جون ۲۰۱۵

فہرست مضامین

روزے کی حکمت روزے کی روح

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ | جون ۲۰۱۵ | حکمت مودودیؒ

روزے کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی پر اس حالت میں خدا کی خداوندی اور بندگی و غلامی کا احساس پوری طرح طاری ہوجائے اور وہ ایسا مطیعِ امر ہوکر یہ ساعتیں گزارے کہ ہراس چیز سے رُکے جس سے خدا نے روکا ہے، اور ہر اس کام کی طرف دوڑے جس کا حکم خدا نے دیا ہے۔ روزے کی فرضیت کا اصل مقصد اسی کیفیت کو پیدا کرنا اور نشوونما دینا ہے نہ کہ محض کھانے پینے اور مباشرت سے روکنا....

اگر کسی آدمی نے اس احمقانہ طریقے سے روزہ رکھا کہ جن جن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے ان سے تو پرہیز کرتا رہا اور باقی تمام ان افعال کا ارتکاب کیے چلا گیا جنھیں خدا نے حرام کیا ہے تو اس کے روزے کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک مُردہ لاش، کہ اس میں اعضا تو سب کے سب موجود ہیں جن سے صورتِ انسانی بنتی ہے، مگر جان نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان انسان ہے۔ جس طرح اس بے جان لاش کو کوئی شخص انسان نہیں کہہ سکتا، اسی طرح اس بے روح روزے کو بھی کوئی روزہ نہیں کہہ سکتا۔ یہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ: ’’جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو خدا کو اس کی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے‘‘۔(بخاری)

جھوٹ بولنے کے ساتھ ’جھوٹ پر عمل کرنے‘ کا جو ارشاد فرمایا گیا ہے یہ بڑا ہی معنی خیز ہے۔ دراصل یہ لفظ تمام نافرمانیوں کا جامع ہے۔ جو شخص خدا کو خدا کہتا ہے اور پھر اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ حقیقت میں خود اپنے اقرار کی تکذیب کرتا ہے۔ روزے کا اصل مقصد تو عمل سے اقرار کی تصدیق ہی کرنا تھا، مگر جب وہ روزے کے دوران میں اس کی تکذیب کرتا رہا تو پھر روزے میں بھوک پیاس کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ حالاںکہ خدا کو اس کے خلوے معدہ کی کوئی حاجت نہ تھی۔ اسی بات کو دوسرے انداز میں حضوؐر نے اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں جنھیں اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘۔(دارمی)....

ضبطِ نفس

انسان کو خدمت گار اور آلۂ کار کی حیثیت سے جو بہترین ساخت کا حیوان (جسم) دیا گیا ہے اس کے بنیادی مطالبات تین ہیں، اور چوںکہ وہ تمام حیوانات سے اُونچی قسم کا حیوان ہے اس کے مطالبات بھی ان سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ وہ صرف زندہ رہنے کے لیے غذا ہی نہیں مانگتا، بلکہ اچھی غذا مانگتا ہے۔ طرح طرح کی مزے دار غذائیں مانگتا ہے، غذائی مواد کی ترکیبوں کا مطالبہ کرتا ہے، اور اس کے اس مطالبے میں سے اتنی شاخیں نکلتی چلی جاتی ہیں کہ اسے پورا کرنے کے لیے ایک دنیا درکار ہوتی ہے۔ وہ صرف بقاے نوع کے لیے صنف ِ مقابل سے اتصال ہی کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس مطالبے میں ہزار نزاکتیں اور ہزار باریکیاں پیدا کرتا ہے، تنوع چاہتا ہے، حُسن چاہتا ہے، آرایش کے بے شمار سامان چاہتا ہے، طرب انگیز سماں اور لذت انگیز ماحول چاہتا ہے، غرض اس سلسلے میں بھی اس کے مطالبات اتنی شاخیں نکالتے ہیں کہ کہیں جاکر ان کا سلسلہ رُکتا ہی نہیں۔ اسی طرح اس کی آرام طلبی بھی عام حیوانات کے مثل صرف کھوئی ہوئی قوتوں کو بحال کرنے کی حد تک نہیں رہتی، بلکہ وہ بھی بے شمار شاخیں نکالتی ہے جن کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا....

