مارچ ۲۰۱۹

فہرست مضامین

سیرتِ نبویؐ کا ایک گوشہ،مدینہ مارکیٹ

ایچ عبدالرقیب | مارچ ۲۰۱۹ | اسوہ حسنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا اور ایک عظیم الشان اسلامی ریاست بھی۔ اس معاشرے اور ریاست کی پانچ اہم مضبوط اور منظم بنیادیں تھیں: مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی۔
دینی اُمور اور معاملات کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبویؐ کی تعمیر فرمائی، نمازباجماعت اور مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے یہ تمام مذہبی اُمور کا مرکز بنا۔ سیاسی نقطۂ نظر سے کفارِ مکّہ سے صلح حدیبیہ، یہود سے میثاقِ مدینہ اور نجران کے عیسائیوں سے الگ معاہدہ بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ مہاجرین و انصار میں بھائی چارگی کا رشتہ، نیز ان کے درمیان انس و اخوت کی بنیادیں، سماجی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیوں کا باعث بنیں۔
تعلیم کے پس منظر میں پہلی منظم درس گاہ مسجد نبویؐ کے اندر صفہ (چبوترہ) تھا، جس میں ۷۰ تا ۸۰ طالب علم تھے۔ اس مدرسے کے طلبہ میں مختلف افراد اسلامی حکومت کی مختلف خدمات پر مامور کر دیے جاتے تھے اور تعلیم و تبلیغ کے لیے تو خصوصیت کے ساتھ ان ہی اصحاب کو بھیجا جاتا تھا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ مالی اُمور کے نگران تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مختلف اکابر صحابہ کرامؓ بھی معلم کی خدمات انجام دیتے تھے۔
معاشی خوش حالی اور مادی ترقی کے لیے ’مدینہ مارکیٹ‘ کا قیام اور اس کا انتظام و انصرام سیرتِ نبویؐ کا ایک تاب ناک باب ہے، جو عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اس کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جارہی ہیں

مدینہ منورہ کی مرکزیت

مدینہ منورہ اس اعتبار سے پورے جزیرئہ عرب میں نمایاں تھا کہ وہاں تجارت اور زراعت کے مراکز تھے۔ طائف میں زیادہ تر زراعت ہوتی تھی، مگر تجارت کم تھی۔ مکہ مکرمہ میں صرف تجارت ہوتی تھی، لیکن زراعت نہیں تھی۔ مدینہ منورہ میں تجارت اور زراعت دونوں ہوتی تھیں۔   مدینہ منورہ میں بہت سے باغات اور کھیت تھے۔ کھجور اور انگور کے علاوہ بھی بہت سی دوسری پیداوار ہوتی تھی۔ تجارت میں اگرچہ مسلمان بھی شریک تھے، لیکن زیادہ تر تجارت اب بھی یہودیوں کے ہاتھ میں تھی۔
جب مکّہ سے ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، تو آپؐ نے  ایک ایک کرکے ان میں سے ہرچیز کا جائزہ لیا۔جو چیز اسلام کے نقطۂ نظر سے قابلِ قبول تھی یا غلط نہیں تھی، اس کو حضوؐر نے جاری رہنے دیا اور اس کی ممانعت نہیں فرمائی۔
مدینہ منورہ کی اہم پیداوار کھجور، جَو، انگور، انجیر تھی اور کچھ پھل، جن میں انار اور کیلا بہت نمایاں ہیں، کثرت سے پیدا ہوتے تھے۔ گندم پیدا ہوتی تھی، لیکن بہت کم۔ عام طور پر دُور سے لانے کی وجہ سے مہنگی بھی تھی اور کم بھی۔ مصنوعات میں زیادہ تر کپڑا، ہتھیار، لکڑی کا سامان شامل تھا۔ انگور کی پیداوار کی وجہ سے شراب کی پیداوار بھی تھی۔ اکثر شراب خانے یہود کے تھے۔ وہ خود بھی شراب کا کاروبار کرتے تھے اور ان سے لے کر دوسرے لوگ بھی قرب و جوار میں شراب کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ جب شراب حرام قرار پائی تو مہاجرین اور انصار دونوں میں شراب کا کاروبار کرنے والوں نے اس سے ہرقسم کاتعلق ختم کر دیا۔ چوں کہ مدینہ میں اس کی کھپت ختم ہوگئی، اس لیے غیرمسلموں نے بھی ایک ایک کرکے شراب کا کاروبار ختم کر دیا۔
