اپریل۲۰۲۲

فہرست مضامین

علامہ محمد اسد اور نظریۂ پاکستان کی تعبیر-۲

ڈاکٹر محمد ارشد | اپریل۲۰۲۲ | پاکستانیات

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد جب محمد اسد نے یہ دیکھا کہ معاشرے اور ریاست کی تعمیروتشکیل میں قرآن حکیم اور تعلیماتِ نبویؐ کو رہنما بنانے سے متعلق قائدین تحریک ِ پاکستان کی طرف سے کیے گئے اعلانات کے باوجود، نہ صرف یہ کہ عملاً اس راہ پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہاہے بلکہ حکومت ایک غیر اعلان شدہ پالیسی کے تحت سیکولرازم کی راہ پر چل نکلی ہے، اور نوآبادیاتی نظام کی محافظ و وارث بنتی چلی جارہی ہے ،تو اس منظرنامے پر وہ تڑپ اُٹھے جس پر اپنے تحفظات و خدشات کا انھوں نے اظہار یوں کیا:

In spite of the many pronouncements made on the highest levels to the effect that Pakistan will be run in accordance with the spirit of the Qur'an, it is widely felt that nothing concrete has been done so far to implement this promise, and that on the contrary there is evidence enough to show that the government is drifting towards a more or less pronounced "Secularism" on the model of Western world.

مملکت ِ پاکستان کے سیاسی و حکومتی نظام کو قرآنِ حکیم کی روح کے مطابق چلانے سے متعلق ہمارے صف ِ اوّل کے قائدین کے اَن گنت اعلانات کے باوجود، عام طور پریہ محسوس کیا جارہا ہے کہ تاحال اس عہد کو پورا کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا ہے، بلکہ اس کے برعکس اس امر کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ حکومت علانیہ طور پر مغربی طرز کی لادینیت (سیکولرازم) کی راہ پر گامزن ہوچلی ہے۔

.... Today the government is estranged from the innermost longing of our people.They are looking upon it as an heir of the old British bureaucracy, and their original hope is gradually dying out. They wanted leadership in the ideological sense but they did not find it.

آج حکومت ہمارے عوام کی اُمنگوں سے بیگانہ اور لاتعلق ہوچکی ہے ، چنانچہ وہ اسے برطانوی افسرشاہی کی جانشین اور وارث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور ان کی حقیقی اُمنگیں دم توڑ رہی ہیں۔ وہ تو ایک نظریاتی قیادت کے خواہاں تھے لیکن اس نوع کی قیادت انھیں میسر نہ ہوسکی۔

محمد اسد نے نظریۂ پاکستان سے انحراف و برگشتگی کی روش اور سیکولرقومی ریاست کے تصور کی طرف مقتدر طبقوں کے میلان کو سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ دراصل وہ اس طرز فکر و عمل کو امت مسلمہ کے دین و عقیدے کے منافی تو گردانتے ہی تھے، ان کی رائے میں سیکولر قومی ریاست کے تصور پر اصرار پاکستان کی بنیادوں پرتیشہ چلانے کے مترادف بھی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اسلامی ریاست کے نظریے، جو ان کی نگاہ میں تحریک پاکستان کا اساسی نصب العین، اس کی حقیقی غایت اور پاکستان کی اصل نظریاتی بنیاد تھا، سے انحراف و برگشتگی کے منفی نتائج و عواقب سے خبردار بھی کیا۔ انھوں نے اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ پاکستان کا وجود ایک نظریے اور نصب العین کا رہین منت ہے اور یہ ملک اس نظریے اور نصب العین سے پختہ اور غیر متزلزل وابستگی کے سبب ہی سے قائم رہ سکتا ہے۔ اس نظریے سے انحراف اور اس کے بارے میں فکری ابہام کا مطلب پاکستان کو انتشار و افتراق اور خلفشار سے دوچار کرناہے۔

