مضامین کی فہرست


جون ۲۰۲۱

’ فیمی نزم‘ کی دوسری لہر (second wave) کو متاثر کرنے والی مشہور فرانسیسی لیڈر  سیمون دی بووار نے کہا تھا کہ ‘ایک عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ سماجی و معاشرتی تشکیل سے اسےعورت بنا دیا جاتا ہے‘۔ دی بووار کے اس جملےسے یہ تصور ابھرا کہ ’جینڈر اسٹڈیز‘ میں صنف کی اصطلاح کو ’’مردو زن کی معاشرتی اور ثقافتی تشکیل‘‘ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس مکمل مرد یا عورت کے تصور کے لیے جس کی بنیاد فطری اور حیاتیاتی جنس پر ہے۔ صنف کے اس نئے تصور کی ترویج وتبلیغ کے لیے ۲۰ویں صدی کے ساٹھ اور ستّر کے عشروں میں حقوقِ نسواں کی تحریک اورفیمنسٹ اسکالروں نے مروجہ تاریخی تصورات میں تبدیلی کا پروگرام بنایا۔ ان کے خیال میں مردو زن کی خصوصیات کے بارے میں صدیوں سے رائج تصورات کو ہدف تنقید بنا کر ان پر سوال اٹھانا اور از سر نو جائزہ لیاجانا ضروری تھا۔ بعد ازاں جب حقوقِ نسواں کے ساتھ ساتھ ہم جنس زدگان اور لزبئین کے حقوق کی بات شروع ہوئی تو فیمنسٹ اسکالروں نے سوچا کہ ’اصناف کا نظریہ‘ کالج اور یونی ورسٹی کےنصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ اس غرض سے جینڈر اسٹڈیز اور ویمن اسٹڈیز کےشعبہ جات قائم کیے گئے اور کئی کورسز متعارف کرائے گئے۔

  • امریکا میں ویمن اورجینڈر اسٹڈیز کے پہلے منظور شدہ نصاب کا آغاز ۱۹۶۹ء میں کارنیل یونی ورسٹی (Cornell University) سے ہوا تھا اور ۱۹۸۰ء کےعشرے میں اسے پورے امریکا میں ترقی اور نشوونما دی گئی۔ پہلا آفیشل پی ایچ ڈی پروگرام ۱۹۹۰ء میں ایموری یون ورسٹی، اٹلانٹا نے شروع کیا تھا اور آج امریکا میں سات سو سے زیادہ اداروں میں اور عالمی سطح پر چالیس سے زیادہ ممالک میں ویمن اسٹڈیز کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کورسز اور شعبہ جات زیادہ تر ’یو ایس ایڈ‘ اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور وزارتِ ہائے تعلیم کے تعاون سے چلتے ہیں۔

’ فیمی نزم‘ کے جن مفروضات، تصورات و نظریات کا مطالعہ ان کورسز میں کرایا جاتا ہے، ان میں فیمنسٹ تھیوری، سٹینڈ پوائنٹ تھیوری (standpoint theory)، کثیر الثقافتی (multiculturalism)، معاشرتی انصاف (social justice)، بائیو پالیٹیکس (bio-politics)، عبوری حدود سے بلند فیمی نزم (transnational feminism)، چہار رُخی (intersectionality ) مادیت وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اصناف کے درمیان طاقت، شناخت، نسل، جنسی رجحان، سماجی و معاشی طبقات، قومیت، عدم مساوات، معاشرتی اصول اور معذوری کے تعلقات کو مطالعے کا موضوع بنائے جانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان شعبہ جات کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ’’یہاں صنف کی معاشرتی و ثقافتی تشکیل کا جائزہ لیتے ہوئے، استحقاق، مراعات اور ظلم و جبر کےنظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے‘‘۔

 جینڈر اسٹڈیز مغرب کے نقادوں کی نظر میں

انسانی سماجی زندگی اور صنفین کے درمیان جبر اور ظلم کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے، لیکن ان  اسباب و محرکات کا تعین ایک بہت پیچیدہ اور غیرہموار عمل ہے۔  ویمن اسٹڈیز اور جینڈراسٹڈیز کے مضامین میں طالب علموں کو صرف یہ سکھانا کہ ’’دنیا کو ظلم کی عینک سے کس طرح دیکھنا چاہیے؟‘‘  یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی کہ پروفیسر صاحبان ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ ’’آپ بحیثیت عورت ایک مظلوم (Victim) ہیں‘‘۔

ٹونی ارکسنن اپنے ایک مضمون بعنوان: ’میں نے ویمن اسٹڈیز کلاس میں کیا سیکھا؟‘ میں لکھتی ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین جو موقف اور استدلال تخلیق کر رہے ہیں، وہ سیاسی پروپیگنڈے سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ کسی صنف کو بھی بااختیار بنانے میں ناکام ثابت ہوگا۔ پدرسری نظام کی تھیوری میں بتایا جاتا ہے کہ خواتین پر مردوں کا ادارہ جاتی کنٹرول اور حکومت ہے اور اس کے نتیجے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہر قسم کا ظلم و جبر روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ اسکالروں کے اپنے حلقوں کے بہت سے لوگ مثلاً کیٹ ملٹ ظلم اور جبر کو صرف صنفی امتیازات کے ساتھ ہی وابستہ نہیں سمجھتی۔ کمبرلی کرینشا نے بھی اس تصور کو چیلنج کیا کہ ’’جبر اور ظلم کا واحد محور صنفی امتیاز ہوتا ہے‘‘۔ اس نے صنفی امتیا ز کے بجائے ظلم و ستم کا محور’نسل پرستی‘ کو قرار دیا۔ ویمن اسٹڈیز میں یہ بات ہرگز نہیں بتائی جاتی کہ ظلم و جبر، تاریخ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ فیمنسٹ ماہرین، ظلم کی تلاش کا کام سائنسی مطالعے کے طور پر نہیں کرنا چاہتے کہ یہ جہاں کہیں نظر آئے اس کی نشان دہی کی جائے بلکہ وہ ہر قسم کے ظلم کو صرف ایک خاص جگہ پر دکھانا چاہتے ہیں۔

  • الزبتھ سگران ایک مشہور مصنفہ ہیں۔ وہ یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصے تک وہیں ویمن اسٹڈیز شعبے میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ ’’ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کھولتے وقت بتایاگیا تھا کہ ’’ان کا مقصد طالب علموں کو اس بات کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر مشتعل ہونے یا جذباتی اظہارکرنےکے بجائے علم اور مہارت کی بنیاد پر کیسے نبٹیں‘‘۔[۱]

یہ دعو یٰ کیا گیاتھا کہ ’’ہم ان تمام امور پرطالب علموں کو کھل کر اظہار خیال کا موقع فراہم کریں گے، جو ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہو کر پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں، مثلاً رضامندی اور جبر کا تعلق، عصمت دری، مانع حمل و اسقاطِ حمل کے ذرائع وغیرہ‘‘۔

  •  یہ شعبہ جات قائم کرتے وقت یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ’’یہاں طالب علموں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گے کہ وہ جنسی امور میں اپنے ہم جماعتوں کے سامنے بحث و مباحثہ کے بعد ایک دوسرے کی عزّت کرنا سیکھیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی کلاس روم کے اندر حقیقی زندگی کے مسائل پر بحث کرنا ایک دھماکے سے کم نہیں۔ جنسی سیاست، صنفی تعصب و حقارت کے نظریات، جنسی نوعیت کی ثقافتی تعبیر کے بارے میں تجریدی نظریات پر بات کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن ایک استاد کی حیثیت سے اس جنسی انقلاب پر بات کرنا، جو نوجوانوں کی زندگی میں عملی طور پر اثر پذیر ہوچکا ہے، بہت مشکل ہے۔ ایسا ارادہ کرتے وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت استاد اپنی ذمہ داری سے انحراف کر رہے ہیں‘‘۔

’’ دوسری بات یہ ہےکہ یونی ورسٹی انتظامیہ اور قوانین ایک استاد کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کلاس روم میں ذاتی جنسی تجربات اور تعلقات کو موضوع بحث بنائے کیونکہ یہ بحث جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزمات کا دروازہ کھولتی ہے۔ جنسی ہراسانی کی تعریف میں اس زبانی طرزِ عمل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، جو کسی فرد کے لیے ناگواری اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ جنسی ہراسانی کی یہ تعریف اتنی وسیع ہے کہ جنسی نوعیت کے کسی ذاتی موضوع پر بحث کو ناممکن بنادیتی ہے۔

 جب طالب علموں کے درمیان جنسی خیالات کو علمی طورپر چیلنج کرنے، انھیں وسعت نظری سکھانے کی بات آتی ہے،تو ویمن اسٹڈیز کے اساتذہ کی سخت حوصلہ شکنی کا سامان کیا جاتا ہے۔ اس لیے اساتذہ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ نظریاتی بحث میں وقت گزاریں اور کسی عملی پہلو سے پرہیز کریں۔ جب طالب علموں نے صنفی سیاست، فیمنسٹ تحریک سے سیکھنی ہے، جنسی تعلقات ومعاملات میں معاشرے کے غالب رویوں سے متاثر ہونا ہے اور ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اس پر کوئی بات نہیں کرنی، تو ان شعبہ جات کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟

  •  کرسٹینا میری سمرز ’معاصر فیمی نزم‘ کی معروف نقاد ہیں۔ وہ Who Stole Feminism میں لکھتی ہیں کہ ’’ماڈرن فیمی نزم معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے صرف جنس اور صنف کے چشمے لگا کر دیکھتا ہے اور اس نے معاشرے کو اصناف کی لڑائی کے ایک اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مرد اور عورت کی تفریق اس لیے ابھاری گئی کہ فیمی نزم کے جھنڈے تلے  انھیں ’پدر سری‘ کے انجانے دشمن کے خلاف مہم میں استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت امریکا میں فیمی نزم پر خواتین کے ایک خاص گروہ کا غلبہ ہے، جو عوام کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ امریکی خواتین آزاد مخلوق نہیں بلکہ پدرسری نظام کے تحت مردوں کے جبر اور ظلم کا شکار ہیں‘‘۔ امریکی معاشرے میں اس دعوے کی کوئی حقیقت اور بنیاد نظر نہیں آتی۔
  •  کرسٹینامیری سمرز کے خیال میں ’’یہی وہ لوگ ہیں،جنھوں نے حقوقِ نسواں کی تحریک کو چوری کیا اور خواتین کی فلاح و بہبود کے کام کے بجائے خواتین کو مرد دشمنی پر لگا دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی بات ختم کر دی گئی اور کچھ مخصوص لوگوں نے ذاتی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے تعلیم، صنعت اور حکومتی شعبوں میں مراعات حاصل کرلیں۔ بہت سے فیمنسٹ اسکالرز نے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کرنے اور تحقیقی مراکز، ویمن اسٹڈی اکیڈیمز، انتظامی امور وغیرہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعتراف بھی کیا ہے‘‘۔
  • سمرز، ویمن اسٹڈیز اورجینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’ویمن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے پروفیسر صاحبان، مردوں کے خلاف جتنا زیادہ غصہ نکالتےاور جتنی زیادہ اونچی آواز میں رونا روتے ہیں، معاشرے میں خواتین کو اتنی ہی زیادہ مراعات حاصل ہوتی چلی جارہی ہیں‘‘۔ ان مطالعاتی محکموں میں، غلط اعداد و شمار پیش کرنے والے نسائی ماہرین اپنا لبرل ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے آگ بھڑکانے والے ایسے پیغام جاری کر رہے ہیں کہ ’’عورتیں وینس سیارے کی مخلوق نہیں کہ حدت برداشت کر یں، جہنم میں جانے کے اصل حق دار تو مرد ہیں‘‘۔

ویمن اسٹڈیز شعبہ جات صنفی تعصب پھیلا رہے ہیں

  •  کمیل اینا پالیہ معاصر ’فیمی نزم‘ پر اتنی سخت تنقید کرتی ہیں کہ فیمنسٹ حلقے انھیں اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب Provocations میں ویمن اسٹڈیز اور پالیٹکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ‘ویمن اسٹڈیز کے مضامین ایسے گروہ کی سیاست رومانوی، جذباتی اور زبانی جمع خرچ پر مبنی ہیں اور ہر روز تبدیل ہونے والے رجحانات کے ساتھ فیشن کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ یہ خواتین کا ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے، جو اپنے ضمیر پر مراعات کے بوجھ کو تو محسوس کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساس ندامت و شرمندگی، محروم طبقات کو گلے لگانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرکےتشفی پاتاہے۔

 ویمن اسٹڈیز کی تعلیم کا ارتکاز صرف ’سیکس ازم‘ اور صنفی تعصب پر ہے۔ ’فیمی نزم‘ میں کام کرنے والی ’’خواتین نہ عام خواتین کی نمایندگی کرتی ہیں اور نہ قومی اور عالمی جذبات و احساسات کی۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین یہ سوچتی ہیں کہ ان کے معصوم اورکتابی کیڑے نما شوہر ہی دنیا بھر میں پائی جانی والی مردانگی کا مثالی نمونہ ہیں۔ جینڈر اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں خدمات پیش کرنے والے لوگ منظم اجارہ داری (Cartel) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ یونی ورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ زیادہ تر یونی ورسٹیوں میں مستند اساتذہ کا وجود ہی نہیں۔ چند چیئرز پر جو ماہرین تعلیم براجمان ہیں، ان کے زیر نگرانی کیمپس ’نرسری اسکول‘ کا سماں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے طالب علموں کی مثال انکوبیٹر سے پیدا ہونے والے بطخ کے بچوں کی سی ہے، جو ویکیوم کلینر کو بھی دیکھ کر اپنی ماں تصور کرنے لگتے ہیں‘‘۔

