فروری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

تعلیم کا تہذیبی نظریہ اور ہم

نعیم صدیقی | فروری ۲۰۲۱ | تعلیم و تربیت

تعلیم کیا ہے ؟ وہ عمل جس کے ذریعے ایک نسل اپنی حاصل کردہ معلومات ، تجربات ،عملی مہارتوں اور اپنے عقیدہ واطوار کو نو خیز نسل کی طرف منتقل کرتی ہے۔ پہلے ا س عمل کا زیادہ تر حصہ گھروں کے دائروں میں تکمیل پاتا تھا۔ ماں کی گود اور باپ کے فیضانِ نظر کا مکتب اکتفا کرتا تھا ۔ پھریہ عمل قبیلے یا دیہی کمیونٹی تک وسیع ہو گیا۔ بعد میںجب انسانی معلومات اور تجربات کا پھیلائو بڑھ گیا تو باقاعدہ مکتب ومدرسہ کے ادارے وجود میں آئے۔ اور اب، جب کہ شاخ در شاخ علوم کی پہنائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہر شاخ بجاے خود چمن بد اماں ہے، تعلیم کاعمل یونی ورسٹیوں اور جامعات وکلیات کے بھاری بھر کم نظام کا منت کش ہو گیا ہے۔

  • مفید اور مضر معلومات کا فرق : زمانہ کوئی بھی ہو ، معاشرہ کسی بھی سطح کا ہو، تعلیم کے دائرے کا پھیلائو کم ہو یا زیادہ ، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ذہن ، جسم ، ماحول اور اشیا کے متعلق معلومات وتجربات کے انبار کو بھلے برے ، مفید ومضر اور صحیح اور غیر صحیح کی چھانٹی کیے بغیر ایک زمانے کے لوگ اپنے اخلاف کے حوالے کردیں، بلکہ اس فطری تقاضے کے تحت جس کے اثر سے ماں باپ اپنی اولاد کے متعلق یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کی کج فکریوں ، غلطیوں اور کمزوریوں سے بچ کر زیادہ بہتر انسان ثابت ہوں، تعلیم کے عمل میں یہ ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ ناقص معلومات وتجربات ،حقائق کے غلط تصورات اور انسانی اطوار کے ناپسندیدہ اجزا کو چھانٹ کر بہترین مواد کو آیندہ نسلوں کے حوالے کیا جائے ۔ اس طرح ہر نسل یا ہر دور کی طرف سے کوشش یہ ہوتی ہے کہ صرف اس سرمایۂ علم کی آگے ترسیل کی جائے جو زیادہ سے زیادہ قرینِ حقیقت ہو، ورنہ اگر سارے رطب ویابس کو اکٹھا کر کے شروع سے منتقل کیا جاتا تو آج ہرطالب علم کے ساتھ نصابیات کا پورا ایک انبارِ خر ہوتا اور کسی استاد کا دماغ تدریسی مواد کا گودام بننے کے قابل نہ ہوتا۔
  • مرتب علم : تعلیمی عمل کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ معلومات وتجربات کو متفرق اور پر اگندا صورت میں منتقل نہیں کیا جاتا ، بلکہ سارے مواد کو ایک خاص ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ترتیب جس مرکزے کے گرد واقع ہوتی ہے وہ کسی معاشرے کے عقیدے ، مقصد اور انسانِ مطلوب کے تصور سے بنتا ہے ۔ یہی تین چیزیں اس کسوٹی کی تشکیل بھی کرتی ہیں جس سے تعلیمی مواد کو پرکھ کر خس وخاشاک کوالگ کیا جاتا ہے اور ذات ِ زر اور پارئہ ہائے جواہر کو اگلی نسلوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔
  • تہذیبی شعور اور مطلوب انسان : دنیا میں کبھی کوئی نظام تعلیم ایسا نہیں پایا گیا جو کائنات وحیات کے متعلق کچھ اساسی معتقدات نہ رکھتا ہو۔ اسی طرح ہر قوم کے سامنے کوئی نہ کوئی مقصدِ وجود ہوتا ہے، خواہ وہ لوٹ مار ہو یا نوع انسانی کی خدمت ۔ اور ان دو بنیادی حقیقتوں کا لازمہ انسانِ مطلوب کا ایک تصور ہے۔ ہر معاشرہ اپنے نظام تعلیم کے ذریعے ساری معلومات اور سارے تجربات کو نہ صرف اپنے اس بنیادی سرمایۂ شعور کے گرد مرتب کرتا ہے بلکہ وہ اس بنیادی سرمایۂ شعور کو تعلیمی عمل میں بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

