مئی ۲۰۱۶

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| مئی ۲۰۱۶ | رسائل و مسائل

جنگ ِ جمل میں حضرت عائشہؓ کی شرکت؟

سوال: اکثر لوگ عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے (دین کی خاطر) کے خلاف اس واقعے کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ’’حضرت عائشہؓ نے جنگ ِ جمل میں شرکت کی تھی‘‘۔ درحقیقت یہ سازش کا نتیجہ تھا۔ سازشیوں نے حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کے مابین معاہدہ واپسی و صلح کی سن گن لیتے ہی وہ صورتِ حال پیدا کی، کہ نتیجتاً جنگ میں مسلمانوں کا دونوں اطراف سے کافی نقصان ہوا تھا۔ حضرت عائشہؓ اگر قتلِ عثمانؓ کے  قصاص کا مطالبہ نہ کرتیں اور جنگ کا علَم بلند کرکے گھر سے نہ نکلتیں تو دنیا میں ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی روایت قائم نہ ہوتی، جو اس عزم و ہمت کی پیکر خاتون نے اپنے عمل سے قائم کر دی۔ اس کے باوجود وہ اس اقدام کو یاد کر کے کیوں روتی اور     نادم ہوتی تھیں؟ کیا یہ قدم اُٹھانا اور قصاص کا مطالبہ کرنا غلط فیصلہ تھا؟ حضرت عائشہؓ  جیسی عالمہ و فقیہہ سے کیا یہ اُمید کی جاسکتی تھی کہ وہ ایک ایسا قدم اُٹھا بیٹھیں جس کی ضرورت اس وقت نہیں تھی؟

جواب:بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جو بڑے بڑے علما کو چکرا دیتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت اتنا بڑا حادثہ تھا کہ بقول حضرت عبداللہ بن عمرؓ، اس شہادت پر اُحد پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا تو کم تھا۔ جن باغیوں (خوارج) نے انھیں شہید کیا تھا، وہ بہت منظم اور بہت طاقت ور تھے اور انھیں کسی بھی مقدس جگہ، مقدس وقت اور مقدس شخصیت کی پروا نہ تھی۔ اس لیے کہ ان کا مشن خلافت ِ راشدہ کے نظام کو درہم برہم کرنا تھا۔ اس کے مقابلے میں حضرت عثمانؓ کسی ایسے اقدام سے دُور رہنا چاہتے تھے جس سے مدینہ اور اہلِ مدینہ کی حُرمت پامال ہو اور باغیوں میں سے کوئی فرد قتل ہوجائے۔ اسی طرح حضرت علیؓ اور دوسری ہستیاں بھی کسی قسم کی فوج کشی کے قائل نہ تھیں۔ نتیجتاً باغیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا۔

