فروری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کشمیر میں ظلم کا طوفان

حسن علی بانڈے | فروری ۲۰۲۱ | اخبار اُمت

دستورِ ہند میں دفعہ ۳۷۱ اور ۳۵-اے ختم کرنے کے بعد اگست۲۰۱۹ء سے تاحال وادیِ کشمیر میں محصور کشمیریوں پر بھارتی مسلح افواج کے ظلم کی نئی نئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مسلح فورسز کے ہاتھوں مقامی نہتے شہریوں پر تشدد روز کا معمول ہے۔ مختلف دیہاتی باشندے بتاتے ہیں کہ انھیں لاٹھیوں اور موٹی تاروں سے مارا گیا اور انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ یہ رپورٹ بی بی سی لندن پر معروف صحافی سمیر ہاشمی نے پیش کی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’’میں نے جموں و کشمیر کے جنوبی اضلاع میں کم از کم نصف درجن دیہات کا دورہ کیا، جہاں مجھے ان دیہات کے لوگوں کی زبانی راتوں کو چھاپے، مارپیٹ اور تشدد کے بارے میں تفصیلات سننے کو ملیں۔ 'ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے حکام، بیماریوں سے قطع نظر کسی بھی مریض سے متعلق صحافیوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں‘‘۔

بی بی سی کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’ایک گاؤں کے رہایشیوں کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے دہلی اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان عشروں پرانے انتظام کو ختم کرنے کے متنازعہ فیصلے کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد بھارتی فوج گھر، گھر پہنچ گئی۔ایک مظلوم نے بتایا کہ میرے جسم کے ایک ایک حصے پر تشدد کیا گیا‘‘۔

دو بھائیوں نے بتایا کہ ’’ہم صبح سویرے اُٹھے تو ہم کو باہر ایک علاقے میں لے جایا گیا، جہاں گاؤں کے تقریباً نصف درجن مرد شناخت پریڈ کے لیے موجود تھے۔ بھارتی فوجیوں نے ہم سب کو مارا پیٹا۔ ہم ان سے پوچھتے رہے کہ 'ہمارا قصور کیا ہے؟ لیکن انھوں نے ہماری کوئی بات نہیں سنی،اور بس وہ ہمیں مارتے رہے‘‘۔

اپنی رُوداد ظلم سناتے ہوئے ایک فرد نے بتایا کہ ’’انھوں نے ہمارے جسم کے ہر حصے پر شدید ضربیں لگائیں۔ انھوں نے لاتیں ماریں، ہمیں لاٹھیوں سے مارا، بجلی کے جھٹکے دیے اور تاروں سے مارا۔ انھوں نے ہماری ٹانگوں کے پیچھے مارا اور جب ہم بےہوش ہوجاتے تو وہ ہمیں اٹھانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دیتے۔ ہمیں ڈنڈوں سے مارتے اور ہم چیختے تو ہمارے منہ کو مٹی سے بھر دیا جاتا‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم انھیں کہتے کہ ہم بے قصور ہیں، آپ ہمارے ساتھ کیوں یہ کر رہے ہیں؟ مسلح کارندوں نے ہماری کوئی بات نہیں سنی۔ ہم نے انھیں کہا کہ ہم پر تشدد نہ کریں بس ہمیں گولی ماردیں۔ ایسا کہنے کا سبب یہ تھا کہ یہ تشدد ناقابلِ برداشت تھا‘‘۔

اس رپورٹ کے مطابق ایک نوجوان نے بتایا کہ ’’سیکورٹی فورسز مسلسل مجھ سے پوچھتی رہیں کہ 'پتھر پھینکنے والوں کے نام بتاؤ۔ میں نے اہلکاروں کو کہا کہ مجھے کسی کا نہیں پتا، جس کے بعد انھوں نے مجھے اپنی نظر کی عینک، کپڑے اور جوتے اتارنے کا حکم دیا۔جب میں نے اپنے کپڑے اتار دیئے تو انھوں نے مجھے دو گھنٹوں تک ڈنڈوں اور سلاخوں سے بے رحمی سے مارا ،اور جب میں بے ہوش ہوگیا تو مجھے ہوش میں لانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دیے‘‘۔

اس نوجوان لڑکے نے کہا کہ’’ 'اگر ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم دوبارہ کیا تو میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ میں بندوق اٹھاؤں گا کیونکہ میں روز روز کا یہ ظلم اور ذلّت برداشت نہیں کرسکتا‘‘۔ رُوداد بتاتے ہوئے اس نوجوان نے کہا کہ’’ 'اہلکاروں نے مجھے کہا کہ اپنے گاؤں میں ہرایک کو خبردار کردو کہ اگر کسی نے فورسز کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تو وہ بھی اسی طرح کے نتائج کا سامنا کریں گے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق ’’جن لوگوں نے بھی ہم سے بات کی وہ سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز نے دیہاتیوں کو ڈرانے کے لیے یہ سب حربے اختیار کیے ہیں تاکہ وہ احتجاج سے خوف زدہ رہیں‘‘۔

بی بی سی سے گفتگو کے دوران ایک ۲۰ سال کے نوعمر لڑکے نے کہا کہ’’ فوج نے دھمکی دی کہ اگر میں کشمیری فائٹرز کے خلاف مخبر نہ بنا تو مجھے پھنسا دیا جائے گا۔ لیکن جب میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو انھوں نے مجھ پر بدترین تشدد کیا کہ دو ہفتوں بعد بھی میں کمر کے بل نہیں لیٹ سکتا۔ اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو میرے پاس اپنا گھر چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ وہ ہمیں ایسے مارتے ہیں جیسے ہم کوئی جانور ہیں۔ وہ ہمیں انسان تصور نہیں کرتے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور شخص نے اپنے جسم پر متعدد گہرے زخم بھی دکھائے اور کہا کہ ’’مجھے زمین پر گرایا گیا اور پھر ۱۵،۱۶ سپاہیوں نے تاروں، بندوقوں، ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا‘‘۔ میں نیم بے ہوش تھا کہ انھوں نے میری داڑھی کو اتنے بُرے طریقے سے کھینچا، جس سے مجھے لگا کہ میرا جبڑا ٹوٹ جائے گا اور میرے دانت باہر نکل کر گر جائیں گے‘‘۔

اس نوعیت کے مظالم ڈھانے کا انداز کچھ اس طرح سے ہے کہ کبھی تشدد اورظلم کا یہ وحشیانہ طوفان ضلع کے ایک حصے میں اُٹھایا جاتا ہے ، اورپھر چند روز بعد کسی دوسرےعلاقے میں یہ درندگی مسلط کی جاتی ہے۔ ان ہولناک واقعات نے ہمارا جینا حرام کردیا ہے۔ افسوس کہ مسلم اُمت سورہی ہے۔