اسی بنیادی سرمایۂ شعور سے ہر معاشرے کا کلچر بنتا ہے اور اسی کے مطابق اس کی ساری تہذیب تشکیل پاتی ہے ۔اس کلچر یا تہذیب کو تعلیم کے ذریعے ہر نسل دوسری نسل کی طرف بڑی احتیاط اور بڑی سر گرمی سے منتقل کرتی ہے۔ اسی تہذیب کے مطابق اس کی اجتماعیت بنتی ہے۔ اسی کے مطابق اس کا نیشنل ٹائپ بنتا ہے۔ اسی کے مطابق اس کا نظامِ اقدار ، اس کا سلسلۂ اطوار اور اس کا تصور کردار نمودار ہوتا ہے ۔ پس اگر وہ اپنے امتیازی تہذیبی شعور کو آیندہ نسلوں تک پہنچانے میں کوتاہی کرے تو اس کا نتیجہ بجز اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ اخلاف اپنے تہذیبی وجود کو کھو بیٹھیں،    اپنا مقصد گم کر دیں ، اپنے تصورِ کردار سے محروم ہو جائیں، اپنے معتقدات کی عمل انگیز روح کو ضائع کر دیں، اور اپنی اجتماعیت کی شکست وریخت کا تماشا کریں۔

پس میں جس تہذیبی نظریۂ تعلیم پر گفتگو کر رہا ہوں ، اس کے لحاظ سے اوّلیت اس امر کو حاصل ہے کہ پورے نظام تعلیم میں اس تہذیبی شعور اور تجربے کو اوّلیت اور غلبہ حاصل ہونا چاہیے جس کے بل پر کوئی قوم قائم ہے اور جس کی تحریک ہی سے وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر مزاحم قوتوں کے ہر چیلنج کا جواب دینے کے قابل ہوتی ہے۔ تہذیبی نظریۂ تعلیم پر غور کرتے ہوئے ہمیں خود اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمارا امتیازی تہذیبی وجود کیا ہے ، کیسے بنتا ہے اور اس کی بنا کیا ہے ؟

  • ہماری تہذیبی بنیادیں اور معاشرتی ڈھانچا: کائنات وحیات کی حقیقت سے لے کر تاریخ کے قانونِ عروج وزوال تک انسان نے مختلف ادوار میں جو فلسفیانہ افکار سمیٹے ہیں، وہ حواس وقیاس کی دی ہوئی محدود معلومات پر مبنی ہیں۔ یہ معلومات نت بدلتی ہیں، غلط ثابت ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ گمان تودے سکتی ہیں، ایمان نہیں دے سکتیں۔ دنیا کی بہت سی مذہبی اور عقلی قوموں نے گمان پر ضروری عقیدے کھڑے کیے ہیں ، کیوںکہ ان کے بغیر زندگی ایک قدم نہیں چل سکتی ۔ بخلاف ایسی ملحدیا مشرک قوموں کے، کائنات وحیات اور تاریخ انسانی کے متعلق ہمارا شعور ، پیغمبروں کے عطا کردہ علم وحی پر مبنی ہے جس کی صحت کا بڑا ٹیسٹ یہ ہے کہ مختلف زمانوں اور حالات میں آنے والے تمام انبیا ؑنے بنیادی حقیقتوں کا ایک تصور دلایا ہے۔ ان میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔ پھر راستی اور امانت اور بے مُزد تعلیم وتلقین کے لحاظ سے بھی، اور انسانیت کی بھلائی کے لیے قربانیاں دینے کے لحاظ سے بھی جملہ انبیاؑ کی شخصیتیں ایسی درخشاں ہیں کہ ان کی بات پر ایمان لائے بغیر چارہ ہی نہیں رہتا۔ اتنا ہی نہیں ، جملہ کائنات کی حسّی آیات و مظاہر اور تاریخ انسانی کے حوادث وواقعات، ان کی تعلیمات کے فریم میں درست بیٹھتے ہیں۔ نیز کسی بھی دور میں ان کو تسلیم کرنے والے افراد کے کرداروں کی بلندی اُن کی صداقت پر ایک عظیم شہادت ہے۔