صنعت و حرفت میں گھریلو دست کاری بھی تھی اور اجتماعی دست کاری بھی۔ گھریلو دست کاری میں عموماً کپڑے، سوت کاتنے، دھاگہ بنانے کا کام ہوتا تھا، جو بڑے کاروبار تھے اور جس میں ایک سے زائد لوگ کام کرتےتھے، اسے آپ فیکٹری یا کارخانہ کہہ سکتے ہیں۔ جہاں پر زراعت اور لوہے کے آلات بنائے جاتے تھے۔ یہ سرگرمی عموماً بنوقینقاع کے ہاتھ میں تھی۔ قرب و جوار میں زرعی آبادیاں تھیں، اس لیے وہاں آلاتِ زراعت کے کام کی خاصی گنجایش تھی۔ مدینہ منورہ کے تاجر درآمد (import) برآمد(export) کا کام بھی کرتے تھے۔ شام سے کپڑا اور استعمال کی دیگر اشیا منگوایا کرتے تھے۔ گندم کا بیش تر حصہ اُردن سے آیا کرتا تھا۔ کاروبار میں یہودی بھی پیش پیش تھے اور شام کے مختلف علاقوں میں ان کے تجارتی مراکز تھے، جہاں سے درآمد اور برآمد کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ بنونضیر کے یہودی اس کام میں بڑے نمایاں تھے۔ 
 ہجرت کے تقریباً ایک ڈیڑھ سال کے بعد مسلمان بڑی تنگ دستی کے عالم میں تھے۔ یہود کا ایک بڑا تجارتی قافلہ آیا۔ اس میں خوشبوئیں، جواہرات اور سمندری سامان غالباً موتی وغیرہ مدینہ کے بازار میں آکر اُترا۔ مسلمان خواتین اور نوجوانوں نے حسرت کی ایک نظر سے ان سب چیزوں کو دیکھا اور دل میں محسوس کیا کہ تمام مال ود ولت یہود کے پاس ہے، مسلمانوں کے پاس کچھ مالی وسائل نہیں ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی تسلی کے لیے قرآنِ پاک کی یہ آیت نازل ہوئی:
وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ۝۸۷  لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝۸۸ (الحجر۱۵:۸۷-۸۸) ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دُہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمھیں قرآنِ عظیم عطا کیا ہے۔ تم اُس متاعِ دنیا کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ   ان کے حال پر اپنا دل کڑھائو۔ انھیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو۔
غرض یہ کہ تجارت بیش تر یہود کے قبضے میں تھی۔ انصار، یعنی اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ ان کے مقروض تھے۔ اور جیساکہ عرض کیا گیا کہ ان کی زمینیں ایک ایک کرکے یہود کے قبضے میں جارہی تھیں۔ اس صورتِ حال پر مہاجرین کے آنے سے بہت فرق پڑا۔ مہاجرین تجارت کے بڑے ماہر تھے کیوں کہ مکہ مکرمہ میں اصل کام تجارت تھا۔ مہاجرین میں بڑے بڑے نامی گرامی تاجر تھے، جو تجارت کے فن میں طاق تھے۔ جب انھوں نے مدینہ منورہ کے بازاروں میں تجارت شروع کی تو یہودیوں کا زور بازار پر سے کم ہوتا چلا گیا اور ان کی بالادستی متاثر ہوئی۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بنوقینقاع کے بازار میں ہی کاروبا ر شروع کیا تھا (بخاری، کتاب البیوع)۔ وہاںکے تاجروں نے بازار پر اپنی اجارہ داری بنائی ہوئی تھی۔ ایک شخص ابورافع ’تاجرِ حجاز‘ کہلاتا تھا اور وہ پورے حجاز کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ بنوقینقاع کے پورے بازار بلکہ مدینہ منورہ کے بازار پر اس کا کنٹرول تھا۔ جو قیمت وہ متعین کردیتا، وہی بازار کی قیمت ہوتی تھی۔ سب یہودی تاجر متحد ہوکر اس کے فیصلوں کی پابندی کرتے تھے۔ اس طرح یہ لوگ ایکا کرکے  کسی غیریہودی تاجر کو بازار میں قدم جمانے نہیں دیتے تھے۔ انھوں نے دو پیمانے بنا رکھے تھے: ایک پیمانہ دینے کے لیے اور دوسرا لینے کے لیے۔ اسلام نے دو پیمانے رکھنے کی ممانعت کردی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ پہلے تاجر تھے، جنھوں نے ابورافع کی اس بالادستی کو ختم کردیا۔ انھوں نے ایک ایک کرکے اس کے غلط تجارتی طریقوں کو ختم کیا اور اس کی اجارہ داری کو کمزور کیا۔

نئی مارکیٹ کا قیام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا اہم فیصلہ یہ کیا کہ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد ایک نئی مارکیٹ قائم کی، جو مسجد نبویؐ کے قریب ہی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے ایک متبادل بازار قائم ہوجائے اور یہود کی شرارتوں اور اجارہ داری سے مسلمانوں کو نجات مل جائے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ تجارت میں بڑا اُونچا مقام رکھتے تھےاور اللہ نے انھیں وسائل بھی دیے تھے۔ ان کو شکست دینا اور ان کے کاروبار کو خراب کرنا یہود کے لیےممکن نہیں تھا۔ لیکن چھوٹے مسلمان تاجروں کو یا ایسے لوگوں کو ، جن کا رسوخ کم تھا، یہودی تاجر تنگ کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر اپنے مسلمان خریداروں کو بھی یہودی دکان دار تنگ کیا کرتے تھے۔ ایک مسلمان خاتون کی بے حُرمتی کا مشہور واقعہ بھی اسی پس منظر میں ہوا، جس کی وجہ سے  غزوئہ بنوقینقاع [شوال ۲ ہجری/۶۲۴ء]ہوا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی توہین کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ 
اس کے علاوہ یہود کا نظریہ تھا کہ ان کے علاوہ دوسرے سب لوگ گم راہ ہیں، اس لیے ان کا استحصال جائز ہی نہیں پسندیدہ فعل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ سیاسی خودمختاری اور ریاست کے استحکام کے لیے معاشی طور پر مضبوطی اور آزادی کس قدر اہم ہے۔ اس لیے ایک متبادل تجارتی پلیٹ فارم قائم کرنے کے لیے آپؐ نے ایک مارکیٹ قائم کی، جس کے بارے میںآپؐ نے فرمایا کہ: ’’یہ تمھارا اپنا بازار ہے۔ اس میں کوئی بھی تمھارے ساتھ زیادتی یا کمی نہیں کرے گا۔ یہاں تم سے کوئی ظالمانہ ٹیکس نہیں لے گا۔ یہودی اپنے بازار میں بیٹھنے والے مسلمانوں سے غیرضروری ٹیکس بھی لیا کرتے تھے اور ان پر طرح طرح کے مالی تاوان اور بوجھ ڈالا کرتے تھے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے بازار میں کاروبار کرنے والے مسلمان تاجروں کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان کیا کہ کوئی اضافی بوجھ تم پر نہیں ڈالا جائے گا۔
محسن عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
