دسمبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

متعصب صلیبیت کی راہ پر، فرانس!

تنویر آفاقی | دسمبر۲۰۲۰ | اخبار اُمت

مغربی دُنیا، خصوصاً فرانس کی جانب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کوششیں محض ایک واقعہ نہیں ہیں، بلکہ کینسر سے متاثر جسم پر ابھر آنے والی اس پھنسی کی مانند ہیں، جو حقیقت میں کینسر کی ظاہر ی علامت کے طور پر ابھر کر آتی ہے، لیکن اسے محض ایک معمولی سی پھنسی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ واقعات دراصل ان کوششوں کا نتیجہ ہیں کہ جن کے ذریعے مغربی مقتدر قوتیں، اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کے خلاف اپنے عوام کے ذہنوں میں نفرت اور بے زاری بھرنا چاہتی ہیں۔ افسوس کہ اس پر عالم اسلام کی جانب سے سیاسی سطح پر توبالعموم کوئی خاص حرکت سامنے نہیں آتی،اس کی امید بھی نہیں کی جاتی، کیوں کہ بیش تر مسلم حکمران یا تو مغرب کے وظیفہ خوار ہیں یا اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لیے اس کے محتاج ہیں۔ البتہ مسلم عوام اور گروہ اپنے طور پرجو احتجاج کرتے ہیں، وہ بعض اوقات تشدد کی شکل بھی اختیار کرجاتا ہے۔ان واقعات پر محض عوامی احتجاج کی پالیسی کسی جوہری دباؤ کا ذریعہ نہیں بنی۔ تاہم اس بار چندمسلم حکومتوں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا اور معاشی مقاطعے کی اپیل بھی کی گئی، جس کا خاطر خواہ اثر فرانس کے رویے اور عمل پر ظاہر ہوا ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہوا کہ عالم اسلام کی حکومتیں اگر بزدلی اور بے حسی کا ثبوت نہ دیں تو عوام کے پاس معاشی مقاطعے کی ایسی طاقت ہے، جس کے ذریعے وہ ’دست درازی‘ کرنے والے کو اچھا سبق سکھا سکتے ہیں۔ چنانچہ معاشی مقاطعے کا سلسلہ دراز ہوتے دیکھ کر آخرکار فرانسیسی صدرمیکرون کو اپنے لہجے میں ترمیم کرنی پڑی اور انھوں نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا میرا مقصد نہیں ہے‘‘۔

اس کے بعد برطانیہ کے معر وف اخبار فنانشنل ٹائمز (۴ نومبر ۲۰۲۰ء) میں میکرون کا ایک مضمون شائع ہوا، جو دراصل اس اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط ہے: ’’میں کسی بھی شخص کو ، خواہ وہ کوئی بھی ہو، یہ سوچنے کی اجازت نہیں دوں گا کہ فرانس اور اس کی حکومت، مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب کو گہرا کرے۔ حکومت کی غیر جانب دارانہ پالیسی میں عقیدے کی آزادی بھی شامل ہے‘‘۔

میکرون نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ فرانس، اسلامی تہذیب و ثقافت کے فضل و احسانات کامنکر نہیں ہے۔ اسلامی تہذیب نے ریاضی، فنِ تعمیر اور دیگر علوم میں جو خدمات پیش کی ہیں، فرانس نے ان سے خوب استفادہ کیا ہے‘‘۔  میکرون کے بقول: ’’مَیں نے اسلام پسندوں کی علیحدگی پسندی‘ (separatism Islamist) کی اصطلاح استعمال کی تھی، جسے بدل کر ’اسلامی علیحدگی پسندی‘  (Islamic separatism  )کر دیا گیا، حالانکہ میں نے ’اسلامی علیحدگی پسندی‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا ہی نہیں۔ آپ کے اخبار نے اس اصطلاح کو میری جانب غلط منسوب کرکے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا چاہا ہے کہ مَیں انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ میرے خیال میں ’اسلامی دہشت گردوں‘ کی جانب سے فرانس میں حملے اس لیے ہوئے کیوں کہ فرانس رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جس طرح اپنی زندگی بسر کرنا چاہیں کریں‘‘۔ اپنے بیانات اور رویے کو درست ثابت کرنے کی غرض سے موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ ’شدت پسند اسلام‘سے وابستہ لوگ ہمارے بچوں کو ایسی تعلیم دیتے ہیں، جو جمہوریت سے نفرت اور ملک کے قوانین سے بے زاری پر آمادہ کرتی ہیں اور اسی لیے انھیں ’علیحدگی پسندی‘ کانام دیا گیا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر میکرون نے عالم اسلام کے شدید عوامی ردعمل سے مجبور ہو کر اپنی صفائی ضرور پیش کی ہے، لیکن اپنے نقطۂ نظر سے سرمو ہٹے نہیں ہیں۔ انھوں نے تین افراد کے قتل کا ذکر کیا ہے، لیکن دوسری جانب اس ذہنیت اور فکر کی بالکل تردید نہیں کی ہے جو پبلک مقامات پر باپردہ خواتین اورمسلم شناخت رکھنے والے افراد پر حملے کا موجب بن رہی ہے اور عام مسلمانوں کے لیے ہراسانی اور خوف کی فضا پیدا کررہی ہے۔ دراصل میکرون اوران جیسے دوسرے افراد بعض مسلمانوں کے انفرادی رویے کو بنیاد بنا کر اسلام اور پوری مسلم دُنیا کو ’موڈریٹ‘ اور’شدت پسند‘ کے الگ الگ خانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور اس کی آڑ میں اسلام کے خلاف زہر افشانی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اگر مخالفت سر اٹھا لے تو فوراً یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ’’ہم اسلام کے نہیں، بلکہ ’شدت پسند اسلام‘ کے خلاف ہیں‘‘۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے شدت پسنداسلام کیا ہے؟

