اپریل ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کتاب نما

| اپریل ۲۰۱۴ | کتاب نما

An Exercise in Understanding the Quran، [قرآن کریم  سمجھنے کی ایک مشق]، مؤلف: ڈاکٹر عرفان احمد خان ۔ تقسیم کنندہ: قاضی پبلی کیشنز، پوسٹ بکس ۵۹۷۶۷۹، شکاگو ۶۰۶۵۹۔ فون : ۲۹۶۲-۲۵۱-۶۳۰+۱ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت:درج نہیں۔

قرآن کریم اپنے بارے میں یہ بات فرماتا ہے کہ ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا‘‘ (القمر ۵۴:۳۹)۔ گویا رب کریم نے جو اِس کتاب کا نازل کرنے والا ہے اسے ہر طالب ِ نصیحت و ہدایت کے لیے آسان بنا دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور اس عظیم ترین کتاب کا مطالعہ کس طرح ہو؟

مفسرین کرام نے جہاں قرآنِ کریم کے معانی پر روشنی ڈالی ہے، وہیں اس کتابِ ہدایت کے قانونی، ادبی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی پہلوئوں کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹرعرفان احمدخان نے اپنے ۴۰سالہ مطالعہ قرآن کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ہرسورت کے مضامین کو موضوعاتی ترتیب کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی ایک مشق کی ہے اور اس غرض کے لیے قرآن کریم کی آخری ۳۰ سورتوں کا انتخاب کیا ہے۔ ۱۳ عنوانات کے تحت قرآنی اصطلاحات کا مفہوم بیان کیا ہے۔

یہ بظاہر ایک آسان کام نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک لافانی کلام کو محدود موضوعاتی تقسیم میں لانا اور پھر اس میں باہمی ربط پیدا کر کے مفہوم کو سمجھنا ایک محنت طلب کام ہے۔ ڈاکٹر عرفان احمد خان نے اپنی تمام تر توجہ اسی کام پر صرف کی ہے اور اپنی تحقیقی کتاب Reflections on the Quran میں (جو لسٹر برطانیہ سے اسلامک فائونڈیشن نے طبع کی ہے) اپنی قرآنی فکر کو سادہ انداز میں پیش کردیا ہے۔ قرآن کریم کو سمجھنے کا یہ انداز ایک قاری کو خود      یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ کس طرح براہِ راست قرآن کریم کے پیغام کو سمجھے اور تفسیرقرآن کے نکات جو بعض اوقات قاری اور قرآن کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں، ان سے بچ کر قرآن کا فہم حاصل کیا جاسکے۔ یوں ایک طالب علم کو خود قرآن فہمی پیدا کرنے کی تربیت فراہم کی ہے کہ وہ خود آیات کے درمیان ربط کو تلاش کرسکے اور قرآنِ کریم کے جامع پیغام کو سمجھ کر زندگی میں نافذکرسکے۔

اس کتاب کا تعارف ۵۸صفحات میں الگ کتابی شکل میں طبع کیا گیا ہے جس میں سورئہ علق سے الناس تک چھے منتخب آخری سورتوں پر مبنی تدریسی انداز میں اس طریق فہم قرآن کو واضح کیا گیا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


مذاہب ِ عالم ایک تقابلی مطالعہ، مولانا انیس احمد فلاحی مدنی۔ ناشر: ملک اینڈ کمپنی، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۳۹۲۔ قیمت:درج نہیں۔

برقی ابلاغ عامہ کے اس دور میں دنیا کے چار گوشے سمٹ کر ایک بستی بن گئے ہیں لیکن اس کے باوجود مختلف مذاہب اور تہذیبوں کی ایک دوسرے سے ناواقفیت میں کوئی بہت بڑا فرق واقع نہیں ہوا ہے، بلکہ ابلاغِ عامہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے تعصبات اور گمراہ کن تصورات کے پھیلانے میں اچھا خاصا منفی کردار ادا کیا ہے۔ آج مسلمان کا نام سنتے ہی مغرب و مشرق کا ایک غیرمسلم اپنے ذہن میں کسی دہشت گرد کا تصور لاتا ہے۔

