دسمبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

مسئلہ کشمیر- ہم کدھر جارہے ہیں؟

پروفیسر خورشید احمد | دسمبر۲۰۲۰ | اشارات

مسئلۂ کشمیر کی حیثیت،پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں سے ، محض ایک مسئلے جیسی نہیں ہے۔اس کا تعلق پاکستان کے وجود، اس کی شناخت، اس کی علاقائی حیثیت، اس کے معاشی، نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی استحکام اور ترقی سے ہے۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے صاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ’’کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘‘۔

قائداعظم مرحوم نے زیارت کے قیام کے دوران اپنے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش سے کہا:
کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ اپنے دشمن کی تلوار کے آگے کردے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ جسےپاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے۔ لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظرانداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے، یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ (قائداعظم کے آخری ایام، ڈاکٹر الٰہی بخش)

یہ تقسیمِ ہند کے ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے، اور جب تک یہ پاکستان، بھارت، کشمیری عوام کی منشا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا،جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کی فضا قائم نہیں ہوسکتی۔ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے اور مستقبل میں اپنے دین، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنے جغرافیہ اور اپنے نظریاتی عزائم کی بقا کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے سے نجات کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ پاکستانی بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں اور پاکستان کا حصہ بننے کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستانی قوم کا ہے۔ جو حصہ آج آزاد کشمیر، گلگت اور بلتستان کی حیثیت سے پاکستان سے منسلک ہے، وہ کشمیری عوام اور پاکستان کے مجاہدین کی عسکری جدوجہد کے نتیجے میں آزاد ہوا ہے۔ جو حصہ اس وقت بھارت کے قبضے میں ہے، اس پر بھارت اپنا تسلط مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ۱۰لاکھ فوجیوں اور جن سنگھی دہشت گردوں کی ظالمانہ کارروائیوں اور بھارت کی ہرقسم کی آمرانہ کارروائیوں کے باوجود وہ ان کے دلوں کو فتح نہیں کر پارہا۔
جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم اکثریت سیاسی اور دفاعی ہرقوت کو استعمال کرکے بھارتی استعمار سے نجات پانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد جو اقدام کیے ہیں، ان کے نتیجے میں تحریک ِ مزاحمت اور بھی وسیع اور مؤثر ہوگئی ہے۔ وہ جو بھارت سے کسی خیر کی توقع رکھتے تھے، وہ جھوٹی ثابت ہوئی اور وہ بھی مایوس اور برگشتہ ہوکر مزاحمت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی بھارتی قیادت کو ’ڈاکو‘ (Robbers) کہہ رہے ہیں اور پاکستان کو ایک فیصلہ کن فریق کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت کے دانش ور بھی صاف الفاظ میں یہ انتباہ کر رہے ہیں کہ جبر اور تسلط کا یہ نظام اب نہیں چل سکتا اور کشمیر کی پوری آبادی مزاحمت اور بغاوت کے راستے پر گامزن ہے۔ بھارت کے مشہور قانون دان اے جے نورانی اپنے ایک تازہ مضمون میں لکھتے ہیں:
کشمیر کے سلسلے میں ۱۹۴۸ء میں آزادانہ اور شفاف رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا، جس کو کئی باردُہرایا گیا، جس کے تحت عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں، مگر بدنیتی سے اس دعوے کو بروئے کار لانے سے مسلسل انحراف کیا گیا۔ستم زدہ کشمیری اس المیے کو یاد کرتے ہیں۔ آپ دباؤ، دھونس اورجھوٹ کے بل بوتے پر تو انھیں زیرنہیں کرسکتے۔ (Written in Blood، ڈان، ۷نومبر ۲۰۲۰ء)

