اپریل۲۰۲۲

فہرست مضامین

عرب دُنیا میں بھارت کا اثر ونفوذ

ارشاد محمود | اپریل۲۰۲۲ | اخبار اُمت

عرب ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے کاروباری روابط روز بہ روز گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ انھوں نے بھارت کے ساتھ صرف معاشی، دفاعی اور خفیہ کاری کے میدان میں ہی تعلقات کو غیرمعمولی وسعت نہیں دی ہے، بلکہ کئی ایک ’مطلوب‘ افراد کو بھارت کے حوالے کیاگیاہے، جنھیں بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں سرگرم گروہوں سے وابستہ قراردیتے تھے۔

جنوری ۲۰۰۶ء کے آخری ہفتے میں سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے بھارت کا دورہ کیا، اور دونوں ممالک نے اگلے برسوں میں تیزی سے دوطرفہ تعلقات کو استوار کرنا شروع کیا۔ بعدازاں دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے اور ’اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کونسل‘ تشکیل دی گئی۔ چنانچہ دونوں ممالک میں ’انسداد دہشت گردی‘ کے نام پر سیکورٹی تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا۔

سعود ی عرب اور متحدہ عرب امارات، عالمی اور علاقائی معاملات میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور باہمی مشاورت سے ہر میدان میں ہم قدم ہوکر پیش رفت بھی کرتے ہیں۔بھارت کے حوالے سے دونوں ممالک لگ بھگ یکساں پالیسی پر کاربند ہیں۔

فروری ۲۰۲۲ء میں سعودی فوجی سربراہ نے بھارت کا تین روزہ دورہ کیا۔ یہ دونوں ممالک دفاعی میدان میں تعاون کے دائرہ کار کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔ ۲۰۱۸ء سے بھارت اور سعودی عرب کی مسلح افواج کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے جاری ہیں۔ بھارت کے دفاعی تربیتی اداروں میں شاہی سعودی افواج کے افسران کی تربیت پر اتفاق ہوچکا ہے۔ پھر سعودی عرب اور بھارت کی بحریہ کے درمیان تعاون کا سلسلہ کافی گہرا ہوچکا ہے۔ اگلے مرحلے پر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے مابین مشترکہ فوجی مشقیں، عسکری عہدے داروں کے تبادلے اور مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کے شعبوںمیں تعاون کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔

سالِ رواں فروری میں متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے میں طے پایا ہے کہ ’’دونوں ممالک اپنے موجودہ تجارتی حجم جو۶۰؍ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، اسے بڑھا کراگلے پانچ برسوں میں سو ارب ڈالر تک لے جائیں گے‘‘۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ شارجہ سے سری نگر کے لیے شہری ہوابازی کی پروازیں بھی شروع کی جاچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے اس پیش رفت پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاکہ عرب امارات کے ساتھ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو۔

بھارت کی جانب خلیجی ریاستوں کے موجودہ رجحانی پس منظر میں کئی محرکات کارفرما ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کی قیادت کو احساس ہے کہ تیل پر دنیا کے انحصار کی مدت تھوڑی رہ گئی ہے۔ وہ تیل کے متبادل معیشت کھڑی کرنے کے لیے سرپٹ دوڑ رہے ہیں ۔ تیل پر دنیا کا انحصار ختم ہونے سے قبل وہ اپنے ملکوں کو عصر حاضر کی کاروباری صنعتوں، یعنی آئی ٹی، سیاحت اور دیگر ذرائع سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔اس پس منظر میں وہ بھارت میں کاروبار کے خاصے مواقع دیکھتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات آبادی اور رقبے میں چھوٹا ملک ہونے کے باوجود کاروبار، تجارت اور سیاحت کے شعبوں میں سعودی عرب سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ سعودی عرب کا خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ کاروباری تعلقات کے فروغ کے نتیجے میں اسٹرے ٹیجک اہداف حاصل کرنے میں مدد  مل سکتی ہے، اور وہ بھی عرب امارات کی طرح تیل کے بجائے دیگر ذرائع آمدن پیدا کرسکتاہے۔ چنانچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھارت میں انفراسٹرکچر اور تیل کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

