مئی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| مئی ۲۰۲۱ | کتاب نما

دیدئہ معنی، ڈاکٹر حسن مسعود۔ ناشر: المسطر پبلشرز،  بی-۵، جی ڈی آرکیڈ، فضل حق روڈ، بلیوایریا، اسلام آباد۔ فون: ۵۴۲۷۰۳۴-۰۳۳۳۔ صفحات:۱۹۲۔ قیمت:۵۰۰ روپے۔

اقبالیات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر اقبال کی نظم و نثر میں اتنی گہرائی ہے اور ان کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ لکھنے والے ذخیرئہ اقبالیات میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ مصنف نے چار تحقیقی مقالات پر مشتمل زیرنظر مجموعہ شائع کیا ہے۔ عنوانات: صوفی عبدالمجید پروین رقم، کلامِ اقبال کے ایک خطاط۔ اقبال شکنی کی روایت۔ لفظ پاکستان کا خالق: اقبال۔اقبال کا نقدوآہنگ اور ارمغانِ حجاز۔ زیربحث موضوعات پر ماقبل جو کچھ لکھا گیا، مصنف اس سے باخبر ہیں۔ مباحث کے مختلف پہلوئوں کو ان مضامین میں سمیٹ لیا ہے۔ اقبال شکنی کی روایت ایک سو صفحات پر مشتمل ہے۔ غالباً اس لیے کہ اس موضوع پر ڈاکٹر محمد ایوب صابربھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔

اب تک یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق چودھری رحمت علی تھے، مگر مصنف نے قرار دیا ہے کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ اقبال ہی کی عطا ہے (ایوب صابر صاحب نے بھی اس موضوع پر تحقیق کی ہے)۔ مصنف نے اپنی محنت کا ثمر بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ ذخیرئہ اقبالیات میں یہ ایک عمدہ اضافہ ہے۔ طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


دین اسلام اور ہم (بنیادی تاریخی جائزہ)، میر افسر امان۔ناشر: رابطہ پبلی کیشنز، پلاٹ نمبر۷۱-سی، سیکنڈ فلور، ۲۴ویں کمرشل سٹریٹ، توحید کمرشل ایریا، فیزV، ڈی ایچ اے ، کراچی۔ فون:۳۵۸۶۱۹۳۶-۰۲۱۔ صفحات: ۴۳۵۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

مؤلف نے تقریباً ۶۵ چھوٹے بڑے مضامین اور کالموں کو چار عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے: ’’تعارف اسلام، مسلمان، تاریخ اسلام، مسلم معاشرہ‘‘۔ دیباچہ میں وہ کہتے ہیں: ’’تفہیم القرآن کا مستقل طالب علم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری تفاسیر کا تقابلی مطالعہ بھی کیا۔ قرآن کے مضامین جو میری سمجھ میں آئے، انھیں تحریری شکل دے دی‘‘۔

 بلاشبہہ یہ کتاب کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی معلومات افزا ہے۔ چند عنوانات: کائنات کی حقیقت، انسان اشرف المخلوقات، زکوٰۃ، ذریعہ، روزے، حج بیت اللہ،جہاد، سود، عیدالفطر، جمعہ، قادیانیت، ختم نبوت، یہودیت، میڈیا، ویلنٹائن ڈے وغیرہ۔(رفیع الدین ہاشمی)


سرسیّد احمد خاں ، تاریخ کی میزان میں، شاہنواز فاروقی۔ ناشر: ادارہ مطبوعات طلبہ،۱-اے ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور۔ فون:۳۷۴۲۸۳۰۷-۰۴۲۔ صفحات: ۲۲۰۔ قیمت (مجلد): ۴۰۰ روپے۔

