جنوری ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کراچی آپریشن اور موجودہ حالات، ایک جائزہ

زاہد عسکری | جنوری ۲۰۱۴ | پاکستانیات

مملکت ِخداداد پاکستان کا سب سے بڑا شہر ، ملک کی اقتصادی شہ رگ اور مِنی پاکستان کہلانے والا روشنیوں کا شہر آج تاریکیوں کے سایے اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے۔ تہذیب یافتہ باسیوں کی شناخت رکھنے والا کراچی گذشتہ تین عشروں سے اپنی اصل شناخت کی تلاش میں ہے۔ اس شہر پر اپنا حق جتانے اور اس شہر کے مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والوں نے دہشت گردی، بھتہ خوری، قتل و غارت گری،ٹارگٹ کلنگ، بوری بندلاشوں اور لوٹ مار کو اس شہر کی شناخت بنا دیا ہے۔ اس شہر کے حالات عرصۂ دراز سے خراب چلے آرہے ہیں اور ملک میں برسراقتدار آنے والے حکمرانوں نے حالات کو بہتر بنانے اور یہاں کے باسیوں کو اس عذابِ مسلسل سے نجات دلانے کے لیے کبھی کوئی ٹھوس اقدامات اور سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔اگر حکومتی سطح پر یہاں کے حالات بہتر کرنے اور مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالنے کی کوششیں کی جاتیں تو جو حالات آج ہیں، وہ نہ ہوتے اور   صورت حال یقینابہتر ہوتی۔

کراچی کے حالات بہتر کرنے کے لیے کئی مہینوں سے کراچی میں جا ری آپریشن جسے ’’ٹارگٹڈ آپریشن ،، کا نام دیا گیا ہے، کے حوالے سے کافی شور و غوغا سنائی دے رہا ہے۔ اس آپریشن کے شہر کے حالات پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ حالات میں کوئی بہتری آئی ہے ؟ اس کی اصل حقیقت سے کراچی کے عام شہری سے زیادہ کوئی اور واقف نہیں، کیونکہ کراچی کے شہری روزانہ ان حالات سے گزرتے ہیں جب وہ پے در پے ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی خبریں سنتے ہیں۔ جب ان کو شہر کی اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ملتی ہیں۔ جب ان سے گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور موبائل فون چھین لیے جاتے ہیں۔ جب یہاں تاجروں اور عام دوکانداروں کو بار بار بھتے کی پرچیاں ملتی ہیں، وہ یا ان کے اہل خانہ اغوا براے تاوان کی کسی واردات کا شکار ہو کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر ہاتھ پیر مارتے ہیں اور ان کی کہیں سے کوئی داد رسی نہیں ہو پاتی۔ ان حالات میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے کراچی کی عوام کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے عوامی امیدوں اور توقعات کے مطابق اپنا مثبت اور مؤثر کردار بھی ادا کیا،مگر کراچی کی انتظامی مشنری اور حکومتی اداروں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں اور احکامات پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد سے گریز کیا اور پہلو تہی برتی جس کی وجہ سے یہ سارے فیصلے اور احکامات اپنے وہ اثرات مرتب نہ کر سکے جو کرنا چاہییں تھے۔

عدالت عظمیٰ میں کراچی میں امن و امان کے حوالے سے مقدمات کی سماعت مسلسل کئی کئی روز تک جاری رہی۔ معزز جج صاحبان نے متعدد بار بنیادی مسائل کی جانب واضح طور پر نشان دہی بھی کی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ان کے فرائض منصبی کی جانب بار بار توجہ دلائی اور ایک لحاظ سے عدالت جو کام کرسکتی تھی اس نے کیا۔ ان مقدمات میں بار بار یہ بات سامنے آئی کہ کراچی میں جاری بدامنی ، دہشت گردی، قتل وغارت گری ، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ ، لوٹ مار اور اغوا براے تاوان کی وارداتوںمیں یہاں کے حکمران اوران کے اتحادی براہ راست ملوث ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور اے این پی کا واضح طور پر نام بھی لیا اور کہا کہ یہ جماعتیں خود سے وابستہ مجرموں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور اس تحفظ کو ختم کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