پس ہم ملت اسلامیہ سے وابستہ لوگ کائنات وحیات کا خدا پرستانہ اعتقاد رکھتے ہیں۔ ہم تمام نظریات وافکار کی آخری کسوٹی علمِ وحی کو مانتے ہیں۔ ہم خدا کے رسولوں کے اسوہ کو انسانی کرداروں کے لیے معیار سمجھتے ہیں۔ ہم حق وباطل اور خیر وشر کی ایک خاص تقسیم کے قائل ہیں۔ ہم پائیدار اخلاقی بنیادوں کے مطابق انسانِ مطلوب کا خاکہ سامنے رکھتے ہیں۔ ہماری نگاہ میں انسانی مراتب اور رابطوں اور باہمی حقوق وفرائض کا ایک متعین ومخصوص معاشرتی ڈھانچا وقعت رکھتا ہے۔ ہم دولت ومحنت کا تعاون عدل واحسان کے ذریعے قائم کرتے ہیں۔ ہم مرد وزن کے دو طرفہ مساویانہ حقوق کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے ادارے کو مستحکم رکھنے کے لیے مرد کو ادارے کی لیڈر شپ پر فائز کرتے ہیں۔ اسی طرح جنگ وصلح کے حدود ، مجلسی آداب وشعائر، اور ایک مخصوص قسم کا ذوق جمال و زیبائی ہمارے تہذیبی سرمایے کے لازمی اجزا ہیں۔ ہمارے اساسی عقائد کے مطابق جو خدا پرستانہ تہذیب نمودار ہوتی ہے ، اس میں ایک خاص نہج کی ہیئت اجتماعیہ جگہ پا سکتی ہے۔

  • تعلیمی انحطاط کے اسباب: اس تہذیبی نقشے کے مطابق حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معیاری معاشرہ قائم کیا۔ ایک مکمل ریاست کی تشکیل کی اور اس کی ضرورت کے مطابق موزوں ترین تعلیمی عمل کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بخوبی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ یہودی مجوسی سازش نے آخری تین خلفا کو یکے بعد دیگرے شہید کیا اور ابتدائی مسلم معاشرے کو فتنہ وتفرقہ سے بھر دیا۔ رہی سہی کسر حادثۂ کربلا نے پوری کر دی۔ بعد کے اَدوار میں جب سلطنت کا نقشہ بدل گیا اور ملت کا نظام تعلیم علما ومفکرین کے قبضے میں رہا، اور انھوں نے سلطنت کو اس میں مداخلت کرنے سے باز رکھنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ ملت کے علما ومفکرین کے ذریعے چلنے والے آزاد نظامِ تعلیم نے بنیادی تہذیبی شعور کو نسلاً بعد نسلِِ منتقل کرنے کا حق ادا کر دیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ یونانی افکار ، عجمی تہذیب ، تاتاری سفاکیت اور ہندی یوگیوں اور تیاگیوں کے تفلسف کے مختلف حملوں کے باوجود ملّتِ اسلامیہ میں ہر مرحلے میں تجدیدی تحریکات اور احیائے اسلام کے جذبات کا ر فرما رہے۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سرزمینِ برعظیم پر بھی تحریک مجدّدی کے زیر اثر دورِ عالم گیر ی میں اسلامی نظامِ تہذیب بہت بڑی حد تک جلوہ گر ہوا۔

ہم پر مصیبت یہ آئی کہ ایک بیرونی قوم نے ہمیں غلامی میں جکڑ کر نظامِ تعلیم کے ذریعے اپنی مادّہ پرستانہ تہذیب کو ہم پر ٹھونسنے کا عمل جاری رکھا۔ اس عرصے میں ہمارے عقیدے، ہمارے مقصد اور معیارِ انسان مطلوب ، یعنی ہمارے اساسی تہذیبی شعور کو بری طرح تباہ کیا گیا۔ ہمارا پورا نیشنل ٹائپ غارت ہونے لگا۔ ہمارے امتیازی تہذیبی وجود کے تمام اجزا پراگندا ہونے لگے۔ ہمارا تصورِ اجتماعیت نگاہوں سے گم ہونے لگا، اور ہماری ملّی خودی جوتجدید واحیا کے لیے  قوتِ محرکہ تھی، تعلیم کے تیزاب میں پڑ کر راکھ ہونے لگی۔ ہمیں اگر بچایا ہے تو قرآن وحدیث کے اس علم نے جو ایک مشعل کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ رہا۔ اور جس سے بہرہ مند کرنے کے لیے ہمارے ان علما ، لیڈروں، ادیبوں، مصنفوں اور صحافیوں نے اپنی محنتیں صرف کیں جو مغربی سامراج کی غلامی کے قفس میں بھی اپنی ایمانی روح کو سلامت رکھ سکے۔