 کمیل پالیہ کا دعویٰ ہے کہ ویمن اسٹڈیز میں پڑھانے والوں کی اکثریت اناڑی، لکیر کے فقیر، خوشامدی، یوٹوپیائی، رونے رلانے ،شکوے شکایتیں کرنے اورخفیہ ایجنسی کے کارندوں کی طرح ہوتی ہے۔ اعتدال پسند اور معقول فیمنسٹ اسکالر اس پاپولر فیمی نزم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، اور وہ اس فاشزم کے سامنے خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ویمن اسٹڈیز سےفیض یاب ہونے والے،اکثر ایک دلدل میں پھنسنے والے افراد ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین سے مراد ڈھیٹ، خاموش اور ہاں میں ہاں ملانےوالے مردوں اور بڑبڑانے والی عورتوں کا عجیب و غریب گٹھ جوڑ ہے۔ جب اس گروہ کو ویمن اسٹڈیز کے لیے نصاب کی ضرورت پیش آئی تو راتوں رات انھوں نے اختلافات، تعصبات اور الزامات کی توپیں ایجاد کر لیں۔ معاصر خواتین اہلِ قلم کے ناموں کو زبردستی اس حلقے کے ساتھ نتھی کیا گیا اور یونی ورسٹی کی اچھی طالبات کو زبردستی، بہلا پھسلا کر اس میں شامل کیا گیا۔

 مشرقی یورپ میں جینڈر اسٹڈیز شعبہ جات پر تالے

  •  امریکا اور یورپ کے کئی نقاد، ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹوں پر برسوں سے تنقید کر رہے تھے۔ لیکن ان شعبہ جات کی حقیقت عام لوگوں پر اس وقت عیاں ہوئی، جب اکتوبر۲۰۱۸ء میں ہنگری کی حکومت کی جانب سے جینڈر اسٹڈیز پروگراموں کی منظوری واپس لے کر ان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہنگری کے وزیر اعظم کے ایک نائب زالٹ سیمجین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ویمن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کی تعلیم کا کوئی مصرف نہیں کیونکہ یہ ایک نظریہ، آئیڈیالوجی اور بے بنیاد مفروضات ہیں کوئی سائنسی علم نہیں۔ لیبر مارکیٹ میں اس کی طلب صفر کے برابر ہے۔ اس لیے یونی ورسٹیوں میں اسے بطور مضمون پڑھانے کا کوئی مقصد نہیں‘‘۔

’’ان شعبہ جات کے گریجویٹس کو کوئی جاب دینے کو تیار نہیں۔ اس لیے ان پر وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ طالب علموں کے داخلے نہ ہونے کے برابر ہیں اور خواہ مخواہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان شعبہ جات پر ضائع ہورہا ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہنگری کی حکومت اس بات کی قائل ہے کہ’’ مغربی یورپ میں مذہبی اور روایتی معاشرہ زوال پذیر ہے۔ وہاں اب خاندان، کنبہ، وطن اور قوم جیسی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ اور اس سارے عمل میں فیمنسٹ تحریک کی صنفی مساوات اور جنسی انحراف نے تمام معمولات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مغربی یورپ کے نوآبادیاتی ذہن رکھنے والے ممالک چاہتے ہیں کہ مشرقی یورپ میں بھی وہی صورتِ حال پیدا ہو‘‘۔

اس سے قبل ۲۰۱۵ء میں فیڈز پارٹی (Fidesz Party) کے بانی رہنما لیزلا کوویر (Laszlo Kover) نے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ’’ہم، صنف کا جنون اور پاگل پن نہیں پالنا چاہتے۔ ہم اپنے ملک ہنگری کو مردوں سے نفرت کرنے والی خواتین کی آماج گاہ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ایسے مرد نہیں چاہتے جو اپنی مردانگی سے دست بردار ہو کر پوری زندگی عورتوں کے خوف کے سائے میں رہتے ہوئے، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ ہم ایسے والدین نہیں چاہتے، جو خاندان اور بچوں کو اپنی نفسانی و جنسی خواہشات اور عیاشی کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ سمجھیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم کی بیٹیاں اس بات کو سمجھیں کہ انسان کی ذات اس وقت مکمل ہوتی ہے، جب اس کی شادی ہو، اس کا گھر بسے، اس کے بچے، پوتے، پوتیاں ہوں، وہ اپنی زندگی خاندان کے ساتھ ہنسی خوشی گزارے اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے رواں دواں رہے‘‘۔

  •  ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے میڈیا کو بتایا کہ ’’حکومت اور ہنگری کے عوام کا موقف ہے کہ تمام انسان، مرد یا عورت کے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جنس وہی ہوتی ہے جو قدرت کی طرف سے انھیں فطری طور پر عطا ہوتی ہے۔ ہم حیاتیاتی جنس کے علاوہ سماجی طور پر تشکیل پانے والی کسی صنف کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہمیں اس پر بات کرنا قابلِ قبول ہے‘‘۔ چنانچہ حکومت نے ہنگری کی د وبڑی یونی ورسٹیوں میں چلنے والے جینڈر اسٹڈیز کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے مختص فنڈز منسوخ کر دیئے۔ اس پابندی کے خلاف مقامی اور عالمی فیمنسٹ لابی نےشور مچاتے ہوئے اسے جمہوریت اور لبرل ازم پر حملہ قرار دیا۔ جینڈر اسٹڈیز کے ان پروگرامز میں بیس سے بھی کم طالب علم تھے، لیکن فیمنسٹ لابی نے دیگر شعبہ جات کے طالب علموں کو پکڑ دھکڑ کر اپنے احتجاج میں شریک کیا اور حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فحش گالیاں دیں۔ فیمنسٹ لابی کی ایما پر یورپی یونین نے بھی ہنگری کے وزیر اعظم کو سزا دینے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

اسی طرح جون ۲۰۲۰ء میں رومانیہ میں بھی ایک قانون کے ذریعے تعلیمی اداروں کو صنفی شناخت پر مبنی نظریات اور رائے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی، جس کے تحت صنفی تصور کو حیاتیاتی جنسی تصور سے الگ مانا جاتا ہے۔ رومانیہ اور ہنگری کے ان اقدامات کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں نے بہت واویلا کیا کہ ان ممالک کے یہ اقدامات انھیں قرون وسطیٰ میں پہنچا دیں گے۔

اٹلی میں جب صنفی امتیاز کے حوالے سے اسکولوں میں ایک سوال نامہ پُر کرانے کی تجویز پیش ہوئی تو کئی سیاسی جماعتوں نے اسے صنفی تعصب قرار دیتے ہوئے اس کی کھلی مذمت کی، اور ایک اخبار Daily La Verita نے اسے صنفی پاگل پن کا نظریہ قرار دیا۔ اس کے بعد اٹلی کے وزیرتعلیم کو یہ سوالنامہ واپس لینا پڑا۔ اگست ۲۰۱۸ میں بلغاریہ میں اسکولوں میں صنفی مساوات کے بارے میں یونیسکو کے ایک پروجیکٹ پر وزارت تعلیم نے پابندی عائد کر دی۔

  •  مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں جینڈر اسٹڈیزکے تحت چلنے والے پروگراموں کی مخالفت پر مضبوط آواز پائی جاتی ہے، لیکن ہر ملک میں اس کی نوعیت ذرا سی مختلف ہے۔ مشرقی جرمنی میں جینڈر اسٹڈیز کو ایک آئیڈیالوجی سمجھا جاتا ہے۔ ایسٹونیا کی کئی ویب سائٹس صنفی نظریے کو اشتراکیت اور مارکسیت سے تقابل اور تماثل کرتے ہوئے مضامین شائع کرتی ہیں۔

یورپ کے وہ ممالک جہاں انگریزی زبان نہیں بولی جاتی، وہ صنف،جینڈر کی اصطلاحات کو مغربی یورپ کی تخلیق کردہ سازش تصور کرتے ہوئے اس سےنفرت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی زبانوں میں یہ اجنبی تصورات موجود نہیں۔ پولینڈ میں ان اصطلاحات کو غیر ملکی اور درآمد شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ وارسا یونی ورسٹی کے پروفیسر اگنسز کگراف کا کہنا ہے کہ ’’یہ لفظ غیر ملکی ہے اور اس کا مقصد مقامی ثقافت میں زہر گھولنا ہے‘‘۔ ۲۰۰۰ء کے عشرے سے ویٹی کن صنفی نظریہ کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے اور اس خیال کو رد کرتا ہے کہ اصناف کی تشکیل معاشرتی عوامل اور قوتیں کرتی ہیں۔ ۲۰۱۶ء میں پوپ فرانسس نے اس نظریے کو نوآبادیاتی نظام کا حیلہ قرار دیا۔ پولینڈمیں ایک پارٹی کے رہنما کینزنسکی نے صنفی نظریے کو خاندان اور بچوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔

  •  ویمن اسٹڈیز میں پڑھائی جانے والی فیمنسٹ آئیڈیالوجی کا سائنس اور علم سے کوئی واسطہ نہیں۔پیسا یونی ورسٹی کے پروفیسر اور جوہری سائنس دان الیسنڈرو اسٹرومیا نے ۲۸ ستمبر ۲۰۱۸ء کو ایک خطبے میں کہا کہ فیمی نزم کے عقائد کے پرچار کے لیے جو ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ مرد صنفی تعصب و سیکس ازم کا شکار ہیں اور وہ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں، اور عورتوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ نشانہ ہیں حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔

پروفیسر اسٹرومیا نے مزید کہا کہ ’’فزکس اور دیگر سائنسز میں مردوں کا کام زیادہ ہے۔ آج تک فزکس میں خواتین نے صرف تین نوبل انعام جیتےہیں اور مردوں نے ۲۰۷‘‘۔[۲]

 اس بیان کے فوری بعد انھیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کے خلاف ۱۶۰۰ سائنس دانوں نے ایک پٹیشن میں لکھا کہ ’’پروفیسر اسٹرومیا کے دلائل فیمنسٹ اخلاقیات کے تحت قابلِ مذمت ہیں اور سفید فام خواتین سائنس دانوں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کا عمل شرمناک فعل ہے‘‘۔ پروفیسر اسٹرومیا نے تو صرف اعداد و شمار اور حوالہ جات سے متعلق کہا کہ ’’فزکس میں خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور صنف سے قطع نظر میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں‘‘۔ لیکن ان کے خلاف فیمنسٹ لابیز کی طرف سے جو رد عمل ظاہر کیا گیا وہ سراسر تعصب، ، ناانصافی، جنسی فاشزم، سائنس دشمنی اور ا س امتیازی عقیدے پر مبنی تھا کہ ’’ہر شعبے میں میرٹ کو مد نظر رکھے بغیر لازمی طور پر ۵۰ فی صد خواتین کوشامل کیا جانا چاہیے اور اس عمل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہیے‘‘۔

  •  ایک امریکی اسکالر مارگریٹالیون کا کہنا ہے کہ ’’آج کے مغرب میں فیمنسٹ آئیڈیالوجی نے تعلیمی اور علمی آزادی کو مجروح کر دیاہے۔ پچاس، ساٹھ سال قبل اعلیٰ تعلیم کی درس گاہیں ایک کھلی ثقافت کا منظر پیش کرتی تھیں، جہاں طلبہ اور پروفیسر بہت سے مختلف معاشرتی اور سیاسی نقطۂ نظر،  آرا ،اقدار اور نظریات پر بحث مباحثہ کرتے تھے۔ لیکن اب یونی ورسٹیاں ایک بند ثقافت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کچھ خاص نظریات، عقائد اور اقدار کو اپنا لیا گیا ہے اور دیگر کو خارج کر دیا گیا ہے اور جب بھی کوئی متبادل نظریات، دلائل، شواہد کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے‘‘۔
  •  جو چیز ’علوم‘ کو ’سائنسی‘ بناتی ہے، وہ صرف یہ نہیں کہ یہ علوم متعلقہ ثبوت اکٹھا کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف مفروضے کی حمایت کرنے والے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ہر قسم کے ثبوتوں پر غور کیا جاتا ہے۔ جب ثبوت کسی مفروضے کے خلاف جاتے ہیں تو مفروضے کو یا تو ان مخالف شواہد کا جواب دینا پڑتا ہے، ورنہ وہ مفروضہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔
  •  لیکن سائنسی علوم کے برعکس فیمنسٹ ریسرچ کی ابتدا اس مفروضے اور دعوے سے ہوتی ہے کہ’’ عورتیں جسمانی طور پر مردوں کے برابر مضبوط ہوتی ہیں، لیکن مرد کا شکار ہوتی ہیں‘‘، اور تمام فیمنسٹ تحقیق کار ہمیشہ یہی وضاحت کرتی ہیں، اور ہمیشہ ہر متبادل کومسترد کر دیا جاتا ہے۔  فیمی نزم میں جس قسم کی حکمت عملی استعمال کی جاتی ہے، وہ اس مفروضے سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ سچائیاں پہلے سے طے شدہ اورعیاں ہیں۔ پھر ایسی مثالیں تلاش کی جاتی ہیں یا وضع کی جاتی ہیں، جو ان مفروضوں کی سچائیوں کی شکل میں تفہیم کر سکیں۔ یہ خود اثباتی کی حکمت عملی ہوتی ہے، جو تصدیق کے تعصب کو ادارہ جاتی جہت دیتی ہے۔ یہ ذاتی آراء پر مبنی ایک ایسی حکمت عملی ہوتی ہے، جس میں ثبوت کی ہر منتخب شکل مفروضوں کی تصدیق کرتی ہے۔اس حکمت عملی کو استعمال کرنے والا’فیمی نزم‘ سائنس تو کیا کسی عام علم کے درجے پر بھی پورا نہیں اترتا۔

