مئی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

خود فریبی کے شکار لوگ

سیّدابو الاعلیٰ مودودی | مئی ۲۰۲۱ | ۶۰ سال پہلے

دُنیا میں کسی فرد یا قوم کے لیے اس سے زیادہ آزمایش اور کون سی ہوسکتی ہے کہ اُس کے فکرونگاہ کے زاویوں کوہی بالکل اُلٹ کررکھ دیا جائے اور اس طرح ذم مدح میں، معائب محاسن میں اور مثالب مناقب میں اُس کے سامنے جلوہ گر ہونے لگیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ پھر یہ تبدیلی بھی متناسب اور متوازن نہیں ہوتی بلکہ انسان کے قلب و دماغ کے اندر ایک ایسا انتشار رُونما ہوتا ہے، جو اُس کی زندگی کے سارے شعبوں کومتزلزل کردیتاہے اور اس کی حیات مستعار کے پورے لمحات ایک قسم کے ذہنی اور اخلاقی بحران میں گزرتے ہیں۔ اس کی ذات سے انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اُس کی ساری صلاحیتیں اور قلب و دماغ کی پوری قوتیں تخریبی کارروائیوں میں صرف ہوتی رہتی ہیں۔

اس منتشر قلب و دماغ کے اندر چونکہ وہ اخلاقی جرأت ختم ہوجاتی ہے، جو کسی فرد یا قوم کو اعترافِ حقیقت پر اُبھارتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی بداعمالیوں کو برحق ثابت کرنے کے لیے نوعِ انسانی کے اندر ایک مصنوعی برتری کی نمایش شروع کر دیتا ہے۔

اعترافِ گناہ درحقیقت ایک نہایت ہی اُونچا وصف ہے اور اس کی وہ شخص جرأت کرسکتا ہے، جو ذہنی اور قلبی اعتبار سے بالکل تندرست اور توانا ہو۔ ایک بیمار دل کے اندر اتنی طاقت ہی نہیں رہتی کہ وہ اتنا عظیم کام سرانجام دے سکے۔ اس لیے وہ لوگ جو ذہنی اور قلبی عارضوں کا شکار ہوتے ہیں، وہ حق و صداقت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے استکبار کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ مدت تک اس دھوکے میں مبتلا رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ حق کی راہ پر گامزن ہیں۔ کسی میں یہ دم خم نہیں کہ وہ انھیں اُن کی کسی غلط حرکت پر ٹوک سکے۔ چونکہ حق کی منزل ایک کٹھن منزل ہے، اس لیے وہ ہمیشہ اس بات کے درپے رہتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اُسے ہی لوگ حق سمجھ کر اُس کی بلاچون و چرا پیروی کرنے لگیں، تاکہ کچھ عرصے کے لیے اُن کے جذبۂ نخوت کی تسکین ہوتی رہے اور حقائق کی تلخیاں اُن کے قوت و طاقت کے نشے کو اُتار نہ دیں۔ (’اشارات‘ ،پروفیسر عبدالحمید صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۵۶، عدد۲، مئی ۱۹۶۱ء، ص۱۰-۱۱)