مارچ ۲۰۱۴

فہرست مضامین

دینی مدارس کے اہل حل و عقد کی خدمت میں

احسان الرحمٰن عثمانی | مارچ ۲۰۱۴ | بحث و نظر

دینی تعلیم کے نظام اور نصابِ تعلیم کی اصلاح پر ایک عرصہ سے گفتگو ہورہی ہے اور عملاً پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ وابستگانِ مدارس او راہلِ علم مشاورت میں برابر دل چسپی لے رہے ہیں۔  جنوری ۲۰۱۴ء کے ماہنامہ العصر میں جو محترم مفتی غلام الرحمن صاحب کی ادارت میں پشاور سے شائع ہوتا ہے مفید مضمون بطور اداریہ شائع ہوا ہے۔ اپنے قارئین کی نذر کر رہے ہیں اور اہلِ علم کو  اس موضوع پر غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ (مدیر)

برعظیم پاک وہند میں بالخصوص اورعالم اسلام کے بیش تر خطوں میں بالعموم دینی مدارس کا تصور اورمعاشرے میں ان کی ہمہ جہت خدمات ایک ناقابل تردید حقیقت بن چکی ہے ۔یہی مدارس عربیہ، اسلام کی حفاظت اورعملی زندگی میں اس کی بقا کے حوالے سے ایک کلیدی کردار اداکرتے آرہے ہیں۔ آج اگرمعاشرے میں شعائر اسلام باقی ،مساجد آباد وبارونق اوراسلامی تہذیب وثقافت زندہ ہے، تو اس کی پشت پر یقینا دینی مدارس کے بوریہ نشینوں کی قربانیاں عیاں ہیں،جنھوں نے فقروفاقہ کو سینے سے لگاکردین اسلام کی خدمت کو ہرموقع پر اپنی جان سے مقدم اورعزیز رکھاہے۔ جو نہایت بے سروسامانی کے عالم میں مدرسے کی چاردیواری اوروہاں کی شبانہ روز زندگی اپنے لیے قابلِ افتخار سرمایہ سمجھتے ہیں ۔

آج دینی مدارس کاوجودِ مسعود بغیر کسی تردد کے جملہ شعبوں کی آب یاری میں مصروفِ عمل ہے ۔دینی مدارس کی خدمات کاسلسلہ اتنا متنوع اورکثیر الجہت ہے تووہاں کانظم ونسق ،طریقہ تعلیم اور نصاب تعلیم کامعاملہ بھی نہایت حساس نوعیت کاہے ۔ جس کے کسی بھی زاویے کی درست تشخیص اورتراش خراش کااستحقاق صرف وہی لوگ رکھ سکتے ہیں جوبراہِ راست ایسے نظام سے وابستہ ہوں۔

عرصہ دراز سے موجودہ دینی مدارس کے نظام پر مختلف زاویوں سے تنقید کابازارگرم ہے۔ اس میں اگرایک طرف مغربی طاقتوں کی کارستانیاں ہیں، تودوسری طرف سرزمین پاکستان کے  حکمرانوں کابھی وافرحصہ ہے ۔جب دشمنان اسلام کومذہب سے وابستہ افراد کی غیرتِ ایمانی اور حمیت دینی کے مظاہر دنیاے عالم کی مختلف تحریکوں میں دیکھنے کوملے اوران کواس جذبۂ ایمانی کی پیداوارکا اصل سراغ لگانے میں دینی مدار س کاپلیٹ فارم دکھائی دیا تواپنے جملہ وسائل کے ذریعے مدارس پر انھوں نے طرح طرح کے پروپیگنڈوں کے ذریعے الزامات کی بوچھاڑ کی، تاکہ وہ ان کے کردار کو متنازع اورمشکوک بناکر اپنے ذاتی مفادات کوتحفظ دے سکیں۔بدقسمتی سے ان کواپنے ان مذموم مقاصد کوعملی جامہ پہنانے کے لیے ایسے حکمران بھی ملے، جنھوں نے دشمن کے بے بنیاد پروپیگنڈے پر اعتماد کیا اور بغیرکسی تحقیق کے ان پر دہشت گردی اورانتہا پسندی کے الزامات لگانے میں دیر نہیں کی۔ پھر یہاں کے نظم ونسق میں مداخلت کے لیے مختلف ذرائع تلاش کیے، جس میں سرفہرست مالی تعاون ، نصاب ونظام میں تبدیلیوں کی صدائیںاورماڈل دینی مدارس جیسے منصوبے شامل رہے ۔ تاحال تو ان قوتوں کو مدارس کے آزادانہ ماحول میں کسی قسم کی مؤثر مداخلت کے مواقع نہیں ملے، مگرمیڈیا جیسے ذرائع سے ان پررکیک حملوں کاسلسلہ تاہنوز جاری ہے۔میرے خیال میں خودمغربی طاقتوں اوران کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے والے ضمیر فروشوں کواس شخصیت کے پیغام سے سبق لیناچاہیے، جوخود یورپ کے تعلیمی اداروں میں پلنے بڑھنے کے بعد مشرق ومغرب میں ایک قانون دان اورایک عظیم مفکرکی حیثیت سے یکساں طورپرمقبول ہیں۔

