مئی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

بعض قرآنی آیات پر اعتراضات کی حقیقت

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی | مئی ۲۰۲۱ | فہم قرآن

قرآن کریم پر اعتراضات کا سلسلہ اس کے زمانۂ نزول ہی سے شروع ہوگیا تھا ۔  مشرکینِ مکہ نے، جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے، اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے۔ کبھی اسے گھڑی ہوئی کہانیاں(اساطیر) قرار دیا تو کبھی شعر، کہانت یا جادو کہا۔ اور پھر ہجرتِ مدینہ کے بعد یہود کی جانب سے بھی برملا، قرآن پر مختلف اعتراضات کیے جانے لگے۔ قرآن نے ان تمام اعتراضات کا مدلّل جواب دیا۔ بعد کے زمانوں میں بھی قرآن پر اعتراضات و الزامات کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ مراد یہ کہ ہردور میں دشمنانِ اسلام نے قرآن کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں خصوصیت سے مستشرقین (Orientalists) پیش پیش رہے ہیں اگرچہ انھوں نے قرآنیات کے میدان میں اہم تحقیقی اُمور انجام دیے، لیکن ان کے پس پردہ ، اسلام دشمنی کارفرما رہی ہے۔ انھوں نے قرآن کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کرنے اور اس کی جانب بے بنیاد باتیں منسوب کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔

 مثال کے طور پرچند برس قبل ہندو انتہاپسند تنظیم ’اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا‘ نے ’دیش میں دنگے کیوں ہوتے ہیں؟‘ کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا، جس میں قرآن کی ۲۴ آیتوں کے اجزا نقل کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی: ’قرآن، مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے جھگڑا کرنے کا حکم دیتا ہے‘۔ اور کہا گیا تھا:’ جب تک ان آیات کو قرآن سے نکالا نہیں جاتا یہاں کے جھگڑوں کو نہیں روکا جاسکتا‘۔ انھی الزامات کے تحت کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور قرآن پر پابندی عائد کروانے کی کوشش کی گئی تھی، مگر فاضل ججوں نے موقف سننے کے بعد مقدمہ خارج کردیا تھا۔افسوس کہ اب یہی بات ایک ایسے شخص کی جانب سے کہی گئی ہے جس کا نام مسلمانوں جیسا ہے۔اس نے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے کہ’’ ان آیات کو قرآن مجید سے خارج کردیا جائے‘‘۔

آیندہ سطور میں مذکورہ بالا اعتراضات کا تذکرہ کرکے ان کا جائزہ پیش کیا جائے گا:

۱- لفظ ’کافر‘ کا مفہوم

ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ’’قرآن نے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے لفظ ’کافر‘ استعمال کیا ہے۔ ان میں ’ہندو‘ بھی شامل ہیں۔ اس لفظ میں نفرت اور حقارت کا مفہوم شامل ہے۔ کافروں کے بارے میں قرآن میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان سے دنیا میں جس طرح کا معاملہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے او رمرنے کے بعد دوسری دنیا میں ان کے ساتھ جیسا معاملہ کیے جانے کی خبر دی گئی ہے، انھیں پڑھ کر مسلمانوں کے دلوں میں ان سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ان سے دُور رہنے اور ہر طرح کا تعلق منقطع رکھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے‘‘۔

 سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لفظ ’کافر‘ کا یہی مفہوم ہے؟عربی زبان میں لفظ’ کفر‘ کے اصل معنٰی چھپانے اور ڈھانکنے کے ہیں۔ عربوں کے کلام میں اس مادہ سے جتنے الفاظ آئے ہیں، سب میں یہ معانی کسی نہ کسی شکل میں ضرور پائے جاتے ہیں۔ ماہر لغت ابن درید الازدی نے لکھا ہے:

وَأَصْلُ الْکُفْرِ التَّغْطِیَۃُ  عَلَی الشَّيْءِ (جمہرۃ اللغۃ، ج۱،ص ۴۳۵)کفر کی اصل ہے کسی چیز کو ڈھانک لینا۔

اسی لیے اہلِ عرب لفظ ’کافر‘ کا اطلاق ہر اس چیز پر کرتے ہیں، جو کسی چیز کو ڈھانپ لے۔  مثال کے طور پر ان کے کلام میں درج ذیل چیزوں کے لیے اس لفظ کا استعمال ملتا ہے:

  • ’رات‘ کہ وہ اپنی تاریکی سے تمام چیزوں کو ڈھانپ کر نگاہوں سے پوشیدہ کردیتی ہے۔
  • سمندر: کہ وہ بڑی سے بڑی چیز کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے۔
  • بڑی وادی: کہ اس میں پہنچ کر لوگ دوسروں کی نگاہوں سے چھپ جاتے ہیں۔
  • دریا: کہ وہ اپنے اندر چھوٹی بڑی چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔
  • گہرا بادل: کہ وہ ستاروں، چاند اور سورج کو چھپا لیتا ہے۔
  • کسان: کہ وہ زمین میں بیج ڈال کر اسے چھپا دیتا ہے۔
  • زرَہ: کہ وہ فوجی کے جسم کو چھپا لیتی ہے۔
  • دُور دراز کا علاقہ جہاں کسی کا گزر نہ ہو: کہ وہاں رہنے والے عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔(القاموس ،فیروز آبادی)

