جون ۲۰۰۳

فہرست مضامین

وقت : اسلامی تصورات

ڈاکٹر حسن صہیب مراد | جون ۲۰۰۳ | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

(آخری قسط)

وقت کی اقسام اور ہر قسم کا ایک منفرد انداز اس کائنات کے پیچیدہ نظام کو چلانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تخلیقات کا تنوع اوقات کے تنوع کا بھی تقاضا کرتا ہے‘ اور ساتھ ہی تمام تر تخلیقات کے ایک خالق اور اوقات کے ایک مالک کی سب سے بڑی شہادت بھی اس نظام پر غور کرنے سے مل جاتی ہے۔ گویا کثرت ہی میں وحدت کی دلیل چھپی ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وہ منفرد اور یکتا ہستی ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی‘ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی‘ اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ توحید کا تصور اتنا جان دار اور جامع ہے کہ اس کا مطلب وقت کی مختلف حالتوں کا کوئی مجموعہ نہیں بلکہ وقت کی مختلف حالتوں کا وحدت اور اکائی کی صورت میں سمو لیا جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے‘ اس دن وہ ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی۔ وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے‘‘(الانعام ۶:۷۳)۔ یہ آیت حضرت ابراہیم ؑ کے توحید کی طرف فکری سفر کی روداد سے قبل آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں چار مختلف قسم کے اوقات


o  ریکٹر‘ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی ‘ لاہور

کی تخلیق اور ان کی مدت کے ایک دوسرے کے بعد آنے اور جانے کا امر واقعہ بیان فرما یا ہے۔ زمین اور آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی سورج اورچاند اور زمین کے گردشی نظام کے ذریعے وجود میں آنے والا وقت کا خول بھی ظاہرہے کہ کسی اور طرح کے وقت کے بعد وجود میں آیا ہوگا‘ یعنی ایک وقت تخلیق سے قبل تھا‘ دوسرا تخلیق کے بعد سے شروع ہو کر قیامت تک رہے گا۔ زمین کی تخلیق کا عمل بھی کروڑوں اور اربوں سالوں پر محیط نظر آتا ہے۔ تیسرا نظامِ وقت قیامت کی گھڑی سے قائم ہوجائے گا جب موجودہ وقت کے اجزاے ترکیبی نیست و نابود ہو جائیں گے ۔ اس وقت کے لیے مشرق و مغرب اور چاند‘ سورج اور ذہن کی حرکت کا نظام العمل کیا ہوگا‘اس کی تفصیل اس وقت واضح نہیں ہے۔ چوتھا  نظامِ وقت اس وقت قائم ہوگا کہ جب لوگ دوبارہ اُٹھا کر زندہ کیے جائیں گے۔ آیت مذکورہ میں اوقات کی مختلف اقسام کے بتدریج قیام کو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور قدرتِ کاملہ کی تصدیق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو وقت کے نظام پر قادر ہو وہی غیب کا جاننے والا ہے اور دانا اور باخبر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی جامعیت‘ کاملیت اور ہر شے پر اس کا محیط ہونا ممکن ہی اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب وہ وقت کے ایک خول سے اندر اور باہر سب کچھ اس طرح دیکھ سکتا ہو کہ جیسے انسان آئینہ دیکھتا ہے۔ وہ وقت کہ جو ابھی آیا نہیں ہے اس کے بھی انتہائی سرے پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا کچھ آیندہ ہونے والا ہے۔

زمینی وقت کی ایک خصوصیت اس کا مدت اور مہلت کی شکل میں پایا جانا ہے۔ حضرت آدم ؑکے زمین پر اتارے جانے کے بعد بنی نوع انسانیت کی مہلت کا آغاز ہوگیا اور یہ مدت وہ ہے جو اس دنیا میں قیامت تک جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فرمایا‘ اُتر جائو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اور تمھارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جاے قرار اور سامانِ زیست ہے‘‘۔ دوسری مدت وہ ہے جو ہر قوم یا قریہ کے لیے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہرقوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے‘ پھر جب کسی قوم کی مدت پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی‘‘ (الاعراف ۷:۳۴)۔ تیسری مدت وہ ہے جو ہر فرد کو اُس کی عمر کی صورت میں ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اس میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا‘‘ (الاعراف ۷:۲۴)۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے‘ روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنھوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھہرا رہے ہیں۔ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا‘ پھر تمھارے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر کر دی‘ اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے‘‘۔(الانعام ۶:۱-۲)

