۲۰۰۷فروری

فہرست مضامین

مسئلہ فلسطین اور اس کا حل

جمی کارٹر | ۲۰۰۷فروری | احوالِ عالم

Responsive image Responsive image

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک کتاب Palestine: Peace Not Aparthied (فلسطین: امن ‘ نسل پرستی نہیں) کے موضوع پر لکھی ہے جس میں غالباً پہلی مرتبہ امریکا کی ایک اتنی اہم شخصیت نے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر کھل کر بات کی ہے‘ اور فلسطین کے حالیہ انتخابات کے بارے میں گواہی دی ہے کہ وہ عوام کی خواہشات کے نمایندہ تھے۔ فطری طور پر اس کتاب کی اشاعت سے جمی کارٹر نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے۔ ہر طرف سے اس پر یورش ہورہی ہے۔ جس امریکا کو آزادیِ اظہار راے پر بڑا فخر ہے اس میں سوچ پر پہرے (thought control) کی جو کیفیت اسرائیلی لابی کے اثرات کی بنا پر مسلط ہے‘ اس کا یہ بین ثبوت ہے۔ جمی کارٹر میں بھی ابھی یہ جرأت تو نہیں کہ اسرائیلی سوسائٹی اور اس کی نام نہاد جمہوریت کا بے لاگ محاسبہ کرسکے لیکن کم از کم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا اعتراف اور دستاویزی ثبوت روشنی کی ایک کرن اور ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ یہ اسرائیل کے مظالم کے اعتراف سے بھی زیادہ خود امریکا میں اظہار آزادیِ راے کی زبوں حالی کا آئینہ ہے۔ اس کتاب کے ردعمل پر ‘ مصنف کی ایک تحریر کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔(مدیر)

دو برس قبل میں نے معروف اشاعتی ادارے سائمن اینڈ شوسٹر کے ساتھ مشرق وسطیٰ پر اپنے ذاتی مشاہدات اور تاثرات پر مبنی کتاب لکھنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کارٹر سنٹر نے فلسطین میں منعقدہ تین انتخابات کی مانیٹرنگ کی تھی اور میں خود اسرائیلی سیاسی لیڈروں اور امن کے داعیوں کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ہوں۔ یہ کتاب اب شائع ہوگئی ہے۔

ہم نے ۱۹۹۶ء‘ ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۶ء میں‘ فلسطینی کمیونٹی سے اس وقت رابطہ کیا جب یاسرعرفات اور بعد میں محمود عباس بطور صدر اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کا انتخاب ہوا تھا۔ انتخابات بحیثیت مجموعی شفاف تھے‘ اور ٹرن آئوٹ بہت زیادہ تھا‘ سواے مشرقی یروشلم کے جہاں اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ بہت سی رکاوٹوں کی وجہ سے صرف ۲ فی صد رجسٹرڈ ووٹر ہی ووٹ ڈال سکے۔

فلسطین اور اسرائیل کے لیے امن کے راستے کی تلاش سے متعلق متنازع امور پر اسرائیلیوں اور دیگر اقوام میں زبردست مباحثہ جاری ہے لیکن امریکا میں ان معاملات پر خاموشی طاری رہتی ہے۔ گذشتہ ۳۰ برسوں کے دوران میرا مشاہدہ اور تجربہ یہی رہا ہے کہ یہاں حقائق پر آزادانہ اور متوازن تبادلۂ خیال کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ میری نظر میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پرنکتہ چینی سے احتراز امریکن اسرائیل پولیٹیکل ایکشن کمیٹی کی غیرمعمولی لابنگ کا نتیجہ ہے اور ان پالیسیوں کی مخالفت میں نمایاں آواز کا نہ اٹھنا ہے۔ دراصل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان متوازن موقف اختیار کرنا اور یہ تجویز دینا کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے یا فلسطینیوں کو انصاف کی فراہمی اور ان کے حقوق کے دفاع کی بات کرنا ارکان کانگریس کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بہت ہی کم ارکان رملہ‘ نابلوس‘ ہبرون‘ غزہ سٹی‘ یہاں تک کہ بیت اللحم جیسے فلسطینی شہروں کا دورہ کرنے اور وہاں کے بدحال باشندوں سے بات چیت کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ اس سے بھی کہیں زیادہ ناقابل فہم پہلو یہ ہے کہ امریکا کے بڑے اخبارات اور جرائد نے بھی اپنے ادارتی صفحات پر اسی طرح کی پابندی عائد کر رکھی ہے حالانکہ ’مقدس سرزمین‘ میں متعین ان کے اپنے نمایندگان ذاتی گفتگوئوں میں ان معاملات پر زوردار باتیں کرتے نظرآتے ہیں۔