بھارتی حکومت نے اپنی جگہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معاشی ترجیحات اور ہنرمند کارکنان کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھ کر خود کو ان ممالک کے لیے اسٹرے ٹیجک اور اقتصادی لحاظ سے مفید بنایا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مل کر بھارتی ہنرمندوں کی اپنے ممالک میں آمد کو آسان بنانے کے لیے ملکی قوانین میں بھی نمایاں تبدیلی کررہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ بھارتیوں کی آمد ممکن ہو۔

امریکا انسانی حقوق اور جمہوریت کا دَم بھرنے کے باوجود خلیجی ریاستوں میں بادشاہوں کو مفید حلیف تصور کرتا ہے کہ مالی اور اسٹرے ٹیجک مفادات کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ان ممالک کو شیر وشکر کرادیا ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے استوار ہونے کے ساتھ ہی بھارت کے لیے مشرق وسطیٰ کے دروازے چوپٹ کھل گئے۔ عرب ممالک کے اسرائیل کے تئیں بدلتے رویوں اور پالیسی سے بھی پاکستان اور ان ممالک کے تعلقات بالواسطہ طور پر متاثر ہو ئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے تمام دباؤ کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اس کے برعکس بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات دفاع اور انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ ٹکنالوجی منتقلی جیسے حساس شعبوں میں دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

عرب ممالک اور بھارت میں ایک اور قدر مشترک امریکا کے ساتھ گہرے دوستانہ اور کاروباری روابط ہیں۔ دنیا میں جو نئی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے، اس میں امریکی حکام، پاکستان سے محدود تعلقات رکھنے تک رہنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت بھی امریکیوں کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان عشروں سے پائی جانے والی خلیج اب کشیدگی اور تناؤ کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے نزدیک پاکستان کی سوچ اور خارجہ حکمت عملی ایران، امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے ان ممالک کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی۔

یمن اور سعودی عرب کی جنگ کے دوران ۹مارچ ۲۰۱۵ء کو پاکستان کے وزیرخارجہ نے سعودی خواہش پر وہاں پاکستانی فوج بھیجنے سے انکار کیا، اور۱۰؍اپریل کو پاکستانی پارلیمنٹ نے اس فیصلے کی توثیق کی۔ یہ فیصلہ سعودی عرب اورعرب امارات کو بہت ناگوار گزرا۔ اس دوران بھارت کو مزید موقع ملا کہ وہ ان ممالک میں اپنا اثرورسوخ تیزی سے بڑھائے اور پاکستان کے روایتی اثر و نفوذ کو کم کرے،حتیٰ کہ ان ممالک کا پاکستان کے دفاعی اداروں پر انحصار کم کرائے۔

پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کا ایک سبب مسئلہ کشمیر بھی ہے۔ گذشتہ ایک عرصے سے یہ ممالک مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کے لیے نہ آواز اٹھا تے ہیں اور نہ کسی فورم پر پاکستانی نقطۂ نظر کی طاقت ور حمایت کرتے ہیں۔ اسی لیے گذشتہ برس اگست میں پاکستانی وزیرخارجہ نے اس معاملے پر سعودی قیادت اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر سعودی عرب نے ناراضی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کو دی گئی اُدھار رقم بھی واپس مانگ لی گئی تھی۔

عالم یہ ہے کہ مارچ ۲۰۱۹ء میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ابوظہبی میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔حالانکہ محض ایک ماہ قبل بھارت اور پاکستان کی فضائی جھڑپوں میں کم از کم ایک بھارتی جنگی طیارہ مار گرایا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ان ممالک کو پاکستان کی مختلف امور میں حساسیت کی کوئی پروا نہیں ہے۔

 مشرق وسطیٰ کے ممالک خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی قیادت، عالمی کھلاڑی کی شناخت چاہتی ہے، نہ کہ ایک علاقائی ملک کا درجہ۔ اس کے سیاسی عزائم کی بلندی کو مالی وسائل، دُنیابھر کے سیاحوں کے لیے مخصوص ماحول کی فراہمی اور کامیاب سفارت کاری کے آدرش مضبوط سہارا دیتے ہیں، جب کہ پاکستان اس کھیل میںانھیں موزوں نہیں لگتا۔

