۲۰۲۲ فروری

فہرست مضامین

اسرائیلی مظالم پر امریکی چشم پوشی

رے ہنیہ | ۲۰۲۲ فروری | اخبار اُمت

گذشتہ سال فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے حوالے سے بدترین سال تھا۔ اس لیے کہ ۲۰۱۴ء میں جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ کیا تھا اور۲ہزار ۳سو۱۰ فلسطینیوں کو ہلاک کیا تھا، اس سے بڑھ کر اس سال مظالم ڈھائے گئے ہیں اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’بتسیلم‘ (B'Tselem) نے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھولنے کی وجہ سے ’بتسیلم‘ جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دینا چاہتا ہے۔

۲۰۲۱ء میں، اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں ۳۱۳ فلسطینیوں کو شہید کیا، جب کہ ۸۹۵ فلسطینیوں کے گھر اسرائیلی فوجیوں نے گرا دیئے اور مسلح اسرائیلی آبادکار، فلسطینیوں کے گھروں کو گرانے کے لیے امریکی ساختہ کیٹرپلر بلڈوزر استعمال کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے لیے خود کو ’سراہنے‘ کے لیے یہ ناکافی ہے۔

اسی دوران ایما واٹسن ایک برطانوی اداکارہ کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں ایک پوسٹ پہ بہت سے اسرائیلی مشتعل ہیں، جس پر لکھا ہے: Solidarity is a Verb ۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ترجمان گیلاڈاردن نے اس پر کہا ہے کہ واٹسن کا پیغام اس کی فلموں کی طرح محض ایک ’افسانہ‘ ہے۔ اقوام متحدہ میں سابق اسرائیلی سفارت کار ڈینی ڈینن نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واٹسن کو یہودیوں کی دشمن قرار دے دیا۔

جب بھی اسرائیلی کسی فلسطینی شہری کو قتل کرتے ہیں تو اس کا جرم ثابت کرنے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور نہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں، بلکہ وہ عوام کو اشتعال دلانے کے لیے انھیں ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہیں یا ان پر الزام دھر دیتے ہیں کہ وہ یہودیت کے مخالف ہیں۔ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ عوام کو اس بات میں زیادہ دلچسپی ہے کہ کون ’یہودی مخالف‘ ہے، بجائے اس کے کہ کون قاتل ہے اور کون بے گناہ شہریوں کی جان لیتا ہے۔

اسرائیل کی حقائق کے خلاف پروپیگنڈا جنگ کی سب سے زیادہ زد اموات کی تفصیل پر پڑتی ہے۔ وہ ۳۱۳ فلسطینی جو اسرائیلی سیکورٹی افواج کے ہاتھوں مارے گئے، ان میں ۷۱ بچّے تھے۔ اسرائیلیوں نے غزہ میں ۲۳۶، مقبوضہ مغربی کنارے میں ۷۷ فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ جہاں پر اسرائیلی، عیسائی اور مسلمان فلسطینیوں کی زمینوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تقریباً وہ تمام فلسطینی جو مغربی کنارے میں مارے گئے ہیں، ان میں سے بیش تر کو مسلح اسرائیلی آبادکاروں نے مارا ہے۔ انھوں نے پہلے تصادم کا آغاز کیا، اور پھر اسرائیلی مسلح افواج نے ان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ حکومتی سطح پر انھیں فنڈز دیئے جاتے ہیں، تاکہ وہ مزید گھر تعمیر کرسکیں۔ انھیں تفریحی سہولیات اور روز مرہ اشیاء کی خریداری کے لیے مراعات دی جاتی ہیں اور اس کا بڑا حصہ ۳ء۳ ؍ارب ڈالر امریکی امداد میں سے دیا جاتا ہے۔

’بتسیلم‘ کی تحقیقی رپورٹ‘ اسرائیلی سفاکیت کا شکار ہونےوالوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ حد یہ ہے کہ یہ وہ معلومات ہیں جو اسرائیلی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بہت کم جگہ پاتی ہیں۔ اسرائیلی یا امریکی میڈیا میں یہ خبر صرف اسی وقت جگہ پاتی ہے، جب کبھی کبھار کوئی یہودی اس کا نشانہ بنے۔ اس وقت میڈیا برہمی کا اظہار کرتا ہے، مگر ایسے واقعات کم ہی پیش آتے ہیں، حتیٰ کہ گھروں کو گرانے کی خبریں بھی کم جگہ پاتی ہیں، جس پر اسرائیل آہستگی اور تسلسل سے عمل پیرا ہے، اور فلسطینی علاقوں کو اپنے اندر ضم کرتا چلا جارہا ہے۔

’بتسیلم رپورٹ‘ کے مطابق ۲۰۲۱ء میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ۸۹۵ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا گیا، جب کہ ۲۹۵ گھروں کو گرا دیا گیا۔ ۲۰۱۶ء کے بعد یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جب ایک گھر تباہ کیا جاتا ہے تو خاندان کو بے گھر کر دیا جاتا ہے، اور پھر اسرائیلی فوج انھیں ہراساں کرتی ہے، اور اکثر انھیں نہ صرف اپنے ٹائون سے بھاگ جانے بلکہ ملک تک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی نمایندہ ڈینی ڈینن یہ پوری طرح جانتا ہے کہ جن فلسطینیوں کو  بے گھر کیا گیا، ان میں ۴۶۳ یعنی نصف سے زائد تعداد بچوں کی تھی۔اس سب کے باوجود ۲۹۵گھر تباہ اور ۸۹۵ ؍افراد کو بے گھر کرکے گلیوں میں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا۔ غیر رہایشی ۵۴۸ عمارتوں کو بھی تباہ کر دیا گیا، جن میں پانی کی ٹینکیاں، کنویں، گودام، زرعی فارم ہائوس، تجارتی عمارتیںاور فلسطینی پبلک مقامات شامل ہیں۔ ۲۰۱۲ء کے بعد یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اسرائیل کا اصرار ہے کہ احتجاج کرنے والوں پر جلتی آگ کی گولیاں برسانا انصاف کے خلاف نہیں، حتیٰ کہ ایک موقع پر جب ایک نوجوان فلسطینی جو غزہ پر تعمیر کی جانے والی باڑ کے ’بہت قریب‘ تھا اور پرندوں کا شکار کر رہا تھا، اس آگ کا نشانہ بننے کی وجہ سے ہلاک بھی ہوگیا۔

مجھے یقین ہے کہ ’بتسلیم‘ جیسی اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم پر اسرائیل پابندی لگا کر دفن کرنا چاہتا ہے۔ دراصل امریکی میڈیا، اسرائیل کو کسی پیچیدگی سے دوچار نہیں کرنا چاہتا اور نہ اپنے آپ کو اخلاقیات، تہذیب اور انسانی ناشائستگی سے چشم پوشی کی وجہ سے کسی پیچیدگی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔

کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ امریکا کے ایک معروف اخبار نیویارک ٹائمز میں شہ سرخی شائع ہوتی ہے کہ ’’اسرائیل نے ۳۱۳ فلسطینی ہلاک کر دیئے‘‘ اور ذیلی سرخی میں ایما واٹسن کو صرف اس بات پر کہ فلسطینیوں کے انسانی حقوق کا بھی احترام کیا جائے ’یہودی مخالف‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ کیا ’سامی مخالف‘ اصطلاح اب کوئی مفہوم رکھتی ہے؟ یا اسرائیلی پروپیگنڈا اور اشتعال کی بناپر یہ اپنی اہمیت کھو چکی ہے؟