محمد اسد کے نزدیک قوموں کی زندگی میں ایک اعلیٰ و ارفع نصب العین اور مثالیت پسندی (Idealism) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ چیز کسی بھی قوم کی ترقی و عروج کے لیے جذبۂ محرکہ کا کردار ادا کرتی ہے اور اس کے افراد میں اتحاد و یگانگت کا مؤثر ترین ذریعہ ہوتی ہے، جب کہ کسی اعلیٰ نصب العین کی عدم موجودگی میں وہ قوم بے مقصدیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ بنا برایں ان کے خیال میں پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام کا راز تحریک پاکستان کے نظریاتی نصب العین سے غیر متزلزل وابستگی اور اس کو عملاً حقیقت میں بدلنے ہی میں مضمر ہے۔{ FR 794 }  اسد کسی عارضی مصلحت یا سیاسی تدبیر کے نام پر بھی تحریک پاکستان کے نصب العین سے انحراف کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک:

".... an evasive postponement of our "long-term", Islamic objectives in favour of what some people regard (quite worngly) as momentarily "expedient" or "politic", must have a determental effect on our community's moral tenor and can only result in our greater estrangement from the ways of true Islam.

اصل اسلامی مقاصد سے وقتی مصلحت کے طور پر گریز پائی ایک ایسی ناعاقبت اندیشی ہے جس سے ہم مسلمانوں کے اخلاق و مزاج پر نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں، جس کا نتیجہ حقیقی اسلام کے اصولوں سے انحراف ہوگا۔

محمد اسد کی نگاہ میں پاکستان کے استحکام اور اس کے تحفظ و بقا کے لیے اسلامی قومیت کے نظریے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی نگاہ میں اسلامیانِ پاکستان ایک نظریاتی ملت ہیں، ان کی قومیت کی بنا اسلام ہے۔ اسلام سے جذباتی و شعوری وابستگی کے احساس و جذبے نے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سیاسی طور پر متحد و یکجا کیا اور یہی امر مطالبہ و قیامِ پاکستان کا محرک بنا۔ پاکستان عالم اسلام کی دیگر عرب و غیر عرب ریاستوں کے برعکس ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، چنانچہ یہ صرف اسی نظریے سے وابستگی کی بنا پر ہی قائم رہ سکتا ہے۔ اسلام کو اگر معاشرہ اور ریاست کی تعمیروتشکیل میں فیصلہ کن حیثیت نہ دی جائے تو پاکستانی ملت کے مختلف عناصر کو باہم پیوست اور یکجا کرنے والی کوئی قوت باقی نہیں رہ جاتی۔

 اسلام سے غیر متزلزل وابستگی اور اسلامی قومیت کے تصور کے احیاء سے ہی ملت اسلامیہ پاکستان کے مختلف نسلی و لسانی گروہوں پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، بنگالی اور پھر مہاجرین اور مقامی آبادی کے درمیان اتحادویگانگت پیدا ہوسکتا ہے۔ جب کہ اسلام کے بعد ان گروہوں کو باہم متحد کرنے والی کوئی حقیقی بنیاد ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ چنانچہ ان کو آپس میں متحد و یکجا اور باہم پیوست کرنے والی بنا کے ڈھ جانے سے یہ گروہ مختلف نسلی و لسانی اور علاقائی عصبیتوں کے نرغے میں آجائیں گے اور پاکستان کی بقا و استحکام اور اس کی سالمیت و یکجہتی خطرے میں پڑجائے گی۔ اسلامی نظریے سے انحراف کی صورت میں یہ ملک افتراق و انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ جب کہ اس کے برعکس اسلامی نظریۂ قومیت کو جس قدرعوام کے ذہنوں میں راسخ کیا جائے گا پاکستان اسی قدر مضبوط ومستحکم اور طاقت ور ہوگا۔ غرضیکہ محمد اسد کے نزدیک اسلام اور اسلامی قومیت کے نظریے کے علاوہ دوسری کوئی اور چیز، قومیت کا کوئی اور نظریہ اور حُب الوطنی کی کوئی دوسری تدبیر ان مختلف و متنوّع عناصر کو یکجا نہیں رکھ سکتی۔

