مئی ۲۰۱۶

فہرست مضامین

امریکی استعمار اور اسلامی سربراہی کانفرنس

عبدالغفار عزیز | مئی ۲۰۱۶ | اخبار اُمت

اسے پروٹوکول کا چھوٹا سا مسئلہ قرار دے کر نظر انداز بھی کیاجا سکتا ہے، لیکن ممالک کے مابین تعلقات کا درجۂ حرارت جانچنے کے لیے پروٹوکول کے واقعات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ۲۰؍اپریل کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیجی ریاستوں کے سربراہوں اور امریکی صدر باراک اوباما کی آمد ہوئی۔ یہ سب رہنما ۲۱؍اپریل کو ایک روزہ امریکی خلیجی گول میز کانفرنس میں خطے کی صورت حال پر مشورہ کرنے جمع ہو رہے تھے۔پروٹوکول اور معمول کے مطابق سعودی فرماںروا شاہ سلمان نے تمام خلیجی ذمہ داران کا استقبال خود ائیرپورٹ جا کر کیا،جو سرکاری ٹی وی چینل پر   براہِ راست دکھایا گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اسی ائیرپورٹ پر امریکی صدر پہنچے، لیکن سب کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان کا استقبال کرنے کے لیے نہ شاہ سلمان خود تھے، نہ ان کے ولی عہد اور نہ نائب ولی عہد۔ ان کا استقبال ریاض کے گورنرفیصل بن بندر اور وزیر خارجہ عادل بن جبیر نے کیا۔ ٹی وی پر بھی یہ کارروائی نہ دکھائی گئی۔ امریکی صدر نے بھی جہاز سے اترتے ہی اپنے میزبانوں سے پہلے سعودی عرب میں امریکی سفیر سے قدرے طویل معانقہ کیا اور پھر میزبانوں سے مختصر مصافحہ کرتے ہوئے ، ان کے ہمراہ اپنے ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھ گئے۔ یہی صدراوباماچند ماہ قبل ریاض آئے تھے توخود شاہ سلمان نے ائیرپورٹ پر ان کا خیر مقدم کیا تھا۔

معاملہ ائیرپورٹ پر استقبال اور قومی ٹی وی پر براہِ راست نہ دکھائے جانے ہی کا نہیں، معاملات کئی پہلوؤں سے گھمبیر ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب آمد سے پہلے اہم امریکی رسالے    The Atlantic (اپریل ۲۰۱۶ئ) میں’اوباما ڈاکٹرائن‘ کے عنوان سے امریکی صدر کا بہت طویل انٹرویو شائع ہوا۔۱۹ہزار الفاظ پر مشتمل اس انٹرویو اور تبصرے میں صدر اوباما نے واضح الفاظ میں   سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی مجھے سعودی عرب کے ساتھ اب بھی ایک حلیف کی حیثیت سے برتائو کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بنے بغیر مفت میں مفاد حاصل کرتے رہنا چاہتی ہیں‘‘۔ یہ سوال بھی اٹھایا کہ کہیں امریکا کے حلیف ’سُنّی عرب ممالک‘ امریکا مخالف دہشت گردی کو شہ تو نہیں دے رہے؟ مزید کہا: ’’سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں خطے میں فرقہ وارانہ اختلافات اُبھار رہی ہیں‘‘۔ ’’ہمارا کوئی مفاد اس سے وابستہ نہیں ہے کہ ہم بلا وجہ سعودی عرب کی مدد کرتے رہیں‘‘۔ ’’ایران اور سعودی عرب کی مخاصمت نے شام ، عراق اور یمن میں پراکسی وار کو ہوا دی ہے‘‘۔ ’’ سعودی عرب خطے کے معاملات میں ایران کو ساتھ لے کر چلے‘‘ ۔ امریکی صدر کا یہ جملہ دوبارہ پڑھیں تو یوں ہوگا کہ: ’’سعودی عرب (ہمیں شیطانِ بزرگ قرار دینے والے) کو ساتھ لے کر چلے‘‘۔