اصل مسئلہ بنیادی طور پر ایک اور صرف ایک ہے، اور وہ ہے: ’حق خود ارادیت‘ (Right of self determination)۔یہی اصل ایشو ہے، یہی پاکستان کا موقف ہے، یہی کشمیری عوام کا مطالبہ ہے، یہی اقوام متحدہ اور ہندستان کا معاہدہ ہے اور اس کے سوا مسئلے کا کوئی حل نہ تھا اور نہ ہوسکتا ہے۔چنانچہ بھارت، پاکستان اور اقوام متحدہ کے عہد کے مطابق، کشمیری عوام ہی کو اپنی آزادانہ مرضی سے، اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

اُوپر ہم نے دو بنیادی باتیں عرض کی ہیں: ایک یہ کہ پاکستان کے لیے کشمیر زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پاکستان اور کشمیری عوام حق خود ارادیت کے سوا کسی اور صورت کو کسی شکل میں قبول نہیں کرسکتے۔ اس بات کو ایک بار پھر پوری قوت سے کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گذشتہ چند ہفتوں میں حکومت کے اہم ترجمانوں نے ایسی باتیں کہی ہیں، جو سخت پریشان کن ہیں اور جن پر فی الفور گرفت ازبس ضروری ہے۔ ایک طرف گلگت اور بلتستان کو دستوری ترمیم کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنانے کے دعوؤں اور اقدام کا بہ تکرار ذکر کیا گیا۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بھارتی غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدامات کے پس منظر میں وزیراعظم اور وزیرخارجہ کے بیانات میں کسی قسم کی صوبائی خودمختاری (State Autonomy) کی بحالی کی شکل کو مسئلۂ کشمیر کے حل کی طرف پیش قدمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور عادل نجم کا میڈیا میں پیش کردہ وہ موقف تشویش کا باعث ہے، جس میں مسئلۂ کشمیر کے ممکنہ حل کے باب میں ’استصواب اور حق خود ارادیت‘ سے ہٹ کر داخلی خوداختیاری کا شوشا چھوڑا گیا ہے۔ پھر اسی موضوع پر نومبر ہی میں اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں کسی تھنک ٹینک کی طرف سے سیمی نار کا انعقاد تشویش ناک امر ہے۔

یہ تمام خطرے کی علامات ہیں اوران پر بجاطور پر کشمیری رہنماؤں اور دُنیابھر میں پھیلے کشمیری اہلِ فکر نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ہم خود ان بیانات کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں اور واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ محض انتظامی اختیارات کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت اور بھارت کے ظالمانہ تسلط سے مکمل آزادی کے حصول کا مسئلہ ہے۔ بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی ایک حقیقت ہے۔ پورا مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بن گیا ہے۔وہاں رہنے والوں کے جان، مال، آبرو سب داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ لاکھوں افراد جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کشمیر ہی کی نہیں، بھارت کی جیلیں بھی معصوم کشمیریوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزّتیں پامال ہوگئی ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بھارتی فوج اور پولیس دونوں مل کر کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اصل مسئلہ وہ نظام اور غاصبانہ انتظام ہے جس کے نتیجے میں یہ صورتِ حال رُونما ہورہی ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی قومی پالیسی پوری وضاحت کے ساتھ ہرسطح پر بیان کی جائے، تاکہ قومی اور بین الاقوامی ہرمیدان میں اس سلسلے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے چار نکاتی پروگرام میں یہی ہمالیائی غلطی کی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک لابی آج پھر ایک دوسرے انداز میں ایسے فتنے اُٹھا رہی ہے۔ اس فتنے کو بروقت ختم کرنا ضروری ہے۔

کشمیر پر اصولی موقف:

کشمیر کے سلسلہ میں ہمارا قومی موقف مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ:
    ۱-    جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔
    ۲-    کشمیر کے دو تہائی علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور صریح دھوکا ہے، جسے کوئی دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
    ۳-    ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے، جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب رائے کرانا ایک طے شدہ امر ہے۔
    ۴-    کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا جھگڑا ہے، نہ کسی سرحد کی نشان بندی کا معاملہ ہے ، اور نہ پاکستان اور بھارت میں کوئی تنازع ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: جموں و کشمیر کے عوام، پاکستان اور بھارت___ جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔
استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام یہ طے کریں گے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں یا بھارت کا۔ پاکستان نے اپنے دستور میں دفعہ ۲۵۱میں صاف الفاظ میں یہ لکھا ہے:
جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور اس ریاست کے درمیان تعلقات، اس ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو پاکستان یا بھارت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے اور پھر یہ پاکستان کا وعدہ ہے کہ پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان تعلق اور اس کی حدودکار کشمیری عوام کی منشا اور مرضی کے مطابق متعین ہوں گے۔ یہ اس لیے ہے کہ اگر تین آپشن دیے جائیں اور ’آزاد ریاست‘ بھی ایک آپشن ہو تو اس صورت میں خطرہ ہے کہ کشمیر کی غیرمسلم آبادی کے کردار کی وجہ سے ووٹ بٹ نہ جائیں اور مسلمانانِ کشمیر اپنے حق سے محروم نہ ہوجائیں۔ان تمام نزاکتوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کی حکومت کو پوری یکسوئی کے ساتھ قومی کشمیر پالیسی کو واضح کر دینا چاہیے۔

گلگت بلتستان کا مسئلہ:

اسی پس منظر میں گلگت اور بلتستان کے مسئلے کو بھی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ہم اصولی طور پر ضروری گزارشات ترجمان القرآن (اکتوبر ۲۰۲۰ء )میں پیش کرچکے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران جو وعدے ہوئے ہیں،  ان کی روشنی میں ایک بار پھر یہ بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ:
۱- گلگت اور بلتستان، ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور ہے۔یہ صحیح ہے کہ انتظامی اعتبار سے مہاراجا کے دور میں بھی اسے خصوصی حیثیت حاصل تھی اور پاکستان کے دور سے بھی اسے آزادکشمیر کی ریاست سے الگ حیثیت دی گئی ہے، لیکن قانونی اور انتظامی ہردواعتبار سے وہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور یہی پوزیشن اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اسے حاصل ہے۔ اس لیے کوئی ایسی تجویز جو اس حیثیت کو کسی پہلو سے بھی متاثر کرے، اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