مفکراسلام علامہ محمد اقبال ؒدینی مدارس کی افادیت،اہمیت اوران کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ان مکتبوں (مدرسوں)کو اسی حالت میں رہنے دو ،غریب مسلمانوں کے بچوں کو انھی مکتبوں میں پڑھنے دو۔ اگریہ مُلّااوردرویش نہ رہے توجانتے ہوکیاہوگا؟جوکچھ ہوگا،میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیاہوں۔ اگرہندستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے توبالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ (اسپین )میں مسلمانوں کو ۸۰۰برس کی حکومت کے باوجود  آج غرناطہ وقرطبہ کے کھنڈراورالحمرااورباب الاخوتین کے سوا اسلام کے پیرووں اوراسلامی تہذیب کے آثارکاکوئی نقش نہیں ملتا، یہاں بھی تاج محل اوردلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی تہذیب کاکوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔گویاکہ حضرت علامہ کی نظر میں مدارس دینیہ کی مخالفت قہر خداوندی کودعوت دینے کے مترادف ہے۔

ہمیں اس بے بنیاد پروپیگنڈے سے ہٹ کر دینی مدارس کے رواں سفر میں حالات اور وقتی تقاضوں کے مطابق نصاب تعلیم اورنظام تعلیم میں مزید ترمیم واضافے کاعمل برابر جاری رکھنا چاہیے ۔جب ہم اسلام کی آفاقیت اوردنیاکے کونے کونے میں اس کی تنفیذ کی بات کرتے ہیں،   جو محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے، توپھر کیا ہم نے ذرہ بھر یہ بھی سوچاہے کہ اس عالم گیر مہم کے تقاضے، ضروریات اورطریقۂ کار کیا ہوگا اوریہ کہ ہم کس نہج پر اس کی تیاری کررہے ہیں؟ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ تعلیمی اداروں میں نصاب تعلیم کاتقرر وقت اورحالات کے تقاضوں کے مطابق کیاجاتاہے اورمعاشرتی اقدارکی اس میں برابر کی ترجمانی اورعکاسی ہوتی ہے، اورایسے میں ہرمضمون کے بنیادی اہداف اوراس کی روشنی میںاس کے تدریجی ارتقا کاعمل بھی جاری رہتاہے۔