 فیمنسٹ ماہرین، فیمی نزم کو ’سائنس‘ ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حیلے آزما رہےہیں اور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں لیکن فیمی نزم نہ سائنس ہے اور نہ سوشل سائنس سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔ یہ تعصب پر مبنی عقائد کا ایک نظام ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ ایک آئیڈیالوجی تو کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کا شمار علوم میں نہیں ہوتا کیونکہ علم میں تحقیق، مشاہدات اور ثبوتوں سے پہلے دعوے نہیں کیے جاتے۔ علم کےحصول میں سوال اس طرح اٹھائے جاتے ہیں کہ ان کے جوابات تلاش کیے جاسکیں، بجائے اس کے کہ پہلے سے موجود جوابات کو سوالوں کے ساتھ فٹ کیا جائے۔ علم میں مفروضوں کو ثبوتوں کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور اگر یہ ثبوتوں کے مطابق پورے اتریں تو انھیں عارضی طور پر قبول کیا جاتا ہے ورنہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔

لیکن فیمنسٹ آئیڈیالوجی تو چند اقدار کےساتھ ایک مذہب اور عقیدے کی طرح چمٹی ہوئی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ جس قدر (Value)کی وہ حمایت کرتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر قدر کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کبھی آزادی اور مساوات میں مطابقت نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر ایک کے بڑھنے کا مطلب دوسرے کی کمی ہوگی اور پھر دونوں میں سے ایک کا انتخاب دوسرے کی قیمت پر کرنا پڑے گا۔ ایک کو اپنانے کے لیے دوسرے کی قربانی دینی پڑے گی۔ اسی صورتِ حال میں اپنی پسند کی قدر پر ضد کرنے والوں کا سائنس سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا، انھیں فیمنسٹ عقائد کے متعصب بریگیڈ ہی کہا جائے گا۔

 _______________

حواشی

۱-    پاکستان بھی ’ترقی کی اس دوڑ‘ میں پیچھے نہیں ہے:l  ۹ یونی ورسٹیاں بی ایس ’جینڈر اسٹڈیز‘ کرا رہی ہیں ، جن میں شامل ہیں: اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان، پنجاب یونی ورسٹی لاہور، فاطمہ جناح یونی ورسٹی لاہور، فاطمہ جناح یونی ورسٹی راولپنڈی، یونی ورسٹی آف پشاور، ویمن یونی ورسٹی صوابی، یونی ورسٹی آف سندھ، شاہ عبداللطیف یونی ورسٹی خیرپورl دو یونی ورسٹیوں میں بی ایس ’لبرل اسٹڈیز‘ کا شعبہ ہے، جن میں بیکن ہاؤس یونی ورسٹی، لاہور اور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی، لاہور شامل ہیں۔ lکراچی یونی ورسٹی ’ویمن اسٹڈیز‘ کے عنوان سے ، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ’جینڈر اینڈ ویمن اسٹڈیز‘ اور لاہور کالج فار ویمن یونی ورسٹی’جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ‘ میں داخلہ دیتی ہے۔ (بشکریہ Eduvision :ادارہ)

۲-    مغرب میں عورت کے ’خلاف تعصب‘ نہیں بیان کیا جاتا اور ’شانہ بشانہ‘ کا درس دیا جاتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق حسب ذیل چار خواتین نے فزکس کے ’نوبیل پرائز‘ لیے: lپولینڈ/فرانس کی میری سلومیا کیوری (م: ۱۹۳۴ء) نے ۱۹۰۳ء میں، lامریکا کی ماریہ جیوپرٹ مایر (م: ۱۹۷۲ء) نے ۱۹۶۳ء میں lکینیڈا کی رونا تھیواسٹریکلنڈ (پ:۱۹۵۹ء) نے ۲۰۱۸ء میں lامریکا کی اینڈریا میاگز (پ: ۱۹۶۵ء) نے ۲۰۲۰ء میں۔ ادارہ

منگول افواج نے ۱۳ دن سے بغداد کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ جب مزاحمت کی تمام اُمیدیں دم توڑ گئیں تو ۱۰ فروری ۱۲۵۸ء کو فصیلِ شہر کے دروازے کھل گئے۔ ۳۷ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ اپنے وزرا اور امرا کے ہمراہ مرکزی دروازے سے برآمد ہوئے اور ہلاکو خان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ہلاکو [م:۱۲۶۵ء ]نے خلیفہ کے سوا تمام اشرافیہ کو وہیں تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور منگول دستے ام البلاد بغداد میں داخل ہو گئے۔

اس کے اگلے چند دن تک جو ہوا اس کا کچھ اندازہ مؤرخ عبداللہ وصاف شیرازی کے الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے: ’’وہ شہر میں بھوکے گدھوں کی طرح پھِر گئے، اس طرح جیسے غضب ناک بھیڑیے، بھیڑوں پر ہلہ بول دیتے ہیں۔ بستر اور تکیے چاقوؤں سے پھاڑ دیے گئے۔ حرم کی عورتیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور ان میں سے ہر ایک تاتاریوں کا کھلونا بن کر رہ گئی۔ '

دریائے دجلہ کے دونوں کناروں پر آباد بغداد، الف لیلہ کی شہرزاد کا شہر، خلیفہ ہارون الرشید [م: ۸۰۹ء] اور مامون الرشید [م:۸۳۳ء]کے قائم کردہ دارالترجمہ کا شہر تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں مترجموں کو کتابیں تول کر سونا بطور معاوضہ دیا جاتا تھا۔ یہ دل کشا مسجدوں، وسیع کتب خانوں، عالی شان محلات، سرسبز باغات، پُررونق بازاروں، علم افروز مدرسوں اور پُرتعیش حماموں کا شہر تھا۔ اس بات کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے کہ کتنے لوگ اس قتلِ عام کا شکار ہوئے۔ مؤرخین کا اندازہ  دو لاکھ سے زیادہ ہے، جو تلوار، تیر یا بھالے کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔

تواریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ: بغداد کی گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ چند دن کے اندر اندر ان سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو خان کو شہر سے باہر خیمہ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی دوران جب عظیم الشان شاہی محل کو آگ لگائی گئی تو اس میں استعمال ہونے والے آبنوس اور صندل کی قیمتی لکڑی کی خوشبو آس پاس کے علاقے کی فضاؤں میں پھیلی بدبو میں مدغم ہو گئی ہو گی۔

کچھ اسی طرح کا منظر دریائے دجلہ میں بھی دیکھنے میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس اساطیری دریا کا مٹیالا پانی پہلے چند دن سرخ بہتا رہا اور پھر سیاہ پڑ گیا۔ سرخی کی وجہ وہ خون تھا، جو گلیوں سے بہہ بہہ کر دریا میں شامل ہوتا رہا اور سیاہی اس وجہ سے کہ شہر کے سیکڑوں کتب خانوں میں محفوظ نادر نسخے دریا میں پھینک دیے گئے تھے اور ان کی سیاہی نے گھل گھل کر دریا کی سرخی کو ماند کر دیا۔

ہلاکو خان نے ۲۹ جنوری ۱۲۵۷ء کو بغداد کا محاصرہ کرتے ہی خلیفہ مستعصم کو لکھا: 'لوہے کے سوئے کو مکا مارنے کی کوشش نہ کرو۔ سورج کو بجھی ہوئی موم بتی سمجھنے کی غلطی نہ کرو۔ بغداد کی دیواریں فوراً گرا دو۔ اس کی خندقیں پاٹ دو، حکومت چھوڑ دو اور ہمارے پاس آ جاؤ۔ اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو تمھیں گہری ترین پاتال میں پناہ ملے گی نہ بلند ترین آسمان میں۔ '

۳۷ ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کی وہ شان و شوکت تو نہیں تھی، جو ان کے عظیم الشان اجداد کے حصے میں آئی تھی، لیکن پھر بھی مسلم دنیا کے بیش تر حصے پر ان کا سکّہ چلتا تھا اور خلیفہ کو زعم تھا کہ اس پر حملے کی خبر سن کر مراکش سے لے کر ایران تک کے سبھی مسلمان ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائیں گے۔

چنانچہ خلیفہ نے ہلاکو کو جواب میں لکھا: '’’نوجوان، دس دن کی خوش قسمتی سے تم خود کو کائنات کا مالک سمجھنے لگے ہو۔ جان لو کہ مشرق تا مغرب اہلِ ایمان میری رعایا ہیں۔ سلامتی سے لوٹ جاؤ‘‘۔ '

ہلاکو خان اور اس کے سپاہی پچھلے چار عشروں کے دوران اپنے آبائی وطن منگولیا سے نکل کر چار ہزار میل دور تک آ پہنچے تھے اور اس دوران معلوم دنیا کے بڑے حصے کو اپنا مطیع بنا چکے تھے۔ بغداد پر حملے کی تیاریوں کے دوران نہ صرف ہلاکو خان کے بھائی منگوقآن نے تازہ دم دستے بھجوائے تھے بلکہ آرمینیا اور جارجیا سے خاصی تعداد میں مسیحی فوجی بھی آن ملے تھے، جو مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں یورپ کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بےتاب تھے۔

منگول فوج تکنیکی لحاظ سے بھی کہیں زیادہ برتر اور جدید ٹکنالوجی سے بہرہ ور تھی۔ منگول فوج میں چینی انجینیروں کا یونٹ تھا جو منجنیقوں کی تیاری اور بارود کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ بغداد کے شہری آتش گیر مادے نفتا سے واقف تھے، جسے تیروں سے باندھ کر پھینکا جاتا تھا، لیکن بارود کے گولوں سے ان کا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔

اس زمانے کا بارود آہستگی سے جلتا تھا، لیکن منگولوں نے اس میں یہ جدت پیدا کی، اسے لوہے یا پکائی گئی مٹی کےمٹکوں میں رکھ دیتے تھے، جس سے وہ دھماکے سے پھٹ جاتا تھا۔ اس کے علاوہ منگولوں نے دھویں کے بم بنانے میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی۔

ان کی منجنیقوں نے شہر پر آتشی بارش برسانا شروع کر دی۔ یہی نہیں، منگولوں نے فصیل کے نیچے باردو لگا کر اسے بھی جگہ جگہ سے توڑنا شروع کر دیا۔ بغداد کے باسیوں نے یہ آفت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ابھی محاصرے کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ خلیفہ نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان ادا کرنے اور اپنی سلطنت میں جمعے کے خطبے میں اس کا نام پڑھنے کی شرط پر صلح کی پیش کش کی، لیکن ہلاکو کو فتح سامنے نظر آ رہی تھی، اس نے یہ پیش کش فوراً ہی ٹھکرا دی۔ آخر ۱۰ فروری کا دن آیا جب خلیفہ نے شہر کے دروازے منگولوں کے لیے کھول دیے۔

ہلاکو شروع میں خلیفہ کو یہ باور کرواتا رہا جیسے وہ بغداد میں اس کا مہمان بن کر آیا ہے۔ خلیفہ مستعصم کی ہلاکت [م: ۲۰ فروری ۱۲۵۸ء]کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں، تاہم زیادہ قرینِ قیاس نصیر الدین طوسی [م: ۱۲۷۴ء]کا بیان ہے، جو اس موقعے پر موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’خلیفہ کو چند دن بھوکا رکھنے کے بعد ان کے سامنے ایک ڈھکا ہوا خوان لایا گیا۔ بھوکے خلیفہ نے بے تابی سے ڈھکن اٹھایا تو دیکھا کہ برتن ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا ہے۔ ہلاکو نے کہا:’’ 'کھاؤ‘‘۔ '

مستعصم باللہ نے کہا: ’’ہیرے کیسے کھاؤں؟ ‘‘

' ہلاکو نے جواب دیا: ’’اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لیے تلواریں اور تیر بنا لیتے تو میں دریا عبور نہ کر پاتا‘‘۔ '

عباسی خلیفہ نے جواب دیا: ’’خدا کی یہی مرضی تھی‘‘۔ '

ہلاکو نے کہا: '’’اچھا، تو اب میں جو تمھارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں، وہ بھی خدا کی مرضی ہے۔ اس نے خلیفہ کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑا دیے تاکہ زمین پر خون نہ بہے‘‘۔

بغداد کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور [م: ۷۷۵ء] نے ۷۶۲ء میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب رکھی تھی۔ صرف چند عشروں کے اندر اندر یہ بستی دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین شہروں میں شامل ہو گئی۔ ایک تحقیق کے مطابق ۷۷۵ء سے لے کر ۹۳۲ء تک آبادی کے لحاظ سے بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کے علاوہ اسے ۱۰ لاکھ کی آبادی تک پہنچنے والے دنیا کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ہند سے لے کر مصر تک کے علما، فضلا، شاعر، فلسفی، سائنس دان اور مفکر یہاں پہنچنے لگے۔ اسی زمانے میں مسلمانوں نے چینیوں سے کاغذ بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر علمی سرگرمیوں سے معمور ہو گیا۔ نویں صدی میں بغداد کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔

دارالترجمہ بیت الحکمت میں یونانی، لاطینی، سنسکرت، سریانی اور دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ یہی کتابیں صدیوں بعد یورپ پہنچیں اور انھوں نے یورپ کی نشات ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمیا، زینتھ، الکوحل وغیرہ جیسے درجنوں الفاظ بغداد کے اسی سنہرے دور کی دین ہیں۔

بغداد میں بسنے والی چند مشہور ہستیوں کے نام بھی دیکھ لیجیے: جابر بن حیان (جدید کیمسٹری کا بانی)، الخوارزمی (الجبرا کا بانی)، الکندی اور الرازی (مشہور فلسفی)، الغزالی (مشہور صوفی مفکر)، ابونواس (عظیم عربی شاعر)، شیخ سعدی،(عظیم فارسی شاعر)، زریاب (مشہور موسیقار)، طبری (مشہور تاریخ دان)، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابو یوسف (ائمہ و فقہا)۔

آج سے ۷۶۲ برس قبل بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کے قدم ایسے اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد سے آج تک دوبارہ کوئی مسلم شہر بھی بغداد کی شان و شوکت کے عشرِ عشیر تک نہیں پہنچ سکا۔

بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب صرف اسی وجہ سے پھل پھول سکی کہ منگولوں نے اس وقت کی برتر مسلم تہذیب کو تباہ کر کے مغرب کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔

تلاوت ِ قرآن کے آداب

سوال : کسی تقریب میں یا بالخصوص کہیں بھی اسٹیج پر قاری حضرات قرآنِ مجید کی جب تلاوت کرتے ہیںتو بعض اوقات رُموزِ اوقاف، مثلاً: لا، یا  م یا ط کا خیال نہیں کرتے اور جوشِ قرأت میں بآوازِ بلند پورے زور سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے چلے جاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک تقریب میں ایک قاری صاحب نے سورۃ الضحیٰ کی تلاوت کی۔ شروع میں پہلی آیت پروقفہ کیا۔ پھر اکٹھی پہلی دو آیات پڑھ کر سانس لیا۔ پھر اکٹھی پہلی تین آیات پر رُک کر سانس لیا،حتیٰ کہ آخری بار پوری گیارہ آیات یعنی پوری سورت تلاوت کرکے سانس لیا۔ لطف یہ کہ سامعین کا تحسین و آفرین ’سبحان اللہ‘ وغیرہ کا سلسلہ بھی بلندتر ہوتا چلا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی طرزِتلاوت واقعی قابلِ تحسین ہے؟ کیا حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یا آپؐ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں اس طرح کی تلاوت کی مثالیں ملتی ہیں؟ ہمیں توپڑھایا گیا تھا کہ آیات کو الگ الگ کرکے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔ براہِ کرم اس سلسلے میں رہنمائی فرمادیں۔

جواب: قرآن مجید کی تلاوت کا مقصود اس میں غور و فکر ، تدبّر و تفکّر اور عبرت پذیری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے ٹھیر ٹھیر کر پڑھا جائے ۔ جلدی جلدی پڑھنے سے یہ مقصود حاصل نہیں ہوسکتا۔ جو شخص قرآن کو بغیر سمجھے بوجھے پڑھ رہا ہو اسے بھی ٹھیر ٹھیر کر پڑھنا چاہیے، اس لیے کہ یہ تلاوت ِ قرآن کے آداب میں سے ہے۔

سورۂ مزّمّل بعثت ِ نبویؐ کے بعد ابتدائی زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے جہاں یہ فرمایا ہے کہ رات کا بیش تر حصہ، یا نصف ، یا اس سے کچھ کم بیدار رہ کر نماز پڑھا کرو، وہیں اس کا یہ بھی ارشاد ہے:

وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۝۴ۭ(المزّمّل۷۳:۴) اور قرآن کوخوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔

’ترتیل ‘ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کی جائے کہ اس کا ایک ایک حرف ، ایک ایک لفظ اور ایک ایک آیت الگ الگ ہو ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو، تاکہ ذہن پوری طرح کلام ِ الٰہی کے مفہوم و مدّعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے تو دل جذبات ِ تشکّر سے لب ریز ہوجائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے، یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے؟ غرض یہ قراء ت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں ،بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ (تفسیر سورۂ مزّمّل، حاشیہ ۴، تفہیم القرآن، ج۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہدایت ِ ربّانی پر پوری طرح عمل کرکے دکھایا ۔ چنانچہ متعدد صحابہؓ و صحابیاتؓ نے بیان کیا ہے کہ آپؐ کس طرح تلاوت ِ قرآن کیا کرتے تھے ؟

اُم المومنین حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں:

اِنَّ قِرَاءَ ۃَ النَّبِيِّ ....قِرَاءَ ۃً  بَطِیْئَۃً (احمد:۲۶۷۴۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سست رفتاری سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے ۔

دوسری روایت میں ہے:

اِنَّ النَّبِيَّ   کَانَ  یُقَطِّعُ قِرَاءَ تَہٗ ( ترمذی:۲۹۲۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت میں الفاظ الگ الگ ہوتے تھے۔

بعض دیگر روایتوں میں ہے کہ انھوں نے مثال دے کر آپؐ کا طریقۂ تلاوت سمجھایا۔ انھوں نے فرمایا:

کَانَ رَسُوْلُ اللّہِ یُقَطِّعُ قِرَاءَ تَہٗ ، یَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ ، ثُمَّ یَقِفُ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ ، ثُمَّ یَقِفُ، وَ کَانَ یَقرَؤھَا مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ (ابو داؤد:۴۰۰۳ ، ترمذی : ۲۹۲۷)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے تھے۔ مثلاً اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پڑھ کر رک جاتے ، پھر الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھیرتے، اس کے بعد رُک کر مٰلک یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ِ خاص حضرت انس بن مالک ؓ سے سوال کیا گیا کہ آپؐ کیسے قرآن کی تلاوت کرتے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا: کَان یمدُّ مدّاً (بخاری: ۵۰۴۵)’’آپ ؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے‘‘۔

دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے مثال کے طور پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپؐ اللہ ، الرحمٰن ، الرحیم کو مَد کے ساتھ پڑھتے تھے۔

بعد میں علما نے تجوید کے قواعد و ضوابط وضع کیے اور رموز ِ اوقاف متعین کیے،چنانچہ مصاحف کی طباعت ان رموز کے ساتھ ہونے لگی ، تاکہ لوگ درست طریقے سے قرآن کی تلاوت کر سکیں۔ تلاوت ِ قرآن کے دوران میں ان قواعد کی پابندی اور رموزِ اوقاف کی رعایت ضروری ہے۔ مشہور ماہر قراء ت امام ابن الجزری (م:۸۳۳ھ) کا شعر ہے:

وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ حَتْمٌ لَازِمٌ
مَن لَّمْ یُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آثِمٌ

(قواعد ِ تجویدکی رعایت کرتے ہوئے قرآن کی تلاوت کرنا انتہائی ضروری ہے۔جو شخص قواعد ِ تجوید کے ساتھ نہ پڑھے وہ گناہ گار ہے)۔

رہا یہ سوال کہ جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے آداب ِ تلاوت کی رعایت نہ کرے اور ایک سانس میں کئی آیتیںیا پوری چھوٹی سورت پڑھ لے، اس کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں علما نے کہا ہے کہ اگر حروف کے مخارج درست ہوں اور معنٰی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، البتہ افضل کے خلاف ہے۔بعض علما اسے مکروہ قرار دیتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے دار الافتاء سے یہ سوال کیا گیا :’’ قرآن مجید پڑھتے ہوئے بہت ساری جگہوں پر وقف اور وقف ِ لازم ہوتا ہے۔ وقف کرتے وقت اگر ہم آخری حرف کو سکون دیں ، لیکن نئی سانس نہ لیں اور قرآن پڑھنا جاری رکھیں تو کیا یہ جائز ہے ؟ اگر جائز نہیںہے تو کیا حرام ، مکروہ تحریمی یا مکروہ تنزیہی ہے؟‘‘ تو اس کا یہ جواب دیا گیا: ’’ سکون دے کر سانس کا انقطاع نہ کرنا اور آگے پڑھنا درست نہیں، اصولا ً غلط ہے، جس کا حاصل کراہت ہے۔ اسی طرح وقفِ لازم پر وقف نہ کرنا اچھا نہیں۔اس کا حاصل مکروہ ہے۔‘‘ (جواب نمبر۱۹۷۸۴)،فتویٰ نمبر (ھ) :۳۱۶=۲۹۴-۱۴۳۱؍۳)

قرآن مجید کی تلاوت اس کے تمام آداب اور قواعد ِ تجوید کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنی چاہیے کہ یہی حکم ِ الٰہی ہے اور اسوۂ رسولؐ بھی ۔(مولانا ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


مسلم معاشروں میں اسلامی تحریکوں کے لیے چیلنج

سوال : ماضی قریب کی تواریخ ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلامی راسخ العقیدہ یا مغرب کی اصطلاح میں ’بنیاد پرست‘ مسلم تحریکیں جب کامیابی کی ایک سطح کو پہنچتی ہیں تو اس کے بعد مسلم قوم پرست یا درست الفاظ استعمال کیے جائیں تو سیکولر گروہ ان پر یا ان کے پیداکردہ مواقع پر قابض اور حاوی ہوجاتے ہیں۔ ۲۰ویں صدی کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی تحریکیں، مغرب پسند مسلم قوم پرستوں کے سامنے ایک ثانوی کردار ہی ادا کرتی رہیں گی؟

جواب :یہ ایک بڑا بنیادی سوال ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مختلف وجوہ سے مغربی اقوام کے ہاتھوں مسلم معاشرے ،سیاسی شکست کے نتیجے میں زوال پذیر ہوچکے ہیں، مگر  قومی زوال کا آغاز محض سیاسی شکست سے منسوب کرنا درست نہیں ہے۔ بلاشبہہ شکست ایک بڑی تلخ شے ہے، مگر زندگی کے مدّوجزر کا ایک لازمی حصہ بھی ہے۔ البتہ شکست کو تسلیم کرکے بیٹھ جانا اور اسی پوزیشن پر قانع ہوجانا، پہلے مرحلے میں جمود اور حتمی نتیجے میں موت کے مترادف ہے۔

فکری تحریکیں میدانِ جدوجہد میں نشیب و فراز سے گزر کر بھی نئی بلندیوں سے ہم کنار ہوسکتی ہیں اور مسلم تاریخ ایسی ایمان افروز مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ چیز اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ایک فکری تحریک کا شیرازہ صرف اس وقت بکھرتاہے، جب شکست اس کی قیادت اور پھر کارکنوں کے دل و دماغ پر غالب آجائے اور وہ اپنی بنیاد اور شناخت کے باب میں تشکیک، اضمحلال، تھڑدلی، تذبذب یا لاتعلقی کی سی کیفیت کا شکار ہوجائے۔ اس لیے شکست کے مختلف ماڈل، مسلم معاشروں کے گوناگوں تضادات کا ایک تسلسل ہیں۔ بلاشبہہ اسلامی تحریکات بڑا قابلِ قدر، تخلیقی اور ہمہ گیر شعور دینے کے باوجود ابھی تک مسلم معاشروں کو مکمل تبدیلی کی منزل سے ہم کنار نہیں کرسکی ہیں، البتہ اس جدوجہد میں وہ پوری تگ و دو اور لگن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ان گوناگوں مشکلات کا ایک سبب یہ ہے کہ اسلامی تحریکات نے بڑے نامساعد حالات میں کام کا آغاز کیا۔ یہ ایسا وقت تھا جب علمی، فکری، ذہنی اور اخلاقی طور پر مغربی تہذیب نے مسلمانوں پر ہمہ گیر تسلط حاصل کرلیا تھا۔ بگاڑ یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ مصر جیسے مسلم ملک میں ایک طرف برطانوی اقتدار کے خلاف جنگ ِ آزادی جاری تھی، دوسری طرف وزیراعظم  سعدزغلول [م:۱۹۲۷ء] رمضان کے مہینے میں عوام کے سامنے علی الاعلان شراب نوشی کرتا تھا، اس سب کے باوجود لوگ اسے زندہ باد کے نعروں سے ہی نوازتے رہے۔ اسی طرح نیاز فتح پوری [م:۱۹۶۶ء] کو تمام تر ملحدانہ نظریات کے باوجود مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملّیہ دلّی میں ہیرو سمجھا جاتا رہا۔ انھی حالات کے بارے میں علامہ محمد اقبال [م: ۱۹۳۸ء]نے بہت بنیادی بات کہی تھی کہ:

تھا جو ’ناخوب‘ بہ تدریج وہی ’خوب‘ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اس پس منظر میں تحریک اسلامی نے دنیا بھر میں ایک واضح فکر کے ساتھ کام شروع کیا۔ اس کا بنیادی کام دو پہلوئوں پر محیط ہے، اور دونوں نہ صرف برابر کی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ان کا اپنا اپنا مستقل کردار ہے اور ایک دوسرے سے مربوط ہیں: پہلا یہ کہ فکر کی تشکیل نو اور نظریاتی انقلاب، اور دوسرا قیادت کا انقلاب اور اجتماعی تبدیلی___ یاد رہے بیسویں صدی کی اسلامی تحریکوں کو  انیسویں اور بیسویں صدی کے دین اور سیاست میں عملی تفریق کے باب میں ایک بڑے فکری چیلنج کا سامنا تھا۔ انھیں باطل نظریات کے طلسم کو توڑنا تھا، تاکہ لوگوں کو اسلام کی حقانیت اور اسلام کے قابلِ عمل ہونے کا یقین حاصل ہو۔ دوسری جانب ان کو یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ مسلم معاشروں کی اعلیٰ قیادت، جس میں دانش ور، محقق، ادیب، اساتذہ اور اہل حل و عقد شامل ہیں، انھیں مخاطب کیا جائے۔

لیکن، شاید اسلامی تحریکی قیادتیں اس امر کا بروقت اور درست اندازہ نہ لگاسکیں کہ ان کے اپنے ملکوں کی مقتدر قوتوں اور عوام کے درمیان تعلقاتِ کار تبدیل ہوچکے ہیں اور انھیں ایک تبدیل شدہ صورتِ حال میں دعوت، تنظیم اور کش مکش کا سامنا ہے۔ جتنا بھرپور چیلنج درپیش تھا، اس جان جوکھم جدوجہد، ایثار اور قربانی پر اسلامی تحریکوں کو کریڈٹ جاتا ہے کہ جو کام انھوں نے کیا وہ بڑا بنیادی اور غیرمعمولی نوعیت کا کام تھا۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ تمام مدِمقابل قوتوں کا مقابلہ کرنے اور قائل کرنے کے لیے، ہم سخن اور ہم مقصد لوگوں یا گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کمزوری کا شکار ہیں؟ کیوں کہ انجامِ کار ایک ہمہ گیر اجتماعی تبدیلی واقع نہیں ہوسکی۔

