ میں بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰اور دفعہ ۳۵- اے کو ختم کردیا۔اس طرح ریاست کو تحلیل کرنے اور اس کو تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام دوخطوں میں تبدیل کرنے کا قانون بھی پاس کیا۔ اب لداخ ، جو مسلم اکثریتی ضلع کرگل اور بودھ اکثریتی لیہ اضلاع پر مشتمل ہے، وہاں اسمبلی نہیں ہوگی۔ ۹۰کے عشرے میں اس خطے کی۶۵ء۳۹ فی صد بود ھ آبادی  نے لداخ کو مرکز کے زیر انتظا م علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا، مگر اس خطے میں آباد۴۰ء۴۶ فی صد مسلم آبادی نے اس کی شدید مخالفت کی۔ حیرت کا مقام ہے کہ جب دانش وَر حضرات اور میڈیا جس میں پاکستانی میڈیا بھی شامل ہے، بے خبری میں لداخ کو بودھ اکثریتی علاقہ تصور کرتے ہیں۔

 جموں و کشمیر بھی مرکز کے زیرانتظام ہوگا، جس میں اسمبلی تو ہوگی ،مگر وہ دہلی و پانڈیچری اسمبلی کی طرز پر ایک میونسپل کارپوریشن کی طرح کام کرے گی۔ تمام تر اختیارات مرکز کے نمایندے گورنر کے پاس ہوں گے۔ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اور بیوروکریسی کا تعین مرکز حکومت کرے گا۔ معروف دانش ور مزمل جمیل کا کہنا ہے کہ: ’’کشمیر میں تاریخ کا پہیہ واپس ۱۸۴۶ء میں پہنچ گیا ہے، جب ’بیع نامہ امرتسر‘ کے بعد ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ نے سرینگر کی باگ ڈور سنبھالی‘‘۔ 
ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے اور اس کو بھارتی یونین میں ضم کرنے کے حکم نامے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے لیڈروں بشمو ل ہریانہ صوبہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹرنے اعلان کیا: ’’بھارت کے کنوارے نوجوان اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کرسکتے ہیں‘‘۔ اس طرح کے طنز آمیز آوارگی ، جنسی اور نسلی تعصب سے لتھڑے ہوئے جملے بھارت کے گلی کوچوں میں سنائی دے رہے ہیں۔ کئی ساہوکار اور بنیے تو فون پر گلمرگ اور سونہ مرگ کی وادیوںمیں زمینوں کے بھاؤ پوچھ رہے ہیں۔ 
۱۹۹۰ء کے عشرے کے شروع میں تعلیم اور روزگار کے لیے میں جب میں دہلی وارد ہوا،  تو ایک روز معلوم ہوا،کہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم  سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ (ABVP) کی طرف سے کشمیر پر مذاکرہ ہو رہا ہے۔ بطور سامع میں بھی وہاں چلاگیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اعتدال پسند لیڈر ارون جیٹلی خطاب کر رہے تھے۔ وہ ان دنوں ابھی بڑے لیڈروں کی صف میں نہیں پہنچے تھے اور تب تک سپریم کورٹ کے زیرک وکیلوں میں ہی شمار کیے جاتے تھے۔ چونکہ وہ مقتدر ڈوگرہ کانگریسی لیڈر گردھاری لال ڈوگرہ کے داماد ہیں، اس لیے جموں و کشمیر کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ اپنے خطاب میں جیٹلی صاحب کا شکوہ تھا کہ: ’’پچھلے ۵۰برسوں میں مرکزی حکومتوں نے کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر ہندستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کو کشمیر میں بسنے کی ترغیب دی گئی ہوتی، اور اس کی راہ میں قانونی اور آئینی پیچیدگیوں کو دُور کیا جاتا، تو کشمیر کا مسئلہ کبھی بھی سر نہیں اٹھاتا۔ اسی طرح کشمیریت اور کشمیری تشخص کو بڑھاوادینے سے کشمیری نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو برتر اور الگ سمجھتے ہیں اور ہندستان میں ضم نہیں ہو پاتے ہیں‘‘۔ 

اسی طرح مجھے یاد ہے کہ کانگریسی رہنما من موہن سنگھ کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں ایک بار پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث ہو رہی تھی۔ تب بی جے پی نے اتر پردیش کے موجودہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بطور مقرر میدا ن میں اتارا تھا۔ تقریر ختم کرنے کے بعد وہ پارلیمنٹ کمپلیکس کے سینٹرل ہال میں آکر سوپ نوش کررہے تھے، کہ میں نے جاکر ان سے کہا کہ: ’’آپ نے بڑی دھواں دھار تقریر کرکے حکومت کے چھکے تو چھڑائے، مگر کوئی حل پیش نہیں کیا‘‘۔
یوگی جی نے مسکرا کر مجھے کہا کہ: ’’اگر میں حل پیش کرتا تو ایوان میں آگ لگ جاتی‘‘۔

 میں نے پوچھا کہ ’’ایسا کون سے حل ہے کہ جس سے دیگر اراکین پارلیمان بھڑک جاتے؟‘‘  

آدتیہ ناتھ یوگی نے فلسفیانہ انداز میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ :’’مسلمان جہاں بھی اکثریت میں ہوتے ہیں یا ان کی آبادی کچھ زیادہ ہوتی ہے، تو جہادی، جھگڑالو اور امن عامہ کے لیے خطرہ ہوتے ہیں‘‘۔ ایک طویل تقریر کے بعد یوگی جی نے فیصلہ صاد ر کر دیا کہ: ’’مسلمانو ں کی آبادی کو کسی بھی معاشرے میں ۵ فی صد سے زیادہ نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔ اس لیے ہندستان اور دیگر تمام ممالک کو مسلمانوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے طریقے ڈھونڈنے چاہیے۔ ا ن کو مختلف علاقوں میں بکھرا کر اور ان کی افزایش نسل پر پابندی لگاکر ہی دینا میں امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔ بس یہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے۔وہاں کی آبادی کو پورے ملک میں بکھیر کر وہاں بھاری تعداد میں ہندو آبادی کو بسایا جائے‘‘۔
آج ان دو واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ معلوم ہو کہ کس ذہنیت کے افراد بھارت کے تخت پر برا جمان ہیں۔بھارت میں اس وقت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے وجود میں آئی ہے، وہ لگا تار تین نکاتی ایجنڈے پر انتخابات لڑتی آئی ہے:

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر , یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ اور کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت ختم کرنا۔ اگرچہ اس سے قبل    بی جے پی دوبار اقتدار میں رہی ہے، مگر اس نے عددی قوت کی کمی کے باعث ان تین ایشوز کو   عملی جامہ پہنانے سے گریز کیا۔ اب ۲۰۱۹ء میں اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی تو بی جے پی کے لیڈروں نے کہا کہ: ’’ہمارے کور ایجنڈے کو نافذ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے‘‘۔ ۲۰۱۴ء میں جب کشمیر میں مقامی پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ اور بی جے پی کے اتحاد سے مفتی سعید کی حکومت بنی، تو کہا گیا تھا کہ: ’’بی جے پی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت کشمیر کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو موضوعِ بحث نہیں بنائے گی‘‘۔

