اپریل۲۰۲۲

فہرست مضامین

حمد اور دُعا ، کلامِ اقبال میں

عبیداللہ کوٹی | اپریل۲۰۲۲ | اقبالیات

شاعر مشرق علّامہ محمد اقبال کے کلام میں دُعا اور حمدو مناجات کے بڑے جان دار اور دل کش نمونے موجود ہیں۔ ان میں ان کی مشہور نظم ’شکوہ‘ ایک طویل مناجات ہے، اور اس کو کلامِ اقبال میں، دردِ دل، طاقت ور اسلوب، دل کش اندازِ بیان اور تاثیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اس میں وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہیں۔ پھر ان کے یہاں جواب آں غزل کے طور پر ’جوابِ شکوہ‘ بھی موجود ہے۔ ’شکوہ‘ میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے ہوئے جن بنیادی سوالوں کو چھیڑا ہے، اور خارِ ندگی کی جس چبھن کا شکوہ کیا ہے، اس کا مداوا ’جوابِ شکوہ‘ میں اس خوب صورتی سے پیش کردیا گیا ہے کہ زندگی کو رواں دواں اور جاوداں بنانے کی تحریک ہوتی ہے اور جمود اور سکون، حرکت و عمل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

اقبال اپنے کلام میں جب انسانوں سے مخاطب ہوتے ہیں، تب بھی اکثر ان کا روئے سخن، خدائے واحد کی طرف ہوتا ہے۔ اقبال کے خلاف، فرشتوں نے بارگاہِ الٰہی میں جو شکایت کی ہے، وہ بھی مناجات ہی کا ایک رنگ ہے:

کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمّازی
گُستاخ ہے ، کرتا ہے فطرت کی حنابندی

خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے ، کاشی نہ سمرقندی

سِکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آدابِ خداوندی

[بالِ جبریل]

پھر جب اقبال نے ’شکوہ‘ میں اسرارِ خودی اور رُموزِ بے خودی کے جوہر دکھلائے تو زمین پر اگرچہ اس درازنفسی سے چشمک نے گل کھلائے، شکایت نے دَہن کھولے مگر فلک کے فرشتے بھی اس پر خاموش نہ رہ سکے:

پیر گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیّارے، سرِعرشِ بریں ہے کوئی

چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی ، پوشیدہ یہیں ہے کوئی

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

[بانگِ  درا]

جنّت سے نکالا ہوا یہ انسان اپنے چمن کی یادوں کو بھلا نہ سکا اور اقبال بھی شکوہ اور ’جوابِ شکوہ‘ کی حدود سے باہر نکلے، تب بھی انھوں نے بے بسی کے ساتھ انسان کے اس ترکِ وطن پر خدا سے گفتگو جاری رکھی:

کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جدا کیونکر ہوا
اور اسیرِحلقۂ دام ہُوا، کیونکر ہوا

دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا صبرآزما کیونکر ہوا

پُرسشِ اعمال سے مقصد تھا رُسوائی مری
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا ،کیونکر ہوا

[بانگِ درا]

اقبال کے یہاں دُعا و مناجات کی مستقل اصناف اگرچہ بار بار مختلف صورتوں میں پائی جاتی ہیں، مگر بارگاہِ الٰہی میں سرگوشی اور ہم کلامی کا یہ رنگ ان کی غزلوں اور نظموں میں بھی شوق و سرمستی کی بہاریں دکھلاتا ہے۔ وہ رُوپ بدل بدل کر اپنے خالق و مالک اور داتا کے دربار میں آتے ہیں، کبھی اپنے دل کا سوز بچوں کی زبان سے ادا کرتے ہیں:

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

[بانگِ درا]

یہ پوری ’دُعا‘ اپنی روانی، دل کشی اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہے۔ اقبال مسلمانوں کی زبانِ حال سے مناجات پیش کرتے ہیں تو ان کی دُعا میں مرد مسلمان کا امتیازی کردار جھلکنے لگتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے یہاں مسلمان کسی خاص نسلی گروہ کا نام نہیں ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان، ایمان و کردار سے آراستہ اس فرد یا جماعت کی علامت ہے، جس کے اندر چند درچند خوبیاںدرکار ہیں،جن کی یافت یا دریافت کی تمنا دُنیا کے ہرایک انسان کے دل میں ہونی چاہیے:

یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے ، پھر ذوقِ تقاضا دے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

[بانگِ درا]

اس دُعا میں وہ محبت سے لبریز،خودداری اور حُریت، بے لوث محبت، بے باک صداقت، بصیرت، شفاف دل، آثارِ مصیبت کا احساس اور اِمروز کی شورش میں اندیشۂ فردا کی طلب کرتے ہیں :

میں بلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے

اقبال اپنی ایک اور دُعا ’آرزو‘ میں ربّ کریم کو مخاطب کرکے یہ کہتے ہیں کہ میں دُنیا کی محفل سے اُکتا گیا ہوں، دل بجھا ہوا ہے، لطفِ محفل معدوم ہے، دل شورش سے بھاگ کر ایسا سکوت چاہتا ہے کہ جس پر زباں آوری بھی نچھاور ہو۔ آرزو ہے کہ دامنِ کوہ کے معمولی جھونپڑے میں غمِ دُنیا کا کانٹا دل سے نکال کر خموشی میں اپنی فکر کو آزاد کردوں۔ چشمے کی شورش سے پیدا ہونے والے ساز اور چڑیوں کے سرور کی لذت میں اپنے ساغر جہاں نُما کو جو دل کہلاتا ہے محوِ تماشا کردوں۔ گُل کی کلی کھِلے تو اس کا پیام ساغرِ دل میں بھر جائے، سبزے کا بچھونا ہو اور ہاتھ کا سرہانا، خلوت میں وہ ادا ہو، جس پر جلوت شرمسار ہو، ہرے بوٹے صف بستہ ہوں ایسے کہ شفاف پانی ان کی تصویریں لے رہا ہو، کہسار کا نظارہ ایسا دل فریب ہو کہ پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو، غرض فطرت کے یہ اور ایسے دوسرے مناظر سامنے ہوں اور اس وقت:

پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دُعا ہو

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

ہر درد مند دل کو رونا مرا رُلا دے
بیہوش جو پڑے ہیں شاید انھیں جگا دے

[بانگِ درا]

اقبال کا یہی ذوقِ مناجات اندلس (اسپین)کی سرزمین میں ’طارق کی دُعا‘ بن کر سامنے آیا، جہاں طارق کی زبان اور کلامِ اقبال کی راہ سے ہمارے آپ کے ساز دل کا یہ ترانہ گونجتا ہے:

دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں ، نظر میں ، اذانِ سحر میں

طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں

کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں

دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے
وہ بجلی کہ تھی نعرئہ لاتذر میں

عزائم کو سینوں میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے

[بالِ جبریل]

اقبال قرطبہ گئے تو سرزمین اندلس کا شاندار ماضی اور اس کے گذشتہ شوکت و جمال انھوں نے مسجد ِ قرطبہ کے آئینہ میں دیکھے۔ گُل اپنے کشاد کے لیے دست ِ صبا کا محتاج ہوتا ہے، مگر اقبال کا جوشِ جنوں ہی ان کی قبائے فکروخیال کو کھول دینے کے لیے کافی تھا۔ وہ ایسی جگہ تھے جہاں جوشِ جنوں نے کئی صدیوں کے پردے اُٹھا دیئے تھے۔ وہ شعورِ ذات کی منزل میں آئے اور یوں گویا ہوئے:

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نوائوں میں ہے میرے جگر کا لہو

راہِ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو

[بالِ جبریل]

میرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تو ، شاخِ نشیمن بھی تو

تجھ سے گریباں مرا مطلعِ صبحِ نشور
تجھ سے مرے سینہ میں آتشِ ’اللہ ہُو‘

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ
تو ہی مری آرزو، تو ہی مری جستجو

پاس اگر تو نہیں، شہر ہے ویراں تمام
تُو ہے تو آباد ہیں اُجڑے ہوئے کاخ و کُو

[بالِ جبریل]

اور اب اقبال حقیقت ِ ازلی کی بارگاہ میں، عرفانِ حق کی منزل میں پہنچتے ہیں، جہاں ان کے احساسات بے حجاب ہوجاتے ہیں:

