۲۰۰۷فروری

فہرست مضامین

ترکی میں چند روز مشاہدات اور تاثرات

عبدالرشید ترابی | ۲۰۰۷فروری | عالم اسلام

Responsive image Responsive image

گذشتہ ۱۶ برسوں میں میرا یہ ترکی کا پانچواں دورہ تھا ۔ اس عرصے میں دنیا کے تقریباً سارے ہی براعظموں کے سفر کیے ۔ قدرت نے اپنی سرزمین کو انسانوں کے لیے بہت پر کشش بنایا ہے اور مغرب کے ترقی یافتہ معاشرے نے اپنی بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے اپنے علاقو ںکو اور بھی خوب صورت بنا دیا ہے‘ تاہم ترکی بالخصوص استنبول کا کوئی ثانی نہیں۔ ترکی اور اہل ترکی سے اس لیے بھی محبت ہے کہ خلافت عثمانیہ کے تحت طویل عرصے تک انھوں نے دنیا کی ایک سوپر طاقت کی حیثیت سے مسلم دنیا کی قیادت کی۔

آئی بی ایم فورم کا اھم اجلاس

مسلم ممالک کے درمیان تجارتی حلقوں کو مربوط کرنے کے لیے انٹرنیشنل بزنس فورم نے، جس کا ہیڈکوارٹر استنبول میں ہے، ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جس کا افتتاح ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کیا۔ یہ ایک شان دار بین الاقوامی اجتماع تھا جس میں ہمارے علاوہ فلسطین کے عظیم رہنمارائدصلاح کو بھی، جو ۱۰ سال تک اسرائیل کی جیل میں رہے اور کچھ عرصہ  پہلے رہاہوئے ، کانفرنس میں مدعوکیا گیا تھاتاکہ شرکا کو فلسطین او رکشمیر کے حالات جاننے کا موقع  مل سکے۔کانفرنس چار دن تک جاری رہی اور ہر لحاظ سے کامیاب رہی ۔ اس میں مسلم ممالک میں باہم تجارت بڑھانے کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر بحث رہیں ۔ کانفرنس کے صدر ڈاکٹر عمربولاک نہایت تعلیم یافتہ اور صاحب بصیرت رہنما ہیں ۔ انھوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں جہاں مسلم ممالک کے ما بین تجارت کے فروغ کے لیے تجاویز دیں، وہاں شرکا کے سامنے فورم کی گذشتہ کارکردگی بھی رکھی۔اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین پر ایمان افروز خطاب کیا اور وزیراعظم ترکی اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین اوگلوکو کو اپنی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کیا۔

افتتاحی سیشن میں وزیراعظم ترکی جناب طیب اردگان اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل جناب اکمل الدین اوگلو کو نے بھی خطاب کیا۔سیکریٹری جنر ل نے اپنی طرف سے او آئی سی کے ممالک کے مابین تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کا جائزہ پیش کیا‘جب کہ جناب طیب اردگان نے حکومت کی کارکردگی سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی تفصیلات شرکا کے سامنے رکھیں اور بین الاقوامی سطح پر مسلم مسائل کے حل کے لیے عزم اور اقدامات کا تذکرہ بھی کیا۔ انھو ں نے کہا کہ جب انھیں حکومت ملی اس وقت ملک زبردست اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ افراط زر کی شرح ۱۵۰ فی صد سے متجاوز تھی۔ بیرونی تجارت‘ یعنی برآمدات محض ۳۴ ارب ڈالر تھیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عام تھی۔ ہماری حکومت کے اقدامات اور حکمت عملی نے ملک کو بحران سے نجات دلا دی ہے اور افراطِ زر کو ترکی کی تاریخ میں سب سے کم‘ یعنی ۹ فی صد تک پہنچادیا ہے۔ برآمدات ۸۵ارب ڈالر ہو گئی ہیں۔ ملک کے معاشی استحکام کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار تیزی سے ترکی کا رخ کررہے ہیں ۔ صرف عرب ممالک سے گذشتہ چار برسوں میں ۲۸ارب ڈالر کی    سرمایہ کاری ہوئی ہے۔اس وقت ملک میں ۳۳ارب ڈالر سے زائدزرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔ ملک کے اندر مستقبل قریب میں ۱۰۰فی صد سوشل سیکورٹی کا اہتمام ہوگا۔بین الاقوامی سطح پر     تمام مسلم اور عالمی مسائل کے حوالے سے ترکی ایک فعال کردار ادا کررہا ہے۔ مسئلہ فلسطین پر ہم عرب لیگ سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس سے ایک بار پھر تاریخی غلط فہمیاں پید ا ہو سکتی ہیں۔ البتہ عرب لیگ جو حکمت عملی اختیار کرے‘ ہم اس کے ساتھ ہوں گے۔