اسی طرح عربی زبان میں ’کفر‘ ناشکری کے معانی میں بھی آتا ہے۔ اس میں بھی اس کے اصلی معانی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی کی ناشکری کرتا ہے، وہ گویا اپنے محسن کے احسان کو چھپا دیتا ہے اور اس پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ جمہرۃ اللغۃ میں ہے:

وَکَفَرَ فُلَانٌ النِّعْمَۃَ اِذَا لَمْ یَشْکُرْہَا (جمہرۃ اللغۃ، ابن درید، ج۱،ص ۴۳۵) (فلاں نے نعمت کا کفر کیا، یعنی اس پر شکریہ ادا نہیں کیا)

البتہ عربی زبان میں لفظ ’کفر‘ کا غالب استعمال، اسلام وایمان کے بالمقابل ایک اصطلاح کے طور پر ہوتا ہے۔ ماہرینِ لغت میں ازدی نے لکھا ہے: اَلْکُفْرُ ضِدُّ الْاِسْلَامِ (کفر اسلام کی ضد ہے ) ۔ جوہری اور فیروزآبادی کہتے ہیں: اَلْکُفْرُ ضِدُّ  الْاِیْمَانَ(کفر ایمان کی ضد ہے)۔

قرآن کریم میں لفظ ’کفر‘ کااستعمال مختلف لغوی معانی کے لیے بھی ہوا ہے، اورایمان کے بالمقابل اصطلاح کے طور پر بھی۔ ایک مقام پر وہ اصل لغوی معانی ’چھپانے‘ میں آیا ہے۔ دنیاوی زندگی کو لہو و لعب قرار دیتے ہوئے اس کی یہ مثال بیان کی گئی ہے:

کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْـجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ(الحدید۵۷:۲۰)اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔

اس آیت میں کسانوں کے لیے لفظ ’کفّار‘ لایا گیا ہے۔ کسان کو ’کافر‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھیتی کے دوران بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔بعض مقامات پر اس کا استعمال شکر کے بالمقابل ناشکری کے معنوں میں ہوا ہے:

فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ۝۱۵۲ۧ (البقرہ ۲:۱۵۲) لہٰذا، تم مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو۔

اِنَّـا ہَدَيْنٰہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا۝۳ (الدھر۷۶:۳)ہم نے اسے راستہ دکھادیا، اب خواہ وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

اور چوں کہ ناشکری نعمت کے انکار کو مستلزم ہے،اس لیے بعض مقامات پر یہ انکار اور برأت کے معانی میں آیاہے:

اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا۝۰ۙ مَّوَدَّۃَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۝۰ۡ (العنکبوت۲۹:۲۵)تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنالیا ہے، مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے۔

اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں۔ یہاں دو آیات مثال کے طور پر درج کی جاتی ہیں:

وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ۝۱۰۸ (البقرہ۲: ۱۰۸)جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا وہ راہ ِراست سے بھٹک گیا۔

اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۝۰ۚ (البقرہ۲: ۸۵)کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟

مفسرین اور ماہرین ِ لغت نے صراحت کی ہے کہ لفظ ’کافر‘ میں وہ تمام معانی پائے جاتے ہیں، جن کے لیے اس کا عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے:

 علامہ ابن جوزیؒ نے لکھا ہے: ’’لغت میں کفر کے معنٰی چھپانے کے ہیں۔ کافر کو کافر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حق پر پردہ ڈال دیتا ہے‘‘۔(زادالمیسر: ج۱،ص۲۷۲)

جوہری فرماتے ہیں:’’کافر کو کافر اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احسانات کا انکار کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کو چھپا لیتاہے‘‘۔(تاج اللغۃ: ج۱،ص۳۹۵)

ایک غلط فہمی کا ازالـہ

بعض مسلمانوں کی جانب سے ایک خیال یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’ایسے ہر شخص کو جو اسلام کی اساسیات پر ایمان نہ رکھتا ہو، کافر نہیں کہا جاسکتا، یہ لفظ ’غیر مسلم‘ کے مترادف نہیں ہے۔ کافر اسی شخص کو کہا جاسکتا ہے، جس تک اسلام کی دعوت پہنچائی جائے اور اس پر اتمام ِحجت کردی جائے، اس کے باوجود وہ اسلام قبول نہ کرے۔ اتمامِ حجت کے بعد بھی متعین طور پر کسی کو کافر نہیں کہا جاسکتا‘‘۔ لیکن یہ صحیح بات نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ ’کافر‘ کااستعمال ’ایمان‘ اور ’اسلام‘ کے بالمقابل ہوا ہے۔ جو شخص بھی اللہ کے دین کو نہ مانے اور اسلامی عقائد کو تسلیم نہ کرے، وہ کافر ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات کریمہ میں لفظ کفر کی نسبت یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی طرف کی گئی ہے۔