پھر وہ شرابِ کُہن مجھ کو عطا کر کہ میں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سُبو

چشم کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سُبو، خلوتیوں کے کدو

[بالِ جبریل]

مناجات کے ان لمحات میں اقبال مقامِ قرب پر پہنچتے ہیں تو ان کے شوق اور نازوادا کے پَر کھل جاتے ہیں، مگر گومگو کی کیفیت میں کچھ کہا اور بہت کچھ کہنے سے رہ گیا۔ وہ بارگاہِ عظمت اور پھر فلسفہ و شعر کی محدود سرزمین، اور زمان و مکان کے پابند انسان کی کوتاہ اور محدود قوتِ گویائی:

تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں، میرے لیے چارسُو

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رُوبرو

اقبال نے فارسی میں مناجات اور حمدودُعا کا ایک گلزار پیدا کردیا ہے۔ اس میں بھی غزلوں کے علاوہ نظم کے مختلف اصناف میں ان کے ذوقِ تکلّم نے مختلف رُوپ پیدا کیے۔ تاہم یہاں ان کے دید کی شنید کا، یا ان کے شنید کو دُہرانے کا موقع نہیں۔ البتہ یہاں بطورِ نمونہ چند مثالیں پیش ہیں۔ پہلے یہ دُعا:

یارب درونِ سینہ دلِ باخبر بدہ
دربادہ نشّہ را نگرم، آں نظر بدہ

ایں بندہ را کہ بانَفسِ دیراں نزیست
یک آہِ خانہ زاد مثالِ سحر بدہ

سلیم، مرا بجوئے تنک مایۂ مپیچ!
جولانگہے بوادی و کوہ و کمر بدہ

سازی اگر حریفِ یمِ بیکراں مرا
بااضطرابِ موج ، سکونِ گہر بدہ

شاہینِ من بصیدِ پلنگاں گذاشتی
ہمتِ بلند و چنگُل ازیں تیز تربدہ

رفتم کہ طائرانِ حرم را کنم شکار
تیرے کہ نافگندہ فتد کارگر بدہ

خاکم بہ نُور نغمۂ داؤد بر فروز
ہر ذرئہ مرا پر وبالِ شرر بدہ

[زبورِ عجم]

[lاے ربّ! مجھے دلِ باخبر عطا فرما۔ مجھے ایسی نظر دے کہ شراب میں نشہ دیکھ لوں۔ lتیرا یہ بندہ، جس نے کسی سے زندگی مستعار لینا قبول نہیں کیا۔ اسے سحر کی مانند آہِ خانہ زاد (اور یجنل)عطاکر۔lمیں سیلاب ہوں، مجھے کسی چھوٹی ندی کے حوالے نہ کر۔ مجھے ایسی وسعت دے کہ پہاڑوں، وادیوں اور میدانوں کو اپنی آغوش میں لے سکوں۔ lاگر آپ نے مجھے بیکراں سمندربنایا ہے تو پھر اضطرابِ موج کے ساتھ سکونِ گہر بھی عطا فرمایئے! (جس کے اُوپر موجوں کی سی کش مکش ہو، لیکن اندر دل ایسے پُرسکون ہو جیسے صدف کے اندر موتی)۔ lآپ نے میرے شاہین کو چیتوں کے شکار پرچھوڑا ہے تو اسے بلند ہمت دیجیے اور اس کے پنجے کو اور تیز کر دیجیے۔ lمیں اس لیے نکلا ہوں کہ طائرانِ حرم کو شکار کروں۔ مجھے ایسا تیر عطا فرمایئے جو چلائے بغیر ہی کارگر ہوجائے۔ lمیری خاک کو نغمۂ داؤد ؑ سے چمکا دیجیے، اور میرے بدن کے ہر ذرّہ کو شرر بنادیجیے کہ وہ اُڑتا پھرے]۔