اور پھر دفعہ ۳۷۰ کے ساتھ دفعہ ۳۵- اے کو نشانہ بنا دیا گیا۔ دفعہ ۳۵-اے کے تحت غیر ریاستی باشندوں کے نوکری حاصل کرنے، ووٹ دینے اور جایداد خریدنے پر پابندی عائد تھی۔ اس دفعہ کے ختم ہونے کے نتائج دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔
 مسلم دشمنی اور متعصب ذہنیت کے حامل افراد کوآئین کی اسی طرح کی اور شقیں نظر نہیں آتیں، جو بھارت کے دیگر علاقوں، یعنی ناگالینڈ، میزورام، سکم، اروناچل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش اورگوا کو خاص اور منفرد حیثیت عطا کرتی ہیں۔ ان کے تحت وہاں بھی دیگر شہریوں کو غیر منقولہ جایدادیں خریدنے پر پابندی عائد ہے یا اس کے لیے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • ایک پُراسرار کردار: ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو دستور سے خارج کرنے کے موجودہ فیصلے سے قبل، آر ایس ایس نے ان دونوں دفعات کو الگ الگ ہائی کورٹوں میں چیلنج کیا تھا۔ بی جے پی کے جس عہدے دار نے جموں و کشمیر کے جموں بینچ کے سامنے دفعہ ۳۷۰کو چیلنج کیا تھا، وہ صاحب اس وقت گورنر جموں و کشمیر کے مشیر فاروق خان ہیں۔ موصوف نے پولیس سے ریٹائر ہونے کے بعد بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی ہے۔ 

یاد رہے مارچ ۲۰۰۸ء میں جب امریکی صدر بل کلنٹن نے دہلی کی سرزمین پر قدم رکھا تو جنوبی کشمیر کے گائوں چھٹی سنگھ پورہ میں نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں ۳۶ سکھوں کا قتل عام ہوا تھا۔ فاروق خان ان دنوں پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ میں ایس ایس پی تھے اور عمومی تاثر یہ تھا کہ  واردات کے ذمہ دار یہی صاحب ہیں۔ کلنٹن کی بھارت موجودگی کے دوران اعلان کر دیا کہ ’’اس قتل عام کے ذمے دار لشکر طیبہ کے چاروں حملہ آور مار دیے گئے ہیں‘‘۔ فاروق عبداللہ حکومت نے فاروق خان کو معطل کرکے جسٹس پانڈیان پر مشتمل عدالتی کمیشن کو سکھوں کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا۔مگر وہ اس بارے میں تو پوری طرح کام نہ کرسکے۔ تاہم جسٹس پانڈیان نے فاروق خان کو اُن چار افراد کے قتل کا حصہ دار بتایا، جنھیں ’دہشت گرد‘ قرار دے کر مار دیا گیا تھا۔مگر پانڈان کی ہدایت کے باوجود فاروق خان کو نہ تو الزام لگا کر قتل کیے جانے والے مقدمے میں ماخوذ کیا گیا، اور نہ سکھوں کے قتل عام کے ضمن میں تفتیش کی گئی۔۲۰۰۳ء میں مفتی سعید حکومت نے بھی ان کے خلاف چارہ جوئی کی کوشش کی، لیکن  جب ۲۰۰۸ء میں غلام نبی آزاد نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی، تو نئی دہلی کے حکم پر فاروق خان کو بحال کر دیا گیا۔ فاروق خان کے خلاف سکھوں میں آج بھی شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔

دفعہ ۳۵- اے کا معاملہ

۱۹۴۷ء میں بھارت کی آزادی سے بہت پہلے کشمیرکے ہندوحکمران ہری سنگھ نے ایک  حکم نامے کے تحت: ’’شہریت اور غیرمنقولہ جایداد کی خرید کے علاوہ ریاستی حکومت میں ’غیرملکیوں‘ پر پابندی عائد کر دی تھی‘‘۔ ۲۰؍اپریل۱۹۲۷ء کے ایک نوٹیفیکیشن میں راجا ہری سنگھ نے ’ریاستی عوام‘ کی وضاحت کی تھی اور اسی قانون کو بعدازاں کشمیری اوربھارتی آئین میں شامل کر دیا گیا۔
کشمیری ہندو جنھیں ’پنڈت‘کہتے ہیں، یہ قانون ان کے احتجاج کے ردعمل میں منظور کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس وقت ’کشمیر،کشمیریوں کا ہے‘کا نعرہ بلند کیا تھا، کیونکہ پنجابی مسلمان انتظامیہ میں رسوخ حاصل اور زمینیں خرید رہے تھے۔لیکن،ایک صدی گزرنے کے بعد کشمیری مسلمانوں کو وہی خدشات لاحق ہیں، جو۱۹۲۰ءکے عشرے میں ہندئووں کولاحق تھے۔۱۹۲۰ء ہی کے عشرے میں،ہندوؤںنے راجا ہری سنگھ کو اس قانون میں ایک اور دفعہ شامل کرنے پر زور دیا تھا کہ: ’’اگر ایک کشمیری خاتون،کسی غیرکشمیری سے شادی کرے تو وہ وراثت کے حق سے محروم ہو جائے گی‘‘۔ 
مؤرخ پنڈت پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب Kashmir Saga (داستانِ کشمیر ) میں لکھا ہے:’’کشمیر کے اندر’غیرملکیوں کا داخلہ بند ہے‘ کا شوروغوغا بذات خود کشمیری پنڈتوں نے بلند کیا تھا۔مسلمانوں کی راے کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیونکہ ہندوحکمران نے انھیںریاستی ملازمتوں سے بے دخل کر دیا تھا اور وہ اس قدرغریب تھے کہ اپنے ہی وطن میں زمین کا ٹکڑا بھی نہیںخرید سکتے تھے۔مسلمان اکثریت غربت میں ہولناک زندگی گزار رہی تھی۔ چیتھڑوں میں ملبوس،جن سے وہ بمشکل ہی اپنا بدن ڈھانپ سکتے تھے اور ننگے پائوں۔ ایک مسلم کسان کا حلیہ ،ریاستی خزانے کے بھرنے والے ایک فرد کے بجاے محض ایک فاقہ زدہ بھکاری ہی کا نظر آرہا تھا،جب کہ ہری سنگھ ہندونواز پالیسی کا علَم بردار تھا۔ جموں کے عوام، خاص طور پر راجپوت ہندووں نے زیادہ تر ملازمتیں حاصل کیں،جب کہ پنڈتوں کو پنجابیوں کی جگہ دفاتر میں کلرکوں کی حیثیت سے بھرتی کیاگیا۔ایک حکم نامے کے ذریعے پنجابیوں کی ہرسطح پر بھرتی روک دی گئی‘‘۔