اَلْجَالِبُ اِلٰی سُوْقِنَا کَالْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (مصنف ابن شیبہ، ج۴، ص ۳۰۵؛  بلاذری، ص ۸۲؛ سمہودی، ص۵۰۴) جو ہمارے اس بازار میں مال لے کر آئے گا، وہ اسی طرح کے اجر کا مستحق ہوگا جس طرح کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مسلمانوں کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور جو مسلمانوں کے بازار کو کامیاب بناتا ہے، وہ مسلمانوں کی معاشی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔مسلمانوں اور اُمت مسلمہ کی آزادی کو یقینی بنانے والا کوئی بھی عمل جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔ 
آپؐ نے فرمایا کہ: ہمارے اس بازار میں کوئی شخص اگر ذخیرہ اندوزی کرے گا،تو اس کو اتنا ہی مجرم سمجھا جائے گا جس طرح کہ کتاب اللہ میں الحاد کرنے والا، کتاب اللہ کے معانی میں غتربود کرنے والا یا کتاب اللہ کے معنی کو غلط بیان کرنے والا۔ (المستدرک ، الحاکم،کتاب البیوع، حدیث:۲۱۰۹)

تاجروں کو سہولت

نئی مارکیٹ مسجد نبویؐ سے قریب اور یہود کی مارکیٹ سے فاصلے پر تھی۔ جگہ کی تبدیلی کے ساتھ آپؐ نے ایسے حالات پیدا کیے، جو تاجروں اور گاہکوں کے لیے بڑے سازگار ہوں اور وہ اپنی پرانی مارکیٹ چھوڑ کر خریدوفروخت کے لیے اس نئی نبویؐ مارکیٹ کی طرف آئیں۔ اس کے لیے آپؐ نے دو دُور رس اصولوں کو اپنا کر اسے عملی جامہ پہنایا، جس کی وجہ سے تاجروں کی توجہ اس   نئی مارکیٹ کی طرف مرکوز ہونے لگی۔ پہلا اہم فیصلہ آپؐ نے یہ کیا کہ مدینہ مارکیٹ کے احاطے میں کسی بھی تاجر کو آنے اور خیمہ لگانے کی اجازت ہوگی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تجربہ کار تاجر تھے۔ آپؐ کو معلوم تھا کہ ٹیکسوں کے بغیر تجارت کی جائے تو خریدوفروخت میں آسانی ہوتی ہے اور نفع میں ترقی بھی۔ تاجر اور گاہک دونوں کو زیادہ نفع کی وجہ سےاس جگہ میں کشش پیدا ہوگئی۔ بغیر محصول اور ٹیکس کے خریدوفروخت میں قیمتیں کم ہوں گی اور کاروباری نقطۂ نظر سے بھی یہ بات مفید ہوگی۔ جہاں قیمتیں کم ہوں گی، لامحالہ خریداروں کا رُخ اسی مارکیٹ کی طرف ہوگا۔ واضح رہے کہ یہودی تاجر اپنی مارکیٹ میں ٹیکس لگاتے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے یہ طریقہ بھی اختیار کیا کہ مارکیٹ میں تاجروں کے لیے مخصوص جگہوں کا تعین نہ ہو، بلکہ جو تاجر جلد آئے گا، اپنی جگہ حاصل کرے گا اور کوئی بھی تاجر مستقل کسی جگہ پر قبضہ نہیں کرے گا۔ اس طریقۂ عمل سے جلد اور سویرے کاروبار کا سلسلہ شروع ہوا، اور تمام ہی تاجر اس مارکیٹ کی طرف منتقل ہونے لگے۔
مؤرخینِ سیرت نے لکھا ہے کہ جب تاجروں نے دیکھا کہ مارکیٹ اچھی ہے اور کاروبار بھی زوروں پر ہے، تو چند ایک نے اپنی متعین جگہوں پر خیمہ لگانے اور مارکیٹ کی احاطہ بندی کی کوشش کی۔ ایسے ہی ایک تاجر نے مارکیٹ میں مستقل خیمہ لگایا تو آپؐ نے حکم دیا کہ: ’اس کے خیمے کو جلا دیا جائے‘ (کتاب وفا الوفاء، باخبار دارالمصطفٰے، ص ۵۴۰)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجرانہ اصولوں پر کس شدت کے ساتھ عمل کروایا۔ اس طرح مدینہ مارکیٹ خریدوفروخت کا اچھا مرکز بن گیا۔ اجارہ داری او ر استحصال سے پاک اور ٹیکس کے نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں کمی اور کاروبار میں آسانی کی وجہ سے یہودیوں کا بازار سرد پڑنے لگا، اور وہ خود مجبور ہوئے کہ مدینہ مارکیٹ کی طرف آئیں اور خریدوفروخت کریں۔