اسلام اصولی طور پر دینِ حق کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان فرق کرتا ہے ، تاکہ اس کے احکام کے نفاذ کے معاملے میں دونوں کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیا جاسکے۔ دین ِ حق کے ماننے والوں کو ان احکام کا پابند بنایا جاسکے اور نہ ماننے والوں کو ان کی پابندی سے مستثنیٰ رکھا جاسکے۔ جہاں تک لغوی معانی کا تعلق ہے، اس لفظ کے ذریعے نہ غیر مسلموں سے نفرت کا اظہارکیا گیا ہے اور نہ اس میں لغوی طور پر بُغض، نفرت، حقارت اور ذلّت کے معانی پائے جاتے ہیں۔

۲- کافروں کے بارے میں عذابِ جہنم کے بیان سے نفرت پیدا ہوتی ہے

ہندواور مغربی معترضین کی جانب سے ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ’’ قرآن میں جہنم کے عذاب کاتذکرہ تفصیل سے کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول نہیں کریں گے، انھیں جہنّم کا عذاب دیا جائے گا‘‘۔ مثال کے طور پر وہ ان آیات کا حوالہ دیتے ہیں:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْہِمْ نَارًا۝۰ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا۝۵۶ (النساء۴:۶ ۵) جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے، انھیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے، تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے۔

فَلَنُذِيْقَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِيْدًا۝۰ۙ وَّلَنَجْزِيَنَّہُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۲۷ ذٰلِكَ جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللہِ النَّارُ۝۰ۚ لَہُمْ فِيْہَا دَارُ الْخُلْدِ۝۰ۭ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ۝۲۸  (حٰم السجدۃ ۴۱ :۷ ۲-۲۸) ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی۔ اسی میں ہمیشہ کے لیے ان کا گھر ہوگا۔ یہ ہے سزا اس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔

کافروں کو آخرت میں دی جانے والی جو سزائیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، وہ غیرمسلموں سے نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ عدل و انصاف کے عین مطابق ہیں۔ یہ سزائیں اہلِ ایمان کے دلوں میں کافروں سے نفرت و حقارت نہیں، بلکہ ہم دردی پیدا کرتی ہیں اور انھیں آمادہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی جدو جہد کریں۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس دنیا میں پیدا کیا اور انھیں بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ ان کاتقاضا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے ا حکام بجالائیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے، وہ حقیقت میں بڑے ناشکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللہِ ہُمْ يَكْفُرُوْنَ۝۷۲ۙ (النحل۱۶:۷۲) پھر کیا یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔

جو لوگ اللہ کو چھوڑکر یا اس کے ساتھ دیوی دیوتاؤں کو پوجتے ہیں،جو حقیقت میں نہ انھیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، وہ اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا رویّہ بغاوت کے مترادف ہے۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا، جو باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں۔ یہ اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔ اس نے ان کے لیے آخرت میں ایسی ہی سزائیں تجویز کر رکھی ہیں، جن کے وہ مستحق ہیں:

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ۝۰ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ۝۱۷ (یونس۱۰:۱۷) پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا، جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے، یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

یہ دنیا ’دارالامتحان‘ ہے اور آخرت ’دارالجزا‘۔ یہاں انسان جیسے کام کرے گا، اس کا بدلہ آخرت میں پائے گا۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کے باغی اور مجرم بن کر رہیں اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کریں، انھیں آخرت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔ فرماں بردار اور نافرمان، اطاعت گزار اور سرکش، نیک اور مجرم ،دونوں کے انجام میں فرق کرنا عین تقاضائے انصاف ہے، لیکن یہ فرق آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کرے گا۔ اس سے دنیا میں غیر مسلموں کے انسانی حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

۳- مشرکین نجس ہیں

کہا جاتا ہے کہ قرآن میں ہندوؤں کو ناپاک اور گندا کہا گیا ہے۔ اس تعبیر سے ان کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار ہوتا ہے۔ معترضین کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۝۰ۚ  (التوبۃ۹:۲۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مشرکین نجس ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔

اس آیت میں نجاست سے مراد جسمانی اور مادّی گندگی نہیں ہے، بلکہ عقیدہ کی خرابی اور شرک کی آلودگی ہے۔ اس پر مفسّرین اور علما کا اتفاق ہے۔

امام نوویؒ کے مطابق: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، مشرکین نجس ہیں۔ اس سے مراد عقیدے کی نجاست اور گندگی ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ پیشاب پاخانہ جیسی چیزوں کی طرح نجس ہیں‘‘۔

