اپریل ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبدالمالک | اپریل ۲۰۱۴ | فہم حدیث

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کی رہنمائی فرمایئے جس پر عمل کر کے ایک بندہ سیدھا جنت میں داخل ہوجائے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لے آئے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی بتلا دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے جو رزق دیا ہے اس میں سے کچھ دوسروں کو بھی دیا کرے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر وہ فقیر ہو، اس کے پاس کچھ نہ ہو، تو آپؐ  نے فرمایا: اپنی زبان سے بھلی بات کہے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ!اگر وہ زبان کے ذریعے مافی الضمیر ادا کرنے سے عاجز ہو تو پھر کیا کرے؟ آپؐ  نے فرمایا: وہ بے بس آدمی کی اعانت کرے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر وہ ضعیف ہو، قدرت نہ رکھتا ہو، تو آپؐ  نے فرمایا: اس کے لیے کام کرے جو کام کو نہیں جانتا۔ میں نے عرض کیا: اگر وہ خود بھی کوئی کام نہ جانتا ہو، تو اس پر آپؐ  نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ تم یہ چاہتے ہو کہ تمھارے دوست کے پاس کسی قسم کی بھلائی نہ ہو، اس کے پاس مذکورہ چیزیں نہ ہوں، تو کم از کم وہ لوگوں کو کوئی تکلیف نہ دے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ سارے کام تو آسان ہیں (یعنی جس آدمی کے پاس ان کاموں کو کرنے کی قدرت ہے اس کے لیے تو یہ کام معمولی ہیں، بالکل آسان ہیں)۔ پھر ان تھوڑے سے کاموں کی بنا پر وہ جنت میں چلاجائے گا؟ اس پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، جو آدمی بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت کو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے کرے گا، مَیں قیامت کے روز اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر سیدھا جنت میں داخل کروں گا۔ (ابن حبان)

ایک مومن کا پہلا کام تو اپنے ایمان کو زندہ اور قوی کرنا ہے۔ ایمان قوی ہوگا تو پھر اس کے لیے سارے کام آسان ہوجائیں گے۔ اگر جسمانی عوارض کی وجہ سے وہ ایسا کام نہ کرسکے جس کے لیے جسمانی قوت کی ضرورت ہے تو کوئی دوسرا کام کرے جس کی قوت رکھتا ہو۔ اگر کوئی مثبت کام اور خدمت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو کم از کم اتنا تو کرسکتا ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ دے اور اس کام کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ چھوٹا کام بھی چھوٹا نہ رہے گا بڑا شمار ہوگا، جس نے ساری زندگی اس صفت کو اپنائے رکھا وہ نیکیوں کا ایک بڑا ذخیرہ      جمع کرلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے نبیؐ کا وہ محبوب ہوگا کہ اپنے ایمان کو بھی مضبوط کیا اور خلقِ خدا کو کوئی تکلیف بھی نہ دی۔ کمالِ ایمان کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کی نعمت سے بھی سرفراز ہوا اور خلقِ خدا کی خیرخواہی اور اس کو اذیت سے بچانے کے سبب بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا۔ پھر جو آدمی خود خلقِ خدا کو اذیت سے بچاتا ہے وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا بھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اسے اس کی اس نیت کا ثواب بھی ملتا ہے۔ تب وہ جنت کا ہرپہلو سے مستحق ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث ایک طرف    اللہ تعالیٰ کے بے پناہ فضل و کرم کا نمونہ پیش کرتی ہے اور دوسری طرف بندوں کو بندگی کا حوصلہ اور ہمت بھی دیتی ہے کہ وہ جس حال میں بھی ہوں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی کسی نہ کسی صورت کو عملی جامہ پہناکر جنت میں جاسکتے ہیں اور دنیا میں معاشرے کے لیے باعث خیروبرکت کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔

٭

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کسی گناہ کا واویلا کرتا ہوا حاضر ہوا۔ وہ کہہ رہا تھا: ہاے میرا گناہ، ہاے میرا گناہ! دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہ کلمات کہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس طرح سے کہو: اَللّٰھُمَّ مَغْفِرْتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِی وَرَحْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِی’’اے اللہ! تیری بخشش میرے گناہوں سے زیادہ کشادہ ہے اور تیری رحمت سے مجھے اپنے عمل کے مقابلے میں زیادہ اُمید ہے‘‘۔ اس نے ایک مرتبہ یہ کلمات کہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ کہو۔ اس نے دوبارہ کہے تو آپؐ  نے فرمایا: پھر کہو تو اس نے تیسری بار بھی یہ کلمات کہے۔ پھر آپؐ  نے فرمایا: کھڑے ہوجائو اور چلے جائو۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کردیا ہے۔ (مستدرک حاکم)