  • نظامِ تعلیم کو تہذیبی شعور کا ذریعہ بنایئے: غلامی سے نکل کر ہم ایک دوسری آزمایش سے دو چار ہو گئے۔ وہ یہ کہ آزادی کے بعد بھی ہم اپنے نظامِ تعلیم کو اپنے تہذیبی شعور کا ذریعۂ انتقال نہ بنا سکے، بلکہ مخالف ِ اسلام تہذیبی شعور کے ساتھ ہم نے اسلامیات کے ایک محدود مضمون کا جوڑ لگا دیا۔ اضداد کی اس پیوندکاری سے کچھ حاصل نہ ہوا۔

ایک کے بعددوسری اور تیسری تعلیمی پالیسی پچھلی کوششوں سے بہت بہتر ہے، مگر اس کا بھی مطلوب صرف یہ ہے کہ ہر مضمون میں اسلام کے عناصر کو شامل کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ  مغرب سے مستعار علوم اور افکار اور نصابیات میں جو مادّہ پرستانہ تصورِ کائنات وحیات ، نظریۂ ارتقا کے تحت انسان کا جو حیوانی تصور، نفسیاتی اور تاریخی جبریت کا جو فلسفہ ، اخلاق کا جو افادی نظریہ، ادب، سائنس اور ٹکنالوجی کا جو دیوتائی مرتبہ ، اور تحلیل وتحریم اور قانون سازی میں عوامی جذبات وخواہشات کی برتری کی جو فکر شامل ہے ، اسے تبدیل کیے بغیر آخر یہ کیسے ممکن ہو گا کہ اس مقصد کے لیے وہ انسان پیدا ہوں جن کا تقاضا اسلام کا تہذیبی نظام کرتا ہے۔

ہمیں تو ایسی یونی ورسٹیاں اور کالج درکار ہیں جن سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان اسلامی انقلاب کے سپاہی بن کر نکلیں ۔ وہ اپنے دین اور اپنے نظریات وتصورات اور اپنی تہذیب کے اطوار واقدار کی برتری کا یقین رکھتے ہوئے دنیا بھر کی اقوام کے سامنے ان کے نقیب بنیں۔ یہ اصل مطلوب اگر حاصل ہو تو علمِ ماحول اور علمِ اشیا کا جو ذخیرہ جہاں سے بھی ملے اَزخود اپنی جگہ پر نصب ہو جائے گا، لیکن اگر تہذیبی شعور اور ملّی خودی ہی زندہ وتوانا نہ ہو تو آپ اس کی کمر سے اگر سائنس یا ٹکنالوجی کی تلوار باندھ بھی دیں تو آخر بقاو ارتقا کا جہاد کیسے عمل میں آجائے گا؟ خالی سائنس اور ٹکنالوجی تو محض بے مقصد خدمت گزار فراہم کرتی ہے جنھیں کسی بھی قوم اور کسی بھی تہذیب کی گاڑی میں قلی بنا کر جوتا جا سکتا ہے۔

آج سے ہمیں فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہمار ا مقصد محض اسلامیات پڑھانے سے پورا نہیں ہوسکتا ، خواہ اسے ہر مضمون میں شامل کر دیا جائے، بلکہ اسلامی نظام تعلیم وہ ہو گا جو غیر اسلامی اور مادّہ پرستانہ تہذیبوں کے افکار ونظریات کے خلاف نوجوانوں کو ایمانی جہاد لڑنے کے قابل بنا سکے اور انھیں اسلام کے مکمل تہذیبی شعور سے مسلح کر سکے۔