بازار کی نگرانی کا انتظام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ مدینہ کے اُس بازار کا جائزہ لینے کے لیے خود تشریف لے جاتے تھے ۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ  اَنَّ النَّبِیَّ  مَرَّ عَلٰی صُبْرَۃِ طَعَامٍ  فَأَدْخَلَ اَصَابِعَہٗ فِیْھَا ، فَاِذَا فِیْہِ  بَلَلٌ  فَقَالَ مَا ھٰذَا یَاصَاحِبَ الطَّعَامِ،قَالَ: أَصَابَتْہُ سَمَاءٌ  یَارَسُوْلَ اللہِ، قَالَ: فَھَلَّا  جَعَلْتَہٗ  فَوْقَ  الطَّعَامِ حَتّٰی یَرَاہُ النَّاسُ  ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپؐ نے غلّے کے اندر ہاتھ ڈالا۔ اندر کا حصہ گیلا تھا۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: حضور، بارش کی وجہ سے بھیگ گیا تھا۔ آپؐ نے کہا: پھر اسے اُوپر کیوں نہیں رکھا؟‘‘ پھر ارشاد فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا  ’’جو ہم سے دھوکا کرے، وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (صحیح ابن حبان، ابواب البیوع ،حدیث: ۴۹۸۳)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خودتاجر تھے اور تجارت کو باوقار اور معزز پیشہ سمجھتے تھے۔ یہ پیشہ عوام کی سماجی اور معاشی خدمت کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے دورِاوّل ہی سے مسلم معاشر ے میں تاجروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ آپؐ کا ارشاد ہے: التَّاجِرُ الأَمِیْنُ الصَّدُقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّھَدَاءِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ’’سچا اور امانت دار مسلمان تاجر روزِ قیامت شہدا کے ساتھ ہوگا‘‘۔(ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب الحث علی المکاسب، حدیث: ۲۱۳۶)۔یہ فرمانِ نبویؐ تجارت کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرتا رہا اور قیامت تک کرتا رہے گا۔
آپؐ نے یہ بھی فرمایا: تِسْعَۃُ اَعْشَارِ الرِّزْقِ فِیْ التِّجَارَۃِ (المطالب العالیۃ، ابن حجر،کتاب البیوع، باب الزجر عن الغش، حدیث: ۱۴۸۰) ’’انسانوں کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں دس میں سے نواں حصہ تجارت میں ہے‘‘۔
آپؐ نے تاجروں کو نصیحت فرمائی: ’’اے تاجرو! تم آپس میں لین دین کے وقت بہت زیادہ قسمیں کھاتے ہو، اس لیے صدقہ کرو تاکہ تمھاری معافی ہو (سنن نسائی، کتاب البیوع، حدیث:۵۸۵۳)۔ عرب میں تاجروں کے لیے ’سمسار‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، جس کے معنی دلال ہوتے ہیں۔ آپؐ نے ایک دوسرا اور بہتر لفظ’تاجر‘ کا نام انھیں دیا۔