پاکستان کے استحکام، اس کی علاقائی سالمیت و یکجہتی اور تحفظ و بقا کے بارے میں اسد کا یہ نقطۂ نظر اور تجزیہ، جس کا اظہار انھوں نے قیام پاکستان کے ساتھ کیا تھا، بڑا درست اور مبنی بر حقیقت ثابت ہوا۔ پاکستان میں کسی واضح اور متعین نصب العین کی عدم موجودگی (اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کے مقصد سے دور ہٹ جانے کے بعد) کے سبب فکری ابہام و انتشار نے جنم لیا۔ اسی طرح اس وقت کی سیاسی قیادت کی طرف سے اسلامی قومیت کے تصور کے بجائے پاکستانی قومیت کے تصور پر زور کے نتیجے میں لسانی و نسلی عصبیّتوں کے طوفان نے سراٹھایا۔

صوبائی عصبیت کے اس فتنے کا نتیجہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا اور باقی ماندہ پاکستان میں پہلے پختون اور بلوچ قوم پرست تحریکوں نے سراٹھایا، پھر مہاجر اور سندھی کش مکش برپا ہوئی۔ قدیم مقامی باشندوں کے مفادات میں ٹکراؤ کی اس صورتِ حال نے ملک کو تباہی سے دوچار کیا۔پاکستان کے جن دانش وروں نے اس ملک کو درپیش حقیقی مسائل و مشکلات کا جائزہ لیا ہے اور داخلی افتراق و انتشار، صوبائیت و علاقائیت اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و محرکات پر بحث کی ہے، وہ کم و بیش انھی نتائج پر پہنچے ہیں، جن سے محمد اسد بہت سال پہلے خبردار کرچکے تھے-

اسلامی ریاست کے تصوّر پر اعتراضات اور محمد اسد کا نقطۂ نظر

قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی لامحالہ طور پر اس نوزائیدہ مسلم ریاست کے نظام سیاست و حکومت کے بارے میں بحث مباحثہ میں تیزی آگئی۔ جدید تعلیم یافتہ افراد، جن میں بعض مسلم لیگی رہنما بھی شامل تھے، ان کی طرف سے اسلامی ریاست کے تصور کی شدید مخالفت، اور سیکولر قومی ریاست کے قیام کی پُر جوش وکالت کی گئی۔ اس طبقے کی طرف سے پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کے مطالبے پر جو اعتراضات کیے گئے، یا پھر اس تصور کے جدید دور میں قابلِ عمل ہونے کے بارے میں جو شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے وہ اس طرح کے تھے:

       ۱-    اسلام مملکت و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظام اور اصول تجویز نہیں کرتا۔  قرآن و سنت میں دستور اور سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی ضابطے اور اصول ذکر نہیں کیے گئے ہیں بلکہ یہ معاملات انسانی عقل و فہم کے حوالے کیے گئے ہیں۔ تاریخ میں کبھی اسلامی ریاست قائم نہیں ہوئی، لہٰذا یہ تصور محض ایک تصور ہے۔

       ۲-    اسلامی قانون جامد و غیر متحرک ہے۔ صدیوں پرانی فقہ و قانونی سرمایہ دور جدید کی ضروریات اور تقاضوں سے میل نہیں کھاتا، لہٰذا اسے ریاست کا قانون بنانا قطعاً کوئی دانش مندانہ فعل نہیں۔ اسلامی قانون کو جدید دور میں مملکت کا قانون بنانے کا مطلب اسے ترقی سے محروم اور پس ماندہ رکھنا ہے۔ چنانچہ مسئلہ کا بہترین حل یہی ہے کہ آئین و دستور اور نظامِ قانون کو سیکولر بنیادوں پر استوار کیا جائے۔

       ۳-    اسلامی ریاست کے نام پر مملکت میں بدترین تھیاکریسی (مُلاؤں کی حکومت) قائم ہوجائے گی۔

       ۴-    پاکستان میں غیر مسلم ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کا قیام مناسب نہیں۔

       ۵-    جدید دور میں، جب کہ اطراف عالم میں سیکولر حکومتیں قائم ہیں پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کی رائے عامہ کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔

محمد اسد، اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کی بابت مختلف ذہنوں میں پیدا ہونے والے ان اعتراضات اور شکوک و شبہات سے بخوبی آگاہ تھے، بطور خاص جدید تعلیم یافتہ طبقے کی سیکولرزم پسندی کا انھیں گہرا ادراک تھا۔ چنانچہ مجلہ عرفات (بابت مارچ ۱۹۴۸ء) میں اسلامی دستور کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے لکھا:

With the attainment of Pakistan's independence, however, we of the present generation have such a possibility before us: and it is for us to covert this possibility into a certainty - if we so wish - or alternatively, to allow it to recede again into the realm of academic speculations..... There is no gainsaying that countless Muslims in this country passionately desive the first of these two alternatives; but there is also, no doubt that very strong forces are at worth to deflect the community from its Islamic goal and to make Pakistan a "secular" state in slavish deference to what almost all non-Muslim, today regard as desirable. For, the majority of people in other countries - including many Muslim countries - have grown accustomed to look upon institutional religion as something antiquated, and therefore not quite "respectable" from the intellectual point of view: as something out of tune with the so-called "progressive" endeavour to free man from all moral obligations, not devised by himself:..... and for this reason, a suggestion to build a state, on religious foundations is usually described in such circles as reactionary or, at the best - as impractical idealism". Apparently, many educated Muslims think today on these lines; and in this, as in so many other aspects of our contemporary life, the influence of Western thought is un-mistakable.

جب سے پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئی ہے یہ امکان بھی پیدا ہوگیا ہے کہ ریاست کی تأسیس اسلامی اصولوں پر کی جائے۔ بایں ہمہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہمارا سوادِاعظم اگرچہ اس بات کا آرزومند ہے کہ پاکستان میں ایک اسلامی ریاست قائم ہو کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جو چاہتی ہیں کہ مسلمان اپنی منزل مقصود سے ہٹ جائیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ ہم بھی غیر اسلامی دنیا کی اندھا دھند تقلید میں ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھیں جو اصطلاحاً غیر مذہبی و لادینی (سیکولر) سے تعبیر کی جاتی ہے۔ بات یہ ہے کہ آج کل اسلامی ممالک میں بھی اس خیال کا غلبہ ہے۔ مذہب (اسلام) کے بارے میں یہ تصور کہ وہ بجائے خود ایک نظام حیات ہے، جدید تعلیم یافتہ افراد کے نزدیک پرانا ہوچکا ہے اور ان کے ہاں از روئے علم و حکمت بھی کچھ ایسا وقیع نہیں ہے۔ لہٰذا قدرتی بات ہے کہ جب کبھی ریاست کے لیے کوئی دینی اساس تجویز کی جائے تو یہ لوگ اسے رجعت پسندی سے تعبیر کریں یا پھر محض ناقابل عمل عینیت پسندی (Impractical Idealism) ٹھیرائیں۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے اکثر تو یہی رویہ اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی ان کا دل و دماغ مغربی اثرات سے مغلوب ہوچکا ہے۔

اسلامی ریاست کے تصور کے بارے میں جدید الخیال مغرب زدہ افراد کے شکوک و شبہات کے ازالے کے طور پر محمد اسد نے تین امور کو صراحت و وضاحت سے بیان کیا:

       ۱-    اسلامی ریاست کا مطلب ہرگز تھیاکریسی (پاپائیت) نہیں۔ اسلام میں قرون وسطیٰ کی ’مسیحی پاپائیت‘ جیسے کسی ادارے کا قطعاً کوئی وجود نہیں پایا جاتا۔ اسلامی ریاست میں قانونی و تشریعی معاملات اور دین کی تعبیروتشریح کے معاملے میں کسی خاص مذہبی گروہ کی اجارہ داری کی کوئی گنجائش نہیں۔