۲۵ لاکھ پاکستانی ہنر مند سعودی عرب میںاگرچہ ابھی تک مقیم ہیں، لیکن اب سعودی عرب کو بنگلہ دیش، بھارت، افغانستان، نیپال، فلپائن اور دنیا کے دیگر علاقوں سے سستی اور نرم شرائط پر لیبر دستیاب ہوجاتی ہے۔دوطرفہ تجارت کی صورتِ حال بھی گراوٹ کا شکار ہے۔ ہمارا موجودہ تجارتی حجم ۶ء۳ ؍ ارب ڈالر ہے اور اس میں درآمدی حصہ ۲ء۳ ؍ ارب ڈالر ہے۔ بیشتر حکومتوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تجارتی حجم ۳۳؍ ارب ڈالرسے تجاوز کرچکا ہے۔

  پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کا ماضی قریب میں زیادہ تر دارومدار دفاعی یا اسٹرے ٹیجک نوعیت کارہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اداروں کے درمیان تعلقات، ساٹھ کے عشرے سے بہت گہرے اور دوستانہ رہے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب کے ہزاروں فوجیوں کو عسکری تربیت فراہم کرتاہے اور اس کی فوج بھی سعودی عرب میں تعینات ہے۔ ان دوطرفہ تعلقات میں ناہمواری دُور کرنے میں پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری قیادت کا بنیادی کردار رہاہے۔

روایتی طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج پر پاکستان کاگہرا اثرونفوذ رہاہے،جس کی وجہ سے وہ بھارت سے دُور رہے۔ایک زمانہ وہ تھا کہ متحدہ عرب امارات کے پہلے پانچ ایئر چیف پاک فضائیہ کے افسر رہے ہیں۔ پاکستان ۱۹۶۷ء سے مسلسل سعودی عرب کی فوج اور فضائیہ کے لیے تربیت کار مہیا کرتا آیا ہے۔ پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں تعینا ت ہیں، حتیٰ کہ پاکستانی کمانڈوز، دارالحکومت ریاض میں شاہی خاندان کی حفاظت پر بھی مامور ہیں۔

مگر اب بھارت، پاکستان کو ایسے میدانوں سے بھی بے دخل کررہاہے، جہاں پہلے پاکستان کی بالادستی تھی۔ بھار ت کے ان ممالک کے دفاعی اداروں کے ساتھ تعلقات میں نمایاں اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ چھے برسوں میں آٹھ دفعہ عرب ممالک کا دورہ کیا، جن میں تین بار متحدہ عرب امارات اور دو بار سعودی عرب کا۔ مسٹرمودی کو متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اکتوبر ۲۰۲۱ء میںسعودی عرب کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین اسٹرےٹیجک پارٹنرشپ کونسل کا قیام عمل میں آیا ۔ اس طرح بھارت، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن گیا، جس کے ساتھ سعودی عرب نے اسٹرے ٹیجک شراکت داری قائم کی ۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کے مطابق بھارت کو سعودی عرب کے آٹھ اسٹرے ٹیجک شراکت داروں چین، برطانیہ، امریکا، فرانس، جرمنی، جنوبی کوریا اور جاپان میں سے ایک قراردیاگیا ہے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۸ء میں بھارت نے سعودی عرب سے ۲۱ء۲؍ ارب ڈالر کا خام تیل درآمد کیا، پاکستان نے ۹ء۱ ؍ارب ڈالر کا درآمد کیا۔ سعودی کمپنیاں نہ صرف بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہیں، بلکہ انھوں نے زراعت اور ٹیلی کمیونی کیشن سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

پاکستان کے خلاف بھارت اور مغربی ملکوں کے منفی پراپیگنڈے کے نتیجے میں اب یہ عرب ممالک، پاکستان کی لیبرفورس سے بھی گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی بن فیصل نے ایک بار پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے بارے میں کہا تھا کہ ’’دنیا میں شاید ہی کوئی دو ممالک ایسے ہیں جن کے تعلقات پاکستان اور سعودی عرب کی طرح بغیر کسی معاہدے کے دوستانہ اور برادرانہ ہوں‘‘۔ پاکستانی حکام کو یہ تلخ حقیقت بھی یاد رکھنا ہوگی کہ سعودی یا اماراتی معاشی امداد اب اپنی قیمت بھی مانگتی ہے۔اگر پاکستان ان ممالک کے اشارے پر چلنے پر آمادہ نہیں اور متوازن یاآزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنا چاہتاہے تو اسے سعودی عرب کے آگے معاشی امداد کے لیے باربار درخواست کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ اب ان ممالک کی معاشی امداد یا قرض غیر مشروط نہیں رہیں گے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کے اعلیٰ عہدوں پر فائز بے شمار پاکستان نواز رہنما اب منظر نامہ پر نہیں رہے۔