بندہ صدقِ دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ ایک مومن گناہ کر کے اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ فوراً توبہ کرتا ہے۔ توبہ کرنا مومن کی صفت ہے۔ اس لیے گناہ کے بعد مومن کو پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔ وہ ذات جس کی نعمتوں میں انسان گھرا ہوا ہے، اس کی نافرمانی کوئی معمولی جرم نہیں ہے بلکہ ایمان کو ضعف پہنچانے والی بیماری ہے۔ بیماری کو آغاز میں روکنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر غفلت برتی جائے اور بیماری کا علاج نہ کیا گیا تو بڑھتے بڑھتے وہ کینسر کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے اور پھر لاعلاج ہوکر موت سے ہم کنار کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی حال گناہ کا بھی ہے۔ گناہ کا بھی تدارک نہ کیا جائے تو وہ بڑھتے بڑھتے آدمی کے لیے روحانی موت کا باعث بن جاتا ہے۔ دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ آنکھ، کان پر پردے پڑ جاتے ہیں، دماغ صحیح اور غلط میں تمیز کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے۔ اس وقت کے آنے سے پہلے گناہ کے وبال سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اپنے کیے پر نادم ہونا اور آیندہ کے لیے گناہ کے ارتکاب سے دامن کو بچانا اور سابقہ گناہوں سے مسلسل استغفار کرتے رہنا گناہ کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔

٭

حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں اپنی مرضی سے نہ تمھیں دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ میں تو تقسیم کرنے والا ہوں۔ مَیں وہاں دیتا ہوں جہاں مجھے دینے کا حکم دیا گیا ہو۔(بخاری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے نبی اور رسولؐ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ صاحب ِ اختیار حاکم بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیے، لیکن  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خزانوں کی تقسیم میں اپنی مرضی نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انھیں تقسیم کیا۔ یوں مسلمان حکمرانوں کے لیے ایک عظیم الشان قابلِ تقلید نمونہ پیش فرمایا کہ جب میں   اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول اورمعصوم عن الخطا ہوکر حق داروں کو ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہوں، توکسی دوسرے کے لیے اس بات کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ وہ اللہ کے مال میں خیانت کرے،   حق داروں کی حق تلفی کرے اور اپنے خاندانوں کو نوازے۔

٭

حضرت سلمانؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا تمھارا رب شرمانے والی اور کرم کرنے والی ذات ہے۔ وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ بندہ اس سے دونوں ہاتھ اُٹھاکر دعا مانگے اور وہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔(ترمذی)

اللہ تعالیٰ بے نیاز ذات ہے اسے بندوں سے کسی بھی قسم کی کوئی حاجت نہیں ہے بلکہ وہ بندوں کی حاجات پوری کرنے والا ہے۔اس نے بن مانگے بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ پھر وہ مانگنے پر خوش ہوتا ہے اور عطا بھی فرماتا ہے۔ بندہ جب اخلاص سے بیدار دل کے ساتھ اس سے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگے تو وہ ضرور عنایت فرماتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ بے نیاز اور بے غرض ہونے کے باوجود بندوں سے  شرم کرتا ہے تو بندوں کو بدرجۂ اولیٰ اللہ تعالیٰ سے شرم کرنی چاہیے اور اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔ حدیث میں حیا کو ایمان کے عظیم الشان شعبوں میں سے ایک بڑا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔

آج ہم پر فرض ہے کہ اپنے معاشرے کو ’حیا‘ کی زینت سے مزین کر کے اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے تیار کریں۔ معاشرے سے بے حیائی کی تمام شکلوں کا خاتمہ کردیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ’حیا‘ کرنے کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا جائے، دعوت و تبلیغ کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا جائے۔

٭

حضرت ابی مالک اشعریؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے باہر سے اندر اور اندر سے باہر نظر آتا ہے (موتیوں کے بنے ہوئے شیش محل کے بالاخانے ہیں) ۔ یہ بالاخانے  اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو نرم گفتگو کریں۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں اور مسلسل روزے رکھیں اور راتوں کو نمازیں پڑھیں،   جب کہ دوسرے لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

نرم گفتگو آدمی کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور خلقِ خدا کے لیے پُرکشش بناتی ہے۔ یہ حُسنِ اخلاق کی وہ صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شان کا اپنے کلام پاک میں ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا ہے:    فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ (آلِ عمرٰن۳:۱۵۹) ’’ (اے پیغمبرؐ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔

اسی طرح مہمان نوازی اور روزے رکھنا اور راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھنا، اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں کے اخلاقِ حسنہ کا حصہ ہیں، خصوصاً انبیاے علیہم السلام۔ چنانچہ انبیاے علیہم السلام کے پیروکار اہلِ ایمان جنھوں نے نیکی اور تقویٰ میں مقام پیدا کیا، انھوں نے ان تمام صفات کو اپنایا۔ بخل اور تقویٰ کا آپس میں تضاد ہے۔