دورہ‘ مدت‘ مہلت‘ بار بار پھیر‘ یہ انسانی وقت کی خصوصیات ہیں۔ قرآن میں مہلت کے اٹل ہونے پر بے انتہا زوردیا گیا ہے۔ یہ وقت کبھی ٹل نہیں سکتا۔ کسی کو مفر نہیں۔ کوئی اس نظامِ سلطنت سے باہر نہیں جاسکتا۔ کوئی اس طریقۂ کار کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ یعنی مدت و مہلت کی شرائط کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مشرق اور مغرب نظامِ وقت کے وہ دو ستون ہیں کہ جن پر وقت کا نظام قائم ہے۔ وقت مشرق سے شروع ہوتا ہے اور مغرب میں ختم ہوتا ہے۔ توحید کا تقاضا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہستی کے اقتدار کا حصہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رخ کرو گے‘ اس طرف اللہ کا رخ ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۱۵)

وقت کے اندر سمت کا تصور بھی موجود ہے۔ وقت بذاتِ خود مخصوص سمت پر سورج اور زمین کی حرکت سے وجود میں آتا ہے اور اس کے وجود میں آنے سے انسان سمیت ہر شے اپنی تخلیق کے تدریجی مراحل سے گزرنا شروع ہوگئی ہے‘ یعنی وقت میں جغرافیائی سمت کے علاوہ معنوی سمت بھی موجود ہے۔ انسان کا مقام اور اس کی عمر‘ ان دونوں کا تعین سمت کے جغرافیائی و معنوی پہلوئوں کو بالترتیب نمایاں کرتا ہے۔ ذہن میں جاے مقام مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے تعین سے ہوتا ہے‘ جب کہ مشرق و مغرب کا تعین پھر وقت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ گویا  سورج اور زمین کی گردش سے --- انسان کے لیے جائے مقام کے ساتھ ساتھ مدت قیام کی معلومات اس کے تخلیقی سفر کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو وقت گزر گیا ہے عمر سے معلوم ہوجاتا ہے۔ طے شدہ وقت سے اتنا وقت گویا کم ہوگیا۔

کس جگہ کیا وقت ہو رہا ہے؟ اس کے حساب کے لیے سمت کا حساب ضروری ہے۔ مشرق و مغرب سمت ہی کے دو اشارے ہیں۔ صبح و شام اور ستارے سمت کو واضح کرتے ہیں۔ انسان کے لیے یہ سمت انتہائی اہم ہے اور وہ کبھی بھی اس سے بے پروا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سمت سے باہر ہے۔ وہ سمت کا خالق ہے۔ وہ اطراف اور میقات‘ میعاد اورانجام پر غالب ہے۔ ہر رخ اور ہر سمت اس کی ہے وہ سب کو سموئے ہوئے ہے۔

اللہ تعالیٰ وقت پر کس طرح قادر ہے اس کا اعلان ایک آیت کو چھوڑ کر پھر ہوتا ہے:’’وہ زمین اور آسمان کا موجد ہے‘ اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے ‘ اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ’ہوجا‘ اور وہ ہو جاتی ہے‘‘۔ کن فیکون کے تصور میں تمام فاصلے اور نظام ہاے اوقات سمٹ کر آگئے ہیں۔ کن فیکون اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا حتمی اظہار ہے۔ وقت اُس کا ہے۔ سارے رُخ اُس کے ہیں۔ زمان و مکاں اپنے تمام تر وجود اور خلق کے ساتھ اُس کا ہے۔ توحید کی ایسی تعریف کہ جس میں مادہ‘ قوت‘ قدر‘ وقت اور خلق کی تمام صورتوں پر مکمل اختیار ماقبل اور مابعد کے ساتھ جھلکتا ہو کن فیکون کے دو الفاظ سے زیادہ بہتر صورت میں ادا نہیں ہوسکتی ہے۔