انٹرنیشنل بزنس فورم اور پاکستان

انٹرنیشنل بزنس فورم کے سابق صدر جناب تنویر مگوںاو رپاکستان سے لاہور اور سیال کوٹ کے وفود بھی شریک تھے۔ آزاد کشمیر سے بھی ایک وفد راجا یاسین مشیر حکومت اور چیمبرز آف کامرس کے صدر حافظ ذوالفقار کے ہمراہ شریک ہوا۔  جناب تنویر مگوں نے بتایا کہ یہ بزنس فورم ۱۹۹۵ء میں جناب قاضی حسین احمد کی دعوت پر لاہور میں قائم ہواتھا اوروہ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس بات کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ یہ اقدام اس قدر پزیرائی حاصل کرسکے گا۔ آج یہ فورم مسلم ممالک کے درمیان صنعت و تجارت او ر برآمدات کا زبردست ذریعہ  بن چکا ہے۔

اس موقع پر پانچ بڑے ہالوں میں نمایش کا انعقاد بھی کیا گیا تھاجس میں زیادہ تر ترکی ہی کی صنعتی اور تجارتی کمپنیو ںنے اپنے سٹال لگا رکھے تھے۔ باقی مسلم ممالک کے بھی جاذب نظر سٹال موجود تھے۔ البتہ پاکستان کا سٹال بہت کمزور تھا۔ لگتا تھا کہ کسی ہوم ورک اور اتنے اہم موقعے کا ادراک کیے بغیر صرف خانہ پری کی گئی تھی۔ ترکی میں پاکستان کے سفیر جناب جنرل (ر) افتخار شاہ نے بھی ملاقات میںاس بات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس کے اہتمام کی بنیادی ذمہ داری ایکسپورٹ پروموشن بیورو (EPB) کی تھی ۔ ہماری توجہ اور فالو اپ کے باوجود وہ اس کے لیے مؤثر اقدام نہ کرسکے ۔حالانکہ عرب دنیا‘ ایران اور وسطی ایشیا سے بھی اچھی نمایندگی تھی۔

میرے دورے کا پروگرام تو مختصر تھا لیکن بعض پرانے احباب کے اصرار پر مزیدرکنا پڑا۔ وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے طے کیا کہ حالیہ زلزلے کے موقع پر اہل ترکی نے جو تاریخی تعاون کیا اس پر ان کا شکریہ ادا کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں متوجہ بھی کیا جائے کہ   زلزلہ زدگان کی مکمل بحالی تک تعاون جاری رکھیں۔کیونکہ ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرین کے مسائل جوں کے توں ہیں اور ایمرجنسی ریلیف کے بعد مسلم این جی اوز واپس جارہی ہیں اور اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی مشنری این جی اوز ہمارے عقائد اور تہذیب و تمدن کے لیے زبردست مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ نیز مسئلہ کشمیر پر بھی انھیں تازہ صورت حال سے آگاہ کیا جائے کہ وہاں بھارت کے مظالم بدستور جاری ہیں اور تحریک بھی چل رہی ہے جسے آپ کے تعاون اور دعا کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہم نے کوشش کی کہ اہم سیاسی رہنمائوں،این جی اوز اور میڈیا کے لوگوں سے اس حوالے سے ملاقاتیں کی جائیں۔