اس شہادت نے نہ صرف حضرت عائشہؓ، حضرت معاویہؓ بلکہ حضرت علیؓ اور تمام صحابہ کرام ؓکو غم زدہ کر دیا۔ سب کی دلی خواہش تھی کہ حضرت عثمانؓ کا قصاص لیا جائے، لیکن خوارج حضرت علیؓ کی فوج میں شامل ہوگئے اور ابھی تک منظم اور طاقت ور تھے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ  حضرت علیؓ سے خونِ عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے اور حضرت علیؓ بجا طور پر اپنی خلافت کو مضبوط کرکے قصاص لینا چاہتے تھے اور فوری طور پر اس قابل نہ تھے کہ باغیوں سے قصاص لے سکیں۔ دونوں کا اس معاملے میں بنیادی اختلاف نہ تھا بلکہ وقت کے تعین میں اختلاف تھا۔ جہاں تک حضرت عائشہؓ کی پریشانی کا تعلق ہے تو اس کا سبب ان کا تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ مسائل میں حضرت عائشہؓ اور تمام صحابہؓ اور صحابیاتؓ کا مزاج یہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ایک فیصلہ کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر گزرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی خشیت کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ اپنے صحیح اقدام پر بھی پریشان ہوتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ غلبۂ خشیت کی وجہ سے سمجھتی تھیں کہ وہ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ (اَحزاب ۳۳:۳۳)’’اور تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو‘‘ کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں، حالاںکہ انھوں نے اس حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ضرورت اور حاجت کے موقع پر خاتون باہر نکل سکتی ہے اور جنگ میں بھی جاسکتی ہے۔ حضرت عائشہؓ غزوئہ اُحد میں بھی آپؐکے ساتھ تھیں۔ وہ غزوئہ مریسیع جسے غزوئہ بنی المصطلق بھی کہا جاتا ہے، میں بھی آپؐ کے ساتھ تھیں اور رات کو پڑائو کے وقت ہار گم ہوجانے کے سبب لشکر سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ بعد میں صفوان بن المعطلؓ اپنے اُونت پر انھیں سوار کر کے لائے تھے۔ صفوان نے حضرت عائشہؓ سے نہ سلام کیا نہ کلام، بلکہ اُونٹ بٹھایا تو وہ اس پر سوار ہوگئیں اور پھر وہ اپنے اُونٹ کی باگ پکڑے لے کر آئے تھے۔ اس کے سبب عبداللہ بن ابی نے ان پر تہمت لگائی اور بعض مخلص صحابہ کو دھوکے اور چالاکی سے اپنے ساتھ ملالیا۔ اس بہتان کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام سے رد کیا۔ جب آیت  وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بذریعہ وحی یہ حکم بھی نازل ہوا تھا:  قد  اذن لکن ان تخرجین لحاجتکن ’’تمھیں اجازت دی گئی ہے کہ  تم اپنی حاجت اور ضرورت کے لیے باہر نکلو‘‘(بخاری، کتاب التفسیر، سورئہ احزاب، الجزئ۱۹، ص۷۰۷)۔ اس لیے ان کی پریشانی اس سبب سے نہیں تھی کہ ان کا نکلنا جائز نہ تھا بلکہ غلبۂ خشیت کی وجہ سے تھا اور جو کچھ ہوا اس پر ندامت کا اظہار تھا۔

جہاں تک باہمی جنگ اور اختلاف کا تعلق ہے تو وہ ختم ہوگیا تھا لیکن سازشیوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے تو وہ واضح ہے۔ غزوات میں خواتین گئی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دُعا کروا کر آپؐ کی اجازت سے، آپؐ کے دور میں، آپؐ کے ساتھ اور آپؐ  کے وصال کے بعد بھی گئی ہیں، جیساکہ اُم حرام بنت ملحان جو حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں     غزوۃ الروم میں گئیں اور واپسی پر جب شام کے ساحل پر اُترنے کے بعد اپنی اُونٹنی پر سوار ہوئیں تو اُونٹنی نے انھیں گرا دیا اور ان کی گردن ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئیں۔ فقہا نے کہا ہے کہ اس طرح کے اختلافی مسائل اورجنگوں کے بارے میں بلاضرورت بحث نہ کی جائے۔ جن اکابر نے بحث کی ہے انھوں نے احتیاط کے ساتھ بعض مسائل کی تشریح کی خاطر بحث کی ہے، بلاوجہ ایک فریق کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت ان کے پیش نظر نہ تھی۔ جو لوگ صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ پر طعن و تشنیع کے لیے بحث کریں، کسی کی مدح اور کسی کی مذمت کریں، وہ مجرم ہیں۔ ایسے لوگ شرعاً تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں راہِ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!(مولانا عبدالمالک)