توحید اور تخلیق اور وقت کے مابین تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی طرح زمین اور آسمان کے وقت کا پابند ہوچکا ہے‘ یا اس گھیر سے اب کوئی مفر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خلق اور امر دونوں اُس کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد واقعات کا تذکرہ کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے نظام کی کنجیاں کس طرح اس کے پاس ہیںاور وہ نشانی کے طور پر ماضی کو مستقبل سے اورمستقبل کو ماضی سے تبدیل کر سکتا ہے۔ گھڑی کی سوئی کو تیزی سے آگے یا پیچھے گھما سکتا ہے یا وقت گزرنے کے باوجود وقت کی زد میں آئی ہوئی اشیا کو وقت کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: ’’تم نے ان لوگوں کے حال پر غور کیا‘ جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے اُن سے فرمایا: مرجائو۔ پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے‘ مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ (البقرہ ۲:۲۴۳)‘ یعنی اس دنیا ہی میں دوبارہ زندگی بخش دی۔ اس طرح بنی اسرائیل نے جب کہا کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہ لیں‘ ایمان نہیں لائیں گے تو ایک زبردست کڑکے نے ان کو آلیا وہ بے جان ہو کر گر گئے اور پھر انھیں دوبارہ زندگی دی گئی۔ (دیکھیے:  البقرہ ۲:۵۵-۵۶)

اسی طرح جب حضرت ابراہیم ؑ کا نمرود سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں مکالمہ ہوا تو زندگی اور موت کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں ہے۔ لیکن پھر جب حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ اچھا‘ اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو ذرا مغرب سے نکال لا تو یہ  سن کر وہ ششدر رہ گیا۔ ظاہرہے کہ وہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں اختیارات لازم و ملزوم ہیں اور یہ اللہ ہی کی ذات میں جمع ہیں۔ قادر وہی ہو سکتا ہے کہ جو محیط ہو۔ جو محیط نہ ہو وہ سمت کا تابع ہو کر حدود میں رہتا ہے۔

زندگی بعد موت اور زمینی وقت کے بارے میں کس طرح قرآن احساس و شعور کو جھنجھوڑنا چاہتا ہے‘ اس کے لیے یہ واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔ اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے: ’’یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو دیکھو‘ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا‘ جو اپنی چھتوںپر اوندھی گری پڑی تھی۔ اس نے کہا: ’’یہ آبادی جو ہلاک ہو چکی ہے‘ اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟‘‘ اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ ۱۰۰ برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’بتائو کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا‘‘۔ فرمایا: ’’تم پر ۱۰۰ برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو‘ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ ہم تمھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اُٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں‘‘۔اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی تو اس نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۵۹)

اس دنیا میں وقت گزرنے کے بعد محض ایک ذہنی تاثر کی حد تک محدود رہ جاتا ہے۔ ۱۰۰برس کے بعد انسان سوچتا ہے کہ یہ چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ایک دن گزرا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح کھانے اور پانی جیسی اشیا جن میں چند دنوں میں تغیرآجاتا ہے وہ وقت گزرنے پر پڑنے والے معمول کے اثرات سے قطعی طور پر ۱۰۰ سال تک مستثنیٰ رہیں ‘جب کہ ساتھ ہی پڑا ہوا گدھا ۱۰۰ سال میں کس طرح بوسیدہ ہوگیا۔ اسی طرح پھر اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ کس طرح وقت کو سکیڑ کر اور سمیٹ کر ہڈیوں میں آناً فاناً گوشت پوست چڑھ جاتا ہے۔ بیک وقت یہ ایک ہی مقام پر پڑی مختلف اشیا پر مختلف طریقے سے اثرانداز ہوا۔ وقت آگے سے پیچھے ہوگیا۔ پھر پیچھے سے آگے آگیا۔ کہیں بالکل ہی رُک گیا۔ حالانکہ زمین کا طبیعی و مشینی وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا۔