سرسیّداحمد خاں (م: ۱۸۹۸ء) کا اسمِ گرامی برعظیم پاک و ہند میں مسلمانوں کے ایک  قومی رہنما کی حیثیت سے معروف ہے۔ مزید یہ کہ انھیں مسلمانوں میں جدید تعلیم کے داعی اور رہنما کی حیثیت سے بلند مرتبہ بھی حاصل ہے۔ شاہ نواز فاروقی صاحب نے سرسیّد کی قومی یا ماہر تعلیم کی حیثیت سے خدمات کو جزوی طور پر، لیکن اُن کے فکری ہیکل کو بنیادی طور پر اپنی توجہ اور فکرمندی کا موضوع بنایا ہے۔ ہمارے ہاں سیکولرزم اور فکری و تہذیبی دو رنگی کے جس مرض کی چھوت چھات عام ہے، بقول شاہ نواز صاحب، اس کا سرچشمہ جناب سرسیّد احمد خاں ہی ہیں۔

محترم مصنف نے مذکورہ مقدمے کو پرکھتے ہوئے سرسیّداحمد کے فکری اور تحریری اثاثے کا مطالعہ کیا، بیانات کا تجزیہ کیا اور قائم کردہ مفروضات کی تہہ میں چھپے ہوئے لاوے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی علمی و تجزیاتی مطالعے کو انھوں نے زیرتبصرہ کتاب میں پیش کیا ہے اور نئی نسلوں کو یہ بتایا ہے کہ سرسیّداحمد خاں کو ایک شخصیت کے طور پر دیکھنے کے بجائے انھیں ایک فکر، ایک علامت اور ایک فکری روایت، سیاسی عمل اور تجددّ و تحریف فی الدین کے انجن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انھی نکات کی وضاحت کے لیے مدلل انداز سے مباحث کو تحریر کیا گیا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کی فکری زندگی میں آزاد روی، بے مقصدیت، لادینیت، دو رنگی اور مداہنت پسندی کے جو پھریرے لہرا رہے ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے انکارِ حدیث سے منسوب سرسیّد کی مذہبی سوچ کو یہ کتاب پیش کرتی ہے۔ اگرچہ یہ مضامین کالموں کی صورت میں لکھے گئے تھے، لیکن جتنے بڑے موضوع کو زیربحث لایا گیاہے، وہ کالموں کا موضوع نہیں ہے۔ اگر اس کتاب کو نظرثانی کرکے اور کالموں کی پہچان ختم کرکے، مربوط کتاب بنادیا جائے تو اس کی افادیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ (س    م    خ )


سقراط کا دیس، ڈاکٹر زاہد منیر عامر۔ ناشر: قلم فائونڈیشن، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون: ۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۸۶۔ قیمت:۶۰۰ روپے

مصنف نے ابتدا میں لکھا ہے: ’’سقراط کا دیس دیکھنا ایک بڑی تمنا تھی جو سفرِ یونان کی صورت میں پوری ہوئی‘‘۔جس کا سبب یونان میں پاکستان کے سفیر خالد عثمان قیصرصاحب کی جانب سے یونان کے دورے کی دعوت بنی۔ وہ اپنے بیٹے محمد حذیفہ کے ہمراہ یونان پہنچے اور اکتوبر ۲۰۱۸ء میں یونان کی سیاحت کی اور اس کتاب کی صورت میں حالات و خیالات اور تاثرات رقم کیے۔

وہ یونان کے ماضی پر تحقیقی انداز سے نظر ڈالتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ سفرنامہ: یونان اور یونانی اکابر اور فلسفیوںکی مختصر سی تاریخ بھی ہے۔ کہیں کہیں وہ اپنے حالات و خیالات بھی لکھ دیتے ہیں۔ تقریباً نصف آخر کا ایک حصہ ان کی تقریروں پر مشتمل ہے۔آخر میں اُردو دُنیا میں ’سقراط شناسی کا سفر‘‘ اور ’’حالی کا یونان‘‘ کے عنوان سے دو معلومات افزا مضامین شامل ہیں۔

پاکستان میں یونان کے سفیر ایندریاس پاپاس تاورو’پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس کتاب کے ذریعے پاکستانی خود کو یونان اور اہلِ یونان کے قریب محسوس کریں گے‘‘۔ اور جناب خالد عثمان قیصر دیباچے میں کہتے ہیں: ’’یہ رُودادِ سفر جو بہ یک وقت ایک اسکالر، ادیب اور شاعر کا سفرنامہ بھی ہے اور یونان کی قدیم تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا آئینہ بھی‘‘۔

کتاب خوب صورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)