پنڈت پریم ناتھ بزاز کا کہنا ہے کہ: ’’اس پورے قضیے میں کشمیر ی مسلمانوں کی کسی کو کوئی فکر نہیں تھی، اور نہ کوئی ان سے راے لی جاتی تھی، ملازمت کے دروازے کشمیری مسلمان پر بند تھے۔ انتہائی خستہ حال اور غریب کشمیری مسلمان زیادہ تر کاریگر یا زرعی مزدور تھے۔ سوسائٹی میں ہندو ہونا عزت و توقیر کی علامت تھی۔ مسلمان کوصرف اپنے مذہب کی بنیاد پر حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا‘‘۔ جب ۳۵-اے کا یہ قانون بنایا گیا تھا، تو اس وقت کسی کو مسلم خواتین کے حقوق یاد نہیں تھے۔ ایک صدی بعد انھی کشمیری پنڈتوں نے اس قانون کو ہٹانے کا مطالبہ اس لیے کیا ہے کہ اب کشمیری مسلمان تعلیم یافتہ اور ترقی کی دوڑ میں ان کے ہم پلہ ہوگئے ہیں۔ یہ قانون جو ایک صدی قبل تک تو ٹھیک نظر آتا تھا ،مگر اب پنڈتوںکی آنکھوں میں کھٹکنے لگا‘‘۔ 
’بھارت کے تکثیری کلچر اور تنوع میں اتحاد‘ جیسے نعرے مہاتما گاندھی،پنڈت نہرو، اور   ان کے پیروکار، دنیا میںبھارت بیچا کرتے تھے۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ دفعہ ۳۷۰ کو کشمیری خواتین کے جسم پر موجود لباس سے تشبیہ دیتے تھے۔ ان کی نیشنل کانفرنس کا کشمیر میں مقبول انتخابی نعرہ ہوتا تھا :’’ازء ہوند عزت فضء ہوند عزت، ترہت ستت ترہت ستت‘‘ ۔ ازء اور فضء کشمیر میں خواتین کے مقبول نام ہیں۔ اس نعر ے کا مفہوم تھا کہ ’’خواتین کی عزت و آبرو ۳۷۰ میں ہے‘‘۔ شیخ عبداللہ صاحب سے تو میری ملاقات نہیں ہوسکی، تاہم ان کے فرزند اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے جب بھی مکالمہ ہوا تووہ آزادی پسند جماعتوں پر طنز یہ جملے کستے تھے کہ: ’’مسلم اکثریتی پاکستان میں ہم کشمیریوں کی انفرادیت کبھی کی ضم ہوگئی ہوتی، جب کہ بھارت کا جمہور ی اور آئینی تکثیری معاشرہ ہی ریاست جموں وکشمیر کی وحدت اور ہماری کشمیری انفرادیت کا ضامن ہے‘‘۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو امیت شا نے پارلیمان کے ایوان بالا، یعنی راجیہ سبھا میں صبح ۱۱بجے کشمیریوں کے تن بدن سے یہ زیرجامہ اُتار کر ان کو سر عام برہنہ کردیا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر دُور مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے بھرے بازار میں میر ی عزت بھی تار تار کر دی گئی ہو۔

دفعہ ۳۷۰، ممتاز قانون دان کی نظر میں

ممتاز قانون دان اور اُمورِ کشمیر پر گہری نظر رکھنے والے دانش ور جناب اے جی نورانی کے بقول: ’’آرٹیکل ۳۷۰ اگرچہ ایک عبوری انتظام تھا، کیوںکہ حکومت ہند کی ۶۰ کے عشرے تک یہ پالیسی تھی کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب راے سے کیا جائے گا۔ ۱۹۴۸ء میں جموں و کشمیر پر حکومت کے وائٹ پیپر میں سردار پٹیل کا یہ بیان موجود ہے: الحاق کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہند نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسے بالکل عارضی مانتی ہے، جب تک کہ اس بارے میں ریاست کے لوگوں سے ان کی راے نہیں معلوم کی جائے گی‘‘۔
اے جی نورانی صاحب کے بقول:’’جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی ’جن کا نام آرٹیکل ۳۷۰ کی مخالفت کرتے وقت بی جے پی اُچھالا کرتی ہے‘  انھوں نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔ بی جے پی اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا نام بھی اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتی ہے کہ انھوں نے اس معاملے پر پنڈت جواہر لعل نہرو کی مخالفت کی تھی‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹیل نے بھی آئین کی اس دفعہ کی مکمل تائید کی تھی۔ اس خلط مبحث کے برعکس کشمیر واحد ریاست تھی، جس نے الحاق کے لیے اپنی شرائط پر حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ وہ ہندستان میں  ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نے الحاق کیا تھا۔ اس لیے بھارتی حکومت اور ریاست کے مطابق آرٹیکل ۳۷۰ دونوں کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے۔ جس کی کسی شق میں کوئی بھی فریق یک طرفہ ترمیم نہیں کر سکتا۔ تاہم، ’’این گوپال سوامی نے ۱۶؍اکتوبر ۱۹۴۹ء کو اس سلسلے میں پہلی’خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر مسودے میں تبدیلی کو پارلیمنٹ کی لابی میں حتمی شکل دی۔ جیسے ہی  شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ کو اس تبدیلی کا علم ہوا، وہ دونوں ایوان کی طرف دوڑے، لیکن تب تک یہ ترمیمی بل پاس ہو چکا تھا، جو افسوس ناک اعتماد شکنی اور بداعتمادی کا معاملہ تھا۔ اگر اصل مسودہ پاس کیا جاتا تو ۱۹۵۳ء میں شیخ عبداللہ کو اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہ تھا‘‘۔

ترکی کی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ: ’’سپریم کورٹ میں اس اقدام کو چیلنج کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ لیکن حکومتی فیصلے کی قانونی حیثیت کے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے دورانیے اور وقت کے لحاظ سے بھارتی اعلیٰ عدلیہ کی رفتارِ کار کے مشکوک ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ مودی حکومت نے بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰کی تمام دفعات کو منسوخ کرتے ہوئے دنیا کو حیران وششدر کر دیا تھا جو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کاضامن ہونے کے علاوہ ہندواکثریت میں اس کی مسلم شناخت کی حفاظت کرنے کا تحفظ بھی کر رہا تھا۔ اس دفعہ کے تحت بھارت کے ساتھ خطے کے پیچیدہ تعلق کی بھی وضاحت کی گئی تھی۔ ان حالات میں اپنی اعتباریت اور شفافیت قائم رکھنے کی خاطر بادی النظر میں بھارتی سپریم کورٹ پر لازم ہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے ‘‘۔
نورانی کے خیال کے مطابق: ’’ان دفعات کی منسوخی نے کشمیری آبادی کی بقا کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ دفعہ ۳۷۰کو منسوخ کرنے کابھارتی اختیار تو ۱۹۵۶ء میں کشمیر کی آئین سازاسمبلی کی تحلیل کے بعد ختم ہو گیا تھا۔خصوصی حالات میں دفعہ۳۷۰ سے مرادجموں وکشمیر کی شناخت کا اظہار تھا کہ جس میں اس کے بھارت سے الحاق کا دعویٰ کیا گیا تھا۔  اس دفعہ کو منسوخ کرنے کے ذریعے ہندوقوم پرست حکومت کا مقصد یہ نہیں کہ کشمیر کو بھارت کے ساتھ متحدکیا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کشمیری عوام کی شناخت ختم کی جائے‘‘۔
نورانی نے کہا: ’’قانونی لحاظ سے بھارتی پارلیمان کو یہ دفعہ منسوخ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اس مقصد کی خاطرریاست جموںوکشمیر کی آئین سازاسمبلی کی منظوری ضروری تھی۔ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی بھی منظوری ہمیشہ سے منتخب اسمبلی کی حتمی منظوری سے مشروط رہی ہے۔ جب ریاست گورنر یا صدر راج کے تحت ہو،کوئی بھی یہ رضامندی نہیں دے سکتا۔ اس لیے مرکزی حکومت اپنے کٹھ پتلی نامزدفرد کے ذریعے یہ منظوری حاصل نہیں کر سکتی اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت جموں و کشمیر پر صدر راج نافذ ہے۔ حالانکہ بھارتی آئین نے از خود یہ وضاحت کر دی ہے کہ ریاستی حکومت سے مراد ریاست میں وزرا کی ایک کونسل ہے۔اور اس وقت تو کشمیرکے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں وزرا کی کسی بھی قسم کی کوئی کونسل بھی موجودنہیں‘‘۔
نورانی صاحب نے مزید بتایا: ’’کشمیر کی موجودہ صورت ِ حال پر سری لنکا کی سپریم کورٹ کے نومبر ۲۰۱۲ء کے فیصلے کا اطلاق ہوتا ہے، جس میں سری لنکا حکومت کا یہ فیصلہ مسترد کر دیاتھا، جسے صوبائی کونسل کی توثیق حاصل نہیں تھی۔ اُس وقت دو درخواستوں کے ذریعے Divineguma Bill کو سری لنکا سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کیا گیا تھا کہ شمالی سری لنکا میں کسی صوبائی کونسل کی غیرموجودگی میں،گورنر نے شمالی صوبے کی طرف سے قانون کی توثیق کی تھی۔ یہ درخواستیں ’تامل نیشنل الائنس‘ نے کی تھیں۔ یکم نومبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ گورنر، صوبائی کونسل کی جگہ اس قانون کی توثیق نہیں کر سکتا‘‘۔