۲- ۱۹۴۹ء میں حکومت ِ پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کی قیادت کے مشورے سے جو راستہ اختیار کیا، اس کے بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں۔ اس میں دونوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے البتہ انتظامی طور پر آزاد جموں و کشمیر کی ریاست کا نظام ایک خاص دستور کے تحت قائم کیا گیا ہے اور گلگت بلتستان بلاواسطہ حکومت ِ پاکستان کے تحت تھا اور عملاً وہ انتظام نہایت ناقص بلکہ ظالمانہ تھا کیونکہ اس پورے علاقے کو شمالی علاقہ جات کا حصہ بنادیا گیا اور دورِ استعمار کے ایف سی آر نافذ کر دیے گئے، جو ہر جمہوری اصول و روایت سے متصادم تھے۔ فطری طور پر اس کے خلاف تحریکیں اُٹھیں اور بالآخر وہاں کے لوگوں کے   انسانی حقوق اور انتظامی معاملات و فیصلہ سازی کے لیے ایک نظام وجود میں آیا، جس میں اب بھی بہت سی سنجیدہ خامیاں ہیں کہ جن کی اصلاح درکار ہے۔ لیکن گلگت اور بلتستان کو ’صوبہ‘ یا ’عارضی صوبہ‘ قرار دینا ہراعتبار سے ایک بڑی غلطی ہوگا، جس سے کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کی پوزیشن مجروح ہوگی اور بھارت نے جو کچھ کیا ہے، کر رہا ہے اور جس پر ہم نے بجاطور پر تنقید کی ہے اور ہم نے ہی نہیں، عالمی سطح پر بھی جس پر گرفت کی جارہی ہے، اس سے اس غلط قدم کو تائید میسر آئے گی۔ اس سے بڑا ظلم مسئلۂ کشمیر پر نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے ہم پوری قوت سے عرض کریں گے کہ جہاں گلگت اور بلتستان کے لوگوں کو ان کے حقوق اور تمام سیاسی اور انتظامی مطالبات اور اپنے معاملات کا ذمہ دار بنانا اوّلین ترجیح ہونا چاہیے، وہیں دستور کی دفعہ ۲۵۷ میں جو راستہ ہم نے اختیار کیا ہے، وہ بھارت کی حکمت عملی سے بالکل مختلف ہے۔ اس سے سرموانحراف، غیردستوری، غیرسیاسی اور غیراخلاقی فعل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اپنے ۲۰۱۹ء کے تاریخی فیصلے میں بڑی احتیاط سے اس مسئلے پر کلام کیا ہے اور کم از کم سات بار متنبہ کیا ہے کہ کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے، جس سے مسئلۂ کشمیر اور اس پر استصواب رائے کے پاکستانی موقف پر کوئی پرچھائیں پڑیں۔ کسی دستوری ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایک مناسب شکل میں حکومت پاکستان کے جاری کردہ جنوری ۲۰۱۹ء کے آرڈر میں کچھ ترامیم مطلوب ہیں، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی جاسکتی ہیں۔
ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں علاقوں میں مکمل خودمختاری، عوام کی ہرسطح پر حکمرانی میں شمولیت اور عوام کے حقوق کی مکمل حفاظت ہو۔ عدلیہ آزاد ہو اور عملاً ہم ایک نمونہ پیش کرسکیں، جس کے آئینے میں پاکستان سے منسلک جموں و کشمیر اور بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کا فرق سب کے سامنے آسکے۔ لیکن اس کے لیے کسی علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنانا ضروری نہیں۔ دونوں آزاد انتظامیہ کی حیثیت سے کام کریں اور یہی بہترین نمونہ ہے اس وقت تک کے لیے، جب تک استصواب رائے ہو اور پھر ایک مستقل نظام وضع کیا جاسکے۔