بیوی کا الگ رہایش کا مطالبہ

س : میرا ایک بیٹااور دوبیٹیاں ہیں ۔سب کی شادی ہوگئی ہے ۔ میں ملازمت کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتا ہوں ۔ گھر میں میری اہلیہ، بیٹے اوربہو کے ساتھ رہتی ہیں۔ میر ا گھر دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ البتہ گھر میں داخل ہونے کا مرکزی دروازہ ایک ہی ہے۔ مزاجی اختلافات کی وجہ سے میری اہلیہ اوربہو میں ہم آہنگی نہیں ہے ۔ اس بنا پر بہو اور  اس کے میکے والوں کا پُراصرار مطالبہ ہے کہ اسے سسرالی گھر سے دور الگ سے رہایش فراہم کی جائے ۔ وہ ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ الگ سکونت کا مطالبہ لڑکی کا شرعی حق ہے۔

براہِ کرم وـضاحت فرمائیں کہ کیا ایسا گھر، جو والدین اوربیٹے بہوپر مشتمل ہو، غیر اسلامی مشترکہ خاندان کی تعریف میں آتا ہے ؟ اگر ساس بالائی منزل پر رہنے والے بیٹے بہو کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے ، پھر بھی بہو کی جانب سے علیحدہ سکونت کا مطالبہ کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے ؟

ج: نکاح کے بعد لڑکی اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں کوچھوڑ کر نئے گھر میں منتقل ہوتی ہے تو اسے شوہر کے ساتھ ساس سُسر، نندوں اوردیوروں کی شکل میں دوسرے رشتے دار مل جاتے ہیں۔ لڑکی اگر انھیں ماں باپ، بھائی بہن کی حیثیت دے اوروہ لوگ بھی اس کے ساتھ پیار محبت کا معاملہ رکھیں تو گھر میں خوشی ومحبت کی بہار آجاتی ہے۔ تاہم، اگر رشتوں کی پاس داری نہ کی جائے، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائے اوربدگمانیاں پر وان چڑھنے لگیں تو گھر جہنم کدہ بن جاتا ہے۔

دلہن کا حق ہے کہ اسے ایسی رہایش فراہم کی جائے، جس میں اس کی نجی زندگی (پرائیویسی) متاثر نہ ہو۔ اس کی مملوکہ چیزیں اس کی ملکیت میں ہوں اوران میں آزادانہ تصرف کا اسے حق حاصل ہو ۔یہ چیز مشترکہ مکان کا ایک حصہ مخصوص کرکے بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ اس کے لیے شوہر کے آبائی مکان سے دُور الگ سے رہایش فراہم کرنے پر اصرار نہ دلہن کی طرف سے درست ہے، نہ دلہن کے ماں باپ کی طرف سے مناسب ہے۔

ساس سسر کی خدمت قانونی طور پر دلہن کے ذمے نہیں ہے ، لیکن اخلاقی طور پر پسندیدہ ضرور ہے ۔ وہ شوہر کے ماں باپ ہیں۔ وہ ان کی خدمت کرے گی توشوہر کوخوشی ہوگی۔ کیا نیک بیوی اپنے شوہر کوخوش رکھنا نہیں چاہے گی ؟ بہر حال اگر مزاجی اختلاف کی وجہ سے دلہن شوہر کے ماں باپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تواسے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔

آپ نے جوصورت لکھی ہے کہ شوہر کے آبائی مکان کی بالائی منزل علیحدہ بلاک کی حیثیت رکھتی ہے ، صرف باب الداخلہ ایک ہی ہے۔ اس صورت میں اگر دلہن الگ رہنے پر بضد ہے توبالائی منزل اس کے لیے خاص کردینے سے اس کا قانونی حق پورا ہوجاتا ہے ۔ اس کی طرف سے یا اس کے والدین کی طرف سے الگ رہایش فراہم کرنے کا مطالبہ درست نہیں ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اوررشتوں کوپامال کرنے سے متعلق جووعیدیں قرآن و حد یث میں آئی ہیں انھیں پیش نظر رکھنا چاہیے۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