انھوں نے شام کے بارے میںبھی تفصیلی بات کرتے ہوئے فخریہ انداز سے کہا کہ:    ’’بشار الاسد کے خاتمے کے لیے امریکی فوجیںشام نہ بھیجنے کا ہمارا فیصلہ درست تھا۔ خطے کے ممالک کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہییں‘‘ یعنی بشار کو باقی رکھتے ہوئے کوئی حل نکالا جائے۔ اس انٹرویو کے علاوہ بھی صدر اوباما نے سعودی عرب پر کڑی تنقید کی ہے مثلاً یہ کہ ’’سعودی عرب صرف تیل ہی نہیں دہشت گردی بھی برآمد کر رہا ہے۔ انڈونیشیا کے لوگ معتدل سوچ رکھنے والے مسلمان تھے، سعودی عرب نے وہاں بھی انتہا پسندی کو فروغ دیا‘‘۔

 اسی دوران میں نائن الیون کی تحقیقات کے لیے قائم کانگریس کمیٹی کی طرف سے   سعودی عرب کے خلاف اقدامات کا عندیہ دینا شروع کردیاگیا۔ امریکی رسائل وجرائد کے مطابق وائٹ ہاؤس میںامریکی قومی سیکورٹی کونسل کے بعض ارکان یہ طعنہ دیتے سنائی دیتے ہیں کہ:  ’’نائن الیون کے واقعات میں ملوث ۱۹؍افراد میں سے ۱۵شہری سعودی تھے، کوئی بھی ایرانی نہیں تھا‘‘۔ کہا جانے لگا کہ ان واقعات میں ملوث سعودی باشندوں نے انفرادی طور پر ہی نہیں، ریاست کے بعض ذمہ داران کے تعاون سے یہ کارروائی کی۔ یہ عندیہ بھی دیا جانے لگا کہ مزید تحقیقات نے اگر یقینی طور پر یہ بات ثابت کردی تو پھر سعودی عرب کو بحیثیت ریاست اس کا ذمہ دارٹھیرایا جائے گا اور اس سے ۳ہزار ہلاک شدگان کا تاوان لیا جائے گا۔ سعودی عرب میں حقوق انسانی، جمہوریت ، عدلیہ اور حقوق نسواں کی لَے بھی بلند کی جانے لگی۔ یہ انکشاف بھی کیا گیاکہ ۱۹۹۵ء میں ریاض میں امریکی کمپاؤنڈ پر حملہ بھی کوئی انفرادی کارروائی نہیں بلکہ اس میںبعض ریاستی ذمہ داران بھی ملوث تھے۔

 اس صحافتی وسفارتی یلغار کے جواب میںسعودی وزیر خارجہ اور امریکا میں سعودی عرب کے سابق سفیر عادل جبیر نے بیان دیا ہے کہ: ’’اگر ہمیں محسوس ہوا کہ امریکی مالیاتی اداروں میں پڑے ہمارے سرمایے کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تو ہم یہ رقم، یعنی (۷۰۰؍ ارب ڈالر) واپس   لے آئیں گے‘‘۔

دوسری طرف ایران نے امریکا ہی نہیں اس پر مؤثر ہر لابی کو مزید بہتر تعلقات کے عملی پیغامات دینا شروع کردیے ہیں ۔ ایٹمی معاہدے کے بعد امریکا کو ۸میٹرک ٹن بھاری پانی کی فروخت کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بقول: ’’ایٹمی معاہدے کے بعد امریکی بنکوں میں منجمد ۵۵؍ارب ڈالر میں سے ۳؍ارب ڈالر اسے واپس مل گئے ہیں‘‘۔ حتیٰ کہ خود اسرائیل کے حوالے سے ایرانی لب ولہجہ تبدیل ہونے لگاہے۔ نیم سرکاری نیوز ایجنسی ـ’مہر‘ کے مطابق صدر روحانی نے ایرانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے نام خط میں تجویز دی ہے کہ دور مار ایرانی میزائلوں پر تحریر ’مرگ بر اسرائیل‘ کی عبارت حذف کردی جائے۔