۱۱مئی ۲۰۱۳ء کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور مرکز میں مسلم لیگ نواز برسر اقتدار آئی ۔ مرکز میں میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد کراچی کے تاجروں اور شہریوں کو بڑی امید تھی کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کے حالات ضرور بہتر ہوں گے، اور مختلف حلقوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار سے یہ مطالبات اور اپیلیں بھی کی جانے لگیں کہ وہ کراچی میں امن و امان کی بد سے بدتر ہوتی صورت حال کا نوٹس لیں اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کریں۔ حالات کے اس پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف ، وزیرداخلہ چودھری نثار اور اپنی ٹیم کے ہمراہ کراچی تشریف لائے، یہاں قیام کیا اور مختلف اجلاسوں اور میٹنگوں میں شریک ہو کر انھوں نے حکومتی ذمہ داروں اور متعلقہ اداروں سے بریفنگ لی۔ متعدد اہم فیصلے اور اقدامات طے کیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی ’کپتانی ‘میں ایک ٹائم فریم کے مطابق کراچی میں دہشت گردوں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز، اغوا براے تاون میں ملوث مجرموں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک مؤثر آپریشن کیا جائے گا۔   وہ اور ان کی حکومت اس حوالے سے سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس دورے میں کراچی کی مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کا بھی ایک مشترکہ اجلاس بلایا اور سب جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے اپنے عزائم اور منصوبوں سے آگاہ کیا اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی سمیت تمام جما عتوں نے ان کوششوں کی حمایت اور تائید کی۔ حتیٰ کہ ایم کیو ایم نے تو یہاں تک کہہ دیا اور مطالبہ کیا کہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے لیکن ایم کیو ایم کے اس مطالبے کو اکثریت کی طرف سے پذیرائی نہیں مل سکی ، جب کہ بعض حلقوں نے یہ بھی کہاکہ ایم کیو ایم ایک طرف تو آپریشن کی حمایت کر رہی ہے اور دوسری طرف فوج اور عوام کو لڑانا چاہتی ہے۔

یہ بات ہر ذی شعور جانتا ہے کہ مجرموں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی سے پہلے ہی اگر شور مچانا شروع کردیا جائے تو اس سے مجرموں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کو فرار ہونے اور اپنے ٹھکانوں کو بدلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور بڑی مچھلیوں کو پہلے سے ہی خبردار کر دیا گیا۔بہرحال جب آپریشن کا آغاز ہوا تو فوری طور پر تو ایسا محسوس ہو ا کہ حالات میں بہتری واقع ہو رہی ہے لیکن وقت گزرنے کے بعد اگر مجموعی نتائج کا احاطہ کیا جائے توصورت حال تسلی بخش محسوس نہیں ہوتی۔ شہر میں مختلف مکاتب فکرکے علماے کرام، سیاسی کارکنوں، پولیس اہل کاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں ، ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گری اور بھتہ خوری سمیت دیگر وارداتوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، کیونکہ گرفتارملزمان کو سزائیں نہیں ملی ہیں اور آپریشن کرنے والے مصلحتوں کا شکار ہیں۔

ایم کیو ایم نے اب اس آپریشن کو اپنے خلاف آپریشن قرار دینا شروع کر دیا ہے اور وہ واویلا مچارہی ہے کہ آپریشن کی آڑ میں صرف ایم کیو ایم کو ہی نشانہ بنایا جا رہاہے۔ ایم کیو ایم نے اس آپریشن کے خلاف بیانات دینے اور اس کی مخالفت کرنے کا سلسلہ اس وقت شروع کیا جب نارتھ ناظم آباد میں ایک پولیس پارٹی پر حملے کے الزام میں ایم کیو ایم کے ایک سابق رکن سندھ اسمبلی کو گرفتار کیا گیا۔ اس پر ایم کیو ایم نے شدید احتجاج کیا اور شہر میں احتجاج کی کال دی ، جب کہ ایک موقع پر کراچی کے پولیس چیف شاہد حیات نے بھی ایک پریس کانفرنس کرکے یہ اعلان کیا کہ کراچی میں دہشت گردی، بھتہ خوری، قتل وغارت گری اور ٹارگٹ کلنگ کی بیش تر وارداتوں میں ایم کیو ایم ملوث ہے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم نے پولیس چیف شاہد حیات کے خلاف بھی محاذ کھول دیا اور انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ ، جب کہ رینجرز کے ذمہ داران کی طرف سے بھی ایم کیو ایم کے خلاف بیانات سامنے آئے جن میں ان کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم سے وابستہ افراد شہر میں جاری قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ جب دہشت گردوں، قاتلوں،ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے مجرموں کے چہرے اور ان کے سرپرستوں کے نام عوام کے سامنے آنا شروع ہوئے تو ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جن مجرموں کو گرفتار کر رہے ہیں ان کی سیاسی وابستگیاں ظاہر نہ کی جائیں۔ یہ مطالبہ بھی ایم کیو ایم کی طرف سے کیا گیا اور پھر سیاسی وابستگیاں ظاہر کرنے کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔

 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران کی طرف سے یہ بات بھی باربار کہی گئی ہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں نے عسکری ونگ بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں حکمراں جماعتیں اور ان کے اتحادی شامل ہیں۔ اس ساری صورت حال کے باوجود یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ اب تک شہر میں جتنے بھی مجرم گرفتار ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ تعداد ایم کیو ایم سے وابستہ افراد کی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں بھی جب ایک موقع پر سرکاری طور پر دہشت گردوں اور گرفتار مجرموں کے نام پیش کیے گئے تھے تو ان میں بھی ایم کیو ایم سے وابستہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ ایم کیو ایم مختلف ہتھکنڈوں اور بلیک میلنگ کے طریقوں سے خود اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو ختم کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے اور مستقبل قریب میں اس بات کی امید اور توقع کم ہی نظر آتی ہے کہ کراچی کے ستم رسیدہ عوام اس عذابِ مسلسل سے نجات حاصل کر پائیں گے۔