شادی میں تاخیر

س: میرے لڑکے کی عمر۲۵ سال ہے ۔ میں اب اس کا نکاح کردینا چاہتا ہوں ۔ لیکن اس کا اصرار ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل ہوجانے اور کہیں ملازمت حاصل کرلینے کے بعد ہی نکاح کروںگا۔ میر ا اندازہ ہے کہ ابھی اس کے برسرِ روز گار ہونے میں کم از کم   چار پانچ سال اورلگ جائیں گے۔ اس بنا پر میں اُلجھن کاشکار ہوں۔ براہِ کرم میری  راہ نمائی فرمائیں ۔ میری سوچ درست ہے یا میرے لڑکے کی بات میں وزن ہے؟

ج: اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لڑکی یا لڑکے کی بلوغت کے بعد ان کے نکاح میں زیادہ تاخیر   نہ کی جائے ۔ ہر انسان میں جنسی جذبہ ودیعت کیا گیا ہے ۔ اسلام نہ اس کوکچلنے اوردبانے کا قائل ہے نہ اس کی تسکین کے لیے کھلی چھوٹ دینے کا روادار ہے ،بلکہ وہ اس کو نکاح کے ذریعے پابند کرنا چاہتا ہے ۔ جنسی جذبہ اتنا طاقت و ر ہوتا ہے کہ اگر انسان کواس کی تسکین کے جائز ذرائع میسر نہ ہوں توناجائز ذرائع اختیار کرنے میں اسے کوئی باک نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر بچوں کا نکاح وقت پر نہ کیا جائے توان کے فتنے میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ برابر قائم رہتاہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جب تمھارے پاس کسی ایسے شخص کی جانب سے نکاح کا پیغام آئے جس کی دین داری اوراخلاق پر تم کواطمینان ہوتو اس سے نکاح کردو ۔ اگر ایسا نہیں کروگے توروے زمین میں فتنہ اوربڑے پیمانے پر فساد برپا ہوجائے گا ۔(ترمذی، ابن ماجہ)


یعنی کوئی ایسا شخص جودین داری اوراخلاق کے معاملے میں قابل قبول ہو، اگر اس کے پیغامِ نکاح کوتم قبول نہ کروگے اورحسب ونسب، حسن وجمال اورمال ودولت کی رغبت رکھوگے تو بڑے پیمانے پر فساد برپا ہوجائے گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے بہت سی لڑکیاں بغیر شوہر وں کے اوربہت سے لڑکے بغیر بیویو ں کے زندگی گزاریں گے ،زنا عام ہوجائے گا، سرپرستوں کی عزت ووقار پر دھبہ لگ جائے گا، ہرطرف فتنہ وفساد پھیل جائے گا۔ نسب پامال ہوگا اور صلاح وتقویٰ اور    عفت وعصمت میں کمی آجائے گی ۔

اس حدیث کا خطاب بہ ظاہر لڑکیوں کے سرپرستوں سے ہے ، لیکن حقیقت میں اس کے مخاطب لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے سرپرست ہیں ۔ نہ لڑکی کا سرپرست اس وجہ سے اس کے رشتے میں تاخیر کرے کہ جب صاحب ِ حیثیت ، مال دار اوربرسرِ روزگار لڑکا ملے گا تبھی رشتہ کریں گے ، چاہے کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوجائے،اور نہ لڑکے کا سرپرست اس وقت تک اس کا نکاح ٹالتا رہے جب تک اسے کوئی اچھی اوراونچی ملازمت نہ مل جائے۔

تاہم، اس معاملے میں دوسرا پہلو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ بیوی کے نان نفقہ کی ذمے داری اصلاً شوہر پر ہے ۔مروّج مشترکہ خاندانی نظام شرعی طور پر پسندیدہ نہیں ہے ۔ اس لیے لڑکے کی شادی سے قبل بہتر ہے کہ وہ اتنا کچھ کمانے لگے کہ اپنی بیوی کے ضروری مصارف برداشت کرسکے ۔ عموماً والد ین جذبات سے مغلوب ہوکر اپنے لڑکوں کی جلد از جلد شادی کردینا چاہتے ہیں ، لیکن اس پہلو کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی ۔ چنانچہ بعد میں وہ مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے میں دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ کیا جائے۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