دنیاوی وقت ایک سراب کی مانند ہے۔ جب تک انسان دور سے آنے والے وقت کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘ اس کو بہت حسین لگ رہا ہوتا ہے۔ حال میں رہ کر مستقبل اچھا لگتا ہے۔ مستقبل میں پہنچ کر وہ تاثر محو ہو جاتا ہے۔ انسانی ذہن کل اور مستقبل کے پیرائے میں سوچ کر حال کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اچھے مستقبل کی توقع حال میں قوتِ عمل فراہم کرتی ہے۔ فکرآخرت سے بے نیازی‘ آخرت میں اچھے انجام کی ضمانت‘ دنیا اگر اچھی مل جاتی ہے تو آخرت بھی اچھی مل جائے گی‘ اس طرح کے عقائد یہودیت و نصرانیت اور مادہ پرست تہذیب کا خاصہ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میںمزید مست ہو جانے کی شکل میں نکلتا ہے۔ قرآن میں   اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا‘ اس روز وہ جنوں (یعنی شیاطین) سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ ’’اے گروہِ جن‘ تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے اور اب ہم اس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا‘‘۔ اللہ فرمائے گا: ’’اچھا‘ اب آگ تمھارا ٹھکانہ ہے اس میں تم ہمیشہ رہو گے۔ اس سے بچیں گے صرف وہی جنھیں اللہ بچانا چاہے گا۔ بے شک تمھارا رب دانا اور حلیم ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۳۰)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جنھوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت ِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا‘‘ (النور۲۴:۳۹)۔ وقت کے عارضی ہونے کی اس سے بڑی کیا مثال ہو سکتی ہے۔ وقت جب بے پروا نظر آتا ہے تو اس لیے کہ وقت کے مالک نے ڈھیل دی ہے۔ انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی ہوتا رہے گا۔ وقت گزرنے کی کیفیت غیر یقینی‘ مسلسل‘ یکسانیت اور بالخصوص خوش حالی کی صورت میں ختم ہوتی ہوئی لگتی ہے یہاں تک کہ اللہ کی پکڑ آجاتی ہے۔ تاثرات پر مبنی وقت کی حالت پر صرف اور صرف ایمان ہی کے ذریعے یقینی کیفیت غالب ہو سکتی ہے۔ جب انسان آخرت پر نگاہ جما کر دنیا گزارتا ہے تو وہ اس دنیا کے گزرنے والے لمحات کو آخرت کے خالصتاً‘ دائمی اور حقیقی لمحات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔

وقت کا تاثر انسان کی حِّس اور شعور کی پیداواربھی ہوتا ہے۔ ’کیا وقت ہے‘ کا جواب جب گھڑی سے ملتا ہے تو ساتھ ’کیسا وقت ہے‘ کا جواب بھی ذہن جوڑ دیتا ہے۔ انسان اپنی شناخت اپنے وقت کے بارے میں تاثرات سے قائم کرتا ہے۔ کامیابی و ناکامی‘ عزت و ذلت‘ خوشی و غم‘ تکلیف و راحت‘ محبت و عداوت‘ رحم وعفو‘ یہ سارے تاثرات اور رویے وقت کے گزرنے کے ساتھ بنتے ہیں۔ ایک صاحب ِ ایمان کے لیے وقت کی تعریف اس لحاظ سے بغیر ایمان کے کسی فرد سے مختلف ہوگی۔ ایمان کی روشنی میں وقت دیکھنا‘ اس کی منصوبہ بندی کرنا‘ اس کو گزارنا‘ یقینا زیادہ معنی خیز ہوتا ہے۔


نظمِ وقت میں انتہائی درجے کی باقاعدگی کا پایا جانا ایک حیران کُن عمل ہے۔ اس کے لیے پورے نظامِ کائنات میں جس ربط اور گرفت کی ضرورت ہے وہ ایک غالب قوت کے کارفرما ہونے کی واضح دلیل ہے۔ کائنات کا پورا نظام ضابطے کے مطابق معمولات کی شکل میں چلتا نظرآتا ہے۔ اس باقاعدگی میں جو تسلسل اور ہمیشگی نظر آتی ہے وہ انسان کو دھوکے میں بھی مبتلا کر ڈالتی ہے۔ کوئی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ کائنات ایک دفعہ بنا دی گئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے تخلیق سے ہاتھ روک دیا۔ کوئی یہ سمجھ بیٹھا کہ یہ نظام تو گھڑی کی طرح بس چلتا ہی نہیں ہے۔