اے جی نورانی کہتے ہیں کہ:’’ آئین کی دفعہ ۲۴۹ کے تحت جاری کردہ ’صدارتی حکم نامہ‘ جس کا اطلاق کشمیر پر بھی کیا گیا، اس کا تعلق ریاست کی فہرست سے تھا اور مرکز کے مقرر کردہ گورنر نے اس کی توثیق کی تھی۔ یہ چالاکی لا سکریٹری کی مخالفت اور ریاستی کابینہ کی عدم موجودگی میں انجام دی گئی تھی۔۱۹۵۱ء میں کشمیر اسمبلی کے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے انعقاد سے کشمیر میں بھارت کے جمہوری دعووں کی قلعی کھل گئی۔ انتخابی دھاندلیوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے گئے۔ تمام امیدوار ’بلامقابلہ‘منتخب قرار پائے۔ یہ وہی اسمبلی تھی، جس نے ریاست کا دستور وضع کیا اور الحاق کے دستاویز کی ’توثیق‘ کی تھی۔ یہ اسمبلی ریاست کی مستقبل گری اور اس کی حیثیت طے کرنے کے سلسلے میں دستور ساز اسمبلی کا درجہ رکھتی تھی۔ کشمیر کی اس آئین ساز اسمبلی کی حقیقت اور حیثیت کی قلعی خود اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ بی این ملک نے یہ کہہ کر کھول دی:’’ان امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا، جو حزب مخالف کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے‘‘۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ الحاق کی مبینہ دستاویز کی توثیق اور کشمیر کے آئین کی منظوری کو کوئی عوامی تائید حاصل نہیں تھی‘‘۔
یاد رہے امیت شا ایک اور منصوبے پر بھی کام کررہے ہیں۔اس کے تحت غالباً نومبر، دسمبر میں کشمیر میں ہونے والے براے نام اسمبلی کے لیے انتخابات میں ہندو اکثریتی خطے جموں کی تمام نشستوں پر بی جے پی کے امیدواروں کو کامیاب بنانا ہے، اور ساتھ ہی وادیِ کشمیر کی مطلوب نشستوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے، جن پر جموں اور دہلی میں مقیم کشمیری پنڈتوں کے ووٹوں کی رجسٹریشن کا کام سرعت سے جاری ہے، تاکہ ان کے پوسٹل بیلٹوں کے ذریعے ان علاقوں میں بھی بی جے پی کے امیدواروں کی کامیابی یقینی بنائی جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ریاست میں مسلمان ووٹوں کو بے اثرکرناہے۔کشمیر اسمبلی کی اب ۸۲ نشستیں رہ گئی ہیں۔ امیت شا نے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے وقت بتایا ہے کہ: ’’اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی ہوگی‘‘۔فی الحال ۳۷ نشستیں جموں، ۴۵ نشستیں وادی کشمیر خطے سے ہیں۔ کشمیر اسمبلی میں ۲۴مزید نشستیں آزاد کشمیر و گلگت کے لیے مختص رکھی گئی ہیں، جو خالی رہیں گی۔ ان میں سے آٹھ نشستیں پاکستان سے ۱۹۴۷ء، ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء میں آئے ہندو پناہ گزینوں کے لیے وقف کی جائیں گی، تاکہ اسمبلی میں ان کی نمایندگی ہو اور ہندو ممبرا ن کی تعداد میں بھی اضافہ ہو۔
کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کی نظروں میں برسوں سے کھٹک رہی تھی۔ اس پارٹی نے صوبوں و مرکز کے اختیارات کے تعین کرنے والے سرکاری کمیشن کے سامنے صوبوں کو انتہائی حساس سکیورٹی کے علاوہ بقیہ سبھی اختیارات تفویض کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حال ہی میں جنیوا میں بھارت کے سفیر نے سر ی لنکا کو مشورہ دیا تھا کہ: ’’وہ اپنے آئین کی ۱۳ویں ترمیم کو جلد از جلد لاگو کرکے شمالی سری لنکا میں مقیم تامل ہندو اکثریت کو تحفظ اور پاور فراہم کرے‘‘۔یعنی اورں کو نصیحت ، خود میاں فضیحت ۔ کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی خطہ ہے، اس لیے بھارتی حکمرانوں کے نزدیک انسانی حقوق وہاں لاگو نہیں ہوتے۔ 

چین سے بھارتی سفارت کاری

چین کے عالمی امور میں رویے اور بین الاقوامی میڈیا کی کوریج کی وجہ سے، اپنی تمام تر معاشی قوت کے باوجود سفارتی محاذ پر بھارت ایک طرح سے دبی دبی پوزیشن پر چلا گیا ہے۔ اس لیے اب بھارت کی کوشش ہے کہ ستمبر۲۰۱۹ء میں سرحدی تنازعے پر ہونے والے مذاکرات میں، چین کو کوئی بھاری پیش کش کرے۔ سرحدی تنازعے سے متعلق دونوں ممالک کے خصوصی نمایندوں اجیت دوبال اور چینی وزیر خارجہ وانگ ہی کے درمیان اس ملاقات میں، بھارت ، چین کو بتاسکتا ہے کہ: ’’ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ ۳۷۰کی وجہ سے ہی وہ لداخ خطے میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کو سلجھا نہیں پارہا تھا ۔ جموں و کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کے ختم ہونے کے بعد اب چونکہ بھارتی آئین کی سبھی دفعات کا اطلاق جموں و کشمیر پر ہوتا ہے، نیز لداخ اب براہِ راست نئی دہلی کے زیر انتظام آگیا ہے، اس لیے اب چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کو سلجھانا بھارت کے لیے آسان ہو گیا ہے‘‘۔
 چین کے سابق خصوصی نمایندے دائی بینگو نے ایک عشرہ قبل تجویز پیش کی تھی:’’ بھارت اگر لداخ کے علاقے میں ’اکسائی چن‘ کے دعوے سے دست بردار ہوجائے، تو چین بھی مشرقی بھارت میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ واپس لے سکتا ہے‘‘۔ اس کے علاوہ بھارت، گلگت اور ’سی پیک‘ کے حوالے سے اپنے اعتراضات کو بھی ختم کرنے پر تیار ہوسکتا ہے، تاکہ اس تجارتی راستے کو چین بھارت تجارت کے لیے برتا جاسکے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے اور چین، کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف کو لچک دار بناکر بھارت سے مادی مفادات کو دو تین گنا بڑھا لیتا ہے، تو پھر اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان سے چینی تعلقات کا وہ بلند مقام متاثر ہو، جو گذشتہ ۶۰برسوں سے بلند معیار پر چلا آرہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو سفارت کاری کے میدان میں بڑی محنت اور حددرجہ ہوشیاری سے کام لینا ہوگا، جب کہ بھارت پہلے ہی مسلم دنیا میں سفارتی اور مضبوط معاشی پیش رفت کرچکا ہے۔