              اسد لکھتے ہیں: ’’اسلام میں پادریوں کی تنظیم جیسا کوئی نظام موجود نہیں اور نہ کوئی ایسا ادارہ پایاجاتاہے،جسے مسیحی کلیسا کے مترادف سمجھا جائے۔ اسلام میں ہر بالغ مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ ہرمذہبی وظیفہ انجام دے۔ اسلام میں کوئی فرد یا گروہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے مذہبی وظائف کی بجاآوری میں کوئی خاص تقدس اور اجارہ داری حاصل ہے، لہٰذا،اسلامی ماحول میں تھیاکریسی (پاپائیت) کی اصطلاح سراسر بے معنی ہے۔ البتہ اسلامی ریاست میں تمام قوانین کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے‘‘۔

       ۲-    اسلامی قانون جامدوفرسودہ (out dated) ہرگز نہیں ہے، بلکہ حرکی اور ہر لمحہ ارتقا پذیر ہے۔ وہ ثبات و تغیّر کی خصوصیات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور ہر دور کے انسانی معاشرے کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شریعت کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کو بروئے کار لاکر ہر دور کی ضروریات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قانون سازی کی جاسکتی ہے۔

       ۳-    اسلام ایک خودکفیل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ روحانیات و اخلاقیات ہی میں نہیں بلکہ انسانی زندگی کے جملہ مادی و دنیوی معاملات، معاشرے کی تنظیم اور ریاست کی تعمیروتشکیل کے باب میں بھی رہنمائی و ہدایات فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اس خودکفیل نظامِ حیات کی موجودگی میں معاشرہ اور ریاست کی تنظیم و تشکیل کے سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب کے سیاسی و اقتصادی نظاموں کو اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ قرآن و سنت کے نصوص نے ریاست کی تعمیروتشکیل کے بارے میں جو بنیادی اور رہنما اصول متعین کیے ہیں ان کی موجودگی میں مغرب کی غیراسلامی تہذیب کے ساختہ و پرداختہ سیاسی و معاشرتی تصورات کی تقلید کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ مغرب کے لادینی سیاسی اصول و تصورات کی تقلید کا صاف صاف مطلب اسلام کے اس دعویٰ کو جھٹلانا ہے کہ وہ ایک دین کامل ہے۔

       ۴-    سیکولر ریاست کا تصور خود نظریۂ پاکستان کے بھی سراسر منافی و متصادم ہے۔ اس کی تقلید و نقالی سے پاکستان کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ایک ایسی ریاست، جس کا قیام اسلامی نظریے کی اساس پر عمل میں آیا ہے، اس کی تعمیروتشکیل میں مغرب کے غیر اسلامی سیاسی تصورات کی تقلید و نقالی کی روش اختیار کرنا گویا اس ریاست کی بنیادوں کو مسمار کرنا ہے۔ اسد رقم طراز ہیں:

The Islamic scheme of the State precludes, of course, an imitation of political concepts evolved in non-Islamic (Western)  civilizations... The Prophet's Message visualises a polity. Those who blindly subscribe to non-Islamic political concepts, not only deny, by implication, Islam's claim to completeness in the ideological sense, but also militate against the idea of Pakistan as such: for, if Islam is not to be the guiding principle of the State, why have a  "Muslim" state at all?? But this is just what many of our intelligentsia seem unable to grasp. They do not realise that a state devised in the name and for the sake of a religious community must be, in the very nature of things, an ideological state: otherwise the innermost purpose of our creating a state is defeated.

