مئی ۲۰۱۶

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| مئی ۲۰۱۶ | مدیر کے نام

ڈاکٹر فضل عظیم ، بونیر

’ایم کیو ایم: سیاسی و معاشی دہشت گردی اور بھارتی کردار‘ (اپریل ۲۰۱۶ئ) ، پروفیسر خورشیداحمد کا تجزیہ ہلا دینے والا ہے۔ خصوصاً یہ اقتباس: اس گروہ (ایم کیو ایم) کو قائم کرنے اور لسانی بنیادوں پر کراچی کی تقسیم اور تصادم کے ذریعے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کا آغاز خود جنرل ضیاء الحق اور اُن کے قابلِ اعتماد افسروں کے ہاتھوں ہوا۔ سینیٹ کی ’سندھ کے حالات پر کمیٹی‘ جس کے صدر سینیٹر احمد میاں سومرو تھے اور جس کا میں خود ممبر تھا، کمیٹی کے سامنے پولیس کے دو اعلیٰ افسروں نے اپنے بیان میں ضیاء الحق اور اُن کے بعد فوجی قیادت کے اس کردار کا اعتراف کیا تھا (ص ۱۹)۔ معلوم نہیں یہ لوگ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟‘‘ڈاکٹر نجیب الحق نے وراثت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کی حقانیت اور قانونِ وراثت کی برتری کو بخوبی اُجاگر کیا ہے۔


حافظ افتخار احمد خاور، لاہور

انصار عباسی کا ’’یہ ’ن‘ لیگ کا لبرل ازم‘‘ (اپریل ۲۰۱۶ئ) اور اس سے پہلے مرزا محمد الیاس کا ’لبرل ازم کیا ہے اور کیا نہیں؟‘‘ (مارچ ۲۰۱۶ئ) سے لبرل ازم کے مفہوم کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ یہ بات تو طے ہے کہ اسلام کو درپیش ’فکری محاذ‘ پر مقابلہ مغرب سے ہے۔ لبرل ازم اور جتنے بھی ’ازم‘ ہیں ان کا مقصد، اسلام کو دورِحاضر میں ایک ناقابلِ عمل نظام کے طور پر پیش کرنا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ’عالمِ کفر‘ سے زیادہ ہمارے اپنے ہی حکمران اسلام کے مدّمقابل کھڑے ہوگئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مغربی تہذیب کو سمجھیں اور مقابلے کے لیے بھی تیاری کریں۔


ڈاکٹر عبدالرشید ارشد ،  لاہور

مضمون ’نظامِ تعلیم کی نظریاتی تشکیل‘ (اپریل ۲۰۱۶ئ) میں ژولیدہ فکری پائی جاتی ہے۔ تعلیم کا بنیادی اور    اصل کام ذہن سازی ہے۔ یہی بنیادی ذہن سازی کا کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا۔ اسی کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر ہوتی گئی۔


پروفیسر عبدالحق،  اسلام آباد

’آخرت کا عقلی ثبوت‘ (اپریل ۲۰۱۶ئ) میں سورئہ ذاریات کی آیت ۴۷ میں بِاَیْدٍ لکھا گیا ہے، حالانکہ قرآن کے ہرنسخے میں بِاَیْیدٍ لکھا جاتا ہے، یعنی اس میں ’ی‘ کا ایک کنگرا زائد ہے۔

  •  دونوں طرح لکھنے سے لفظ کا مفہوم ایک ہی رہتا ہے، لہٰذا ایسا لکھنا غلط نہیں ،البتہ سورئہ ذاریات میں استثنا ہے۔ بلاشبہہ یہ اعجازِقرآن ہے اور حفاظت ِ قرآن کی دلیل بھی۔(مولانا عبدالمالک)

     

عبدالرؤف ،بہاول نگر

ترجمان میں بلندپایہ اور علمی معیار کے مضامین دیکھنے سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ جناب سلیم احمد کا مضمون ’نظامِ تعلیم کی نظریاتی تشکیل‘ (اپریل ۲۰۱۶ئ) تعلیمی تناظرمیں بہت اہم ہے۔ اسی طرح سعادت اللہ حسینی کا مضمون ’تحریکی لٹریچر اور درپیش علمی معرکہ‘ (مارچ ۲۰۱۶ئ) اس قابل ہے کہ تمام علمی اور تحقیقی ادارے اس پہلو پر توجہ فرمائیں اور قرار واقعی اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں۔


تحسین کوثر ، گجرات

’کرپشن کے خلاف جہاد، وقت کا تقاضا‘ (مارچ ۲۰۱۶ئ) میں پروفیسر خورشیداحمد نے نہایت عمدگی سے ماضی و حال کے آئینے میں کرپشن کے خلاف جہاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ مملکت ِخداداد ہر آن تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ لہٰذا اس بگاڑ کو روکنے کے لیے ہرسطح پر جدوجہد ناگزیر ہے۔


محمد سعید یوسف ،  میرپور خاص

اسلامی معاشرت کے حوالے سے ’راستے اور راہی کے حقوق‘ (مارچ ۲۰۱۶ئ) ایک عام فہم مضمون ہے اور درپیش مسائل کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔


عبداللطیف اثری ،مئوناتھ بھجن،بھارت

جناب احمد ابوسعید نے مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآن کو ’ترجمان القرآن الکریم‘ کے نام سے مرتب کیا ہے، جس کی مناسبت سے پہلے تو دسمبر ۲۰۱۵ء میں اور پھر (ان کی کتب پر مشتمل اشتہارکی اشاعت) مارچ ۲۰۱۶ء پر جناب رفیع الدین ہاشمی نے سخت گرفت فرمائی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ احمدابوسعید نے دیباچے میں یہ بات بیان کردی ہے کہ وہ لفظ ’خدا‘ کی جگہ ’اللہ‘ کا لفظ لکھ رہے ہیں (اور اسی طرح ’خداترسی‘ کے بجاے ’تقویٰ‘)۔    اس بات سے کوئی اختلاف تو کرسکتا ہے، مگر ان کی نیت کو نشانہ بنانے کا تو کوئی جواز نہیں ہے۔

’’ہم نے آج تراویح میں کیا پڑھا؟‘‘ اُردو اور سندھی زبان میں تراویح کے دوران روزانہ پڑھے جانے والے قرآنِ کریم کے حصے کا خلاصہ مع بنیادی مسائل و دیگر معلومات اور ’’قرآنی و مسنون دعائیں‘‘ عام ڈاک کے لیے کم از کم ۱۵ روپے اور ارجنٹ میل سروس کے لیے ۶۰ روپے کے ڈاک ٹکٹ   بنام ڈاکٹرممتاز عمر، T-473 ، کورنگی نمبر۲، کراچی ۷۴۹۰۰ کے پتے پر روانہ کرکے کتابچے حاصل کرسکتے ہیں۔