تحدیدِ نسل کی حرمت پر بعض اشکالات

س : قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قتل اولاد سے منع فرمایا ہے (انعام۶:۱۵۱)۔اس آیت سے یہ بات تو واضح ہے کہ زندہ اولاد کا قتل حرام ہے ، جیسے عرب عہد جاہلیت میں لڑکیوں کوزندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ آج اسقاطِ حمل کے طریقے کو بھی اس آیت کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے۔ تاہم، جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کا آپریشن کراکے توالد وتناسل بند کردینا بھی حرام ہے تویہ بات سمجھ سے بالا تر ہوجاتی ہے ۔ اس لیے کہ اس آیت میں اس فعل کے حرام ہونے کی گنجایش کہاں سے نکلتی ہے ؟

عزل کی متبادل صورتیں ، جوآج کل رائج ہیں اور جن سے دو بچوں کے درمیان وقفہ رکھا جاتا ہے ، اہلِ علم ان میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے اوراسے مطلقاً جائز مانتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص ان صورتوں کواختیار کرکے اس وقفے کوکتنی مدت تک دراز کرسکتا ہے ، حتیٰ کہ اپنی بیوی کی موت تک ، توپھر اس کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپریشن کرواکے عورت کو ما ں بننے کے قابل ہی نہ رہنے دیا جائے۔ قتل اولاد کی ممانعت کا اطلاق حاملہ عورت کے جنین پر توہوسکتا ہے ، لیکن اس نطفے پر کیسے ہوسکتا ہے جس سے ابھی حمل کا استقرار ہی نہیں ہوا ہے ۔ وجود کے بغیر قتل اولاد کا اطلاق کیسے ممکن ہے؟

دوسری دلیل اس سلسلے میں یہ بیان کی جاتی ہے کہ قرآ ن نے اللہ تعالیٰ کی ساخت میں تبدیلی کرنے کے فعل کوشیطان کا فعل قرار دیا ہے (النسائ۴:۱۱۹)۔مولانا مودودی نے اس آیت کی تشریح میں اس فعل کوحرام قرار دیا ہے ۔ (تفہیم القرآن ، جلد اول ، سورہ نساء ، حاشیہ:۱۴۸)۔ اس سے اگر انسان کے کسی عضو کی تبدیلی یا معطلی کومراد لیا جائے توپھر اس زمرے میں توبہت سے کام آجائیں گے ، مثلاً مصنوعی آنکھ لگوانا ، ایک شخص کا گردہ یا آنکھ کا عطیہ کرنا، ہاتھ یا پیر کاٹنا وغیرہ، لیکن ان کی حرمت کا کوئی بھی قابلِ ذکر فقیہ قائل نہیں ہے۔ جب انھیں گوارا کرلیا گیا(بہ ضرور ت ہی سہی ) تو پیدایشِ اولاد کو مستقل روکنے کو کیوں نہیں گوارا کیا جاسکتا؟

میں کثرتِ اولاد کا مخالف نہیں ہوں ، لیکن مسلم معاشرے میں کثرتِ اولاد سے بہت زیادہ پیچیدگیا ں پیدا ہورہی ہیں۔جس کا اثر نہ صرف خواتین کی صحت پر ، بلکہ بچوں کی صحت پر بھی پڑتا ہے ، معاشی مسائل جو پیدا ہوتے ہیں ،و ہ الگ ہیں۔ اس مسئلے کوصرف یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اللہ رازق ہے ۔ توکل علی اللہ کی یہ عجیب و غریب مثال دیکھنے میں آتی ہے کہ آمدنی کوبڑھانے کے لیے توکوئی جدوجہد نہیں کی جاتی، بس اتنا کہہ کر خود کو متوکل باور کرلیاجاتا ہے ۔ اولاد کی تعلیم وتربیت سے مجرمانہ غفلت اس پر مستزاد ہے ۔ پھر جیسے ہی ان کی عمر ۱۰، ۱۲ برس کی ہوجاتی ہے انھیں محنت مزدوری کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہوسکتا ہے ، بڑے شہروں میں نہ ہو ، لیکن دیہات اورچھوٹے شہروں کی پس ماندہ بستیوں میں عام ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ یا تو مانع حمل ذرائع استعمال کرکے توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے ، یا پھر حرمت سے واقفیت کے علی الرغم عورتوں کا آپریشن کرواکے اولاد کا سلسلہ بند کردیتا ہے ۔