اسلامی ریاست کا تصور بلاشبہہ غیراسلامی (مغربی) تہذیبوں کے سیاسی تصورات کی تقلید کو خارج از امکان قرار دیتا ہے…رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام (تعلیمات) میں ایک ایسی ریاست و حکومت کا تصور موجود ہے، جو اپنی ماہیت میں تخلیقی نوعیت کی ہے [اس میں حالات وزمانہ کے تقاضوں کی رعایت موجود ہے] وہ لوگ جو اندھا دھند غیراسلامی سیاسی تصورات و نظریات کے مقلد محض ہوگئے ہیں، محض اس زعم میں کہ وہ اس کو ’جدید‘ خیال کیے بیٹھے ہیں، [اس طرح] وہ نہ صرف یہ کہ اسلام کے جامع و کامل دین ہونے کا انکار کر بیٹھتے ہیں بلکہ ان کا یہ طرزِ فکروعمل پاکستان کے اس تصور و نظریہ کے بھی صریح طور پر متصادم و منافی ہے۔[سچی بات تو یہ ہے کہ] اگر اسلام کو ریاست و حکومت کا رہنما اصول نہیں مانا جاتا ہے تو پھر ایک [نام نہاد] مسلمان ’ریاست‘ کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جو ہمارے دانش وروں کے فہم سے بالاترہے۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کرپا رہے کہ وہ ریاست جو مذہب کے نام پر اور ایک مذہبی قومیت کے لیے بنائی گئی ہے، کو لازماً فطری طور پر ایک نظریاتی ریاست ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر ایک ریاست کےقیام کا ہمارا بنیادی مقصد شکست و ریخت سے دوچار ہوجائے گا۔

       ۵-    سیکولر ریاست، انسان کو حقیقی مسرت و شادمانی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔ سیکولر ریاست کے مقابلے میں اسلامی ریاست کا قیام نہ صرف زیادہ آسان اور قابل عمل ہے بلکہ وہ ملت اسلامیہ کے سماجی و اقتصادی اور تہذیبی و معاشرتی مسائل کے حل کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔ اسلامی ریاست حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکتی ہے اور ان کو حقیقی مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ اگر ملت اسلامیہ نے مغرب کے تہذیبی اور سیاسی واقتصادی نظام کی تقلید کی، تو انجامِ کار وہ ان خرابیوں سے دوچار ہوئے بغیر نہ رہ سکے گی، جن میں اس وقت مغربی دنیا مبتلا ہے۔ مغرب کے سیاسی و اقتصادی اور سماجی تصورات کی تقلید میں مسلمانوں کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ مسلمانوں کی نجات اور فلاح کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ اسلام کے اخلاقی و روحانی اصولوں کے مطابق اپنی ریاست قائم کریں۔

 غیر مسلم اقلیت کے خدشات و اعتراضات

پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے تصور پر ملک کی ہندو اقلیت معترض ہی نہیں بلکہ اس کی شدید مخالف تھی۔ اس غیر مسلم اقلیت کو دراصل اسلامی ریاست کی تشکیل کی صورت میں اپنے سیاسی و قانونی، شہری اور مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ سے متعلق طرح طرح کے اندیشے لاحق تھے۔ چنانچہ غیر مسلم اقلیت (ہندوؤں) کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ ایک سیکولر پاکستان میں ان کے حقوق و مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ ہوسکتا ہے۔ غیر مسلموں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے علمبردار بعض مسلم رہنما بھی ملک میں ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کے قیام کو نامناسب خیال کرتے تھے۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اسلامی ریاست کے قیام سے غیر مسلم اقلیتوں میں تشویش پیدا ہوگی اور ملک عدم استحکام سے دو چار ہوجائے گا۔{ FR 808 }

محمد اسد کو غیر مسلموں کی اس تشویش یا بطورِ ہتھیار پیدا کردہ تشویش کا بخوبی احساس تھا۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں ہی انھوں نے اپنی اس رائے کا برملا طور پر اظہار کیا تھا کہ ’پاکستان میں ہندو اکثریتی علاقوں کی شمولیت کی صورت میں اسلامی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہوجائے گا‘۔ چنانچہ انھوں نے عام مسلم سیاسی قائدین اور رائے عامہ کے برعکس بنگال اور پنجاب کی دو دو حصوں میں تقسیم، یعنی ان صوبوں کے ہندو اکثریتی علاقوں کی بھارت کے ساتھ، جب کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی اسکیم کا پرجوش خیر مقدم کیا تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ بنگال اور پنجاب کے ان علاقوں کی، جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے، پاکستان میں شمولیت اس ملک میں مسلم اور ہندوآبادی کے توازن پر اثر انداز ہوگی اور اس نوزائیدہ ملک میں ایک مؤثر و طاقت ور ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کا قیام مشکل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کی تقسیم کو پاکستان کے لیے خوش آیند خیال کرتے تھے۔