کانفرنس میں وزیراعظم ترکی سے صرف اجتماعی ملاقات ہوسکی۔ البتہ انھوں نے اپنے ڈپٹی چیرمین اور پارلیمانی پارٹی میں خارجہ امور کے انچارج شعبان ڈسلائی کی ذمہ داری لگائی کہ تفصیلی ملاقات کریں ۔ چنانچہ انقرہ میں ان کے شان دار ہیڈکوارٹرز میں حق(حکمران) پارٹی کے ایک اور مرکزی رہنما اور استنبول سے ممبر پارلیمنٹ حسین کانسوکے ہمراہ جو دیرینہ دوست ہیں اور پارلیمنٹ میں ترک بوسنیا ہائوس کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں‘ مفید ملاقات ہوئی جس میں ترک حکومت اور قوم کا شکریہ ادا کیا‘ مسائل بھی بتائے اور کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔  انھوں نے تفصیلی نوٹ تیار کیے اور طے پایا کہ وزیر اعظم کی یورپ سے واپسی پر وہ انھیں آگاہ کریں گے اور ان شاء اللہ ان سارے مسائل اور تجاویز پر ممکنہ کردار ادا کیا جائے گا۔ نیز مسئلہ کشمیر پر حکومتِ ترکی کے گرم جوش موقف کو دہرایا اور ہر لحاظ سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

اس دورے کے دوران سابق وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اربکان صاحب ترکی کے حالات کا دھارا بدلنے کا مرکزی کردار ہیں۔وہ مسئلہ کشمیر اور امت کے دیگر مسائل کے پرجوش ترجمان ہیں۔ عالمی حالات کے مدوجزر پران کی گہری نظر ہے۔

نجم الدین اربکان کے مسائل

نجم الدین اربکان نے اپنے دور حکومت میں جہاں ملک کے اندر اصلاحات کیں ، کرپشن کو ختم کرکے عام آدمی کی حالت بہتر کرنے کی کوشش کی وہیں انھوں نے ترکی کا رشتہ D-8 اور دوسرے اداروں اور ذاتی تعلقات کے ذریعے امہ کے ساتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں عوام میں ان کی پزیرائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مختصر مدت میں عرب ممالک سے شان دار سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔اگر وہ وزارت عظمیٰ کی معینہ مدت پوری کرلیتے تو آیندہ انتخابات میں مزید وسیع حمایت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے لیکن فوج اور سیکولر عناصر نے ان کی حکومت کے خلاف کھلی اور چھپی سازشوں کا عمل تیز کردیا۔صدر کی سربراہی میں سیکورٹی کونسل کا ادارہ  فوری طور پر متحرک ہوگیا کہ اربکان کی پالیسیوں کے نتیجے میں ترکی کا سیکولرازم خطرے میں ہے ۔ یوں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر ان کی حکومت ختم کردی گئی۔رفاہ پارٹی پر پابندی لگادی گئی اور اربکان پر سیکولرازم کو ختم کرکے ترکی کو اسلامائز کرنے کی فرد جرم عائد کردی گئی لیکن اتنی وسیع حمایت حاصل ہونے کے باوجود اربکان اور ان کے وابستگان نے کسی پُر تشدد راستے کا انتخاب کرنے کے بجاے صبر و حکمت پر مبنی پالیسی کو اختیار کیا اور اپنے خلاف مقدمات کو عدالت میں چیلنج کیا۔    طیب اردگان چونکہ ان کے دست راست رہے تھے اس لیے لوگ یہی سمجھے کہ اردگان اربکان صاحب کے ہی نمایندے ہیں ۔ یوں ان کی پارٹی کو جو زبردست حمایت ملی وہ بھی  بنیادی طور پر اربکان ہی کی کارکردگی اور ساکھ کی بنیاد پر ملی تھی۔سعادت پارٹی کو یہ گلہ ہے کہ اردگان نے اقتدار میں آنے کے بعد مقدمات کے حوالے سے استاذ اربکان کے ساتھ کوئی خاص رعایت نہیں برتی اور اس سلسلے میں جو کچھ وہ آسانی سے کر سکتے تھے وہ بھی نہیں کی۔ بہرحال اربکان صاحب اب بھی مقدمات جھیل رہے ہیں ۔ اگرچہ قید اور نظربندی کے مراحل سے تو فارغ ہو گئے ہیں لیکن اب بھی کھلے عام سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی بدستور موجود ہے جس کے خاتمے کے لیے    ان کے قانونی ماہرین بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔

اربکان کا پیغام اُمت کے نام

اربکان صاحب سے ملاقات کا ابتدائی پروگرام بہت مختصر تھا۔ ان کی مصروفیات اور صحت کی وجہ سے ہماری خواہش تھی کہ ان سے مختصر ملاقات کرکے دعائیں حاصل کریں گے اور پارٹی کے صدر جناب رجائی قوطان اور ان کے نائبین کو دورے کی غرض و غایت اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کریں گے اور ان کا شکریہ ادا کریں گے کہ زلزلے کے فوری بعد جناب قوطان پیرانہ سالی کے باوجود ایک وفد اور بھرپور امداد لے کر پاکستان پہنچے ۔صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر کا بھی دورہ کیا اور حوصلہ افزائی کی ۔ ان سے وابستہ  این جی اوز‘ جان سوئیو نے بھی ریلیف کے میدان میں اہم کام کیا،   ان کا بھی شکریہ ادا کریں گے لیکن استاذ اربکان سے ملاقات شروع ہوئی تو سوا دو گھنٹے تک طول   پکڑ گئی۔جس میں انھوں نے عالمی حالات کا تجزیہ پیش کیا اور عالم اسلام جس طرح صہیونیوں کی گرفت میں آ چکا ہے ، دلائل سے اس کی تفصیلات بیان کیں اور فرمایا کہ فلسطین اور کشمیر سمیت مسلمانوں کے جتنے مسائل ہیں وہ اس صہیونی فتنہ گری کا نتیجہ ہیں۔ مسلمانوں کو مذہبی منافرت اور مختلف نعروں کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں ان کے ساتھ وسائل ، میڈیا اور بین الاقوامی سیاسی اورمالی ادار ے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں۔ اس زبردست شکنجے سے نکلنے کے لیے امت کے اند ر بیداری کی زبردست تحریک کی ضرورت ہے ۔

انھوں نے وضاحت کی کہ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران D-8 (انڈونیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان، ترکی ، مصر، سعودی عرب، نائیجیریااور ملائشیا) پر مشتمل بلاک اس لیے قائم کیا تھا کہ ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے اور یہ ایک مشترکہ منڈی اور کرنسی پر اکٹھے ہوجائیںتو باقی ممالک بھی تقلید کرسکتے ہیںاور بتدریج مسلم بلاک ایک قوت بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈالر اور یورو دونوں کرنسیوں کے پیچھے صہیونی منصوبہ ہے ۔ یہ دنیا سے دولت اپنے خزانوں میں جمع کرکے ان کے ہاتھ میں کاغذکی رسیدیں تھما دیتے ہیں۔اس کے لیے ایک نئے معاشی نظام کی ضرورت ہوگی جس کے حوالے سے چین اور روس کو قائل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے عزم و ہمت والی صاحب .ِ ایمان قیادت درکار ہے جو سیاسی عزم (political will) کے ساتھ جدوجہد کرے ۔ انھوں نے کہا کہ ذہنی طور پر شکست خوردہ اور مغرب سے مرعوب قیادت مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کرسکتی بلکہ ان کے ذریعے امریکا اور اتحادی مسلمانوں کو اور زیادہ مضبوط زنجیروں میں جکڑتے رہیں گے۔