اس نظام میں جہاں باقاعدگی پائی جاتی ہے وہاں اتفاق وحادثاتی نوعیت کی بھی پوری گنجایش ہے۔ اس نظام کے یقینی ہونے کے اندر ہی اس کے غیریقینی ہونے کی گنجایش بھی موجود ہے۔ بظاہر انتشار نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پر تنظیم کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ بعض اوقات بظاہر ترتیب محسوس ہوتی ہے لیکن اندرونی طور پر خلفشار کا سماں ہوتا ہے۔ یقینی و غیر یقینی‘ نظام و انتشار‘ منصوبہ جاتی و اتفاقی‘ ارادی و حادثاتی‘ کش مکش اور ٹھیرائو‘ تعمیروتخریب‘ ان سب کا امتزاج اس کائنات کو انسان کے لیے بہترین جولان گاہ بنا دیتا ہے۔ اس کی فکر اور شعور کے اندر یہ طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اس کائنات کے رازوں کو تہہ بہ تہہ سمجھ سکے‘ عوامل و عواقب کو معلوم کر سکے‘ مابعد وماقبل کا تعین کر سکے۔ اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے مواقع تلاش کر سکے اور اس کی خوبیوں سے فائدہ اٹھا سکے۔

معمولات میں باقاعدگی ایک ظاہری صفت ہے۔ اگر کہیں باقاعدگی پائی جاتی ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بڑا اہم اور نازک کام مقصود ہے۔ اس کائنات میں ذرات کے اندر کی دنیا سے لے کر کھربوں کہکشانوں (galaxies) کا نظام دراصل وقت کی ایسی زنجیر سے بندھا ہے کہ جس کی بعض کڑیاں ایک سیکنڈ کے کھربوں حصے پر مشتمل ہے اور بعض کھربوں سالوں پر محیط ہیں۔ نوعِ وقت کی یہ وسیع تقسیم اور اس میں ربط کا مسلسل قائم رہنا ایک انوکھی صفت ہے۔ یہی باقاعدگی اورنظم‘ اسلام اہل ایمان میں بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ قرآن میں عبادات‘ معاہدات سے متعلق احکامات جب بھی آئے ہیں تو وقت کا ذکر حکم کی مناسبت سے ضرور کیا گیا ہے۔ شادی‘ طلاق‘ حرام و حلال‘ جہاد‘ انفاق اور نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ ان تمام امور کے متعلق آیات میں وقت کے پہلو پر بھی جابجا روشنی ڈالی گئی ہے۔ سود کی حرمت اس لیے کی گئی ہے کہ اس کو محض وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور چڑھتا سمجھ لیا گیا۔ انفاق کے بارے میں بتایا گیا کہ جہاد سے پہلے انفاق کرنے والے فتح کے بعد انفاق کرنے والوں سے بہتر ہوں گے۔ نماز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ سحری کے بارے میں بہت ہی باریک بینی سے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ نیک کام اس وقت اور اتنا ہی نیک تصور ہوگا جتنا وہ وقت کے لحاظ سے درست ہوگا‘ برموقع اور برمحل ہوگا۔ فرعون عذاب شروع ہونے کے بعد ایمان لایا‘ لہٰذا بے کار رہا۔ موت کا منہ دیکھ کر توبہ کرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔

باقاعدگی بالآخر مستقل مزاجی اور استقامت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ جو ضعف انسان کے ارادے میں ودیعت کیا گیا اس کو ختم کرتی ہے‘ اور جو نسیان اُسے غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ اسلامی معاشرت کی آبادیاںدن میں پانچ مرتبہ اللہ اکبر کی صدائوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ اذان کی حیثیت ایک گھنٹے کی ہے۔ وقت کے پہروں پر اذان سن کر وقت کا مجموعی حساب رکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے interactive clock ہے۔ اس لیے کہ اذان کے ساتھ جواب بھی دیا جاتا ہے۔ اس طرح وقت کا ہر پہر شہادت اور عبادت کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے۔ مقصد گزرتے ہوئے دن کے ہر پہر کے سرے پر اللہ کی یاد کے لیے باقاعدگی سے نماز پڑھنا ہے۔ کائنات میں نظمِ وقت کی موجودگی دراصل اللہ تعالیٰ کی فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی کا اہتمام اہلِ ایمان سے بھی مطلوب ہے۔ یہ باقاعدگی اُس خود نظمی (self-organization) کو پروان چڑھاتی ہے جو اس کائنات کا خاصہ ہے۔ مغرب نے جو Time Culture دیا ہے اس کا خاصہ مشینی انداز سے وقت گزار کر محض تفریح و مسرت کے لیے وقت صَرف کرنا ہے۔