بہرحال، پاکستان میں ایک قابل لحاظ غیر مسلم ہندو اقلیت کا شامل و موجود رہ جانا ناگزیر تھا۔ دریں صورت محمد اسد نے تحریک پاکستان کے آخری مرحلے میں، جب کہ تقسیم ہند کے منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی تھی، پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلموں کی تشویش اور ان کے تحفظات و خدشات کے ازالہ کی کوششوں کو ضروری قرار دیا۔ البتہ انھوں نے غیر مسلموں کی تشویش کے ازالے اور ان کی دلجوئی کی خاطر اسلامی ریاست کے تصور سے دست بردار ہونے اور اسے پسِ پُشت ڈالنے کے خیال کی شدت سے مخالفت کی۔

محمد اسد نے یہ خیال پیش کیا کہ اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلم اقلیتوں کی تشویش اور ان کے ذہنوں میں موجود خدشات کے ازالے کی بہترین صورت یہی ہے کہ انھیں باور کرایا جائے کہ ہم مسلمانوں کا مقصد ملک کے سب شہریوں کے لیے، بلاتفریق مذہب و ملت، عدل و انصاف کا قیام ہے۔ اسلامی ریاست میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا۔ ہم مسلمانوں کے مفاد کی خاطر غیر مسلموں کا استحصال نہیں کرنا چاہتے بلکہ انسانی اخلاق کے بنیادی اصولوں کی بالادستی قائم کرنے کے متمنی ہیں۔ ہم ہر حال میں عدل و انصاف کی بالا دستی اور بے انصافی کے انسداد کے لیے جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ اسد کی رائے میں یہ سمجھنا تو انتہائی حماقت ہے کہ اگر ہم اپنے اسلامی مقاصد پر زور نہیں دیں گے تو اس طرح سے غیر مسلم اقلیتوں کی تشویش دور ہوجائے گی، بلکہ ان کی تشویش دور یا کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم صاف دلی اور پوری وضاحت کے ساتھ بتادیں کہ ہمارے ملی و اخلاقی مقاصد کیا ہیں اور پھر روزمرہ کی زندگی میں انھیں یہ مشاہدہ بھی کرادیں کہ ہمارے اسلامی و اخلاقی مقاصد اور ہمارے اعمال و افعال میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

محمد اسد نے خود بھی قیام پاکستان سے پہلے اور پھر بعد میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلموں کے خدشات و اعتراضات کے ازالے کی غرض سے ان پر یہ واضح کیا کہ ایک سیکولر مسلم ریاست کے بجائے ایک حقیقی اسلامی ریاست میں ہی زیادہ بہتر طور پر ان کی مذہبی و ثقافتی آزادی اور ان کے سیاسی و قانونی حقوق کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ اسد نے قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں اپنی نشری تقریروں میںکہا:

When we demanded a state in which the Muslim nation could freely develop its own traditions, in which the genius of Islam could freely unfold, conferring light and happiness not only on Muslims but also on all the people of other communities who could choose to share our living-space with us. The establishment of the Muslim State of Pakistan could not and did not mean oppression of non-Muslims, and that, on the contrary, every one of our citizens, whether Muslim or non-Muslim, could always count on the protection which a civilized state is bound to accord to its loyal citizens, and which, in particular, Islam has enjoined on us with unmistakable insistence.