ہمارے مدارس دینیہ کاموجودہ نصاب مُلّا نظام الدین سہالویؒ نے اس زمانے میں مرتب کیاتھا،جب ان کو مغلیہ علم دوست حکمران اورنگ زیب عالم گیر نے فرنگی محل نامی مکتب میں بطوراستاذ تعینات کیا۔ اس زمانے میں مملکت کی جملہ عدالتوں میں فقہ حنفی رائج تھی اورانفرادی اوراجتماعی زندگیوں میں اس کے مطابق فیصلے کیے جاتے تھے تواسلامی عدالتوں کو مفتیانِ کرام،   قضاۃ اور فقہ اسلامی کوخاص قانونی نقطۂ نظر سے مرتب کرنے کے لیے جن رجالِ کارکی ضرورت ہوتی وہ مذکورہ نصاب سے پوری کی جاتی تھی ۔نصاب تعلیم کی یہ شکل خود مغلیہ دور کے سقوط اور ۱۸۵۷ء کے آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر تک جاری رہی ۔پھر جب ۱۸۶۷ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، اس وقت بھی یہی نصاب وہاں کے حالات اورتقاضوں کے مطابق ترمیم واضافے کے ساتھ مروج رہا ۔چنانچہ دارالعلوم دیوبندکے نصاب میں علم ہندسہ،اورخاص کرعلم طب پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ آج بھی دارالعلوم کے بیش تر فیض یافتہ حضرات کے مطب اورعلم حکمت سے براہِ راست وابستگی کے  کئی مظاہر دیکھنے کوملتے ہیں ۔ معلوم ہوتاہے کہ نصاب تعلیم اورنظام تعلیم کامدتوں تک ایک ہی سانچے میں رہنا فطرت کے تقاضوں کے مطابق ایک مشکل امرہے۔جوں جوں معاشرے میں تغیر وتبدل اور ارتقا کاسفر جاری رہے گا،توایسے میں تعلیم گاہوں اورخاص کردینی مدارس کے نصاب تعلیم کا   ایک ہی نقطے پرمستمر رہنا شایداس کی اپنی افادیت کے دائرے کومحدود کرنے کے مترادف ہوگا۔

ہمارے ہاں مروجہ نصاب تعلیم پراگر غورکیاجائے توقدیم ذخیرے میں بیش ترایسے نظریات دیکھنے کو ملیں گے جوبذات خود ہماری شریعت کے نصوص سے واضح طورپرمتصادم ہیں۔جن میں بطور خاص علم الکلام کے قدیم مباحث میں فلسفہ اورمنطق کے مُغْلَقْ نظریات سرفہرست ہیں۔ مگر متقدمین علماے حق نے اس زمانے میں ان کو صرف وقت کے تقاضوں کے مطابق اس دور کی طاغوتی قوتوں کے آلۂ کاروں کو ان کے فہم وزعم کے مطابق اسلام کے بنیادی عقائد سمجھانے کے لیے بطور ہتھیاراستعمال کیاتھا۔ آج اسی فلسفہ اورمنطق کے مقام کومتبادل نئی چیزوں نے لے لی ہے اور ہمارے لیے مسلسل چیلنج کے طورپرسامنے ہیں۔ اوراس وقت مذہب کی تعلیم سے وابستہ افراد کوموجودہ زمانے کے لب ولہجہ کوسمجھنا وقت کاایک اہم تقاضاہے ۔کیونکہ دشمنانِ اسلام کو زہریلی اورشرپسند ذہنیت سے بچنے کے لیے پہلے ان کی فکر ،اندازِ تخاطب اورخاص کران کی زبان سے واقفیت حاصل کرناہماری مذہبی اورمعاشرتی ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے ہم خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ  کے اس جملے سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ جس میں آپ نے اُ س موقع پرارشاد فرمایا،جب ایک شخص کے بارے میں آپ سے کہا گیا کہ ان کوامیر اس لیے بنایاجائے کہ وہ اتنامتقی ہے کہ گویا  کانہ لم یعرف الشر،کہ شرنامی چیز کوجانتا نہیں۔آپ نے فرمایا: اذاًیوشک ان یقع فیہ، پھر توقریب ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے۔

آج اگر معاشرے کے مختلف حلقوں کی جانب سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی صدائیں بلند کی جاری ہیں تواس سے قطعاًیہ مراد نہیں کہ یہ مدارس، معاشرے کوڈاکٹر، انجینیراور  سائنس دان فراہم کریں۔ کیونکہ یہ توبالکل ایساہی ہے کہ جیسے آپ میڈکل کالج والوں سے بیک وقت ایک ہی شخص کے بارے میں ڈاکٹر ،انجینیراورسائنس دان کامطالبہ کریں ۔درحقیقت وہ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ دینی مدارس کے طلبہ معاشرے کی یہ ذمہ داریاں بھی سنبھالیں، بلکہ جب معاشرے کے بیش تر شعبوں میں دینی مدارس کے فضلا کی منصبی ذمہ داریوں کے مواقع آتے ہیں توایسے میں خود ان کے اورمروجہ روش کے درمیان ابلاغ اور وضاحت کی رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لیے ان کومعاشرے کااسلوب بھی جاننا چاہیے ۔بہت ممکن ہے کہ نصاب میں یکایک تبدیلی شاید ہمارے دینی ماحول میں بہت جلد واقع نہ ہو،مگررفتہ رفتہ اس میں ترمیم جوکہ یقینا کچھ عرصے سے جاری ہے، مزید اس کی ضرورت ہے،اوریہ عمل اہلِ علم کی وسیع ترمشاورتوں اور تجربات سے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے گا۔