کشمیر کا مستقبل

آج کشمیر ی قوم کا تشخص اور اس کی انفرادیت پامال ہو چکی ہے۔ امن عالم کے دعوے دار ایک طرف افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، دوسر ی طرف خطے میں افغانستان سے زیادہ خطرناک ماحول پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے، بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم ، فلسطین میں اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں سے بھی کہیں زیادہ سنگین ترین ہے۔ پوری دنیا میں یہودی ایک کروڑ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے آدھے ہی اسرائیل میں رہتے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو بھی عرب ممالک یا پورے فلسطین کاآبادیاتی تناسب بگاڑنہیں سکتے۔  
ان کے برعکس کشمیر میں تو مقامی مسلمانوں کا مقابلہ ایک ارب ۱۰ کروڑ بھارتی غیرمسلموں کی آبادی کے ساتھ ہے، جو چند ماہ میں ہی خطے کا آبادیاتی تناسب بگاڑ کر کشمیری عوام کو اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا دیں گے۔ سابق بھارتی فوجیوں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹوں اور ان کے اہل خانہ کو کشمیر میں بسانے کی مہم تو پہلے سے ہی جاری ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایک دلیل یہ بھی دی، کہ: ’’بیرون ریاست بیورکریٹ کشمیر جانے سے کتراتے ہیں، کیونکہ و ہ اور ان کے اہل خانہ وہاں زمین نہیں خرید سکتے ہیں‘‘۔ جب بھارت، برطانوی سامراجی تسلط سے آزادی مانگ رہا تھا، تو ایک بار برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کانگریسی لیڈروں کو مخاطب کرکے کہا:’’ تم کو آزادی اس لیے چاہیے کہ دبے کچلے طبقوں اور مظلوموں پر حکومت کرکے ان کو دبادو‘‘۔
کشمیر ایک شدید صدمے سے دوچار ہے، اور ابھی شاید ویسے ردعمل کا اظہار نہیں کرپائے گا، جس کی بظاہر توقع کی جارہی ہے۔ یہ ایک پُرفریب آتش فشاں کی سی خاموشی ہے۔ ۱۹۸۷ء کے انتخابی دھاندلی زدہ انتخابات کا بدلہ کشمیریوں نے ۱۹۸۹ء میں چکایا۔ کشمیر میں نئے مزاحمتی کلچر کا آغاز تو ہوچکا ہے، جس میں فکری مزاحمت کا مرکز مظلومیت کے بجاے تخلیقی سطح پریادوں کو اُجاگر کرکے باوقار طور پر اُبھرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔
بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰  اور دفعہ ۳۵-اے کے خاتمے کے ساتھ بظاہر کاغذوں میں ریاست جموں و کشمیر تحلیل ہو گئی ہے، مگر قانونِ قدرت تحلیل نہیں ہوسکتا۔ تاریخ کا پہیہ ساکت نہیں رہتا، یہ گھومتا ہے اور اس قوم کے لیے خاصا بے رحم ثابت ہوتا ہے ، جو اکثریت اور طاقت کے بل بوتے پر کمزور اور ناتواں کی زندگیاں اجیرن بنادے۔ ۱۹۸۴ء میں تہاڑ جیل میں پھانسی سے قبل مقبول بٹ نے کہا تھا کہ: ’’میری بے بسی پر مت مسکرائو ، تم اپنی خیر منائو ، کہ ظلم کی سیاہ رات جاتی ہے‘‘۔ اور صرف چھے سال بعد ۱۹۸۹ء میں کشمیر نے کروٹ لی اور ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا!

ایک امریکی یونی ورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر نے خطے میں مذہبی فکر اور اس کے اثرات اور جوابی اثرات کا مطالعہ کرنے کی خاطر برعظیم پاک وہند کاد ورہ کیا۔فطری طور پر اسے اقبال کے متعلق جاننے کے لیے خاصا وقت صرف کرنا پڑا۔اس سفر کے دوران موصوف نے راقم کے ساتھ مفصل گفتگوکی۔ اقبال کے متعلق اس پروفیسر کاایک بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ’’اقبال حقیقت پسند نہیں تھے۔ اسلامی نشاتِ ثانیہ کے بانی کی حیثیت سے،انھوں نے قیاس کی طرف بہت زیادہ توجہ کی، اور ’’جس معاشرے کا اقبال نے تصور کیاتھا،وہ انسانوں کے بجاے ولیوں کا معاشرہ تھا‘‘۔ یہ ایک امریکی پروفیسر ہی نہیں ہے،بلکہ اکثر مغربی مفکر، اقبال کے بارے میں اسی طرح سوچتے ہیں۔ ہم یہاں ان لوگوں کے نظریات پر نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے، جو اس اعتراض کے علَم بردار ہیں۔

اقبال کیاچاہتے تھے؟

اس سے پہلے کہ مذکورہ اعتراض کو پرکھیں، یہ بہتر ہو گا کہ ہم یہ امر واضح کر لیں کہ دراصل اقبال چاہتے کیا تھے؟ اور مسلمانوں کا اعتماد کس پر تھا؟___ اقبال بیسویں صدی میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے بانیوں میں سرفہرست تھے۔انھوںنے مسلم تاریخ کے عصری دور کاناقدانہ مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے: ’’مسلمان جوں جوں اسلام سے دُور ہوتے گئے، تو وہ بتدریج زوال پذیرہوتے گئے۔ اب ان کا احیا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ اسلام کے اصولوںکے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ازسرنو تشکیل کریں‘‘۔ اقبال نے مغرب کی اندھادھند تقلید کا نظریہ مسترد کردیا اور اُمیددلائی کہ: ’’مسلمان اسلامی نشاتِ ثانیہ لانے کے ذریعے مغرب کی استعماری قوتوں کو بھی مات دے سکتے ہیں، جو انسانیت کی زندگی میں ایک نیا باب کھولنے کا باعث ہوسکتی ہے‘‘۔وہ مغرب کے روحانی بحران پر بہت زیادہ مضطرب تھے اور اس کا حل انھیں صرف اسلامی احیا ہی کی صورت میں نظر آتا تھا۔ان کا تجویزکردہ حل درج ذیل ہے:

  • گویا عصرِحاضر کا انسان اگر پھر سے وہ اخلاقی ذمہ داری اُٹھا سکے گا، جو علومِ جدید (سائنس) کے نشوونما نے اس پر ڈال رکھی ہے، تو صرف مذہب کی بدولت۔ یوں ہی اس کے اندر ایمان اور یقین کی اس کیفیت کا احیا ہوگا، جس کی بدولت وہ اس زندگی میں ایک شخصیت پیدا کرتے ہوئے آگے چل کر بھی اسے محفوظ اور برقرار رکھ سکے گا۔ اس لیے کہ مذہب، یعنی جہاں تک مذہب کے مدارجِ عالیہ کا تعلق ہے، نہ تو محض عقیدہ ہے، نہ کلیسا، نہ رسوم و ظواہر۔ لہٰذا، جب تک انسان کو اپنے آغاز اور انجام، یا دوسرے لفظوں میں اپنی ابتدا اور انتہا کی کوئی نئی جھلک نظر نہیں آتی، وہ کبھی اس معاشرے پر غالب نہیں آسکتا۔ جس میں باہم دگر مقابلے اور مسابقت نے ایک بڑی غیرانسانی شکل اختیار کر رکھی ہے، نہ اس تہذیب و تمدن پر، جس کی روحانی وحدت اس کی مذہبی اور سیاسی قدروں کے اندرونی تصادم سے پارہ پارہ ہوچکی ہے۔(محمد اقبال، The Reconstruction of Religious Thought in Islam، [پیش لفظ: جاوید مجید، مرتب:  ایم سعید شیخ] اسٹن فرڈ یونی ورسٹی پریس، امریکا، بہ اشتراک اقبال اکادمی پاکستان، لاہور،۲۰۱۲ء، ص ۱۴۹)

