دسمبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

قرآنی دعوت کا ایک عظیم واقعہ

ڈاکٹر عصمت اللہ | دسمبر۲۰۲۰ | دعوت و حکمت

قرآن مجید ، تواریخ یا کہانیوں کی کتاب نہیں، لیکن اس میں تاریخ کے ان حقائق کا تذکرہ ہے، جن کے معلوم کرنے کا دوسرا کوئی ذریعہ انسانوں کو دستیاب نہیں ہے۔ قرآن مجید میں مذکور تاریخی واقعات اور ماضی کی تاریخ، سب سے زیادہ قابل اعتماد اور ثابت شدہ تاریخی حقائق ہیں ۔ قرآن مجید کا تاریخی واقعات وحقائق اور قوموں نیز شخصیات کے احوال بیان کرنے کا ایک منفرد اور خاص انداز ہے۔یہ حقائق و واقعات زمان ومکان اور غیر متعلقہ تفصیلات کے حوالے سے بالعموم خاموش ہیں ۔

قرآنی قصوں کی اہمیت ومقاصد

قرآنی قصوں، حکایات اور واقعات کے کچھ مخصوص اور متعین اغراض ومقاصد ہیں، جن کو پیش نظر رکھ کر وقتاً فوقتاً یہ قصے اور واقعات قرآن نے پیش کیے:

        •وحی ورسالت کا اثبات کہ خالقِ کائنات نے انسان کی رہنمائی کے لیے نبوت ورسالت کا سلسلہ قائم کیا اور ہمیشہ پیغمبر مبعوث فرمائے۔

        • انبیا کرام ؑاور ان کے بعد امت کے علما وصالحین نے دعوت الیٰ اللہ کا کام جانفشانی سے سرانجام دیا، اور اس مقصد کے لیےدستیاب مختلف وسائل کو اختیار کیا۔

        • انبیا کرامؑ کی دعوت پرایمان لانے والے پیروکاروں کے اچھے انجام اور مخالفین کے عبرت ناک انجام کا بیان بھی ان قصوں سے مقصود ہے ۔

        • اللہ تعالیٰ کے وعدوں،وعید،تبشیر اور اِنذار کا بیان۔

        • انبیا کرامؑ اور اولیاء اللہ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ ۔

        • حق وباطل کے درمیان ازل سے جاری کشمکش میں، دشمن شیطان کے حربوں اور دشمنیوں سے واقفیت فراہم کرنا۔

        • انبیا کرامؑ کےمعجزات کے ذریعے نبیوں کی صداقت،اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان۔

’اصحاب الاخدود‘کے واقعے کی تربیتی اور دعوتی اہمیت اور دیگر کئی مقاصد کے پیشِ نظر اس کو قرآن مجید اور حدیث دونوں میں بیان کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ اس کے راوی، صحابہ کرامؓ میں سے وہ لوگ ہیں، جو خود مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کے شدید ظلم وستم اور تشدد کا شکار بنتے رہے۔

پہلے اور اصل راوی حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کو قریش بہت ستاتے تھے، جسمانی اذیت کے علاوہ ،ہجرت مدینہ کے وقت ان کے مال وجایداد پر قبضہ کرلیا۔بے سروسامانی کی حالت میں آپ کی آمد قبا میں ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش خبری دی: رَبِحَ الْبَیْعْ أَبَایَحْیٰی،  ابویحییٰ! { FR 651 }کامیاب تجارت کرکے آئے ہو۔

اس قصے کا ایک حصہ حضرت خبابؓ بن الارتّ سے روایت ہواہے۔ یہ ایک قریشی عورت کے غلام تھے، جو لوہے کی گرم سلاخوں پر ان کو لٹاتی تھی یہاں تک کہ ان کے جسم ، پشت کی چربی سے وہ سلاخیں بجھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ کعبہ کے سائےمیں بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’یارسولؐ اللہ! آپؐ ہماری مدد ونصرت کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم سے پہلی امتوں میں گڑھا کھود کر ایک مسلمان فرد کو اس میں ڈال دیا جاتا پھر لوہے کی کنگھیو ں سے ہڈیوں تک اس کا گوشت نوچ لیا جاتا تھا۔ اس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے جسم کو دو حصوں میں چیر ڈالا جاتا، اور وہ اپنے دین سے نہیں پھرتا تھا‘‘۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، حدیث: ۳۴۳۶)