کیسان نامی ایک تاجر شام سے شراب لاتے اور مدینہ میں فروخت کرتے تھے۔ آپؐ نے ان سے فرمایا:’’’اے کیسان! جب تم غیرحاضر تھے تب شراب حرام قرار پاچکی تھی۔ اس کی تجارت مت کرو‘‘۔(مسنداحمد، اوّل، مسندالکوفیین، حدیث کیسان، حدیث: ۱۸۵۹۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مارکیٹ کی نگرانی اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے محتسب مقرر فرمائے، جو اشیاے خریدوفروخت کے علاوہ ناپ تول پر بھی نظر رکھتے تھے۔ ان محتسبوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ مردوں میں حضرت سعید بن العاصؓ امیہ تھے ، عبداللہ بن سعی بن اُمیہؓ اور عمربن خطابؓ اور عورتوں میں سمرہ بنت جندت السعدیہؓ اور شفاءؓ بنت عبداللہ کا نام آتا ہے۔
تاجروں میں جہاں مردوں کا نام آتا ہے وہیں خواتین کا بھی ذکر ہے، مثلاً: اسماء بنت محربہؓ، خولہ بنت صویبؓ، ملیکہ اُم سائبؓ اور قیلہ النماریہؓ۔ اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کے بارے میں معروف ہے کہ وہ مکہ کی ایک کامیاب تاجر خاتون تھیں اور چالیس سال کی عمر میں ان کے پاس ۲۵ہزار دینار تھے۔
اہلِ بادیہ میں زاہر نامی ایک صحابی تھے۔ آپؐ ان سے بہت محبت کرتے تھے، حالاں کہ بظاہر کوئی وجاہت نہیں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہے تھے، اسی موقع پر آپؐ کا ادھرسے گزر ہوا۔ آپؐ نے پیچھے سے ان کی کمر پکڑ لی کہ وہ آپؐ کو نہیں دیکھ پائے تھے۔ زاہر نے کہا:’ کون ہے، چھوڑ دو مجھے‘۔ آپؐ کے چھوڑنے پر انھوں نے آپؐ کو پہچان کر اپنی پشت آپؐ کے سینے سے اور قریب کرلی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس غلام کو کون خریدے گا؟‘ انھوں نے عرض کیا: ’اے اللہ کے رسولؐ! تب تو آپؐ کو میری قیمت بہت ہی کم ملے گی‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’لیکن اللہ کے نزدیک تمھاری حیثیت بہت زیادہ ہے‘ (مسنداحمد، حدیث: ۱۲۴۲۴)۔ آپؐ نے مارکیٹ کو شیطان سے جنگ کا میدان قرار دیا۔ (مسلم، فضائل الصحابہ، حدیث:۱۰۰)

:مدینہ کی مذکورہ مارکیٹ کو مزید اچھی ، پُرکشش اورترقی سے ہم کنار کرنے کے لیے آپؐ نے درج ذیل اُمور پر بھی توجہ فرمائی

  • اس مارکیٹ میں آپؐ نے مختلف حصے بنائے، جہاں اشیاکی فروخت، جانوروں اور کپڑوں کی تجارت کے لیے الگ سے جگہ مقرر کی، تاکہ وہاں پر کوئی گڑبڑ اور ہلڑبازی نہ ہو، بلکہ صفائی اور حفظانِ صحت کا بھی خیال رہے۔
  •    اس مارکیٹ میں داخلے کے لیے تاجروں اور خریداروں کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط بنائے گئے تھے، مثلاً جو اس میں داخل ہو، وہ اپنے اسلحے کو اس طرح رکھے کہ اس سے لوگوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے، اور یہ بھی ہدایت کر دی کہ راستوں میں کوئی نہ بیٹھے۔
  •  تجارتی قافلوں کی آمدورفت کے لیے سڑکوں کا اس طرح انتظام تھا اور اس کی چوڑائی اتنی تھی کہ سامان سے لدے ہوئے دو اُونٹ ایک طرف سے آئیں اور دوسری طرف سے جائیں۔

ناانصافی کے خاتمے کے لیے اقدامات

وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا(البقرہ۲:۲۷۵) اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔
اس فرمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تجارت و کاروبار کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔  یہ وہ مہلت ہے جو قرض دینے والا مقروض کو سود کے عوض قرض ادا کرنے کے لیے دیتا ہے۔ اسے ربا القرآن اور ربا النسیہ کہا جاتا ہے۔دراصل یہ وہ ربا ہے جو قرضوں پر واجب الادا ہے۔ 