مولانا انیس احمد فلاحی مدنی کی یہ تالیف اُردو دان افراد کے لیے ہندوازم، بدھ ازم،   سکھ ازم ، عیسائیت، یہودیت اور شینٹوازم کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کرتی ہے۔ کتاب آسان زبان میں تحریر کی گئی ہے اور اختصار کے ساتھ ان مذاہب کے آغاز، بنیادی تعلیمات اور مصادر کے بارے میں ثانوی ذرائع سے اخذ کردہ معلومات سے بحث کرتی ہے۔ عیسائیت اور یہودیت کے حوالے سے قدیم اور جدید عہدناموں سے مناسب حوالے دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی قرآن کریم نے یہودیت اور عیسائیت کے بارے میں جو حقائق بیان فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

فلاحی صاحب نے کتاب کے آغاز ہی میں اس کے دو مقاصد بیان کیے ہیں: اوّلًا اپنے اردگرد بسنے والے دیگر مذاہب کے افراد کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنا، اور دعوتی نقطۂ نظر سے مدعوئین کے بارے میں یہ سمجھنا کہ ان کے معتقدات کیا ہیں اور انھیں دعوت کس طرح دی جائے۔

کتاب اکثر عربی مآخذ پر اعتماد کرتی ہے، جب کہ مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے کے لیے ان کے اپنے مصادر کا ان کی اپنی زبان میں جاننا بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ استاذ محمد دراز نے اپنی عربی میں تحریر کردہ کتاب میں جن مغربی مفکرین کا ذکر معرب ناموں کے ساتھ فرمایا ہے اسے جوں کا توں اختیار کرلیا گیا ہے۔ بہت مناسب ہوتا اگر مؤلف ہرمذہب کی تعلیمات کے خلاصے کے ساتھ اُس مذہب کی مقدس کتب کے حوالے بھی براہِ راست درج کردیتے۔

یہ کتاب ابتدائی اور تعارفی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے تقابل ادیان کے طریقۂ تحقیق کی روشنی میں مرتب کیا جاتا تو اس کی قدر میں مزید اضافہ ہوجاتا۔ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب ایک مذہب کا احاطہ کرتا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


عصرِحاضر میں اسلام کے علمی تقاضے، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی، جامعہ نگر، نئی دہلی نمبر۲۵، بھارت۔ صفحات: ۸۰۔ قیمت: ۵۲ بھارتی روپے۔

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے احیاے اسلام کی تحریک علمی اور تحقیقی بنیادوں پر استوار کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسے رفقا عطا کیے جنھوں نے تحقیقی اور علمی دنیا میں نام پیدا کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے تصنیف و تالیف کے لیے جو ادارہ قائم کیا تھا وہ پہلے ادارہ تصنیف کے نام سے رام پور میں کام کرتا رہا، بعدازاں یہی ادارہ ’تصنیف و تالیف اسلامی علی گڑھ‘ کے نام سے علی گڑھ میں کام کرتا رہا۔   اس ادارے کے زیراہتمام ۱۹۸۲ء میں سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی شائع ہونا شروع ہوا۔ بہت جلد یہ تحقیقی مجلہ اہلِ علم کی توجہات کا مرکز بن گیا۔

مولانا جلال الدین عمری نے مجلہ تحقیقات اسلامی میں اسلامی تحقیقی معیار کی بہتری کے لیے متعدد مقالے تحریر کیے۔ انھیں یہ احساس رہا کہ اسلام کی صداقت منوانے کے لیے عصرحاضر کے تحقیقی معیار پر اسلامی تعلیمات کو مدلل انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ احساس گذشتہ صدی میں مسلم ممالک میں احیاے اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والی دینی جماعتوں کے اکثر اہلِ علم کو بھی رہا۔ تقسیم ہند کے بعد بھی مسلمانوں نے دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عمرانی اور طبعی علوم میں تحقیقی کوششیں جاری رکھیں۔

زیرنظر کتاب ان مضامین کا مجموعہ ہے جو سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی میں شائع ہوتے رہے۔ ان مضامین میں انھوں نے توجہ دلائی ہے کہ آج کس کس میدان میں تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔ کتاب کے چند ایک مضامین کے عنوانات یہ ہیں:

  • اسلام اور دورِ جدید کے علمی مطالبات
  • عرب ممالک میں اسلامی علوم کا احیا
  • اسلام کے مطالعے کے اصول و شرائط
  • موجودہ الحادی  فکر اور اسلام
  • احیاے اسلام کے علمی تقاضے
  • اقامت دین کے لیے علمی تیاری کی اہمیت
  • اسلامی علوم میں تحقیق کا طریقۂ کار۔
  • آخر میں سیّدمودودیؒ کی علمی کاوشوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مصنف نے پیش لفظ میں قومی سطح کی ایک کمزوری کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وقتی اور ہنگامی کاموں کے لیے تو ہمارے اندر بڑا جوش اور جذبہ پایا جاتا ہے لیکن کسی علمی یا سنجیدہ کام کی تحریک نہ تو ہمارے اندر پیدا ہوتی ہے اور نہ اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے..... اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے افراد اُمت میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو مختلف میدانوں میں علمی سطح پر اسلام کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کرسکتے ہوں‘‘(ص ۸)۔ (ظفرحجازی)