اس طرح ان تین ابتدائی خواہشوں سے خواہشات کا ایک لامتناہی جال بن جاتا ہے جو انسان کی پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لینا چاہتا ہے۔ پس دراصل انسان کے اس خادم، اس منہ زور حیوان کے پاس یہی تین ہتھیار وہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں جن کی طاقت سے وہ انسان کا خادم بننے کے بجاے خود انسان کو اپنا خادم بنانے کی کوشش کرتا ہے، اور ہمیشہ زور لگاتا رہتا ہے کہ اس کے اور انسان کے تعلق کی نوعیت صحیح فطری نوعیت کے برعکس ہوجائے۔ یعنی بجاے اس کے کہ انسان اس پر سوار ہو، اُلٹا وہ انسان پر سوار ہوکر اسے اپنی خواہشات کے مطابق کھینچے کھینچے پھرے.... اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ حیوان، شرالدواب___ تمام حیوانات سے بدتر قسم کا حیوان___ بن کر رہ جاتا ہے۔

بھلا جس حیوان کوا پنی خواہشات پوری کرنے کے لیے انسان جیسا خادم مل جائے اس کے شر کی بھی کوئی حد ہوسکتی ہے۔ جس بیل کی بھوک کو بحری بیڑا بنانے کی قابلیت میسر آجائے، زمین کی کس چراگاہ میں اتنا بل بوتا ہوتا ہے کہ اس کے معاشی مفاد کی لپیٹ میں آجانے سے بچ جائے؟ جس کتے کی حرص کو ٹینک اور ہوائی جہاز بنانے کی قوت مل جائے، کس بوٹی اور کس ہڈی کا یارا ہے کہ اس کی کچلیوں کی گرفت میں آنے سے انکار کردے؟ جس بھیڑیے کو اپنے جنگل کے بھیڑیوں کی قومیت بنانے کا سلیقہ ہو اور جو پریس اور پروپیگنڈے سے لے کر لمبی مار کی توپوں تک سے کام لے سکتا ہو، زمین میں کہاں اتنی گنجایش ہے کہ اس کے لیے کافی شکار فراہم کرسکے؟ جس بکرے کی شہوت، ناول، ڈراما، تصویر، موسیقی، ایکٹنگ اور حُسن افزائی کے وسائل ایجاد کرسکتی ہو، جس میں بکریوں کی تربیت کے لیے کالج، کلب اور قلمستان تک پیدا کرنے کی لیاقت ہو، اس کی دادعیش کے لیے کون حدوانتہا مقرر کرنے کا ذمہ لے سکتا ہے؟

ان پستیوں میں گرنے سے انسان کو بچانے کے لیے.... ضروری ہے کہ اس حیوان کے ساتھ اس کے تعلق کی جو فطری نوعیت ہے، اس کو عملاً قائم کیا جائے اور مشق و تمرین کے ذریعے سے سوار  کو اتنا چُست کردیا جائے کہ وہ اپنی سواری پر جم کر بیٹھے اور ارادے کی باگیں مضبوطی کے ساتھ تھامے، اور اس پر اتنا قابو یافتہ ہو کہ اس کی خواہشات کے پیچھے خود نہ چلے بلکہ اپنے ارادے کے مطابق اسے سیدھا سیدھا چلائے.... جتنی چیزیں خدا نے اس دنیا میں ہمارے لیے مسخر کی ہیں، ان میں سب سے زیادہ کارآمد چیز یہی حیوانی جسم ہے.... لیکن بہرحال یہ ہماری اور ہمارے مقصد زندگی کی خدمت کے لیے ہے نہ کہ ہم اس کی اور اس کے مقصد زندگی کی خدمت کے لیے۔ اس کو ہمارے ارادے کا تابع ہوناچاہیے، نہ کہ ہمیں اس کی خواہشات کا تابع۔ اس کا یہ مرتبہ نہیں ہے کہ ایک فرماں روا کی طرح اپنی خواہشات ہم سے پوری کرائے بلکہ اس کا صحیح مرتبہ یہ ہے کہ ایک غلام کی طرح ہمارے سامنے اپنی خواہشات پیش کرے.... روزے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد انسان کو اس کے حیوانی جسم پر یہی اقتدار بخشنا ہے....

حکیمانہ تدبیر

ایک ذرا سی حکیمانہ تدبیر نے روزے کو انفرادی عمل کے بجاے اجتماعی عمل بنا کر اس کے فوائد و منافع کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ تدبیر بس اتنی سی ہے کہ روزے رکھنے کے لیے ایک خاص مہینا مقرر کردیا گیا....