عصر حاضر کے جدید اسلوب کے حوالے سے ہم دینی مدارس میں اپنے مروجہ نصاب کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات ضرور اٹھائیں، کہ جس سے ہمارادینی طبقہ معاشرے کے ساتھ براہِ راست آمناسامنا کرنے میں کسی قسم کی دقت محسوس نہ کرے ۔

بطورمثال، قرآن وحدیث جوہماری زندگی کے جملہ شعبوں کے لیے اساس اوردستورکامل کی حیثیت رکھتے ہیں، مگرتدریس قرآن کے قدیم اسالیب کے ساتھ ساتھ عصرحاضر کے نئے فتنوں کامطالعہ اورقرآن مجیدسے ان کے استشہادات کوبہ نظرِ غائر مطالعے میں رکھنا آج کی ایک اہم ضرورت ہے ۔اسی طرح قرون اولیٰ کے تفسیری مناہج کے ساتھ ساتھ علوم القرآن ،تدریسِ قرآن مجید دورِ جدید کی ضروریات اورتقاضوں کے حوالے سے نئے اسالیب پر غوروفکرکرنے سے شاید ہم معاشرے کوکتاب اللہ سے وابستہ رکھنے میں مؤثرکرداراداکرسکیں۔

اسی طرح علم حدیث اگرایک طرف اپنے گہرے رموز اوراسرار کے حوالے سے ایک مہتم بالشان علم ہے تودوسری طرف اس کے تدریس کے تقاضے بھی نہایت اہم ہیں۔ ہمارے مروجہ نصاب میں تدریسِ حدیث فقط ائمہ فقہا کی آرا اوراستنباطات کے اردگرد گھومتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ بعض جگہوںمیںطریقۂ استدلال کے جواب میں رُواۃ کاتذکرہ اوران پرجرح وتعدیل کے مواقع بھی پیش آتے ہیں، مگر مجموعی صورت حال کے مطابق طلبہ کے ذہن میں احادیث مبارکہ کی تعلیم سے فقط استدلال واستشہاد اورکسی خاص مسلک کی تائید کے حوالے سے ایک محدود شناسائی رہتی ہے ۔اگراس کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت پیداکرکے طلبہ کواحادیث کی عمومی اوراصلاحی مفاہیم پرتوجہ دلائی جائے، توعین ممکن ہے کہ کل وہ معاشرے کے کسی بھی اجتماع کے سامنے احادیث مبارکہ کی روشنی میں رسول اکرمؐ کے اسوۂ مبارکہ کوایک اچھے قالب میں منطبق کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔

اس کے ساتھ احادیث کے زمرے میں علم الآثار کے حوالے سے صحابہ کرامؓ اورتابعینؒ کے قرآن وحدیث کی تفسیر کے دوران جوقیمتی آرا منقول ہیں، ان سے بھی ان کوروشناس کرایاجائے تو معاشرے کے بیش تراختلافی مسائل بیان کرنے میں اس کوایک مثبت راہ دکھانے میں ممد اور معاون ثابت ہوگا۔اس مرحلے میں قدیم دورکے فرق ضالہ کے ساتھ ساتھ موجودہ دورکے اہم فرقوں کے بارے میں عمومی تعارف کروایاجائے اورپھر اس کی روشنی میں مناسب گرفت کے راستے متعین کیے جائیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں عموماً نئے گروہ یانئی آواز بلندکرنے والوں پرسب وشتم توپہلے کیاجاتاہے اوران کے منظورنظر عقائد وافکارکا مطالعہ بعد میں کیاجاتاہے، جوکہ یقینا ہمارے غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی ہے ۔