وہ ایک مناجات میں اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ وجودِ عالم میں ، خدا کی ہستی ہی جلوہ فرما ہے، میری اپنی ذات میں بھی اسی کا پرتو ہے، مگر بدنصیبی یہ ہے کہ پھر بھی وہ ہستی مجھ سے دُور ہے۔ اے خدا! زندگی کے ساز کا ہرنغمہ تیرافیض ہے اور تیری راہ میں جاں سپاری، رشک ِ زندگی ہے۔ دلِ ناشاد کی تسکین کا تو ہی ذریعہ بن جا، سینوں میں تیرا ہی دوبارہ بسیرا ہو، ہمارا وجود تیرے ہی نام اور عظمت کا ثناخواں ہو۔ تیری محبت اورعشق کے دام بہت بلند ہیں اور یہ دولت ہمارے درمیان نایاب ہے، اسے عطا فرما:

اے جاں اندر وجود عالمی
جانِ ما باشی و از ما می رمی

نغمہ از فیضِ تو  درعودِ حیات
موت در راہ تو محسودِ حیات

باز تسکینِ دلِ ناشاد شود
باز اندر سینہ ہا آباد شو

از مقدر شکوہ ہا داریم ما
نرخِ تو بالا ؤ ناداریم ما

[اسرارِ خودی]

[lآپ کائنات میں بمنزلہ جان ہیں اور ہماری جان ہوتے ہوئے ہم سے گریز کرتے ہیں۔ lزندگی کا ساز آپ کے فیض سے نغمہ زن ہے اور آپ کی راہ میں جو موت آئے اس پر زندگی بھی رشک کرتی ہے۔ lہمارے سینوں میں پھر سے آباد ہوکر ناخوش دلوں کی تسکین کا باعث بنیے۔ lہم سے پھر ننگ و نام کی قربانی طلب کیجیے اور اس طرح ہم جیسے ناپختہ عاشقوں کو پختہ تر بنا دیجیے۔ lہمیں اپنے مقدر سے یہ شکوہ ہے کہ آپ کی قیمت بہت بالا ہے اور ہم مفلس ہیں]۔

اقبال  فرمائش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے خداوند! میری فریاد کی تاب و تپش سے عشق الٰہی کا سرمایہ چُن دے۔ میرے جسم کے بے آب ریگستان کی خاک کو بے باکی اور جرأت کا شعلہ بنادے اور ایمان و کردار میں ایسی بجلی بھردے جو حق کے نُور سے روشن ہو اور باطل کے خاشاک اور جذبات کو نابود کردے۔ میں فنا کے خمیر سے بنا ہوں، لیکن جب موت آئے تو میرے عشق کی پونجی اور میری زندگی کے غبار سے چراغِ لالہ پیدا فرما دے۔ میرے داغِ محبت کو زندگی ٔ نو عطا کر۔ میری تشنگی کی آگ کو ہرطرف بھڑکا دے، پھیلا دے:

اے کہ از خُم خانۂ فطرت بجا مم ریختی
ز آتشِ صہبائے من بگداز مینائے مرا

عشق را سرمایہ ساز از گرمئی فریاد مِن
شعلۂ بے باک گرداں خاکِ سینائے مرا

چوں بمیرم از غبارِ من چراغِ لالہ ساز
تازہ کن داغِ مرا، سوزاں بصحرائے مرا

[پیامِ مشرق]

[lاے وہ ذات! جس نے خم خانۂ فطرت سے میرے جام میں (وافر شراب) انڈیل دی، میری شراب کی آگ سے میری مینا (قلب) کو پگھلا دے۔ lمیری فریاد کی گرمی کو عشق کا سرمایہ بنا، میری خاکِ سینا کو شعلۂ بے باک میں تبدیل کر دے (موسٰی نے صحرائے سینا میں جلوئہ نُور دیکھا تھا)۔ lجب میں مرجائوں تو میرے غبار گُلِ لالہ کا چراغ بنا، (یوں) میرے داغ کو (موت کے بعد) تازہ کرکے مجھے صحرامیں سوزاں رکھ]۔