میکرون نے ’ریڈیکل‘ مسلمانوں کی شبیہہ اس طرح پیش کی ہے: ’’حکومت فرانس کو سیکڑوں ’شدت پسندی‘ کے شکار افراد کا سامنا ہے جن کے بارے میں ہمیں یہ خطرہ لگارہتا ہے کہ کسی بھی وقت چاقو نکالیں گے اور لوگوں کو مار ڈالیں گے‘‘۔ گویا فرانس میں ہر مسلمان جیب میں خنجر لیے گھومتا پھرتا ہے، لیکن یہ غیرمتوازن ذہن کے صدر فرانس ، ایفل ٹاور کے پاس مسلم خاتون اور بچی پر  جان لیوا حملہ کرنے والوں کو نہ شدت پسند کہتے ہیں اور نہ ان سے یہ خطرہ منسوب کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت چاقو نکال کر کسی مسلمان عورت، بچے یا بوڑھے پر حملہ آور ہو جائیں گے۔

فرانس ہی کیوں؟

اگرچہ یورپ کے معروف سیاست دانوں کا ایک گروہ مختلف ملکوں میں اسلام کے خلاف محاذ آرا ہے اور کسی نہ کسی بہانے اسلام یا مسلمانوں کو نشانےپر لیے رکھنا ضروری سمجھتا ہے، لیکن فرانس اس معاملے میں پیش پیش ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہاں گستاخی پہلے بھی کی جاچکی ہے۔حجاب کا مسئلہ بھی یہاں بار بار پیدا ہوتا اور مسلمانوں پر پُر تشدد حملہ ہوتا رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال ایفل ٹاور کے پاس پیش آنے والا واقعہ ہے۔ فرانس وہ ملک ہے جو سیکولرزم، یعنی مذہب سے بیزاری کا سب سے بڑا علَم بردار سمجھا جاتاہے اور خود کو کسی مذہب سے جوڑنا پسندنہیں کرتا۔ ا س کے باوجود آخر فرانس میں صرف ایک مذہب، دین اسلام کی مخالفت کے زیادہ واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ کیا فرانس سیکولرزم کی علَم برداری سے دست بردار ہونے لگا ہے؟ یا وہ کبھی خود کو مذہبی تعصب سے آزاد ہی نہیں رکھ سکا؟

قاہرہ یونی ورسٹی کی استاذ ڈاکٹر زینب عبدالعزیز ان سوالات کا بہتر جواب فراہم کرتی ہیں۔ ۸۵ سالہ زینب عبدالعزیز قاہرہ یونی ورسٹی میں ’فرانسیسی تہذیب و ثقافت‘ کی استاد ہیں ۔حال ہی میں انھوں نےفرانسیسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر زینب کی شخصیت عیسائی مشنری اور سرگرمیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور وہ کئی بار بالخصوص شرق اوسط میں عیسائی مشنری منصوبوں کو بے نقاب کر چکی ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں انھیں تین بار قتل کی دھمکی بھی مل چکی ہے۔کویت کے مجلہ المجتمع  نے حال ہی میں ان کا ایک انٹرویو شائع کیا، جس میں انھوں نے فرانس کے سیکولر اور اسلام بے زار چہرے کےپس پردہ اس حقیقی چہرے کو عیاں کیا ہے، جو کیتھولک چرچ کا حامی ومبلغ ہے۔ یہ انٹرویو ایک خاص واقعے کے ضمن میں لیا گیا تھا۔