فقہ اوراصول فقہ کی تدریس کے دوران قدیم طرزِ تعبیر کے ساتھ آج دونوں میں جدید اسالیب سامنے آچکے ہیں۔طلبہ کواگرقدیم ذخیرہ پڑھاتے ہوئے اس معاصرانہ تطبیق سے روشناس کرایا جائے، توعین ممکن ہے کہ وہ تعلیمی سلسلے کے دوران معاشرے کے اُتارچڑھاؤ اورباہر دنیا کے حالات کودرست زاویے پرپرکھیں اوراس کے لیے مناسب زادِ راہ تیاکریں۔کوئی شک نہیں کہ ان دونوں علوم میں وسعت اوراضافے کابنیادی محرک معاشرے کے رواں سفر میں نت نئے حالات وواقعات کا تغیر بھی گہرااثر رکھتا ہے ۔ آج تمام بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹیوںمیںقرآن وحدیث، فقہ اوراصول فقہ اوردیگرعلوم کی تدریس کے حوالے سے تدوین نومختلف زاویوں پرعرصہ دراز سے جاری ہے۔ہم اپنے دینی مدارس کے ظروف اوراندرونی ماحول کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

مدارس کی چاردیواری سے نکل کر باہر کی دنیامیں عمومی دعوۃ وارشاد کے حوالے سے محنت کرناہمارے مدارس دینیہ کی اولین ترجیحات میں سے ہے مگر مغربی دنیاکے مسلم معاشرے میں مسلسل نئے روپ میں فساد وگمراہی کے جال پھیلانے کے باعث ہماری یہ ذمہ داری کچھ زیادہ نزاکتوں کاشکار ہے۔ہمارے پاس اس اہم فریضے کی ادایگی کے لیے مسجد کے منبر ومحراب کا وسیع پلیٹ فارم ہے، جوکہ نہ صرف مسلمانوں کاعبادت خانہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کرمسلم معاشرے کااسلام کے روزِاول سے جملہ شعبوں کی نگرانی کاتسلسل سے مرکز چلاآرہاہے ۔اس لیے ہمارے فضلاکواس منصب تک پہنچنے کے بعد صرف روایتی مذاق کو اپنانے کے بجاے مسجد کے ماحول سے وابستہ افراد کے ہرذہن کوپڑھنے کے بعد مثبت انداز میں مذہبی تعلیمات کودرست اورفی الواقع تطبیقات کی روشنی میں پیش کرناایک اہم ذمہ داری ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ معاشرے کابیش تر طبقہ شریعت اورمذہب سے آگاہی کا خواہاں ہے، مگر جب ان کو ہمارے عمومی اجتماعات اورخاص کر جمعہ کی نشست میں کوئی واضح اورٹھوس پیغام نہیں   مل رہاہوتا، تویہ بے چارے جمعۃ المبارک کے اہم موقعے پربھی صرف وقتی فریضے کی ادایگی کو   اپنے لیے غنیمت سمجھتے ہیں۔آج کے دورمیں معاشرے کے پاس مسجد کے امام وخطیب سے ہٹ کر بھی علم وتحقیق کے دیگر ذرائع موجود ہیں، جوغلط ہوں یاصحیح مگر طبعی طورسے ان کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ ہمیں ان چیزوں سے آگاہی حاصل کرکے معاشرے کودرست تطبیق کی نشان دہی کرکے بہترراہ پرگامزن کرناہے ۔

ایسے حالات میں دینی مدارس کے جملہ ارباب بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو ان نوخیز فضلاکے مستقبل کے حوالے سے ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اورمستقل بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے ۔اس وقت دینی مدارس کے بعض سربراہان جب معاشرے کے اس قسم کے حالات کامشاہد ہ کرتے ہیں، تواپنے فضلا کے بارے میں مؤثر طریقہ کارپرسوچنے کے لیے بے قرارہیںتو وفاق المدارس کواپنی جملہ سرگرمیاں ایک امتحانی سیکشن تک محدود کرنے کے بجاے تعلیمی ادارے جیسے فرائض سرانجام دینے چاہییں ۔عمومی مشاہدہ ہے کہ دینی مدارس کے ماحول میں متنوع خدادادصلاحیتوں کے حامل طلبہ آتے ہیںاورفراغت کے بعد اپنی ذاتی رجحان کی بنیاد پر آگے تعلیمی سلسلے کومختلف پہلوؤں پرجاری رکھناچاہتے ہیں، مگر معاشی تنگ دستی یاپھر مناسب عدم سرپرستی کے باعث وہ اس کام میں لیت ولعل کے شکارہو جاتے ہیں ۔