اقبال کا فن، شعروادب کی مختلف صنفوں میں ، آپ بیتی کے ساتھ جگ بیتی سنانے چلا تو انھوں نے اپنے تخیل کی مدد سے وہ بھی سن لیا، جو کوئی کہہ نہیں سکتا۔ اقبال نے لینن کے معقول تخیلات میں افکارِکج کی پیچ دار نمایش دیکھی تو وہ لینن کو اپنے تخیل کی مدد سے وہاں لے گئے، جہاں يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَۃَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ O (المومن۴۰:۱۹) (وہ خدا آنکھ کے اشاروں اور سینہ کے بھیدوں سے آگاہ ہے) کی عکس ریزیاں اور مالکِ کون ومکان کی جلوہ طرازیاں تھیں۔ کمیونزم نے بیسویں صدی کے نویں عشرے میں پہنچ کر اب جو دیکھا ہے، وہ اقبال نے اشتراکی روس کے بانی لینن کی زبان سے خدا کے حضور میں پہلے ہی بیان کردیا تھا۔ مادّیت اور نفس کے سحر میں گرفتار دُنیا سے، لینن کی فطرت آزاد ہوئی تو اس پر سب بڑی حقیقت کا انکشاف ہو اور وہ بول اُٹھا:

اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

محرم نہیں فطرت کے سرودِازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالقِ اعصار و نگارندئہ آنات

[بالِ جبریل]

مادّی دُنیا کے پیچ و خم کو درست کرنے کے لیے لینن نے جو کارگزاری دکھائی، اس سے انسانی مسائل میں گرہ پر گرہ پڑتی گئی۔ ان گرہوں کے کھولنے کے جو اہل تھے وہ رُوبہ زوال تھے اور جو نااہل تھے وہی میدانِ عمل کے شہ سوار تھے، ان کی شہ پاکر ابلیس کے لَمس نے نظامِ زندگی کو غیرمتوازن بنا دیا تھا۔ لینن نے مغرب کے علم و ہُنر کی ان کمزوریوں کو واشگاف کردیا ہے:

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

بے کاری و عریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی برق و بخارات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

لینن کو مغرب کے زوال کے آثار بھی نظر آئے، وہ کہتا ہے:

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرابات

چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سرِشام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

کامریڈ لینن، گزارشِ احوال واقعی کے بعد انسانیت کے درد کے درماں کے لیے بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے:

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات

جاہلیت اور مادّیت کےطوفان میں کشتی کو ساحلِ مراد تک لانے کا کام ان لوگوںکا تھا جو عالمانِ دین ہیں، مگر ان کی صفوں میں مُلّائے قیل و قال کی دراندازی نے بحث و جدال کا ماحول پیدا کردیا اور اصل حقیقت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اقبال نے اپنی ایک نظم میں اس کی بھی شکایت کی، اِسے مناجات کہیں یا مناجات کا سا طرزِسخن، بہرحال بارگاہِ الٰہی میں اقبال کا یہ شکوہ بھی:

میں بھی حاضر تھا وہاں ، ضبطِ سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرتِ مُلّا کو ملا حکمِ بہشت

عرض کی میں نے، الٰہی! مری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حُور و شراب و لبِ کشت

نہیں فردوس مقامِ جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرِشت

ہے بدآموزیِ اقوام و مِلل کام اس کا
اور جنّت میں نہ مسجد ، نہ کلیسا، نہ کُنشِت

[بالِ جبریل]

اقبال نے قیل و قال میں اُلجھے مُلّا کو اگرچہ، حضرتِ حق سے حکم بہشت دلوا دیا ہے، شاید اس کے خلوص اور دین خداوندی سے اس کی گہری وابستگی کی بناپر،اس کی زاہدانہ زندگی اور مذہبی غیرت کی وجہ سے ، مگر اس کی تیز حِس جو بات بات پر بھڑک اُٹھتی ہے اور اس کی ملّی حمیت جو رونقِ اسلام کے لیے کفر و شرک کی ذرا سی آہٹ پاکر چوکنا ہوجاتی اور بحث و تکرار کا موقع تلاش کرلیتی ہے اور جو اقوام و مِلَل کے ساتھ خوش گواری اور حُسنِ معاملہ کی اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کردیتی ہے، اقبال کو اِس ادا پر اعتراض ہے اور وہ اسے حُسنِ اخلاق سے اور بحث و تکرار کو سازِ دل کے پُرسوز نغموں سے بدلنا چاہتے ہیں۔