لیکن ان سابق الذکر چند جھلکیوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہ ہوگا کہ امریکا ایران اختلافات وعداوت ختم ہوگئی ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے بقول امریکا سے ہونے والا معاہدہ ابھی صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے‘‘۔ سی این این ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ: ’’اگر امریکا نے ہمارے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو اسے سخت نادم ہونا پڑے گا‘‘۔ اسی طرح یہ سمجھنا بھی ٹھیک نہیں ہوگا کہ امریکا اور سعودی عرب کے مابین تناؤ کسی فوری اور وسیع تر تنازعے کا پیش خیمہ بن جائے گا۔ البتہ یہ حقیقت ضرور واضح ہے کہ ایران، سعودی عرب اختلافات بھیانک تر ہوگئے ہیںاور عالمی طاقتیں ان اختلافات کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ امریکا، روس اور اسرائیل اس سارے کھیل میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں اور باہم اختلافات کے باوجود تینوں ملک باہم مشاورت وتعاون کے کئی دائرے رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں:’’بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ،سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں‘‘۔

اسی پس منظر میں ۷،۸؍اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں ۱۳ویں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ حاضری کے اعتبار سے یہ ایک کامیاب کانفرنس تھی ۔۲۰سے زائد سربراہان شریک تھے، باقی ممالک کی نمایندگی مختلف افراد نے کی۔ ۵۷ممالک میں سے صرف شام غیر حاضر تھا ۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کی شرکت کا اعلان کیا گیا تھا ،لیکن عین آخری لمحے انھوں نے سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر اپنے وزیر خارجہ کو بھیج دیا۔ شاید یہی ’خطرہ‘ ہو کہ کہیں کوئی مسلم رہنما انھیں بنگلہ دیش میں جاری وحشیانہ انتقامی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ نہ کردے ۔

پروٹوکول کے واقعات نے یہاں بھی کئی پیغامات دیے، مثلاً کانفرنس کا آغاز ہی مصری وزیر خارجہ کی کم ظرفی پر مبنی ایک حرکت سے ہوا۔ تنظیم کا سابق سربراہ ہونے کے ناتے مصر نے رسمی طور پر یہ ذمہ داری ترکی کے سپرد کرنا تھی۔مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے جو مصری غاصب حاکم جنرل سیسی کی غیر حاضری کے باعث مصر کی نمایندگی کر رہے تھے ، افتتاحی سیشن کا آغاز کیا، چند رسمی جملے ادا کیے، جن میں ترکی کے بارے میں کوئی کلمۂ خیر تک نہیں کہا اور پھر تنظیم کے نئے سربراہ اور میزبان ملک کے صدر طیب اردوان کا انتظار کیے بغیر، تیزی سے سٹیج سے اُتر کر اپنی نشست پر جابیٹھے۔

واضح رہے کہ مصر کے منتخب پارلیمنٹ اور منتخب صدر کے خلاف جنرل سیسی کے خونی انقلاب کی سب سے پُرزور مخالفت ترکی ہی نے کی تھی۔ صدر اردوان اب بھی جنرل سیسی کو ملک کا آئینی سربراہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کانفرنس کے دوران تمام شرکا کے گروپ فوٹو کا موقع آیا تو  شاہ سلیمان اور صدر اردوان شرکا کے عین درمیان میں تھے۔ تصویر بننے کے بعد دونوں سربراہ دیگر مہمانوں کے جلو میں سٹیج سے روانہ ہوئے۔ ایرانی صدر روحانی بھی قطار میں کھڑے تھے۔ شاہ سلمان ان کے بالکل قریب اور سامنے سے گزر گئے اورسلام دعا تو کجا، ان سے آنکھیں بھی چار نہ کیں۔ دونوں ملکوں کے شہریوں نے اس منظر پر اپنے اپنے انداز میں کڑے تبصرے کیے۔