اسی طرح یہ ابتدا سے آخر تک مجسمِ دعوت قصہ ہے، جس میں دعوتی ترجیحات واوّلیات کی وضاحت اور مراحلِ دعوت میں فطری ارتقا ہے۔ابتدا میں صرف ایک شخص، رازداری، خفیہ دعوت، پھر علانیہ دعوت کے عمل سے گزرتا ہے، اور پھر بڑے پیمانے پر لوگ دعوت قبول کرلیتے ہیں،  دعوت کے کارکنان وتنظیمات کے لیے ایک کامیاب تجربہ بطور نمونہ ومثال پیش کردیا گیا ہے، جس سےفکری وعملی تبدیلی پر مشتمل مکمل دعوت، اس کی اہمیت، ترجیحات، انفرادی واجتماعی دعوت کے مختلف مراحل میں واضح اور بہترین رہنمائی ملتی ہے۔

ہمیشہ دعوت کے نتیجے میں افرادبتدریج تبدیل ہوتے ہیں۔ قلیل تعداد آہستہ آہستہ مرور زمانہ سے کثیر تعداد میں تبدیل ہوتی ہے اوربالآخر تبدیلی مکمل ہوجاتی ہے، جب کہ اس قصے میں ابتدا سے آخر تک انقلاب اورتبدیلی کے صرف تین کردار ہیں۔

 اس قصے کے بارے ایک روایت کے مطابق، نجران میں منسوب جگہ کا مَیں مشاہدہ کرچکا ہوں، جہاں مقامی لوگ نوجوان کے مدفن کو حضرت عمرؓ کے دور میں کھولے جانے کا واقعہ ذکر کرتے ہیں ۔

 قرآن مجید نے اس قصہ کا ذکر مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے دور میں نازل ہونے والی سورۂ بروج میں کیا:

وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۝۱ۙ  وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۝۲ۙ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ۝۳ۭ  قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۝۴ۙ  النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۝۵ۙ  اِذْ ہُمْ عَلَيْہَا قُعُوْدٌ۝۶ۙ وَّہُمْ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُہُوْدٌ۝۷ۭ  وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۝۸ۙ  الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝۹ۭ  اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ۝۱۰ۭ  (البروج۸۵:۱-۱۰) قسم ہے برجوں والے آسمان کی، اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت)، اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ مارے گئے ایندھن بھری آگ کی خندق والے،جب کہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے، جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں پر ظلم و ستم توڑا، پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلائے جانے کی سزا ہے۔

 امام ترمذی، مسلم، ا حمدبن حنبل، محمد بن جریر طبری، اور کئی دیگر محدثین٭  نے حضرت صہیب بن سنان رومیؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد کچھ کلمات اس طرح دُہرا رہے ہوتے کہ ہمیں ہونٹ حرکت کرتے نظر آتے لیکن بات سمجھ نہ پاتے۔ پوچھا گیا تو آپؐ نےایک نبی کا واقعہ بیان کیا کہ وہ ایک مرتبہ اپنی فوج کی قوت پر کہنے لگے: ان کا مقابلہ کون کرسکتاہے؟! تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تین میں سے کسی ایک کا اختیار دیا، یعنی بیرونی دشمن کا تسلط وغلبہ، بھوک وقحط، یا موت۔ انھوں نے اپنی قوم کے مشورے سے موت کو منتخب کیا، جس پر ان کے ۷۰ ہزار آدمی تین روز میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ تم جو مجھے ہونٹ ہلاتے دیکھتے ہو،میں اسی واقعے کو یاد کرکے اللہ سے یہ دعا کرتاہوں:اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللہِ، یعنی اے اللہ! میں تو تیری مدد وتوفیق سے ہی دشمن سے لڑتاہوں، اور برائی سے بچ کر نیک کام کرلینا اللہ ہی سے وابستگی اور اس کی توفیق سے ہے ۔