پاکستان کو کئی عشروں کے بعد احساس ہوا ہے کہ کمزور معیشت والے ملک کو اس کی مضبوط فوج زیادہ دیر تک سہارہ نہیں دے سکتی ۔ پاکستان کے سول اور فوجی پالیسی سازوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اب کسی علاقائی یا عالمی تنازعے میں نہیں اُلجھے گا۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا علَم بردار بننا چاہتاہے۔ جغرافیائی محل وقوع کو معاشی اورتجارتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے ترقی او ر خوش حالی حاصل کرے گا۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے فروری ۲۰۲۱ء میں بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ لیکن بھارت کی طرف سے مطلوبہ جواب نہ ملنے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری میں کوئی تبدیلی نہ آسکی۔

سعودی عرب، مسلم دنیا میں اپنی قیادت اور اسلامی ساکھ برقراررکھنے میں ابھی تک دلچسپی رکھتاہے، اور او آئی سی کے ذریعے مسلم دنیا کی سربراہی بھی اپنے پاس رکھنا چاہتاہے۔ اس لیے وہ پاکستان کو ترکی ، ایران اور ملائیشیا کی طرف کلی طور پر دھکیلنا نہیں چاہتا۔ اس منظرنامے میں خود پاکستان کے لیے لازم ہے کہ سعودی عرب کو اپنے قریب رکھنے کے حوالے سے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرے۔

پاکستان کو عرب ممالک میں موجود تارکین وطن کو ہنر مند اور مفید شہری بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ان ممالک کے تعمیراتی اور معاشی منصوبوں: سعودی ویژن ۲۰۳۰ء، کویت ویژن ۲۰۳۵ء اور عمان کا ویژن ۲۰۴۰ء کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ بیرون ملک ملازمت میں دلچسپی رکھنے والے کارکنوں کو ان منصوبوں کے لیے موزوں ہنر کی تربیت دی جائے، جس کے نتیجے میں وہ عرب ممالک کی لیبر مارکیٹ میں پائی جانے والی مسابقت میں حصہ لینے کے قابل ہوسکیں۔

 پاک فوج کے سعودی افواج اور اداروں کے ساتھ گہرے تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ مشقوں اور تربیتی مشنوں سمیت کئی میدانوں میں دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس طرح کی سرگرمیوں کو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹرے ٹیجک تعاون کے دائرے میں لانے اور مسلسل وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

 سعودی اور اماراتی حکام اور شہریوں کے اندر پاکستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کو برقرار رکھنا اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کا ہونا، پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ علاوہ ازیں ایسے اقدامات بھی کیے جانے ضروری ہیں، جن سے پاکستان، عرب ممالک کے لیے سرمایہ کاری کی ایک پرکشش منزل بن سکے۔

 پاکستان کو اپنے معاشی اور اداراتی ڈھانچے کو جدید اور فعال خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، جو عہد حاضر کے تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ سعودی عرب ۲۰۱۹ء میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتاتھا، لیکن حکومت پاکستان اپنے روایتی سُست رو طرزِعمل، بوجھل بیورو کریٹک زنجیروں اور فرسودہ قوانین کی وجہ سے ضروری اصلاحات نہیں کرسکی ۔تاہم، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دیگر وجوہ کے علاوہ بڑے تجارتی لین دین میں پاکستان کی تکنیکی صلاحیت محدود ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان، سعودی سرمایہ کاری سے محروم ہوگیا۔

حقیقت یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نے پاکستان کو ہر سطح پر کمزور کیا۔ ہر حکومت کو دھڑکا لگا رہتاہے کہ وہ آج گئی کہ کل گئی۔ الیکشن کی شفافیت کو تسلیم نہیں کیاجاتا۔ امرواقعہ ہے کہ مضبوط معیشت ہی ممالک کے درمیان پائے دار تعلقات کا جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ ملکوں اور قوموں کے تعلقات میں محض مذہبی، تاریخی اور سماجی رشتوں پر انحصارعصر ی حالات میں کافی نہیں ہوتا۔ دوسروں کو بے وفائی کا طعنہ دینے کے بجائے پاکستان کو اپنے حصے کا کردار دل جمعی سے ادا کرنا ہوگا، اور ان کمزوریوں کی اصلاح کرنا ہوگی، جن کے نتیجے میں پاکستان کو بے وزن کیا گیا ہے۔