 دو روزہ کارروائی ، تقاریر اور جانبی ملاقاتوں کے بعد ۳۴صفحات اور ۲۱۸نکات پر مشتمل اختتامی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ کئی لحاظ سے بہت بہتر اور جامع ہے۔مسئلۂ فلسطین حسب سابق سر فہرست ہے، جس میں بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور ۱۹۴۸ء سے ملک بدر کیے گئے فلسطینی مہاجرین کی واپسی کا ذکر نمایاں ہے۔ اعلامیے کی شق ۲۱سے ۲۶تک میں مسئلہ کشمیر پر ایسا دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے جو بعض اوقات خود پاکستانی حکومت کے بیانات سے بھی غائب ہوجاتا ہے۔ کشمیر کو پاکستان وہندستان کے مابین بنیادی تنازع قرار دیتے ہوئے، اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کی روشنی میں حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیوں کہ اعلامیے کے الفاظ میں’’اس کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن ممکن نہیں‘‘۔ عالمی برادری کو یاد دلایا گیا ہے کہـ’’کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں ۶۸برس سے   عمل درآمد کی منتظر ہیں‘‘۔ ’’حق خود ارادیت کے لیے کشمیری عوام کی وسیع تر جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے دنیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ’’جدو جہد آزادی اور دہشت گردی کو یکساں قرار    نہ دے‘‘۔کشمیر میں ہندوستانی افواج کے مظالم اور حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی ہے کہ جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید اور لاکھوں زخمی ہو چکے ہیں جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ۱۴فروری ۲۰۱۶ء کو پلوامہ میں ۲۲سالہ کشمیری خاتون شائستہ حمید کی شہادت کا ذکر مثال کے طور پر کیا گیا ہے۔ آخر میں اسلامی تعاون تنظیم (جس کا نام پہلے اسلامی کانفرنس تنظیم ہوتا تھا) کے زیر اہتمام ایک دائمی اور آزاد ادارے کے قیام کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جس کی ذمہ داری ’’ہندستان کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں ہونے والے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا ہوگا‘‘ ۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں سے بھی ’مقبوضہ کشمیر ‘ آنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اوآئی سی کے ادارے ایسیسکو کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیر میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال اور نگرانی کرے۔ ساتھ ہی مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری طلبہ کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف کا اہتمام کریں۔ عالم اسلام کے سب سے اہم عالمی پلیٹ فارم سے کشمیر کے بارے میں اس قدر جامع اور مضبوط موقف کا اعلان کیے جانے میں بنیادی کردار یقینا پاکستانی وزارت خارجہ کا ہوگا۔ اس کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ا ن تمام مسلم ممالک کے کردار کی تحسین بھی کرنا ہوگی کہ جن کے واضح تعاون کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ البتہ اب اصل ضرورت عالم اسلام کے اس متفق علیہ موقف کو دنیا کے ہر شہری کے سامنے تسلسل اور مقبوضہ کشمیر سے حاصل کردہ سمعی وبصری شواہد کے ساتھ پیش کرتے رہنے کی ہے۔

اعلامیے میں افغانستان میں مصالحتی کاوشوں کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔’قلب ایشیا‘ کانفرنس کی بھی حمایت وتائید کی گئی ہے اور جنوری ۲۰۱۶ء میں تشکیل پانے والی چار ملکی (افغانستان، چین، پاکستان، امریکا) کوارڈی نیشن کمیٹی کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

اعلامیے کا سب سے نازک حصہ وہ درجن بھر شقیں ہیں، جن میں کہیں براہ راست اور واضح انداز سے اور کہیں بالواسطہ طور پر ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’دہشت گردی کی مدد‘ کرنے سے رُک جانے کا کہا گیا ہے۔ ان شقوں کا آغاز ’’مسلم ممالک اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مابین اچھے تعلقات کی ضرورت اور اہمیت‘‘ سے کیا گیا ہے(شق۳۰)۔ لیکن ساتھ ہی دیگر ممالک کی آزادی ، خودمختاری اور وحدت کے احترام کی یاددہانی بھی کرائی گئی ہے۔ تہران اور مشہد میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔بحرین، یمن، شام اور صومالیہ میں ایران کی مداخلت اور وہاں دہشت گردی کی پشتیبانی جاری رکھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے (شق۳۳)۔ فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کو ہوا دینے سے خبردار کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں اعلامیے کی کئی شقیں ہیں جن میں داعش کی دو ٹوک مذمت کرتے اور اسے    دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کا قلع قمع کرنے کا ذکر ہے۔ اور پھر شق۱۰۵میں ’’شام، بحرین، کویت اور یمن میں حزب اللہ کی دہشت گردی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’خطے میں      عدم استحکام کے لیے دیگر دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا اصل ذمہ دار‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