اسلام عقیدے کے معاملے میں کوئی مداہنت اور رورعایت نہیں برتتا۔ وہ توحید کا علَم بردار اور شرک کے سخت خلاف ہے۔ اس کے نزدیک شرک ایسی گندگی ہے، جس سے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے کا ذہن آلودہ ہوجاتا ہے۔ وہ اس گندگی سے انسانوں کو پاک صاف رکھنا چاہتا ہے۔ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید کے علَم بردار تھے۔ انھوں نے اللہ واحد کی عبادت کے لیے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔ وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ متعدددیوی دیوتاؤں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ خانۂ کعبہ کی دیواروں میں انھوں نے مورتیاں نصب کررکھی تھیں اور مسجد حرام میں ۳۶۰ بت رکھ دیے تھے۔ ۸ ہجری میں فتح مکہ کے بعد جب وہاں کا اقتدار توحید کے قائلین کے ہاتھ میں آیا، تو یہ امر فطری تھا کہ وہ توحید کے مرکز کو شرک کے ان مظاہر سے پاک کردیں۔ چنانچہ فتح مکہ کے اگلے سال حج کے موقعے پر اعلانِ عام کردیا گیا کہ ’’خانۂ کعبہ اللہ کا گھر ہے اور مسجد ِحرام کو مقدّس مقام کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے شرک کی آلودگیوں میں مبتلا لوگوں کو آیندہ یہاں داخلے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔ 

جہاں تک کافروں اور مشرکوں کے ظاہر کا تعلق ہے ،اسلام نہ تو انھیں گندا قرار دیتا ہے اور نہ محض اس بنیاد پر ان سے الگ تھلگ یا دُور رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کفار و مشرکین کے درمیان رہتے تھے۔ ان سے آپ کا ملنا جلنا رہتا تھا، وہ مسجد میں آتے تھے، آپؐ اور آپؐ کے اصحاب ان کے برتنوں سے پیتے اور وضو کرنے کے لیے پانی لیتے، ان کا بنایا ہوا کھانا کھالیتے اور ان کے تیار کیے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔ ایسا نہیں ہواکہ  جن چیزوں پر ان کا ہاتھ لگتا ہو، یا جو چیزیں ان کے بدن کے کسی حصے سے مَس ہوتی ہوں، انھیں دھوئے جانے کا آپؐ نے حکم دیا ہو۔

حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان فرماتے ہیں کہ قبیلۂ ثقیف کا وفد آیا تو اسے مسجد ِنبوی میں ٹھیرایا گیا۔ بعض صحابہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! یہ لوگ تو مشرک ہیں‘‘ (شاید ان کی مراد یہ تھی کہ ان کی وجہ سے مسجد ناپاک ہوجائے گی)۔ آپؐ نے فرمایا:

اِنَّ الْاَرْضَ لَا یُنَجِّسُہَا شَيْءٌ (مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلوٰۃ، باب المشرک یدخل المسجد، حدیث: ۱۵۵۸)زمین اس جیسی کسی چیز سے ناپاک نہیں ہوتی۔

حضرت عمران بن حصینؓ ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں کہ راستے میں ایک پڑاؤ پر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کچھ صحابہ تلاش کے لیے نکلے۔ ایک غیر مسلم عورت پانی کے دو مشکیزوں کے ساتھ ملی۔ وہ اسے آںحضرتؐ کے پاس لے آئے۔ آپؐ نے اور تمام صحابہ نے اس سے پانی لے کر اپنی پیاس بجھائی۔ (صحیح البخاری: ۳۵۷۱،مسلم: ۶۸۲)

حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ہم جنگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ غیرمسلموں کے کھانے پینے کے جو برتن ہمارے ہاتھ لگتے تھے، انھیں ہم استعمال کرتے تھے۔ اس پر آپ ہماری کچھ نکیر نہیں کرتے تھے۔ (ابوداؤد:۸۳۸ ۳)

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیرمسلموں کے ان برتنوں کے بارے میں دریافت کیا، جن کے متعلق امکان ہوکہ ان میں وہ خنزیر کا گوشت پکاتے اور شراب پیتے رہے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر دوسرے برتن موجود ہوں تو ان مشتبہ برتنوں کو نہ استعمال کرو، [اور وہ] موجود نہ ہوں تو انھی کو اچھی طرح دھوکر استعمال کرسکتے ہو۔ (بخاری:۵۴۹۶، مسلم:۱۹۳۰)

اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ مشرکین کی نجاست سے مراد عقیدے کی خرابی ہے، نہ کہ ظاہری گندگی۔جہاں تک انسانی تعلقات اور زندگی کے عام معاملات کا سوال ہے، ان میں مشرکین کے ساتھ کوئی بھیدبھاؤ نہیں رکھاگیا ہے اور کسی حال میں ایسا رویہ نہیں اختیار کیا گیا ہے، جس سے ان کے سلسلے میں نفرت اور حقارت کا اظہار ہو۔

۴- کافروں سے دوستی کی ممانعت

معترضین کی جانب سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ’’قرآن میں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور انھیں دشمن کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ دشمنوں کے بارے میں نفرت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور انھیں نقصان پہنچانے کی تدبیریں کی جاتی ہیں‘‘۔ اس اعتراض پر بہ طور دلیل اس طرح کی آیات پیش کی جاتی ہیں:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۭ  (النساء۴: ۱۴۴) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَـقِّ۝۰ۚ  (الممتحنۃ۶۰:۱) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو، حالاںکہ جو حق تمھارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں۔