جب ہم نے ایک آزادمملکت کا مطالبہ کیا تھا کہ جس میں مسلمان [اسلامیانِ ہند] آزادانہ طور پر اپنی روایات کو پروان چڑھا سکیں تو ہمارا اس کے سوا مطالبہ کیا تھا کہ ہم امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ ایک ایسی دولت مشترکہ کی تعمیر کرسکیں، جس میں اسلام کی عبقریت آزادانہ طور پر آشکارا ہوسکے، جو نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ان دیگر طبقات و اقوام کو بھی ، جو ہم مسلمانوں کے ساتھ قدم بقدم اس ملک کو اپنے وطن کے طور پر منتخب کرلیں، روشنی (ظلمت سے نکال کرروشنی) اور مسرت سے سرفراز کرسکے۔ [بے شمار مواقع پر ہمارے رہنما جن میں قائداعظم سرفہرست ہیں، اس امر کی صراحت کرچکے ہیں اوردُنیا کے سامنے اس بات کو صاف طورپر کہہ چکے ہیں کہ] مملکت پاکستان کے قیام کا مطلب [اس ملک میں] ہرگز طور پر غیرمسلموں کو محکوم و مجبور بنا کر رکھنا نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس، اس مملکت کے ہر شہری کو بلاامتیاز مذہب و ملّت [جان و مال کا] وہ تحفظ حاصل ہوگا، جو ایک مہذب ریاست اپنے وفادار شہریوں کو عطا کرنے کی پابند ہوتی ہے، اور جس کا بطورِ خاص اسلام نے ہمیں تاکیداً پابند ٹھیرایا ہے ۔

جناب محمد اسد واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں:

The establishment of such a state [Islamic State] does not presuppose and cannot presuppose, an oppressive treatment of non-Muslim minorities: … In an Islamic State no non-Muslim should be afraid of being discriminated against or exploited for the benefit of the Muslim majority. Nor does Islam want us to exert any pressure on non-Muslims with a view to inducing them to embrace Islam. No, the only thing that, an Islamic state demands of every citizen, be he Muslim or non-Muslim, is a loyal co-operation towards common welfare on the basis of the social and economic laws which the Qur'an and the life example of our blessed Prophet have laid down for us.

اس طرح کی ریاست [اسلامی ریاست] کے قیام کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس کے غیرمسلم شہریوں [اقلیتوں] کے ساتھ ظالمانہ و غیرمنصفانہ برتائو کیا جائے۔ اسلامی ریاست میں کسی غیرمسلم کو اس بارے میں کوئی خوف لاحق نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد کی خاطر امتیازی سلوک کیا جائے گا یا اس کا استحصال کیا جائے گا۔ اسلام ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نہ غیرمسلموں کے ساتھ ظلم و زیادتی روا رکھی جائے، اور نہ انھیں ڈرا دھمکا کر حلقہ بگوش اسلام بنایا جائے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہاں، وہ واحد چیز جس کا اسلامی ریاست اپنے ہرشہری سے تقاضا کرتی ہے [خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم] کہ  وہ اجتماعی بہبود و مفاد کے لیے ریاست کے ساتھ وفادارانہ و خیرخواہانہ تعاون ہے۔ اس اجتماعی بہبود کی بنیاد ایسے سماجی و اقتصادی قوانین پر استوار ہے، جن کی صراحت ہمارے لیے قرآنِ حکیم اور اسوئہ رسالتؐ میں ملتی ہے۔

محمد اسد اسلامی ریاست کے تصور کے مخالفین کی اس رائے کو ہرگز درخور اعتناء نہیں سمجھتے کہ اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کی رائے عامہ کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ ان کے نزدیک عظیم اقوام کے مقدر کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا کہ ان کی معاصر اقوام اصولاً ان کے اغراض و مقاصد سے اتفاق یا اختلاف کرتی ہیں بلکہ ان کے مقدر کا انحصار ان کے اغراض و مقاصد کی روحانی طاقت یا کمزوری پر ہوتا ہے۔ اسد کے خیال میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام اور اعلیٰ اخلاقی مقاصد کے حصول کے لیے سچی کوشش، مذکورہ خدشات کے برعکس، دنیا بھر میں تجدیدو احیائے اسلام کا دروازہ کھول دے گی ’’اگر ہم حیران و سرگرداں انسانیت کو یہ ثابت کردکھائیں کہ اسلام یقینی طور پر انسانیت کے سماجی اور سیاسی امراض کا حل پیش کرتا ہے تو جلد یا بدیر تمام مسلم اقوام لازمی طور پر ہمارے پیچھے چلیں گی‘‘۔ (جاری)