اس خدشے کے پیش نظر کہ میری کتاب کے مندرجات کو کسی قدر ہچکچاہٹ اور غیریقینی کیفیت کے ساتھ دیکھا جائے گا‘ میں نے اس میں نقشے اور دستاویزات بھی شامل کردی ہیں تاکہ صورت حال کی مکمل تصویر سامنے آجائے اور آخری تجزیے میں یہ نکتہ واضح ہوسکے کہ امن کا واحد ممکنہ راستہ اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ اسرائیلی اور فلسطینی اپنی اپنی مسلمہ بین الاقوامی سرحدوں کے اندر ساتھ ساتھ رہ کر زندگی بسر کریں۔ میں نے مسئلے کے حل کے لیے جن راستوں کو ترجیحاً اختیار کرنے کی تجویز دی ہے وہ اقوام متحدہ کی ان کلیدی قراردادوں سے مطابقت رکھتی ہے جن کی امریکا اور اسرائیل بھی حمایت کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تجاویز ۱۹۶۷ء سے اپنائی گئی امریکی پالیسی ۱۹۷۸ء اور ۱۹۹۳ء میں اسرائیلی لیڈروں کے طے کردہ سمجھوتوں(جن کی بنا پر انھیں نوبل امن انعام کا بھی حق دار قرار دیا گیا)‘ ۲۰۰۲ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق عرب لیگ کی پیش کش اور بین الاقوامی چار فریقی اس ’امن روڈمیپ‘ کے بھی عین مطابق ہیں جسے پی ایل او نے تسلیم اور اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا۔

میری کتاب Palestine: Peace Not Apartheid (فلسطین: امن‘ نسل پرستی نہیں) کا بنیادی تعلق فلسطین کے حالات و واقعات سے ہے۔ اگرچہ میں نے اس کتاب کو متعارف کرانے کے لیے صرف ایک ہفتے کا دورہ کیا ہے لیکن لوگوں اور میڈیا کے ردعمل کا اندازہ ابھی سے لگایا جاسکتا ہے۔ اب تک اس کی فروخت زبردست ہے اور مختلف ٹی وی چینل میرے انتہائی     دل چسپ انٹرویو کرچکے ہیں جن میں لیری کنگ لائیو‘ ہارڈبال‘ میٹ دی پریس‘ دی نیوز آوروِدجم لہرر‘ دی چارلی روز شو‘ سی سپین اور کئی دیگر شامل ہیں۔ لیکن حیرت ناک بات یہ ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا اس پر بڑے اخبارات نے نہ ہونے کے برابر تبصرہ کیا ہے۔