یہ مثال اپنی جگہ غوروفکر کی دعوت دیتی ہے کہ اگر حضرت ابوذر غفاریؓ اسلام قبول کرتے ہیں تو پورا قبیلہ ان کے ساتھ آجاتا ہے۔ اگر طائف کے سردار اسلام قبول کرلیتے ہیں تو پورا طائف، محسن عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کرلیتا ہے۔ لیکن دوسری طرف تحریک پاکستان کے دوران مولانا شبیراحمد عثمانیؒ [م: ۱۳دسمبر ۱۹۴۹ء] تو بلاشبہہ کُل ہند مسلم لیگ کے ساتھ آجاتے ہیں، مگر جمعیت العلمائے ہند کی اکثریت ساتھ نہیں آتی۔ اس اعتبار سے اسلامی تحریکات کی سیاسی و سماجی قیادت اور فکری قیادت___ ان دونوں پہلوئوں سے آگے بڑھنے میں فیصلہ کن حد تک کامیاب نہیں رہیں اور وہ عوامی جذب و انجذاب (transformation) کا درجہ حاصل نہیں کرسکیں۔ لیکن یہ روح فرسا حادثہ بھی ہوا ہے کہ الجزائر اور مصر میں پاپولر ووٹ اور رائے عامہ کی فیصلہ کن حمایت حاصل کرنے کے باوجود، ان ممالک کی افواج نے نہایت سفاکی سے ان کا راستہ روک دیا۔

یہی ہے وہ دوراہا کہ ایک طرف ہمارے عوام دل سے اسلام چاہتے ہیں، لیکن نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اسلام کیا ہے؟ اور نہ اخلاقی طور پر اس بات کے لیے تیار ہوسکے ہیں کہ اسلام جو مطالبات ان سے کرتا ہے اور جو تبدیلیاں وہ چاہتا ہے، انھیں یہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں جاری وساری کریں___ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا اصل بحران یہ ہے کہ بلاشبہہ آج کا مسلمان، اسلام کے لیے جان اور مال کی قربانی دینے کے لیے تو تیارہے، لیکن وہ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیارنہیں۔ وہ سود کھانے سے تو نہیں شرماتے، مگر سور کھانے سے نفرت ضرور کرتے ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے لیے یہ ایک بڑا عظیم چیلنج اور گمبھیر سوال ضرور ہے،جس کا جواب مختلف ممالک اور مختلف معاشروں میں مختلف استدلال کی گنجایش رکھتا ہے۔

مولانا مودودی نے تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان اُمور کو واضح کیا ہے کہ اسلامی تحریکات کو کن دائروں میں، کس ترتیب سے اور کس لگن سے کام کرنا ہے۔پھر یہ بھی بتایا ہے کہ اس جدوجہد کے دوران کون کون سے اُمور ایسے ہیں، جن میں ترتیب اور ترجیح کا اَدل بدل ہوسکتا ہے، اور کون سے اُمور ایسے ہیں کہ جن میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔اس ضمن میں کام کے دوران وقتی صورتِ حال کے تحت بسااوقات کسی پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دینا پڑسکتا ہے، مگر اُس کے باوجود شعوری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہمیں توازن کی طرف پلٹنا ہے، کسی ایک ’جزو‘ کو کُل نہیں بنانا۔(پروفیسر خورشید احمد)


کیا اسلامی تحریکیں، عوام کا رُخ نہیں پھیرسکیں؟

سوال : اسلامی تحریکات، عوام تو ایک طرف ، بلکہ خود خواص کے دلوں کو بھی اس انقلابی دعوت کی طرف نہیں پھیر سکیں۔ کیا ان تحریکوں کی حکمت عملی میں کوئی خامی رہ گئی ہے؟

جواب :گذشتہ جواب میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس وقت ہماری سوسائٹی کا جو پاور اسٹرکچر ہے، اس کو نہ تو اسلام کے حقیقی تصور اور تقاضوں پر عمل درآمد کے لیے قائل کیا جاسکا ہے اور نہ اسے اپنی جگہ سے پوری طرح ہلایا جاسکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کی تعمیرکردہ آہنی رکاوٹ کو پوری طرح عبور بھی نہیں کیاجاسکا۔ چنانچہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم نے چاہا کہ انتخابی عمل سے ایک ایسی حیثیت اختیار کرلیں، جس میں ہم لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکیں۔ لیکن محسوس ہوا کہ اسلامی قوتوں کا (اسلامی تحریکوں کا نہیں) تقسیم در تقسیم ہونا بلکہ متحارب ہونا، اس راہ کی ایک بہت بڑی رکاوٹ بنتا چلا آرہا ہے۔

ہم ان تلخ حقائق سے سیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسلامی تحریک کو یہ جمود توڑنے کے لیے تنظیم کے اندر مضبوطی لاتے ہوئے مستقبل میں زیادہ Populist (مقبول عام) پالیسی اختیار کرنا ہوگی، عوام کو متحرک اور بیدار کرنا ہوگا۔ ایسی بھرپور کاوش ہی سے پاور اسٹرکچر کو تبدیل کرنے کا عمل تیز ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس جدوجہد کے ابتدائی مرحلے میں عوامی سطح پر متوقع ابلاغ نہ ہوسکے، لیکن اگر ہدف واضح رہے اور تنظیم میں مضبوطی، احتساب اور ڈسپلن رہے اور تحریکِ اسلامی کی قیادتیں نعروں کے آہنگ سے بلند ہوکر دین پر عمل میں پختگی، علم و فکر میں گہرائی، ایمان میں راستی، مشاہدے میں وسعت اور کشادہ روی کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں، تو پھر مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں ان شاء اللہ ضرور تبدیلی آئے گی۔محض مقبول نعروں اور نری تشہیر سے کبھی پایدار بنیادیں فراہم نہیں ہوسکتیں۔(پروفیسر خورشید احمد)


اسلامی تحریکوں کی جدوجہد میں توجہ طلب کام

سوال : قومی اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی تحریکوں کی جدوجہد میں بنیادی کمی کس چیز کی دکھائی دیتی ہے؟

جواب: بے لوث، مخلص اور دین و ملّت کا درد رکھنے والے نہایت قیمتی افراد کا ساتھ ہونے کے باوجود، اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر علمی و فکری بنیاد میں کمی ہوگی اور سماجی شعور میں ضعف موجود ہوگا اور ریاستی پاوراسٹرکچر کی قوت و حکمت کار اور پھیلائو کی جہتوں کے بارے ادھورا فہم در آئے گا، تو یہ پہلو تحریک اسلامی کی کارکردگی اور مستقبل پر نہایت منفی اثر ڈالیں گے۔

علمی وفکری پہلو سے جہاں جدید سماجی علوم اور تازہ ترین معلومات سے کماحقہٗ واقفیت رکھنا قیادت کا وصف ہونا چاہیے، وہیں دینِ اسلام کا بنیادی علم، اسلامی تہذیب کی بنیادوں کا فہم اور اُن کی موجودہ کیفیت کو پرکھنے کا ذوق اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں تقویٰ راسخ ہونا چاہیے۔ ان میں کمی واقع ہو تو اُن کی فکر ہونی چاہیے اور مواقع پیدا کرنے کی تڑپ ہونی چاہیے۔

دوسرے یہ کہ معاشرے کے مزاج، مقامی کلچر پر نظر، سماجی تضادات کو دیکھنے اور ’عرف‘ یعنی وہاں کے رسم و رواج کی حقیقت جاننے کا فہم ہونا چاہیے۔ دلوں پر دستک دینے کے لیے ان معلومات تک رسائی ایک ضروری چیز ہے۔

تیسرے یہ کہ پاور اسٹرکچر کی قوت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہونا چاہیے۔ پاور اسٹرکچر میں: قبیلہ، برادری، جاگیردارانہ سماج، سرمایہ دارانہ گرفت، فوجی قیادتوں کا ذوقِ حکومت، میڈیا کی قوت اور بروئے کار پارٹیوں کے طریق کار، ڈسپلن وغیرہ کو جاننا چاہیے۔

ان پہلوئوں کا ادراک جہاں پہلی اور دوسری سطح کی قیادتوں میں ہو، وہیں ان معاملات پر غوروفکر کارکنان کی مجالس میں بھی ہونا چاہیے، کیونکہ قیادت، کارکنان ہی سے پروان چڑھتی ہے، اور کارکنان ہی معاشرے کے اندر تبدیلی کا پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔(س م خ )

جب آسمان پھٹ جائےگا، قاری محمد اشرف ہاشمی، مرتب: امجد عباسی۔ ناشر:شرکۃ الامتیاز، رحمٰن مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔فون: ۲۳۴۴۸۲۶-۰۳۲۲۔ صفحات:۱۲۷۔ قیمت:۲۶۰ روپے۔

فاضل مصنف، عالمِ دین، خطیب، مدرّس اور مربی تھے۔ اسّی کے عشرے میں وہ لاہور کے مختلف مکاتب ِ فکر کے حلقوں میں درس قرآن کے لیے بلائے جاتے تھے اور بعض اوقات تبلیغی دوروں پر بیرونِ لاہور جایا کرتے تھے۔ ۱۹۸۳ء میں انھیں ہا نگ کانگ سے دعوت نامہ آیا۔ ۱۹؍اگست کو گھر سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے انھیں اغوا کرلیا ___ اور آج تک اُن کا پتا نہیں چل سکا۔

جناب امجد عباسی نے ان کی ریکارڈ شدہ چھے تقاریر کو اس کتاب میں مرتب کیا ہے۔ موضوعات عمومی نوعیت کے ہیں (حقیقت ِ انسان، نماز،اسوئہ دعوت، آخرت، نجات کی راہ) مگر قاری صاحب کا انداز و اسلوب بہت مؤثر کن ہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ علومِ اسلامیہ کا استحضار قابلِ رشک تھا، جن کے حسب ِ موقع حوالے دیتے ہیں۔ ان کی دھیمی پکار، قاری کے درِ دل پر دستک دیتی اور اُسے قائل کرتی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


اسلام کا سفیر [قائداعظم محمدعلی جناح]، مرتبہ: محمد متین خالد۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فوبن: ۳۷۴۴۳۵۸۴-۰۴۲۔ صفحات: ۸۸۸۔ قیمت: ۲۰۰۰ روپے

بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت نے برطانوی مقبوضہ ہند میں مسلمانوں کی رہنمائی کی، اور اخلاص اور بےپناہ محنت سےدو قومی نظریے کو پاکستان کی شکل دی۔

تحریک ِ پاکستان کے دوران مغرب زدہ اور انگریزوں کے مراعات یافتہ طبقے تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ لیکن جب ۱۹۴۶ء میں قیامِ پاکستان کے امکانات روشن ہوئے تو اس طبقے کے بہت سے افراد نے بڑی تیزی سے مسلم لیگ میں شرکت کا راستہ اپنایا۔ جب پاکستان بن گیا تو اسی طبقے کے پروردہ عناصر نے پاکستان میں لادینیت،اباحیت پسندی اور صوبائی نسل پرستی کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ اس فکر کی نفی کے لیے جب دینی اور مخلص قومی قائدین نے خبردار کیا کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد، قائداعظم نے اسلامی تہذیب اور اسلامی تشخص کے وعدے کے ساتھ کی تھی، تو مذکورہ شرانگیز عناصر نے یہ کہنا شروع کر دیا: ’’محمدعلی جناح کا اسلام سے کیا لینا دینا، وہ تو ایک مغرب زدہ، آزاد خیال اورسیکولر انسان تھے‘‘۔

حقیقت سے ٹکراتے اس طرزِ فکر اور پروپیگنڈے کی نفی کے لیے وقتاً فوقتاً جو معرکہ آرا مضامین شائع ہوتے رہے،اور جن میں قائداعظم کی دینی غیرت و حمیت، اور پاکستان کے اسلامی وژن کو مدلل انداز میں پیش کیا جاتا رہا، زیرنظر کتاب انھی مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک قیمتی دستاویز ہے۔ اس مقصد کے لیے جناب محمد متین خالد نے بڑی محنت سے یہ نثرپارے اور دردِ دل سے لکھے مضامین ایک جگہ پیش کردیے ہیں۔ مقصدیت کے اعتبار سے یہ ایک بہت قیمتی دستاویز ہے، جو اساتذہ، صحافیوں، سیاست دانوں اور علما کو زیرمطالعہ لانی چاہیے۔(س م خ)


مکاتیب ِہم نفساں، مرتب: ڈاکٹر ارشاد محمود صابر۔ ناشر: مکتبہ سرمد، اٹک۔ ملنے کے پتے: کتب خانہ مقبولِ عام، اُردو بازار، اٹک۔ اظہار سنز، ۱۹-اُردو بازار، لاہور۔ صفحات:۴۰۰ روپے۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔

غلام محمد نذر صابری پیشے کے اعتبار سے ایک کتاب دار (لائبریرین) تھے، مگر اپنی خداداد صلاحیتوں کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کے ادیب، تحقیق کار، مدوّن، شاعر اور مخطوطہ شناس تھے۔ زیرنظر کتاب اُن کے نام ۳۶ ممتاز اہلِ قلم کے ۱۷۳ منتخب خطوط کا مجموعہ ہے، جنھیں ڈاکٹر ناشاد صاحب نے بڑی محبت اور محنت سے مکتوب الیہوں کے تعارف اور متونِ خطوط پر حواشی و تعلیقات کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ مکتوب نگاروں میں ڈاکٹر سیّدعبداللہ، ڈاکٹر جمیل جالبی، غلام جیلانی برق، حکیم محمد سعید، ڈاکٹر محموداحمد غازی، وحید قریشی وغیرہ شامل ہیں۔

