مئی ۲۰۱۶

فہرست مضامین

کتاب نما

| مئی ۲۰۱۶ | کتاب نما

صحیفہ، حالی نمبر، مدیر: افضل حق قرشی۔ ناشر: مجلسِ ترقیِ ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔ فون: ۹۹۲۰۰۸۵۶۔ صفحات: ۷۲۳۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

الطاف حسین حالی، قومی اور ملّی درد رکھنے والے بلندپایہ ادیب اور احیاے ملّت کے نقیب تھے۔ ان کی صدسالہ برسی (۲۰۱۴ئ) کی مناسبت سے علمی و ادبی مجلّے صحیفہ نے گذشتہ برس  ’شبلی نمبر‘ شائع کیا تھا (تبصرہ: ترجمان ستمبر ۲۰۱۵ئ) اور اب اس کا ’حالی نمبر‘ سامنے آیا ہے۔

یہ خاص شمارہ اپنے وقیع مقالات اور پیش کش کے بلند معیار کی وجہ سے صدسالہ برسی کی جملہ مطبوعات پر فوقیت رکھتا ہے۔  ابتدا میں مدیر صحیفہ نے بڑی محنت سے حیاتِ حالی کی توقیت، ماہ و سال کے آئینے میں مرتب کی ہے۔ حالی پر ایک صدی میں جتنے تنقیدی، سوانحی اور تجزیاتی مضامین لکھے گئے، اُن کا ایک کڑا انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً ۱۵نئے اور غیرمطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔

مضامین کا انتخاب کرتے وقت حالی کی مختلف حیثیتوں (حالی بطور غزل گو، بطور قصیدہ گو، بطور رباعی گو، بطور نقّاد) پر ایک ایک دو دو یا تین چار مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالی بطور شاعر بھی ہمہ جہت تھے۔ بطور نثرنگار بھی ان کا ایک منفرد مقام ہے۔ ان کی سوانح عمریاں، مقدمہ شعروشاعری، ان کا ناول مجالس النساء اور ان کے مکاتیب یہ سب کچھ ان کے صاف، سادہ اور صریح اسلوب کی نمایندہ کتابیں ہیں۔ بعض مضامین میں دیگر شخصیات کے ساتھ حالی کا تقابل بھی پیش کیا گیا ہے جیسے ’حالی اور سرسیّد‘ (اصغرعباس) یا ’نظیر اور حالی‘(فیض احمد فیض)۔ حالی کی تصنیف یادگار غالب کا شہاب الدین ثاقب نے اور مقدمہ شعروشاعری کا پروفیسر احتشام حسین اور محمد احسن فاروقی نے تجزیہ کیا ہے۔

یہ نمبر حالی کی شخصیت کا ایک ہمہ جہتی مطالعہ ہے جسے متعدد دستاویزات (تصانیف ِ حالی کی اوّلین اشاعتوں کے سرورق، مکتوبِ حالی کے عکس اور حالی کی چند نادر تصویروں) نے اور زیادہ مستند اور لائقِ مطالعہ بنادیا ہے۔ حالی پر قلم اُٹھانے والے اساتذہ، صحیفہ نگاروں یا تحقیق و تنقید کرنے والے طلبہ کے لیے یہ خاص نمبر ایک ناگزیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


ایک عہد کی سرگذشت، ۱۹۴۷ئ-۲۰۱۵ئ، جمیل اطہر قاضی۔ ناشر:بک ہوم بک سٹریٹ، ۴۶-مزنگ روڈ، لاہور۔ صفحات: ۶۱۶۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔

جمیل اطہر قاضی نے ملک کے نام وَر اخبارات میں بطور کالم نگار، سٹاف رپورٹر، سب ایڈیٹر، ایڈیٹر اور بیورو چیف فرائض انجام دیے۔ مجموعی طور پر وہ تمام عمر صحافت کے معیار کو بلند کرنے اور بلند رکھنے کی تگ و دو کرتے رہے۔ وہ ایک نظریاتی پاکستانی ہیں۔ دیباچہ نگار الطاف حسن قریشی لکھتے ہیں: ’’ملّی اور قومی مشاہیر رگِ جاں کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کے عظیم کارناموں، ان کی تابندہ روایات اور ان کے حیات افروز تذکروں سے قومیں حرارت حاصل کرتی ہیں اور عزیمت و استقامت کے چراغ جلائے رکھتی ہیں‘‘۔