اقبال اپنی مناجات، حمدوشکوہ اور دُعا کے علاوہ اپنی غزلوں ، نظموں، رباعیات اور قطعات میں جب شوخی اور سرمستی کا کیف پاتے ہیں تو ان کے مقام نازونیاز کی رفعتیں دیدنی ہوتی ہیں۔ اس میں ان کے اسلوب کا تنوع، ان کے مچلتے جذبات کی دھوپ چھائوں،رحمت ِ حق کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے انداز و طور یہ پتہ دیتے ہیں کہ ان کی بلندحوصلہ طبیعت کے شانہ بشانہ ان کی مناجات کو بامِ بلند تک پہنچاتے ہیں   ؎

جزء لالہ نمی دانم، گویند غزل خوانم
ایں چیست کہ چوں شبنم برسینۂ من ریزی

[زبورِ عجم]

[lمیں تو نالہ و فریاد کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں غزل خواں ہوں۔ lیہ شبنم کی طرح کی چیز کیا ہے، جو آپ میرے سینے پر نازل فرما رہے ہیں؟ (سکینت کو شبنم کہا ہے]۔

ایک غزل میں ان کا اندازِ تخاطب کچھ اس طرح ہے:

اِک دانش نورانی، اِک دانش بُرہانی
ہے دانش بُرہانی ، حیرت کی فراوانی

اس پیکرِ خاکی میں اِک شے ہے ، سو وہ تیری
میرے لیے مشکل ہے اُس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک
تُو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

[بالِ جبریل]

اقبال کو بارگاہِ الٰہی سے جو خودی اور سرشاری عطا ہوئی ہے ، اور ان کے لیے جس جوہرِادراک کو ارزاں کردیا گیا ہے، وہ اسے تمام انسانوں کا مشترک سرمایہ بنانا چاہتے ہیں، ’ساقی نامہ‘ کی ابتدا تو اس طرح ہوتی ہے:

شراب کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لاساقیا

مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا
مری خاک جگنو بنا کر اُڑا

خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

[بالِ جبریل]

مگر اسی نظم میں ان کی نظر میں جب اس عنایتِ ربّانی پر پڑتی ہے، جو مسلسل ان پر ہوتی رہی تو وہ درخواست کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ عام انسانوں کو بھی عطا ہو:

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق ، میری نظر بخش دے

مرے دیدئہ تر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز

اُمنگیں مری، آرزوئیں مری
اُمیدیں مری ، جستجوئیں مری

مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالانِ افکار کا مرغزار

مرا دل ، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر ، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں مَیں امیر

مرے قافلے میں لُٹا دے اُسے
لُٹا دے ، ٹھکانے لگا دے اُسے

[بالِ جبریل]

اقبال کی غزلوں میں حمد کا ایک رنگ تو یہ ہے:

چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں، سورج میں، تارے میں

[بانگِ درا]

اور کہیں شوقِ دید میں اس طرح محوِ کلام ہیں:

کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

[بانگِ درا]

اور اس دَریا رتبہ تک رسائی کے بعد ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ گنہگار اور پریشان انسانیت کے لیے یہی جائے امان ہے۔ کون و مکان کا خالق اور ربّ، ستم رسیدہ ، بے چین اور شرمسار انسانوں کی سب سے بڑی اور آخری پناہ گاہ ہے:

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی توکہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

[بانگِ درا]

اقبال کو بخوبی احساس ہے کہ ان کا نالہ رَسا ہے، ان کی غزل ہنگامہ آفریں ہے، ان کے الفاظ اگرچہ دیر و حرم کی اصطلاحوں سے ترجمانی کا سلیقہ حاصل کرتے ہیں، مگر ان لفظوں کے ذریعے جو وہ نغمہ پیدا کر رہے ہیں، اس سے فرش اور عرش دونوں کے مکیں یکساں طور پر متاثر اور مخمور ہوتے ہیں:

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بتکدئہ صفات میں

حُور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلّیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش بند
میری فغاں سے رست خیز کعبہ و سومنات میں

[بالِ جبریل]

وہ اپنے بارے میں کسی خود فریبی کا شکار نہیں ہیں، اپنی بلندی و پستی دونوں کا شعور رکھتے ہیں:

گاہ مری نگاہِ تیز، چیر گئی دلِ وجود
گاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہّمات میں

اقبال کی مناجات میں حمد اور حمد کے اشعار میں مناجات، جب تغزل کی لَے اور غزل کے ترنّم سے دوآتشہ ہوجاتے ہیں تو اس بادہ کی تندی، پڑھنےوالوں کو بھی سرشار اور بے خود کر دیتی ہے اور وہ بھی شریکِ مناجات ہوکر، اقبال کے اشعار گنگنانے لگتے ہیں:

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تو ہے محیط بے کراں، میں ہوں ذرا سی آبجُو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزَف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر

نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دَمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

[بالِ جبریل]

اقبال اس حقیقت سے بھی باخبر ہیں کہ انسان کو خدا کی نظر میں، ساری کائنات کے مقابلے میں جو کرامت حاصل ہے، اس کی وجہ سے یہ بشر گوہر تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے خالق کی نظر میں یہ انسان ہی محبوب ترین ہے، اسی لیے یہ ’مورِناتواں‘ اپنے پَروں کو دیکھ کر نازاں ہوجاتا ہے اور جب قدموں پر نظر جاتی ہے تو شرمساری کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مذکورہ غزل کے دو آخری شعر، اس منظر کی عکاسی کرتے ہیں:

باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں؟
کارِجہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرم سار ہو، مجھ کو بھی شرم سار کر

رُباعیاتِ اقبال میں دانشِ اقبال نے اپنے فکروفن کے اظہار کے لیے مختصر پیمانہ اپنے ہاتھوں میں لیا ہے، مگر اس ذرا سی آبِ جو میں، محیط ِ اقبال اسی طرح موجیں مار رہا ہے، جس طرح وہ دوسرے پیمانوں (اصنافِ سخن) میں چھلکتا اور موجیں مارتا ہے۔ یہاں حُسنِ طلب نے جمال اور عظمت کی صورت بھی اختیار کی ہے اور اپنے درد و کرب اور بے بسی کا اظہار بھی کیا ہے اور پھر وہ اعترافِ حق کے طور پر اپنی آہِ سحر اور نُورِ بصیرت کے موتیوں کو بھی مناجات کی لڑی میں پرو کر بالِ جبریل میں پیش کر دیتے ہیں:

ترے شیشے میں مَے باقی نہیں ہے
بتا ، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے

__________

دلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر

جسے نانِ جَویں بخشی ہے تُو نے
اُسے بازوئے حیدرؓ بھی عطا کر

__________

عطا اسلاف کا جذبِ دروں کر
شریکِ زمرئہ لَا یَحْزَنُوْں کر

خِرد کی گتھیاں سلجھا چکا مَیں
مرے مولا! مجھے صاحبِ جنوں کر

__________

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پَر  دے

خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نُورِ بصیرت عام کر دے

اقبال کی ادبِ مناجات کے اس جائزے کا اختتام ایک فارسی رُباعی پر موزوں معلوم ہوتا ہے۔ انھوں نے بارگاہِ الٰہی میں جس خوب صورتی سے، ذاتِ رسولؐ کا ذکر کیا ہے، اس میں حمدونعت کا ایک دل کش تخیل، ایسا دے گئے ہیں، جو قلب کو گرمادے اور روح کو تڑپا دے:

بہ پایاں چوں رسد ایں عالَم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر

مکن رسوا حضورِ خواجہؐ ما را
حسابِ من ز چشمِ او نہاں گیر

[ارمغانِ حجاز]

یہ سن رسیدہ جہانِ آب و گل ،جب ختم ہواور تقدیر کے تمام بھید بے پردہ ہوجائیں تو اس وقت خواجہ یثرب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں،اے خداوند! مجھے رُسوا نہ کیجیے گا ، ان کی نظروں سے بچا کر ہی میری حساب فہمی کرلیجیے گا۔

علامہ اقبال کی ایک اور رُباعی بھی باندازِ دگر، اسی تخیل کی ترجمانی کرتی ہے اور وہ یہ ہے:

تو غنی ازہر دوعالم من فقیر
روزِ محشر عُذر ہائے من پذیر

ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفیٰ پنہاں بگیر

[ارمغانِ حجاز]