دسمبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ،پر ایک نظر

مجتبیٰ فاروق | دسمبر۲۰۲۰ | مطالعہ کتاب

زینب الغزالی ۲ جنوری ۱۹۱۷ ء کو قاہرہ کے شمال میں ضلع دقہیلہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری اسکول میں سیکنڈری اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ پھر  الازہر یونی ور سٹی کے معروف اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ زینب الغزالیؒ دور طالب علمی ہی سے خواتین اور طالبات میں پُرجوش اور شعلہ بیان خطیبہ کی حیثیت سے مشہور تھیں۔ان کے لیکچرز اور درس قرآن کے حلقوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی تھی اور یہ تعداد ہزاروں تک بھی پہنچ جاتی تھی۔ابن طلون مسجد میں ہر ہفتے ان کے دروس کا اہتمام ہوتا جس میں دُور دراز علاقوں سے خواتین شرکت کرتی تھیں ۔ ۱۹۳۷ء میں انھوں نے خواتین کی ایک تنظیم کی بِنا ڈالی جس کا نام ’السیدات المسلمات‘ تھا ۔اس تنظیم کو بعد میںانھوں نے حسن البنا شہیدؒکے کہنے پر الاخوان المسلمون میں ضم کر دیا۔آپ ایک بے باک داعیہ اور راہ حق کی ایک عظیم مسافراور مجاہدہ تھیں جنھیں مصری آمر جمال ناصر نے ۱۹۶۵ء میں قید کرکے طرح طرح کی اذیتیں دیں ۔

زینب الغزالیؒ نے مصر میں اباحیت پسندوں اور دین بے زار طبقوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں اور اسلام کو متبادل کے طور پرپیش کرنے کے لیے پوری قوت صرف کر دی تھی۔ انھوں نے خواتین میں اسلام کے دیے گئے حقوق کی بھر پور وضاحت کی، اور خواتین کے درمیان اسلامی بیداری کا علَم بلند کیا اور ان کے اندر حوصلہ ، جذبۂ ایمان اور عزم و استقلال پیدا کیا ۔ موصوفہ ایک بہترین مصنفہ بھی تھیں۔ ان کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں :(۱) ایام حیاتی (۲)نظرات فی کتاب اللہ (۳) غریرۃ المراۃ مشکلات الشباب والفتیات (۴) الی بنتی (۵) تاملات فی الدین و الحیاۃ ۔ ان میں سے کئی کتابوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ ان کے علاوہ السیدات المسلماتایک معروف ہفتہ وار رسالہ تھا ،اس میں بھی وہ مسلسل مضامین لکھتی رہتی تھیں۔ ۳؍اگست ۲۰۰۵ء کو اس عظیم داعیہ و مفسرہ کا انتقال ۸۸ برس کی عمر میں ہوا۔ { FR 645 }

تفسیری خدمات

زینب الغزالی کا قرآن مجید سے گہرا تعلق تھا۔ آپ قرآن مجید کے پیغام کو دوسری خواتین تک پہنچانے میں ہمہ وقت مصروف رہتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے ۶۰سال سے زائد کا عرصہ اللہ کی کتاب کو سمجھنے اوراس کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے صرف کیا ہے‘‘۔ انھوں نے نظرات فی کتاب اللہ کے عنوان سے تفسیر لکھی۔ اس تفسیر کا پس منظر یہ ہے کہ ایک دن ایک اشاعتی ادارہ کی مالکہ خاتون کی جانب سے پیغام آیا کہ ’’میں کم عمر بچوں و بچیوں کے لیے ۲۸،۲۹اور ۳۰ویں پارے کی ایسی آسان تفسیر لکھوانا چاہتی ہوں، جو ان کی زبان اور معیار کے مطابق ہو‘‘۔ زینب نے جواب دیا کہ ’’میں نے کبھی تفسیر لکھنے کے بارے میں سوچا نہیں ہے‘‘۔ مگر جب اس خاتون نے اصرار کیا تو پہلے انھوں نے استخارہ کیا اور دعا کی ،پھر اللہ کے نام سے کام شروع کیا اور تین پاروں کی تفسیر تیار کر لی ۔جب وہ مسودہ لے کر اس خاتون کی تلاش میں نکلیں تو ان کا کہیں پتہ نہ چلا۔ واپس لوٹتے ہوئے شیخ محمد الملعم کے پاس چلی گئیں اور ان سے دریافت کیا کہ ’’کیا آپ اسے شائع کرسکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اسے دیکھا اور کہا: ’’ہاں، مگر ایک شرط ہے ،وہ یہ کہ آپ پورے قرآن کی تفسیر لکھیں ‘‘۔اس کے بعد انھوں نے مکمل تفسیر لکھی۔

