مئی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اسلام صرف اسلامیات کے نصاب میں

انصار عباسی | مئی ۲۰۲۱ | تعلیم و تعلّم

اقلیتوں کے حقوق کے متعلق ۲۰۱۴ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے  قائم کردہ مینارٹی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’لازمی مضامین، یعنی اُردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے اسلام، اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل ۲۲ سے متصادم ہیں‘‘۔

 مذکورہ کمیشن نے ۳۰ مارچ کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے، جس میں تجویز دی گئی ہے کہ ’’یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) میں شامل تمام تر مذکورہ بالا اسلامی مواد صرف اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مضمون خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کے لیے ہے‘‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھیں تو اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا ’مذہبی ہدایت‘ دیے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم کو یہ مواد پڑھنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے اقلیتی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے‘‘۔

تاہم، وزارت تعلیم کے عہدےدار نے کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ ’’یہ ہدایات ٹیچرز کے لیے دی گئی ہیں، اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پڑھنے پر مجبور کرنے کے لیے نہیں، اور غیرمسلم طلبہ کا امتحان بھی اسلامی مواد سے نہیں لیا جائے گا۔ لیکن کمیشن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غیر مسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے سے علیحدہ کیسے رکھا جاسکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب یہ مواد لازمی مضامین میں شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی اس وقت جب پرائمری اسکولز میں ایک ٹیچر ہوتا ہے یا پھر ایک کمرہ ہوتا ہے یا پھر دونوں‘‘۔

مذکورہ کمیشن نے مشاہدات میں لکھا ہے کہ  ’یکساں قومی نصاب‘ کے تناظر میں دیکھا جائے تو انگریزی اور اردو کی کتب میں اسلامی مواد کا ہونا مذہبی تعلیمات دینے کے زمرے میں آتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

پہلی تا پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں مضمون ’رول ماڈل‘ جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات مرد و خواتین سے متعلق ہے ، اس حوالے سے کمیشن کا کہنا تھا کہ’’ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لیے انتہائی معزز، معتبر ترین اور پاک ترین شخصیت ہیں، چونکہ غیر مسلموں پر اسلامی تعلیمات پر عمل لازم نہیں ہے، لہٰذا یہ عنوان انگریزی کے مضمون میں نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دورانِ تعلیم طلبہ کو یہ عنوان لازمی طور پر پڑھایا جائے گا چاہے وہ طالب علم مسلم ہو یا غیر مسلم‘‘۔ کمیشن تجویز دیتا ہے کہ ’’یہ عنوان انگریزی سے خارج کرکے خصوصی طور پر اسلامیات کی کتب میں شامل کیا جائے‘‘۔

تیسری جماعت کی انگلش ماڈل ٹیکسٹ بُک کے حوالے سے کمیشن نے تجویز دی ہے کہ ’’حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دردمندی‘‘ کے متعلق عنوان بھی اس لیے صرف اسلامیات میں منتقل کیا جائے کیونکہ انگریزی کا مضمون مسلمانوں اور غیر مسلم طلبہ دونوں کے لیے ہے‘‘۔

جماعت چہارم کی انگریزی کی کتاب میں ’اسلام کے عظیم خلفاء‘ کے حوالے سے موجود عنوان کے بارے کمیشن کا کہنا ہے کہ ’’چونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے اسلام انتہائی معزز شخصیات سمجھی جاتی ہیں اور چونکہ یہ عنوان بھی خالصتاً اسلامی تعلیمات سے متعلق ہے، لہٰذا اسے لازمی طور پر غیر مسلم طلبہ کے پڑھنے کے لیے انگریزی میں شامل نہ رکھا جائے‘‘۔

پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں ’صبر و تحمل‘ کے عنوان کا تعلق اسلام کی تاریخی شخصیات سے ہے، لہٰذا اسے اسلامیات ہی کے مضمون میں شامل رکھا جائے‘‘۔

کمیشن کے مطابق، پہلی تا پانچویں جماعت کی اُردو کی کتاب میں حمد اور نعت کی شمولیت کا اردو زبان یا اردو ادب سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا انھیں بھی اسلامیات کی کتاب میں شامل کیا جائے۔

اردو کی دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کی کتب کے حوالے سے بھی ایسی ہی تجاویز پیش کی گئی ہیں: پہلی تا تیسری جماعت کی معلومات عامہ (جنرل نالج) کی کتابوں میں سے درگزر کے حوالے سے واقعے کا بیان کیا جانا۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب کے پیغمبروں کے حوالے سے یہ عنوان شامل کیا جائے، یا پھر یہ عنوان اسلامیات کی کتاب میں ہی شامل رکھا جائے، یاغیر مذہبی شخصیات جیسا کہ ملکہ رضیہ سلطانہ جیسے لوگوں کے درگزر کے واقعات شامل کیے جائیں۔

تاہم، کمیشن نے اس بات کو سراہا ہے کہ ’’پہلی مرتبہ مذہبی اقلیتوں کے لیے علیحدہ نصاب تیار کیا گیا ہے‘‘۔ اور تعریف کی گئی ہے کہ ’’یکساں قومی نصاب میں پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے حوالے سے کوئی حقارت آمیز بات شامل نہیں ہے، جس میں ان اقلیتوں کی منفی منظر کشی کی گئی ہو‘‘۔