٭   مثلاً: l مصنف عبد الرزاق ۵/۴۲۰، کتاب المغازی، حدیث:۹۷۵۱، المؤلف: ابو بکر عبدالرزاق (م:۲۱۱ـ)المحقق: حبیب الرحمٰن الاعظمی، بیروت، ۱۴۰۳ھ، الاجزاء: ۱۱، l الآحاد والمثانی ۱/۲۱۹، الحدیث:۲۸۷،المؤلف: ابوبکر بن ابی عاصم احمد الشیبانی (م:۲۸۷) المحقق: باسم فیصل احمد، – الریاض،  ۱۴۱۱ھ، l مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار۶/۱۸، l مسند صہیب بن سنان، الحدیث:۲۰۹۰، المؤلف: ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بالبزار (م:۲۹۲) المحقق: محفوظ الرحمٰن زین الله، المدینۃ المنورۃ، ۱۹۸۸ء، l الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان۳/۱۵۴-۱۵۷، الحدیث:۸۷۳، المؤلف: محمد بن حبان (م:۳۵۴) مرتبہ: الامیر علاء الدین الفارسی (م:۷۳۹)  بیروت،۱۹۸۸ء، الاجزاء:۱۸، l الطبرانی فی المعجم الکبیر۸/۴۱-۴۲، الحدیث:  ۷۳۱۹- ۷۳۲۰، المؤلف: سلیمان بن احمد الطبرانی (م:۳۶۰) المحقق: حمدی بن عبد المجید السلفی، – القاھرۃ، الاجزاء:۲۵  l  البیہقی فی شعب الایمان۳/۱۷۴، الحدیث:۱۵۱۸، المؤلف: احمد بن الحسین البیہقی (م:۴۵۸) المحقق: الدکتور عبد العلی عبد الحمید حامد، ریاض، ۲۰۰۳ء، الاجزاء:۱۴ (۱۳، ومجلد للفہارس)l  النسائی فی السنن الکبریٰ۱۰/۳۲۹، الحدیث:۱۱۵۹۷، المؤلف: ابو عبد الرحمٰن النسائی (م:۳۰۳) المحقق: حسن عبد المنعم شلبی، بیروت، ۲۰۰۱م، الاجزاء: (10 و 2 فہارس)

اصحاب الاخدود کا واقعہ

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں میرا علم میرے ساتھ ہی دفن نہ ہوجائے، اس لیے آپ میرے پاس ایک ذہین،علم کے شوقین لڑکے کو بھیجیں تاکہ میں اسے اپنا علم/جادو سکھا سکوں ۔ اس پر بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے اس کے پاس بھیج دیا۔ جب اس لڑکے نے اس کے پاس جانا شروع کیا تو راستے میں ایک عیسائی عبادت گاہ (صومعہ) میں ایک راہب تھا۔ – ان عبادت گاہوں والے اس وقت کے مسلمان تھے۔  وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا، جو اسے پسند آئیں۔ پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتااور مختلف سوالات کرتا رہتا۔ ایک عرصے تک اس کا یہی معمول رہا اور بالآخر راہب نے یہ کہہ کر اسے بتادیاکہ میں تو اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اب وہ لڑکا جادوگر کے پاس جاتے ہوئے، راستے میں راہب کے پاس بیٹھ جانے کی وجہ سے جادوگر کے پاس تاخیر سے پہنچتا۔ دیر سے آنے کی وجہ سے وہ اس کو مارتا اور لڑکے کے گھر والوں کو بھی بتا دیا کہ یہ تو میرے پاس بہت کم حاضر ہوتا ہے ۔ اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر مارنے لگے تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے پٹائی کا ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔

 اسی دوران ایک مرتبہ ایک درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا کہ ان کا گزرنا مشکل ہورہاتھا۔ جب لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا کہ میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا: ’’اے اللہ، اگر تجھے جادوگر کے معاملے سے راہب کا معاملہ زیادہ پسند یدہ ہے تو اس درندے کو مار دے تاکہ لوگوں کا آنا جانا ہو‘‘۔ اور پھر پتھر سے درندے کو مار دیا اور لوگ گزرنے لگے۔پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے یہ خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: اے میرے بیٹے! آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا۔ پھر اگر تو کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرا نہ بتانا۔ وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کا بیماری سے علاج بھی کردیتا تھا ۔اسی دوران بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا۔ اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا: اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمھارے لیے ہیں۔ اس لڑکے نے کہا ’’میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے‘‘۔ لڑکے نے اس کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ نتیجے میں وہ شخص اللہ پر ایمان لے آیا۔

 وہ آدمی اپنے معمول کے مطابق بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے۔ بادشاہ نے کہا: کیا میں نے؟اس نے کہا: نہیں ، اللہ نے جو میرا اور تیرا دونوں کا رب ہے ۔ بادشاہ نے کہا: کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی ربّ بھی ہے؟ اس نے کہا : ہاں۔ اب بادشاہ اس کو پکڑ کر عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو اس لڑکے کے بارے میں بتادیا۔ اس لڑکے کولایا گیا تو بادشاہ نے اس سے کہا: ’’اے بیٹے ! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی شفا دینے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے ؟‘‘ لڑکے نے کہا: ’’میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے‘‘۔

بادشاہ نے اسے پکڑ کر سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا۔ راہب کو پکڑ کر لایاگیا، تو اس سے کہا گیا: ’’تو اپنے اس دین سے پھر جا‘‘۔ راہب نے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ ’’تو اپنے دین سے پھر جا‘‘۔ اس نے بھی انکار کردیا۔ بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دوٹکڑے کروا دئیے۔

 پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا۔ وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ لوگوں کے حوالے کرکے کہا: ’’اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ۔ اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا‘‘ ۔

چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے دعا کرتے ہوئےکہا: ’’اے اللہ تو مجھے ان سے بچانے کے لیے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے‘‘۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا، جس سے بادشاہ کے وہ سارے کارندے گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے واپس بادشاہ کی طرف آگیا ۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ ’’تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟‘‘  لڑکے نے کہا: ’’اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے‘‘۔

بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے کچھ دیگر لوگوں کے حوالے کر کے کہا: ’’اگر یہ اپنے دین سے نہ پھرے تو اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا‘‘۔ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے پھر دعا کی اورکہا :’’اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے‘‘۔ پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان کارندوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف واپس آگیا ۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا: ’’تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟‘‘ اس نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے‘‘۔

پھر اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا: ’’تو مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک کہ اس طرح نہ کر     جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں‘‘۔ بادشاہ نے کہا: ’’وہ کیا ؟‘‘ اس لڑکے نے کہا: ’’سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ۔ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھ کر یہ کہو: ’’اس اللہ کے نام سے، جو اس لڑکے کا ربّ ہے۔ پھر مجھے تیر مارو۔ اگر تم اس طرح کرو، تو مجھے قتل کرسکتے ہو ‘‘۔

پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا۔ پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا۔ پھر اس تیر کو کمان میں رکھ کر کہا: ’’اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا ربّ ہے‘‘۔پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا ۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا۔ اس پر سب لوگوں نے بیک آوازکہا: ’’ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے‘‘۔

 بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا: ’’تجھے جس بات کا ڈر تھا، اب وہی بات آن پہنچی کہ سب لوگ لڑکے کے ربّ ، اللہ پر ایمان لے آئے‘‘۔

 تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا۔ خندقیں کھودی گئیں، تو ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی۔ بادشاہ نے کہا: ’’جو آدمی اپنے دین سے پھر جائے گا تو میں اس کو چھوڑ دوں گا،اور جو اپنے قدیم دین پر واپس نہیں آئے گا اس کو میں اس آگ کی خندق میں ڈلوا دوں گا‘‘۔ چنانچہ تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو دہکتی ہوئی آگ میں دھکیل دیا گیا۔ اسی دوران ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا۔ وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس کے بچے نے کہا: ’’اے امی، صبر کر، کیونکہ تو حق پر ہے‘‘۔

اس نوجوان کو شہادت کے بعد دفن کیاگیا۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدخلافت میں اس کی قبر کشائی کی گئی، تو اس کی انگلی کنپٹی کی اسی جگہ پر تھی جہاں اس کو تیرلگاتھا۔

دعوتی رہنمائی،دروس وعبر

اس قصے کی خوب صورتی،کثرتِ دروس،شدتِ تاثیر کونظر میں رکھیں، تو کہاجا سکتاہے کہ دنیا کا کوئی عظیم ادیب بھی اتنے خوب صورت انداز میں اس کو نہیں لکھ سکتا تھا، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امت کی رہنمائی کے لیے بیان فرمایا۔

ہمارے عوام بالعموم اور نوجوان نسل بالخصوص آج کل سوشل وپرنٹ میڈیا کے لچر وبیہودہ ڈراموں،افسانوں، کہانیوں اورناولوں میں اپنے قیمتی اوقات ہی نہیں صحت ومال اور اخلاق و کردار بھی برباد کر رہی ہے۔ ایسے میں شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ صاحب ایمان باغیرت مسلمان، عوام الناس اورنوجوان نسل کی تربیت کے لیے ان قرآنی ونبوی قصوں کو کام میں لائیں ۔

اس قصّے میں نوجوان کے لیے ’غلام‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو عربی میں دودھ چھڑانے کے بعد سے سن تمیز تک کی عمر کے بچوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  آج بھی ہم اس بچے سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔

اس واقعے کے زمانے کے متعلق حدیث میں تین الفاظ ’قبلکم‘ اور ’راھب‘ اور ’صومعۃ‘  اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے ۔ البتہ اس کی سب عبرتیں، حکمتیں اور رہنمائی زمان ومکان اور قومیتوں کی حدود وقیود سے ماورااور قیامت تک کے لیے ہے :

۱- جابربادشاہوں اور ظالم حکمرانوں کی اولین ترجیح عوام کی خیر خواہی اور خدمت نہیں بلکہ عوام کواپنا غلام اور ماتحت سمجھ کر، اقتدار وسلطنت کا تحفظ سب سرگرمیوں کا مرکز ومحور ہوتاہے،جس کے لیے وہ ہر حربہ حتیٰ کہ جادو ٹونہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔

۲- عالم یا کسی فن کے ماہر کو اگر ہونہار اور ذہین شاگرد میسر نہ ہوسکیں تو اس کا علم وفن اس کے ساتھ ہی دفن ہوجاتا ہے ۔

۳- حصول علم کا بہترین زمانہ بچپن کاعرصہ ہے۔

– ۴-یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم مشیت اور تدبیر تھی کہ عالم دین کی مجلس کا مقام،اس بچے اور جادوگر کے راستے میں تھا کہ جب ہونہار بچہ وہاں سے گزرے تو بیٹھ کر عالم دین سے سیکھے۔

– ۵-کوئی زمانہ اور ملک، ایمان اور علم نافع رکھنے والے علمائے ربانیین سے خالیٰ نہیں رہا۔

–۶- حُسن اخلاق اور شیریں کلامی کی بہت اہمیت ہے۔داعی اہل ایمان،صالحین اورعلما بالعموم حسن اخلاق اور شیریں کلامی سے عامۃ الناس کے دل ودماغ کو فتح کرلیتے ہیں ۔

–۷- فہم سلیم اور علم نافع میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ انسان کوایک حلاوت و استقامت بخشتا ہے۔ عالمِ دین کی علم ومعرفت پر مبنی گفتگو کا اثر تھا کہ نوجوان نے گھر والوں اور جادوگر کی شدید مار پٹائی کے باوجود عالم دین کی مجلس نہیں چھوڑی۔ وہ آتے جاتے اس مجلس میں ضرور بیٹھتا۔