اہلِ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یقینا ہم مسئلہ کشمیرپر کشمیریوں کے   شانہ بشانہ ہیں لیکن حکومت پاکستان کی آئے روز بدلتی پالیسیوں سے مسلمان کنفیوز ہورہے ہیں۔ جب مشرف صاحب خود یہ کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ حل ہونے والا ہے اور بھارت سے بات چیت بہت اچھے ماحول میں جاری ہے تو آپ کے ہمدرد بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ ان کی کسی پرجوش حمایت سے مذاکرات کا سلسلہ خواہ مخواہ متاثر نہ ہو۔ لہذا حکومت پاکستان سب سے پہلے واضح پالیسی اپنائے اور اس کے بعد مسلمانوں او ر دنیا سے مطالبہ کرے تو اس کے زیادہ بہتر نتائج مرتب ہوں گے۔ ہم حیرا ن تھے کہ اس قدر دور بیٹھی یہ شخصیت مسئلے کی تمام نزاکتوں کا کس قدر ادراک رکھتی ہے!

نجم الدین اربکان ترکی کی اسلامی شناخت کی علامت سمجھے جاتے ہیں ۔ ترکی میں اسلام سے محبت رکھنے والے جتنے حلقوں سے ملاقات ہوئی سب ان کا یکساں احترام کرتے ہیں ۔ ان کی عمر اس وقت ۸۰ برس سے تجاوز کرچکی ہے۔لیکن آج بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ ان کے سیکریٹری نے بتایا کہ استاذ پوری رات کام کرتے ہیں اور فجر کی نماز پڑھ کر کچھ دیر آرام کرتے ہیں ۔ ابھی تک وہ مقدمات بھگت رہے ہیں ، اس لیے پبلک سرگرمیوں میں وہ حصہ نہیں لے سکتے لیکن اپنی جماعت سعادت پارٹی کے فکری اور حقیقی قائد وہی ہیں ۔ موجودہ وزیرا عظم بھی ان کے قریبی شاگردوں ہی میں سے ہیں لیکن سعادت پارٹی کا موقف ہے کہ انھوں نے استاذ کے ساتھ بے وفائی کرکے اپنی پارٹی بنائی اور اب وہ اپنی حکومت بچانے اور چلانے کے لیے امریکا‘ اسرائیل سب کی تابع داری کر رہے ہیں‘ جب کہ حکمران جماعت اپنی حکمت عملی کو کامیاب سمجھتی ہے ۔