اسلام، جمہوریت اور پاکستان، مولانا زاہد الراشدی۔ ترتیب و تدوین: محمد عمار خان ناصر۔ تقسیم کار: نیریٹوز(Narratives)، پوسٹ بکس نمبر ۲۱۱۰، اسلام آباد۔ صفحات: ۱۳۰۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

پاکستان اسلامیانِ ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ تحریکِ پاکستان کے قائدین نے پاکستان کا مقصد یہ قرار دیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست تشکیل دی جائے۔ اس جمہوری اسلامی ریاست میں شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو اور دنیا دیکھے کہ اسلامی تعلیمات آج بھی قابلِ عمل ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے آج تک پاکستان میں جمہوریت اور اسلامی ریاست کی بحث نتیجہ خیز نہیں بن سکی۔ دینی جماعتوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا جسے حکومتوں نے حیلے بہانے سے ٹال دیا۔

زیرتبصرہ کتاب مصنف کے مضامین کا انتخاب ہے۔ ان مضامین میں مصنف نے نہایت وضاحت سے اسلامی ریاست، اسلامی نظام اور جمہوریت کے بارے میں علما کا موقف بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی قانون سازی، عوامی مفاد پر مبنی معاشی منصوبہ بندی اور معاشرتی مسائل کا حل صرف اسلام کے پاس ہے (ص ۱۱۱)۔ خلافت ِ راشدہ نے عملاً فلاحی ریاست کا نمونہ پیش کیا اور حکومت کو عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا۔ خلفاے راشدین ہی کے دور میں عوامی ضروریات کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا۔ (ص ۱۱۰)

زیرنظر کتاب میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا تصادم اور مسلح جدوجہد سے پاکستان میں اسلامی نظام رائج کیا جاسکتا ہے؟ مصنف کا موقف ہے کہ جمہوری نظام کو تسلیم کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی جائے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کے لیے اقتدار کا حق تسلیم کیا جائے، قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہو۔ انھوں نے کہا ہے کہ علما نے اجتہاد میں اجتماعیت کا راستہ اختیار کیا اور اس کی تنفیذ میں پارلیمنٹ کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ (ص ۸۶)

مصنف نے کتاب میں نو عنوانات کے تحت اظہار خیال کیا ہے۔ یہ عنوان حسب ذیل ہیں: اسلامی ریاست، اسلام کے سیاسی نظام کا تاریخی پہلو، قانون سازی کا طریق کار، اسلام، جمہوریت اور مغرب، سیاسی جماعتیں__ نفاذِ اسلام کی بحث، حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمایندگی، پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد اور تصادم اور مسلح جدوجہد کا راستہ۔ ان مضامین میں مصنف نے نہایت سلاست سے مدلل انداز میں اپنے افکار پیش کیے ہیں۔ ان کی زبان شائستہ اور رواں ہے۔ کتاب کے آخر میں پاکستان کے ۳۱ علما کے ۲۲نکات بھی دیے ہیں جن کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ یہ علما کا اتنا بڑا اجتہادی اقدام ہے کہ قراردادِ مقاصد کے ساتھ یہ ۲۲نکات کسی بھی اسلامی ریاست کی آئینی بنیاد بن سکتے ہیں۔(ظفرحجازی)


کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں؟، ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل۔ ناشر: اشاعت اکیڈمی، عبدالغنی پلازا، محلہ جنگی، پشاور۔ صفحات: ۵۹۵۔ قیمت: درج نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے بڑے نرم مزاج ہیں۔ ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی کہ وہ لوگوں کی ہدایت کے اتنے متمنی ہیں کہ ان کے پیچھے غم کے مارے گویا جان کھو دینے والے ہیں۔    حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل اہلِ ایمان کو دوزخ کی آگ سے بچانے والا عمل ہے۔ انسانوں کے لیے آپ کی خیرخواہی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ اپنی جان کے دشمنوں کو بھی معاف کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپؐ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے۔ آپؐ نے دین اسلام کی بابت یہ فرمایا کہ دین تو ہے ہی خیرخواہی کا نام۔ دین میں دوسروں کی بھلائی کے سوا اور ہے بھی کیا۔ اسلام کی تعلیمات انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں تاکہ یہ یکسو ہوکر اللہ کی رضا کے لیے اس کی بندگی کریں۔