’’حال ہی میں صدر میکرون نے لبنان کا دورہ کیا تھا۔ شرق اوسط میں اس دورے کو محض ایک غیرملکی صدر کے خیرسگالی دورے کے طور پر نہیںلیا گیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ لبنان میں فرانس کی حد سے زیادہ دل چسپی اس لیے ہے کہ وہ اسے کیتھولک چرچ کی تابع ریاست بنانا چاہتا ہے، اور میکرون کے موجودہ دورے کو فرانس کی اس استعماری کوشش سے بھی الگ نہیں سمجھنا چاہیے، جو وہ شرق اوسط کے بعض ممالک اوربالخصوص لبنان کے سلسلے میں انجام دے رہا ہے‘‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ ۱۹۴۳ء میں فرانس نےلبنان کو چھوڑ تو دیا تھا، لیکن اس کا وجود آج بھی وہاں اتنا ہی مستحکم ہے، جتنا پہلے تھا۔ لبنان سےرخصت ہونے سے پہلے اس نے دستور میں یہ شق شامل کرادی کہ یہاں کا صدر عیسائی ہوگا اوروزیر اعظم مسلمان ہوگا، حالانکہ ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لبنان کی ۶۷فی صد آبادی مسلمان ہے اور محض ۳۲ فی صد آبادی مختلف مذہبی گروہوں پر مشتمل ہے، جن میں عیسائی بھی شامل ہیں۔ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود عیسائی اقلیتیں شرق اوسط میں جوکچھ کر رہی ہیں، وہ سب صلیب کے حامی مغرب کے لیے کر رہی ہیں۔ اور یہ سب کچھ اسلام کو اُکھاڑ پھینکنے کے مذموم مقاصد کے لیے کررہی ہیں، جس میں عربوں میں موجود عیسائی اقلیت کا اہم کردار ہے‘‘۔

ڈاکٹر زینب کہتی ہیں: ’’فرانس، سیکولرزم کا دعوے دار ہونے کے باوجود کیتھولک عیسائی مذہب کو غالب کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس کا یہ عزم ’فرنکوفونی‘(Francophonie )کو بتدریج راسخ کرنےکی ایک کوشش ہے۔ یاد رہے فرنکوفونی اور استعمار کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اسی کے توسط سے وہ ثقافتی و تہذیبی تسلط اور عیسائی مشنری کی جڑیں پیدا کر سکتا ہے‘‘۔

فرانسیسی زبان و ادب کو ان خاص خطوں میں رواج دینے کے لیے فرانس نے Internationale Organisation de la Francophonie کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی ہوئی ہے۔

کیمیل لورنس ایک محققہ ہیں، جو خلیجی امور پر تخصص کا درجہ رکھتی ہیں۔ان کی تحقیق کے مطابق:’’یہاں پہنچ کر شرق اوسط کے عیسائیوں کا مذہبی ہدف، سیاسی حکمت عملی سے مربو ط ہو جاتا ہے،  جو فرانس کے اندر جاری موجودہ کش مکش کو غذا فراہم کرتا ہے۔ بعض کیتھولک عیسائی فرانس میں بڑ ےپیمانے پر مذہبی[اسلامی] شعائر پر عمل کو فرانس میں اسلام کے اُبھرنے کا خوف سمجھتے ہیں‘‘۔

ایک اور مغربی محقق ولیم میری میرشا کا خیال ہے کہ کلیسا میں ایسے روایت پسند عناصر موجودہیں، جنھیں [شرق اوسط]کے عیسائیوں کی حالتِ زار میں ایک نئے صلیبی حملے کا جواز نظر آتاہے۔ جین کریسٹوف پوسیل فرانس کے ڈپلومیٹ برائے مذہبی اُمور سمجھتے ہیں کہ فرانس میں اسلام کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات اور شرق اوسط میں عیسائیوں کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ فرانسیسی اخبارات میں شرق اوسط کے عیسائیوں اور اسلام سےمتعلق خاص طور پر خبریں اسی لیے شائع ہو رہی ہیں کہ یہ چیز مذکورہ ہدف کے لیے معاون ہے‘‘۔

ڈاکٹر زینب عبد العزیز، فرانس کے چہرے سے ایک اور پردہ اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں: ’’فرانس کا مطلب ہے کلیسا کی سب سے بڑی بیٹی‘‘۔ ہر فرانسیسی صدر پر یہ لازم ہے کہ وہ عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد ویٹی کن کا رُخ کرے اور ویٹی کن سے اپنی وفاداری کے اظہار کے لیے خطاب کرے۔

اس کلیے سے صرف فرانسو ہولینڈ [۲۰۱۲-۲۰۱۷ء] مستثنیٰ رہے، لیکن قدیم زمانے میں ویٹی کن اور فرانس کے درمیان جس معاہدے پر دستخط ہو چکےہیں، اس کی رُوسے وہ بھی ویٹی کن سے اپنی وفاداری سے باز نہیں رہ سکے۔ یہ معاہدہ فرانس کے اوپر رسمی طورپر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ’’مشنری اور عیسائی تبلیغی سرگرمیوں کے دو تہائی اخراجات فرانس کے ذمے ہوں گے‘‘۔

فرانس سے متعلق یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام اور اسلام کی عظیم ترین ہستی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کےخلاف اس کے حملے محض اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کی شخصیت سے عدم واقفیت یا ان کے بارے میں غلط فہمی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے، جسے انجام دینا  اس کے مقاصد کی تکمیل کےلیے ضروری ہے۔