عالم اسلام اور او آئی سی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایران کے خلاف اس طرح  کھل کر اور شدید تنقید کی گئی ہو۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ کانفرنس میں شریک ۵۶ممالک میں سے صرف ایک ایران ہی تھا جس نے اس اعلامیے پر احتجاج کرتے ہوئے اس سیشن کا بائیکاٹ کیا۔     سابق الذکر چند شقیںتو وہ ہیں جن میں ایران پر براہ راست الزامات اور اس کی مذمت ہے، وگرنہ شام اور صومالیہ سمیت کئی مسائل پر بات کرتے ہوئے بھی روے سخن اسی کی طرف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اعلامیے کے بعض الفاظ ضرورت سے زیادہ سخت ہوں، لیکن برادر اسلامی ملک ایران کو یہ ضرور سوچنا اور اس امر کا مبنی برحقیقت جائزہ لینا ہوگا کہ آخر پوری مسلم دنیا اس کے خلاف یک آواز کیوں ہوگئی۔

اعلامیے میں روہنگیا اراکان، فلپائن ، بوسنیا، کوسوا، اری ٹیریا سمیت امت مسلمہ کے تقریبا ہرمسئلے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جاری مہم اور اسلام فوبیا کا بھی سخت الفاظ میں نوٹس لیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کئی مسلم ممالک میں ہونے والے قتل عام اور  توہینِ انسانیت کی طرف اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ مصر میں ۴۸ہزار سے زائد بے گناہ قیدیوں اور ہزاروں بے گناہ شہدا کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ بنگلہ دیش میں ۸۸ہزار سے زائد بے گناہوں کو    پسِ دیوار زندان دھکیل دینے، ۳۰۰ سے زائد شہریوں کو ماوراے عدالت قتل کر دینے اور بے گناہ سیاسی مخالفین کو پھانسیاں دینے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔گذشتہ ۱۰برس سے جاری حصارِ غزہ کا ذکر بھی گول کردیا گیا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سمیت کئی مسلم ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے فعال عالمی خفیہ ایجنسیوں کا کردار بے نقاب کرتے ہوئے ان کا سدباب کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی ظلم پر آنکھیں نہ موند لی جائیں اور مکمل انصاف اور غیرجانب داری سے کام لیتے ہوئے اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے۔ ۱۷؍اپریل کو اپنی تاریخ میں پہلی بار صہیونی حکومت نے اپنا ہفتہ وار کابینہ اجلاس شام کے مقبوضہ علاقے ’جولان‘ میں کیا۔ اس اجلاس کے ذریعے اس نے اعلان کیا کہ اب دنیا کو جولان پر بھی اس کا قبضہ تسلیم کرلینا چاہیے۔ صہیونی ریاست کو یہ جسارت اسی لیے ہورہی ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت باہم سرپھٹول اور ماردھاڑ کا شکار ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ظالموں کا دفاع کرنے اور ان کے گناہ اپنے سر لینے میں لگاہوا ہے۔ یہی عالم رہا تو خاکم بدہن زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ آج عافیت سے بیٹھے حکمران و عوام بھی دشمن کے بچھائے جال میں جکڑے جاچکے ہوں گے۔

اپنے اللہ پر کاکامل بھروسا رکھنے والے مظلوموں کو البتہ یہ یقین ہے کہ تاریکی کے بعد سحرنو کو بہرصورت طلوع ہونا ہے۔ اسی یقین کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ دنوں عدالت میں لائے جانے والے الاخوان المسلمون کے مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع نے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ بلند کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا: مرسی راجع (منتخب صدر) مرسی واپس آکر رہیں گے!