عموماً میڈیا نے اس کتاب پر جو تبصرے کیے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق ان یہودی تنظیموں سے ہے جنھوں نے کبھی ’مقبوضہ علاقوں‘ کا دورہ تک نہیں کیا اور ان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ کتاب اسرائیل کے خلاف ہے۔ کانگریس کے دو ارکان نے اس پر سرعام نکتہ چینی کی۔ ایوان نمایندگان کی عنقریب بننے والی نئی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اس کتاب کی اشاعت سے بھی پہلے کہہ دیا تھا کہ: وہ اسرائیل پر ڈیموکریٹک پارٹی کے موقف کے مطابق بات نہیں کرتے۔ کچھ تبصرے امازون ڈاٹ کام پر کیے گئے جن میں سے بعض میں مجھے سامی (یہودی) مخالف کہا گیا اور بعض نے کتاب کو ’جھوٹ‘ اور ’مسخ شدہ حقائق‘ کا پلندہ قرار دیا۔ کارٹر سنٹر کے ایک سابق فیلو نے کتاب کے سرورق کو ’غیرشایستہ‘ قرار دیا۔ البتہ حقیقی دنیا میں رہنے والے لوگوں کا ردعمل نہایت مثبت ہے۔ میں نے پانچ سٹوروں پر خریداروں کے لیے کتاب پر دستخط کیے اور ہر سٹور پر ۱۰۰۰ سے زائد افراد نے میری موجودگی میں یہ کتاب خریدی۔ مجھے ایک منفی تبصرہ پڑھنے کو ملا جس میں کہا گیا ہے کہ مجھ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اسی طرح سی سپین کے پروگرام کے دوران ایک صاحب نے مجھ پر یہودی مخالف ہونے کا الزام لگایا۔ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن تجربہ یہ تھا کہ میں نے ان یونی ورسٹیوں میں کتاب پر بلامعاوضہ گفتگو اور سوالات کے جواب دینے کی پیش کش کی جن میں یہودی طلبہ کثرت سے زیرتعلیم ہیں لیکن میری اس پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا۔ البتہ کئی معروف یہودی شہریوں اور ارکان کانگریس نے نجی طور پر میری بڑی حوصلہ افزائی کی اور اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ میں نے کتاب میں حقائق بیان کیے اور انھیں نئے تصورات سے روشناس کرایا ہے۔

اس کتاب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوںکے رہایشیوں پر حقارت آمیز ظلم و ستم روا رکھنے اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ایک جابرانہ نظام کے تحت یہودی کالونیوں کے مکینوں سے دُور رکھنے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک وسیع جیل کی تعمیر کے لیے دیوار کھڑی کی جارہی ہے جس کے ذریعے فلسطینیوں سے وہ کچھ بھی چھین لیا جا رہا ہے جوان کے پاس باقی ہے۔ اس غاصبانہ کارروائی کا مقصد یہودی کالونیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اراضی حاصل کرنا ہے۔ کئی اعتبار سے فلسطینیوں کی حالت نسلی عصبیت کے دور میں جنوبی افریقہ کے سیاہ فاموں سے بھی ابتر ہے۔ میں نے یہ نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ ان ظالمانہ کارروائیوں کا محرک نسل پرستی نہیں بلکہ اسرائیلی اقلیت کی یہ خواہش ہے کہ وہ فلسطین کے پسندیدہ علاقوں پر زبردستی قبضہ کر کے ان پر یہودی کالونیاں بسائے اور یہاں سے نکالے گئے شہریوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو طاقت کے بہیمانہ استعمال سے دبا دے۔ ظاہر ہے کہ میں بے گناہ شہریوں کے خلاف اس طرح کی دہشت گردی اور تشدد کی پُرزور مذمت کرتا ہوں‘ اور میں نے دونوں طرف ہونے والے ہولناک جانی نقصان کی معلومات دی ہیں۔

میری کتاب کا اصل مقصد مشرق وسطیٰ کے بارے میں ان حقائق کو اجاگر کرنا ہے جو امریکا میں نہیں جانے جاتے تاکہ ان پر بات چیت کی جائے اور امن مذاکرات (جو چھے برس سے معطل ہیں) دوبارہ شروع ہوسکیں‘ کیونکہ صرف یہی راستہ اسرائیل اور اس کے ہمسائیوں کے لیے پایدار امن کی طرف جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ وہ یہودی اور دیگر امریکی جن کے پیش نظر یہی مقصد ہے‘ وہ بھی اپنی آرا کے اظہار کے لیے تحریک پائیں گے‘ عوامی سطح پر اور غالباً مذاکروں میں۔ اس تعاون سے مجھے خوشی ہوگی۔ (بہ شکریہ سہ روزہ دعوت‘ دہلی‘ یکم جنوری ۲۰۰۷ء‘ ایکسپریس ڈاٹ کام)