اس حکیمانہ تدبیر سے ایک خاص قسم کی نفسیاتی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک شخص انفرادی طور پر کسی ذہنی کیفیت کے تحت کوئی کام کر رہا ہو، اور اس کے گردوپیش دوسرے لوگوں میں نہ وہ ذہنی کیفیت ہو اور نہ وہ اس کام میں اس کے شریک ہوں، تو وہ اپنے آپ کو اس ماحول میں بالکل اجنبی پائے گا۔ اس کی کیفیت ذہنی صرف اسی کی ذات تک محدود اور صرف اسی کی نفسی قوتوں پر منحصر رہے گی۔ اس کو نشوونما پانے کے لیے ماحول سے کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ ماحول کے مختلف اثرات اس کیفیت کو بڑھانے کے بجاے اُلٹا گھٹا دیں گے۔ لیکن اگر وہی کیفیت پورے ماحول پر طاری ہو، اگر تمام لوگ ایک ہی خیال اور ایک ہی ذہنیت کے ماتحت ایک ہی عمل کر رہے ہوں تو معاملہ برعکس ہوگا۔ اس وقت ایک ایسی اجتماعی فضا بن جائے گی جس میں پوری جماعت پر وہی ایک کیفیت چھائی ہوئی ہوگی اور ہر فرد کی اندورنی کیفیت ماحول کی خارجی اعانت سے غذا لے کر بے حدوحساب بڑھتی چلی جائے گی۔ ایک شخص اکیلا برہنہ ہو اور گردوپیش سب لوگ کپڑے پہنے ہوئے ہوں تو وہ کس قدر شرمائے گا؟ بے حیائی کی کتنی بڑی مقدار اس کو برہنہ ہونے کے لیے درکار ہوگی اور پھر بھی ماحول کے اثرات سے اس کی شدید بے حیائی بھی کس قدر باربار شکست کھائے گی؟ لیکن جہاں ایک حمام میں سب ننگے ہوں وہاں شرم بے چاری کو پھٹکنے کا موقع نہ ملے گا، اور ہر شخص کی بے شرمی دوسروں کی بے شرمی سے مدد پاکر افزوں اور افزوں ہوتی چلی جائے گی....

اجتماعی روزے کا مہینا قرار دے کر رمضان سے شارع نے یہی کام لیا ہے۔ جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہرغلہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا پھولتا ہے اور ہر طرف کھیتوں پر چھایا ہوا   نظر آتا ہے، اسی طرح رمضان کا مہینا گویا خیروصلاح اور تقویٰ و طہارت کا موسم ہے۔ جس میں بُرائیاں دبتی ہیں، نیکیاں پھلتی ہیں، پوری پوری آبادیوں پر خوفِ خدا اور حب ِ خیر کی روح چھا جاتی ہے، اور ہر طرف پرہیزگاری کی کھیتی سرسبز نظر آنے لگتی ہے۔ اس زمانے میں گناہ کرتے ہوئے آدمی کو شرم آتی ہے۔ ہرشخص خود گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے کسی دوسرے بھائی کو گناہ کرتے دیکھ کر اسے شرم دلاتا ہے۔ ہر ایک کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کچھ بھلائی کا کام کرے، کسی غریب کو کھانا کھلائے، کسی ننگے کو کپڑا پہنائے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، کہیں کوئی نیک کام کر رہا ہو تو اس میں حصہ لے، کہیں کوئی بدی ہو رہی ہو تو اسے روکے۔ اس وقت لوگوں کے دل نرم ہوجاتے ہیں، ظلم سے ہاتھ رُک جاتے ہیں، بُرائی سے نفرت اور بھلائی سے رغبت پیدا ہوجاتی ہے، توبہ اور خشیت و انابت کی طرف طبیعتیں مائل ہوتی ہیں، نیک بہت نیک ہوجاتے ہیں اور بد کی بدی اگر نیکی میں تبدیل نہیں ہوتی تب بھی اس جلاب سے اس کا اچھا خاصا تنقیہ ضرور ہوجاتا ہے۔ غرض اس زبردست حکیمانہ تدبیر سے شارع نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ ہرسال ایک مہینے کے لیے پوری اسلامی آبادی کی صفائی ہوتی رہے، اس کو اوور ہال کیا جاتا رہے، اس کی کایاپلٹی جائے۔ اور اس میں مجموعی حیثیت سے روحِ اسلامی کو ازسرِنو زندہ کردیا جائے۔

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں‘‘۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’جب رمضان کی پہلی تاریخ آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جِنّ باندھ دیے جاتے ہیں۔ دوزخ کی طرف جانے کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کی طرف جانے کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔  ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اس وقت پکارنے والا پکارتا ہے: ’’اے بھلائی کے طالب آگے بڑھ اور اے بُرائی کے خواہش مند ٹھیرجا!‘‘(اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، ص۷۸ تا ۱۰۸)