خطوط کے موضوعات متنوع ہیں۔ علمی مسائل پر اور کتابوں کے بارے میں استفسارات، تبصرے اور راہ نمائی___ صابری صاحب کی لیاقت اور قابلیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلسفے کے مسائل اور نظریۂ اضافیت اور زمان و مکان جیسے اَدق موضوعات پر بھی وہ مکتوب الیہوں کو راہ نمائی دیتے ہیں۔

ناشاد صاحب نے مجموعہ، بڑی دیدہ ریزی سے مرتب کیا ہے۔ تدوینِ مکاتیب کے لیے اسے ایک نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)

پروفیسر نیاز عرفان ، اسلام آباد

عالمی ترجمان القرآن (مئی ۲۰۲۱ء)کا شمارہ ایک سے بڑھ کر ایک،اعلیٰ پائے کی معلوماتی، علمی اور تحقیقاتی تخلیقات سے مزین ہے۔ بالخصوص پاکستانیات/ تعلیم وتعلّم کے حصے میں شامل دو مضامین پہلا ڈاکٹرحسین احمد پراچہ صاحب اور دوسرا پروفیسر شہزاد اقبال شام صاحب کا تحریر کردہ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ افغان مذاکرات کے بارے سیّدافتخار گیلانی صاحب کامضمون بھی چشم کشا ہے۔

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ صاحب کا مضمون مختصر ہونے کے باوجود مسکت و عالمانہ دلائل لیےہوئے ہے۔ اُنھوں نے بجاطور پر پاکستان کی ’مذہبی اقلیتوں کے کچھ نمایندوں‘ کی طرف سے عدالت ِ عظمیٰ میں رٹ دائر کرنے اور ہم نوائی پر گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ دراصل مٹھی بھر مراعات یافتہ اقلیت کا ہے، جو اپنے بچوں کو قومی نصاب نہیں بلکہ غیرملکی نصاب پڑھانا چاہتی ہے تاکہ گذشتہ عشروں کی طرح ان کے بچوں کی امتیازی شان اور پہچان الگ رہے۔ پراچہ صاحب نے غیرمسلم شعرا اور سپریم کورٹ کے غیرمسلم جج کی مثالیں دے کر یکساں قومی نصاب کے مخالفین کے موقف کی غیرمعقولیت کوآشکارا کیا ہے۔

پروفیسر شہزاد اقبال شام صاحب نے اپنے مضمون بعنوان: ’سپریم کورٹ کے ذریعے مسلم کشی‘ میںواحد قومی نصاب کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی طرف سے اَزخود نوٹس اور فیصلے پر جامع، مدلل اور پُرجوش گرفت کی ہے۔ تاہم، اگر وہ اپنے مضمون میں تندوتیز لہجے اور طعن و تشنیع کی جھلک سے اجتناب کرتے تو یہ زیادہ نتیجہ خیز اور پُراثر ہوتا۔ کیونکہ وزنی دلیل خود اپنے آپ کو منواتی ہے۔ بہرحال، پروفیسر شام صاحب نے اپنے مضمون کو جس محنت سےتیار کیاہے وہ قابلِ تحسین ہے۔


نزابت افشاں ، مہورہ (ضلع اٹک)

مئی کا شمارہ ہاتھ میں آتے ہی دل سے آپ کے لیے دُعا نکلی۔ تمام تحریریں قابلِ داد و تحسین ہیں۔ خصوصاً’سپریم کورٹ کے ذریعے مسلم کشی‘(شہزاد اقبال)،’اسلام صرف اسلامیات کے نصاب میں‘ (انصارعباسی) اور ’قومی نصاب پر سیکولر حملہ اور سپریم کورٹ‘ (حسین احمد پراچہ)یہ، مضامین آگاہ کرتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچا جن ہاتھوں میں ہے، وہ نہ اسلام دوست ہیں اور نہ پاکستان دوست۔ میرا تعلق بھی  شعبۂ درس و تدریس سے ہے۔ اس سال پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور نے ساتویں جماعت کی ’تاریخ‘ کی کتاب میں جو گُل کھلائے ہیں، وہ دیکھ کر انسان ’انگشت بہ دنداں‘  رہ جاتا ہے۔ تقسیم بنگال ۱۹۳۵ء میں بتائی گئی اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کی تاریخ وفات ۱۸۵۸ء بیان کی گئی ہے۔  میں نے اس حوالے سے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو کئی خطوط بھی لکھے مگر ابھی تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ’افغان مذاکرات کے اَدوار، المیوں کی تکرار‘ افتخار گیلانی صاحب نے حقائق پر مبنی مضمون لکھا ہے۔ موجودہ بے مقصدیت، سیکولریت اور فحش نگاری کے زمانے میں ترجمان کا دم غنیمت ہے کہ اتنی اچھی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔


تحسین کوثر ، گجرات

مولانا مودودی کے ’اشارات‘ ایک اعلیٰ درجے کی زندہ تحریر ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ خصوصاً کارکنان اسلامی تحریکوں کو عبادت کا یہ مفہوم سمجھا دے۔ مئی کے شمارے میں تعلیم سے متعلق تمام مضامین مسئلے کی وضاحت میں بہت کامیاب رہے۔ دُنیااخبار میں ایازمیرکی جانب سے شعیب سڈل صاحب کی تعلیمی سفارشات کی حمایت بھی سمجھ میں آئی۔ واللہ! مسند انصاف پر بیٹھے جج حضرات نے بھی بہت سرسری انداز سے مسئلے کو لیا اور پھر اُلجھا دیا۔ اللہ کرے وزیراعظم اس معاملے میں کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہ دیں اور قومی و ملّی شعور رکھنے والے ماہرین تعلیم بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے وزارتِ تعلیم کی رہنمائی کریں۔ سرورق سادہ اور باوقار ہے۔


راجا محمد عاصم ، موہری شریف، کھاریاں

’گیارہ مئی ۱۹۵۳‘ کے حوالے سے بزرگانِ جماعت اسلامی کی یادداشتوں پر مبنی تحریر میں جماعت کے بزرگ رہنما خاص طور پر بانی جماعت اسلامی سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی استقامت اور بلند حوصلے کو پیش کیا گیا اور جماعت کے اٹل موقف کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ذریعے پاکستان جیسے ایک اسلامی ملک کے نصاب تعلیم پر غیرمسلموں کے حملے اور طاغوتی طاقتوں کو خوش کرنے کے چکّر میں جو مجرمانہ تبدیلیاں کی جارہی ہیں، ان کو قوم کے سامنے بڑے مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ہماری اعلیٰ عدالت کے جج صاحبان نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر فیصلہ سنایا اور قوم پر ظلم کیا ہے، جس کا مداوا ہونا چاہیے۔


خواجہ منظورالحسن ، کراچی

اپریل ۲۰۲۱ء کے ترجمان القرآن میں ’قرآن کی تصویر ،قرآن کی زبانی‘ آخری عشرہ کی طاق رات میں مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت ہی خوب، لیکن ص ۱۷ پر چار مرتبہھدیٰ لکھا ہوا ہے۔ پھر ص۳۱ پر بھی   ایک مرتبہ قرآنِ مجید کا توقیفی رسم الخط ھُدًی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پڑھنے والا وقف کرکے ھُدٰی پڑھے۔ لیکن ھُدٰی ہی لکھنا بالکل غلط ہے۔ یہ رفعی، نصبی اور جری تینوں حالتوں میں ھُدًی ہی ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مترجمین نے ظن کے معنی ’خیال، گمان، شک‘ کے کیے ہیں، لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ پورے قرآن مجید میں ظنّ یقین ہی کے معنی میں آیا ہے۔ ص۲۸ پر صحیح توقیفی اسم وَتَرٰىہُمْ  (الاعراف۷:۱۹۸) ہے۔

دنیاکی زندگی، سطح بیں انسانوں کو مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرتی ہے:

  • کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے، بس اسی دنیا میں ہے۔ اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، لہٰذا جتنا کچھ بھی تمھیں کرنا ہے، بس یہیں کرلو۔
  • کوئی اپنی دولت اور طاقت اور خوش حالی کے نشے میں بدمست ہوکر اپنی موت کو بھول جاتا ہے، اور اس خیالِ خام میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ ’اُس کا عیش اور اس کا اقتدار لازوال ہے‘۔
  • کوئی اخلاقی و روحانی مقاصد کو فراموش کرکے صرف مادّی فوائد اور لذتوں کو مقصود بالذات سمجھ لیتا ہے اور ’معیارِ زندگی‘ کی بلندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، خواہ نتیجے میں اس کا معیارِ آدمیت کتنا ہی پست ہوتا چلا جائے۔
  • کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ ’دُنیوی خوش حالی ہی حق و باطل کا اصل معیار ہے۔ ہر وہ طریقہ حق ہے، جس پر چل کر یہ نتیجہ حاصل ہو، اور اس کے برعکس جو کچھ بھی ہے، باطل ہے‘۔
  • کوئی اسی خوش حالی کو مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور یہ قاعدئہ کلیہ بناکر بیٹھ جاتا ہے کہ ’جس کی دُنیا خوب بن رہی ہے___ خواہ کیسے ہی طریقوں سے بنے، وہ خدا کا محبوب ہے___ اور جس کی دُنیا خراب ہے، چاہے وہ حق پسندی و راست بازی ہی کی بدولت خراب ہو، اس کی عاقبت بھی خراب ہے‘۔

یہ اور ایسی ہی جتنی غلط فہمیاں بھی ہیں، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے آیت [فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا’پس، یہ دنیا کی زندگی تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے‘، سورئہ لقمان۳۱:۳۳] میں ’دُنیوی زندگی کے دھوکے‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ (’تفہیم القرآن‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۶، عدد۳، جون ۱۹۶۱ء، ص۱۲-۱۳)

تہذیب اور ثقافت کی روایتی تعریف پر غور کیا جائے تو چاہے ثقافت سے مراد کسی اجتماعیت میں پائی جانے والی اقدارِ حیات ہوں یا ان کا تصور مذہب، قانون، معیشت، سیاست، فنون اور ادب یا وہ قابلِ محسوس ورثہ جو فنِ تعمیر میں، شعروادب میں، رسوم و رواج اور مذہبی عبادات، تہواروں اور نامور ان کی عزت واحترام کی شکل میں پایا جاتا ہو، ہم جس زاویے سے بھی ثقافت یا تہذیب کی تعریف اپنے ذہن میں کریں، ایک مشترک قدر بہرصورت نظر آتی ہے اور وہ ہے ’تہذیبی یا ثقافتی تشخص‘ identity یا پہچان۔

یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص نے ماتھے پر زعفرانی رنگ کی لکیریں بنائی ہوں اور عین ماتھے کے وسط میں ایک بندیا لگاکر اور گلے میں گیارہ رنگین دھاگے لٹکاکر وہ اپنے بارے میں امام مسجد یا کسی مدرسے کے شیخ الحدیث ہونے کا دعویٰ کرے۔ ایسے ہی اگر ایک شخص حالت ِ سفر میں ہو اور کسی ریستوران میں جاکر کھانا طلب کرے اور اسے معلوم ہو کہ فرانس یا جرمنی یا امریکا کے اُس ریستوران میں ’حلال و حرام کی تمیز نہیں کی جاتی اور بھوک پر قابو کرتے ہوئے دودھ یا سوکھی روٹی پر گزارا کرلے تواس کا یہ عمل اس کی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا پتا دے گا۔ اپنی اس ثقافتی اور تہذیبی شناخت کا اہتمام اور اس پر فخر بعض اوقات ایک مضحکہ خیز طرزِعمل کی شکل اختیار کرلیتا ہے لیکن اپنی تمام مضحکہ خیزی کے باوجود اپنے اندر ایک گہرا پیغام رکھتا ہے۔ بعض اوقات اس تشخص کا جزوی اہتمام انسان کے اندر حق و باطل کی کش مکش کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ اس کے باوجود انسان کا ضمیر اگر زندہ ہو تو وہ ایک غلطی کو غلطی ہی سمجھتا ہے۔

اُردو ادب کا ہرطالب علم یہ جانتا ہے کہ گیسوے اُردو کو سنوارنے والوں میں مرزا اسد اللہ غالب وہی مقام رکھتے ہیں جو معنوی ادب کی تعمیر میں اقبال کا ہے لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کے دوران جب ثقافتی اور تہذیبی تشخص کے حوالے سے مرزا کو ایک انگریز کرنل کے سامنے مسلمان ہونے کے جرم میں پیش کیا گیا اوراس نے پوچھا کہ ’ویل کیا ٹم مسلمان ہے؟‘ تو مرزا کا جواب انتہائی معنی خیز تھا۔ انھوں نے کہا: جناب میں ۵۰ فی صد مسلمان ہوں۔ انگریز نے تعجب سے دوبارہ استفسار کیا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ شراب ضرور پیتا ہوں لیکن خنزیر کبھی نہیں کھاتا۔ یہاں پر مرزا نے اپنی شناخت اعترافِ گناہ کے ساتھ جس بلیغ انداز میں کی وہ ان کی اپنی ذات کے بارے میں تصور کو واشگاف الفاظ میں ظاہر کرتا ہے، یعنی وہ بنیادی طور پر تو اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور ثواب طاعت و زُہد سے آگاہ ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں لیکن طبیعت سے مجبور ہوکر بعض اوقات بھٹک بھی جاتے ہیں۔ ایسے ہی مرزا کی چار گوشے والی ٹوپی، ان کا خرقہ، ان کی شکل صورت،    ان کے ہرہرشعر میں جنت اور جہنم کا حوالہ، ان کی شخصیت کے سیاق و سباق ان کے تشخص کو کھول کر بیان کردیتا ہے۔

اس تاریخی جملۂ معترضہ سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ تہذیبی تشخص کا تعلق اُس تصورِحیات اور بعد الممات سے ہوتا ہے جو ایک فرد اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ جب پوچھا جائے کہ   تم کون ہو؟ تو اس کا جواب یہ نہیں ہوتا کہ میں کس علاقے، کس زبان، یا کس ذات پات اور نسل سے تعلق رکھتا ہوں بلکہ اس کا جواب تہذیبی اور ثقافتی تشخص، اقدارِ حیات پر مبنی خودبینی اور اجتماعی وابستگی کوظاہر کرتا ہے۔