موجودہ دور کا یہ ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے ۔ آں جناب سے امید ہے کہ جواب دینے کی زحمت گوارا فرمائیں گے۔

ج : عہدِ جاہلیت میں لوگ فقر وفاقہ کے ڈر سے اپنی اولاد کوقتل کردیتے تھے ۔ خاص طور سے وہ لڑکیوں کوبوجھ سمجھتے تھے ۔ اس لیے بـعـض قبائل میں یہ رسم جاری تھی کہ ان کی پیدایش کے بعد وہ انھیں زندہ در گور کردیتے تھے ۔ قرآن نے اس مذموم فعل کی شناعت بیان کی اوراس سے سختی سے روکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْـیَۃَ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُمْ ط اِنَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًاo  (بنی اسرائیل۱۷:۳۱) اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تخلیق کا ایک نظام جاری وساری کیا ہے ۔ اسی طرح انسان ہو یاکائنات کی دیگر مخلوقات میں سے کوئی مخلوق، دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اسے جس رزق کی ـضرورت ہو تی ہے اس کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے :

 وَمَا مِنْ دَآ بَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا  (ھود۱۱:۶) زمین میں چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔

کوئی شخص تخلیق او ر رزق کے معاملات کواپنے قبضے میں کرنا چاہے ، چنانچہ کسی بچے کے پیدا ہونے کے بعد اسے زندہ رہنے کا حق نہ دے اوراسے قتل کردے ، یا رحم مادر میں کسی جنین کو پرورش پاتا ہوا جان کر اس کا اسقاط کروادے ، یا ایسی کوئی تدبیر اختیار کرے جس سے توالد وتناسل کا سلسلہ ہی یک لخت موقوف ہوجائے ، تینوں صورتوں میں حقیقت اورانجام کار کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے اسلامی شریعت میں جہاں قتلِ اولاد اوراسقاطِ جنین حرام ہیں ، وہیں دائمی طور پر توالد وتناسل کوموقوف کرنے کی تدابیر اختیار کرنے کوبھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنے پر قتل اولاد کا اطلاق نہیں ہوسکتا ، اس لیے کہ کسی کواس کے وجود کے بغیر کیسے قتل کیا جاسکتا ہے ، لیکن اسے اس عمل کی عدم حرمت کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔

عہدِ نبویؐ میں بچہ پیدا نہ ہونے دینے کی دو صورتیں رائج تھیں: ایک خصی کروالینا ، دوسرے عزل کرنا ۔ اول الذکر کے نتیجے میں قوتِ مردمی ختم ہوجاتی تھی اور آیندہ استقرار حمل کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی تھی ۔ حدیث میں ہے کہ بعض صحابہؓ پر راہبانہ تصور کا غلبہ ہوا اورانھوں نے اللہ کے رسولؐ سے خصی کروا لینے کی اجازت مانگی توآپؐ نے سختی سے ایسا کرنے سے منع کیا اور ان کے سامنے اپنا اسوہ پیش کیا (بخاری:۲۲۲۹، مسلم:۱۴۳۸)۔عز ل کا مقصود بھی یہی تھا کہ    استقرارِ حمل نہ ہوسکے۔ اس کے بارے میں اللہ کے رسولؐ کے مختلف ارشادات ملتے ہیں ۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اسے نا پسند کیا ہے اوراسے الوأد الخفی (زندہ در گور کرنے جیسی، لیکن اس کے مقابلے میں ہلکی صورت )قراردیا ہے (مسلم:۱۴۴۲)۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ جس بچے کی پیدایش اللہ تعالیٰ نے مقدر کررکھی ہو ، اس تدبیر کے ذریعے اسے روکا نہیں جاسکتا (بخاری: ۲۲۲۹، مسلم:۱۴۳۸)۔ لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نا پسند کرنے کے باوجود آپؐ نے اس کی اجازت دی ہے (بخاری:۲۵۴۲، مسلم:۱۴۳۸)۔ اس تفصیل سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مردیا عورت کا آپریشن کرواکے توالد کاسلسلہ بالکلیہ موقوف کردینا جائز نہیں ، البتہ عارضی اور وقتی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے سورۂ نساء کی آیت  فَلَیُغَـیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط(یعنی شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ خدائی ساخت میں رد و بدل کریں گے)کی تشریح میں ضبط ولادت کو بھی شامل کیا ہے ۔  سوال میں مولانا کا حوالہ دیا گیا ہے ، لیکن ان کی پوری بات نقل نہیں کی گئی ہے اوران کی بحث کوصرف انسان کے کسی عضو کی تبدیلی یا معطلی تک محدود کردیا گیا ہے۔ مولانا کی پوری عبارت سامنے ہو توغلط فہمی نہیںہوگی ۔ انھوں نے لکھا ہے:

در اصل اس جگہ جس ردّ وبدل کوشیطانی فعل قرار دیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لیے خدانے اسے پیدا نہیں کیا ہے اورکسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا ہے ۔ بہ الفاظ دیگر، وہ تمام افعال جوانسان اپنی اور اشیا کی فطرت کے خلاف کرتا ہے اوروہ تمام صورتیں جووہ منشاے فطرت سے گریز کے لیے اختیار کرتا ہے ، اس آیت کی رو سے شیطان کی گم راہ کن تحریکات کا نتیجہ ہیں۔(تفہیم القرآن ، اول ، ص ۳۹۹)

اس ضمن میں مولانا مودودی نے بہ طور مثال عمل قوم لوط ، ضبطِ ولادت، رہبانیت ، برہم چرج، مردوں اور عورتوں کوبانجھ بنانا، مردوں کوخواجہ سرا بنانا وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے ۔

سوال کے آخر میں مسلم معاشرے میں کثرتِ اولاد کے جومسائل اور پیچیدگیاں بیان کی گئی ہیں، وہ حقیقت ہیں ۔ انھیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ مسلمانوں کو تعلیم ، صحت اور معاش کے میدان میں اوپر اٹھانے اور ترقی دینے کی ہر تدبیر اورکوشش قابل قدر اور لائق ستایش ہے ، لیکن  اس کا حل یہ ہرگز نہیںکہ مسلمانوں کوکم سے کم بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ کچھ عشروں قبل جن ملکوں میں خاندانی منصوبہ بندی کوریاستی پالیسی بنایاگیاتھا اوراپنے شہریوں کوایک بچہ یا دو بچے پیدا کرنے کا پابند کیا گیاتھا، بالآخر ان کو معاشرتی مسائل کے پیش نظر اپنی غلطی کا احساس ہوا اوروہ قانون تبدیل کرکے شہریوں کوزیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے پر مجبور ہوئے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ منع حمل کی تدابیر اختیار کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے ۔ کوئی عورت کسی مرض کی وجہ سے استقرار حمل کی متحمل نہیں ہے، یا اس کی صحت اس کی اجازت نہ دیتی ہو،یا اور کوئی معقول اورناگزیر سبب ہو تومنع حمل کی تدابیر اختیار کرنے کی اسلام نے اجازت دی ہے۔ تاہم، اس چیزکوعام حالات میں جائز قرار دیا جاسکتا ہے نہ اسے ریاستی پالیسی بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)