 ۸- عالم دین نے اس نوجوان کو رازداری کی غرض سے جادوگر اور اپنے والدین کے سامنے غلط بیانی کا مشورہ دیا۔ یہ اضطرار کی کیفیت تھی کہ اہل ایمان بہت کم اور مظلوم تھے۔ اس کا مشورہ ’توریہ‘ اور ’معاریض‘ کی قسم سے تھا، جس کی شریعت نے گنجایش دی ہے ۔

۹- یہ نوجوان عالم دین کے پاس بیٹھتا ، مگر شاہی فرمان کی وجہ سے جادوگر کے پاس بیٹھنے پر بھی مجبور تھا۔ لیکن اس نے درندے کے واقعے کو اپنے دلی اطمینان اور مستقبل کی راہ متعین کرنے کے لیے ایک کسوٹی کے طور پر استعمال کیا۔

۱۰-  اللہ جلّ جلالہ، اپنے نیک اور صالح بندوں کی دعا قبول کرتا ہے اور ان کے ہاتھ پر ایسی کرامات کا ظہور ہوتاہے، جس سے حق کے مخالفین پر واضح ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہیں ۔

۱۱- درندہ جانور کے واقعے اور موقعے پر موجود لوگوں کو اس نوجوان کی کرامت واضح نظر آئی، اور ان کو یقین ہوگیا کہ وہ ایک ممتاز مقام کا مالک ہے ۔

۱۲- شاگرد مشکل امور میں رہنمائی کے لیے اپنے شیخ کے علم، حکمت اور تجربہ سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ نوجوان نے درندے کا راستہ روکنے کا واقعہ شیخ کو بتاکر ہدایات ورہنمائی طلب کی۔

۱۳- کبھی شاگرد، اپنے شیخ سے زیادہ ممتاز مقام حاصل کرلیتاہے: ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝۴ (الجمعة۶۲:۴) ’’یہ اس کا فضل ہے ،جسے چاہتا ہے دیتا ہے ،اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘۔ عالمِ دین نے نوجوان کی زبان سے جانور کا واقعہ سن کر اعتراف کیا کہ وہ شیخ سے زیادہ بہتر وافضل ہے حالانکہ وہ اسی کا سکھا یا پڑھایا تھا۔

 ۱۴- اہلِ صدق واخلاص کی دل چسپی شہرت اور ریاست میں نہیں بلکہ خیر وحق کی نشرواشاعت میں ہوتی ہے۔ وہ ان کے ذریعے سے ہو یا کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔

–۱۵- اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ وہ کسی شیخ کو ایسا شاگرد نصیب کردے، جو اس کے علم وفضل اور دعوت کےپھیلانے میں مددگار ثابت ہو۔

 ۱۶-عالم دین نے اپنے علم وحکمت کی بنا پر اس کو بتادیا کہ عوام الناس جب گمراہی میں مبتلا ہوں تو ایسے میں سچے اورمخلص داعی آزمایشوں کا شکار ہوتے ہیں ۔

۱۷- مومن جان بوجھ کر کبھی اپنے آپ کو آزمایش اور امتحان میں نہیں ڈالتا۔ اسی لیے اس عالمِ دین نے رازداری کی تاکید کی۔ اس احتیاط کے باوجود اگر مسلمان آزمایشوں میں گھر جائے تو اللہ تعالیٰ سے صبر وثبات کی توفیق طلب کرنا چاہیے۔

۱۸-  اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو مستجاب الدعوٰۃ بنایا، تو اس نے اس خصوصیت کو   دعوت الیٰ اللہ کے لیے استعمال کیا۔ اس کے برعکس جعلی پیروںاور اپنے منہ سے مشایخ کہلوانے والے ایسی خصوصیات کو اپنی شخصی اغراض ومفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔

۱۹-نوجوان کوئی نذرانہ ،ہدیہ قبول نہیں کرتاتھا۔اس کی اوّلین ترجیح لوگوں کی ہدایت ہوتی تھی۔

۲۰-  نوجوان لوگو ں کے لیے شفا کی دعا کرتے وقت ہی بڑی وضاحت سے ان کو بتادیتا کہ وہ شفا کا مالک نہیں ہے ، بلکہ شفا صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، وہی شفا دیتا ہے ۔ اس طرح جس دروازہ سے شیاطین جِن وانس داخل ہوکر سادہ لوح لوگوں کے ایمان وعقائد پر ڈاکا ڈالتے اور غلط عقائد کی ترویج کرتے ہیں ، اس کوابتدا ہی میں بند کردیتا۔

۲۱- بادشاہ کےنابینا ہم نشین نے جب کہا کہ ’’اس کے ربّ نے میری بصارت دوبارہ لوٹائی ہے‘‘ تو بادشاہ نے تعجب سے خوش ہو کر پوچھا: میں نے؟!‘‘ یہ اہل کفر والحادکے کھلے تضاد و تناقض کی واضح دلیل ہے ۔ وہ کیسا ربّ ہے جو لوگوں کو صحت وشفا بخشے اور اس کو خود اس کا علم وادراک نہ ہو؟

۲۲- بادشاہ نے یہ سوچ کر کہ کہیں حقیقت کے ظہور سے اس کی خدائی اورسلطنت کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ ظلم ،جبر اور تشدد کے حربے اختیار کرنے میں کچھ بھی دیر نہیں کی۔

۲۳-بادشاہ نے نوجوان کو ورغلانےاورگمراہ کرنےکی اپنی سی کوشش کی۔ اس کی کرامت کو جادوگر سے سیکھے جادو کی طرف منسوب کیا،لیکن نوجوان نے موقعے پر ہی اس جھوٹے دعوے کو ردکردیا اور صاف بتادیا کہ ’’مَیں شفا دینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ شافی، اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘‘۔   اس پر بادشاہ فوراً جبروتشدد پر دوبارہ اتر آیا،ایک کم عمر،معصوم وبے گناہ نوجوان پر!

۲۴- بادشاہ نوجوان اور نابینا شخص سے تشدد کے ذریعے راز معلوم کرنے میں کامیاب ضرور ہوا، لیکن اس کی کوئی دھمکی اور بہیمانہ طریقے سے قتل و غارت بھی ان کو دین حق سے نہ پھیر سکی۔

۲۵- عالمِ دین اور نابینا،شاہی ہم نشین کوآرے سے سر چیرتے ہی موت نے آلیاتھا، لیکن بادشاہ نے ان کے پورے جسم کو دوٹکڑوں میں چیردیا تاکہ لاش کی قطع وبرید اور مثلہ کے ذریعے اپنا غصہ ٹھنڈا کرے، اور عام لوگوں میں خوف ودہشت پھیلا کر ان کو دین اسلام سے دُور رکھ سکے۔

۲۶-جبر وتشدد کے ان سب حربوں کے باوجود نوجوان اپنے دین پر ثابت قدم رہا،اور انجام سے قطع نظر، دین حق کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔

۲۷- نوجوان کے دیگر دوساتھیو ں کو بے دردی سے قتل کیا۔ بادشاہ نے اس سے بھی زیادہ ظالمانہ طریقے سے نوجوان کوقتل کیا تاکہ عام لوگوں کو دہشت کے ذریعے دین اسلام سے دُور رکھا جاسکے۔

۲۸- اللہ تعالیٰ نے نوجوان داعی کو دو مرتبہ یقینی موت سے بچایا کہ زندگی اور موت کےفیصلے ہی نہیں بلکہ نفع ونقصان کے اموربھی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : وَلَوِ اجْتَمَعُوا  عَلٰی اَنْ  یَضُرُّوْکَ  بِشَیءٍ لَمْ یَضُرُّوکَ  اِلَّا  بِشَیءٍ قَدْ  کَتَبَہُ اللہُ  عَلَیْکَ…… (مسنداحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۶۶۹،عن عبداللہ بن عباسؓ)۔ ایمان کی اس پختگی کے نتیجے میں اعتماد اور ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے ۔ دنیا کے سب امکانات، اور دروازے بند نظر آئیں تو ہر در اورمشکل کی شاہ کلید صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