تفسیرکے مقدمے میں موصوفہ لکھتی ہیں: ’’میں نے قرآن پڑھا ہی نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی بنانے کی کوشش کی کہ جس کتاب سے میں اس قدر محبت کرتی ہوں ، اسے دوسرے لوگوں تک پہنچاؤںتاکہ وہ بھی اس سے محبت کرنے لگیں‘‘ ۔

زینب الغزالی نے تفسیر لکھتے وقت نہایت غور و فکر سے کام لیا ہے ۔ انھوں نے جیل کی کال کوٹھریوں اور تنہائیوں میں اور پھر رہائی کے بعد قرآن مجید کی آیات پر غور و فکر جاری رکھا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے قدیم و جدید عربی تفاسیر سے بھی بھر پور استفادہ کیا۔ وہ لکھتی ہیں: ’’میں نے قرطبی کی تفسیر ، حافظ ابن کثیر کی تفسیر کو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا، اور پھر آلوسی، ابوالسعود، قاسمی اور رازی کی تفسیروں کے ساتھ سیّد قطب شہید ؒکی تفسیر فی ظلال القرآن سے بھی استفادہ کیا ہے‘‘۔ انھوں نے احادیث کے ذخیرے کو بھی قرآن مجید کی تشریح و توضیح کا ذریعہ بنایا۔ اس حوالے سے وہ لکھتی ہیں:’’ حدیث، اللہ کی کتاب قرآن کی بہترین تفسیر ہے‘‘۔ اس تفسیر میں جگہ جگہ اقوال صحابہ اور سلف صالحین کے اقوال سے بھی استدلال کیا گیا ہے ۔غرض کہ یہ تفسیر، تفسیر بالماثور کا بہترین نمونہ ہے ۔

انھوں نے تفسیر میں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا ہے، اوراللہ تعالیٰ کے احکام کی عصری معنویت کو پیش نظر رکھا ہے ۔ قرآن مجید کے معنی و مطالب اور احکام کو ہمارے موجودہ زمانے کے حالات سے سچی اور مخلصانہ کوشش کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ،تاکہ ان احکام کی رہنمائی میںاور ان مطالب کے دائرے میں ہمارے موجودہ حالات کو سنوارا جاسکے۔ اکثر وبیش تر متجددین ،مغربی مصنّفین اور مستشرقین اپنی کج روی میں یہ کہتے ہیں کہ ’’قرآنی تفاسیر میں ’مردانہ سوچ‘ غالب ہے اور نسائی اپروچ (Feministic Approach)کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں خواتین کو سماجی میدانوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے‘‘۔ اس طرح مستشرقین ،متجددین اور ’فیمی نزم‘ کے علَم برداروں نے قرآن مجید کی ایسی تعبیر یں پیش کیں، جو ان کی مذموم ذہنی اختراعات اور موشگافیوں پر مبنی ہیں۔ ’فیمی نزم‘ کی علَم بردار خواتین ڈاکٹر فاطمہ مرنیسی ، ڈاکٹر آمنہ ودود ، اسماء برلاس ،  رفعت حسن وغیرہ نے اس اختراع کو عام کرنے کی کوششیں کیں ۔ان ’فیمی نسٹ‘ خواتین کا کہنا ہے کہ عالم اسلام میں خواتین کے حقوق غصب کرنے کے لیے دینی مصادر کی تشریح اپنی اپنی مرضی سے کرکے خواتین کے حقوق اور مقام کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ مسلم عالمات و فاضلات خواتین نے بھی تفاسیر لکھیں توانھوں نے روایتی فکر اور منہج کو ہی آگے بڑھایا ۔انھی میں سے ایک یہ تفسیر زینب الغزالی نے لکھی ہے، جس میں خواتین کی نفسیات و ضروریات ، جزبات و احساسات اور ان کے رجحانات کا بھرپورخیال رکھا گیا اور جہاں جہاں خواتین کے مسائل اور احکامات کے بارے میں ہدایات ہیں، ایک خاتون نے ہی ان کی مدلل تفسیر بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۝۰ۭ (النساء۴ :۳۴) مرد عورتوں کے جملہ معاملات کے ذمہ دار اور منتظم ہیں اس لیے اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔

زینب الغزلی لکھتی ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے کیا جارہا ہے کہ مرد، عورتوں پر ذمہ دار ہیں اور ان کو خاندان میں قیادت کا حق ہے ۔اس سے گھر میں عورت کے ذمہ دار ہونے اور گھر کی ملکہ ہونے کی نفی نہیں ہوتی ہے۔اسے حق ہے کہ اپنے گھر یلو معاملات میں تصرف کرے، تاکہ خاندان کے مفادات کی حفاظت ہو اور اس کا اتحاد اور یک جہتی قائم ہو ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد بیوی اور اولاد پر خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے۔اسی طرح وہ گھریلو امور و معاملات میں اپنی بیوی کے ساتھ شریک ہے ۔ان دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن اور حدیث سے منہج اختیار کریں، کیوں کہ خاندان امت کا پہلا مدرسہ ہے اور بیوی اپنے گھر کے اندر اپنے خاندان کے امور و معاملات کی ذمہ دار ہے ۔شوہر اور اولاد کی سلامتی کے بارے میں اس سے اللہ کے سامنے سوال کیا جائے گا۔یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب عورت رضا مندی ،محبت اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ اپنے اُوپر مرد کے قوام ہونے کو عین انصاف اور اپنے مفاد میں مان لے ،کیوںکہ یہ ذمہ داری مرد کو عورت کے ساتھ انصاف کرنے اور بہترین معاملات کرنے کا مکلف بناتی ہے ہراس چیز میں جس کی عورت کو ضرورت پڑتی ہے ‘‘.... مرد کے’ قوام‘ ہونے کا صحیح فہم عورت کو اپنے شوہر پر بھروسا اور اس پر اطمینان پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ازدواجی زندگی پُرامن اور پایدار بن جاتی ہے ۔اس طرح عورت اپنے گھر کو چلانے اور اپنی اولاد کی تربیت کے لیے فارغ ہوجاتی ہے ‘‘۔

 مفسرہ ہر سورہ کے آغاز میں نہایت عمدہ اور جامع تعارف پیش کرتی ہیں ۔ مثال کے طور پر سورئہ فاتحہ کا مختصر و جامع تعارف کراتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: ’’فاتحہ الکتاب ،یہ سب سے پہلی سورہ ہے جو پوری سات آیتوں کے ساتھ یکبارگی نازل ہوئی ہے ۔یہ جامع سورت ہے۔اس کی آیات میں قرآن مجید کے سبھی مقاصد ،عقیدہ اور تشریع کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔اس کی چھوٹی چھوٹی چندآیتوں میں توحید ،توکل، مشرکین، گمراہوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کر کے ان کو معطل کرنے والوں کا کافی و شافی بیان ہے‘‘(ص:۴۱)۔

دارالتوزیع والنشر، قاہرہ نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی نے اس تفسیر کو اردو جامہ پہنایا۔ یہ ترجمہ بہت ہی آسان زبان میں ہے اور اصل تفسیر کی روح کو اُردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ اردو ترجمہ کا مقدمہ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب نے لکھا ہے ۔ علاوہ ازیں تقریظ کے طور پر مولانا امین عثمانی مرحوم کی تحریر بھی جلد اول میں شامل ہے۔ یہ دعوتی نوعیت کی ایک بہترین تفسیر ہے اور مرووخواتین کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ المنارپبلشنگ ہاوس ،نئی دہلی نے ۲۰۲۰ء میں اس کو شائع کیا ہے ۔