فروری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

| فروری ۲۰۲۱ | کتا ب نما

مجموعہ التفاسیر (سات جلدیں)،مفسر:مولانا لال محمد۔ مرتبہ: حاجی محمد مبین۔ ناشر: اقراء اکیڈمی، نزد قاسم خان میڈیکل سٹور، زرغون روڈ، کوئٹہ۔ فون: ۳۸۱۸۶۷۲-۰۳۰۰۔

زیرنظر تفسیر اعلیٰ درجے کی تحقیق و تجزیے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے جس میں کم و بیش تمام معاصر فتنوںکا بھرپور تعاقب کیا گیا ہے۔ خاص طورپر لادینیت، پرویزیت اور قادیانیت کی تردید کے لیے بہت گہرائی سے نقدوجرح کی گئی ہے۔ اسی طرح قرآنِ عظیم کے پیغام کو بڑے مؤثراورمفصل انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ محترم قاری عبدالمالک کاکڑ نے اسے بڑی محنت اور محبت سے شائع کیا ہے۔ مولانا لال محمد صاحب کے اس علمی کارنامے سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔(مولانا عبدالمالک)


قانونِ تحفظ ناموسِ رسالتؐ، مرتبہ: محمد متین خالد۔ ناشر: علم وعرفان، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔فون: ۳۷۲۲۳۵۸۴-۰۴۲۔ صفحات: ۴۱۵۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

پاکستان میں دیگر فتنوں کے ساتھ ساتھ ایک فتنہ توہین رسالتؐ کا بھی ہے۔ جس کاارتکاب بعض اوقات غیرمسلموں اور ملحدوں کے ہاتھوں دانستہ طور پر یابعض اوقات بعض افراد کی جانب سے انجانے میں بھی سامنے آتا ہے۔ یہ چیز جہاں اسلامیانِ پاکستان کےدلوں کو زخمی کرتی ہے، وہیں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔اس موضوع پر تعزیراتِ پاکستان میں قانون سازی کو نشانہ بنانے اورتبدیل کرنے کے لیے بے دین طبقہ، مغرب زدہ تنظیمیں اور میڈیاپر قابض حضرات آئے دن کوئی نہ کوئی تیر پھینکتے رہتے ہیں۔

جناب متین خالد نے اس مسئلے کے جملہ پہلوئوں کو اُجاگر کرنے کے لیے پاکستان کے ایوانِ پارلیمنٹ میں برپا مباحث اور اعلیٰ عدلیہ کی مسندوں سے ایوانِ عدل میں تحریر کیے گئے فیصلوں کو بہت راست فکری سے موضوع بنایا ہے۔ مثال کے طورپر جون، جولائی ۱۹۸۶ء میں قومی اسمبلی میںہونےوالی بحث اور پھرسینیٹ میں یکم اکتوبر ۱۹۸۶ء ، جون، جولائی ۱۹۹۲ء اور مئی ۲۰۰۷ء میں قومی اسمبلی کے مباحث کو بلاکم و کاست پیش کردیا گیا ہے۔

دوسرے حصے میں ۹  قیمتی مضامین، زیربحث موضوع کااحاطہ کرتے ہیں۔ یہ کتاب ارکانِ پارلیمنٹ، صحافیوں اور اساتذہ کوبالخصوص پڑھنی چاہیے۔ (س م خ)


قائداعظم اورمسلم اقتصادیات،محمودعلی۔اُردو ترجمہ: اشتیاق الحسن۔ ناشر: نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ، ۱۰۰-شاہراہ قائداعظم، لاہور۔فون: ۹۹۲۰۲۱۳-۰۴۲۔صفحات: ۱۷۸۔ قیمت:درج نہیں۔

قائداعظم کی زندگی اورجدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض ایک قانون دان نہ تھے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تعلقات پر گہری نظررکھنے والے مدبر اورمعاشی مسئلے پرسوچنے والے عملی انسان بھی تھے۔

محمودعلی مرحوم کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ عملی سیاست دان کے طور پرانھوں نے تحریک پاکستان اورپھر تعمیر پاکستان میں حصہ لیا۔اس نسبت سے وہ قائداعظم کے ایک نوجوان کارکن بھی تھے۔ مصنف نے اس کتاب میں قائداعظم کے معاشی نقطۂ نظر ، مسلمانوں کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے فکرمندی اور پاکستان کی معاشی تنظیم کےلیے ان کی رہنمائی کو یک جا کردیا ہے۔ اس مختصر کتاب سے ہمیں سوچنے کے وہ اُفق دکھائی دیتے ہیں، جنھیں ہماری سیاسی و فوجی قیادتوں نے مجرمانہ حد تک نظرانداز کرکے، ملک کو اقتصادی دیوالیہ پن کی طرف دھکیل دیا ہے۔(س م خ)