اس لیے انھوںنے انسانی معاشرے کی اخلاقی بنیادوں پر اَزسرنوتشکیل اور باطل پر حق اور بُرائی پر نیکی کے غلبے کی کوشش کی۔یہ محمد اقبال کے اثرات ہی ہیں کہ اسلام کی مزاحتمی قوتیں [اور تحریکیں] فرد کی اصلاح، سماجی تنظیم اور ریاست کی اصلاح کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ لالچ اور طاقت ، سماجی عداوت اور معاشی استحصال کے بجاے اخلاقی اقدار ہی برتر اور غالب ہوں، نیز انفرادی اور اجتماعی زندگی کو محبت،سچائی،انسانی اخوت،سماجی ہم آہنگی اور سیاسی تعاون کی بنیادوں پر منظم کیا جائے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آنکھ جھپکنے میں حالات تبدیل ہو سکتے ہیں لیکن وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اصلاح بتدریج اور یقینی طور پر واقع ہوگی۔یہ ایک انتہائی منطقی اور اخلاقی نظریہ ہے اور اس کے داعی، امید، حوصلے اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔
اب، وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ایک خیالی جنت ہے، جو ناممکن امراور لاحاصل امید ہے، درحقیقت وہ یہ کہتے ہیں کہ انسان بُرائی کا مظہر ہےاور اس میں معقولیت نہیں ہے۔ ان کاالزام ہے کہ انسان کبھی استدلال کی حقیقی روشنی میں نہ عمل کر سکتا ہے اور نہ کرے گا،اور یہ کہ انسانی فطرت میں مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اور اس کے غیراخلاقی جذبات انسان کی فطرتِ سلیم پر اس قدر حاوی ہو جاتے ہیں کہ وہ شائستہ اور اخلاقی اقدار کے مطابق اپنی زندگی کو منظم نہیں کر سکتا‘‘۔ وہ انسان، اس کے اخلاقی طرزِعمل اور صلاحیت،اس کی تخلیقی صلاحیتوں،استدلال کرنے کی اس کی قوتوں اور اس کی نیک فطرت پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ یہ ان کا مایوسی زدہ طرزِعمل ہی ہے جو انھیں دائمی قنوطیت کا مجسم نمونہ بنا دیتا ہے۔اور بدقسمتی سے متعدد مغربی مفکر مایوسی کے اسی گرداب کا شکار ہیں۔

تاریخی پس منظر

اس طرزِ عمل اور رویّے کی اپنی ایک تاریخ ہے۔جب یورپ میں نشاتِ ثانیہ کا آغاز ہوا، تو دراصل یہ انسان کی صلاحیتوں پر ایک نئے اعتماد کا اظہار تھا۔ مگر پھر جدید انسان خدا کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوا اور اس نے انسانی اور الوہی طاقتوں کا بے جا دعویٰ کر دیا۔ایک نئے سماجی فلسفے، انسان دوستی(مذہب انسانیت) کے فلسفے نے جنم لیا، جس کے حسب ذیل تین اہم اجزاے ترکیبی یہ ہیں:
    ۱-    ہر اس چیز کی پذیرائی، جو انسان اور فطرت کے کام میں اچھی اور دل کش ہے۔
    ۲-    علم(سائنس) کی قوتوں پرکامل بھروسا اور یہ اعتماد کہ محض تعلیم ہی ایک نیا اور کامل ضابطۂ حیات تشکیل دے سکتی ہے؛ اور
    ۳-    ترقی کی ناگزیریت ۔
انسان دوستی سے یہ مراد لی گئی کہ دنیا اور اس کے تمام مکین نسل درنسل بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے اور بالآخر بین الاقوامی انصاف کی بنیاد پر ایک کامل معاشرہ تشکیل دے لیں گے۔ فریڈرک ہیگل [م: ۱۸۳۱ء]کا Dialectical Idealism[جدلیاتی خیال اندیشی]، کارل مارکس [م:۱۸۸۳ء] کی تاریخی مادیت پرستی، چارلس ڈارون [م:۱۸۸۲ء]اور ہربرٹ سپنسر [م:۱۹۰۳ء] کے ارتقائی نظریات___ ان سب نے مل کر انسانیت کے مسلسل ترقی کے اعتقاد کو تقویت بخشی کہ جس طرح ہربرٹ سپنسر نے کھلے عام اعلان کیا کہ:’’ترقی محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ یہ یقینی ہے کہ انسان کو لازمی طور پر پورا انسان ہونا چاہیے‘‘۔
مؤرخ ایچ جی ویلز [م:۱۹۴۶ء]نے یوں للکارا ہے:’’انسان زمان و مکان میں اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے پیدا ہوئے کہ جیسے وہ انسان ہی کی عظمت کو بیدا رکرنے کے لیے آئے ہیں‘‘۔
اسی جذبے کے تحت مارکیس کنڈورسٹ [م: ۱۷۹۴ء] نے لکھا:’’جب تک یہ کرۂ ارض اس نظام شمسی میں قائم ہے،انسان کبھی فنا نہیں ہوگا۔ترقی،علم طب کا ایک فن ہے جو زندگی میں اس قدر اضافہ کر دے گا کہ موت کااصول بھی مستثنیٰ ہو جائے گا‘‘۔
اور ولیم ورڈزورتھ [م:۱۸۵۰ء]نے رجائیت پسندانہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا:’’کیمیا کی اپنی کتابیں نذرِ آتش کر دو اور ضرورت محسوس ہونے پر ولیم گوڈون [م: ۱۸۳۶ء]کا مطالعہ کرو‘‘۔
ترقی کی یہ ناگزیریت، جدید انسان کے اعتقاد کا ایک جزوبن گئی لیکن تاریخ نے سفر کرتے ہوئے ان بھڑکیلے تخیلات کی پیروی نہیں کی۔انسان پُراعتماد تھا کہ وہ کرۂ ارض پر ایک جنت تخلیق کررہا ہے اور اس نے اپنی تدبیروچال سے خدا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؛ لیکن کوئی ایسی چیز تھی جو اس کی بے خبر آنکھوں کے رُوبرو منکشف ہوئی [لیکن پھر اُسے اچانک احساس ہوا کہ] اس کی ناکام تہذیب وثقافت، جنگیں، انسانوں کا اجتماعی قتل عام،کسادبازاری کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، بھوکے اور ناکافی غذا کے حامل انسانوں کی آہ وبکا،سماجی تضاد،طبقاتی جنگ،جرم اور عدم رواداری کی بڑھتی ہوئی لہریں___ یہ تمام عناصر اس کی خودکار ترقی کی خیالی جنت کی ہوا کواڑا کر لے گئے۔ اس کا اعتماد منتشر ہو گیا،اس کا اعتقاد تحلیل ہو گیا اور سراب اور فریب کا ایک عمومی احساس چھاگیا۔ مایوسی اور محرومی کا احساس آج  پہلے سے کہیں زیادہ اُفق پر غالب ہے۔
اس موقف کی تائید کے لیے ہم یہاں مغرب کے جدید فکری رجحانا ت کی چند جھلکیاں پیش کررہے ہیں۔جن سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ مغربی نقاد جو کچھ کہتے ہیں،وہ کیوں کہتے ہیں:

جدید رجحانات

لیوس ممفورڈ [م:۱۹۹۰ء] عصرِحاضر کا ایک معروف مؤرخ ہے۔وہ کہتا ہے:’’آج کا انسان تشدد کے بھیانک دور میں زندگی گزار رہا ہے۔اب،انسانی تاریخ میں پہلی بار زمین پر کوئی ایسی جگہ نہیں رہی کہ جہاں ایک معصوم اور بے گناہ شخص پناہ حاصل کر سکے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جوہماری بے خبر آنکھوں کے رُوبرو منکشف ہوئی ہے۔بذات خود ہماری اپنی تہذیب وثقافت کی تباہی۔ اگر خام تہذیب وثقافت تباہ ہو سکتی ہے، تو پھر یہ عمل بتدریج واقع ہوناچاہیے کیونکہ یہ زندہ رہنے کے لیے اچھا نہیں‘‘۔
پروفیسر لزی سوسن سٹیبنگ [م: ۱۹۴۳ء] نے  Ideals and Illusions  [۱۹۴۸ء] میں کہا ہے: ’’میرے وطن [برطانیہ] کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں اس قدر انسان، مرد، عورت اور بچے، تکلیف، دلی صدمہ، روحانی تلخی اور غیرضروری موت میں مبتلا نہیں ہوئے‘‘۔
ڈاکٹرآرنلڈجے ٹوائن بی [م:۱۹۷۵ء] نے جدید انسان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے: ’’بیسویں صدی کی تہذیب وثقافت پر نظر ڈالتے ہوئے میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اگر انسان نے اپناہدف محض دنیاوی مقاصد کوبنائے رکھا، تو مجھے اُمید نہیںکہ وہ ایک اچھا اخلاقی فیصلہ کر سکے گا‘‘۔
علمِ تاریخ کا ایک نامور مؤرخ البرٹ شیواٹزر[م:۱۹۶۵ء]  نے یہ اعلان کیا ہے :’’ ہم تاریکی کے عہد میں ایک تاریک سفر میں داخل ہو گئے ہیں‘‘۔
جان جوزف سینڈرز [م:۱۹۷۲ء]نے انتہائی معقول انداز میں اس صورتِ حال کا مختصر احوال بیان کیا ہے: ’’اٹلی میں تہذیب وثفافت کی ازسرنو بیداری کو اب تک پانچ صدیاں گزر چکی ہیں، جسے ہم نشاتِ ثانیہ کے نام سے جانتے ہیں، جو مغربی یورپی تاریخ کے ایک انتہائی شان دار اور مفید دور میں واقع ہوئی۔ آج، سائنس، فکر، فن اور ادب میں عالم گیر مہارت کو جوہمارے براعظم نے انیسویں صدی میں حاصل کی، اندر سے خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ لامحدود اور بلارکاوٹ ترقی کا اعتقاد معدوم ہو چکا ہے، عالمی جنگ نے پاے دار امن اور خوش حالی کی امیدیں ملیامیٹ کر دی ہیں،  قومی نفرتیں اور مسابقتیں،کم ہونے کی بجاے کہیں زیادہ ہو گئی ہیں، جب کہ ’مغرب کے زوال‘کی مایوس کن پیش گوئیاں، چند خبطی فلسفیوں کے تخیلات کی نسبت کہیں زیادہ پُراثر ہیں‘‘۔

اپنی فراست پر مبنی فلسفیوں کا موقف

بے چینی اور محرومی ومایوسی کا یہ ایک عمومی احساس ہے، جس نے عین اسی طرح جدید دنیا کو بھر دیا ہے، جس طرح پانی،سمندروں کو بھر دیتا ہے۔ انسانی و تہذیبی ترقی کے علَم بردار اور نغمے الاپتے  فلسفی، اب مایوسی کے فلسفی بن چکے ہیں۔ نکولس برڈیف [م:۱۹۴۸ء]ہمارے عہد کا ایک عظیم فلسفی ہے۔ وہ کہتا ہے:’’آفاقی تاریخ کے ہاتھ ایک خطرناک لمحے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، ایک دھندلکے کی طرف، حالاں کہ اس وقت تو ہمیں اپنے چراغ روشن اور رات کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔ وہ جدید دور کی میکانکیت کو ’انسانی تشخص کا انتشار‘اور انسان کا بکھرائو قرار دیتا ہے۔
 ڈنمارک کے مشہور فلسفی سورین کرکے گارڈ [م:۱۸۵۵ء] نے انتہائی ہیجان کے عالم میں کہا تھا:’’جب میں اس [یعنی مسرت اور سکون]کی خواہش کرتا ہوں،تو درحقیقت میں اپنے منہ پرتھوکتا ہوںــــ‘‘۔
حتیٰ کہ الفرڈ این وہایٹ ہیڈ [م:۱۹۴۷ء] نے Adventures of Ideas میں اعلان کیا: ’’انیسویں صدی،تہذیبی ترقی کا ایک عہد تھی لیکن مجموعی طور پر انحطاط کی صدی تھی۔ زندگی کی اقدار بہ تدریج ختم ہو رہی ہیں۔اب محض تہذیب کی چمک ہی باقی رہ گئی ہے، جب کہ اس کی اصل موجود نہیں اور اس کی حقیقت معدوم ہوچکی ہے‘‘۔
خوش حالی اور بحران کے مستقل ادوار اورترقی کے دوران غربت کی موجودگی کی استہزائی صورت نے ماہرینِ معیشت کوپریشان کر دیا ہے۔ماہرینِ نفسیات،اعصابی خلل کے حامل انسان کے حالات پر متفکر ہیں، جب کہ مضطرب نفسیات کا مطالعہ نفسیات کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔سگمنڈفرائڈ [م:۱۹۳۹ء] کے نظریات مایوسی کے عہد کی پیداوار ہیں۔ ڈاکٹر کارل یونگ [م:۱۹۶۱ء] کی کتاب Modern Man in Search of a Soul پڑھنے والے جانتے ہیں کہ جدید ماہر نفسیات کو کون سی چیز مضطرب کرتی ہے۔جدید ادب بھی مایوس آدمی اور اس کی پژمردہ خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔
مشہور امریکی نژاد دانش ور اور ادیب ٹی ایس ایلٹ [م:۱۹۶۵ء] نے لکھا ہے:

ہمارا تمام علم ہمیں ہماری جہالت کے قریب تر لے آتا ہے، 
اور ہماری تمام ترجہالت ہمیں موت کے قریب تر لے آتی ہے۔
لیکن موت سے قربت،خدا کی قربت نہیں۔
زندگی کہاں ہے، جسے ہم اپنی معاشرت میں گنوا چکے ہیں؟
فراست کہاںہے،ہم اسے علم میں کھو چکے ہیں؟
علم کہاں ہے،ہم اسے معلومات میں گم کر چکے ہیں؟
بیس صدیوں میں آسمانوں کا سلسلہ
ہمیں خدا سے مزید دور اور دھول سے نزدیک تر کر سکتا ہے۔
اور یہ کہ:
ہم کھوکھلے انسان ہیں،ہم میں بھس بھرا ہوا ہے 
اور باہم مل کر اپنے وہ سرجھکاتے ہیں جو گھاس پھوس سے پُرہیں۔
افسوس!ہمار ی خشک آوازیں،جب ہم سرگوشی کریں،خاموش اوربے معنی ہوتی ہیں
اور جیسے خالی گلاس میں ہوا ہوتی ہے
ہمارے خشک تہ خانے میں
چوہے ہمارے ٹوٹے ہوئے گلاس پر پھدکتے پھرتے ہیں
بے صورت،بے رنگ سایے، مفلوج،بے حس وحرکت
ہمیں یہ سب نظر آئے
ہم نے اپنی آنکھوںسے دوسری سلطنت کی موت دیکھی
ہمیں یاد رکھو ___اگر یقینی رکھ سکتے ہو___اگر ہم معدوم نہیں ہوئے
متشدد روحیںہیں، اور کھوکھلے انسان،بھس بھرے انسان۔
ڈبلیو ایچ آڈن [م:۱۹۷۳ء]نے ، یوں لگتا ہے کہ کراہتے ہوئے بیان کیا ہے:
مجھے یہ ثابت کرنے کے لیے بہت دور آنا پڑا،
کہ نہ زمین ہے،نہ پانی ہے اورنہ محبت ہے۔
میںیہاں ہوں،تم بھی یہیں ہو،

لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟ہم کیا کرنے کو ہیں؟

الڈوس ہکسلے [م:۱۹۶۳ء]کے ادبی شاہکارApe and EssenceاورTime  Must Have a Stop،مایوسی کی بھرپور نقشہ گری کرتے ہیں۔جیمزجوائس [م:۱۹۴۱ء] نے بھی ایک مایوس انسان کو ادبی اسلوب میں پیش کیا ہے، اور ٹی ایف پوئز [م:۱۹۵۳ء]نے بھی اسی دھن پر نغمہ سرائی کی ہے۔ اس سے پہلے، فریڈرک نطشے [م:۱۹۰۰ء] اور دوستووسکی [م:۱۸۸۱ء] مایوس آدمی کے دوعظیم داعی تھے۔ دوستووسکی کی The Possessed، (خاص طور پر Kirilov کا کردار)، An Author's Diary اور Pages from Journal of an Author  اپنے عہد کی مایوسی کی واضح عکاس ہیں۔ معروف فرانسیسی ادیب، البرٹ کیمس [م:۱۹۶۰ء] اس نئے رجحان کا بہترین نمایندہ ہے۔ اس کا ناول The Outsider مایوسی کے ادب کا ایک شاہکار بن چکا ہے۔اس کے مرکزی خیالات،موت اور خودکشی ہیں۔انگریزی کے Angry Youngmenاور عصری ادب بھی اسی رجحان کی نمایندگی کرتا ہے۔کولن ولسن،انگریزی،فرانسیسی اور جرمن ادب (The Outsider) کے ماہرانہ جائزے میں یہ دکھاتا ہے کہ جدید ناول کا ہیرو ایک ایسا شخص ہے، جو زندگی،ا قدار اور خوداپنی ذات سے لاپروا ہوتا ہے۔وہ خود کو اپنے معاشرے میں ایک اجنبی اورایک بدیسی محسوس کرتا ہے۔
ایچ جی ویلز نے، پہلی جنگ عظیم [۱۸-۱۹۱۴ء] سے پہلے انسانیت کےمستقبل کو بڑے خوش رنگ انداز میں پیش کیا تھا، مگر اپنی زندگی کے آخری ایام میں مایوسی کا اظہار کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس کے تصور کا چراغ Fate  of Homo Sapiens  میں اس وقت گُل ہو گیا، اور اس نے یہ لکھا: ’’میری ہر قسم کی کوشش کے باوجود کہ میں دلیرانہ طور پر رجائیت پسند نظر آئوں، میں سمجھتا ہوں کہ کائنات اس(انسان )سے اکتا چکی ہے،اس پر مشکلات کا بوجھ لاد رہی ہے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ انسان کم از کم ذہانت اور زیادہ سے زیادہ تیزی کے ساتھ انحطاط،مصیبت اور موت کی طرف رواں ہے‘‘۔ اور بنی نوع انسان کے لیے اس کا آخری وصیت نامہ اس کی دل سوز اور جذباتی کتاب Mind at the End of Its Tether  [۱۹۴۵ء]ہے، جس میں اس نے کہا ہے:’’اس مصیبت اور پریشانی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں،اب یہی انجام ہے‘‘۔

قنوطیت و مایوسی کیوں؟

اب، یہ ایک عقلی او رثقافتی تناظر ہے جس میں ہمارا جدید نقاد رہتا اور سانس لیتا ہے۔ وہ یہ دھچکا برداشت کرنے پرمجبور ہے کہ انسان پر اس کا اعتماد منتشر ہو چکا ہے۔وہ یہ دیکھنے سے قاصر ہے کہ انسان نیک بن سکتا ہے اور معاشرے کو اخلاقی اقدار کی بنیاد پر منظم کیا جا سکتا ہے۔اس کی یادداشت اس قدر تلخ ہے کہ ایک بہتر معاشرے کا تصور اسے پریشان اور مضطرب کردیتا ہے اور وہ تعجب کے عالم میں یوں آہ و بکا کرتا ہے:’’تم تو ولیوں کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہو!‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں انسان اور خدا پر بھروسا اور یقین ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آفت جس نے مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اس کی اپنی پیدا کردہ ہے۔جدید انسان کی اُٹھان اور اس کا آغاز مذہب سے بغاوت اور محض عقل و تجربے پر اندھے بھروسے سے ہوا، لیکن اس کا انجام مایوسی پر ۔اگر وہ کائنات میں اپنی درست حیثیت کا ادراک کرلیتا، وہ یوں جوکھم میں نہ پڑتا اور نہ تباہ ہی ہوتا۔ یہ مسئلے کا بنیادی نکتہ ہے۔
اقبال عصرحاضر کے انسان کی نشاتِ ثانیہ کے علَم بردار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسان منطقی طور پر اس قابل ہے کہ بھوسے سے کچھ تلاش کر سکے اور ایک نئی اور خوش حال تہذیب کی پرداخت کرسکے۔ہم دوسروں کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم پُرعزم ہیں کہ مطلوب نشاتِ ثانیہ کے حصول کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کریں۔اقبال نے اپنے معرکہ آرا  فکری خطبات میں اس تمام صورت حال کا مختصر اور مؤثر الفاظ میں یوں احاطہ کیا ہے:
اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید یورپ نے اسی نہج پر متعدد عینی نظامات قائم کیے، لیکن تجربہ کہتا ہے کہ جس حق و صداقت کا انکشاف عقلِ محض کی وساطت سے ہو، اس سے ایمان و یقین میں وہ حرارت پیدا نہیں ہوتی، جو وحی و تنزیل کی بدولت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ محض نے انسان کو بہت کم متاثر کیا۔ برعکس اس کے، مذہب کو دیکھیے تو اس نے افراد میں اضافۂ مراتب کے ساتھ ساتھ، معاشروں تک کو بدل ڈالا۔ لہٰذا، یورپ کے عینی فلسفے کو کبھی یہ درجہ حاصل نہیں ہوا کہ زندگی کا کوئی مؤثر جزو بن سکے، اور اس لیے اب حالت یہ ہے کہ یورپ کی فساد زدہ خودی باہم دگر حریف جمہوریتوں کی شکل میں، جن کا مقصد وحید ہی یہ ہے کہ دولت مندوں کی خاطر ناداروں کا حق چھینے، اپنے تقاضے پورا کر رہی ہے۔ یقین کیجیے، یورپ سے بڑھ کر آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں۔ برعکس اس کے مسلمانوں کے نزدیک ان بنیادی تصورات کی اساس چونکہ وحی و تنزیل پر ہے، جس کا صدور ہی زندگی کی انتہائی گہرائیوں سے ہوتا ہے۔(محمد اقبال، The Reconstruction of Religious Thought in Islam، ص ۱۴۲)
اگر اس ضمن میں مغرب، اقبال اور ان کی تجدیدی فکر کو سمجھ نہیں سکتا تو پھر قصور سراسر تعلیم یافتہ ناقد کی نفسیاتی اور ثقافتی تشکیل کا ہی ہے اور بہتر یہی ہوگا کہ مغرب اس کا جلداز جلدادراک کرلے۔(خورشید احمد، The Frustrated Man، اقبال ریویو، کراچی، اپریل ۱۹۶۳ء)
 [انگریزی سے ترجمہ: ریاض محمود انجم/ س م خ]