لیکن جہاں اسلام نے سود کو حرام اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے، وہاں اس نے تجارت میں ہرچیز کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف اس ناانصافی اور ظلم کو ختم نہیں کرنا چاہتا جو سودی نظام میں ہوتی ہے ، بلکہ وہ تجارت سے بھی نفع کمانے کے تمام ناجائز اور غیرعادلانہ طریقوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ 
تجارت کے دوران خریدوفروخت میں جو فاضل رقم تاجر یا خریدار دھوکے اور بے ایمانی کے ذریعے اپنے مدمقابل سے حاصل کرتا ہے، اس کے خاتمے کے لیے مدینہ کے بازار میں جو اقدامات آپؐ نے اختیار کیے، اس کی کچھ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں:
مدینہ میں اس زمانے کے بہت سے دوسرے علاقوں کی طرح مبادلہ (Barter) کا کاروبار بھی ہوتا تھا، یعنی لوگ ایک چیز دے کر دوسری چیز لے لیا کرتے تھے۔ ابتدائی معیشت میں ہرجگہ بارٹر کا سسٹم مروج تھا اور مدینہ منورہ میں بھی معروف تھا۔ یہود نے اس بارٹر سسٹم کو بھی    اپنی بالادستی اور اپنے معاشی کنٹرول کو مضبوط کرنےکا ایک ذریعہ بنا رکھا تھا۔ چوں کہ زرعی پیداوار پرقبضہ اور کنٹرول عموماً یہود ہی کا تھا۔ صنعت اور تجارت یہود ہی کے ہاتھ میں تھی۔ اس لیے جب فصل کٹنے میں ابھی کافی وقت ہوتا تھا تو لوگوں کو چیز دیتے وقت کہتے تھے کہ: ’’یہ اچھی چیز ہے‘‘ اور جب لوگوں کی پیداوار وصول ہوجاتی تھی اور وہ قرض وصول کرنے آتے تو کہتے کہ تمھاری پیداوار گھٹیا ہے، اس لیے تمھیں زیادہ دینا پڑے گا‘‘۔ وہ اپنی پیداوار کو اعلیٰ اور دوسروں کی پیداوارکو   گھٹیا قرار دیتے تھے، یعنی تقریباً ایک کلو کے بدلے میں تقریباً دو کلو کے قریب لے لیا کرتے تھے۔ یہ بھی استحصال کا ایک طریقہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ’ربا‘ کے احکام کے تحت کاروبار کی بہت سی شکلوں کا ناجائز قرار دیا، تو اسے بھی حرام قرار دیا۔ اس کو ربا الفضل کہا جاتا ہے۔

:ایک مشہور حدیث ہے، جس میں چھے چیزوں کے بارے میں آپؐ نے فرمایا
الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ مِثْلًا بِمِثْلٍ یَدًا بِیَدٍ وَالْفَضْلُ رِبٰو، سونا اور چاندی، جَو ، کھجور، گندم اور نمک کا جب باہمی لین دین کیا جائے تو دست بدست کیا جائے، فوراً دیں اور فوراً لیں اور برابر سرابر کی بنیاد پر لین دین کیا جائے۔ زیادتی ہوگی تو اس کو   ربا سمجھا جائے گا۔
اس حکم نے دو اچھے نتائج پیدا کیے: ایک تو یہ کہ اس کے نتیجے میں بارٹر کے کاروبار میں خودبخود کمی آئی اور زری معیشت، یعنی مانٹیری اکانومی کو فروغ ہوا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ یہود کے استحصال کا ایک بہت بڑا طریقہ ختم ہوگیا۔ وہ جس انداز سے مسلمان تاجروں کو نقصان پہنچا رہے تھے، وہ سلسلہ رُک گیا۔ یہ ’ربا‘ کی وہ قسم ہے جس کو فقہا نے ربا البیع، ربا الفضل، ربا الحدیث کے  نام سے یاد کیا ہے۔ 