حکمران پارٹی کے ترجمان حسین کانسو اور ان کا موقف

حکمران پارٹی کے ذمہ داران اور ہلال احمر ترکی جیسی اہم این جی اوز سے ملاقاتوں کے اہتمام کرنے میں جناب حسین کانسو نے اہم کردار ادا کیا جن سے گذشتہ ۱۵برسوں سے یاد اللہ ہے۔ وہ بنیادی طور پر بوسنیا کے مہاجر ہیں استنبول میں پیشۂ تجارت سے منسلک ہیں اور مسلسل تیسری بار استنبول سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ۔ رفاہ پارٹی میں بھی وہ امور خارجہ کے اہم ذمہ دار تھے۔ اس لیے گذشتہ دوروں کو کامیاب بنانے کے لیے انھوں نے سر توڑ کوشش کی ہے۔ مہاجر ہونے کے ناتے وہ مسئلہ کشمیر، فلسطین اور مسلمانوں کے دیگر مسائل کا بھی صحیح ادرا ک رکھتے ہیں اور جنون کی حد تک اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے تاب رہے۔ استنبول پہنچ کر ان سے رابطہ کیا تو اس وقت انقرہ میں پارلیمنٹ کے اجلاس کی وجہ سے مصروف تھے لیکن رابطہ کرتے ہی وہ رات چھے گھنٹوں کا سفر طے کر کے صبح ہوتے ہی ملاقات کو پہنچ گئے اور طویل ملاقات میں رفاہ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد کے مراحل اور پھر طیب اردگان کا ساتھ دینے کا پس منظر بیان کیا ۔ وہ حکمران جسٹس اینڈڈویلپمنٹ پارٹی کے بانی رہنما  ہیں اور جناب اردگان کے قابل اعتماد اور قریبی ساتھی ہیں۔ اس لیے ان کی شدید خواہش تھی کہ ہماراقیامِ ترکی زیادہ سے زیادہ مفید اور بامقصد ہو۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے مشیر برادر فاتح کو خاص طور پر ہمارے ساتھ مامور کیا۔ اپنی دیگر مصروفیات کو مؤخر کرکے مسلسل انقرہ میں ہمارے ساتھ رہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم آج بھی استاذ اربکان کی باپ کی طرح عزت کرتے ہیں ۔ ان کے کسی الزام اور سرزنش کا جواب نہیں دیتے لیکن ان پر سیاسی عمل میں پابندی کے بعدکے انتخابات میں کو ئی چارہ نہ تھا کہ ہم متبادل پلیٹ فارم بناتے ہوئے کردار ادا کرتے ۔ چنانچہ جب فضیلت پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور استاذ پر مقدمات قائم کیے گئے تو اردگان نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے نام سے نئی پارٹی قائم کی۔ انتخابات کے موقع پر اس کی عمر صرف ۱۵ ما ہ تھی۔ اردگان پر بھی مقدمات تھے وہ نہ خود اسمبلی میں حصہ لے سکے اور نہ مہم چلا سکتے تھے لیکن اس کے باوجود ۵۵۰ نشستوں میں سے ۳۶۶ نشستیں ہماری پارٹی نے حاصل کرکے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ۴۰ سال میں پہلی مرتبہ ترکی کی تاریخ میں کسی پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی اور مشکلات کے باوجود ایک مستحکم حکومت قائم کی‘ نیز ۳۱۰۰ بلدیاتی اداروں میں سے تقریباً دو ہزار بلدیاتی اداروں میں بھی کامیابی حاصل کی ۔ ان اداروں میں استنبول ، انقرہ سمیت تمام بڑی بلدیات شامل ہیں ۔

اس وقت ہماری حکومت کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے اور ترکی کی تاریخ میں معاشی و سیاسی لحاظ سے سنہرا دور ہے کہ یہاں حالات کے مطابق ہم حکمت سے چل رہے ہیں ۔ عراق پر حملے کے موقع پر امریکا نے پیش کش کی تھی کہ ہمیں راستہ دے دو ، ۱۰ ارب ڈالر ہم امدا د دیں گے۔ اس کے بعد سافٹ لون جس قد ر چاہیںفراہم کردیں گے ۔لیکن ہم نے قومی غیرت کا سودا نہ کیا او ر اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیا۔ معاشی بحران کے باوجود ہماری پارلیمنٹ نے امریکی پیش رفت کو مسترد کرکے قومی وقار کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ امریکی اداروں نے ۲۵۰ملین ڈالر کی خطیر رقم ترک سیکولر میڈیا میں تقسیم کی تھی کہ و ہ ترک راے عامہ کو امریکا کے مفاد میں ہموار کریں۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اردگان کو اس قدر پزیرائی اس کے اسلامی پس منظر کی وجہ سے ملی۔

اب ترکی کی صدارت کے انتخابات ہونے والے ہیں جس میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اردگان خود صدر منتخب ہوجائیں گے اور عبداللہ گل یا اپنے کسی اور قابل اعتماد ساتھی کو وزیر اعظم بنائیں گے۔ جتنے بھی لوگوں سے ملاقات ہوئی، وہ یہی تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر حالات میں کوئی جوہری تبدیلی نہ آئی تو موجودہ حکمران جماعت پھر کامیاب ہوسکتی ہے ۔ لیکن دوسری طرف ترکی کی سیکولر تنظیمیں اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی صف بندی کررہی ہیںجنھیں گذشتہ انتخابات میں زبردست ہزیمت اٹھانی پڑی ۔ اس قیادت کی علامت میں سے بلند ایجوت حال ہی میں انتقال کرگئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک قیاد ت پر جمع ہونا ان کے لیے آسان نہیں ہے۔ ترک مقتدرہ (establishment ) یقینا انھیں متحد کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن حکمران پارٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں پُراعتماد ہے اور فی الحال کوئی بڑا چیلنج انھیں درپیش نہیں ہے لیکن سعادت پارٹی کی فعالیت اور اپوزیشن کے اتحاد سے انھیں نقصان بھی  پہنچ سکتا ہے۔