۲۹- نوجوان کو یقین ہوگیا کہ ظالم بادشاہ اس کو لازماً سزائے موت دے گا تو کیوں نہ موت کو بھی دعوت الیٰ اللہ اور اس کی سچائی کا ذریعہ بنایا جائے! قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ(الانعام۶:۱۶۲) ’’کہو،میری نماز ، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا،سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘۔

۳۰- ’بادشاہ‘ کواس نوجوان کے احکام کی تعمیل ذلت آمیز رسوائی سے کرناپڑی، حالانکہ نوجوان کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے، عقل ودانش کی کسی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور اس کی خدائی کے دعویٰ کو جھوٹا اور غلط ثابت کردیا۔

۳۱-  نوجوان کے قتل کے طریقے نے ثابت کردیاکہ وہ اپنی دعوت میں سچا ومخلص تھا، اور اس کی دعوت حق تھی۔کیونکہ ظالم بادشاہ اپنے سب ہتھکنڈوں سے ایک نہتے نوجوان کو قتل نہ کرسکا، آخرکار اسی کے ربّ کا نام لے کر اس کو قتل کرنے میں کامیاب ہوسکا۔

 ۳۲- اس کے بعد ظالم بادشاہ نے ظلم وتشدد اور نسل کشی کے ایسےحربوں کو اختیار کیا، جن سے انسانیت اب تک واقف نہ تھی۔

۳۳- جب لوگوں کو نوجوان کے ایمان اور دین کی سچائی کا یقین ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کے ساتھ ایسی ثابت قدمی نصیب کی کہ موت کو گلے لگالیا اور ہدایت الٰہی کا راستہ نہیں چھوڑا۔

۳۴-آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاتون کو ثابت قدمی بخشی اور اس کے دودھ پیتے نومولود کی گفتگو کے ذریعے اس کو معجزہ دکھایا۔

 ۳۵- اس قصے کا اصل ہیرو ایک نوجوان تھا، جو دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں اصل اہمیت علم نافع اور عمل صالح کو ہے، نہ کہ عمر وتجربے کو۔ اللہ تعالیٰ نے دعوت کی تاریخ میں نوجوانوں میں خیر وبرکت کی بے شمار مثالیں رکھی ہیں : ابراہیم وعیسیٰ ویحییٰ علیہم السلام، اصحابِ کہف اور صحابہ کرامؓ۔

 ۳۶- اس دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت ومشیت سے اہل ایمان کو فتح ونصرت اور غلبہ عطا فرماتا ہے،تاکہ اللہ کی زمین میں خیروصلاح اور نیکی وتقویٰ عام ہو، اور اہل ایمان کو اقتدار وغلبہ دے کرآزمائیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں؟ لیکن یہ غلبہ ہمیشہ کے لیے اور دائمی نہیں ہوتا، کبھی بلکہ اکثر ایسے ہوتا ہے کہ وقتی غلبہ اور فتح، اسلام دشمنوں،کفار ومشرکین کو ملتی ہے جس میں کئی حکمتیں ہیں:

      معاندین ومخالفین کی رسی دراز کرنا، تاکہ خوب ادھم مچالیں۔

      مومنین صالحین میں کھرے اور کھو ٹے، سچے و مخلص اور جھو ٹے منافقین کی تمیز اور پہچان۔

      مومنین کی سیئات کا کفّارہ، درجات کی بلندی اور اجر عظیم عطا کرنا۔

اہل ایمان کو اگر کبھی کسی زمانے میں اس قسم کی صورت حال سے سابقہ پیش آئے تو یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سب فیصلے علم،حکمت، مصالح اور مقاصد پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ قصّہ اہل علم کو مزید غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