زیرتبصرہ کتاب مسلمانوں کی اصلاح کے نقطۂ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔آج کا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے رُوبہ زوال ہے۔ متعدد بُرائیاں مسلم سوسائٹی میں جڑپکڑ چکی ہیں۔ قرآنی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے اور دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے لوٹ کھسوٹ، رشوت ستانی، ظلم وجبر،     بے حیائی، ناپ تول میں کمی اور مکروفریب جیسی بُرائیاں مسلم معاشرے میں عام ہیں۔ چالاکی و ہوشیاری جس سے دوسروں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ قرار دے لیا گیا ہے۔ محاسبہ اور آخرت کا احساس ختم ہو رہا ہے۔ مسلمانوں نے ہوسِ زر کے باعث اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات کو فراموش کردیا ہے۔ کتاب میں ان تمام معاشرتی، اقتصادی، تجارتی اور سیاسی ناہمواریوں کو دُور کرنے کے لیے قرآن اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی نہایت دردمندی سے اپیل کی گئی ہے۔ متعدد کتابوں سے اخلاق آموز واقعات لے کر قارئین کو احساس دلایا ہے کہ اللہ کی گرفت میں آنے سے قبل اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔

مصنف نے غیرمسلم مغربی اہلِ دانش کی تحریروں کو بھی پیش کیا ہے اور ان کی اغلاط کی  نشان دہی کی ہے۔ مصنف مسلمان مردوں اور عورتوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ دنیا کی مرغوبات عارضی ہیں، آخرت کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ مصنف نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا واقعی ہم مسلمان ہیں؟ جس مسلمان کا مطالبہ خدا اور رسولؐ کر رہے ہیں، وہ مسلمان ہم ہیں یا نہیں (ص۶)۔ مصنف نے کتاب میں ۱۵۰؍احادیث ترجمہ و تشریح کے ساتھ پیش کی ہیں اور مسلمانوں سے توقع کی ہے کہ   وہ ان پر عمل پیرا ہوکر صحیح مسلمان بنیں اور اپنے اعمال درست کریں۔(ظفرحجازی)


قلزمِ فیض مرزا بیدل، شوکت محمود، ناشر: ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۲- کلب روڈ، لاہور۔ صفحات:۲۴۹۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

ابوالمعانی مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی فارسی کے معروف اور صاحب ِ اسلوب شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اسلوب ایسا مشکل، اَدق اور پیچیدہ تھا کہ مرزا غالب جیسے مشکل پسند بھی کہہ اُٹھے     ؎

طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

اُردو دنیا میں فارسی کے اس نابغہ شاعر کا تعارف زیادہ تر مرزا غالب اور ان کے مذکورہ بالا شعر کا مرہونِ منت ہے۔ اُردو کے اہلِ نقدوتحقیق نے بیدل پر درجن سے اُوپر کتابیں تصنیف اور تالیف و ترجمہ کی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ بیسیوں تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

زیرنظر کتاب بیدل کے سوانح ، شخصیت اور فکروفن پر ایسے مقالات کا ایک انتخاب ہے جو رسائل کی پرانی فائلوں میں دفن، نظروں سے اوجھل اور بیدل کے عام قارئین کی دسترس سے دُور تھے۔ مقالات کی تعداد زیادہ نہیں ہے مگر معیار بہت اچھا ہے اور کیوں نہ ہو، جب لکھنے والوں میں محمد حسین آزاد سے لے کر ڈاکٹر نعیم حامدعلی الحامد تک شامل ہوں (بشمول: سید سلیمان ندوی، غلام رسول مہر، ڈاکٹر عبدالغنی، ڈاکٹر جمیل جالبی، مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر ظہیراحمد صدیقی،  پروفیسر حمیداحمد خاں، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی)۔