بازار کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ بازار میں اوزان اور پیمانے متعین ہوں۔ اگر ہرشخص الگ الگ اپنے اوزان اور پیمانے رکھے گا تو بازار میں سنٹرلائزیشن اور معیار بندی نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانٹیری اکانومی کی حوصلہ افزائی کرکے بازار اور تجارت میں معیار بندی (standardization)کو بہتر اور مقبول قرار دیا۔ معیار بندی کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ پیمانوں اور اوزان کو متعین کیا جائے۔
اس زمانے میں یہ بھی تھا کہ مختلف علاقوں میں مختلف پیمانے اور اَوزان مقرر تھے۔مکہ مکرمہ کا پیمانہ اور تھا اور مدینہ منورہ کا پیمانہ مختلف تھا۔مکّہ کے لوگ چوں کہ تجارت میں نمایاں تھے۔ دُوردراز کی تجارت میں نقد رقم لے کر جایا کرتے تھے، سونا اور چاندی کی صورت میں ان کے پاس بڑی بڑی رقمیں ہوتی تھیں، اس لیے سونے اور چاندی کی پرکھ کا معیار مکہ میںزیادہ اسٹینڈرائزڈ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ: اَلْمِکْیَالُ مِکْیَالُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ،ناپنے کے پیمانے مدینہ کے معیاری مانے جائیں گے،اور والوزن وزن اھل مکۃ اور سونے چاندی کو تولنے یا گننے کے پیمانے اہلِ مکہ کے معیاری مانے جائیں گے(نسائی، کتاب الزکوٰۃ، حدیث: ۲۲۷۱)۔ یعنی سکّوں اور سونے چاندی کا معیار مکہ کے معیار کے مطابق ہوگا اس لیے کہ وہ تجارت کا مرکز ہے۔ زرعی پیمانے مدینہ کے ہوں گے، کیوں کہ وہاں زرعی کاروبار زیادہ تھا۔
مثال کے طور پر مکہ مکرمہ میں چمڑے کی مصنوعات کا بڑا رواج تھا۔ وہاں سے کوئی تاجر اپنا چمڑا فروخت کرنے کے لیے مدینہ آرہا ہوتا اور یہودی ساہوکاروں کو پتا چلتا کہ چمڑا آرہا ہے تو ان کے نمایندے باہر سے آنے والے تاجر سے راستے ہی میں سارا ذخیرہ خرید لیتے تھے اور بازار تک اس کو آنے نہیں دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ یہ تاجر اگر خود بازار آئے تو اُس کو تازہ ترین قیمتوں کا پتا چل جائے گا اور وہ اپنے مال کو بہتر قیمت پر بیچ سکے گا۔ اس سے روکنے کے لیے وہ پہلے ہی جا کر اس کا مال خرید لیتے تھے اور پھر لاکر من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے تھے۔ اس طرح  ان کو ذخیرہ اندوزی کا موقع بھی ملتا تھا اور قیمتوں کے تعین میں بھی اپنی مرضی چلاتے تھے اور اس شخص کو جو اصل مال لے کر آیا ہے ایک معقول قیمت سے محروم کر دیا کرتے تھے۔
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مداخلت کو ناجائز قرار دیا اور اس کی ممانعت فرمائی
نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ عَنْ تَلَقِّیْ الْجَلْبِ ، حَتّٰی یَدْخُلَ بِھَا السُّوْقَ (نسائی، کتاب البیوع، حدیث:۵۹۰۸) یعنی باہر سے آنے والے مال کو بازار میں آنے سے پہلے ہی جاکر اُونے پونے داموں خرید لیا جائے، اسے آپؐ نے ممنوع قرار دیا۔
مدینہ مارکیٹ کی یہ تفصیلات تقاضا کرتی ہیں کہ اہلِ علم حضرات، سیرت النبیؐ کے اس گم نام گوشے پر خصوصی توجہ دیں۔تجارت اور صنعت و حرفت، جو عین سنت ِ نبویؐ ہے ، اس کو اپنا شیوہ بنائیں۔ اس طرح دنیا میں عزت و شرف کا مقام حاصل کریں اور آخرت میں قولِ نبیؐ کے مطابق اچھے اور امانت دار تاجر بن کر انبیا ؑ، شہدا اور صالحین کی رفاقت حاصل کریں۔