ان آیات پر ان کے صحیح تناظر میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اہلِ ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ کافروں کو ’اولیاء‘ نہ بنائیں۔ ’اولیاء‘ ولی کی جمع ہے۔ اس کا مصدر ’ولاء‘ ہے۔ ’ولاء‘ کا مفہوم یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد چیزیں اس طرح یکجا ہوں کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو، جو ان سے متصادم ہو۔ اسی سے استعارۃً یہ لفظ’ قربت‘ کے معانی میں استعمال ہونے لگا، خواہ یہ قربت جگہ ، تعلق کی، یا مذہب، دوستی اور عقیدے کی ہو۔ جس شخص سے مذکورہ نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کاتعلق ہو، اس کے لیے ’ولی‘ اور ’مولیٰ‘ دونوں الفاظ مستعمل ہیں۔

لفظ ’مولیٰ‘ کا اطلاق عربی زبان میں بہت سے لوگوں پر ہوتا ہے۔مثلاً ربّ، مالک، آقا، محسن، غلام آزاد کرنے والا، مددگار، محبت کرنے والا، تابع داری کرنے والا، پڑوسی، چچازاد بھائی، حلیف، جس سے عہد وپیمان ہو، قرابت دار (داماد)، غلام، آزاد کردہ غلام، جس پر احسان کیا جائے۔

علامہ ابن اثیرؒ فرماتے ہیں:اس لفظ کا استعمال حدیث میں ان میں سے بیش ترمعانی میں ہوا ہے۔ ہرجگہ سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کن معنوں میں آیا ہے۔ (النہایۃ: ۴/۱۳۲)

       مذکورہ بالا آیتوں اوران جیسی دیگر آیتوں میں لفظ ’اولیاء‘ انتہائی قربت کے معنٰی میں آیا ہے۔ علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:

اَوْلِیَاءَ:  أَیْ لَا تَجْعَلُوْا خَاصَّتَکُمْ وَبِطَانَتَکُمْ مِنْہُمْ (تفسیرقرطبی: ج۵، ص۵۲۴) کافروں کو اپنا ولی، یعنی بہت قریبی اور رازدار نہ بناؤ۔

علامہ زمخشریؒ اس کایہ مفہوم بتاتے ہیں:

لَا تَتَّخِذُوْہُمْ أَوْلِیَاءَ تَنْصُرُوْنَہُمْ وَتَسْتَنْصِرُوْنَہُمْ وَتُؤَاخُوْنَہُمْ وَ تُصَافُوْنَہُمْ وَتُعَاشِرُوْنَہُمْ مُعَاشَرَۃَ الْمُؤْمِنِیْنَ (کشاف:ج۱، ص۶۴۲) کافروں کو اولیاء نہ بناؤ، یعنی ان سے تمھارا معاملہ ایسا نہ ہو کہ تم ان کی مدد کرو، ان سے مدد چاہو، ان سے بھائی چارہ اور خلوص و محبت کے تعلقات رکھو اور ان کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہو، جس طرح اہل ایمان باہم رہتے ہیں۔

ان حالات کو بھی نگاہ میں رکھنا ضروری ہے، جن میں مسلمانوں کو کافروں سے قربت کا تعلق رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ مسلمان سخت حالات سے گزر رہے تھے۔ ان کے خلاف ان کے دشمنوں نے جنگ برپا کررکھی تھی اور انھیں بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے تھے۔ یہود و نصاریٰ کا رویّہ کھلی دشمنی پر مبنی تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف کافروں کا ساتھ دے رہے تھے۔

تیسرا گروہ ’منافقین‘ کا تھا جو ظاہر میں اسلام کا دم بھرتے تھے اور انھوں نے خود کو مسلمانوں میں شامل کررکھا تھا، لیکن حقیقت میں وہ کافروں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی کامیابی ملتی تو ان کے سینوں پر سانپ لوٹتے تھے اور انھیں کچھ نقصان پہنچتا تو خوشیاں مناتے تھے۔ یہ سارے لوگ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی پر متحد تھے۔ ایسے حالات میں اپنے دشمنوں سے قریبی تعلق رکھنا مسلمانوں کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔ یہ چیز دینی حیثیت سے بھی  ضرر رساں تھی اور سیاسی اعتبار سے بھی۔ اسی لیے قرآن نے الگ الگ ہر گروہ کے بارے میں وضاحت سے مسلمانوں کو تاکید کی کہ ان سے ’ولایت‘ کا تعلق نہ رکھیں۔ کفّار کے بارے میں کہا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۭ  (النساء ۴:۱۴۴) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔

یہود و نصاریٰ سے تعلقات کے بارے میں بھی یہی حکم دیا:

 يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ۝۰ۭ (المائدہ۵:۵۱)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے۔

منافقین کے بارے میں فرمایا:

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَـمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ (النساء۴: ۸۹) وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ، تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ لہٰذا، ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔

اس معاملے میں قرآن نے اس حد تک تاکید کی کہ جن لوگوں کے باپ اور بھائی دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوئے ہیں اور انھوں نے ایمان پر کفر کو ترجیح دی ہے، ان سے بھی قربت کا ویسا تعلق نہ رکھا جائے، جیسا کہ اہل ایمان کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ مبادا ان کے واسطے مسلمانوں کے راز کفار تک پہنچ جائیں:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۲۳ (التوبۃ۹:۳ ۲) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ، اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے۔

قرآن کریم کی بعض آیات میں ان اسباب کی وضاحت کردی گئی ہے، جن کی بناپر مسلمانوں کے علاوہ دوسروں سے قربت کا تعلق رکھنے سے منع کیا گیا ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۚ (المائدہ۵:۷ ۵) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے پیش رَو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمھارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے، انھیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ (الممتحنہ۶۰: ۱) اے لوگو جوایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

اسی سورت میں آگے ہے:

اِنَّمَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ۝۰ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۹ (الممتحنہ ۶۰: ۹) وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو، جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔

پہلی آیت میں بتایا گیا کہ ان لوگوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنارکھا ہے، اس کے سلسلے میں وہ سنجیدگی سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ دوسری آیت میں کہا گیا کہ وہ تمھارے دشمن ہیں، اور تیسری آیت میں یہ وضاحت کی گئی کہ وہ محض دین کی وجہ سے تم سے جنگ کررہے ہیں، تمھیں تمھارے وطن سے نکالا ہے یا اس میں مدد کی ہے۔ یہ اسباب بجا طور پر اس بات کے متقاضی تھے کہ ان سے قریبی تعلق نہ رکھا جائے۔

یہی مضمون آل عمران میں یوں مذکور ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْ لُوْنَكُمْ خَبَالًا۝۰ۭ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ۝۰ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاہِھِمْ۝۰ۚۖ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ۝۰ۭ   (آل عمران۳:۱۸ ۱) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ۔ وہ تمھاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمھیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔

اس آیت میں لفظ بطانۃ  کے استعمال میں بڑی بلاغت پائی جاتی ہے۔’ بطانۃ‘ کپڑے کے اندرونی حصے کو کہتے ہیں، جو جسم سے متصل ہوتا ہے۔ بہ طور استعارہ اس کا اطلاق اس شخص پر کیا جاتا ہے، جسے آدمی اپنا گہرا دوست ، ہم دم اورہم راز بنالے۔

اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے علاوہ دوسروں سے اتنا قریبی تعلق استوار نہ کرلو کہ ان پر اپنے راز منکشف کردو۔ اس لیے کہ وہ لوگ تمھارے بہی خواہ نہیں ہیں، تمھیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور تم سے دشمنی اور نفرت ان کے رویّے سے عیاں ہے۔

قریبی تعلق سے ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو عام غیر مسلموں کے ساتھ انسانی تعلقات رکھنے سے بھی منع کیا گیا ہے، بلکہ ممانعت صرف ایسا تعلق رکھنے کی ہے، جس سے اسلامی ریاست کے سیاسی و عسکری راز دشمنوں پر افشا ہوجائیں اور مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوجائے۔ یہ ممانعت صرف ان لوگوں سے ہے جو مسلمانوں کے ساتھ برسر جنگ ہوں یا ان کے دشمنوں کے مددگار بنے ہوئے ہوں۔ رہے وہ غیر مسلم جو مسلمانوں کے ساتھ مصروفِ جنگ نہ ہوں اور نہ ان کا طرزِ عمل عداوت اور ظلم و ستم پر مبنی ہو، ان کے ساتھ عدل و انصاف کرنے، اچھے تعلقات رکھنے اور بھلا برتاؤکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝۸(الممتحنۃ۶۰: ۸) اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

غیر مسلموں سے تعلقات کے سلسلے میں یہ ایک بہت بنیادی آیت ہے۔ اس میں دو الفاظ آئے ہیں: أَنْ تَبَرُّوْہُمْ اور تُقْسِطُوْا اِلَیْہِمْ۔’ برّ‘ سے مراد ہے حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنا۔ اس میں زیادہ حسن سلوک کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے (البرّ: التوسّع في الاحسان الیہ) [راغب اصفہانی] تُقْسِطُوْا اِلَیْہِمْ کے معنٰی بعض مفسرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ ان کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرو، جب کہ بعض دیگر مفسرین اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ صلہ رحمی کے طور پر اپنے مال کا کچھ حصہ انھیں دو: أَنْ تُعْطُوْہُمْ قِسْطًا مِنْ أَمْوَالِکُمْ عَلٰی وَجْہِ الصِّلَۃِ۔ [ابن العربی، ماوردی، قرطبی]

امام قرطبیؒ نے لکھا ہے:

ہٰذِہِ الآیَۃٌ رُخْصَۃُ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِيْ صِلَۃِ الَّذِیْنَ لَمْ یُعَادُوْا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلَمْ یُقَاتِلُوْہُمْ (تفسیر قرطبی:ج۱۸، ص۵۹) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان غیرمسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اجازت دی ہے جنھوں نے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی نہیں کی اور ان سے جنگ نہیں کی۔

امام رازیؒ فرماتے ہیں:

قَالَ أَہْلُ التَّأْوِیْلِ: ہٰذِہِ الآیَۃُ تَدُلُّ عَلٰی جَوَازِ الْبِرِّ بَیْنَ الْمُشْـرِکِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِنْ کَانَتِ الْمُوَالَاۃُ  مُنْقَطِعَۃً (تفسیر کبیر:ج۲۹،ص۵۲۱) مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان نیکی اور حُسن سلوک کا معاملہ جائز ہے، اگرچہ ان کے درمیان موالات (یعنی قریبی تعلق رکھنا) ممنوع ہے۔

اس سے واضح ہوا کہ غیر مسلموں سے ہر طرح کے تعلق سے منع نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ممانعت صرف ’ولایت‘ یعنی مخصوص قسم کے قریبی تعلق کی ہے۔ جہاں تک عام انسانی اور سماجی تعلقات رکھنے کی بات ہے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے۔

 علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:

اَلْاِحْسَانُ وَالْہِبَۃُ مُسْتَثْنَاۃٌ مِنَ الْوِلَایَۃِ (تفسیرقرطبی:ج۸،ص۹۴) غیرمسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور انھیں کچھ دینا ’ولایت‘ میں شامل نہیں ہے۔

امام رازیؒ نے لکھا ہے:’’مومن کے کافر کو ’ولی‘ بنانے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

       ۱-    وہ اس کے کفر کو پسند کرتا ہو، اس کے باوجود اس سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہو۔

       ۲-    اس کو برسر باطل سمجھنے کے باوجود رشتہ داری یا قلبی تعلق کے سبب اس کی طرف مائل ہو، اس سے تعاون، حمایت اور نصرت کرتا ہو۔

       ۳-    دنیاوی معاملات میں اچھے تعلقات کا اظہار کرتا ہو۔

اوّل الذکر دو صورتیں ممنوع ہیں، تیسری صورت ممنوع نہیں ہے‘‘۔ (تفسیرکبیر: ج۲،ص۴۵۰)

۵- مخالفوں سے لڑنے اور انھیں قتل کرنے کے احکام

معترضین کی جانب سے قرآن پر ایک بڑا، بلکہ شاید سب سے بڑا اعتراض اس کے تصوّرِ جہاد پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’قرآن میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کافروں اور مشرکوں سے جنگ کریں، ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں، ان کے لیے گھات لگائیں اور انھیں جہاں پائیں قتل کریں‘‘۔ بہ طور دلیل یہ آیات پیش کی جاتی ہیں:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَۃً۝۰ۭ (التوبۃ۹:۲۳ ۱) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جنگ کرو ان کافروں سے جو تمھارے پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمھارے اندر سختی پائیں۔

فَاقْتُلُوا الْمُشْـرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ۝۰ۚ (التوبۃ۹: ۵) تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انھیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ جَاہِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۝۰ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝۹ (التحریم۶۶: ۹) اے نبیؐ! کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

قَاتِلُوْہُمْ يُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِہِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْہِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۝۱۴(التوبۃ ۹: ۱۴) ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمھاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔

قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ۝۲۹ (التوبۃ۹: ۲۹) جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

اس طرح آیاتِ مقدسہ پیش کرکے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ’’جب تک یہ آیات موجود ہیں، اس وقت تک مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان بقائے باہم ممکن نہیں‘‘۔

یہ غلط فہمی، درحقیقت جنگ کے بارے میں قرآن کے احکام و تعلیمات کو صحیح تناظر میں نہ دیکھنے اور متعلقہ آیات کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹاکر پڑھنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس موضوع پر متعدد پہلوؤں سے غور کرنے کی ضرورت ہے:

  • اسلام جبر واکراہ کا مخالف ہے۔ قرآن میں یہ بات بہت زور دے کر کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے سامنے حق و اضح کردیا ہے، ساتھ ہی انھیں ارادہ و اختیار کی آزادی بخشی ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کرکے دائرۂ اسلام میں آجائیں اور چاہیں تو کفر کی روش پر قائم رہیں:

اِنَّا ہَدَيْنٰہُ السَّبِيْلَ   اِمَّا شَاكِرًا  وَّاِمَّا كَفُوْرًا۝۳ (الدھر۷۶: ۳) ہم نے اسے راستہ دکھادیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ۝۰ۙ  (الکہف ۱۸: ۲۹) صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمھارے ربّ کی طرف سے۔ اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے۔

  • جب مسلمانوں کو حد سے زیادہ ستایا جانے لگا، تب انھیں اجازت دی گئی کہ وہ اپنے اُوپر ہونے والے ظلم کا جواب دے سکتے ہیں:

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ عَلٰي نَصْرِہِمْ لَقَدِيْرُۨ۝۳۹ۙ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ۝۰ۭ (الحج ۲۲: ۳۹-۴۰) اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیوںکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے: ہمارا ربّ اللہ ہے۔

اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ جنگ کا آغاز مسلمانوں نے نہیں کیا تھا، بلکہ جنگ ان پر تھوپی گئی تھی۔ دشمنوں کا منصوبہ تھا کہ مسلمانوں کو ، جو ابھی کم زور ہیں، ابتدائی مرحلے ہی میں کچل دیں اور  اسلام کی شمع کو اپنی پھونکوں سے گُل کردیں۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا منہ توڑ جواب دیں اور ان کے منصوبوں کو خاک میں ملادیں، لیکن اس وقت بھی انھیں تاکید کی گئی کہ ان کے ساتھ جتنی زیادتی کی گئی ہے اتنا ہی بدلہ لیں، حد سے تجاوز نہ کریں:

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝۱۹۰  (البقرہ۲: ۱۹۰)اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

  • قرآن کریم میں مذکور آیاتِ قتال کاتعلق عام حالات سے نہیں ہے، بلکہ ان میں دورانِ جنگ کے سلسلے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ جب کسی گروہ سے جنگ برپا ہو تو میدانِ جنگ میں ایک فریق دوسرے فریق کے ساتھ کوئی رورعایت نہیں برتتا، بلکہ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مخالف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے اور اس کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں قتل کرکے اس کی فوجی طاقت پارہ پارہ کردے۔ اس موقعے پر کسی کم زوری اور نرمی کا مظاہرہ خود اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کے مثل ہے۔
  • جنگ ایک ناپسندیدہ لیکن ناگزیر عمل ہے۔ مختلف مذاہب میں اس کے بارے میں احکام پائے جاتے ہیں۔ جن مذاہب میں جنگ سے متعلق کسی طرح کی تعلیم نہیں ملتی، ان کے پیروؤں کو بھی مختلف مواقع پر جنگ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مذہبی کتابوں میں جنگ سے متعلق احکام و قوانین ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کا تعلق دشمن قوم کے ساتھ عام برتاؤ سے ہے، بلکہ ظاہر ہے کہ ان میں جنگ کی مخصوص صورت حال کا بیان ہے۔ مثال کے طور پر ہندو مت کی مذہبی کتابوں(رِگ وید ، یجروید، اتھروید وغیرہ )میں متعدد اشلوک جنگ پر ابھارنے والے ہیں۔ ’بھاگوت گیتا‘ کا تو موضوع ہی جنگ ہے۔ یہ کرشن کے اس طویل اپدیش پر مشتمل ہے، جو انھوں نے پانڈوؤں کے سردار ارجن کو جنگ پر ابھارنے اور لڑنے کی ترغیب دینے کے لیے دیا تھا۔
  • ایک چیز یہ بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ان آیات کا خطاب، اسلامی ریاست اور اس کی فوج سے ہے۔ قرآن نے تمام مسلمانوں کو کھلی چھوٹ نہیں دے دی ہے کہ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں غیر مسلموں کو قتل کردیں، بلکہ اسلامی ریاست سے دشمنی رکھنے والے غیر مسلموں سے جنگ کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف سربراہِ ریاست کو ہے۔ اسی کو طے کرنا ہے کہ جنگ کی جائے یا نہیں؟ اور کی جائے تو کب اور کیسے؟ رعایا پر ہر حال میں اس کی اطاعت لازم ہے۔ علامہ ابن قدامہؒ نے لکھا ہے:

أَمْرُ الْـجِہَادِ  مَوْکُوْلٌ اِلَی الْاِمَامِ وَاجْتِہَادِہٖ، وَیَلْزَمُ الرَّعِیَّۃَ طَاعَتُہٗ  فِیـْمَا یَرَاہُ  مِنْ ذٰلِکَ (المغنی:ج۹،ص۲۰۲)’’جہاد کا معاملہ سربراہِ ریاست کے ذمّے ہے۔ وہی اس کا فیصلہ کرے گا اور رعایا پر اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازم ہے۔

اسی طرح جس قوم سے جنگ ہورہی ہو، اس کے صرف ان افراد کو قتل کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو جنگ میں عملاً حصہ لے رہے ہوں، یا اس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ غیر متعلق لوگوں سے تعرّض کرنے اور انھیں نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَقْتُلُوْا شَیْخاً فَانِیًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِیْرًا وَلَا امْرَاَۃً (ابوداؤد:کتاب الجہاد، باب فی دعاء المشرکین، حدیث:۲۲۶۱) اور نہ قتل کرو کسی بوڑھے کھوسٹ کو، کسی بچے کو، کسی کم سن کو اور کسی عورت کو۔

قرآن کریم پر کیے جانے والے جملہ اعتراضات جذباتی نوعیت کے ہیں۔ ان کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف غیرمسلموں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے قرآن کے مختلف مقامات سے کچھ آیات منتخب کرلی جاتی ہیں اور انھیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کے من مانے مفہوم بیان کیے جاتے ہیں۔ اگر ان آیات کا مطالعہ ان کے سیاق میں کیا جائے اور ان حالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے، جن میں وہ نازل ہوئی تھیں تو کوئی اعتراض وارد نہیں ہوگا، بلکہ پڑھنے والے پر قرآن مجید کی سچائی اور معقولیت آشکارا ہوگی۔