وقت ایک گواہ ہے۔ والعصر سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کا بھی یہ خیال ہے کہ ہر سیکنڈ اور گھنٹہ یا کوئی بھی اور وقفہ درحقیقت ایک لفافے یا فائل کی صورت میں کھلتا اور اس عرصے میں وقوع پذیر ہر شے اور اُس کی کیفیت کا نقش محفوظ کرتے ہوئے چلا جاتا ہے۔ گویا وقت ایک گواہ ہونے کے ساتھ اپنا دفتر اور اپنا ریکارڈ خود رکھتا ہے۔ ذرات سے لے کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘ گلیشیئرمیں‘ یہ گواہی مرتسم ہے۔ اس کی زبان قدرتی ہے اور انسان اب تحقیق کے نتیجے میں قدیم زمانے میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو جان لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حقیقت تقاضا کرتی ہے کہ وقت کا استعمال وقت کے مقاصد کی روشنی ہی میں کیا جائے۔


تنظیمِ وقت کے اصولوں کو فہمِ وقت کے اسلامی تصورات کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل احادیث عملی زندگی کے لیے زبردست رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

رسولؐ اللہ فرماتے ہیں: ’’کوئی صبح نہیں ہوتی‘ جب کہ دو فرشتے نہ پکاریں کہ اے آدم کے بیٹے میں ایک نیا دن ہوں اور تمھارے اعمال پر گواہ ہوں۔ پس مجھ سے زیادہ فائدہ اٹھائو کیونکہ اب روزِ قیامت سے قبل نہ پلٹوں گا‘‘۔

گویا وقت ایک عظیم نعمت ہے کہ جو دوبارہ نہیں ملے گی۔ دولت‘ صحت اور دوسری اشیا سے محروم ہونے کے بعد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن وقت کو نہیں--- یہ حدیث وقت کی منصوبہ بندی کی دعوت دیتی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ فائدہ کم وقت میں زیادہ کام کرنے ہی سے نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح کام اور زیادہ دیرپا فائدے والے کام کرنے سے ممکن ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ ہر دن کو ایک نیا دن سمجھ کر شروع کرنا چاہیے۔ ہر روز ایک نیا یونٹ ہے‘ ایک نئی زندگی ہے۔

وقت انسان کا کتنا بڑا اور قیمتی ہتھیار ہے‘ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسولؐ اللہ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔ پھر ان میں ایک شہید کر دیا گیا۔ پھر دوسرا ایک ہفتہ یا کم و بیش اسی مدت میں فوت ہوگیا۔ رسولؐ اللہ نے اُس کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد رسولؐ اللہ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ اس کے بارے میں تم نے کیا کہا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ ہم نے دعا کی کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے‘ اس پر رحم کرے‘ اور اُسے اپنے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ پھر اُس کی نماز اس کی نماز کے بعد اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد یا فرمایا اس کا روزہ اس کے روزے کے بعد کہاں گئے؟ ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان بھی نہیں ہے۔ گویا ایک ہفتہ کے نیک اعمال بھی اتنے کافی ہو سکتے ہیں کہ نہ صرف شہید کے درجے سے زیادہ بڑا درجہ مل جائے بلکہ جو فرق ہو وہ زمین اور آسمان سے بھی زیادہ ہو۔ ہر دن‘ ہر لمحہ‘ ہر گھنٹہ انتہائی قیمتی ہے۔ ہر دن کو کیسے گزارا جائے؟ یہ حدیث ملاحظہ کیجیے:

حضرت ابوذرؓ نبی اکرمؐ سے بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابراہیم ؑکے صحیفوں میں یہ بات بھی ہے کہ عقل مند آدمی کے لیے ‘ جب کہ اس کی عقل کام کرے‘ لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات اس طرح تقسیم کرے کہ اس میں کچھ گھڑیاں ایسی ہوں کہ ان میں اپنے رب کی مناجات کرے‘ کچھ گھڑیاں ایسی ہوں کہ ان میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے‘ ایک گھڑی ایسی بھی ہو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی شان صناعی میں غوروفکر کرے‘ اور ایک گھڑی ایسی بھی کہ اس میں اپنی ضروریات خوردونوش کے لیے فارغ ہو۔ اور عقل مند آدمی کا کام ہے کہ رخت سفر نہ باندھے مگر تین چیزوں کے لیے: آخرت کے توشے کے لیے‘ معاش کے سلسلے میں کاروبار کے لیے یا ایسی لذت کے حصول کی خاطر جو حرام نہ ہو۔ اور عقل مند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کودیکھنے‘ سمجھنے والا ہو‘ اپنی حالت پر توجہ دینے والا ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو۔ جو آدمی اپنے کلام کو اپنا عمل سمجھتا ہو‘ اس کا کلام تھوڑا ہوگا مگر یہ کہ بامقصد باتیں ہوں‘ وہ ان ہی تک اپنے آپ کو محدود رکھے گا۔ (صحیح ابن حبان)

اوقات کی تقسیم کے چار اہم خانے بتائے گئے ہیں۔ مناجات و عبادات‘ ذاتی محاسبہ‘ کائنات و قدرت پر غوروفکر‘ خوردونوش و ضروریاتِ زندگی۔ سفر کہ جو زندگی کی ایک بڑی سرگرمی ہوتی ہے اس کے تین مقاصد بتائے گئے ہیں اور انسان کا رویہ اپنے زمانے کے ساتھ اپنی حالت کے ساتھ‘ اپنی زبان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔ تنظیمِ وقت کا نسخہ اس حدیث میں بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے--- زمانے سے بے پروا ہو کر زندگی گزارنا دین داری کا کوئی تقاضا نہیں۔ زمانے کو پلٹانے کی کوشش کرنا ہی درست رویہ ہے۔ وقت کے ساتھ صحیح سلوک وقت کے دھاروں سے بے تعلقی نہیں بلکہ مقصد میں نوعیت کا ضبط و عمل ہے۔

وقت ایک موقع لے کر آتا ہے۔ اس موقع کو کسی کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے متعلق ایک حدیث بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ایک صحت‘ دوسرے فارغ البالی۔ جو کام حالت ِ صحت اور فارغ البالی کی صورت میں ہوسکتے ہیں وہ کسی اور صورت میں ممکن نہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول ؐاللہ فرماتے ہیں کہ ’’دنیا اچھی ہے اس کے لیے جو اس سے اپنی آخرت کے لیے توشہ بنائے حتیٰ کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔ (حاکم فی المستدرک)

وقت کی منصوبہ بندی --- دراصل زندگی کی منصوبہ بندی ہے۔ اور زندگی کی منصوبہ بندی کے لیے زندگی کی ترجیحات کا صحیح تعین ضروری ہے۔ دنیا اور آخرت کے تعلق کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ چونکہ دنیا میں یہ موقع اللہ کی طرف سے نعمت ہے اس لیے اس کے خاتمے کی تمنا کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے وہ نیک ہو تو اس لیے کہ شاید نیکی میں اضافہ ہو اور برا ہو تو اس لیے کہ شاید توبہ کرلے۔ (بخاری)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ موت کی تمنا نہ کرو‘ اس لیے کہ موت کی سختیاں جو آنے والی ہیں وہ بہت سخت ہیں‘ سو سعادت کی بات ہے کہ آدمی کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

ظاہر ہے کہ جس کو زیادہ موقع ملا اور اس نے اس کا زیادہ فائدہ اٹھایا‘ اس کا اجر زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمل کا ہر ذخیرہ ناکافی محسوس ہوگا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’اگر بندہ پیدایش کے وقت سے لے کر بوڑھا ہونے تک اللہ کی اطاعت میں اپنے چہرے کے بل گرا پڑا ہو‘ تو اسے قیامت کے روز حقیر سمجھے گا اور چاہے گا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ اجروثواب میں اضافہ کرے۔ (مسنداحمد‘ رواہ محمد بن عمیرہ)


کون سا وقت زیادہ باعث برکت ہے؟ احادیث اور قرآنی آیات فجرسے قبل اور بعد کے وقت کو دن اور رات کے تمام اوقات سے بہتر بتاتی ہیں۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے اللہ! تو میری اُمت کو اس کے بکور میں برکت دے۔ (الطبرانی فی الاوسط)