شکست خوردہ اور محکوم ذہنیت کا ایک بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیرمحسوس طور پر جس فضا اور ماحول میں پلتی بڑھتی اور ترقی کرتی ہے، اس فضا کی اتنی عادی ہوچکی ہوتی ہے کہ اسے اپنی محکومیت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ گرمیوں کے موسم میں ہرشخص کو پسینہ آتا ہے لیکن عموماً ایسے افراد جن کے پسینے میں تیزابیت اور بو ہوتی ہے انھیں خود اپنی اس کمزوری کا احساس نہیں ہوتا، جب کہ ان کے دائیں اور بائیں نماز کی صف میں کھڑے ہونے والے نمازی اس  بُو سے پریشان رہتے ہیں۔ اسی بنا پر ہمارے دین نے ہمیں نظافت اور طہارت کا حکم دیا ہے اور سیرتِ پاکؐ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ  نمازی نماز کو جانے سے قبل لہسن نہ کھائے اور ایک محنت کش اپنے بازوئوں سے پسینہ صاف کر کے صف میں شامل ہو۔ شارع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعا ہر صاحب ِ ایمان میں یہ احساس بیدار کرنا تھا کہ وہ خود احتسابی کرتے ہوئے اپنے عقیدے اور نظریۂ حیات کا جائزہ لے یہاں تک کہ انتہائی معمولی باتوں میں بھی اپنا جائزہ لیتا رہے۔

اس کے مقابلے میں ایک شکست خوردہ ذہنیت کو اپنے سامراجی نظام کی فکر، زاویۂ تحقیق اور تعلیم سے گہری وابستگی کی بناپر وہ اچھائی جو سامراجی تعلیم و ثقافت کی پہچان ہے، غیرمحسوس طور پر درست، اور ہر وہ  بُرائی جو سامراجی تہذیبی و ثقافتی روایت میں بُری سمجھی جاتی ہے، اپنے خیال میں بُرائی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے بڑی واضح مثال ان مفکرین کی ہوگی جو سامراجی فکر اور سامراجی پیمانۂ معروف ومنکر پر غیرمحسوس طور پر ایمان رکھنے کی بنا پر مغرب کے رواج کو مثالی انسانی طرزِعمل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اگر مغرب میں صرف ایک شادی قانونی طور پر درست سمجھی جاتی ہے یا قاتل کو سزاے موت دینا ایک غیرمہذب فعل سمجھا جاتا ہے یا تہذیب کی معراج یہ سمجھی جاتی ہے کہ انفرادی آزادی کے نام پر مردوں اور عورتوں کوتن کی عریانی کا غیرمحدود حق دے دیا جائے تو یہ مفکرین اور دانش ور مسلم معاشروں میں ایسی ہی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔

معاشرے میں پایا جانے والا ظلم و استحصال انھیں مضطرب نہیں کرتا۔ اگر انھوں نے انگریز کے دیے ہوئے تعلیمی نظام میں تربیت پائی ہوتی ہے تو وہ اسی نظامِ تعلیم کو حق اور درست سمجھتے ہیں اور اس میں کسی معمولی سی اصلاح کو انحراف قرار دیتے ہیں۔ الجیریا کے معروف مفکر مالک بن نبی مرحوم نے اس ذہن کے بارے میں بہت صحیح کہا تھا کہ سامراجیت سے زیادہ سامراج زدہ ذہن خطرناک ہوتا ہے کیوںکہ و ہ سامراجی طاقت کی طرح کھلا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ سامراجیت کے زہر سے آلودہ ہوکر بظاہر ایک نوآزاد مملکت کا مقامی سربراہ ہوتا ہے لیکن اپنی فکر اور عمل میں وہ سامراجی طاقت سے زیادہ سامراجیت کا وفادار ہوتا ہے۔

اس شکست خوردہ ذہنیت سے اپنے آپ کو آزاد کرتے ہوئے تہذیبی اور ثقافتی تشخص پر کم از کم چار زاویوں سے غور کیا جاسکتا ہے:

۱- عمرانی اور سماجیاتی زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کی بنیاد وہ مقامی بودوباش کی روایت ہوتی ہے جو کسی قبیلے یا قوم نے کسی خطے میں اختیار کی ہو اور عرصۂ دراز تک اس پر عمل کرنے کے سبب وہ ان کی عادت اور عرف بن گیا ہو۔ اسی بنا پر ہندستان کی تہذیب کو ہندووانہ رسوم و رواج، عبادات اور ناچ گانوں، طبقاتی تقسیم اور رنگ (وارنا)کی بنیاد پر تفریق اور طبقاتی تقسیم والی تہذیب قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تہذیب برصغیر میں محدود رہی اور اگر کسی نے اس کے زمینی تقدس کو پامال کرنا چاہا تو اسے مذہب بدر کر دیا گیا، حتیٰ کہ گاندھی نے بھی جب ہندستان کو چھوڑ کر برطانیہ اور جنوبی افریقہ کا رُخ کیا تو اس مذہبی خلاف ورزی پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں اسی فرد کو اس کی مسلمان دشمن سیاسی حکمت عملی اور نام نہاد پُرامن احتجاج کے تصور کی بنا پر ’مہاتما‘ کے اعلیٰ روحانی مقام پر فائز ہونے کا اعزاز دیا گیا۔

زرتشت کے زیراثر پرورش پانے والی تہذیب و ثقافت چونکہ صرف ایران میں مقید و محدود رہی، اس لیے اس کی بنیاد بھی وہ زمینی روایات ہیں جو اس خطے میں پائی جاتی تھیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے ہم اس طریق تحقیق کو اس کے بنیادی نقص، یعنی دائرۂ تحقیق کو ایک مخصوص خطے تک محدود کردینے کی بناپر استعمال نہیں کرسکے۔ گو بہت سے غیرمسلم اور ان سے متاثر بعض مسلمان اسلامی ثقافت و تہذیب کو عربی ثقافت و تہذیب قرار دینے کی صریح غلطی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔

۲- سامراجی ثقافت و تہذیب کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بعض اقوام نے اپنے زیرتسلط محکوم اقوام کو اپنے دورِ اقتدار میں تعلیم، معاشی، سیاسی اور قانونی تبدیلیوں کے ذریعے سامراجی فکر کا تابع بنانے اور ان کی اپنی تہذیب و ثقافت سے ان کے تعلق کو منقطع کرنے کے لیے ان کی زبان و ادب، ان کی معاشرت اور کاروبارِ حیات میں ان پر بندشیں لگاکر انھیں فکری اور عملی طور پر اپنا مکمل محکوم بنایا۔ بہترین مثال برطانوی سامراج کی ہے جس نے ۱۰۰سال سے اُوپر برعظیم کے مسلمانوں پر اپنی تعلیمی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حکمت عملی کے ذریعے ان کے ماضی سے تعلق کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے ساتھ ان کی ذہنیت کو یورپی بلکہ انگریزی فکرومزاج سے اتنا ہم آہنگ کردیا کہ اگر آج ایک دانش ور انگریز ادیبوں، فلسفیوں، ماہرین عمرانی علوم کے حوالے دے کر   اپنی قومی زبان میں کوئی مقالہ لکھتا ہے تواس کی تمام تحقیق اور محنت کو صحافیانہ تحریر قرار دے کر ایک طرف کردیا جاتا ہے۔

انگریز سامراج کی یہ ذہنیت اسے اپنی زبان میں سوچنے اور اس میں اظہارِ خیال کرنے کی صلاحیت سے آہستہ آہستہ محروم کردیتی ہے او روہ ان اصطلاحات کے استعمال کے بغیر جن کا منبع اور روحانی رشتہ یورپی اور انگریزی ثقافت سے ہے اپنی بات بیان نہیں کرسکتا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جو قوم اپنی زبان میں سوچ نہ سکتی ہو اور اپنی زبان میں اظہارِ مدعا نہ کرسکتی ہو اس پر ترقی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ حقیقت بین نگاہ سے یہ بات اوجھل نہیں ہوسکتی کہ کوریا ہو یا چین ان کی ترقی کا راز ان کی اپنی زبان میں تعلیم اور اپنی زبان و ثقافت پر فخر کا بنیادی دخل ہے۔ اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم غیرملکی زبانوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں محض قومی زبان نہیں بلکہ مزید پانچ یورپی زبانوں پر عبور ایک مستحسن اقدام ہے لیکن انگریز سامراجی ذہن سے ہرمسئلے پر غور کرنا اور جوتحقیق کی حکمت انھوں نے اپنے مسائل کے تجزیے اور حل کے لیے ایجاد کی ہو، اس کو ایک مختلف معاشرتی، ثقافتی، دینی ماحول کی تعبیر میں استعمال کرنا طریق تحقیق کی ایک بنیادی ناسمجھی ہی نہیں واضح غلطی ہے۔

مثال کے طور پر اگر یورپ زدہ سامراجی علمِ عمرانیات میں خاندان کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ایک شخص اور اس کی قانونی منکوحہ اور اس کے حد سے حد دو بچوں پر مبنی اولاد، تو غیرشعوری طور پر اگر ایک ایسے معاشرے کا مطالعہ کرنا ہو جس کے بنیادی تصورات میں کثیرالاولاد ہونا اچھائی کی علامت ہو، جہاں خاندان کا مطلب والدین، شوہر،بیوی، شوہر کے بھائی بہن، ان کے بچے اور  اس کے اپنے بچے ہوں___ تحقیقی تعصب سے اپنے آپ کو بچانا ناممکن ہوگا اور نتائجِ تحقیق کا لازمی طور پر رنگین عینک سے دیکھنے کی وجہ سے گمراہ کن ہونا یقینی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ زدگی کے شکار علومِ عمرانی کے ماہر، تاریخ دان ہوں یا سیاسی تجزیہ کار، جس تحقیقی حکمت عملی میں تربیت پاکر   اعلیٰ تعلیمی سندات حاصل کرتے ہیں اپنے آپ کو اُس فکری حلقے میں نہ تو قید تصور کرتے ہیں اور نہ اُس سے نکل کر زمینی حقائق پر غور کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔

اگر یورپ زدہ سماجیاتی تصور یہ ہے، اور جو تقریباً ۲۰۰ سال سے ہماری اپنی جامعات میں رائج ہے، کہ ثقافت اور تہذیب کی جڑیں مقامی رسوم و رواج میں ہوتی ہیں، تو پھرکسی کا مصر میں   اپنا تشخص تلاش کرنے کے لیے یہ کہنا کہ وہ فراعنہ کی اولاد سے ہے اور اس کی تہذیبی جڑیں مصری دیومالائوں میں پائی جاتی ہیں، بالکل فطری عمل ہے۔ یہی تصور قومیت کی بنیاد بنتا ہے اور ایک فرد جس خطے میں پیدا ہو، اس مغرب زدہ فکری زاویۂ نگاہ کی بناپر اپنا نسب اور تعلق زمین سے جوڑتا ہے۔ قدیم ہندو تصور جس میں ’دھرتی ماتا‘ کو مقدس قرار دیا گیا تھا، بظاہر ایسے تمام جغرافیائی قومیت کے تصورات کی بنیاد نظر آتا ہے۔ اس طریق تحقیق کے نتیجے میں جو شخص اپنے آپ کو فرانسیسی یا برطانوی کہتا ہے اس کی حقیقی وجہ اس کا جغرافیائی طور پر اس جگہ پر پیدا ہوجانا، یا اس کا فرانسیسی زبان میں گفتگو کرنا ، یا کسی  کا برطانوی انگریزی میں بات کرنا قرار پاتا ہے۔

اسی طرح عمرانیات میں جس چیز کونسل پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کی بنیاد بھی یورپ زدہ طریقِ تحقیق ہے جو رنگ، خون یا نسل کو تشخص قرار دیتا ہے۔ آج بھی فرانسیسی قومیت کا ایک اہم جز سفیدفام نسل سے تعلق اور فرانسیسی زبان میں گفتگو کرنا قرار دیا جاتا ہے۔ اس طریق تحقیق کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے بارے میں اس کی روشنی میں کوئی تاریخی یا عمرانی تحقیق کی جائے تو انھیں عرب یا ایرانی یا ترک یا نائیجیری اور انڈونیشی کی حیثیت سے زیرمطالعہ لایا جاتا ہے اور ان کے مقامی لباس، چہرہ مہرہ یارنگ کی بنیاد پر ان کا تشخص قرار دیتے ہوئے اسلام کو بھی انڈونیشی اسلام، ایرانی اسلام یا ترکی اسلام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس تحقیقی حکمت عملی کے استعمال کرنے والوں میں مشہور کینیڈین اسکالر اسمتھ جیسا سنجیدہ شخص بھی شامل ہے۔

اس بظاہر طویل نظری گفتگو کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ جب ہم اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں تو ہمارا اصل تشخص کیا قرار پاتا ہے اور کیا ہونا چاہیے اور کیا وہ جیسا ہونا چاہیے ویسا ہے؟

پہلی بات تو یہ اظہر من الشمس ہے کہ پاکستانیت کی بنیاد جغرافیائی خطہ نہیں ہوسکتا۔ کیوںکہ تقسیم ہند سے قبل جن خطّوں کو بعد میں یک جا کر کے پاکستان بنا وہ زبانی عصبیت کی جگہ جغرافیائی خصوصیت کی بنا پر اپنا ایک نام رکھتے تھے ، مثلاً پانچ دریائوں کی زمین کو پنج آب اور دریاے سندھ کی وادی کو سندھ اور ہندستان کی شمال مغربی سرحد کو سرحد کا نام دیا گیا تھا۔ بلوچستان کی بنیاد بھی زبان نہیں قبائلی نسبت تھی۔ ایسے ہی مشرقی اور مغربی بنگال کی بنیاد بھی زبان نہیں تھی کیوںکہ جو زبان مغربی بنگال میں مستعمل تھی وہ سنسکرت زدہ اور جو مشرقی بنگال میں (جو بعد میں مشرقی پاکستان کہلایا) استعمال ہوتی تھی وہ عربی،فارسی کے سرمایے سے بھرپور تھی۔۱؎ گویا پاکستانیت کی بنیاد جغرافیائی حدیں یا مقامی زبان، غذا یا وضع قطع نہیں ہوسکتی۔