پاپاے روم کادورہ اور ترکوں کا ردعمل

ترکی میں قیام کے دوران پاپاے روم نے یہاں کا دورہ کیا ۔ یہ دورہ کئی حوالوں سے بہت متنازع رہا ۔ مسلمان جس قدر بھی سیکولر ہو اس کے دل میں ایمان کی چنگاری تو موجود رہتی ہے۔ ترکوں میں یہ چنگاری ہی نہیں ایک شعلے کی صورت میں نظر آئی۔ پوری قوم سراپا احتجاج تھی ۔ اس موقعے پر پوپ نے عیسائیوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور ترک حکومت کو عیسائیوں کو مکمل حقوق نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔ حالانکہ مذہبی لحاظ سے پوپ کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں اور آرتھوڈکس چر چ سے صدیوں پر محیط مخاصمت رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت امریکا کی سربراہی میں عیسائی دنیا نے مسلمانوں کے خلاف تہذیبی تصادم اور دہشت گردی کے نام پر جو جنگ شروع کررکھی ہے، درحقیقت ایک نئی صلیبی جنگ ہے جس کا اعلان بش نے افغانستان پر حملہ کرتے وقت کردیا تھا۔ترکی میں تجزیہ نگاروں نے لکھا کہ درحقیقت پوپ کا یہ دورہ کیتھولک اور آرتھوڈکس مذاہب کے درمیاں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ دور ہ مزید تنازع کا باعث بن گیا۔سعادت پارٹی اور تمام قومی حلقو ںمیں پوپ کے دورے پر تنقید بڑھتی چلی گئی۔   اس لیے اس موقع پر وزیراعظم اردگان صرف ۲۰ منٹ استقبال کرکے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے چلے گئے اور پوپ کو بھگتانے کا کام صدر اور مفتیِ اعظم کے سپر د کرگئے۔

پوپ کے دورے کے موقعے پر سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے ٹریفک کے زبردست مسائل رہے۔اس لیے میڈیا میں اس حوالے سے ہر کوئی تلخ تجربات بیان کرتا رہااور پوپ کے دورے کے خلاف تبصرے جاری رہے۔ یہ دورہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرزہ سرائی کے بعد کیا۔ اس لیے ترکی میں بھی باقی مسلم دنیا کی طرح زبردست ردعمل تھا۔ جس کی ترجمانی کا ذریعہ سعادت پارٹی نے استنبول میں ایک بڑی ریلی منعقد کرکے کیا جس میں ہمیں بھی شرکت کا موقع ملا۔ اس ریلی میں بزرگ اور پرجوش نوجوان حتیٰ کہ خواتین اور بچے بھی شامل ہوئے۔ ترکی کے ہر باشندے کی ہمدردیاں اس ریلی کے ساتھ تھیں۔ ریلی کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا نے دیں۔ اس کے ذریعے سعادت پارٹی نے اپنی سٹریٹ پاور اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیاہے۔ یہ سعادت کی اس نوعیت کی چوتھی پانچویں بڑی ریلی تھی ۔ قبل ازیں وہ فلسطین ، لبنان اور عراق میں امریکی جارحیت کے موقع پر بھی بڑی ریلیاں منعقد کرکے راے عامہ کو متحرک کرنے کی کوشش کرچکی ہے ۔(جاری)