بکور سے مراد دن کا پہلا حصہ ہے۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی پھر وہ طلوعِ آفتاب تک بیٹھا رہا۔ اللہ کا ذکر کرتا رہا اور پھر اس نے دو رکعت نماز پڑھی تو اُس کا اجر حج اور عمرے کے برابر ہوا۔ آپؐ نے اسے تین مرتبہ فرمایا:  تامۃ‘ تامۃ‘ تامۃ‘ یعنی حج و عمرے کا مکمل اجر۔

اس طرح رات کا مقصد جہاں سکون و آرام بتایا گیا ہے وہیں اس کے ایک حصہ کو عبادت اور مناجات کے لیے وقف کرنے کے بارے کہا گیا ہے۔ اختصار کے سبب یہاں تفصیل سے ان آیات و احادیث کا حوالہ نہیں دیا جا رہا ہے لیکن وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس ضرورت کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ دن کے کاموں میں اللہ کی برکت‘ مشیت کی شمولیت اور زندگی کے راستے میں کامیابی کے ساتھ سفر کے لیے رات کی عبادت ناگزیر ہے۔

نمازباجماعت کی ادایگی وقت کے معمولات کو خود بخود ترتیب دے دیتی ہے ۔ یہ معمول اوقات کو بڑے حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ دیگر تمام مصروفیات کو نماز باجماعت کے اوقات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے بے انتہا سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ دعا بھی آئی ہے کہ ’’اے اللہ! میرے دن کے پہلے حصے کو درست‘ درمیانے کو کامیاب اور آخری کو آسان بنا دے اور میں تجھ سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگتا ہوں۔ لمبی عمر کا مطلب لمبی مدتِ عمل ہے۔ اگر مدتِ عمل کا استعمال درست ہو تو یہ باعث ِ فخر ہے ورنہ وبال اور تباہی۔ یہ تین حدیثیں خوشخبری بھی دیتی ہیں اور ڈراتی بھی ہیں۔

حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تقدیر کوکوئی چیز بھی پھیر نہیں سکتی سوائے دعا کے‘ اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی سوائے حق شناسی اور نیکی کے۔ اوریقینا آدمی گناہ کی شامت سے کبھی رزق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

حضرت ابوصفوانؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیا جس کی عمر ۶۰ سال کو پہنچ گئی۔


فہمِ وقت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ اگرچہ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آسکتا لیکن گزرے ہوئے وقت میں کیے گئے برے اعمال کو نیک اعمال سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں جہاں تزکیے کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ حال اور مستقبل کی اصلاح ہو سکے وہیں توبہ اور استغفار کے ذریعے انسان اپنے ماضی کو درست کرسکتا ہے۔ جوبوجھ لدا ہوا ہو اس کو اتار پھینک سکتا ہے۔

اس طرح اسلام نے گزرے ہوئے وقت کو حال میں گرفت میں لے کر تبدیل کرنے کا راستہ بتایا ہے۔ یہ سہولت بار بار استعمال ہوسکتی ہے اور وقت کے معیار پر اور اس کے آئینے میں جب بھی انسان کو احساس ہو کہ یہ کام غلط ہوا تھا وہ واپس پلٹ سکتا ہے‘ اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ توبہ و استغفار کے ذریعے انسان اپنی پوری زندگی کو نئے سرے سے شروع کر سکتا ہے۔ زندگی اُمید کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر توکل اور اس کی رضا پر قناعت کے ذریعے آیندہ آنے والے وقت کو ماضی سے بہتربنایا جا سکتا ہے۔ ماضی ہمیشہ کے لییانمٹ نہیں ہے بلکہ بندے کی توجہ کا متلاشی ہے۔ جب بھی بندہ اپنا محاسبہ کرے اور ماضی کو دھونا چاہے تو وہ اس کے لیے ممکن ہے۔ ایک نیا انسان کسی بھی وقت اُبھرسکتا ہے۔ انسان اپنی زندگی کو ماضی کے برے عمال کے شکنجے سے نکال کر ازسرنو ترتیب دے سکتا ہے--- حقیقت یہ ہے کہ ماضی کو حال میں تبدیل کرنے کی جو قوت توبہ اور استغفار اور تزکیے میں موجود ہے‘ انسان کے لیے وقت کے سلسلے میں سب سے بڑی نعمت ہے۔