مصنف نے اس کتاب میں مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے ۱۰۰ ملّی اور قومی مشاہیر کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ تذکرہ مدیر، صحافی، علما، اساتذہ ، سیاست دان، روحانی شخصیات، کارکن صحافی، احباب، اخبارفروش، بیوروکریٹ اور شعرا جیسے عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کالم نما یہ مضامین بھاری بھرکم اور ثقیل تحقیقی نوعیت کے نہیں ہیں، انھیں خاکے قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم، قاضی صاحب کے خوب صورت اسلوب میں یہ ۱۰۰ شخصیات کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ انھوں نے زیادہ تر انھی شخصیات کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ ان کی ذاتی ملاقات رہی اور انھیں قریب سے دیکھا، یعنی ان کے تاثرات کی بنیاد ذاتی تجربات و مشاہدات ہیں۔

مجموعی طور پر کتاب ایسی شخصیات کے تذکرے پر مشتمل ہے جو علم و ادب اور صحافت پر  قطبی ستارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قاضی صاحب نے ان شخصیات کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے اَحوال بھی لکھے ہیں، اس لیے اس کتاب کو ان کی آپ بیتی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ پاکستان کے ۶۸سالہ عہد کی داستان ہے جو نوجوانوں اور موجودہ دور کے نام نہاد لبرلز، دو قومی نظریے کے مخالف اور اسلام بیزار طبقے کے پڑھنے کی چیز ہے۔(قاسم محمود احمد)


شروحِ کلامِ اقبال، ڈاکٹر اختر النساء ۔ ناشر: بزمِ اقبال ۲۔کلب روڈ ،لاہور۔ فون: ۹۲۰۰۸۵۶۔ صفحات: ۵۶۴، قیمت:۶۵۰روپے۔

علامہ اقبال کی شاعری کی شرح نویسی کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد شروع ہوا۔پروفیسر یوسف سلیم چشتی کلام اقبال کے پہلے معروف شارح تھے۔ ان کے علاوہ مزید شارحین نے بھی شرحیں لکھیں ۔ زیر تبصرہ کتاب کلامِ اقبال کی شرح نویسی کی تاریخ ہے اور اس کا تجزیہ بھی۔ یہ مقالہ پی ایچ ڈی کی سند کے لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی زیرِ نگرانی لکھاگیا تھا۔ کتاب کے ۱۲؍ابواب اقبال کے ایک ایک مجموعۂ کلام کی شرحوں کے جائزے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مصنفہ نے بڑی تفصیل، باریک بینی اور دقتِ نظر سے ۲۰۰۲ء تک کی شروحِ کلام اقبال کا جائزہ لیا ہے۔

کتاب میں ۱۵شارحین اقبال کے کام کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔باب اول شرح کے مفہوم، شرح نگاری کے اسباب ،اس کی اقسام ،عربی فارسی اور اردو میں شرح نویسی اور کلامِ اقبال کی شرح نویسی کے لیے مختص ہے ۔شرح نویسی کی اہمیت کے بارے میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ شرح کے ذریعے کسی متن کی پیچیدگی اور دشواری کو دور کرنے کی سعی کی جاتی ہے ، اور متن کو قابلِ فہم بنایا جاتا ہے، چنانچہ شرح کی ہردور میں ضرورت پیش آتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مجموعی تعلیمی معیار گرجانے اور عربی فارسی سے نابلد ہوجانے کی وجہ سے کلام اقبال کی تفہیم کے لیے شرحوں کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔                                          