آپریشن کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار مایوس کن حد تک اس بات کی  طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صورت حال میں بہتری کی امید کم ہی کی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے اخبارات و رسائل اور نیوز چینلوں پر متعدد رپورٹس بھی پیش کی جاتی رہی ہیں۔ حکومتی عہدے داروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آپریشن کے ذمہ داروں کے دعوے اور وعدے اپنی جگہ لیکن یہ رپورٹیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ حالات کو بہتر بنانے ،کراچی کے عوام کو سکون اور چین دلانے، روشنیوں کے شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ بنانے اور ملک کی اقتصادی شہہ رگ کو حقیقی معنوں میں ترقی و خوش حالی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ملک کے حکمرانوں اور اربابِ اختیار کو سیاسی مصلحتوں سے باہر نکلنا ہوگااور مجرموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کرنی ہوں گی۔

 کراچی کے ایک کثیرالاشاعت اخبار (روزنامہ جنگ ) کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ کراچی آپریشن کے دوران۱۰ہزار ۲۰ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔ رواں برس ۲ہزار۶سو۲۳؍ افراد مختلف وجوہات کی بنا پر قتل ہوئے جس میں سے ۴۸۶؍ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایا گیا۔ ۱۱۷؍ افراد کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ابدی نیند سلا یا گیا۔ ۲۰۱۲ء میں ۲ہزار۴سو۳ لوگ قتل کیے گئے جن میں ۵۳۰ افراد کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ ۲۰۱۱ء میں ۲ہزار۴۲ شہریوں کو مارا گیا جن میں ۵۰۸ لوگوں کو چُن چُن کر  قتل کیا گیا۔ رواںسال ستمبر سے نومبر تک ۴۴۷؍ افراد کو قتل کیا گیا ، جب کہ گذشہ سال اسی دوران ۶۶۵شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ کاکہنا ہے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ آپریشن کامیاب ہو، اسی لیے کراچی میں فرقہ وارانہ قتل کیے جا رہے ہیں ، پولیس کے پاس ایسے ثبوت ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ سُنّی اور شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی گروپ ملوث ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق آپریشن کے دوران ۵ستمبر سے ۴دسمبر تک ۱۰ہزار۲۹ ملزمان کو گرفتار کیا گیا جس میں رینجر ز کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریاں بھی ہیں۔ گرفتار افراد میں ۳ہزار۵سو۳۴ مفرور اور اشتہاری بھی شامل ہیں۔ ۶ہزار۴سو ۹۵ ملزمان دیگر جرائم میں گرفتار کیے گئے جس میں سے ۴ہزار۷سو۱۰ کے چالان جمع کرائے جا چکے ہیں لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے ہزاروں ملزمان میں سے صرف ۴۳ کو ہی سزا مل سکی ہے۔

 شہر میں اسٹریٹ کرائم کی صورت حال جوں کی توں ہے۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال ستمبر سے نومبر تک ۹۷۳ گاڑیاں چھینی یا چوری کی گئیں ، جب کہ گذشتہ سال یہ تعداد ۱۰۵۹ تھی۔ اسی دوران ۵ہزار۹سو۵۷موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری ہوئیں ، جب کہ ۲۰۱۲ء میں ۵ہزار۶سو۳۳ واقعات درج ہوئے تھے۔ گذشتہ سال ۴ہزار۷سو ۹۷، جب کہ اس سال ۴ہزار۹سو۳۳ موبائل فونز چوری یا چھینے جا چکے ہیں۔ اغوا براے تاوان کی وارداتوں میں کمی تو آئی ہے لیکن اس سال۱۶۵؍ افرادکو تاوان کے لیے اغوا کیا جا چکا ہے۔ بھتہ خور شہریوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور تین ماہ کے دوران بھتے کی ۳۲۰ دھمکیاںاور پرچیاں موصول ہو چکی ہیں۔ کراچی میں جاری قانون نافذ کرنے والوں کا آپریشن کتنا کامیاب ہے، اعدا و شمار خود اس کی گواہی دے رہے ہیں۔صرف موجودہ وزیر داخلہ ہی نہیں سابق وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک بھی بار بار کراچی آتے رہے اور مجرموں کے بہت قریب پہنچنے کا د عو یٰ کرتے رہے لیکن ہر مرتبہ مُک مکا یا سیا سی جوڑ توڑ ہو جاتا تھا۔ اگر پچھلے ثبوتوں ہی کو بروے کار لایا جا ئے اور مجرموں کو سزا دی جائے تو حا لات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ مجر موں کے دلوں سے سزا کا خوف ختم ہوگیا ہے۔