فوری اور لازمی حکمتِ کار:ہم دو باتیں مزید عرض کرنا چاہتے ہیں:
r  پہلی یہ کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی ابہام کسی صورت میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ تمام جماعتیں اپنے دوسرے اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، ایک قومی پالیسی پر قائم و دائم ہوں، اسے ملک اور عالمی سطح پر دلیل کی قوت سے پیش کیا جائے۔ تعلیمی نصاب سے لے کر میڈیا اور سوشل میڈیا ، ہرسطح پر اسی پالیسی کا ابلاغ ہو۔موجودہ حکومت نے چند اقدامات کے سوا اس سلسلے میں کوئی مؤثر خدمت انجام نہیں دی ہے۔ کشمیر کمیٹی بھی ماضی کی طرح غیرفعال ہے اور اُمورِکشمیر کے وزیرصاحب کا انتخاب بھی لاجواب کہ وہ کشمیر کے علاوہ ہر موضوع پر بات کرتے ہیں اوراس باب میں بھی سوچتے کم اور بولتے زیادہ ہیں۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مناسب انداز میں کشمیر کے معاملے کو پیش کیا مگر محض ایک تقریر سے کیا حاصل ہوسکے گا؟ اس کے لیے بڑی مؤثر اور ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لائق سابق سفارت کاروں میں سے کسی جہاں دیدہ، زیرک اور ہمہ تن متحرک فرد کو کشمیر پر ’ایمبسڈر ایٹ لارج‘ بنایا جائے۔ وزارتِ خارجہ کشمیر کے مسئلے پر تحقیق اور ترجمانی کا مؤثر نظام بنائے۔ ہراہم سفارت خانے میں کشمیر ڈیسک قائم کیا جائے۔ کشمیر کمیٹی عالمی سطح پر لائق اور تجربہ کار افراد کو بھیجے۔ دنیا کے پانچ چھے بڑے بڑے سیاسی مراکز پر باقاعدہ کشمیر آفس قائم کیے جائیں۔ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے تعاون سے اس مسئلے کو اُجاگر کرنے اور رائے عامہ کو متحرک کرکے ہندستان کو بے نقاب کیا جائے اور عالمی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہمارے پاس بے پناہ وسائل اور انسانی سرمایہ ہے لیکن افسوس ہے کہ اسے منظم کرنے اور مسئلہ کشمیر کو دنیاکے سامنے مؤثرانداز میں پیش کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا۔ حکومت کو اس مسئلے کو اوّلیت دینی چاہیے ۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا اس میں اصل مسئلہ بھارتی غاصبانہ قبضہ اور کشمیریوں کی آزادی اور حق خود اختیاری کے حصول کو حاصل ہونا چاہیے۔ باقی تمام اُمور اس کے گرد اور اس کے تحت آتے ہیں۔پاکستان کے دیگر تمام مسائل میں سے کوئی مسئلہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہی سب سے بڑا، اہم اور مرکزی نکتہ ہے۔
r  دوسری بات ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں اور کشمیر کے مسئلے کو ایک مستقل بالذات مسئلے کے طور پر ہماری اسٹرے ٹیجی کا مرکزی موضوع ہونا چاہیے۔ بھارت سے دوسرے مسائل اور معاملات پر بحث ضرور کی جائے، مگر اس طرح نہیں کہ کشمیر کی مرکزیت متاثر ہوجائے۔
ہمارا فرض ہے کہ بھارتی مسلمانوں اور وہاں کی اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کریں ۔ بھارت میں ہندوفسطائیت جس طرح غلبہ پارہی ہے، اس پر تنقید بھی ضروری ہے۔ لیکن ہماری اسٹرےٹیجی میں کشمیر اور ان تمام مسائل کو الگ الگ رکھ کر حکمت عملی بنائی جائے۔ پوری تحقیق کے ساتھ دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ پیش کیاجائے، لیکن ترجیحات کا پورا پورا لحاظ رکھ کر۔
ہماری نگاہ میں کئی عشروں کے بعد عالمی سطح پر اور خود بھارت میں ایسے حالات رُونما ہوئے ہیں کہ بھارت پر تنقید اور اس کے احتساب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جو پہلے خاموش تھے، اب بولنے لگے ہیں۔ جو بھارت کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں تھے، وہ اب بھارت پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ادارے اور مراکزِ فکرودانش، حتیٰ کہ وہ اخبارات اور رسائل جو پہلے بھارت کے خلاف زبان نہیں کھولتے تھے اب اختلافی بات شائع کررہے ہیں۔
ہمیں اس موقعے سے پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور محض پروپیگنڈے کے انداز میں نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ، تحقیق کی بنیاد پر اور شواہد کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔ اس کے لیے پوری تیاری سے، مؤثر اور مناسب انداز میں ابلاغ کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منظم کوشش کرکے بھارت پر ہم مؤثر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہ ہوں۔ اس سلسلے میں بھارت کے معاشی بائیکاٹ کی بات بھی اُٹھائی جاسکتی ہے۔ بلاشبہہ دنیا اپنے اپنے مفادات کا خیال رکھتی ہے، لیکن عالمی ضمیر بھی ایک شے ہے اور مسلسل کوشش سے وہ بیدار ہوتا ہے اور اس کے اثرات پالیسی سازی پر پڑتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو ظلم کا نظام اگر ایک بار غالب آجائے تو پھر کبھی نہ ہٹے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظلم کی بنیاد کمزور ہوتی ہے اور بالآخر انسان ظلم کے نظام کو زمین بوس کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تاریخ بڑی بڑی ایمپائرز کا قبرستان ہے۔