مؤلفہ نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ شرح لکھتے وقت کسی شارح کے پیش نظر کیا مقاصد تھے۔ وہ مثال دیتی ہیں کہ غلام رسول مہر کی مطالب بانگِ درا کسی قدر معاشی مجبوری کے زمانے میں لکھی جانے والی فرمایشی شرح ہے (ص۵۵)۔ ان کا خیال ہے کہ ۱۴شارحین نے   کلامِ اقبال کی جو شرحیں لکھی ہیں، وہ سب اپنی اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں۔ تاہم، بعض شرحیں اپنے  مواد ومعیار کے اعتبار سے زیادہ افادیت کی حامل ہیں لیکن بعض اپنے کم تر معیار کی وجہ سے کچھ زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔(ص ۵۳۷)

یہ کتاب اقبالیا تی ذخیرۂ کتب میں ایک اہم اضافہ ہے اور اقبالیات کی منتخب کتابوں میں شمار ہو گی۔ (فیاض احمد ساجد)


میڈیا، اسلام اور ہم، ڈاکٹر سیّد محمد انور۔ ناشر: ایمل پبلی کیشنز، ۱۲-سیکنڈفلور، مجاہد پلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔فون: ۲۸۰۳۰۹۶-۰۵۱۔ صفحات:۱۳۳۔ قیمت: ۴۲۰ روپے۔

پاکستان میں عام لوگوں کے ذہنوں کو مثبت یا منفی طور پر متاثر کرنے اور کسی خاص رُخ پر ڈھالنے میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ میڈیا اسلام اور اس کی تہذیبی اقدار کے خلاف کس کس انداز میں کام کر رہا ہے۔

دورِ رسالتؐ میں اسلام مخالف قوتوں کے انداز بھی ایسے ہی تھے، مثلاً: اسلام کی غلط تشریحات، کھیل تماشوں، میلوں اور نام نہاد تفریحی پروگراموں میں اُلجھانے اور اعتدال پسندی اور برداشت کے نام پر غیراسلامی رویوں کی ترویج وغیرہ ۔موجود میڈیا کے کمالات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔

مصنف نے اسلام کے نظریۂ سماع اور ابلاغ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام دشمن میڈیا کے غلبے کے دور میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔وہ کہتے ہیں: اپنی شناخت پر قائم رہیں، اپنے مخالف کو پہچانیں، کتاب اللہ سے رہنمائی لے کر اپنی حالت کو خود بدلنے کی کوشش کریں، اور سوشل میڈیا کے ذریعے مخالفین سے باوقار طریقے سے مکالمہ کریں۔ (رفیع الدین ہاشمی)


بچوں کے نظیر، پروفیسر ایم نذیراحمد تشنہ۔ ناشر: قریشی برادرز پبلشرز، ۲-اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۲۳۲۲۹۴۔ صفحات:۱۸۴۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

سیّد محمد علی، نظیر اکبر آبادی (۱۷۳۵ئ-۱۸۳۰ئ) کی شاعری اپنے معاصرین (خواجہ میردرد، میرتقی میر وغیرہ) سے یکسر مختلف ہے۔ نظیر، پیشے کے اعتبار سے معلّم تھے۔ مرزا غالب نے ابتدائی دور میں (جب وہ آگرہ میں مقیم تھے) نظیر سے اصلاح لی تھی۔ اپنے دور کے شعرا کے برعکس نظیر کی توجہ غزل کے بجاے نظم پر رہی۔ ان کی شاعری میں اس قدر تنوع ہے کہ ہرشخص کو ان کے ہاں سے اپنی پسند کی نظمیں اور اشعار مل جاتے ہیں۔

مرتب نے ایسی نظمیں جمع کی ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے نظیر، اسلامی ادب کے ایک نمایاں شاعر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے ان نظموں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسولِ اکرمؐ کی محبت، تسلیم و رضا، دنیا کا تماشا اور آخرت جیسے موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے۔ ان کے بعض مصرعے (جیسے: ’’سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا‘‘) دنیا کے فانی ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔انھوں نے زیادہ تر مخمس لکھے ہیں جن میں ردیف کی تکرار سے پیدا ہونے والا آہنگ تاثر کو مزید گہرا کردیتا ہے۔