میرے خیال میں وفاق المدارس اگر فضلاکے ایسے گروہ پر خصوصی توجہ دے اوران کی ذہنی صلاحیتوںکے مطابق متعلقہ اداروں میں رہتے ہوئے ان کی جملہ سرپرستی کوقبول کرے، تومستقبل قریب میں ہمارے پاس معاشرے کے مختلف میدانوں میں رجالِ کارکی فراہمی میں ایک اچھی خاصی ٹیم تیارہوگی ۔اوراس کے علاوہ عمومی فضامیں مروجہ نصاب کے ساتھ ساتھ درج ذیل عنوانات پر عمومی ورکشاپ اورمختصردورانیے کے حامل کورسوں کے ذریعے ہم اپنے طلبہ کوقومی ، ملکی اوربین الاقوامی حالات وواقعات اوراس کے اثرات سے بخوبی آگاہ رکھنے کااحساس دلاسکتے ہیں:

  • قرآن وحدیث کے تخاطب کے عمومی انداز کاتعارف ،حکمتیں اورتطبیق کی ممکنہ صورتیں 
  • سیرت النبیؐ کے حوالے سے مناہج ِ سیرت اورمطالعہ ٔ سیرت کی ضرورت واہمیت
  • تاریخ فقہ اوراصول فقہ کے حوالے سے روزمرہ واقعات اورنت نئے مسائل کاعمومی تجزیہ
  • تاریخ کے مضامین پر خصوصی توجہ کے ساتھ ساتھ فلسفہ تاریخ اورمعاشرے پراس کے اثرات 
  • جدید علوم کااجمالی خاکہ اورخاص کرفتویٰ سے وابستہ موجودہ دورکے طبی ،معاشی اورسیاسی مسائل کے ساتھ قانون کی موشگافیوں سے مانوس رہنا
  • علم الکلام کے قدیم مباحث کے ساتھ ساتھ جدید علم الکلام اور معاصرافکار کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان پر گرفت حاصل کرنے کاسنجیدہ طریقۂ کار
  • طریقِ تدریس کے جدید اسالیب کابطورفن تعارف 
  • دعوۃ الارشاد کے طریقہ کار،ذمہ داریاں اورجدید اسالیب کی درجہ بندی 
  • عصر حاضر کی رائج زبانوں پر تحریر وتقریر کے ذریعے گرفت بالخصوص عربی، اُردو،انگریزی lذرائع ابلاغ کاتعارف اوراس کے ذریعے اپنے پیغام کومؤثرانداز میں پہنچانے کی حکمت عملی۔

اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے عمومی مزاج میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے یکساں تسلسل ،افرادی قوت کے تحفظ اورفروعی مسائل میں زیادہ شدت اختیارکرنے کے بجاے امت کی وحدت کوہرحال میں مقدم رکھنے کی عملی جدوجہد کرنا ہمارے اہداف حاصل کرنے کاایک مؤثرانداز ہے۔ہم ان تمام تراقدامات کے ساتھ دینی مدارس کے عمومی مذاق،اس کی اخلاقی اور روحانی فضا کو برقراررکھتے ہوئے گردوپیش کے حالات وواقعات سے اپنے فضلا کوہمہ وقت ہرقسم کے حالات کے لیے بیدار مغز رکھ سکتے ہیں،اورسیرتِ نبویؐ کے حامل وارث کودنیاکے جس کونے،جس شعبے میں خدمت کے لیے بھیجیں وہ وہاں کے تقاضے اورحالات کاسامناکرتے ہوئے دوٹوک موقف کے ساتھ اسلام کی روشن تعلیمات کوواضح کرے۔ یوں ہم دشمن کے منفی پروپیگنڈے سے مثبت انداز میں نمٹ کردینی مدارس کے ماحول کوہرقسم کے خطرات اورحادثات سے بچاکر   رکھ سکتے ہیں    ؎

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرقِ و مغرب میں تیرے دور کاآغاز ہے

وَالْعَصْرِ o  اِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ o

_______________