دوسری بنیاد جس پہ مغرب زدہ علومِ عمرانیات قائم ہیں علاقائی اور قبائلی تعلق ہے۔ پاکستان کے تناظر میں مختلف خطوں اور قبائلی پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے قبائلی یا علاقائی تشخص قومی تشخص نہیں بن سکتا۔خود بانیِ پاکستان نے اس پہلو پر مختلف مواقع پر پُرزور الفاظ میں یہ بات کہی کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ آپ کی پہچان نہ بلوچیت ہے، نہ پنجابیت، نہ سندھیت، نہ سرحدیت، اب آپ ایک نئی اکائی اور وحدت میں شامل ہوگئے ہیں۔ آپ کا تشخص اُس سے بہت مختلف ہے جو مغرب نے ہمیں سکھایا ہے۔۲؎

تیسری بنیاد غالب تہذیب کا صدیوں کے عمل کے نتیجے میں محکوم پر غالب آجانا ہوسکتاہے۔ اگر غیرمنقسم ہندستان کے تناظر میں اس مفروضے کا جائزہ لیا جائے تو ۸۰۰ سال کے لگ بھگ حکومت کرنے کے باوجود تقسیم ملک کے وقت مسلمان تعداد میں ایک چوتھائی یا اُس سے کچھ  کم رہے۔ اگر وہ سامراجی طاقت ہوتے تو اپنی تعلیمی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی حکمت عملی اور دبائو سے غیرمسلم اکثریت کی تعداد کو اقلیت میں تبدیل کرسکتے تھے۔ جدید فرانس اسی اصول کی بناپر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ چونکہ وہ غالب اور حاکم تہذیب ہے اس لیے اس کے نوآبادیاتی نظام سے آنے والے افریقی ہوں یا الجزائری، وہ فرانسیسی طرزِ زندگی اختیار کیے بغیر فرانسیسی نہیں شمار کیے جاسکتے۔ انھیں اپنے دینی معاملات کو بھی فرانسیسی تہذیب کا تابع کرنا ہوگا۔ چنانچہ سر پررومال کے استعمال پر پابندی کو ایک قومی مسئلہ بنایا گیا۔

اگر اکثریت کے رواج، بودوباش، دینی فکر اور عمل اور معاشی، معاشرتی اور سیاسی طرزِعمل کی بنیاد پر کسی قوم کا تشخص قرار دیا جانا فرانس، برطانیہ، امریکا یا دیگر ممالک میں ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، تو پھر پاکستانی تشخص اور تہذیب و ثقافت بھی پاکستان کی غالب اکثریت کی بناپر جو قدرِمشترک پائی جاتی ہو اسی پر مبنی ہونی چاہیے۔ یہ قدر مشترک نہ تو علاقائی زبان ہوسکتی ہے، نہ   جسم و قدوقامت نہ قبائلی اور نسلی تعلق، یہ صرف اور صرف وہ تصورِ حیات ہی ہوسکتا ہے جو اس کے رہن سہن، کھانے پینے، معاشرتی عادات، معاشی ترقی کے تصور اور نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آنے والی زندگی میںکامیابی کے تصور کا تعین کرتا ہے۔

تہذیب و ثقافت میں مذہب کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور کیا وجہ ہے مغرب زدہ دانش ور اور مغربی مفکرین جب بھی ثقافت یا تہذیب کی تعریف کرتے ہیں، تو اس میں مذہب کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر تہذیب و ثقافت سے مراد وہ رہن سہن اور روایات لیتے ہیں جو صدیوں سے کسی مقام یا کسی اجتماعیت میں پائی جاتی ہوں۔ اس سوال کا مختصر جائزہ ہم اس مقالے کے آغاز میں لے چکے ہیں کہ یورپی تاریخ میں عیسائی چرچ کے دور کو تنگ نظری، انتہاپسندی، مذہبی نفاق، ردِعقلیت، جذباتیت اور ترقی پسندی کی ضد خیال کیا جاتا ہے بلکہ یہ تصور مغربی فکر میں ایک ’مصدقہ حقیقت‘ کا مقام رکھتا ہے۔ جدید علمی تحقیق میں عیسائی چرچ کے خلاف ردعمل کو لبرل ازم یا اباحیت پرستی، عقل پرستی، سائنسی فکر، نشاتِ ثانیہ، احیاے انسان پرستی (Humanism)، احیاے فطرت پرستی اور روشن خیالی کے نام پر یاد کیا جاتا ہے۔ آج جو مکاتب ِ فکر یورپ و امریکا میں پائے جاتے ہیں اور ان کے زیراثر تعلیم پاکر آنے والے مسلم ممالک کے دانش ور، سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مذہب اور عقلیت میں ٹکرائو ایک فطری عمل ہے۔ وہ غیرشعوری طور پر سمجھتے ہیں کہ مذہب لازمی طور پر انتہاپسندی کو پیدا کرتا ہے وغیرہ۔ اس لیے مغرب زدہ عمرانی علوم کا نقطۂ آغاز ہی عقل کی مطلق العنانی، مذہب کی چرچ کی چاردیواری تک محدودیت اور معیشت، سیاست، معاشرت اور ثقافت کا مذہب کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد ہونا، ترقی کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے اور جب علم پر مبنی معاشی ترقی، علم پر مبنی معاشرہ ، یا روشن خیالی کی بات کی جاتی ہے، تو ذہنی پس منظر میں عملاً مادیت پرستی، افادیت پرستی، اخلاقی اضافیت (Ethical Relativisim)، انفرادیت پرستی اور تہذیبی و ثقافتی ارتقا پر ایمان بالغیب لانے کے بعد ہی مذہب اور ثقافت کو معاشرتی ارتقا کے تابع کردیا جاتا ہے تاکہ مطلوبہ نتائج اخذ کیے جاسکیں۔ مزید یہ کہ مغربی تصورِ حیات کی پیروی میں مسلم معاشرے میں بھی مذہب کو ذاتی یا انفرادی معاملہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

اس مغربی فکری شیش محل میں محصور ذہن کے مقابلے میں ایک آزاد ذہن جو مغرب زدگی کے سحر سے نکل چکا ہو، جب تہذیب و ثقافت کے تصور پر غور کرتا ہے تو تہذیب و ثقافت صرف اور صرف ایک ملت کے تصورِ حیات کی قابلِ محسوس شکل اور مظہر قرار پاتی ہے۔ عصرِحاضر کے عظیم دینی رہنما اور مفکر سیدمودودی نے اس ساری بحث کو محض چند الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: ’’ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی قوم کی تہذیب نام ہے اس کے علوم و آداب، فنونِ لطیفہ، صنائع و بدائع، اَطوارِ معاشرت، اندازِ تمدن اور طرزِ سیاست کا، مگر حقیقت میں یہ نفسِ تہذیب نہیں ہیں، تہذیب کے نتائج و مظاہر ہیں۔ تہذیب کی اصل نہیں ہیں،شجر تہذیب کے برگ و بار ہیں۔ کسی تہذیب کی قدروقیمت     ان ظاہری صورتوں اور نمایشی ملبوسات کی بنیاد پر متعین نہیں کی جاسکتی۔ ان سب کو چھوڑ کر ہمیں اس کی روح تک پہنچنا چاہیے اوراس کے اساسِ اصول کا تعین کرنا چاہیے۔

اس نقطۂ نظر سے سب سے پہلی چیز جس کا کسی تہذیب میں کھوج لگانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دنیوی زندگی کے متعلق اس کا تصور کیا ہے؟ وہ اس دنیا میں انسان کی کیا حیثیت قرار دیتی ہے؟اس کی نگاہ میں دنیا کیا ہے۔ انسان کا اس دنیا سے کیا تعلق ہے؟ اورانسان اس دنیا کو برتے تو کیا سمجھ کر برتے؟ یہ تصورِ حیات کا سوال ایسا اہم سوال ہے کہ انسانی زندگی کے تمام اعمال پر اس کا نہایت گہرا اثر ہوتا ہے اور اس تصور کے بدل جانے سے تہذیب کی نوعیت بنیادی طور پر بدل جاتی ہے‘‘۔(سیدابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، ۱۹۶۰ء ص ۱۱)

پاکستان بلکہ کسی بھی ایسے ملک کا تشخص جو اپنے آپ کو مسلمان یا اسلامی کہتا ہو، اس کی اسلامیت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کیوںکہ نہ زبان، نہ جغرافیائی سرحد، نہ اس کا رنگ، نہ اس کے افراد کا نسلی یا قبائلی تعلق اس کا اصل تشخص قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ مغربی سامراجی فکرسے متاثر تحقیق کی حکمت عملی سے نجات اور آزادی کے بغیر ہم زمینی حقائق اور معاشرتی تصورات کو جیسے کہ وہ ہیں نہ تو صحیح طور پر  سمجھ سکتے ہیں اور نہ اس کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد کوئی نتائج نکال سکتے ہیں۔

اس معروضی اور مختصر تجزیاتی مقالے کا حاصل یہ ہے کہ پاکستان کی تخلیق جس اصول کی بنیاد پر ہوئی وہ مسلمانوں کا اپنی تہذیب، ثقافت اور نظریۂ حیات کی بنیاد پر ایک ملّت ہونا تھا جسے دوقومی نظریہ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان دو ملّتوں میں ایک دریا کا پانی پینے اور ایک فضا میں سانس لینے کے باوجود بنیادی ثقافتی، تہذیبی اور دینی اختلاف پایا جاتا تھا اور آج بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے ملّت اسلامیہ کو اپنے ثقافتی، تہذیبی اور دینی تشخص پر قائم رہنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ ایک ایسا ملک وجود میں آئے جہاں وہ اپنی ’پہچان اور تہذیبی اور ثقافتی تشخص‘ کو نہ صرف برقرار   رکھ سکے بلکہ مزید ترقی دے سکے۔ ظاہر ہے یہ تشخص اور پہچان اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی تھی۔ ہند میں مسلم اُمت کی بقا اور ترقی کے لیے لازم تھا کہ ایک ایسا ملک وجود میں آئے جس کی پہچان صرف اور صرف اسلام ہو۔

پاکستان کے قیام کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے بانیِ پاکستان نے اسی تہذیبی اور ثقافتی تشخص کی نشان دہی کی تھی:

ہم ہند کو ہندستان اور پاکستان میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں… ہندو ہند اور مسلم ہند دونوں کو الگ ہونا چاہیے۔ چونکہ دونوں قومیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور بعض معاملات میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اجازت دیجیے کہ میں آپ کو کچھ اختلافات کے بارے میں بتا دوں۔ ہم ان سے تاریخ، ثقافت، زبان، فنِ تعمیر، موسیقی، قوانین، اصولِ قانون اور ہمارا سارا معاشرتی تانابانا اور ضابطۂ حیات میں مختلف ہیں (اے بی سی لندن کے ذریعے امریکیوں کے نام پیغام، لندن ۱۳دسمبر۱۹۴۶ئ، قائداعظم تقاریر و بیانات، جلد چہارم، ناشر: بزمِ اقبال لاہور، ترجمہ: اقبال احمدصدیقی، ۱۹۹۸ئ، ص۲۷۲)

اس تشخص کے حوالے سے قائداعظم نے بارہا وضاحت سے یہ بات کہی کہ ثقافتی اور تہذیبی بنیادوں سے ان کی مراد اسلامی نظامِ حیات ہے چنانچہ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی نظریۂ حیات کا قیام و نفوذ ہے۔ انھوں نے سوچ سمجھ کر ’Muslim Ideology‘(مسلم نظریے) کی اصطلاح استعمال کی:

ہمارے سامنے ایک ہی راہ ہے اپنی قوم کی تنظیم کرنا۔ اور ہم اپنی محنت، مصمم اور پُرعزم مساعی کے ذریعے سے ہی قوت پیدا کرسکتے ہیں اور اپنی قوم کی حمایت کرسکتے ہیں۔  نہ صرف اپنی آزادی اور خودمختاری حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اسے برقرار بھی رکھ سکتے ہیں اور اسلامی آئیڈیل اوراصولوں کے مطابق زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خودمختاری ہے بلکہ مسلم آئیڈیالوجی بھی ہے جسے ہمیں محفوظ رکھنا ہے جو ایک بیش قیمت تحفے اور سرمایے کے طور پر ہم تک پہنچا ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ اور لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ شراکت کرسکیں گے۔(مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن صوبہ سرحد کے نام پیغام، ۱۸جون ۱۹۴۵ئ، قائداعظم تقاریر و بیانات، جلد چہارم،  ۱۹۹۸ئ، ص۴۳۸)

آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ پاکستان کے اصل تشخص اور پاکستانیت کے اصل مفہوم کو نہ صرف اس کے صحیح تناظر میں بلکہ بانیانِ پاکستان کے بیانات کی روشنی میں تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے، لیکن یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب محققین یورپ زدگی سے اپنے ذہن کو آزاد کرکے مغربی معاشرتی علوم کے طرزِ تحقیق کے خطرات کو ذہن میں رکھتے اور اپنا دامن بچاتے ہوئے اس موضوع پر مختلف زاویوں سے غور کریں۔ وہی قومیں زندہ رہنے کا حق رکھتی ہیں جن کی نظریاتی اساس مضبوط ہو اور جو خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ ہوں