پروفیسر نذیر احمد تشنہ صاحب نے ۲۸ منتخب نظموں کے مشکل الفاظ کے معانی دیے ہیں اور اشعار کی شرح بھی کی ہے۔ تشریح میں انھوں نے ہرنظم کا اخلاقی پہلو اُجاگر کیا ہے۔ نظیر اکبرآبادی کے مطالعے اور تفہیم کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


تعارف کتب

o نور القرآن حکیم ،(پارہ الم، پارہ عم)، مرتبہ: جنید قرنی۔ ناشر: ادارہ تعلیم القرآن، ۱۹-سی، منصورہ،   ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۳۷۶-۰۴۲۔ صفحات (علی الترتیب):۴۰،۴۶۔ہدیہ: درج نہیں۔[تجوید قرآنی کے اصول مع گرامر، یعنی اسم، فعل، حرف اور اسم ضمیر کا اظہار مختلف رنگوں کی مدد سے۔ لفظی اور آسان رواں ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ فہمِ قرآن اور عربی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے مفید رہنمائی۔ اپنی نوعیت کا منفرد کام۔]

o  اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ ،مرتبین: ڈاکٹر رخسانہ جبین، افشاں نوید، صائمہ اسما۔ناشر: البدرپبلی کیشنز، ۲۳-راحت مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۷۴۵۷۲۹-۰۳۰۰۔ صفحات:۶۴۔ قیمت: ۲۵ روپے۔ [حضرت عائشہ صدیقہؓ کی سیرت اور دینی و علمی خدمات کا اختصار و جامعیت سے تذکرہ اور اُمت کے لیے   مثالی کردار (رول ماڈل)۔ نبی کریم ؐ کی عائلی زندگی اور ایک مثالی بیوی کے اسوہ کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی میں اہلِ ایمان کے رویوں کا جائزہ اور عملی رہنمائی۔ قرآن و حدیث کے علاوہ طب، تاریخ، ادب، خطابت، شاعری اور تعلیم و تدریس کے حوالے سے سیّدہ عائشہؓ کا منفرد کردار، نیز ان کا قائدانہ کردار بھی زیربحث آیا ہے۔]

o دورِ نبوت میں شادی بیاہ کے رسم و رواج اور پاکستانی معاشرہ، گلریز محمود۔ ناشر: الائیڈ بک سنٹر، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۵۴۵۱۔ صفحات: ۳۱۵۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔[پاکستانی معاشرے کی بنیاد اسلامی تہذیب پر ہے مگر برعظیم میں صدیوں تک غیرمسلموں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے، ہمارے ہاں بہت سی غیراسلامی رسومات در آئی ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ان رسوم و رواج کا اسلامی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔ پس منظر کے طور پر دورِ جاہلیت کے نکاح، عربوں کے ہاں شادی بیاہ کی رسوم ، اسلام کی اصلاحات، نکاح، رخصتی وغیرہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ بحیثیت ِ مجموعی کتاب خاصی محنت اور کاوش سے مرتب کی گئی ہے ۔ ]

o  حج و عمرہ ،گھر سے گھر تک ،سیّد عبدالماجد۔ ملنے کا پتا:قرآن آسان تحریک، ۵۰-لوئرمال، نزد ایم اے او کالج، لاہور۔ فون: ۳۷۲۴۲۲۶۵-۰۴۲۔صفحات:۱۵۹۔ قیمت: درج نہیں۔[عازمینِ حج و عمرہ مناسک کے بارے میں پوری طرح باخبر نہیں ہوتے، لہٰذا انھیں عملی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ مذکورہ کتاب میں گھر سے روانگی سے لے کر ادایگی حج و عمرہ اور گھر واپسی تک کے تمام مراحل کے بارے میں قدم بہ قدم رہنمائی دی گئی ہے۔ فضائل حج و عمرہ، آدابِ سفر، اخلاقی اقدار اور عملی مسائل کی نشان دہی بھی کردی گئی ہے۔یہ ایک مفید گائیڈبک ہے۔]