مرتب ِ کتاب ’یکے از خادمانِ بیدل‘ جناب شوکت محمود کا تفصیلی مقدمہ (ص ۶ تا ۲۴) بجاے خود بیدل شناسی کا ایک عمدہ جائزہ یا سروے ہے۔ انھوں نے زیرنظر مجموعے کی ضرورت اور مطالعۂ بیدل میں اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ مشمولہ مضامین کے مآخذ اور ہرمضمون کی نوعیت، یا اس کا خلاصہ بھی بتایا ہے۔ شوکت محمود دُورافتادہ اور خطروں میں گھرے ہوئے شہر بنوں کے پوسٹ گریجویٹ کالج میں اُردو کے استاد ہیں۔ نادر اور وقیع منتخب مقالات کی اس اشاعت کے بعد، وہ اس کی جلد دوم بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


پانیوں کی بستی میں، صالحہ محبوب۔ ناشر: ادبیات، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۲۷۵ روپے۔

بیسویں صدی کے ربع ثانی میں سیاسی،سماجی اور معاشی حالات نے جو صورتِ حال پیدا کی وہ افسانے کو بہت راس آئی اور یہی دور اُردو افسانے کا زریں دور تھا۔ رومانی اور ترقی پسند تحریکوں کے اثرات خاصے گہرے تھے۔ ان کے خلاف ردِعمل بھی ہوا اور نئے افسانہ نگاروں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں اگرچہ افسانے نے کوئی نئی کروٹ نہیں لی لیکن نئے افسانہ نگاروں نے اچھے افسانے لکھنے شروع کیے ہیں۔ صالحہ محبوب کا شمار ایسے ہی ادیبوں میں کیاجاسکتا ہے۔

صالحہ محبوب کے افسانوں کا مرکز و محور ماں ہے جو مامتا اور محبت و مروت سے بچوں کے ذہنوں کی تشکیل اپنے خوابوں کے مطابق کرتی ہے۔مادیت کی دوڑ میں جب ماں اور باپ کمانے اور ملازمت کی فکر میں ہوں ایسے میں ان افسانوں میں گھر کے حصار اور روایتی گھریلو ماں کے کردار کو عمدگی سے اُجاگر کیا گیا ہے۔تربیت کے اصولوں اور معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب اور مادیت کے اثرات، نیز معاشرتی مسائل کو بھی زیربحث لایا گیا ہے۔

ایک فن کار کا فن اسی وقت قارئین کے لیے قابلِ قبول ہوتا ہے جب وہ ناصح اور مبلّغ بنے بغیر اپنی سوچ ان کے ذہنوں میں اُتار دے۔ صالحہ محبوب کے افسانے اس معیار پر پورا اُترتے ہیں۔قارئین خصوصاً ایسی مائیں جو بچوں کی صحیح خطوط پر تربیت اور مثبت سوچ دینا چاہتی ہیں ان کے لیے یہ عمدہ سوغات ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


بچوں میں خوف، فوزیہ عباس۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک-۵ ، فیڈرل بی ایریا، کراچی- ۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت (مجلد): ۱۵۰ روپے۔

عام طور پر بچوں کو کتا، چھپکلی، لال بیگ یا جن بھوت سے ڈرایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معمولی بات لگتی ہے لیکن اس کے بچوں کی شخصیت اور نفسیات پر دُور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوزیہ عباس نے زیرتبصرہ کتاب میں بچوں کے خوف کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے اور اس کے اسباب، علامات اور تدارک کی تجاویز بھی دی ہیں۔ خوف کیا ہے؟ بچوں پر اس کے اثرات، گھر، اسکول، مدرسہ اور کھیل کے میدان میں خوف، نیز معاشرتی و سماجی زندگی کے زیراثر پیدا ہونے والے خوف اور ذرائع ابلاغ کا غیرمحتاط رویہ وغیرہ زیربحث آئے ہیں۔ مصنفہ کے نزدیک بچوں میں خوف پیدا کرنا ایک اخلاقی جرم اور سنگین غلطی ہے جس سے بچے کی پوری زندگی متاثر ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے معمولی بات نہ سمجھا جائے۔ بچوں کی تربیت کی بنیاد دین کی تعلیمات پر ہونی چاہیے۔ بچوں کی نفسیات اور حکمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی کام سے روکنا یا سختی برتنی چاہیے۔ بحیثیت مسلمان اللہ پر ایمان خوف کو دُور کرسکتا ہے اور والدین کو ہر ممکن طریقے سے بچوں کا خوف دُور کرنا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے بھی رجوع کرنا چاہیے۔ والدین، اساتذہ کرام اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک مفید اور عام فہم کتاب۔ (امجد عباسی)