نظریۂ پاکستان اور قائداعظم، ڈاکٹر معین الدین عقیل۔ناشر: مکتبہ تعمیر انسانیت، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار،لاہور۔ فون: ۷۲۳۷۵۰۰-۰۳۳۳۔صفحات:۱۳۶۔قیمت:۳۰۰ روپے۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل اگرچہ اُردو ادب کے استاد ہیں، لیکن ان کے ذوقِ تحقیق کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قلم تاریخ کے میدان میں خوب رواں ہے اور تاریخ کے موضوع پر بڑے معرکہ کی تحریریں انھوں نے سپردِقلم کی ہیں۔

اس کتاب میں شامل چھے مقالات ، پاکستان کی نظریاتی جہت کو اُجاگر کرنے کی کامیاب دلیل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے غیرروایتی انداز سے پاکستان کے قیام کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے، سرزد ہونے والی کوتاہی کی نشان دہی کی ہے۔ بھولی بسری یاد ’ریاست حیدر آباد دکن‘ کاتذکرہ تواب شاید پروفیسر عقیل صاحب ہی کا حصہ رہ گیا ہے۔ حیدرآباد دکن کی تحریک ِپاکستان اورمسلمانوں کی بہتری اور ترقی سے نسبت کا حوالہ اس کتاب کا اہم پہلو ہے۔(س م خ)


غمزئہ خوں ریز، محمدفاروق۔ ناشر: شعیب سنز پبلشرز، جی ٹی روڈ، منگورہ ،سوات۔صفحات: ۶۰۰۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔ فون: ۷۲۲۵۱۷- ۰۹۴۶۔

اس کتاب کا بنیادی موضوع بقول مصنف: ’’تصوف اور شریعت‘کا تعلق ہے۔ لیکن دیگر موضوعات (کچھ اولیائے کرام کے حیرت انگیز واقعات، جہادِ افغانستان اورکشمیر، جماعت اسلامی، اُمت مسلمہ وغیرہ) پر بھی بکثرت اوربطوالت قلم اُٹھایا گیا ہے‘‘۔ چھے سو صفحات پرمشتمل یہ کتاب دراصل مصنف کی آپ بیتی اور ذہنی سفر کی داستان ہے۔ مصنف کا آبائی تعلق سوات سے ہے۔ انھیں بچپن ہی سے مطالعے کا شوق تھا، چنانچہ اوائل ہی میں سیّد مودودیؒ کی کتابوں سے ابتدائی شناسائی حاصل کرلی تھی (ص۵۷)۔

شعور کی اگلی منزلوں کی طرف بڑھتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’’ہم ایک ایسی دُنیا کے باسی ہیں جس میں چاروں طرف خدا کی ہرنعمت تو موجود ہے، مگرروحانی آسودگی کی دولت ِ عظیم کا فقدان ہے۔ آج کا بدقسمت انسان سکونِ قلب کی اس نعمت ِخداوندی سے محروم ہے‘‘ (ص۲۳)۔ اسی سکونِ قلب کی تلاش اس کتاب کا موضوع ہے۔

مصنّف نے بتایا ہے کہ لکھنے پڑھنے میں میری دل چسپی ختم ہوگئی تھی لیکن اپنے دوست ڈاکٹر فخرالاسلام کی تجویز پر لکھنا شروع کیا۔اس لکھنے میں انھوں نے بہت سے سبق آموز اورفکرانگیز نکات کی طرف قارئین کو توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک، بریگیڈیئر (ر) سعداللہ خان۔ اُردو ترجمہ: منصورامین۔ ناشر: ریڈرز، پہلی منزل، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۴۱۶۷۶۱- ۰۳۰۰۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

مشرقی پاکستان میں منظم بدامنی پھیلا کر، بھارت کی پشت پناہی سے ۱۹۷۱ء میں بغاوت برپا کی گئی۔ اُس زمانے میں بھارتی فوج کی نگرانی اورتربیت سے تیارکردہ دہشت گردوں نےوہاں بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا نشانہ غیربنگالی پاکستانی، ایک پاکستان پریقین و اعتماد رکھنےوالے بنگالی پاکستانی اورپاک فوج کے اہل کار تھے۔

بریگیڈیئر سعد اللہ خان اُن دنوں دفاعِ پاکستان کی گراں قدرذمہ داریاں ادا کررہے تھے۔ زیرمطالعہ کتاب میں انھوں نے اختصار کے ساتھ ان حالات و واقعات کو بیان کیاہے، جو سیاسی اوردفاعی نقطۂ نظرسےانھیں درپیش تھے۔ منصورامین نے سعداللہ خان صاحب کی کتاب East Pakistan to Bangladesh کا اُردو ترجمہ کرکے اہم خدمت انجام دی ہے۔ (س م خ)